Corpus of the Grand Qur’ān - the Sustainer of truly living life
Translating Grand Qur’ān in the 21st century through Triplet Theory of Translation
Chapter-1 سُورَةُ الفَاتِحَةِ
Introduction of Sura: English
سورۃ کا تعارف:ویڈیو ۔۔۔تعارف اور انفرادیت۔تشریح و توضیح اکیڈیمک اصولوں کے تحت Pdf
Granular Analysis: Letters; vowels; syllables; words-Morphology & Syntax
|
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ ١ |
|
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢ |
[احمد ﷺ نے
آفرینش سے طے فرما دیا تھا]عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی
تمام تعریفی اور قدرسنجی کی جملہ صورتیں — اپنی حقیقی اور خالص معنویت میں
— صرف اور صرف اللہ تعالیٰ،عظیم و برتر کے لائق و سزاوار ہیں۔ Recitation Word by word analysis [English] - Roots: ح م د; ر ب ب; ع ل م All Prepositional Phrases with "لِ"
اردو:آیت
مبارکہ کے الفاظ کی صرف و نحو و معنوی تحلیل(ویڈیو)۔۔(قرءان
مجید میں اسم/Nounکو پہچاننے کا آسان طریقہ۔ویڈیو)۔۔۔
تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت |
|
إِيَّاكَ نَعْبُدُ |
آپ
اور صرف آپ جناب ہیں جن کی بندگی ہم تسلسل سے بااظہارکرتے ہیں اور کرتے
رہیں گے۔
Recitation:
Explanation:
Video (Urdu) - Word by word analysis [English
- Urdu] Root:
ع ب د |
|
ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٟطَ ٱلْمُسْتَقِيـمَ٦ |
[اِس
لئے عام انسان کیلئے مختص کردہ اوج ثریاپر جانے کیلئے]
Recitation:
Word by word analysis [English] Root:
ھ د ى;
ص ر ط;
ق و م
آیت مبارکہ کے الفاظ کی صرف و نحو و معنوی تحلیل(ویڈیو) |
![]()
Chapter 2: سُوۡرَةُ البقرة
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
|
الٓـمٓ ١ |
اللہ تعالیٰ اپنے 29
خطابات کا آغاز
حروف تہجی سے فرماتے ہیں ۔عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد]الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان |
|
ذَٟلِكَ
ٱلْـكِـتَٟبُ
لَا رَيْبَ |
یہ ہے وہ منفردکتاب
۔۔اس کے متن
؍ میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا
کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ قاری کے لئےباعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے؛یہ
ایسے مواد سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔۔
Recitation
Word by word analysis [English] Roots:
ک ت ب;
ر ى ب;ھ د ى;
و ق ى
Introduction of Qur’ān - Infinitely reliable book
قرءانِ مجید کا مرکزی پیغام:انسان کو "کیا ہونا چاہیے"؟ قرءان عظیم زمان و مکان کے لئے سرچشمہ ہدایت اور اختتام ِ سلسلہ ہدایت ہے |
|
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ |
زمان و مکا ن
میں یہ وہ لوگ ہیں جو بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود اپنے خالق اور
رب الرَّحمٰن کو موجود مانتے ہیں۔ Recitation Word by word analysis [English - Urdu] Roots: ء م ن; غ ى ب; ق و م; ص ل و; ر ز ق; ن ف ق Word by word analysis [English - Urdu] Roots: Time-bound Protocol of servitude and allegiance Word by word analysis [English - Urdu] - Economic systems |
|
وَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ
أُنزِلَ إِلَيْكَ وَ مَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ |
اور
(متقین) وہ لوگ ہیں جوصدق قلب سے ایمان لاتے ہیں
اس
سے ابتدا کرتے ہوئےجو آپ (ﷺ)پر
مجتمع انداز میں نازل فرما یا گیا ہے(قرء ان)۔اور اُس پر ایمان لاتے ہیں جو مجتمع حالت میں آپ (ﷺ)سے
قبل نازل فرما یا گیا تھا۔
Recitation Word by word analysis [English
- Urdu] Roots:
ء م ن;
ن ز ل;
ق ب ل;
ء خ ر;
ي ق ن |
|
أُو۟لَٟٓئِكَ عَلَـىٰ هُدًۭى مِّن
رَّبِّـهِـمْۖ |
یہ ہیں وہ لوگ جو
محو سفر ہیں اس
ہدایت پر گامزن رہتے ہوئے جسے ان کی رب کی جانب سے آسان فہم تدوین
میں پہنچا دیا گیا ہے۔ Recitation Word by word analysis [English - Urdu] Roots: ھ د ى; ر ب ب; ف ل ح |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ |
Recitation Recitation Word by word analysis [English - Urdu] Roots: ك ف ر; س و ى; ن ذ ر; ء م ن; خ ت م ;ق ل ب ; س م ع; ب ص ر; غ ش و; ع ذ ب; ع ظ م |
|
وَ مِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَ بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَ مَا هُـم بِمُؤْمِنِيـنَ٨ |
خبردار رہو؛معاشرے میں مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جودعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں—"ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم یوم آخر پر ایمان لے آئے ہیں"۔مگردر حقیقت اس وقت وہ مؤمن کی کیفیت اور حیثیت میں قطعی طور پر نہیں اور نہ ان کا حقیقی مؤمنوں سے الصاق ہے جو رسول کریم اور قرءان پر ایمان لائے ہیں۔(البقرۃ۔۸) Frame: 2:8-20 Word by word analysis [English - Urdu] Roots: ء م ن |
|
يُخَٟدِعُونَ ٱللَّهَ وَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُـمْ وَ مَا يَشْعُـرُونَ٩ |
اِس کھوکھلے اورجھوٹ پر مبنی اقرار ایمان سے اپنے تئیں یہ لوگ ا للہ تعالیٰ کو بہلاناچاہتے ہیں اور اپنی دانست میں رسول کریم اور قرءان مجید پر صدق قلب سے ایمان لانے والوں کو چکمہ دینا چاہتے ہیں ۔حالانکہ حقیقت میں اپنے اپنے ضمیرکو بہلائے رکھنے اور چکمہ دینے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس حال میں کہ مفادات کی سوچ کے بھنور میں خواہش اور حقیقت کے مابین تفاوت کا شعوری ادراک کرنا ہی نہیں چاہتے۔(البقرۃ:۹) Recitation Root: ن ف س;خ د ع ; ء م ن; ش ع ر Impostor believers ٱلْمُنَٟفِقُونَ |
|
فِـى قُلُوبِـهِـم مَّرَضٌۭ |
ایک بیماری — حسد، کینہ، بغض اور تعصب
پر مبنی ایک نفسیاتی اختلال — خود اُن کے دلوں میں پیوست اور پرورش یافتہ
ہے، جو شعور اور ادراک کی اصل جائے قرارگاہ ہے۔۔ |
|
وَ إِذَا قِيلَ لَـهُـمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِـى ٱلْأَرْضِ
قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ١١ |
اور جب اُن جھوٹے ایمان کے دعوے داروں سے کہا جاتا ہے: "تمہیں معاشرے میں، خواہ گفتار ہو یا کردار، ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جو بگاڑ، بے اعتدالی یا فکری گمراہی پیدا کرے" — تو وہ تکبرانہ انداز میں جواب دیتے ہیں: "ہم تو بس اصلاحِ حال کے دعوے دار ہیں"۔(البقرۃ:۱۱) سن لو! حقیقت یہی ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دراصل معاشرتی اور فکری بگاڑ کے اصل منبع ہیں۔ مگر وہ اس حقیقت کے ادراک سے بالکل بے حس ہو چکے ہیں — اپنے مفادات کی دلدل میں اتنے دھنسے ہیں کہ کسی دوسری صداقت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔(البقرۃ:۱۲) Recitation Root: ش ع ر |
|
وَ إِذَا قِيلَ لَـهُـمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ
ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُۗ |
اور جب اُن (ایمان کے جھوٹے دعویداروں)سے یہ کہا گیا۔"ایمان
لاؤ جیسے (یہود و نصاریٰ کے)دیگر لوگ خلوصِ دل سے
ایمان لائے ہیں"، تو طنز سے بولے:"کیا ہم اُن جانے پہچانے
احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں؟"۔ Recitation Root: س ف ه |
|
وَ إِذَا
لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا |
سنو!جب یہ—ایمان
کے جھوٹے دعویدار— اِن ایمان والوں کے
آمنے سامنے ہوئے، جنہیں پیٹھ
پیچھے بیوقوف قرار دیتے ہیں تومبہم انداز میں
کہا:’’ہم ایمان لے آئے ہیں‘‘۔ Recitation Frame: 2:8-20 Word by word analysis [English - Urdu] منافقین۔نادان تاجر |
|
مَثَلُهُـمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارٙا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِـمْ وَتَرَكَهُـمْ فِـى ظُلُمَٟتٛ لَّا يُبْصِرُونَ١٧ |
اِن(منافقین)کی حالت کی نظیر ایسے ہے جیسے ایک شخص نے
خلوص اور محنت سے
اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے
ماحول
کو روشن کرنے کے لئے آگ کو
جلایا تھامگر
جونہی اُس آگ نے اُس کے اردگرد کے ماحول
کومنورکر دیا
تھاتوا للہ تعالیٰ
نے "ان کےنور"
کو سلب کر لیا — یعنی ان کی بصارت و بصیرت کی روشنی چھین لی — اور انہیں
گھپ اندھیروں میں چھوڑ دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے گرد کے منور ماحول کو
دیکھنے سے قاصر رہ گئے۔ |
|
أَوْ كَصَيِّبٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٟتٌۭ وَ
رَعْدٌۭ وَ بَرْقٌۭ |
یا (منافقین کی مثال)
ایسی ہے جیسے آسمان سے
ایک مہیب، برق آلود بادل
ٹوٹ کر اُن پر آن پڑا ہو —اُس کے اندر
تہہ بر تہہ تاریکیاں، بےچین ہلچل،
گرج کی دھمک اور بجلی کی کوندتی چمکیں برابر ابھرتی رہتی ہیں۔ |
|
يَكَادُ ٱلْبَـرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٟرَهُـمْۖ كُلَّمَآ
أَضَآءَ لَـهُـم مَّشَوْا۟ فِيهِ وَ إِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْـهِـمْ
قَامُوا۟ۚ |
قریب ہے کہ آسمانی بجلی ان کی بصارتوں کو چندھیا دے۔ہربار جب اس نے ان کے لئے چمک کو پیدا کیا تو یہ اس میں یہ
چل پڑتے ہیں۔اور جب اس نے اُن پر اندھیرا؍دھندلکامسلط کر دیاتو کھڑے ہو
جاتے ہیں۔ |
|
يَٟٓـأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
|
اے لوگو!دھیان سے سنو!
(اے لوگو! اپنے رب کی بندگی کرو) جنہوں نے تم لوگوں کی
خاطر زمین کو مانند فرش کا روپ عطا فرما دیا۔اور آسمان کو پھیلی ہوئی چھت کا روپ عطا فرما دیا۔ Recitation Root: ن د د |
|
وَ إِن كُنتُـمْ فِـى رَيْبٍۢ مِّمَّا نَزَّلْنَا
عَلَـىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّن مِّثْلِهِۦ وَ ٱدْعُوا۟
شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ٢٣ |
مگر اگر
(ہمارے
دعویٰ کے باوجود۔البقرۃ۔۲)تم
لوگ
کسی تذبذب،قلبی
الجھاؤ میں مبتلا ہو
یا کر دئیے گئے ہو اِس
کتاب کی تصنیف کے متعلق جسے ہم نے اپنے بندے(رسولِ کریم ﷺ)کو وقتاً
فوقتاً پبلش کرنے کے لئے پہنچایا ہے ۔تواس الجھاؤ سے نکلنے یا اس تخیل کو ثابت کرنے کے لئے
کہ وہ(رسول کریم)اس کتاب کے مصنف ہیں، جاؤ اِس (قرء ان )کے مثل ایک سورۃ ہی لے آؤ۔اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے اپنے تمام
مددگاروں کو بھی مدعو کر لو۔ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم
اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو۔( البقرہ۔۲۳) |
|
وَ بَشِّـرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَ عَمِلُوا۟
ٱلصَّٟلِحَٟتِ أَنَّ لَـهُـمْ جَنَّٟتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِـهَا
ٱلْأَنْـهَٟرُۖ |
اورآپ(ﷺ) اُن لوگوں کو—جنہوں
نے آپ پر اور قرءان پر قلبی یقین و ایمان کے ساتھ تصدیق کی اور اعتدال اور
درستگی پر مبنی صالح عمل سر انجام دیے—اس حتمی حقیقت کی ضمانت اور پروانہ
عطا کر دیجیے کہ ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے گئے ہیں جن کے نشیب میں
نہریں رواں دواں ہیں، اور یہ سب ان کی خوشنودی کے لیے بطورِ خاص مختص انعام
ہے۔ Recitation Root: ز و ج; ط ھ ر |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلٙا مَّا بَعُوضَةٙ
فَمَا فَوْقَهَا |
بیشک ا للہ تعالیٰ وہ مثال
دینے کو باعث حیااورعار
نہیں گردانتے جسے(عرب)لوگ حیاتیاتی جنس سے ماوراء کرتے ہوئے مؤنث
مچھرکہتے ہے۔اور اس
طرح اس کی مثال دینے میں جو اس (مادہ مچھر)کے اوپر بیٹھی ہے۔ Recitation Root: ف و ق |
|
ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ
مِيثَٟقِهِۦ وَ يَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَ
يُفْسِدُونَ فِـى ٱلْأَرْضِۚ |
وہ (فاسق )ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ
کی طرف سے پیش کردہ اُس معاہدے کو توڑتے ہیں جو ان کے منتخب کردہ برگزیدہ
اور بلند و بالا ہستیوں (انبیاء کرام)کی کہکشاں کی طرف سے تصدیق ،
منظوری اور قبولیت کے بعد ان کا حتمی، ناقابل تنسیخ عہد مقرر
ہوا تھا (بحوالہ آل عمران:81-82) |
|
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَ كُنتُـمْ أَمْوَٟتًۭا
فَأَحْيَـٰكُـمْۖ |
ا للہ تعالیٰ کے موجود ہونے کاتم لوگ کیسے،کس منطق سے انکار
کرتے ہو؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بے جان،مادہ شئے
[matter]تھے۔اس مادہ حالت سے بسبب ، زیر مقصدانہوں نے تمہیں حیات دی ۔ |
|
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلْأَرْضِ
جَـمِيعًۭا |
وہی ایک جناب ہیں جنہوں نے جو کچھ بھی زمین میں ہے تمام کا
تمام؍
تمہارے لیے، یکجا اور باقاعدہ مقصدیت کے ساتھ تخلیق
فرمایا—اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انسان، اپنے وجودِ
خارجی سے پہلے ہی، ارادۂ الٰہی میں ایک معنوی اور مقصودی حیثیت رکھتا
تھا۔ |
|
وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٟٓئِكَةِ إِنِّـى جَاعِلٌۭ
فِـى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةًۭۖ |
آپ(ﷺ)اس
قديم اور اہم نقطہِ تاریخ سے مطلع ہوں جب آپ کے
رب نے فرشتوں کے لئے یہ اعلان کیا تھا:میں آدم کو زمین میں خود مختار حکمران ،صاحب حریت قرار
دے کر بھیجنے لگا ہوں۔انہوں نے((اپنے
مشاہدے اور مادی تخمینے کی بنیاد پر)عرض
کیا’’ کیا آپ جناب زمین میں
اُس کو صاحب حریت و اختیار بنانے والے ہیں جو وہاں بگاڑ پید ا کریگا
اور خون بہائے گا،بے سروپا داستان گوئی
اور فضول باتیں کرے گا؛ جب
کہ اس کے بر عکس ہم —جو
آپ ہی کو تمام جدوجہد کا محور اور مقصودِ نظر گردانتے ہیں—ہمہ وقت
ستائش کرتے ہوئے
برسر
پیکار رہتے ہیں
اور
اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ تمام عظمت، حمد اور مطلق شکرگزاری صرف آپ
ہی کے لیے مختص ہے، اور ہم مسلسل آپ کی تقدیس کرتے ہوئے آپ کو ہر آلائش اور
کجی سے منزہ اور مطلق برتر مانتے ہیں؟ ا نسان کی جنت سے زمین پرصاحب حریت اور خود مختار(خلیفہ)حیثیت میں آمد Man is declared and appointed: خَلِيفَةًۭ self-ruler in the Earth endowed with Freewill Root: ق د س |
|
وَ عَلَّمَ ءَادَمَ ٱلْأَسْـمَآءَ كُلَّهَا ثُـمَّ
عَـرَضَهُـمْ عَلَـى ٱلْمَلَٟٓئِكَةِ |
اور آپ (ﷺ)کے رب نے آدم(علیہ السلام) کوموجودات کے
زمرہ وارمتعین نام بتا دئیے ،وہ تمام کے تمام
نام۔ |
|
قَالُوا۟ سُبْحَٟنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا
عَلَّمْتَنَآۖ |
انہوں (ملائکہ )نے کہا ’’آپ جناب عظیم ہیں!ہم بیان کرتے ہیں کہ تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محورآپ جناب ہیں۔تمام علم ہمارے لئے جاننا ممکن ہی نہیں، ہماری دسترس میں نہیں سوائے اُس علم کے جو آپ جناب نے ہمیں بتلایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں‘‘۔(البقرۃ۔۳۲) |
|
قَالَ يَٟٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْـهُـم بِأَسْـمَآئِـهِـمْۖ
فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُـم بِأَسْـمَآئِـهِـمْ
|
آپ(ﷺ)کے رب نے فرمایا"اے آدم!اِن موجودات
کی ان حقیقتوں سے ان
(ملائکہ)کوشعوری طور پر آگاہ کردو،جسے ان کے مخصوص ناموں میں منتقل
کر کے نمایاں کر دیا گیاہے"۔تعمیل حکم میں
جوں ہی انہوں (آدم علیہ السلام)نے انہیں (ملائکہ ) اُن موجودات
کی ان ناموں میں نمایاں کردہ حقیقتوں سے شعوری
طور پرآگاہ کر دیا— |
|
وَ إِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٟٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ
فَسَجَدُوٓا۟ |
اور(ان ملائکہ کے رویہ کے متعلق) وقت کے اُس لمحے کی تاریخ بھی جان لو جب ہم جناب نے ملائکہ سے کہا تھا’’ آدم کیلئے تم سب سرنگوں ہو جاؤ؍ تعظیم بجا لاؤ‘‘۔چونکہ ملائکہ میں سے کوئی بھی نافرمانی کا کبھی مرتکب نہیں ہوتا وہ تمام تعمیل حکم میں آدم (علیہ السلام )کے لئےعظمت کے احساس سےتعظیم بجا لائے۔مگر ابلیس نے اُسے الگ سے دئیے گئے حکم کی تعمیل میں اپنے کمتر ہونے کے احساس کے ساتھ ان کے لئے تعظیم بجا لانے سے اپنے آپ کوباز رکھا تھا۔اُس ( ابلیس )نے اس بات کو اپنے شایان شان نہیں سمجھا۔اپنے وقاراور خودداری کے منافی سمجھا۔اس ذہنی و قلبی حالت میں کہ اپنے آپ کو معتبر سمجھتے ہوئے عظمت دئیے جانے کامتمنی تھا۔اور وہ ( ابلیس )مکرم (لائق احترام، معزز، بلند مرتبہ)قراردئیے کو تکریم دینے سےانکار کرنے والوں کا ہمیشہ کااول سرداربن گیا/اولین کافر۔(البقرۃ۔۳۴)
Recitation
آدم علیہ السلام کے ظہور پذیر ہونے پر منفردتقریب پذیرائی و
تکریم اور ناخوشگوار واقعہ
Root: س
ج د |
|
وَ قُلْنَا يَٟٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَ زَوْجُكَ
ٱلْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْـهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا |
اورجان لو کہ اس تقریب اعزاز اور ناخوشگوار
مخاصمانہ واقعے کے بعد،
ہم جناب نے
کہا’’اے آدم! آپ مہمان ٹھہریں۔آپ اور آپ کی بیوی اس
جنت کے مہمان بن جاؤ۔اور آپ دونوں کاجہاں کہیں انواع و اقسام میں سے کھانے
کو من چاہے جی بھر کر کھائیں پئیں۔ |
|
فَأَزَلَّـهُمَا ٱلشَّيْطَٟنُ عَنْـهَا فَأَخْرَجَهُمَا
مِمَّا كَانَا فِيهِۖ |
تب
درخت کے متعلق
اختراع کردہ دلفریب
باتوں
بطور محرک قسمیہ بتا کرشیطان نے انہیں اس ممانعت سے گم
کردہ خیال کی حالت میں کر دیا۔جس کے نتیجے میں وہ(ابلیس ۔شیطان) انہیں راحت و شادمانی
کی اس حالت سے نکلوانے کا موجب بن گیا جس وہ دونوں
مقیم تھے۔ Recitation Root: ز ل ل |
|
فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٟتٛ فَتَابَ عَلَيْهِ |
چنانچہ
اپنی لغزش اور اس سے پیدا
ہونے والےاحساس ندامت
سے مغلوب ہو جانے پرآدم(علیہ السلام)نے
اپنے رب کی طرف سے القا کئے گئے کلمات کو پوری توجہ سے ازبر کر
کے اپنے شعور میں اتار لیا۔پھر
جب اُنہوں نے ان الفاظ کے ذریعے اپنی خطا پر ندامت
ظاہر کی اور مغفرت طلب کی، تو اُن کے ربِّ کریم نے
اُن کی توبہ کو شرفِ قبولیت بخشا اور معافی عطا
فرمائی (ملاحظہ ہو: 7:23؛ 20:122)۔ |
|
قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْـهَا جَـمِيعًۭاۖ |
ہم جناب نے اُن سے کہا’’تم سب اس
جگہ
سے زمین پر چلے جاؤ، اکٹھے
سفر کرتے ہوئے۔ Root: ك ذ ب |
|
يَٟبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ |
اے بنی اسرائیل! Recitation Root: ن ع م |
|
وَ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلْتُ مُصَدِّقًۭا لِّمَا
مَعَكُـمْ وَ لَا تَكُونُـوٓا۟ أَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهِۦۖ |
اور ایمان لاؤ اُس(قرء ان) پر جو میں نے مجتمع انداز
میں نازل کر دیا ہے۔یہ (قرء ان) اُس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے جو اس کتاب
میں درج ہے جوتمہارے پاس ہے۔اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اِس (قرء ان) کا انکار کرنے والوں
(اہل کتاب)میں اول نہ بنیں۔ |
|
وَلَا تَلْبِسُوا۟ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٟطِلِ وَتَكْتُـمُوا۟ ٱلْحَقَّ وَأَنتُـمْ تَعْلَمُونَ٤٢ |
اور حقیقت کوتخیلاتی باتوں کے لبادے سے تم لوگ مت ڈھانپو،التباس پیدا کرو، اور حقیقت کو لوگوں سے مت چھپاؤ۔جبکہ تم لوگ حقیقت کو جانتے بوجھتے ہو۔ |
|
وَ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ |
اور استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے تم لوگ صلوٰۃ کی
ادا ئیگی کرتے رہو۔ |
|
أَتَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبِـرِّ وَ تَنسَوْنَ
أَنفُسَكُـمْ وَ أَنتُـمْ تَتْلُونَ ٱلْـكِتَـٰبَۚ |
کیاتم عام لوگوں کو (اپنے تئیں)نیکی کی تلقین کرتے ہو
اور خوداپنے آپ کو بھول جاتے ہو!حالانکہ
تم لوگ تو نازل کردہ کتاب پڑھتے ہو۔ |
|
وَٱسْتَعِيـنُوا۟ بِٱلصَّبْـرِ وَٱلصَّلَوٰةِ |
اور تم لوگ صبر اور الصَّلاَۃ ( نماز)کے ذریعے اپنی ذات
میں اعتدال اور پختگی پیدا کرو۔ |
|
ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّـهُـم مُّلَـٟقُوا۟ رَبِّـهِـمْ وَأَنَّـهُـمْ إِلَيْهِ رَٟجِعُونَ٤٦ |
یہ (خاشعین)وہ لوگ ہیں جومثبت احساس؍ رکھتے ہیں کہ اُس لمحےاپنے رب کے حضور پیش ہیں۔اوریہ کہ اُنہوں نے اپنے احتساب کے لئے ان (اپنے رب)کی جانب کسی بھی لمحے لوٹنا ہے-( البقرۃ۔۴۶) |
|
يَٟبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ |
!اے بنی اسرائیل تحلیل نحوی و صرفی؛معنوی و مفہوم،بلاغت Root: ن ع م |
|
وَ ٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ
شَيْـًۭٔا |
اورتم
لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اپنے آپ کواس دن کے حوالے سے محفوط کرو
جس میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا (یعنی
نفسی نفسی کا عالم ہو گا) |
|
وَإِذْ نَجَّيْنَـٟكُـم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُـمْ سُوٓءَ
ٱلْعَذَابِ
يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ |
اور یاد
کرو جب ہم جناب نے تمہیں آلِ فرعون کے مقتدر طبقے
کی پیدا کردہ کربناک صورتحال سےنجات دلائی۔وہ
لوگ تمہیں برے عذاب میں مبتلا کئے رکھتے تھے۔وہ تمہارے
بیٹوں کو ذبح کر ڈالنے کی جستجو میں رہتے، اور تمہاری عورتوں کو خاص مقصد
کے زیر خواہش زندہ رہنے دیتے۔ Root: ع ذ ب |
|
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُـمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْـنَـٟكُـمْ وَأَغْـرَقْنَا ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُـمْ تَنظُرُونَ٥٠ |
اور اس دن کے واقعہ کو یاد کروجب ہم جناب نے تم لوگوں سے تعاون کرتے ہوئے بحر سویز کوسر کی مانگ کی طرح پاٹ دیاتھا۔چونکہ عصا سے سرکانے کے سبب اُس خلیج کی سطح پر خشک راستہ نمایاں ہو کر اُبھر آیا تھا،چناچہ ہم جناب نے تم لوگوں کوسطح آب سے اوپر رکھتے ہوئے دشمن سے محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔اور ہم جناب نے تعاقب کرنے فرعون کے ہتھیار بند جنگی ترتیب میں لشکر کو ڈبو دیا تھا جبکہ تم لوگ بحر سویزکے پار ساحل پر کھڑے انہیں ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔(البقرۃ۔۵۰)(حرف فصاحت سے محذوف کے لئے ملاحظہ ہو:؛(Cf. 20:77; 20:80; 26:63)) |
|
وَإِذْ وَٟعَدْنَا مُوسَـىٰٓ أَرْبَعِيـنَ لَيْلَةٙ ثُـمَّ ٱتَّخَذْتُـمُ ٱلْعِـجْـلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُـمْ ظَٟلِمُونَ ٥١ |
اوراے بنی اسرائیل!اس واقعہ کو یاد کرو جب ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کے ساتھ چالیس راتوں کی خلوت آمیز ملاقات کے لئے باہمی وعدہ طے فرمایا تھا۔پھران کے جانے کے کچھ عرصہ بعد ،تم نے اس مخصوص بچھڑے نماڈھانچے کو(ھارون علیہ السلام کے منع کرنے کے باوجود)جوشِ میلان اور دانستہ قصدکے ساتھ اپنا ظاہری معبود بنا لیا—یوں تم نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا؛ حدود حق کو پامال کیا، اور حقیقت کو باطل کے ساتھ بدل ڈالا"۔ |
|
ثُـمَّ عَفَوْنَا عَنكُـم مِّنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ لَعَلَّـكُـمْ تَشْكُرُونَ٥٢ |
بعد ازاں تمہارے سمجھنے،پشیمان ہونے،اور اس لغزش پر اظہار ر ندامت اور طلبگار معافی ہونے پرہم جناب نے درگزر کرتے ہوئے تمہیں معاف فرمایا تھا ۔درگزر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگ اظہار تشکر کرو۔(Cf. 2:54; 7:149)(البقرۃ۔٥٢) |
|
وَ إِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِتَـٰبَ وَ ٱلْفُرْقَانَ لَعَلَّـكُـمْ تَـهْتَدُونَ٥٣ |
اور اس حقیقت کو بھی یاد کروجب ہم جناب نے(تم لوگوں کو چھوڑ کر آنے پر)موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فرقان (غلط اور صحیح کو جانچنے کی کسوٹی)عطا فرمایا تھا۔اس عنایت کامقصد یہ تھا کہ تم لوگ ازخود صحیح سمت کی رہنمائی حاصل کر سکو۔ |
|
وَ إِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٟقَوْمِ
إِنَّكُـمْ ظَلَمْتُـمْ أَنفُسَكُـم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ |
:اور وہ وقت یاد کرو
جب واپسی پرموسیٰ (علیہ السلام)نے اپنی قوم سے کہا تھا:"اے
میری قوم!تم نے بچھڑے نما ڈھانچے کو
جوشِ
میلان اور دانستہ قصدکے ساتھ اپنا
ظاہری معبود بنا کر
اپنے آپ پر ظلم کیا ہے— |
|
وَ إِذْ قُلْتُـمْ يَٟمُوسَـىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ
حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ |
اور (اے
بنی اسرائیل اس واقعہ کو بھی یاد کرو) جب تم نے کہا تھا”اے موسیٰ(علیہ
السلام)!ہم اُس وقت تک تیرے کہنے پر نہیں مانیں گے جب تک کہ ا
للہ(تعالیٰ) کو ہم خود دیکھ نہیں لیتے، آنکھوں کے لئے آشکارہ انداز میں"۔ بعد ازاں،تم لوگوں کی طبعی موت کے بعد ہم جناب نے تم لوگوں کو دوبارہ اٹھا دیا(حیات کو بحال کر دیا)۔ایسا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگ اظہار تشکرکرو/کہی بات اختیار کرو۔(البقرۃ۔٥٦) |
|
وَ ظَلَّلْنَا عَلَيْكُـمُ ٱلْغَمَامَ وَ أَنزَلْنَا
عَلَيْكُـمُ ٱلْمَنَّ وَ ٱلسَّلْوَىٰۖ كُلُوا۟
مِن طَيِّبَٟتِ مَا رَزَقْنَٟكُـمْۖ |
|
|
وَ إِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا۟ هَٟذِهِ ٱلْقَرْيَةَ
فَكُلُوا۟ مِنْـهَا حَيْثُ شِئْتُـمْ رَغَدًۭا وَ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ
سُجَّدًۭا وَ قُولُوا۟ حِطَّـةٌۭ نَّغْفِرْ لَـكُـمْ خَطَٟيَٟكُـمْۚ
|
اور (یاد کرو) جب
ہم نے کہاتھا ”تم لوگ (سکونت /عارضی قیام کیلئے)اس فصیل بندبستی میں
داخل ہو جاؤ۔پھر جب
وہاں ٹھہر جاؤ،تو اس میں جہا ں کہیں انواع و اقسام میں سے کھانے کو تمہارا
من چاہے، جی بھرکر کھاؤ پیؤ۔مگرداخلی دروازے میں سے
فرمانبرداری کے احساس کے ساتھ تم لوگ داخل ہونا؛یہ کہتے
ہوئے"یارب ہماری خطاوں کا بوجھ اتار دیں"۔اس دعا
کو قبول کرتے ہوئے بطور خاص تمہاری خطاؤوں کو ہم جناب بخش دیں
گے۔ |
|
فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ قَوْلًا غَيْـرَ ٱلَّذِى
قِيلَ لَـهُـمْ |
پھرجنہوں نے طے شدہ معاملات میں ردوبدل کیا(بسبب فسق) انہوں نے (یعنی
تمام نے نہیں) قول کوتبدیل کر دیا ایک ایسے قول سے جو انہیں بتائے گئے قول سے مختلف تھا۔ |
|
وَ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا
ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَۖ |
اور جب
موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنی قوم کیلئے پانی مہیا کرنے کی درخوات کی تھی۔تو ہم
جناب نے دعا قبول کرتے ہوئے انہیں کہا ”اپنے عصا کی مددسے مخصوص پتھر
کو سرکائیں ۔ Root: س ق ى;ق و ل: ض ر ب; ع ص و; ح ج ر; ف ج ر; ع ى ن; ع ل م; ك ل ل; ء ن س; ش ر ب; ء ك ل; ر ز ق; ع ث ى; ف س د Form-VII verbs |
|
وَ إِذْ قُلْتُـمْ يَٟمُوسَـىٰ لَن نَّصْبِـرَ عَلَـىٰ
طَعَامٍۢ وَٟحِدٍۢ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا
تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ مِنۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّـآئِـهَا وَ فُومِهَا وَ
عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَاۖ |
اور (اے
بنی اسرئیل یاد کرو) جب تم لوگوں نے کہا تھا"اے موسیٰ(علیہ السلام)!ہم
سے ایک ہی طرح کے
طعام پر صبرنہیں ہوتا۔اِس
لئے اپنے رب سے ہمارے لئے
درخواست کریں کہ ہمارے لئے وہ مہیا کرے جسے زمین
اگاتی ہے۔اُس کی
سبزیاں /ساگ، کھیرے ککڑی، اُس کا اناج/گیہوں، اُس کی مسور، اُس کی
پیازمیں سے"۔ Root: ص ب ر; ط ع م;خ ر ج; ن ب ت; ء ر ض;ب ق ل; ب د ل; د ن و; م ص ر; ھ ب ط; س ء ل; ب و ء |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَ
ٱلنَّصَٟرَىٰ وَ ٱلصَّٟبِـِٔيـنَ |
لوگوں
کے نتیجہ کے متعلق حقیقت جان لو: وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کے رسول(کریمﷺ)اور
قرء ان مجید پر دل کی شاد سے ایمان لائے ہیں۔اور وہ جنہوں نے یہود
کی شناخت کو اختیار کر لیا تھا، اور وہ جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلوانے
لگے تھے،اور وہ جو صابئین تھے۔ |
|
وَ إِذْ أَخَذْنَا مِيثَٟقَكُـمْ وَ رَفَعْنَا
فَوْقَكُـمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٟكُـم بِقُوَّةٍۢ وَ
ٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ |
اور (اے بنی اسرئیل یاد کرو) جب
ہم جناب نےتم لوگوں کا میثاق لیا تھا۔ایسے حالات میں کہ ہم جناب نے کوہ طور
کے سلسلے کوتمہارے اوپر ایسے بلند کیا ہوا تھا( کہ تمہیں گمان ہوا جیسے
وہ تمہارے اوپر اب گرا کہ اب گرا ؛حوالہ الاعراف: ۱۷۱)۔حکم دیا گیا تھا’’تم لوگ بھرپور انداز میں
اسے(ہمارے عہد)کو اختیار کرو جو ہم جناب نے تمہیں دیا ہے،اور اسے یاد رکھوجو اس کے اندر طے کر دیا
گیا ہے۔ Root: ر ف ع |
|
ثُـمَّ تَوَلَّيْتُـم مِّنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَۖ |
بعد ازاں،تم لوگ ازخود متذکرہ میثاق کے
بعد پلٹ گئے۔ |
|
وَلَقَدْ عَلِمْتُـمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوا۟ مِنكُـمْ فِـى ٱلسَّبْتِ |
یہ بات سمجھنے میں کوئی پیچیدگی نہیں
ہونی چاہئیے)کیونکہ تم ان لوگوں کے بارے میں جان چکے ہو جنہوں نے سبت
کے معاملے میں زیر مقصدہوشیاری سے نافرمانی کا راستہ نکالا تھا۔ |
|
فَجَعَلْنَٟهَا نَكَـٟلٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْـهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةٙ لِّلْمُتَّقِيـنَ٦٦ |
نتیجتا ً ہم جناب نے سمندر کے کنارے اس بستی کوان کے لئے جو اس میں موجود تھے(جنہیں ہجرت کروا کر بچا لیا تھا۔ الاعراف۔ ۱۶۵)اور ان کے لئے جنہیں اس میں چھوڑ دیا گیا تھاسزا کی ضرب المثل بنا دیا۔اورمحتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں کے لئے ایک سبق آموز نصیحت۔ |
|
وَ إِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ
يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا۟ بَقَرَةًۭۖ |
اور وہ
واقعہ یاد کروجب موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا"س بات کو
حقیقت کے طور جان لو کہ ا للہ تعالیٰ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ ایک عام
گائے کو تم لوگ ذبح کرو"۔ |
|
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّـن لَّنَا مَا هِىَ |
انہوں
نے (موسیٰ علیہ السلام)سے کہا"ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ
ہمارے لئے(یبین) واضح انداز میں متمیز کریں کہ وہ (گائے) کیسی ہو؟" |
|
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّـن لَّنَا مَا لَوْنُـهَا |
انہوں
نے موسیٰ (علیہ السلام)سے کہا "اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کیجئے کہ
ہمارے لئے(یبین) واضح کرے کہ اُس کا رنگ کیا ہو؟ " |
|
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّـن لَّنَا مَا هِىَ |
انہوں
نے (موسیٰ علیہ السلام)سے کہا’’ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ
ہمارے لئے(یبین) واضح انداز میں متمیز کریں کہ وہ (گائے) کیسی ہو؟ |
|
قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّـهَا بَقَرَةٌۭ لَّا
ذَلُولٌۭ تُثِيـرُ ٱلْأَرْضَ وَ لَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌۭ
لَّا شِيَةَ فِيـهَاۚ |
انہوں (موسیٰ
علیہ السلام)نے کہا’’یقینا انہوں (میرے رب)نے جواب دیا ہے،وہ کہتے ہیں
”وہ ایک ایسی گائے ہے جسے ہل میں جوتا نہیں جاتا کہ زمین کو فصل بونے
کے لئے تیار کرے۔اور نہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھیتوں کو پانی دینے کے
لئے دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔اس کی
ایک خاصیت یہ بھی ہے وہ مکمل طور پر محفوط وسلامت ہے۔اور ایک خصوصیت یہ
بھی ہے کہ کسی قسم کا داغ دھبہ اس کے جسم میں نہیں ہے"۔ Root: ذ ل ل; س ق ى; س ل م Participles of Root: |
|
وَ إِذْ قَتَلْتُـمْ نَفْسًۭا فَٱدَّٟرَْٟٔتُـمْ فِيـهَاۖ وَ ٱللَّهُ مُخْرِجٌۭ مَّا كُنتُـمْ تَكْتُمُونَ٧٢ |
اور(اس دن کا یہ وقوعہ بھی یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا پھر بسبب اُس کو رفع دفع کرنے کیلئے تم لوگ الزام اِدھر اُدھر پھینک رہے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ اُس کو باہرنکالنے/ظاہر کرنے والے ہی تھے جسے تم لوگ مسلسل چھپا رہے تھے۔ |
|
فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَاۚ |
اِس مقصد کیلئے ہم جناب نے حکم دیا”اِس شخص(مرد مقتول)کو
اُس (مؤنث:مذبوحہ گائے)کے کسی ٹکڑے/حصے کو
استعمال کرتے ہوئے ٹھوکر لگاؤ/ ہلاؤ‘‘۔ |
|
ثُـمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُـم مِّنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ فَهِىَ كَٱلْحِجَارَةِ
أَوْ أَشَدُّ
|
بعد ازاں — اُس واقعے کے نتیجے میں،
جس نے تمہارا، اے معززینِ قوم، فریب و ریا کا پردہ فاش کر دیا تھا — تمہارے
دل سخت، بے حس اور غیر متأثر ہو گئے۔چنانچہ وہ پتھروں کی مانند ہو گئے بلکہ
سختی و جمود میں اُن سے بھی زیادہ۔ (حوالہ: Cf.
6:43; 57:16)۔ |
|
أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَـكُـمْ
|
اے ایمان لانے والو! کیا تم، یہ سب
حقیقتیں جاننے کے باوجود، پھر بھی یہ خواہش رکھتے ہو کہ وہ تمہارے کہنے کے
مطابق ایمان لے آئیں؟(حوالہ۔البقرۃ
13) Root: ح ر ف |
|
وَ إِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟
ءَامَنَّا |
اور جب اِن ایمان والوں کے
آمنے سامنے ہوتے ہیں جنہیں پس پشت بیوقوف قرار دیتے ہیں تو اُن سے کہا:’’ہم ایمان لے آئے ہیں"۔ |
|
أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِـرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ٧٧ |
ایسا کیوں کرتے ہیں؛ کیا وہ (منافقین اور اکابرین یہود)نہیں جانتے کہ ا للہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ کھل کر کہتے ہیں۔ |
|
وَمِنْـهُـمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْـكِـتَٟبَ إِلَّآ أَمَانِـىَّ وَإِنْ هُـمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ٧٨ |
|
|
فَوَيْلٚ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِأَيْدِيـهِـمْ |
چونکہ جھوٹ پر
مبنی دانستہ
اختراعات
پبلک
کے لئے گمراہ کن ہیں
اِس لئے خود اپنی مذمت و ملال نتیجہ اور اختتام ہو گا
اُن لوگوں کیلئے جو اپنے ہاتھوں سے
منفرد کتاب کو لکھتے ہیں ۔ |
|
وَ قَالُوا۟
لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًۭا مَّعْدُودَةًۭۚ |
اورلوگوں سے وہ کہتے ہیں "ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر
گنتی کےچند دنوں کیلئے"۔ |
|
بَلَـىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةًۭ وَ أَحَٟطَتْ بِهِۦ
خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُو۟لَٟٓئِكَ أَصْحَٟبُ ٱلنَّارِۖ |
نہیں!گنتی کے دنوں کیلئے جہنم میں رہنے والی بات غلط
ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس کسی نے بھی برائی کمائی اور اُس کی خطاؤں نے اُس
کو گھیرے میں لئے رکھا۔تو اِس کے سبب یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں رہنے والے ہوں
گے۔ |
|
وَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَ عَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَٟتِ
أُو۟لَٟٓئِكَ أَصْحَٟبُ ٱلْجَنَّةِۖ |
اور جو لوگ دل کی شاد سے عالمگیر
رسول اورقرءان پر
ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے
۔یہ لوگ ہیں جو اصحابِ جنت ہیں
۔ |
|
وَ إِذْ أَخَذْنَا مِيثَٟقَ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ |
اور تاریخ سے آگاہ ہو جاؤ؛ جب ہم جناب نے بنی اسرائیل
کے میثاق میں ان نکات کو طے کیا تھا: |
|
وَ إِذْ أَخَذْنَا مِيثَٟقَكُـمْ لَا تَسْفِكُونَ
دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُـم مِّن دِيَٟرِكُمْ |
اوریاد کرو اس موقعے کوجب ہم جناب نے
تم لوگوں(اے بنی اسرائیل)سے میثاق
لیا تھا(ان معاشرتی اصولوں کی پاسداری کا):”تم اپنوں کا خون نہیں بہاؤ گے/چرب زبانی /جھوٹے
الزامات سے ذلیل و رسوا نہیں کرو گے۔ اور نہ ہی تم لوگوں کو اپنی بستیوں میں سے نکالو گے“۔ |
|
ثُـمَّ أَنتُـمْ هَٟٓؤُلَآءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُـمْ
وَ تُخْرِجُونَ فَرِيقًۭا مِّنكُـم مِّن دِيَٟرِهِـمْ تَظَٟهَرُونَ
عَلَيْـهِـم بِٱلْإِثْـمِ وَ ٱلْعُدْوَٟنِ |
نافذ ہو جانے کے بعد ازاں تم لوگ ہو کہ
اپنے لوگوں کو رسواکر کے معاشرے کی نظروں سے الگ کرتے ہو۔اور تم لوگ اپنے میں موجود ایک کمزور فریق
کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ان پرقابل
تعزیر خلاف ورزیوں اور انتشار پھیلانے کے الزام لگا کر۔ Root: ف د ى |
|
أُو۟لَٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَـرَوُا۟ ٱلْحَيَوٰةَ
ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِۖ |
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کی خاطر آخرت
کا(گھاٹے کا) سودا کر لیا ہے۔ |
|
وَ لَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِتَـٰبَ |
ماضی کی
اس حقیقت کو بھی جان لو:ہم
جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔
(Cf. 2:53; 2:87; 6:154; 11:110; 17:02; 23:49; 25:35;
28:43; 32:23; 41:45) |
|
وَ قَالُوا۟ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَل لَّعَنَـهُـمُ
ٱللَّهُ بِكُفْرِهِـمْ |
اور انہوں نے رسولوں سے کہا"ہمارے دل
تو غلافوں میں لپٹے ہوئےہیں "۔ہرگزنہیں!اصل حقیقت یہ ہے کہ ا للہ تعالیٰ
نے رسول کریم اور قرءان مجید کو بالواسطہ مسترد کرنےپر بضد رہنے
کے وجہ سے انہیں مسترد ،پھٹکار زدہ
اور محروم کر دیا ہے۔ |
|
وَ لَمَّا جَآءَهُـمْ كِتَٟبٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ
مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُـمْ |
حجاز میں ان کی روش جان
لو؛
جوں ہی کتاب (قرء ان)ان تک پہنچ
گیا
؛جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے
انہیں پہلے سے حاصل معلومات کے مطابق عربی
زبان میں مرتب فرمایا گیاہے
—اس کی
دوسری
خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے جواُن کے پاس
موجود رہا ہے۔ Root: ف ت ح |
|
بِئْسَمَا ٱشْتَـرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُـمْ أَن يَكْـفُـرُوا۟ بِمَآ
أنَزَلَ ٱللَّهُ
بَغْيٙا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ عَلَـىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ
عِبَادِهِۦ |
کتنا
برا اور رسوا کن ہے وہ سودا جو انہوں نے پوری دانست کے ساتھ اپنی جانوں کے
عوض کر لیا ہے—کہ
اللہ تعالیٰ نے جو مجتمع انداز میں ان تک پہنچایا ہے اُس کا انکار
کر
بیٹھیں۔محض اِس جذباتی جلن اور غبار خاطر سے کہ اللہ
تعالیٰ نے اپنا فضل—آخری کتاب قرءانِ عظیم—اپنے بندوں میں سے اس اشرف قرار
پائے مخلص بندےپربتدریج نازل کریں جنہیں وہ خود پسند فرماتے ہیں۔ |
|
وَ إِذَا قِيلَ لَـهُـمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ
ٱللَّهُ قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا |
اور جب
اُن سے کہا گیاتھا "تم لوگ اِس پر ایمان لاؤ جو ا للہ تعالیٰ نے
یکجاانداز میں نازل فرما دیاہے"۔تو
انہوں نے جواب میں کہا "ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو مجتمع انداز میں
ہم پرنازل کیا گیا تھا"۔ |
|
وَ لَقَدْ جَآءَكُم مُّوسَـىٰ بِٱلْبَيِّنَٟتِ ثُـمَّ ٱتَّخَذْتُـمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَ أَنتُـمْ ظَٟلِمُونَ٩٢ |
اور(اپنے ایمان کے متعلق کچھ اور سننا چاہتے ہو تو سنو)موسیٰ (علیہ السلام)یقیناتمہارے پاس عینی مشاہدہ کے لئے ایسی روشن نشانیاں(آیات )لے کر آئے تھے جو انسانی تصور،تجربہ،سائنسی توضیح سے بالاتر ہوتے ہوئے صاف بتاتی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔ پھران کے جانے کے کچھ عرصہ بعد ،تم نے اس مخصوص بچھڑے نماڈھانچے کو(ھارون علیہ السلام کے منع کرنے کے باوجود)جوشِ میلان اور دانستہ قصدکے ساتھ اپنا ظاہری معبود بنا لیا—یوں تم نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا؛ حدود حق کو پامال کیا، اور حقیقت کو باطل کے ساتھ بدل ڈالا۔ Root: ع ج ل |
|
وَ إِذْ أَخَذْنَا مِيثَٟقَكُـمْ وَ رَفَعْنَا
فَوْقَكُـمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٟكُـم بِقُوَّةٍۢ وَ
ٱسْـمَعُوا۟ۖ |
اوراے بنی اسرئیل یاد کرو جب
ہم جناب نےتم لوگوں کا میثاق لیا تھا۔ایسے حالات میں کہ ہم جناب نے کوہ طور
کے سلسلے کوتمہارے اوپر ایسے بلند کیا ہوا تھا کہ تمہیں گمان ہوا جیسے
وہ تمہارے اوپر اب گرا کہ اب گرا ؛(حوالہ الاعراف:۱۷۱)۔حکم دیا گیا تھا’’تم لوگ بھرپور انداز میں
اسے(ہمارے عہد کو) اختیار کروجو ہم جناب نے تمہیں دیا ہے؛ اور غور سےموسیٰ(علیہ السلام)کو سنو"۔ Root: ر ف ع |
|
قُلْ إِن كَانَتْ لَـكُـمُ ٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ٩٤ |
آپ (ﷺ)بنی اسرائیل /اہل یہود سے فرمائیں:”اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخرت کا گھر (جنت، تمہارے بقول)دوسرے تمام لوگوں کی بجائے خالص تمہارے لئے مخصوص ہے۔توچونکہ جنت دنیا سے کہیں بہتر مقام ہےتو پھرتم لوگ ازخود موت کی تمنا کر کے دکھاؤ۔ایسا کر کے ثابت کرو اگر تم لوگوں سے بیان کردہ اپنے قول میں سچے ہو"۔ |
|
وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدَا |
لیکن وہ
کبھی بھی ہرگز
ازخود اپنے لئے موت کی تمنا نہیں کریں گے اُس کے سبب جو
اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ |
|
وَ لَتَجِدَنَّـهُـمْ أَحْرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَـىٰ
حَيَوٰةٍۢ وَ مِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ |
اور آپ(ﷺ) ضرور انہیں آئندہ بھی
طویل مدت زندگی کا حریص پائیں گے دوسرے
لوگوں سے کہیں زیادہ
اور ان سے بھی
جنہوں نے اللہ
تعالیٰ کے ساتھ شراکت داری کا فلسفہ اختراع کیا اور اپنایا ہے۔ |
|
قُلْ مَن كَانَ عَدُوّٙا لِّجِبْـرِيلَ
فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَـىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ
|
آپ(ﷺ)اعلان فرمائیں’’جو کوئی عداوت پر مبنی شبہات کا اظہار کرتا ہے
جبرائیل (علیہ السلام)کے لئے‘‘(وہ درحقیقت ایمان لانے سے انکاری ہے)۔کیونکہ
یقیناً وہ ہی ہیں جنہوں نے اسے (قرء ان)بتدریج آپ کے قلب پر اتارا
ہے،اللہ تعالیٰ کی موقع محل کی مناسبت سے پیشگی اجازت کے ساتھ۔ |
|
مَن كَانَ عَدُوّٙا لِّلَّهِ وَمَلَـٟٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ
وَجِبْـرِيلَ وَمِيكَىٰلَ |
یہ جان
لو،جو کوئی اللہ تعالیٰ،ان کے ملائکہ،ان کے رسولوں،جبرائیل اور میکال
کے لئے بے اعتنائی کا احساس اور اظہار کرتا ہے؛ |
|
وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ءَايَٟتِ |
اور ہم جناب نے آپ (ﷺ) کی جانب یقینامجتمع انداز میں معنی و مفہوم میں واضح آیتیں نازل فرما دی ہیں۔اور یہ جان لو کہ اِن کا مسلسل انکار(اعلانیہ /یاچھپا کر)کوئی نہیں کرتاسوائے اُن لوگوں کے جو فاسق /عہد،حدودشکن ہیں۔ |
|
أَوَكُلَّمَا عَٟهَدُوا۟ عَهْدٙا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٚ مِّنـهُـم |
اورکیا یہ سچ نہیں کہ ہر بار جب انہوں نے ایک عہد کا پابندرہنے کا عہد کیا تھا تو اُن کا ایک فریق اُس عہدکو پس پشت ڈال دیتا تھا۔بلکہ در حقیقت اُن میں سے اکثر تومانتے ہی نہیں (کہ عہد دیا تھا)۔(البقرۃ۔۱۰۰) |
|
وَلَمَّا جَآءَهُـمْ رَسُولٚ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ
مُصَدِّقٚ لِّمَا مَعَهُـمْ |
اور
جوں ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری ر سول ان کے پاس پہنچ گئے جن کے
متعلق انہیں تحریری طور پر پہلے سے مطلع اور ایمان لانے کا پابند کیا
ہوا تھا(الاعراف۔157؛
الصف 6)۔ان
کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تصدیق و توثیق فرمانے والے ہیں اس کی جو ان کے پاس
نازل کردہ کلام اللہ ہے۔ |
|
وَ ٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَٟطِيـنُ عَلَـىٰ
مُلْكِ سُلَيْمَٟنَۖ |
اللہ تعالیٰ کی جانب
سے نازل کردہ کی بجائے
ان عمائدین نےاُن
باتوں کی پیروی کی جو سلیمان (علیہ السلام)کی سلطنت میں شیطان
صفت لوگ سنایا کرتے تھے۔ Root: س ح ر |
|
وَلَوْ أَنَّـهُـمْ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا لَمَثُوبَةٚ مِّنْ عِندِ
ٱللَّهِ خَيْـرٚ |
اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملنے والا اجر اُن کیلئے زیادہ بہتر ہوتا۔ (ایسا تو تب ممکن تھا)اگرانہوں نے (کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے پھینکنے کی بجائے)علم حاصل کیا ہوتا۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
اے وہ
لوگوں جنہوں نے
رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو! مدعیان ایمان سے براہ راست خطاب انناوے بار ہے منہ میں پہنچے تصور کی صوت کو تبدیل کرنے کی انسانی صلاحیت |
|
مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ
ٱلْـكِتَـٰبِ وَ لَا ٱلْمُشْـرِكِيـنَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُـم مِّنْ
خَيْـرٍۢ مِّن رَّبِّكُـمْۗ |
اہلِ
کتاب میں سے وہ
سرکردہ عمائدین
جنہوں نے
بَغْيٙا،جلن،کینہ
سے
۔[حوالہ
البقرۃ۔90]رسول کریم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور نہ مشرکین
میں سے رسول اللہ کا انکار کرنے والے عمائدین
یہ پسند
کرتے ہیں:کہ
آئندہ
تم لوگوں کے لئے مزیدقطعاً
کچھ بھی موجب
خیر( آیات ِ قرءان ِمجید)کو
وقفے وقفے سے تمہارے رب کی
جانب سے نازل کیا جائے(النحل۔۳۰ ساتھ پڑھیں) |
|
مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٛ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْـرٛ مِّنْـهَآ
أَوْ مِثْلِهَآۗ |
اگرہم
جناب کسی آیت کے کسی جملے یا اُس آیت کو ویسے ہی برقرار رکھتے ہوئے اُس
کے مقام موجودگی کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہم اس جملے یا اس آیت کے مقام
پر اُس سے نسبتاً زیادہ موزوں یا اس کے مثل مدون فرما ناپسند کریں گے۔ |
|
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ
ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
کیا آپ(ﷺ) نہیں جانتے/آپ جانتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ ہیں، آسمانوں اور زمین پراقتدار اعلیٰ
اور ان کا نظم و نسق صرف ان کے دائرہ کار میں ہے۔ |
|
أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْـَٔلُوا۟ رَسُولَـكُـمْ كَمَا سُئِلَ
مُوسَـىٰ مِن قَبْلُۗ |
کیا(اہلِ یہود کی طرح)تم بھی اپنے رسول کریم (ﷺ)سے
اِس طرح سوال کرنا چاہتے ہو جیسے زمانہ قبل میں موسیٰ(علیہ السلام) سے
کئے گئے تھے؟ |
|
وَدَّ كَثِيـرٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْـكِتَـٰبِ لَوْ
يَرُدُّونَكُـم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَٟنِكُـمْ كُفَّارًا حَسَدًۭا مِّنْ
عِندِ أَنفُسِهِـم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّـنَ لَـهُـمُ ٱلْحَقُّۖ |
اہلِ کتاب میں سے ان
(یہودی)مقتدر اور صاحبان علم کی اکثریت کی یہ قلبی خواہش ہےجو
نسلی تعصب اور جلن کی آگ میں کڑھ رہے ہیں
،کہ کاش تم رسول کریم اور قرءان
مجید پرایمان لے آنے والوں کوایمان لانے کے
بعدانکار کرنے والوں میں لوٹا دیں ۔ یہ تمناصرف اُن کے اس حسد کی بنا ء
پرہے جو رسول کریم سے
نسلی تعصب اور جلن کی آگ
نے پیدا کیا ہے بعد اس کے جب بیان حقیقت (قرء ان
مجید)نے ان کے لئے ہر بات کو نکھار کر واضح اور متمیز کر دیاہے ۔ |
|
وَ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَ ءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَۚ
|
اور استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے تم لوگ صلوٰۃ کی
ادا ئیگی کرتے رہو;اورمعاشرے کے نطم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالی
تعاون ؍ زکوۃ کی ادائیگی کرتے رہو |
|
وَ قَالُوا۟ لَن يَدْخُلَ ٱلْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ
هُودًا أَوْ نَصَٟرَىٰۗ |
ان
کے طرز عمل کو جان لو؛انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ”جنت میں کبھی کوئی
شخص داخل نہیں ہو سکے گا سوائے اُس کے جو دنیا میں یہودی یا نصرانی کی
شناخت رکھتا تھا“۔ |
|
بَلَـىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَ هُوَ
مُحْسِنٌۭ فَلَهُۥٓ أَجْرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ |
نہیں۔ان کا دعویٰ خام خیالی ہے،حقیقت یہ ہے کہ جس کسی
نے اپنی حریت،اپنے چہرے کی جہت کواللہ تعالیٰ کی خاطرنظام
اسلام پر خم کر دیا۔اور وہ معتدل مزاج،حسن کردار کا حامل ہے۔بوجہ
نظریہ حق اور عمل کے امتزاج،ایسے شخص کاصلہ و انعام اس کے رب کی جانب
سے اس کے لئےتیار اور منتظر ہے۔ |
|
وَ قَالَتِ ٱلْيَـهُودُ لَيْسَتِ
ٱلنَّصَٟرَىٰ عَلَـىٰ شَـىْءٍۢ وَ قَالَتِ ٱلنَّصَٟرَىٰ لَيْسَتِ
ٱلْيَـهُودُ عَلَـىٰ شَـىْءٍۢ وَ هُـمْ يَتْلُونَ ٱلْـكِتَـٰبَۗ |
(ان کے دعویٰ کی حقیقت ان کے تضاد سے پرکھو)یہودی
علماءنے
کہا’’نصاریٰ کبھی کسی صحیح بنیاد پر قائم تصور
اور نظریئے کے حامل نہیں رہے‘‘۔اور نصاریٰ کے علما ء نے کہا’’اہل یہود کبھی
کسی صحیح بنیاد پر قائم تصور اور نظریئے کے حامل نہیں
رہے‘‘۔ان کے علماء ایسا بیان دیتے ہیں جبکہ دونوں
مخصوص کتاب کو پڑھتے ہیں۔ |
|
وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٟجِدَ ٱللَّهِ أَن
يُذْكَرَ فِيـهَا ٱسْـمُهُۥ وَ سَعَىٰ فِـى خَرَابِـهَآۚ |
غور
کرو؛اس شخص سے زیادہ کون تخریب کار ہو سکتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی
مساجد میں ان کے اپنےنام کے ذکر سے لوگوں کومنع کیا۔اور اس
نے کوشش کی کہ انہیں(مساجد)غیر آباد کر دے۔ |
|
وَلِلَّهِ ٱلْمَشْـرِقُ وَٱلْمَغْـرِبُ |
اور(سمجھنے کی کوشش کرو اے یہود و نصاریٰ)ایک مخصوص مشرق اور مغرب کی
سمت تمام سمتوں کی مانند اللہ تعالیٰ کے تسلط پر گواہ ہے۔ Root: و س ع |
|
وَ قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭاۗ سُبْحَٟنَهُۥۖ
|
جان
لو؛انہوں(قدیم یہودی عمائدین)نے کہا’’اللہ تعالیٰ نے عزیر کو زیر مقصد
بطور بیٹا اپنا لیا ہے‘‘۔وہ جناب
ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ
محور ہیں۔ |
|
بَدِيعُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
وہ
جناب آسمانوں اور زمین کے مُتَصَوِّر
اورعدم سے وجود دینے والے ہیں۔ |
|
وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
لَوْلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوْ تَأْتِينَآ ءَايَةٚۗ |
جان لو:یعنی
مشرکین کے مقتدر اور صاحبِ ثروت طبقے کے افراد، جو وحی و رسالت کے الٰہی
نظامِ ابلاغ سے ناواقف تھے—اپنی نجی مجلسوں میں طنزیہ انداز میں یہ کہنے
لگے:"اللہ ہم سے براہِ راست کیوں گفتگو نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی
آیت کیوں نہیں آتی (آیتیں
صرف اسی شخص کے پاس کیوں آتی ہیں)؟"(Cf.
6:123-24; 38:08; 43:30-31) |
|
إِنَّـآ أَرْسَلْنَـٟكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙا |
(اے رسولِ کریم) ہم جناب نے آپ (ﷺ) کو بیانِ حقیقت(قرآنِ مجید) کے ساتھ اور موقع کی مناسبت سے تمام انسانوں کی جانب بھیجا ہے۔ آپ کی حیثیت زمان و مکان میں خوش کن نتائج کی خبر،ضامن اورکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کرنے والے کی ہے۔مگر آپ (ﷺ) سے دوزخ میں مقیم کئے جانے والوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔ (البقرۃ۔۱۱۹)۔ |
|
وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنكَ ٱلْيَـهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٟرَىٰ حَتَّىٰ
تَتَّبِــعَ مِلَّتَـهُـمْ |
اورحتمی خبردی جاتی ہے(اے رسولِ کریم تاکہ آپ ان کے لئے
زیادہ متردد نہ ہوں)آپ (ﷺ) سے یہودی اور نصاریٰ من حیث القوم اُس وقت
تک راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ دیدہ دانستہ اُن کے طرز فکر و عمل کی
عملی طور پرپیروی کرنے نہیں لگتے (کیونکہ ان کے گمان میں وہ ہدایت پر
مبنی ہے)۔ |
|
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ
تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَـٟٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ |
ہم
جناب نے جن لوگوں کومخصوص کتاب (قرءانِ مجید)سے نوازاہے وہ اِس
کے متن کو بے کم و کاست صوتی ترتیب کے عین
مطابق اصل تلفظ کے ساتھ خود کو اور دوسروں کو سناتے ہیں۔اس انداز میں
صوتی ابلاغ اس کتاب کا برحق
تقاضا اور استحقاق ہے۔درحقیقت
یہ ہیں وہ لوگ جو بطیب خاطر اُس کوتسلیم کرتے ہوئے
اس سے وابستہ اور پیوستہ رہتے ہیں۔ |
|
يَٟبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ
ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِـىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُـمْ |
اے
بنی اسرائیل!
میری
اُس عنایت کو ذہن وقلب و زبان پر تازہ کرو،وہ عنایت خاص
جسے میں نے کارگزاری کے
صلے میں بطور انعام
تم لوگوں
کو عنایت
کی تھی(سہنے
اور برداشت کرنے پرءال
فرعون کے ظلم و جبروت سے نجات دلائی۔سورۃ ابراہیمؐ۔۶)۔ Root: ن ع م |
|
وَ ٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ
شَيْـًۭٔا |
اورتم
لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اپنے آپ کواس دن کے حوالے سے محفوط کرو
جس میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا (یعنی
نفسی نفسی کا عالم ہو گا) |
|
وَ إِذِ ٱبْتَلَـىٰٓ إِبْرَٟهِـۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٟتٍۢ
فَأَتَمَّهُنَّۖ |
اپنی ملت کے آغاز کی تابناک تاریخ بھی جان لو، جب ابراہیم (علیہ السلام)
کواُن کے رب
نے بعض متعین ہدایات کا پابند بنایا توانہوں نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے
انہیں بخوبی انجام تک پہنچایا۔تو انہوں (ان کے رب)نے فرمایا”میں آپ کومخصوص لوگوں
کے لئے بطور امام/ملت کا
پیشرو قائد قرار دینے لگا ہوں۔انہوں (ابراہیم علیہ السلام)نے پوچھا”کیا آپ جناب میری ذریت
میں سے بھی کسی کو یہ اعزاز دیں گے؟“۔انہوں (ان کے رب)نے فرمایا”ایسا ہے،مگر میرا یہ
عہدتیری ذریت میں حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنانے والوں تک دراز
نہیں ہو گا“۔(البقرۃ۔١٢٤ |
|
وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةٙ لِّلنَّاسِ وَأَمْنٙا
|
مزید یہ حقیقت جان لو:جب
ہم جناب نےتعمیر مکمل ہونے پر”ٱلْبَيْتَ
“کعبہ معظمہ کو لوگوں کیلئے بار بارلوٹنے،رجوع کرنے کی جگہ مقرر فرمایا اور جائے
امان قرار دیا۔ |
|
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٟهِـۦمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَـٟذَا بَلَدٙا ءَامِنٙا
وَٱرْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ ٱلثَّمَـرَٟتِ مَن ءَامَنَ مِنْـهُـم
بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ |
اس پر ابراہیم (علیہ السلام)نے استدعا کی’’اے میرے
رب!آپ اس قصبہ کوایسا مقام قرار دیں جو لوگوں کو امن و امان،تحفط
کا ضامن ہو۔اورآپ اس قصبہ کے رہنے والوں میں سے ان کو جو اللہ تعالیٰ
اور یوم آخر پر ایمان لایا ثمرات میں سےرزق عطا فرمائیں‘‘۔ |
|
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٟهِـۦمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْـمَٟعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّـآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ١٢٧ |
|
|
رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْـنِ لَكَ
وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةٙ مُّسْلِمَةٙ لَّكَ
|
اے ہمارے رب!آپ جناب ہم(باپ بیٹے) کو دو ایسے مسلمان قرار دیں جو آپ کے لئے ہمیشہ توحید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔اورآپ ہماری ذریت(نسل،اولاد)میں سے ایک کودین اسلام پر کاربند امت قرار دیں جو آپ کے لئے ہمیشہ توحید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔اور آپ جناب ہمیں ہمارے مناسک مظاہرے سے دکھائیں۔ اور ہم پر رحمت سے لبریز توجہ فرمائیں۔یقینا آپ کے بارے حقیقت یہ ہے کہ آپ اکثر و بیشتر توبہ قبول فرمانے والے ہیں،آپ منبع رحمت ہیں۔(البقرۃ۔١٢٨) |
|
رَبَّنَا وَٱبْعَثْ فِيـهِـمْ رَسُولٙا مِّنْـهُـمْ
يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِكَ |
ہمارے
رب!آپ مبعوث فرمائیں ان (ہم دونوں کی ذریت)کے درمیان ایک رسول جو ان
میں ہمیشہ توحید پر کاربند مومن ہو۔وہ ان (ہماری
ذریت)کوآپ جناب کی
حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی عبارتیں(آیات)ترتیب
کے عین مطابق تلفظ کرتے ہوئے سنائے۔ اسماعیل علیہ السلام کی ذریت میں سےخاتم المرسلین کے مبعوث کرنے کی دعا |
|
وَ مَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٟهِـۧمَ إِلَّا مَن
سَفِهَ نَفْسَهُۥۚ |
غور و فکر کرو: اپنے باطن کے میلان اور داخلی رغبت کو ملت ابراہیم(علیہ السلام)کے
مقررہ نظریہ اورطرز ِفکرو
عمل سےہٹا کر کون شخص کسی دوسری سمت پھیلا
دانستہ سکتا ہے ، سوائے اس کے جس نے خود اپنی ہی ذات کو حماقت اور فکری
سفاہت کا نشانہ بنا دیا ہو؟ |
|
إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ |
(یہ اس قت کی بات ہے)جب اُن کے رب نے اُن سے کہا ”آپ ہمارے آئین اسلام کوتسلیم کریں“؛ تو انہوں نے کہا ”میں اس آئین کو تسلیم کر چکا ہوں، تمام جہانوں کے رب کیلئے اس کی پاسداری کا فَرِیضَہ انجام دینے کے لئے۔“ |
|
وَوَصَّىٰ بِـهَآ إِبْرَٟهِـۦمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَٟبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَـكُـمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُـم مُّسْلِمُونَ ١٣٢ |
اور(پاسداری کرتے ہوئے) اِس بات کی وصیت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں (اسماعیل،اسحاق،یعقوب علیہم السلام) کو فرمائی۔اور(اُن کے پوتے)یعقوب (علیہ السلام) نے بھی یہ وصیت فرمائی:”اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کیلئے دین(اسلام) کو سربلند کیا ہے۔اِس لئے تم لوگوں کو سوائے اس حالت میں مرنا نہیں چاہئے کہ تم لوگ دین اسلام پر کاربند رہ رہے تھے“۔ Root: ص ف و |
|
أَمْ كُنتُـمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ
ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى |
|
|
تِلْكَ أُمَّةٚ قَدْ خَلَتْ |
یہ(بیان کردہ اصحاب)ایک ہم نسبت جماعت تھی جو گزر گئی۔جو اُس نے کمایاتھا وہ اُن کے اجر و انعام کے لئے ذخیرہ ہے،اور جو تم لوگوں نے کمایاوہ تمہارے لئے ذخیرہ ہے۔اورتم لوگوں سے اس کے متعلق سوال نہیں ہو گا کہ یہ متذکرہ جماعت کے لوگ کیا اعمال کرتے رہتے تھے۔(البقرۃ۔۱۳۴) Root: خ ل و |
|
وَقَالُوا۟ كُونُوا۟ هُودٙا أَوْ نَصَٟرَىٰ تَـهْتَدُوا۟ۗ |
اورانہوں (اہل ِ کتاب کے عمائدین)نے لوگوں سے کہا"تم
لوگ یہودی انداز فکر کو اپنا لو، یا نصرانی بن جاؤ،توتم ازخود سے ہدایت
یافتہ ہو جاؤ گے"۔ Root: م ل ل |
|
قُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَ مَآ أُنزِلَ
إِلَيْنَا وَ مَآ أُنزِلَ إِلَـىٰٓ إِبْرَٟهِـۧمَ وَ إِسْـمَٟعِيلَ وَ
إِسْحَٟقَ وَ يَعْقُوبَ وَ ٱلْأَسْبَاطِ |
تم لوگ—آفاقی
رسول کریم پر ایمان لانے والو—اہل کتاب سے کہو
"ہم ا للہ تعالیٰ پر ایمان
لائے ہیں اور اُس پر جو ہماری طرف مجتمع انداز میں نازل کیا گیاہے۔اورہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ابراہیم، اسماعیل،اسحاق،اور
یعقوب (علیہم السلام)اور ان کی اولاد(بارہ قبیلے)کی طرف مجتمع انداز میں
نازل کیا گیا تھا۔ Root: س ب ط |
|
فَإِنْ ءَامَنُوا۟ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُـم بِهِۦ
فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ۖ |
تمہارے بیان کے جواب میں — اگر وہ اسی
طور پر دل سے ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو،
اس (قرءان)کے
وسیلے سے اپنی راہِ ہدایت پاتے ہوئے، تو وہ یقیناً اپنے آپ کو
سیدھی راہ پر لگا چکے ہیں۔ Root: ك ف ى |
|
صِبْغَةَ ٱللَّهِۖ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ
صِبْغَةًۭۖ |
بات جاری رکھتے ہوئےان
اہل کتاب سےکہو"اپنے
آپ کو اسلام پر ثابت رکھنا—وہ رنگت، وہ ڈھنگ، وہ
فطری ساخت اختیار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ازل سے
مقرر کی ہے۔۔اور
اللہ تعالیٰ سے بہتر ،متناسب
کون ہو سکتا ہے؟ رنگ سازی کے حوالے سے! Root: ص ب غ |
|
قُلْ أَتُحَآجُّونَنَا فِـى ٱللَّهِ وَ هُوَ رَبُّنَا
وَ رَبُّكُـمْ وَ لَنَآ أَعْمَٟلُنَا وَ لَـكُـمْ أَعْمَٟلُـكُـمْ |
آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں "کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے بحث
کرنا چاہتے ہو!باوجود اس کے کہ وہ ہمارے رب ہیں، اور تمہار ے رب بھی ہیں۔ |
|
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَٟهِـۦمَ وَإِسْـمَٟعِيلَ وَإِسْحَـٟقَ
وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطَ كَانُوا۟
هُودًا أَوْ نَصَٟرَىٰ |
(وہ جو تم لوگ کہتے ہو کہ یہودی یا نصرانی
بننے سے انسان ہدایت یافتہ ہو جاتا ہے)کیا تم لوگ یہ کہتے ہو
"یقینا ابراہیم، اسماعیل،اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام)اوران کی
اولاد(بارہ قبیلے)اپنے زمانے میں یہودی یا نصرانی ہوا کرتے
تھے"۔ |
|
تِلْكَ أُمَّةٚ قَدْ خَلَتْ |
یہ(بیان کردہ اصحاب)ایک ہم نسبت جماعت تھی جو گزر گئی۔جو اُس نے کمایاتھا وہ اُن کے اجر و انعام کے لئے ذخیرہ
ہے،اور جو تم لوگوں نے کمایاوہ تمہارے لئے ذخیرہ ہے۔اورتم لوگوں سے اس کے متعلق سوال نہیں ہو گا کہ یہ متذکرہ
جماعت کے لوگ کیا اعمال کرتے رہتے تھے۔(البقرۃ۔١٤١ |
|
سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا
وَلَّىٰـهُـمْ عَن قِبْلَتِـهِـمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْـهَاۚ |
عنقریب لوگوں (زمانہ نزول میں اہل یہود)میں سے جانے پہچانے
بیوقوف (منافقین )اور
وہ لوگ جو ملتِ ابراہیمؑ کے طے شدہ طریقۂ کار سے روگرداں ہو چکے ہیں—آپس میں
اسلام میں داخل ہونے والوں کے متعلق
کہتے رہیں گے:"کس بات نے اُن لوگوں کواپنے اُس
"قبلہ"کے تصورسے پلٹا دیا ہے—یوں
کہ وہ اُس سے فکری اور تصوری بُعد اختیار کرتے ہوئے دُور ہٹ گئے—وہ
[چاہے مشرق ہو یا مغرب]جسے طویل عرصے
سے ایک نظریاتی امتیاز اور برتری کی علامت سمجھتے چلے آئے تھے؟" Root: س ف ه |
|
وَكَذَٟلِكَ جَعَلْنَـٟكُـمْ أُمَّةٙ وَسَطٙا
لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَـى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلـرَّسُولُ
عَلَيْكُـمْ شَهِيدٙا |
خوب جان لو:
اسی مرکزِ توحید کی وحدت سازی کے
ذریعے (یعنی نو مسلم یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے کعبہ کو قِبلہ مقرر
کر کے)ہم جناب نے
درحقیقت تمہیں ایک
اعتدال پسند، راست رو، اور بلند
مرتبہ اُمّت
کی حیثیت دے دی ہے—ایک
ایسی امّت جسے پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے سامنے لایا گیا ہے (ملاحظہ
ہو: 3:110)۔اس کا مقصد یہ ہے کہ تم—اے مخلص اہلِ ایمان—لوگوں پر
گواہ بن کر کھڑے ہو سکو؛
اور رسولِ کریم ﷺ—جو سراپا رحمت ہیں—تم پر
گواہ ہوں۔ (غور کریں مرکزی شہر مکہ،مرکز توجہ کعبہ، مرکزی امت اور یہ آیت سورۃ کی مرکزی آیت ہے) Form-VII verbs Root: ر ء ف |
|
قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِـى ٱلسَّمَآءِ |
(اے رسولِ کریم) ہم آپ (ﷺ) کے آسمان کی جانب بار بار اٹھتے چہر ہ مبارک
کو مسلسل دیکھ رہے ہیں / ہجرت کی وجہ سے چاہت والے قبلہ سے جدائی اور
تولیت نہ ہونے کے رنج اور جذبات کا ہمیں احساس ہے۔اِس سبب سے ہم آپ کوحلفاً یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کو قبلۃ کی تولیت
جلد عطا فرمائیں گے۔وہ آپ کیلئے دائمی/مسلسل اطمینان و خوشی کا موجب ہو
گا۔اِس لئے آپ(ﷺ) اپنا چہرہ الگ اور دور ہونے کی بناء
پرمسجد الحرام کے روبروکر یں۔اور (اے ایمان لانے والو)تم لوگ مسجد الحرام سے الگ اور دور جہاں کہیں
بھی ہو اپنے چہرے اُس کے روبرو کرو۔اورحقیقت یہ ہے کہ جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی وہ
یقیناجانتے ہیں کہ یہ[تولیت دینے کا وعدہ]اُن کے رب کی جانب سے حقیقت
ہے۔متنبہ رہو، اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی بھی لمحے ان اعمال
کی جانب سے غافل نہیں ہوتے جو وہ کرتے رہتے ہیں۔(البقرۃ۔١٤٤
|
|
وَ لَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْـكِتَـٰبَ
بِكُلِّ ءَايَةٍۢ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَۚ |
اور اگر آپ (ﷺ)نے کتاب کی آیات کے ساتھ ہر ایک طرح کی
عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں (آیات/معجزات)انہیں عنایت کر
دئیے ہوتے جنہیں منفرد کتاب سے نوازا گیا تھا
جوان کےتصور،تجربہ،
سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے
ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی ہوتیں کہ من جانب اللہ
سند اور برھان ہیں؛
تب بھی انہوں (یہود و نصاریٰ من حیث القوم) نے آپ (ﷺ) کے
قبلہ کی اتباع نہ کی ہوتی۔ |
|
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يَعْـرِفُونَهُۥ كَمَا
يَعْـرِفُونَ أَبْنَآءَهُـمْ |
آگاہ رہو؛جن لوگوں کو ہم جناب نے اپنے کلام پر مشتمل کتاب سے نوازا تھا
وہ انہیں (رسول کریمﷺ)کوایسے معروف انداز میں جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کووہ پہچانتے ہیں۔
|
|
وَ لِـكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيـهَاۖ
فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْـرَٟتِۚ |
کیونکہ(آپ جانتے ہیں) ہر ایک ایک کے لئے اپناایک نقطہ
توجہ/مقصد ہے جدھر وہ پلٹتاہے۔(انہیں پلٹے رہنے دو)اے ایمان لانے والو! تم لوگ نیکیوں
میں ایک دوسرے سے سبقت لو۔ |
|
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ |
اور آپ(ﷺفتح مکہ پر کعبہ کی تولیت پانے کے بعد) جس جانب
سے بھی اُس میں سے نکل کر الگ اور دور ہوں تو الگ ہونے کے سبب آپ(ﷺ)اپنا
چہرہ پلٹ کرمسجد الحرام کے روبرو کریں۔ |
|
وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ
ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِۚ |
اور آپ(ﷺفتح مکہ پر کعبہ کی تولیت پانے کے بعد) جس جانب
سے بھی اُس میں سے نکل کر الگ اور دور ہوں تو الگ ہونے کے سبب آپ(ﷺ)اپنا
چہرہ پلٹ کرمسجد الحرام کے روبرو کریں۔ |
|
كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُـمْ رَسُولٙا مِّنكُـمْ
|
ویسے اپنی نعمت کا اتمام کروں جیسے ہم جناب نے تم لوگوں
(مومنین)کے درمیان اُن کو رسول بنا کر بھیجا ہے جو تم لوگوں میں
سے غیر بنی اسرایئل(بنی اسمائیل)سے تعلق رکھنے والے امین اورمومن،
توحید پر قائم شخص کی پہچان اور شہرت رکھتے ہیں۔ |
|
فَٱذْكُـرُونِـىٓ أَذْكُـرْكُمْ وَٱشْكُـرُوا۟ لِـى وَلَا تَكْـفُـرُونِ ١٥٢ |
اِس لئے (ان دو نعمتوں کے حوالے سے)میرا ذکر کرتے رہا کرو؛ میں تمہارا چرچا کروں گا (تمہیں یاد رکھوں گا)۔اورمیرے لئے شکرگزار بنو؛اور میری نعمتوں کاتم لوگوں کوکفرانِ نعمت نہیں کرنا چاہئے۔ (البقرۃ۔۱۵۲) |
|
يَـٟٓـأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِيـنُوا۟ بِٱلصَّبْـرِ وَٱلصَّلَوٰةِ |
!اے وہ
لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!اللہ تعالیٰ سے تم لوگ اپنی ذات میں اعتدال اور پختگی
پیدا کرنے کے طلبگار استعانت رہو،استقامت و استقلال،ضبط و برداشت اور
صلوٰۃ کے ذریعے۔ |
|
وَ لَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٟتٌۢۚ بَلْ أَحْيَاءٚ وَلَٟكِـن لَّا تَشْعُـرُونَ ١٥٤ |
اورتم لوگوں کو اُن کے متعلق یہ نہیں کہنا چاہئے اور ممانعت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راہ /نظام کے دفاع میں قتل کر دیئے جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔وہ مردہ نہیں،انہوں نے زندگی کو کھویا نہیں ۔درحقیقت وہ حیات ہیں لیکن تم لوگوں کے تصور/شعور میں وہ حیات نہیں آ سکتی (عدم تجربہ کی بناء پر)۔ |
|
وَ لَنَبْلُوَنَّكُـم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَ
ٱلْجُوعِ وَ نَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٟلِ وَ ٱلْأَنفُسِ وَ ٱلثَّمَرَٟتِۗ
|
باخبر رہو!ہم جناب تم لوگوں
کو مستقبل
میں ایسے حالات کے ذریعے آزمائش میں ڈالیں گے جو تمہاری چھپی ہوئی صلاحیتوں
اور اصل جوہر کو آشکار کر دیں؛ جیسے کہ بدامنی اور خوف کی کیفیات، معاشی
بدحالی اور خوراک کی کمی، اور مال، جان اور فصلوں و پھلوں میں نقص (گھاٹا)۔ |
|
ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٟبَتْـهُـم مُّصِيبَةٚ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّـآ إِلَيْهِ رَٟجِعُونَ ١٥٦ |
یہ(صابرین)وہ لوگ ہیں جنہوں نے جس وقت بھی کوئی مصیبت،ناگوار،ناخوشگوار تکلیف پہنچی یہ ردعمل دیا:انہوں نے فوراً کہا’’یقیناً ہم ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لئے سر تسلیم خم ہیں ؛اور یقیناً ہم نے کسی بھی لمحے ان کے حضور پیش ہونا ہے‘‘۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ صَلَوَٟتٚ مِّن رَّبِّـهِـمْ وَرَحْـمَةٚ |
یہ ہیں وہ لوگ،ان کی قدر جانو،ان کے رب کی جانب سے ان پر دادو تحسین اور رحمت کی پھوار ہے۔اور یہ ہیں وہ لوگ جواز خود منزل کی جانب راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱلصَّفَا وَ ٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِۖ |
یقینا اللہ تعالیٰ کی جانب سے کعبہ معظمہ کے قریب
صفااور مروہ کو تقدس دیئے گئے شعائر (مقدس علامت)میں سمجھا جاتا ہے۔ Root: ص ف و |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ
ٱلْبَيِّنَٟتِ وَ ٱلْـهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٟهُ لِلنَّاسِ
فِـى ٱلْـكِتَـٰبِۙ |
ان لوگوں کے انجام کے متعلق جان لو جو
اس کو چھپاتے رہتے ہیں جسے ہم جناب نے مجتمع انداز میں نازل
فرمایا ہے،یہ متمیز کر دینے والی آیات میں ہے اور ہدایت نامہ کا جزو
ہے،باوجود اس کے کہ ہم جناب نے لوگوں کے لئے اس کوہمارے کلام پر مشتمل
کتاب(قرءان مجید)میں نکھار کر واضح کر دیا ہوا ہے۔ |
|
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَـٟٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْـهِـمْ |
استثناء ان میں سے ان کے لئے ہے جنہوں نے احساس ندامت سے پلٹنے کا ارادہ کر لیا،اپنی اصلاح کر لی اورحقیقت کو متمیز انداز میں لوگوں کے سامنے بیان کر دیا۔تو احساس ندامت سے اپنے قابل مذمت رویےپرتوبہ کر لینے والوں پر میں دوبارہ توجہ مبذول کر دیتا ہوں ۔اور میں اکثر و بیشتر توبہ کو قبول کرنے والا ہوں، میں منبع رحمت ہوں،میرا ہر فیصلہ رحمت کا مظہر ہے۔ |
|
إِنَّ
ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُـمْ كُفَّارٌ |
ان لوگوں کا انجام جان لو جنہوں نے
انکار کیا(اللہ تعالیٰ ،رسول کریمﷺ،قرءان مجید کا/حقیقت کو مدفون کیا)
اور اس حالت میں مر گئے کہ بدستور حالت کفر میں تھے۔ |
|
خَٟلِدِينَ فِيـهَا |
آخر میں ان کا مقام دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔عذاب کو ان پر کم نہیں کیا جائے گا۔اور نہ انہیں (ان کی درخواست پر)مہلت،وقفہ دیا جائے گا(عذاب مسلسل میں رہیں گے) ۔ |
|
وَ إِلَٟهُكُـمْ إِلَٟهٌۭ وَٟحِدٌۭۖ |
اوریہ حقیقت ہمیشہ مدنظر رہے کہ تم لوگوں کے معبود فقط
معبود مطلق ہیں۔ |
|
إِنَّ فِـى خَلْقِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ ٱلْأَرْضِ |
حقیقت یہ ہے،آسمانوں اور زمین کی
تخلیق؛ |
|
وَ مِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ
أَندَادًۭا يُحِبُّونَـهُـمْ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ |
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے صاحبان
معلومات بھی لوگوں میں موجود ہیں جو دانستہ اور زیر مقصد اللہ تعالیٰ
کے علاوہ کسی اور کو ان جناب کے ہم پلہ/ہمسر کے طور پر اختیار
کرتے ہیں۔ Root: ن د د |
|
إِذْ تَبَـرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ وَ رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِـهِـمُ ٱلْأَسْبَابُ١٦٦ |
یہ احساس انہیں اس وقت ہو گا جب عذاب دیکھ لینے پر وہ جن کی زیر مقصد پیروی کی گئی تھی اپنے آپ کو ان سے بری الذمہ قرار دیں گے جنہوں نے پیروی کی تھی۔اور باہمی مفادات کے اسباب کا تعلق ازخود سے ٹوٹ گیا۔(البقرۃ۔١٦٦ ) |
|
وَ قَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ لَوْ أَنَّ لَنَا
كَرَّةًۭ فَنَتَبَـرَّأَ مِنْـهُـمْ كَمَا تَبَـرَّءُوا۟ مِنَّاۗ |
اور انہوں نے جنہوں نے زیر مقصد دانستہ
پیروی کی تھی کہا’’اگر ہمارے لئے نکلنے اور دنیا میں واپس جانا ممکن
ہوتا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بری الذمہ اور لاتعلق ہو جائیں گے جیسے
وہ ہم سے ہوئے ہیں‘‘۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ |
اے لوگو!دھیان سے سنو! |
|
إِنَّمَا يَأْمُـرُكُم بِٱلسُّوٓءِ وَٱلْفَحْشَآءِ |
وہ
(شیطان)تم
لوگوں کو محض قبیح کاموں اورجنسی بے راہروی کی ترغیب اوراکساہٹ دیتا ہے۔ |
|
وَ إِذَا قِيلَ لَـهُـمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ
ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ
ءَابَآءَنَآۗ |
اور جب
ان لوگوں(جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر اختیار کرتے ہیں)سے کہا گیا’’تم لوگ
دل کی شاد سے اس کی پیروی کرو جسے اللہ تعالیٰ نے مجتمع انداز میں نازل
کر دیا ہے‘‘۔انہوں
نے جواب دیا’’نہیں ہم ایسا نہیں کریں گے، بلکہ ہم اس کی اتباع
کرتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤاجداد کو کاربند پایا تھا‘‘۔ |
|
وَ مَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى
يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءًۭ وَ نِدَآءًۭۚ |
|
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
اے وہ
لوگوں جنہوں نے
رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو! |
|
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُـمُ ٱلْمَيْتَةَ وَ ٱلدَّمَ
وَ لَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَ مَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيْـرِ ٱللَّهِۖ |
ان جناب نے تم لوگوں پر صرف مُردارجانور، اور(بہتے،
مائع)خون اورخنزیر کے گوشت کو حرام /ممنوع قرار دیا ہے۔اور وہ جانور حرام قرار د یا ہے جس پر ذبح کرتے وقت ا للہ
تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ
ٱلْـكِتَـٰبِ وَ يَشْتَـرُونَ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًاۙ |
ان لوگوں کے انجام کے متعلق جان لو جو
اس کو چھپاتے رہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پر مشتمل
کتاب میں سے مجتمع انداز میں نازل فرما دیا ہے۔اور معمولی فائدے کےلئے وہ اس کو
دانستہ کاروبار بنا لیتے ہیں ۔ |
|
أُو۟لَٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَـرَوُا۟ ٱلضَّلَٟلَةَ
بِٱلْـهُدَىٰ وَ ٱلْعَذَابَ بِٱلْمَغْفِرَةِۚ |
یہ متذکرہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زیر مقصد رہنمائی کے بدلے
گمراہی خریدی ہے۔اور اس کاروبار میں عذاب خریدا ہے
مغفرت کے عوض۔ |
|
ذَٟلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ |
یہ انجام اس بنا پر ہے کہ
اتمام حجت کر دیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے اپنے کلام پر مشتمل کتاب کو وقفے وقفے سے رسول کریم(محمّد
ﷺ)پر نازل کیا ہے موقع محل کی
مناسبت سے لوگوں کو پہنچانے کے لئےبیان حقیقت۔ |
|
لَّيْسَ ٱلْبِـرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُـمْ قِبَلَ
ٱلْمَشْـرِقِ وَ ٱلْمَغْـرِبِ |
اے یہود و نصاریٰ:تم لوگوں کا اپنےچہروں کو مشرق اور مغرب کی سمت روبرو
کرنا نیکی کے زمرے میں نہیں آتا۔ Root: ر ق ب |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
!اے وہ
لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو! |
|
وَ لَـكُـمْ فِـى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌۭ يَٟٓأُو۟لِـى ٱلْأَلْبَٟبِ لَعَلَّـكُـمْ تَتَّقُونَ١٧٩ |
غور کرو،انسانی حیات کی قدر و قیمت کا درس قتل کی سزا موت مقرر کرنے میں پنہاں ہے تم لوگوں کے لئے،اے دانا و بینا لوگوں۔تاکہ تم لوگ اپنے آپ/معاشرے کو محفوظ بنا سکو۔ |
|
كُتِبَ عَلَيْكُـمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ
إِن تَرَكَ خَيْـرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٟلِدَيْنِ وَ ٱلْأَقْـرَبِيـنَ
بِٱلْمَعْـرُوفِۖ |
اے مدعیان ایمان؛مخصوص وصیت کرناتم
لوگوں پر فرض کر دیا ہے جب موت کا امکان تم میں کسی کے لئے آن پہنچے
اگر وہ منقولہ و غیر منقولہ جائداد چھوڑے گا،معروف انداز میں والدین
اور قریبی رشتہ داروں کے حق کے لئے۔ |
|
فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَ مَا سَـمِعَهُۥ فَإِنَّمَا إِثْمُهُۥ عَلَـى
ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ |
It is a fact that Allah the Exalted is eternally the Listener, the All-Knowledgeable. [2:181]
اس لئے جس کسی نے اُس(وصیت)میں ردوبدل
کیا بعد اس کے جس(وصیت)کو اس نے سنا تھا(قریب المرگ شخص سے)تو اس صورت میں
اس کا گناہ صرف ان لوگوں پر ہے جواسے(وصیت) بدلتے ہیں۔ |
|
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٛ جَنَفٙا أَوْ إِثْمٙا فَأَصْلَحَ بَيْـنَـهُـمْ
فَلَآ إِثْـمَ عَلَيْهِ |
Indeed Allah the Exalted is repeatedly Forgiving-Overlooking; the fountain of Mercy. [2:182]
تاہم اگر وصیت کرنے والے کے متعلق اگر
کسی کویہ اندیشہ ہوا کہ اس سے جانب داری یا لڑکھڑاہٹ ہوئی ہے تو اس
پر قطعاً کوئی گناہ نہیں جب اس نے مستفید ہونے والوں کے مابین
اس حوالے سے اصلاح کر دے۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
اے وہ
لوگوں جنہوں نے
رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو! |
|
أَيَّامًۭا مَّعْدُودَٟتٍۚ فَمَن كَانَ مِنكُـم
مَّرِيضًا أَوْ عَلَـىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَۚ |
اس لئے تعمیل
کرتے ہوئےروزے رکھو متعین کردہ گنے چنے دنوں میں۔اس فرضیت کے بعد اگر تم میں سے کوئی بالغ
شخص بیمار ہے،یا سفر کر رہا ہے تو مؤخر کر دے جس کی مقررہ گنتی
کی تکمیل بعد ازاں کے مہینوں کے دنوں میں کرنا شرط ہے۔ Root: ف د ى |
|
شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ
|
رمضان وہ مہینہ ہے جس کے دوران قرءان مجید
کو مجتمع انداز میں نازل فرما دیا گیا تھا۔یہ تمام زمان و مکان میں
انسانیت کے لئے ہدایت پانے کے ذریعہ کا کردار انجام دیتا رہے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل
کردہ ہدایت نامے اور حق و باطل کوجانچنے کی کسوٹی /پیمانہ میں سے
موقعہ محل کی مناسبت سے واضح آیات بتدریج نازل کی گئی تھیں
جوہدایت کا ذریعہ ہیں۔چونکہ روزہ رکھنا لازم قرار دے دیا گیا ہےاس لئے جو کوئی بالغ اپنے گھر پر اس مہینے
میں موجود ہے تو اسے اس کو روزے رکھ کر بسر کرنا چاہئے۔اور جو کوئی اس دوران مریض ہے یا دوران سفر
ہے۔تو مؤخر کر دے اور روزے کے دنوں کی گنتی
کو بعد ازاں مہینوں کے دنوں میں مکمل کرے۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرنا
چاہتے ہیں۔اور وہ جناب تم لوگوں کے لئے کوئی
دشواری پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔یہ سہولت گنتی مکمل کرنے کے لئے ہے۔اور تاکہ تم لوگ ازخود اللہ تعالیٰ کی عظمت
و کبریائی کے معترف بنو اور اسے بیان کرو اس پر جو تم لوگوں کو انہوں
نے ہدایت نامہ دیا ہے۔اورتاکہ تم لوگ شکر گزار بنے رہو۔(البقرۃ۔١٨٥ |
|
وَإِذَا سَأَ لَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِ نِّـى قَرِيبٌ |
آپ جانتے ہیں ،اس لئے رسول کریم جب میرے وفادار بندے (Allegiants) آپ سے میرے متعلق سوال کریں— تو (انہیں آگاہ کر دیں کہ) یقیناً میں، اپنی ہمہ گیری (Omnipresence)کے باعث، ان کے نہایت قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں، اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں جب کبھی وہ مجھے پکارتا ہے۔ (حوالہ جات: ۷:۵۵-۵۶؛ ۷:۱۸۰؛ ۱۷:۱۱۰؛ ۴۰:۱۴؛ ۴۰:۶۰؛ ۴۰:۶۵)اس لئے انہیں کہیں کہ انہیں چاہئے کہ وہ خود میں ایسی (وجودیاتی) تبدیلی پیدا کریں کہ میرے لیے، یعنی میری پکار (قرآنِ عظیم) کے لیے مستقل طور پر جوابدہ (Persistently Responsive) بن جائیں۔ (حوالہ: ۸:۲۴، کیونکہ حقیقت میں وہی جواب دیتے ہیں جو غور سے سنتے ہیں- ۶:۳۶)، اور انہیں چاہیے کہ وہ مجھ پر دلی یقین اور کامل بھروسہ رکھیں۔،(اصلاحِ ذات کا)یہ طرزِ عمل شاید انہیں رُشد (فکری و شعوری بلوغت) کی منزل تک پہنچا دے اور انہیں (ظنی قصوں اور باطل نظریات کے) فریب سے محفوظ کر دے۔(البقرۃ۔۱۸۶) |
|
أُحِلَّ لَـكُـمْ لَيْلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَـىٰ نِسَآئِكُـمْ |
اپنی بیویوں کے ساتھ جنسی خواہشات ابھارنے والے عوامل رمضان کی
راتوں میں تم لوگوں کے لئے(تمہارے گمان کے برعکس)حلال تھے۔وہ(بیویاں)تم لوگوں(خاوندوں)کے لئے لباس ہیں،اور
تم(خاوند)ان کے لئے لباس ہو۔ |
|
وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٟلَـكُـم بَيْـنَكُـم بِٱلْبَٟطِلِ
وَتُدْلُوا۟ بِـهَآ إِلَـى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقٙا مِّنْ
أَمْوَٟلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْـمِ |
اور تم لوگوں کو اپنے مابین معاشی
معاملات میں دوسروں کے مال میں
باطل خوری نہیں کرنا چاہئے۔اور یہ کہ اس میں متعلقہ حکام کو
نہ پہنچایا کرو کہ انہیں اپنی جانب کر کے لوگوں کے اموال میں سے ایک
فریق گناہ کرتے ہوئے ہتھیا لے۔ |
|
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِۖ قُلْ هِىَ مَوَٟقِيتُ
لِلنَّاسِ وَ ٱلْحَجِّۗ |
آپ(ﷺ)سے لوگ چاند کے نئے چاندوں سے دور /غائب ہو جانے کے متعلق سوال کرتے ہیں (یعنی اس کے غائب ہونے کی حقیقت کیا ہے)۔آپ(ﷺ)بتائیں’’یہ لوگوں کے لئے معاملات اور حج کے لئے اوقات طے کرنے کے لئے معاون ہیں‘‘۔تم لوگ گمان کی درستگی کر لو،تم لوگوں کاان دنوں گھروں کے بچھواڑے سے آنا کبھی نیکی کا عمل نہیں تھا۔اس کے برعکس نیکی کا عمل اس شخص کا ہے جس نے اپنے آپ کو مقرر کردہ قیود کا پابند کرکے محفوظ بنایا۔تم لوگ اپنے گھروں میں ان کے (باقاعدہ) دروازوں یعنی صدر راستوں سے داخل ہوا کرو۔ اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔تاکہ تم لوگ دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں رہو۔ |
|
وَ
قَٟتِلُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٟتِلُونَكُـمْ وَ لَا
تَعْتَدُوٓا۟ۚ |
اے ایمان کے مدعیان توجہ کرو؛ تم لوگوں
کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو
تم پر جنگ مسلط کرتے ہیں،مگر تم لوگوں کو چاہئے اور منع کیا جاتا
ہےکہ دانستہ
کدورت
کے جذبات کی تسکین کے لئے آگے مت بڑھو۔ |
|
وَ ٱقْتُلُوهُـمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُـمْ وَ
أَخْرِجُوهُـم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْۚ |
اور ان جنگ مسلط کرنے والوں سے اس مقام
پر جنگ کرو جہاں تمہارا ن سے آمنا سامنا ہو،اور انہیں وہاں سے
ملک بدر کر دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔ |
|
فَإِنِ ٱنتَـهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ١٩٢ |
جوابی جنگ سے نقصان اٹھانے پر اگر انہوں نے بوجوہ اپنے آپ کو جنگ سے باز کر لیا ہے(تو تم بھی جنگ روک دو)۔کیونکہ یقینا اللہ تعالیٰ درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَ قَٟتِلُوهُـمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَ
يَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِۖ |
بصورت دیگران سے جنگ جاری رکھو حتیٰ کہ
فتنہ باقی نہ رہے اور نظام سلطنت اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق قائم
ہو جائے۔ |
|
ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَ
ٱلْحُرُمَٟتُ قِصَاصٌۭۚ |
تقدس والے مہینے کی حرمت کا پاس کرنا
ضروری ہے اگر دوسری جماعت حرمت والے مہینے کے تقدس کا احترام کرتی ہے۔اور تمام تحریمات اور حقوق کے تحفظ کو
پائے تکمیل تک پہنچانا ہے۔ |
|
وَ أَنفِقُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَ لَا تُلْقُوا۟
بِأَيْدِيكُـمْ إِلَـى ٱلتَّـهْلُـكَةِۛ وَ أَحْسِنُوٓا۟ۛ |
اور تم لوگ مال و دولت میں سے اللہ
تعالیٰ کی راہ استوار رکھنے کے لئے خرچ کرو۔اور تم لوگوں کو نہیں چاہئے کہ خود
اپنے ہاتھوں(مٹھی بند رکھ کر)اپنے آپ کوہلاکت میں پھینکو۔اور لوگوں کے ساتھ اعتدال اور حسن سلوک
کا رویہ اپناؤ۔ |
|
وَ أَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَ ٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُـمْ فَمَا ٱسْتَيْسَـرَ مِنَ ٱلْـهَدْىِۖ وَ لَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُـمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْـهَدْىُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُـم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًۭى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌۭ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَونُسُكٍۢۚ فَإِذَآ أَمِنتُـمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَـى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَـرَ مِنَ ٱلْـهَدْىِۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٟثَةِ أَيَّامٍۢ فِـى ٱلْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُـمْۗ تِلْكَ عَشَـرَةٌۭ كَامِلَةٌۭۗ ذَٟلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِۚ وَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَ ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ١٩٦ |
اے مدعیان ایمان،
قصد کر لینے اور مکۃ المکرمہ پہنچ جانے پرحج اور عمرہ کواللہ تعالیٰ کے لئے
خشوع و خضوع سے مکمل کرو۔بسبب اگر
تم
لوگوں کو ادائیگی سے روک دیا گیا ہے تواس صورت میں قربانی کے لئے مخصوص
چوپایوں میں سے جو آسانی سے دستیاب ہے انہیں آگے بھیج دو۔اور تم لوگوں کو اپنے سروں کے بال
تراشنے/منڈوانے کے لئے اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے جب قربانی کا جانور
مقررہ مقام تک پہنچ جائے۔اس حکم کے پیش نظر اگر کوئی تم میں
مریض ہے یا اس حکم کی وجہ سے اس کے سر میں تکلیف کا سبب بن سکتی ہے تو
اس کے لئے یہ حکم ساقط ہے جس کے لئے اسے فدیہ دینا ہوگا،ایک روزہ رکھ
کر،یا کچھ صدقہ دے کر یا کوئی اچھا کام کر کے۔مگر اگر اجازت مل جائے تو جس کسی نے
عمرہ سے مستفید ہوتے ہوئے حج کے لئے رکنے کا فیصلہ کیا تو قربانی
کے لئے مخصوص کئے جانوروں میں جو باآسانی دستیاب ہوقربان کرنا ہے۔لیکن اگر کوئی ایسا نہ کر سکے تو حج کے
دوران تین دن کے روزے رکھے اور سات روزے جب تم لوگ واپس گھروں کو لوٹ
گئے ہو۔اس طرح دس روزے مکمل کرے۔یہ حکم اس کے
لئے ہے جس کے اہل خانہ مسجد الحرام کے علاقے کے مکین نہیں ہیں۔اورتم
لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ
تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اس حقیقت سے باعلم رہو کہ اللہ تعالیٰ
معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے
ہیں۔(البقرۃ۔١٩٦ |
|
ٱلْحَجُّ أَشْهُرٌۭ مَّعْلُومَٟتٌۭۚ فَمَن فَرَضَ
فِيـهِنَّ ٱلْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوقَ وَ لَا جِدَالَ فِـى
ٱلْحَجِّۗ وَ مَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْـرٍۢ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُۗ وَ
تَزَوَّدُوا۟ فَإِنَّ خَيْـرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقْوَىٰۚ |
ہر سال کے حج کے چند آیام [دن رات ]صدیوں سےسب کیلئے جانے پہچانے/معلوم ہیں [دہرانے کی ضرورت نہیں]۔اِس لئے اِن مقررہ دنوں میں جس کسی نے حج کیلئے اپنے آپ کو ”کاٹ/الگ/مخصوص“کر لیا تو اِس کے سبب حج کے دوران نہ حقوق زوجیت کی ادائیگی کی اجازت ہے،اور نہ متعین انداز سے باہر ہونا ہے اور نہ بلامقصد گفتگو/بحث مباحثہ کرنا ہے۔اور تم لوگ اِس دوران بھلائی کا جو فعل بھی کرو گے ا للہ تعالیٰ اسے جان لیں گے۔اور اپنے سفر خرچ کا سامان ساتھ لے لو۔بلحاط نتیجہ یقینا تقویٰ بہترین زاد راہ/منزل ہے[دنیا اور آخرت دونوں کیلئے]۔اور میری جانب ہمیشہ متوجہ رہ کرمجھ سے پناہ کے طلبگار رہو اے دانا و بینا لوگو!جذبات سے منزہ حقیقت اور مقصد ِشئے کو دیکھنے/سمجھنے والو۔(البقرۃ۔۱۹۷)۔ |
|
لَيْسَ عَلَيْكُـمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا۟ فَضْلٙا مِّن رَّبِّكُـمْ |
تم لوگوں پر کسی قسم کی قابل اعتراض بات نہیں کہ تم لوگ اس دوران اپنے رب کی جانب سے عطا کئے جانے کےلئے فضل کی جستجو کرو۔ |
|
فَإِذَآ أَفَضْتُـم مِّنْ عَـرَفَـٟتٛ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ عِندَ
ٱلْمَشْعَـرِ ٱلْحَرَامِ |
میدان عرفات میں قیام مکمل کر لینے پر جب تم لوگ روانہ ہو چکے تو مشعر حرام /مزدلفہ کے جوانب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ |
|
وَٱذْكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُـمْ |
اور ان(اللہ تعالیٰ)کا ذکر اس طرح کرو(اسمائے حسنی اور حمد کے ساتھ)جیسے انہوں نے تم لوگوں کو ہدایت دی ہے۔ |
|
وَإِن كُنتُـم مِّن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ١٩٨ |
۔۔اور اس ہدایت نامہ(قرءان مجید دئیے جانے)سے قبل تم لوگ غفلت شعار تھے۔۔ |
|
ثُـمَّ أَفِيضُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ |
بعد ازاں تم لوگ اس جانب سے (وادی میں سے)اکٹھے باہر نکلو جہاں سے دوسرے لوگ نکلے ہیں۔ |
|
وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ |
اور اللہ تعالیٰ سے پردہ پوشی اور بخشش کے طلبگار بنو۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ١٩٩ |
یقینا اللہ تعالیٰ درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
فَإِذَا قَضَيْتُـم مَّنَـٟسِكَـكُـمْ |
اس طرح جب تم لوگ اپنے ارکان حج ادا کر چکو ۔ |
|
فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَآءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرٙا |
تو اللہ تعالیٰ کو ایسے یاد رکھو اور کبریائی و عظمت سے ذکر کرو جیسے اپنے آباؤواجداد کو احترام سے یاد کرتے اور ان کا ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ بھرپور انداز میں ذکر کرو۔ |
|
فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِـى ٱلدُّنْيَا |
اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے لوگوں میں دنیا کا دلدادہ شخص اگر اس تمنا کا اظہار کرنے کے لئے کہتاہے’’ہمارے رب ہمیں تمام اجر اس دنیا ہی میں عنایت کر دیں‘‘(تو اس کو دے دیا جاتا ہے،سورۃ ھود علیہ السلام۔15)۔ |
|
وَمَا لَهُۥ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ مِنْ خَلَٟقٛ ٢٠٠ |
اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قطعاً کچھ اجر اس کے آخرت میں فائدے کےلئے بچا کرنہیں رکھا جائے گا۔ Root: خ ل ق |
|
وِمِنْـهُـم مَّن يَقُولُ |
اور ایک وہ بھی لوگوں میں موجود ہے جو آخرت کو پس پشت نہیں کرتا ، یوں دعا کرتے ہوئے کہتا ہے۔ |
|
رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِـى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٙ وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ حَسَنَةٙ |
’’ہمارے رب!آپ ہمیں اس دنیا میں جوہمارے لئے بہتر ہے وہ عنایت فرمائیں اور جو بہتر ہے آخرت میں وہ آخرت میں عنایت فرمائیں۔ |
|
وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ٢٠١ |
اور آپ ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیں‘‘۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ نَصِيبٚ مِّمَّا كَسَبُوا۟ۚ |
|
یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے اس میں سے حصہ مختص کیا گیا جو انہوں نے کمایا تھا۔ |
|
وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٢٠٢ |
متنبہ رہو، اللہ تعالیٰ حساب کتاب انتہائی سرعت سے کرتے ہیں ۔ |
|
وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِـىٓ أَيَّامٛ مَّعْدُودَٟتٛ |
|
اور اللہ تعالیٰ کا حج کے متعین گنے چنے دنوں میں کثرت اور خشوع و خضوع سے ذکر کرو۔ |
|
فَمَن تَعَجَّلَ فِـى يَوْمَيْـنِ فَلَآ إِثْـمَ عَلَيْهِ وَمَن
تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْـمَ عَلَيْهِ |
بسبب اگر کسی نے دودن میں(منیٰ)سے جانے میں عجلت کی تو اس میں کسی قسم کی کوتاہی کا الزام نہیں اور جس کسی نے واپسی میں تاخیر کی اس پر بھی کسی قسم کی کوتاہی کا الزام نہیں ہو گا؛ یہ اس کے کے لئے جوتندہی سے محتاط رہتے ہوئے پناہ کا خواستگار ہے۔ |
|
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُـمْ إِلَيْهِ تُحْشَـرُونَ ٢٠٣ |
|
باعلم رہو کہ تم لوگوں کو ان جناب کے حضوراحتساب کے لئے جمع کیا جائے گا۔ |
|
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِـى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
(یہ بات ریکارڈ پر رہے)ایک شخص جو معاشرے میں خود ساختہ دانشور بنا پھرتا ہے اس کا دنیا کی حیات کے متعلق بیان آپ(ﷺ)کو عجیب و غریب محسوس ہوتا ہے |
|
وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَـىٰ مَا فِـى قَلْبِهِۦ |
ان حالات میں جب وہ اللہ تعالیٰ کوگواہ بنا دیتا ہے ہر اس بات پر جواس کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔ |
|
وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ ٢٠٤ |
اور وہ تنازعے کھڑے کرنے والا جھگڑالو شخص ہے۔ Root: ل د د |
|
وَإِذَا تَوَلَّـىٰ سَعَىٰ فِـى ٱلۡأَرْضِ لِيُفْسِدَ
فِيـهَا
وَيُـهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ |
اور جب وہ لوٹ جاتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی تگ ودو کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ معاشرے اور جوان نسل کو گمراہ کن بیانات سے ذہنی طور پر آلودہ کرے۔ Root: س ع ى |
|
وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلفَسَادَ ٢٠٥ |
آگاہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ذہنی و فکری بگاڑ کو پسندیدہ عمل نہیں سمجھتے۔ |
|
وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْـمِ |
اور جب اس کے لئے یہ کہا گیا’’تم تندہی سے محتاط رہتے ہوئےاللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو‘‘تو خود ساختہ بڑائی کے زعم نے اسےگرفت میں لے لیا، مزید گراوٹ کے ساتھ۔ |
|
فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّـمُ |
نتیجے میں جہنم اس کے لئے مناسب ہے۔ |
|
وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ٢٠٦ |
اور یقیناً وہ(جہنم) کیا ہی بری رہائش گاہ ہے ۔ |
|
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْـرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَـرْضَاتِ ٱللَّهِ |
اس طرح کے لوگوں کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو اپنے جان و مال سے معاشرے میں سدھار کے لئے برسرپیکار رہتا ہے،مخلصانہ انداز میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا پانے کی خواہش میں۔ |
|
وَٱللَّهُ
|
یاد رہے؛ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی،لطافت،شفقت فرمانے والے ہیں۔ Root: ر ء ف |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو |
|
ٱدْخُلُوا۟ فِـى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةٙ |
تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ باہمی یگانگت سے امن و سلامتی کے نظام اسلام میں داخل ہو جاؤ ۔ Root: د خ ل |
|
وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٟتِ ٱلشَّيْطَٟنِ |
اور تم لوگوں کو چاہئیے کہ دانستہ شیطان کے طرز عمل/اکساہٹ کی پیروی نہ کرو۔ |
|
إِنَّهُۥ لَـكُـمْ عَدُوّٚ مُّبِيـنٚ ٢٠٨ |
یہ حقیقت کہ وہ(شیطان)تم لوگوں کے لئے علی الاعلان دشمن ہے۔ |
|
فَإِن زَلَلْتُـم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُـمُ ٱلْبَيِّنَـٟتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيـمٌ ٢٠٩ |
اس لئے(اس حکم اور اطلاع کے باوجود)اگر تم لوگ فریفتگی میں پھسل گئے،اصل سے ہٹ گئے بعداُس علم کے جو قرءان مجید کی ہر موضوع اور نکتے کو واضح متبین کر دینے والی آیات تم کو پہنچا چکی ہیں تو اس کے لئے محض شیطان مورد الزام نہیں،فرد جرم تم پر ہو گی۔اس لئےجان لو کہ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔ Root: ز ل ل |
|
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَـهُـمُ ٱللَّهُ
فِـى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَ ٱلْمَلَٟٓئِكَةُ وَ قُضِىَ ٱلْأَمْرُۚ
|
کیا وہ
لوگ ایمان لانے اور نظام اسلام میں داخل ہونے کے لئے صرف اس بات کے
منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور ملائکہ سایہ فگن ہونے والے بادلوں
میں نمودار ہو جائیں اور معاملے کو نبٹا دیا جائے
۔ |
|
سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَـٟـهُـم مِّنْ
ءَايَةِ |
بنی اسرائیل سے پوچھو؛ ہم جناب نے کتنی ہی عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں(آیات/معجزات )انہیں عنایت کی تھیں جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔ |
|
وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ |
یاد رکھو؛ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت(کتاب اللہ کی آیات)کوکسی اور بات سے تبدیل کر کے لوگوں سے بیان کرے گا بعد اس علم کے جو اس نے اسے پہنچایا ہے:۔ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢١١ |
تواس کے انجام کو جاننے کے لئے اس حقیقت سے باعلم رہے کہ اللہ تعالیٰ معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے ہیں۔ |
|
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا
وَ يَسْخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ۘ |
حیات دنیا ان لوگوں کی نگاہوں میں خوشنما اور دل کش بنا دی گئی ہے جنہوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا ہے اور یہ لوگ ایمان لانے والوں میں سے بعض کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔مگر متنبہ رہو، ایسے لوگ جوتندہی سے محتاط رہتے ہوئےاللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے وہ ان(تمسخر اڑانے والے)لوگوں سے یوم قیامت کہیں رتبے اور شان و شوکت میں بلند تر ہوں گے۔ یاد رہے(امارت اور دنیاوی شان پیمانہ نہیں) اللہ تعالیٰ جس کسی شخص کے متعلق اسے آسودگی میں آزمانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسے رزق دنیا سے بغیر حساب کتاب اور علت و معلول نوازتے ہ |
|
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙ
|
زمان میں
ابتداء میں
نوع انسان ایک ہم خیال
وحدت
،فلسفہ توحید پر قائم
اجتماع تھے۔
اور اس کے بیان
کے بارے میں کسی نے بھی نظریاتی شقاق و تفرقہ پیدا نہیں کیا سوائے ان ہی
لوگوں کے جنہیں
اس کتاب
سے نوازا گیا تھا —اور
وہ بھی اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن و واضح دلائل آ چکے تھے—جس کا بنیادی
محرک محض ان کے باہم ابھرنے والے بغض، عناد اور رقابتِ باہمی کی سوزش و جلن
تھی۔ Root: ن ب و؛ب ع ث Divine Communication
|
|
أَمْ حَسِبْتُـمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّـةَ |
(تاریخ کو نظر انداز کرتے ہوئے)کیا تم لوگوں نے اندازہ قائم کر لیا ہے کہ تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ |
|
وَلَمَّا يَأْتِكُـم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِـكُـم |
باوجود اس کے کہ ابھی تک تم لوگوں کے پاس ان لوگوں کی مثال ایسے واقعات پیش نہیں آئےجو تم لوگوں سے قبل کے زمانے میں گزر چکے۔ Root: خ ل و |
|
مَّسَّتْـهُـمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّـرَّآءُ |
انہیں ناگفتہ بہ حالات اور معاشی کساد بازاری نے تکلیف دہ احساس میں مبتلا کر دیا تھا۔ |
|
وَزُلْزِلُوا۟ حَـتَّىٰ يَقُولَ ٱلـرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُ |
اور انہیں اس قدر ہیجان خیز صورتحال سے دوچار رہنا پڑا یہاں تک کے اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان لوگوں کے مابین جو ان کے ساتھ ایمان لے آئے تھے یہ مکالمہ بھی ہوا جس میں انہوں نے پوچھا۔ Root: ز ل ز ل |
|
مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ |
’’اللہ تعالیٰ کی مدد کب پہنچے گی؟‘‘ |
|
أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٚ ٢١٤ |
انہیں اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہی ہے۔ |
|
يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ |
آپ(ﷺ)سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کن کی اور کیا فلاح و بہبود کے لئے خرچ کریں۔ |
|
قُلْ مَآ أَنفَقْتُـم مِّنْ خَيْـرٛ فَلِلْوَٟلِدَيْنِ
وَٱلۡأَقْرَبِيـنَ وَٱلْيَتَـٟمَىٰ وَٱلْمَسَٟكِيـنِ وَٱبْنِ
ٱلسَّبِيلِ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’جو کچھ بھی تم لوگوں نے قابل قدراشیاء میں سے خرچ کے لئے الگ کیا ہے تو یہ حق ہے والدین کے لئے،اور نسبتاً قریبی رشتہ داروں،اور یتیموں، اور حاجت مندوں اور مسافروں کے لئے۔ |
|
وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْـرٛ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيـمٚ ٢١٥ |
اور جو کچھ بھی بھلائی کے نکتہ نظر سے تم پہلی مرتبہ کرتے ہوتو بسبب ہر لمحہ ہر مقام پر موجودگی اللہ تعالیٰ یقیناً اس کے متعلق جانکاری رکھتے ہیں‘‘۔ |
|
كُتِبَ عَلَيْكُـمُ ٱلْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٚ لَّـكُـمْ |
مسلط اور ناگزیرکر دی گئی جنگ کو
لڑنا تم لوگوں پر بطور حکم نافذ کر دیا گیا ہےایسے وقت اور حالات میں جب وہ(جنگ)تم لوگوں
کے لئے باعث ناگوار مشقت
بن سکتا ہے۔ |
|
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ قِتَالٛ
|
آپ(ﷺ)سے لوگ حرمت کے حامل قرار دئیے گئے قمری مہینے کے دوران جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں۔ Root: ش ھ ر |
|
قُلْ قِتَالٚ فِيهِ كَبِيـرٚ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اس(مہینے)کے دوران جنگ ایک نسبتاً زیادہ ناپسند فیصلہ ہے۔ |
|
وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفْرُ |
مگردھیان رہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے سے روکنا اور پلٹانا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد الحرام جانے میں رکاوٹ ڈالنا اور اور اس میں موجود لوگوں کو اس میں سے باہر نکالنا زیادہ ناپسندیدہ اور جرم قرار دیا گیاہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے‘‘۔ |
|
وَٱلْفِتْنَةُ أَكْبَـرُ مِنَ
ٱلْقَتْلِ |
متنبہ رہو؛معاشرے میں ہیجان،انتشار،لاقانونیت پھیلانا انفرادی قتل کی نسبت زیادہ گھناؤنا جرم ہے۔ |
|
وَلَا يَزَالُونَ يُقَـٟتِلُونَكُـمْ حَـتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُـمْ إِنِ ٱسْتَطَٟعُوا۟ۚ |
اور خبردار رہو؛وہ لوگ(کفار اور مشرکین)تم لوگوں پر جنگ مسلط کرنے سے باز نہیں آئیں گے اس مقصد سے کہ اگر ان کے بس میں ہواتو تم لوگوں کو تمہارے ضابطہ حیات سے پلٹا کر پرانے باطل طریقہ کار پر کر دیں۔ Root: ز ى ل |
|
وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُـمْ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٚ |
متنبہ رہو؛تم لوگوں میں جو کوئی مدعی ایمان دانستہ اپنے ضابطہ سے پلٹ کر پرانے طریقہ کار پر کاربند ہو گیا جس کے بعد وہ اس حالت میں مر گیا کہ بدستور کافر تھا۔ |
|
فَأُو۟لَـٟٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٟلُـهُـمْ فِـى ٱلدُّنْيَا
وَٱلۡءَاخِـرَةِ |
متنبہ رہو؛یہ متذکرہ لوگ درحقیقت وہ ہیں جن کے اچھے اعمال دنیا اور آخرت میں نتیجہ خیزی کے حوالے سے بیکار ہو گئے۔ |
|
وَأُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ |
اور یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔ |
|
هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢١٧ |
یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔(البقرۃ۔۲۱۷) |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَجَٟهَدُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ |
اُن لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جو رسول کریم اور قرءان پر ایمان لائے ہیں،اور وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جدوجہد کی۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ يَرْجُونَ رَحْـمَتَ ٱللَّهِ |
یہ وہ لوگ ہیں جواللہ تعالیٰ کی رحمت کے خواہشمند اور طلبگار رہتے ہیں۔ Root: ر ج و |
|
وَٱللَّهُ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٢١٨ |
اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یقین رکھو کہ درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
يَسْــَٔلُونَكَ عَنِ
ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِـرِ |
آپ (ﷺ) سے لوگ شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ |
|
قُلْ فِيـهِمَآ إِثْـمٚ كَبِيـرٚ وَمَنَـٟفِــعُ لِلنَّاسِ |
آپ (ﷺ) بتائیں ”انتہائی اضمحلال،افسردگی، توانائی کا کم ہو جانا، سست روی اور شکستگی کا پہلو اِن دونوں کا جزوِ لاینفک ہے۔اور بظاہر انداز میں مخصوص لوگوں کیلئے اِن میں فوائدموجود ہیں۔ |
|
وَإِثْمُهُـمَآ أَكْبَـرُ مِن |
تاہم اِن کا باعث اضمحلال،افسردگی، سست روی اور شکستگی ہونااُس نفع کی نسبت کہیں زیادہ ہے جو بظاہر اُن میں دکھائی دیتا ہے‘‘۔ |
|
وَيَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ
|
اورآپ(ﷺ)سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کن کی اور کیا فلاح و بہبود کے لئے خرچ کریں۔آپ(ﷺ)بتائیں’’تم لوگ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے جس قدر اور حاجت کے پہلو سے باآسانی الگ کر سکتے ہو وہ خرچ کرو‘‘ |
|
كَذَٟلِكَ يُبيِّـنُ ٱللَّهُ لَـكُـمُ ٱلۡءَايَـٟتِ |
اس تقابلی انداز میں اللہ تعالیٰ اپنی آیات کوتم لوگوں کے فہم کے لئے متمیز اور واضح فرما دیتے ہیں۔ |
|
لَعَلَّـكُـمْ تَتَفَكَّـرُونَ ٢١٩ |
اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ازخودمقصدیت کے پہلو سے باتوں پر غوروفکر کر سکو۔ |
|
فِـى ٱلدُّنْيَا وَ |
یہ تفکر معاملات دنیا اور آخرت کے حوالے سے کرنا ہے۔ |
|
وَيَـسْئَلُونَكَ عَنِ
|
اور آپ(ﷺ)سے لوگ یتیموں سے سلوک کے متعلق پوچھتے ہیں۔ |
|
قُلْ إِصْلَاحٚ لَّـهُـمْ
خَيْـرٚ |
آپ(ﷺ)انہیں بتائیں’’ان(یتیموں)کو معاشرے کے سلجھے،معتدل مزاج افراد بنانا ان کے لئے بہترین سوچ ہے۔اور اگر تم لوگ انہیں معاشرے میں باہم مدغم کرنا چاہتے ہو توایسا ضرور کرو کیونکہ آخر وہ تمہارے (دینی)بھائی ہیں‘‘۔ |
|
وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ
|
یاد رہے؛ اللہ تعالیٰ ایک بگاڑ پیدا کرنے والے شخص کوایک اصلاح پر مائل شخص سے الگ جانتے ہیں۔ |
|
وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ
لَأَعْنَتَكُـمْ |
اور(یتیموں کے حوالے سے)یاد رہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا فیصلہ کیا ہوتا تو یقیناً وہ جناب تم کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیتے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيـمٚ ٢٢٠ |
اس حقیقت سے باخبر رہو؛ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔ |
|
وَلَا تَنكِـحُوا۟ ٱلْمُشْـرِكَـٟتِ حَـتَّىٰ
|
اس ضابطے کو ذہن نشین رکھو؛تم لوگوں(مدعیان ایمان)کو چاہئے کہ بت پرست عورتوں سے اس وقت تک نکاح(شادی)نہ کرو جب تک کہ وہ رسول کریم اور قرءان پر ایمان نہیں لے آتیں۔ |
|
وَلَأَمَةٚ مُّؤْمِنَةٌ خَيْـرٚ مِّن مُّشْـرِكَةٛ وَلَوْ
|
کیونکہ ایک ایمان والی گھریلو ملازمہ ایک مشرک عورت کی نسبت بہت بہتر ہے؛مشرک عورت سے نکاح مت کرو اگرچہ اس(اس کا حسن)نے تمہیں ششدر کر دیا ہو۔ |
|
وَلَا تُنكِـحُوا۟ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ حَـتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ۚ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ بت پرست مردوں سے ایمان والی عورتوں کا نکاح نہ کروائیں جب تک کہ وہ رسول کریم اور قرءان پر ایمان نہیں لے آتے۔ |
|
وَلَعَبْدٚ مُّؤْمِنٌ خَيْـرٚ مِّن مُّشْـرِكٛ وَلَوْ أَعْجَبَكُـمْۗ |
کیونکہ ایک صاحب ایمان ملازم مرد ایک مشرک مرد کی نسبت بہت بہتر ہے؛مشرک مرد سے نکاح مت کرواؤ اگرچہ اس نے تمہیں ششدر کر دیا ہو۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَـى ٱلنَّارِ |
یہ (بت پرست)وہ لوگ ہیں جوجہنم کی جانب جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ |
|
وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَـى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِـرَةِ بِإِذْنِهِۦ |
جبکہ اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ سے نجات(مغفرت)کی جانب جانے کی دعوت دیتے ہیں،ہر اس شخص کو جو ان کے اذن سے اس جانب جانا چاہتا ہے۔ |
|
وَيُبَيِّـنُ ءَايَٟتِهِۦ لِلنَّاسِ |
اوہ وہ جناب اپنی آیات کو لوگوں کے فہم کے لئے متمیز اور واضح فرما دیتے ہیں۔ |
|
لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٢٢١ |
اس تقابلی جائزے سے وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ازخود اسے یاداشت میں محفوظ کر کے نصیحت لیتے رہیں ۔ |
|
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ
|
اور لوگ آپ(ﷺ)سے اپنی بیویوں سے دوران حیض تعلق کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ |
|
قُلْ هُوَ أَذٙى |
آپ(ﷺ)بتائیں’’وہ(دورانیہ حیض)ایک ناگوار،خفیف سی تکلیف ہے۔ |
|
فَٱعْتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَآءَ
فِـى ٱلْمَحِيضِ |
اس لیے تم لوگ اپنی بیویوں کے حیض کے دورانیہ میں انتہائی کوشش سے حقوق زوجیت سے اجتناب/بائیکاٹ ،انقطاع کرو۔ |
|
وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَـتَّىٰ
يَطْهُرْنَ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ ان(حیض کے دوران بیویاں)سے جنسی خواہش کے لئے قربت نہ کرو اس وقت تک جب وہ اپنے حیض کو مکمل طور پر الگ نہیں کر دیتیں۔ |
|
فَإِذَا تَطَهَّرْنَ |
پھرجب وہ اپنے آپ کوحیض سے فارغ کر چکی ہوں۔ |
|
فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَـرَكُمُ ٱللَّهُۚ |
تو ان(بیویوں)سے زوجیت کا تعلق قائم کرو اس مقام سے اور اس وقت جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر فرمایا ہے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٟبِيـنَ |
ذہن نشین رہے؛اللہ تعالیٰ یقینا ان لوگوں کے رویے کو پسند فرماتے ہیں جو صحیح طرز عمل کی جانب پلٹتے ہیں۔ |
|
وَيُحِبُّ ٱلْمُتَطَهِّرِينَ ٢٢٢ |
اور ایسے لوگوں کے رویئے کو قابل قدر قرار دیتے ہیں جواپنے آپ کوازخود آلودگیوں سے دور رکھتے ہیں‘‘۔ |
|
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌۭ لَّـكُـمْ فَأْتُوا۟ حَرْثَكُـمْ
أَنَّـىٰ شِئْتُـمْۖ |
And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] grant the binding guarantee of pleasant award to those who have heartily believed in you and Qur’ān. (Cf. (1)2:223(2)9:112(3)10:87(4)33:47(5)61:13=5) [2:223]
تمہاری بیویاں—ایامِ حیض
سے فارغ
ہونے کے بعد—ایک ایسی مجرد اور رمزیہ کیفیت کو پا لیتی
ہیں جو نسل آفرینی کے فعلِ کاشت (کھیتی میں ہل
چلانے)کے لیے ان کے اندرون میں ایک لازمی تیاری کی حالت کو ظاہر
کرتی ہے—یہ ایک ایسا اشارہ ہے جو بالخصوص تم شوہروں کے لیے (ملکیت کے طور
پر نہیں بلکہ فعل اور ذمے داری کی) اختصاصی نوعیت سے مخصوص کیا گیا
ہے۔چونکہ یہ اس عمل کا موزوں اور مقررہ وقت ہے، اس لیے تم شوہروں کو ہدایت
دی جاتی ہے کہ تم اس زرخیز کھیتی میں اپنی کاشت کے اس فعل کی طرف اپنی
صوابدید کے مطابق، جس ہیئت اور طریقے سے چاہو آ سکتے ہو
(مقررہ اوقات اور حدودِ شریعت یعنی سورۃ النور کی آیت 58 کے دائرے
میں رہتے ہوئے)۔ |
|
وَلَا تَجْعَلُوا۟ ٱللَّهَ عُـرْضَةٙ لِّأَيْمَٟنِكُـمْ أَن تَبَـرُّوا۟ |
متنبہ رہو؛تم لوگوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کواپنی قسموں کے لئے اظہار کا ذریعہ نہ بناؤ اس مقصد سے کہ اپنے آپ کوپاکپاز/نیکوکار قرار دو۔ |
|
وَتَتَّقُوا۟ وَتُصْلِحُوا۟
بَيْـنَ ٱلنَّاسِ |
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور لوگوں کے مابین اصلاح کے لئے کوشاں رہو۔ |
|
وَٱللَّهُ سَـمِيعٌ عَلِيـمٚ ٢٢٤ |
یہ حقیقت ذہن نشین رہے،اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِـىٓ
أَيْمَٟنِكُـمْ وَ لَٟكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُـمْۗ
|
اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو تمہاری ایسی
قسموں کے حوالے سے قابل مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے جولایعنی اورباتکرار
ہیں۔مگر وہ جناب تمہارا مؤاخذہ ان قسموں کے
حوالے سے کریں گےجوتمہارے قلوب نے انجام دینے کا مصمم اظہار
/پابند عہدکیا تھا۔ |
|
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِـهِـمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ
|
خودپرلگائی انتظار کی پابندی کی مدت چار مہینے تک محدود رکھنے کاحکم دیا جاتاہے ایسے خاوندوں کے لئے جو اپنی بیویوں سے حقوق زوجیت کی ادائیگی سے احتراز کی قسم اٹھا لیتے ہیں۔ |
|
فَإِن فَـآءُو |
اس حکم کی روشنی میں اگر وہ(اجتناب برتنے والے خاوند)اپنی قسم سے پلٹ کررجوع کر لیں۔ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٢٢٦ |
تویقینا اللہ تعالیٰ درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَإِنْ عَزَمُوا۟ ٱلطَّلَٟقَ |
مگر اگر انہوں نے برملا طلاق(حقوق زوجیت کے انقطاع کا باضابطہ اعلان)کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ Root: ط ل ق |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ سَـمِيعٌ عَلِيـمٚ ٢٢٧ |
تو اس صورت میں یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں،ہر بات کی مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ |
|
وَ ٱلْمُطَلَّقَٟتُ يَتَـرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ
ثَلَٟثَةَ قُرُوٓءٍۚ |
اور ایسی بیویاں جنہیں ان کے خاوندوں نے
اعلانیہ طلاق(بندھن نکاح کو معطل کرنا)دے دی ہے وہ اپنے آپ کو
اپنے متعلق فیصلے کرنے کے لئے تین مرتبہ حیض کے مکمل خروج تک پابند
رکھیں ۔ Root: ط ل ق |
|
ٱلطَّلَٟقُ
|
زوجیت کے تعلق کا بندھن نکاح کو تحلیل کرنے کے ارادےسے باضابطہ فیصلہ اور اعلان ازدواجی زندگی کے دوران صرف دو بار کیا جا سکتا ہے ۔ |
|
فَإِمْسَاكُ |
بعدازاختتام مدت عدت (سورۃ الطلاق۔۲)معاشرے کے مرجہ قاعدے کے مطابق انہیں یا تودوبارہ بندھن نکاح میں لینا ہے(اگر خاوند نے معاملات کی اصلاح کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔البقرۃ۔۲۲۸)وگرنہ انہیں (مطلقہ بیویاں)انتہائی مناسب انداز میں جدا کر دینا ہے(دو اچھی شہرت کے گواہوں کی موجودگی میں سورۃ الطلاق۔۲)۔ |
|
وَلَا يَحِلُّ لَـكُـمْ أَن تَأْخُذُوا۟ مِمَّآ ءَاتَيْتُـمُوهُنَّ شَيْئٙا |
اور ان اسباب دنیا میں سے کچھ بھی واپس لینا جو تم نے انہیں دوران زوجیت دیا تھاتم لوگوں(طلاق دینے والے خاوندوں) کے لئے حلال نہیں ہے۔ |
|
إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا
يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ |
یہ حکم نافذ العمل ہے ماسوائے ایسی صورتحال میں جب دونوں(خاوند بیوی)کو یہ خوف لاحق ہو جائے کہ (رشتہ ازدواج میں بندھے رہتے ہوئے)دونوں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدودکے پابند نہیں رہ سکیں گے۔ |
|
فَإِنْ خِفْتُـمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ
عَلَيْـهِـمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ
|
چونکہ اب دونوں نے اپنے مابین ناچاقی کو ظاہر کر دیا ہے اس لئے اگر تم لوگوں(خاندان کے بزرگ/متعلقہ عدالت)نے بھی خدشہ محسوس کیا کہ دونوں(خاوند بیوی))اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی نہیں کر سکیں گے تو اس میں قطعاً ان دونوں پر لینے دینے میں کوئی قدغن نہیں جواُس(طلاق لینے کی خواہشمند بیوی) نے باہمی رضامندی سے حصول طلاق کے لئے بطور فدیہ دیا۔ Root: ف د ى |
|
تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ |
مندرجہ بالا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ فعل و عمل کی آزادی اور قیود ہیں۔ |
|
فَلَا |
چونکہ طرز معاشرت کے یہ طے کردہ اصول ہیں اس لئے تمہیں چاہئے کہ ان سے دانستہ،زیر مقصد تجاوز نہ کرو۔ |
|
وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ |
یاد رہے؛جس کسی نے دانستہ اورذاتی منفعت کے مقصد سے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ معاشرتی حدود سے تجاوز کیا۔ |
|
فَأُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلظَّٟلِمُونَ ٢٢٩ |
تو یہ ہیں وہ لوگ جو حقیقت کو باطل میں بدلنے والے ہیں۔ |
|
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعْدُ |
فدیہ دینے کی رضامندی پر اگر اس(خاوند) نے اسے(اپنی طلاق لینے کی آرزومند بیوی)بندھن نکاح سے الگ کر دیا ہے تو اس کے بعد کے زمان میں وہ(بندھن نکاح سے آزاد کر دی گئی بیوی)اس مرد کے لئے حلال عورتوں میں شمار نہیں۔ Root: ط ل ق |
|
حَـتَّىٰ تَنكِحَ
زَوْجًا
غَيْـرَهُۥ |
یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی یہان تک کہ وہ(بعوذ فدیہ آزاد کردہ عورت)اپنی مرضی سے ایک مرد سے نکاح کر لے جو اس(سابقہ خاوند)کے علاوہ ہے۔ |
|
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِـمَآ أَن يَتَـرَاجَعَآ إِن
ظَنَّـآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ
|
اس نکاح کے بعد اگر(جب)اس (موجودہ خاوند) نے اس عورت کو(چھوئے یا بن چھوئے)بندھن نکاح سےآزاد کر دیا ہو تو اس نئی صورتحال میں ان دونوں(دوسرے خاوند کی مطلقہ اور اس کا پہلا خاوند)پر ایک دوسرے سے نکاح کے لئے رجوع کرنے میں قطعاً حرج نہیں بشرطیکہ دونوں اس مرتبہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کر سکیں گے۔ Root: ط ل ق |
|
وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ |
دھیان رہے؛مندرجہ بالا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ فعل و عمل کی آزادی اور قیود ہیں۔ |
|
يُبَيِّـنُـهَا لِقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٢٣٠ |
وہ جناب ان(طرز عمل کی حدود)کومتمیز فرماتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو معلومات حاصل کرنے کے متمنی رہتے ہیں۔ |
|
وَإِذَا طَلَّقْتُـمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَـهُنَّ |
اور جب تم لوگ(خاوند)باضابطہ اعلانیہ طور پر اپنی بیویوں کو حقوق زوجیت سےالگ کر چکے ہو جس کے بعد انہوں نے اپنے لئے مقرر کردہ مدت انتظار گزار دی ہے |
|
فَأَمْسِكُوهُنَّ
بِمَعْـرُوفٍٛ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ
|
چونکہ یہ طلاق بعوض فدیہ نہیں (مذکور آیت۔۲۲۹۔۲۳۰)اس لئے اس دوران معاملے کو جس حتمی نہج پر پہنچایا ہے اس کے مطابق اس وقت معاشرے کے مرجہ قاعدے کے مطابق انہیں دوبارہ بندھن نکاح میں لے کر اپنے ساتھ حالت امساک میں کرلو(اگر خاوند نے معاملات کی اصلاح کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔البقرۃ۔۲۲۸)وگرنہ انہیں (مطلقہ بیویاں)انتہائی مناسب انداز میں جدا کر دو(دو اچھی شہرت کے گواہوں کی موجودگی میں سورۃ الطلاق۔۲)۔ |
|
وَلَا تُـمْسِكُوهُنَّ ضِرَارٙا لِّتَعْتَدُوا۟ۚ |
لیکن یاد رکھو(پہلی طلاق کے موقع پر بیوی کو واپس نکاح میں لینے کے مقدم حق کا ناجائز فاہدہ اٹھاتے ہوئے)تمہیں چاہئے کہ ان پر زیادتی اور پرخاش نکالنے کے خیال سے انہیں ان کی مرضی کے بغیر مت اپنے ساتھ منسلک کرو۔ Root: م س ك |
|
وَمَن يَفْعَلْ ذَٟلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ
نَفْسَهُۥ |
متنبہ رہو؛جو کوئی(طلاق دینے والا)ایسا کرے گا تو یقیناً اس نے خود اپنی ذات پرظلم کیا۔ |
|
وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ
هُـزُوٙا |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو دانستہ اورمنفعت یا عنادکے زیر مقصدغیر سنجیدہ انداز میں مت لو۔ |
|
وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُـمْ |
اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد رکھو جب انہوں نے تم لوگوں پررحمت العالمین کو رسول مبعوث فرما کر بھیجا تھا(حوالہ برائے نعمت البقرۃ۔151؛ءال عمران۔164 اورسورۃ الجمعہ۔٢)۔ |
|
وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُـم مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ وَٱلْحِكْمَةِ |
اور اس کو یاد رکھو جسے انہوں نے مجتمع انداز میں تم لوگوں پر نازل فرما دیا ہے،جو آسان فہم انداز میں کتاب اور حکمت کے مندرجات پر مشتمل ہے۔ |
|
يَعِظُـكُـم
|
وہ جناب تم لوگوں کو اس(نازل کردہ قرءان مجید)کے ذریعے نصیحت فرماتے ہیں۔ |
|
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ٢٣١ |
اور اس حقیقت سے مطلع رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔ |
|
وَإِذَا طَلَّقْتُـمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَـهُنَّ |
اور جب تم لوگ(خاوند)باضابطہ اعلانیہ طور پر اپنی بیویوں کو حقوق زوجیت سےالگ کر چکے ہو جس کے بعد انہوں نے اپنے لئے مقرر کردہ مدت انتظار گزار دی ہے Root: ط ل ق |
|
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَٟجَهُنَّ إِذَا تَـرَٟضَوْا۟
بَيْـنَـهُـم
|
تو تم لوگوں(خاندان،معاشرہ)کو چاہئے کہ انہیں(عدت مکمل کر چکی مطلقہ بیویاں)اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے زبردستی مت روکو جب ان دونوں(سابقہ خاوند بیوی)کے مابین معاشرے کے معروف انداز سے باہمی راضی نامہ ہو گیا ہے۔ |
|
ذَٟلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُـمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ
وَٱلْيَوْمِ
|
یہ ہے وہ بات جس کی اس شخص کو نصیحت کی جا رہی ہے جو تم لوگوں کے مابین اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے۔ |
|
ذَٟلـِكُـمْ أَزْكَىٰ لَـكُـمْ وَ |
یہ بات(کہ طلاق کے بعد خاوند بیوی دوبارہ نکاح کر لیں)تم لوگوں(خاندان؛معاشرے)کے لئے زیادہ فروغ پذیر اور زیادہ ستھری نصیحت ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُـمْ لَا تَعْلَمُونَ ٢٣٢ |
ادراک رکھو؛(احکامات کی علت کے متعلق)اللہ تعالیٰ مکمل طور پر ہر بات کو بخوبی جانتے ہیں جبکہ تم لوگ ہر بات کے متعلق معلومات نہیں رکھتے۔(البقرۃ۔۲۳۲) |
|
وَٱلْوَٟلِدَٟتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٟدَهُنَّ حَوْلَيْـنِ
|
اور ولادت دینے والی مائیں اپنی اولاد کو مکمل دو سال تک دودھ پلاتی رہیں۔ Root: ر ض ع |
|
لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِـمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ |
یہ نصیحت اس (طلاق دینے والے خاوند)کے حوالے سے بھی نافذ العمل ہے جس نے دودھ پلانے کی مدت مکمل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ Root: ر ض ع |
|
وَعلَـى ٱلْمَوْلُودِ لَهُۥ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُـهُنَّ
|
ان(ماؤں)کے نان و نفقہ اور ان کے ملبوسات کے اخراجات کی ذمہ داری بچے کے والد پر ہے،معاشرے کے جانے پہچانے رسم و رواج کے مطابق اس کو نبھانا اس کے لئے لازم ہے۔ Root: ك س و |
|
لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا
وُسْعَهَا |
مگر کسی شخص پر اس کی وسعت سے زیادہ کی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ |
|
لَا تُضَآرَّ وَٟلِدَةُ |
حالات کے مطابق والدہ کواس کے جنے کی الفت کی وجہ سے دقت دینا جائز نہیں؛اور نہ بچے کے والد کو بچے سے الفت کی وجہ سے دقت دینا جائز ہے ۔ |
|
وَعَلَـى ٱلْوَارِثِ مِثْلُ ذَٟلِكَ |
اور اس جیسا(نان و نفقہ)بدستور دیتے رہنااس کے مر جانے کی صورت میں وارث بننے والے کے ذمہ ہے۔ |
|
فَإِنْ أَرَادَا فِصَالٙا عَن تَرَاضٛ مِّنْـهُـمَا وَتَشَاوُرٛ فَلَا
جُنَاحَ عَلَيْـهِـمَا |
لیکن اگر دونوں نے باہمی رضامندی ااور مشاورت کے نتیجے میں بچے کے دودھ پلانے کو چھڑانے کا فیصلہ کیاہے تو دونوں پر قطعاًً کوئی قابل مذمت گرفت نہیں Root: ش و ر |
|
وَإِنْ أَرَدتُّـمْ أَن تَسْتَـرْضِعُوٓا۟ أَوْلَٟدَكُمْ فَلَا جُنَاحَ
عَلَيْكُـمْ إِذَا سَلَّمْتُـم مَّآ ءَاتَيْتُـم
بِٱلْمَعْـرُوفِ |
اور اگر تم(والد)لوگوں نے اپنی اولاد کوکسی ددسری عورت سے دودھ پلوانے کا اارادہ کیا ہے تو اس میں بھی تم لوگوں پر قطعاً قابل مذمت گرفت نہیں اس وقت جب تم نے جو تسلیم کیا تھا وہ ادا کر دیا ہو معاشرے کے معروف رواج کے مطابق۔ Root: ر ض ع |
|
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟
أَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ٢٣٣ |
اور اس حقیقت سے باخبر رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر اس عمل کو بغور دیکھ رہے ہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔ |
|
وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُـمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٟجٙايَتَـرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٛ وَعَشْـرٙا |
جان لومعاشرتی ضابطے؛تم میں
سے جن مردوں کی اس حالت میں وفات— دنیا سے علیحدگی
بسبب موت یا قتل؛شہادت —ہو
کہ وہ اپنے پیچھے بیویوں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں
۔توان کی بیویاں(بیوہ)اپنے آپ
کو اپنے متعلق فیصلے
کرنے کے لئے
چار مہینے اور دس دنوں تک پابند رکھیں۔ |
|
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُـمْ فِيمَا عَـرَّضْتُـم بِهِۦ مِنْ خِطْبَةِ
ٱلنِّسَآءِ أَوْ أَكْنَنتُـمْ فِـىٓ أَنفُسِكُـمْ |
جان لو؛تم لوگوں پر قطعاً کچھ قابل اعتراض ہونے کی گرفت نہیں،جو تم نے عورتوں کی گفتگو میں اظہار کر دیا یا تم نے اپنی خواہش کو اپنے اندر چھپائے رکھا Root: خ ط ب |
|
عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُـمْ سَتَذْكُـرُونَـهُنَّ |
اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم(بیوہ سے نکاح کے خواہشمند)ان (بیواؤں)سے آنے والے دنوں میں(اپنی خواہش)کا ذکر کرو گے۔ |
|
وَلَـٟكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرّٙا إِلَّآ أَن تَقُولُوا۟ قَوْلٙا
مَّعْـرُوفٙا |
لیکن ان(بیواؤں)سے عیاں انداز میں عہد و پیمان نہیں کرنا چاہئے سوائے معروف انداز میں وہ بات کہہ دینے سے اظہار کر دو۔ |
|
وَلَا تَعْزِمُوا۟ عُقْدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَـتَّىٰ يَبْلُـغَ ٱلْـكِـتَٟبُ
أَجَلَهُۥ |
اور تمہیں چاہئے کہ اس وقت تک نکاح کے بندھن کا عزم نہ کرو جب تک کہ طے کردہ ضابطے کی مدت گزر نہ جائے۔ |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِـىٓ أَنفُسِكُـمْ |
اور متنبہ رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو بخوبی جانتے ہیں جو خود تمہاری ذات میں ابھی محدود ہے۔ |
|
فَٱحْذَرُوهُ |
اس لئے ان جناب کے متعلق تم لوگ محتاط رہا کرو۔ |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيـمٚ ٢٣٥ |
لیکن ساتھ میں یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ اکثر و بیشتردرگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں؛وہ درجہ اتم بردبار،جذبات سے منزہ ہیں۔ Root: ح ل م |
|
لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُـمْ إِن طَلَّقْتُـمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ |
تم لوگوں پر قطعاً کسی قابل اعتراض بات کی گرفت نہیں اگر تم نے اپنی بیویوں کو اس حالت میں طلاق(بندھن نکاح سے آزاد)دے دی ہے کہ ابھی ان سے ’’تعلق زوجیت‘‘ قائم نہیں کیا تھا۔ |
|
أَوْ تَفْرِضُوا۟ لَـهُنَّ فَرِيضَةٙ |
یا یہ کہ ابھی تم نے ان کے لئے معاشی ذمہ داری کے فرض کا تعین نہیں کیا تھا۔ |
|
وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَـى ٱلْمُوسِعِ قَدَرُهُۥ |
ان حالات میں انہیں اسباب دنیا دے کر رخصت کرو؛اس کی اپنی حیثیت کے مطابق دینا بہتر عمل ہے جو معاشی لحاظ سے صاحب وسعت ہے۔ |
|
وَعَلَـى ٱلْمُقْتِـرِ قَدَرُهُۥ مَتَٟعَا |
اور اس کی اپنی حیثیت کے مطابق دئیے گئے سے مطمئن ہونا بہتر عمل ہے جو محدود مالی وسائل کا حامل ہے،یہ معاشرے کے معراف انداز میں متاع دنیا کی ادائیگی ہے۔ |
|
حَقًّا عَلَـى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٢٣٦ |
ایسا کرنا ایسے لوگوں پر واجب ہے جواعتدال اور حسن سلوک کے رویئے پر کاربند رہتے ہیں۔ |
|
وَإِن طَلَّقْتُـمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ |
اوراگر تم نے اپنی بیویوں کو اس حالت میں طلاق(بندھن نکاح سے آزاد)دے دی ہے کہ ابھی ان سے ’’تعلق زوجیت‘‘ قائم نہیں کیا تھا۔ |
|
وَقَدْ فَرَضْتُـمْ لَـهُنَّ فَرِيضَةٙ فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُـمْ |
مگر تم نے ان کے لئے معاشی ذمہ داری کے فرض کا تعین کر دیا تھا تو اس صورت میں انہیں اس کا آدھا دینا ہے جو تم نے متعین کیا تھا۔ |
|
إِلَّآ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا۟ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ عُقْدَةُ
ٱلنِّكَاحِ |
(یہ لازم ہے)سوائے اگر وہ(مطلقہ)خود اس حق سے دستبردار ہو جائیں یاوہ شخص دستبردارکر دے جو بندھن نکاح میں دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ |
|
وَأَن تَعْفُوٓا۟ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ |
صرف نظر اور درگزر کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ |
|
وَلَا تَنسَوُا۟ ٱلْفَضْلَ بَيْـنَكُـمْ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اس خاص فضل کو نظر انداز نہ کرو جس نے تمہارے مابین دینی اخوت کا رشتہ قائم کیا ہے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٌ ٢٣٧ |
متنبہ رہو؛ ا للہ تعالیٰ ہر لمحہ اُن اعمال کودیکھ رہے ہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔ |
|
حَـٟفِظُوا۟ عَلَـى ٱلصَّلَوَٟتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ |
تم لوگ مختلف اوقات پر مقرر کردہ صلوات(بااظہار بندگی؛نمازیں)کی ادائیگی کے لئے چوکنا رہو اور وسطی صلوٰۃ کے لئے چوکس رہو۔ Root: و س ط |
|
وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَـٟنِتِيـنَ ٢٣٨ |
اور(صلوٰۃ کی ادائیگی کے وقت) اللہ تعالیٰ کے حضور باادب عاجز بندوں کے انداز میں کھڑے ہوں ۔ |
|
فَإنْ خِفْتُـمْ فَرِجَالٙا أَوْ رُكْبَانٙا |
مگر اگر تم لوگوں کو کسی مقام پر رک کر ادائیگی صلوٰۃ میں خوف لاحق ہو توپیادہ چلتے چلتے یاسواری کے اوپر(بغیر رکوع و سجود) مقررہ وقت کی صلوٰۃ ادا کر دو۔ Root: ر ك ب |
|
فَإِذَآ أَمِنتُـمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُـم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ ٢٣٩ |
پھر جب تم امن و اطمینان کی حالت میں ہو تو اللہ تعالیٰ کواس انداز میں یاد کرو جیسے ان جناب نے تم لوگوں کو تعلیم دی ہے جو قبل ازیں تم نہیں جانتے تھے۔(البقرۃ۔۲۳۹) |
|
وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُـمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٟجٙا
وَصِيَّةٙ لِّأَزْوَٟجِهِـم مَّتَٟعٙا إِلَـى ٱلْحَوْلِ غَيْـرَ
إِخْرَاجٛ |
جان لو(معاشرتی ضابطے)تم میں سے جن مردوں کو
(گھروں سے میدان جنگ جانے کے لئے)خودالگ ہونا پڑے اس حالت میں
کہ وہ اپنے پیچھے بیویوں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔تو وہ وصیت کر کے رخصت ہوں،اپنی بیویوں
کو ایک سال تک گھر سے نکالے بغیر متاع حیات دیتے رہنے کا۔ |
|
وَلِلْمُطَلَّقَـٟتِ مَتَـٟـعُ |
اور کچھ متاع حیات کومعاشرے کے معروف طریقے سے ان مطلقہ بیویوں کو بھی دینا ہے جو ابھی عدت میں تھیں(اور خاوند فوت ہو گیا)۔ Root: ط ل ق |
|
حَقًّا عَلَـى ٱلْمُتَّقِيـنَ ٢٤١ |
ایسا کرنا متقین/محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں پر واجب ہے۔ |
|
كَذَٟلِكَ يُبَيِّـنُ ٱللَّهُ لَـكُـمْ ءَايَٟتِهِۦ |
اس تقابلی انداز میں اللہ تعالیٰ اپنی آیات کوتم لوگوں کے فہم کے لئے متمیز اور واضح فرما دیتے ہیں۔ |
|
لَعَلَّـكُـمْ تَعْقِلُونَ ٢٤٢ |
اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ عقل و فہم سے معاملات کو سلجھاؤ۔ |
|
أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٟرِهِـمْ |
کیاآپ(ﷺ)نےان لوگوں کے رویئے کے بارے غور نہیں کیا جو اپنے علاقے سے نکل گئے تھے۔ |
|
وَهُـمْ أُ لُوفٌ |
حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ |
|
حَذَرَ ٱلْمَوْتِ |
انہوں نے موت کے خدشے سے بچاؤ کے لئے ایسا کیا۔ |
|
فَقَالَ لَـهُـمُ ٱللَّهُ مُوتُوا۟ |
تو(موت کے فلسفہ کےمتعلق ان کے گمان کی درستگی کے لئے)اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حکم جاری کر دیا’’تم لوگ طبعی موت مر جاؤ‘‘ |
|
ثُـمَّ أَحْيَٟهُـمْ |
بعد ازاں ان کی موت کے کچھ وقت بعد ان جناب نے انہیں باحیات کر دیا۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَـى ٱلنَّاسِ |
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو کہ بلاشبہ لوگوں پرصاحب فضل وکرم ہیں۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُـرُونَ ٢٤٣ |
اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔ |
|
وَقَـٟتِلُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ |
اور تم لوگوں(مدعیان ایمان)کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ راہ کی حفاظت کی خاطر مسلط کردہ جنگ کا بنفس نفیس سامنا کرو |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَـمِيعٌ عَلِيـمٚ ٢٤٤ |
اوریہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں،ہر بات کی مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ Root: ع ل م |
|
مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْـرِضُ ٱللَّهَ قَرْضٙا حَسَنٙا |
ہے کوئی صاحب استطاعت جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے،خیر سگالی کے انداز میں دیا گیا قرض۔ |
|
فَيُضَٟعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضْعَافٙا كَثِيـرَةٙۚ |
نتیجے میں وہ جناب اس(قرض)کو قابل ادائیگی کھاتے میں اس شخص کے لئے بڑھاتے رہیں،کثرت سے بڑھتا ہوا (اللہ تعالیٰ کی جانب سے)واجب ادائیگی۔ |
|
وَٱللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ |
یہ حقیقت ذہن نشین رہے،اللہ تعالیٰ لوگوں کے رزق کو مقدار میں محدود کرتے ہیں اور پھیلاتے/کشادہ کرتے ہیں۔ Root: ب س ط |
|
وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٢٤٥ |
متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔ |
|
أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَـىٰٓ |
کیاآپ(ﷺ)نے ان عمائدین کے رویئے پر غورنہیں کیا جو موسیٰ(علیہ السلام)کے بعد کے دور میں بنی اسرائیل میں اثر و رسوخ کے حامل سردار بنے تھے؛ |
|
إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِـىّٛ لَّـهُـمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِـكٙا
نُّـقَـٟتِلْ فِـى سَبِيلِ
|
اُس قصہ کے حوالے سےجب انہوں (عمائدین)نے ان نبی کے لئے جو ان کے لئے رسول ہونا ظاہر کر چکے تھے کہا’’آپ ہمارے لئے ایک سپہ سالار مقرر فرما دیں،ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرنا چاہتے ہیں‘‘ ۔ |
|
قَالَ هَلْ عَسَيْتُـمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُـمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَـٟتِلُوا۟ۖ |
انہوں(رسول)نے کہا’’کیا یہ امکان نہیں کہ اگر جنگ کرنا تم پر لازم کر دیا گیا تو تم لوگ جنگ نہ کرو؟‘‘ |
|
قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَـٟتِلَ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ
أُخْرِجْنَا مِن دِيَٟرِنَا وَأَبْنَآئِنَا |
انہوں(عمائدین)نے جواب دیا’’مگر ہمارے لئے کیا جواز مانع ہو گا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ نہ کریں ان لوگوں سے جنہوں نے ہمیں اورہمارے بیٹوں کو ہمارے علاقے سے نکال دیا تھا؟‘‘۔ |
|
فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْـهِـمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلٙا
|
مگر جب جنگ کرنا ان پر نافذ العمل حکم بنا دیا گیا تو وہ(عمائدین) اپنے کہے قول سے منحرف ہو گئے سوائے ان میں سے چند کے۔ |
|
وَٱللَّهُ عَلِيـمُ |
متنبہ رہو،اللہ تعالیٰ حقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ |
|
وَقَالَ لَـهُـمْ نَبِيُّـهُـمْ |
:اور ان کے نبی (علیہ السلام)نے ان (عمائدین) سے کہا |
|
إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَـكُـمْ طَالُوتَ
مَلِـكٙا |
یہ حقیقت جان ؛ اللہ تعالیٰ طالوت کو تم لوگوں کے لئے سپہ سالار مقرر فرما چکے ہیں‘‘۔’’ |
|
قَالُوٓا۟ أَنَّـىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا |
انہوں(عمائدین) نے سوال کیا’’اس کا ہمارے اوپر سپہ سالار بننا کس وجہ سے اس کے مناسب ہے۔ |
|
وَنَـحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةٙ مِّنَ
|
ہم لوگ اس کی نسبت سپہ سالار بننے کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ اسے تو مال و دولت میں وسعت سے نہیں نوازا گیا‘‘۔ |
|
قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُـمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةٙ فِـى
ٱلْعِلْمِ وَ |
انہوں(نبی الیہ السلام)نے جواب دیا’’یقیناًاللہ تعالیٰ نے انہیں(طالوت)تم لوگوں پر بوجوہ فوقیت دے کر منتخب کیاہے کیونکہ ان جناب نے اسے (طالوت)مخصوص علم(جنگی صلاحیت)اور جسمانی طور پرزیادہ ودسعت افزوں فرمایا ہے |
|
وَٱللَّهُ يُؤْتِـى مُلْـكَهُۥ مَن
|
(اس انتخاب کی وجہ بتا دی ہے)مگر یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار میں حق حکمرانی اس کو عنایت کرتے ہیں جس کے متعلق ازخود ایسا ارادہ کرتے ہیں۔ |
|
وَٱللَّهُ وَٟسِعٌ عَلِيـمٚ ٢٤٧ |
اور یقینا اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے،اور منبع علم ہیں‘‘۔ |
|
وَقَالَ لَـهُـمْ نَبِيُّـهُـمْ |
:اور ان کے نبی (علیہ السلام)نے ان (عمائدین) سے مزیدکہا |
|
إِنَّ ءَايَةَ مُلْـكِـهِۦٓ أَن يَأْتِـيَـكُـمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٚ مِّن رَّبِّكُـمْ |
اس (طالوت)کے سربراہ/کمانڈر مقرر کئے جانے کی نشانی ایک مخصوص تابوت کا تمہارے پاس پہنچنا ہوگا۔تسکین قلب کا سامان اس کے اندر موجود ہو گا جو تمہارے رب کی جانب سے باعث طمانیت بنے گا۔ |
|
وَبَقِيَّةٚ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَـىٰ وَءَالُ هَٟرُونَ تَحْـمِلُهُ
ٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ |
اور اس(تابوت)کے اندر وہ یادگاریں ہوں گے جنہیں موسیٰ (علیہ السلام)اور ھارون (علیہ السلام)کے لوگوں نے اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔ملائکہ نے اس (تابوت)کو اٹھایا ہوا ہے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَا يَةٙ لَّـكُـمْ |
یقینا ایک نشانی تم لوگوں کے ادراک کے لئے اس اطلاع میں موجود ہے کہ ان کا سپہ سالار مقرر کیا جانا بحکم اللہ تعالیٰ ہے۔ |
|
إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَ ٢٤٨ |
"اگر تم لوگ صاحبان ایمان ہو۔ |
|
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلْجُنُودِ |
اس کے بعد جوں ہی طالوت نےلشکروں کو ایک مقام پر اکھٹا کیا ۔ |
|
قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبْتَلِيكُـم بِنَـهَـرٛ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى |
تو انہوں(طالوت سپہ سالار)نے ان سے خطاب کیا’’یقناً اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے مافی الضمیر کو ظاہر کرنے کے لئے ایک نہر کے کنارے تم لوگوں کوآزمائش میں ڈالنے والے ہیں۔اس وقت جس کسی نے اس(نہر)میں سے سیر ہو کرپانی پی لیا تواس سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ میرے ساتھ نہیں۔ |
|
وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّىٓ إِلَّا مَنِ ٱغْتَـرَفَ
|
اور جس کسی نے اس(پانی)کو نہیں پیا ہو گا تو وہ یقیناً میرے ساتھ ہے، ماسوائے اس کے اس نے اپنےچلو میں لے کراوپر کی جانب اچھال دیا۔‘‘ |
|
فَشَـرِبُوا۟ مِنْهُ إِلَّا قَلِيلٙا
|
پھر جب وہ نہر پر پہنچے تو ان میں سے ایک قلیل تعداد کے علاوہ دوسروں نے اس (نہر)میں سے سیر ہو کرپانی پی لیا |
|
فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ قَالُوا۟ |
پھر جوں ہی انہوں (طالوت)نے اسے(نہر)پار کیا؛وہ اور وہ مدعیان ایمان جو اس وقت ان کے ساتھ تھے، انہوں نے دوسرے کنارے پہنچنے پر کہا |
|
لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَ |
قطعاً کوئی بھی طاقت ہمارے میں آج جالوت اور اس کے لشکروں کا سامنا کرنے کےلئے نہیں ہے‘‘۔’’ |
|
قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّـهُـم مُّلَٟقُوا۟ ٱللَّهِ |
ان لوگوں نے جومثبت احساس؍ رکھ رہے تھے کہ اُس لمحےاللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہیں، انہیں یہ بتایا ۔ |
|
كَم مِّن فِئَةٛ قَلِيلَةٛ غَلَبَتْ فِئَةٙ كَثِيـرَةَ |
’’بہت مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی ٹولی نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک بڑی ٹولی پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٟبـِـرِينَ ٢٤٩ |
اور اطمینان رکھو،اللہ تعالیٰ صبر و استقامت سے اپنے نظریہ پر قائم رہنے والوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ |
|
وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ |
اور جوں ہی وہ کھلے میدان میں جالوت اور اس کے لشکروں کے آمنے سامنے ہوئے۔ |
|
قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْـرٙا |
تو انہوں نے دعا کی’’ہمارے رب!ہمارے پر تحمل و برداشت کی قوت انڈیل دیں۔ |
|
وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا |
اور ہمارے قدموں کومضبوطی سے جمائیں رکھیں۔ |
|
وَٱنصُـرْنَا عَلَـى ٱلْقَوْمِ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٢٥٠ |
اور آپ ہمیں ان انکار کرنے والے لوگوں پرغلبہ پانے کے لئے مدد فرمائیں‘‘۔ |
|
فَهَزَمُوهُـم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ |
باقاعدہ جنگ ہونے پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے انہیں(افواج جالوت)شکست خوردہ کر دیا۔اور داؤد(علیہ السلام)نے جالوت کو سزائے موت دے دی۔ |
|
وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا
|
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں(داؤد علیہ السلام)کو سلطنت سے نوازا ہوا تھا،اور انہیں حکمت سے بہرامند کیا تھا،اور انہیں اس امر کی تعلیم دی تھی جو وہ جناب چاہتے تھے۔ |
|
وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُـم بِبَعْضٛ لَّفَسَدَتِ ٱلۡأَرضُ |
جان لو؛اگر اللہ تعالیٰ موقع محل اور مناسب وقت پرلوگوں کو منظر سے نہ ہٹاتے،ان میں سے بعض کو بعض دوسروں کے ذریعے،تو کرہ ارض فساد کی آماجگاہ بن چکی ہوتی۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَـى ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢٥١ |
مگراللہ تعالیٰ تمام جہانوں پر صاحب فضل و کرم ہیں۔ |
|
تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
|
یہ اللہ تعالیٰ
کی پہلے سے قلمبند کی ہوئی حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی عبارتیں(آیات)ہیں
جنہیں
ہم جناب تحریری ترتیب کے عین مطابق
تلفظ کرتے ہوئےآپ(ﷺ)کو
سنا رہے ہیں،یہ انسانیت
کو پہنچانے کے لئےموقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے
۔ |
|
تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُـمْ عَلَـىٰ
|
|
|
مِّنْـهُـم مَّن كَلَّمَ
|
ایک ایسے رسول بھی ان میں تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے باہمی گفتگو کے انداز میں کلام کیا تھا۔ |
|
وَرَفَعَ بَعْضَهُـمْ
|
اور ان جناب نے ان میں سے بعض کوبلندی درجات سے سرفراز فرمایا۔ Root: د ر ج |
|
وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَـرْيَـمَ ٱلْبَيِّنَـٟتِ |
اور ہم جناب نے عیسیٰ (علیہ السلام)،ابن مریم(صدیقہ)، کو لوگوں کے عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں(آیات ) عنایت کی تھیں جو ان کے تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔ |
|
وَأَيَّدْنَٟهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ |
ا ور ہم جناب نے انہیں روح القدس(جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے قوت و حفاظت دی۔ Root: ر و ح |
|
وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِـم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْـهُـمُ ٱلْبَيِّنَـٟتُ |
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا فیصلہ کیا ہوتا تو وہ لوگ جوان(رسولوں کے مرنے بعد)کے بعد کے دور میں تھے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے بعد اُس علم،وضاحت کے جو واضح متمیزآیات نے انہیں پہنچایا تھا۔ |
|
وَلَـٟكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْـهُـم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْـهُـم مَّن
|
مگر انہوں نے ان واضح متمیز آیات کے متعلق دانستہ زیر مقصد اختلاف کیا؛جس کے باعث وہ جو ان میں سلیم القلب تھا ایمان لایا ان آیات پر؛اورجو ان میں شقی القلب تھا اس نے ان کا انکار کر دیا۔ |
|
وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَـٟكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ٢٥٣ |
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا فیصلہ کیا ہوتا تو وہ لوگ آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے،اور اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتے ہیں اس کوانجام دیتے ہیں۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ |
!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو |
|
أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٟكُـم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِـىَ يَوْمٚ |
ہم جناب نے جو مال و دولت تم لوگوں کو عنایت فرمایا ہے اس میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرو اس سے قبل کہ وہ دن آن پہنچے۔ |
|
لَّا بَيْـعٚ فِيهِ |
مستقبل میں ادائیگی کی بنیاد پر کیا جانے والا کاروبار اس دن کے دوران نہیں ہو سکے گا۔ |
|
وَلَا خُلَّـةٚ وَلَا شَفَـٟـعَةٚۗۗ |
اور نہ دوستانہ مراسم اور نہ ہی سفارش و وکالت(شفاعت)اس دن کے دوران انکار کرنے والوں کے لئے کارآمد ہو گی۔ |
|
وَٱلْـكَـٟفِـرُونَ هُـمُ ٱلظَّٟلِمُونَ ٢٥٤ |
کیونکہ قرءان مجید کا انکار کرنے والے درحقیقت حق کو باطل سے بدلنے والے ہیں۔ |
|
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ |
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔ |
|
ٱلْحَىُّ
|
اللہ تعالیٰ کامل حیات ہیں،اوروہ تمام نظام کو سنبھالنے اورقائم رکھنے والے مقتدر اعلیٰ ہیں۔ |
|
لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٚ وَلَا
|
اونگھ اور نہ ہی نیند کبھی بھی ان پرغالب آ سکتی ہے۔ |
|
لَّهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى
|
جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔ |
|
مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِنْدَهُ ۥٓ إِلَّا
|
کون ہے جو ان کے حضور سفارش و وکالت کر سکے گا۔۔کوئی نہیں کر سکے گا۔۔استثنا صرف اسے حاصل ہے جس کے لئے ان جناب کا اذن ہے۔ Root: ش ف ع |
|
يَعْلَمُ مَا بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَمَا
|
وہ جناب ہر اس بات کا مکمل علم رکھتے ہیں جو ان کےحال اورماضی میں ہے اور جو ان کے مستقبل میں پنہاں ہے ۔ |
|
وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٛ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا
|
اور وہ ان کے منبع علم میں سے کسی شئے اور معاملے سے متعلق معلومات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ماسوائے اس کے جو انہوں نے دینا چاہا تھا۔ |
|
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ و |
ان کا اقتدار آسمانوں اور زمین سے وسیع تر ہے۔ |
|
وَلَا يَـُٔـودُهُۥ
حِفْظُهُمَا |
ان دونوں کی حفاظت اور نگہبانی کبھی بھی ان کے لئےموجب تھکاوٹ اور گراں نہیں ہوتی۔ Root: ح ف ظ |
|
وَهُوَ ٱلْعَلِـىُّ ٱلْعَظِيـمُ ٢٥٥ |
آگاہ رہو؛وہ جناب اپنے آپ میں لازوال عالی مقام ہیں؛ابدی عظیم ترین ہیں۔ |
|
لَآ إِكْرَاهَ فِـى ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّـنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّۚ |
متنبہ رہو؛وہ تمام کی تمام باتیں جو زمان و مکان میں باعث کراہت ، موجب ناپسندیدگی ہوں ان کو نافذ العمل کرنے کا اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ آئین /ضابطہ حیات(دین اسلام)میں قطعاً کوئی جواز اور اجازت نہیں ۔(قرءان عظیم میں انکشاف سے)یقینا رشد و راست روی کا طرز حیات اور حالت ازخودشیطانی،راست سے بھٹکے طرزحیات سے نمایاں اور متمیز ہو چکا ہے۔ |
|
فَمَن يَكْـفُـرْ بِٱلطَّٟغُوتِ وَيْؤْمِنۢ بِٱللَّهِ |
اس لئے جو کوئی راست روی سے متجاوزباغیانہ طرز عمل اپنانے سے انکار کرے گا اور اللہ تعالیٰ پر دل کی شاد سے ایمان لائے گا۔ |
|
فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُـرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ |
تو یقیناً اس نے بہترین بندھن سے اپنا الحاق کر لیا۔ |
|
لَا ٱنفِصَامَ لَـهَاۗ |
قطعاً کوئی رخنہ پردازنہیں ہےجو اس (بندھن)کے لئے باعث رخنہ ہو۔ |
|
وَٱللَّهُ سَـمِيعٌ عَلِيـمٌ ٢٥٦ |
یہ حقیقت ذہن نشین رہے،اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
ٱللَّهُ وَلِـىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
يُخْرِجُهُـم مِّنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ |
مطلع رہو؛ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ،ان کے حامی
و ناصر ہیں جنہوں نے صدق دل سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے کا
اقرار کیا ہےوہ جناب انہیں(حقیقی مومن)مخصوص اندھیروں سے نکالتے ہوئے
حیات بخشروشنی کی جانب لے جاتے ہیں
۔ |
|
أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٟهِـۦمَ فِـى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ |
کیاآپ(ﷺ)نے اس شخص کے رویئے /تصورکے متعلق غور کیا ہے جس نے ابراہیم(علیہ السلام)سے ان کے رب کے متعلق بحث مباحثہ کیا تھا اس حیثیت میں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس ملک کا حکمران بنایا تھا |
|
إِذْ قَالَ إِبْرَٟهِـۦمُ رَبِّـىَ ٱلَّذِى يُحْـىِۦ وَيُمِيتُ |
جب ابراہیم(علیہ السلام)نے اس سے کہا تھا’’میرے رب وہ ہیں جو حیات کو ظہور دیتے ہیں اور وہ ذی حیات کوموت دیتے ہیں‘‘ |
|
قَالَ
أَنَا۟
أُحْيِـىۦ وَأُمِيتُ |
اس(بادشاہ)نے جواب دیا’’میں حیات دیتا ہوں اور میں موت دیتا ہوں‘‘ |
|
قَالَ إِبْرَٟهِـۦمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِـى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْـرِقِ فَأْتِ بِـهَا مِنَ ٱلْمَغْـرِبِ |
انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا’’اگر آپ کا یہ گمان ہے تو جان لیں کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نمودار کرتے ہیں توآپ اسے مغرب سے نمودارکریں‘‘ Root: ش ر ق |
|
فَبُـهِتَ ٱلَّذِى كَفَـرَ |
تو وہ جس نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کیا تھا مبہوت اور لاجواب ہو کر رہ گیا۔ |
|
وَٱللَّهُ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٢٥٨ |
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں ہدایت نہیں دیتے۔(البقرۃ۔۲۵۸) |
|
أَوْ كَٱلَّذِى مَـرَّ عَلَـىٰ قَرْيَةٛ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَـىٰ عُـرُوشِهَا |
یا اس کے مقابل اس شخص کےانداز فکر پر غور نہیں کیا جو ایک بستی کے پاس سے گزر رہا تھا جوویران اور اجاڑ بےآباد حالت میں تھی۔ |
|
قَالَ أَنَّـىٰ
يُحْـىِۦ هَـٟذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِـهَا |
اس نے خود کلامی کرتے ہوئے سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو اس کی موت کے بعدکب اور کیسے ذی حیات فرمائیں گے۔ |
|
فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٛ ثُـمَّ بَعَثَهُۥ |
اس کے تجسس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اسے ایک سو سالوں کے لئے موت سے ہمکنار کر دیا۔بعد ازاں اس مدت انہوں نے اسے حالت حیات میں بحال کر دیا۔ |
|
قَالَ كَمْ لَبِثْتَ |
انہوں نے اس پوچھا’’تو کتنا عرصہ یہاں رہا؟‘‘۔ |
|
قَالَ لَبِثْتُ يَوْمٙا أَوْ بَعْضَ يَوْمٛ |
اس نے جوب دیا’’میں یہاں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں‘‘۔ |
|
قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٛ |
انہوں نے جواب دیا’’نہیں؛حقیقت میں تو ایک سو شمسی سال یہاں رہا ہے۔ |
|
فَٱنْظُرْ إِلَـىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ
|
اس حقیقت کے ادراک کے لئے تو اپنے طعام اور اپنے پانی کو دیکھ،اس نے اپنے آپ کو عمررسیدہ/بوسیدہ نہیں کیا۔ |
|
وَٱنْظُرْ إِلَـىٰ حِـمَارِكَ |
اور تو اپنے گدھے کی جانب دیکھ۔(تاکہ تجھے دکھائیں مردے کو کیسے حیات نو دیتے ہیں) |
|
وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةٙ لِّلنَّاسِ |
۔۔اورتاکہ ہم جناب تجھے ایک نشانی بنا دیں جو لوگوں کو موت اور بعد از موت حیات دئیے جانے کو سمجھا دے۔۔ |
|
وَٱنْظُرْ إِلَـى ٱلعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا |
اور ان (مردہ گدھے کی بوسیدہ )ہڈیوں پر نگاہ رکھ،دیکھ ہم انہیں کیسے بطور ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں۔ |
|
ثُـمَّ نَكْسُوهَا
لَحْمٙا |
بعد ازاں ہم اسے (ہڈیوں کا ڈھانچہ)کیسے ڈھانپتے ہیں گوشت سے ۔‘‘ |
|
فَلَمَّا تَبَيَّـنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ |
اس عملی مظاہرے سے جوں ہی انہوں(اللہ تعالیٰ)نے اس کے لئے کیسے دوبارہ حیات دی جانے کو متمیز کر دیا تو اس نے کہا’’میں حتمی طور پر جانتا ہوں۔ |
|
أَنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٢٥٩ |
کہ یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔‘‘ |
|
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٟهِـۦمُ رَبِّ أَرِنِـى كَيْفَ تُحْيِـى
ٱلْمَوْتَـىٰ |
اس موضوع پر ایک اور واقعہ سن لو؛جب ابراہیم (علیہ السلام)نے اپنی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’میرے رب!آپ مجھے عملی طور پر دکھائیں کہ مردوں کوآپ کیسے زندہ کرتے ہیں" ابراہیم علیہ السلام کی مردوں کو زندہ اٹھانے کے منظر کو دیکھنے کی خواہش |
|
قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن |
انہوں(اللہ تعالیٰ)نے کہا’’کیا آپ یہ (مردے کو زندہ کرنا)نہیں مانتے؟‘‘۔ |
|
قَالَ بَلَـىٰ وَلَـكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى |
انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا’’نہیں،میرا یہ مطلب نہیں تھا؛اس کے برعکس اس خواہش کا اظہاراپنے اطمینان قلب کے لئے تھا کہ مردے کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھا ہوا ہے‘‘۔ |
|
قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةٙ مِّنَ ٱلطَّيْـرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ |
Root: ر ب ع |
|
ثُـمَّ ٱجْعَلْ عَلَـىٰ كُلِّ جَبَلٛ مِّنْـهُنَّ جُزْءٙا |
مانوس ہو جانے کے کچھ عرصہ بعد انہیں ذبحہ کر کے ٹکڑے ٹکٖرے میں تبدیل کر دیں اور ان اجزاء کو اردگرد کے تمام پہاڑوں پر بکھر دیں۔ |
|
ثُـمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيٙا |
ایسا کرنے کے کچھ عرصہ بعد انہیں مانوس آواز میں بلائیں؛ وہ آپ کے پاس دوڑتے چلیں آئیں گے۔ |
|
وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيـمٚ ٢٦٠ |
اوراس حقیقت سے باخبر رہیں؛ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔‘‘ |
|
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٟلَـهُـمْ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ |
ان لوگوں کی منفعت /اضافہ کی مثال جو اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ |
|
كَمَثَلِ حَبَّةٛ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِـى كُلِّ سُنۢبُلَةٛ مِّا۟ ئَـةُ حَبَّةٛۗ |
اناج کے ایک دانے سے حاصل کردہ منافع /اضافہ کے مثل ہے جس نے سات شاخیں /بالیں پیدا کیں۔جن کی خصوصیت یہ تھی کہ ایک سو دانے ہر ایک ایک بالی میں پیدا ہوئے۔ Root: س ن ب ل |
|
وَٱللَّهُ يُضَٟعِفُ لِمَن يَشَآءُ |
اور اللہ تعالیٰ جس کسی کے متعلق ایسا فیصلہ کرتے ہیں اس کے لئے مزید اضافے پر اضافہ کرتے ہیں۔ |
|
وَٱللَّهُ وَٟسِعٌ عَلِيـمٌ ٢٦١ |
اور یقینا اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے،اور منبع علم ہیں۔ |
|
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٟلَـهُـمْ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ |
جو لوگ اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ |
|
ثُـمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنّٙا وَلَآ أَذٙى |
بعد ازاں وہ اس کو جتاتے نہیں رہتے جو انہوں نے دوسروں کی فلاح پر خرچ کیا تھا،نہ احسان جتانے اور نہ وصول کنندہ کے لئے تکلیف دہ انداز میں۔ |
|
لَّـهُـمْ أَجْـرُهُـمْ عِندَ رَبِّـهِـمْ |
ان لوگوں کا اجر اُن کے لئے منتظر ہے ان کے رب کی جانب سے بطور ایوارڈ۔ |
|
وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ |
اور کسی طرح کا خوف ان پر مسلط نہیں ہوگا۔ |
|
وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٢٦٢ |
(اور نہ کبھی انہیں حزن و ملال کا سامنا ہو گا۔(البقرۃ۔۲۶۲ |
|
قَوْلٚ مَّعْـرُوفٚ وَمَغْفِـرَةٌ خَيْـرٚ مِّن صَدَقَةٛ يَتْبَعُهَآ
أَذٙى |
ایک مہکتا،باعث مسرت قول اورپردہ پوشی کرتے ہوئے درگزر کرنا اس بے صلہ مالی تعاون/صدقے سے کہیں بہتر ہے جس کااذیت پیچھا کرتی رہے۔ |
|
وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيـمٚ ٢٦٣ |
حقیقت سے باخبر رہو؛اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ بلند ترہیں؛بدرجہ اتم بردبار،جذبات سے منزہ ہیں۔ Root: ح ل م |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو |
|
لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَـٟتِكُـم بِٱلْمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ |
تم لوگ اپنے بےصلہ مالی تعاون/صدقات کواحسان جتانے اور وصول کنندہ کو کوفت دے کربیکارمت بناؤ۔ |
|
كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ
وَٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ |
اس شخص کے باطل عمل کی مانند جو لوگوں کودکھاوے کے مطمح نطر سے اپنے مال کو خرچ کرتا ہے جبکہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ پر اور نہ یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے۔ |
|
فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٛ عَلَيْهِ تُـرَابٚ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٚ فَـتَـرَكَهُۥ صَلْدٙاۖ |
اس طرح اُس شخص کے قلب و انفاق کی مماثلت اس شفاف چٹان سے ہے،مٹی کی ایک تہہ اس پر پڑی ہوئی ہے؛پھرزوردار بارش نے اسے دھوڈالا ،اور یوں اس(زوردار بارش)نے اسے(چٹان)بے زرخیزچٹان بنا کر چھوڑا۔ Root: ص ف و |
|
لَّا يَقْدِرُونَ عَلَـىٰ شَـىْءٛ مِّمَّا كَسَبُوا۟ۗ |
یہ لوگ اس شئے کی قدر ومنزلت اور انجام کے متعلق اندازہ نہیں لگاتے جو ووہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ |
|
وَٱللَّهُ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٢٦٤
|
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ رسول کریم اور قرءان کا انکار کرنے والوں کو (ان کی خواہش کے برعکس)ہدایت نہیں دیتے۔ |
|
وَ مَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٟلَـهُـمُ
ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَ تَثْبِيتًۭا مِّنْ أَنفُسِهِـمْ |
اور اِن لوگوں کے بالمقابل اُن لوگوں کے قلب و انفاق
کی مماثلت جو اپنے اموال اس مخلصانہ خواہش کے زیر اثر خرچ کرتے رہتے
ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے شرف قبولیت حاصل ہو اور اپنے نفوس میں ایمانی تقویت
و طمانیت ملے Root: ر ب و |
|
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّـةٚ مِّن نَّخِيلٛ وَأَعْنَابٛ |
کیا تم لوگوں میں کوئی ایک ایسے باغ کا مالک ہونے کا متمنی ہے جس میں کھجوروں اور انگوروں کے درخت و پودے ہوں |
|
تَجْرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُ |
جس کی خاص بات یہ ہو کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہوں۔ |
|
لَهُۥ فِيـهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَـرَٟتِ |
باغ جس میں ہر طرح کے پھلوں کی پیداوار اس کے لئے منافع بخش ہو۔ |
|
وَأَصَابَهُ ٱلْـكِـبَـرُ |
ایسا اس حال میں جب بڑھاپا اس پر پہنچ چکا ہے۔ |
|
وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٚ ضُعَفَـآءُ |
اورابھی ناتواں اولاد کی ذمہ داری اس پر ہے۔ Root: ذ ر ر |
|
فَأَصَابَـهَآ إِعْصَارٚ فِيهِ نَارٚ فَٱحْتَـرَقَتْ |
پھر ان حالات میں ایک اعصار/ملائم گیند نما بگولہ ،آگ اس کے اندر پنہاں ہے،اس (باغ)پر آن پہنچا۔جس پراس(آگ)نے اپنے آپ کودھماکے سے بکھیر دیا۔
Root:
ع ص ر
|
|
كَذَٟلِكَ يُبَيِّـنُ ٱللَّهُ لَـكُـمُ ٱلۡءَايَٟتِ |
اس تقابلی انداز میں اللہ تعالیٰ اپنی آیات کوتم لوگوں کے فہم کے لئے متمیز اور واضح فرما دیتے ہیں۔ |
|
لَعَلَّـكُـمْ تَتَفَكَّـرُونَ ٢٦٦ |
اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ازخودمقصدیت کے پہلو سے باتوں پر غوروفکر کر سکو۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ |
!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو |
|
أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَٟتِ مَا كَسَبْتُـمْ |
تم لوگ اس فائدہ مندمیں سے جو تم نے کمایا ہے کچھ دوسروں کی فلاح وبہبودکے لئے خرچ کرو۔ |
|
وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَـكُـم مِّنَ ٱلۡأَرْضِ |
اور اس زرعی پیداوار میں سے جو ہم جناب نے تم لوگوں کے لئے زمین میں سے نکالی ہے۔ |
|
وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُـم بِـَٔاخِذِيهِ
إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ جو تم دوسروں پر خرچ کرو گے وہ اپنے مال میں سے بیکار اور ناکارہ چننے کا قصد نہ کرو؛ ایسا جو تمہیں دیا جائے تو لینا پسند نہ کرو سوائے اس میں حقارت کی نگاہ ڈالتے ہوئے۔ Root: خ ب ث |
|
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَـمِيدٌ ٢٦٧ |
اور اس حقیقت سے آگاہ رہو کہ یقینا اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ و بالاتر ہیں؛ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔ |
|
ٱلشَّيْطَٟنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْـرَ وَيَأْمُـرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ |
شیطان تم لوگوں کو صدقات دینے سے روکنے کے لئےتنگ دستی کی حالت میں ہو جانے کی وعید سناتا ہے،اور تمہیں جنسی بے راہ روی پر اکساتا ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِـرَةٙ مِّنْهُ وَفَضْلٙا |
جبکہ اللہ تعالیٰ اس عمل پران کی جانب سے گناہوں کی پردہ پوشی اور معافی کا تم کووعدہ دیتے ہیں،اور بڑھا چڑھا کر عنایت کرنے کا۔ |
|
وَٱللَّهُ وَٟسِعٌ عَلِيـمٚ ٢٦٨ |
اور یقینا اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے،اور منبع علم ہیں‘‘۔ |
|
يُؤْتِـى
ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ |
وہ جناب اس کو جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اسےدانش و دانائی،پنہاں کا علم و یقین اور اس کے برمحل استعمال کی صلاحیت عنایت فرما دیتے ہیں۔ |
|
وَمَن يُؤْتَ
ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِـىَ خَيْـرٙا كَثِيـرٙا |
جان لو،جس کسی کو حکمت عنایت کر دی گئی تو حقیقت میں اسے بکثرت بھلائی سے نواز دیا گیا۔ |
|
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ ٢٦٩ |
مگر عمومی طور پر سوائے ایسے لوگوں کے جو دانا وبینا ہیں(جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں)دوسرے ازخودنہ یاد رکھتے ہیں نہ نصیحت لیتے ہیں۔(البقرۃ۔۲۶۹) |
|
وَمَآ أَنفَقْتُـم مِّن نَّفَقَةٛ أَوْ نَذَرْتُـم مِّن نَّذْرٛ فَإِنَّ
ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ |
یقین رکھو،اگر تم نے دوسروں کے بھلے کے لیئے علیحدہ کئے میں سے کچھ خرچ کیا ہے یاکسی تمنا کے پوری ہونے پرمانی ہوئی منت کو ادا کر دیا ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔ |
|
وَمَا لِلظَّٟلِمِيـنَ مِنْ أَنصَارٛ ٢٧٠ |
متنبہ رہو؛کوئی بھی جومددگار ہو سکتا ہے ایسے لوگوں کے لئے مدد کی حامی نہیں بھرے گا جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں۔ |
|
إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٟتِ فَنِعِمَّا هِىَ |
اگر تم لوگ تحائف،بے لوث مدد کھلے عام کرتے ہو،تو یہ قابل قدر ، لائق ستائش ہے۔ |
|
وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَـرَآءَ فَهُوَ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ |
مگر اگر تم چھپا کر دو اور ضرورت مندوں کو دو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر نتائج کا حامل ہے۔ |
|
وَيُكَـفِّـرُ عَنكُـم مِّن سَيِّئَاتِكُـمْ |
اوروہ جناب تمہاری لغزشوں/گناہوں میں سے بعض کو تمہارے اعمال نامے سے محو کر تے رہیں گے۔ Root: ك ف ر |
|
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ٢٧١ |
متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔ |
|
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىـٰهُـمْ وَلَـٟكِنَّ ٱللَّهَ يَـهْدِى مَن
يَشَآءُ |
۔۔ان(مدعیان ایمان)کے ہدایت پر رہنے کی ذمہ داری آپ(ﷺ)کے فرائض میں نہیں ہے ۔لیکن اللہ تعالیٰ اس شخص کو(بذریعہ قرءان)ہدایت دیتے رہتے ہیں جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ متمنی ہدایت ہے۔۔ |
|
وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْـرٛ
|
(خرچ کرنے کی عادت ڈالو)مگریاد رہے؛تم لوگ جو بھی بہتر چیز دوسروں پر خرچ کرو گے تو وہ خود تمہارے اپنے بھلے کے لئے ہے۔ |
|
وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ |
اور یہ کہ تم لوگ دوسروں کے لئے خرچ صرف اس مخلصانہ جستجو میں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور شرف قبولیت حاصل ہو ۔ |
|
وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْـرٛ يُوَفَّ إِلَيْكُـمْ |
اور جو کچھ بہتر اشیاء میں سے تم لوگ دوسروں کی خاطر خرچ کرتے ہو وہ تمہاری جانب لوٹا دیا جائے گا۔ |
|
وَأَنتُـمْ لَا تُظْلَمُونَ ٢٧٢ |
اور تم لوگوں کے ساتھ کبھی کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔(البقرۃ۔۲۷۲) |
|
لِلْفُقَـرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ |
صدقات(اپنی مرضی سے بے لوث خرچ)کا بہترین استعمال ان حاجت مندوں کے لئے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کی راہ اجاگر کرنے پر مامور کر دیا گیا ہے۔ Root: ح ص ر |
|
لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَـرْبٙا فِـى ٱلۡأَرْضِ |
یہ لوگ باہر زمین میں کھلے عام نکل کر جستجوئے رزق کا نہ شوق رکھتے ہیں نہ وقت نکال سکتے ہیں۔ |
|
يَحْسَبُـهُـمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ |
جذبات پرست و شناسا ان کو شان بے نیازی سے مگن دیکھتے ہوئےانہیں حاجت سے منزہ سمجھتا ہے۔ |
|
تَعْـرِفُهُـم بِسِيمَٟهُـمْ لَا يَسْئَلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافٙاۗ |
آپ انہیں ان کے ظاہری نشان سے پہچان لیں گے،وہ لوگوں سے بے تکلف انداز میں لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ Root: س و م |
|
وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْـرٛ |
اور جو کچھ بہتر اشیاء میں سے تم لوگ دوسروں کی خاطر خرچ کروگے۔ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيـمٌ ٢٧٣ |
تو ہر لمحہ تمہارے اعمال زیر مشاہدہ ہونے کے سبب یقیناً اللہ تعالیٰ اس کے متعلق مکمل علم رکھتے ہیں۔ |
|
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٟلَـهُـم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّـهَارِ سِرّٙا وَعَلَانِيَةٙ |
مطلع رہو؛وہ لوگ جو اپنے اموال کو دوسروں کی بھلائی کے لئے رات کے دوران،اور دن کے دوران،چھپا کر یا برسرعام خرچ کرتے رہتے ہیں۔ |
|
فَلَـهُـمْ أَجْـرُهُـمْ عِندَ رَبِّـهِـمْ |
نتیجتاً ان لوگوں کا اجر اُن کے لئے منتظر ہے ان کے رب کی جانب سے بطور ایوارڈ۔ |
|
وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ |
اور کسی طرح کا خوف ان پر مسلط نہیں ہوگا۔ |
|
وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٢٧٤ |
اور نہ کبھی انہیں حزن و ملال کا سامنا ہو گا۔ |
|
ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ
إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَٟنُ مِنَ ٱلْمَسِّۚ
|
ان لوگوں کے متعلق جان لو جوضرورت مند
کو دی گئی ادھار رقم پر قسط درقسط اضافے کو کھانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔وہ
اپنے نظرئیے پر ایسے بضد رہتے ہیں جیسے وہ شخص سمجھتا ہے جس کو کوبرا سانپ
نے ڈس کر خابط/مخبوط الحواس بنا دیا ہے۔ Root: س ل ف |
|
يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِـى ٱلصَّدَقَٟتِ |
اللہ تعالیٰ ادھار رقم پر قسط درقسط
لی گئی اضافی رقوم کوپامال شدہ قرار دیتے ہیں،اور بے لوث دئیے گئے تحائف
اور امدادی رقوم کو تہہ بر تہہ ٹیلے کی مانند اٹھان دیتے رہتے ہیں۔ Root: م ح ق |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَٟتِ |
ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ |
|
وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ |
|
|
لَـهُـمْ أَجْـرُهُـمْ عِندَ رَبِّـهِـمْ |
ان لوگوں کا اجر اُن کے لئے منتظر ہے ان کے رب کی جانب سے بطور ایوارڈ۔ |
|
وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ |
اور کسی طرح کا خوف ان پر مسلط نہیں ہوگا۔ |
|
وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٢٧٧ |
اور نہ کبھی انہیں حزن و ملال کا سامنا ہو گا۔ |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو |
|
ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَذَرُوا۟ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓا۟ |
اور اس سے دستبردار ہو جاؤ جوادھار پر دی ہوئی رقم پر قسط در قسط اضافے میں سے باقی واجب الادا ہے۔ |
|
إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَ ٢٧٨ |
ایسا کرو اگر تم واقعتاً ایمان والے ہو۔(البقرۃ۔۲۷۸) |
|
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَـرْبٛ مِّنَ ٱللَّهِ
وَرَسُولِهِۦ |
اس حکم کی تعمیل میں اگر تم نے خود عمل نہیں کیا تو مال کی ضبطگی کا اعلان سن لو جواللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ/یعنی ریاست)کے فرمان کی عدم تعمیل کے بموجب بزور قوت کیا جائے گا ۔ Root: ح ر ب |
|
وَإِنْ تُبْتُـمْ فَلَـكُـمْ رُءُوسُ أَمْوَٟلِـكُـمْ |
لیکن اگر تم اس سے پلٹ جاؤ گے تو تمہارے اموال کی اصل رقم کو لوٹانا تم لوگوں کا حق ہے۔ Root: ر ء س |
|
لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ٢٧٩ |
نہ تم لوگ دوسروں کے ساتھ زیادتی کرو اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی ہو۔(البقرۃ۔۲۷۹) |
|
وَإِن كَانَ ذُو عُسْـرَةٛ فَنَظِرَةٌ إِلَـىٰ مَيْسَـرَةٛ |
|
|
وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ |
لیکن تم لوگوں کااس کو صدقہ،بے لوث تحفہ کی حیثیت دے دینا تم لوگوں کے لئے انجام میں بہت بہتر ہے۔ |
|
إِن كُنتُـمْ تَعْلَمُونَ ٢٨٠ |
ایسا کرو اگر تم لوگ آخر کے معاملات کا علم رکھتے ہو۔ |
|
وَٱتَّقُوا۟ يَوْمٙا تُـرْجَعُونَ فِيهِ إِلَـى ٱللَّهِ |
اور تندہی سے اس دن اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے کوشاں رہو جس میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ |
|
ثُـمَّ تُوَفَّـىٰ كُلُّ نَفْسٛ مَّا كَسَبَتْ |
بعد ازاں ہر ایک ایک شخص کو وہ اداکر دیا جائے گا جو اس نے حیات دنیا میں کمایا تھا۔ |
|
وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٢٨١ |
اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔(البقرۃ۔۲۸۱) |
|
يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ |
And recognize the fact that Allah the Exalted is teaching you people the right way to conduct business-economic activity. And Allah the Exalted has the absolute knowledge of each and everything [visible and infolded] (Cf. 4:176; 24:35; 24:64; 49:16; 64:11) [2:282]
اے وہ
لوگوں جنہوں نے
رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو! Root: م ل ل; س ف ه; س ء م; د ن و Explanation/Analysis |
|
وَإِن كُنتُـمْ عَلَـىٰ سَفَرٛ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبٙا فَرِهَٟنٚ
|
اور اگر تم نے دوران سفربیع کیا ہے مگر تمہیں کاتب/وثیقہ نویس نہیں ملا تو کسی شئے کو بطور رہن قبضے (ملکیت نہیں)میں دینا ہے جو اس زبانی معاہدے کا ثبوت تصور ہو گا۔ Root: ر ھ ن |
|
فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُـم بَعْضٙا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَٟنَتَهُۥ |
اس طرح اگر تم لوگوں میں سے کسی شخص نے کسی دوسرے کو امین بنایا ہے تو اس کو چاہئے جس پر خلوص سے امانت دار ہونے کا اعتماد کیا گیا تھا کہ مطالبہ پر اس شخص کی امانت بعینہ اس کو لوٹا/پہنچا دے۔ |
|
وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ
|
اوراسے(امانت دار) اللہ تعالیٰ،اپنے رب،سے پناہ کا خواستگار رہنا چائیے۔ اوراسے اللہ تعالیٰ،اپنے رب،سے پناہ کا خواستگار رہنا چائیے۔ |
|
وَلَا تَكْتُـمُوا۟
|
علاوہ ازیں؛ تم لوگوں کو چاہئے کہ معلوم شہادت کو نہ چھپاؤ۔ |
|
وَمَن يَكْتُـمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِـمٚ
|
متنبہ رہو؛ اگر جس کسی نے اس(شہادت)کو چھپایا تواس کا قلب مائل جرم و گناہ ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيـمٚ ٢٨٣ |
خبردار؛اللہ تعالیٰ ہر اس عمل کا مکمل علم رکھتے ہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔(البقرۃ۔۲۸۳) |
|
لِّلَّهِ ما فِـى ٱلسَّمَٟوٰتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ |
سب کچھ جوآسمانوں میں موجود ہے اور سب کچھ جو زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے شرف و کبریائی بیان اور ظاہر کرتے ہوئےمصروف کار ہے |
|
وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِـىٓ أَنفُسِكُـمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُـم بِهِ ٱللَّهُۖ |
خیال رہے؛اگر تم اس کو جوتمہارے دلوں میں خواہش و ارادہ ہے اسے ظاہر کردو یا اسے پوشیدہ رکھو،اللہ تعالیٰ اس کے متعلق تمہارا محاسبہ کریں گے۔ |
|
فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن
|
محاسبے کے نتیجے میں جس کے متعلق ایسا فیصلہ کریں گے اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معاف فرما دیں گے،اور جس کے متعلق قابل گرفت ہونے کا فیصلہ کریں اسےبطور سزا عذاب سے دوچار کریں گے |
|
وَٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ٢٨٤ |
اوریقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔(البقرۃ۔۲۸۴) |
|
ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن
رَّبِّهِۦ وَ ٱلْمُؤْمِنُونَۚ |
رسول کریم (محمد ﷺ) ایمان
لائے اُس پرجو اُن پر مجتمع انداز میں نازل فرمایا گیاتھا ان کے رب کی جانب
سے ان کے لئے مختص کردہ رحمت کے بطور(محذوف کے لئے حوالہ القصص۔۴۶اور
۸۶ اور
الدخان۔۶)۔اور وہ اہلِ ایمان — جو پہلے ہی سے توحید کے سچے ماننے والے تھے،
اور سابقہ رسالتوں کے سلسلے کے ساتھ فطری ہم آہنگی رکھتے تھے — انہوں نے
بھی وہ سب کچھ مان لیا جو رسول کریم کے ذریعہ اُن
تک پہنچایا گیا۔
|
|
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ
نَفْسًا إِلَّا
وُسْعَهَا |
جان لو؛اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو سوائے اس قدر جتنا اس کے لئے ممکن ہے پابندی اور عمل کا زیربار/مکلف نہیں کرتے۔ |
|
لَـهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْـهَا مَا
|
جو اُس نے کمایاتھا وہ اُس کے اجر و انعام کے لئے ذخیرہ ہے،اور جوکچھ اس نے دانستہ زیرمقصد غلط راہوں سے کمایا تھا اس کا وبال اس پر پڑے گا۔ |
|
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ
أَخْطَأْنَا |
انہوں نے مزید کہا’’ہمارے رب!آپ جناب ہمیں قابل مؤاخذہ نہ بنائیں اگرہم کسی حکم کی تعمیل کرنا بھول جائیں یا کسی فعل و عمل کو غلط کرنے کے مرتکب ہو جائیں۔ |
|
رَبَّنَا وَلَا تَحْـمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرٙا كَمَا حَـمَلْتَهُۥ عَلَـى
ٱلَّذِينَ مِن
قَبْلِنَا |
ہمارے رب!آپ ہم پربراہ کرم ایسی پابندیوں کا بوجھ نہ ڈالیں جوآپ نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے قبل کے زمان میں مدعیان ایمان تھے۔ |
|
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا
بِهِۦ |
ہمارے رب!اورآپ ہمیں اس کا زیربار نہ فرمائیں جس کے ساتھ چلنے کی ہم بھی بالکل طاقت نہیں ہے۔ |
|
وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَـمْنَآۚ |
اورہماری لغزشوں سے درگزر فرمائیں؛اور ہمارے لئے گناہوں کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرمائیں،اور ہم پر رحم فرماتے رہیں۔ |
|
أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُـرْنَا عَلَـى ٱلْقَوْمِ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٢٨٦ |
آپ ہمارے کارسازاورحامی و ناصر ہیں اس لئے رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے مقابل مدد فرمائیں‘‘۔ |
![]()