-030-سُوۡرَةُ الروم

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


الٓـمٓ ١

  • Alif: The First Letter, not consonant, of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎): it has no speech sound and is not conjoined with the succeeding consonants of a word or with the following word;

  • Laa'm and Mee'm: Two consonants of Arabic alphabet conjoined/stitched together and both have above them ancillary glyph  -prolongation sign called "Madda" which means and extends - stretches the sound value of the consonant to which it is added. The prolongation mark [Madda] reflects that the following joined letter is still causing pause as consonant لـ‎ ends with still ﻡ‎ resulting in natural pause in its pronunciation "Laa'm". Likewise, the consonant ﻡ has the prolongation sign suggesting to pronounce it with stretched sound to make the last still letter ﻡ vivid in sound ending in natural pause "Mee'm-ميم ". Prolongation sign will also appear when the following consonant with vowel is delicate "Hamza, ء" which can distinctly and audibly pronounced only when the preceding letter is pronounced elongated. Arabic language equally cares for the convenience of the speaker and the listener. Please remember that the prolongation sign is not the equivalent to nor it represents a hamza followed by Alif.

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

Recitation     So called myth of letters and consonants

غُلِبَتِ ٱلرُّومُ ٢

  • [Listen the breaking news] Rome has been defeated —  [30:02]

(تازہ خبر سنو)سلطنت روم شکست کھا گئی ہے۔

Root: غ ل ب

فِـىٓ أَدْنَـى ٱلۡأَرْضِ
وَهُـم مِّنۢ بَعْدِ غَلَبِـهِـمْ سَيَغْلِبُونَ ٣

  • This defeat has taken place within the lowest place of the Earth —

  • And know it; they (Romans) will soon be attaining victory after their defeat — [30:03]

     

یہ شکست انہیں زمین کے سطح سمندر سے سب سے نچلے مقام پر ہوئی ہے۔
مگر یہ بھی جان لو،ان کی اس شکست کے بعد وہ جلد ہی فتح حاصل کر کے غالب ہو جائیں گے۔

Root: غ ل ب
 

فِـى بِضْعِ سِنِيـنَۗ
لِلَّهِ ٱلْأَمْرُمِن قَبْلُ وَمِنۢ بَعْدُۚ

وَيَوْمَئِذٛ يَفْرَحُ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٤

  • It will happen in time-frame of few years.
    -- The decisive command for disposal of affair during the period before this defeat and in time-line after it is exclusively the authority for Allah the Exalted --.
    And that day when it (victory) would have happened the believers will rejoice and celebrate - victory of Christians-Rome.
    [30:04]

وہ یہ غلبہ چند ہی سالوں میں حاصل کر لیں گے۔
(یہ پیشین گوئی نہیں مصدقہ خبر ہے کیونکہ)ہر امر/معاملے کے انجام پذیر ہونے کا اذن دینا صرف اللہ تعالیٰ کا استحقاق ہے اس شکست سے قبل کے ادوار میں اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی۔
اور جس دن وہ(رومی)فتحیاب ہو جائیں گے  رسول کریم اور قرءان مجید پرایمان لانے والے مسرت و فرحت کا اظہار کریں گے۔

Root: س ن ه; ف ر ح

بِنَصْرِ ٱللَّهِۚ
يَنصُرُ مَن يَشَآءُۖ

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٥

  • They (Romans) will be victorious with the help of Allah the Exalted —
    He the Exalted helps whomever He wills.
    And the fact remains, He the Exalted is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy.
    [30:05]

اللہ تعالیٰ کی مدد کے الصاق سےیہ فتحیابی انہیں حاصل ہو گی۔
وہ جناب اسے مدد دیتے رہتے ہیں جس کسی کے متعلق نصرت کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
اور یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔

وَعْدَ ٱللَّهِۖ
لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥ

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦

  • Their victory is the promise of Allah the Exalted —
    Allah the Exalted never fails to fulfill His promise —
    But the fact is that most of the people do not know/intend to understand. [30:06]

ان  شکست خوردہ رومیوں کو فتح یاب کرنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔
مگراکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

يَعْلَمُونَ ظَٟهِرٙا مِّنَ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا
وَهُـمْ عَنِ ٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمْ غَٟفِلُونَ ٧

  • They acquire prima facie knowledge relating to apparent phenomena of life of this Lowly World —
    While they are certainly neglectful regards the Hereafter. [30:07]

اللہ تعالیٰ کے بارے یہ کم علم لوگ اس دنیا کی حیات سے متعلق جو معلومات وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی ہیں ان کو جاننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
اور یہ ہی لوگ ہیں جو درحقیقت آخرت سے اپنے آپ کو غافل رکھتے ہیں۔

Root: غ ف ل
 

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِـىٓ أَنفُسِهِـمۗ
مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ
وَأَجَلٛ مُّسَمّٙىۗ
وَإِنَّ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّـهِـمْ لَـكَـٟفِرُونَ ٨

  • Have they not self indulged in deep thinking - reflected objectively about their own selves?
    Had they reflected they would have realized that
    Allah the Exalted has not created the Skies and the Earth and all that which exists between these two but in the manner of conditioning them by infallible governing rules for a determined purpose —And for a duration with a determined-named moment of its expiry.
    However, fact remains that quite a large number of people are certainly the disavowers of accountability by their Sustainer Lord. [30:08]

کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کبھی خود اپنے نفوس کے متعلق تفکر کیا ہی نہیں کہ اپنے موجود ہونے اور اس کے مقصد کو سمجھ سکتے۔
اللہ تعالیٰ نے  آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود کو سوائے متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق  نہیں کیا ہے۔اور ایک  مدت  کے لئے جو اختتام کے حوالے سے اُن جناب کے ہاں طے شدہ ہے۔
مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ انسانوں کی ایک کثیر تعداد  اپنے رب کے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کاانکار کرنے والے ہیں۔

أَوَلَمْ يَسيــرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ
فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۚ
كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةٙ
وَأَثَارُوا۟ ٱلۡأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا
وَجَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِۖ
فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُـمْ
وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ يَظْلِمُونَ ٩

  • Is it that they have not traversed in the world/land [Read also with 12:109;22:46;40:82;47:10] —
    Whereby they may see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who were before them [and take heed/lesson].
    They were mightier in power than them
    —And they ploughed the Earth and brought it under cultivation more than that which they have made it cultivable. [Read with 40:21,82]
    They defied while their Messengers had indeed brought to them evident/ distinct/ unprecedented [miraculous] demonstrative Signs. —
    Thereby, Allah the Exalted never had the design that He might do injustice to them —
    But in fact they kept doing injustice and harm to their own selves. [30:09]

کیا ان انکار کرنے والوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔
جس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ) دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں بسنے والوں کا انجام کیا تھا۔
وہ لوگ اِن سے زیادہ مضبوط،سخت گیر تھے قوت وطاقت کے حوالے سے۔اورانہوں نےزمین کوقابل زراعت  بنایا تھا اور اسے آباد  کیا تھا ان لوگوں کی نسبت بڑھ کر جتنا اسے انہوں نے آباد کیا ہے۔
اور یہ حقیقت ہے کہ ان  کی جانب مبعوث فرمائے گئے ہم جناب کے رسول عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے تھے     جوان کےتصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔
ان پیشگی اقدامات سے ظاہر تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پرزیادتی کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں رکھتے تھے۔
لیکن  وہ حقیقت کو باطل سے بدل کر خود اپنے   نفوس پر زیادتی کرتے اور اپنی شخصیت کوبگاڑتے رہے۔

Root: س ى ر; ع م ر

ثُـمَّ كَانَ عَٟقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٟٓــُٔـوا۟ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ بِـهَا يَسْتَـهْزِ ءُونَ ١٠

  • Afterwards the end result of those who did evil was unpleasantly awesome —
    Since they contradicted the Aa'ya'at of Allah and for those they purposely adopted a non-serious jesting attitude keeping themselves playful with. [30:10]

بعد ازاں ناگوارصورتحال ان لوگوں کا انجام تھا جنہوں نے ناگوار اور قابل مذمت طرز عمل اختیار کیا
کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عینی شہادتوں(آیات/معجزات)کو جھٹلا دیا
جوتصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں؛ اور ان کے بارے مذاق اڑانے کے خواہش مند رہے۔

Root: ء ى ى


ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥ
ثُـمَّ إِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ١١

  • Indeed Allah the Exalted keeps originating the creation; and after pause of time keep causing his relapse—reverting/cyclical to original state.
    Afterwards, you will be presented before Him the Exalted for accountability (on your turn to tell you what you did in worldly life).[30:11]

یقیناً اللہ تعالیٰ تخلیق کا آغاز کرتےہیں؛ بعد ازاں  اس میں تغیر و تبدل اور موت کے عرصہ  بعد مسلسل وہ اسے واپس اپنی اصل حالت میں لوٹا دیتے ہیں۔
بعد ازاں وقت گزرنے پر(اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر)ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

Root: ع و د

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ ١٢

  • Know the Day when the Appointed Moment is manifested, the Criminals will plunge in despair — [30:12]

جان لو کہ جس دن مقرر وقت ظاہر ہو گا، مجرم لوگ مایوسی میں ڈوب جائیں گے۔

Root: س و ع

وَلَمْ يَكُن لَّـهُـم مِّن شُرَكَآئِـهِـمْ شُفَعَـٟٓؤُا۟
وَكَانُوا۟ بِشُـرَكَآئِـهِـمْ كَٟفِرِينَ ١٣

  • And among the intercessors, there will be none from those whom they considered as their gods to defend them. —
    And they would be the deniers of their partners. [30:13]

اور شفاعت کرنے والوں میں  ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہو گا  جو ان کے دفاع کے لئے تیار ہوجنہیں وہ  (مجرمین)اپنے مشترک معبودان تصور کرتے تھے ۔
اور وہ لوگ(مجرمین)اپنے قرار دئیے مشترک معبودان کا خود انکارکرنے والے بن جائیں گے۔

Root: ش ف ع

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٛ يَتَفَرَّقُونَ ١٤

  • And the Day when the Appointed Moment is manifested - the day when upon second blow in the trumpet they would have been revived to life, they will realize they are being separated in different groups — [30:14]

اور جس دن مقرر ساعت وقوع پذیر ہو جائے گی۔ — اُس دن جب دوسری بار صور پھونکنے پر لوگ زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے، وہ دیکھیں گے کہ انہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے

Root: س و ع

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ فَهُـمْ فِـى رَوْضَةٛ يُحْبَـرُونَ ١٥

  • Thereupon as for those who accepted/believed and performed moderate righteous deeds —For that reason they are in a beautiful park, they are delighted. [30:15]

اس طرح علیحدہ  کئے  وہ لوگ جودل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے  تھے۔، وہ کامیاب و کامران  قرار پانے پر ایک خوبصورت باغ میں ہوں گے، وہ خوش و خرم  احساس سے لبریز حالت میں ہوں گے۔

Root: ر و ض

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا وَلِقَآئِ ٱلۡءَاخِـرَةِ
فَأُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ١٦

  • And as for those who refused to accept the Messenger and denounced the verbal passages of the Book of Our Majesty and about confronting the accountability in the Hereafter —
    Thereby, they are the people who will be forced in the affliction. [30:16]

مگر جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جنہوں نے رسول کو ماننے سے انکار کیا اور ہم جناب کے کلام پر مشتمل مندرجات  اور آخرت میں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کو عوام میں جھٹلایا۔
چونکہ انہیں حیات دنیا میں ہی اس جرم کا انجام بتا دیا گیا تھا اس لئے یہ  ہیں وہ لوگ جنہیں عذاب میں دھکیل دیا جائے گا۔

Root: ح ض ر

فَسُبْحَٟنَ ٱللَّهِ حِيـنَ تُـمْسُونَ وَحِيـنَ تُصْبِحُونَ ١٧

  • Thereby, Infinite Glory is for Allah-He is the Absolute/Independent; His pleasure is the focus of all effort when you people enter into evening and when you enter the true dawn — [30:17]

اس لئے  تمام کبریائی اللہ تعالیٰ کے لئے  ہے جو تمام کوششوں کا  محور ہیں ۔ان کی خوشنودی حاصل کرنے کا خیال تم لوگوں کو اس وقت بھی ہے جب شام ہو اور صبح صادق کے وقت بھی۔

Root: س ب ح; م س و

وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
وَعَشِيّٙا وَحِيـنَ تُظْهِرُونَ ١٨

  • Know it; the Infinite Glory and Praise stands specified exclusively for Him the Exalted in the Skies and the Earth —
    And at the time when night gets intensively darkened and when you enter the noon. [30:18]

اور آسمانوں اور کرہ ارض میں  معلوم ہے کہ عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے ابتدائے آفرینش کے جہاں میں ان جناب کے  لئے مختص اور استحقاق قرار دے دیا گیا تھا ۔
 اوران کی خوشنودی حاصل کرنے کا خیال تم لوگوں کو رات کے گہرے اندھیرے اور سکوت میں ہو جانے وقت  پر بھی ہے اور  بعد دوپہر کا وقت  ہو جانے پر بھی (خواب گاہ میں  تنہائی)۔

Root: ع ش ى

يُخْرِجُ ٱلْحَـىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَـىِّ
وَيُحْـىِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَاۚ
وَكَذَٟلِكَ تُخْرَجُونَ ١٩

  • He the Exalted keep bringing out the living entity from the matter-dead.  — And He the Exalted keep removing the matter-death out of the living entity
    And He rejuvenates/revives the Earth after its death —
    And like this you people will be the brought out [from Earth on Day of Resurrection] [30:19]

وہ جناب مادے میں سے متعین کردہ اجزا میں سے حیات کووجود دیتے رہتے ہیں۔اور وہ جناب موقع و مناسبت سے مادہ کو ذی حیات سے خارج کرکے الگ وجود بنا تے رہتےہیں۔
اور وہ جناب  بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات   نو دیتے ہیں۔
متنبہ رہو؛اس انداز میں تم لوگوں کو حیات نو دے کر زمین میں سے خارج کیا جائے گا۔
 


وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَكُـم مِّن تُرَابٛ
ثُـمَّ إِذَآ أَنتُـم بَشَـرٚ تَنتَشِـرُونَ ٢٠

  • Reflect carefully; your creation from selected elements of earthly dust is among the most distinct and remarkable signs of Him, pointing towards His existence and His being your Sustainer Lord—a sign sufficient to grant insight into His lordship.
    Then, when you reach the stage of human maturity and development, you find yourselves actively engaged in continuous toil and effort across the earth.
    [30:20]

غور کرو؛ تم لوگوں کی خاک کے ذرات میں سے منتخب کردہ اجزاء سے تخلیق ان جناب کی نشانیوں میں نمایاں اور منفرد نشانی ہے، جو ان کی ہستی اور ربوبیت کا ادراک دینے کے لیے کافی ہے۔
بعد ازاں جب تم جامہ بشریت میں جوان ہوتے ہو تو زمین میں  ہمہ وقت  محنت میں سرگرداں رہتے ہو۔

Root: ن ش ر

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦ ٓأَنْ خَلَقَ لَـكُـم مِّنْ أَنفُسِكُـمْ أَزْوَٟجٙا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْـهَا
وَجَعَلَ بَيْنَكُـم مَّوَدَّةًۭ وَ رَحْـمَةًۚ 
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَفَكَّرُونَ ٢١

  • In moments of solitude, reflect: the creation of a life partner from your own essence—designed so that you may find comfort and tranquility in them—is among the most delightful signs of His Majesty, sufficient to grant you awareness of His existence and His role as the Merciful Sustainer.
    And that He the Exalted has placed between you (husbands and wives) feelings of affection and compassion, driven by innate biological mechanisms and neuro-chemical processes.
    Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the aforementioned facts for the people who have the habit of reflecting objectively to arrive at the purpose of creation.
    [30:21]

خلوت کے لمحات میں سوچو؛ خود تمہارے وجود سے ہمسر اور قلبی سکون کے ساتھی کی تخلیق، اس مقصد سے کہ تم ان سے سکون اور طمانیت حاصل کرو، ان جناب کی نشانیوں میں ایک انتہائی دلنشین نشانی ہے، جو ان کی ہستی اور مہربان رب کا ادراک دینے کے لیے کافی ہے۔
اور یہ کہ انہوں نے تمہارے مابین (ازواج کے درمیان)انس، محبت اور رحمت کے جذبات مقرر کیے ہیں، جو اندرونی حیاتیاتی محرکات اور جسمانی کیمیائی عمل کے تحت کارفرما ہیں۔
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں جو ازخود تفکر کرنے والوں کے لئے  فلسفہ توحید (معبود مطلق)اور مقصد تخلیق کی جانب رہنمائی  کرنے والی ہیں ۔

Root: و د د;ف ك ر

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
وَٱخْتِلَٟفُ أَ لْسِنَتِكُـمْ وَأَ لْوَٟنِكُـمْۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّلْعَٟلِمِيـنَ ٢٢

  • And the creation of the skies and the earth are prominent among His signs. (Cf. 42:29)
    And so are the mutual variation and interlingual replacement in the languages and in skin colours of you people —
    Indeed, non-volatile evidence nodes, designated especially for active seekers of systemic knowledge, are undeniably embedded within this macro-and-micro ontological architecture. [30:22]

اور آسمانوں  کی تخلیق اور زمین کی تخلیق ان جناب کی نشانیوں میں  نمایاں اور ممتاز  ہے جو ان کی ہستی اور  رب العالمین ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
اور تم لوگوں کی زبانوں  اور لہجوں میں باہمی تنوع اور اختلاف کی موجودگی اور تمہارے رنگوں کا جدا جدا ہونا بھی ایک نہایت  نکتہ افرین حقیقت ہے۔
یقینا ان حقائق میں  غیر متغیر عقدے ودیعت کئے گئے ہیں جو خاص طور  پر علم کے متلاشیوں  کے عقل و فراست کے لئے نکتہ افرین  ہیں۔ (الروم۔ ۲۲)

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦ مَنَامُكُـم بِٱلَّيلِ وَٱلنَّـهَارِ وَٱبْتِغَآؤُكُم مِّن فَضْلِهِۦٓۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَسْمَعُونَ ٢٣

  • And the fact that your sleep overpowers you during the Night and the Day, and your striving to seek out of His grace is among His signs, which manifest your need and dependence on the grace of your Lord.
    Indeed, in the observation of these elements of nature, there are signs that guide towards the philosophy of Tawhid (the Absolute Deity), particularly for those who listen attentively and with focus.
    [30:23]

اورتم  لوگوں کی نیند  کا رات کے پہر اور دن کے دوران غلبہ  پا لینا اور تم لوگوں کا ان کے فضل میں سے حاصل کرنے کی جستجو کرنا؛ان جناب  کی نشانیوں  میں   ایسی نشانی ہے جو  تمہیں اپنے رب کے فضل کا محتاج  اور فقیرظاہر کرتی ہے۔
یقینا ان  عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جوبات توجہ اور انہماک سے سنتے ہیں۔

Root: ن و م

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦ يُرِيكُـمُ ٱلْبَـرْقَ خَوْفٙا وَطَمَعٙا
وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ فَيُحْيِىۦ بِهِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَآ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَعْقِلُونَ ٢٤

  • And that He the Exalted keep showing the Lightening to your eyes causing a state of fear and generating hope of profitability. It is evoker of thought process indicated by His Signs - cognizable phenomena —
    And that He the Exalted sends water from the Sky intermittently. Since water is essential element of life, thereby, He the Exalted rejuvenates/revives the Land with it (water) after her death.
    Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the foretasted existents for people who use faculty of reason and intellectual inquiry. [30:24]

فقط دیکھو نہیں،تعقل کرو؛و ہ جناب تم لوگوں کو   بجلی کا چمکنا اور گرنا دکھاتے رہتے ہیں ،ذہن و قلب میں خوف دلانے اورپرامید احساس  پیدا کرنے کے لئے ہوئے۔یہ  ان جناب کے  مظاہر فطرت  میں ایسی نشانی ہے جو ان کے جلال اوررحمت  کا مظہر ہونے کا تمہیں ادراک دیتی ہے۔
اور وہ جناب وقفے وقفے سے آسمان میں سے پانی برساتے رہتے ہیں۔چونکہ   پانی اوررزق   حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے  اس کے ذریعے انہوں نے بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات   نو دیتے ہیں۔
یقینا ان مظاہر میں  ایسی نشانیاں موجود ہیں  جو  بدیہی حقیقت ، خالق اورمعبود مطلق کی جانب رہنمائی  اور متوجہ کرتی ہیں ایسے لوگوں کو جو دو باتوں کے مابین فرق اور تمیز کرنے کے لئے عقل کو برؤے  کار لاتے ہیں۔

Lightening is a ray of hope of profitability     Root: ط م ع

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرْضُ بِأَمْرِهِۦۚ
ثُـمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةٙ مِّنَ ٱلۡأَرْضِ
إِذَآ أَنتُـمْ تَخْرُجُونَ ٢٥

  • And indeed, it is one of His Signs encouraging reflection that the Sky and the Earth exist and stand firm by the discipline set by His command.
    Afterwards when He the Exalted would have called you people with a singular call [second blowing in the Trumpet] from within the Earth
    —you will suddenly emerge from it. [30:25]

توجہ سے دیکھیں تو؛آسمان اور زمین  کاان جناب  کے طے کردہ نظام کے سہارے  اپنی اپنی جگہ پر تسلسل سے قائم رہنا  ان جناب کی نشانیوں میں سے  ایک  ہے جو تفکر  اور خشیت کی ترغیب دیتی ہیں۔
 بعد ازاں  جب وہ تمہیں زمین سے ایک پکار سے پکاریں گے  [صور پھونکے جانے کا دوسرا موقع] تو تم لوگ اچانک اس سے نکل کر باہر آ جاؤ گے۔

وَلَهُۥ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ
كُلّٚ لَّهُۥ قَٟنِتُونَ ٢٦

  • Take note, whoever exists in the Skies and the Earth are the subjects for Him the Exalted —
    Each one of the objects is in humble attendance exclusively for Him the Exalted [30:26]

جان لو؛جو کوئی ذی حیات آسمانوں اور زمین میں موجود ہے درحقیقت اُس نے اپنے آپ کواُن /اللہ تعالیٰ کیلئے پابند و مکلف/فرمانبردار/خود سپردگی میں دیا ہے،چاہے چاہت و رغبت و کشش کے زیر اثر اورچاہے نظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر۔(محذوف کے لئے دیکھیں ءال عمران۔83)
ہر ایک ایک  ان جناب کے مقام و مرتبہ  کے  لئے عقیدت واحترام سے کھڑے ہونے والے ہیں ۔

Root: ق ن ت

وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥ
وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِۚ
وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَـىٰ  فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ
وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٢٧

  • And He the Exalted is the Only Who keeps originating the creation; and after pause of time keep causing his relapse—reverting/cyclical to original state. —
    And that everyday affair is quiet easy for Him the Exalted.
    And the superb quotation in the Skies and the Earth is exclusively and solely appropriate for Him the Exalted
    —
    And be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [30:27]
     

اپنے مشاہدہ سے ادراک کی کوشش کرو کہ وہ جناب ہی فقط ہیں  جو سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے رہتے ہیں۔بعد ازاں  اس میں تغیر و تبدل اور موت کے عرصہ  بعد مسلسل  اسے واپس اپنی اصل حالت میں لوٹا دیتے ہیں۔
اور یہ روزمرہ کا معمول ان جناب کے لئے آسان تر ہے۔
یاد رکھو؛ بدرجہ اتم اعلیٰ بیان اور حوالہ آسمانوں اور زمین میں فقط ان کے شایان  شان ہے۔
مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

Root: ع و د; ھ و ن


ضَرَبَ لَـكُـم مَّثَلًۭا مِّنْ أَنفُسِكُـمْۖ
هَل لَّـكُـم مِّن مَّا مَلَـكَتْ أَيْمَٟنُكُـم مِّن شُـرَكَآءَ فِـى مَا رَزَقْنَٟكُـمْ فَأَنتُـمْ فِيهِ سَوَآءٌۭ تَخَافُونَـهُـمْ كَخِيفَتِكُـمْ أَنفُسَكُـمْۚ
كَذَٟلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٟتِ لِقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ
٢٨

  • He the Exalted has struck for you people an example of a contrast relating to your selves.
    Reflect; Is it possible for you to grant sharing in that affluence which Our Majesty has granted to you people to a single one in them who are under control of your right hand-
    domestic servants-serfs —To the extent whereby you all are in equivalence relation therein, fearing them like your fear from own selves (feudal lords)?
    This is how Our Majesty distinctly elaborate the Aa'ya'at-Verbal Passages presenting facts and concepts, for the people who perceive by critical thinking-reasoning. [30:28]

وہ جناب تمہارے سوچنے کے لئے خود تم لوگوں کے طرز عمل کی عکاس ایک مثال سے نمایاں کرتے ہیں۔
تصدیق یا نفی کرو؛شرکاء میں کوئی ایک بھی  جن کا موجودہ حال یہ ہے کہ تمہاری سرپرستی میں خدمت پر مامور ہیں اس بارے تم لوگوں کے لئے  کیاممکن ہے کہ اسے اس رزق میں شریک کر لو جو ہم جناب نے تمہیں عنایت کیا ہے۔اس طرح جس کے نتیجے میں تم سب  اس (رزق) میں مساوی حیثیت کے حامل بن جاؤ، ان سے  ڈرتے رہتے ہوئے  جیسےاس طرح کا تمہارا خوف  جو  خودتم(سرداران)ایک دوسرے کا رکھتے ہو۔
اس طرح کے انداز بیان سے ہم جناب آیات کو جدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف فرماتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد  ان لوگوں کے سمجھنے کے لئے آسان فہم بنانا ہے  جن کا وصف یہ ہے کہ عقل استعمال کرتے ہیں ۔

Root: ف ص ل

بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُـم بِغَيْـرِ عِلْمٍۖ فَمَن يَـهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَ مَا لَـهُـم مِّن نَّٟصِرِينَ٢٩

  • Nay, their wandering is not for reason of some ambiguity, on the contrary, those who have committed injustice deliberately followed their own impulses and myths, devoid of substantive knowledge [Guidance/the Book from Allah].
    Since it is emotive for worldly consideration, then who will guide such a person whom Allah the Exalted has judicially left neglectfully wandering? (Cf. 4:88)
    And none at all of the helpers will come forward for them. (Cf. 3:22; 3:56; 3:91; 16:37) [30:29]

ہرگز نہیں، ان کی گمراہی کسی شعوری الجھن کی وجہ سے نہیں  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنہوں نے ظلم اور ناانصافی کی، وہ اپنی خود غرض خواہشات اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کی پیروی کرتے رہے، بغیر  شعوری علم [اللہ کی رہنمائی یا کتاب]کے۔
چونکہ  یہ دانستہ مفادات کے زیر اثر رویہ ہے اس لئے کون ہے وہ جو اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے  اللہ تعالیٰ نے گمراہ
 رہنے دیا ہو ؟
اور مددگاروں میں سے کوئی ایک بھی ان کی مدد کرنے کا  ہرگزخواہشمند نہیں ہو گا۔

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٙاۚ
 
فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِـى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْـهَاۚ

لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِۚ
ذَٟلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّـمُ

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٣٠

  • Therefore, overlooking the tactics of non-believing elite, O the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] — remain steadfast, with your face and focus oriented toward the Divine System in pure sincerity, unswerving and upright. (Cf. 2:132; 3:102; 10:105; 30:43)—
    O mankind, know this is the Fiṭrah of Allah — the primordial principle of expression and origination — upon which He brought humanity forth from non-existence into being (Cf. 3:19; 3:85; 51:56) Within it lies the secret of your elevation: that man should consciously attune his being to the very mode through which he was created — the law of harmony between will and purpose, mirroring the Divine desire for self-expression.
    There can be no substitution in the primordial principle of expression and origination promulgated as Code for the created realm of Allah the Exalted.
    Yet most among mankind remain unaware — they neither reflect upon it nor perceive its binding reality (Cf. 7:187; 12:21; 12:40; 12:68; 16:38; 30:06; 34:28; 34:36; 40:57; 45:26). (30:30)

چونکہ  عمائدین  جوابی   مخالفت کر رہے ہیں اس لئے آپ اپنی  توجہ اور انہماک کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ دستور اور طرز حیات کے لئے مرکوز اور کوشاں رکھیں۔ہمیشہ التزام و دوام سے فلسفہ توحید پر کاربند مسلم۔
لوگو! جان لو  کہ یہی ہے فطرتُ اللہ —کائنات کے نظام میں ان کے اظہار اور  آفرینش کاازلی اصولِ دیکھو — وہی اصولِ آفرینش جس پر اُن جناب نے انسان کو عدم سے وجود بخشا۔ اسی پر ثابت قدم رہنا تمہاری بلندی، تمہارا استعلاء ہے۔
قطعاً  ایسا امکان  نہیں ہے 
  کہ اصول افرینش، م
تعین کردہ ضابطہ کار،آئین  کا متبادل   کوئی اور نظام    اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ مادہ و حیات  کے لئےبن سکے  ۔

یہ
حیات و کائنات کیلئے  ہمیشہ قائم رہنے والاوضع اورمقررکردہ دستور اورنظام ہے۔
مگراکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔(الروم۔٣٠)

Root: ح ن ف; ف ط ر; خ ل ق;  ب د ل

مُنِيبِيـنَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ
وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ
وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ ٣١

  • — Remaining as returnees towards Him the Exalted, and you people sincerely endeavour to attain salvation from Him the Exalted.
    Moreover, you people maintain Institution of As-
    sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance —
    And you people should not be in affiliation with the Polytheists (those who ascribe sculpted idols [with fake feminine names as associates of Allah); [30:31]

    ہمیشہ التزام و دوام سے فلسفہ توحید پر کاربند مسلم ان جناب کی جانب رہنمائی  کے لئے رجوع کرتے رہتے ہیں ۔اس لئے تم لوگ  تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان جناب سے پناہ کے خواستگار رہو۔
    اور استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے تم لوگ صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے رہو۔
    اور تم لوگوں کو مشرکوں کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھنی چاہئے (وہ لوگ جو تراشیدہ بتوں کو اللہ کے ساتھ جھوٹے نسوانی ناموں کے ذریعے شریک گردانتے ہیں)

Root: ن و ب

مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَـهُـمْ وَكَانُوا۟ شِيَعٙاۖ
كُلُّ حِزْبِۭ بِمَا لَدَيْـهِـمْ فَرِحُونَ ٣٢

  • And you people should neither become like those who fragmented their Code of Life while they had disintegrated as few identities-groups-sects —
    Each group is rejoicing with that which they have with them. [30:32]

اور تم لوگوں کو ان لوگوں کی طرح بھی نہیں بننا چاہئے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا جبکہ وہ خود چند شناختوں، گروہوں، اور فرقوں میں بٹ گئے تھے—
تمام جماعتیں فرحت اور گھمنڈ میں مبتلا ہیں اس کے ساتھ جو عقائد و فلسفہ ان میں مشہور کر دیا گیا ہے۔

Root: ش ى ع;  ف ر ق؛ ف ر ح; ح ز ب


وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٚ دَعَوْا۟ رَبَّـهُـم مُّنِيبِيـنَ إِلَيْهِ
ثُـمَّ إِذَآ أَذَاقَهُـم مِّنْهُ رَحْـمَةٙ
إِذَا فَرِيقٚ مِّنْـهُـم بِرَبِّـهِـمْ يُشْـرِكُونَ ٣٣

  • And when infliction touches the people they called their Sustainer Lord as returnees towards Him.
    Thereafter when He the Exalted caused them to enjoy mercy from Him
    —
    At that point in time a group from them starts assigning partners/associates with their Sustainer Lord; [30:33]

عمومی روئیے کو جان لو؛جب  لوگوں کو تکلیف دہ اور ناگوار صورتحال کا سامنا ہو جاتا ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں،اس حال میں کہ ان کی جانب شناسائی سے پلٹتے ہیں۔
بعد ازاں ان کی گریہ زاری پر جب ان جناب نے  اپنی جانب سےآسودگی کا مزہ انہیں میسر کر دیا:
ایسا ہو جانے پر ان  لوگوں میں احسان فراموش فریق اپنے رب
  کے متعلق فلسفہ اشتراک کے پیروکار بن  جاتے ہیں۔

Root: ن و ب; ذ و ق

لِيَكْـفُـرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْۚ
فَتَمَتَّعُوا۟
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ٣٤

  • So that they might ungratefully conceal that which Our Majesty has granted them.
    If so, then you people avail it enjoyably
    —Its consequence you will soon know. [30:34]

اس  طرح ہم جناب نے جو انہیں عنایت کیا ہے اس کی ناشکری کے مرتکب ہوتے ہیں۔
چونکہ یہ عنایات  فقط اظہار ربوبیت ہے اس لئے تم لوگ اسباب زیست سے لطف اندوز ہوتے رہو(ایک قلیل مدت کے لئے)۔
چونکہ نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہے اس لئے  تم لوگ عنقریب جان لو گے  کہ  وہ کون ہے  جس کے لئے آخرت کے گھر  کو اس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْـهِـمْ سُلْطَٟنٙا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا۟ بِهِۦ يُشْـرِكُونَ ٣٥

  • Or have Our Majesty sent to them a person with authority —Whereupon he personally speaks about that with which they have been associating? [30:35]

یاکیا ہم نے ان کی طرف کوئی ایسا اختیار یافتہ شخص بھیجا ہے جو ان کے بتائے ہوئے شریکوں کی تصدیق میں ان سے بات کرتا ہو؟

Root: س ل ط

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْـمَةٙ فَرِحُوا۟ بِـهَاۖ
وَإِن تُصِبْـهُـمْ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيـهِـمْ إِذَا هُـمْ يَقْنَطُونَ ٣٦

  • Notice general behavioural tendencies; when Our Majesty make people taste mercy—affluence and pleasantness they rejoice it boisterously (Cf. 10:21; 11:10; 30:33)—
    And when infliction—adversity reaches them for reason—as result of what they had sent forward/done, at that point in time they are despaired. (Cf. 4:78; 7:131; 11:09; 17:83; 42:48) [30:36]

دیکھو لوگوں کے عمومی رویوں کو؛ ہم جناب جب  لوگوں کو فضل و کرم سے  خوشحالی سے لطف اندوز  ہونے کا موقع فراہم  کرتے ہیں تو   اس کا ساتھ ہونے سےلطف و سرور سے نہال فخریہ اظہار کرتے ہیں —
اور جب ان پر تکلیف یا مصیبت آتی ہے جس کا سبب وہ خود اپنے اعمال سے دیتے ہیں تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔

Root: ذ و ق;  ف ر ح; ق ن ط;ق د م  Explanation/Analysis

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٣٧

  • Is such emotional extremity the result of their not having recognized that Allah the Exalted expansively grants sustenance to whom He wills and restricts it in due measure for whom He wills? (Cf. 2:245; 13:26; 17:30; 28:82; 29:62; 34:36; 34:39; 39:52; 42:12; 42:27) —
    Indeed in it are explicit manifestations reflective for people who wish to perceive/recognize the Divine Providence and Will. [in the magnanimity of Creator, their Sustainer Lord]. (Cf. 16:79; 27:86; 29:24; 30:37; 39:52=5) [30:37]

کیا ان کی نفسیات کا سبب  یہ ہے کہ انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے بندوں میں سے اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔
یقینا ان   بیان کردہ حقائق میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔

Root: ب س ط    Explanation/Analysis

فَـَٔاتِ ذَا ٱلْقُـرْبَـىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِيـنَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِۚ
ذَٟلِكَ خَيْـرٚ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِۖ

وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٣٨

  • Since people keep asking you the Messenger about financial assistance, do tell him; "You give financial aid to the near relative as his right, and to the destitute, and to the wayfarer (Cf. 2:177; 2:215; 4:36; 8:41; 9:60; 17:26; 30:38; 59:07=8)—
    This is a better course of action for those who seek the Countenance of Allah the Exalted.
    Know it, they are the people who are truly the endeavourers for perpetual success-fruitfulness". (Cf. 2:05; 3:104; 7:08; 7:157; 9:88; 23:102; 24:51; 30:38; 31:05; 59:09; 64:16=11) [30:38]

چونکہ آپ(ﷺ)سے لوگ انفاق کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں اس لئے آپ بتائیں"تم اپنے  ارحام کے تعلق سے قریب کو اپنے مال میں اس کا حق سمجھ کر دو؛ اور نادار حاجت مند اور مسافر کو دو۔
یہ  بے لوث انفاق  بہترین  خیر کا باعث ہو گا  ایسے لوگوں کے لئے  جو دوسروں کے لئے خرچ  اس  مخلصانہ جستجو میں کرتے  ہیں کہ  اللہ تعالیٰ کی توجہ اور شرف قبولیت حاصل ہو ۔
اور یہی ہیں وہ لوگ جودرحقیقت دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں ہیں"۔

Root: ف ل ح  Explanation/Analysis

وَمَآ ءَاتَيْتُـم مِّن رِّبٙا لِّيَـرْبُوَا۟ فِـىٓ أَمْوَٟلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِۖ
وَمَآ ءَاتَيْتُـم مِّن ٱلزَّكَوٰةٛ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ

فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُضْعِفُونَ ٣٩

  • Take note: that which you (lenders) lend to third party out of accumulated capital held in your custody—on the condition that it return with incremental increase, motivated by the aim that it should grow through compounding within the wealth of various people entrusted to you —then, although it yields gain from your perspective, it does not grow in worth in the evaluation of Allah the Exalted.
    On the contrary, what you have given to fulfil your financial responsibility for the management and economic uplift of the society (Zaka'at) while solely seeking the appreciation and approval of Allah the Exalted — it keeps on increasing in Allah's perspective.
    Thereby, such are truly the people who are multiplying their capital manifold in the consideration of Allah the Exalted. [30:39]

متنبہ رہو:
وہ مال جو تم لوگوں نے اس مجموعی سرمائے میں سے دیا ہے جو تمہارے پاس جمع ہے،
اس شرط پر کہ اسے بتدریج بڑھوتری
(incremental increase) کے ساتھ تمہیں واپس کیا جائے،
اور اس نیت و تحریک کے تحت کہ و ہ  لوگوں کے اموال کے دائرے میں مسلسل نمو پائے—
تو جان لو کہ اگرچہ اس میں تمہیں ظاہری اور مرئی اضافہ دکھائی دیتا ہے،
مگرحقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معیارِ قدر میں وہ مال بڑھتا نہیں۔
اور اس کے برعکس:
وہ مال جو تم لوگ اس حال میں دیتے ہو کہ
تم معاشرتی نظم، اقتصادی توازن اور اجتماعی اٹھان کے تقاضے پورے کر رہے ہوتے ہو،
اور تمہارا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا، توجہ اور شرفِ قبولیت کی مخلصانہ جستجو ہو—
تو وہی ہیں جن کے اموال اللہ کے نزدیک قدر و قیمت میں بڑھتے رہتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو درحقیقت  اپنے اموال کی حقیقی قدر بڑھانے والے ہیں۔(الروم۔٣٩)

Root: ر ب و ; ز ك و  The Compound Interest on lent money


ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُـمْ ثُـمَّ رَزَقَكُـمْ ثُـمَّ يُمِيتُكُـمْ ثُـمَّ يُحْيِيكُـمْۖ 
هَلْ مِن شُرَكَآئِكُـم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٟلِـكُـم مِّن شَـىْءٛۚ
سُبْحَٟنَهُۥ وَتَعَٟلَـىٰ عَمَّا يُشْـرِكُونَ  ٤٠

  • Allah the Exalted is Who created you people —Afterwards He the Exalted provided you sustenance —After lapse of a determined time-span He the Exalted will cause you people to die —Afterwards, [lapse of time and second blow in the Trumpet] He the Exalted will revive you all to life.
    Is there any one from your partners who innovatively does any one of these things?
    Glory is for Him the Exalted, His pleasure is the focus of all effort; and He is Exalted above all what they conjecturally associate with Him.
    [30:40]

اللہ تعالیٰ وہ ہیں جنہوں نے تمہیں تخلیق کیا۔بعد ازاں تم لوگوں کورزق دیا۔بعد ازاں اپنی مدت حیات مکمل ہونے پر وہ تمہیں موت دیں گے۔بعد ازاں  وہ تمہیں حیات نو دیں گے۔
سوچ کر ہاں نہ میں جواب دو ؛وہ کون ہے ان میں جو تمہارے قرار پائے  اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں  جو ان میں کسی بھی قسم کی کاروائی کا فعل کر سکتے ہیں۔
خبردار؛ وہ جناب تمام  عظمت وکبریائی  اور جد و جہد کا محور ہیں۔اور وہ  جناب مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام سے  جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔

Root: ع ل و

ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِـى ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ
لِيُذِيقَهُـم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟
لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٤١

  • The imbalance, distortion, pollution, dilapidation, and disturbance has surfaced across Land and the Water Reservoirs owing to affect of what people's hands have earned —
    Allah the Exalted has let it happen so that He may make them taste effect of a portion of what they have done (rest overlooked). (Cf. 6:65; 35:45)
    The objective was that they might revert to divinely prescribed code of conduct. (Cf. 7:168; 7:174; 32:21; 43:28; 43:48; 46:27) [30:41]

زمین اور پانی کے ذخائر میں بگاڑ، خرابی، آلودگی اور انتشار ظاہر ہو گیا ہے، اس وجہ سے جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا/جمع کیا ہے — 
ان جناب نے ایسا ہونے دیا تاکہ  وہ  انہیں ان کے اعمال کے کچھ نتائج چکھائے —
اور دوسرا مدعا یہ ہے  کہ  ممکن ہےلوگ شعوری طور پر  ا
ن کے مقرر کردہ ضابطۂ حیات کی طرف لوٹ آئیں۔

Explanation/Analysis

قُلْ سِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُۚ
كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّشْـرِكِيـنَ ٤٢

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You people traverse in the land —since some of those former settlements are still standing and some have been reduced to ruin, and once you find them (Cf. 11:100), observe what was the final end of those who lived in the past (Cf. 3:137; 6:11; 12:109; 16:36; 22:46; 27:69; 29:20; 30:09; 30:42; 35:44; 40:21; 40:82; 47:10=13) —
    Most of them were those who accepted not human Messenger and worshipped sculpted idols ascribing them as partners of Allah the Exalted." [30:42]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں " جگ بیتی سے عبرت لینے کے لئے تم لوگ زمین میں گھومو پھرو۔ایسا کرو تو موجود  کھنڈرات اور اثار قدیمہ کو دیکھ کر سوچو کہ ان لوگوں کا آخر انجام کیا ہوا تھا جنہیں زمانہ قبل میں عروج ملا تھا۔
ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو نیست و نابود ہونے کے لمحے تک اشتراک معبودان کے فلسفے پر کاربند تھے"۔

Root: س ى ر  Explanation/Analysis

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقِيِّـمِ
مِن قَبْلِ أَن يَأْتِـىَ يَوْمٚ لَّا مَـرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۖ
يَوْمَئِذٛ يَصَّدَّعُونَ ٤٣

  • Thereupon, having perceived this inevitable outcome, remain steadfast — turning your face and orientation exclusively toward the Upright Divine System —Islam (Cf. 2:132; 3:102; 10:105; 30:30) —
    before there comes the Day, decreed by Allah the Exalted, for which there shall be no reversal at all. (Cf. 42:47)
    The Day they would have been gathered as as one destined company, they will be self-sundered — each torn apart from within and estranged from the other." [30:43]

چنانچہ، جب تم اس ناگزیر ہولناک  انجام کو سمجھ چکے ہو، تو ثابت قدم رہو — اپنا چہرہ اور اپنی تمام توجہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے حیات و کائنات کیلئے  قائم و دائم مقررکردہ دستور اورنظام  یعنی اسلام کی طرف رکھو (ملاحظہ ہو:(Cf. 2:132; 3:102; 10:105; 30:30)) —
اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جو اللہ رب العزت کے حکم سے مقرر ہو چکا ہے، ایسا دن جس کے فیصلے کو کوئی بھی پلٹا نہیں سکے گا۔ (ملاحظہ ہو:
Cf. 42:47)
جس دن وہ سب ایک ہی مقدر انجام کے حامل گروہ کی صورت میں اکٹھے کیے جائیں گے، اُس دن وہ خود اپنے اندر سے ٹوٹ جائیں گے — ہر ایک اندرونی طور پر بکھر جائے گا اور ایک دوسرے سے بیگانہ ہو جائے گا۔(الروم۔
٤٣)

Root: ص د ع

مَن كَفَـرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥۖ
وَمَنْ عَمِلَ صَٟلِحٙا فَلِأَنفُسِهِـمْ يَمْهَدُونَ ٤٤

  • [You the Messenger having explicitly informed everyone, in response] Whoever has refused to accept then/for reason [Messenger's duty is only to convey] upon him is the responsibility/effect of his denial.
    And whoever conducted perfectly, resultantly such people are certainly smoothening and softening for their selves
    — [30:44]

[اے رسول!آپ نے ہر ایک پر وضاحت کردی، اس کے بعد] جس نے انکار کیا تو  اس کے انکار کا اثر/ذمہ داری اس پر ہے۔
 اور جس نے نیک عمل کیا، نتیجتاً ایسے لوگ یقیناً اپنے لیے آسانی اور نرمی پیدا کر رہے ہیں۔

Root: م ھ د

لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ مِن فَضْلِهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٤٥

  • So that He the Exalted may reward from His Bounty those who accepted/believed and performed moderate righteous deeds.
    Indeed He the Exalted certainly not appreciates and approves for nearness and liking those who persistently refuse to accept the revealed Word.  [30:45]

یہ ازسر نو حیات دینا اس مقصد سے ہے کہ وہ جناب ان لوگوں کو جو رسول کریم اور کتاب اللہ پر صدق قلب سے ایمان لائے اور ان اعمال پر کاربند رہے جنہیں صالح قرار دیا گیا تھابہترین ایوارڈ  سے نوازیں  اپنے فضل و کرم سے۔
یہ حقیقت ہے کہ  اللہ تعالیٰ رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں سے   یقیناًتعلق خاطر نہیں رکھتے۔

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلـرِّيَٟحَ مُبَشِّـرَٟتٛ
وَلِيُذِيقَكُـم مِّن رَّحْـمَتِهِۦ
وَلِتَجْـرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ
وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ
وَلَعَلَّـكُـمْ تَشْكُـرُونَ ٤٦

  • Take note, that He the Exalted might send the Winds as forerunner of glad news is evoker of thought process indicated by His Signs - cognizable phenomena.
    And the objective is that He the Exalted might let you taste-enjoy partly from the Grants and Graces of Him the Exalted
    —
    And so that the Ships might sail/move in the water reservoir by by the discipline set by Him the Exalted —
    And so that you people might endeavour seeking share from His bounty.
    And another objective is that you people might express gratitude.
    [30:46]

لطافت کو محسوس کرو تو؛ہواؤں کا پر مسرت اطلاع دینے کے انداز میں تم تک پہنچانا ان جناب کی نشانیوں میں سے ہے  جو ان کی  رحمت کے ظہور کی آمد آمد کا پتہ دیتی ہیں۔
اور تم لوگوں کوخوشگوار ہواؤں سےان کی رحمت کا پرمسرت احساس  دلائیں۔
 اور ہواؤں کا چلانا اس مقصد سے بھی ہے کہ ان کے حکم کے تابع کشتیاں ذخائر آب میں   رواں دواں رہیں۔
اور تم لوگ خوشگوار موسم میں ان کے فضل میں سے حاصل کرنے کی تگ و دو کرو۔
اور ممکن ہے کہ تم لوگ شکر ادا کرنے والے بن جاؤ(کیونکہ ابلیس کا خیال ہے کہ تم کم ہی شکر گزار بنو گے)۔

Root: ر و ح; ذ و ق; ف ل ك

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَـىٰ قَوْمِهِـمْ
فَجَآءُوهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ
فَٱنتَقَمْنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ۖ
وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ ٱلْمُؤْمِنيـنَ ٤٧

  • Know the history of earlier timeline; indeed Our Majesty had certainly sent Messengers before you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to their respective nations to assure-guarantee glad tidings and and to caution-awaken them—
    Thereby they had brought to them evident/distinct/unprecedented [miraculous] demonstrative Signs.
    For reason [of persistent contradiction] Our Majesty awarded punishment to those who committed crimes
    —
    And this has been an obligation/incumbent upon Our Majesty that We help deliver/rescue the believers.[30:47]

تاریخ سے مطلع ہوں؛یہ حقیقت ہےہم جناب نے آپ(ﷺ)سے قبل کے ادوار میں رسولوں کوبشیر اور نذیر قرار دے کر انہیں ان کی قوم کی جانب بھیجا تھا۔
فرائض رسالت سونپے جانے پروہ ان (قوم)کے پاس     عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے تھے     جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔۔
چونکہ ہر طرح سے خبردار کئے جانے کے باوجود نافرمانی کی سرشت چھوڑنے پر مائل نہ ہوئے تو ہم  جناب نے ان میں سے جرم کرنے والوں کومستوجب سزا پا کر سزا دے دی
اور دل کی شاد سے ایمان لانے والوں کی مدد کرنا ہم جناب پر ہمارے اپنے وعدہ کے مطابق ان کا استحقاق تھا۔(اس لئے ہم نے انہیں رسول اللہ کی معیت میں بچا لیا)


ٱللَّهُ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلـرِّيَٟحَ فَتُثِيـرُ سَحَابٙا
فَيَبْسُطُهُۥ فِـى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ
وَيَجْعَلُهُۥ كِسَفٙا
فَـتَـرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَٟلِهِۦۖ
فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِـرُونَ ٤٨

  • Allah the Exalted is the One Who keep sending the winds [in state of uplifting aerosols-condensation nuclei resembling semen of stallion] Thereby, having reached the destination, she (Winds) causing erethism, excitement charging the atmosphere raise-originate a cloud —
    Thereat, He the Exalted spreads-expands-extends it out or forth within the Sky in state He the Exalted so wills—
    And He the Exalted renders it-formed Cloud as fragmented-layered aggregate.
    Thereupon, you see the rain-drops discharging from spaces midst it.
    Therefore, when He the Exalted at will favoured some of His subjects-human beings, they become self joyous.
    [30:48]

اللہ تعالیٰ وہ ذات ہیں جو ہواؤں کو بھیجتے ہیں، (جو ہوائی ذرات یا "ایروسولز" کو لے کر چلتی ہیں، جس طرح گھوڑے کے نطفے کی مانند وہ ماحول میں تحریک اور جوش پیدا کرتی ہیں)۔ پھر، وہ ہوائیں ایک بادل اٹھاتی ہیں۔  
 اس کے بعد، وہ بادل کو آسمان میں جہاں وہ چاہتے ہیں، پھیلا دیتے ہیں۔
پھر وہ بادل کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں،
چونکہ ہواؤں کو اسے سہارنا بھاری ہو گیا تو بارش کے قطروں کو اس کے درمیان جگہوں سے  آپ خارج ہوتے دیکھتے ہیں۔
جب وہ اپنی مشیّت کے مطابق  اپنے کچھ بندوں کو اس سے نوازتے ہیں، تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔

Root: ر و ح; س ح ب; ب س ط ;ك س ف ;خ ل ل; و د ق                Cloud Physics

وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْـهِـم مِّن قَبْلِهِۦ لَمُبْلِسِيـنَ ٤٩

  • And that they were earlier certainly disappointed - despaired before that (water) was sent upon them. [30:49]

اور بے شک وہ اس سے پہلے یقیناً مایوس ہو چکے تھے، اس سے پہلے کہ ان پر وہ (پانی) نازل کیا جاتا۔

فَٱنظُرْ إِلَـىٰ ءَاثَـٟرِ رَحْـمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْـىِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَآۚ
إِنَّ ذَٟلِكَ لَمُحْـىِ ٱلْمَوْتَـىٰۖ

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٥٠

  • [these are demonstrative/cognizable/recognition signs] Therefore, you look upon the tangible effect of the Mercy of Allah that: How He the Exalted rejuvenates/revives the Earth after her death.
    It is certain that like this He the Exalted will undoubtedly revive life to the dead.
    Remain cognizant, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm. And He has eternally the power over each and every thing to set them right/fix them in measure. [30:50]

[یہ سب نشانیاں ہیں جو مشاہدے کے قابل ہیں] پس تم اللہ کی رحمت کے اثرات پر غور کرو: وہ کس طرح زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتے ہیں۔ 
یہ یقیناً اسی طرح ہے کہ وہ مُردوں کو بھی زندگی دیں گے۔
خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں

Root: ء ث ر

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحٙا فَرَأَوْهُ مُصْفَرّٙا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْـفُـرُونَ ٥١

  • And if Our Majesty had sent a wind whereupon they watched it/their crops turning yellow they would have certainly after it shadowed expressing ingratitude. [30:51]

اور اگر ہم ایک ہوا بھیجتے، اور وہ دیکھتے کہ ان کی فصلیں زرد ہو گئی ہیں، تو وہ اس کے بعد ضرور ناشکری کا اظہار کرتے ہوئے مایوس ہو جاتے۔

Root: ر و ح; ك ف ر;  ظ ل ل; ص ف ر

فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَـىٰ
وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٥٢

  • Thereby, It is true that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] cannot make the dead listen you.
    And neither you can make the deaf men listen/comprehend the call/word the moment they reflexively about-faced on their backs. [30:52]

    یہ حقیقت ہے کہ آپ (ﷺ)مردہ شخص کی سماعت تک پیغام نہیں پہنچا سکیں گے۔
    اوراے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ  آپ  (ﷺ کانوں سے  بہرے  کو اپنی بات  نہیں سنوا سکتے  جب آپ سے پیٹھ پھیر کر  وہ  چل دیں۔

Root: ص م م

وَمَآ أَنتَ بِـهَٟدِٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٟلَتِـهِـمْۖ
إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٟتِنَا فَهُـم مُّسْلِمُونَ ٥٣

  • And nor you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] can act as the Guide for the blind hearted man to take them out of their wilful negligence, indifference (subdued by passion, conjecture and worldly lusts).
    You the Messenger can explain only to those who believe in the manifestations of Our Majesty prevalent every where in the Universe by which they feel awe and surrender submissively before Him the Exalted.
    [30:53]

اور یہ بھی  حقیقت ہے کہ آپ ـ (ﷺ)قلب کے اندھوں کے لئے   ان کی  دانستہ اختیار کردہ  انحراف،گمراہی اور بے راہروی سے نکالنے کے لئےرہبرنہیں ہو سکتے۔(تقریباً ایک جیسے النمل۔81)
آپ(ﷺ)تو فقط ان کو سمجھا سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جانب موجود  ہمارےمظاہر فطرت کو مانتے ہیں جن سے مرعوب ہو کر وہ خالق کائنات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے بن جاتے ہیں۔

Root: ع م ى


ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُـم مِّن ضَعْفٛ
ثُـمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٛ قُوَّةٙ
ثُـمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍۢ ضَعْفًۭا وَ شَيْبَةًۭۚ 
يَخْلُقُ مَا يَشَآءُۖ
وَهُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْقَدِيرُ ٥٤

  • Allah the Exalted is the One Who created you people in initial state being of feebleness/lacking mental and physical strength [physically as well as metaphorically because of "you did not know about anything"] —
    Thereafter, with the passage of time He the Exalted rendered you strengthened [physically as well as metaphorically for having given faculty of gaining knowledge about things] after the state of feebleness —
    Afterwards/lapse of time He the Exalted rendered you weak after strength, and reflecting stage of life agedly.
    He the Exalted creates whatever He desires/wills
    —
    Know it that He the Exalted is eternally the Fountain of knowledge-Setter of sciences, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm. [30:54]

اللہ تعالیٰ ہی ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو ابتدائی حالت میں کمزور اور ناتواں پیدا کیا [جسمانی اور فکری طور پر، کیونکہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے]—
پھر وقت کے ساتھ ساتھ، انہوں نے تمہیں کمزوری کے بعد مضبوط بنایا [جسمانی طور پر اور علمی طور پر چیزوں کے بارے میں علم دینے کے ذریعے]—
 اس کے بعد، قوت کے بعد، انہوں نے تمہیں دوبارہ کمزور اور ضعیفی کی حالت میں پہنچا دیا۔  
وہ جو چاہیں تخلیق کرتے ہیں—
جان لو کہ وہ علم کا سرچشمہ ہیں؛  اور ہر علم کا تعین کرنے والےہیں۔، وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں ۔

Root: خ ل ق; ش ى ب

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْـرَ سَاعَةٛۚ
كَذَٟلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ ٥٥

  • And the Day when the Appointed Moment is manifested they will be divided amongst themselves on the point that they did not remain [in dead state] other than an hour —
    This is how they were kept deluded/diverted [with baseless conjectural assertions]. [30:55]

اور جس دن مقررہ گھڑی ظاہر ہوگی، وہ آپس میں تقسیم ہوں گے اس نکتہ پر کہ وہ [مردہ حالت میں] ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔
 یہ اس طرح ہے کہ وہ [بے بنیاد قیاسی دعووں کے ذریعے] گمراہ اور بھٹکائے گئے تھے۔

Root: س و ع;   ق س م; ل ب ث; ء ف ك

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَٟنَ لَقَدْ لَبِثْتُـمْ فِـى كِتَٟبِ ٱللَّهِ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِۖ
فَـهَـٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُـمْ كُنتـمْ لَا تَعْلَمُونَ ٥٦

  • And those who were given the knowledge and the belief said, "It is certain that you had remained in that state for a period; written in the Mother/Principal Book in safe custody of Allah the Exalted, up to the Day of Resurrection —
    Whereby this is the Day of Resurrection, but you people remained persistent in not recognizing it." [30:56]

اور ان لوگوں نے   جنہیں نازل کردہ کتاب کے علم اور اس پر ایمان سے نواز دیا گیا تھا ان کے تخمینے کے جواب میں کہا’’حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ اس حالت میں اتنا عرصہ رہے جتنا اللہ تعالیٰ نے دوبارہ حیات دیئے جانے کے دن تک پہنچنے کا  کتاب (ام الکتاب)میں لکھا تھا۔
اس لئے اس مدت کے اختتام پر یہ ہے از سرنو حیات پانے کا دن۔مگر تم لوگ توحیات دنیا میں اس کے متعلق معلومات حاصل ہی نہیں کرتے تھے"۔(الروم۔۵۶)

Root: ل ب ث

فَيَوْمَئِذٛ لَّا ينفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَعْذِرَتُـهُـمْ
وَلَا هُـمْ يُسْتَعْتَبُونَ ٥٧

  • Since they kept jesting about resurrection, therefore, the Day when they would have been segregated on resurrection; their regrets and excuses will not benefit them who did wrong —
    And nor their requests for making mends for pardon will be acceded. [30:57]

چونکہ  قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں مذاق اُڑایا کرتے تھے، اس لیے جس دن انہیں دوبارہ زندہ کر کے الگ کیا جائے گا، اس دن ان  کے ندامت اور معذرت کے اظہار انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے جنہوں نے حقیقت کے برعکس باطل نظریات اور طرز عمل کو اپنائے رکھا تھا۔
اور نہ ان کی اپنی اصلاح کرنے کی خواہش بتا کرمعافی تلافی سے مہربانی کی التجا کو پذیرائی ملے گی۔

Root: ع ذ ر; ع ت ب


وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِـى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٛۚ
وَلَئِن جِئْتَـهُـم بِـٔ​ايَةٛ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟ إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ٥٨

  • Notice that Our Majesty have struck-illustrated for the benefit of people all sorts of examples-similitude-equations-contrasts in this Qur’ān.
    And if you
    the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] had brought to them some unprecedented Display [Miracle] certainly those people/ruling elite who have disavowed would say to others, "you people (believers) are but falsifier vain talkers." [30:58]

مطلع رہو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اس  ٱلْقُرْءَانُ   کو سمجھنے اور نصیحت لینے کے لئے اس کے متن میں ہر طرح کی مثال بیان کر کے سہل بنا دیا ہے۔
اور جہاں تک ماورائے ادراک و فہم مظاہرے(معجزے)کا مطالبہ ہے اگر آپ(ﷺ)ان کے سامنے ایسی نشانی لے بھی آتے تو قرءان مجید کا انکار کر دینے والے صاحبان ایمان سے کہیں گے"تم لوگ محض باتیں بنانے والے ہو"۔

كَذَٟلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَـىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ٥٩

  • This is how [eventually] Allah the Exalted lets the veil persist upon the hearts of those who do not intend to know. [30:59]

یہ ہے طرز عمل کا وہ انداز جس پر اللہ تعالیٰ  ان لوگوں کے قلوب  پر لگے زنگ کوڈھانپ/اختتامی طبیعت بنا دیتے ہیں جو معلومات اور علم حاصل کرنےکی جستجو ہی نہیں کرتے۔

Root: ط ب ع

فَٱصْبِـرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚۖ
وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ٦٠

  • Since their irrational response is irritant, therefore, the advice is to remain coolly perseverant. Indeed the promise of Allah the Exalted [regarding Last Day] is a fact.
    And let not those who have no conviction [of that day. hereafter and accountability] seek you hastening it/and let not those, who have no conviction of the hereafter and accountability, impair your cool/quiet/frustrate you by repeated annoyances.
    [30:60]

چونکہ ان کا یوم آخر کو جھٹلانا زیر مقصد مگر آپ کے لئے باعث کوفت،اس لئے آپ(ﷺ)سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ کے رب کے وعدہ نے پایہ تکمیل کو پہنچنا ہے۔
اور آپ(ﷺ)آئندہ بھی  ان لوگوں کو جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی آپ کو مضمحل کرنے کی خواہش کو پورا نہ ہونے دیں۔

Root: خ ف ف; ي ق ن

 

031-سُوۡرَةُ لقمان

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura  Recitation


الٓـمٓ ١

  • Alif: The First Letter, not consonant, of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎): it has no speech sound and is not conjoined with the succeeding consonants of a word or with the following word;

  • Laa'm and Mee'm: Two consonants of Arabic alphabet conjoined/stitched together and both have above them ancillary glyph  -prolongation sign called "Madda" which means and extends - stretches the sound value of the consonant to which it is added. The prolongation mark [Madda] reflects that the following joined letter is still causing pause as consonant لـ‎ ends with still ﻡ‎ resulting in natural pause in its pronunciation "Laa'm". Likewise, the consonant ﻡ has the prolongation sign suggesting to pronounce it with stretched sound to make the last still letter ﻡ vivid in sound ending in natural pause "Mee'm-ميم ". Prolongation sign will also appear when the following consonant with vowel is delicate "Hamza, ء" which can distinctly and audibly pronounced only when the preceding letter is pronounced elongated. Arabic language equally cares for the convenience of the speaker and the listener. Please remember that the prolongation sign is not the equivalent to nor it represents a hamza followed by Alif.

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْحَكِيـمِ ٢
هُدٙى وَرَحْـمَةٙ لِّلْمُحْسِنِيـنَ ٣
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ
وَهُـم بِٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمْ يُوقِنُونَ ٤
أُو۟لَـٰٓئِكَ عَلَـىٰ هُدٙى مِّن رَّبِّـهِـمْۖ
وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٥

  • These are the Aa'ya'at: Verbal Passages of the Miscellany of the Book which gives insight to the invisible, hidden, secreted realities — [31:02]

  • It serves as Guide [in time and space because of its permanence-leading on the way to destination] and Mercy blessing for those who are moderate, graceful and generous —[31:03]

  • Such of them who stand for the performance of As-sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance; and regularly pay Az-zaka'at: financial liability for economic uplift of society —
    Know it; they are the people who convincingly believe in the Hereafter. [31:04]

  • The aforementioned people are progressing upon the guidance communicated by their Sustainer Lord ["My Aaya'at" in the Qur’ān] in easy to comprehend composition.
    And they are the people who are truly the endeavourers for perpetual success -  fruitfulness. [31:05 Replica 2:05]

یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔
اس کا کردار زمان و مکان میں  ہدایت کے سر چشمہ اور رحمت کے اظہار کا ہے بالخصوص ایسے لوگوں کے لئے  جو اعتدال اور حسب ِ سلوک کا رویہ اور سرشت اپناتے ہیں۔
وہ مدعیان ایمان جواستقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں اوراور معاشرے کے نطم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالی تعاون ؍ زکوۃ کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں۔
اور وہ ایسے ایمان والے ہیں وہ آخرت پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں۔
یہ ہیں وہ لوگ جو  محو سفر ہیں اس ہدایت  پر گامزن رہتے ہوئے جسے ان کی رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں پہنچا دیا گیا ہے۔
اور یہی ہیں وہ لوگ جودرحقیقت دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔

Root: ز ك و;  ي ق ن

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَـرِى لَـهْوَ ٱلْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيْـرِ عِلْمٛ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٚ مُّهِيـنٚ ٦
وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْهِ ءَايَٟتُنَا وَلَّـىٰ مُسْتَكْبِـرٙا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِـىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرٙاۖ
فَبَشِّـرْهُ بِعَذَابٍٛ أَلِيـمٛ ٧

  • Know it (besides aforementioned people); there is always a person amongst people who purposely indulges in fabricating and publicizing amusing and attention catching conjectures - myths - stories —That might cause neglectfulness and stray non-knowledgeable people away from the Path of Allah the Exalted; he does so without having authentic information/knowledge —
    And purposely holding her (the Path) contemptuously and mockingly —
    Such are the people; know their upshot, a humiliating punishment is prepared and is in wait for them. [31:06]

  • And when Our Aa'ya'at (verbal passages of Qur’ān) were recited to him word by word he about-faced; in mindset obsessed with pride aspiring aggrandisement.  [Read with 23:66] —Like as if he had not heard them (Ayahs) attentively, resembling that a heavy load is deposited within both his ears: acoustic impedance is persisting in his ears.
    Since having been duly forewarned he is deliberately adamant, therefore, you the Messenger announce for him "glad tidings" of painful punishment. [31:07]

لیکن(محسنین کے علاوہ)ایک ایسا شخص لوگوں میں موجود ہوتا ہے جودانستہ سوچ بچارسے دلفریب،لطف ابھارنے والی بات پیدا کرتا ہے۔اس کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ  سے منحرف کر نا ہے،وہ ایسا علم حاصل کئے بغیر حالت میں کرتا ہے۔
اور وہ دانستہ اس(اللہ تعالیٰ کی راہ)کومذاق اڑانے کے انداز میں لیتا ہے۔
یہ ہیں وہ لوگ،جان لو ان کے متعلق،ایک توہین آمیز عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔
اور اس کا  رویہ یہ رہا کہ جب ہم جناب  کے کلام پر مشتمل آیات  لفظ بلفظ سنائی  گئیں تو استکبار کے انداز میں پلٹ کر چل دیا۔
ایسے جیسے اس نے ان (آیات)کو توجہ سے سنا ہی نہ تھا یا جیسے واقعی  ایک بوجھ  اس کے دونوں کانوں میں موجود تھا جو سماعت میں مانع ہے۔
چونکہ  تنبیہ سے اتمام حجت کے  باوجود اس سے  اس کاگریز دانستہ ہے اس لیے  آپ(ﷺ)ایسے شخص کے  لئے  سخت  ناگوار ایذا کے مستحق ہونے کا اعلان فرما دیں ۔

Root: و ق ر

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ لَـهُـمْ جَنَّٟتُ ٱلنَّعِيـمِ ٨
خَٟلِدِينَ فِيـهَاۖ
وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٙاۚ

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٩

  • Know the fact about those who have heartily believed in the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and Qur’ān and performed moderate righteous deeds — [as directed in the Book] —The lush green Gardens - Paradise of Delight is in wait for them —[31:08]

  • They will be residing therein permanently-indefinitely —
    The promise of Allah the Exalted is always a proven and established truth.
    Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and
    the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible.  [31:09]

ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔پُرمسرت باغات میں ان کی حیات آخر میں رہائش کا انتظام ہے۔
یہ لوگ ان میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔
اور تم حقیقی اہل ایمان جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ایسے ہے جیسے پائے تکمیل کو پہنچ کر ثابت ہو چکا ہے۔
مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔


خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ بِغَيْـرِ عَمَدٛ تَرَوْنَـهَاۖ
وَأَلْقَىٰ فِـى ٱلۡأَرْضِ رَوَٟسِـىَ أَن تَمِيدَ بِكُـمْ

وَبَثَّ فِيـهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٛ
وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ
فَأَنۢبَتْنَا فِيـهَا مِن كُلِّ زَوْجٛ كَرِيـمٍ ١٠

  • He the Exalted created the Skies. They are existing with the help of such supports that are other than ordinary pillars. You people are seeing them elevated as such without visible pillars.
    And He the Exalted placed in the Land anchored/stabilizing mountains that she (Earth) may not shake with you people
    (isotasy)—
    And that He the Exalted spread all kinds of animals in it —
    And Our Majesty have dropped water from the Sky —
    Whereby Our Majesty have sprouted/grew therein from each and every par excellence pairing. [31:10]

وہی ذات ہے جس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا، جو ایسے ستونوں کی مدد سے قائم ہیں جو عام ستونوں سے مختلف ہیں۔ تم انہیں ایسے بلند دیکھتے ہو کہ وہ بغیر کسی نظر آنے والے ستونوں کے ہیں۔
اور ان جناب نے زمین  کے اندر پہاڑوں کے سلسلہ کو بطورلنگرگاڑ دیا۔اس کا مقصد یہ ہے کہ  کہیں وہ تم لوگوں کو ارتعاش کا احساس  نہ دے۔
اور انہوں نے اس(حیات بخش)زمین میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے۔
اور
ہم جناب نے پانی  کو(متعین مقدار میں)آسمان میں سے ایک وقت میں اتار دیا۔
چونکہ پانی حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے اس کے ذریعےہم  جناب نے اس کے اندرہر ایک    عمدہ حیات بخش نباتات  کی جنس  کے جوڑے  کو اگانے کی صلاحیت رکھ دی    ہے۔

Root: ; د ب ب;ع م د; ر س و;  م ى د; ك ر م;  ن ب ت Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance.

هَـٰذَا خَلْقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِـى مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ
بَلِ ٱلظَّٟلِمُونَ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ١١

  • This is the creation of Allah. Therefore/for reason [if they are real existing personalities] show me what those [whom you call various iela'aha:godheads], other than Him the Exalted, have created.
    Their argument—that they worship them with the thought that they will intercede on their behalf—is merely an excuse. The reality is that those who persistently adhere to the approach of distorting the truth are stubbornly insistent on remaining in manifest deviation and misguidance. [31:11]

یہ اللہ  تعالی کا تخلیق کردہ ہے۔ پس اگر وہ (جنہیں تم مختلف الٰہ یعنی خدا کے طور پر پکارتے ہو)واقعی موجود شخصیات ہیں تو مجھے دکھاؤ کہ اُنہوں نے  ان جناب کے سوا کیا تخلیق کیا ہے۔
 ان کا یہ استدلال کہ  وہ انہیں اس خیال سے پوجتے ہیں کہ ان کی سفارش کریں گے محض  بہانہ  ہے۔اصل یہ ہے کہ  حقیقت کو بگاڑنے کی روش اور طرز عمل پر کاربند لوگ  صریحاً انحراف اور گم کردہ راہ رہنے پر بضد ہیں۔


وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَٟنَ ٱلْحِكْمَةَ أَنِ ٱشْكُرْ لِلَّهِۚ
وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦۖ

وَمَن كَفَـرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَـمِيدٚ ١٢

  • And indeed Our Majesty had granted wisdom/insight to understand and perceive infolded realities to Luq'maan that, "you be obliged and express gratitude for Allah the Exalted —
    And whoever makes himself feel obliged and grateful then indeed he expresses gratitude only for his own self/benefit.
    And whoever concealed obligation/remained ungrateful [it makes no difference] since/then remember Allah the Exalted is indeed eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise."
    [31:12]

اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت (فہم و بصیرت) عطا کی تھی کہ "تم اللہ کے شکر گزار رہو"۔
 اور جو کوئی شکر گزاری کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو (یاد رکھو)
اور جس کسی نے انکار کیا تو خود خمیازہ بھگتے گا کیونکہ  یقینا اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ و بالاتر ہیں؛ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔

وَإِذْ قَالَ لُقْمَٟنُ لِٱبْنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٟبُنَىَّ لَا تُشْـرِكْ بِٱللَّهِۖ
إِنَّ ٱلشِّـرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيـمٚ ١٣

  • And when Luq'maan while affectionately advising his son told the first pearl of wisdom:  "O my son! You should never associate partners and equals with Allah the Exalted —
    Undoubtedly the act/idea of associating partners and equals with Allah the Exalted is certainly the greatest distortion of fact by conjecture." [firstly introduced by Elite class of nation of Noah]. [31:13]

اور انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے اولین دانائی کی بات بتاتے ہوئے کہا"اے میرے بیٹے!اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو کبھی معبود مت سمجھنا۔
بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خداؤں کا  اختراع کردہ فلسفہ سب سے  بڑا حقیقت کو باطل سے بدلنے کا جرم ہے"۔

Root: و ع ظ

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٟنَ بِوَٟلِدَيْهِ
حَـمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَـىٰ وَهْنٛ
وَفِصَٟلُهُۥ فِـى عَامَيْـنِ
أَنِ ٱشْكُرْ لِـى وَلِوَٟلِدَيْكَ
إِلَـىَّ ٱلْمَصِيـرُ ١٤

  • And Our Majesty have enjoined/given the verdict/decreed upon the human beings [to conduct with their parents with affectionate kindness Read with 29:8)] —
    His mother carried him [in her womb] with one flimsiness upon another flimsiness —
    And his breast-feed weaning is in two years [complete two years-24 months-2:233] —
    That "you be grateful to Me and to your parents —
    Be mindful! The concept that all matters are inevitably returned to Me for the ultimate judgment is an absolute reality. —[31:14]
     

متنبہ رہو؛ ہم جناب نے انسان کو پابند کیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔
اس کی والدہ نے اسے (اپنے رحم میں) کمزوری پر کمزوری کے ساتھ اٹھائے رکھا—
اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال (پورے دو سال- 24 ماہ- البقرہ 2:233)میں ہے—
کہ: "تم میرے شکر گزار رہو اور اپنے والدین کے بھی شکر گزار رہو—
متنبہ رہو؛یہ نظریہ کہ تمام امور کو منطقی انجام کے فیصلے کے لئے  میری جانب پلٹایا جاتا ہے حقیقت ہے۔

Root: و ص ى; و ھ ن;  ع و م; ص ى ر

وَإِن جَٟهَدَاكَ عَلَـىٰٓ أَن تُشْـرِكَ بِـى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٚ فَلاَ تُطِعْهُـمَآۖ
وَصَاحِبْـهُـمَا فِـى ٱلدُّنْيَا مَعْـرُوفٙاۖ

وَٱتَّبِــعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَـىَّۚ
ثُـمَّ إِلَـىَّ مَرْجِعُكُـمْ
فَأُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ١٥

  • However, if they both exerted upon you for that you associate partners with Me for which you do not have any knowledge thereby you must not listen the word of both two of them —
    But you give them company in worldly life in a very pleasant manner —
    And you make yourself physically follow/journey on the path which leads towards Me.
    Afterwards upon resurrection you people's return for accountability to Me is ordained matter
    —
    Whereupon I will remind/tell you what deliberate and willful acts you people had been doing" [31:15]

اگرچہ اگر دونوں تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تو تم دونوں کی بات نہ مانو۔
لیکن تم دونوں کے ساتھ دنیاوی زندگی میں اچھے طریقے سے برتاؤ رکھو،  "
اور تم  عملی طور پر میری طرف جانے والے راستے پر  تندہی سےچلنے کی کوشش کرو۔
بعد ازاں حیات نو دئیے جانے  پرتمہارا پلٹ کر احتساب  کے لئے میری جانب پیش کیا جانا حتمی امر ہے۔
جس پر تمہاری باری آنے میں تم لوگوں کو بتاؤں گا جو اعمال تم  جان بوجھ کر اور اختیار سے کرتے رہتے تھے۔

Root: ن و ب

يَٟبُنَىَّ إِنَّـهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٛ مِّنْ خَرْدَلٛ
فَتَكُنْ فِـى صَخْرَةٍٛ أَوْ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ أَوْ فِى ٱلۡأَرْضِ يَأْتِ بِـهَا ٱللَّهُۚ
إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيـرٚ ١٦

  • [Reverting to Luq'maan's advisory session] "O my son! it is a fact that if there be a small thing like the grain/seed from a mustard plant —
    Whereby it may be in a rock or in the Skies or in the Earth, Allah the Exalted would bring it to limelight.
    Certainly Allah the Exalted is eternally Aware-Knowledgeable au fait of all niceties and delicacies-subtlety-refinements.
    [31:16]

"اے میرے بیٹے!یہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی چیز، جیسے خردل کے دانے کے برابر ہو —
خواہ وہ پتھر میں ہو، آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، اللہ تعالی اسے روشنی میں لے آئے گا۔ بے شک اللہ تعالی ہر باریکی، نزاکت، اور لطافت سے آگاہ ہیں
۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  تمام تر نفاست،،لطافت اور باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہر لمحہ ہر شئے سے باخبر ہیں۔

Root: ص خ ر;ل ط ف

يَٟبُنَىَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ
وَأْمُرْ بِٱلْمَعْـرُوفِ وَٱنْهَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ
وَٱصْبِـرْ عَلَـىٰ مَآ أَصَابَكَۖ
إِنَّ ذَٟلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ ١٧

  • O my son! Remain steadfast in the performance of Ass-sa'laat; Time Bound Protocol of Servitude and Allegiance —
    And enjoin to act according to accepted social values and norms and forbid others following conjectural innovations-deviations and unauthentic non-verifiable myths —
    And remain coolly perseverant upon whatever distressing and unpleasant reaches you —
    No doubt this course is indeed a subject of strong willpower. [31:17]

اے میرے بیٹے! استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی پر کاربند رہو۔
اور لوگوں کو سماجی اقدار و اصول کے مطابق عمل کرنے کی ترغیب دو، اور قیاس آرائی پر مبنی بدعتوں اور غیر مستند ناقابل تصدیق افسانوں سے بچنے کی نصیحت کرو —
اور جو بھی تکلیف دہ اور ناخوشگوار حالات تم تک پہنچیں ان پر صبر و تحمل کے ساتھ ثابت قدم رہو —
یقیناً یہ راستہ انتہائی پختہ ارادے کا متقاضی ہے۔

Root: ن ك ر; ص ب ر; ع ز م

وَلَا تُصَعِّـرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
وَلَا تَمْشِ فِـى ٱلۡأَرْضِ مَرَحًاۖ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٛ فَخُورٛ ١٨

  • And you should not turn away your cheek on the side which might appear to those in attendance as an expression of disdain and arrogance —
    Neither you should walk in the society with a gait that appears to people exultant and boastful-conceited —
    Remember; Allah the Exalted certainly does not appreciate-approve all such persons who fantasize, self deluded proudly boastful—[31:18]

اور تم اپنا رخ اس طرح مت پھیرو کہ حاضرین کو یہ ایک طرح کی حقارت یا غرور کا اظہار لگے —
 اور نہ ہی معاشرت میں ایسے انداز سے چلو جسے لوگ سرشاری اور خود پسندی سمجھیں —
متنبہ رہو۔ اللہ تعالیٰ تمام کے تمام کو قابل تحسین اورقدر افزائی کے لائق نہیں قرار دیتے جوتخیلاتی خوش فہمیوں اورگھمنڈ میں مبتلا رہتے ہیں۔

Root: م ر ح; م ش ى; خ ى ل

وَٱقْصِدْ فِـى مَشْيِكَ وَٱغْضُضْ مِن صَوْتِكَۚ
إِنَّ أَنكَـرَ ٱلْأَصْوَٟتِ لَصَوْتُ ٱلْحَمِيـرِ ١٩

  • And you be moderate in your pace and lower the pitch of your voice —
    Indeed, the most unpleasant and harsh of all sounds is certainly the braying of a donkey". [31:19]

اور اپنی چال  کومنزل کی جانب میانہ قدم رکھ اور اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ میں دھیما پن رکھ۔
یہ حقیقت ہے کہ تمام جانوروں کی  آوازوں میں گدھے کی آواز غیر مانوس اور ناگوار محسوس ہوتی ہے۔

Root: ص و ت;  غ ض ض; ق ص د; م ش ى; ن ك ر


أَلَمْ تَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ
وَأَسْبَغَ عَلَيْكُـمْ نِعَمَهُۥ ظَٟهِرَةٙ وَبَاطِنَةًۭۗ ۗ
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَـٟدِلُ فِـى ٱللَّهِ بِغَيْـرِ عِلْمٛ وَلَا هُدٙى وَلَا كِتَٟبٛ مُّنِيـرٛ ٢٠

  • Have you people not perceived that Allah the Exalted has subjected, for the purpose connected with your existence, whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth, establishing it within a disciplined and consistent order through which you may acquire knowledge, foresee outcomes, and manage your affairs? (Cf. 45:13 replica)
    Moreover, He the Exalted has abundantly extended over you His bounties—both those apparent and those in concealed state.
    Yet beware: there exists a category of people among humanity who keep wrangling about Allah the Exalted, continually weaving and defending positions without any foundation of established knowledge, and without revealed guidance, and without an illuminating Book. (Cf. 22:03; 22:08) [31:20]

کیا تم لوگوں نے غور و ادراک نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے وجودی غرض و مقصد کے ساتھ مربوط حکمت کے تحت آسمانوں میں موجود ہر شے اور زمین میں موجود ہر شے کو یک منضبط، مستقل اور ہم آہنگ نظام کے اندر قائم کر کے تمہارے لیے مسخّر ، قابل دسترس حالت  میں کر دیا ہے، جس کے ذریعے تم علم حاصل کر سکتے ہو، نتائج کی پیش بینی کر سکتے ہو، اور اپنے معاملات کو منظم و مدبرانہ طور پر چلا سکتے ہو؟ (Cf. 45:13 replica)
اور ان جناب نے اپنی لاتعداد نعمتوں کو تم لوگوں پر نچھاور فرمایا ہے؛
خواہ وہ نعمتیں ظاہر صورت میں ہوں یا پوشیدہ حالت میں۔
مگر اس کے باوجود  ایک  ایسا بدگمان اور بدزبان شخص لوگوں میں موجود ہوتا ہے  جو اللہ تعالیٰ کے متعلق   معلومات اور ٹھوس علم کے علاوہ ہرزہ سرائی پر مشتمل  باتوں کے پیچ و خم سے الجھتا رہتا ہے۔اور مزید وہ ایسا اس حال میں کرتا ہے کہ نہ اسے کسی سے رہنمائی حاصل ہے اور نہ بصیرت افروز کتاب پر اسے دسترس ہے۔

Root: س خ ر;  س ب غ

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ
قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِــعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآۚ
أَوَلَوْ كَانَ ٱلشَّيْطَٟنُ يَدْعُوهُـمْ إِلَـىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيـرِ ٢١

  • And when it was said to them, "You people transform yourselves to follow practically what Allah the Exalted has compositely sent [in the Book]," —
    They responded saying;  "No, We will keep following that upon which we have found our forefathers had been."
    [how irrational/illogical is the response, without refuting the fact] Would they keep following their forefathers despite the fact if Shai'taan is inviting them towards the punishment of the Hell-Prison [31:21]

اور جب ان لوگوں(جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر اختیار کرتے ہیں)سے کہا گیا’’تم لوگ دل کی شاد سے اس کی پیروی کرو جسے اللہ تعالیٰ نے مجتمع انداز میں نازل کر دیا ہے‘‘۔
انہوں نے جواب دیا’’نہیں ہم ایسا نہیں کریں گے، بلکہ ہم  اس کی اتباع کرتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤاجداد کو کاربند پایا تھا‘‘۔
کیا وہ اس پر بضد رہیں گے چاہے یہ جان لیں کہ شیطان ان
 کوجسم و جان کو جھلسا دینے والے عذاب  کی جانب دعوت دیتا ہے۔

Root: س ع ر

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَـى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٚ
فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُـرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰۗ
وَإِلَـىٰ ٱللَّهِ عَٟقِبَةُ ٱلْأُمُورِ ٢٢

  • And whoever surrendered/harmonized his will and freedom of choice/face towards Allah the Exalted [His Aa'ya'at/ Book] and he is the one who conducts moderately/is an endeavourer of striking equilibrium/balance/truth/virtue [avoider of spreading distortions/conjectural myths] —
    Thereby, he has certainly restrained himself sincerely in the noose of superb pledge-bond.
    The final settling/decision of all matters is for Allah the Exalted.
    [31:22]

    مطلع رہو؛حقیقت یہ ہے کہ جس کسی نے  اپنی حریت،اپنے چہرے کی  جہت کواللہ تعالیٰ کی خاطرنظام اسلام پر خم کر دیااور وہ معتدل مزاج،حسن کردار کا حامل ہے۔
    تو یقیناً اس نے  بہترین  بندھن  سے اپنا الحاق کر لیا۔
    متنبہ رہو؛تمام امور کے انجام  کو متعین اور فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی مطلق صوابدید  پر منحصر ہے۔

    Root: م س ك; ع ر و;  و ث ق

وَمَن كَفَـرَ فَلاَ يَحْزُنكَ كُفْرُهُۥٓۚ
إِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ فَنُنَبِّئُهُـم بِمَا عَمِلُوٓا۟ۚ
إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيـمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٢٣

  • And whoever has refused to accept, for reason [that you will not be questioned about those who land in Hell-2:119] let not his persistent denial to accept be a cause of grief for you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]
    Their presentation will be before Our Majesty for accountability; thereat We will tell them what deliberate and wilful acts they performed.
    It is a fact that Allah the Exalted is aware absolutely of that which the chests hold inside. [31:23]

آپ(ﷺ)اس نکتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ انہیں حریت عنایت کی گئی ہے جس کسی نے آپ اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کر دیا ہے تو اس کا کفر آپ کے لئے باعث حزن نہیں بننا چاہئے۔
حتمی طور پر طے شدہ یہ ہے کہ انہیں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔چونکہ سزا سے قبل انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے ہم جناب انہیں ان اعمال کی فرد جرم بتائیں گے جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔
یقیناًاللہ تعالیٰ اسے مکمل طور پر جانتے ہیں جو سینوں میں موجود ہے۔

Root:  ح ز ن

نُمَتِّعُهُـمْ قَلِيلٙا
ثُـمَّ نَضْطَرُّهُـمْ إِلَـىٰ عَذَابٍٛ غَلِيظٛ ٢٤

  • Our Majesty will keep giving them worldly wherewithal for a little period of worldly life—
    Thereafter, [on Day of Requital] Our Majesty will cause them driven to a severe compacted torment. [31:24]

ہم جناب انہیں سامان زیست دیتے رہیں گے،حیات دنیا کے قلیل عرصہ میں۔
بعد ازاں حیات دنیا از سر نو حیات دئیے جانے پر ہم جناب انہیں  ایک بھرپور عذاب میں دھکیل دیں گے۔

Root: غ ل ظ

وَلَئِن سَأَلْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ
لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِۚ

بَلْ أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٢٥

  • And if you ask them as to who created the Skies and the Earth —
    They will certainly answer "Allah did it".
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce declaratively, "The Infinite Glory and Praise eternally is specified entirely and exclusively for Allah the Exalted."
    No, there is no iela'aha: godhead along with Allah, the fact is most of them do not acquire knowledge. [31:25]

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے تخلیق کیا —
تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔"
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے"۔
لوگوں کا منفی طرز عمل   کسی دلیل پر نہیں کہ  بدیہی حقیقتوں کا بھی جائزہ نہیں لیتے ؛ درحقیقت اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق حقائق کو جاننے کے آرزو مند ہی نہیں۔

لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ
إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَـمِيدُ ٢٦

  • Whatever exists in the Skies and the Earth are subservient subjects for Allah the Exalted.
    Realize; indeed
    Allah the Exalted is the One Who is eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [31:26]

یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے برسرپیکار ہیں۔
اس حقیقت کا ادراک کرو؛ اللہ تعالیٰ مطلق آزاد،ہر احتیاج سے منزہ اور بلند وبالا ہیں،اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔

وَلَوْ أَنَّمَا فِى ٱلۡأَرْضِ مِن شَجَرَةٍٛ أَقْلَٟمٚ
وَٱلْبَحْرُ يَـمُدُّهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ سَبْعَةُ أَبْحُرٛ
مَّا نَفِدَتْ كَلِمَٟتُ ٱللَّهِۗ
إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيـمٚ ٢٧

  • Take note that had every tree existing in the Earth was in the state converted into writing pens —
    And the Ocean was used as ink for writing and after it having become empty seven smaller oceans kept adding to it: the global Ocean —
    The limited number of verbal expressions of Allah the Exalted would not have emptied - lost information.
    Indeed Allah the Exalted is the All Pervasive-Dominant and eternally the Wise-Knower of invisible-secreted-infolded realities [31:27]

 باخبر رہو؛اگر وہ تمام جو زمین میں اس وقت موجود ہیں اس حال میں کہ تنے والے درخت ہیں تحریر کے لئے قلمیں بنا لئے جائیں؛
اور عالمی سمندر کو سیاہی جس کے خالی ہو جانے کے بعد سات چھوٹے سمندر بھی طوالت میں سیاہی ہوتے:
تو بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات نے اپنے میں  پنہاں ذخیرہ معلومات کو مکمل خارج نہ کیا ہوتا۔
اس حقیقت سے باخبر رہو؛ اللہ تعالیٰ  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

Root: ش ج ر;  ق ل م Root: ك ل م  Semantic density: greater the density easier to understand and translate

مَّا خَلْقُكُـمْ وَلَا بَعْثُكُـمْ إِلَّا كَنَفْسٍۢ وَٟحِدَةٍۗ
إِنَّ ٱللَّهَ سَـمِيعُۢ بَصِيـرٚ ٢٨

  • Neither creation of you people and nor your revival/resurrection [on the Day of Resurrection] is any different but like an entity-person that acts as individual; retains individuality.
    Indeed Allah the Exalted is eternally the Hearer [of what is said, at whatever frequency] and is of Vision [everything/act is in His focus]. [31:28]

جان لو؛ تم لوگوں کو تخلیق کرنا اور تم لوگوں کا بعد از موت از سر نو زندہ کیا جانا اس کے علاوہ کچھ مختلف نہیں   جیسے ایک منفرد شخص ہوتا ہے ہر حالت میں۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آواز/صوت کو بغور سننے والے ہیں،ہر لمحہ ہر شئے کو احاطہ بصارت میں رکھنے والے ہیں۔


أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِـى ٱلنَّـهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّـهَارَ فِـى ٱلَّيْلِ
وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ
كُلّٚ يَجْرِىٓ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَمّٙى
وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ٢٩

  • Have you not visualized/understood/given a thought to the apparent fact that Allah the Exalted —Gradually/smoothly enters the Night in the Day and He the Exalted smoothly enters the Day in the Night —
    And He the Exalted has subjected [subjugated to a set discipline] the Sun and the Moon to submissiveness —
    All of them keep flowing for a term/duration of appointed/named/fixed date and time —
    And certainly Allah the Exalted is fully informed/aware of all what acts you people are doing. [31:29]

کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اس نظام کو نہیں دیکھا:وہ  جناب   کسی مقام کی رات کودن کی حدود میں داخل کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی،بیک وقت کسی مقام کے دن کو رات میں داخل فرماتے ہیں۔
اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم کیا ہے۔
ہر ایک محو گردش ہے ایک معیاد کو مکمل کرنےکے لئے جو اختتام کے حوالے سے متعین ہے۔
متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔

Root: و ل ج;س خ ر; ق م ر; ش م س;ء ج ل

ذَٟلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ
وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلْبَٟطِلُ
وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِـىُّ ٱلْـكَبِيـرُ ٣٠

  • This organized system is self revealing the fact that undoubtedly Allah the Exalted is the One Who is the Absolute Fact —
    And that what they people call apart from Him the Exalted that is conjectural falsity.
    And that Allah the Exalted is the One Who is the The Exalted Sublime, the Greatest.
    [31:30]

یہ وسیع و عریض نظام اورا س کاایک طے شدہ اصول کا پابند رہنا اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ہیں جو بدیہی حقیقت ہیں۔
اور اس بات کا ثبوت کہ جس کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عام حالات میں یہ لوگ پکارتے رہتے ہیں وہ پانی یا دھات کے پگھلانے پر ابھر کر معدوم ہو جانے والے جھاگ مانند ہے۔
اور نظام ہستی خود ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہیں ج
واپنے آپ میں لازوال عالی مقام ہیں،ابدی عظیم ترین ہیں۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱلْفُلْكَ تَجْـرِى فِـى ٱلْبَحْرِ بِنِعْمَتِ ٱللَّهِ لِيُـرِيَكُـم مِّنْ ءَايَٟتِهِۦٓۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّـكُلِّ صَبَّارٛ شَكُورٛ ٣١

  • Have you not visualized/understood/given a thought that the ship sails/moves in the Sea with the blessing of Allah the Exalted so that He may show to you people evoker of thought process indicated by His Signs - cognizable phenomena.
    Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the foretasted existents for every coolly perseverant, ever thankfully obliged person.
    [31:31]

کیا آپ نے غور سے مشاہدہ کیا ہے  کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سہولت اور آسانیاں میسر کرنے کے اظہار کے ساتھ کشتیاں پانی کے ذخائر میں رواں دواں رہتی ہیں۔اس سے بھی وہ جناب اپنی جانب متوجہ کرانے والے مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرائیں۔
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ہر ایک  ایسے شخص کے لئے سبق آموز اشارے ہیں  جواپنے ایمان پر پیکر عزم و استقلال رہتے ہوئے ناگفتہ بہ کو ضبط و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہمیشہ  اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے۔

Root: ف ل ك

وَإِذَا غَشِيَـهُـم مَّوْجٚ كَٱلظُّلَلِ
دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ
فَلَمَّا نَجَّىٰـهُـمْ إِلَـى ٱلْبَـرِّ فَمِنْـهُـم مُّقْتَصِدٚۚ
وَمَا يَجْحَدُ بِـٔ​ايَـٟتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٛ كَفُورٛ ٣٢

  • And the moment waves wrapped over them like the overshadowing canopies —
    They called upon Allah the Exalted for rescue promising that on being saved they will adhere to the Constitution and Code of Life as sincere devotees-allegiant for Him the Exalted —
    In response to their prayers, when He the Exalted rescued them surviving and safe towards the land-shore, thereat some of them make themselves moderate.
    Take note that none denies deliberately and publicly about Our Aa'ya'at-Verbally communicated passages except every ungratefully disobedient betrayer.
    [31:32]

مشاہدے میں آنے والا ان کا طرز عمل یہ ہے کہ جب ان کوبھپری موجوں نے ڈھانپ لیا جیسے سائبان ڈھانپتے ہیں:
انہوں نے اللہ تعالیٰ  کو مدد کے لئے پکارا یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ بچائے جانے پراُن کے متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے کاربند ہوں گے۔
ان کی پرسوز پکار پر جوں ہی ان جناب نے انہیں حفاظت سے خشک ساحل پر پہنچا دیا تو  ان میں سے   وہ خلوص اور  تندہی سے  راست طرز عمل  پر کاربند ہو گئے   جو شکر گزار تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ  تمام   ناشکروں،بدعہدوں اورخائن  روش  میں  غرق لوگوں  کے  علاوہ  کوئی بھی صاحب عقل و فکر ہم جناب کی بھیجی عبارات کی حقانیت کے متعلق لیت و لعل نہیں کرتا۔

Root: ظ ل ل;  غ ش ى;  م و ج;  ق ص د; ج ح د


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُـمْ
وَٱخْشَوْا۟ يَوْمٙا لَّا يَجْزِى وَٟلِدٌ عَن وَلَـدِهِۦ
وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍٛ عَن وَٟلِدِهِۦ شَيْـٔٙاۚ
إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚۖ  فَلاَ تَغُـرَّنَّكُـمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا
وَلَا يَغُـرَّنَّكُـم بِٱللَّهِ ٱلْغَـرُورُ ٣٣

  • O you the mankind! Listen carefully: You people sincerely endeavour to attain the protection from your Sustainer Lord.
    Moreover, you people be apprehensive-dread the Day of Requital. That is the Day when a father will not be able to avert anything damaging from his son. And neither the son could be an averter of anything harmful from his father.
    Indeed the promise of Allah the Exalted is inevitable and infallible fact —Therefore, once you have realized the certainty of  resurrection and accountability, henceforth let not the life of lowly world beguile you by its glitter and absorbing charms.
    And nor henceforth let the Deceiver (Shaitaan) beguile you by prevarications about commands of Allah the Exalted.[31:33]

اے لوگو!دھیان سے سنو!تم  تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اپنے رب سے پناہ کے خواستگار رہو ۔
اور تم لوگ اس دن کی ہیبت کو محسوس کرو جب  کوئی والد اپنے بیٹے کے لئے کوئی نقصان ٹالنے کی طاقت نہیں رکھے گا، اور نہ ہی بیٹا اپنے والد کے لئے کوئی نقصان روک سکے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا از سر نو حیات دینے کا وعدہ حتمی اور بدیہی حقیقت ہے ۔ لہٰذا جب تمہیں قیامت اور حساب کتاب کی ناگزیر حقیقت کا شعور ہو جائے  تو چاہئے کہ   حیات دنیا  اپنی  جاذبیت اور کشش  سےآئندہ تمہیں فاسد خیال اور روئیے پر مائل نہ کر سکے۔
اور تمہیں محتاط رہنا چاہئے کہ دھوکے باز کی شناخت رکھنے والا(شیطان)اللہ تعالیٰ کے فرمان بارے   تمہیں فاسد خیال اور روئیے پر مائل   نہ کر سکے۔

Root: غ ر ر

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ
وَيُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ
وَيَعْلَمُ مَا فِـى
ٱلْأَرْحَامِۖ 
وَمَا تَدْرِى نَفْسٚ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدٙاۖ
وَمَا تَدْرِى نَفْسُۢ بِأَىِّ أَرْضٛ تَمُوتُۚ
إِنَّ ٱللَّهَ عَلَيـمُۢ خَبِيـرٚ ٣٤

  • It is a certain fact that Allah the Exalted is the One with Whom is the Knowledge of the Appointed Moment.
    Acknowledge it, He the Exalted intermittently drops the rain.
    Know it, He the Exalted fully knows about that which  is developing in the wombs.
    And not at all a person have a convincing idea as to what she will gain tomorrow
    —
    And not all a person has any confirm idea as to which part of the Earth shall die —
    Indeed Allah is Eternally The Knowledgeable and Aware of what is secreted and manifest. [31:34]

حقیقت یہ ہے کہ اُس  مخصوص لمحے (یوم آخر کی ساعت))کے برپا ہونے کا حقیقی علم تو صرف ا للہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اور وہ جناب تسلسل حیات کے لئے بارش کو برساتے رہتے ہیں۔
اور وہ جناب بخوبی جانتے ہیں جو ماؤں کے ارحام میں پرورش پا رہے ہیں۔
اور قطعی طور پر کوئی شخص یہ حتمی انداز میں نہیں جانتا کہ کیا ہے جو وہ کل لازمی کمائے گا۔
اور قطعی طور پر کوئی شخص یہ حتمی انداز میں نہیں جانتا کہ کرہ ارض کے کس  خاص مقام پر وہ مرے گا ۔
یقیناً اللہ تعالیٰ منبع علم ہیں،وہ جناب  مکمل باخبر ہیں۔

Root: س و ع; غ ى ث; غ د و; د ر ى

 

032-سُوۡرَةُ السجدة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


الٓـمٓ ١

  • Alif: The First Letter, not consonant, of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎): it has no speech sound and is not conjoined with the succeeding consonants of a word or with the following word;

  • Laa'm and Mee'm: Two consonants of Arabic alphabet conjoined/stitched together and both have above them ancillary glyph  -prolongation sign called "Madda" which means and extends - stretches the sound value of the consonant to which it is added. The prolongation mark [Madda] reflects that the following joined letter is still causing pause as consonant لـ‎ ends with still ﻡ‎ resulting in natural pause in its pronunciation "Laa'm". Likewise, the consonant ﻡ has the prolongation sign suggesting to pronounce it with stretched sound to make the last still letter ﻡ vivid in sound ending in natural pause "Mee'm-ميم ". Prolongation sign will also appear when the following consonant with vowel is delicate "Hamza, ء" which can distinctly and audibly pronounced only when the preceding letter is pronounced elongated. Arabic language equally cares for the convenience of the speaker and the listener. Please remember that the prolongation sign is not the equivalent to nor it represents a hamza followed by Alif.

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

Recitation     So called myth of letters and consonants

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ
لَا رَيْبَ فِيهِ 
مِن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢

  • The serial dispatch and publishing of this Book to people — is unique and novel in Divine Communication History (Elite and intelligentsia have also noted it as strange: cf 25:32).
    Its striking feature is that whenever one reads it, he shall find
    its contents are absolutely void of peeving substance: suspicious, conjectural, whimsical, conflicting, ambiguous, anomalous, irrational, un-certain, illusory, unsubstantiated, incongruous, biased and opinionated matter.
    The reason for its serial releases by the Sustainer Lord of the Universes is to let your brain remain in calmness and tranquillity (cf. 25:32) [32:02]

منفرد کتاب کا بتدریج/سلسلہ وار انداز میں نزول اورلوگوں کو پہنچایا جانا ترسیل ہدایت کا منفرد انداز ہے (جسے  عمائدین نے بھی انوکھا انداز سمجھا ہے:الفرقان۔32)۔
اس تحریری کلام  کا  منفردوصف اورحال یہ ہے کہ اس کے
مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔
موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں،ہر ایک وجود پذیر کے رب کی جانب سے اس انداز ترسیل کی غایت یہ ہے  کہ ہم آپ (ﷺ)کے ذہن کومسلسل حالت اطمینان میں رکھیں(حرف جر
مِن۔إبتداء الغاية ۔متعلق محذوف خبر دیکھیں:الفرقان۔٣٢)

Introduction of Qur’ān - Infinitly reliable book

قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُۚ
بَلْ هُوَ ٱلْحَقُّ
مِن رَّبِّكَ

لِتُنذِرَ قَوْمٙا مَّآ أَتَىٰـهُـم مِّن نَّذِيرٛ مِّن قَبْلِكَ
 لَعَلَّـهُـمْ يَـهْتَدُونَ ٣

  • Contradicting its Divine Origin, do they —chieftains—keep saying to people: "He (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) has drafted and compiled it (Qur’ān) purposely with his own effort, perception, knowledge, understanding?"
    No, their perception is wrong, he is not the author; the fact is that it is the Infallible Doctrine-Discourse.
    It is sent in easy to understand composition by the Sustainer Lord of you the Messenger —
    The objective is that you might revive—admonish the nation (Bani Iesma'eile-the Gentile) to whom no admonisher had come in times - generations before you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    Its easy to comprehend composition might help them
    guide theirselves aright (as they used to assert: cf. 35:42) [32:03]

کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں"اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو  ازخوداختراع کیا ہے"۔
ان کا یہ کہنا غلط ہے۔اس کے برعکس یہ بیان حقیقت ہے ۔
 آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں اسے آپ کو پہنچایا  گیا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ) سب سے پہلے اس قوم کو خبردار اور متنبہ فرمائیں جنہیں ان جناب نے آپ (ﷺ)سے قبل کی نسلوں میں کوئی خبردار اور متنبہ کرنے والا نہیں بھیجا تھا۔
اس مقصد اور امکان کے پیش نظر کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ بنا لیں(جس کا یہ دعویٰ کیا کرتے تھے:فاطر۔42)۔


ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ
ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ
مَا لَـكُـم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِـىّٛ وَلَا شَفِيعٍۚٛۚ
أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ٤

  • He the Exalted is The One Who innovatively created the Skies and the Earth in a time duration of six days—time reckoned in a domain beyond this universe—(cf. 7:54; 10:3; 11:7; 25:59; 50:38; 57:4)
    Thereafter, He the Exalted ascended to the Supreme Sovereign Seat/Throne [beyond Skies of universe] —(cf. 7:54; 10:3; 11:7; 25:59; 57:4)
    Be aware; there is none at all, other than Him the Exalted, a protector and nor an intercessor to take stand for you people on being held guilty (cf. 2:107; 9:116; 18:26; 29:22; 42:8; 42:31; 42:44).
    Would you not, despite this disclosure, self become heedful to take lesson. (cf. 6:80; 10:3; 11:24; 16:17; 23:85; 37:155; 45:23) [32:04]

اللہ تعالیٰ وہ جناب  ہیں جنہوں نے تخلیق فرمایا سات آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔
 بعد ازاں، وہ جناب مزید بلندی پر مطلق اقتدار پر فائز ہوئے اور اعلیٰ ترین اقتداری عرش پر متمکن ہو کر تمام حکمرانی اور نظم و نسق کو اپنے اختیار میں لے لیا۔
متنبہ رہو؛ان جناب کے علاوہ مجرم قرار دئیے جانے پر قطعی کوئی بہی خواہ اور نہ کوئی حمایت و سفارش کرنے والا تمہارے لئے کھڑا ہو گا۔(محذوف کے لئے الشوریٰ۔۸)
کیا اس اطلاع کے باوجود تم لوگ ازخود نصیحت نہیں لو گے!

Root: خ ل ق; س ت ت; ع ر ش; ش ف ع   Man and the Universe - Why is the universe the way it is.

يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَمِنَ ٱلسَّمَاۤءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ
ثُـمَّ يَعْـرُجُ إِلَيْهِ فِـى يَوْمٛ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَ لْفَ سَنَةٛ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٥

  • He the Exalted manages and executes the Affair (certain command - event) by an Angel descending from the Sky towards the Earth —(cf. 10:3; 10:31; 13:2)
    Afterwards, he (the Angel) ascends towards Him the Exalted during a day, its measure has been a thousand lunar years of that time reference which you people keep reckoning/counting in journeying. (cf. 22:47; 70:4). [32:05]

وہ جناب  ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے آسمان سے لے کر زمین تک پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔
پھر وہ (فرشتہ)ان کی  جانب بلند ہوتا ہے، جو بلند و بالا ہے، ایک دن میں، جس کا پیمانہ  سفرتمہارے حساب کے مطابق ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔

Root: س ن ه;  ع ر ج; ع د د; ء ل ف

ذَٟلِكَ عَٟلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ
ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٦

  • Aforementioned reveal and substantiate He the Exalted is the Knower of what is invisible—non perceivable to others, and visible/perceivable for the creatures —(cf. 6:73; 13:9; 59:22; 64:18)
    Allah the Exalted is Absolutely Dominant—All-Mighty, the Fountain of Infinite Mercy (cf. 26:9, 68, 104, 122, 140, 159, 175, 191; 30:5; 44:42)— [32:06]

وہ تمام  جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔
مطلع رہو؛ان
کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ كُلَّ شَـىْءٛ خَلَقَهُۥۖ
وَبَدَأَ خَلْقَ ٱلْإِنسَٟنِ مِن طِيـنٛ ٧

  • He the Exalted is the One Who appropriately proportioned—harmonized each and all elements of the physical realm which He the Exalted has created.
    Further be informed, He the Exalted had initiated the Process of creation of Human Being corporeally with extract drawn from wet-clay —(cf. 7:12; 23:12; 38:76) [32:07]

وہ جناب ہیں جنہوں نے ہر ایک ایک شئے کو جسے انہوں نے تخلیق فرمایا ہے حسنِ توازن اور متناسب خصوصیت کا حامل بنایا ہے۔
اور انہوں نے انسان کی تخلیق کی ابتداریت ملی کھنکھناتی ترمٹی میں سے پسند کردہ ماحصل سے کی تھی۔(سورۃ السجدہ۔٧)

Man's Origin: History of his coming into being.       انسان اول دن سے انسان ہے، بشر کی تخلیق کے لئے خام مال کا بیان

ثُـمَّ جَعَلَ نَسْلَهُۥ مِن سُلَٟلَةٛ مِّن مَّآءٛ مَّهِيـنٛ ٨

  • -- Afterwards, He the Exalted rendered his (Human being) species as capable of reproduction originating from an organism (spermatid) created from a part of gently and secretively drawn extract which was taken from treated water rendered lacking vitality --. [32:08]

بعد ازاںاس کی نوع کو افزائش کے قابل بنایا ایک ذی حیات جرثومے  سے ابتدا کر کے جوایک خفیہ اور نرمی سے نکالے جوہر میں ابھرتا ہے۔یہ جوہر مہارت سے صاف کئے پانی سے بنتا ہے جس میں قوت حیات کمزور ہے۔

Root: م ھ ن      The Procreation of Man - Anisogamy  Origin Of Life And Procreation-Warning against Genetic Engineering

ثُـمَّ سَوَّىـٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦۖ
وَجَعَلَ لَـكُـمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٟرَوَٱلْأَفْـِٔدَةَۚ 
قَلِيلٙا مَّا تَشْكُـرُونَ ٩

  • Afterwards, He the Exalted stretched and proportioned—equated him, and He the Exalted blew within that (corporeal structure of Man) the Essence—Verbal Command of decision—finalized affair of Him [kun-take existence as living].
    Moreover, He the Exalted have inserted and rendered some part (neural tube) as instruments for the listening - acoustic faculty; and other as the observing - optical faculty; and few others as for Processing-Integrating-Perceiving: Baking establishment: the Brains (hindbrain, midbrain, and forebrain); as locus of gaining knowledge and enlightenment for you people. (cf. 16:78; 67:23)
    That gratitude which you people express is meagre compared to the favours done. [32:09][cf. 7:10; 23:78; 67:23) let us be not like majority, frequently say الحمد لله]

بعد ازاں انہوں نےاسے(زیرتخلیق انسان)تسویہ کی کیفیت دی،اور انہوں نےاس کے اندراپنے امرمیں سے حیات پذیر ہونے کا حکم پھونک دیا۔
اور انہوں نے ایک جزو کو تمہارے لئے سماعت کی لیاقت بنا دیا،اورایک کوبصارتوں کا ذریعہ،اور(قلیل تعداد میں)معلومات کو منظم/دم پخت کرنے(علم میں ڈھالنے)والے دماغ۔
جو شکر تم لوگ ادا کرتے ہو وہ عنایات کے مقابل قلیل ہے۔(السجدہ۔
٩)

تسویہ: بشر کو مقصدتخلیق کی انجام دہی کے لئے صلاحیتوں کا حامل بنایا ۔


وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِـى ٱلۡأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٛ جَدِيدِۭۚ
بَلْ هُـم بِلِقَآءِ رَبِّـهِـمْ كَٟفِرُونَ ١٠

  • And they, denying elite, questioned their audience; "Is it possible that when we would have disintegrated fully and inseparably absorbed in the Earth would we certainly be in a retrieved/cut from Earth renewed creation?" (cf. 13:5; 34:7; 50:15)
    Nay, they intend perplexing common man, the fact is they are deniers of accountability by their Sustainer Lord. (cf. 6:31; 6:154; 10:45; 13:2; 23:33) [32:10]

اور انہوں (عمائدین)نے لوگوں سے استفسار کرتے ہوئے کہا”کیا اس وقت جب ہم زمین میں ملیامیٹ /غائب /تلف ہو چکے ہوں گے تو کیا واقعی ہمیں از سر نو/ جدید تخلیق کر کے نکال لیا جائے گا؟“
ان کا یہ سوال کرنا  محض لوگوں کو ملتبس کرنا ہے۔ درحقیقت     اپنے رب کے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کا وہ انکار کرنے والے ہیں۔

Root: ج د د

قُلْ يَتَوَفَّىٰكُـم مَّلَكُ ٱلْمَوْتِ ٱلَّذِى وُكِّلَ بِكُـمْ
ثُـمَّ إِلَـىٰ رَبِّكُـمْ تُـرْجَعُونَ ١١

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them answering their question, "The Angel of the Death — the one who had been placed as guard [cf. 86:09] respectively with you people — will alienate you [from the disintegrated absorbed condition as you put it; they are nowhere lost but their disintegration is watched and recorded in the book- cf. 50:04].
    Afterwards [on your turn] you people will be escorted towards your Sustainer Lord. (cf. replica 45:15)" [32:11]

ان کے لوگوں کو متذبذب کرنے والے سوال کے جواب میں وضاحت کریں ،آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"تم لوگوں کو وہی موت کا فرشتہ زمین کے اجزا سے الگ کرے گا جسے تم لوگوں کے ساتھ انفرادی طور پر تمہارے معاملات کی نگرانی اور حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔
بعد ازاں یوم حساب جمع کئے جانے پر تمہیں تمہارے رب کی جانب لے جایا جائے گا"۔

Root: و ف ى; ء ل ك

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلْمُجْرِمُونَ نَاكِسُوا۟ رُءُوسِهِـمْ عِندَ رَبِّـهِـمْ
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَـمِعْنَا فَٱرْجِعْنَا نَعْمَلْ صَٟلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ١٢

  • And if you the Messenger wish to visualize their somersault, see this scene; when the criminals ducking their heads in the presence of their Sustainer Lord would submit saying: (cf. 6:27)
    "Our Sustainer Lord! We have observed and we have listened, therefore, You do send us back, we will act perfectly, we are now certainly convinced". [32:12]

سنیں اگر آپ(ﷺ)میں تصور میں لا سکیں تو انہیں دیکھیں جب اپنے رب کے حضور مجرم اپنے سروں کو انتہائی جھکائے سر تسلیم خم حالت میں یہ کہتے ہوئے درخواست گزار ہوں گے:
"ہمارے رب!ہم نے بصیرت افروز انداز میں حقیقت کو دیکھ بھی لیا ہے اور توجہ سے سن بھی لیا ہے۔چونکہ ہم نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے اس لئے آپ ہمیں حیات دنیا میں لوٹا دیں تاکہ ہم صالح لوگوں کی طرح عمل پیرا ہوں۔یقیناً اب ہم حقیقت پر ذہن و قلب سے یقین کرنے والے لوگ ہیں"۔

Root: ر ء س; ن ك س;ي ق ن

وَلَوْ شِئْنَا  لَءَاتَيْـنَا كُلَّ نَفْسٛ هُدَىـٰهَا وَلَـٰكِنْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ مِنِّى
لَأمْلَأَنَّ جَهَنَّـمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْـمَعِيـنَ ١٣

  • It may appease you; had Our Majesty so willed certainly We would have brought for each and every person her guidance [perforce against his will and determination] but the Word given to Ieblees by Me (cf. 38:85) has established proven —
    That "It is certain that I will fill the Hell-Prison with people who are held criminals in species Jinn and human beings, all collected together". (cf. 7:18; 11:19; 38:85) [32:13]

اس نکتے پر غور کریں کہ اگر ہمارا  مقصد و منصوبہ یہ ہوتا تو ہر ایک شخص کو اس کے لئے متعین کردہ ہدایت ودیعت کر دیتے کائنات کے ذرے ذرے کی مانند۔مگر حریت دینے کا  مقصد یہ تھا کہ اسے  (ابلیس)دیا ہوا ہمارا قول حقیقت بن کر ظہور پذیر ہو جائے (جو یہ تھا):
’’تیری  قسم کا جواب  یہ ہے کہ میں جہنم کو بھر دوں گا نوع جنات اور  نوع انسان میں سے ان افراد سے  جو تیرے نقش قدم پرچلے ہوں گے؛ بھرنااجتماعی انداز میں‘‘[فرمان کے لئے دیکھیں الاعراف۔۱۸]۔

Root: م ل ء

فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِيتُـمْ لِقَآءَ يَوْمِكُـمْ هَـٰذَآ إِنَّا نَسِينَٟكُـمْۖ
وَذُوقُـوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ١٤

  • (They will be told) Since you did not heed all your worldly life, therefore, you people taste the result of that which you forgot facing of your this Day. Our Majesty have certainly wilfully discarded you people. [Cf. 7:51;20:126]
    And you people taste the chastisement of permanence for that which you people kept doing adamantly". [32:14]

انہیں درخواست کا جواب دیا جائے گا"چونکہ تمہیں مناسب مہلت دی گئی تھی اور اپنے جرم کے دانستہ ہونے کا تم نے اعتراف بھی کر لیا ہے اس لئے اس کا مزہ لو اپنے آج کے اس دن کا  کیونکہ تم نے اس کا سامنا کرنا ہی بھلا دیا تھا۔یہ حقیقت  ہے کہ چونکہ جرم و سزا کے اصول واضح طور پر بتا دئیے گئے تھے اس لئے ہم جناب نے آج  تمہیں  درخور اعتنا نہیں گردانا ۔
اور
تم لوگ بھگتو اس  دائمی عذاب کو اس کے نتیجے میں جو تم لوگ ڈھٹائی سے کرتے رہتے تھے"۔


إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَٔايَٟتِنَاٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا۟ بِـهَا خَرُّوا۟ سُجَّدٙا
وَسَبَّحُوا۟ بِحَمْدِ رَبِّـهِـمْ
وَهُـمْ لَا يَسْتَكْبِـرُونَ۩ ١٥

  • It is a fact that only such people heartily and consciously believe in Our Aa'ya'at: Unitary Verbal Passages of Qur’ān who, when reminded with these passages, did voluntarily drop in front in the state of those who prostrate laying forehead on the Earth (Cf. 19:58)—
    And in prostration they repetitively praised the Glory of their Sustainer Lord.
    Take note, they are the people who never puff themselves with self presumed pride of grandeur. [32:15] [Cf. 16:49 Please prostrate]

ہم جناب  کے کلام پر مشتمل   کتاب (قرءان مجید)کے اقتباسات   پرشعوری طور پرصدق قلب سے  ایمان لانے والے صرف وہ ہیں  جنہیں جب ان کے ذریعے  نصیحت  کی گئی  تو  ازخود سجدہ ریز ہو ہو گئے۔
اور انہوں نے سجدہ ریز حالت میں اپنے رب کی عظمت و برتری ،شرف و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے تسبیح کی۔
اور یہ لوگ ہیں جو
کبھی  اپنے آپ  کوقابل تعظیم اور اعلیٰ و ارفع تسلیم کئے جانے کے خواہش مند نہیں ہوتے۔(آیت سجدہ ہے)

Root: س ج د; خ ر ر

تَتَجَافَـىٰ جُنُوبُـهُـمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِــعِ
يَدْعُونَ رَبَّـهُـمْ خَوْفٙا وَطَمَعٙا
وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنفِقُونَ ١٦

  • Their sides detach from spouse to move out of the bedrooms in reverence and fear —(Cf. 25:64; 51:17-18)
    While they call upon their Sustainer Lord, fearing and hoping favourable response (Cf. 7:56)—
    And they heartily spend some of the worldly resources for other's welfare out of that which Our Majesty have given them as sustenance. [only for seeking approval and attention of Allah the Exalted] (Cf. replica 2:3; 8:3; 22:35; 28:54; 42:38) [32:16]

ان کے پہلو  خوابگاہوں سےازواج سے    الگ ہوذکر الہی  میں مصروف  ہو تے ہیں ۔
وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں ذہن و قلب میں خوف اورپرامید احساس  رکھتے ہوئے۔
اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے  دوسروں کی فلاح و بہوبود پرخرچ کرتے رہتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]

Root: ض ج ع;ط م ع

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٚ مَّآ أُخْفِىَ لَـهُـم مِّن قُرَّةِ أَعْيُـنٛ
جَزَآءَۢ  بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٧

  • Since Allah the Exalted is appreciative and keeps account of even minor virtue, therefore, no individual exactly knows what is hidden for them from things of cool and comfort of eyes—
    As reward for that which they people kept doing. (Cf. replica 46:14; 56:24) [32:17]

چونکہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر اچھے عمل کو بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لئے کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیا کیا خفیہ ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہے۔
یہ  کامیابی آپ (ﷺ)کے رب کی جانب سے  صلہ /انعام ہے،جو انہیں  ان  اعمال کی قدردانی میں دیا گیا جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔

Root: ق ر ر

أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنٙا كَمَن كَانَ فَاسِقٙاۚ   لَّا يَسْتَوُۥنَ ١٨

  • Since behavior is reflective mirror of one's inner self, is the one who has persistently been true believer is alike the one who has been breacher of covenant -  aberrant? No, they are not equal and identical. [32:18]

چونکہ روش اور رویہ  مافی الضمیرکا آئینہ دار ہوتا ہے اس لئے کیا  وہ شخص جوصدق قلب سے  اپنے ایمان لانے کے اقرار و بیان پر دلجمعی سے قائم رہا  اس جیسا  ہے جو اپنے میثاق سے منحرف ہوتا رہا  اور حدود و قیود سے باہر ہو گیا ہے۔وہ کسی بھی حوالے سے  ایک دوسرے کےمساوی نہیں ہیں۔

Root: ف س ق

أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ
فَلَـهُـمْ جَنَّٟتُ ٱلْمَأْوَىٰ نُزُلَۢا  بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٩

  • As for those who accepted/believed and performed deeds/acts righteously/moderately [as per Book] (Cf. 3:57; 4:173; 30:15; 45:30) —
    So, as promised, they have residential gardens. Hospitality and banquets are arranged and are in wait for them. This is the reward for that which they people kept doing in worldly life. (Cf. 18:107; 29:58) [32:19]

جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے  جودل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے  تھے۔
تو حسب وعدہ ان کے لئے رہائشی باغات ہیں۔ضیافت اور مہمان داری مجلسوں کا ان کے لئے اہتمام کیا گیا ہے۔
یہ  کامیابی آپ (ﷺ)کے رب کی جانب سے  صلہ /انعام ہے،جو انہیں  ان  اعمال کی قدردانی میں دیا گیا جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُوا۟ فَمَأْوَىـٰهُـمُ ٱلنَّارُۖ
كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُواُ مِنْـهَآ أُعِيدُوا۟ فِيـهَا
وَقِيلَ لَـهُـمْ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِى كُنتُـم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢٠

  • And as for those are concerned who transgressed/distanced away from the Covenant and violated restraints, since it is culpable crime, thereby, their place of return and abode is the heated Hell-Prison —
    Every time they wanted to be taken out from her they will be denounced therein —(Cf. 5:37; 22:22)
    And it is said to them, "you people taste the torment of heat the one which you people used to contradict." (Cf. 34:42) [32:20]

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے  میثاق   سے انحراف  اور حدود کو پامال کیا، تو اس جرم کی پاداش میں ان کا ٹھکانہ دہکتی ہوئی جہنم کا قید خانہ ہے۔
جب جب وہ اندوہناک حالت سے نجات کے لئے اس (جہنم)سے نکلنے کی آرزو کریں گے۔ان کو اس میں  ہی قید رکھا جائے گا۔
اور ان  کے لئے اعلان کیا جائے گا:"تم لوگ اس جھلسا دینے والے عذاب کا مزہ چکھو جس کی تم لوگ تکذیب کیا کرتے تھے"۔

Root: ف س ق; ع و د;ذ و ق

وَلَنُذِيقَنَّـهُـم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَـىٰ  دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَـرِ لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٢١

  • He (Allah) did not stop them from creating corruption and disorder on Earth to avoid infringing their sense of freedom and autonomy. This was so that We might subject them to minor suffering in the worldly life, apart from the greater torment that awaits them in the Hereafter —The purpose of this minor torment in the worldly life is to create an opportunity for them to abandon transgression and return to their Covenant. (Cf. 9:26) [32:21]

ان جناب نے  ان کے زمین میں فساد و بگاڑاپیدا کرنے کے عمل کا روکا نہیں  تاکہ عنایت حریت کا احساس مجروح نہ ہو اور تاکہ ہم انہیں آئندہ زندگی میں  معمولی تکلیف سے  دو چار کریں جو آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ ہے۔ دنیا میں یہ معمولی عذاب کا مقصد ہے کہ امکان پیدا ہو جائے ان کا فسق سے واپس اپنے میثاق سے رجوع کرنے کے لئے۔

Root: ذ و ق

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّـرَ بِـَٔايَـٟتِ رَبِّهِۦ ثُـمَّ أَعْـرَضَ عَنْـهَآۚ
إِنَّا مِنَ ٱلْمُجْرِمِيـنَ مُنتَقِمُونَ ٢٢

  • And reflect who could be a greater evil monger-a distorter-creator of imbalances, over stepping than him who on being reminded with the Aa'ya'at: Verbal passages of the Book of His Sustainer Lord, purposely refrained-stayed away from them (Cf. 18:57) —
    It is certain that Our Majesty are the awarder of punishment to the convicted criminals. [32:22]

توجہ کرو؛اس سے بڑھ کر حقیقت کے منافی رویہ اپنانے والا کون ہے  جس کو اللہ تعالیٰ کے بھیجے اقتباسات کے ذریعے متنبہ کیا گیا تو اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے ان سے اعراض برتا۔
اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ ہم جناب مجرم قرار پائے لوگوں کوسزا دیں گے۔


وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِـتَٟبَ
فَلَا تَكُن فِـى مِرْيَةٛ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ
وَجَعَلْنَٟهُ هُدٙى لِّبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٢٣

  • Recall the fact admitted by Jews: Our Majesty had given Mūsā [alai'his'slaam] the Book. (Cf. replica 2:87; 11:110; 23:49; 25:35; 28:43; 41:45)
    Sequel to their not coming to argue and substantiate their assertions with the Book (Cf. 3:93; 46:4) you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should not stress clarification by confronting it (the Book; instead invite them on a common point Cf. 3:64-65).
    In any case Our Majesty had declared that Book as guidance exclusively for Bani Iesraa'eel. (Cf. replica 17:2) [32:23]

 آپ (ﷺ)اس حقیقت کو مدنظر رکھیں  کہ اہل یہود کو ہدایت پر رہنے کے لئےہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب سے نوازا تھا۔(وصل:2:87; 11:110; 23:49; 25:35; 28:43; 41:45)
چونکہ   اپنی اختراع کردہ باتوں کو عنایت کردہ کتاب میں دکھانے سے  لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں (وصل:ءال عمران۔93؛الاحقاف۔4)اس لئے آپ (ﷺ)کو چاہئے کہ  اس فکر و اضطراب میں مبتلا نہ ہوں کہ  انہیں  اس (کتاب)کا سامنا کرا کے قائل کرنے کا تردد کریں۔(وصل:
ءال عمران 64-65- بلکہ ایک بات پر یکجا ہونے کی دعوت کافی ہے کیونکہ ان کا جذباتی مسئلہ قرءان نہیں آپ کی ذات ہے)
کیونکہ یہ حقیقت تو مسلمہ ہے کہ ہم جناب نے اس کتاب کو بنی اسرائیل  ہی کے لئے  خصوصی طور پرسرچشمہ ہدایت قراردیا تھا۔

Root: م ر ى

وَ جَعَلْنَا مِنْـهُـمْ أَئِمَّةًۭ يَـهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَـرُوا۟ۖ
وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا يُوقِنُونَ ٢٤

  • And Our Majesty had rendered some awe feeling persons of their community as guides. They kept guiding people in accordance with Our Command: Book; while remaining steadfast coolly perseverant when noticed poor response and affect upon nation.
    And they remained attached with Our Aa'ya'at (verbal passages of book) ever convinced of their infallibility. [32:24]

اور ہم نے ان میں متقی افراد کولوگوں کےامام قرار دیا تھا؛ وہ ہم جناب کے  فرمان(کتاب اللہ)کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے  رہتےتھے، باوجود مایوس کن رد عمل کے  تحمل و برداشت سے مستقل مزاج رہتے ہوئے ۔
اور وہ لوگ ہماری آیتوں(کتاب کے مندرجات)کی حقانیت پر راسخ یقین کے ساتھ متصل رہے۔

Root: ي ق ن

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ ٱلْقَيَٟمَةِ فِيـمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ٢٥

  • [ignore them] It is certain that your Sustainer Lord is the One Who will decide—draw bifurcation between them — on the Day of Rising—Regarding the issue about which they kept differing—opposing. (Cf. 2:113; 10:93; 16:124; 22:17; 22:69; 39:3; 45:17) [32:25]

(اس  لئےرہنے دیں انہیں ان تخیلاتی خوش فہمی میں)یہ حقیقت ہے کہ آپ (ﷺ) کے رب  یوم قیامت ان کے مابین فیصلہ کر کے الگ الگ کر دیں گے۔اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔  

أَوَلَمْ يَـهْدِ لَـهُـمْ كَمْ أَهْلَـكْنَا مِن قَبْلِـهِـم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَـمْشُونَ فِـى مَسَٟكِنِـهِـمْۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ
لَءَايَٟتٍۖ
أَفَلَا يَسْمَعُونَ ٢٦

  • Leaving aside the guidance they were supposed to draw from the Book—has their obstinate defiance reached the point that even this report has failed to awaken them: that many nations before them, who once stood at the peak of glory, were annihilated by Our Majesty? These very people now wander about and pass through the dwellings those nations once inhabited.
    Surely, in the ruins of those destroyed communities lie manifest testimonies—signs that guide human beings towards caution, reflection, and taking heed.
    And if they have shut their eyes from beholding those ruins, have they not even listened to the historical realities narrated about them in the Qur’ān? [32:26]

کتاب سے ہدایت لینا تو ایک طرف  رہا،کیا ان کی  ضد اورہٹ دھرمی اس وجہ سے ہے کہ اس خبر نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ کتنی ہی بستیاں ان سے پہلے عروج کی انتہا کو پہنچی تھیں  جنہیں ہم جناب نے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔یہ لوگ انہی کے چھوڑے ہوئے مکانات اور مساکن میں گھومتے اور سیر و تفریخ کرتے ہیں ۔
یقینا ان اجڑی ہوئی قوموں کے کھنڈرات میں ایسی زبردست شہادتیں موجود ہیں  جو انسان کو ہوش میں لانے،احتیاط برتنے اور عبرت پکڑنے کی دعوت دیتی ہیں۔
اگر انہوں نے ان کھنڈرات کو دیکھنے کی آنکھ بند کر لی  ہے  تو کیا ان کے متعلق  قرءان مجید میں بیان کردہ تاریخی حقائق ان کے کانوں تک بھی نہیں پہنچے کہ سن ہی لیتے؟

Root: م ش ى; ق ر ن

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَـى ٱلۡأَرْضِ ٱلْجُرُزِ
فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعٙا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَٟمُهُـمْ وَأَنفُسُهُـمْۖ
أَفَلَا يُبْصِرُونَ ٢٧

  • Have they not seen—noticed that Our Majesty drive the water towards the lumpy - ploughed land —
    Since fresh water is the basic element of life, thereat Our Majesty brings out with it (water) crops; their herbivore mammals and they themselves eat out of that yield.
    [if they don't listen] Is their denial of being resurrected due to their overlooking oft seen farming. (For those seeking insight into the Hereafter, this common sight is sufficient evidence.) [32:27]

کیا انہوں نے یہ بھی نہیں  دیکھا کہ ہم جناب پانی کو  ہل چلائے کھیتوں کی جناب سیراب کرنے کے لئے  لے جاتے ہیں۔
اس طرح اس پانی کے ذریعے زمین سے اناج نکالتے ہیں۔ان کے پالتو مویشی اور وہ خود اس میں سے کھاتے ہیں۔
ان کا دوبارہ حیات پانے سے انکار کیا اس وجہ سے ہے کہ وہ کھیتی باڑی کو بھی نہیں دیکھتے۔(آخرت کو ماننے کی بصیرت کے لئے یہ عام منظر ہی کافی ہے)

Root: س و ق;ز ر ع

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْفَتْحُ
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٢٨

  • And they say, "Tell us the date/time/period when this Decision [of Last Day] will be taken —
    Disclose it,
    if you people are truthful in what you say?" (Cf. 10:48; 21:38; 27:71; 34:29; 36:48; 67:25) [32:28]

اور اللہ تعالیٰ کے روبرو احتساب کے لئے پیش کئے جانے کا انکار کرنے والے پوچھتے رہتے ہیں"یہ آخرت کے باب کو کھولنے والا دن کب اور کس تاریخ کو ہو گا۔
بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

Root:  ف ت ح

قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟ إِيَـمَٟنُـهُـمْ
وَلَا هُـمْ يُنظَرُونَ ٢٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "On the Decision's Day their accepting and believing will not benefit those who had earlier persistently refused to believe/accept —
    And nor they will have a moment of relief- reprieve- suspension of punishment. (Cf. 2:162; 3:88; 16:85; 21:40) [32:29]

آپ(ﷺ) ارشاد فرمائیں ؛"آخرت کا باب کھولنے والے دن ان لوگوں کا ایمان لانافائدہ نہیں دے گا جو اس سے قبل کے زمان میں رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان نہیں لایا تھا۔
اور نہ انہیں (ان کی درخواست پر)مہلت،وقفہ دیا جائے گا۔

Root:  ف ت ح

فَأَعْـرِضْ عَنْـهُـمْ
وَٱنتَظِرْ إِنَّـهُـم مُّنتَظِرُونَ 
٣٠

  • Since they remain obstinately committed to traditionalism, you (the Messenger) should avoid engaging with those who have willingly turned away from Our Universal Discourse (the Qur’ān). (Cf. 4:63; 4:81; 6:68)
    Instead, adopt an attitude of patient forbearance. From their words, it is apparent that they too, with a peculiar eagerness, await the unfolding consequences.
    [32:30] (Cf. 6:58; 7:71; 10:20; 10:102; 11:122)

چونکہ وہ قدامت پسندی پر بضد ہیں اس لئے آپ(ﷺ)ہر اس سے اعراض برتیں جس نے ازخود ہمارے سرگزشت کائنات(قرءان مجید)سے موڑ لیا ہے۔
 
 اور آرام سے انتظار کریں ۔ ان کے بارے  میں تو ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے  وہ بھی شوق سے منتظر ہیں۔

033-سُوۡرَةُ الأحزاب

Ayahs: 73;  No of words: 1501: Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ
وَ لَا تُطِعِ ٱلْـكَـٰفِرِينَ وَ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَۗ
إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا
 ١

  • O you the Elevated and Chosen Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    Remain ever under Allah’s protective shield while discharging the entrusted mission. Therefore, do not incline to, listen to or compromise with the word of those who deny to accept you as the Messenger, and of Muna'fi'qeen: the Impostor believers. (Cf. 25:52; 33:48)
    The fact remains, Allah the Exalted is absolutely Knowledgeable of hidden realities-considerations and is the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms. (Cf. 4:24; 76:30) [33:01]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے(محمد ﷺ)۔
آپ(ﷺ)اپنے فرائض منصبی  انجام دیتے ہوئےتندہی سے محتاط رہتے ہوئےاللہ تعالیٰ سے حفاظت اور پناہ کے خواستگار رہیں۔اور آپ(ﷺ)اور قرءان مجید کا کرنے والوں  اور کاذب مدعیان ایمان (منافقین)کی باتوں کو درخور اعتنا  نہ  سمجھیں۔

وَٱتَّبِعْ مَا يُوحَـىٰٓ إِلَـيْكَ مِن رَّبِّكَۚ
إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٙا٢

  • And you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] follow in letter and spirit that [Qur’ān] which is being verbally communicated to you by your Sustainer Lord in easy to comprehend composition (Cf. 10:109 replica; and 6:106).
    O the Mankind beware; Undoubtedly, Allah the Exalted is always aware of the acts you people perform. (Cf. 4:135; 31:16) [33:02]

آپ (ﷺ) خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا  ہوں  جو آپ کے رب کی جانب سے آپ کو  کتاب میں سے آسان فہم تدوین میں  کلام زبانی بھیجا جا رہا ہے ۔
اے لوگومتنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔

وَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱللَّهِۚ
وَكَفَـىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٙا ٣

  • And continue having trust and reliance in Allah the Exalted (Cf. 3:159; 4:81; 8:61; 26;217; 27:79; 33:48).
    And certainly Allah the Exalted solely suffices as the Guardian-Protector-Disposer of Affairs. (Cf. 4:81; 33:48) [33:03]

اور اپ (ﷺ)اپنی ذمہ داری نبھاہتے ہوئے بہتر نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے رہیں۔
اور یقیناً معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے کے لئے اکیلے اللہ تعالیٰ کافی ہیں۔

Root: ك ف ى

مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٛ مِّن قَلْبَيْـنِ فِـى جَوْفِهِۦۚ
وَمَا جَعَلَ أَزْوَٟجَكُـمُ ٱلَّـٟٓـِٔـى تُظَٟهِرُونَ مِنْـهُنَّ أُمَّهَٟتِكُـمْۚ

وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْۚ
ذَٟلِـكُـمْ قَوْلُـكُـم بِأَفْوَٟهِكُـمْۖ
وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَـهْدِى ٱلسَّبِيلَ ٤

  • Allah the Exalted has never sanctioned for any mature man the existence of paradox (Cognitive Dissonance) within himself — as if he could hold two diametrically opposed allegiances or make contradictory statements, as though emanating from two hearts inside his thoracic cavity.
    Exactly like it He the Exalted has never declared your respective wives as your respective mothers; those of whom you at your own estrange declaring ineligible pronouncing them as your mothers —
    And likewise
    He the Exalted has never declared your so called adopted sons as your sons.
    This paradoxical assertion of you people is merely empty expression by your mouths, void of reality.
    Learn;
    Allah the Exalted is expressing only the infallible fact, and it (the infallible Discourse) guides to the aright Path. [33:04]

اللہ تعالیٰ نےکسی مرد کے لیے قطعاً یہ بات جائز قرار نہیں دی کہ یکسر دو متضاد باتوں اور رویوں کو اپنائے  جیسے   وہ اس کی چھاتی  کے خالی حصےمیں رکھے دو دلوں سے امڈ رہے ہوں۔
 
بالکل اسی طرح  انہوں نے قطعاً تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں قرار نہیں  دیا ہے جنہیں تم نے اپنی طرف سے یہ کہہ کر دور کر دیا کہ وہ تمہاری مائیں ہیں۔
 
اور انہوں نے قطعاً تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے قرار دیا ہے۔
یہ تمہارا دعویٰ محض ایک زبانی بات ہے جو حقیقت سے خالی ہے۔
جان لو کہ اللہ تعالیٰ صرف حق بات فرماتے ہیں اور وہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

Root: ر ج ل;ف و ه

ٱدْعُوهُـمْ لِءَابَآئِـهِـمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ
 فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُـمْ فَإِخْوَٟنُكُـمْ فِـى ٱلدِّينِ وَ مَوَٟلِيكُـمْۚ
وَ لَيْسَ عَلَيْكُـمْ جُنَاحٌۭ فِيمَآ أَخْطَأْتُـم بِهِۦ وَ لَٟكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُـمْۚ
وَ كَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا
٥

  • You people are hereby directed to call them (adopted youngsters) by their respective biological Father. This is most appropriate and balanced conduct in the judgment of Allah the Exalted.
    However, if you knew not their biological fathers, thereby, since there is no concept of illegitimate child, therefore, they are your brothers [not sons] in the Prescribed Code and Physical Procedure [Islam]; And they are your Beneficiaries.
    And [in view of this injunction which is to take effect prospectively] there is no cause of embarrassment and disconcert for you people regarding what you erred in the past in this matter; but that is blameworthy which your hearts purposely did.
    Know it; Allah the Exalted is repeatedly Overlooking-Forgiving, the Merciful. (Cf. 4:96; 4:100; 4:152; 25:70; 33:50; 33:59; 33:73; 48:14) [33:05]

تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں(لے پالک)کو ان کے حقیقی والدوں سے منسوب کر کے پکارو۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا کرنا مناسب اور معتدل رویہ ہے۔
اگر ایسی صورتحال ہو تمہیں ان کے حقیقی والدوں کا نام معلوم نہیں تو وہ تمہارے ضابطہ حیات میں تمہارے  دینی بھائی ہیں  اور تمہارے اموال سے مستفید ہونے والے ہیں۔
اور اس بات کے پیش نظر یہ حکم اب سے نافذ العمل ہے اس لئے تم پر کچھ قابل گرفت نہیں جو اس معاملے میں تم نے خطا کی۔لیکن وہ قابل مذمت ہے جو تمہارے دلوں نے زیر مقصد عمداً کیا۔
مطلع رہو؛ یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور اکثر و بیشترمعاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

Root: ق س ط ;ع م د; خ ط ء

ٱلنَّبِىُّ أَوْلَـىٰ بِٱلْمُؤْمِنِيـنَ مِنْ أَنفُسِهِـمْۖ
وَ أَزْوَٟجُهُۥٓ أُمَّهَٟتُـهُـمْۗ
وَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُـمْ أَوْلَـىٰ بِبَعْضٍۢ فِـى كِتَٟبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَ ٱلْمُهَٟجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَـىٰٓ أَوْلِيَآئِكُـم مَّعْـرُوفًۭاۚ
كَانَ ذَٟلِكَ فِـى ٱلْـكِتَـٰبِ مَسْطُورًۭا
 ٦

  • The Elevated, Distinct and Chosen Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is more dear and revered with the true believers than their own selves —(cf. 3:31; 9:24; 71:36-38, 75:34-36)
    And his wives are more sanctified and revered as their mothers.
    Take note, the holders of womb's relationship — some are in worldly matters nearer-preferable [like parents] than others as laid down in the Book of Allah the Exalted —than the kinship of believers and emigrants; it is but restricted that you conduct to your womb-relatives in a decent recognized manner.
    This is what has been written, on lines, within the Mother/Principal Book. (Cf. replica 17:58) [33:06]

تمام مخلوقات میں جلیل القدر  اور برگزیدہ قرار دئیے بندے(محمد ﷺ) صدق قلب سےایمان لانے والوں کے  نکتہ نظر میں  خود ان کے اپنے نفوس سے زیادہ خیرخواہ،لائق ادب و احترام سردار ہیں۔(وصل/باہم ربط:ءال عمران۔31؛التوبہ۔24،المعارج۔36-38؛القیامہ۔34-36)
اور ان(ﷺ)کی ازواج مطہرات ان کی مائیں ہیں۔
اور جہاں تک ارحام کا تعلق رکھنے والے لوگ ہیں،ان میں سے بعض  بہ نسبت دوسرے کے زیادہ قریبی قرار دئیے گئے ہیں اللہ تعالیٰ کے علم پر مبنی کتاب کے مندرجات میں۔
ارحام کے رشتے کا قریبی ہونے کا تعلق ایمان لانے  والے مقامی اور مہاجرین کے حوالے سے ہے کہ تم لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں سے دنیاوی معاملات میں معاشرتی طور پر معروف فعل کرو۔
  یہ اصول مخصوص کتاب (ام الکتاب)میں مسطور/مرقوم ہے۔(الاحزاب۔۶)


وَ إِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّــۧنَ مِيثَٟقَهُـمْ وَ مِنكَ
وَ مِن نُّوحٍۢ وَ إِبْرَٟهِيـمَ وَ مُوسَـىٰ وَ عِيسَى ٱبْنِ مَرْيَـمَۖ
وَ أَخَذْنَا مِنْـهُـم مِّيثَٟقًا غَلِيظًۭا
 ٧
لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ عَن صِدْقِهِـمْۚ
وَأَعَدَّ لِلْـكَـٟفِرِينَ عَذَابًا أَلِيـمٙا ٨

  • And recall that Our Majesty had obtained their Pledge-Covenant from the Chosen, Dignified and elevated Sincere Allegiants, and from you Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    And from Noah [
    alai'his'slaam], and Iebra'heim [alai'his'slaam], and Mūsā [alai'his'slaam] and Easa [alai'his'slaam] son of Maryam.
    And Our Majesty had obtained from them a
    Pledge-Covenant unambiguously and strongly worded — [33:07]
    So that He the Exalted may question the Truthful: the Chosen and Elevated Allegiants about response received by them to their truth (see 5:109)
    Take note; He the Exalted has prepared a great torment for those who deliberately denied the Messengers and Infallible truth. [33:08]

میثاق کے متعلق لوگ حقیقت جان لیں؛جب ہم جناب نے نبیوں سے ان کا میثاق لیا تھا،اور آپ(ﷺ)سے میثاق لیا تھا۔
اور نوح اور ابرہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام)سے میثاق لیا تھا۔
اور ہم جناب نے ان تمام سے  کھلے اور واضح انداز میں   اٹل،ناقابل تنسیخ عہد لیا تھا۔(الاحزاب۔
٧)
اس کا مقصد یہ تھا کہ ان سچوں سے وہ جناب پوچھیں(روز قیامت)کہ انہیں ان کے سچ پر کیا ردعمل ملا تھا(حوالہ۔المائدہ۔۱۰۹)۔
اور ہم جناب نے ان رسولوں کا انکار کرنے والوں کے لئے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔(الاحزاب۔٨)

Root: ن ب و;و ث ق;  غ ل ظ


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُـمْ إِذْ جَآءَتْكُـمْ جُنُودٌۭ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ رِيحًۭا وَ جُنُودًۭا لَّمْ تَرَوْهَاۚ
وَ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرًا
٩
إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُـمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنكُـمْ
وَ إِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَٟرُ وَ بَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ
وَ تَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠
١٠
هُنَالِكَ ٱبْتُلِـىَ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا۟ زِلْزَالٙا شَدِيدٙا ١١

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You people recall the blessing of Allah the Exalted which was timely bestowed upon you —when allied forces had arrived. Since the Messenger had already assured you about Divine intervention and help, thereat Our Majesty sent de-stabilizing winds upon them [which you saw] and forces which you did not perceive (Cf. 9:26)—
    Remain mindful;  Allah the Exalted is ever observing — with full focus — whatever you do. (Cf. 48:24 replica) [33:09]

  • Recall the timely help when they had come to you besieging ground on your upper side and that which was deeper from your location —
    And when the eyes swerved in terror, scanning for the side of sudden attack, and the hearts leapt up to the throats —
    And some of you succumbed to cognitive dissonance conjecturing and questioning about Allah's promise of help, in the manner of exposing a crisis of trust. (Cf. 3:154) [33:10]

  • That was exactly the moment when the true believers were subjected to a liquefying trial and they were jolted with a very severe jolt [like some believers of earlier tines-2:214] — [33:11]

  • اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
    اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یادکروجب اتحادی افواج تم تک پہنچ گئی تھیں۔چونکہ رسول کریم نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی مدد کا یقین دلایا تھا اس لئے ہم جناب نے ان پر آندھی کو بھیجا۔اور ایسے لشکربھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں سکے تھے۔
    متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔

  • بروقت مدد کو یاد کرو جب وہ لوگ تم تک پہنچ گئے تھے، تمہارے مرتفع علاقے کی جانب سے اور تمہارے  نشیبی علاقے کی طرف سے گھیراؤ کرتے ہوئے۔
    اور جب آنکھیں وحشت و اضطراب کے عالم میں بار بار پلٹ رہی تھیں یہ دیکھنے کے لئے کہ اچانک حملہ کس سمت سے ہوگا، اور دلوں کی دھڑکنیں اس قدر تیز ہو گئیں کہ گویا حلق تک آ پہنچی تھیں۔
    اور تم میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے  وعدہ  کےبارے میں وہی بے بنیاد گمان کرنے لگے جو جاہلیت کے زمانے میں جذبات، شخصیت پرستی اور بے یقینی کی بنیاد پر کیا کرتے تھے۔

  • یہ وہ لمحہ تھا جب اہلِ ایمان کو ان کے ایمان کے خلوص و پختگی کو نمایاں کرنے کے لئے کڑی آزمائش میں ڈالا گیا، اور وہ شدید ترین نفسیاتی و جذباتی جھٹکوں سے ہلا دیے گئے—بالکل اسی طرح جیسے پہلے زمانوں کے مومنوں کو جھٹکے دیے گئے تھے (البقرۃ 2:214 کی طرح)

Root: ر و ح; س ف ل; ع ل و; ف و ق;ز ى غ; ز ل ز ل

وَإِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ
مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُـرُورٙا ١٢

  • And recall when the (Muna'fi'qeen) Impostor believers and those elite of Jews) - a disease - psychological disorder - envy, jealousy, and malice, bias and rancour is self implanted- nurtured within their hearts (locus of understanding - consciousness) —were exchanging views, saying:
    "Allah and His Messenger has promised to us nothing concrete, it is but for creating a deceptive delusion". [33:12]

ااور جب منافق اور  یہودیوں کے عمائدین، جنہوں نے ایک نفسیاتی بیماری — یعنی حسد اور سلسلہ نسب کی جلن — کو دکھ وریام بنا کر اپنے قلوب میں رچا بسا لیا تھا، آپس میں کہنے لگے:
’’اللہ اور ان کے رسول نے ہم سے وعدہ نہیں کیا سوائے دھوکہ دہی پر مبنی چکما دینے کے‘‘۔

Root: م ر ض;غ ر ر

وَ إِذْ قَالَت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْـهُـمْ يَٟٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَـكُـمْ فَٱرْجِعُوا۟ۚ
وَ يَسْتَـْٔذِنُ فَرِيقٌۭ مِّنْـهُـمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌۭ وَ مَا هِىَ بِعَوْرَةٍۖ
إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًۭا
١٣

  • And recall when a group — Muna'fi'qeen — in them said to accompanying Jews: "O you the people of Yathrib! there is absolutely no chance of gaining position and status for you people irrespective of victory or defeat, therefore, you people return back."
    While another group of them (
    Muna'fi'qeen) were asking permission of Elevated, Distinct and Chosen Revivalist [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to stay back, saying, "Our houses are bare and exposed", while factually those were not exposed —
    They intended nothing but an escape [from war]. [33:13]

اور جب اس گفتگو میں شریک لوگوں میں سے منافقین  کے  گروہ نے کہا’’اے اہل یثرب؛دفاع میں شرکت کرنے والےیہودی: کوئی  مقام  حاصل کرنے کا قطعی کوئی امکان نہیں  ہے  تم لوگوں کے لئے  شکست اور فتح دونوں صورتوں میں۔چونکہ جو  معاہدہ تم سے کیا گیا ہے  محض جھانسا ہے اس لئے بہتر ہے اپنے گھروں کو تم لوگ  واپس لوٹ جاؤ‘‘۔
جب کہ دوسری طرف ا ن میں سے ایک  گروہ اللہ تعالیٰ کے ذی شرف بندے(محمّدﷺ)سے جنگ کی تیاریوں میں شرکت  نہ کرنے کی اجازت کے خواہش مند تھے۔وہ کہہ رہے تھے’’حقیقت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں عورتیں غیر محفوظ اکیلی ہیں‘‘۔جبکہ حقیقت میں وہ غیر محفوظ حالت میں نہ تھے۔۔
وہ سوائے راہ فرار حاصل کرنے کے کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

Root: ط و ف;ع و ر

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْـهِـم مِّنْ أَقْطَارِهَا
ثُـمَّ سُئِلُوا۟ ٱلْفِتْنَةَ لَءَا تَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا۟ بِـهَآ إِلَّا يَسِيـرٙا١٤

  • [the falsity of their excuse of exposed houses may be seen] And had it so happened that the troops of the allied forces were allowed free passage to enter the city from its sides, pressing down upon them —
    Afterwards, had they (Muna'fi'qeen) been asked to stir up sedition and disturbance, they would certainly have complied with it. — and they would not have held themselves back from doing so, but would have yielded with utter ease. [33:14]

[ان کے گھروں کے کھلے ہونے کا عذر باطل ثابت ہوتا ہے]اور اگر ایسا ہوتا کہ اتحادی لشکروں کو اجازت دے دی جاتی کہ وہ شہر کے اطراف سے آزادانہ داخل ہو جائیں اور ان پر غالب آ بیٹھیں—
اس کے بعد اگر ان (منافقین) سے فتنے اور فساد برپا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تو وہ یقیناً اس پر آمادہ ہو جاتے— اور ہرگز اپنے آپ کو اس سے باز نہ رکھتے بلکہ نہایت آسانی کے ساتھ فوراً اس کے آگے جھک جاتے۔

Root: ق ط ر;ى س ر; ل ب ث

وَلَقَدْ كَانُوا۟ عَٟهَدُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلْأَدْبَٟرَۚ
وَكَانَ عَهْدُ ٱللَّهِ مَسْـُٔولٙا ١٥

  • They preferred avoidance, while they already pledged to Allah the Exalted [Cf. 8:15] before this that they would never turn their backs [in battle]
    And be aware: the covenant of Allah is one about which accountability is inevitably taken. [33:15]

انہوں نے راہ فرار کو اختیار کیا  حالانکہ اس کے کہ پہلے وقتوں میں اللہ تعالیٰ سے عہد کر چکے تھے کہ  اپنی پیٹھوں پر وہ پسپا نہیں ہوں گے۔
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ سے کئے عہد کے متعلق جواب دہی لازم ہے۔

Root: ع ھ د

قُل لَّن يَنفَعَكُـمُ ٱلْفِرَارُ إِن فَرَرْتُـم مِّنَ ٱلْمَوْتِ أَوِ ٱلْقَتْلِ
وَإِذٙا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلٙا ١٦

  • --You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "The flight will never avail you if you flee from death or from being slain.
    Take note; when you would have turned away from war, you will not be granted enjoyment of life but for a little while".-- [33:16]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’تم لوگوں کوفرار کوئی فائدہ نہیں دے گا اگر تم موت کے خوف سے یا جنگ میں قتل ہو جانے کے خوف سے بھاگو گے۔
اور جس وقت تم یہ کر چکو گے تو اس کے بعد سوائے مختصر وقت کے لئے تمہیں اس سے فیض یاب ہونے کا موقع نہیں ملے گا‘‘۔

Root: ف ر ر

قُلْ مَن ذَا ٱلَّذِى يَعْصِمُكُـم مِّنَ ٱللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُـمْ سُوٓءًا أَوْ أَرَادَ بِكُـمْ رَحْـمَةًۭۚ
وَلَا يَجِدُونَ لَـهُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٙا وَلَا نَصِيـرٙا ١٧

  • --You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Who is there who has capacity to keep shielding you people from Allah the Exalted? Both in case He the Exalted intends to inflict you with adversity or He the Exalted decides showering beneficence upon you".
    Beware;
    they will not find for them other than Allah the Exalted to act as a patron-guardian nor as provider of help.-- [33:17]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’کون ہے ایسی قوت والا جو تم لوگوں  سے اسے دور کر دے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے   فرمان ہو،اگر وہ تمہیں  تکلیف میں مبتلا کرنے کا ارادہ کریں یا تم پر رحمت نچھاور کرنے کا ارادہ فرمائیں۔
 اور  اللہ تعالیٰ کے سوائے  وہ لوگ کوئی خیر خواہ  سرپرست اور  نہ کوئی مددگار پائیں گے  جو انہیں  اس سزا سے نجات دلا سکے۔

Root: ع ص م

قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلْمُعَوِّقِيـنَ مِنكُـمْ وَٱلْقَآئِلِيـنَ   لِإِخْوَٟنِـهِـمْ هَلُمَّ إِلَيْنَاۖ
وَلَا يَأْتُونَ ٱلْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلٙا ١٨

  • Allah the Exalted has indeed laid bare—He knows well—those among you who act as obstructers, and those who say to their own brothers, "Come back to us."
    And they do not approach the fighting except rarely and in a most half-hearted manner.
    [33:18]

یقیناً اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو روکتے اور حوصلہ شکنی کرتے ہیں، اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں:"ہمارے پاس چلے آؤ"۔
 حالانکہ وہ خود جنگ کے مقابلے میں آتے ہی نہیں، سوائے کبھی کبھار، اور وہ بھی نہایت بے دلی کے ساتھ۔

Root: ع و ق

أَشِحَّةً عَلَيْكُـمْۖ
 فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَـهُـمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُـهُـمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِۖ
فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَـى ٱلْخَيْـرِۚ
أُو۟لَٟٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَٟلَـهُـمْۚ
وَ كَانَ ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرًۭا
 ١٩

  • They (Muna'fi'qeen: impostor believers) are miserly and mean-spirited towards you.
    Since they are inwardly coward, thereby
    when fear looms, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] saw them staring at you, their eyes rolling in panic like one overtaken by the throes of death.
    But once the fear passes, they lash you people with sharp tongues, greedy and begrudging when it comes to any gain.
    Such are the people who have never truly believed۔ Since weight of deeds is tied with truthful belief, therefore, Allah the Exalted has rendered their deeds null and void as weightless froth. (Cf. 2:217; 3:22; 5:5; 7:147; 9:17; 9:69; 11:16; 18:105; 47:9; 47:28; 47:32; 49:2)
    And this has always been an easy matter for Allah the Exalted to decree. (Cf. 4:30; 4:169; 33:39-replica) [33:19]

ان کی ذہنی و جذباتی کیفیت تم لوگوں کے لئے تنگ نظری  اور حریصانہ ہے۔
چونکہ ان میں سے بعض نے حامی بھر لی تھی اس لئے جب جنگ کا خوف طاری ہوا توآپ(ﷺ)نے انہیں دیکھا کہ کیسے  اپنی آنکھیں گھما گھما کر آپ پر نگاہ ڈالتے تھے اس شخص کی مانند جس پر موت کے خوف سے غشی چھا رہی ہو۔
پھر جب خوف کی فضا ختم ہو گئی تو تم لوگوں سے  انہوں نےاپنی تیز طرار  زبانوں سے چرب  زبان  بن گئے ،   دنیاوی فائدہ  کی حرص میں۔
یہ ہیں وہ لوگ جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے؛ چونکہ اعمال کی قدرو قیمت ایمان سے مشرو
ط
ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے زندگی میں کئے بہتر اعمال کو خس و خاشاک کر دیا۔
اور یہ سزا کا اجراء کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے آسان معمول کا معاملہ ہے۔

Root: ش ح ح;غ ش ى; ش ح ح; ل س ن;ى س ر

يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ۖ
وَ إِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّـهُـم بَادُونَ فِـى ٱلْأَعْـرَابِ يَسْـَٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُـمْۖ
وَ لَوْ كَانُوا۟ فِيكُـم مَّا قَٟتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا
٢٠

  • They (Muna'fi'qeen: impostor believers) kept imagining that the Confederates—the Allied Forces—would never withdraw.
    And if the Allied Forces had entered the city, they would have wished that they were suburbanites in the company of Arab-ized—foreign settlers, enquiring about your news [result of war].
    And if they were in your company they would not have participated in war except a few.
    [33:20]

وہ (منافقین)یہ خیال کر رہے تھے کہ اتحادی فوجیں بغیر جنگ کئے  کبھی واپس نہیں جائیں گی۔
اور اگر اتحادی فوجیں اندر آ جاتیں تو ان کی اس وقت یہ آرزو ہوتی کہ کاش وہ شہر کے نواح میں آباد عرب شہریت اختیار کرنے والوں کے مابین ہوتے
اور وہاں سے صرف تمہارے حالات کی خبر پوچھتے رہتے۔۔
اور اگر یہ تمہارے درمیان موجود  ہوتے تو لڑائی میں ہرگز شریک نہ ہوتے، سوائے محض رسمی اور معمولی سی شرکت کے۔

Root: ع ر ب; و د د

لَّقَدْ كَانَ لَـكُـمْ فِـى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٚ
 لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلۡءَاخِـرَ
وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيـرٙا٢١

  • (Keep in your heart this emphatic declaration) — Indeed, it has always been and remains the case that in the Messenger of Allah the Exalted (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam), there is a supremely excellent, lifetime model of conduct for you.
    And it has already been openly disclosed (cf. 6:162 — dedication of life, death, and every moment for Allah the Exalted) for emulation — but specifically for the one who places his hope with caution in Allah the Exalted, and who looks forward with confidence to the best outcome on the Last Day, and who keeps remembering and mentioning Allah the Exalted abundantly. [33:21]

قسم کے تحت بیان کردہ اس حقیقت کو اپنے ذہن و قلب میں محفوظ کرلو؛یقیناً ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول (محمد ﷺ) کی ذاتِ اقدس میں تمہارے لئے ایک نہایت اعلیٰ اور کامل العمرانی نمونۂ عمل موجود ہے۔
اور یہ بات پہلے ہی واضح طور پر بیان کر دی گئی ہے (cf. 6:162 — زندگی، موت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کرنے کا اعلان) کہ اس نمونے کی پیروی کی جائے—لیکن یہ خاص طور پر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں احتیاط کے ساتھ امید رکھتا ہے، آخرت کے دن بہترین انجام کا پُراعتماد منتظر ہے، اور اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرتا اور ذکر میں مشغول رہتا ہے۔
(الاحزاب۔٢١)

Root: ر ج و

وَلَمَّا رَءَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْأَحْزَابَ قَالُوا۟ هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥۚ
وَمَا زَادَهُـمْ إِلَّآ إِيمَٟنٙا وَتَسْلِيـمٙا ٢٢

  • And as soon as the true believers saw the Confederates—the Allied Forces departing in frustration from the city’s outskirts—they declared, “This is precisely what Allah and His Messenger had promised us, and Allah and His Messenger have spoken the truth.” (For contrast with Impostor believers see 33:12; 33:20)
    And it resulted augmenting them not but only in conviction of belief in Allah the Exalted, and salutations to the Messenger showing obeisance in a humble and respectful manner. [33:22]

اور جوں ہی صدق قلب سے ایمان لانے والوں نے اتحادی فوجوں کو مایوس اور درماندہ جاتے ہوئے دیکھا:تو انہوں نے کہا یہ ہے وہ نظارہ جس کا اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ)نے وعدہ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کریم نے وعدہ سچ کر کے دکھا دیا ہے۔
اور وعدہ کی حقانیت نے انہیں افزوں کر دیا ایمان
میں یقین محکم سے اور رسول کریم کے لئے
 انتہائی ادب و احترام کے انداز میں سلام  پیش کرنے کے حوالے سے۔
 

مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ رِجَالٚ صَدَقُوا۟ مَا عَٟهَدُوا۟ ٱللَّهَ عَلَيْهِۖ
فَمِنْـهُـم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُۥ وَمِنْـهُـم مَّن يَنتَظِرُۖ

وَمَا بَدَّلُوا۟ تَبْدِيلٙا ٢٣

  • Men, who were sincere in belief, belonging to the side identified in the battlefield as “the Believers” — stood truthful upon that which they had pledged to Allah the Exalted.
    Thereby, the one who was truly the Believer —he fulfilled his vow. And the one who was Impostor believer associated with them—he kept himself in wait.
    However not at all they (Impostor believers) could change the situation, in the manner of effective replacement. [33:23]

میدانِ جنگ میں جس فریق کو ’’مؤمنین‘‘ کے نام سے شناخت حاصل تھی، اس میں وہ مرد بھی تھے جو ایمان میں سچے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد پر ڈٹے رہے۔
چنانچہ جو حقیقی مؤمن تھا اُس نے اپنا عہد پورا کر دکھایا۔اور جو اُن کے ساتھ جُڑا ہوا منافق (Impostor believer) تھا، وہ تو بس انتظار میں پڑا رہا۔
مگر وہ (منافقین) ہرگز بھی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے کہ گویا کسی چیز کو مؤثر طور پر بدل دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔

Root: ع ھ د; ن ح ب; ب د ل

لِّيَجْزِىَ ٱللَّهُ ٱلصَّٟدِقِيـنَ بِصِدْقِهِـمْ
وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ إِن شَآءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْـهِـمْۚ
إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٙا رَّحِـيـمٙا ٢٤

  • This expedition was destined to become a decisive trial — so that Allah the Exalted may recompense the Truthful for their proven truthfulness —
    And so that He the Exalted may punish the Muna'fi'qeen: Impostor believers if He so wills,  or turn back to them in forgiveness should they repent and amend their ways (cf. 4:146).
    It is a fact Allah the Exalted has always been Oft-Forgiving, ever Merciful. (Cf. Replica 4:23; 4:106) [33:24]

اتحادی افواج کی  یہ یلغار مقدر ہی اس لئے کی گئی تھی کہ وہ ایک فیصلہ کن آزمائش ثابت ہو — تاکہ اللہ تعالیٰ سچے اہلِ ایمان کو ان کی ثابت شدہ سچائی کے صلہ میں بدلہ دے
اور جھوٹے مدعیان ایمان(منافقوں) کو چاہے تو سزا سے دوچار کر دیں ی
یا پھر ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان پر رحمت کی نظر  فرمائیں، بشرطیکہ وہ رجوع کریں اور اپنا طرزِ عمل درست کریں (ملاحظہ ہو 4:146)۔

Root: ن ف ق

وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِغَيْظِهِـمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْـرٙاۚ
وَكَفَـى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٱلْقِتَالَۚ
وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزٙا ٢٥

  • And Allah the Exalted repelled those who had refused to accept the Messenger, driven back in their rage, without attaining any benefit by their expedition۔
    And Allah the Exalted suffices for the Believers as Super Ally in the war.
    And Allah the Exalted is ever the All-Mighty, the Dominant. [33:25]

اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کیا تھا ناکام و نامراد واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا، غیظ و غضب سے کڑھتے ہوئے کہ  کوئی اپنے لئے بہتر نتیجہ اور کامیابی  وہ حاصل نہ کر سکے تھے۔
اور اللہ تعالیٰ  صدق دل سے ایمان لانے والوں کے لئے جنگ کا اتحادی ہونا مطلق کافی ہیں۔
مطلع رہو؛ اللہ تعالیٰ مطلق قوت کے مالک اور دائمی، ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غالب ہیں۔

Root: غ ى ظ; ن و ل;ك ف ى

وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَٟهَرُوهُـم مِّنْ أَهْلِ ٱلْـكِـتَٟبِ مِن صَيَاصِيـهِـمْ
وَقَذَفَ فِـى قُلُوبِـهِـمُ ٱلرُّعْبَ 
فَرِيقٙا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقٙا ٢٦
وَأَوْرَثَكُـمْ أَرْضَهُـمْ وَدِيَٟرَهُـمْ وَأَمْوَٟلَـهُـمْ وَأَرْضٙا لَّمْ
تَطَـُٔوهَاۚ
وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٙا ٢٧

  • Know the later action: Allah the Exalted brought down those People of the Book who had supported and reinforced the Allied Forces, pulling them out from their lofty fortresses and strongholds at the very place of gathering. (Cf. 59:2)
    And He the Exalted cast deep terror into their hearts —while you were exiling a group from City and another group you were captivating. (Cf. 59:2-7) [33:26]
    And He caused you to inherit their land, and their abodes, and their goods and lands which were not yet brought under cultivation —
    And Indeed
    Allah the Exalted is eternally the Causality Determiner upon every and all things - to set them right-fix them in measure. [33:27]

اس واقعہ کو بھی جان لو؛ان جناب نے اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے اس قبیلے کو جنہوں نے اتحادی فوجوں کی پشت پناہی کی تھی ان کے قلعوں سے نیچے اتار کر ایک جگہ اکٹھا کر دیا تھا۔
اور ان جناب نے ان کے دلوں میں رعب اور دہشت کو طاری کر دیا تھا۔چونکہ ان کوشہر بدر کرنے کا فرمان جاری ہو گیا تھا اس لئے تم ان کے ایک فریق کو شہر بدر کر رہے تھے اور دوسرے فریق کو جو مزاحمت کر رہا تھا انہیں گرفتار کر رہے تھے۔
اور ہم جناب نے ان کی متروکہ زمین اور گھروں اور ان کے متروکہ اموال کا وارث بنا دیا ور اس زمین کا بھی جس کو انہیں نے کاشت نہیں کیا تھا۔
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ہر شئے اور معاملے کو پیمانوں اور حدود میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔(الاحزاب۔
٢٧)

Root: ر ع ب;  ق ذ ف; و ر ث; و ط ء


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
قُل لِّأَزْوَٟجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَـهَا
فَتَعَالَيْـنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحٙا جَـمِيلٙا ٢٨

  • O you the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention —
    You explain the duality of your position to all of your wives (as guideline for eternal guidance of truly believing would be spouses); "Hypothetically speaking,  if you had entered into matrimonial bond with me in the desire and seeking of wherewithal of worldly life and her charms —
    Having known it after Nikah, I would have said in decisive tone "You conclude immediately with me. I will pay you the settled monetary obligation and just see you off in a dignified respectful manner of segregation." [33:28]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔
آپ(ﷺ)اپنی تمام ازواج
کو اپنی حیثیت کے دو پہلو واضح کر کے بتائیں (تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے مؤمن بیویوں کے لیے رہنمائی بن جائے):"بطور مفروضہ،فرض محال؛ اگر تم نے میرے ساتھ نکاح اس خواہش اور ارادے سے کیا ہوتا کہ دنیاوی زندگی کا سامان اور اس کی زیب و زینت حاصل ہو—اور یہ حقیقت نکاح کے بعد سامنے آتی—تو میں  فیصلہ کن انداز میں تم سے کہتا"میں اورآپ  دونوں یہ رشتہ اسی وقت  ختم کر دیتے ہیں۔میں تمہیں تمہارا مقررہ مالی حق(مہر)ادا کر دیتا ہوں اور پھر آپ کو نہایت عزت و احترام سے رخصت کر دیتا ہوں"۔

Root: س ر ح

وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡءَاخِـرَةَ
فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَٟتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيـمٙا ٢٩

  • And if you had entered into marriage with me with the resolve that you would cherish love for Allah the Exalted and His Messenger, and that you longed for a lofty station in the Hereafter—
    Since this way of thought and this spirit are not only praiseworthy but in fact precisely aligned with the command of Allah that you adhered, I assure you that you have already been deemed successful. For the truth is: Allah the Exalted has already prepared, among the women who persevere in noble conduct, the most magnificent reward especially for you—namely, abiding with me at the Station of Praise (al-Maqām al-Maḥmūd)." [33:29]

اور اگر آپ نے مجھ   سے نکاح اس ارادے سے کیا  تھا کہ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول  سے محبت رکھو  اور آخرت میں اعلیٰ مقام کی آرزو مند تھیں۔
چونکہ یہ طرز فکراور جذبہ  نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ درحقیقت  حکم
الٰہی  کے عین مطابق ہے  ، میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم کامیاب قرار پا چکی ہو کیونکہ یہ حقیقت ہے اللہ تعالیٰ نے    حسن سلوک پر کاربند رہنے والی خواتین میں خاص کر آپ سب کے لئے سب سے عظیم اجر کا انتظام  کر دیا ہے (مقام محمودا پر  میرے ساتھ رہائش کا)"۔

Root: ع د د

يَٟنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ
مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَٟحِشَةٛ مُّبَيِّنَةٛ يُضَٟعَفْ لَـهَا ٱلْعَذَابُ ضِعْفَيْـنِۚ
وَكَانَ ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرٙا ٣٠
وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ
وَتَعْمَلْ صَٟلِحٙا نُؤْتِـهَـآ أَجْرَهَا مَـرَّتَيْـنِ
وَأَعْتَدْنَا لَـهَا رِزْقٙا كَرِيـمٙا ٣١

  • O you the Wives of the Elevated and Chosen Allegiant!
    Hypothetically speaking;
    Should any one of you show manifest obliviousness —in reverence on arrival of your husband who is Firstly Our Messenger, then your husband — displeasing distancing on two occasions has been authorized against her —
    -- And this prescribing of protocols for the Messenger has always been an easy matter for Allah the Exalted--. [33:30]

  • And anyone of you who stands for Allah the Exalted and [is not oblivious rather] stands and withholds taking precedence in speaking for His Messenger —
    And she acts righteously Our Majesty will give her reward on two occasions —
    And Our Majesty have prepared for her a par excellence provision—sustenance. [33:31]

اے تخلیقات میں افضل اور اشرف قرار پائے بندے کی ازواج مطہرات !توجہ کریں۔
آپ چونکہ رسول اللہ کے نکاح میں ہیں اس لئے
  ایک محال بات کو مفروضہ کے طور بیان کر رہے ہیں؛اگر آپ میں سے کوئی ایک زوجہ مطہرہ ادب رسول سے  صریحاً تغافل کی مرتکب ہوں گی کہ ان کی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال نہ کریں  تو ان کے لئے دہری  عارضی جدا کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
۔۔
اور یہ اداب  رسول ،ان سے محبت و ادب کے پیمانے  مقرر کرنا اور ان سے آزماناا اللہ تعالیٰ کے لئے  معمول کا معاملہ ہے۔۔
اور آپ میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کے لئے ادب سے کھڑی ہو گی۔
اور باقی صالح اعمال ادا کرتی رہیں گی تو ہم جناب اس کا اجر اسے دو بار دیں گے۔
اور ہم جناب نے اس کے لئے بہترین رزق کی فراوانی کا انتظام کر رکھا ہے۔

Root: ف ح ش;ى س ر;ق ن ت; م ر ر;  ع ت د;  ك ر م

يَٟنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٛ مِّنَ ٱلنِّسَآءِۚ
إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ
 فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِـى قَلْبِهِۦ مَـرَضٚ
وَقُلْنَ قَوْلٙا مَّعْـرُوفٙا ٣٢

  • O wives of the Elevated and Chosen Allegiant! Whatever was hypothetically stated earlier is only meant to highlight this Divine evaluation of your status:
    You are not comparable to any among the womenfolk — not a single one equals you. You are remarkably distinct.
    Since you have sincerely adhered to a protective, cautious conduct, the demand upon you is this: do not soften or limber your tone of speech, lest anyone in whose heart a psychological or carnal ailment has taken root should be stirred with false expectations.
    And when you speak, then let it always be in words that are recognized, unambiguous, and dignified — speech of known propriety and sound intent. [33:32]

اے تخلیقات میں افضل اور اشرف قرار پائے بندے کی ازواج مطہرات !توجہ کریں۔(ان باتوں سے غبار خاطر نہ ہو،آپ کا مقام فضیلت واضح کرنا مقصود ہے)
آپ سب ازواج مطہرات کائنات میں تمام خواتین میں سے کسی ایک سے بھی قابل موازنہ نہیں ہیں۔
چونکہ آپ سب محتاط طرز عمل پر کاربند رہی ہیں اس لئے اگر تقویٰ کی معراج پر رہنا چاہتی ہیں تو نرم  اور لوچ والے لہجے میں بات نہ کریں۔چونکہ لہجے بھی مفہوم رکھتے ہیں اس لئے ایسا شخص جس کے قلب میں نفسیاتی اور نفسانی بیماری براجمان ہے وہ ایک غلط تصور کی امید لگا لیتا ہے۔
اور آپ جب بھی کسی سے بات کریں توایسا قول  کہیں جو معروف ،جانا پہچانا،اچھی مناسب بات ہو۔

Root: ط م ع; م ر ض

وَ قَرْنَ فِـى بُيُوتِكُنَّ وَ لَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ ٱلْجَٟهِلِيَّةِ ٱلْأُولَـىٰۖ
وَ أَقِمْنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَ ءَاتِيـنَ ٱلزَّكَوٰةَ وَ أَطِعْنَ ٱللَّهَ وَ رَسُولَهُۥٓۚ
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُـمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ
 وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيـرًۭا
 ٣٣
وَٱذْكُـرْنَ مَا يُتْـلَـىٰ فِـى بُيُوتِكُـنَّ مِنْ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْـمَةِۚ
إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفٙا خَبِيـرًا ٣٤

  • And remain poised and content within your homes; and you should not display yourselves in ostentation  —as was the display of the former age of emotionalism by some.
    And keep maintaining
    Ass-sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and devotion; and regularly pay Az-zaka'at: the due financial liability for economic uplift of society —And you all listen and accept the word of Allah the Exalted and His Messenger —
    [don't feel any offence by this address of Allah and his Messenger in 33:28 onwards, purpose being] Allah the Exalted certainly intends only to remove away from you all that might cause brain scattering-disconcert-fidgeting-commotion-ruckus, O you the companions of the Household.
    And intends that He may synchronize you; hearts and mind of Messenger and you
    — his wives, in the manner of making the relationship void of  brain scattering-disconcert-fidgeting-commotion ruckus. [33:33]

  • And you all [address to the wives] remember and make mention that which is being recited word by word in your houses—the Ayahs of  Allah the Exalted  and the Wisdom— the pearls of guidance embedded within them —
    It is a certain fact Allah the Exalted has always been Subtle in His awareness, and Fully Aware of every delicate refinement. [33:34]

اور اپنے گھروں میں سکون اور اطمینان سے قیام پذیر رہو؛ اور اپنے ظاہری وجود کو نمایاں کرنے یا سج دھج کے ساتھ ظاہر ہونے سے گریز کرو، جیسا کہ پرانے جذباتی دور میں خود نمائی اور شہرت کے لیے بعض عورتیں کیا کرتی تھیں۔۔
 اور
آپ سب نماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ قائم رکھیں؛ اور زکوٰۃ ادا کرتی رہیں، جو کہ معاشرتی فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی کے لیے تمہاری مالی ذمہ داری ہے۔اور تم سب اللہ تعالیٰ کے فرمان اور ان کے رسول کے فرمان کو سنو اور دل سے قبول کرو۔
(33:28 سے آگے کا خطاب تمہیں ناگوار محسوس نہ ہو، کیونکہ مقصد یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کا ارادہ محض یہ ہے کہ وہ (رسول اور ان کی بیویوں)تم سب سے ہر قسم کی ذہنی بے چینی، افراتفری اور انتشار کو دور کرے، اے گھر کے افراد!(یہاں واحد "گھر"کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ رسول کریم ایک وقت میں ایک ہی گھر میں موجود ہو سکتے ہیں، لہٰذا وہ اور ان کا گھرانہ خطاب کا مرکز ہیں)۔
اور یہ بھی کہ وہ تمہیں دل و دماغ اور عمل میں ہم آہنگ کرے، تمہارے اور رسول کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم کرے جو ہر قسم کی بے سکونی اور انتشار سے پاک ہو۔

اور تم سب (بیویوں سے خطاب)یاد کرو اور ذکر کرو ان باتوں کا جو تمہارے گھروں میں اللہ  تعالیٰ کی آیات اور حکمت و دانائی کے موتیوں میں سے لفظ بہ لفظ تلاوت کی جاتی ہیں—
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  تمام تر نفاست،،لطافت اور باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہر لمحہ ہر شئے سے باخبر ہیں۔

Root: ل ط ف;  ق ر ر; ز ك و


إِنَّ ٱلْمُسْلِمِيـنَ وَٱلْمُسْلِمَٟتِ
وَٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِ
وَٱلْقَـٟنِتِيـنَ وَٱلْقَٟنِتَٟتِ
وَٱلصَّٟدِقِيـنَ وَٱلصَّٟدِقَٟتِ
وَٱلصَّٟبـِـرِينَ وَٱلصَّٟبِـرَٟتِ
وَٱلْخَٟشِعِيـنَ وَٱلْخَٟشِعَٟتِ
وَٱلْمُتَصَدِّقِيـنَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٟتِ
وٱلصَّٟٓئِمِيـنَ وٱلصَّٟٓئِمَٟتِ
وَٱلْحَٟفِظِيـنَ فُرُوجَهُـمْ وَٱلْحَٟفِـظَٟتِ
وَٱلذَّٟكِـرِينَ ٱللَّهَ كَثِيـرٙا وَٱلذَّٟكِرَٟتِ
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَـهُـم مَّغْفِـرَةٙ وَأَجْرًا عَظِيـمٙا ٣٥

  • Know the certain fact about: those who have these characteristics of conduct: The Muslim men and the Muslim women —
    And the Believing Men and the Believing women —
    And the obediently and respectfully standing Men and Women —
    And the Truthful Men and the Truthful Women —
    And the coolly persistent and perseverant Men and the Women —
    And the humble Men and the humble Women —
    And the generous Men and the Women —
    And the Fasting Men and the Women —
    And the Men guarding their chastity-genitalia and the Women guarding their chastity —(Cf. 23:5; 24:30; 70:29)
    And the Men and the Women who frequently remember and mention Allah the Exalted:
    Allah the Exalted has arranged for them a preserve and a splendid return/reward. (Cf. 48:29) [33:35]

یقیناً جو لوگ ان خصائص کے حامل ہیں: مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں —
 اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ——
 اور فرمانبردار اور عزت کے ساتھ کھڑے ہونے والے مرد اور عورتیں —
 اور سچے مرد اور سچی عورتیں —
اور صبر کرنے والے مرد اور عورتیں —
 اورخشوع و خضوع ،
عاجز ی کا طرز عمل اختیار کرنے والے مرد اور  عورتیں —
 اور سخاوت کرنے والے مرد اور سخاوت کرنے والی عورتیں —
اور روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں —
 اور جو مرد اپنی عفت کی حفاظت کرتے ہیں اور جو عورتیں اپنی عفت کی حفاظت کرتی ہیں —
 اور وہ مرد اور عورتیں جو اللہ تعالیٰ  کو کثرت سے یاد کرتے ہیں،
 اللہ تعالی نے ان سب کے لیے بڑی مغفرت اور عظیم انعام مرتب کیا ہے۔

Root: ق ن ت; ص و م;ف ر ج; ع د د


وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٛ وَلَا مُؤْمِنَةٛ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَـهُـمُ ٱلْخِيَـرَةُ مِنْ أَمْرِهِـمْۗ
وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلٙا مُّبِينٙا ٣٦

  • Take note; never has there been—nor will there ever be—any discretionary right for a believing man or a believing woman, once Allah the Exalted and His Messenger have passed judgment on a matter in the Qur’ān. At that moment, no prerogative remains for them to set limits or standards in their own affair. (Cf. 28:68)
    And whoever defies Allah the Exalted and His Messenger—since wilful violation of the limits is culpable crime (Cf. 4:14), therefore he has indeed strayed, a straying most evident, leading to utter ruin. [33:36]

یاد رکھو! کبھی ایسا ہوا ہی نہیں — اور نہ کبھی آئندہ ہوگا — کہ کسی مردِ مؤمن یا عورتِ مؤمنہ کو کوئی اختیاری حق حاصل ہو، جب اللہ تعالیٰ اور اُن کے رسول  کریم نےکسی معاملے بارے قرءا ن مجید میں  فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔ اُس وقت اُن کے اپنے معاملے میں کسی حد یا معیار مقرر کرنے کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔

اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے قول کی نافرمانی کرے — چونکہ مقررہ حدود کی دانستہ خلاف ورزی  تعزیری جرم ہے(وصل:النساء۔14) —تو انجام کار اُس نے یقیناً راہِ ہدایت کو چھوڑ کر واضح گمراہی اختیار کر لی ہے، جو کھلی تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِىٓ أَنعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ 
أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ 
وَٱتَّقِ ٱللَّهَ
وَتُخْفِـى فِـى نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ 
وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰـهُۖ
فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٚ مِّنْـهَا وَطَرٙا زَوَّجْنَٟكَـهَا
لِـكَىْ لَا يَكُونَ عَلَـى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ حَرَجٚ فِـىٓ أَزْوَٟجِ أَدْعِيَآئِـهِـمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْـهُنَّ وَطَرٙاۚ
وَكَانَ أَمْـرُ ٱللَّهِ مَفْعُولٙا ٣٧

  • Narrate to the people that nothing remains “personal” for the Messenger, leader of humanity. : Recall the moment when when you the Messenger were saying insistently to the one upon whom Allah the Exalted had bestowed favour, and upon whom you had conferred favour —
    "Keeping holding your wife to yourself with whom you have broken matrimonial tie (Cf. 2:229)—and sincerely endeavour seeking protection of Allah the Exalted."
    And you were withholding apprehension to yourself, which, Allah the Exalted was about to make public about the act of your adopted son
    —
    -- And in principle Allah the Exalted best deserves your feel of awe for Him the Exalted--.
    Thereby, not acting as you wanted when Zaid [Allah is pleased with him] had
    fully resolved and completed separation from her, Our Majesty joined her in marriage to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    The objective of this marriage was that thenceforth no burden of guilt and blameworthiness may ever weigh upon the believers regarding (ex-) wives of their adopted sons once they have finalized separation from them.
    Be mindful; the decree of Allah the Exalted is
    destined to be carried into effect.. [33:37]

اور لوگوں کو وہ واقعہ بیان کریں جو آپ کا ذاتی معاملہ ہے کیونکہ انسانیت کے رہنما کے لیے کوئی معاملہ ذاتی نہیں ہوتا: جب آپ رسول محترم، اُس شخص سے (زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) اصرار سے فرما رہے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اور آپ نے بھی احسان کیا تھا—
"تم اپنی مطلقہ بیوی سے امساک کرو (یعنی عدت مکمل ہونے پر اسے اپنے پاس رکھو؛ یہ امساک یا تو دوبارہ نکاح کی صورت میں ہوتا ہے یا عدت کے بعد جدا کرنا ضروری ہے، جیسا کہ سورہ بقرہ:229 میں وضاحت ہے) اور اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگور رہو تندہی سے محتاط رہتے ہوئے"۔
آپ (ﷺ)اصرار کر رہے تھے کہ طلاق کو حتمی نہ کرے اپنے اس اندیشے کو
دل میں چھپاتے ہوئے کہ لوگ کیا کہیں گے (کیونکہ طلاق ناپسندیدہ فعل ہے)جسے اللہ تعالیٰ کسی بھی لمحے آشکارہ کرنے والے تھے  باوجود اس کے کہ  آپ لوگوں کے رد عمل کا اندیشہ کر رہے تھے۔
۔۔
حالانکہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ اصولی طور پر اللہ تعالیٰ ہی ہیں  جن کا استحقاق ہے کہ ان سےسب سے زیادہ  احساسِ خوف  رکھا جائے ۔۔(جملہ معترضہ)۔۔
چونکہ ہماری منشاء تھی اس لئے
جب زید (رضی اللہ عنہ)نے اپنی بیوی کے ساتھ تعلق کو حتمی طور پر ختم کر دیا (عدت ختم ہونے پر رخصت کر دیا)، تو ہم نے آپ رسول محترم کو اس عورت (زید کی مطلقہ) کا شوہر بنا دیا۔
اس نکاح کا مقصد یہ تھا کہ اس کے بعد مومنوں کے دلوں میں اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے نکاح کے حوالے سے احساسِ گناہ یا الزام کی کیفیت پیدا نہ ہو جب وہ (منہ بولے بیٹے)اپنی بیویوںسے حتمی قطع تعلق کر چکے ہوں۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم ضرور نافذ اور پورا ہو کر رہتا ہے۔

Root: م س ك     Marriage with ex-wives of adopted sons

مَّا كَانَ عَلَـى ٱلنَّبِىِّ مِنْ حَرَجٛ فِيـمَا فَرَضَ ٱللَّهُ لَهُۥۖ
سُنَّةَ ٱللَّهِ فِـى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُۚ

وَكَانَ أَمْـرُ ٱللَّهِ قَدَرٙا مَّقْدُورًا٣٨

  • There has never been any blame upon the Elevated and Chosen Allegiant in doing what Allah the Exalted has apportioned for him with its due time and measure.
    This has been the established precedent of Allah the Exalted among the Elevated and Chosen Allegiants who have passed in timeline
    —
    And the command of Allah the Exalted has always been a decree precisely determined and perfectly measured. [33:38]

اللہ تعالیٰ کے منتخب اور  تخلیقات میں اشرف اوربلند مقام والے قرار دئیے بندے (نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم) پر کوئی  قابل اعتراض بات نہیں کہ وہ وہی کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وقت اور حکم کے مطابق مقرر کیا۔
یہ وہ طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان بندوں کے لیے بھی مقرر کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔
اور یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کا ہر امر اور فیصلہ ہمیشہ سے طے شدہ، سوچا سمجھا، نپا تلا، منظم  اور مقصدیت کا حامل ہوتا ہے
۔

;Root: ف ر ض; خ ل و

ٱلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَٟلَٟتِ ٱللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُۥ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا ٱللَّهَۗ
وَكَفَـىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٙا ٣٩

  • They were the ones conveying and passing on the Messages of Allah the Exalted while feeling awe for Him and used not to dread anyone except Allah the Exalted.
    Be mindful; Allah the Exalted is All-Sufficient for reckoning. (Cf. 4:6) [33:39]

اللہ تعالیٰ کے مختص اور افضل قرار پائے یہ بندے تھے جو اللہ تعالیٰ  کے رسول کی حیثیت میں لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچاتے رہتے تھے؛اور  وہ ہر  لمحہ  اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت سے مرعوب رہتے تھے اور  اللہ تعالیٰ  کے علاوہ کسی  ایک سے بھی مرعوب نہیں ہوتے تھے۔
متنبہ رہو؛
حساب لینے کے لئے اللہ تعالیٰ مطلق کافی ہیں۔

Root: ك ف ى

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٛ مِّن رِّجَالِـكُـمْ 
وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَـمَ ٱلنَّبِيِّــۧنَۗ
وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٙا٤٠

  • Know it; Never has Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] been the patriarch (forefather) of any one of your men.
    But to put the record straight, Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is the Messenger of Allah the Exalted for you people. And Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is earlier the Authenticating Accomplisher of galaxy of those Men who were declared and are the personally Chosen, Dignified and Elevated Sincere Allegiant of Allah the Exalted.
    Be aware, Allah the Exalted is absolutely knowledgeable of all aspects of each and all that exists.
    (Cf. 48:26) [33:40]

یہ حقیقت جان لو؛ محمّد (ﷺ)تم لوگوں  میں کسی ایک  مرد کے بھی  کبھی بھی رشتہ اور تعلق  میں اس کے ابانہیں ہیں ۔
اس کے برعکس محمّد(ﷺ)تم  سب لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔اور فرائض رسالت سونپے جانے سے قبل محمّد(ﷺ)ان تمام مردوں کے مختتِم اور مصدق ہیں  جو اللہ تعالیٰ کے از خود سے چنے،مخلَص،تمام مخلوقات پر عالی شرف و عظمت قرار دئیے بندے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے میثاق لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کے متعلق اس حقیقت کو جان لو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے کے متعلق مطلق علم رکھتے ہیں۔(الاحزاب۔٤٠)

تحلیل نحوی و صرفی۔ متن کا تجزیہ و تشریح

  خَاتَـمَ ٱلنَّبِيِّــۧنَ: The authenticating accomplisher of the Galaxy of chosen and exalted allegiants  Root: ن ب و

آقائے نامدار، محمَد ﷺ کا منفرد اعزاز اور عالمی و  دائمی حیثیت   :مختِمِ  نبوت ،مختتِم رسالت  اور متکمل ِدین و ہدایت


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
ٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ ذِكْرٙا كَثِيـرٙا ٤١
وَسَبِّحُوهُ بُكْـرَةٙ وَ
أَصِيلًا٤٢

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You are directed to remember Allah the Exalted, recalling and mentioning quite often —(Cf. 2:200; 4:103; 8:45; 62:10) [33:41]

  • And you describe repetitively the Praises of Him the Exalted at morning and evening. (Cf. 48:9; 76:25) [33:42]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو،کثرت سے 
ہمہ وقت یاد رکھنے اور تذکرہ کرنے کے انداز میں۔
ان جناب کوتمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہوئے  صبح اور شام ستائش/تسبیح کرو ۔

Root: س ب ح

هُوَ ٱلَّذِى يُصَلِّـى عَلَيْكُـمْ وَمَلَٟٓئِكَتُهُۥ لِيُخْرِجَكُـم مِّنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِۚ
وَكَانَ بِٱلْمُؤْمِنِيـنَ رَحِـيـمٙا ٤٣

  • He the Exalted is the One Who graciously attends to you people appreciatively; and His Angels too appreciate invoking for you (Cf. 40:7) —
    Its aim is that He the Exalted may
    through the Messenger with the Grand Qur'an move you people out of the depths of darkness into the visible light. [Cf. 2:257;5:16;14:01; 57:9; 65:11]
    And He the Exalted has always been Merciful for the Believers.
    [33:43]

وہی جناب ہیں جو تم پر مسلسل نگاہِ شفقت رکھتے ہیں؛ اور ان کے فرشتے بھی تمہارے لیے رحمت اور مغفرت کی دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں (مطالعہ کریں: غافر، 7)۔
اس مسلسل التفات کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تمہیں مختلف اندھیروں سے نکال کر رسول کریم کے ذریعےایک یگانہ اور حیات بخش روشنی یعنی ایک یگانہ اور حیات بخش روشنی یعنی قرآن کی طرف لے آئیں۔(مطالعہ کریں البقرۃ۔257؛المائدہ۔16؛ابراہیم۔1؛الحدید۔9اورالطلاق۔11)
اور اس حقیقت سے باخبر رہو کہ وہ جناب صدق قلب سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے والوں کے ساتھ نہایت رحمت
فرمانے والے ہیں ۔(الاحزاب۔٤٣)

Root: ء ل ك

تَحِيَّتُـهُـمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُۥ سَلَٟمٚۚ
وَأَعَدَّ لَـهُـمْ أَجْرٙا كَرِيـمٙا ٤٤

  • Their —believers greetings and pleasantries, the Day they confront him - the Messenger, would be paying him obeisance. (Cf. 10:10; 14:23)
    And He the Exalted has prepared/kept ready for them a reward par excellence. [33:44]

اس دن جب مؤمنین رسولِ کریم ﷺ کے حضور بالمشافہ حاضر ہوں گے، ان کا ادب و احترام اور اطاعت کا اظہار اس صورت میں ہوگا کہ وہ خدمتِ اقدس میں سلام و آداب پیش کریں گے۔
اور اللہ ربّ العزت نے ان کے لیے ایک نہایت ہی باوقار اور عظیم الشان انعام تیار کر رکھا ہے۔

 Root: ك ر م; ع د د


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
إِنَّـآ أَرْسَلْنَٟكَ شَٟهِدٙا وَمُبَشِّـرٙا وَنَذِيرٙا ٤٥
وَ
دَاعِيًا إِلَـى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ
وَسِرَاجٙا مُّنِيـرٙا ٤٦

  • O you the Elevated and Distinct Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    It is a certain fact that
    Our Majesty have sent you forth as a Witness (Cf. 2:143), and as a Guarantor of glad tidings, and as a
    Perpetual Warner — Revivalist and Admonisher (Cf. 6:19)— [33:45] (Cf. 48:9 Replica)

  • And as  an Authorized Herald, inviting towards Allah the Exalted solely by His sanction  —
    and as a Figure of Unique Prominence characteristically Reflector of Visible Light: illuminator and Sustainer of the Life. [33:46]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےاشرف اور محترم  قرار پائے بندے(محمد ﷺ)حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)کوزمین پر بھیجا ہے بحثیت گواہ/تصدیق کنندہ؛ اورخوش کن نتائج کی خبر اور ضمانت دینے والے،اور زمان و مکان میں کفر و نافرمانیوں کے خوفناک انجام سے پیشگی  خبردار اور انتباہ کرنے  کا فریضہ انجام دینے کے لئے۔
اوران کی اجازت سے اللہ تعالیٰ کی جانب آنے کی دعوت دینے والے کی حیثیت سے۔
اور آپ(ﷺ)کو بھیجا ہے ایک ایسے  یکتادرخشاں حسن و جمال کے پیکر کے طور جو نور کو منعکس کر دینے والا ہے ۔(الاحزاب۔
٤٦)

Root: س ر ج

کیا آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کے جسد مبارک کا سایہ تھا؟ہر سوال کا جواب قرءان مجید سے لینا ہے۔

وَبَشِّـرِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ بِأَنَّ لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلٙا كَبِيـرٙا ٤٧

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] guarantee-ensure the glad tidings to the heartily believing people—With the news that for them is a great bounty from Allah the Exalted. [33:47]

آپ اپنی اس حیثیت سے صدق دل سے ایمان لانے والوں کو خوشخبری کی ضمانت دے دیں۔یہ بتا کر کہ  اللہ تعالیٰ کی جانب سےایک بڑا    ایوارڈ ان کے لئے مختص اور پذیرائی کے لئے منتظر ہے۔(الاحزاب۔٤٧)

وَلَا تُطِعِ ٱلْـكَـٟفِرِينَ وَٱلْمُنَٟفِقِيـنَ
وَدَعْ أَذَىٰـهُـمْ
وَتَوَكَّـلْ عَلَـى ٱللَّهِۚ
وَكَفَـىٰ بِٱللَّهِ وَكِـيلٙا ٤٨

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should not hearken to and accept the word of Non-believers and Muna'fi'qeen: Impostor believers —(Cf. 33:1)
    And remain composed and calm on their irritating assertions —
    And continue having trust and reliance in Allah the Exalted. (Cf. 3:159; 4:81; 8:61; 27:79; 33:3)
    And certainly Allah the Exalted solely suffices as the Guardian-Protector-Disposer of Affairs. (Cf. 4:81; 4:132; 4:171; 33:3) [33:48]

اور آپ(ﷺ)کو،آپ اور قرءان مجید کا کرنے والے اور کاذب مدعیان ایمان کی باتوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھنا چاہئے۔
اور ا آپ (ﷺ)ن کی ہرزہ سرائی سے کوفت کو خیر باد کہہ دیں۔
اور اپ (ﷺ)اپنی ذمہ داری نبھاہتے ہوئے بہتر نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے رہیں۔
اور یقیناً معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے کے لئے اکیلے اللہ تعالیٰ کافی ہیں۔

Root: و د ع; ك ف ى


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
إِذَا نَكَحْتُـمُ ٱلْمُؤْمِنَٟتِ ثُـمَّ طَلَّقْتُـمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ
فَمَا لَـكُـمْ عَلَيْـهِنَّ مِنْ عِدَّةٛ تَعْتَدُّونَـهَاۖ
فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحٙا جَـمِيلٙا ٤٩

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    When you (people) have taken the believing women into the fold of Nikha—wedding, thereafter [some time lapsed]; for compelling reasons you disassociated them before having established intimate matrimonial association [intercourse-consummation] with them:
    Thereby, there is not at all an obligation upon you to impose waiting period upon them; which you respective husbands otherwise need to count [just one proclamation of husband's firm decision of divorce ends the tie of Nikah in this case].
    Therefore, you (husbands) are directed to give them the sustenance gifts [in accordance with injunction mentioned in 2:236-237]; and in par excellence respectful manner see them off [instantly to their parent's house or to the one/place where she was a maid-servant]. [33:49]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
جب تم ایمان والی خواتین کو نکاح کے بندھن میں لائے،بعد ازاں  کسی ناگزیر معقول وجہ سے ان کو طلاق دے دی اس سے پہلے کہ ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم ہوں؛
تو ایسی صورت میں تم پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ ان پر عدت کی مدت مقرر کرو، جسے تم بطور شوہر گننا پڑے۔ (یعنی ایسی حالت میں شوہر کے ایک واضح اور مضبوط فیصلے کے ساتھ طلاق دینے کے اعلان پر ہی نکاح کا بندھن ختم ہو جاتا ہے)۔
لہٰذا تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو ان کے اخراجات کے لیے ہدیے دو (جیسا کہ سورۃ البقرہ: 236-237 میں ذکر ہے)؛ اور بہترین طریقے سے ان کو احترام کے ساتھ رخصت کرو، چاہے وہ والدین کے گھر جائیں یا کسی ایسی جگہ جہاں وہ بطور خادمہ تھیں
۔

Root: ط  ل ق;  ن ك ح; ع د د;  س ر ح


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِى
إِنَّـآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٟجَكَ ٱلَّٟتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ
وَ مَا مَلَـكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ
وَ بَنَاتِ عَمِّكَ وَ بَنَاتِ عَمَّٟتِكَ
وَ بَنَاتِ خَالِكَ وَ بَنَاتِ خَٟلَٟتِكَ
ٱلَّٟتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ
وَ ٱمْرَأَةًۭ مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
خَالِصَةًۭ لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَۗ
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْـهِـمْ فِـىٓ أَزْوَٟجِهِـمْ وَ مَا مَلَـكَتْ أَيْمَٟنُـهُـمْ
 لِـكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌۭۗ
وَ كَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا
٥٠

  • O you the Designated One of Divine Eminence [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention —
    It is hereby affirmed and sanctioned by Our Majesty as lawful for you your wives whom you have already paid their wedding gifts - determined and settled obligations —(Cf. 4:24)
    They include: the emigrant believing women in the wedlock of non-believers who had taken asylum under your protection and responsibility, whose responsibility was placed upon your person by Allah the Exalted —
    And one of the daughters of your paternal uncle, and one of the daughters of your paternal aunts —
    And one of the daughters of your maternal uncle, and one of the daughters of your maternal aunts.
    These first cousins had migrated along with you
    —
    Moreover, your that wife is affirmed lawful who was a well known staunch Monotheist Believing Woman. --It is a fact; She had proposed herself for the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] provided he the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant agreed to affectionately take her in Nikah: wedding--.[Parenthetic sentence] —
    This sanctification notification is exclusively and solely for you the Elevated and Chosen Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], exclusive of the permission for other believers.
    Our Majesty certainly know what Our Majesty have enjoined upon believers with regard to time/occasion in the matter of spouses from protected families and housemaids with permission of their family head - and believing women in the wedlock of non-believers who have taken asylum in society.
    This pronouncement of sanctification of your marriages executed in the past is for the purpose that any objection causing disconcert - contraction might not lie against you.
    Beware; Allah the Exalted is repeatedly Overlooking/Forgiving, the Merciful. (Cf. 4:96; 4:100; 4:152; 25:70; 33:5; 33:59; 33:73; 48:14)[33:50]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔
ہم جناب نے آپ کے لئے ازواج مطہرات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرنے کے حلال ہونے کی توثیق فرما دی ہے۔وہ ازواج جن کے طے کردہ تحائف آپ انہیں عنایت کر چکے ہیں۔
اس توثیق میں شامل ہیں:وہ مہاجر خاتون  جن کا تعلق ان سے تھاجو کافر کے نکاح میں تھیں اور ان کی حفاظت اور معاملات کی دیکھ بھال،ذمہ داری اور اختیار آپ(ﷺ)کے ہاتھ میں تھا۔اللہ تعالیٰ نےان میں سے انہیں آپ(ﷺ)کے سپرد کیا تھا۔
اورجو آپ(ﷺ)کے چچا کی بیٹیاں
ہیں؛ اور جو آپ(ﷺ)کی پھوپیوں کی بیٹیاں ہیں۔اور جو آپ(ﷺ)کے ماموں کی بیٹیاں ہیں؛ اور جو آپ(ﷺ) کی خالاؤں کی بیٹیاں ہیں۔آپ کی یہ رشتہ دار خواتین وہ ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ  مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی۔
اور ہم جناب  نےان خاتون سے آپ کے عقد نکاح کو حلال قرار دیا ہے جن کی شہرت  فلسفہ توحید پر قائم مومنہ کی تھی ۔
۔۔یہ حقیقت ہے کہ انہوں (مومنہ خاتون)نے اپنے آپ کو  اللہ تعالیٰ کے مختص بندے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا پیغام دیا تھا اس تاکید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے نبی انہیں
  بخوشی نکاح میں لینے  کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔(جملہ معترضہ،مومنہ خاتون کے ساتھ نکاح کے متعلق معلومات)
ماضی میں کئے ان نکاحوں کے حلال ہونے کی توثیق  کا اطلاق صرف آپ(ﷺ)کے لئے ہے،یہ ایمان والوں کے لئے طے کردہ قوانین سے الگ ہے۔
ہم جناب پہلے ہی اُس بات کو تمام پر ظاہر کر چکے ہیں جو ہم نے ان پر موقع کی مناسبت سے ان کی ازواج کے متعلق فرض کیا ہے اور ان    پہلے سے منکوحہ مہاجرخواتین اور لاوارث ملازماؤں کے بارے میں جن   کی حفاظت اور معاملات کی دیکھ بھال،ذمہ داری اور اختیار ان کے ہاتھ میں ہے۔
آزواج مطہرات سے نکاحوں کی توثیق کا فرمان اس لئے جاری کیا ہے تاکہ کسی قسم کا اعتراض، اور بے جا الزام آپ(ﷺ)پر نہ لگایا جا سکے۔
مطلع رہو؛ یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور اکثر و بیشترمعاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

Root: ف ى ء; ع م م; خ و ل; ھ ج ر; ن ك ح; و ھ ب; م ر ء; ف ر ض

تُرْجِـى مَن تَشَآءُ مِنْـهُنَّ وَتُـْٔوِىٓإِلَيْكَ مَن تَشَآءُۖ
وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَۚ

ذَٟلِكَ أَدْنَـىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُـنُـهُنَّ وَلَا يَحْـزَنَّ وَيَرْضَيْـنَ بِمَآ ءَاتَيْتَـهُنَّ كُلُّهُنَّۚ
وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِـى قُلُوبِكُـمْۚ
وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيـمٙا ٥١

  • O Designated One of Divine Eminence! Hear and take notice: We have exclusively permitted for you:

  • To defer any of your wives whom you wish, and

  • To bring into your residence any of your wives whom you wish to stay with you.

  • And should you seek intimacy with any whom you had previously deferred [for legitimate reasons, cf. 2:222], there is no blame or objection upon you by others.

  • This arrangement is better suited so that their eyes may rest in comfort, that they may not grieve, and that they may be content and appreciative of what you have given to all of them. (Cf. 66:1)

  • Beware: Allah the Exalted fully knows what lies in your hearts,

  • And Allah the Exalted is the Eternally All-Knowing, eternally imperturbably Forbearing. [33:51]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔ہم نے آپ کے لیے خصوصی اجازت مقرر کی ہے:

  • کہ آپ ازواج مطہرات میں سے جس محترمہ سے فی الحال رفاقت مؤخر کرنا چاہیں، انہیں مؤخر رکھیں، اور

  • جس محترمہ سے آپ رفاقت چاہتے ہوں، انہیں اپنے پاس طلب فرما لیں۔

  • اور جن ازواج سے آپ نے بوجوہ (البقرۃ ۲۲۲)دوری اختیار کی تھی،  تو  دوری کی وجہ ختم ہونے پر جس کو چاہیں   رفاقت میں طلب کر لیں جس کے نتیجے میں کسی کے لئے آپ پر اعتراض نہیں ہو گا۔

  • یہ طریقہ کار ان کے لیے زیادہ موافق ہے تاکہ ان کی آنکھوں کو سکون حاصل ہو، وہ غمگین یا آزردہ نہ ہوں، اور وہ خوش و خرم ہوں جو آپ نے تمام ازواج مطہرات کو عنایت کیا ہے۔

  • خبردار رہو: اللہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں جو تمہارے دلوں میں ہے،
    اور اللہ تعالیٰ جامع علم، بدرجہ اتم بردبار، جذبات سے منزہ ہیں۔

Root: ر ج و; ع ز ل; د ن و;  ق ر ر;  ح ل م

لَّا يَحِلُّ لَكَ ٱلنِّسَآءُ مِنۢ بَعْدُ
وَلَآ أَن تَبَدَّلَ بِـهِنَّ مِنْ أَزْوَٟجٛ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُـهُنَّ
إِلَّا مَا مَلَـكَـتْ يَمِينُكَۗ
وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ رَّقِيبٙا ٥٢

  • Because of proclamation of sanctification of your earlier wedded wives the Women are not permissible for you, the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in future timeline.
    Neither it is permissible that you might
    desire for marriage other women in place of deceased wives, no matter if beauty of their faces might have surprised you.
    The exception to this prohibitive injunction for marrying in future is in respect of She-
    emigrant married woman in the fold of non-believer who has become under control and responsibility of your right hand.
    People should know; Allah the Exalted is eternally watchful over everything and affairs.
    [33:52]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔آج کے بعد تمام زمان میں عورتیں آپ(ﷺ)کے لئے حلال نہیں ہیں۔
اور نہ کبھی یہ حلال ہوگا کہ آپ  اپنی ازواج میں سے  فوت ہو جانے والی  کے متبادل کسی  اور کے ساتھ نکاح کرنے کا ارادہ کریں  چاہے ان کے چہرے کا حسن آپ کو کتنا ہی متعجب کرے۔
اس حکم پابندی سے استثناء صرف اس منکوحہ مومنہ مہاجر عورت کے لئے ہے جو آپ(ﷺ)کے ہاتھ کی پناہ اور ذمہ داری  میں آئے گی۔
اے لوگو متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر ایک ایک شئے اور معاملے پر ہمیشہ نگرانی فرماتے ہیں۔

Root: ع ج ب; ر ق ب


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
 لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤْذَنَ لَـكُـمْ إِلَـىٰ طَعَامٍٛ
غَيْـرَ نَٟظِرِينَ إِنَىٰـهُ وَلَـكِنْ إِذَا دُعِيتُـمْ فَٱدْخُلُوا۟
فَإِذَا طَعِمْتُـمْ فَٱنتَشِـرُوا۟
وَلَا مُسْتَـْٔنِسِيـنَ لِحَدِيثٍۚٛۚ
إِنَّ ذَٟلِـكُـمْ كَانَ يُؤْذِى ٱلنَّبِىَّ
فَيَسْتَحْيِىۦ مِنكُـمْۖ وَٱللَّهُ لَا يَسْتَحْيِىۦ مِنَ ٱلْحَقِّۚ
وَإِذَا سَأَلْتُـمُوهُنَّ مَتَٟعٙا فَسْـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٛۚ
ذٟلِـكُـمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُـمْ وَقُلُوبِـهِنَّۚ
وَمَا كَانَ لَـكُـمْ أَن تؤْذُوا۟ رَسُولَ ٱللَّهِ

 
وَلَآ أَن تَنكِحُوٓا۟ أَزْوَٟجَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦٓ أَبَدٙاۚ
إِنَّ ذٟلِـكُـمْ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ٥٣

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    Do not enter the private houses of the Designated One of Divine Eminence [Muhammad
    Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] except when the permission is given for you for a meal —
    And do not behave like those who arrive early and wait around for its preparation. Rather, enter only at the time you are invited.
    Since the invitation was for meal party, therefore, you are advised to disperse after you have partaken of the meal. And do not linger on as those who remain seeking from him some narrative/discourse
    (other than the Qur’ān Cf. 10:15)
    It is to tell you that indeed such seeking of a narrative/discourse on visit by some adamant elite has been causing disconcert to the Designated One of Divine Eminence [Muhammad
    Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]
    However, if you keep sitting he feels shy and reluctant to ask you to leave. But Allah the Exalted does not feel reluctant, embarrassment, or constraint in stating the Fact plainly.
    And when you ask for something from them, then/for reason you ask them from behind a partition.
    This is better non disconcerting manner for your hearts and their hearts.
    It is just a precautionary advice. We know that causing irritation, disconcert or annoyance to the Messenger of Allah the Exalted was and is not at all thinkable and appropriate for you people —
    And nor that you would marry ever think of proposing marriage with his wives for ever after his natural death [Allah alienates him corporeally].
    It is certain that the reverence and honour you cherish for him and his wives is a great gesture in the judgment of Allah the Exalted.
    [33:53]

اے وہ لوگوں جنہوں نےرسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
اللہ تعالیٰ کے مختص کردہ تمام پر اشرف و محترم قرار دئیے مخلص بندے(محمّد ﷺ)کے گھروں میں داخل ہونے سے آپ لوگوں کو منع کیا جاتا ہے سوائے اس وقت جب آپ کو کھانے کی دعوت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔
ان لوگوں سے مختلف انداز میں آئیں جو قبل از وقت پہنچ کرکھانے کے تیار ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔بلکہ اس وقت آئیں جب آپ کو مدعو کیا گیا ہے،چونکہ اہل خانہ اس وقت خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اس لئے آپ داخل ہوں۔

چونکہ اہل خانہ دعوت کے انتظامات سے تھک چکے ہوتے ہیں اس لئے جب آپ لوگوں نے کھانا نوش کر لیا ہے تو محفل سے خوش دلی سے رخصت ہو جائیں۔اور آپ لوگ دلچسپی سے کوئی حدیث معلوم کرنے کی خواہش میں بیٹھے رہنے والے نہ بنیں۔
اس خواہش کے متعلق حقیقت تم لوگ جان لو کہ عمائدین مشرکین کی غیر قرءان حدیث کی خواہش اللہ تعالیٰ کے مختص کردہ تمام پر اشرف و محترم قرار دئیے مخلص بندے(محمّد ﷺ)کے لئے باعث کوفت و ناگواری ہے۔
چونکہ وہ مہمانوں سے احترام سے پیش آتے ہیں اس لئے آپ لوگوں کورخصت ہو جانے کا کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔
مگر اللہ تعالیٰ پنہاں حقیقت میں سے کسی نکتے کو برملا کہنے میں عار کا پہلو نہیں سمجھتے۔
اور اداب میں یہ شامل ہے کہ جب آپ ازواج مطہرات سے کسی شئے کاسوال کرتے ہیں تو ان سے پس دیوار رہتے ہوئے سوال کرو۔
یہ انداز ادب و حیا تم لوگوں کے قلوب اور ان ازواج مطہرات کے قلب کے لئے زیادہ پاکیزہ طرز عمل ہے۔
اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کریم کو کوفت اورناگوار احساس پہنچانے کا تم لوگ کبھی اپنے زیبا نہیں سمجھتے۔
اور نہ تم لوگوں نے اس کو زیبا سمجھا ہے کہ ان(ﷺ)کی طبعی موت کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنے کا خیال بھی آئے۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم لوگوں کے ان(ﷺ)اور ازواج مطہرات کے لئے عظمت و ادب کے احساسات عظیم سوچ کے عکاس ہیں۔

Root: ط ع م; ن ش ر; و ر ء;ء ب د;  ن ك ح

إِن تُبْدُوا۟ شَيْـٔٙا أَوْ تُخْفُوهُ
فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٙا ٥٤

  • Whether you people reveal/state a thing or conceal/withhold it  (Cf. 2:84; 3:29; 16:19; 64:4) —
    [it is one and the same thing] Since Allah the Exalted is certainly Ever All-Knower/Aware of everything. (Cf. 4:32) [33:54]

اگر آپ لوگ کسی بات کو برملا  کہتے ہیں یا اسے اخفا رکھتے ہیں،اس سے فرق نہیں پڑتا:
کیونکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت  ہے کہ وہ جناب ہر ایک ایک شئے کے متعلق مطلق علم رکھتے ہیں۔

Root: خ ف ى

لَّا جُنَاحَ عَلَيْـهِنَّ فِـىٓ ءَابَآئِـهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِـهِنَّ وَلَآ إِخْوَٟنِـهِنَّ
وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٟنِـهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٟتِـهِنَّ
وَلَا نِسَآئِـهِنَّ وَلَا مَا مَلَـكَـتْ أَيْمَٟنُـهُنَّۗ
وَٱتَّقِيـنَ ٱللَّهَۚ

إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ شَهِيدًا ٥٥

  • There is absolutely nothing whatsoever that could be construed as blameworthy, censurable, or socially discordant upon the Wives of the Elevated Messenger of Allah the Exalted — with regard to any social activity in the places of their fathers, and that of their genetic sons of former husband, and that of their brothers —
    And that of their brother's sons, and that of their sister's sons —
    And that of their family women, and nor for interacting with the
    House-servants who are under authority and in submission to them. (Cf. 33:33)
    And O you the wives of the Elevated and Chosen Messenger Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] "Sincerely keep endeavouring to attain appreciation of Allah the Exalted."
    It is certain fact that Allah the Exalted is Ever Witness-Observer over each and all things-matter - situations. (Cf. 4:33)
    [33:55]

ان (ازواج مطہرات)پر قطعاً کوئی قابل اعتراض ، مذمت  اور سماجی طور پر متضادبات نہیں اپنے آباء کے ساتھ محفل  اورسماجی سرگرمی  میں شریک ہونے میں، نہ اپنے بیٹوں سے جوسابقہ خاوند سے ہیں  اور نہ اپنے بھائیوں کے ساتھ؛
اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے ساتھ؛
 اور نہ اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ، اور نہ ان گھریلو ملازموں  کے ساتھ جو ان کی سرپرستی میں ہیں۔(متصل:33:33)
اور اے ازواج مطہرات؛
"آپ بدستور تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کی خواستگار رہیں"۔
خبردار رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک ایک شئے/معاملے پر ہمیشہ مشاہدہ فرما رہے ہیں۔

 


إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٟٓئِكَـتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَـى ٱلنَّبِىِّۚ
يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ٥٦

  • Know the fact: Allah the Exalted and His Angels keep commend the Distinctly Elevated and Chosen Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam].
    O those/you, who proclaim to have accepted/become believers, listen!
    You are directed to reverently commend him. And you are required to submit to him salutations showing obeisance in a humble and respectful manner.
    [33:56]

یہ حقیقت ہے کہ ا للہ تعالیٰ اور اُن کے فرشتے مختص اور بلندیوں پر فائز فرمائے (نبی محمد ﷺ)کے متعلق تسلسل اور محبت  سے تعریف ،بڑائی،قدرومنزلت  اور قدرافزائی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان (ﷺ) کی تعریف،تحسین،بڑائی، قدرومنزلت   بیان کرتے  ہوئےانہیں محبت  سے خراج عقیدت  پیش کرو اور انتہائی ادب و احترام کے انداز میں انہیں سلام کہتے رہو ۔
(الاحزاب۔
٥٦)

 آقائے نامدار،رسول کریم محمّد ﷺ کی کائنات میں  بحثیت اشرف المخلوقات شہرت اور عظمت و تعریف و توصیف کے ذکر کو منقطع اور ماند نہیں ہونے دیا جاتا۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَـهُـمُ ٱللَّهُ فِـى ٱلدُّنْيَا وَٱلۡءَاخِـرَةِ
وَأَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابٙا مُّهِينٙا ٥٧

  • It is certain fact about those who keep maligning Allah the Exalted and His Messenger by irksome insinuations and malicious talk — Allah the Exalted has cursed and condemned them in the worldly life and in the Hereafter (Cf. 9:61)—
    Know it, He the Exalted has prepared for them a humbling chastisement, one of humiliation. [33:57]

ان لوگوں کے انجام سے باخبر ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کریم (محمّد ﷺ )سے  قرءان مجید سے ماوراء ناپسندیدہ جھوٹی باتیں منسوب کر کے ان کے لئے باعث ناگواری اور ناپسندیدگی بنتے ہیں--اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت میں مسترد، دھتکار، پھٹکار زدہ قرار دے دیا ہے۔
اور ان جناب نے ایک ذلت آمیز رسوا کن عذاب ان کے لئے خصوصی طور پر تیار کر رکھا ہے۔

وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِ بِغَيْـرِ مَا ٱكْتَسَبُوا۟ فَقَدِ ٱحْتَمَلُوا۟ بُـهْتَـٟنٙا وَإِثْـمٙا مُّبِينٙا ٥٨

  • And those who cause annoyance, irritation, or slander to the Believing Men and the Believing Women — without their having earned any cause for it—
    Since there was no rhyme and reason for maliciously implicating them,
    they have laden themselves with a calumny and and an evident culpability. (Cf. 4:112; 4:156; 24:23; 85:10) [33:58]

اور جو لوگ صدقِ دل سے ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں پر وہ باتیں منسوب کر کے الزام تراشی کرتے ہیں جو انہوں نے کبھی کی ہی نہیں — اس طرح کہ ان کے لئے باعثِ اذیت، ناگواری اور بدنامی بن جاتے ہیں — تو انہوں نے اپنے کندھوں پر ایک بیہودہ بہتان اور صریح کردار کشی کے جرم کا بوجھ اٹھا لیا ہے، جو انسان کو اندر تک لاغر کر دینے والا ہے۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
قُل لِّأَزْوَٟجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ يُدْنِيـنَ عَلَيْـهِنَّ مِن جَلَٟبِيبِـهِنَّۚ
ذَٟلِكَ أَدْنَـىٰٓ أَن يُعْـرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَۗ

وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٙا رَّحِـيـمٙا ٥٩

  • O you the Designated One of Divine Eminence [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention —
    Pronounce—declare it as social—dress protocol for your wives and your daughters and for the women of believers that:  they shall drop a part of their shawls downwards upon their selves  - lower part of the body when they go in public place—
    This action is better suited for their recognition by this identity as righteous non exposing women whereby they are not harassed—embarrassed [by others in streets/markets].
    Know it, Allah the Exalted has always been oft Overlooking/Forgiving, the
    Fountain of Mercy. (Cf. 4:96; 4:100; 4:152; 25:70; 33:5; 33:50; 33:73; 48:14) [33:59]

اے نبی(ﷺ)توجہ فرمائیں۔
آپ(ﷺ)اپنی ازواج مطہرات،اپنی دختران اور ایمان والوں کی عورتوں/بیویوں کے لئے  یہ فرمان جاری کریں کہ گھر سے باہر نکلنے کے لئے اپنی دراز چادروں کو اپنے اوپر نیچے کی جانب اوڑھ لیں۔
یہ بہترہے ان کے تعارف کے حوالے سے جس کی وجہ  سےانہیں (پبلک مقام،مارکیٹ وغیرہ میں)ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اکثر و بیشتر پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔


لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ وَٱلْمُرْجِفُونَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ
لَنُغْـرِيَنَّكَ بِـهِـمْ ثُـمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيـهَآ إِلَّا قَلِيلٙا ٦٠
مَّلْعُونِيـنَۖ  أَيْنَمَا ثُقِفُوٓا۟ أُخِذُوا۟ وَقُتِّلُوا۟ تَقْتِيلٙا ٦١
سُنَّةَ ٱللَّهِ فِـى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُۖ
وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلٙا ٦٢

  • [therefore it was pronounced] A proclamation that if the Impostor believers (Muna'fi'qoon), and  those elite of Jews — a disease - psychological disorder - envy, jealousy, and malice, bias and rancour is self implanted- nurtured within their hearts (locus of understanding - consciousness) and the agitators who are  creating disturbance and disquiet in the city Madina do not desist: Our Majesty shall surely let you overpower them. Thereafter, they will not remain your neighbours except for a little while— [33:60]

  • Staying as officially cursed and condemned. If they desist not they would be seized wherever they were found and forcibly removed from society [either by exile or arrest] in the manner as condemned and discarded away. [33:61]

  • This treatment for the defiant who challenge the writ of the State has been the precedent set by Allah the Exalted among those who have passed in earlier timeline —
    And you will never find any alteration regards the precedent-practice set by Allah the Exalted. (Cf. 5:33; 33:26-27) [33:62]

یہ یقینی امر ہے جس کا اعلان کر دیا گیا تھا؛اگر منافقوں اور ان یہودی عمائدین نے۔۔ایک نفسیاتی بیماری کو جنہوں نے اپنے قلوب میں جاگزیں کر لیا ہے؛اور وہ جو شہر مدینہ میں ذہنی انتشار اور ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کے درپے ہیں،اپنے آپ کو ان حرکتوں سے باز نہ رکھا:توہم جناب آپ(ﷺ)کوان کو زیر نگاہ اور تسلط رکھنے کا اجازت نامہ دے دیں گے۔بعد ازاں وہ آپ (ﷺ)کے ساتھ اس(شہر)میں سوائے مختصر عرصہ کے ہم نشیں نہیں رہ سکیں گے۔
انہیں راندے اور تعلق کے لئے ناپسندیدہ حالت میں رکھا جائے گا۔اس کے باوجود اگر باز نہ آئے تو جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اور معاشرے سے نکال دیا جائے گا، شہر بدر کر کے  بدکردار  لوگوں کودور کر دینے کے انداز میں۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو دستور کا درجہ دے دیا تھا ان معاشروں میں جو ماضی کے ادوار میں بستے رہے تھے۔
اور آپ(ﷺ)اللہ تعالیٰ کے دستور کے لئے کوئی مبدَّ ل نہیں پائیں گے جو متبادل دستور رائج کر سکے۔(الاحزاب۔
٦٢)

Root: ر ج ف; م ر ض; غ ر و; ل ع ن; خ ل و


يَسْـَٔلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِۖ
قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِۚ

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا ٦٣

  • The people — the disbelieving elite who deny the Hereafter — ask you, O Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], concerning the Moment — the Hour of Final Culmination — seeking to know its fixed time and appointed term.
    You proclaim: “Indeed, its knowledge is a guarded secret that lies solely with Allah the Exalted.” (elided predicate Cf. 20:15)
    And what is there to make you comprehend that perhaps the Moment has already drawn near? [He was questioned twice and asked twice to pronounce it 21:109;72:25] [33:63]

آپ(ﷺ)سے  لوگ/عمائدین مشرکین  اُس مخصوص ساعت کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں ۔
آپ(ﷺ)جواب دیں، ’’حقیقت  تو یہ  ہے کہ میرے پاس اس کا جواب نہیں  کیونکہ ا س کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘۔
اور وہ کون سے اشارہ اورنشان ہے جو آپ (ﷺ)کو اُس لمحے کا ادراک دے سکے کہ ممکن ہے وہ ساعت بالکل قریب پہنچ چکی ہو۔

Root: س و ع; د ر ى

إِنَّ ٱللَّهَ لَعَنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ
وَأَعَدَّ لَـهُـمْ سَعِيـرًا ٦٤
خَٟلِدِينَ فِيـهَآ أَبَدٙاۖ
لَّا يَجِدُونَ وَلِيّٙا وَلَا نَصِيـرٙا ٦٥

  • It is certain that Allah has cursed and condemned those who have adamantly refused to believe in Allah the Exalted and His Messenger (Cf. 2:88; 2:89; 2:159; 2:161)—
    And He the Exalted has prepared for them blazing Hell-Prison — (Cf. 48:13) [33:64]

  • They will abide therein permanently and perpetually (Cf. 4:169; 72:23)—
    And they will not find someone to act as a patron/guardian nor as provider of help. (Cf. 4:123; 4:173; 33:17) [33:65]

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام تر تنبیہوں کے باوجود ہٹ دھرمی سے رسول کریم اور قرءان مجید کی روش کو برقرار رکھنے والوں کو دھتکار دیا ہے۔
متنبہ رہو کہ ہم جناب نے   اللہ تعالیٰ یارسول کریم(ﷺ)کا انکار کرنے والوں کے لئے پرتپش جیل خانہ تیار کر رکھا ہے۔
وہ ان میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔
اور  اللہ تعالیٰ کے سوائے  وہ لوگ کوئی خیر خواہ  سرپرست اور  نہ کوئی مددگار پائیں گے  جو اانہیں  اس سزا سے نجات دلا سکے۔

Root: ل ع ن; س ع ر; ع د د; ء ب د

يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُـمْ فِـى ٱلنَّارِ يَقُولُونَ
يَٟلَيْتَنَآ أَطَعْنَا ٱللَّهَ وَأَطَعْنَا ٱلـرَّسُولَا۟ ٦٦
وَقَالُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّـآ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَـرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِيلَا۟ ٦٧
رَبَّنَآ ءَاتِـهِـمْ ضِعْفَيْـنِ مِنَ ٱلْعَذَابِ وَٱلْعَنْـهُـمْ لَعْنٙا كَبِيـرٙا ٦٨

  • The Day their faces are looking sweltering feeling uneasy in the heated Hell-Prison, they will regrettably exclaim —"Alas, would we had accepted the Word of Allah and accepted the Word of the Messenger". [33:66]
    And they said, "Our Sustainer Lord! it is true that we accepted the word of our religious leaders/clergy and our elite elders whereby they made us straying from the Path. [33:67]
    Our Sustainer Lord!
    You give them double of the punishment —And do curse and condemn them, utmost curse and condemnation." (Cf. 7:38) [33:68]

جس دن ان کے چہرے  شدت حرارت سے اضطراب میں ہوں گے، وہ دوزخ کی بھٹی میں جھلستے ہوئے کہیں گے:"ہائے افسوس       ہماری  شومیٔ   قسمت.!اے کاش ہم نے اللہ تعالیٰ کے      فرمان کو تسلیم کیا ہوتا اور مبعوث فرمائےرسول کے فرمان کوتسلیم کیا ہوتا"۔
اور انہوں نے  مزید کہا"اے ہمارے رب!ہم نے اپنے علماء اور  معاشرے کے زعماء کی بات مانی تھی  اور نتیجے میں انہوں نے  ہمیں راہ  ہدایت سے منحرف کر دیا تھا۔
اے ہمارے رب! انہیں عذاب کا دوگنا حصہ دیں، اورآپ انہیں دھتکار دیں ؛انتہائی اوربدترین انداز میں دھتکار۔(الاحزاب۔٦٨)

Root: س و د; ل ع ن


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ ءَاذَوْا۟ مُوسَـىٰ فَبـرَّأَهُ ٱللَّهُ مِمَّا قَالُوا۟ۚ
وَكَانَ عِندَ ٱللَّهِ وَجِيـهٙا ٦٩

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You should not become and behave like those who slandered and caused disconcert to Mūsā [alai'his'slaam] whereupon Allah the Exalted absolved him of that which they had said. (Cf. 61:05)
    And he was respectable and honourable in the judgment of Allah the Exalted. [33:69]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
تم کو منع کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں  جیسے بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ(علیہ السلام)کے متعلق ناگوار بات کہہ کر ان کو ذہنی اذیت کے موجب بنے۔چونکہ  محض انتہائی لغو ہرزہ رسائی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بری الذمہ ثابت کر دیا جو انہوں نے لوگوں سے جھوٹ کہا تھا۔
مطلع رہو؛ اللہ تعالیٰ کے نکتہ نظر اور ان کی جانب سے انہیں(موسیٰ علیہ السلام) کوعزت و احترام اور مرکز توجہ قرار دیا گیا ہے۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ
وَقُولُوا۟ قَوْلٙا سَدِيدٙا ٧٠
يُصْلِحْ لَـكُـمْ أَعْمَٟلَـكُـمْ وَيَغْفِرْ لَـكُـمْ ذُنُوبَكُـمْۗ
وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ
فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا٧١

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You people
    sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —And you people speak in a straight forward manner with words of unambiguous import stating distinctly—like a wall which segregates and makes distinct two areas. (Cf. 3:31; 8:29; 46:31; 57:28; 61:12; 64:17) [33:70]

  • He the Exalted would like to amend, improve, and align for you the results of your deeds, and He would like to overlook and forgive for you your past errors, slanders and lapses.
    And whoever willingly and affectionately accepts the Word of Allah and His Messenger
    [contained and recited by him from Grand Qur'an] —Thereby he certainly achieved grand achievement and success. (Cf. 4:13; 4:69; 24:52) [33:71]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
 
تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور تم لوگ وہ بات کہو جو ذو معنی اور ابہام سے منزہ دو ٹوک بیان ہو۔
اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے اعمال کے نتائج کو بہتر کریں، درست کریں، اور سیدھا کریں، اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے پچھلے گناہوں، لغزشوں، اور خطاؤں کو معاف کریں اور درگزر کریں۔
ان کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (ﷺ)کے قول(قرءان عظیم)کو صدق دل سے تسلیم کیا۔چونکہ اس نے بنیادی طے کردہ اصول ِکامیابی کو اپنایا اس لئے وہ کامیابی کا عظیم ترین ایوارڈ حاصل کر کے سرخرو ہو گیا۔(الاحزاب۔٧١)

Root: س د د؛ذ ن ب؛ف و ز

إِنَّا عَـرَضْنَا ٱلْأَمَانَةَعَلَـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَٱلْجِبَالِ فَأَبَيْـنَ أَن يَحْـمِلْنَـهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْـهَا
وَحَـمَلَـهَا ٱلْإِنسَٟنُۖ  إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومٙا جَهُولٙا ٧٢

  • Remember, the reality is that We presented the burden of upholding the trust of free will and autonomy before the skies, the earth, and the mountains. After due reflection, they expressed their inability to bear this burden, being apprehensive of the consequences and the strict accountability that might arise۔. However, man accepted it, when he was informed at the time of his descent to Earth about the consequences of choosing to accept or reject guidance. This was the covenant established with the chosen among them. This is a fact about him: indeed, he acted against prohibition, emotionally losing control of himself when Ieb'lees deceitfully revealed to him the alluring secret of eternal sovereignty and immortality. [33:72]

    یاد رکھیں؛ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے ارادہ و آزادی کے اس اعتماد کو اٹھانے کا بوجھ پیش کیا؛ انہوں نے کچھ سوچ کر اس بوجھ کو اٹھانے سےمعذوری کا اظہار کیا،  اوراس  کے نتائج ، سخت حساب کتاب کے خطرے سے گھبرائے اور محتاط رہے۔
    لیکن انسان نے اسے اٹھایا، جب اُسے زمین پر بھیجے جانے کے وقت اس پر رہنمائی کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے نتائج کے بارے میں بتایا گیا، اور یہ وہ عہد تھا جو منتخب لوگوں سے کیا گیا تھا۔ انسان کے بارے میں ایک حقیقت  یہ ہے؛ یقیناً اس نے   ممانعت کے خلاف کیا تھا جذباتی طور پر اپنے آپ سے بے قابو ہوکر، جب  ابلیس نےلازوال حکمرانی اور ابدیت کا دلفریب راز بتایا تھا۔(الاحزاب۔
     ٧٢)

Root: ش ف ق

لِّيُعَذِّبَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتِ وَٱلْمُشْـرِكِيـنَ وَٱلْمُشْـرِكَـٟتِ
وَيَتُوبَ ٱللَّهُ عَلَـى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِۗ
وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٙا رَّحِيمَاۢ ٧٣

The aim of victory was — Allah the Exalted may render Muna'fi'qeen: the impostor believing men and Muna'fi'qaat: the impostor believing women; and the idols worshipping men and idols worshipping women—persistently and intensively in the grip of pain of disappointment.
And that Allah the Exalted may turn in Mercy towards the Believing men and the Believing women.
Remain assured; Allah the Exalted is repeatedly Overlooking/Forgiving, the Merciful. (Cf. 4:96; 4:100; 4:152; 25:70; 33:5; 33:50; 33:59; 48:14) [33:73]

اور اس فتح کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ جناب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور رسول کریم کا انکار کرنے والے بت پرست مردوں اور عورتوں کو ناکامی  اور مایوسی کے ذہنی و قلبی درد میں مبتلا کردیں۔
اور اللہ تعالیٰ  صدق قلب سے ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں پر  اپنی  توجہ اور اپنائیت کو ظاہر کریں ۔
مطلع رہو؛ یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور اکثر و بیشترمعاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

Root: ن ف ق

 

034-سُوۡرَةُ سبإ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ
ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ
وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِۚ
وَهُوَ ٱلْحَكِيـمُ ٱلْخَبِيـرُ ١

  • The Infinite Glory and Praise stands specified eternally and exclusively for Allah the Exalted —
    He is
    the only One — Whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth have all the praise for Him the Exalted  as subservient subjects (Cf. 2:255; 4:171; 10:68; 14:02(Replica); 20:06; 22:64; 42:04; 42:53 (Replica) —
    And the Infinite Glory and Praise will be pronounced in the Hereafter by everyone for Him the Exalted.
    Know it, He the Exalted is the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm; absolutely aware of all evident and secreted. (Cf. 6:08; 6:73) [34:01]

اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔
وہ جناب ہیں ۔۔جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔
عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد   جہان آخرت میں ان جناب کے  لئے  لوگوں کا وِرد ہو گا۔
اوروہ جناب  بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا،سلطنت کے ذرے ذرے سے ہر لمحہ باخبر ہیں۔

يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْـهَا
وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْـرُجُ فِيـهَاۚ
وَهُوَ ٱلرَّحِـيـمُ ٱلْغَفُورُ ٢

  • He the Exalted fully knows that which enters the Earth and that which comes out from her (Cf. 57:04)—
    And He the Exalted fully knows all that descends from the Sky and all that ascends in her/the Sky (Cf. 57:04).
    And He the Exalted is the Fountain of Infinite Mercy; Oft Forgiving/Overlooking. [34:02]

وہ جناب ہر اس چیز کو بخوبی جانتے ہیں جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے —
اور وہ جناب ان تمام چیزوں کو بھی بخوبی جانتے ہیں جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور جو آسمان میں چڑھتی ہیں۔
اور وہ جناب منبع رحمت ہیں؛ اکثر و بیشتر   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، ۔

Root: و ل ج;ع ر ج


وَ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟   لَا تَأْتِينَا ٱلسَّاعَةُۖ
قُلْ بَلَـىٰ وَ رَبِّـى لَتَأْتِيَنَّكُـمْ عَٟلِمِ ٱلْغَيْبِۖ
 لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍۢ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ لَا فِـى ٱلْأَرْضِ
وَ لَآ أَصْغَـرُ مِن ذَٟلِكَ وَ لَآ أَكْبَـرُ
إِلَّا فِـى كِتَٟبٍۢ مُّبِيـنٍۢ
٣

  • And those — ruling polytheist elite —who denied to believe in the Messenger and Qur’ān said to people: "The Terminating Moment will not come to us."
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "No, that thought is false, I swear by my Sustainer Lord, it is certain that she will definitely come to you. My Sustainer Lord is the Knower of the secreted-enfolded in future which is invisible to others.
    Neither mass of a sprinkled dot-speck present in the Skies nor that present in the Earth eludes from His notice (Cf. 10:61).
    And neither a particle relatively diminutive than the speck
    — Sub-Atomic Particle —nor that relatively greater than that —
    But are inventoried in a book that is explicitly explicative, conveying information in individuated, crystalline clarity. [34:03]

اور ان  —عمائدین مشرکین —نے   کہاجنہوں نے رسول کریم اور قرءان  مجید کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔’’متعین لمحہ/گھڑی ہم تک نہیں پہنچے گی‘‘۔
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اس خیال کی کوئی حقیقت نہیں؛اور میں اپنے رب کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں جو سربستہ ،نگاہوں سے اوجھل اور پنہاں حقیقتوں کا ہر لمحہ علم رکھنے والے ہیں کہ وہ ساعت یقیناً تم لوگوں پر آئے گی۔
آسمانوں میں موجود ذرے کی قوت و وزن کا حامل  وجود اپنے آپ کو ان جناب سے پوشیدہ نہیں کر سکتا،اور نہ کوئی ایسا ذرہ زمین میں موجود ہے جواپنے آپ کو ان سے پوشیدہ کر سکتا ہے۔
اور نہ اس سے تقابل میں کوئی چھوٹا اور نہ اس سے بڑا وجود اپنے آپ کو ان سے مخفی کر سکتا ہے۔
 کوئی موجودات نہیں ماسوائے ان کے جو ایک ایسی کتاب(ام الکتاب)میں درج ہیں  جس کی خصوصیت یہ ہے  کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔

Root: س و ع;ذ ر ر   Sub-Atomic Particles are inventoried/catalogued; tells Qur’ān.
 

لِّيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَرِزْقٚ كَرِيـمٚ ٤

  • Last Moment will certainly come and resurrection is inevitable for the the reason that He the Exalted may reward those out of His Bounty who accepted and believed in the Messenger and performed moderate righteous deeds. ((information about its timing has been kept secret-Cf. 20:15])
    They are the people – grant of forgiveness and par excellence sustenance has been assured and guaranteed through the Messenger for them. (Cf. 8:04;22:50; 24:26) [34:04]

یہ  متعین لمحے کا آنا اورازسر نو حیات دینا ناگزیر اس مقصد سے ہے کہ وہ جناب ان لوگوں کو جو رسول کریم اور کتاب اللہ پر صدق قلب سے ایمان لائے اور ان اعمال پر کاربند رہے جنہیں صالح قرار دیا گیا تھابہترین ایوارڈ  سے نوازیں ۔
یہ ہیں وہ لوگ ۔۔۔مغفرت اور اعلیٰ ترین نفیس رزق کی فراوانی کی بشارت ان کے لئے رسول کریم نے دے دی ہے۔

Root: ك ر م

وَٱلَّذِينَ سَعَوْا فِـىٓ ءَايَٟتِنَا مُعَٟجِزِينَ
أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٚ مِّن رِّجْزٍٛ أَلِيـمٚ ٥

  • Know the verdict concerning those scholars — who endeavoured for the epistemic sabotage of Verbal passages of Our Book (Qur’ān); seeking to relegate them to the background while fronting conjectures, hearsay stories, and fabricated statements. (Cf. 22:51-52;  34:38)
    It is they — indeed they — for whom there is a punishment, one that is of the very nature of rijz — a punishment of convulsive disturbance, stripping peace, laden with repulsiveness — and grievously painful. [34:05]

یقیناً اُن صاحبان علم کے بارے میں فیصلہ جان لیجیے — جنہوں نے ہماری کتاب (قرءان مجید)کی بیانی آیات کے ادراکی و فکری بگاڑ (Epistemic Sabotage) کی  شعوری سعی کی۔ اُن کی کوشش کا انداز یہ تھا کہ آیات کو پس منظر میں دھکیل کر اُن کی جگہ آگے بڑھاتے قیاسات، افواہ پر مبنی کہانیاں اور گھڑی ہوئی باتیں۔ یعنی اصل حقیقت کو پیچھے ڈال کر دھندلانا اور قیاسی باتوںکو نمایاں کرنا اُن کا ہتھیار تھا۔ (مقارنہ:الحج۔51-52؛سباء۔38) —
یہی ہیں وہ لوگ — ان ہی کے لیے مخصوص اور مقدر ہے ایک عذاب؛ ایسا عذاب جو پہلے سے ان کے انتظار میں ہے — نہایت ہی دردناک عذاب۔ وہ عذاب جو رِجز کی نوعیت کا ہے: یعنی ایسا عذاب جو اضطراب، مسلسل ہیجان، اور دل کو بیزاری و نفرت سے بھر دینے والا ہو۔

Root: س ع ى;  ع ج ز

وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلْحَقَّ
وَيَـهْدِىٓ إِلَـىٰ صِرَٟطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَـمِيدِ ٦

  • Know it; those who have been granted the faculty of knowledge — the knowledge that reads books critically and recognizes essence —they see and regard it (Qur’ān) as the Infallible Doctrine-Discourse (Cf. 17:107; 22:54; 29:49) — which has been compositely sent to you the Messenger, [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in an easy to comprehend and demarcated composition by your Sustainer Lord (read with 6:114) —
    And they find, it guides people towards the High Road destined to the Dominant, the ever Praiseworthy. (Cf. 10:35; 46:30; 72:02) [34:06]

مگر جہاں تک ان لوگوں کا تعلق جنہیں علم کی بصیرت عطا کی گئی — یعنی وہ معرفت جو کتاب کو نقادانہ فہم سے پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے —وہ  اس کو بیان حقیقت، حق کا ناقابلِ خطا کلام   دیکھتے اور سمجھتے ہیں  جو آپ (ﷺ )کے رب کی جانب سے   آسان فہم تدوین میںآپ کو بھیج دیا گیا ہے۔ (الانعام۔114 ساتھ دیکھیں)
اور وہ اس کو دیکھتے ہیں کہ یہ اس راستے  کی جانب رہنمائی اور گامزن کرتا ہے  جو    ان جناب کا متعین کردہ ہے جو دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں اور مطلق شرف و کبریائی کا بیانِ حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔

Root: ص ر ط

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟
هَلْ نَدُلُّـكُـمْ عَلَـىٰ رَجُلٛ يُنَبِّئُكُـمْ إِذَا مُزِّقْتُـمْ كُلَّ مُمَزَّقٍٛ إِنَّكُـمْ لَفِـى خَلْقٛ جَدِيدٍٛ ٧
أَفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۗ
بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ فِـى ٱلْعَذَابِ وَ ٱلضَّلَٟلِ ٱلْبَعِيدِ
٨

  • And those — ruling elite who refused to believe in the Messenger and Qur’ān — posed a question to their people saying—
    "Tell us should we lead you towards a man who will inform you — that when you would have been disintegrated, completely disintegrated —inseparably absorbed in the Earth — you will certainly be retrieved and raised alive as a renewed creation". (Cf. 13:05; 23:35-36; 23:82; 27:67; 32:10; 37:16; 37:53; 50:15;56:47) [34:07]

  • [and further pose a question] "Has he fabricated a lie upon Allah or has he become obsessed with delusion?"
    No, this is their deceptive rhetoric; the fact is — those who believe not in the Hereafter, they are in irksome and painful cognitive dissonance, and have delved at far destructive end of neglectfulness—straying—wandering in selfish vested interests. [34:08]

اور ان  لوگوں—عمائدین مشرکین —نے    اپنے زیر اثر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئےکہا—جنہوں نے رسول کریم اور قرءان  مجید کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔
کیا ہم تم  کواس مرد سے متعارف کرائیں جو تمہیں بتائے گا کہ جب تم ریزہ ریزہ ہو چکے گے مکمل طور پر۔تو تم ایک نئی تخلیق کے روپ میں ازسر نو زندہ کر دئیے جاؤ گے"۔
اور لوگوں سے پوچھتے ہیں"کیا اس نے اللہ سے منسوب کرتے ہوئے جھوٹ اپنے مقصد  اور لگن سے اختراع کیا ہے، یا کیا
 آسیب زدگی کا شکار ہو گیا ہے"۔
ان کی ہرزہ سرائی دانستہ جھوٹ اور فریب ہے،حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ منفرد قسم کے عذاب میں مبتلا ہیں اور انحراف حقیقت  میں کہیں دور کھو گئے ہیں۔

Root: د ل ل; م ز ق; ر ج ل; ج د د; ف ر ى

أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَـىٰ مَا بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَ مَا خَلْفَهُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَ ٱلْأَرْضِۚ
إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِـهِـمُ ٱلْأَرْضَ
 أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْـهِـمْ كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭ لِّـكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ
٩

  • Should it be construed their reckless fearlessness is for reason they have not reflected on what happened in their past, and imagine not what possible threat lies in their future that might originate from the Sky and the Earth?
    Should Our Majesty so decide We would cave-in the Earth along with them (Cf. 16:45; 17:68; 28:81; 29:40; 67:16) —
    Or Our Majesty would cause fragments befall upon them from the Sky (Cf. 17:92; 26:27; 26:187; 52:44).
    Indeed this existential is certainly a source of caution for every such person who turns to the Divine Providence and Will. [34:09]

کیا  ان  عمائدین کا یہ لاابالی   پن اوربے خوف  رویہ  اس لئے تو نہیں کہ انہوں نے اپنے ماضی پر غور نہیں کیا اور نہ ہی اپنے مستقبل میں آنے والی  ممکنہ آفات پر، جو آسمان اور زمین سے آسکتی ہیں؟
اگر ہم جناب کا فیصلہ ہو، تو ہم زمین کو ان کے ساتھ دھنسا دیں،
یا ہم جناب  ان پرآسمان میں موجود ٹکڑوں کو گرا دیں۔
یقیناً یہ تمام تر کائنات ہر اُس شخص کے لیے عبرت کا سبب ہے جو اللہ کی مشیت اور حکمت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

Root: ك س ف ; س ق ط; ن و ب


وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ  مِنَّا فَضْلٙاۖ
يَٟجِبَالُ أَوِّبِـى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْـرَۖ
وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ ١٠
أَنِ ٱعْمَلْ سَٟبِغَٟتٛ وَقَدِّرْ فِـى ٱلسَّـرْدِۖ
وَٱعْمَلُوا۟
صَٟلِحًاۖ
إِنِّـى بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ١١

  • Know the authentic history; Certainly Our Majesty had granted Da'ued [alai'his'slaam] —as Our distinctive gesture for him — unique beneficence —
    [Subjugation was commanded] "O mountains surrounding him! echo the praises along with him"; and same direction was given to certain birds in his area.
    And Our Majesty enabled him with the technique of rendering the iron pliable — making the most unyielding element yield to craftsmanship. — [34:10]

  • Informing him: "Craft coats of armour — fully flexible and complete — and measure precisely in the interlinking of their rings" —
    And you all — conduct and act as perfectionists  —
    Certainly I am watching what you people are doing. [34:11]

جان لو وہ مستند تاریخی حقیقت؛یقیناً ہم نے داؤد(علیہ السلام)کو — اپنی طرف سے ایک خاص عنایت کے طور پر — ایک منفرد فضیلت عطا کی۔
 [فرمایا گیا]"اے پہاڑو! جو اُن کے گرد و نواح میں ہیں، اُن کے ساتھ مل کر تسبیح دہراوٴ"،اور یہی ہدایت اُن کے علاقے کے   مخصوص پرندوں کو بھی دی گئی۔
اور ہم جناب نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دینے کی صنعت کا راز آشکار کر دیا —کہ وہ سب سے سخت عنصر کو اپنی کاریگری کے آگے جھکا دے —
انہیں یہ  بتاتے ہوئے ؛ ""زرہیں بناؤ — پوری طرح لچکدار اور مکمل —اور اُن کے حلقوں کو ناپ تول کر ٹھیک تناسب میں جوڑو۔"—
اور تم سب اُن اعمال پر کاربند رہو جو کاملیت کے ساتھ معاشرے میں اعتدال، توازن اور اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔

اس حقیقت کا خیال اور یقین رکھتے ہوئے کہ میں ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہا ہوں جو تم کرتے رہتے ہو"۔

Root: ء و ب; ل ى ن;  س ب غ

وَلِسُلَيْمَٟنَ ٱلـرِّيحَ
غُدُوُّهَا شَهْرٚ وَرَوَاحُهَا شَهْرٚۖ
وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْـنَ ٱلْقِطْرِۖ

وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦۖ
وَمَن يَزِغْ مِنْـهُـمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيـرِ ١٢

  • Know it; Our Majesty made the particular Breeze pliable-subjected at command and control of Sulie'maan [alai'his'slaam].
    Its presence in mornings had become famous-evidently noticed; and its presence in evenings was famous-evidently noticed [by agriculturists because of great effect on yield].
    And Our Majesty caused the spring of copper to flow for his use.
    And there were amongst the Jinn species who worked before him with the permission of his Sustainer Lord
    —
    And [to whom it was made clear] whoever from amongst them deviates from Our command We will make him taste from the Torment of Blaze. [34:12]

اور ہم جناب نے پودوں کو بارآور کرنے  والی باد نسیم  کو سلیمان (علیہ السلام)کے لئے مسخر کر دیا تھا جس پر دسترس رکھنے کا اختیار و حکمرانی انہیں حاصل ہو گیا۔
اس کا صبح صبح چلنا  اور موجودگی  سب نے محسوس کر لی تھی اور مشہور ہو گئی تھی۔اور شام کے وقتوں میں اس کی موجودگی مشہور ہو گئی تھی (کاشتکاروں میں پیداوار پر خوشگوار اثر کی وجہ سے)
 اور ہم نے ان کے لیے پیتل کے چشمے کو بہا دیا تھا۔
 اور جنات میں سے کچھ ان کے لیے کام ان کے سامنےکرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے اذن  سے —
اور
ان جنات پر واضح کر دیا گیا تھا کہ جس نے بھی ہمارے حکم سے انحراف کیا، ہم اسے سوزاں عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

Root: ر و ح;ش ھ ر; غ د و;ق ط ر;  س ى ل; ذ و ق;  ز ى غ;  س ع ر

يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٟرِيبَ وَتَمَٟثِيلَ وَجِفَانٛ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٛ رَّاسِيَٟتٍۚٛۚ
ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْـرٙاۚ
وَقَلِيلٚ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ ١٣

  • They worked for him that which he desired for erecting elevated chambers and paintings/statues and bowls like big reservoirs and fixed cooking pots/ranges.
    It was promulgated for the subjects/followers of Dawood
    [alai'his'slaam] "You people perform your deeds while remaining grateful for the bestowed blessings of Allah the Exalted—
    But the ground reality is that a minority of My subjects are the grateful feeling obliged. [34:13]

وہ جنات  ان کے لیے وہ سب کچھ بناتے تھے جس کی وہ خواہش کرتے تھے— بلند و بالا محل، تصویریں/مجسمے، بڑے بڑے تالاب کی مانند حوض، اور کھانے کے لیے مقررہ بڑے دیگچے۔
 داؤد [علیہ السلام]
کی سلطنت کی رعایا/پیروکاروں کو حکم دیا گیا تھا"اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ  نعمتوں کے شکر گزار ہوتے اپنے روزہ مرہ کے اعمال انجام دو"۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے شکر ادا کرنے والے کم ہی ہیں۔

Root: ر س و

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّـهُـمْ عَلَـىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ
فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّـنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِـى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِيـنِ ١٤

  • [Jinns were working before him] Thereat, when Our Majesty decreed upon him the natural death none led/indicated to them (Jinns) to know about him having expired —Except the Creature of Earth, she was eating his supporting staff —
    For reason of supporting staff being damaged could no longer support the dead body, when as soon he fell down on Earth, the Jinn self realized that had they knowledge of invisible things they would not have remained in such humiliating punishment [immediately after his death] [34:14]

(جنات ان کے روبرو کام کر رہے تھے)جب ہماری جناب سے ان پر طبعی موت کا فیصلہ نافذ ہوا، تو جنّات کو ان کے انتقال کا علم کسی نے نہ دیا—سوائے زمین کے کیڑے کے، جو ان کے سہارا دینے والے عصا کو کھا رہی تھی—
چنانچہ  عصا   کے کھوکھلا ہو جانے کے سبب وہ ان کے مردہ جسم کو سہار نہ سکا اور  زمین پر آ ن گرا، تب جنّات کو خود معلوم ہوا کہ کاش  اگر وہ غیب کی باتیں جانتے ہوتے، تو اس طرح کی ذلت آمیز مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔

Root: د ل ل؛ ن س ء;  د ب ب; ل ب ث; خ ر ر; ھ و ن


لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٛ فِـى مَسْكَنِـهِـمْ ءَايَةٚۖ  جَنَّتَانِ عَن يَمِيـنٛ وَشِـمَالٛۖ
كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُـمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥۚ بَلْدَةٚ طَيِّبَةٚ وَرَبٌّ غَفُورٚ ١٥

  • Certainly there has been a tangible sign to take heed in their dwelling place for the people of Saba —The sign was two gardens on the right and on the left side—
    [they were asked] "You people eat from the sustenance of your Sustainer Lord and express gratitude and be grateful to Him". A fertile city and Oft-Forgiving Sustainer Lord. [34:15]

یقیناً قوم سباء کے رہنے کی جگہ میں ان کے لئے ایک واضح نشان موجود تھا، عبرت حاصل کرنے کے لئے۔ وہ نشان یہ تھا کہ ان کے دونوں طرف دو باغ تھے —
[ان سے کہا گیا تھا]: "اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ یہ ایک زرخیز بستی ہے اور تمہارا رب بہت بخشنے والا ہے۔" [34:15]

Root: ش م ل

فَأَعْـرَضُوا۟ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ سَيْلَ ٱلْعَـرِمِ
وَبَدَّلْنَٟهُـم بِجَنَّتَيْـهِـمْ جَنَّتَيْنِ
ذَوَاتَـىْ
أُكُلٍٛ خَـمْطٛ وَأَثْلٛ وَشَـىْءٛ مِّن سِدْرٛ قَلِيلٛ ١٦

  • So, knowingly overpowered by their self-interests, they turned away — So, as a jolt and retribution, Our Majesty sent upon them the fierce flood of the breached dam —
    And We replaced their two luxuriant gardens with two others — bearing bitter fruit, tamarisks, and only a few sparse berry-trees. [34:16]

پھر انہوں نے جان بوجھ کر نافرمانی کی، چنانچہ ہم نے ان پر ٹوٹے ہوئے بند کے شدید سیلاب کو بھیج دیا۔
اور ہم نے ان کے دونوں ثروت بخش باغوں کو  بدل دیا دو ایسے باغوں میں — ان نئے باغوں میں کڑوے پھل، جھاؤ کے درخت اور کچھ تھوڑی مقدار میں بیری کے درخت تھے۔

Root: س ى ل; س د ر

ذَٟلِكَ جَزَيْنَٟهُـم بِمَا كَفَرُوا۟ۖ 
وَهَلْ نُجَٟزِىٓ إِلَّا ٱلْـكَفُورَ ١٧

  • This is how Our Majesty requited them because they disavowed.
    Answer this affirmatively or negatively; "Do Our Majesty requite except the proven persistent denier and ungrateful?
    [34:17]

یقیناً ہم نے ان کو اس طرح بدلہ دیا کیونکہ وہ انکار اور ناشکری کرتے تھے۔
 اس سوال کا جواب تصدیق یا نفی میں بتاؤ" کیا ہم صرف انہی لوگوں کو سزا دیتے ہیں جو مسلسل انکار اور ناشکری پر قائم رہتے ہیں؟"

وَجَعَلْنَا بَيْنَـهُـمْ وَبَيْنَ ٱلْقُرَى ٱلَّتِـى بَٟرَكْنَا فِيـهَا قُرٙى ظَٟهِرَةٙ وَقَدَّرْنَا فِيـهَا ٱلسَّيْـرَۖ
سِيـرُوا۟ فِيـهَا لَيَالِـىَ وَأَيَّامًا ءَامِنِيـنَ ١٨

  • And Our Majesty rendered many evident townships as stopover between them and between the City wherein Our Majesty had implanted blessing and We had proportioned therein the traversing passages/travel routes —
    [they were told] "You people traverse in them during nights and days quite safely." [34:18]

اور ہم نے ان کے اور اس شہر کے درمیان جہاں ہم نے برکت نازل کی، بہت سی نمایاں بستیاں بطور قیام گاہ بنائیں، اور ان میں سفر کے راستے ترتیب دئیےتھے۔
 [ان سے کہا گیا:] "تم ان میں راتوں اور دنوں کے وقتوں میں امن و سکون سے سفر کرو۔"

Root: س ى ر; ب ر ك

فَقَالُوا۟ رَبَّنَا بَٟعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ
فَجَعَلْنَٟهُـمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَٟهُـمْ كُلَّ مُمَزَّقٍۚٛۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّـكُلِّ صَبَّارٛ شَكُورٛ ١٩

  • Thereat they said, "Our Sustainer Lord! extend distances far between our journeys". And they did wrong to their selves —
    Since they persisted in their deviant conduct, thereby, Our Majesty rendered them legendary tales since Our Majesty disintegrated them, completely dispersed.
    Indeed in this historical narrative are certainly evident signs for every coolly perseverant person who is ever thankfully obliged.
    [34:19]

پھر انہوں نے کہا: "اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر کے فاصلے بڑھا دے"۔ اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
چونکہ  وہ ہٹ دھرم رہے اس لئے  مہلت کا وقت ختم ہونے پر ہم نے ان کو کہانیوں کا حصہ بنا دیا اور انہیں مکمل طور پر منتشر کر دیا۔
یقینا ان  معلومات اور تاریخی حقائق   کے بیان میں ہر ایک  ایسے شخص کے لئے سبق آموز اشارے ہیں  جواپنے ایمان پر پیکر عزم و استقلال رہتے ہوئے ناگفتہ بہ کو ضبط و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہمیشہ  اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے۔

Root: م ز ق

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْـهِـمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقٙا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٢٠

  • And indeed Ieb'lees had proved upon them his assessment/thought (see 7:17) whereupon they literally followed him —Except a group of the true believers. [34:20]

اور یقیناً ابلیس نے ان پر اپنے گمان کو سچا ثابت کر  دکھایا تھا(نسل آدم کی اکثریت ناشکر گزار ہو گی)، پس انہوں نے اس کی پیروی کی، سوائے مخلص اہل ایمان کے ایک گروہ کے۔

وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْـهِـم مِّن سُلْطَٟنٛ
إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلۡءَاخِـرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْـهَا فِـى شَكّٛۗ
وَرَبُّكَ عَلَـى كُلِّ شَـىْءٛ حَفِيظٚ ٢١

  • And whereas there was for him no authority upon them all —
    Except that [he been given the freedom to persuade anyone he likes] We may expose and differentiate the one who believes in the Hereafter from the one who is in skepticism about it.
    And the Sustainer Lord of you the Messenger is the guardian upon everything.
    [34:21]

اس (شیطان)کے متعلق حقیقت یہ ہے۔۔کوئی اختیار،مختار نامہ،سند کا اظہار کرنا ان پر( جو صدق دل سے ایمان لائے ) اس کے لئے کبھی ممکن نہیں تھا  ۔
ابلیس کو مہلت دینے کا مقصد یہ تھا کہ ہم اس کو دوسروں سے الگ ظاہر  اورثابت کر دیں جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اس سے متمیز کر کے جواس(آخرت)کے متعلق شک میں مبتلا رہتا ہے۔
اور آپ(ﷺ)کے رب ہر ایک ایک شئے پر ہر لمحہ نگہبان ہیں۔

Root: س ل ط; ش ك ك


قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِۖ
لَا يَمْلِـكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٛ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَلَا فِـى ٱلۡأَرْضِ

وَمَا لَـهُـمْ فِيـهِـمَا مِن شِرْكٛ
وَمَا لَهُۥ مِنْـهُـم مِّن ظَهِيـرٛ ٢٢

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You people call those which you consider as various iela'aha: godheads apart from Allah the Exalted —
    They do not hold/possess even something equivalent to an atom weight in the Skies and nor in the Earth —
    And neither for them in both of them is at all any sort of share/partnership/association —
    And nor for Him the Exalted there is any of them who can be said to possess ability of supporting". [34:22]

آپ (محمد ﷺ)ارشاد فرمائیں:"تم لوگ اللہ  تعالیٰ کے علاوہ  جنہیں  اپنے زعم میں خدا سمجھتے ہو، انہیں پکارو(کچھ مانگتے ہوئے)—
(تمہیں سمجھ لگ جائے گی کہ)وہ آسمانوں اور زمین میں اتنی بھی طاقت نہیں رکھتے کہ کسی ذرہ  کے وزن برابر کے برابر کچھ بھی رکھ سکیں—
 اور نہ ہی ان کے پاس ان دونوں میں کسی قسم کا کوئی حصہ ہے—
اور نہ ان تخیلاتی خداؤں میں قطعاً کوئی ہے جو ان جناب کی مدد کرنے والوں میں سے ہو۔"

Root: ز ع م; ذ ر ر; م ل ك

وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٟعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥۚ
حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِـهِـمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُـمْۖ
قَالُوا۟ ٱلْحَقَّۖ
وَهُوَ ٱلْعَلِـىُّ ٱلْـكَبِيـرُ ٢٣

  • And nor the intercession [recommendation/pleading] shall be of any benefit before Him the Exalted except by the one to whom He the Exalted has since given prior permission for his interceding.
    And when the fear subsided in their hearts they said, "What is that which your Sustainer Lord has said?"
    They replied, "The absolute fact,"
    And be mindful of the fact; He is the Exalted Sublime, the Greatest "
    [34:23]

بتوں کو  خدا سمجھ کر ان سے سفارش کروانے کا زعم رکھنے والے سنیں ؛ اللہ   تعالیٰ کے حضور کسی کاسفارش کرنا فائدہ مند نہ ہو گا، سوائےۓ ان کے جس کے لیے اللہ  تعالیٰ نے اجازت  کا فرمان دے دیا ہواہے۔
ھر جب ان کے دلوں کا خوف دور ہوا تو انہوں نے کہا: 'تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟
 تو انہوں نے جواب دیا: "حقیقت پر مبنی بیان ارشاد فرمایا ہے ۔
اور اس حقیقت سےخبردار رہو! وہ جناب ہیں جو مطلق عظمت و کبریائی والے ہیں"۔

Root: ش ف ع;  ف ز ع

قُلْ مَن يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ
قُلِ ٱللَّهُۖ

وَإِنَّـآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَـىٰ هُدًى أَوْ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٢٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Who provides you sustenance/provisions for life from the Skies and the Earth?
    You the Messenger
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] say, "Allah provides the sustenance —
    There is such a vast gulf in thought, method, and action between us and you, that surely either we or you are either on the path of guidance or are lost in manifest deviation". [34:24]

آپ(ﷺ)لوگوں کو اس حقیقت کا سامنا کرائیں یہ پوچھ کر’’وہ کون ہیں جو تم لوگوں کو آسمان اور زمین میں سے رزق مہیا کرتے ہیں؟
(اگر جواب دینے میں ہچکچائیں)آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اللہ تعالیٰ مہیا کرتے ہیں‘‘۔
ہمارے اور آپ کے مابین  فکری ،روش اور عمل کی اتنی وسیع خلیج ہے تو یقینًا یا تو ہم یا آپ لوگ یا تو   راہ ہدایت پر ہیں یا صریح انحراف میں گم کردہ راہ ہیں"۔

قُل لَّا تُسْـٔ​ـلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا
وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٢٥

  • You say, "You people will not be questioned about what crime we committed —
    And nor we will be questioned regarding what you people are doing". [34:25]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"آپ لوگوں سے کوئی نہیں پوچھے گا جس جرم کو ہم نے کیا۔
اور نہ ہم سے  پوچھا جائے گا اس بارے جو عمل آپ لوگ کرتے رہتے ہیں"۔

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا
ثُـمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ
وَهُوَ ٱلْفَتَّاحُ ٱلْعَلِيـمُ ٢٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Our Sustainer Lord will make gathering between us —
    Thereafter, He the Exalted will adjudge between us on Fact and True Merit
    —
    We should be sure that the Exalted is the best manifestor of truth and reality, the reservoir of knowledge." [34:26]

 آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"ہمارے رب، ہمارے درمیان اجتماع کریں گے؛
بعد ازاں  وہ جناب ہمارے مابین حقیقت پر مبنی فیصلے کو افشاں کر دیں گے۔
ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ جناب مطلق حقیقت کو افشاں کرنے والے ہیں۔وہ منبع علم ہیں"۔

Root:  ف ت ح

قُلْ أَرُونِـىَ ٱلَّذِينَ أَلْحَقْتُـم بِهِۦ شُرَكَآءَۖ
كَلاَّۚ بَلْ هُوَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ
ٱلْحَكِيـمُ ٢٧

  • You, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask, "You people show me those which you have associated partners with Him the Exalted —
    By no means! Nay the fact is that He the Exalted is the All Pervasive/Dominant and eternally Knower of invisible/ secreted/infolded." [34:27]

آپ  [صلی اللہ علیہ وسلم]ان سے مطالبہ کریں:"تم لوگ مجھے وہ دکھاؤ جنہیں تم نے ان (اللہ)کے ساتھ شریک بنایا ہے۔"
ان کے پاس  کہنے کو کچھ بھی نہیں ،حقیقت سےمطلع رہو؛اللہ تعالیٰ  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

Root: ل ح ق

وَمَآ أَرْسَلْنَـٟكَ إِلَّا كَآفَّـةٙ لِّلنَّاسِ
بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙا
وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٢٨

  • People should realize that Our Majesty have not sent you (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) merely to a nation but to solely act as the universal Messenger for the Mankind —
    As Guarantor-Conveyor of glad tidings, and perpetual Revivalist-Warner-Awakener for the Mankind. (الصفة المشبهة: Adjective resembling participle is that noun derived from a gerund which indicates on the root meaning being an attribute. And this attribute is usually perpetual. It is used only for the Universal Messenger)
    However, the fact remains that many of the people do not intend to recognize this fact. [34:28]

(اے رسولِ کریم) ہم جناب نے آپ (ﷺ) کو محض ایک قوم کی جانب رسول بنا کر نہیں بھیجا  مگرتمام  بنی نوع انسان  کے لئے   کفایت۔
آپ کی حیثیت زمان و مکان میں خوش کن نتائج کی خبر،ضامن اورکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کرنے والے کی ہے۔
مگراکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٢٩

  • And the deniers of the Hereafter repeatedly and mockingly ask: "Tell us in what era, on what exact date and day will this promise be fulfilled? Tell us, if you are truly truthful in your claims concerning the Last Day and the Hereafter!" (Cf. Replica 10:48;21:38;27:71;34:29;36:48; 67:25) [34:29]

اور آخرت کا انکار کرنے والے استہزائی طور پر تکرار سے پوچھتے  رہتے ہیں’’یہ وعدہ کب،کون سے دور،کس تاریخ اوردن کو پورا ہو گا۔بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

قُل لَّـكُـم مِّيعَادُ يَوْمٛ لَّا تَسْتَـْٔخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةٙ وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ ٣٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "For you people is a duration which has determined culminating moment of time, the Day which you will neither be able to defer it from your selves even for a moment and nor you can hasten it yourself". [34:30] [Similar pronouncement in 7:34;10:49]

آپ ـﷺ)ارشاد فرمائیں ؛"ایک معیاد مقرر ہے  اس دن تک تم لوگوں کے اختتام کے لئیے ۔تم لوگ  شدیدخواہش کے باوجود اس سے ایک لمحہ مؤخر کر سکو گے                                                اور نہ وہ اپنی خواہش سے اس کو مقدم کر سکتے ہو"۔

Root: س و ع; ق د م


وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟
لَن نُّؤْمِنَ بِـهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَلَا بِٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِۗ
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٟلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّـهِـمْ

يَرْجِعُ بَعْضُهُـمْ إِلَـىٰ بَعْضٍٛ ٱلْقَوْلَ
يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوا۟ لَوْلَآ أَنتُـمْ لَـكُنَّا مُؤْمِنِيـنَ ٣١

  • Know it; those (Elite of Jews and Polytheists) who refused to accept you as the Messenger said —
    "We will never accept/believe in this Qur’ān and nor in that one which is stated as Relation in front of it (previously the guidance, Injeel)."
    And would that if you the Messenger see when the wrong doers/evil mongers will be made to stop for their Sustainer Lord [for questioning while being led to Hell-Prison]
    —
    [some of them confronting each other] Some of them will throw back the word to some —
    Saying those who were made the weak/ruled segments of society to those who demonstrated arrogance having made themselves obsessed with pride of grandeur, "Alas, had you not been there we would have certainly been believers of the Messenger and Qur’ān." [34:31] [Read with 14:21;40:47]

اور ان  لوگوں(عمائدین مشرکین)نے   کہاجنہوں نے آپ (ﷺ) کورسول کریم  ماننے سے انکار کردیا ہے:
"ہم اس ٱلْقُرْءَانُ   کو کبھی ماننے پر آمادہ نہیں ہوں گے اور نہ اس  ایک (کتاب۔انجیل)کو مانیں گے  جس کو اس(ٱلْقُرْءَانُ  )سے قبل نازل کردہ کتاب کہا جاتا ہے"۔
اور اگر آپ(ﷺ)حقیقت کے منافی باطل طرز عمل اور حدود و قیود پامال کرنے والے لوگوں کو جہنم لے جاتے ہوئے ان کے رب کے حضور روک دیا گیا ہو گا۔
ان میں سے بعض کسی دوسرے پرالزام لگانے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔
وہ جو  دنیا کی حیات میں  دنیاوی  اور  ذہنی و فکری  طور پرکمزور و ناتواں  حالت میں رہ رہے تھے ،ان  سے کہیں گے  جوخود ساختہ زعم میں اپنی عظمت و بڑائی کو منوانے پر مُصر رہے تھے؛"کاش کہ اگر تم لوگ ہمارے اکابرین اور عمائدین نہ ہوتے تو یقیناً ہم ایمان والے بن گئے ہوتے"۔(سورۃ ابراہیم۔21اورغافر۔47کا مطالعہ بھی کریں)(السباء۔٣١)

Root: و ق ف

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوٓا۟ أَنَـحْنُ صَدَدنَٟكُـمْ عَنِ ٱلْـهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَآءَكُمۖ
بَلْ كُنتُـم مُّجْرِمِيـنَ ٣٢

  • Those who demonstrated arrogance having made themselves obsessed with pride of grandeur replied to those who were made the weak/ruled segments of society, "Did we avert you from the Guidance [Book of Allah, Grand Qur’ān] after that it had reached you people?
    No, the fact is that you people were yourself the criminals". [34:32]
    [See 6:112; 11:116; 25:31;34:32]

  •  انہوں  نے   جوخود ساختہ زعم میں اپنی عظمت و بڑائی کو منوانے پر مُصر رہے تھے  انہیں  جواب دیا  جو  دنیا کی حیات میں  دنیاوی  اور  ذہنی و فکری  طور پرکمزور و ناتواں  حالت میں رہ رہے تھے :"کیا ہم ہیں جنہوں نے تمہیں ہدایت نامہ (قرءان مجید)سے روکا تھا بعد اس کے کہ وہ تحریر میں  تم لوگوں کوپہنچ گیا تھا۔
    نہیں،ہم نے تمہیں اس سے دور نہیں کیا؛اس کے بر عکس حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ خود مجرمانہ طرز عمل پر کاربند تھے"۔

وَ قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَـرُوا۟
بَلْ مَكْرُ ٱلَّيْلِ وَ ٱلنَّـهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِٱللَّهِ وَ نَجْعَلَ لَهُۥٓ أَندَادًۭاۚ
وَ أَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ
وَ جَعَلْنَا ٱلْأَغْلَٟلَ فِـىٓ أَعْنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ۚ
هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
٣٣

  • And said those who were made the weak/ruled segments of society to those who demonstrated arrogance obsessed with pride of grandeur —
    "No the fact is that it were your deceptions day and night when you kept directing us disbelieving in Allah, and/or that we declare some others as equate in some respect for Him the Exalted."
    And they tried to conceal the regret from those upon whom they had ruled in worldly life when they saw the punishment.
    Realize it; Our Majesty has rendered their arrogance as shackles in the necks of those who have denied believing in the presence of Allah the Exalted and the Messenger.
    Asses and confirm; are they getting recompensed except for what they used to do? [as they had put shackles around their brain not to allow any revealing fact enter into
    brain]. [34:33]

اور جو  دنیا کی حیات میں  دنیاوی  اور  ذہنی و فکری  طور پرکمزور و ناتواں  حالت میں رہ رہے تھے ن کو جواب دیا جوخود ساختہ زعم میں اپنی عظمت و بڑائی کو منوانے پر مُصر رہے تھے: 
نہیں،تمہارا استدلال غلط ہے،اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ رات اور دن میں دئیے جانے والا یہ مکارانہ فریب تھا جب تم لوگ ہمیں اللہ تعالیٰ کے مطلق معبود ہونے سے انکار کرنے کا حکم دیتے تھے اور یہ کہ ہم کسی   کو کسی حوالے سےاُن کا ہمسر؍نظیر؍مثل؍مدمقابل قرار دیں"۔
اور ان متکبر عمائدین نے   اپنے احساس ندامت کو  اپنے دنیاوی پیروکاروں سےچھپانےکی کوشش کی جوں ہی انہوں نے عذاب کو دیکھ لیا۔
اور ہم جناب نے ان لوگوں کی  بد اندیشی،بغض،ہٹ دھرمی،انانیت اور عقل و خرد سے بیگانہ روایت پرستی کوان کی گردنوں میں مانند طوق  بنا دیا تھا جنہوں نے اپنے رب  کے موجود ہونے کا ہٹ دھرمی سے انکارکو سرشت بنا لیا تھا۔
تصدیق کرو؛کیا جو جزا ان کودی جائے گی وہ اس  کے متناسب ہے جس طرز عمل پر وہ زندگی بھر کاربند رہے۔

Root: ن د د;  م ك ر; س ر ر; ن د م;  ع ن ق;  غ ل ل


وَمَآ أَرْسَلْنَا فِـى قَرْيَةٛ مِّن نَّذِيرٍٛ إِلَّا قَالَ مُتْـرَفُوهَآ
إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ كَٟفِرُونَ ٣٤

  • Know the history; Our Majesty whenever sent an Admonisher/Awakener [before you] in a community/city the response of her ruling elite was but what they said to them —
    "Certainly we refuse to accept that with which you have been sent." [34:34]

تاریخ سے آگاہ ہو جاؤ؛ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم جناب نے کسی  بستی میں باطل راہ پر چلنے کے دردناک نتائج و عواقب سے انتباہ کرنے والے کو مبعوث فرمایا ہو جن سے اس کے سرکردہ صاحبان ثروت و اقتدار نے یہ نہ کہا ہو۔
"ہم اپنے متعلق حقیقت بتاتے ہیں کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں جس کے ساتھ تم لوگوں کو بھیجا گیا ہے"۔

وَقَالُوا۟ نَـحْنُ أَكْثَـرُ أَمْوَٟلٙا وَأَوْلَٟدٙا
وَمَا نَـحْنُ بِمُعَذَّبِيـنَ ٣٥

  • And they boisterously said, "We are affluent wealth wise and strength of sons —
    And we are certainly not the ones receiver of punishment. [34:35]

اور انہوں نے کہا"ہم لوگ مال و دولت اور اولاد کے حوالے سے دوسروں کے مقابل کثرت کے مالک ہیں۔
اور ہم لوگ قطعی طور پر عذاب دئیے جانے والوں میں شمار نہیں ہوں گے"۔

قُلْ إِنَّ رَبِّـى يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ
وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٣٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce,  "The fact is that my Sustainer Lord expands the sustenance for whom He so decides; and restricts to measure for whom He the Exalted so decides.
    But most of the people they do not accept it/intend to recognize this fact."
    [34:36]

آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ میرے رب  اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔
اس قدر  عام مشاہدہ میں آنے والی حقیقت  باجود اکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

Root: ب س ط

وَمَآ أَمْوَٟلُـكُـمْ وَلَآ أَوْلَٟدُكُم بِٱلَّتِـى تُقَرِّبُكُـمْ عِندَنَا زُلْفَىٰٓ
إِلَّا مَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٟلِحٙا
فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ جَزَآءُ ٱلضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا۟
وَهُـمْ فِـى ٱلْغُـرُفَٟتِ ءَامِنُونَ ٣٧

  • Realize it; Neither wealth and wherewithal of you people and nor your progeny will cause you any nearness to Our Majesty in position —
    However except [wealth and progeny will supplement for nearness in position] the one who believed in the Messenger and Qur’ān and conducted perfectly in accordance with injunctions therein—
    Therefore, they are the people for whom is two-fold reward for that which they did —
    And they are peacefully and comfortably in the lofty dwellings. [34:37]

جان لو؛تم لوگوں کے اموال اور نہ تم لوگوں کی اولاد  کی کثرت کبھی پیمانہ  تھا جس کی موجودگی تم لوگوں کوہم جناب کے قریب کر سکتی،تیزی سے نزدیکی قربت کے انداز میں۔
سوائے اس شخص کے جو رسول کریم(ﷺ)اور قرءان مجید پر ایمان لایا اورصالح  انداز(قرءان مجید کے احکام)میں زندگی بسر کی۔
اس لئے یہ وہ لوگ ہیں؛دہرا انعام ان کے لئے منتظر ہے ان اعمال کے سبب جو انہوں نے کئے۔
اور وہ بلند و بالا رہائش گاہوں میں امن و سکون سے رہیں گے۔

Root: ز ل ف;  غ ر ف

وَٱلَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِـىٓ ءَايَٟتِنَا مُعَٟجِزِينَ
أُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ٣٨

  • Know the verdict concerning those scholars — who persistently strive for the epistemic sabotage of Verbal passages of Our Book (Qur’ān); seeking to relegate them to the background while fronting conjectures, hearsay stories, and fabricated statements. (Cf. 22:51-52;  34:05)
    They — indeed they — are the ones who will be inevitably brought forth, consigned to remain in the affliction particularly prepared for them. [34:38]

یقیناً اُن صاحبان علم کے بارے میں فیصلہ جان لیجیے — وہ جو ہماری کتاب (قرءان مجید)کی بیانی آیات کے ادراکی و فکری بگاڑ (Epistemic Sabotage)کی  شعوری سعی  کرتے رہتے ہیں ۔ اُن کی کوشش کا انداز یہ ہے کہ آیات کو پس منظر میں دھکیل کر اُن کی جگہ آگے بڑھاتے قیاسات، افواہ پر مبنی کہانیاں اور گھڑی ہوئی باتیں۔ یعنی اصل حقیقت کو پیچھے ڈال کر دھندلانا اور قیاسی باتوں  کو نمایاں کرنا اُن کا ہتھیار ہے۔ (مقارنہ:الحج۔51-52؛سباء۔5) —
ان کے لئے وعید یہ ہے کہ  انہیں لازماً گھسیٹ کر  منفردعذاب کے سامنے حاضر کیا جائے گا، اور وہاں قیام ان کا مقدر ہوگا۔

Root: س ع ى;  ع ج ز; ح ض ر

قُلْ إِنَّ رَبِّـى يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَـهُ ۥۚ
وَمَآ أَنفَقْتُـم مِّن شَـىْءٛ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥۖ

وَهُوَ خَيْـرُ ٱلرَّٟزِقِيـنَ ٣٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "The fact is that my Sustainer Lord expands the livelihood for him about whom He the Exalted so decides; and restricts to measure for him about whom so decides, amongst His living subjects.
    And should you spent generously anything of substance; thereby
    [He knows 2:270] He the Exalted compensates for that.
    And He the Exalted is certainly the best of sustenance provider.
    [34:39]

آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ میرے رب اپنے بندوں میں  سے  اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔
اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے،اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہیں۔اور اس کے بدلے میں وہ تمہیں اس کا اجر عطا کرتے رہتے ہیں اور کریں گے۔
اور وہ جناب    بہترین رازق ہیں۔

Root: ب س ط


وَيَوْمَ يَحْشُـرُهُـمْ جَـمِيعٙا
ثُـمَّ يَقُولُ لِلْمَلَـٟٓئِكَـةِ أَهَٟٓـؤُلَآءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٤٠

  • Imagine; the day He the Exalted will gather them; all assembled —
    Thereafter, He the Exalted will ask the Angels, "Were these people used to worship/show allegiance to you?" [34:40]

اس دن کے واقعات سے پیشگی خبردار ہو جاوجب وہ جناب انہیں اجتماعی حالت میں اکٹھا کرکے بتائیں  گے:
بعد ازاں اجتماع وہ جناب فرشتوں سے پوچھیں گے:کیایہ موجود لوگ تمہاری پرستش اور فرمانبرداری کرتے تھے؟"

Root: ء ل ك

قَالُوا۟ سُبْحَٟنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِـهِـمۖ
بَلْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٱلْجِنَّۖ

أَكْـثَرُهُـم بِـهِـم مُّؤْمِنُونَ ٤١

  • They replied, "Glory is for You; You were our Companion, other than them —
    Nay, the fact is that they used to worship/were allegiant to the Jinn species —
    Most of them were believers in them" [34:41]

انہوں (ملائکہ )نے کہا ’’آپ جناب عظیم ہیں!ہم بیان کرتے ہیں کہ تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محورآپ جناب ہیں۔آپ جناب ہر وقت ہمارے ساتھ تھے ان کے علاوہ۔
ہماری نہیں بلکہ وہ جنوں کی پرستش اور  فرمانبرداری کرتے تھے ۔
ان میں سے اکثر ان جنوں پر ایمان رکھتے تھے"۔

فَٱلْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُـمْ لِبَعْضٛ نَّفْعٙا وَلَا ضَرّٙا
وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِـى كُنتُـم بِـهَا تُكَذِّبُونَ ٤٢

  • [It will be told] Consequently today, some of them do not possess any power-capacity-authority-control for affording material gain to someone and nor for averting adversity/harm.
    And Our Majesty will say to those who wronged themselves, "You people taste the torment of heat in Hell-Prison. This is one which you people used to contradict publicly". [34:42]

[آج کہا جائے گا] نتیجتاً آج ان میں سے کسی کے پاس یہ اختیار یا طاقت نہیں ہوگی کہ وہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں یا نقصان کو دور کرسکیں
اور ہم ان سے جنہوں نے حقیقت کے منافی   باطل تصورات  اور طرز عمل کو اپنائے رکھا تھا کہیں گے: 'تم لوگ جہنم کی قید خانے کی گرمی کا مزہ چکھو۔ یہ وہی عذاب ہے جسے تم لوگ  اپنے عوام کے سامنے برملاجھٹلاتے رہتے تھے"۔

Root: م ل ك;  ذ و ق


وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُنَا بَيِّنَٟتٛ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَا إِلَّا رَجُلٚ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ
وَقَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ إِفْكٚ مُّفْتَـرٙىۚ

 
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُـمْ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٚ مُّبِيـنٚ ٤٣

  • Know it, when Our Aaya'at: Verbal Passages of Qur’ān, characteristically mirroring information, facts and knowledge in exegetical manner, are narrated to them, word by word —They (polytheist elite) said to people, "He is none but a grown man who wants that he may divert you people from that which your fathers used to worship/were allegiant".
    And they said to people, "
    This (Qur’ān) is nothing but a distortion defying hitherto accepted beliefs. It is meticulously fabricated that contradicts long cherished understanding."
    And those/elite ruling class who refused to accept the Messenger said to people about the Infallible Discourse (Qur’ān) when it was brought to them
    —"This (Qur’ān) is nothing except an evident illusion/falsity". [their statement is deceptive since illusion relates only to eyes/vision and the moment one touches the thing creating illusion, the illusion vanishes] [34:43]
     

مطلع رہوزمانہ نزول کی تاریخ سےجب ہم جناب  کے کلام پر مشتمل آیات  لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے  ان لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔مشرکین کے عمائدین نے لوگوں سے کہا’’یہ صاحب ماسوائے معاشرے کے ایک مرد کے کسی اور حیثیت کے حامل نہیں ہیں۔اس کا ارادہ ہے کہ تم لوگوں کو ان سے منحرف کر کے پلٹا دے جن کی تمہارے آباؤ اجداد بندگی کرتے رہے تھے‘‘۔
اور ان عمائدین مشرکین نے لوگوں سے مزید کہا
"یہ (قرءان مجید)سوائے اس کے کچھ نہیں کہ محض من گھڑت فلسفہ ہے،سازش ہے جو رائج عقائد کی تنقیض کرنے کے لیے سوچا گیا ہے۔اسے بڑی محنت اور مقصد سے اختراع کیا گیا ہے۔
اور ان عمائدین( مشرکین)نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان  مجید کو ماننے سے انکار کردیا تھا  جوں ہی انہیں تحریری طور پر پہنچ گیا لوگوں سے بیان حقیقت کے متعلق کہا:’’یہ(اپنے ہاتھ میں تھامے قرءان مجید کو دکھاتے ہوئے)تو سوائے صریحاً طلسماتی شعبدہ بازی کی کہانیوں کے کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ (سباء۔٤٣)

Root: س ح ر

وَمَآ ءَاتَيْنَـٟـهُـم مِّنْ كُتُبٛ يَدْرُسُونَـهَاۖ
وَمَآ أَرْسَلْنَا إِلَيْـهِـمْ قَبْلَكَ مِّن نَّذِيرٛ ٤٤

  • How they make such statements while Our Majesty had not given them [Bani Iesma'eile-Gentilesin many generations before this Qur’ān] at all some book which they were studying —
    And nor Our Majesty had sent towards them before you [Muhamad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] any revivalist/admonisher/awakener. [34:44]

قرءان مجید کے متعلق یہ تبصرے کس بنیاد پر کرتے ہیں جبکہ ہم جناب نے ان کی پچھلی نسلوں میں کتاب کو عنایت کیا تھاجس کی آیات کا وہ مطالعہ کرتے رہے ہوں۔
اور نہ آپ(ﷺ)سے قبل ہم جناب نے ان کی جانب کسی باطل طرز عمل کے خوفناک نتائج اور عواقب سے متنبہ کرنے والے کو بھیجا تھا۔

Root: د ر س

وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبلِـهِـمْ وَمَا بَلَغُوا۟ مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْ فَكَذَّبُوا۟ رُسُلِـىۖ
فَكَـيْفَ كَانَ نَكِيـرِ ٤٥

  • Nothing new in their response; those people/civilization which existed before them publicly contradicted whom Our Majesty had given that the one tenth of which has not reached to these ones. Since worldly life was all that mattered for them they in response publicly contradicted My Messengers.
    Since their fate, when the time of respite ended, has already been described, so reflect on what the outcome was for the denial of My message." [34:45]

ان عمائدین مشرکین کا رویہ کوئی نہیں بات نہیں،ان لوگوں نے جو ان سے قبل زمان و مکان میں بستے تھے تکذیب کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اور ہم جناب نے اِن کو اس کا دسواں حصہ عنایت نہیں کیا جو اُن کو مہیا کیا تھا۔چونکہ انہوں نے حیات دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیا تھا اس لئے انہوں نے میرے رسولوں کے بیان کو سر عام جھٹلا دیا۔
چونکہ مہلت کا وقت ختم ہونے پر جو ان کا انجام ہوا تھا وہ بیان کر دیا گیا ہے اس لئے غور کرو کہ میرے پیغام کے انکار کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔

Root: ع ش ر; ن ك ر


قُلْ إِنَّمَآ أَعِظُـكُـم بِوَٟحِدَةٍۖ أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَ فُرَٟدَىٰ ثُـمَّ تَتَفَكَّرُوا۟ۚ
مَا بِصَاحِبِـكُـم مِّن جِنَّةٍۚ
إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ لَّـكُـم بَيْـنَ يَدَىْ عَذَابٍۢ شَدِيدٍۢ
ٛ ٤٦

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them: "I only advise you people with one advice —That you people may stand—find time for Allah the Exalted (Absolute Truth and Fact) in twos, and individually. Thereafter, you people self reflect objectively keeping aside passions-emotions-prejudices-caprices-whims-conjectural myths to know the purpose of creation."
    Be cautioned: Not at all a statement of delusive, phantasmagoric and hallucinatory nature is associated with your guiding leader (Muhammad
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]).
    Indeed he is for you peoples but an Awakener-Admonisher-Warner manifesting the imminent danger of severe infliction confronting you. [34:46] 

آپ(ﷺ)تمام لوگوں کو بتائیں’’میں تم لوگوں کو فقط ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔وہ یہ کہ  اللہ تعالیٰ کےلئےتم لوگ خصوصی طور پر  قیام کرو، وقت نکالو؛اس حال میں کہ دو موجود ہو ںاور اکیلے تنہا ہو۔بعض ازاں ایک مقام پر متمکن ہو جانے پر از خود  جذبات اور تعصب سے بالاتر ہو کرمقصدیت کے پہلو سے باتوں پر غور و فکر کرو‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ تم لوگوں کے رہنما سے قطعاً کوئی وسوسہ انگیز،تخیلاتی منظر کشی،دقیانوسی،سحر انگیزی والا بیان منسوب نہیں ہے اورکیا  بھی نہیں جا سکتا ۔(کیونکہ ان کا قول تو قرءان مجید ہے)
اوریہ حقیقت ہے کہ  ان کی ذمہ داری اور کردارکفر و نافرمانیوں کے   ان ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  تم لوگوں کومتنبہ کرنے والے کی ہے   جس شدید عذاب کا تم لوگوں کے لئے احتمال ہے۔۔

Root: و ع ظ; ف ر د; ف ك ر


قُلْ مَا سَأَلْتُكُـم مِّن أَجْرٛ فَهُوَ لَـكُـمْۖ
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِۖ

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ شَهِيدٚ ٤٧

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them, "What I have asked you to acknowledge and appreciate intellectually; the moment you reflect you will find it suggests the better and aright course for you people —
    As for my award is concerned, it is upon none except Allah the Exalted.
    And He the Exalted is Ever Witness/Observer/Guard over each and every thing". [34:47]

"آپ [رسول محمد ﷺ]ارشادفرمائیں:"جو بات میں نے تم سے قبول کرنے اور فکری طور پر سراہنے کی درخواست کی ہے، اگر تم غور کرو گے تو تمہیں وہ تمہارے لیے بہتر اور درست راستے کی طرف رہنمائی کرتی نظر آئے گی۔
رہی بات میرے انعام و اکرام کی، تو وہ کسی اور پر نہیں بلکہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر واجب الادا ہے۔
اور وہ جناب  ہر چیز کے عینی  گواہ، نگران اور محافظ ہیں۔

قُلْ إِنَّ رَبِّـى يَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ
عَلَّٟمُ ٱلْغُيُوبِ ٤٨

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them, "It is certain fact that my Sustainer Lord hurls with proven Fact/Reality-Profitable and substantive substance of permanence —
    Indeed He the Exalted are the absolutely knowledgeable of all that exists which is not within the reach/focus of others." [34:48]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ میرے رب   موقع محل کی مناسبت سے مبنی بر حقیقت بیان سے جھاگ اور بلبلوں کی مانند ابھرنے والے بےسروپا اور لغو ہرزہ سرائی کو چوٹ لگاتے ہیں۔
 یہ حقیقت کہ  وہ جناب ہر ایک معاملے کو ہر وقت مطلق جانتے والے ہیں جو دوسروں سے اوجھل ہے"۔

قُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ
وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَٟطِلُ وَمَا يُعِيدُ ٤٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "the Infallible Doctrine-Discourse of Reality-Profitability and substance of permanence (Qur’ān) has since arrived —
    And the: بَاطِل falsehood; scum, filmy layer of extraneous matter or impurities rising on surface of a liquid, dross or refuse from molten metal,  neither initiates a new process nor causes its iteration. [34:49]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"بیان حقیقت  (قرءان مجید)دنیا میں پہنچ گیا ہے۔
اور جھاگ اور سطح پر ابھرنے والے میل کچیل کی مانندتخیل سے اختراع کردہ تصورات کسی  حقیقی شئے کو وجود نہیں دیتے اور نہ اس کی تجدید کر سکتے ہیں۔

Root: ع و د

قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَـىٰ نَفْسِىۖ
وَإِنِ ٱهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِـىٓ إِلَـىَّ رَبِّـىٓۚ

إِنَّهُۥ سَـمِيعٚ قَرِيبٚ ٥٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce [the principle], "If I remained forgetfully heedless to Infallible Discourse then I am placing the effect of heedless forgetfulness upon my own self —
    And if I have sincerely guided myself aright, it is because of that which my Sustainer Lord is verbally communicating to me [in Qur’ān, and with this I guide humanity] —
    It is certain that He the Exalted is All-Listener, Ever-Near." [34:50]

آپ(ﷺ)انحراف اور ہدایت کا اصول بیان فرما دیں"اگر میں نے اس(بیان حقیقت)سے انحراف کیا ہے تو میں اپنی ذات پر انحراف کا بوجھ ڈال رہا ہوں۔
اور اگر میں نے خلوص سے اپنے آپ کو ہدایت پر گام زن کیا ہے تو یہ اس سے توصل کے ذریعے کیا جو میرے رب میری جانب کلام وحی فرما رہے ہیں۔
ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ ہر لمحہ سنتے ہیں،وہ جناب قریب موجود ہیں"

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ فَزِعُوا۟ فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا۟ مِن مَّكَانٛ قَرِيبٛ ٥١

  • O Messenger, pay attention, you need not be dismayed by their adamance - if you could hypothetically visualize when they, these chieftains, would be struck with terror, then, since it will be overwhelming, there shall absolutely be no possibility of escape left for them, and they would be seized and arrested from a nearby place, after having run out from their houses in panic and fear. [34:51]

اے رسول! ان کی ہٹ دھرمی سے آپ ملول نہ ہوں - اور توجہ فرمائیے - اگر آپ بالفرض  اُس لمحے کا تصور کر سکیں جب یہی سردارانِ قوم دہشت سے لرزہ بر اندام ہوں گے، تو چونکہ وہ منظر نہایت ہولناک اور ہمہ گیرہوگا، اس لئے ان کے لئے فرار کی کوئی صورت قطعاً باقی نہ رہے گی، اور وہ قریبی مقام سے - اپنے گھروں سے خوف و ہراس میں باہر نکل کر بھاگنے کے بعد - پکڑ کر گرفتار کر لیے جائیں گے۔

Root: ف ز ع;  ف و ت

وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَ أَنَّـىٰ لَـهُـمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍۢ ٥٢

  • And they said, "We have believed and stand associated with it [Grand Qur’ān]". But the question is: the pretended grasping it for association is how possible for them in a situation originating from the far end of a place? (Cf. 41:44) [34:52]

اور انہوں نے کہا، "ہم اس(قرءانِ عظیم)پر ایمان لائے اور اس سے وابستہ ہو کر کھڑے ہیں"۔ مگر سوال یہ ہے کہ دور دراز مقام کے آخری کنارے سے اٹھنے والی صورتِ حال میں اس سے وابستگی کے لیے اسے پکڑنے کی محض بناوٹی کوشش ان کے لیے کہاں سے ممکن ہے؟—

Root: ن و ش

وَقَدْ كَـفَرُوا۟ بِهِۦ مِن قَـبْلُۖ وَيَقْذِفُونَ بِٱلْغَيْبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٛ ٥٣

  • While they had persistently refused association with it in earlier timeline —and they used to hurl non verifiable palavers blindly sourcing them from a far off place of relevance. (Cf. 41:26) [34:53]

حالانکہ وہ قبل کے تمام دور  میں مسلسل اس (قرءان)سے وابستہ ہونے سے انکار کرتے رہے تھے - اور وہ ناقابلِ تصدیق، بے بنیاد باتیں اندھا دھند دور دراز مقامِ متعلقہ سے ماخذ بتا کر اچھالتے رہتے تھے۔

Root: ق ذ ف

وَحِيلَ بَيْنَـهُـمْ وَبَيْـنَ مَا يَشْتَـهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِـم مِّن قَبْلُۚ
إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ فِـى شَكّٛ مُّرِيبِۭ  ٥٤

  • And a barrier remained struck, disabling perceptual change, in between their conscience and what selfish desires, lusts and conjectural fascinations they desperately kept pursuing. It was exactly a repeat phenomenon like that which firstly happened to people of their nature and psyche who flourished in earlier timeline. [accepting reality when it is too late)
    It is certain that they remained engaged and plunged in such skepticism that kept them in cognitive dissonance. [in accepting the word of Messengers]. [34:54]

اورجس  کوشعوری تبدیلی کے لئے رکاوٹ بنایا گیا تھا  وہ ان کے نفوس اور اس کے درمیان ہمیشہ حائل رہا جس کی وہ  مفاد پرستانہ  خواشات،شہوات اوردلفریب سحر انگیزی  کے زیر اثر جستجو میں رہنا پسند کرتے تھے۔   یہ بعینہٖ وہی مظہر تھا جو ان سے پہلے کے ادوار میں پروان چڑھے لوگوں کو اول اول پیش آ چکا تھا  جو ان جیسے مزاج  اور نفسیات رکھنے والے  تھے -(رجوع کی مہلت ختم ہونے پر حقیقت کو تسلیم کرنا)
یہ حقیقت ہے کہ اس سے قبل عذاب سے خبردار کئے جانے کے متعلق  حقیقت تسلیم کرنے میں وہ ایسے شک میں مبتلا رہے جو قلب کو حقیقت تسلیم کرنے میں الجھن اور تذبذب میں مبتلا رکھتا تھا۔

Root: ش ھ و;  ش ى ع; ش ك ك; ر ى ب

 

035-سُوۡرَةُ فاطر

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation

Introduction


ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ
 فَاطِرِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
جَاعِلِ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةِ رُسُلًا أُو۟لِـىٓ أَجْنِحَةٛ مَّثْنَىٰ وَثُلَٟثَ وَرُبَٟعَۚ
يَزِيدُ فِـى ٱلْخَلْقِ مَا يَشَآءُۚ

إِنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ١

  • The Infinite Glory and Praise stands specified eternally and exclusively for Allah the Exalted.
    He the Exalted is the Primordial Creator of the Skies and the Earth. (cf. 6:14; 12:101; 14:10; 35:1; 39:46; 42:11=6)
    He the Exalted is the ever-ready appointer of the Angels as agents/assignees for recording statements/executing death warrant (cf. 6:61;32:11; 43:80). They are holders - possessors of wings, twos, and threes, and fours.
    He the Exalted keeps increasing - expanding - adding in the created realm whatever He wills and intends.
    It is a fact that Allah the Exalted is eternally the Causality Determiner upon each and all things - to set them right-fix them in measure. [35:01] (cf. 2:20; 2:109; 2:148; 3:165; 16:77; 24:45; 29:20; 35:1=8)

اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔وہ جناب آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرشتوں کو گاہے بگاہے  اپناکارندہ مقرر کرتے ہیں   پروانہ موت پر عمل درآمد اور گفتگو ریکارڈ کرنے کے لئے(محذوف کے لئے حوالہ الانعام 61،السجدہ۔11،اور الزخرف۔80)۔ وہ پرندوں کی طرح پروں والے ہیں، دو دو، تین تین، اور چار چار۔
 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس طرح چاہے اضافہ کرت
ے  رہتےہیں۔
یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

Root: ف ط ر;ر ب ع; ء ل ك;خ ل ق

مَّا يَفْتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْـمَةٛ فَلَا مُمْسِكَ لَـهَاۖ
وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦۚ

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٢

  • A manifestation of absolute control is that whatever grant and blessing in certain situation Allah the Exalted opens up for the benefit of certain people, there exists no partner, co-owner, or authority who has the right to restrain it —(cf. 29:62; 42:12)
    And that which He holds back then there is no one who could cause its dispatch after it has been held back —
    Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [35:02] (cf. 14:4; 16:60; 29:42; 30:27; 31:9; 35:2; 45:37; 57:1; 59:1; 59:24; 61:1; 62:3=12; also 29:26 without Waw)

ہر شئے پر مطلق قادر ہونے کا ایک مظہریہ ہے کہ   اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے موقع اور حالات کے اعتبار سے جو بھی عطا و برکت جاری فرما دے،قطعاً کوئی شریک، کوئی حقدار اور نہ کوئی اختیار رکھنے والا ایسا نہیں جو اسے روکنے کا حق رکھتا ہو —
اور جس چیز کو وہ روک لیں (ضبط کر لے) پھر اس کے بعد کوئی ایسا نہیں جو اس کے اخراج/جاری کرنے کا باعث بن سکے —
مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

Root: م س ك;   ف ت ح  Syntactic and Semantic Analysis


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُـمْۚ
هَلْ مِنْ خَٟلِقٍٛ غَيْـرُ ٱللَّهِ
يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِۚ
لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ
فَأَنَّـىٰ تُؤْفَكُونَ ٣

  • O you the Mankind, listen attentively; (cf. https://haqeeqat.pk/sohail/YaAyyoHanNaas.htm)
    Recall the ultimate Grace of Allah the Exalted  — bestowed on you by sending the Universal Messenger and verbal passages of Qur’ān (cf. 2:151; 3:103; 62:2)
    Reflect and respond yes or no; Is there a single creator including those considered as godheads other than Allah the Exalted who creates life [My Lord; my answer is, none] — who provides you the feed for continuity of life from the Sky and the Earth?
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive except He the Exalted (Allah). (cf. https://haqeeqat.pk/TranslationMethadology1.htm#18.Thesis)
    Since this is the undeniable truth you know and have observed, then how are you still deluded away from Him the Exalted? [35:03] (cf. 6:95; 10:34; 35:3; 40:62)

اے لوگو!دھیان سے سنو!
 اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کو یاد رکھو جب انہوں نے تم لوگوں پررحمت العالمین کوآفاقی رسول مبعوث  فرما کر بھیجا تھا(البقرۃ۔151؛ءال عمران۔103؛164 اورسورۃ الجمعہ۔٢)۔
غور کر کے تصدیق یا نفی کرو؛اللہ تعالیٰ کے علاوہ کیا کوئی ایک بھی
ذی حیات تخلیق کرنے والا ہےجو تم لوگوں کو آسمان اور زمین میں سے نکال کرحیات کو برقرار رکھنے کے لئے رزق مہیا کرتا ہے؟
ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےـ(بشمول چند کے مطابق رسول اللہ عیسیٰ علیہ السلام) کوئی ذی حیات نہیں سوائے ان جناب (اللہ تعالیٰ)کے۔
چونکہ تم لوگوں کو ان معبودان کی اصلیت کا تجربے اور مشاہدے سے ادراک ہے تو کیسے اور کیوں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے منحرف کر کے جھوٹے نظریہ کی جانب راغب کر دیا جاتا ہے۔

Root: خ ل ق;ء ف ك

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٚ مِّن قَبْلِكَۚ
وَإِلَـى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ ٤

  • Despite that explicit favour, if they—ruling elite and coterie intelligentsia—publicly contradict you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] then there is no point in consuming yourself with grief for them. The enduring fact of history is that the Messengers sent to individual nations before you were also contradicted by their respective elites [and they did not grieve like this, having prayed for judgment instead]. (cf. 22:42)
    People need be mindful; all matters are returned-presented for settling-decision-finality by Allah the Exalted. [35:04] (cf. 2:210; 3:109; 8:44; 22:76; 35:4; 57:5)

اے رسول کریم آپ کی محبت، درد مندی اوراحساس غم  دیکھ کر ہم آپ کو بتا رہے ہیں:باوجود ہمارے اس اظہار رحمت کے اگر  وہ —سرکردہ عمائدین اور ان کے پروردہ سکالر—لوگوں میں  آپ (ﷺ)کے کلام اللہ سے بیان کردہ فرمودات کو اعلانیہ جھٹلاتے ہیں  تو یہ کوئی   نیا واقعہ نہیں۔آپ سے پہلے بھی انفرادی قوموں کی جانب مبعوث فرمائے  رسولوں کو ان کے عمائدین نے بر سر عام  جھٹلایا تھا(وہ تو غمگین نہیں ہوئے تھے)

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚۖ
 
فَلَا تَغُـرَّنَّكُـمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَاۖ

وَلَا يَغُـرَّنَّكُـم بِٱللَّهِ ٱلْغَـرُورُ ٥

  • O you the Mankind, listen attentively; (cf. https://haqeeqat.pk/sohail/YaAyyoHanNaas.htm)
    Indeed the promise of Allah the Exalted is inevitable and infallible fact —(cf. 10:55; 30:60; 31:33; 35:5; 40:55; 40:77; 45:32; 46:17)
    Therefore, once you have realized the certainty of  resurrection and accountability, henceforth let not the life of lowly world beguile you by its glitter and absorbing charms. (cf. 31:33)
    And nor henceforth let the Deceiver (Shaitaan) beguile you by prevarications about commands of Allah the Exalted. [33:05] (cf. 31:33)

اے لوگو!دھیان سے سنو!
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا از سر نو حیات دینے کا وعدہ
حتمی اور بدیہی حقیقت ہے ۔
لہٰذا جب تمہیں قیامت اور حساب کتاب کی ناگزیر حقیقت کا شعور ہو جائے  تو چاہئے کہ   حیات دنیا  اپنی  جاذبیت اور کشش  سےآئندہ تمہیں فاسد خیال اور روئیے پر مائل نہ کر سکے۔
اور تمہیں محتاط رہنا چاہئے کہ دھوکے باز کی شناخت رکھنے والا(شیطان)اللہ تعالیٰ کے فرمان بارے   تمہیں فاسد خیال اور روئیے پر مائل   نہ کر سکے۔

Root: غ ر ر

إِنَّ ٱلشَّيْطَٟنَ لَـكُـمْ عَدُوّٚ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ
إِنَّمَا يَدْعُوا۟ حِزْبَهُۥ لِيَكُونُوا۟ مِنْ أَصْحَـٟـبِ ٱلسَّعِيـرِ٦

  • Indeed the Shai'taan is antagonist feigning as well-wisher for you people, therefore, consciously regard him only as enemy. (cf. 2:168; 2:208; 6:142; 7:22; 12:5; 17:53; 36:60; 43:62)
    He keeps persuading his faction only to achieve success that eventually they become his companions in Blazing-Prison. [35:06]

اس حقیقت کو یاد رکھو کہ شیطان تم لوگوں کے لئے دشمن ہے،چونکہ وہ تمہیں برباد کرنے کے لئے برسرپیکار ہے اس لئے اسے بطور دشمن کے ذہن میں رکھو۔
حقیقت صرف یہ ہے کہ وہ اپنے ہم خیال لوگوں کو دعوت دیتا رہتا ہے اس مقصد سے  کہ ان کا شمار اور مصاحبت ان کے ساتھ ہو جائے جو بھڑکتی آگ کے گرم ماحول کے ساتھی ہیں۔(فاطر۔
٦)

Root: س ع ر; ح ز ب

ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدٚۖ
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ
لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَأَجْرٚ كَبِيـرٌ ٧

  • Know the upshot of those who have refused to accept the Messenger and the Divine Discourse — a severe punishment is prepared and is in wait for them. (Cf. 3:04;42:26)
    And regarding those who have accepted and believed in the Messenger and thenceforth did act righteously—moderately as directed —Forgiveness and magnificent reward is guaranteed for them as promise of Allah the exalted. [35:07]

    ان لوگوں کے انجام کے متعلق جنہوں نے  رسول کریم اوراللہ تعالیٰ کی آیات(نازل کردہ کتاب میں مندرجات)کا انکار کیا ہے حقیقت یہ ہے۔۔ایک شدید جسمانی سزا ان کےلیے تیار اور منتظر ہے۔
     اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔یہ ہیں وہ لوگ—مغفرت اور اعلیٰ ترین ایوارڈ کی بشارت ان کے لئے رسول کریم نے دے دی ہے۔

أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنٙاۖ
فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَـهْدِى مَن يَشَآءُۖ

فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْـهِـمْ حَسَـرَٟتٛۚ
إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيـمُۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ٨

  • Can you the Messenger guide him against his wish for whom the evil of his deliberate act has been made alluring? Since it appeases him he sees and regards it appropriate.
    You cannot, since Allah the Exalted [does not seize the freedom of choice/freewill] exposes by abandoning him who consciously insists upon remaining aberrant; and He the Exalted guides in time and space through His Book the one desires to be guided.
    In view of the fact that their persistent straying is now a deliberate and conscious choice,
    you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should not torment yourself for them.
    Remain calm and composed; indeed Allah the Exalted is fully aware of that which they people artfully devise—fabricate. [35:08]

بھلاآپ  اُس شخص کو کیسےرہنمائی فراہم کر سکتے ہیں  جس کے لیے اس کے عمل  کے  نا معقول  اور گندے پن کو دلفریب  اور جاذب نگاہ بنا دیا  گیاہے؟ چونکہ یہ اسے طمانیت اور لطف دیتا ہے اس لئے وہ اسے  اچھا اور درست سمجھنے لگا ہے۔
 نہیں؛  یہ حقیقت مدنظر رہےکہ یقیناً اللہ تعالیٰ  ایسے شخص کو جو انحراف اور گم کردہ راہ رہنے پر بضد ہے اسے اس حالت میں رہنے دیتے ہیں۔اوراسے ہدایت سے نواز دیتے ہیں جو متمنی ہدایتہے۔
 
اس حقیقت کے پیش نظر
کہ ان کا اب گمراہی میں مبتلا  رہنا دانستہ اور شعوری فیصلہ ہے اس لئے  آپ (ﷺ) اُن کے لئے اپنے آپ کوآزردہ خاطر،حسرتوں اور افسوس میں مبتلا   نہ کریں۔
آپ اطمینان رکھیں اللہ تعالیٰ یقیناً  اس سے بخوبی آگاہ ہیں جو تدبیر  اور ہتھکنڈے وہ اختیار کرتے رہتے  ہیں۔

Root: ص ن ع


وَٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ ٱلـرِّيَٟحَ فَتُثِيـرُ سَحَابٙا
فَسُقْنَٟهُ إِلَـىٰ بَلَدٛ مَّيِّتٛ فَأَحْيَيْنَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَاۚ
كَذَٟلِكَ ٱلنُّشُورُ ٩

  • Know it: Allah the Exalted is the One Who caused the sending of Winds [in state of uplifting aerosols-condensation nuclei resembling semen of stallion cf. 15:22]. Thereby, having reached the destination, she (Winds) keeps causing - excitement charging the atmosphere for originating-raising a cloud.
    Thereby, for reasons of other processes completed Our Majesty drove it (middle cloud) heading it towards a land which was characteristically dead. Thereat, Our Majesty rejuvenated-brought to life with it the Earth after her "death".
    The Resurrection-the Evidently Spread Reappearance is a phenomenon in the semblance of aforementioned physical realities. [35:09]

یقیناً اللہ تعالیٰ وہ  ہستی ہیں جنہوں نے ہواؤں کو اوپر کی جانب روانہ کیا(اس حال میں کہ  ایروسولز /کنڈینسیشن نیوکلئی جیسے اجزاء  سے لدی ہوئی تھیں ۔جس کی تشبیہ گھوڑے کے مادہ منویہ سے دی   گئی ہے۔الحجر-22)پھر جب وہ اپنے مقصد تک پہنچتی ہیں، تو  فضا میں جوش و جذبہ سے ماحول کو متحرک کرتی   بادل کی  تخلیق اور اسے اوپر اٹھانا شروع کر دیتی ہیں ۔
اس کے بعد،ہم جناب  نے اس بادل (مذکر) کو ایک مردہ زمین کی طرف  اسے سیراب کرنے بھیجا ۔
چونکہ   پانی اوررزق   حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے  اس کے ذریعے ہم جناب نے بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات    پذیر کر دیا۔
 جان لو؛اس ظاہر ہونے والی دوبارہ حیات کا ظاہری واقعہ—بالکل اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو  حیات نو دے کر انسان پھیلے ہوں گے۔

Root: ر و ح ; س ح ب ;س و ق; ن ش ر                   Cloud Physics

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ جَـمِيعًاۚ
إِلَيْهِ يَصْعَدُ ٱلْـكَلِـمُ ٱلطَّيِّبُ
وَٱلْعَمَلُ ٱلصَّٟلِحُ يَرْفَعُهُۥۚ
وَٱلَّذِينَ يَمْكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدٚۖ

وَمَكْرُ أُو۟لَـٟٓئِكَ هُوَ يَبُورُ ١٠

  • (Impostor believers should realize) Whoever intends to gain dominance and protection from being subjugated, he has to revert to His Lord since the Dominance and granting safety is the domain of Allah the Exalted in absolute sense.
    The discourse that is based on truth, pleasing to the ears, and beneficial in nature holds significance as it has the capacity to ascend and gain access to the Exalted Lord.
    And the perfect act done according to Divine injunctions has the significance that He the Exalted elevates/sanctifies it by his approval and appreciation.
    And those who devise deceptions for evil things: a grave punishment is prepared and is in wait for them,
    And the deception they devise, they are the people whom that will ruin. [35:10]

(منافقین اس حقیقت  کوجان لیں)؛جو کوئی غلبہ حاصل کرنے یا محکوم ہونے سے بچنے کی خواہش رکھتا ہے اسے اپنے رب سے رجوع کرنا ہو گا کیونکہ غلبہ ، مکمل طور  مطلق  انداز میں  اللہ تعالیٰ  کا لاینفک وصف ہے۔
 وہ کلام جو حقیقت پر مبنی
 سماعتوں کے لئے خوشگوار اور فائدہ مندہے  اس کی اہمیت  یہ ہے کہ وہ ان جناب تک بلند ہونے کی رسائی رکھتا ہے۔
اورہر وہ کامل عمل جو الٰہی احکامات کے مطابق انجام دیا گیا ہو، اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی منظوری اور قدردانی کے ذریعے بلند اور مقدس بناتےہیں۔
اور جو لوگ برے مقاصد کے لیے چالاکیاں کرتے ہیں،ایک شدید محسوس ہونے والی جسمانی سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔
اور وہ چالاکی جو وہ کرتے ہیں، وہ انہی کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔

Root: ص ع د;ر ف ع;م ك ر

وَٱللَّهُ خَلَقَكُـم مِّن تُرَابٛ
ثُـمَّ مِن نُّطْفَةٛ
ثُـمَّ جَعَلَـكُـمْ أَزْوَٟجٙاۚ
وَمَا تَحْـمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦۚ

وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٛ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِـى كِتَٟبٍۚ
إِنَّ ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرٚ ١١

  • Know your origin: Allah the Exalted has created you people corporeally structured with substances of clay drawn from dust —
    Afterwards lapse of time He the Exalted created you in different manner from the segment of a sperm (the origin of Adam's progeny)—
    Afterwards, [having made sperm a joined one-Zygote] He rendered you people as pair — male and female —
    However,
    certainly never does a female bear a burden of pregnancy, nor does she bring it forth, except in accordance with His all-encompassing knowledge.
    Similarly neither life period of any is extended nor lessened from the age of an aged person but in accordance with the rules mentioned in a book.
    Indeed this has always been an easy routine matter for Allah the Exalted. [35:11]

اپنی ابتداء سے روشناس رہو؛اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو خاک کے ذرات میں سے چنے مواد سےتخلیق کیا تھا۔
بعد ازاں،وقت کے فاصلے پراُس تخلیق سے مختلف انداز میں تم لوگوں کو نطفہ کے ایک جزو سے تخلیق کیا(نسل آدم کا ابتدائیہ)۔
بعد ازاں (کچھ وقت گزر جانے پر)تم لوگوں کو مختلف جنس کے حامل جوڑوں کے بطور بنا دیا۔
 اور نہ کوئی مؤنث حمل کا وزن اٹھاتی ہے اور نہ وہ وضع حمل کرتی ہے  مگرسوائے  اس حال میں کہ یہان جناب کے پیشگی علم  کے دائرہ میں ۔
اور نہ کسی ایک بھی عمر رسیدہ شخص کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ اس کی عمر میں سے کچھ وقت کی کمی کی جاتی ہے، سوائے اس اصول کے تحت جو کتاب(ام الکتاب)میں درج ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے آسان معمول  کی مصروفیت ہے۔(فاطر۔۱۱)

   Origin of Man - the blue eyed of physical realm  The procreation of Man - Anisogamy   Root: ن ط ف;و ض ع;ع م ر;ى س ر

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْبَحْرَانِ هَـٰذَا عَذْبٚ فُرَاتٚ سَآئِــغٚ شَرَابُهُۥ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٚۖ
وَمِن كُلّٛ تَأْكُلُونَ لَحْمٙا طَرِيّٙا
وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةٙ تَلْبَسُونَـهَاۖ
وَتَرَى ٱلْفُلْكَ فِيهِ مَوَاخِـرَ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ
وَلَعَلَّـكُـمْ تَشْكُـرُونَ ١٢

  • Notice another fact; The two large reservoirs of water—river and sea do not compete to become alike (Estuaries) —This one is restrained and restricted quenching thirst, its drink is pleasant; and this one is saline characteristically bitter burning to mouth drink —
    And yet you people eat fresh and soft meat from each one of them (river and sea). And you keep trying to take out pearls—ornaments, you people like wearing them.
    And you find the ships piercing-sailing within it; enabling you people undertake efforts searching for His Bounty—
    And perhaps upon availing these arrangements you people might express gratitude. [35:12]

مطلع رہو؛ پانی کے دو ذخائر بھی اپنے آپ کو ایک دوسرے کے مساوی نہیں بناتے۔یہ(کھاڑی/خلیج) ایک جانب کا قطعہ پیاس کی تسکین کرنے والا ہے،اس کا پانی آسانی سے حلق سے اترتا ہے۔ اور یہ دوسری جانب کا قطعہ سوزشی نمکین ہے۔
اور تم  لوگ  تازہ اور نرم گوشت  نوش  کرتے ہو جو ان پانی کے ہر  طرح کےذخائر سے حاصل کرتے ہو۔اور بڑے شوق اور محنت سے اس ذخیرہ آب سے موتی اورسامان زیبائش تم لوگ نکالتے ہو۔تم لوگ انہیں زیب تن کرتے ہو۔
اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ کیسے اس میں چھیدتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں۔اور پانی کے ذخائر میں گھومنے پر دسترس دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ان جناب کے مہیا کردہ فضل کو پانے کی جستجو کرو۔
اوریہ انتظامات  اس لئے بھی ہیں کہ ان سے مستفید ہونے پرتم لوگ شکر گزار بنے رہو۔

Root: س و غ;  ف ر ت; م ل ح; ل ح م;ل ب س; ح ل ى;م خ ر; ف ل ك

يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِـى ٱلنَّـهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّـهَارَ فِـى ٱلَّيْلِ
وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ
كُلّٚ يَجْرِى لِأَجَلٛ مُّسَمّٙىۚ
ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْ لَهُ ٱلْمُلْكُۚ

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمْلِـكُونَ مِن قِطْمِيـرٍٛ ١٣

  • He the Exalted causes the Night move at some place gradually and smoothly into the Day, and at some place smoothly causes way in the Day to the Night.
    And He the Exalted has subjected [subjugated to a set discipline] the Sun and the Moon to submissiveness. All keep flowing for a term/duration with determined and appointed moment of termination.
    The above describes for your recognition of Allah the Exalted, the Sustainer Lord of you people. The dominion and governance of the created realm is the domain exclusive for Him the Exalted.
    Why do you not consider regarding those whom you invoke besides Allah the Exalted, believing them to be gods, that they do not own or possess even the measure of a membrane of a date seed?
    [35:13]

وہ  جناب   کسی مقام کی رات کودن کی حدود میں داخل کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی،بیک وقت کسی مقام کے دن کو رات میں داخل فرماتے ہیں۔
اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم کیا ہے۔ہر ایک محو گردش ہے ایک معیاد کو مکمل کرنےکے لئے جو اختتام کے حوالے سے متعین ہے۔
یہ  حقائق تم لوگوں کے لئے  اللہ تعالیٰ کی پہچان ہیں ؛تمام  تخلیق کردہ سلطنت کا
اقتدار اعلیٰ اور اس کا نظم و نسق صرف ان  جناب کے دائرہ کار میں ہے۔
ان کے بارے یہ بات کیوں مدنظر  نہیں رکھتے جن  کو  تم لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ  خدا سمجھ کر پکارتے ہو کہ وہ تو کھجور کی گٹھلی کی جھلی کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔(فاطر۔١٣)  

Root: و ل ج;س خ ر; ق م ر; ش م س;ء ج ل; م ل ك;ق ط م ر

إِن تَدْعُوهُـمْ لَا يَسْمَعُوا۟ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَـمِعُوا۟ مَا ٱسْتَجَابُوا۟ لَـكُـمْۖ
وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ يَكْـفُـرُونَ بِشِـرْكِـكُـمْۚ

وَلَا يُنَبِّـُٔكَ مِثْلُ خَبِيـرٛ ١٤

  • If you people call them they do not listen your calls; and hypothetically if you think they have listened you, you see they ate not at all interested in responding for you people. [since only those respond who listen]
    And on the Day of Rising they will deny about your association —
    And no one can inform you like the All-Aware. [35:14]

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے، اور اگر فرض  محال  تمہارے گمان میں وہ سن بھی لیں تو  تم دیکھتے ہو تمہیں جواب دینے کی انہیں  کوئی خواہش نہیں۔(وہ تو تمہارے اپنے بنائے روبوٹ سے بھی  گئے گزرے ہیں،عجب ہے انہیں خدا مانتے ہو)
 اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔
 اور کوئی نہیں ہے جو آپ (ﷺ)کواس طرح خبر دے سکے جیسےہر لمحہ ہر شئے سے باخبر رہنے والے کے۔ 


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
أَنتُـمُ ٱلْفُقَـرَآءُ إِلَـى ٱللَّهِۖ
وَٱللَّهُ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَـمِيدُ ١٥

  • O you the Mankind, listen! (cf. https://haqeeqat.pk/sohail/YaAyyoHanNaas.htm)
    You people are intrinsically and permanently the dependants upon Allah the Exalted for ultimate meeting your needs. (cf. 47:38)
    And Allah the Exalted is the One Who is eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [35:15] (cf. 27:64; 31:26; 57:24; 60:6)

اے لوگو!دھیان سے سنو!
تم لوگ   قدرتی طور پر دائمی حاجت مند ہو،زمان و مکان   میں بالآخر تمہیں اللہ       تعالیٰ کے حضور گداگر بننا پڑتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ مطلق آزاد،ہر احتیاج سے منزہ اور بلند وبالا ہیں،اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔

Root: ف ق ر

إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٛ جَدِيدٛ ١٦
وَمَا ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ بِعَزِيزٛ ١٧

  • Should He the Exalted so desires and decides: He would extinguish you people and would bring on anew creation. [35:16] (cf. 14:19)

  • Mind it, this proposition is not a burdening matter upon Allah the Exalted. [35:17] (cf. 14:20 replica)

اور     اگر وہ جناب فیصلہ اور   ارادہ فرما لیں تو وہ تمہیں منظر سے ہٹا دیں اورایک باعظمت  مقتدرمخلوق کو منظر عام پر لے آئیں۔
یاد رہے،اس تجویز اور امکان کوغالب کرنا کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار و قدرت سے بالا تر نہیں ہے۔

Root: ج د د

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٚ وِزْرَ أُخْرَىٰۚ
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَـىٰ حِـمْلِـهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَـىْءٚ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَـىٰٓۗ

إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـم بِٱلْغَيْبِ
 وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَۚ
وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِۦۚ
وَإِلَـى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيـرُ ١٨

  • And no bearer of burdens shall bear/lift the burdens of others —(cf. 6:164; 17:15; 39:7; and 53:58)
    And if heavily laden person calls attention towards its load no one will uplift any part of it however nearer one he might be.
    The fact remains, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] can affect by admonishment only those in time and space who experience awe of Omnipresence of their Sustainer Lord despite being not in their sight—(cf. 36:11)
    And those who organized and managed the performance of Ass-sa'laat: Time bound protocol of subservience and allegiance. (cf. (1)2:277(2)7:170(3)9:05(4)9:11(5)13:22(6)22:41(7)35:18(8)35:29(9)42:38=9)
    And whoever intellectually elevated himself [above conjectures, desires/vested interest] resultantly he elevates only for his own person (to attain perpetual success/fruitfulness- cf. 87:14; and 20:76].
    And be cognizant that the doctrine: the finality of issues is the exclusive prerogative of Allah the Exalted, is a fact. [35:18] (cf. 3:28; 24:42)

اورکوئی  جرائم کابوجھ بردار شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے پر لادنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔
اوراگر کوئی بھاری بوجھ سے لدی  شخصیت اپنے بوجھ کی جانب متوجہ کرے گی تو اس میں سے کچھ بھی اٹھانے کو                 تیار نہیں ہوگا چاہے وہ کتنا ہی صاحب قربت تھا۔
یہ حقیقت  اپنی جگہ ہے    کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر تو  صرف ان لوگوں  پر ہو گاجو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخوداحساس رکھتے ہوئے سہمے سہمے مرعوب              رہتے ہیں،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛
اور(بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں سے)ان  لوگوں پر اثر ہو گا جو صلوٰۃ کی ادائیگی پر استقلال سے قائم رہے ہیں۔
یہ جان لو؛جس کسی نے ازخود اپنی شخصیت کوعلم وحکمت                                      کے حصول سے عروج دیا،تو         چونکہ اپنی فلاح         کا سوچنا ہر ذی      شعور کی               فطرت ہے   اس لئے درحقیقت وہ خود اپنی     ذات کی فلاح کے لئے اپنی شخصیت کوعروج دینے میں کوشاں رہتا ہے۔
مطلع رہو؛۔یہ نظریہ کہ تمام امور کو منطقی انجام کے فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹایا جاتا ہے حقیقت ہے۔(فاطر۔۱۸)

Root: و ز ر؛ص ى ر

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيـرُ ١٩
وَلَا ٱلظُّلُمَٟتُ وَلَا ٱلنُّورُ ٢٠
وَلَا ٱلظِّلُّ وَلَا ٱلْحَرُورُ ٢١

  • And the Blind and the Man of Vision equate not reciprocally— [35:19] (cf. 6:50; 13:16; 35:19; 40:58)

  • And nor the layers of darkness and nor white light are alike — [35:20] (cf. 13:16)

  • And nor the shade and nor the sunlight's heat are alike. [35:21]

 متنبہ رہو؛آنکھوں سے اندھا اور اندھے قلب والا  اورصاحب بصارت اوربصیرت  کبھی ایک دوسرے کےمساوی ہوتے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔
اور نہ کبھی تہہ بر تہہ اندھیرے اورنہ       سفید      روشنی،،کرن نور ایک دوسرے کے مساوی ہوتے ہیں۔(ہر تہہ ایک دوسرے سے الگ ہے)
اور نہ سایہ/چھاؤں اور نہ دھوپ/حرارت ایک            دوسرےکے مساوی سمجھے جا سکتے ہیں۔

Root: ع م ى;ظ ل ل

وَ مَا يَسْتَوِى ٱلْأَحْيَآءُ وَ لَا ٱلْأَمْوَٟتُۚ 
إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُۖ
وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٛ مَّن فِـى ٱلْقُبُورِ ٢٢
إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ٢٣

  • Take note; neither the living equate with each and nor the dead equate with each other. [physically and metaphorically]
    Allah the Exalted certainly, whomever He wills, make him listen, alive or dead.
    But you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] cannot make him listen any time who is behaving like those lying in the graves. [physically or metaphorically] [35:22]

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are but the revivalist-awakener-Admonisher. [35:23] (cf. 7:184; 7:188; 26:115; 34:46; 46:9)

اور سب ذی حیات آپس میں مساوی نہیں ہوتے اور نہ ہی مردے آپس میں مساوی ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ جس کسی،زندہ یا مردہ،کو سنانا چاہتے ہیں اسے سنا دیتے ہیں۔
مگر آپ(ﷺ)اس شخص کو یقیناً  کسی وقت بھی نہیں سنا سکیں گے جو ان جیسا بن چکا ہے جو قبروں میں مدفون ہیں۔
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ (ﷺ)تو صرف کفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ نتائج و عواقب سے پیشگی خبردار کرنے والے ہیں
؛سننا تو اس شخص کا اپنا فیصلہ ہے۔

Root: ق ب ر


إِنَّـآ أَرْسَلْنَـٟكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙاۚ
وَإِن مِّنْ أُمَّةٛ إِلَّا خَلَا فِيـهَا نَذِيرٚ ٢٤

  • It is a fact; Our Majesty have sent you [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], to meet the exigency and along with Infallible Discourse (Qur’ān) to act as bearer of glad tidings-guarantor and Warner-Revivalist-Awakener —[this sentence is also in 2:119؛; cf. 17:105; 25:56; 33:45; 34:28; 48:8]
    And that there were not a generation of some nation/civilization but a Warner/Revivalist/Awakener did pass in her. [35:24]

ہم جناب نے آپ (ﷺ) کو بیانِ حقیقت(قرءانِ مجید) کے ساتھ اور موقع کی مناسبت سے تمام  کی جانب بھیجا ہے۔ آپ کی حیثیت زمان و مکان میں خوش کن نتائج کی خبر،ضامن اورکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کرنے والے کی ہے۔
اورکوئی بھی ایسی  امت نہ تھی جسے ہم نے نیست و نابود کیا ہو مگر یہ کہ ایک نتایج و انجام سے متنبہ کرنے والا ان میں گزرا تھا۔(فاطر۔
٢٤)

Root: خ ل و

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ
جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ وَبِٱلزُّبُرِ
وَبِٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُنِيـرِ ٢٥

  • Despite that explicit favour, if they—ruling elite and coterie intelligentsia—publicly contradict you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] then there is no point in consuming yourself with grief for them. The enduring fact of history is that the Messengers sent to individual nations before you were also contradicted by their respective elites [and they did not grieve like you]. (cf. 22:45; 35:4)
    They defied despite their Messengers had brought to them evident, distinct and unprecedented miraculous demonstrative Signs - displays — And they had come to them with boldly written Messages [Aa'ya'at]. And they had come to them with the Enlightening Book. [35:25] (cf. 7:1; 10:13; 14:9; 30:9; 40:83)

اس ناپسندیدہ تاریخ کو جان کر آپ(ﷺ)سکون میں رہیں کہ اگر وہ آپ (ﷺ)کے دئیے پیغام کو برسرعام جھٹلا رہے ہیں تو  ان لوگوں نے  رسولوں کے بیان کی تکذیب کی تھی  جو ان سے قبل زمان و مکان میں  خود مختار اور مقتدر رہے تھے۔
انہوں نے تو باوجود اس کے جھٹلایا کہ ان کے رسول ان کے پاس عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کولے کر ان کے پاس آئےتھے     جواس وقت  لوگوں کےتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔اور وہ تمام رسول  ابھرے نقوش میں تحریری پیغامات  لے کران کے پاس   آئے تھے؛اور وہ تمام رسول  منفرد کتاب  کو لے کر ان کے پاس آئے تھے    جس کا جلی و کشادہ  تحریری متن  روشنی کو منعکس اور راہ ِ حیات کو جاوداں کر دینے والا تھا۔

Root: ز ب ر

ثُـمَّ أَخَذْتُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ۖ 
فَكَـيْفَ كَانَ نَكِيـرِ ٢٦

  • Thereafter on expiry of respite period I seized those [with severe annihilating punishment] who had persistently denied to believe the Messenger.
    Since their fate, when the time of respite ended, has already been described, so reflect on what the outcome was for the denial of My message." [35:26] (cf. 22:44; 34:45; 67:18)

بعد ازاں  جب مہلت کا وقت ختم ہوا، میں نے ان لوگوں کو پکڑا جنہوں نے مسلسل رسولوں کو ماننے سے انکار کیا تھا۔
چونکہ مہلت کا وقت ختم ہونے پر جو ان کا انجام ہوا تھا وہ بیان کر دیا گیا ہے اس لئے غور کرو کہ میرے پیغام کے انکار کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔

Root: ن ك ر

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ
فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ ثَمَـرَٟتٛ
مُّخْتَلِفًا أَلْوَٟنُـهَاۚ
وَمِنَ ٱلْجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٚ وَحُـمْرٚ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٟنُـهَا وَغَـرَابِيبُ سُودٚ ٢٧

  • Do you not see —reflect/study/investigate — that Allah the Exalted dropped in one go certain quantity of water from the sky —(cf. 22:63; 39:21)
    Thereby Our Majesty caused sprouting of fruits with it (water). Noticeable peculiarity of these fruits is that their colours give varying hue —
    And with that very water, Our Majesty brought forth various streaks and patterns in the mountains: some white, some reddish, with hues differing from one another. --The diversity of their colours does reflect a profound sign of  power and wisdom. And some intensely black (like the mountains of Mecca). [35:27]

کیا آپ (ﷺ)نے  نباتات کا نظام دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے  ایک وقت میں   پانی کو کچھ مقدار میں برسایا ۔
چونکہ پانی حیات کا جزو لا ینفک ہے،اس کے ملاپ سے ہم جناب
 نے  پھلوں کو ظہور دیا؛بغور دیکھنا چایئے کہ ان کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں (شاید کہ رنگوں کی نظام قدرت میں سمجھ آئے)۔
 اور اس پانی ہی کے ذریعےپہاڑوں میں بھی مختلف دھاریاں نکالیں، جن میں سے کچھ سفید ہیں، کچھ سرخی مائل ہیں، ان کے رنگوں  کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بھی تو کسی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور  ان میں کچھ شدید سیاہ ہیں (جیسے مکہ مکرمہ کے پہاڑ)۔

Root: ج د د;س و د  Mountains

وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلْأَنْعَٟمِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَٟنُهُۥ كَذَٟلِكَۗ
إِنَّمَا يَخْشَى ٱللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ٱلْعُلَمَـٟٓـؤُا۟ۗ

إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ٢٨

  • And members of species human being, and animals and mammals have intrinsic colour which give varying hue; like the aforementioned objects.
    It is true that only those of the subjects of Him the Exalted are cautious and feel awe of Allah the Exalted who have concrete knowledge [of His visible demonstrative signs evidently scattered everywhere]
    Certainly Allah the Exalted is the Absolute Dominant, but Oft forgiving. [35:28]

اور یہ بھی عام مشاہدہ کی بات ہے کہ ایک علاقے سے تعلق رکھنے والے   انسانوں میں ایسافرد موجود ہے  ، اور جانوروں میں اور چارہ خورچوپایوں میں  بھی ہے جومنفرد ہے۔اس ہر ایک کی رنگت دوسروں سے مختلف ہے،اس انتہائی کالے پہاڑ کی مانند۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال سے ان کے بندوں میں سے صرف وہ مرعوب اور سہمے رہتے ہیں جو معلومات اورعلم حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہیں۔وہ جناب درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔

Root: د ب ب


إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَٟبَ ٱللَّهِ
 
وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ 
وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ 
سِرّٙا وَعَلَانِيَةٙ
يَرْجُونَ تِجَٟرَةٙ لَّن تَبُورَ ٢٩
لِيُوَفِّيَـهُـمْ أُجُورَهُـمْ وَيَزِيدَهُـم مِّن فَضْلِهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ غَفُورٚ شَكُورٚ ٣٠

  • Certain fact about those who recite—study the Book of Allah, word by word in the manner that passions, conceptions, perceptions, myths, notions already in memory interfere not in between the words of the Book and the Reciter/reader — (cf. 2:221)
    And steadfastly maintained the Institution of As-sa'laat: Time Bound Formal Protocol demonstrating Servitude and allegiance to Allah the Exalted —(cf. (1)2:277(2)7:170(3)9:05(4)9:11(5)13:22(6)22:41(7)35:18(8)35:29(9)42:38=9)
    And they spent for other's wellbeing out of the sustenance Our Majesty had provided them —They did it privately and publicly —(cf. 13:22; 14:31)
    They are the people who are pursuing a business, an economic activity that would never suffer stagnation and recession— [35:29] (cf. 61:10)

  • Their conduct reveals their conviction that He the Exalted would pay their reward; and that He the Exalted would excessively award them by way of grant from His Bounty.
    Fact remains. He the Exalted is indeed the Oft-forgiving; the Recognizer, acknowledger and appreciative. [35:30] (cf. 35:34; 42:23)

اان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو  جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول کریم محمد ﷺ پر نازل کردہ کتاب بعنوان قرءان مجید  کے تحریری متن کو لفظ بلفظ  بعینہ تلفظ کرتے ہوئے  پڑھنے اور سنانے کے عادی ہیں ۔
اور انہوں نے استقلال و استقامت ، منظم طریقے سے صلوٰۃ کی مقررہ اوقات پر ادائیگی کا  اپنے آپ کوپابند رکھاہے۔
اور انہوں نے ہم جناب کے عنایت کردہ رزق میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا۔خرچ کا انداز تنہائی میں چھپا کر اور بر سرعام تھا۔
یہ لوگ ایک ایسی تجارت،کاروباری سرگرمی میں مشغول
 رہتے ہیں  جس کے  بارے یہ بات یقینی ہے کہ  جمود و کساد کاکبھی  بھی شکار نہیں ہو گی۔
ان کا یہ طرز عمل  اس بات کا ثبوت  ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جناب ان  کے اجر کو بدرجہ اتم عنایت فرمائیں گے۔اور انہیں افزوں فرمائیں گے،اپنے فضل سے مزید نواز تے ہوئے جس  کی وسعت و مقدار کا کوئی پیمانہ نہیں ۔
ان جناب کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ اکثر و بیشتر کوتاہیوں  اورقابل مؤاخذہ  غلطیوں سے در گزر فرماتے ہوئے انہیں حذف کر کے معاف فرمانے والے ہیں؛ وہ جناب قدردان اور پذیرائی دینے والے ہیں۔

Root: س ر ر; ع ل ن;ر ج و; و ف ى

صرفی،نحوی، ابلاغی اور معنوی تحلیل و تشریح

وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ هُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِۗ
إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيـرُۢبَصِيـرٚ ٣١

  • Know it, that which Our Majesty has verbally communicated to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] as discourse drawn from the Mother-Principal book —It is the Infallible Doctrine-Discourse —(cf. 2:91; 6:66; 8:32; 32:3; 34:6; 47:2)
    It is the Testifier-Affirmer-Certifier-Sanctifier of whatever was revealed in front of it (previous Books). (cf. 2:97; 3:3; 5:46; 5:48; 46:30)
    It is certain that Allah the Exalted is fully aware about and is ever watching His subjects. [35:31]

اور ہم جناب نے مخصوص کتاب/ام الکتاب میں سے جس کوعربی زبان کا کلام بنا کر آپ کی جانب وحی کیا ہے(قرءان مجید)وہ بیان حقیقت ہے۔
یہ (قرء ان)تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں (کتاب خاص ۔ام الکتاب میں سے،حوالہ ۵:۴۸)نازل کیا گیا تھا۔
متنبہ رہو؛یقیناً اللہ تعالیٰ ہر لمحے اپنے بندوں  کے متعلق باخبر ہیں،ہر لمحہ بندے ان کے زیرمشاہدہ ہیں۔(فاطر۔٣١)

ثُـمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْـكِـتَٟبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَاۖ
فَمِنْـهُـمْ ظَالِمٚ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْـهُـم مُّقْتَصِدٚ

وَمِنْـهُـمْ سَابِقُۢ بِٱلْخَيْـرَٟتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ
ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْـكَبِيـرُ ٣٢

  • Afterwards the completion of verbal communication and formal compilation, Our Majesty has made them (the descendants of Ismaeil alahissalam; cf. 42:14) to inherit the Book (Qur’an) whom Our Majesty had chosen. They were Our subjects in a state without Divine Book in long period of their history.
    Yet despite this distinction, some one of them wrongs his own soul by not adhering to the Covenant- the Book. And there is one among them who is consciously firm remaining committed to the Covenant —
    And there is one who takes foremost lead in good deeds with the permission of Allah the Exalted being most cautious among them. This consciousness and alertness for becoming lead-taker in goodness is indeed the supreme Blessing — [35:32]

بعد ازاں تکمیل وحی اورباضابطہ تدوین پر ہم جناب نے   انہیں   (یعنی اسماعیل علیہ السلام کی نسل کو؛ ملاحظہ ہو 42:14)منتخب فرما کراس مخصوص کتاب (قرءان مجید)کا وارث بنا دیا ہے۔یہ ہمارے  منتخب کردہ بندے ایسے حال میں تھے کہ طویل مدت تک  کلام اللہ پر مشتمل کتاب کے حامل نہ تھے۔
مگر اس امتیاز کے باوجود ان میں سے کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے عہد—کتاب—کی پاسداری نہ کر کے۔ اور ان میں ایک ایسا ہے جو شعوری طور پر مضبوط اور عہد کا پابند رہتا ہے۔
اور ان میں ایک وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی توفیق و اجازت سے سبقت لیتا ہے نیکیوں میں،فقط اللہ تعالیٰ کی رضا پانے کے لیئے  یہ کرتے ہیں۔
یہ ہےحقیقت میں سب سے بڑا مقام فضیلت جو بندوں کو عنایت کیا  جاتا ہے ۔

Root: ص ف و; و ر ث;ق ص د; س ب ق

جَنَّٟتُ عَدْنٛ يَدْخُلُونَـهَا
يُحَلَّوْنَ فِيـهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٛ وَلُؤْلُؤٙاۖ
وَلِبَاسُهُـمْ فِيـهَا حَرِيرٚ ٣٣

  • The Gardens of pleasant abode, they will enter therein —
    They will be adorned therein with bracelets of gold and pearls —
    And their garments therein will be silky. [35:33]

خوشگوار باغات پر مشتمل  رہائش گاہ ان کے تیار اور مزین ہے۔وہ اس میں داخل ہوں گے۔
انہیں  ان میں رہائش کے دوران سونے میں سے خالص حالت میں تیار کردہ اور موتیوں سے مزین کنگن پہنائے جائیں گے۔
اور  ان کا لباس  اس میں پہننے کے لئے ریشم کا بنا ہو گا۔

Root: س و ر; ل ء ل ء; ح ل ى; ل ب س

وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَذْهَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَۖ
إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٚ شَكُورٌ ٣٤

  • And they will say in mutual conversation: "All grandeur, majesty, and all-encompassing praise belong eternally and exclusively to Allah the Exalted — the One Who has once and for all removed from us every possibility of distress or any circumstance that could ever give rise to grief.
    Surely, our Lord is indeed Most Forgiving, and He is the One Who recognizes, acknowledges, and appreciates (the worth of His servants)." [35:34]

اور گفتگو کرتے ہوئےوہ آپس میں کہیں گے:"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد  ہمیشہ کیلئے مختص ہے جنہوں نےہم سے ہر اُس اندیشہ اور ہر اُس سبب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کر دیا جو غم پیدا کر سکتا تھا۔ 
ہمارے رب کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ اکثر و بیشتر در گزر فرما کر معاف کرنے والے ہیں؛ وہ جناب  ہیں جو بندوں کی قدر پہچاننےاوران  کی پذیرائی فرمانے  والے ہیں۔

Root: ح ز ن

ٱلَّذِىٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِۦ
لَا يَمَسُّنَا فِيـهَا نَصَبٚ وَلَا يَمَسُّنَا فِيـهَا لُغُوبٚ ٣٥

  • The One Who, out of His grace, has settled us in the Abode of Permanence. —
    Here no fatigue will ever touch us, nor will any weariness overtake us." [35:35]

وہ  جنا ب ہیں جنہوں  نےاپنے فضل و کرم سے ہمیں ہمیشہ کے قیام کے گھر میں بسایا ہے۔۔
یہاں نہ کبھی تھکن ہم سے چھوئے گی اور نہ ہی کوئی اکتاہٹ یا بوریت ہمیں گھیر سکے گی"۔

Root: ل غ ب

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَـهُـمْ نَارُ جَهَنَّـمَ
لَا يُقْضَىٰ عَلَيْـهِـمْ فَيَـمُوتُوا۟ وَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـم مِّنْ عَذَابِـهَاۚ
كَذَٟلِكَ نَجْزِى كُلَّ كَفُورٛ ٣٦

  • And those who refused to believe in the Messenger and Divine Book - the heat of Hell-Prison is in wait for them —Fire/heat temperature will not be taken to that high upon them that they may die [seizing of heart]. And there shall be no lightening/lessening for them from the torture/punishment of the Hell.
    This is how Our Majesty will requite each and every ungrateful denier of truth. [35:36]

ان لوگوں کے انجام کے متعلق  جان لوجنہوں نے  رسول کریم اوراللہ تعالیٰ کی آیات(نازل کردہ کتاب میں مندرجات)کا انکار کیا ہے ۔جہنم کی آگ تیار  ان کے انتظار میں  ہے۔زندان جہنم کا درجہ حرارت اتنا نہیں بڑھایا جائے گا  کہ قصہ تمام  ہو —مر کر سکون پا جائیں، اور نہ ہی ان کے عذاب میں معمولی سی کمی کی جائے گی۔
خبردار رہو؛یہ ہے ہمارا دستورِ جزا ہر ایسے شخص کے ساتھ جو حق کے مقابلے میں سخت ناشکرا اور ضدی ہو۔۔(فاطر۔٣٦)

Root: خ ف ف

وَهُـمْ يَصْطَرِخُونَ فِيـهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَٟلِحًا غَيْـرَ ٱلَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُۚ
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُۖ
فَذُوقُوا۟ فَمَا لِلظَّٟلِمِيـنَ مِن نَّصِيـرٍ ٣٧

  • And they will purposely loudly cry therein, "O our Sustainer Lord! You move us out, we will do righteous acts, the opposite of that which we kept doing".
    [they will be answered] "Had Our Majesty not given you people enough age wherein one could take heed/lesson who remembered/recalled and the Admonisher/Awakener had come to you people —
    Therefore, you taste the consequence." Once requital is decreed, there is not at all a helper for the unjust evil mongers . [35:37]

اور وہ (دوزخی لوگ)وہاں بلند آواز سے فریاد  کرتے رہا کریں  گے:"اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال دیں، ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال کے برعکس جو ہم کرتے رہے"۔
(جواب دیا جائے گا)"کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے  کا متمنی  نصیحت حاصل کر لیتا؟ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آ چکا تھا۔
چونکہ تم نے دانستہ  باطل طرز عمل اختیار کیا تھا اس لئے عذاب کو بھگتو۔نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی جومددگار ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لئے مدد کی حامی نہیں بھرے گا جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں۔

Root: ص ر خ;ع م ر


إِنَّ ٱللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ
إِنَّهُۥ عَلِيـمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٣٨

  • Certainly Allah the Exalted is the All-Knower of what is invisible/non perceivable for the creatures in the Skies and the Earth —
    Indeed He the Exalted is absolutely aware of what is possessed inside the chests. [35:38]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ         تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو بخوبی جانتے ہیں جو دوسروں سے پنہاں ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب اس کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں جوسینوں نے اپنے اندر چسپاں رکھا ہوا ہے۔

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَـكُـمْ خَلَـٟٓئِفَ فِـى ٱلۡأَرْضِۚ
فَمَن كَفَـرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥۖ

وَلَا يَزِيدُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ كُفْرُهُـمْ عِندَ رَبِّـهِـمْ إِلَّا مَقْتٙاۖ
وَلَا يَزِيدُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ كُفْرُهُـمْ إِلَّا خَسَارٙا ٣٩

  • He the Exalted is the One Who has rendered you people as rulers enjoying freedom of will and decision in the Earth—


  • Thereby, since every one is granted will, therefore, in response whoever refused to accept the Messenger and Qur’ān, then the affect of his denying shall be upon him.
    And their persistence in their denial does not enhance those who deny the Messenger and Qur’ān, but in irrational and vile behaviour in the judgment of Allah the Exalted —
    And nor would their disbelief increase those who insisted on the denial of the Messenger and Qur’ān, except in terms of their own loss. [35:39]

وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو زمین میں فرمانروا، خود مختار،صاحبان حریت کے طور مقرر کر دیا ہے۔
اسلئے چونکہ ہر شخص خود مختار ہےتو جس کسی نے رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کیا ہے تو اس کے کفر کا وبال  خود اس پر ہے۔
مگر ان کا انکار پر بضد رہنا  رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کو افزوں  نہیں کرتا  کسی اور شئے کے نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ناگوار اور ناپسندیدہ طرز عمل کے حوالے سے۔
 اور نہ ان کا کفر ،رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار پر بضد رہنے والوںکو افزوں کرتا ہےمگران کے اپنے خسارے کے حوالے سے۔

قُلْ أَرَءَيْتُـمْ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ  أَرُونِـى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلۡأَرْضِ
أَمْ لَـهُـمْ شِرْكٚ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ
أَمْ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْ كِتَٟبٙا فَهُـمْ عَلَـىٰ بَيِّنَتٛ مِّنْهُۥۚ
بَلْ إِن يَعِدُ ٱلظَّٟلِمُونَ بَعْضُهُـم بَعْضًا إِلَّا غُـرُورًا ٤٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Have you given a thought about your associates whom you people call apart from Allah the Exalted [that they have created nothing], show/point out to me what they have created in Earth." (cf. 46:4)
    Or is there a share/partnership in the Skies allocated for them? (cf. 46:4)
    Or had Our Majesty given them a book for which reason they are on the manifest course given in that?
    No, the fact is that some of the distorters/evil doers promise/inspire to some others fascinating conjectures deceptively. [35:40]

آپ(ﷺ)ان کے غور کرنے کے لئے سوال کریں’’کیا تم لوگوں نے  اپنے متفرق  مشترک معبودان کے متعلق کچھ غور کیا ہے جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے رہتے ہو۔
ذرا مجھے وہ دکھاؤ جو انہوں نے زمین میں تخلیق کیا ہے۔
یاآسمانوں کی تخلیق اور نظام میں شراکت کا کوئی عنصر ان کے لئے دکھا سکتے ہو‘‘۔
یا کیا ہم جناب نے انہیں اپنے کلام پر مشتمل کتاب کو عنایت کیا تھا جس میں سے واضح اور متمیز ہدایت کو پڑھ کر اس طرز عمل پر گامزن ہیں۔
نہیں،انہیں کتاب سے نہیں نوازا تھا، حقیقت یہ ہے کہ حق کے منافی باطل نظریات اور طرز عمل کو اپنانے والے بعض دوسروں کو فقط جھوٹے  فریب پر مبنی وعدے اور امیدوں کی آس دلاتے ہیں۔(فاطر۔
٤٠)

إِنَّ ٱللَّهَ يُمْسِكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ أَن تَزُولَاۚ
وَلَئِن زَالَتَآ إِنْ أَمْسَكَهُـمَا مِنْ أَحَدٛ مِّنۢ بَعْدِهِۦٓۚ

إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٙا ٤١

  • Certainly Allah the Exalted keeps the Skies and the Earth held—sustained in place letting them not deviate—move away—quit their place. (cf. 22:65)
    And if both were to deviate/move away/quit their place, there is none who could keep them upheld after Him the Exalted abandons paying attention.
    Indeed He the Exalted is eternally Most Forbearing; imperturbably over looking/forgiver. [35:41]

یقیناً اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کو سنبھالے رکھتے ہیں  تاکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔
اگر اللہ تعالیٰ ان کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں  توایسا نہ کرنے کی صورت میں  اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو ان کو تھامنے والا، اُن کے  بعد کوئی بھی  نہیں۔
ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ
بدرجہ اتم بردبار،جذبات سے منزہ ہیں  اوراکثر و بیشتردرگزر اور پردہ پوشی سے معاف فرمانے والے ہیں۔

Root: ز و ل;  م س ك;ح ل م

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٟنِـهِـمْ لَئِن جَآءَهُـمْ نَذِيرٚ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِۖ 
فَلَمَّا جَآءَهُـمْ نَذِيرٚ مَّا زَادَهُـمْ إِلَّا
نُفُورًا ٤٢

  • And they used to swear to Monotheists by Allah the Exalted their exerted pledges: That if a Warner/Admonisher/Revivalist comes to them they would thenceforth certainly be more guided than any one of the nations. Since these were just evasive tactics lacking any support argument for their belief system, thereby, as soon the Warner/Admonisher/Revivalist has come to them who was known as staunch uncompromising Monotheist, it enhanced them nothing but running away aversively from the Guidance (for fear of loosing socio-politico nobility cf. 28:57)— [35:42]

 اور وہ ماضی میں توحید پر قائم لوگوں سےاللہ تعالیٰ کی قسم کھایا کرتے تھے، اپنی بھرپور یقین دہانی کے ساتھ، کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا/احیاء کرنے والا آئے تو وہ ضرور ہی گزشتہ امتوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو جائیں گے۔
مگر جوںہی ان کے پاس ان ہی کی قوم کے جانے پہچانے مؤمن متنبہ کرنے والے رسول نے پہنچ کر انہیں کلام اللہ کے ذریعے خبردار کرنا شروع کیا تو اس نے انہیں کوئی بڑہوتی نہیں دی سوائے
ہدایت نامہ  سےبیزاری اور ناگواری کا اظہار کرنے کے انداز میں۔(فاطر۔٤٢
)(وجہ کے لئے حوالہ القصص۔57)

Root: ق س م;ن ف ر

ٱسْتِكْبَارٙا فِـى ٱلۡأَرْضِ وَمَكْرَ ٱلسَّيِّىِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلْمَكْرُ ٱلسَّيِّىُٔ إِلَّا بِأَهْلِهِۦۚ
فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلْأَوَّلِيـنَۚ 

فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبْدِيلٙاۖ
وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحْوِيلًا٤٣

  • Their conduct is reflection of desiring admiration of grandeur in the Land, and for devising trickery deceptions [to hoodwink people for maintaining their hegemony]. However, the evil deceptive trickery hems none except its own devising household.
    Is it for reason that they are waiting for nothing except the precedent of earlier people —
    Then, you will never find for the tradition/Way of Allah any change/replacement —
    And you will never find any change/replacement/variation regards the precedent set by Allah the Exalted. [35:43]

ان کا یہ طرز عمل زمین میں اپنے لیے بڑائی کا گھمنڈ رکھتے ہوئے اور چالاکی سے دھوکہ دینے کے منصوبے بناتے ہوئے ہے۔تاہم، یہ حقیقت ہے کہ برے دھوکے کے اثرات اپنے ہی منصوبہ سازوں کے گھرانے کو گھیر لیتے ہیں۔
مثبت یا نفی میں جواب دیں کہ
کیا وہ صرف اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلے لوگوں کے ساتھ ہو چکی؟ 
اگر انتظار ہے
تو جان لو کہ اللہ کے مقرر کردہ دستور میں تم کبھی کوئی تبدیلی یا متبادل نہیں پاؤ گے۔
 اور تم   اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت میں کبھی کوئی تبدیلی یا فرق نہیں پاؤ گے۔(فاطر۔
٤٣)

Root: م ك ر;ب د ل

أَوَلَمْ يَسِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ
وَكَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةًۭۚ 
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعْجِزَهُۥ مِن شَـىْءٛ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَلَا فِـى ٱلۡأَرْضِۚ
إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيـمٙا قَدِيرٙا ٤٤

  • Is it that they have not traversed in the world/land [cf. 12:109;22:46;40:82;47:10] —Whereby they may see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who were before them [and take heed/lesson].
    They were mightier in strength than them —
    And nothing in the Skies nor in the Earth could ever frustrate Allah's Will and Command.
    Indeed He the Exalted is Reservoir of Knowledge and has eternally the infinite power and control over each and every thing to keep it in bounds/limits/measure. [35:44]

کیا ان انکار کرنے والوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔جس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ) دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں بسنے والوں کا انجام کیا تھا۔
وہ لوگ اِن سے  زیادہ مضبوط،سخت غیر تھے قوت وطاقت کے حوالے سے۔
حقیقت شناس رہو؛ آسمانوں اور زمین میں  کسی بھی شئے کے لئے کبھی ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ،حکم  کو پس پشت کر سکے۔  
ان کے متعلق حقیقت ہے  منبع علم ہیں
 اور ہر چیز پر لامحدود طاقت اور اختیار رکھتے ہیں  تاکہ اسے حدود و قیود میں رکھیں۔

Root: س ى ر;ع ج ز

وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُوا۟ مَا تَرَكَ عَلَـىٰ ظَهْرِهَا مِن دَآبَّةٛ
وَلٟكِن يُؤَخِّرُهُـمْ إلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَمّٙىٰۖ
فَإِذَا جَآءَ أَجَلُـهُـمْ

فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيـرَاۢ ٤٥

  • Realize it, if Allah the Exalted were to seize people in response to their evil act, thereby, He would not have left a single unjust amongst living species upon the Earth —
    But He the Exalted gives them a respite towards a duration which has determined culminating moment.
    Since time table is already set for everything, therefore, when their appointed moment is reached: they will be requited strictly according to justice and equity principle.
    Indeed Allah the Exalted is eternally absolutely watching/keeping under focus His subjects. [35:45]

یقین کرو، اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً پکڑ لینے کا ارادہ و خواہش رکھتے تو زمین پر کوئی بھی ظالم جاندار باقی نہ رہتا۔
مگر وہ جناب ان جانور نما انسانوں کی گرفت کو اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک مؤخر کرتے ہیں۔
 چونکہ ہر بات کا ٹائم ٹیبل طے شدہ ہے اس لئے جب ان کا مقررہ وقت آ ن پہنچے گا، تو انہیں انصاف اور عدل کے اصول کے مطابق پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اس لئے یہ حقیقت ہمیشہ مد نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل نظر رکھنے والے اور ان کے ہر عمل سے باخبر ہیں۔

Root: د ب ب;ء ج ل

 

036-سُوۡرَةُ يس

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


يسٓ١
وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيـمِ ٢
إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ٣
عَلَـىٰ صِرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٤

  • Ya, See'n. [Two mutually conjoined consonants of Arabic alphabet, upon ـس‎ is ancillary glyph mark which stretches the sound value of letter to which it is added. Prolongation mark is found whenever the following word begins with still letter. Here prolongation sign suggests that ـس‎ is to be pronounced stretching to end in still "noon"—Ya denotes Destination / Finality / Telos / Directionality; and Seen is letter of order in motion [36:01]
  • And swearing by the Qur’ān, its peculiarity is that it contains and grants insight to the invisible, infolded matters, pearls of wisdom [disclosed in its Ayahs-17:39] — [36:02]
  • It is to confirm, yes to confirm the certainty of the fact that you (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) are the Universal and perpetual Messenger with unique distinction in the Galaxy of exalted Men who were sent and appointed as the Messengers to respective nations in time and space. (Cf. 2:252; 6:19; 7:158; 34:28)— [36:03]
  • The second to confirm is the certain fact that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have always been upon that High road - Course towards which you are inviting people which keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquillity. (Cf.22:67; 24:73; 27:79; 42:52; 43:43) [36:04]

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] ی اور سین  کو یکجا کر کے اُسں پر مدّا [طوالت]کا نشان۔
اور قسم ہے قرءان کی،جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔
مقصودا س حقیقت کو طشت از بام کرنا ہے، ہاں اس  حقیقت  کو  کہ آپ(ﷺ)بلاشبہ  تمام انسانوں کے لئے عالمگیر رسول ہیں؛ ان میں  سے منفرد فضیلت کے حامل جنہیں  ماضی میں مختلف زمان اور اقوام میں بحثیت  رسول بھیجا گیا تھا۔
(سورۃ  یسٓ۔٣)
اور دوسرا مقصد یہ تصدیق کرنا ہے  کہ آپ (ﷺ) یقیناًہمیشہ سے اُس راستے پر گامزن  تھے جس کی جانب آنے کا  لوگوں کو پیغام اور دعوت دے رہے ہیں  جوکامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب رواں دواں رکھتا ہے۔(یسٓ۔۴)

Root: ص ر ط


تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِـيـمِ ٥
لِتُنذِرَ قَوْمٙا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُـمْ فَهُـمْ غَٟفِلُونَ ٦

  • This (Qur’ān) is the piecemeal dispatch and delivery by the All Pervasive, the Dominant Sovereign Who is the Fountain of Infinite Mercy—[36:05]
    It is aimed at that firstly you the Messenger discharge the obligation of cautioning the Nation (Bani Iesma'eile) whose forefathers were not fore-warned. This is the reason that they have inadvertently or intentionally become unwary. (cf. 3:164; 6:92; 6:156; 28:46-47; 32:03; 42:07; 62:02) [36:06]

قرءان مجید کا بتدریج سلسلہ وار انداز میں لوگوں کو پہنچایا جانا ان جناب کافیصلہ ہےجودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ وہ منبع رحمت ہیں۔
اس بتدریج ترسیل کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ(ﷺ) اس قوم کو بطور استحقاق پہلے خبردارکریں جن کے اسلاف کو   خبردار نہیں کیا گیا تھا جس کے سبب    دانستہ اور نادانستہ وہ   لاپرواہی برتنے والے  ہیں۔

Root: غ ف ل

لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَـىٰٓ أَكْثَرِهِـمْ فَهُـمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٧

  • Indeed the word disclosed earlier has been dominantly established upon most of them. Since the wraps on their hearts stand sealed, therefore, they are not inclined to believe in the Messenger and Qur’ān. (Cf. 2:6-7; 10:33; 10:96) [36:07]

آپ نے یقیناً مشاہدہ کر لیا ہے کہ ہمارا قول ان آخرت   اور احتساب کو نہ ماننے والے میں سے اکثر لوگوں پر ثابت ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ آپ(ﷺ)اور قرءان  مجید پرایمان نہیں لا رہے۔(یسٓ۔۷)

إِنَّا جَعَلْنَا فِـىٓ أَعْنٟقِهِـمْ أَغْلَٟلٙا فَهِىَ إِلَـى ٱلْأَذْقَانِفَهُـم مُّقْمَحُونَ ٨
وَجَعَلْنَا مِنۢ بَيْـنِ أَيْدِيـهِـمْ سَدّٙا ومِنْ خَلْفِهِـمْ سَدّٙا
فَأَغْشَيْنَٟهُـمْ فَهُـمْ لَا يُبْصِرُونَ ٩

  • Indeed Our Majesty have declared - rendered their ill-will, rancour, malevolence, malice, spite and adamance as collars in their necks—Thereby, it (collar) is pressing towards chins, whereby, they are in position of heads raised in one direction. (Cf. 13:05; 34:33; 40:71) [36:08]

  • And Our Majesty have rendered their stubbornness as a barrier in their front and barrier on their back—Whereby Our Majesty have enshrouded them [in a limited place]—Thereby, they thenceforth observe not. [36:09]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ان کی بد اندیشی،بغض،ہٹ دھرمی،انانیت،روایت اور تقلید پسندی کو ان کی گردنوں میں مانند طوق بنا دیا ہے۔اس طرح ان کی گردنیں تھوڑیوں پر ٹکی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے  وہ اس حال میں ہیں  کہ ان کے سر یک جانب اورزاویہ ہو گئے ہیں۔
اور ہم جناب نے ان کی یک نگاہی،یک طرفہ سوچ،ہٹ دھرمی کو ان کے سامنے بطور دیوار بنا دیا اور ان کے پیچھے بطور دیوار۔اس طرح ہم جناب نے انہیں باڑ میں پابند رہنے دیا ہے۔انجام یہ ہے کہ سامنے اور ماضی کو اب بصارتوں میں نہیں لے سکتے (بصیرت سے محروم)۔(یسۤ۔
٩)

Root: ع ن ق;  غ ل ل؛  ذ ق ن; ق م ح؛س د د؛غ ش ى

وَسَوَآءُ عَلَيْـهِـمْ ءَأَنذَرْتَـهُـمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُـمْ لَا يُؤْمِنُونَ ١٠

  • Take note, it is same in affect upon them whether you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have cautioned them of potential consequences or have not so far cautioned them —they believe not. .(Cf. replica 2:06) [36:10]

ایسے لوگوں کے متعلق آپ(ﷺ)حقیقت جان لیں ؛چاہےآپ(ﷺ)نے ایسے لوگوں کو  آنے والےانجام سے خبردار کر دیا  ہو ،یا   انہیں  خبردار  نہ کیا ہو ،اثر پذیری کے حوالے سے ان  کی نفسیاتی کیفیت پر  یہ  یکساں  ہے۔ایسے لوگ آپ(ﷺ)اور   قرءان مجید پرایمان نہیں لانے والے۔(یسۤ۔١٠)

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَوَخشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِۖ
فَبَشِّـرْهُ بِمَغْفِرَةٛ وَأَجْرٛ كَرِيـمٍ١١

  • The fact remains, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] can make only that person aware beforehand of harmful effects who would diligently pursue the Grand Memoir - Reference Source (Qur’ān) without third party interference —while he has already felt awe of Omnipresence of Ar'Reh'maan the Exalted, without being in his sight. (Cf. 6:19; 21:49; 35:18; 50:33; 67:12)
    Since he has proved eligibility for the Paradise,
    thereby, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] congratulate him with good news and guarantee forgiveness and magnificent reward. (Cf. 19:97) [36:11]

  • یہ حقیقت زمان و مکان میں برقرار     رہے گی کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر صرف اس  پر ہوتا رہے گا جس نے  سرگزشت تاریخ ، منبع پند و نصیحت (قرءان مجید)کا اس انداز میں اتباع کیا کہ فکرو نظر میں کسی تیسرے کو حائل نہیں ہونے دیا۔اور اس کا حال یہ تھا کہ الرَّحمٰن ذوالجلال کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخود احساس رکھتے ہوئے   ان کے     بصارتوں             سے اوجھل ہونے کے باوجود سہما سہما مرعوب     رہتا تھا۔
    چونکہ اس نے جنت کا مستحق ہونا  ثابت کر دیا ہے اس لئےآپ(ﷺ)ایسے شخص کو خوشخبری اور ضمانت دے دیں کہ اس کے ماضی کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معافی اور اعلیٰ ترین ایوارڈ کا وعدہ ہے۔

Root: ك ر م

إِنَّا نَـحْنُ نُحْيِـى ٱلْمَوْتَـىٰ
وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَـٟرَهُـمْۚ
وَكُلَّ شَـىْءٛ أَحْصَيْنَٟهُ فِـىٓ إِمَامٛ مُّبِيـنٛ ١٢

  • It is certain that Our Majesty— of course, Our Majesty alone — shall resurrect the dead to life —
    And We keep writing what they have sent forward during their life, and We keep penning down their effects, traces, legacy they left behind —
    And Our Majesty have subjected everything accounted for; We have subjected it as catalogued in an archive that renders it explicit, a clarifying Master Record. (Cf. 78:29) [36:12

ہم جناب کے متعلق حقیقت جان لو؛ یہ ہم ہی  ہیں جومر چکے کو ازسرنوحیات دیں گے۔
اور ہم جناب  ان کےہر اس اقدام کو ضبط تحریر کر دیتے ہیں جو وہ اٹھا چکے،اور جوان کے چھوڑے نقوش اور اثرات کی وجہ سے بعد از مرگ جوہو رہا ہے وہ بھی ان کے کھاتے میں لکھتے  رہتے ہیں۔
اور
ہم جناب نے تمام  اشیاء اور معاملات کوشماریاتی اندراج  میں کیا ہوا ہے،ہم نے اسے  ایک ایسے محفوظ دستاویز/آرکائیومیں  منضبط  کر دیا ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔

Root: ء ث ر;ش ى ء


وَٱضْـرِبْ لَـهُـم مَّثَلًا أَصْحَـٟـبَ ٱلقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ١٣

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] strike to jolt consciousness of the heedless chieftains the precedent of the conduct of the chieftains of the locality when there came the appointees as Messengers of Allah. (Cf. 16:112)  [36:13]

تاریخ کا ایک اور دور انہیں دکھانے کے لئے آپ ﷺ ان غافل سرداروں کے شعور کو جھٹکا دینے کے لیے —ان کے ادراک کو بیدار کرنے کے لیے  اس بستی کے سرداروں کے طرزِ عمل کی نظیر ان کے  لئے مثال کے طور  اجاگر کریں ، جب ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے رسول  ان کے پاس  آئے تھے۔ 

إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْـهِـمُ ٱثْنَيْـنِ فَكَذَّبُوهُـمَا
فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٛ فَقَالُوٓا۟ إِنَّـآ إِلَيْكُـم مُّرْسَلُونَ ١٤

  • When Our Majesty, in order to discharge the obligation of final warning, sent two Messengers to command them authoritatively to revert to Monotheism, but since they deemed it detrimental to their political supremacy, they stubbornly refused to acknowledge either of them and resorted to deliberate falsehood — in direct contradiction to Our Signs —
    Thereat, after some time, Our Majesty reinforced them decisively with a Third Messenger, whereupon they said to them with one voice, "Acknowledge the truth; indeed we have been sent as Messengers to forewarn you of consequences". [36:14]

ہم نے اتمام حجت کے  لئے   ان کی جانب   جب  بیک وقت  دو رسولوں کو  مبعوث فرمایا تو   انہوں نے اپنے زوال کے خطرے کے پیش  نظر  ان  دونوں کو جھٹلاتے ہوئے دانستہ اور عیاری کے ساتھ لوگوں کے سامنے برملا دروغ گوئی  کا مظاہرہ کیا۔
چونکہ  اس قوم کو آخری حد تک موقع دینا مقصود تھا اس لئے ہم نے   وقت  گزرنے پران دونوں کے   بیان کو تیسرے رسول کو مبعوث فرما کر نمایاں اور ممتاز کیا۔ تب انہوں نے ان سے یک زبان  کہا:"اس حقیقت کو سمجھو،ہمیں  آپ لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے  بحثیت رسول بھیجا گیا ہے"۔

قَالُوا۟ مَآ أَنتُـمْ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا
وَمَآ أَنَزلَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ مِن شَـىْءٛ إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ١٥

  • The polytheist chieftains replied, "You are not at all endowed with any distinction but are just human being like us —
    And Ar'Reh'maan has certainly not at all sent you any sort of communication —
    You people are not just but lying." (Cf. 11:27; 14:10; 26:154; 26:186) [36:15]

عمائدین مشرکین نے  جواب دیتے ہوئے کہا"تم لوگ ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ  قطعاً کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔
اور الرَّحمٰن نے  قطعاً کچھ بھی  کوئی  جامع پیغام   نہیں بھیجا ہے۔تم لوگ   محض جھوٹ بول بول کر  یہ دعوی کر رہے ہو"۔

قَالُوا۟ رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّـآ إِلَيْكُـمْ لَمُرْسَلُونَ ١٦
وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلََٟغُ ٱلْمُبِيـنُ ١٧

  • They confidently said, "Our Sustainer Lord fully knows — indeed we are certainly sent as Messengers to caution you about inevitable consequences of heedlessness.

  • Except the explicative communication for your conscience none at all other obligation, responsibility and authority vests in us." [36:17]

انہوں نے  پریقین  لہجے میں  کہا: "ہمارے  رب بخوبی  جانتے ہیں  ؛یہ حقیقت ہے ہمیں  رسالت کے فرائض سونپ کر ،ناگزیر ناگفتہ  بہ انجام  سے آپ کو شعوری  بیدار کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
ان جناب کے  حقائق کوواضح کرنے والے پیغام  کو آپ کے عقل و فہم   تک پہنچانے کے علاوہ  آپ کے بارے ہمیں  کوئی  ذمہ داری اوراختیار  نہیں  سونپا گیا ہے۔
"

قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّـرْنَا بِكُـمْۖ
لَئِن لَّمْ تَنتَـهُوا۟ لَنَرْجُـمَنَّكُـمْ وَلَيَـمَسَّنَّكُـم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيـمٚ ١٨

  • They, the ruling elite, replied with absurd hostility, "Indeed we have consciously noticed that the cause behind ominous contagion disrupting status-quo are certainly you people. (Cf. 7:131;27:47)
    It is certain that if you do not instantly cease, we will assuredly stone you to death, and a deeply painful torment decreed by us will most certainly touch you." (Cf. 19:46;26:116) [36:18]

ان عمائدین نے انتہائی ہٹ دھرمی اور  سخت روی سے جواب دیا:ا"یقیناً ہم نے شعوری طور پر محسوس کر لیا ہے کہ موجودہ نظام کو تہ و بالا کرنے والی اس منحوس وباء کے اصل محرک بلا شبہ تم لوگ ہو۔
یہ بات طے ہے  کہ اگر تم لوگ اس انتشار کو پیدا کرنے سے  فوراً اور مکمل طور پرباز نہ آئے تو  ہم یقیناً  تمہیں سنگسار کر دیں گے ، اور ہماری طرف سے مقرر کردہ ایک شدید ترین تکلیف دہ عذاب تمہیں لازماً آ لے گا"۔

Root: ر ج م

قَالُوا۟ طَٟٓئِرُكُم مَّعَكُـمْۚ أَئِن ذُكِّرْتُـمۚ
بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٚ مُّسْـرِفُونَ ١٩

  • They replied, "Your ominous consequence is in fact accompanying you. [Cf. 17:13] Is your furious internal agitation for reason that you are reminded and admonished?
    Nay, it is not momentary attitude, on the contrary you people are in fact in the habit of unmindfully transgressing rational boundaries". [36:19]

انہوں(رسولوں)نے جواب دیا"تمہارا خلفشار ِشامت اعمال   در حقیقت فرد جرم کے طور پر تمہارے ساتھ ہے(الاسراء۔13 ساتھ پڑھیں)۔
کیا تمہارا  یہ سیخ پا ہونا اس وجہ سے کہ تمہیں   شعوری یاد دہانی اور حق  کے متعلق  متنبہ  کیا ہے؟
نہیں، یہ کوئی  لمحاتی رویہ نہیں،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم
شعور و خرد کی عقلانی حدود سے منہ موڑ کر مسلسل حد سے بڑھنے کے عادی ہو چکے ہو"۔

Root: س ر ف


وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٚ يَسْعَىٰ قَالَ يَٟقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ٢٠

  • Meanwhile, a man came there running from uppermost edge of the City to swiftly reach them (Cf. 28:20)— He said, "O my people, consciously incline your selves to follow the Messengers in letter and spirit — [36:20]

اسی اثنا میں  شہر کے سب سے بلند مقام سے  ایک شخص فوری مداخلت کے لئے دوڑتے ہوئے وہاں پہنچ گیا۔
اس نے کہا"اے میری قوم کے بندو!اپنے آپ کوخلوص و تندہی سے ان کے نقش قدم پر چلنے پر آمادہ کرو جنہیں اللہ تعالیٰ نے بحثیت رسول ہماری جانب بھیجا ہے۔

Root: س ع ى; ر ج ل

ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُـكُـمْ أَجْرٙا وَهُـم مُّهْتَدُونَ ٢١

  • Do consciously and sincerely follow adhering to those who ask you not any sort of worldly payment for imparting you guidance. And they diligently and determinedly align to Divine Guidance. [36:21]

آپ شعور اور اخلاص کے ساتھ ان   کی  عملی طور پیوستہ پیروی   کریں جو   منزل کی جانب رہنمائی   دینے کے صلہ میں آپ سے دنیاوی مفادکے طلبگار نہیں۔اور وہ    اللہ تعالیٰ کی جانب سے عنایت کردہ  ہدایت  پر خود   شعوری تندہی  اور اخلاص سے گامزن ہیں ۔

وَمَا لِـىَ لَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِى فَطَرَنِـى وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٢٢

  • And tell me, what rationale is available to me not to submit and owe servitude and allegiance solely for the One Who originated me? —
    Take caution; you will be presented before Him on day of Resurrection for accountability. (Cf. (1)2:245(2)10:56(3)11:34(4)28:70(5)28:88(6)36:22(7)36:83(8)41:21(9)43:85=9) [36:22]

اور  مجھے   آپ ہی بتائیں ،میرے لئے کیا علمی و فکری جواز ہے کہ میں فقط  ان جناب کی بندگی نہ کروں جنہوں نے مجھے عدم سے وجود دیا ہے؟
آپ متنبہ رہیں  کہ آپ  لوگوں  کویوم قیامت ان کے حضور احتساب کیلئے پیش کیا جائے گا۔

Root: ف ط ر

ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِـهَةً إِن يُرِدْنِ ٱلرَّحْـمَـٰنُ بِضُرّٛ لَّا تُغْنِ عَنِّى شَفَٟعَتُـهُـمْ شَيْـٔٙاوَلَا يُنقِذُونَ ٢٣
إِنِّـىٓ إِذٙا لَّفِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٢٤

  • Advise me, should I adopt statues as uncritically admired gods besides Him the Exalted? If Ar'Reh'maan the Exalted intends any harm to me their recommendation will not avert any thing from me as is your notion) —and nor can they redeem me. [36:23]

  • It is certain that the moment I do that, I will definitely be duped in straying in manifest irrationality — [36:24]

مجھے مشورہ دو؛کیا میں ان جناب کے علاوہ  ہاتھوں سے تراشےبتوں کو بطور خدا اختیار کر لوں؟ اگر الرَّحمٰن (ذو الجلال و الاکرام)کسی تکلیف  دہ صورتحال میں مبتلا کر کے گرفت میں لیں تو ان نام نہاد خداؤں کی شفاعت  مجھ سے قطعی کچھ بھی دور کر کے افادہ دے سکے گی، ،جیسا آپ کا گمان ہے۔اور نہ وہ  تخیلاتی خدا مجھے اس صورتحال سے نجات دلا سکیں گے۔
میں اس بات کو حقیقت سمجھتا ہوں کہ  جس لمحہ  میں نے  ان (بتوں) کو معبود مان لیا تو میں یقیناً راہ راست سے منحرف ہو کر شعوری کجی کا مظہر بن کر 
میں گم کردہ راہ ہو جاؤں گا۔

Root: ش ف ع; ن ق ذ

إِنِّـىٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُـمْ فَٱسْـمَعُونِ ٢٥

  • Indeed, I have securely anchored my faith and belief in your Sustainer Lord. Since it is entirely rational to remain sincerely anchored with one's Sustainer Lord, therefore, pay conscious attention to what I am saying." [36:25]

بلاشبہ، میں نے اپنے ایمان اور عقیدے کو پورے عزم کے ساتھ تمہارے حقیقی پروردگار (ربِّ مطلق) کے ساتھ پیوستہ اور استوار کر لیا ہے۔ چونکہ اپنے پروردگار سے سچی وابستگی اور اتصال ہی عین عقل و شعور کا تقاضا ہے، اس لیے میری اس بات پر پوری شعوری توجہ اور دھیان دو"۔

قِيلَ ٱدْخُلِ ٱلْجَنَّةَۖ قَالَ يَٟلَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُونَ ٢٦
بِمَا غَفَرَ لِـى رَبِّـى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْـرَمِيـنَ ٢٧

  • [He was their cause of concern and trouble that they were being tutored by men whom they considered ordinary; they arrogantly martyred him] It was said, "Enter into the Paradise." He said, "I wish my people knew — [36:26]

  • The structural value and efficacy of the act through which I earned the right that my Sustainer Lord decreed forgiveness for me, and theat He the Exalted has declared me as one of the honoured ones." [36:27]

عمائدین نے  ایک عام آدمی کے راہ ہدایت سکھانے پر جلال و تکبر سے اسے قتل کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی میں راہ میں قتل ہونے پر اس کے لئے کہا گیا"آپ جنت میں داخل ہو جائیں"۔اس نے کہا"اے کاش میری قوم  آگاہ  ہو جائے:
اس عمل کی فکری وقعت اور اثر آفرینی سے جس کے وسیلے سے میں نے یہ حق کمایا کہ میرے پروردگار نے  میری تمام کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہوئے میرے لیے مغفرت کا فیصلہ صادر فرمایا،اور مجھے  ان لوگوں میں  شامل کر لیا ہے جنہیں مکرم قرار دیا گیا ہے"۔

Root: ك ر م

وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَـىٰ قَوْمِهِۦ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِن جُندٛ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِيـنَ ٢٨
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةٙ وَٟحِدَةٙ  فَإِذَا هُـمْ خَٟمِدُونَ ٢٩

  • Note it; Our Majesty did not send dominating forces descending from the Sky gripping his nation in times after his murder —And nor We intended instantly sending them down, [36:28]

  • It was nothing more than a single piercing, explosive blast—thereby, because of its overwhelming thermal and sonic shock, they were suddenly extinguished, turned completely cold as ash. [36:29]

جان لو؛ ہم جناب نے اس کے قتل کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے لشکر نہیں اتارے تھے۔اور نہ ہمارا ان پر لشکر اتارنے کا کسی وقت ارادہ تھا۔
وہ تو بس ایک ہی خوفناک اور چیر دینے والی کڑک تھی—نتیجتاً، اس شدید ہلاکت خیز صدمے کے باعث وہ ایک ہی لمحے میں بجھ کر راکھ کی طرح ٹھنڈے اور بے حس ہو کر رہ گئے۔(شعلہ ناک ہو کر قتل جو کیا تھا)۔

Root: ص ى ح; خ م د


يَٟحَسْـرَةً عَلَـى ٱلْعِبَادِۚ
مَا يَأْتِيـهِـم مِّن رَّسُولٍٛ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٣٠

  • O swift remorse and sense of deprivation! You will soon overpower the nerves of those bondsmen who never imagined their arrogance would culminate in such an absolute reckoning. (Cf. 2:167;6:31;19:39;39:56)—
    Not a single Messenger ever came to them across any timeline with whom they interacted through anything other than a playful, systematic sport of mockery. (Cf. 15:11 replica; 6:10;21:41;43:07) [36:30]

اے زود پشیمانی  اور احساس محرومی ،تو   جلدمخصوص بندوں  کے اعصاب پر مسلط ہو جائے گی۔
ان   بندوں کے پاس زمان و مکان میں کبھی کوئی ایک بھی   رسول نہیں آیا   مگر یہ کہ  ان  عمائدین نے اس سے منسوب کر کے   لوگوں کے سامنے                                              دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑانے کو مشغلہ بنائے رکھا۔

Root: ھ  ز ء

أَ لَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَـكْنَا قَبْلَـهُـم مِّنَ ٱلْقُرُونِ  أَنَّـهُـمْ إِلَيْـهِـمْ لَا يَرْجِعُونَ ٣١
وَإِن كُلّٚ لَّمَّا جَـمِيعٚ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ ٣٢

  • Why are they non-serious; have they not realized how many generations Our Majesty have annihilated that were stubborn before them who will not revert to them to share their experience. (Cf. 6:06; 21:95; 32:26) —

  • However, each one of them shall but inevitably be brought before Our Majesty for accountability as soon they are assembled. [36:32]

یہ لوگ اتنے بے پروا اور غیر سنجیدہ کیوں ہیں؟ کیا انہوں نے اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی ایسی سرکش نسلوں کو تہہ و بالا کر ڈالا، جو اب کبھی پلٹ کر واپس نہیں آئیں گے کہ وہ اپنے انجام کا حال ان سے  بیان کر سکیں۔
 مگر ان میں سے ہر ایک کو ہمارے حضور جواب دہی کے لیے لایا جانا ناگزیر ہے، جیسے ہی  ایک مقام پر جمع  ہو جائیں  گے۔

Root: ق ر ن; ح ض ر

وَءَايَةٚ لَّـهُـمُ ٱلۡأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَٟهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْـهَا حَبّٙا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ ٣٣

  • To answer their rhetoric demand of sign, the dead sterile land is indexical sign that can lead them to conscious understanding of resurrection. Our Majesty rejuvenated and revived her to life. And Our Majesty sprouted from her food grains. It is only then that they eat some of it of their choice. [36:33]

ان کے مطالباتِ تمسخر میں مانگے گئے نشان کا جواب دینے کے لیے، یہ مردہ اور بنجر زمین ایک ایسا اشاریاتی نشان (indexical sign)ہے جو انہیں زندگی کے دوبارہ اٹھائے جانے (بعث بعد الموت)کے شعوری ادراک تک پہنچا سکتا ہے۔ ہم جناب  نے  نئے سرے سے تروتازہ  اور  حیات بخش کر کے اسے زندہ  کیا۔اور ہم نے اس سے غلے کے دانے اگائے۔ تب کہیں جا کر وہ اپنی پسند کا کچھ حصہ اس میں سے کھاتے ہیں۔

وَجَعَلْنَا فِيـهَا جَنَّٟتٛ مِّن نَّخِيلٛ وَأَعْنَٟبٛ وَفَجَّرْنَا فِيـهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ ٣٤
لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيـهِـمْۖ
أَفَلَا يَشْكُـرُونَ ٣٥

  • And Our Majesty rendered gardens therein as distinct family of fruits belonging to data-palm and grapevine. And Our Majesty caused the water to gush forth therein out of  underneath streams —(Cf. 16:11,67;23:19) [36:34]

  • This phenomenal process is aimed at people may eat some of the result of its (water) infusion. And their hands have not at all worked on it, the water —
    Should it not then be the response that they express gratitude? (Cf. 36:73) [36:35]

اور ہم  جناب نے اس میں  باغات کو منفرد انواع و اصناف  کے حامل بنا دیا جن کا تعلق  کھجور اور انگور کے پھل سے ہے۔اور ہم جناب  نے زیر زمین چشموں کو  پوری قوت سے پھوٹ بہایا۔
یہ پورا مظہراتی عمل اس مقصد کے تحت ہے کہ لوگ اس کے (پانی )باہم پیوستگی اور نفوذ سے پیدا ہونے والے ثمر میں سے کچھ کھائیں۔ اور اس پانی پر ان کے ہاتھوں نے ذرہ بھر بھی کوئی کام نہیں کیا۔
کیا پھر اس کا جواب  یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ  شکر گزار ہوں ؟

Root: ع ن ب; ن خ ل; ف ج ر

سُبْحَٟنَ ٱلَّذِى خَلَق ٱلْأَزْوَٟجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِـمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ٣٦

  • Infinitely Glorious—Whose approval is the focus of all directional effort—is the One Who created all the pairs, out of what the earth sprouts, out of their own selves, and out of what they do not know. [36:36]

تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں جنہوں نےنے ہر قسم کے جوڑے پیدا کیے، ان سب میں کوئی استثنا نہیں — ان میں بھی جو زمین اگاتی ہے [نباتات کی دنیا]اور ان میں بھی جو خود ان کے نفوس کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں —اور ان چیزوں میں بھی جن کے بارے میں وہ اس وقت علم نہیں رکھتے۔

Root: ز و ج;  خ ل ق; ن ب ت

وَءَايَةٚ لَّـهُـمُ ٱلَّيلُ نَسْلَخُ مِنْهُ ٱلنَّـهَارَ فَإِذَا هُـم مُّظْلِمُونَ ٣٧

  • And the night of certain place is indexical sign that can lead them to reflect over need for civilizational ecdysis. Our Majesty keep detaching from it (night) the day gradually until the new day is manifest while simultaneously uploading the day over the night of another place. But since they are static, wrapped in their own perceptual night, they act as if they are still in darkness. [36:37]

اور  مخصوص مقام کی رات  ایک ظاہری نشان ہے جو انہیں عروج و زوال  کا  مماثل  ہوتے ہوئے سمجھا سکتا ہے کہ  سخت  اور اندھیرےخول سے نکلنے کا سوچ سکیں ۔ ہم اس مخصوص رات  میں سے دن کو بتدریج  نکالتے  ہیں مگر بیک وقت دن کو ایک دوسرے مقام کی  رات پر سوار بھی کرتے ہیں۔مگر جب دن  نکل کر نمایاں ہو جاتا ہے  تو چونکہ  اندھیرے خیالات میں ڈوبے ہوئے ہیں  اس لئے دن کے اجالے میں   بھی وہ اندھیرے میں رہنے والے بنے رہتے ہیں۔(یسۤ۔٣٧)

Root: س ل خ

وَٱلشَّمْسُ تَجْـرِى لِمُسْتَقَرّٛ لَّـهَـاۚ ذَٟلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيـمِ ٣٨

  • Know it; the Sun is swiftly flowing directed toward a fixed terminal destination especially assigned for her. These are the equations, measured settings of relations and relativity determined by the absolutely Dominant, the Fountain of Knowledge -Setter of sciences. (Cf. 6:96; 41:12) [36:38]

جان لو؛سورج مسلسل تیز رفتاری سے  رواں دواں   بہہ رہی ہے۔اور اس کا یہ پورا سفر  خاص اسی کے لئے مقرر کردہ ایک حتمی اور معین منزل مقصود کی طرف مرکوز ہے۔یہ نظام ان جناب کےمتعین کردہ پیمانوں اور باہمی                                                  تناسب  کا مظہر ہے جومطلق غالب اور منبع علم ہیں۔

Root: ق ر ر; ش م س

وَٱلْقَمَـرَ قَدَّرْنَٟهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلعُـرجُونِ ٱلْقَدِيـمِ ٣٩

  • And now look at the Moon to note the contrast. Our Majesty have set it to proportioned measure, it has way-stations in journeying until it returned to the position resembling like the old curvy thin palm branch. [36:39]

اور اوپر چاند کو دیکھو۔ ہم جناب نے اسے سورج سے باہم مناسب پیمائش میں موزوں کیا ہے،اس حال میں کہ اس کی منزلیں ہیں۔یہ اپنی منازل کی جانب محو سفر رہتا ہے یہاں تک کہ لوٹ کر اپنی ابتدائی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔یہ حالت ایک قدیم خشک کھجور کی منحنی ٹہنی کی مانند ہے۔

Root: ع و د; ع ر ج ن

لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَـهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلقَمَـرَوَلَا ٱلَّيلُ سَابِقُ ٱلنَّـهَارِۚ
وَكُلّٚ فِـى فَلَكٛ يَسْبَحُونَ ٤٠

  • It is not possible and befitting for the Sun, within the strict limit-setting assigned to her, to break bounds out of desire to chase and overtake the Moon. And neither can the Night ever take the lead to outrun the Day.
    Know it: every single one of them is continuously swimming along inside a curved, breast-shaped elliptical orbit. (Cf. 21:33) [36:40]

سورج کے لئے مقرر کردہ  پیمائشوں کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ،(مؤنث ہونے کے ناطے)اُسے زیبا بھی نہیں کہ ازخود چاند کا پیچھا کرنے کی وہ خواہش و جستجو کر سکتی ہو۔اور نہ ہی رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن پر   کبھی سبقت  لینے والا بن  سکے۔
اور تمام  میں ہر ایک (متذکرہ عناصر فطرت)ایک جانب منزل پر پہنچنے کے انداز میں ایک   بیضوی مدار کے اندر بقوت تیرتے رہتے ہیں۔(یسۤ۔
٤٠)

Root: د ر ك; ق م ر; س ب ق; س ب ح

وَءَايَةٚ لَّـهُـمْ أَنَّا حَـمَلْنَا ذُرِّيَّتَـهُـمْ فِـى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ٤١

  • The fact that Our Majesty had embarked their genetic posterity inside the laden ready-to-sail vessel is an indexical sign for their reflection and taking heed. [36:41]

یہ حقیقت کہ ہم جناب نے ان کی نسل کو  بھاری بھرکم  رواں ہونے کے لئے تیار  کشتی میں سوار کر کے  رواں رکھا ہے  ان کے  شعور و ادراک کے لئے ایک  واضح اور نمایاں نشانی ہے۔

Root: ذ ر ر; ف ل ك

وَخَلَقْنَا لَـهُـم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ ٤٢

  • And Our Majesty have created certain mammals, by purpose analogous to that (ship), that are manageable for them for riding in Land. (Cf. 16:08) [36:42]

اور ہم جناب نے ان کے لیے   خاص طور پر  اس سواری کے مثل   قابل مطیع انداز میں  ان  جانوروں کوتخلیق کیا ہے  جس پر زمین پر سواری کرتے ہیں(حوالہ النحل۔8) ۔

Root: ر ك ب

وَإِن نَّشَأْ نُغْـرِقْهُـمْ فَلَا صَرِيخَ لَـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنقَذُونَ ٤٣
إِلَّا رَحْـمَةٙ مِّنَّا وَمَتَٟعًا إِلَـىٰ حِيـنٛ ٤٤

  • Realize it, should Our Majesty so decide We could drown them whereupon there would be no one to respond for their cries —and nor would they be saved. — [36:43]

  • Non happening of such painful event is but an act of mercy as grace from Our Majesty, and as source of sustenance extending only up to a fixed, predetermined deadline. [36:44]

سفر کی منزل  پر یقینی پہنچنے کے  گمان متعلق جان لو؛ اگر ہم جناب  ارادہ کریں  تو  انہیں ڈبو سکتے ہیں ، جس پران کی فریادوں  اور چیخ و پکارکا کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا،اور نہ ہی وہ بچائے جائیں گے۔
مگر  ایسا ہونا  ہم جناب کی جانب سے مسلسل رحمت کا اظہار ہے۔اورہمارے فضل سے  زیست ہےایک مخصوص مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کے لیے۔

Root: ص ر خ; غ ر ق; ن ق ذ


وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمُ ٱتَّقُوا۟ مَا بَيْـنَ أَيْدِيكُـمْ وَمَا خَلْفَكُـمْ لَعَلَّـكُـمْ تُرْحَـمُونَ ٤٥

  • And when it was said for their conscious attention, "Consciously guard yourself against that replay what happened before you in the past and be mindful of that which might happen in your future [from the Sky and the Earth] (Cf. 34:09) —
    So that you hopefully become the people blessed with clemency, but they turned deaf ear. (Cf. 3:132;6:155;7:63;7:204;24:56;27:46; 36 :45;49:10=8) [36:45]

اور جب ان   کی شعوری توجہ  کے لئے  کہا گیا:"تم لوگ اس بات سے اپنے آپ کو شعوری طور پر محفوظ   بناؤ  جو تم سے پہلے ماضی میں  دہرایا جا چکا ہے، اور اس ب ناگفتہ بہ امکان سے  ہوشیار رہو جو مستقبل میں تمہارے سامنے  پیش آ سکتا ہے [آسمان اور زمین کی طرف سے]
تاکہ  دائمی کامیاب اور سرخرو  قرار پانے کا تمہارے لئے امکان پیدا ہو جائے"۔(تب بھی انہوں نے کوئی اثر نہیں لیا)

وَمَا تَأْتِيـهِـم مِّنْ ءَايَةٛ مِّنْ ءَايَٟتِ رَبِّـهِـمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْـهَا مُعْـرِضِيـنَ ٤٦

  • And not a single information conveyed in a unitary structural text-passage arrives to them from the thought provoking verbal passages of their Sustainer Lord  (Grand Qur’ān): their response has been but they persistently turn away in active aversion to avoid looking at what it points to. (Cf. 6:04 replica) [36:46]

اور ان کے رب کی طرف سے آنے والی حقیقت آشنا، اشاریاتی کلامی آیات میں سے کوئی بھی ایک اکائی (آیت) بطور اطلاع جب بھی ان تک پہنچتی ہے، تو ان کا ردعمل اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کے اشارے سے بچنے کے لیے مستقل فعال اعراض کی حالت میں منہ موڑ لیتے ہیں۔

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُـمُ ٱللَّهُ
قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ
إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٤٧

  • And when it was said to convey them Divine injunction: "Generously spend some of the sustenance Allah the Exalted has given to you for the benefit of needy" (Cf. 2:54; 4:39; 13:22; 63:10)—
    Those who had refused to believe in the Divine Book put the question for those who heartily believed: "Should we feed the one whom Allah, if so willed, would have fed?
    You are entirely within manifest systemic deviation." (Cf. 67:09) [36:47]

اور جب  ان کے شعور کو بیدار کرنے کے لئے   کہاگیا"اللہ تعالیٰ نے  جو مال و دولت تم لوگوں کو عنایت فرمایا ہے اس میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرو ":
تو ان لوگوں نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کر دیا تھا ایمان لانے والوں سے کہا"کیا ہم اسے کھانا کھلائیں جسے اگر اللہ  چاہتا تو اسے خود کھانا کھلا دیتے۔
تم لوگ جو دعوت دے رہے ہو وہ  تمہارے معاشرے کے عرصہ دراز سے تسلیم شدہ نظام سے صریح انحراف کے سوائے کچھ نہیں"۔

Root: ط ع م

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ٤٨

  • And the deniers of the Hereafter repeatedly and mockingly ask: "Tell us in what era, on what exact date and day will this promise be fulfilled? Tell us, if you are truly truthful in your claims concerning the Last Day and the Hereafter!" (Cf. Replica 10:48;21:38;27:71;34:29;36:48; 67:25) [36:48]

اور آخرت کا انکار کرنے والے استہزائی طور پر تکرار سے پوچھتے  رہتے ہیں’’یہ وعدہ کب،کون سے دور،کس تاریخ اوردن کو پورا ہو گا۔بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةٙ وَٟحِدَةٙ تَأْخُذُهُـمْ وَهُـمْ يَخِصِّمُونَ ٤٩

  • These people are not waiting at all- not expecting anything whatsoever - Yet the only thing that is actually lying in wait for them is a single mighty Blast - One Cry only - she will keep seizing them - blowing continuously as a Big Bang wave - while they are still engrossed in mutual disputing and bargaining over worldly affairs  —(Cf. 36:29; 36:53; 38:15) [36:49]

یہ لوگ بالکل بھی منتظر نہیں ہیں -کسی چیز کے بھی منتظر نہیں -حالانکہ درحقیقت جو چیز ان کی گھات میں لگی ہوئی ان کی منتظر ہے۔وہی  انہیں مسلسل اپنی گرفت میں لیتی چلی جائے گی - ایک عظیم بگ بینگ کی موج کی مانند مسلسل پھٹتی اور لپکتی ہوئی - جبکہ وہ ابھی تک دنیوی معاملات میں باہمی جھگڑے اور سودے بازی میں منہمک و محو ہوں گے -

Root: ص ى ح; خ ص م

فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةٙ وَلَآ إِلَـىٰٓ أَهْلِـهِـمْ يَرْجِعُونَ٥٠

  • Since she will be sudden terrible deafening blast, thereat —at that very instant — they will not be able to manage even to think of making any bequest at all - and nor will they be desirous and capable to return to their household. (Cf. 21:40) [36:50]

چونکہ وہ اچانک اور اوسان خطا کر دینے والی ایک ہولناک چنگھاڑ ہوگی، اس لیے اسی آن وہ یقینِ موت کے باوجود کسی وصیت کا تصور تک نہ کر سکیں گے، اور نہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب لوٹنے کی خواہش اور سکت رکھیں گے۔

Root: و ص ى

وَنُفِخَ فِـى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُـم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَـىٰ رَبِّـهِـمْ يَنسِلُونَ ٥١
قَالُوا۟ يَٟوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا            ۗ ۜۗ  هَذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ ٥٢

  • [everyone died and calmness prevailed] Know the next instance; as soon the commanding word of taking existence would have been blown in the Trumpet — complying thereat, they will stand up, emerging from their respective graves they will surge towards their Sustainer Lord. (Cf. 6:73; 18:99; 20:102; 23:101; 39:68; 50:20; 54:07;70:43; 78:18) [36:51]
    They said, "Woe is for us! Who has revived us from our graves: sleeping place? This is that which Ar'Reh'maan had promised and the Messengers had stated the truth." [36:52]

(سب مر گئے اور سکوت چھا گیا)اوراس دن جب خاص طور پر بنائے گئے نقارے میں  دوسری مرتبہ پھونک دیا جائے گا۔تو اس وقت  اچانک  اپنی قبروں/مدفون مقامات سے امنڈ کر اپنے رب کی جانب وہ مانند لہر (گروہ در گروہ ۔النباء۔18)رواں ہوں گے۔
انہوں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا’’ہائے ہماری شومئیِ قسمت!کس نے ہمیں زندہ کر کے جگا کر ہماری قبروں/نیند گاہوں میں سے کھڑا کر دیا۔یہ وہ ہے جس کا الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)نے وعدہ کیا تھا۔اور مبعوث فرمائے گئے رسولوں نے سچ کہا تھا"۔(یسۤ۔٥٢)

Root: ن ف خ; ر ق د; و ى ل

إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةٙ وَٟحِدَةٙ فَإِذَا هُـمْ جَـمِيعٚ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ ٥٣

  • It was nothing other than a single acoustic shockwave—and thereupon, because it was loaded with the operative command of existence, behold: instantly they are all a collectively assembly, they the criminals shall be presented for accountability before Our Majesty. (Cf. 6:73) [36:53]

وہ  فقظ ایک زور دارآواز کے کچھ نہ تھی ،چونکہ اس میں  از سر نو ظہور پذیر ہونے کا حکم تھا ،اس لئے  اس لمحے   وہ سب جمع ہو جائیں گے؛ ہم جناب کے حضور احتساب  کے لئے حاظر کئے جانے کے  لئے۔
 

Root: ص ى ح; ح ض ر

فَٱلْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٚ شَيْـٔٙا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٥٤

  • Since all protocols of equity and justice shall be strictly observed, thereby, that day none will shall be treated unjustly in any regard — And they will be addressed about requital; "you people are not being recompensed except that what deliberate and wilful acts you people kept performing". (Cf. 10:52;27:90; 37:39;45:28;52:16;66:07) [36:54] 

چونکہ اس دن انصاف کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا اس لئے کسی ایک شخص کے ساتھ بھی  خلاف حقیقت زیادتی قطعی نہیں ہو گی۔اور ان سے کہا جائے گا"تم لوگوں کو سوائے اس کے جو اعمال تم حیات دنیا میں کرتے رہے ہو سزا سے ہمکنار نہیں کیا جا رہا"۔


إِنَّ أَصْحَـٟـبَ ٱلْجَنَّةِ ٱليَوْمَ فِـى شُغُلٛ فَٟكِهُونَ ٥٥
هُـمْ وَأَزْوَٟجُهُـمْ فِـى ظِلَٟلٍٛ عَلَـى ٱلْأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ٥٦
لَـهُـمْ فِيـهَا فَـٟكِـهَةٚ وَلَـهُـم مَّا يَدَّعُونَ ٥٧
سَلَٟمٚ قَوْلٙا مِّن رَّبّٛ رَّحِـيـمٛ ٥٨

  • Indeed, those who shall be the companions in Paradise, are happily engrossed in joyful amusement this Day while engaged in enjoyable pleasantries. [36:55]

  • They themselves and their spouses are reclining towards each other upon adorned sofas in comfortable enveloping shades and canopies. [waiting before being escorted to Paradise on their turn] [36:56]

  • Fresh and dry fruits and all that they would desire for their selves shall be served for them therein (comfortable departure lounge). [36:57]

  • They will receive felicitation of eternal peace, tranquility and security as a word of promise from the Sustainer Lord, the Fountain of Infinite Mercy. [36:58]

مبنی بر حقیقت خبر جان لو؛وہ نفوس  جوجنت کے رفیق و مصاحب ٹھہریں ہیں، آج  کے دن  نہایت  مسرت انگیز شادمانی میں مگن  ہیں  ۔وہ آپس میں  خوش و خرم لطیف  دلچسپ  گفتگو میں  مشغول و محظوظ ہو رہے ہیں۔
وہ خود اور ان کے شریک زندگی راحت  کے حامل آراستہ و پیراستہ صوفوں  پر باہم یکجا اور روبرو  جلوہ افروز اندازمیں بیٹھے ہیں ، فرحت بخش سایوں اور سائبانوں کے ماحول میں ۔
ان کے لیے وہاں تازہ خشک میوہ جات  اور ان کے دل پسند ہر وہ چیز پیش کی  جا رہی ہے  جو وہ طلب کرتے  ہیں۔
اورآج کے دن کی  سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے  کہ رب ، منبع رحمت کی جانب سے انہیں ابدی سلامتی، کامل امن و سکون اور اطمینان و تحفظ کی مبارک باد اور تہنیت کا پیغام   ان   جناب کےوعدہ کے  طور  دیا گیا ہے۔

Root: ش غ ل; ظ ل ل; و ك ء; ف ك ه


وَٱمْتَٟزُوا۟ ٱلْيَوْمَ أَيُّـهَا ٱلْمُجْرِمُونَ ٥٩
أَ لَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُـمْ يَٟبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيطَٟنَۖ إِنَّهُۥ لَـكُـمْ عَدُوّٚ مُّبِيـنٚ ٦٠

وَأَنِ ٱعْبُدُونِـىۚ هَـٰذَا صِـرَٟطٚ مُّسْتَقِيـمٚ٦١

  • And it will be ordered, "Isolate yourselves into a distinct faction today, O you who severed systemic bonds! — [36:59]
    Did I not enjoin specifically upon you, O the progeny of Adam, that you shall not submit in reverence and allegiance to Shai'taan—indeed, he is to you a contentious, antagonistic enemy seeking to ruin you. (Cf. (1)2:168(2)2:208(3)6:142(4)36:60(5)43:62=5) [36:60]
    And that you people were directed: "Be the subjects, subservient and allegiants to Me alone —This exclusive servitude and allegiance is the High Road that leads safely and stably to the destination of peace and tranquillity." (Cf. 3:51;19:36;43:61;43:64) [36:61]

اور حکم دیا جائے گا”آج تم    الگ کر لو اپنے آپ کو ایک نمایاں گروہ کی صورت میں ، اے   مقررہ  نظام حیات  سے  قطع تعلقی کے مرتکب لوگو۔کیا میں نے تم  کو اس عہد کا  خصوصاًپابند  نہیں کیا تھا ،اے  اولاد  آدم کہ  شیطان کی غلامی نہ کرنا۔یہ حقیقت کہ وہ(شیطان)تم لوگوں کے لئے علی الاعلان دشمن  اور تمہاری بربادی کا خواہاں حریف  ہے۔
اور یہ کہ  فقط میری  بندگی میں زندگی بسر کرنا
۔یہ میری صوابدید کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی   دراصل منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والا راستہ  اورطرز عمل ہے۔(یسۤ۔٦١)

Root: م ى ز; ع ھ د

وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُـمْ جِبِلّٙا كَثِيـرًاۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ ٦٢

  • You followed him despite knowing he (Shai'taan) has already strayed a large multitude of your species. Was it for reason that you were not applying the faculty of intellect to differentiate? [36:62]

باوجود جانتے ہوئے تم نے اس کی پیروی کی  کہ اس (شیطان)نے پہلے ہی  تمہاری نوع میں سے ایک بڑی تعداد کو گمراہ کر دیا تھا۔کیا یہ اس وجہ سے تھا کہ تم لوگ عقل و شعور کو استعمال نہیں کر رہے تھے تاکہ فرق کر سکو؟

Root: ع ق ل

هَـٰذِهِۦ جَهَنَّـمُ ٱلَّتِـى كُنتُـمْ تُوعَدُونَ٦٣

  • Here this is the Hell-Prison which you people were being promised —  (Cf. 55:43) [36:63]

یہ ہے وہی جہنم-قید خانہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

ٱصْلَوْهَا ٱلْيَوْمَ بِمَا كُنتُـمْ تَكْفُرُونَ ٦٤

  • Today you people go and scorch her therein for the reason that you persistently kept refusing to believe the Messenger." (Cf. 52:16) [36:64]

آج تم اس میں جا کر جلتے رہو، اس وجہ سے کہ تم  رسول اللہ کامسلسل انکار کرتے رہے۔

Root: ص ل ى

ٱلْيَوْمَ نَخْتِـمُ عَلَـىٰٓ أَفْوَٟهِهِـمْ  وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيـهِـمْ  وَتَشْهَدُ أَرْجُلُـهُـم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٦٥

  • That Day Our Majesty will gag their mouths —and their hands will speak to Our Majesty —and their respective Feet will testify against them —about what they deliberately kept executing for their selfish motives. ( Cf. 6:129;7:96;9:82,95;10:08;36:65; 41:17; 45:14) [36:65]

ہم جناب اس دن اُن کے مونہوں پر ایک ڈھانپ چسپاں کر دیں گےجس کی وجہ سے وہ منہ سے بول نہیں سکیں گے۔اور   ہم جناب سےاُن کے ہاتھ گفتگو کریں گے۔اور اُن کے پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ان کاموں کے متعلق جو اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل  کے لئے وہ کرتے رہے تھے۔(یسۤ۔٦٥)

Root: خ ت م

وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلَـىٰٓ أَعْيُنِـهِـمْ فَٱسْتَبَقُوا۟ ٱلصِّرَٟطَ فَأَنَّـىٰ يُبْصِرُونَ ٦٦

  • Supposedly, had Our Majesty willed, We would have obliterated the controllers of their eyes, yet if they still determinedly raced headlong the chosen path—how then could they actively focus their sight? [36:66]

فرض کرو؛اگر ہم جناب نےکبھی  ارادہ کیا ہوتا تو ہم ان کی آنکھوں  کو فعال رکھنے اور حرکت کو کنٹرول کرنے والے عضلات کو مسخ کر دیتے، اس حالت میں وہ پسندیدہ  راستے پر دوڑ کر سبقت لے جانے کی  بھر پورکوشش کرتے؛ پھر سوچو—کیسے وہ اپنی نظر مرکوز کر سکتے تھے؟

Root: س ب ق; ص ر ط

وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَٟهُـمْ عَلَـىٰ مَكَـانَتِـهِـمْ فَمَا ٱسْتَطَٟعُوا۟ مُضِيّٙا وَلَا يَرْجِعُونَ ٦٧

  • Suppose, if Our Majesty ever decided, We would have disfigured their bodies from beauty to gruesome state at the very place of  their location. In such a state, they could neither aspire to move forward nor to return to their homes. [36:67]

تصور کرو؛ اگر ہم جناب نے یہ فیصلہ کیا ہوتا تو ہم انہیں  ان کے موجودگی کے مقام پر  مسخ کرکے بدصورت بنا دیتے تو ایسی حالت میں نہ وہ آگے بڑھنے اور نہ ہی اپنے گھروں کو واپس جا نے کی خواہش اور سکت پاتے۔

Root: م ض ى

وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّـسْهُ فِـى ٱلْخَلْقِۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ٦٨

  • And people may have observed; whoever Our Majesty grant an extended lifespan, We may render him inverted within the operational realization of creation. Is their stubbornness due to the fact that they do not even consider the possibilities that would make existence submissive and helpless? [36:68]

اور یہ تو تمہار مشاہدہ بھی ہوگا؛ایک ایسا شخص بھی ہوتا  ہے جسے ہم  طویل عمر عطا کرتے ہیں،اس کی تخلیق کی عملی تعبیر کے اندر ہم اسے الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔کیا ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ یہ  ہےکہ وہ ان ممکنات پر غور ہی نہیں کرتے جو ہستی کومنکسر اورعاجز بنا دیتی ہیں؟

Root: ع م ر; ن ك س


وَمَا عَلَّمْنَٟهُ ٱلشِّعْـرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓۚ
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٚ وَقُرْءَانٚ مُّبِيـنٚ ٦٩

  • Be aware; Our Majesty never taught him (the Messenger Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) the poetry. Nor it was ever befitting for him to have desire of self learning poetry. (Cf. 69:40-41)
    That (ٱلْقُرْءَانُ) which Our Majesty has taught him is but the Memoir, and a compiled and dynamically unfolding discourse characteristically explicitly conveyor of information in succinct, individuated, distinct and crystallized manner. (Cf. 2:151; 4:113) [36:69]

مطلع رہو؛ ہم جناب نے انہیں(رسول کریم محمّد ﷺ) کبھی شاعری کی تعلیم نہیں دی اور نہ ان کے لئے یہ کبھی بھی زیبا تھا  کہ ازخود شاعری  سیکھنے کی خواہش اور طلب ہو۔
ہم نے جس کی تعلیم انہیں دی ہے
وہ(ٱلْقُرْءَانُ) تومکمل سرگزشت تخلیق اور (بعنوان قرءان)ایک ایسا  مدون متن ہےجس کا وصف یہ ہے کہ ہر ایک موضوع الگ تھلگ انداز میں مضمون اورپیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو  ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٙا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٧٠

  • The objective is that he the Messenger (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) may forewarn and alert about imminent dangerous consequence whoever possesses a responsive, living cognitive vitality. And so that the Word is established for conviction against those who deny to believe in Qur’ān. [36:70]

اس کی غایت یہ ہے کہ وہ(ﷺ)ہر اس شخص کو  کفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ انجام اور عواقب سےمتنبہ کر سکیں جو متحرک اور زندہ   رہنے کاشعور رکھتا ہو۔اور تاکہ  رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں پرانجام کا وعدہ  مستوجب  حقیقت  بن جائے ۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا خَلَقْنَا لَـهُـم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعٟمٙا فَهُـمْ لَـهَا مَٟلِـكُونَ ٧١
وَذَلَّلْنَٟهَا لَـهُـمْ فَمِنْـهَا رَكُوبُـهُـمْ وَمِنْـهَا يَأْكُلُونَ٧٢

  • Why they not express gratitude, is it because they have not perceived the creation of herbivore mammals that produce abundant milk due to massive amount of energy applied by Our Majesty? It is particularly arranged to meet their necessity of life. Thereby, they exercise control domesticating them. (Cf. 16:66; 23:21) [36:71]
  • And Our Majesty have subjugated herbivorous mammals for them, therefore, some of them are their beast of burden and travel and some of them they eat. [36:72]

کیا انہوں نے اس پر بھی غور نہیں کیا کہ ہم جناب نے بکثرت دودھ دینے والے     چوپایوں  کوتخلیق  کیا ہے،جس کے لئے ہمارے دست قدرت نے توانائیاں خرچ کی ہیں ۔یہ ان  کی حاجت  کی علت  کے پیش نظر کیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ان پر دسترس رکھنے والے  مالک ہیں۔
اور ہم جناب نے ان چوپایوں کو ان کی سر پرستی میں کر دیا ہے۔اس لئے ان میں سے بعض کو سواری کے لئے استعمال کرتے  ہیں اور ان میں سے بعض کو کھانے کے لئے۔

Root: م ل ك; ذ ل ل;  ر ك ب

وَلَـهُـمْ فِيـهَا مَنَٟفِعُ وَمَشَارِبُۖ أَفَلَا يَشْكُـرُونَ ٧٣

  • And benefits, advantages and milking source are intrinsically provided in their very nature (herbivore mammals) for their (human) power and mobilization. Is it because they even notice not such evident reality that they do not express gratitude? (Cf. 36:35) [36:73]

اور  دیگر فوائد اور مشروب ان کی فطرت میں ودیعت کئے گئے ہیں  ان کے لئے قوت اور نقل و حرکت کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے۔۔کیا  یہ اس وجہ سے ہے کہ کبھی ان چوپایوں پر بھی انہوں نے غور نہیں کہ شکر گزار نہیں ہوتے؟

وَٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِـهَةٙ لَّعَلَّـهُـمْ يُنصَرُونَ ٧٤
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُـمْ وَهُـمْ لَـهُـمْ جُندٚ مُّحْضَرُونَ ٧٥

  • Despite all these realities pointing to Monotheism, they — the ruling elite — have deliberately engineered and adopted, apart from Allah the Exalted, self-fashioned statues as deities in illusory hope that they would be helped to maintain their political influence. (Cf. 19:81) [36:74]

  • The hard fact is that they — the hypothetical gods ascribed as partners, have no desire and capacity for helping them. They are utterly incapable of helping them; on the contrary, they will ultimately become troops brought forward to stand antagonist against them. (Cf. 7:192) [36:75]

توحید کی طرف اشارہ کرنے والے ان تمام حقائق کے باوجود، وہ—یعنی حکمران طبقے—نے جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے علاوہ خود ساختہ بتوں کو معبود کے طور پر گھڑا اور اختیار کیا، اس وہمی امید پر کہ ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں مدد میسر ہو گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ—یعنی شریک کے طور پر منسوب کردہ فرضی معبود—نہ تو ان کی مدد کرنے کی کوئی خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت۔ وہ ان کی مدد کرنے سے بالکل عاجز ہیں؛ اس کے برعکس، وہ بالآخر ایسے لشکر کی صورت میں لائے جائیں گے جو ان کے مقابلے میں فریقِ مخالف بن کر کھڑا ہو جائے۔

Root: ح ض ر

فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُـهُـمْۘ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِـرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٦

  • Because of their slanderous strategy to overcome their fear and illusion of retaining political hold, let not their statements grieve you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] (Cf. 10:65; 28:57)
    Indeed, Our Majesty fully tracks whatever they conspire secretly and whatever they broadcast publicly. (Cf. 2:77;11:05;16:23;27:74;28:69) [36:76]

چونکہ وہ عمائدین اپنے غلبہ  و اقتدار کے کمزور پڑنے کے غم میں مبتلا ہیں اس لئے ان لوگوں کی ہرزہ سرائی اور لغو بیانی آپ(ﷺ)کے لئے موجب رنج،حزن و ملال نہ بننے پائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب مطلق جانتے ہیں جو اضطراب اور غم و غصہ وہ عمائدین اپنی خفیہ محفلوں میں کرتے ہیں اور اس ہرزہ سرائی کو جس کا وہ پبلک میں برملا  اظہار کرتے ہیں۔

Root: س ر ر; ع ل ن

أَوَلَمْ يَرَ ٱلْإِنسَٟنُ أَنَّا خَلَقْنَٟهُ مِن نُّطْفَةٛ فَإِذَا هُوَ خَصِيـمٚ مُّبِيـنٚ ٧٧

  • And has man not perceived—given all these standing proofs—that Our Majesty has created him from a segment of a sperm —Yet as he develops through every stage from infantile silence unto the exact point of intellectual and vocal maturity, behold, he stands forth as an overt, obsessively compulsive and excessively argumentative. (Cf. 16:04) [36:77]

اور کیا ان تمام کھلے شواہد اور دلائل کے باوجود انسان کا یہ رویہ اس غفلت پر مبنی ہے کہ اس نے اس حقیقت پر بھی غور نہیں کیا کہ ہم ہی ہیں جنہوں نے اسے نطفے کے ایک جزوی حصے سے تخلیق کیا ہے؟ پھر بھی، جیسے جیسے وہ بچپن کی خاموشی کے ہر مرحلے سے گزر کر عقل اور آواز کی بلوغت کے عین مقام تک پہنچتا ہے اور ایک بااختیار شخصیت بن جاتا ہے، تو دیکھو، وہ صریحاً خواہ مخواہ تنازع کھڑا کرنے والا اور حد سے زیادہ جھگڑالو بن کر سامنے آ جاتا ہے۔

The Procreation of Man     Root: ن ط ف

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلٙا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥۖ قَالَ مَن يُحْـىِ ٱلْعِظَٟمَ وَهِىَ رَمِيـمٚ ٧٨

  • And he seeking to influence public consciousness and awaken skepticism—projected parallel relationship (of sculpted gods) with Our Majesty while   ignoring the very fact of his own creation. He asked jestingly; "Who is the one who will revive the skeletons to life while they would have already become utterly decomposed and disintegrated ruins?" (Cf. 17:49; 17:98;23:35;23:82;37:16;37:53;56:47;79:10) [36:78]

اور اس نے عوام کے شعور و اورذہنی سطح   پر اثر ڈالنے کے لئے  بتوں کو ہمارے  مثل   کے طور پیش کر کے  اجاگر کیا ۔—اس حال میں کہ وہ اپنی تخلیق کی کمالیت سے دانستہ چشم پوشی (نظر انداز) کر رہا تھا—اور لوگوں کو متذبذب کرنے کے لیے طنزاً پوچھا:"کون ہے وہ جو ان ڈھانچوں میں دوبارہ جان ڈال دے گا، جب کہ یہ ہڈیاں عرصہ دراز سے بوسیدہ اور منتشر حالت کو پہنچ چکی ہوں گی؟"

Root: ن س ى؛ ر م م

قُلْ يُحْيِيـهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَـرَّةٛۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍٛ عَلِيـمٌ ٧٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] declare, "He alone shall revive them (the bones) to life Who had brought them into existence and eminence in the first instance. And He the Exalted is absolutely cognizant of everything associated with the created physical and genomic realms. (Cf. 50:04) [36:79]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"وہ جناب ہی انہیں   حیات  پذیر فرمائیں گے  جنہوں نے اول بار انہیں نمو دے کر پروان چڑھایا تھا۔اور وہ جناب  تمام مادی اور حیاتیاتی تخلیق  سے متعلقہ ہر ایک بات اور پہلو کا  ہر لمحہ بدرجہ اتم  علم رکھنے والے ہیں"۔

Root: م ر ر; ن ش ء

ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلْأَخْضَرِ نَارٙا فَإِذَآ أَنتُـم مِّنْه تُوقِدُونَ ٨٠

  • He Who shall revive the decayed bones to life is the One Who has rendered the fuel (combustible energy) as fire that owes its origin to the Green Tree,  for the reason of necessity for you people —since it is already available, thereby, when need arises, you keep using some of it for igniting fire".

وہ جناب تو وہ ہیں جنہوں نے  اس  ایندھن  کو جوسرسبز درختوں  میں سے ابھرتا ہے تمہارے لئے ضروری ہونے کے پیش نظر آگ بنا دیا۔چونکہ  وہ پہلے سے  خفی حالت میں موجود ہے اس لئےاس کا یہ ثمر ہے کہ جب  بھی تم چاہتے ہو اس میں سے استعمال کر کے آگ سلگا لیتے ہو۔

Root: ش ج ر؛  و ق د

أَوَلَـيْسَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِقَٟدِرٍٛ عَلَـىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَـهُـمۚ
بَلَـىٰ وَهُوَ ٱلْخَلَّٟقُ ٱلْعَلِيـمُ ٨١

  • Why not they consider to get out of dissonance about revival to life — Is the One, they themselves consider and accept, Who has created the Skies and the Earth not at all capable and has the control and power to create the parallel of them — the deniers of resurrection?
    Of course, He the Exalted can. The fact is, He the Exalted is the greatest Creator; the Fountain of knowledge of visible and invisible domains - setter of sciences. (Cf. 15:86; 17:99; 40:57; 46:33) [36:81]

اپنے متذبذب  گمان سے نجات پانے کے لئے کیوں نہیں سوچتے؛کیا وہ جناب ،جن کے متعلق   یہ عمائدین خود سمجھتے اور مانتے ہیں،جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو  عدم سےتخلیق  فرمایا ہے،اس پر مکمل  عبور اور طاقت بالکل نہیں رکھتے کہ   ان  لوگوں کے اپنے مثیل  تخلیق فرما سکیں ؟
نہیں ؛ وہ اس پر  پوری طرح قادر ہیں ۔ان کے متعلق  حقیقت یہ  ہے کہ وہ جناب بہ اتم کمال اور لامحدود تخلیقات کرنے والے واحدخالق ہیں؛وہ منبع علم ہیں۔

إِنَّمَآ أَمْـرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـٔٙا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٨٢

  • Know it, this is exclusive feature of His Majesty's command when He the Exalted has finalized and decided a matter, thing, and individual event to take existence—It is enough for Him the Exalted to verbally say for that thing-matter-affair-person; "You become in evident-tangibly existing state". In compliance thereof that (abstract but effected thing- matter - affair - person) takes existence in physical realm (which can be known- cognizable by others). (Cf. 2:117, 3:47, 6:73, 16:40, 19:35, and 40:68) [36:82]

یہ صرف ان جناب کے حکم کا خاصہ ہے کہ جب انہوں نے کسی بھی مادِّیات کو ظہور پذیر کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے۔ تو ان جناب  کااُس  شئے  کے لئے یہ کہنا کافی ہوتا ہے ”تومادی دنیا میں وجود پذیر ہو جا“۔تکمیل حکم میں وہ (امر؛شئے،ذی حیات،وقوعہ) مادی دنیا کے لئے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔(سورۃ یسۤ۔٨٢)

فَسُبْحَٟنَ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ مَلَـكُوتُ كُلِّ شَـىْءٛ وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٨٣

  • Therefore, since everything owes its existence to Him the Exalted, Glory and repetitive praises are for the One in Whose hands is the system of governance and dominion of each and everything that exists. And you people will be presented before Him the Exalted on day of Resurrection for accountability, (Cf. 2:28, 3:109, 10:56; 23:88; 36:12; 67:01) [36:83]

چونکہ ہر شئے تکمیل حکم میں وجود پذیر ہے اس لئے طے ہے کہ تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محوروہ جناب ہیں  جن کاہر ایک  ایک شئے پراقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق ان کے   دائرہ کار  اور اختیارمیں ہے۔متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

 

037-سُوۡرَةُ الصّٟٓفّٟت

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


وَٱلصَّٟٓفَّٟتِ صَفّٙا ١
فَٱلزَّٟجِرَٟتِ زَجْرٙا ٢
فَٱلتَّٟلِيَٟتِ ذِكْرًا ٣
إِنَّ إِلَـٰهَكُـمْ لَوَٟحِدٚ ٤
رَّبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُـمَا وَرَبُّ ٱلْمَشَٟرِقِ ٥

  • And swearing is by those who line up straight, in the manner of a long disciplined line (straight-line winds) —[37:01]

  • Thereupon, on approaching they are the restrainers with loud roaring sound-calls; in the manner of restricting movement of people with loud roaring sounds — [37:02]

  • Then passing by they act as those who Recite something for audience, in the manner of repeating message reminding them about some fact— [37:03]

  • "Indeed the Iela'aha (the God) of you people is certainly the One and Alone— [37:04]

  • He is the Sustainer Lord of the Skies and the Earth and whatever is in between two of them—And the Sustainer Lord of all the diverse eastern points of sunrise" (Cf. 19:65;26:24;38:66;44:07;70:40; 78:37) [37:05]

جس حقیقت کی جانب متوجہ کرنا مقصود ہے اس کے لئے ان کاقسمیہ ذکر کرنا موزوں ہے  جوایک طویل قطار میں سیدھی صف بند  ہو کر ایک جانب متحرک  ہوتی ہیں۔
اس کے بعد منزل پر پہنچ کر وہ
لوگوں کوجامد کر دینے والیوں کا روپ دھار لیتی ہیں؛تیز و تند آوازوں کے ساتھ  لوگوں کی حرکت محدود کر دینے کے انداز میں۔
اس طرح ایسے لگتا ہے لوگوں کو ساکن کر کے ان پر تلاوت کرنے والیاں ہے؛ یاد دہانی کرانے کے انداز میں۔
وہ یاد کراتی ہیں"اس  حقیقت کو جان لو؛ تم لوگوں کے معبود فقط واحد معبود مطلق ہیں۔
وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے تمام کے رب ہیں۔اور وہ جناب مشارق کے رب ہیں"۔

Root: ز ج ر; ش ر ق


إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِزِينَةٍ ٱلْـكَـوَاكِبِ ٦

  • It is a fact that Our Majesty have adorned the Sky of the Lowly World-Earth with the attraction-beauty of the Planets. [37:06]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے  دنیا کے آسمان کو سیاروں کی دلکش کشش سے مزین فرمایا ہے۔

Root: ك و ك ب;  Planets

وَحِفْظٙا مِّن كُلِّ شَيْطَٟنٛ مَّارِدٛ ٧

  •  And Our Majesty have made her (the Sky of the Earth) ever secure from every Cursed and condemned shai'taan/satan— [37:07]

اور ہم جناب نے وہ ہر ایک دھتکارے ہوئے شیطان کی شر انگیزیوں  اور دسترس سے محفوظ بنائی ہے۔

Root: م ر د; ح ف ظ

لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَـىٰ ٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَـىٰ  وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٛ ٨
دُحُورٙاۖ وَلَـهُـمْ عَذابٚ وَاصِبٌ ٩
إِلَّا مَنْ خَطِفَ ٱلْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٚ ثَاقِبٚ ١٠

  • They cannot make themselves to fully listen the talk of Assembly of Exalted Chiefs —And they are hurled/darted from every side — [37:08]

  • In the manner/for driving/expelling/banishing/pushing them away with violence [not to kill but to make them run away]—
    -- Know it, a perpetual torment is prepared - in wait for them --. [37:09]

  • Except regard to safety the one who clandestinely picked a cut piece of the talk —Thereupon, a piercing, shone and intensely glistened fire ball [Comet-read with 67:05] followed him  [37:10]

وہ(شیاطین)خود مکمل بات کو سننے کے لئے عالی مرتبت سرداروں کی جانب نہیں پہنچ سکتے۔اور انہیں ہر جانب سے مار بھگایا جاتا ہے۔
اس انداز میں کہ انہیں دھتکارا، نکالا، یا زبردستی پیچھے دھکیلا جاتا ہے [مقصد ہلاک  کرنا نہیں  بلکہ بھاگنے پر مجبور کیا جائے]۔جان لو کہ ان کے لئے ایک دائمی عذاب تیار حالت میں موجود ہے۔
سوائے اس کے جس نے چوری چھپے کوشش کر کے کچھ سن لیا(ملائکہ کی گفتگو کا کوئی ٹکڑا)۔تو اس کے پیچھے دم دار اورچمکتا بگولہ لگ گیا۔(اس کا خوف  اسے وہ بھی بھلا دے گاجو اچک لیا تھا)۔

Root: م ل ء؛ ق ذ ف؛ و ص ب؛ ش ھ  ب

فَٱسْتَفْتِـهِـمْ أَهُـمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآۚ إِنَّا خَلَقْنَٟهُـم مِّن طِيـنٛ لَّازِب ِۭ ١١

  • Thereat [having conveyed these facts], you ask them to resolve it for themselves—
    "Whether they are stronger in creation or others whom Our Majesty have created."
    [for comparison they should remember] Indeed Our Majesty have created them corporeally from the tenacious clay-that acts as adhesive. [37:11]

معلومات دینے کے بعد آپ(ﷺ)انہیں کہیں کہ اب اس نکتے کوخود سلجھائیں—کیا وہ مضبوط ہیں بناوٹ کے حوالے سے  یابعض دوسرے جنہیں ہم جناب نے تخلیق کیا ہے۔
ہم جناب نے انہیں ایک ایسی ریت ملی کھنکھناتی ترمٹی میں سے پسند کردہ ماحصل میں سے تخلیق فرمایا تھا ،جس کی خصوصیت لیسدار، چپکنے چمٹنے والی تھی۔

Man's origin

بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ ١٢

  • Nay, in fact you were surprised while they were derisive/taking a serious matter mockingly. [37:12]

نہیں سوال پوچھنے میں کوئی برائی  نہیں ، بلکہ آپ کو ان کے سوالوں سے تعجب ہوا تھا جب وہ اس سنجیدہ بات کو بھی  مذاق کا نشانہ بنا نے کے لئے سوال پوچھ رہےتھے۔

Root: ع ج ب

وَإِذَا ذُكِّرُوا۟ لَا يَذْكُرُونَ١٣

  • And when they are orally reminded/facts are narrated to them they do not save those in memory/resultantly do not take heed. [37:13]

اور جب انہیں زبانی یاددہانی کرائی جاتی ہے یا حقائق بیان کیے جاتے ہیں، تو وہ انہیں یاد نہیں رکھتے اور نتیجتاً نصیحت قبول نہیں کرتے۔

وَإِذَا رَأَوْا۟ ءَايَةٙ يَسْتَسْخِرُونَ ١٤

  • And when they people saw an Ayah in writing [of Qur’ān written on paper] they amongst themselves amuse mockingly— [37:14]

اور جب یہ لوگ کسی آیت کو تحریری شکل میں ( کاغذ پر لکھی ہوئی) دیکھتے ہیں، تو آپس میں مذاق کرتے ہوئے دل لگی کرتے ہیں۔

Root: س خ ر


وَقَالُوٓا۟ إِن هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٚ مُّبِيـنٌ ١٥

  • And they said to their audience, "this (Qur’ān) is nothing except an evident illusory lie-hoax— [37:15]

اور انہوں نے لوگوں سے کہا’’یہ(قرءان)توسوائے پرانے افسانے کہانیوں کے مجموعہ کے اورکچھ بھی نہیں"۔

Root: س ح ر

أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابٙا وَعِظَٟمٙا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ١٦

  • Is it possible that when we would have died and would have become dust and bones are we certainly going to be revived/resurrected—[37:16]

رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والے عمائدین مشرکین نے  استفسار کیا’’کیا جب  مر چکے ہوں گے اورہم خاک بن چکے ہوں  گے اور بوسیدہ ہڈیوں کے ڈھانچے ۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے۔

أَوَ ءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ١٧

  • Or our forefathers of remote earlier periods?" [37:17]

یا ہمارے اولین آباؤ اجداد کو؟‘‘۔

قُلْ نَعَمْ وَأَنتُـمْ دَٟخِرُونَ ١٨

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Yes, you all will be resurrected, and you people will act humbly and submissively." [diametrically opposite to present day derisive conduct] [37:18]

آپ (ﷺ) ارشاد فرمائیں’’ہاں یہ حقیقت ہے۔اور تم لوگ اس وقت انکساری اور عاجزی کے پیکر بن جاؤ گے‘‘۔

فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٚ وَٟحِدَةٚ فَإِذَا هُـمْ يَنظُرُونَ ١٩

  • Since resurrection is inbuilt element of creation, thereby, she (resurrection blow) would only be one Big/Mighty Bang —Whereupon they would be revived to life, they will be waiting (further developments)— [37:19]

چونکہ حیاتِ نو کے ظہور کانظام تخلیق کا جزو ہے اس لئے وہ(نفخ ِبعثت)الصور میں دوسری/آخری پھونک توصرف ایک ہی زوردار آواز ہو گی۔جس کے نتیجے میں اس  وقت وہ لوگ یکایک کھڑے ہو کر منتظر ہوں گے(کہ آگے کیا پیش آتا ہے)۔

Root: ز ج ر

وَقَالُوا۟ يَٟوَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ٢٠

  • And they said, "O! Woe is for us, this is the Day of Requital." [37:20]

اور انہوں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا’’ہائے ہماری شومئیِ قسمت!یہ یومُ الدین ہے‘‘۔

Root: و ى ل   The day of requital - explained in Urdu -Video

هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُـم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢١

  • [it will be affirmed, yes] "This is the Day of Separation/Compartmentalization —The Day which you people kept contradicting publicly." [37:21]

انہیں  ملائکہ نےکہا’’ہاں !یہ فیصلے،الگ الگ کر دئیے جانے کا دن ہے۔یہ وہی دن ہے جسے تم لوگ مسلسل سر عام جھٹلاتے رہتے تھے‘‘۔

ٱحْشُـرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٟجَهُـمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٢٢
مِن دُونِ ٱللَّهِ
فَٱهْدُوهُـمْ إِلَـىٰ صِرَٟطِ ٱلْجَحِـيـمِ ٢٣

  • Angels who recognize by facial marks/expressions signs will be commanded [ for elided element see 55:41]: "You collect and gather those who did wrong and their spouses —And those sculpted idols which they kept worshipping/proclaiming allegiance— [37:22]

  • Apart from Allah the Exalted —
    Where after you people take them on the road of the Hell-Prison." [37:23]

اللہ تعالیٰ نے   چہروں کے تاثرات سے شناخت کرنے والےملائکہ کو حکم دیا(محذوف کاحوالہ سورۃ الرَّحمٰن۔۴۱)’’تم لوگ انہیں اور ان کی بیویوں کو اکٹھا کرو جنہوں نے حقیقت کے متضاد روش اور طرز عمل پر کاربند رہ کر اپنے آپ پر ظلم کیا۔اور ان تراشے بتوں کو یکجا کرو جن کی یہ لوگ پرستش کرتے رہتے تھے؛
بجائے اللہ تعالیٰ کی مطلق بندگی کرنے کے۔
جب ان سب کو مجتمع کر لو تو انہیں اس راستے پرلے چلو جو جہنم کو جاتا ہے‘‘۔

Root: ص ر ط

وَقِفُوهُـمْۖ إِنَّـهُـم مَّسْـُٔولُونَ ٢٤

  • [they seized them by their forelocks and chained their legs, and are heading them towards Hell by slashes on faces and back] And Angels were called upon;  Wait! Stop them [on way]. certainly they are to be asked— [this is not about their crimes-28:78] [37:24]

اورملائکہ کو پکارا گیا؛’’انہیں روکو؛در حقیقت انہیں سوال کا سامنا کرانا ہے‘‘۔

Root: و ق ف

مَا لَـكُـمْ لَا تَنَاصَرُونَ ٢٥

  • They are questioned; "What is there that has obliterated your fraternity; that you are not helping each other?" [37:25]

ان سے سوال کیا گیا’’کیا ہے جو تم لوگوں کے لئے باہمی شناسائی کو بھی  معدوم کر دینے کی وجہ بن گیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ہو؟‘‘۔

بَلْ هُـمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ٢٦

  • Nay, they are absorbed in their selves; in fact today they all want to submissively surrender to become followers of Code of Conduct Islam. [37:26]

مدد کرنا درکنار نفسی نفسی کا عالم ہے،درحقیقت آج وہ سب اسلام کے پیروکار بننے کے خواہش مند ہیں۔


وَأَقْبَلَ بَعْضُهُـمْ عَلَـىٰ بَعْضٛ يَتَسَآءَلُونَ ٢٧

  • And some of them turned confronting others face to face; they were questioning each other's conduct; [37:27]

اور ان(جہنم لے جائے جانے والوں)میں بعض دوسروں کے متقابل ہوئے؛وہ ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے۔

قَالُوٓا۟ إِنَّكُـمْ كُنتُـمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَـمِيـنِ ٢٨

  • They said, "Indeed you, it were you who used to come to us from right side to keep us on your disposition." [37:28]

انہوں(مطیع رہے لوگ)نے کہا"تم لوگوں کے متعلق یہ حقیقت ہے،تم لوگ  دائیں جانب سے  اپنے نظرئیے پر قائم رکھنے کے لئے ہمارے پاس   آتے تھے"۔

قَالُوا۟ بَلْ لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِيـنَ ٢٩

  • They replied, "No, factual position is that you were never believer — [37:29]

انہوں(عمائدین،شیوخ )نے جواب دیا؛نہیں وہ سبب نہیں تھا،حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ ایمان لانے والے بنے ہی نہ تھے۔

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُـم مِّن سُلْطَٟنِۭۖ بَلْ كُنتُـمْ قَوْمٙا طَٟغِيـنَ .٣

  • Absolutely no authority and convincing argument and evidence was there for us to insert binding influence upon you people —
    Nay, rather actually you were a people who over brim in transgression. [37:30]

اورقطعاً کسی بھی طرح تم لوگوں پر مختارہونے کی سند کبھی ہمارے لئے موجود تھی جس سے ہم تم پر اثرانداز ہوتے۔ہمارے اثر انداز ہونے کی وجہ سے تم ویسے نہ تھے،درحقیقت تم لوگ حدود و قیود کو پامال کرنے والے  ہم خیال لوگ تھے۔

Root: س ل ط; ط غ ى

فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ ٣١

  • Resultantly the Word of Our Sustainer Lord has become incumbent upon us —It is certain that we are definitely going to be the sufferers — [37:31]

اس لئے ہمارے رب کا قول/وعدہ جہنم ہم پرواجب اور حقیقت بن گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم یہ عذاب بھگتنے والے رہیں گے۔

Root: ذ و ق

فَأَغْوَيْنَٟكُـمْ إِنَّا كُنَّا غَٟوِينَ ٣٢

  • For reason we divagated you people as indeed we kept our selves divagating". [37:32]

ہاں یہ سچ ہے ہم نے تم لوگوں کو راست روی کے طرز عمل سے بہکایا تھا کیونکہ یقینا ہم خود بہکے ہوئے تھے"

Root: غ و ى

فَإِنَّـهُـمْ يَوْمَئِذٛ فِـى ٱلْعَذَابِ مُشْتَـرِكُونَ ٣٣

  • Therefore/in consequence indeed they on the Day when it would have happened they will be share holders in the affliction. [37:33]

لہٰذا، اس دن جب یہ وقوع پذیر ہوگا، یقیناً وہ عذاب میں شریک ہوں گے۔

إِنَّا كَذَٟلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِيـنَ ٣٤

  • Indeed this is how Our Majesty deal with the criminals. [37:34]

یہ حقیقت ہے کہ اس طرح ہم جناب مجرموں کونئے نئے انداز میں سزا دیتے ہیں۔

إِنَّـهُـمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَـهُـمْ
لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ
يَسْتَكْبِـرُونَ ٣٥

  • Indeed they the aristocrats were the people who remained adamant, when it was said to them—
    "Realize it about miscellany of iela'aha: deities-godheads that are uncritically admired, adorned and worshipped: none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except Allah the Exalted the Alone Sustainer Lord"—[Refer also 47:19]
    They used to make themselves demonstrate arrogance of grandeur — [37:35]

ان (عمائدین،سرکردہ)لوگوں  کا مرتے دم تک رویہ اور طرز عمل یہ رہا تھا کہ جب ان کے لئے یہ کہا گیا:
’’
ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود ان تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے اللہ تعالیٰ کے‘‘۔
وہ غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنی عظمت کے خواہش مند اور زعم میں مبتلا رہے۔

وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِـهَتِنَا لِشَاعِـرٛ مَّجْنُونِۭ ٣٦

  • And they (polytheists leaders) used to say publically: "Should we must become deserters of our various iela'aha: gods, deities for a delusional poet?" [37:36]

اور  اپنے نگیں رکھنے کے لئے لوگوں سے کہتے رہے"کیا ہم واقعی اپنے معبودان کو ترک کرنے والے بن جائیں  فقط ایک شاعر کے کہنے پر  جو یقیناًخبطی،فاسد خیالات میں گم کردہ ہو گیا ہے"

بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ
وَصَدَّقَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ٣٧

  • No, they falsely slander; he is neither possessed nor a poet, the fact is that he has come with the Infallible Discourse (Qur’ān).
    And he (Muhammad
    Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) has since affirmed-authenticated all those who were sent as Messengers to various nations in timeline. [37:37]

نہیں، انہیں شاعر کہنا لغو خیال آرائی ہے؛ حقیقت یہ ہے وہ بیان حقیقت(قرءان مجید)کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔
اور  انہوں(رسول کریم محمدﷺ)نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے تمام رسولوں کی تصدیق کر دی ہے۔


إِنَّكُـمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيـمِ٣٨

  • [reverting from parenthetic to the Day of Requital] "Indeed you people are going to certainly taste the painful punishment — [37:38]

[ جملہ معترضہ سے پلٹتے ہوئےقیامت کے دن کی طرف دوبارہ توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:]یقیناً تم لوگ ضرور دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو—

Root: ذ و ق

وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٣٩

  • And you people are not being recompensed except for that what deliberate and wilful acts you people used to perform". [37:39] [Read with 10:52;27:90;36:54;45:28;52:16;66:07]

اور ان سے کہا جائے گا"تم لوگوں کو سوائے اس کے جو اعمال تم حیات دنیا میں کرتے رہے ہو اس سے بڑھ کرسزا سے ہمکنار نہیں کیا جا رہا"۔[اسے  آیات کے ساتھ پڑھیں: 10:52; 27:90; 36:54; 45:28; 52:16; 66:07]

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ٤٠

  • But this principle of justice "requital equivalent to act done" will not apply upon the sincere servants/allegiants of Allah the Exalted. They will be awarded much greater they expected— [37:40]

لیکن یہ اصولِ عدل کہ "جیسا کرو گے، ویسا ہی بدلہ پاؤ گے" اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ انہیں توقع اور ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر عظیم اجر سے نوازا جائے گا—

أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ رِزْقٚ مَّعْلُومٚ ٤١

  • They are the people — sustenance known, well recognized in their perception will be served for them — [37:41]

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے  وہ معلوم رزق  ہو گا جو ان کے لئے معروف ہے—

فَوَٟكِهُۥۖ وَهُـم مُّكْـرَمُونَ ٤٢

  • Fruits; and they are honoured and dignified — [47:42]

میوے؛ اور وہ اعزاز و احترام سے  مکرم ہوں گے —

Root: ك ر م; ف ك ه

فِـى جَنَّٟتِ ٱلنَّعِيـمِ ٤٣

  • In the lush green Gardens/Paradise of Delight side by which flow streams —[37:43]

ان کی حیات آخر میں پُرمسرت باغات میں رہائش کا انتظام ہے۔

عَلَـىٰ سُرُرٛ مُّتَقَٟبِلِيـنَ ٤٤

  • Sitting upon thrones facing each other — [37:44]

وہ تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے —

Root: س ر ر

يُطَافُ عَلَيْـهِـم بِكَأْسٛ مِّن مَّعِيـنِۭ ٤٥

  • They will be enjoying a round of chalice with drink from the flagon — [37:45]

اور جاوداں بچے ہاتھوں میں   ذخیرہ والے ظروف سے بھر کر جام  لئے ہوئےان کے گرد گھوم رہے ہوں گے—

Root: ك ء س;  ط و ف

بَيْضَآءَ لَذَّةٛ لِّلشَّٟرِبِيـنَ ٤٦

  • White, delicious and enjoyable for the drinkers — [37:46]

صاف، لذیذ اور پینے والوں کے لیے خوشگوار —

Root: ل ذ ذ

لَا فِيـهَا غَوْلٚ وَلَا هُـمْ عَنْـهَا يُنزَفُونَ ٤٧

  • Its defining quality is that it contains no hidden harmful effect or hangover-like consequence, and those who drink it will not become intoxicated or lose their awareness because of it—  (Cf. 56:19) [37:47]

اس کی صفتِ امتیاز یہ ہے کہ اس میں کوئی مخفی ضرر رساں اثر نہیں، نہ اس کے استعمال کے بعد کوئی مضر کیفیت لاحق ہوگی، اور نہ اسے پینے والے اس کے سبب بے خود یا شعور سے محروم ہوں گے۔

Root: ن ز ف

وَعِندَهُـمْ قَٟصِرَٟتُ ٱلطَّرْفِ عِيـنٚ ٤٨

  • And by their sides are their wives who restrict gaze of their eyes — they are visionary — [37:48]

اپنی  نگاہوں کو محدود/سمٹائے اورآنکھوں کی چمک کو ماند رکھنے والی  خواتین    ان کی بیویاں ہیں جوان کے نواح میں  شریک محفل ہیں۔وہ صاحبات چشم و بصیرت ہیں۔

Root: ط ر ف; ق ص ر  

كَأَنَّـهُنَّ بَيْضٚ مَّكْنُونٚ ٤٩

  • Like as if they were pearls protected in shells. [37:49]

ان کی آنکھوں کی مماثلت ایسے جیسے سیپ میں محفوظ موتی ہوں۔

فَأَقْبَلَ بَعْضُهُـمْ عَلَـىٰ بَعْضٛ يَتَسَآءَلُونَ ٥٠

  • Thereat, some of them turned confronting others face to face talking to each other. [37:50]

اور ان میں بعض دوسروں کے متقابل ہوئے؛وہ ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے۔

قَالَ قَآئِلٚ مِّنْـهُـمْ إِ نِّـى كَانَ لِـى قَرِينٚ ٥١

  • One of the participants of conversation said, "I used to have a companion — [37:51]

گفتگو میں شریک  ایک شخص نے کہا، "میرے پاس ایک  قریبی دوست تھا —

Root: ق ر ن

يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِيـنَ ٥٢

  • Who used to say, "Are you one of those who affirm it truthful — [37:52]

وہ پوچھتا رہتا تھا،"'کیاتم بھی ان لوگوں میں ہو جو تصدیق کرتے ہیں ؟

أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابٙا وَعِظَٟمٙا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ ٥٣

  • "Is it that when we would have become dust and bones then will we certainly be brought to justice?" [37:53]

کیا جب ہم مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہو جائیں گے تو کیا ہم واقعی  سزا کے لئےعدالت میں لائے جائیں گے؟"

قَالَ هَلْ أَنتُـم مُّطَّلِعُونَ ٥٤

  • He/an Angel said, "Would you people like to watch and find him? [37:54]

ایک فرشتہ نے کہا، "کیا تم لوگ دیکھنا اور اس کے  انجام بارے مطلع ہونا چاہتے ہو؟"

فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِـى سَوَآءِ ٱلْجَحِـيـمِ ٥٥

  • [on positive response arrangements were made, say video conference] Thereat, he watched, whereupon he saw him in the midst of Hell-Prison — [37:55]

مثبت جواب پر انتظام کیا گیا،(ہ ویڈیو کانفرنس کی طرح)جس پر اس کے انجام سے بخوبی مطلع ہو گیا کیونکہ  اس  نے اسے جہنم کے بیچوں بیچ قید میں  دیکھا —

Root: ج ح م

قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُـرْدِينِ ٥٦

  • He said, "I swear by Allah the Exalted that you had almost caused/decided my ruin — [37:56]

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّـى لَـكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ ٥٧

  • And had there been not the Grace of my Sustainer Lord I would certainly have been one of them who are forced into Hell-prison. [37:57]

 اور اگر میرے پروردگار کی رحمت نہ ہوتی تو میں بھی  یقینا ان میں سے ہوتا جو جہنم کی قید میں ہیں۔

Root: ح ض ر

أَفَمَا نَـحْنُ بِمَيِّتِيـنَ ٥٨
إِلَّا مَوْتَتَنَا
ٱلْأُولَـىٰ  وَمَا نَـحْنُ بِمُعَذَّبِيـنَ ٥٩

  • Is it not true that now we will certainly not die — [37:58]

  • Except our one first death [People destined for Paradise have only one death, while people died in normal circumstances, destined for Hell, said they earlier faced death twice, second life was for Grave punishment-40:11] —
    And we will certainly not be punished — [37:59]

 کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اب ہم یقینا نہیں مریں گے —
سوائے ہماری پہلی موت کے؟[لوگ جو جنت کی طرف لکھے گئے، ان کے لئے صرف ایک موت ہے، جبکہ لوگ جو دوسری موت کے لئے لکھے گئے، انہیں پہلے موت کا سامنا ہوا تھا، پھر قبر کی سزا کے لئے دوسرا]
 اور ہم یقینا سزا نہیں دیے جائیں گے —

إِنَّ هَـٰذَا لَـهُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ٦٠

  • Indeed this is certainly that which is the greatest/grand achievement/success". [37:60]

یہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

Root: ف و ز

لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَٟمِلُونَ ٦١

  • Having known the upshot of two different characters, thereat, the people who are now active should conduct like the achievers of best award. [37:61]

جب دو مختلف کرداروں کا انجام معلوم ہو گیا، تو اب جو لوگ سرگرم  عمل ہیں انہیں بہترین انعام کے حاصل کرنے والوں کی طرح عمل کرنا چاہیے۔

أَذَٟلِكَ خَيْـرٚ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ ٦٢
إِنَّا جَعَلْنَٟهَا فِتْنَةٙ لِّلظَّٟلِمِيـنَ ٦٣
إِنَّـهَا شَجَرَةٚ تَخْرُجُ فِـىٓ أَصْلِ ٱلْجَحِـيـمِ ٦٤
طَلْعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٟطِيـنِ ٦٥
فَإِنَّـهُـمْ لَءَا كِلُونَ مِنْـهَا فَمَالِـُٔونَ مِنْـهَا ٱلْبُطُونَ ٦٦

ثُـمَّ إِنَّ لَـهُـمْ عَلَيْـهَا لَشَوْبٙا مِّنْ حَـمِيـمٛ ٦٧
ثُـمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُـمْ لَإِلَـى ٱلْجَحِـيـمِ ٦٨

  • Is that a better hospitality-reception [before settling in Paradise] or the Tree of Az-Zaquem? [37:62]
    Indeed Our Majesty have rendered that Tree as irritating trouble for the wrongdoers. [37:63]
    Truly it (Az-Zaquem) is a female tree that emerges from the very base of Hell-Prison. [37:64]
    Its spathe-cluster appear as though they were the heads—hoods of Cobras —. [37:65]
    Since no other food shall be served, therefore, they will surely be the eaters of the meal made from it (tree of species Zaquem). Thereby, to satiate hunger they will be filling the bellies with that. [37:66]
    Then, upon meal a mixed drink of hot water [difficult to drink even by sip] shall be served for them. [37:67]
    Thereafter, this reception "hospitality",  their ultimate return is indeed to the Hell-Prison. [37:68]

کیا یہ مہمان نوازی [جنت میں بسنے سے پہلے]بہتر ہے یا درخت از زقوم کے ساتھ مہمان نوازی؟
بیشک، ہم نے اس درخت کو ظالم، بدکرداروں کے لیے اذیت ناک  شرم سے پانی پانی ہونے والا عذاب بنایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ (از زقوم) ایک مادہ درخت ہے۔ یہ جہنم کی گہرائیوں سے اگتی ہے۔
اس کے پھل دار خوشے ایسے ہیں جیسے وہ کوبرا سانپوں کے سر یا ان کے پھنیئر ہوں۔
پھر وہ یقیناً اس کے حصے سے بنے کھانے کے کھانے والے ہوں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے پیٹ اس سے بھر لیں گے (کہ کچھ اور میسر نہیں ہو گا)۔
 اس کے بعد ان کے لیے اس کھانے پر یقیناً کھولتے پانی کی آمیزش کا مشروب ہوگا [جو ایک  گھونٹ گھونٹ لینا بھی مشکل ہوگا]۔
اس کے بعد یہ "مہمان نوازی"، یقیناً ان کا آخری ٹھکانہ جہنم کی قید ہوگی۔ (الصافات۔
٦٨)

Root: ش ج ر؛  ر ء س;  ط ل ع؛  م ل ء

إِنَّـهُـمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُـمْ ضَآلِّيـنَ ٦٩

  • It is certain that they in their hearts have found their forefathers in a state of deviation from reality— [37:69]

یقیناً انہوں نے اپنے  قلوب میں اپنے آباء و اجداد کوحقیقت سے منحرف ہو کر گم کردہ راہ   کی حالت میں پایا تھا۔

فَهُـمْ عَلَـىٰٓ ءَاثَـٟرِهِـمْ يُـهْرَعُونَ ٧٠

  • Since believing it to be a means of preserving their dominance and personal interests they rush to follow their footsteps - left over affects and legends. [37:70]

چونکہ انہیں بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح ذاتی مفادات زیادہ عزیز ہیں  اس لئے یہ  ان کے چھوڑے نقوش پر چلنے کو اپنے رعب و دبدبہ برقرار رکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

Root: ھ ر ع;  ء ث ر

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَـهُـمْ أَكْثَرُ  ٱلْأَوَّلِيـنَ٧١

  • And it is a fact that most of earlier people before them went stray in their manifest destructive end of neglectfulness— [37:71]

اور یہ حقیقت ہے کہ ان سے پہلے کے اکثر لوگ اپنی ظاہر و عیاں غفلت کے تباہ کن انجام میں گم کردہ راہ ہو گئے تھے—

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيـهِـم مُّنذِرِينَ ٧٢

  • And certainly Our Majesty had sent within them the Admonishers/Awakeners/Revivalists. [37:72]

    اور یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ان کے مابین باطل راہ پر چلنے کے دردناک نتائج و عواقب سے انتباہ کرنے والے بھیجے تھے۔

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ ٧٣

  • Therefore, [to take a lesson, you the Messenger tell everyone to travel in land and] "you see how was the conclusion/end result of those who were duly admonished and awakened?" [37:73]

چونکہ مجرمین کو سزا دینے کا اصول طے شدہ ہے اس لئے آپ(ﷺ) اپنے احساس غم کو کم کرتے کے لئے)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں متنبہ کئے گئے لوگوں کا اخر کار انجام کیا ہوا تھا۔

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ٧٤

  • But this principle of justice "requital equivalent to act done" will not apply upon the sincere servants/allegiants of Allah the Exalted. They will be awarded much greater they expected— [37:74]

لیکن یہ اصولِ عدل کہ "جیسا کرو گے، ویسا ہی بدلہ پاؤ گے"اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ انہیں توقع اور ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر عظیم اجر سے نوازا جائے گا—

Root: خ ل ص


وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٚ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ ٧٥

  • And of course Noah [alai'his'slaam] had called Our Majesty, thereat, Our Majesty are undoubtedly the best Responder—(read with 21:76) [37:75]

قدیم تاریخ سے مطلع  ہو جاؤ؛ نوح(علیہ السلام)کے متعلق بتائیں؛جب انہوں نے  مدد کے لئےپکارا۔چونکہ ہم اپنے رسولوں کے لئے ہمہ تن گوش ہیں ہم نے ان کی استدعا کو پذیرائی دی ۔

وَنَجَّيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْـكَـرْبِ ٱلْعَظِيـمِ ٧٦

  • And Our Majesty rescued him and his household from great distress. [37:76]

انتظامات مکمل ہو جانے پر ہم جناب نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کواس شدید کرب سے نجات دلائی جو وہ قوم کی ناگوار روش سے محسوس کر رہے تھے۔

Root: ك ر ب

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُـمُ ٱلْبَاقِيـنَ ٧٧

  • And Our Majesty rendered his posterity [to rule land]; they are the survivors. [37:77]

اور ہم جناب نے ان کی ذریت کو زمان میں برقرار رکھا ہے۔

Root: ذ ر ر; ب ق ى

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ٧٨

  • And Our Majesty left for him [his memories] in the later generations. [37:78]

اور ہم جناب نے ان  کے پانی کے ذخائر میں سفر سکھانے کے لئے کشتی بنانے کو بعد کے لوگوں میں ان کے جذبہ اخلاص کی یادگار کے طور برقرار رکھا۔

سَلَٟمٌ عَلَـىٰ نُوحٛ فِـى ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٧٩

  • Salutation is upon Noah [alai'his'slaam] in the Worlds. [37:79]

نوح (علیہ السلام)پر سلامتی ہے،انہیں سلام کہنا مسلمانوںپر واجب ہے(ان کے جد امجد ہیں)۔

إِنَّا كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٨٠

  • Indeed in this way Our Majesty reward those who conduct moderately, gracefully and generously. [37:80]

مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٨١

  • It is certain that he was distinction holder in truly believing allegiants of Our Majesty. [37:81]

ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے صدق قلب سے ایمان پر ہمیشہ قائم رہنے والوں  بندوں میں ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔

ثُـمَّ أَغْـرَقْنَا ٱلۡءَاخَرِينَ ٨٢

  • Afterwards, Our Majesty drowned the remaining ones. [37:82]

بعد ازاں ہم جناب نے  دوسروں کو غرق کر دیا۔

Root: غ ر ق


وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٟهِيـمَ ٨٣

  • Certainly Iebra'heim [alai'his'slaam] is indeed one of his [Noah alai'his'slaam] party/class of people — [37:83]

یقیناً ابراہیم (علیہ السلام)ان (نوح علیہ السلام)کے گروہ/طبقے سے تعلق رکھنے والوں میں سے ہیں—

Root: ش ى ع

إِذْ جَآءَ رَبَّهُۥ بِقَلْبٛ سَلِيـمٍ ٨٤

  • When he came to his Sustainer Lord with a submissive heart — [37:84]

 یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ اپنے رب کے حضور دل کی مکمل فرمانبرداری کے ساتھ حاضر ہوئے—

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَاذَا تَعْبُدُونَ ٨٥
أَئِفْكًا ءَالِـهَةٙ دُونَ ٱللَّهِ تُرِيدُونَ ٨٦
فَمَا ظَنُّكُـم بِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٨٧
فَنَظَرَ نَظْرَةٙ فِـى ٱلنُّجُومِ ٨٨
فَقَالَ إِنِّـى سَقِيـمٌۭ٨٩
فَتَوَلَّوْا۟ عَنْهُ مُدْبِرِينَ ٩٠

  • When he raised a question to awaken and shake the consciousness of his uncle-father and his people, saying: "What is it, in reality, that you devotedly owe and demonstrate allegiance and servitude?” [37:85] (Replica 26:70)

  • Are you engaged in this desire and persistent striving to have other beings, besides Allah Almighty, accepted as deities as well — by continuously repeating a lie that alters the very direction of reality? [37:86]

  • Since this is in fact exactly what you are doing, then what, ultimately, is your assumption regarding the Sustainer Lord of all realms?” [37:87]

  • Because they restrained answering, therefore, to show them he is waiting, and to hint upon their empty thoughts, he glanced, like a casual look into the stars.  [37:88]

  • Having waited a little more and finding them unresponsive, then he said, "I have become weary and inwardly disturbed by your heedless silence." [37:89]

  • So, upon hearing that sharp and unsettling remark — while still hesitant to answer his question — they abruptly recoiled and turned away from him, departing with their backs turned, without observing even the ordinary courtesies due when leaving a host. [37:90]

جب انہوں نے اپنے چچاابو اور اس کی قوم کے  شعور کو جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کے لئےسوال اٹھایا تھا"وہ  حقیقت میں کیا ہے جس کی آپ لوگ بندگی کرتے ہیں؟"۔
کیا آپ لوگ اس خواہش اور مسلسل تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسری ہستیوں کو بھی معبود منوا لیا جائے، حقیقت کی جہت بدل دینے والا جھوٹ مسلسل بول بول کر؟
چونکہ آپ حقیقت میں یہی کچھ کر رہے ہیں، تو پھر ربّ العالمین کے بارے میں آپ کا گمان آخر کیا ہے؟"

انہیں دانستہ خاموش اور ایسے جیسے خلا میں ہوں پا کر،انہوں نے اوپر نظر ڈالی، سرسری انداز میں ستاروں میں نظر گھمانے کے۔
مگر اس خاموش رابطے کے باوجود وہ دانستہ  جواب دینے  سے اجتناب کر رہے تھے تو انہوں نے  برہمی سےکہا:میں آپ کی اس مردہ خاموشی، فکری جمود، اور شعوری بے حسی سے اندر سے اکتا اور بیزار ہو چکا ہوں"۔
تو جب انہوں نے وہ تیز اور اضطراب پیدا کرنے والی بات سنی — اور اس کے سوال کا جواب دینے میں  مضمر خطرہ جانتے تھے — تو اچانک ان سے   رخ موڑ لیا، اور رخصت ہونے کے معمول کے آداب  ملحوظ  رکھے بغیر پیٹھ پھیر کر وہاں سے چلے گئے،

Root: ء ف ك;  ن ج م

فَرَاغَ إِلَـىٰٓ ءَالِـهَتِـهِـمْ فَقَالَ أَ لَا تَأْكُلُونَ ٩١
مَا لَـكُـمْ لَا تَنطِقُونَ ٩٢
فَرَاغَ عَلَيْـهِـمْ ضَرۡبَۢا  بِٱلْيَـمِيـنِ ٩٣

  • Thereafter, he went to the temple of their various deities [to execute his plan he had hinted to them-21:57]. With a view to make it an observed fact, he  finding eatables by their side, said to statues, "Do you eat them not—[37:91]

  • What is hindrance for you not to answer, you are not speaking to answer". [37:92]

  • Having attained first hand knowledge, he stepped over the platform, enabling him to strike and push them to fall down with the right hand (falling from platform it were broken). (Cf. 21:58) [37:93]

چونکہ ان کے چلے جانے کے بعد  انہوں نے  اپنی ترکیب اور اپنے اعلان  کو عملی جامہ  پہنانا تھا  اس لئے نرم مگر  سمت بدل بدل کرحکمت  آمیز  اندازمیں  چلتے ہوئے ان کے معبودوں کے مندر پہنچ گئے۔
چونکہ ان کے سچائی کے پیمانے حقیقی ا ور مشاہداتی  علم پر مبنی تھے اس لئے وہاں کھانے پینے کی اشیاء دیکھ کربتوں سےکہا"تم  یہ پیش ہوئے کھانے کیوں نہیں  کھارہے۔
کیا پابندی ہے تمہارے لئے جواب دینے میں، تم بول نہیں رہے"۔
چونکہ مطلوبہ مشاہدہ ہو گیا تھا اس  لئے ان کےنزدیک  سٹیج پرچڑھ گئے،وہ دائیں ہاتھ  سے  دھکیل کر انہیں  نیچے گرانے لگے۔وہ گرنے سے  ٹوٹے ٹکڑے  ہو گئے۔

Root: ن ط ق; ض ر ب

فَأَقْبَلُوٓا۟ إِلَيْهِ يَزِفُّونَ ٩٤
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ٩٥
وَٱللَّهُ خَلَقَكُـمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ٩٦

  • Therefore, [having been asked by the clergymen to bring him-21:59-61] they turned toward him face to face, they were in haste. [37:94]

  • He [Iebra'heim alai'his'slaam] asked them [on way to their temple], "Do you people worship/exhibit allegiance to what you people sculpt? [37:95]

  • While Allah the Exalted has created you people and that on which you people do creative work [sculpting]" [37:96]

پجاریوں کے حکم دینے پر وہ نوجوان ان کے پاس آئے،وہ مندر میں  جلدی جانے کا کہہ رہے تھے۔
انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے مندر کی جانب جاتے ہوئے ان لڑکوں سے پوچھا"کیا تم ان کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تخلیق کیا ہے اور ان (پتھروں)کو بھی جن پر تم تراشنے کا تعمیری عمل کرتے ہو"۔ 

Root: ز ف ف؛ ن ح ت

قَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ لَهُۥ بُنْيَٟنٙا فَأَلْقُوهُ فِـى ٱلْجَحِـيـمِ ٩٧
فَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدٙا فَجَعَلْنَٟهُـمُ ٱلْأَسْفَلِيـنَ٩٨
وَقَالَ إِنِّـى ذَاهِبٌ إِلَـىٰ رَبِّـى سَيَـهْدِينِ ٩٩

  • They the priests advised the ruling elite, saying "Make a furnace for turning him into ashes. After completing arrangements cast him in the blazing fire." [37:97]

  • Since they felt extremely humiliated they in fact intended a heinous plan by this act of turning him into ashes. But to keep Our promise to maintain his reputation of utmost truthfulness and ever sincere monotheist, Our Majesty by frustrating their dirty plan rendered them as the greatest losers in public eye.

انہوں(پچاریوں)نے مقتدر اشرافیہ  کو مشورہ دیتے ہوئے کہا"اس  کو بھسم کر کے راکھ بنا دینے کے  ایک الاؤ تعمیر کرو۔انتظامات مکمل ہو جانے پر اسے   شدید درجہ حرارت والی دہکتی آگ میں پھینک دو"۔
چونکہ پجاریوں نے اپنی ذلت کا بدلہ لینا تھا اس لئے درحقیقت، انہیں خاکستر کر ڈالنے میں  ابراہیم(علیہ السلام) کے خلاف ایک نہایت گھناؤنے منصوبے کا ارادہ کیا تھا؛ کیونکہ وہ ان کی سچائی حنیف کی شہرت  کو مٹا دینا چاہتے تھے۔ مگر ہمارا ان سے وعدہ تھا کہ ان کے صدق و اخلاص کی شہرت کو دوام حاصل رہے گا۔ چنانچہ ہم نے ان کے گندے خیالات پر مبنی فریب کو ناکارہ بنا دیا اور انہیں لوگوں کی نگاہوں میں بدترین خسارہ اٹھانے والے بنا دیا۔
اور انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"میں اپنے رب کے مشن کی تکمیل کے لئے یہاں سے جا رہا ہوں۔وہ جناب مجھے ہدایت دیتے رہیں گے"(روانگی کی اطلاع کے لئے سورۃ مریم۔٤٦ اور العنکبوت۔٢٦بھی دیکھیں)(الصافات۔٩٩)

Root: س ف ل; ك ى د


رَبِّ هَبْ لِـى مِنَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٠٠

  • After having migrated he prayed: "O my Sustainer Lord! Do grant me a son that be one of the righteous." [37:100]

ہجرت کے بعد ابراہیم(علیہ السلام)نے دعا مانگی"میرے رب!آپ ایک بیٹا عنایت فرمائیں۔ایسا بیٹا جو صالح کردار کا حامل  میرے لئے باعث فخر ہو(مفعول اور صفت مفعول حذوف ہے)۔

Root: و ھ ب

فَبَشَّـرْنَٟهُ بِغُلَٟمٍٛ حَلِيـمٛ ١٠١

  • In response to his prayer, Our Majesty delighted him with news of an intelligent, enduring and forbearing son. [37:101]

(چونکہ طے شدہ امر تھا)اس لئے ان (ابراہیم علیہ السلام)کی دعا کو شرف قبولیت دیتے ہوئے ہم جناب نے انہیں مبارکباد دی  ایک بردبار بیٹا پیدا ہونے کی۔

Root: ح ل م;  غ ل م

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ
يٰبُنَىَّ إِنِّـىٓ أَرَىٰ فِـى ٱلْمَنَامِ أَنِّـىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ مَاذَا تَرَىٰۚ
قَالَ يَٟٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤمَرُۖ
سَتَجِدُنِـىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٟبـِـرِينَ ١٠٢

  • Thereby, when he (son) had crossed over to the age of exerting effort, formally operational along with him; he (Iebra'heim alai'his'slaam) said —
    "O My dear child, it is a fact that I am regularly seeing during sleep that I am about to slaughter you. Therefore, you look into it, what you perceive about it?"
    He replied: "O my father, act upon that which is being commanded to you. At that time you will persistently find me, Allah the Exalted so wills, in the state of the coolly perseverant".
    [37:102]

 اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ انہیں بیٹا اسماعل(علیہ السلام)عطا فرما دیا۔جب وہ  ان کے ساتھ عملی تگ و دو کرنے کے عمر میں پہنچا تو انہوں (ابراہیم علیہ السلام)نے اس سے کہا:
"اے میرے پیارے بیٹے!واقعہ یہ ہے کہ میں ہر نیند کے دوران دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرنے لگا ہوں۔چونکہ ایسا تواتر سے ہو رہا ہے اس لئے تو بتا  کہ کیا ہے وہ جو تو اس سے سمجھتا ہے"۔
اس (اسماعیل علیہ السلام)نے کہا"ابا جان!آپ وہ فعل کر گزریں جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے چاہا توآپ اس وقت تسلسل سے  مجھے استقامت،استقلال،ضبط و برداشت سے حقیقت پر کاربند رہنے والوں میں پائیں گے"۔

Root: س ع ى; ذ ب ح; ن و م

فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِيـنِ ١٠٣

  • Thereat, when they both had submitted to the command; and when he had laid him down on side of the temple [the part of each side of the head between the eye and the ear] — [37:103]

اس طرح جب دونوں نے اس بات کو حکم تصور کر لیا اور انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے اسے ماتھے کے بل زمین پر لٹا دیا تھا۔

وَنَٟدَيْنَٟهُ أَن يَٟٓإِبْرَٟهِيـمُ ١٠٤
قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّؤْيَآۚ
إِنَّا كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١٠٥

  • But before he proceeded further, Our Majesty did loudly call him saying: "Hold on O Iebra'heim [alai'his'slaam] — [37:104]

  • You have already fulfilled and truthfully acted upon the dream."
    [by stopping you at the nick of time] Indeed in this way Our Majesty reward those who conduct moderately, gracefully and generously [37:105]
     

مگر اس سے قبل کے وہ گلے پر چھری چلا دیں، ہم نے فوری پکارا تھا کہ"اے ابراہیم:
آپ یقیناً اس خواب کو سچ کر کے دکھا چکے  ہیں (جتنا دیکھا تھا)"
مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

إِنَّ هَـٰذَا لَـهُوَ ٱلْبَلَٟٓؤُا۟ ٱلْمُبِيـنُ ١٠٦

  • This was certainly the Manifest Trial [for exposure of your absolute sincerity]" [37:106]

یہ حقیقت ہے کہ  بلا مبالغہ یہ ایک  کڑی آزمائش تھی جس کا مقصد ان  کے اخلاص اور بجا طور پر دوست بنائے جانے کے قابل ہونے کو دنیا پر عیاں کرنا تھا۔

وَفَدَيْنَٟهُ بِذِبْحٍٛ عَظِيـمٛ ١٠٧

  • And Our Majesty redeemed him of his determined resolve by sacrificing instead a male mammal, characteristically great in bone: not juvenile but adult— [37:107]

اگرچہ جتنا خواب دیکھا تھا اتنا سچ کر دکھایا تھا مگر قربانی کا عزم بھی کر بیٹھے تھے اس لئے ہم جناب نے انہیں ایک مذکر چوپائے کی قربانی سے بری الذمہ کر دیا،چوپایہ جو کمسن نہیں مکمل بالغ تھا۔

Root: ف د ى; : ذ ب ح

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ١٠٨

  • And Our Majesty left this mammal sacrifice as honour of commemoration upon those in the later generations. [37:108]

اور ہم جناب نے اس قربانی(مذکر بالغ چوپائے کو ذبح کرنا)کو بعد کے لوگوں میں ان کے جذبہ اخلاص کی یادگار کے طور برقرار رکھا۔

سَلَٟمٌ عَلَـىٰٓ إِبْرَٟهِيـمَ ١٠٩

  • Salutation is upon Iebra'heim [alai'his'slaam] [37:109]

ابراہیم (علیہ السلام)پر سلامتی ہے،انہیں سلام کہنا مسلمانوںپر واجب ہے(ان کے جد امجد ہیں)۔

كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١١٠

  • In this way Our Majesty reward those who conduct moderately, gracefully and generously. [37:110]

مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١١١

  • It is certain that he was distinction holder in truly believing allegiants of Our Majesty. [37:111]

ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے صدق قلب سے ایمان پر ہمیشہ قائم رہنے والوں  بندوں میں ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔

وَبَشَّـرْنَٟهُ بِإِسْحَٟقَ نَبِيّٙا مِّنَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ ١١٢

  • And Our Majesty delighted him with the news of Ies'hauq [alai'his'slaam] to be born as Elevated and Chosen Allegiant, one of the distinguished Perfectionists. [37:112]

اور ہم جناب نے انہیں (ابراہیم علیہ السلام)بیٹے اسحاق کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی۔اور یہ کہ وہ بحثیت نبی پیدا ہوں گے اور صالحین کی جماعت میں عالی مرتبت اور ممتاز ہوں گے۔

وَبَٟرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَـىٰٓ إِسْحَٟقَۚ
وَمِن ذُرِّيَّتِـهِـمَا مُحْسِنٚ وَظَالِمٚ لِّنَفْسِهِۦ مُبِيـنٚ ١١٣

  • And Our Majesty did shower Grace upon him and upon Ies'hauq [alai'his'slaam] —
    However, the fact remains that in the progeny of both of them there is one who evidently conducts moderately, gracefully and generously and the other who is manifestly unjust evil for his own self. [37:113]

اور ہم جناب نے نوازشات کو ان پر اور اسحاق (علیہ السلام)پر نچھاور کیا۔
تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ان دونوں کی ذریت میں ایک وہ ہے جو حسن سلوک  و عمل پر کاربند ہے اور ایک وہ ہے جو صریحاً خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے حقیقت کے منافی باطل طرز فکر و عمل کا پیروکار بن کر۔

Root: ب ر ك; ذ ر ر


وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَـىٰ مُوسَـىٰ وَهَٟرُونَ ١١٤

  • Keep proceeding in knowing history; indeed Our Majesty had done obliging favour upon Mūsā and Ha'roon [alai'him'slaam] — [37:114]

تاریخ کے مطالعے میں آگے بڑھتے رہو؛ یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون [علیہما السلام] پر احسان فرمایا تھا—

وَنَجَّيْنَٟهُـمَا وَقَوْمَهُـمَا مِنَ ٱلْـكَـرْبِ ٱلْعَظِيـمِ ١١٥

  • And Our Majesty rescued both and the nation of both of them from great distress — [37:115]

اورہم جناب نے ان دونوں  اور ان  کی قوم  کواس شدید کرب سے نجات دلائی جو وہ  فرعون  اور اس کے حواریوں  کی ناگوار روش سے محسوس کر رہے تھے۔

وَنَصَـرْنَٟهُـمْ فَكَانُوا۟ هُـمُ ٱلْغَٟلِبِيـنَ ١١٦

  • And Our Majesty helped them whereat they were the people who were in authoritative position. [37:116]

اور ہم نے ان دونوں کی مدد فرمائی، نتیجتاً وہ لوگ بااختیار اور غالب ہو گئے۔

Root: غ ل ب

وَءَاتَيْنَـٟـهُمَا ٱلْـكِـتَٟبَ ٱلْمُسْتَبِيـنَ ١١٧

  • And Our Majesty gave to both of them the Book [duly written down on tablets-7:145], peculiar characteristic of which was its containing in itself every matter in distinct and separate/isolated manner. [37:117]

 اور ہم نے ان دونوں کوتحریر کردہ کتاب کو عنایت فرمایا تھا [جو تختیوں پر کندہ تھی-7:145]، جس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہر بات واضح اور الگ انداز میں بیان کی گئی تھی۔

وَهَدَيْنَٟهُـمَا ٱلصِّرَٟطَ ٱلْمُسْتَقِيـمَ ١١٨

  • And Our Majesty guided both of them while journeying upon the High Road that keeps leading safely and straight to the destination of peace and tranquillity. [37:118]

اور ہم جناب نے ان دونوں (موسیٰ اور ھارون علیہما السلام)کو منزل کی جانب رواں راستے پر گامزن  حالت میں رہنمائی سے مستفید فرمایا۔

Root: ص ر ط

وَتَرَكْنَا عَلَيْـهِمَا فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ١١٩

  • And Our Majesty left for both [their memories and mention] in the later generations. [37:119]

اور ہم جناب نے ان  کے ذریعے فرعون کو نشان عبرت بنا دینے  والے کے طور بعد کے لوگوں میں ان کے جذبہ اخلاص کی یادگار کے کے لئےذکربرقرار رکھا۔

سَلَٟمٌ عَلَـىٰ مُوسَـىٰ وَهَٟرُونَ ١٢٠

  • Salutation is upon Mūsā and Ha'roon [alai'him'slaam]. [37:120]

موسیٰ (علیہ السلام)اور ھارون (علیہ السلام)پر سلامتی ہے،انہیں سلام کہنا مسلمانوںپر واجب ہے(ان کے جد امجد ہیں)۔

إِنَّا كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١٢١

  • Indeed in this way Our Majesty reward those who conduct moderately, gracefully and generously. [37:121]

مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

إِنَّـهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٢٢

  • It is certain that both were distinction holder in truly believing allegiants of Our Majesty. [37:122]

ان  دونوں کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے صدق قلب سے ایمان پر ہمیشہ قائم رہنے والوں  بندوں میں ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔


وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٢٣

  • Know the history; Il'yaas [alai'his'slaam] was performing assignment as one of the sent Messengers — [37:123]

مطلع رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ الیاس (علیہ السلام)مبعوث فرمائے رسولوں کی طرح  اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے۔

إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَ لَا تَتَّقُونَ ١٢٤

  • When he [Il'yaas alai'his'slaam] said to his nation "Would you people not protect yourselves? [37:124]

جب انہوں (الیاس علیہ السلام)نے اپنی قوم کو ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

أَتَدْعُونَ بَعْلٙا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَٟلِقِيـنَ ١٢٥

  • Do you people call "Ba'alan", a creation of someone, while you people leave/renounce allegiance to the the Best of creators? — [37:125]

کیا تم لوگ بعل کو پکارتے رہتے ہو  جوکسی کا تخلیق کردہ ہے اس حال میں کہ  تخلیق کاروں میں، موجودات کو بہترین انداز میں تخلیق کرنے والے کو نظر انداز کرتے ہو۔

Root: و ذ ر

ٱللَّهَ رَبَّكُـمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُـمُ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٢٦

  • (The Best Creator is) Allah the Exalted, the Sustainer Lord of you people and the Sustainer Lord of your earlier forefathers." [37:126]

وہ بہترین خالق اللہ تعالیٰ ہیں؛ تم لوگوں کے پروردگار،اور تمہارے اولین آباؤ اجداد کے رب"۔

فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّـهُـمْ لَمُحْضَرُونَ ١٢٧

  • Thereby, they contradicted him, in consequence indeed they will be forced to Hell-prison [37:127]

چونکہ ان پر مفادات  اور لوگوں پر تسلط رکھنے  کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے ان کے فرمودات کو برملا جھٹلا دیا۔چونکہ انہیں عواقب سے متنبہ کر دیا گیا تھااس لئے یہ حقیقت ہے کہ انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

Root: ح ض ر

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ١٢٨

  • But this principle of justice "requital equivalent to act done" will not apply upon the sincere servants/allegiants of Allah the Exalted. They will be awarded much greater they expected— [37:128]

لیکن یہ اصولِ عدل کہ "جیسا کرو گے، ویسا ہی بدلہ پاؤ گے"اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ انہیں توقع اور ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر عظیم اجر سے نوازا جائے گا—

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ١٢٩

  • And Our Majesty left for him [his memories] in the later generations. [37:129]

اور ہم جناب نے بعد کے لوگوں میں ان کے جذبہ اخلاص کی یادگار کے کے لئےذکربرقرار رکھا۔

سَلَٟمٌ عَلَـىٰٓ إِلْ يَاسِيـنَ ١٣٠

  • Salutation is upon Il'Yaseen [alai'his'slaam]. [37:130]

ال یاسین (الیاس علیہ السلام)پر سلامتی ہے،انہیں سلام کہنا مسلمانوںپر واجب ہے۔

إِنَّا كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١٣١

  • Indeed in this way Our Majesty reward those who conduct moderately, gracefully and generously. [37:131]

مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٣٢

  • It is certain that he was distinction holder in truly believing allegiants of Our Majesty. [37:132]

ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے صدق قلب سے ایمان پر ہمیشہ قائم رہنے والوں  بندوں میں ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔


وَإِنَّ لُوطٙا لَّمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٣٣

  • And it is the fact that Luet [alai'his'slaam] was performing assignment as one of the sent Messengers — [37:133]

مطلع رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ لوط(علیہ السلام)مبعوث فرمائے رسولوں کی طرح  اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے

إِذْ نَجَّيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْـمَعِيـنَ ١٣٤

  • [by migration before time and in discharge of Our promise-10:103] When Our Majesty saved/escaped him [Lut alai'his'slaam] and his household; all collectively— [37:134]

جب ہم جناب نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نجات دلا دی،اجتماعی طور پر۔

إِلَّا عَجُوزٙا فِـى ٱلْغَٟبِـرِينَ ١٣٥

  • Except an old woman [his wife], she was from amongst those who stayed behind. [37:135]

سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت بھی  ایمان لانے سے گریزاں حال میں تھی۔

Root: ع ج ز; Root: غ ب ر

ثُـمَّ دَمَّرْنَا ٱلۡءَاخَرِينَ ١٣٦

  • Afterwards, [migration before time and rescuing them in discharge of Our promise-10:103] Our Majesty destroyed the others. [37:136]

بعد ازاں ہم جناب نے شہر کے دوسرے باسیوں کو کچل دیا۔

Root: د م ر

وَإِنَّكُـمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْـهِـم مُّصْبِحِيـنَ ١٣٧
وَبِٱلَّيلِۖ
أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٣٨

  • And indeed, you surely pass by their ruins in the morning—(being on a frequented route: Cf. 15:36) [37:137]

  • And by night as well—Will you not, then, use your intellect to process the lessons written in the landscape? (Cf. 2:44; 2:76; 3:65; 6:32; 7:169; 10:16; 11:51; 12:109; 21:10; 21:67; 23:80; 28:60; 37:138=13) [37:138]

اور حقیقت یہ ہے کہ تم اپنے سفر کے دوران صبح کے وقت ان پر سے گزرتے ہو ۔
ور جب رات کو محو سفر ہوتے ہو۔
تو کیا تم اپنی عقل و بصیرت کو کام میں نہیں لاتے کہ اس جغرافیائی منظرنامے پر ثبت عبرت کے ان اسباق کا فہم حاصل کر سکو؟

Root: م ر ر; ع ق ل


وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٣٩
إِذْ أَبَقَ إِلَـى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ١٤٠
فَسَاهَـمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِيـنَ ٤١
فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيـمٚ ١٤٢
فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِيـنَ ١٤٣
لَلَبِثَ فِـى بَطْنِهِۦٓ إِلَـىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ١٤٤
فَنَبَذْنَٟهُ بِٱلْعَـرَآءِ وَهُوَ سَقِيـمٚ ١٤٥
وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةٙ مِّن يَقْطِيـنٛ ١٤٦
وَأَرْسَلْنَٟهُ إِلَـىٰ مِا۟ىَٔـةِ أَلْفٍٛ أَوْ يَزِيدُونَ ١٤٧
فَــَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَٟهُـمْ إِلَـىٰ حِيـنٛ ١٤٨

  • Know the fact; Yunus [alai'his'slaam] was performing assignment as one of the sent Messengers — [37:139]

  • When on assessing complete unresponsiveness he abandoned-absconded-ran; after walking away from his nation in the state-grip of heightened feeling of anger-heavy heartedness, towards the already embarked-Laden Ship, ready to sail. [37:140]

  • Thereby, because of heightened feeling of anger and running he became weak-dehydrated-haggard. Resultantly, he was in the state of slipped ones/loosing hold of feet falling into the sea. [37:141]

  • Thereat, for reason of having slipped and fallen in Sea, certain yping male Whale made effort and swallowed him whole, while he was in sluggish state awaiting and expecting help for rescue. [37:142]

  • Thereby, had he not been of those who repetitively praise the glory of Allah the Exalted: [37:143]

  • Certainly he would have remained part/in his belly [as fossil] until the Day people will be resurrected/revived. [37:144]

  • In response to his repetitive praises and awaiting help for rescue, Our Majesty caused him thrown on the open shore, while he was feeling tired and anguished [because of jerks and rubbing inside the belly of a swimming whale] — [37:145]

  • Where Our Majesty had grown upon it a tree from species gourd [perhaps its beverage was effective for quick recovery]. [37:146]

  • And Our Majesty sent him to a hundred thousand people (who had become apprehensive of affliction) or they were increasing more — [37:147]

  • Thereat, they believed and Our Majesty granted them the comforts/sustenance for a duration. [37:148]

مطلع رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ یونس(علیہ السلام)مبعوث فرمائے رسولوں کی طرح  اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے۔
جب قوم کی مکمل بے حسی کو جانچ لیا تو وہ انہیں چھوڑ کر، غصے اوربھاری قلبی کیفیت  میں اس  بحری جہاز کی جانب روانہ ہو گئےجو پہلے سے سوا رمسافروں کے ساتھ روانگی کے لئے تیار تھا۔
چونکہ  غصے اور بھاگنے کی شدت کی وجہ سے، وہ کمزور، تھکن زدہ اور نڈھال ہو گئے تھے۔ نتیجتاً، وہ ان لوگوں کی حالت میں تھے جو قدموں کا سہارا کھو بیٹھتے ہیں اور سمندر میں گر جاتے ہیں۔
بندرگاہ پہنچ   کرجلد بازی میں سوار ہونے کی کوشش  کرتے ہوئے   پھسل کر سمندر میں   گر گئے،اس پر ایک نوجوان  نر وہیل مچھلی نے، شکار سمجھ کرانہیں سالم نگل لیا،اس وقت وہ سست  اور کمزورحالت میں تھے، مدد کے انتظار اور توقع میں۔
پھر، اگر وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوتے جو اللہ تعالیٰ کی بار بار تسبیح کرتے ہیں—
تو یقیناً وہ اس  (نروہیل )کے پیٹ میں ہی (ایک فوسل کی طرح)قیامت کے دن تک رہتے۔
ان کی بار بار تسبیح  اور خود سے کئے فیصلے کو جلد بازی ماننے پر ہم جناب نے  انہیں ساحل سمندر کے میدان میں ڈال دیا، اس حال میں کہ وہ تھکے ہوئے اور مضطرب تھے (تیراکی کرتے ہوئے وہیل کے پیٹ کے جھٹکوں اور رگڑ کی وجہ سے)۔
جہاں ہم نے ان پر کدو کی قسم کا ایک درخت اگا دیا  تھا(شاید اس کا رس تیز بحالی کے لیے مؤثر تھا)۔
اور ہم نے انہیں ایک لاکھ لوگوں کی طرف بھیجا (جو ان کے اچانک چلے جانے سےکسی مصیبت کے آنے سے خوفزدہ تھے)یا وہ تعداد میں بڑھ رہے تھے۔
ان کے صحت یاب ہو کر واپس آنے پر وہ لوگ ان پر ایمان لے آئے۔، اور ہم نے انہیں ایک مقررہ مدت تک آرام و آسائش  سے نوازا۔

Root: ف ل ك;ح و ت; ل ق م;  ل و م; ل ب ث;  ع ر ى; ن ب ذ; ش ج ر; ق ط ن; ن ب ت; م ء ى; ء ل ف


فَٱسْتَفْتِـهِـمْ أَلِرَبِّكَ ٱلْبَنَاتُ وَلَـهُـمُ ٱلْبَنُونَ ١٤٩

  • Thereat, you ask them to resolve it for themselves, "Whether for your Sustainer Lord are the daughters and for them are the sons — [37:149]

چونکہ خود بیٹی کو اپنے لئے باعث توہین و ذلت سمجھتے ہیں  اس لئے آپ ان سے دریافت کریں کہ  خود فیصلہ کریں:"کیا آپ (ﷺ)کے پروردگار کے لیے بیٹیاں  مناسب ہیں  اور ان کے لیے بیٹے دلپسند؟"

Root: ف ت ى

أَمْ خَلَقْنَا ٱلْمَلَٟٓئِكَـةَ إِنَٟثٙا وَهُـمْ شَٟهِدُونَ ١٥٠

  • Or that Our Majesty created the Angels feminized while they were witnesses over it!" [37:150]

یا یہ کہ ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا  اس طرح  کہ وہ اس  وقت مشاہدہ کر رہے تھے !"

Root: ء ل ك

أَ لَآ إِنَّـهُـم مِّنْ إِفْكِهِـمْ لَيَقُولُونَ ١٥١

  • There is no doubt that indeed they reiterate their concocted falsities saying — [37:151]

 یقیناً وہ اپنی گھڑی ہوئی جھوٹی بات کو بار بار دہراتے ہیں، کہتے ہیں —

Root: ء ف ك

وَلَـدَ ٱللَّهُ وَإِنَّـهُـمْ لَـكَـٟذِبُونَ ١٥٢

  • "Allah has begotten child." They say it fully knowing in the heart of their heart they are certainly the liars. [37:152]

اللہ  تعالیٰ نے اولاد پیدا کی ہے"۔ اس ذہنی حالت میں کہ خود جانتے ہیں کہ وہ                یقیناًجھوٹ بولنے والے ہیں۔

أَصْطَفَى ٱلْبَنَاتِ عَلَـى ٱلْبَنِيـنَ ١٥٣

  • Has He the Exalted preferred the daughters over the sons? [37:153]

کیا ان جناب  نے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو ترجیح دی ہے؟

Root: ص ف و

مَا لَـكُـمْ كَيْفَ تَحْكُـمُونَ ١٥٤

  • What is for you people relevant how you adjudge. [37:154]

تمہارے لئے کیا جواز  ، دلیل اور ثبوت  مہیا ہے جس  کے استدلال  کے بغیر کیسے تم  لوگوں کو حکم دیتے رہتے ہو ؟

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ١٥٥

  • Is it for reason that you people are not in habit of self reflecting?

کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا  اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔

أَمْ لَـكُـمْ سُلْطَٟنٚ مُّبِيـنٚ ١٥٦

  • Or do you people have any concrete evidence-authority about this assertion? [sent by Allah] [37:156]

یا کیاتمہارے پاس  ناقابل تردید واضح  سند و ثبوت ہے  اس بات کی تائید کے لئےجو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟

Root: س ل ط

فَأْتُوا۟ بِكِتَٟبِكُـمْ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ١٥٧

  • If you stand by your statement, thereby, you people come with the book-documental evidence of you people —Produce it if you people were truthful in your assertions to people". [37:157]

اگر تم اپنے دعویٰ پر قائم رہتے ہو تو اپنی کتاب کو ساتھ لے کر آؤ۔اپنی کتاب ثبوت میں پیش کرواگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو۔

وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْـنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبٙاۚ
وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلجِنَّةُ إِنَّـهُـمْ لَمُحْضَرُونَ ١٥٨

  • And they have declared/proclaimed between Him the Exalted and between the Jinn species a relationship —
    While the fact is that the Jinn have certainly known/understood that indeed they will definitely be assembled for accountability — [37:158]

مزید برآں  انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان ایک رشتہ منسوب کر دیا ہے—
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جنات خوب جانتے ہیں کہ وہ یقیناً  اللہ تعالیٰ کے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جائیں  گے۔

Root: ن س ب; ح ض ر

سُبْحَٟنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٥٩

  • -- Allah the Exalted is Infinitely Glorious and the focus of all effort, above all that what they conjecturally attribute --.

آپ (ﷺ) کے رب حاجات سے بلند تر ہیں،اللہ تعالیٰ  کے لئےتمام کبریائی ہے اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں؛ان تمام باتوں سے منزہ اور مطلق عالی مرتبت ہیں جو وہ لوگ ان سے منسوب کرتے رہتے ہیں۔

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ١٦٠

  • But this principle of justice "requital equivalent to act done" will not apply upon the sincere servants/allegiants of Allah the Exalted. They will be awarded much greater they expected— [37:160]

لیکن یہ اصولِ عدل کہ "جیسا کرو گے، ویسا ہی بدلہ پاؤ گے"اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ انہیں توقع اور ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر عظیم اجر سے نوازا جائے گا—

فَإِنَّكُـمْ وَمَا تَعْبُدُونَ ١٦١

  • Since recompense and retribution are inevitable, you and those whom you falsely claim to worship must be brought forth and made to stand in the courtroom of accountability. [37:161]

 چونکہ جزا و سزا ناگزیر ہے اس لئے تم لوگوں کو اور ان کو جن کی تم بندگی کرنے کا ڈھونگ کرتے ہو کٹہرے میں کھڑا ہونا ہے۔

مَآ أَنتُـمْ عَلَيْهِ بِفَٟتِنِيـنَ ١٦٢

  • You people cannot be the causer of deflection into liquefying pot for a man who is steadfast in belief— [37:162]

تم لوگ قطعاً اس کے لئے فتنہ پرداز نہیں بن سکتے جو صراط مستقیم پر گامزن ہے۔

إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ ٱلْجَحِـيـمِ ١٦٣

  • Except the one who is heading to scorch in the Hell-Prison. [37:163]

مگر ہاں اس کے لئے جو جہنم کی جانب جھلسنے کے لئے از خود جا رہا ہے۔

Root: ص ل ى

وَمَا مِنَّـآ إِلَّا لَـهُۥ مَقَامٚ مَّعْلُومٚ ١٦٤

  • And sincere allegiants say "None of us is but a known stationing place is earmarked for him — [37:164]

اور صراط مستقیم پر گامزن لوگ کہتے ہیں"ہم میں قطعاً کوئی نہیں  سوائے ان کے جن کے لئے معلوم مقام رہائش ہو گا۔

وَإِنَّا لَنَـحْنُ ٱلصَّآفُّونَ ١٦٥

  • And indeed we certainly stand in rows performing protocol of allegiance and submission— [37:165]

اور ہم صف میں کھڑے ہو کر مقررہ اوقات پر اظہار بندگی کرتے ہیں۔

وَإِنَّا لَنَـحْنُ ٱلْمُسَبِّحُونَ ١٦٦

  • And indeed we are certainly those who repetitively praise Allah the Exalted while exerting to achieve destination." [37:166]

اور یقیناً ہم لوگ ہیں جو  منزل پانے کے لئے حمد و ثناء کرتے ہوئے مسلسل بر سر پیکار ہیں"۔


وَإِن كَانُوا۟ لَيَقُولُونَ ١٦٧

  • Know their past; they used to say emphatically— [37:167]

ان کے ماضی کو جان لو؛یہ بڑے اعتماد سے کہا کرتے تھے—

لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرٙا مِّنَ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٦٨

  • "Had there been with us Reminder/Message [Book] from the Earlier People — [37:168]

اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی جانب سے کوئی ذکر/پیغام  تحریر میں موجودہوتا۔

لَـكُنَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ١٦٩

  • Certainly we would have been the Sincere Servants/Allegiants of Allah." [37:169]

 تو یقیناً ہم اللہ  تعالیٰ کے مخلص بندوں میں سے ہوتے۔"

Root: خ ل ص

فَكَفَـرُوا۟ بِهِۦۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ١٧٠

  • In response, when it reached, they refused to accept it —Thereby, its consequence soon they will know. [37:170]

مگر جب  ان کے پاس الذکر/قرءان مجید تحریری شکل میں پہنچ گیا تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٧١

  • And it is a certain fact that the Promise of Our Majesty has preceded for Our Sincere Servants sent as the Messengers — [37:171]

اور یہ ایک یقینی حقیقت ہے کہ ہمارے مخلص بندوں جو رسول بنا کر بھیجے گئے ان کے لئے ہمارے وعدے وفا ہونے کی تاریخ پہلے سےموجودہے—

Root: س ب ق

إِنَّـهُـمْ لَـهُـمُ ٱلْمَنصُورُونَ ١٧٢

  • Indeed they are the people - certainly they are the ones helped. [37:172]

یقیناً وہی لوگ ہیں - بلا شبہ وہی مدد یافتہ ہیں۔

وَإِنَّ جُندَنَا لَـهُـمُ ٱلْغَٟلِبُونَ ١٧٣

  • And indeed Forces of Our Majesty are certainly the ones who are the Dominant/Victorious. [37:173]

 اور یقیناً ہماری افواج ہی وہ ہیں جو غالب رہنے والی ہیں۔

Root: غ ل ب

فَتَوَلَّ عَنْـهُـمْ حَتَّىٰ حِيـنٛ ١٧٤

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] leave/ignore them until the time [they face the promised Day]. [37:174]

چونکہ آپ(ﷺ)نے تمام کو برابری کے اصول پر متنبہ کر دیا ہے مگر ہٹ دھرمی پر بضد ہیں اس لئے آپ ان لوگوں (عمائدین مشرکین۔ یہود و نصاریٰ )کوانظر انداز کر دیں کہ مفادات اور غلبے کو برقرار رکھنے کے  ہیجان میں مبتلا رہیں یہاں تک کہ اس مدت کے اختتام  پر اپنے اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

وَأَبْصِرْهُـمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ١٧٥

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] watch them. Thereby soon shall they be seeing observably. [37:175]

اس حقیقت کے طشت از بام کر دئیے جانے پرآپ(ﷺ)ان کے روئیے کو دیکھتے رہیں۔چونکہ ناگزیر حقیقت ہے اس لئے  الزام تراش  اسے  جلد دیکھیں گے۔

 

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٧٦

  • Do they the adamant elite yet seek [you the Messenger] hastening punishment by Our Majesty? [37:176]

اے رسول کریم(ﷺ)کیا یہ لوگ  متنبہ کئے جانے کے باوجودہمارے عذاب کے جلدی ظہور پذیر ہونے کی خواہش کا لوگوں کے سامنے اظہار کرتے ہیں؟

Root: ع ج ل

فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِـهِـمْ فَسَآءَ صَبَاحُ ٱلْمُنذَرِينَ ١٧٧

  • Since all matters have to take effect on appointed moment, therefore, when it descends into the open space before them, difficult will be the morning for those who were warned. [37:177]

  • چونکہ ہر معاملے کے وجود پذیر ہونے کا لمحہ متعین ہے،اس لئے جب  ان کے سامنے کھلے علاقے میں وہ (عذاب)اترے گا تو ہولناک ہونے کی وجہ سے ان پیشگی متنبہ کئے جانے والوں کا انجام خوفناک ہو گا۔

    Root: س و ح

وَتَوَلَّ عَنْـهُـمْ حَتَّىٰ حِيـنٛ ١٧٨

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] leave/ignore them until the time [they face the promised Day]. [37:178]

چونکہ آپ(ﷺ)نے تمام کو برابری کے اصول پر متنبہ کر دیا ہے مگر ہٹ دھرمی پر بضد ہیں اس لئے آپ ان لوگوں (عمائدین مشرکین۔ یہود و نصاریٰ )کوانظر انداز کر دیں کہ مفادات اور غلبے کو برقرار رکھنے کے  ہیجان میں مبتلا رہیں یہاں تک کہ اس مدت کے اختتام  پر اپنے اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ١٧٩

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] watch. Thereby, soon shall they be seeing observably. [37:179]

اس حقیقت کے طشت از بام کر دئیے جانے پرآپ(ﷺ)ان کے روئیے کو دیکھتے رہیں۔چونکہ ناگزیر حقیقت ہے اس لئے  الزام تراش  اسے  جلد دیکھیں گے۔

 


سُبْحَٟنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٨٠

  • The Sustainer Lord of you the Messenger, the Absolutely Dominant Sustainer Lord, is Infinitely Glorious and the focus of all effort; above all what they conjecturally attribute. [37:180]

آپ (ﷺ) کے رب حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں؛مطلق غلبہ و قوت والے مطلق رب،ان تمام باتوں سے منزہ اور مطلق عالی مرتبت ہیں جو وہ لوگ ان سے منسوب کرتے رہتے ہیں۔

Root: و ص ف

وَسَلَٟمٌ عَلَـى ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٨

  • And paying homage, respects and salutations upon those is prescribed whom He the Exalted sent as Messengers. [37:181]

اور ادب و احترام سے اللہ تعالیٰ کے  ماضی میں بھیجے گئے تمام رسولوں پر سلام کہنا لوگوں پر واجب ہے۔

وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٨٢

  • And the Infinite Glory and Praise stands specified eternally, entirely and exclusively for Allah the Exalted, the Sustainer Lord of the Known-Multiple universes - All that exists. [37:182]

اوراللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ۔