10-سُوۡرَةُ يونس

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

     Sura Recitation
تعارف


الٓرۚ تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْحَكِيـمِ ١

  • Aleph: a letter; It is said it has the meaning of First -Reference-Manifest itself; Laam: a Consonant with prolongation sign/glyph, meaning Service - For - Provide; Ra: a Consonant conjoined with preceding consonant, meaning Order-Command
    These are the Aa'ya'at: Verbal Passages of the Miscellany of the Book: Qur’ān which gives insight to the invisible, hidden, secreted realities of established import. [10:01]

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ رَجُلٛ مِّنْـهُـمْ

  • Has it seemed strange-extraordinary phenomenon for sceptical people that Our Majesty has verbally communicated the Book to a man reputedly a Monotheist believer amongst them?

ہم جناب کا اس کتاب کو ایک ایسے  مرد کو پہبچانا جو ان میں ہمیشہ توحید کے پیروکار مشہور ہیں ایسے لوگوں کے لئے  کیا واقعی باعث تعجب ہے جوکثرت معبودان کے قائل اورپجاری ہیں۔

Root: ع ج ب

أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّـرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَـهُـمْ قَدَمَ صِدْقٍٛ عِندَ رَبِّـهِـمْۗ

  • The communication is to the effect: "You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] admonish- awaken the mankind and guarantee glad tidings to them who have heartily accepted believing in the Message that a respectable position and reward of an act of truth is promised for them by the grace of their Sustainer Lord."

یہ حکم دے کر کہ’’آپ (ﷺ)لوگوں کو باطل طرز عمل پر گامزن رہنے کے لازمی تکلیف دہ عواقب و نتائج سے متنبہ فرمائیں اور ان لوگوں کو خوش کن نتائج کی پیشگی بشارت اور ضمانت دیں جو آپ اور قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں کہ ان کا سچائی پر اٹھایا قدم ان کے رب کی جانب سے تحسین وپذیرائی کا ان کے لئے پیش خیمہ ہے‘‘۔

Root: ق د م

قَالَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ إِنَّ هَـٟذَا لَسَٟحِرٚ مُّبِيـنٌ ٢

  • The deniers and rejecters of the Message said: "Indeed this Man is certainly manifestly illusionist - Hoaxer." [10:02]

رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کر دینے والے عمائدین نے لوگوں سے کہا’’یہ صاحب دراصل فریب نظر اور جھوٹے جھانسے دینے والا ہے‘‘۔

Root: س ح ر


إِنَّ رَبَّكُـمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • Indeed the Sustainer Lord of you people is Allah the Exalted Who had innovatively created the Skies and the Earth in a time duration of six days [reckoned outside your universe] —

اے لوگو جان لویہ  حقیقت ہے کہ تم لوگوں کے رب  اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے  سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔

Root: خ ل ق;س ت ت             Why is the Universe the way it is?

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ

  • Thereafter, He the Exalted ascended to the Supreme Sovereign Seat/Throne [beyond Skies of universe]

بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔

Root: ع ر ش

يُدَبِّرُ ٱلۡأَمْرَۖ

  • He the Exalted organizes, manages, and commands all matters to their logical conclusion.

وہ جناب  ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔

مَا مِن شَفِيعٍٛ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦۚ

  • None amongst the intercessors intercedes before His Majesty except after the explicit permission of Him the Exalted.

متنبہ رہو؛ قطعی کوئی  حمایت و سفارش کرنے والا تمہارے لئے کھڑا ہو گا سوائے ان جناب کے اجازت دینے کے بعد۔(محذوف کے لئے الشوریٰ۔۸)

Root: ش ف ع

ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْ فَٱعْبُدُوهُۚ

  • This Supreme Sovereign, Allah the Exalted is the Sustainer Lord of you people. Therefore be subservient and allegiant subject to Him alone.

یہ  ہے تم لوگوں کے لئے  اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کے شواہد اور حقائق؛ وہ جناب تمہارے رب ہیں۔ چونکہ بدیہی حقائق سے  دانستہ غفلت برتنے والے صاحب عقل و فکر نہیں ہوتے اس لئے تم لوگ ان جناب کی بااظہار بندگی کرو۔

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣

  • Why you deviate; Is it for reason that you people are not in habit of self reflecting? [10:03]

کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا  اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُـمْ جَـمِيعٙاۖ

  • The return of you people, all together on the Day of Requital, is destined towards Him the Exalted.

تم سب لوگ متنبہ رہو،بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم نے احتساب کے لئے  ان جناب کی جانب لوٹنا ہے،مجموع ۔

وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّاۚ

  • The promise of Allah the Exalted is always a proven and established truth.

متنبہ رہو،یہ محض بیان نہیں،یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے،یہ ایسا وعدہ ہے جس نے وقوع پذیر ہو کر رہنا ہے۔

إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥ

  • Indeed He the Exalted initiates the creation and after pause of time will cause his relapse—reverted to original state:

یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔

Root: خ ل ق;  ع و د

لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ بِٱلْقِسْطِۚ

  • So that He may reward equitably those who believed and performed moderate righteous deeds.

یہ ازسر نو حیات دینا اس مقصد سے ہے کہ وہ جناب ان لوگوں کو جو رسول کریم اور کتاب اللہ پر صدق قلب سے ایمان لائے اور ان اعمال پر کاربند رہے جنہیں صالح قرار دیا گیا تھابہترین ایوارڈ  سے نوازیں انصاف اور مساوات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے۔ 

Root: ق س ط

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟

  • And as for those are concerned who denied to believe in the Messenger and Qur’ān:

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو من جانب اللہ ماننے سے انکار کیا ہے۔

لَـهُـمْ شَرَابٚ مِّنْ حَـمِيـمٛ وَعَذَابٌ أَلِيـمُۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْـفُـرُونَ ٤

  • Drinking water of heated reservoir and severe punishment is arranged and is in wait for them for the reason that they persistently kept refusing to accept the truth. [preferring worldly interests and fascination] [10:04]

گرم چشمے کا پانی اورایک دردناک عذاب ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ان کا یہ انجام اس بنا پر ہے کہ مسلسل رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرتے رہے تھے۔

Root: ك ف ر; ء ل م

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءٙ وَٱلْقَمَـرَ نُورٙا

  • He the Exalted is the One Who has rendered the Sun as source of radiating heat and visible light; and the Moon as reflecting visible light.

وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے سورج کو ضیاء /روشنی اور حرارت پیدا کرنے والی کے طور بنایا ہے اورچاند کو روشنی منعکس کرنے والا۔

Root: ض و ء;  ق م ر; ش م س

وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِيـنَ وَٱلْحِسَابَۚ

  • And He the Exalted has apportioned the Moon by stages-spaces so that you people might know the count/number of Lunar years and to carry out other calculations and equations.

اور انہوں نے اس ( مذکر۔چاند) کیلئے منزلیں مقرر کیں تا کہ تم قمری برسوں کوشمار کرنا جان سکو، اورباہمی پیمائشوں کو معلوم کر سکو۔

مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٟلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّۚ

  • Allah the Exalted has not created this randomly but by conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time.

اوریہ نظام ا للہ تعالیٰ نے بے مقصد،بے ترتیب،بے اصول(randomly) تخلیق نہیں کیابلکہ غلطی سے مبرا یقینی اصول،مقصد اور ثابت شدہ حقیقت(scientifically established system) کے طور تخلیق کیا ہے۔

يُفَصِّلُ ٱلْءَايَـٟتِ لِقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٥

  • He the Exalted renders the verbal passages of Qur’ān distinct for the people who are in pursuit of knowledge. [10:05]

وہ جناب علم کی جستجو کرنے والے لوگوں کے لئے قرءان مجید کی آیات کو ہر نکتے کے حوالے سے متمیز اور منفرد انداز میں فصل کر دیتے ہیں۔


إِنَّ فِـى ٱخْتِلَٟفِ ٱلَّيلِ وَٱلنَّـهَارِ

  • It is a fact; existents which are explicitly distinct manifestations reflect the Divine Providence and Will evidently: In the alteration-revolving-circular pursuit of the Night and the Day —

یقیناً ان مظاہر فطرت  کا عینی مشاہدہ فلسفہ توحید،معبود مطلق پر گواہ ہیں : رات اور دن کے ایک دوسرے کے مقام پرآنے کے نظام میں؛

وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ

  • And in all that which Allah the Exalted has created in the Skies and the Earth —

اور وہ جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں تخلیق فرمایا ہے۔

لءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَّقُونَ ٦

  • [distinct manifestations reflect the Divine Providence and Will] For the people who endeavour to remain cautious to act rationally, avoiding conduct inspired and governed by emotions, in reverence and fear of Allah the Exalted. [10:06]

یہ شناخت اور پہچان کے لئے مادی توضیحات ہیں  ان لوگوں کے لئے جو ممانعات سے اپنے آپ کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا

  • Know the certain upshot about those who do not expect to be held accountable before Our Majesty —

ان  لوگوں کے انجام کے متعلق جان لو  جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کومتوقع نہیں سمجھتے ۔ 

Root: ر ج و

وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِـهَا

  • And they are happily absorbed in the worldly life and are satisfied with it —

اور دنیا کی حیات میں شادمان ہیں اور اس کی لگن میں اپنے آپ کو مطمئن اور مگن رکھتے ہیں۔

Root: ط م ن

وَٱلَّذِينَ هُـمْ عَنْ ءَايَٟتِنَا غَٟفِلُونَ ٧

  • And about those who are negligent about the Verbal Passages of the Book and visible existential displays of Our Majesty: [10:07]

اور وہ لوگ جو  ہم جناب کی آیات ۔۔حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی عناصر فطرت اور کتاب اللہ میں درج مندرجات سے ہر وقت بے پرواہ،غفلت شعار ہیں۔

Root: غ ف ل

أُو۟لَـٟٓئِكَ مَأْوَىٰـهُـمُ ٱلنَّارُ

  • They are the people: the scorching Hell-Prison will be their abode.

یہ ہیں وہ لوگ ۔۔۔ ان کی آخری "پناہ گاہ"جھلسا دینے والی جہنم ہے۔

بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٨

  • This upshot is because of what they people deliberately and consciously used to perform/earn. [10:08]

یہ ان کے جرائم کی پاداش ہے جووہ اپنے مفادات کے حصول کی خاطر کرتے رہے ہیں۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ يَـهْدِيـهِـمْ رَبُّـهُـم بِإِيمَٟنِـهِـمْۖ

  • Know the fact about those who have heartily believed in the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and Qur’ān and performed moderate righteous deeds — their Sustainer Lord will guide them because of their sincere belief:

ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجورسول کریم اور  قرء ان پردل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ان کے رب انہیں اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے  جنت کی جانب رواں دواں رہنے کے لئےہدایت دیتے رہیں گے۔

تَجْـرِى مِن تَحْتِـهِـمُ ٱلۡأَنْـهَٟرُ فِـى جَنَّٟتِ ٱلنَّعِيـمِ ٩

  • Into the Gardens of Delight; enjoying streams flowing side-by them [10:09]

خوبصورت منظر پیش کرتی نہریں ان لوگوں کے پائیں بہہ رہی ہوں گی جب وہ  نعمتوں سے بھرپور باغات میں رہائش پذیر ہوں گے۔۔

دَعْوَىٰـهُـمْ فِيـهَا سُبْحَٟنَكَ ٱللَّهُـمَّ وَتَحِيَّتُـهُـمْ فِيـهَا سَلَٟمٚۚ

  • Their prayer therein would be: "Glory is for You, Allah the Exalted". And their greetings and pleasantries therein would be wishing peace and tranquillity.

ان کاان میں رہتے ہوئے طرز عمل  اس دعا سے ہو گا"آپ جناب عظیم ہیں!تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محورآپ جناب ہیں، اے اللہ  تعالیٰ‘‘۔اور ان میں رہتے ہوئے باہمی ملاقاتوں پرایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور خیر سگالی کا اظہار کریں گے۔

وَءَاخِرُ دَعْوَىٰـهُـمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٠

  • And their departing call is pronouncement: "The Infinite Glory and Praise is specified eternally, entirely and exclusively for Allah, the Sustainer Lord of the Existing Worlds-All that exists". [10:10]

اور آخر میں جدا ہوتے وقت ان کے الفاظ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیاگیا ہے ۔

وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّـرَّ ٱسْتِعْجَالَـهُـم بِٱلْخَيْـرِ لَقُضِىَ إِلَيْـهِـمْ أَجَلُـهُـمْۖ

  • And if Allah the Exalted hastens damaging state for the people as they haste for the pleasantness, certainly their term would have been concluded for them.

متنبہ رہو؛ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے انتشار اور ابتلا کی کیفیت پیدا کر دیں جیسے ان کی عجلت میں ہر بھلائی کو حاصل کر لینے کی خواہش و آرزو ہے تو یقیناً ان کی مہلت کے اختتام ان کے نزدیک پہنچ چکا ہوتا۔

Root: ش ر ر

فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِـى طُغْيَٟنِـهِـمْ يَعْمَهُونَ ١١

  • Therefore, for reason of appointed term Our Majesty let those prolonging in their defiant brims, leaving them in state of blind distracted wandering, who believe not in their presentation before Our Majesty for accountability. [10:11]

چونکہ احتساب کے لئے متعین مدت تک مہلت ہے،اس لئےہم جناب ان لوگوں کو جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کو متوقع نہیں سمجھتے  انہیں اُن کی بیوقوفانہ احمقانہ بہکی سرگرمیوں میں دراز و سرگرداں رہنے میں ڈھیل دیتے ہیں۔

Root: ر ج و;  ط غ ى; و ذ ر

وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٟنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدٙا أَوْ قَآئِمٙا

  • Know general behaviour; When adversity has inflicted the Man he kept calling upon Our Majesty in all positions of lying on his side, or sittings or standing.

اور جب  درد اورتکلیف  کا احساس انسان کو لاحق ہو جاتا ہے تو چاہے اس حالت میں اپنے کروٹ کے بل ہو،یا بیٹھا ہو،یا کھڑا ہو ہم جناب کو پکارتا ہے۔

Root: ق ع د

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَـرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَـىٰ ضُرّٛ مَّسَّهُۥۚ

  • In response when Our Majesty removed from him his affliction he walked away [without a word of thanks] as if he had never requested Our Majesty during affliction that had touched him.

تو فریاد کو قبول کرتے  اور مہلت دیتے ہوئے جوں ہی ہم جناب نے اسے لاحق اذیت ناک صورتحال سے  نجات دے دی تو ایسے چل دیا جیسے اس نے کبھی ہم جناب کو پکارا ہی نہیں تھا اس اذیت کی جانب جس سے وہ لاچار تھا۔

Root: م ر ر;  ك ش ف

كَذَٟلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْـرِفِيـنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٢

  • This is how it is; by fabricators of fascinating myths suggesting good and bad times are just routine phenomenon, made alluring for the transgressors what acts they deliberately kept executing-performing. [10:12]

یہ طرز عمل اس بات کا مظہر ہے کہ جو وہ کرتے رہے ہیں وہ ایسے لوگوں کے لئے باعث کشش و لگن بنا دیا گیا ہے جوبے پرواہ سرشت کےحامل ہیں۔

Root: س ر ف

وَلَقَدْ أَهْلَـكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلـِكُـمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ۙ

  • Be mindful; Our Majesty has indeed annihilated many civilizations; who existed before you people, when they kept acting as evil-doers, distorters, creators of imbalances, disorder and over stepping.

تاریخی حقیقت سے خبردار رہو؛ہم جناب نے کئی تہذیبوں کو نیست و نابود کر دیا جنہوں نے تم لوگوں سے قبل عروج دیکھا تھا،جب انہوں نے حقیقت کے متضاد روئیے کو اپنی سرشت بنا لیا تھا۔

وَجَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ۚ

  • They did so while their Messengers had indeed brought to them evident/ distinct/ unprecedented [miraculous] demonstrative Signs. And in response they were not such that they would subsequently believe in what they had earlier contradicted.

اور یہ حقیقت ہے کہ ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے ان کے رسول  ان کے لئےمافوق التصور و تجربہ،انہونے صریحاً واضح مظاہر قدرت(معجزات)کے ساتھ آئے تھے۔مگر عینی تجربہ اور ثبوت کے باوجود وہ ا ایمان لانے کا سوچتے بھی نہ تھے (جس کو وہ گزرے زمانہ میں برملا جھٹلا چکے تھے۔الاعراف۔101)۔

كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ١٣

  • This is how Our Majesty punishes the nation who are eventually convicted as criminals. [10:13]

خبردار رہو؛ہم جناب اس انداز میں  اس قوم کو سزا دیتے ہیں  جسے بالاخرمجرم قرار  دے دیا گیا۔

ثُـمَّ جَعَلْنَـٟكُـمْ خَلَـٰٓئِفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِـم لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ١٤

  • After lapse of certain period, Our Majesty has rendered you rulers enjoying freedom of will and decision in the Earth after them so that We may see and expose how you people conduct. [10:14]

بعض ازاں ،ان لوگوں کے زوال کے بعد،ہم جناب نے تم لوگوں کو زمین میں خود مختار  حکمرانی کا حامل بنا دیا تا کہ ہم مشاہدہ کریں اور دکھا دیں کہ تم لوگ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہو۔


وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٟتٛۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٛ غَيْـرِ هَـٟذَآ أَوْ بَدِّلْهُۚ
قُلْ مَا يَكُونُ لِـىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئ ِنَفْسِىٓۖ
  إِنْ أَ تَّبِــعُ إِلَّا مَا يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّۖ
إِ نِّـىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّـى عَذَابَ يَوْمٛ عَظِيـمٛ ١٥

  • Know the happenings in the days of serial revelation; When Our Verbal Passages of  Qur’ān, characteristically mirroring information, facts and knowledge in exegetical manner, were recited upon them word by word: those elite who were not expecting their presentation before Our Majesty for accountability, demanded in a meeting saying to the Messenger: "You present to us a composed text other than this Qur’ān, or you substitute it (Qur’ān)".
    You [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] answer them: "Its alteration and substitution of my own accord, with some content of my personal intellect, knowledge and memories is not at all permissible and licensed for me as its publisher.
    I only sincerely follow in letter and spirit that which is verbally communicated to me as part of Divine Book.
    Indeed I am afraid of the punishment of Great Day if I were to violate the Word of My Sustainer Lord". [10:15]

مطلع رہوزمانہ نزول کی تاریخ سےجب ہم جناب  کے  تحریری کلام پر مشتمل عبارات   لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے  لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔تو ان عمائدین مشرکین نے جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کومتوقع نہیں سمجھتے، رسول کریم سے  ملاقات میں کہا"آپ  ایک ایسےمتن  کو  ہمیں پیش کریں  جواِس قرءان مجید سے غیر متعلق  اور مختلف ہو ؛یاآپ اس قرءان مجیدکے متن کی عبارت میں ترمیم  کر دیں"۔
آپ(ﷺ)جواب دیں"میرے لئے اپنی یاداشت میں موجود  معلومات اور اقوال میں سے منتخب  کر کے  اس  کے  متن اورعبارت  کو تبدیل کرنا ہرگز ممکن اور دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میری طرف  کتاب میں سے  کلام بھیجا جا رہا ہے ،کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ میں ایک عظیم دن میں دئیے جانے والے عذاب کا خوف  رکھتا ہوں اگر میں نے اپنے رب کے سونپے ہوئے کام کے خلاف کیا۔"(سورۃ یونسؐ۔
١٥)

Root: ر ج و; ب د ل

قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُـمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُـم بِهِۦۖ
فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُـمْ عُمُرٙا مِّن قَبْلِهِۦٓۚ
أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] further confront them saying: "Had it been the will of Allah the Exalted, I would not have orated it (Qur’ān) syllable by syllable upon you people —And nor He the Exalted would have made it known to you people.
    Realize it as you know I have lived a lifetime amongst you people before it (Qur’ān).
    Is it, then, for fear of loosing political hegemony (Cf. 28:57) that you wish not to reflect to notice difference between two phases of my life, O you the Chieftains? (Cf. 28:57) (Cf. 2:44; 2:76; 3:65; 6:32; 7:169; 10:16; 11:51; 12:109; 21:10; 21:67; 23:80; 28:60; 37:138=13)[10:16]

آپ (ﷺ)ان سرکش عمائدین کے اس مطالبے کے جواب میں — جو یہ چاہتے ہیں کہ قرءان کے بجائے آپ ان کے مزاج کے مطابق کوئی دوسری تحریر پیش کریں —فرما دیجئے:"اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہی ہوتا تو میں ہرگز نہ تو  اسے پڑھ کر  آپ کو لفظ بہ لفظ  سناتا، اور نہ ہی اس کے بارے میں آپ لوگوں کو کسی قسم کا ادراک حاصل ہوتا۔
چونکہ آپ اسے ذاتی سیاسی ایجنڈہ  بنا کرلوگوں کو بتا رہے ہیں  اس لئے 
آخر آپ غور کیوں نہیں کرتے؟—میں نےا س کے نزول سے پہلے   آپ کے درمیان ایک پوری عمر  گزاری ہے۔ (اس وقت تو نہ کسی کتاب کو سنایا اور نہ تحریر کر کے دیا)۔
 
کیا  یہ سیاسی اثر و رسوخ کھو دینے کا بےجا خوف ہے کہ آپ لوگ  تعقل سے کام نہیں لیتے کہ میرے اس طویل سابقہ دورِ حیات اور موجودہ دورِ تبلیغ کے درمیان یہ بنیادی فرق سمجھ سکو، اے سردارو؟(Cf. 28:57)(سورۃ یونسؐ۔١٦)

Root: د ر ى;ع م ر; ل ب ث

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٟتِهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ 
١٧

  • Having recognized this reality, who could be more guilty of unjust displacement—and thereby standing in opposition to reality—than the one who deliberately and artfully fabricates a falsehood to deceptively present it as the statement of Allah the Exalted? Or who could be more guilty of distortion than the one who, without evidence, publicly belies His Verbal Unitary Passages? (Cf. 6:21; 6:93; 6:144; 7:37 replica; 11:18; 18:15; 29:68)
    It is a fact that the criminals never attain prosperous success at the end. [10:17]

اس حقیقت کا ادراک کر لینے کے باوجود، اس شخص سے بڑھ کر حقیقت کے خلاف رویّہ اختیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟ یا اس سے بڑھ کر حقیقت کے برخلاف باطل مؤقف اپنانے والا کون ہو سکتا ہے جس نے ان جناب کے کلام (قرءانِ مجید) پر مشتمل عبارات کو بلا دلیل و ثبوت برملا جھٹلایا اور ان کے متضاد دعوے اختیار کیے؟
اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ  مجرم قرار پائے لوگ آخر کار کبھی کامیاب، سرخرو اور سرفراز نہیں ہوتے۔

وَ يَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُـمْ وَ لَا يَنفَعُهُـمْ
وَ يَقُولُونَ هَٟٓؤُلَآءِ شُفَعَٟٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ
قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ لَا فِـى ٱلْأَرْضِۚ
سُبْحَٟنَهُۥ وَ تَعَٟلَـىٰ عَمَّا يُشْـرِكُونَ١٨

  • Know it, they the polytheists worship—exhibit allegiance and subservience, besides Allah the Exalted, those sculpted idols that can neither cause them  infliction nor cause them any benefit.
    And they (clergy/elite) tell people referring to those idols: "These will be our Intercessors before Allah the Exalted."
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] question them, "Do you inform Allah the Exalted about what no one in the Skies and no one in the Earth knows?"
    Glory is for Him the Exalted, His pleasure is the focus of all effort; and He is Exalted above those they conjecturally associate with Him the Exalted. [10:18]

ان مجرمین کے عقل و فہم کو دیکھو؛ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ  تجاوز کرتے ہوئے وہ اس غیر حیات کی بندگی/پرستش کرتے ہیں جو نہ تو انہیں کوئی ضرر پہنچاتا اور نہ کوئی نفع انہیں پہنچاتا اور پہنچا سکے گا۔
مگر(قائل  کرنے کے لئے)لوگوں سے کہتے ہیں"یہ معبودان ہمارے شفاعت گر ہیں،اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ اور ان کے حضور"۔
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "کیا تم اللہ تعالیٰ
کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے آسمانوں میں کوئی نہیں جانتا اور نہ زمین میں کوئی؟"
خبردار؛ وہ جناب تمام  عظمت وکبریائی  اور جد و جہد کا محور ہیں۔اور وہ  جناب مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام سے  جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔

Root: ش ف ع;  ع ل و

وَ مَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٟحِدَةًۭ  فَٱخْتَلَفُوا۟ۚ 
وَلَوْلَا كَلِمَةٚ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٩

  • Be aware: Mankind was not originally except a single unified community upon primordial belief; yet sequel to social class divide, schism was aggressively generated between them by supplanting primordial ideology with divergent philosophy (polytheism). (Cf. 2:213; 7:112)
    And had a Word not already preceded granting a respite period as a decree from your Sustainer Lord, O Messenger, the matter would have been decisively executed between them regarding the very domain of that substitute concept wherein they remain encapsulated and driven to dispute (Cf. 2:36; 2:38; 7:24; 16:61) [10:19]

آگاہ رہو! انسان ابتداء میں ایک ہم خیال وحدت اور فلسفۂ توحید پر یکجا اجتماع کے سوا کچھ نہ تھے۔ پھر چونکہ معاشرت میں ایک طبقاتی تقسیم (اراذل و اکابر)وجود پذیر ہو چکی تھی، اس لیے انہوں نے آپس میں ایک نئے نظریے کو سابقہ مقام پر لا کر (فطری) وحدت کا خاتمہ کیا اور دوئی (تفرقے) کو اختیار کر لیا۔
مطلع رہو کہ کیوں ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے؛ اگر آپ (ﷺ) کے رب کی جانب سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر کرنے کا وعدہ نہ ہو چکا ہوتا، تو ان کے مابین اس معاملے کا (فوراً) خاتمہ کر دیا جاتا جس متبادل نظریے کے فکری احاطے میں محصور ہو کر وہ باہمی اختلاف کر رہے ہیں۔
(Cf. 2:36; 2:38; 7:24; 16:61)

Root: س ب ق

وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ مِّن رَّبِّهِۦ
ۖ
فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ
  فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّـى مَعَكُـم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ٢٠

  • And they keep saying to  people: "Why is it so that some unprecedented display [miracle] is not sent to him from his Sustainer Lord as authoritative sign?" (Cf. 6:124; 13:07; 13:27; 20:133; 28:48; 29:50)
    Since this rhetoric is only to deceptively delude common people, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce to keep record straight: "The authority for the disclosure of the invisible domain is solely the prerogative of Allah the Exalted. Since you insist to let untoward happen soon, then I can only say, wait for the promised thing to happen, I am indeed staying with you the elite waiting patiently." (Cf. 7:102; 10:102) [10:20]

انکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ عوام الناس میں  مسلسل یہی کہتے رہتے ہیں:"کیا وجہ ہے ،کیوں انہیں  عینی مشاہدہ کرانے کے لئے  ایسی شہادت ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے  سند ہوتی  ؟"
چونکہ ان کی یہ تکرار محض عام لوگوں کو دھوکے اور مغالطے میں مبتلا کرنے کے لیے ہے، اس لیے حقیقتِ حال کو واضح اور ریکارڈر درست رکھنے کی خاطر آپ(ﷺ)ان عمائدین سےارشاد فرما دیں"غیب کے نظام و حکمت پر مبنی انکشاف کا مطلق اختیار و اقتدار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے"۔  چونکہ  ناگوار حادثے کے جلد وقوع پذیر ہونے پر ہی آپ  اصرار کرتے ہیں، تو پھر میں یہی کہہ سکتا ہوں  کہ آپ انتظار کریں ،میں بھی آپ کے ساتھ  صبر سے منتظر ہوں"۔


وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْـمَةٙ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْـهُـمْ إِذَا لَـهُـم مَّكْـرٚ فِـىٓ ءَايَاتِنَاۚ
قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْـرٙاۚ

إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ٢١

  • Know general conduct of people; When Our Majesty favoured people to taste mercy after the affliction which had affected them, thereat deceptive moves are the activity they indulge in regarding Our Aa'ya'at: Verbal passages of the Book of Allah.
    You the Messenger
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Allah the Exalted is the swiftest in planning".
    It is a fact; emissaries of Our Majesty, respectively appointed on every person, keep writing down whatever you people strategize or conspire. [10:21]

بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛ جب ہم جناب بعض لوگوں کو اس تکلیف سے جس میں وہ مبتلا تھے نجات دے کر آسانیوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں تو   ہم جناب کے کلام پر مشتمل آیات  کے متعلق مکارانہ طرز عمل اس کے  چھچھورے پن کی شناخت      بن جاتاہے۔
آپ(ﷺ)ارشدا فرمائیں’’اللہ تعالیٰ مطلق سریع ہیں،ہر معاملے میں تدبیر کرنے کے حوالے سے‘‘۔
متنبہ رہو؛یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص پر مقرر کئے ہوئے ہمارے رسول(ملائکہ)ہر اس مکروفریب کو ضبط تحریر میں لاتے ہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔

Root: ذ و ق;  م ك ر; س ر ع

هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّـرُكُمْ فِـى ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِۖ

  • He the Exalted is the One Who enables you people to traverse in the Land and the Sea —

وہ جناب ہیں جو تمہارے لئے خشک مقامات اور سمندر میں جانا اور سفر کرنا ممکن بناتے ہیں۔

Root: س ى ر

حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُـمْ فِـى ٱلْفُلْكِ

  • This fact is ordinarily not appreciated so long when you were travelling in the sea within the ship  —

تم اس حقیقت کا اس وقت تک ادراک نہیں کرتے جب تم کشتیوں میں سوارسکون سے سفر کر رہے ہوتے ہو۔

Root: ف ل ك

وَجَرَيْنَ بِـهِـم بِرِيحٛ طَيِّبَةٛ وَفَرِحُوا۟ بِـهَا

  • They (ships) were sailing carrying them (people-10:21) on board with pleasant breeze blowing, and they were rejoicing the pleasant moments—

اور وہ موافق ہوا کے ساتھ  اپنے مسافروں کو ساتھ لئے رواں ہوتی ہیں اوروہ لوگ  خوشگوار ہوا سے  فرحت  محسوص کر رہے ہوتے ہیں۔

Root: ر و ح;  ف ر ح

جَآءَتْـهَا رِيحٌ عَاصِفٚ

  • Until when a wind overtook her (the Ship). One [masculine active participle] Twister who makes things revolve and spread was laden within her: Wind.

کہ اچانک اس  سمندری آندھی (hurricane)نے اسے(کشتی)آن لیا جس کے اندر ایک (عاصف۔اسم فاعل مذکر)گھما دینے والا ، طغیانی کا دائرہ بنا دینے والاموجود ہے۔

Root: ر و ح; ع ص ف   Hurricane and Waterspout

وَجَآءَهُـمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٛ

  • And the Wave reached them coming from all sides—

اور ان پر جھپٹتے ہوئے موج نےہر جانب سے انہیں گھیر لیا۔

Root: م و ج

وَظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ أُحِيطَ بِـهِـمْۙ

  • And they apprehensively assessed that they have certainly been surrounded by it (waves) from all sides—

اور انہوں نے یقینی گمان کرلیا کہ ان موجوں کے ذریعے انہیں گھیر لیا گیا ہے۔

Root: ح و ط

دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ

  • They called upon Allah the Exalted promising that they will adhere to the Constitution and Code of Life as sincere devotees-allegiant for Him the Exalted —

اس وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ  کو مدد کے لئے پکارا یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ    اُن کے  متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے   کاربند رہیں گے۔

لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٟذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٟكِـرِينَ ٢٢

  • "We swear that if You the Exalted rescued us from this life threatening situation, we will henceforth certainly remain obliged and grateful". [10:22]

"ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ جناب نے اس طوفان میں ڈوبنے سے ہمیں  محفوظ رکھا تو یقیناً آئندہ ہم شکر گزار رہیں گے"۔

فَلَمَّآ أَنجَىٰـهُـمْ إِذَا هُـمْ يَبْغُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّۗ

  • Acceding their prayer as soon Our Majesty saved and rescued them, they again start indulging in excesses in the Earth void of justification and rightful cause.

ان کی عاجزانہ دعا اور انہیں وعدہ کو سچ کر دکھانے کا موقع دینے کے لئے جب ہم جناب نے  پانی کی پہنچ سے دور رکھ کراس خطرے سے انہیں نجات دلاکر خشکی پر پہنچا دیاتو پھر وہ لگے معاشرے میں بغیر جواز اور مبنی بر حقیقت استدلال کے بگاڑ کی جستجو میں۔

Root: غ ى ر and ح ق ق

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُـمْ عَلَـىٰٓ أَنفُسِكُـمۖ

  • O you the Mankind! indeed your excesses only effect upon your selves —

اے لوگو!دھیان سے سنو! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے سرکش روئیے کا خمیازہ خود تمہارے نفوس پر ہو گا۔

مَّتَٟعَ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ

  • All that you gain by excesses is merely the transitory sojourn material of the worldly life.

تمہارا یہ سرکش رویہ محض دنیاوی حیات کے سامان زیست کے لالچ میں ہے۔

ثُـمَّ إِلَينَا مَرْجِعُكُـمْ

  • Afterwards your escorting to subject you to justice will be towards Our Majesty —

بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم نے احتساب کے لئے  ان جناب کی جانب لوٹنا ہے۔

فَنُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٢٣

  • Thereat, Our Majesty will inform-charge sheet you about the activities you were in. [10:23]

چونکہ انصاف اور عدالتی تقاضوں کو پورا کیا جائے اس لئے ہم جناب فرد جرم تم لوگوں کو بتائیں گے جو مستوجب سزا اعمال تم کرتے رہے تھے۔

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٟهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَ ٱلْأَنْعَٟمُ
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَـهَا وَ ٱزَّيَّنَتْ وَ ظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّـهُـمْ قَٟدِرُونَ عَلَيْـهَآ أَتَىٰـهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَـهَارًۭا فَجَعَلْنَٟهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِۚ
كَذَٟلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٟتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ
٢٤

  • The analogy of the life of this lowly world is merely like the water that Our Majesty has descended from the Sky —Thereby, the produce-embryonic plant of the Earth meticulously associated with it —-- Human beings and the herbivore mammals eat out of it -- —
    Flourishing of plants continued until when the Land attained its bloomy embellishment and became fascinating; and her inhabitants thought they were capable to manage her: Our command reached to it either during the night or the day, whereat Our Majesty rendered her (produce of land) mowed as if it had not flourished yesterday.
    This is the manner Our Majesty renders the signs - verbal passages of Qur’ān distinct by demarcating, categorizing, delineating and individuating all aspects for people who objectively ponder and reflect. [10:24]

اس حقیقت کا ادراک کرو کہ حیات دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے پانی،ہم جناب نے اسے آسمان سے مخصوص مقدار میں برسایا تھا۔چونکہ حالات سازگار ہو گئے تھے اس لئے زمین کی نباتات نے اس کے ساتھ اختلاط کر کے پروان چڑھایا۔۔۔انسان اور چارہ خور چوپائے ان میں سے اپنے لئے موزوں کو کھاتے ہیں۔۔
نباتات پھلتی پھولتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگھار کر لیا اور اپنے آپ کو جاذب نگاہ بنا لیا اور اس کے باسیوں نے گمان کر لیا کہ اب وہ اس پرکسی لمحے اختیار رکھنے والے بن جائیں گے۔تو ہم جناب کا فرمان رات یا دن کے کسی وقت اس پر پہنچ گیا۔اس کے نتیجے میں ہم جناب نے اسے کٹا ہوا بھوسا بنا دیا جیسے کہ بیتے کل میں اس(زمین)نے کچھ دیا ہی نہ تھا۔
اس طرح کے انداز بیان سے ہم جناب آیات کو جدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف فرماتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد  ایسےلوگوں  کو حقیقت اور مقصد تخلیق کو سمجھنے کے لئے آسان فہم بنانا ہے جو ازخود تفکر کرتے ہیں۔

Root: ن ب ت; ز خ ر ف  ; ظ ن ن;  ح ص د; ف ك ر; ف ص ل

وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَـىٰ دَارِ ٱلسَّلَٟمِ وَيَـهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٢٥

  • But Allah the Exalted continuously invites attention towards the abode of tranquillity, peace and joy —and He the Exalted continuously guides whoever desires the Guidance (ٱلْـهُدَىٰ ) — towards the Highway—a Course that leads to ultimate destination of peace and tranquillity. (Cf. 2:142; 2:213; 24:46) [10:25]

مگر اس کے برعکس  اللہ تعالیٰ (تمہیں اس فانی دنیا میں ہر وقت  الجھے رہنے کی بجائے)امن ،سکون و سلامتی،خوف و حزن سے منزہ قیام گاہ  کی  طرف  محو سفر ہونے  کے لئے  مسلسل  توجہ دلاتے اور دعوت دیتے ہیں۔وہ جناب ہدایت  کی تمنا  و جستجوکرنے والے ہر  شخص کو صراط مستقیم کی جانب گامزن  ہونے اور اس پر قائم رہنے کے لئے ہدایت فرماتے رہتے ہیں۔(سورۃ یونسؐ۔٢٥)

لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَـىٰ وَزِيَادَةٚۖ

  • The most appropriate and proportioned reward and excessive addition, minimum ten times, is promised and ensured for those who who acted moderately, decently and righteously.

انتہائی مناسب اوردل آویز صلہ  اور اس پر اضافہ،کم از کم دس گناان میں سے ان کے لئے منتظر ہے جنہوں نے حسن توازن کا مظاہرہ کیا؛

وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُـمْ قَتَـرٚ وَلَا ذِلَّـةٌۚ

  • Neither depression nor humiliation will reflect on their faces.

نہ تو افسردگی، مرجھاہٹ اور نہ خواری کے تاثرات ان کے چہروں پر چھائے ہوں گے۔

Root: ذ ل ل; ق ت ر

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلْجَنَّةِۖ

  • They are the people who will be the residents-inmates of the Paradise.

یہ لوگ ہیں جو اصحاب جنت ہیں۔

Root: ص ح ب

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٦

  • They will abide therein permanently. [10:26]

یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہائش پذیر رہیں گے۔

وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّــَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةِۭ بِمِثْلِـهَا

  • And as regards those who earned evil deeds,  their punishment will be proportionate to the evil done.

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے برائیوں کو اپنا کسب بنائے رکھا ان کو سزا کے طور اس برائی کے مثل تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا جو ان کی برائی تکلیف کا باعث بنی تھی۔

وَتَرْهَقُهُـمْ ذِلَّـةٚۖ

  • And humiliation will overwhelm them —

خواری کے تاثرات ان کے چہروں پر چھائے اور نمایاں ہوں گے۔

Root: ذ ل ل;  ر ھ ق

مَّا لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِـمٛۖ

  • Not at all a defender-defence counsel listed by Allah the Exalted will be there for them.

اللہ تعالیٰ کی جانب سے قطعاً کوئی وکیل صفائی ان کی معاونت کرنے کے لئے مقرر کیا جائے گا۔

Root: ع ص م

كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُـمْ قِطَعٙا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمٙاۚ

  • —[humiliation will overwhelm them] As if their faces had been veiled by patches of night, rendering them darkened black.

ان کے چہروں پر خواری کے تاثرات ایسے ہوں گے جیسے تاریک سیاہ رات میں سے قطع کئے ٹکڑے نے ان کے چہروں کو ڈھانپ لیا ہو۔

Root: غ ش ى; ق ط ع

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِۖ

  • They are the people who will be the resident inmates of the scorching Hell-Prison.

یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔

Root: ص ح ب

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٧

  • They will abide therein permanently. [10:27]

یہ لوگ اس(جہنم)میں ہمیشہ رہائش پذیررہیں گے۔

وَيَوْمَ نَحْشُـرُهُـمْ جَـمِيعٙا

  • Know the happenings of the Day of resurrection; Our Majesty will collect them, all together —

آخرت کے حقائق سے بھی مطلع ہو جاؤ؛ہم جناب جس دن ان سب کو اجتماعی طور پر اکٹھا کریں گے؛

ثُـمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُـمْ أَنتُـمْ وَشُرَكَآؤُكُمْۚ

  • Afterwards Our Majesty will say for those who ascribed partners, stay where you are, you and your partners.

بعد ازاں اسمبلی ہم جناب ان لوگوں سے کہیں گے جو  اپنےہاتھوں سے تراشے بتوں کو مشترک معبودان قرار دے کر پرستش کرتے تھے، تم لوگ اور تمہارے اختیار کردہ شرکاء اپنے اپنے مقام پر رکے رہو۔

فَزَيَّلْنَا بَيْنَـهُـمْۖ

  • Thereafter, since ability to express was granted to the statues that were worshipped as godheads, Our Majesty tore apart the hypothetical association between them —(read with 16:86 and 18:52)

چونکہ ہم جناب نے انہیں قوت گویائی عنایت کر دی تھی  اس لئے ان کے مابین تخیلاتی قربت و تعلق   کے باطل پن کو پاش کر دیا۔

Root: ز ى ل

وَقَالَ شُرَكَآؤُهُـم مَّا كُنتُـمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ٢٨

  • And their partners said to them: "you were not worshipping and allegiant to us exclusively. [10:28]

جس پر ان کے بنائے ہوئے شریک خداؤں نے کہا’’تم لوگ ہماری بندگی نہیں کرتے تھے۔

فَكَـفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَاۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُـمْ

  • Thereby, Allah the Exalted suffices as witness between us and between you people —

چونکہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن کو جانتے ہیں،اس لئے وہ جناب ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ عینی شاہد کے طور موجود تھے۔

Root: ك ف ى

إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُـمْ لَغَٟفِلِيـنَ ٢٩

  • The fact is that we were indeed unaware of your worshipping rituals." [10:29]

یہ حقیقت ہے ہمارے بارے کہ ہم یقیناً تم لوگوں کی عبادت سے بے خبر(اپنی تسبیحات میں  مصروف)تھے‘‘(سورۃ مریم۔۸۲ بھی دیکھ لیں)۔

Root: غ ف ل

هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٛ مَّآ أَسْلَفَتْۚ

  • Thereat every person will acquaint with the nature of what it did in gone days.

اس بیان پر فوری طور پر وہیں کھڑے کھڑے ہر مشرک شخص جان لے گا اس بات کی اصلیت کو جو گئے دنوں وہ کرتا رہا تھا۔

Root: س ل ف

وَرُدُّوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِ مَوْلَاهُـمُ ٱلْحَقِّۖ

  • And they were turned towards Allah the Exalted, their true Sustainer Lord.

اور انہیں اللہ تعالیٰ کی جانب لے جایا جائے گا۔ان کے فرمانروا،حقیقی مالک۔

وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ٣٠

  • And that lost/vanished from them which they used to artfully fabricate. [10:30]

اور  ان کے دل و دماغ سے  وہ غائب ہو گیا جو  زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔


قُلْ مَن يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Who provides you sustenance for life from the Sky and the Earth —

آپ(ﷺ)لوگوں کو اس حقیقت کا سامنا کرائیں یہ پوچھ کر’’وہ کون ہیں جو تم لوگوں کو آسمان اور زمین میں سے رزق مہیا کرتے ہیں؟

أَمَّن يَـمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلۡأَبْصَٟرَ

  • Or Who controls and commands the faculty of listening and vision —

یا وہ کون ہیں جو سماعت اور بصارتیں دینے پر اختیار رکھتے ہیں؟

Root: م ل ك

وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَـىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَـىِّ

  • And who brings out the living from the matter-dead; and brings out matter-dead from the living —

اور وہ کون ہیں جو مادے سے ابتدا کر کے حیات کو خروج دیتے ہیں اور حیات میں سے مادے/میت کو خروج دیتے ہیں؟

وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمْرَۚ

  • And who organizes, manages and commands all matters until their logical conclusion?

اور کون ہیں وہ جناب  جو ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔

فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ

  • In response, they will say after a little pause: "He is Allah the Exalted".

چونکہ جس نکتے کر اجاگر کرنے کے لئے سوال پوچھا گیا ہےان کے متعلق جانتے ہیں کہ ایسی کوئی صلاحیت ان میں نہیں اس لئے کچھ ٹھہر کر کہیں گے’’یہ اللہ تعالیٰ کرتے ہیں‘‘۔

فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٣١

  • Thereat, in response to their admission you ask them: "Would you people still not protect yourselves?" [10:31]

چونکہ انہوں نے  اعتراف  کر لیا ہے اس لئے  آپ (ﷺ) ان سے پوچھیں "کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے  اللہ تعالیٰ سےپناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟"

فَذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمُ ٱلْحَقُّۖ

  • Thereby, you people remain mindful of Allah the Exalted; your Sustainer Lord, the Infallible Reality.

چونکہ بالواسطہ تم نے تمام معبودوں کو کسی بھی خصوصیت سے عاری قرار دے دیا تو ان تمام کے حامل اللہ تعالیٰ ہیں، تم لوگوں کے رب،وہ جناب مطلق حقیقت ہیں۔

فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٟلُۖ

  • Thereby, what is there after acceptance of the infallible fact except turning in the state of neglectful wandering?

چونکہ حقیقت تمہیں سمجھ آ رہی ہے تو دانستہ انحراف اور گم کردہ راہ  رہنےکا حقیقت کے افشاں ہو جانے کے بعد کیا جواز اور سبب ہے۔

فَأَنَّـىٰ تُصْرَفُونَ ٣٢

  • Therefore, how and for what reason you people are turned away? [10:32]

چونکہ تم اس انحراف پر قائم ہو اس لئے یہ تو بتاؤ کہ کیسے اور کیوں تم لوگوں کو دوسری جانب پلٹا دیا جاتا ہے۔

Root: ص ر ف

كَذَٟلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَـى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّـهُـمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٣٣

  • This is how the Word of your Sustainer Lord is proved and established upon those who transgressed distancing away from restraints, that they will not accept and believe. [10:33]

اس طرح آپ(ﷺ)کے رب کی دی ہوئی اطلاع ان لوگوں پر حقیقت بن گئی ہے جنہوں نے بدیہی حقیقتوں سے تنفر انگیز علیحدگی کو اپنی سرشت بنا لیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Root: ف س ق

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُـم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥۚ

  • You the Messenger confront them: "Who is there who originates the creation amongst the godheads you people declare as associates, and afterwards causes its iteration—after pause of time will cause his relapse—reverted to original state? [it is sensitive for them, will keep mum, therefore]

آپ(ﷺ)ان سے پوچھیں’’ذرا یہ تو بتاؤ؛تمہارے معبودان میں سے کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا کر سکتا ہے،بعد ازاں اس کے معدوم ہو جانے کے اسے از سر نواصل حالت میں لوٹا سکتا ہے؟

Root: ع و د

قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Allah the Exalted originates the creation and after pause of time will cause his relapse—reverted to original state —

آپ (ﷺ)  ارشاد فرمائیں ’’یہ اللہ تعالیٰ ہیں ۔۔۔ وہ جناب سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔

فَأَنَّـىٰ تُؤْفَكُونَ ٣٤

  • Thereby, how come you people are deluded away from Him the Exalted?" [10:34]

چونکہ تم لوگوں کو ان معبودان کی اصلیت کا تجربے اور مشاہدے سے ادراک ہے تو کیسے اور کیوں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے منحرف کر کے جھوٹے نظریہ کی جانب راغب کر دیا جاتا ہے‘‘۔

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُـم مَّن يَـهْدِىٓ إِلَـى ٱلْحَقِّۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] confront them, "Who is one of your associates who guides towards the truth and reality?"

آپ(ﷺ)ان سے پوچھیں’’ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے معبودان میں سے کوئی ہے جو حقیقت کی جانب رہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔

قُلِ ٱللَّهُ يَـهْدِى لِلْحَقِّۗ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Allah the Exalted guides for the Infallible Truth (Qur´ān).

آپ(ﷺ)بتائیں’’یہ اللہ تعالیٰ ہیں جو مطلق حقیقت کو جاننے کے لئے رہنمائی فرماتے رہتے ہیں‘‘۔

أَفَمَن يَـهْدِىٓ إِلَـى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَـهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُـهْدَىٰۖ

  • Is then he more deserving who pioneers towards the infallible reality to be pursued in letter and spirit or someone else who can not aright guide his own self unless guidance is given to him?

کیا یہ صائب نہیں کہ جو شخص (رسول کریم ﷺ)بیان حقیقت کی جانب جانے کی راہ دکھا  رہاہے  وہ اس بات کا زیادہ  حق دار ہے کہ اس کے پیچھے خلوص سے چلا جائے یا اس کے پیچھے جانا جو خود تو کسی مقام کی جانب رہنمائی  نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ خود اس کو  کسی مقام پر لے جایا جائے۔

فَمَا لَـكُـمْ كَيْفَ تَحْكُـمُونَ ٣٥

  • Therefore, what else is relevant for you people? How you adjudge? [10:35]

چونکہ تم جانتے ہو کہ وہ خود تو چل کر کسی جگہ کا نشان راہ(ھدًی)بھی نہیں بن سکتے تو تمہارے لئے کیا جواز ہے کہ کیسے لوگوں کو ان کی پرستش کا حکم دیتے ہو۔

وَمَا يَتَّبِــعُ أَكْثَرُهُـمْ إِلَّا ظَنًّاۚۚ

  • Realize it, Most of them purposely pursue but conjectural hearsay-suppositions-hypothetic assertions.

متنبہ رہو؛ان لوگوں کی اکثریت سوائے گمان  سے اختراع کردہ تصور کے کسی مبنی بر حقیقت بات کی زیر مقصد پیروی نہیں کرتے۔

إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْئٙاۚ

  • The fact remains; conjecture and imaginative matter not at all avail in the presence of the infallible fact.

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  فرسودہ گمان پائے ثبوت کو پہنچی سچائی کے مقابل کسی بھی معاملے میں منفعت بخش نہیں ہوتا۔

إِنَّ ٱللَّهَ عَلَيـمُۢ بِمَا يَفْعَلُونَ ٣٦

  • Remain aware, Allah the Exalted is fully aware of what innovative acts they perform." [10:36]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے مطلق باخبر ہیں جو بھی جدید حرکت وہ کرتے ہیں۔


وَمَا كَانَ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَـرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ

  • Mind it, this Qur’ān were not such which could be authored, compiled and edited by someone other than Allah the Exalted.

اس حقیقت کو جان بھی لو اور پرکھ بھی لو؛یہ ٱلْقُرْءَانُ ایسا کلام نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی تصنیف و تالیف کبھی بھی کر سکے۔

وَلَـٟكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِ

  • To say it are ancient tales written by the Messenger is a lie; on the contrary, it is the affirmation and authentication in time and space of that which was sent in front of it (Qur’ān [previously sent -and/or Injeel])  —

یہ کہنا کہ رسول کریم  ماضی کی اساطیر  کے مؤلف ہیں دروغ گوئی ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زمان و مکان میں یہ اس کی تصدیق کرتا رہے گا جو زمان و مکان میں اس سے قبل حسب وعدہ ہدایت نامہ بھیجا گیا تھا۔

وَتَفْصِيلَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • Moreover, the organization-differentiation-delineation-arrangement of the said Book (Qur’ān) has been by the command of the Sustainer Lord of the Universes.

اور تو اور منفرد کتاب(ٱلْقُرْءَانُ )کو موضوعات کی فصول(فریم)میں متمیز اور مدون کرنا بھی ان جناب کی جانب اور صوابدید سے ہے۔

لَا رَيْبَ فِيهِ

  • -- Let it be known about the contents of the Book that it are absolutely void of peeving substance: suspicious, conjectural, whimsical, conflicting, ambiguous, anomalous, irrational, un-certain, illusory, unsubstantiated, incongruous, biased and opinionated matter --.

۔۔اس (ٱلْقُرْءَانُ )کے مجموعہ کلام/؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ کتابِ خاص جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔۔

مِن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٣٧

  • It is composed and organized in distinct frames by the command of the Sustainer Lord of the universes-physical realms. [10:37]

اس کو متمیز فصول اورآسان فہم انداز میں عالمین کے رب کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے مطابق مدون اور  تالیف کیا گیا ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُۖ

  • Contradicting it, do they keep saying to people: "He: Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] has drafted, compiled it (Qur’ān) with his own effort, perception, knowledge, and understanding?"

کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں" اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(ٱلْقُرْءَانُ )کو  ازخوداختراع کیا ہے"۔

قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٛ مِّثْلِهِۦ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "If you think it is authored by me, thereby, you bring one Surat: Segment authored in semblance of a Segment of it (Qur’ān) —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’چونکہ  آپ کا گمان  اور الزام ہے کہ یہ میرا تصنیف کردہ ہے  تواس کو ثابت کرنے یا اپنے آپ کو تذبذب اورالجھاؤ سے نکالنے کے لئےجائیں اوراِس (ٱلْقُرْءَانُ )کے مثل  تصنیف کردہ ایک سورۃ ہی لے آئیں۔

Root: س و ر

وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ

  • And for the needful, you invite- get help of all your friends-helpers-lawyers you have access to other than Allah the Exalted —

اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے  تمام  صاحبان علم اور لکھاریوں  کو بھی مدعو کر لو جن تک تمہاری رسائی ہو سکے۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٣٨

  • Try it, if you were truthful in your assertion about authorship of Qur’ān." [10:38]

ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو‘‘۔

بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ

  • No, their contention is false, the fact is that they have contradicted because of that which they have not comprehended-encompassed (hereafter-resurrection) with the assistance of its knowledge (Qur’ān).

ان کا یہ محض گمان ہے،انہوں نے برسرعام اس کو اس سبب سے  جھٹلایاہے کہ اس میں مندرج معلومات و علم کا مطالعہ کر کے  انہوں نے احاطہ ہی نہیں کیا۔

Root: ح و ط

وَلَمَّا يَأْتِـهِـمْ تَأْوِيلُـهُۥۚ

  • And as soon when actualization of its forecast would have come to them (they will have no respite and of avail believing it-read with 7:53; 34:51-52)

اور نہ ہی اب تک  اس میں بیان کردہ انجام تکذیب  کا ان پروقوع ہوا ہے۔

كَذَٟلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۖ

  • In the same manner, people who flourished before their times had contradicted —

اس انداز میں ان لوگوں نے بھی  کلام اللہ کو برسرعام جھٹلایاتھا جن کی جانب ان سے قبل رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٣٩

  • Thereby (to reduce sense of your grief), keep in mind as to what was the upshot of the people of past who were unjust evil doers. [10:39]

اس لئے(اپنے احساس غم کو کم کرنے کےلئے)آپ (ﷺ)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ  ماضی میں حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنانےوالوں کا آخر کار کیا انجام ہوا۔

وَمِنـهُـم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْـهُـم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦۚ

  • Know it, And there are rational people amongst them who accept/agree with it (Qur’ān) and some others amongst them do not accept/agree with it (Qur’ān).

ان میں عقل و فہم کے تابع رہنے والے دل کی شاد سے اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں جوجذبات و تعصب کے زیراثررہنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔

وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ ٤٠

  • Be aware; your Sustainer Lord is fully aware of those who create disorder, disquiet, imbalance, distortions, spread wicked, conjectural ideas/intellectual deceit/confusion in society. [by this act they  also get exposed to you] [10:40]

 اور آپ(ﷺ)کے رب انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں جوبگاڑ پیدا کرنے کے درپے رہتے ہیں۔

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّـى عَمَلِـى وَلَـكُـمْ عَمَلُـكُـمْۖ
أَنتُـم
بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۟ بَرِىٓ ءٚ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٤١

  • --Or do they keep saying to people: "He (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) has deliberately composed this (Qur’ān) himself with calculated purpose and painstaking effort to serve his own objectives, and then falsely attributed it to Allah the Exalted as His revealed Word?" (Cf. 10:38; 11:13; 32:03; 46:08)
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "If I have indeed composed this myself and falsely attributed it to Allah the Exalted, then, since such an act constitutes a criminal offence, the entire burden and legal liability of that crime shall rest exclusively upon me. As for myself, I stand completely absolved of every crime that you are committing by denying it, and by fabricating assertions contrary to the truth in pursuit of your own objectives.""-- [11:35]

کیا یہ انکار کرنے والے عمائدینِ قوم لوگوں سے مسلسل یہ کہتے رہتے ہیں کہ:"اس نے اپنے مقاصد کی خاطر محنت اور قصد کے ساتھ اس (قرءان)کو خود تصنیف کیا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر اس کی طرف جھوٹی نسبت کر دی ہے؟"
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "اگر میں نے اس (قرءان مجید)کو ازخود تصنیف و تالیف کر کے اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا ہے تو چونکہ ایسا کرنا  ایک مجرمانہ فعل ہے ،  
 اس  لئے اس کے جرم کا پورا وبال صرف مجھ پر ہوگا۔ ۔اور میں اس  سے  ہر طرح بری الذمہ ہوں جو آپ  لوگ اس کا  انکار کر کے اور حقیقت کے منافی  باتیں اختراع کر کے   اپنی ٖغایت سے  جرم کر رہےہیں "۔(سورۃ ھودؐ۔٣٥)

وَمِنْـهُـم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَۚ

  • And there are people amongst them who pretend attentively listening you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]

اور ان عمائدین مشرکین میں لوگوں کو فریب دینے والے وہ بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ (قرءان)سننے کی خواہش آپ(ﷺ)کی جانب متوجہ ہیں۔

أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ ٤٢

  • Thereby, can you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] cause such deaf to listen despite they were intentionally not applying the faculty of intellect to save speech in memory? [10:42]

اے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ کیا آپ  ایک ایسے کانوں سے  بہرے  شخص کو اپنی بات سنوا سکتے ہیں جو آپ سے پیٹھ پھیر کر چل دے  اور کیا ان کی سماعتوں تک بات پہنچا سکتے ہیں جو عقل استعمال کرنے پر رضامند ہی نہیں ہوتے تھے؟

Root: ص م م

وَمِنـهُـم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَۚ

  • And there are people amongst them who pretend looking towards you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]

اوران عمائدین مشرکین میں لوگوں کو فریب دینے والے وہ بھی ہیں جو محفل میں آپ کی جانب دیکھتے رہتے ہیں۔

أَفَأَنتَ تَـهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ ٤٣

  • Thereby, can you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] guide such blind person despite they were not focusing sight on the passage?  [10:43]

آپ اس پر غور کریں کہ کیا اسطرح کے منفرد اندھے کو آپ راستہ دکھا سکتے ہیں اور ان کو جو بصارتوں کو برؤے کار لانے پرراغب ہی نہیں ہوتے تھے۔

Root: ع م ى


إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْــٔٙا

  • Allah the Exalted does no wrong and minute injustice, nothing of the sort, to the people —

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کےساتھ معمولی سے معمولی زیادتی ،ناروا برتاؤ نہیں کرتے۔

وَلَـٟكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُـمْ يَظْلِمُونَ ٤٤

  • In fact it were the people who keep doing injustice and harm to their own selves. [10:44]

لیکن  لوگ حقیقت کو باطل سے بدل کر خود اپنے نفوس پر زیادتی کرتے اور اپنی شخصیت کوبگاڑتے ہیں ۔

وَيَوْمَ يَحْشُـرُهُـمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةٙ مِّنَ ٱلنَّـهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَـهُـمْۚ

  • Know it; the Day He the Exalted will gather them altogether; it will appear and will be the guesswork of some as if they had not stayed but for an hour of the day. They will be recognizing each others

مطلع رہو؛جس دن ازسر نو حیات دئیے جانے پر وہ جناب انہیں ایک مقام پر مجتمع کر دیں گے تو ان کا اندازہ یہ ہوگا جیسے وہ دن کے کچھ وقت کے دوران پہلی حالت میں رہے تھے۔وہ ایک دوسرے سے پہلے سے متعارف ہیں۔

Root: ل ب ث

قَدْ خَسِـرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ

  • Indeed they caused loss to their selves who contradicted their presentation to and accountability by Allah the Exalted —

یہ حقیقت    ہے کہ ان لوگوں نے انجام   کےحوالے     سےخسارا کمایا ہے جنہوں نے اللہ       تعالیٰ کے حضور احتساب کےلئے         پیش ہونے      کوبرملاجھٹلایا     تھا۔

وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ٤٥

  • It retained them in a state of those who incline not to become guided aright. [10:45]

اوروہ اس حالت میں رہے کہ راہ راست کو پانے کے متمنی ہی نہ تھے۔

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُـمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ
فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ
ثُـمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَـىٰ مَا يَفْعَلُونَ 
٤٦

  • Since the last moment will happen all of a sudden, thereby, supposing any moment Our Majesty make you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to witness-see with eyes a part of that (Last Day) which Our Majesty are promising to them; or in future Our Majesty cause you to become segregated from people by natural death before that Day —Since you are also not aware about the time and place of Last Day it does not make a difference between two assumptions, the final decision is that they will brought before Our Majesty for accountability —Afterwards your corporeal segregation by natural death Allah the Exalted is witness in timeline upon what they people innovatively perform. [10:46]

چونکہ یوم آخر نے بالکل اچانک وقوع پذیر ہونا ہے اس لئے اگر ہم آئندہ کسی وقت اس(دن)کے کچھ ابتدائی حصے کو آپ(ﷺ)کی نگاہوں کو دکھا دیں جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں؛یا اس سے قبل  آنے والے دنوں میں  ہم جناب آپ (ﷺ)کو لوگوں کی مصاحبت سے الگ کر لیں (بسبب طبعی موت)۔۔
چونکہ اس دن کے وقوع ہونے کا وقت اور زمانہ آپ(ﷺ)کو بھی معلوم نہیں اس لئے دونوں مفروضوں سے فرق نہیں پڑھتا؛حتمی طور پر طے شدہ یہ ہے کہ انہیں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔
آپ(ﷺ) کو لوگوں کی بشری مصاحبت سے الگ کرلینے کے بعد ازاں دور میں اللہ تعالیٰ ان کے ان افعال پر ہر لمحہ گواہ ہوں گے جو وہ کرتے ہیں۔(یونسؐ۔
٤٦)

وَلِـكُلِّ أُمَّةٛ رَّسُولٚۖ

  • Take note; A Messenger is the witness-prosecutor-defence lawyer for every nation-people.

اور زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ کے مبعوث فرمائے رسول ہر ایک ایک نسل کے لئے وکیل استغاثہ اوروکیل صفائی کا فرض انجام دیں گے۔

فَإِذَا جَآءَ رَسُولُـهُـمْ قُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْقِسْطِ

  •  [their return is to Our Majesty for accountability] Thereby, when their respective Messenger would have arrived [at the appointed time] the judgment will be passed between them on the principle of equity —

چونکہ عدالتی کاروائی پر فیصلہ ہوگا اس لئے جب ان کے لئے دنیا میں مبعوث فرمائے رسول تشریف لے آئیں گے۔تو ان لوگوں کے مابین انصاف اور برابری کے اصولوں کے مطابق معاملہ انجام کو پہنچا دیا جائے گا۔

Root: ق س ط

وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٤٧

  • Whereby they will not be subjected to any injustice [not even iota of it] [10:47]

اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٟذَا ٱلْوَعْدُ

  • And they say: "Tell us the data, time, period when this promise of Last Day will be fulfilled?

۔اور وہ پوچھتے ہیں’’بتاؤ یہ وعدہ کس تاریخ/دن کو پورا ہو گا۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٤٨

  • Tell us if you people were truthful in asserting resurrection?" [10:48]

بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرّٙا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "I do not possess authority and control for averting adversity; nor for material gain for my personal self except that which Allah the Exalted decided.

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’میرے پاس خود اپنی ذات کو ضرر دینے  اور نہ نفع  کا اختیار ہے۔ میرے لئے نفع اور ضرر صرف وہ ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہوا ہے۔

Root: م ل ك

لِـكُلِّ أُمَّةٛ أَجَلٌۚ

  • A reprieve period is designated for every generation - nation. [for accountability, in successive order].

ایک مقررہ میعاد اور لمحہ ہر ایک قوم         کے     ناکام یا کامیاب ہونے اور احتساب کے لئے پیش ہونے کے لئے متعین شدہ ہے ۔

إِذَا جَآءَ أَجَلُـهُـمْ فَلَا يَسْتَـٔ​ْخِرُونَ سَاعَةٙۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ٤٩

  •  [Since the Messenger/Witness-Prosecutor and the defense lawyer has come and seated] Thereby, the moment their appointed moment has reached, they cannot manage extending it for a second. Nor can they at their own advance its termination. [10:49]

چونکہ مساوات و عدل کے اصولوں کے تحت یہ متعین  کردہ ہے اس لئے جب ان کا  مقررکردہ لمحہ پہنچ جاتا ہے تو ان کے لئے باوجود شدید خواہش کے ایک                                                                   گھڑی مؤخر کرنا ممکن    ہے اور نہ وہ اپنی خواہش سے اس کو مقدم کر سکتے ہیں۔

Root: س و ع; ق د م

قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِنْ أَتَىٰكُـمْ عَذَابُهُۥ بَيَٟتًا أَوْ نَـهَارٙا

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "Have you people considered the possibility that if the Chastisement of Allah the Exalted reached you during night or during day light?

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’کیا تم لوگوں نے اس امکان پر غور کیا ہے کہ اگر ان جناب کا فرمان آفت تم لوگوں پررات کو نیند کے دوران یا دن دہاڑے پہنچ جائے۔

مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ ٥٠

  • Which one the criminals would aspire hastening by Him the Exalted?" [10:50]

اس میں سے کیا ہے جس کے لئے جرائم کے مرتکب قرار پائے لوگ عجلت کے خواہش مند ہوں گے۔

Root: ع ج ل

أَثُـمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنْتُـم بِهِۦٓۚ

  • Is it afterwards you people will believe in that when promised event/Day has occurred?

کیا عذاب کے بعد ازاں جب وہ وقوع پذیر ہو چکا تو اس پر ایمان لاؤ گے کہ وہ دھمکی نہیں حقیقت تھا۔

Root: و ق ع

ءَآلْـَٔـٟنَ وَقَدْ كُنتُـم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ٥١

  • [you will pronounce belief but will be rejected] Now that it has happened! Whereas indeed you had sought it to be hastened [since you thought it as conjecture and delusion]. [10:51]

کہا جائے گا’’اب! جبکہ تم اس کو عجلت میں لانے کا کہتے رہتے تھے‘‘۔

Root: ع ج ل 

ثُـمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ

  • Afterwards the blowing of second trumpet and resurrection it will be said for those who were evil mongers, distorters and unjust: "You people taste the chastisement of permanence —

بعد ازاں یوم قیامت از سر بو حیات دئیے جانے پر ان لوگوں کے لئے اعلان کر دیا گیا جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل اور سرشت کو اپنائے رکھا تھا’’ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب کو بھگتو۔

Root: ذ و ق

هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُـمْ تَكْسِبُونَ ٥٢

  • Are you people being requited except for what you people were earning by deeds?" [10:52]

بتاؤ کیا تمہیں سوائے اس کے کچھ اور سزا سے تو ہمکنار نہیں کیا جا رہا سوائے اس کے مطابق جو کسب تم لوگ کرتے رہے تھے‘‘۔

وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَۖ

  • And they seek authentication from you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]: "Is that promised Last Day a real fact?"

اور آپ(ﷺ)سے لوگ اس خبر کی تصدیق  چاہتے ہیں کہ کیا وہ بدیہی حقیقت ہے۔

قُلْ إِى وَرَبِّـىٓ إِنَّهُۥ لَحَقّٚۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Yes, and I swear by my Sustainer Lord that indeed it is a certain and absolute fact —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’بالکل؛اور میں اپنے رب کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں،وہ(یوم آخر اور حیات نو)اس طرح کا بیان حقیقت ہے جیسے وہ وقوعہ جو ہو چکا ہو۔

وَمَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ ٥٣

  • Mind it; you people certainly cannot retard it even with the help of all the diverters." [10:53]

اور تم لوگ یہ سکت نہیں رکھتے کہ اسے روک سکوموخر کر سکو‘‘۔

Root: ع ج ز

وَلَوْ أَنَّ لِـكُلِّ نَفْسٛ ظَلَمَتْ مَا فِـى ٱلۡأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦۗ

  • Know it; If all that wealth which is available in the Earth was available for a person who did wrong and evil to his self he would have indeed offered it as compensation, fine, recompense to get himself redeemed [on the Day of Judgment] —

متنبہ رہو؛اگر بالفرض وہ تمام دولت جو زمین میں موجود ہے ہر اس شخص کے پاس ہو جس نے حقیقت کے منافی باطل سرشت کو اپنائے رکھا تھا کہ اس کو معافی پانے کے لئے زرہرجانہ کے طور پیش کر سکے،تو بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

Root: ف د ى

وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَۖ

  • Know it; the feelings of ashamed regret would become apparent when they would have seen the punishment.

اور وہ ندامت اور احساس شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کریں گے جوں ہی انہوں نے انہیں گرفت میں لینے والے عذاب کو دیکھ لیا۔

Root: س ر ر;  ن د م

وَقُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْقِسْطِۚ

  • And the judgment will be passed between them on the principle of equity —

اور ان کے مابین انصاف اور برابری کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کے معاملے کو نبٹا دیا گیا۔

Root: ق س ط

وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٥٤

  • Whereby they will not be subjected to any injustice [not even iota of it] [10:54]

اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔

أَ لَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۗ

  • Beware and remember that whoever exists in the Skies and whoever exists in the Earth is exclusively the subject for Allah the Exalted.

  خبردار رہو؛حقیقت  یہ ہے  کہ سب کچھ جوآسمانوں میں موجود ہے اور سب کچھ جو زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے  شرف و کبریائی  بیان اور ظاہر کرتے ہوئےمصروف عمل ہے۔

أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚ

  • Be mindful; the promise of Allah the Exalted [regarding Last Day] is infallible reality —

خبردار رہو؛یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اتنا بدیہی حقیقت ہے جیسے پائے ثبوت کو پہنچ چکا ہو۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٥٥

  • But the fact remains most of them do not know/intend to understand. [10:55]

مگر ان کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔

هُوَ يُحْـىِۦ وَيُمِيتُ

  • He the Exalted causes emergence of life in matter and causes death to alive.

وہ جناب حیات کو ظہور دیتے ہیں اور ذی حیات کو موت سے ہمکنار کرتے ہیں۔

وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٥٦

  • And be mindful; you will be presented before Him the Exalted for accountability. [10:56]

متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
قَدْ جَآءَتْكُـم مَّوْعِظَـةٚ مِّن رَّبِّكُـمْ وَشِفَـآءٚ 
لِّمَا فِـى ٱلصُّدُورِ
وَهُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ 
٥٧

  • O you the Mankind, listen! Certainly, a wise counsel — a compassionate disclosure of the inevitable outcomes of deeds, both good and bad — has come to you. It was conveyed in a composition easy to comprehend by the Messenger, under command from your Sustainer Lord. And as for the psychological and moral disorders implanted and nurtured deep within the chests — this has arrived as a Healer and Restorer for them, restoring inner equilibrium (acting as semantic adaptogens: resonates with 98:1) .  
    And it shall act as a Guide across time and space, and a Mercy — a lasting Blessing — for those who accept and commit to faith. [10:57]

     

اے لوگو!دھیان سے سنو!زمان و مکان میں نافذ العمل نصیحت تم لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔اس کو تمہارے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں ملنے پر رسول کریم نے بیان کر دیا ہے۔اور ان نفسیاتی بیماریوں کے لئے تدارک جن کو تمہارے سینوں میں جاگزیں کر دیا گیا تھا۔
اور ہدایت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان پر قائم تھے اور جو اس پر ایمان لائے۔

Root: و ع ظ

قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْـمَتِهِۦ فَبِذَٟلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "It has been sent as Bounty of Distinction by Allah the Exalted with His Mercy. Thereby, they the true believers should rejoice.

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اس(قرءان مجید)کا عنایت کیا جانا اللہ تعالیٰ کے فضل اور ان کی رحمت کے دائمی موجود ہونے کا اظہار ہے۔چونکہ یہ ہدایت نامہ ہے اس لئے اس سے استفادہ کرو۔چونکہ تمام نفسیاتی الجھنوں سے بچنے کی نصیحت اس میں موجود ہے اس لئے شاداں رہو۔

Root: ف ر ح

هُوَ خَيْـرٚ مِّمَّا يَجْـمَعُونَ ٥٨

  • That (Qur´ān) is far better a blessing than what they the disbelievers collect and hoard [read with 43:31] [10:58]

یہ(قرءان مجید)اس تمام فضل و کرم سے بہترین ہے جسے وہ جمع کرتے رہتے ہیں‘‘[الزخرف۔31 ساتھ دیکھیں)۔

قُلْ أَرَءَيْتُـم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَـكُـم مِّن رِّزْقٛ فَجَعَلْتُـم مِّنْهُ حَرَامٙا وَحَلَٟلٙا

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Have you people given a thought to what Allah the Exalted has sent for you people as life maintaining sustenance? Thereby, you people have declared a part of it as prohibited and some as permissible".

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’کیا تم لوگوں نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے بطور رزق دنیا میں بھیجا ہے۔چونکہ تم اپنے مفاد میں اختراع کرنے کے شوقین ہو اس لئے تم نے اس رزق میں کچھ کو حرام اور کچھ کو لوگوں کے لئے حلال قرار دیا ہے‘‘۔

قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَـكُـمْۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] question them: "Have Allah the Exalted granted permission for you people to make such declarations?

آپ(ﷺ)سوال کریں’’کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا کرنے کا اجازت نامہ دیا ہے۔

أَمْ عَلَـى ٱللَّهِ تَفْتَـرُونَ ٥٩

  • Or you people conjecture a falsehood attributing it to Allah the Exalted?" [10:59]

یا حقیقت اس کے برعکس ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے کانٹ چھانٹ کر زیر مقصد باتیں اختراع کرتے ہو‘‘۔

وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْـتَـرُونَ عَلَـى ٱللَّهِ ٱلْـكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

  • And what is the perception and opinion of those who conjecture falsehood attributing to Allah the Exalted regarding the Day of Rising?

اوران لوگوں کا یوم قیامت کے متعلق کیا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر جھوٹ اختراع کر کے لوگوں سے بیان کرتے رہتے ہیں۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَـى ٱلنَّاسِ

  • It is a fact that Allah the Exalted is the possessor of bounty which is showered upon people —

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو کہ بلاشبہ  لوگوں  پرصاحب فضل وکرم ہیں۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُونَ ٦٠

  • But most of the people do not appreciate-recognize-express gratitude. [10:60]

اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ  اکثر لوگ  ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔


وَمَا تَكُونُ فِـى شَأْنٛ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْـهُ مِن قُرْءَانٛ
وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٛ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُـمْ شُهُودٙا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِۚ
وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٛ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا فِـى ٱلسَّمَآءِ

وَلَآ أَصْغَـرَ مِن ذَٟلِكَ وَلَآ أَكْبَـرَ
إِلَّا فِـى كِتَٟبٛ مُّبِيـنٍٛ ٦١

  • And never are you —O the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] — engaged in any serious matter — nor do you recite to people from it, from the Qur’ān (Cf. 10:37 ٱلْقُرْءَانُ), that from the text, selectively segment by segment, precisely suited to the occasion —
    And nor you people (listeners) perform an act except that Our Majesty are constantly observing you when you are engaged in it —
    And no element of a mass of sprinkled dot-speck present in the Earth nor that present in the Sky eludes from notice of your Sustainer Lord —
    Know it — neither any genus of particles relatively diminutive in mass than the speck (sub-atomic particles), nor genus of particles relatively greater — but all are inventoried within a Book that is explicitly explicative, conveying information in individuated, crystalline clarity. (Cf. 34:03) [10:61]

مطلع رہیں؛آپ(ﷺ)کے فرائض رسالت انجام دینے کے دوران کوئی لمحہ ایسا نہیں اوراس اہم کام میں سے جوآپ(ﷺ)اس (ٱلْقُرْءَانُ)میں سے موقع محل کے مطابق  اس کے  متن  میں سے لوگوں کو لفظ  بلفظ سنا رہے ہوتے ہیں؛
اور تم لوگ(قرءان مجید سننے والے)کوئی بھی ایسا عمل نہیں کرتے سوائے اس حال میں کہ ہم جناب  مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں جب تم اس کی انجام دہی میں مصروف ہوتے ہو۔
اور اے رسول کریم!آپ کے رب سے ذروں میں سے کوئی ایک نکتے کی قوت رکھنے والااپنے آپ کوپوشیدہ نہیں رکھ سکتا جو زمین میں موجود ہے اور نہ ہی وہ ایسا کر سکتا ہے جو آسمان میں موجود ہے۔
اور نہ ہی ان نکتہ نماذرات کی تمام جنس سے تقابل میں چھوٹے اور نہ ان تمام کے تمام کے مقابل بڑے موجودات ہیں۔
ماسوائے ان کے جو ایک ایسی کتاب(ام الکتاب)میں درج ہے جس کی خصوصیت یہ ہے  کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔

Root: ف ى ض;  ذ ر ر Sub-Atomic Particles are inventoried/catalogued; tells Qur’ān.

أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٦٢
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ 
٦٣

  • Know and be encouraged by the news about those who will be in affiliation-party of Allah the Exalted: Fear will not overshadow-haunt them; and neither will they have a cause to grieve — [10:62]

  • They are the people who had heartily believed and and kept endeavouring to protect their selves. [10:63]

جان لو؛ان لوگوں کے متعلق یہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ سے رفاقت اور قربت رکھتے ہیں:آخرت میں کسی طرح کا خوف ان پر مسلط نہیں ہوگا۔اور نہ کبھی انہیں حزن و ملال کا سامنا ہو گا۔
یہ وہ لوگ ہیں جو رسول کریم اور  قرءان مجید پر صدق قلب سے ایمان لائے اور وہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔

لَـهُـمُ ٱلْبُشْـرَىٰ فِـى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ

  • The Messenger has made it public; cheerfulness and pleasantness of countenance in the worldly life and in the Hereafter is the hallmark for them.

رسول کریم(ﷺ)نے ان کے لئے حیات دنیا اور حیات آخرت میں بہترین نتائج اور انجام کے متعلق خوش خبری کا عندیہ دے دیا ہے۔(الزمر۔۱۰ ساتھ پڑھیں)

لَا تَبْدِيلَ لِـكَلِمَٟتِ ٱللَّهِۚ

  • (You the Messenger remain assured) There is none at all an altered text in space-time that could manipulate alteration in the composition and arrangement of miscellany of words, phrases and sentences of Allah the Exalted or be its equivalent substitute.

(آپ ﷺ مطمئن رہیں )یہ حقیقت ہے کہ  زمان و مکان میں قطعاً کوئی  مبدَّل کلام نہیں جو اللہ تعالیٰ کے  مدون  اور مرتب کئےکلمات   میں  ردو بدل کر کے اورمتبادل خصوصیت کا حامل بنا کر پیش کیا جا سکے۔

ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ٦٤

  • This approval and appreciation for nearness and affiliation with Allah the Exalted is truly the greatest, grand achievement and success.  [10:64]

یہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

Root: ف و ز

وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُـهُـمْۘ

  • Pay attention; their slander should not render you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] grieved.

اور ان لوگوں کی ہرزہ سرائی اور لغو بیانی آپ(ﷺ)کے لئے موجب رمج،حزن و ملال نہ بننے پائے۔

إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَـمِيعًاۚ

  • The fact remains; the dominance is the privilege exclusively for Allah the Exalted; altogether in absolute sense.

یہ   حقیقت  ہے کہ  ا للہ تعالیٰ کیلئے تمام غلبہ و اقتدارمکمل طور پر مخصوص ہے۔

هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٦٥

  • He the Exalted is eternally the Listener, the All-Knowing. [10:65]

 ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔

أَ لَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَنْ فِـى ٱلۡأَرْضِۗ

  • Beware and remember that whoever exists in the Skies and whoever exists in the Earth is exclusively the subject for Allah the Exalted.

مطلع رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی آسمانوں میں ذی حیات موجود ہے اور جو کوئی زمین میں ذ ی حیات موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے دل کی شاد سے سربسجود ہوتا ہے اورنظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر سرنگوں ہو گا(محذوف خبر کے لئے دیکھیں الحج۔۸)۔

وَمَا يَتَّبِــعُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَۚ

  • And those, polytheist elite, who supplicate they declare associate gods, besides Allah the Exalted, will not follow the Messenger and Qur’ān  —

اور وہ عمائدین مشرکین  جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ متفرق معبودان کو پکارتے رہتے ہیں ، وہ رسول کریم  اور قرءان مجید کی اتباع نہیں کریں گے۔

إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ

  • The fact is that they purposely pursue but conjectural hearsay-suppositions — 

متنبہ رہو؛وہ                دانستہ زیر مقصد(دنیاوی       مفادات بٹورنے کی غرض سے)علم و  ثبوت    سےعاری باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔

وَإِنْ هُـمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ٦٦

  • And they compute not but just conjecturally guess-imagine-opine. [10:66]

اور وہ         علم و سچائی سے                                 ماورا  جھوٹےتخیلاتی قیاسات            کرنے کے علاوہ کچھ اور  نہیں کرتے۔

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيلَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّـهَارَ مُبْصِرًاۚ

  • He the Exalted is the One Who has appointed for you people the Night as time duration of rest-stillness during it, and the Day as provider of brightness and vision —

وہ جناب ہیں جنہوں نے رات کو تم لوگوں کے لئے دھندلا اور نسبتاً بارد بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ اس کے دوران راحت و آرام حاصل کرو۔اور ہم جناب نے دن کو تمہارے لئے روشن اور منور بنایا ہے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَسْمَعُونَ ٦٧

  • It is a fact that in it tangible manifestations are evidently reflective of Divine Providence and Will for such people who attentively listen. [10:67]

یقینا ان  عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جوبات توجہ اور انہماک سے سنتے ہیں۔


قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَـدٙاۗ

  • Be aware; they [Elders of earlier Jews and Christians] had said; "Allah has consciously and purposely adopted so and so as a son".

جان لو؛انہوں(قدیم یہودی عمائدین)نے کہا’’اللہ تعالیٰ نے عزیر کو زیر مقصد بطور بیٹا اپنا لیا ہے‘‘۔

سُبْحَٟنَهُۥۖ

  • He the Exalted is above such needs-support-weakness; Infinite Glory is for Him-His pleasure is the focus of all effort.

وہ جناب ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔

هُوَ ٱلْغَنِىُّۖ

  • He the Exalted is eternally the Absolutely Independent.

وہ جناب ہیں جو ہر احتیاج  سےمطلق منزہ اور مطلق آزاد ہیں۔

لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟت وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۚ

  • The fact is that whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth are subservient-dependant-subjects for Him the Exalted.

جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔

إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَٟنِۭ بِـهَـٟذَآۚ

  • [Ask them] "Produce it, if any concrete evidence/argument is lying with you people to substantiate your assertion (read for elisions with 37:155-157)—

۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے اس قول کے دفاع کے لئے قطعاً کوئی دلیل اور سند تم لوگوں کی جانب سے پیش نہیں کیا جاتا۔اگر تمہارے پاس ہے تو بیان کرو۔(محذوف کے لئے الصافات۔۱۵۵۔۱۵۷)

Root: س ل ط

أَتقُولُونَ عَلَـى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٦٨

  • Do you people ascribe to Allah the Exalted that about which you people have no knowledge?"  [10:68]

کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے وہ بات کہتے ہو جس کا ان کی جانب سے تمہیں علم حاصل نہیں۔

قُلْ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْـتَـرُونَ عَلَـى ٱللَّهِ ٱلْـكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ٦٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Those who conjecture false statements attributing to Allah the Exalted will never attain prosperous success-salvation at the end." [10:69]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہوئے منفرد جھوٹ اختراع کرتے ہیں کبھی دائمی کامیاب اور سرخرو نہیں ہو پائیں گے‘‘۔

Root: ف ل ح

مَتَـٟـعٚ فِـى ٱلدُّنْيَا

  • What they earn by such conjecturing is merely a meagre source of enjoyment in worldly life.

سامان زیست کا حصول دنیا میں ان کے روئیے اور طرز عمل کا محور ہے۔

ثُـمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ

  • Afterwards their escorting for subjecting them to justice is towards Our Majesty.

بعد ازاں حیات نو دئیے جانے پرحتمی طور پر طے شدہ یہ ہے کہ انہیں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔

ثُـمَّ نُذِيقُهُـمُ ٱلْعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا۟ يَكْـفُـرُونَ ٧٠

  • Afterwards Our Majesty will make them taste the severe punishment because they persistently kept disavowing. [10:70]

بعد ازاں عدالتی کاروائی مکمل ہو جانے پر ہم جناب انہیں شدید جسمانی اور نفسیاتی عذاب کا مزہ  چکھاتے رہیں گے اس جرم کی سزا میں جو وہ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولوں کے مابین تفریق ظاہر کر کے بدیہی کافر رہے تھے۔


وَٱتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] convey them the news about Noah [alai'his'slaam] when he said for his nation elite —

اور آپ(ﷺ)نوح(علیہ السلام)کے دور کی یہ خبر من وعن ان پر افشاں کر دیں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:

يٟقَوْمِ إِن كَانَ كَبُـرَ عَلَيْكُـم مَّقَامِـى وَتَذْكِيـرِى بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ

  • "O my nation! if my stand point and my awakening and admonishing masses with the Aa'ya'at: Verbal passages of the Book of Allah has been hard for you to tolerate —

’’اے میری قوم!اگر  اللہ تعالیٰ کے کلام پر مبنی آیات  کے مطابق میرا مؤقف اور میرا عوام الناس کو انتباہ اور خبردار کرنا تم لوگوں پر گراں ہے۔

فَعَلَـى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ

  • Thereby, I have placed reliance and dependence upon Allah the Exalted.

چونکہ میں رسالت کے فرائض انجام دے رہا ہوں اس لئے بہتر نتائچ کے لئے میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے۔

فَأَجْـمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُـمَّ لَا يَكُنْ أَمْـرُكُمْ عَلَيْكُـمْ غُمَّةٙ

  • Therefore, you consolidate your resolve and course of action, and invite your partners-associates; afterwards assembly and considered resolution your plan/affair/resolve would not cast dubiousness upon you people [read with 7:195]

چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین ہے اس لئے تم لوگ اپنے ارادے  کو متحد ہو کر حتمی کر لو؛اور اپنے شریک کاروں  کو مدعو کر کے ان سے مشورہ بھی کر لو۔بعد ازاں اجتماعی سوچ بچار کے تمہارا منصوبہ تم پر کسی پہلو سے باعث الجھاؤ اور پریشانی نہیں ہوگا[محذوف فعل کے لئے دیکھیں الاعراف۔۱۹۵]۔

Root: غ م م

ثُـمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَـىَّ وَلَا تُنظِرُونَ ٧١

  • Afterwards having consolidated your plan implement against me and allow me no respite." [10:71]

بعد ازاں اس سوچے سمجھے منصوبہ کو میرے  خلاف بروئے کار لے آؤ اور مجھے مہلت بھی نہ دو۔

فَإِن تَوَلَّيْتُـمْ فَمَا سَأَ لْتُكُـم مِّنْ أَجْرٍۖٛۖ

  • Therefore, if you people turn away unresponsive, it is your option since for this I have not asked you any remuneration.

چونکہ میں نے تمہیں بھی متنبہ کر دیا ہے اس لئے اگر تم ازخود پلٹ کر جاتے ہو تو اس بات پر تو غور کرو کہ میں نے اس کام کے لئے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کیا ہے۔

Root: و ل ى

إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِۖ

  • Indeed my reward-remuneration is due upon none except Allah the Exalted.

اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر واجب الادا ہے۔

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٧٢

  • And I was advised at the time of revelation that I be first of voluntary submitters to it". [10:72]

اور مجھے  منصب رسالت سونپتے ہوئے یہ حکم دیا گیا تھا کہ  میں کلام اللہ  کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں  میں  اول تسلیم کرنے والا بنوں‘‘۔

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَٟهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِـى ٱلْفُلْكِ

  • In response and for reason they publicly contradicted him, therefore in keeping with word and obligation to save Messengers and believers Our Majesty saved him and whoever was with him in the ship —

چونکہ ان پر مفادات  اور لوگوں پر تسلط رکھنے  کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے ان کے فرمودات کو برملا جھٹلا دیا۔نتیجے میں مہلت کا وقت ختم ہونے پر عذاب پہنچنے سے قبل ہم جناب نے انہیں(نوح علیہ السلام) اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ  کشتی میں سوار ہوئے تھے وہاں سے باحفاظت نکال دیا۔

Root: ف ل ك

وَجَعَلْنَٟهُـمْ خَلَـٰٓئِفَ

  • And Our Majesty had rendered them as the rulers-self governing states.

اور ہم جناب نے انہیں زمین میں خود مختار فرمانروا قرار دے دیا تھا۔

وَأَغْـرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـٔ​َايَـٟتِنَاۖ

  • And Our Majesty drowned those people of Noah's nation who had publicly contradicted our Aa'ya'at: Verbal Passages of Book.

اور ہم جناب نے ان لوگوں کو مقامی سیلاب میں غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات(کتاب کے مندرجات اور معجزہ)کو برملا جھٹلایا تھا۔

Root: غ ر ق

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ ٧٣

  • Therefore, [to take a lesson, you the Messenger tell everyone to travel in land and] "you see how was the conclusion/end result of those who were duly admonished and awakened?". [10:73]

چونکہ مجرمین کو سزا دینے کا اصول طے شدہ ہے اس لئے آپ(ﷺ) اپنے احساس غم کو کم کرتے کے لئے)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں متنبہ کئے گئے لوگوں کا اخر کار انجام کیا ہوا تھا۔

ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَـىٰ قَوْمِهِـمْ

  • Afterwards, in timeline after him (Noah [alai'his'slaam]) Our Majesty appointed Revivalist Messengers enjoying reputation of staunch monotheists towards their nation: people who were saved in the ship along with Noah [alai'his'slaam]

بعد ازاں ان(نوح علیہ السلام)کی طبعی موت کے ایک عرصہ بعد رسولوں کو جو اپنی قوم میں توحید کے پیروکار مشہور تھے ان کی قوم  کی جانب  ہم جناب نےمبعوث فرمایا۔

فَجَآءُوهُـم بِٱلْبَيِّنَٟتِ

  • Thereby they had brought to them evident/distinct/unprecedented [miraculous] demonstrative Signs.

فرائض رسالت سونپے جانے پروہ ان (قوم)کے پاس     عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے تھے     جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔۔

فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُۚ

  • Despite having seen and experienced signs, they were not even inclined for giving a thought to believe in that which they had publicly contradicted aforetimes.

عینی تجربہ اور ثبوت کے باوجود وہ  لوگ اس پر ایمان لانے کا سوچتے بھی نہ تھے جس کو وہ گزرے زمانہ میں برملا جھٹلا چکے تھے۔

كَذَٟلِكَ نَطْبَعُ عَلَـىٰ قُلوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ ٧٤

  • This is the reason Our Majesty renders what they themselves call envelop as veil-rust upon the the hearts of those who are transgressors, go beyond prescribed limits and rationality. [10:74]

یہ ہے طرز عمل کا وہ انداز جس پر ہم جناب  مسلسل  دانستہ زیر مقصد بے اعتدالیاں کرنے اور حدود و قیود کو پامال کرنے والوں کے دلوں پر،ان کے اپنے بقول پڑے غلافوںکوسربمہر کر دیتے ہیں۔

Root: ط ب ع

ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِـم مُّوسَـىٰ وَهَـٟرُونَ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـٔ​َايَـٟتِنَا

  • After a passage of time having annihilated the earlier civilizations Our Majesty appointed Revivalists Mūsā and Ha'roon [alai'his'slaam] as Messengers towards Fir'aoun (Pharaoh) and his Chieftains, equipped with Our unprecedented displays [miraculous] —

 ان قوموں کی ہلاکت کے عرصہ بعد ہم جناب نے موسیٰ اور ھارون(علیہماالسلام)کو فرائض رسالت تفویض فرما کر فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب مبعوث فرمایا عینی مشاہدہ  کے لئےہماری ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ     جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔۔۔

Root: م ل ء

فَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمٙا مُّجْرِمِيـنَ ٧٥

  • Thereat, they showed arrogance obsessed with pride of grandeur and superiority; and they were long been a defiant criminal nation.  [10:75]

عینی مشاہدہ اور تجربہ ہو جانے کے باوجود غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنی عظمت کے خواہش مند رہے؛اور ان کی  روش  بدستورمجرم قوم کی تھی۔

فَلَمَّا جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا

  • Thereby, as soon on their asking the Infallible Truth in the form of unprecedented display was presented to them as evidence from Our Grace:

ان کے مطالبہ پر جوں ہی  اس منفرد حقیقت کا اظہار ہو گیا جسےہم جناب   نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھانے کے لئے عنایت کیا تھا:

قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٟذَا لَسِحْرٚ مُّبِيـنٚ ٧٦

  • They (the confidants of Fir'aoun) said: "Indeed this display is certainly an evident illusion/hoax." [10:76]

انہوں(فرعون کے قریبی رفقا)نے جھٹ سے کہا’’یہ تو درحقیقت صریح شعبدہ بازی کا مظاہرہ ہے‘‘۔

Root: س ح ر

قَالَ مُوسَـىٰٓ أَتقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْۖ

  • Mūsā [alai'his'slaam] responded: "Do you say this about the evident undeniable fact when it has reached/perceived by you people?

موسیٰ(علیہ السلام)نے ان کو مخاطب کر کے کہا’’کیا تم لوگ یہ بات بدیہی حقیقت کے حوالے سے کہہ رہے ہو جوں ہی تم نے اس کو دیکھا۔

أَسِحْرٌ هَـٟذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّٟحِرُونَ ٧٧

  • Is this the presented unprecedented display an illusion/hoax? Be mindful, never ever the illusionists attain prosperous success at the end." [since illusion is short lived] [10:77]

کیا یہ جو دیکھ رہے ہو شعبدہ ہے؟متنبہ رہو،شعبدہ باز آخرکار کبھی کامیاب نہیں ہوتے لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنے میں‘‘۔

Root: س ح ر; ف ل ح

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا

  • They (Confidant chieftains) said: "Have you come to us for turning us away from culture and way of life on which we found our forefathers?

انہوں(فرعون کے قریبی رفقاء)نے کہا’’کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس تہذیب سے دور کر دیں جس پر ہم نے اپنے آباؤاجداد کو پایا تھا۔

Root: ل ف ت

وَتَكُونَ لَـكُـمَا ٱلْـكِـبْـرِيَآءُ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • And so that the superiority in the Land may become for both you.

اور سلطنت میں عظمت و بڑائی آپ دونوں کے لئے ہو جائے۔

وَمَا نَـحْنُ لَـكُـمَا بِمُؤْمِنِيـنَ ٧٨

  • Note it, we are not going to become believers for you two". [10:78]

اور ہم  آپ دونوں کے لئے قطعاً ایمان  لانے والے نہیں ہیں‘‘۔

وَقَالَ فِرْعَوْنُ

  • And Fir'aoun (Pharaoh) ordered:

اور فرعون نے اپنے قریبی رفقاء سے کہا:

ٱئْتُونِـى بِكُلِّ سَٟحِرٍ عَلِيـمٛ ٧٩

  • "You people (Confidant Chieftains) bring and come back to me with every knowledgeable magician/illusionist/displayer of illusory tricks." [10:79]

’’ تمام کے تمام شعبدہ بازی کے علم میں ماہرین کو لے کر  میرے پاس آؤ"۔

Root: س ح ر

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ

  • Thereby, when the magicians-illusionists had arrived;

چونکہ وہ الگ مشورہ کرنے چلے گئے تھے اس لئے جوں ہی شعبدہ باز واپس  آئےتو انہوں نے پہل کرنے کے متعلق استفسار کیا :

Root: س ح ر

قَالَ لَـهُـم مُّوسَـىٰٓ أَ لْقُوا۟ مَآ أَنتُـم مُّلْقُونَ ٨٠

  • Mūsā [alai'his'slaam] said to them: "Display to people that which you perform as conjurers." [10:80]

موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا"آپ لوگ کرتب دکھائیں، سامنے زمین پر پھینکیں جو تم پھینک کر شعبدہ دکھاتے ہو"۔

فَلَمَّآ أَلْقَوا۟ قَالَ مُوسَـىٰ مَا جِئْتُـم بِهِ ٱلسِّحْرُۖ

  • Thereat, when they had thrown-displayed; Mūsā [alai'his'slaam] said: "What have you shown is the illusory trick/hoax —

چونکہ وہ یکے بعد دیگرے تسلسل سے پھینک رہے تھے اس لئے جب وہ تمام پھینک چکے تو موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا’’وہ جو تم نے اس عمل سے پیش کیا ہے وہ منفرد شعبدہ ہے،مختصر وقت کے لئے فریب کی کیفیت ہے۔

Root: س ح ر

إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓۖ

  • Indeed Allah the Exalted will soon fade it away.

اس حقیقت کو جان لو؛اللہ تعالیٰ جلد اس کو باطل، پانی پر ابھرے جاگ کی مانند زائل کر دیں گے۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٨١

  • The fact remains that Allah the Exalted does not rectify action of those who create turbulence, distortions, inequity, imbalances, mischievousness. [10:81]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ ذہنی و فکری انتشار پھیلانے ،بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو بحال نہیں رہنے دیتے‘‘۔

وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٟتِهِۦ

  • Be mindful; Allah the Exalted establishes the fact as proven truth manifested by His words/ promises —

جان لو؛  اللہ تعالیٰ  حقیقت کو اپنے بیان کردہ کلمات کے ذریعے بدیہی حقیقت کے روپ  میں  بیان  فرماتے ہیں ۔

وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ ٨٢

  • Notwithstanding how aversive it was felt by the criminals." [10:82]

اس سے قطع نظر کرتے ہوئے چاہے وہ مجرم قرار پائے لوگوں کوناگوار محسوس ہو۔

Root: ك ر ه

فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَـىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٚ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَـىٰ خَوْفٛ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟ـهِـمْ أَن يَفْتِنَـهُـمْۚ
وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٛ فِـى ٱلۡأَرْضِ
وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْـرِفِيـنَ ٨٣

  • Sequel to threatening announcements, none believed in Mūsā [alai'his'slaam]— except a small group from among his own people — while they were under fear of Pharaoh and his chiefs, lest he should persecute them. —
    For indeed, Pharaoh was ever a self-exalting tyrant in the land, and surely he was certainly the worst among those who transgressed bounds. [10:83]

چونکہ ریاستی جبر سے لوگ دہشت زدہ تھے اس لئے حقیقت جان لینے کے باوجود موسیٰ )علیہ السلام)پر ایمان نہیں لائے،سوائے ان کی قوم کے چند جوانوں کے، جو فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف سے ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں ہیجان اور تکلیف دہ آزمائش میں مبتلا نہ کر دیں۔
ان کا یہ خوف بےوجہ نہ تھا — حقیقت یہ ہے کہ فرعون نے سلطنت میں اپنی عظمت و بڑائی کا ایسا رعب و دہشت انگیز ماحول قائم کر رکھا تھا، اور یہ بات عام شہرت رکھتی تھی کہ ظلم و جبروت کی تمام حدیں پھلانگ جانے والوں میں اس کا شمار سرفہرست تھا۔

Root: ذ ر ر;  م ل ء ; س ر فFir'aoun - Pharaoh: a King with acute Narcissistic personality disorder


وَقَالَ مُوسَـىٰ يٟقَوْمِ إِن كُنتُـمْ ءَامَنتُـم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُـم مُّسْلِمِيـنَ ٨٤

  • Learn further about the history of that era: Mūsā [alai'his'slaam in Egypt] said: "O my people! If you truly believe in Allah, then this is the moment to demonstrate the firmness of your faith — by placing your trust and reliance upon Him, with hope for the best outcome and the right time — if indeed you are committed to the divine code of life, Islam." [10:84]

اس دور کی تاریخ کے متعلق مزید جان لو؛موسیٰ(علیہ السلام) نے کہا’’اے میری قوم!اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو پختگی ایمان کے اظہار کے لئے بہتر وقت اور نتائج کے لئے ان پر بھروسہ اور اعتماد  رکھو۔پر امید رہو اگر تم ضابطہ حیات اسلام پر کاربند ہو‘‘۔

Root: و ك ل

فَقَالُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٙ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٨٥

  • In response, they said,: "We rely and place our trust in Allah, acting upon the dictates of reason and sound judgment, seeking the best results.۔ Our Sustainer Lord; Kindly do not render us as an object of trial for the people who adhere to false beliefs and practices opposed to truth. [10:85]

رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ہم عقل و خرد کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوکر بہترین نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ہمارے رب!ہمیں   اس قوم کی آزمائش/کھوٹے کھرے کو ظاہر کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں جو حقیقت  کے منافی باطل  نظریات اور طرز عمل پر کاربند ہیں۔

وَنَجِّنَا بِرَحْـمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٨٦

  • And O our Lord! By Your mercy, deliver us from the oppression and exploitation of the people who deny Your Messenger." [10:86]

اور آپ جناب ہمیں  اپنی رحمت  کے ساتھ رسول اللہ کا  انکار کرنے والی قوم کے ظلم و استحصال سے نجات دلائیں"۔(سورۃ یونسؐ۔٨٦)

وَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُـمَا بِمِصْرَ بُيُوتٙا

  • Know it; We had communicated to Mūsā [alai'his'slaam in Egypt] and his brother asking them that "you both may select and earmark houses for your nation within the city Misr: Egypt —

جان لو حالات کے پیش نظر ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)اور ان کے بھائی کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ’’آپ دونوں شہر مصر میں اپنی قوم کے لئے موافق اور سازگارگھروں کی نشاندہی کریں۔

وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُـمْ قِبْلَةٙ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَۗ

  • And you people declare your houses [in various localities respectively] as Confronting Focal Point [] and organize the Institution of As'salat: Time bound protocol of servitude and allegiance.

اور اپنے ان گھروں کو مختلف علاقوں میں  روبرو ہونے کا مقام قرار دے دو۔اور استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے تم لوگ صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے رہو

وَبَشِّـرِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٨٧

  • And guarantee-ensure the glad tidings to the heartily believing people." [10:87]

اورآپ (موسیٰ علیہ السلام)صدق قلب سےایمان لانے والوں کو کامیابی و کامرانی کی بشارت / ضمانت دیں‘‘۔

وَقَالَ مُوسَـىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةٙ وَأَمْوَٟلٙا فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا

  • And Mūsā [alai'his'slaam in Egypt] prayed: "Our Sustainer Lord! Indeed You have given Fir'aoun/ Pharaoh and his chieftains splendour and riches in the worldly life.

اور موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا’’اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہے کہ آپ جناب نے فرعون اور اس کے رفقاء سرداروں کوشان و شوکت اور مال و دولت سے حیات دنیا میں نوازا ہے۔

Root: م ل ء

رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَۖ

  • Our Sustainer Lord! they are employing it for the purpose they might astray people from the Path prescribed by Your Majesty.

اے ہمارے رب!مگر انہوں نے اس عنایت کو آپ جناب کے مقرر راستے سے لوگوں کو منحرف کر کے دور کر دینے کے لئے استعمال کیا ہے۔

رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَـىٰٓ أَمْوَٟلِـهِـمْ وَٱشْدُدْ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ

  • Our Sustainer Lord! You obliterate their riches and let their hearts remain hardened —

اے ہمارے رب!آپ ان کے مال و دولت پر خستگی طاری کر دیں۔اور ان کے دلوں پر سختی اور جمود کا اثر قائم رہنے دیں۔

فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَـتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٨٨

  • Whereby they might not believe until they see and face the painful chastisement." [10:88]

چونکہ یہ غفلت اور لا پرواہی کا سبب ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں تاوقتیکہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں‘‘۔

قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُـمَا

  • He the Exalted: "The prayer of you both has been answered".

ان جناب نے جواب دیا’’میں نے تم دونوں کی دعا کو شرف قبولیت دے دیا ہے(ایسا ہی ہوگا)‘‘۔

فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ٨٩

  • Hence, till it happens you both diligently remain steadfast and composed; and in future too you both should not follow the course of those who seek and acquire not knowledge." [10:89]

چونکہ ابھی مہلت کا کچھ وقت باقی ہے اس لئے آپ دونوں مطنئن رہتے ہوئے استقامت سے فرائض انجام دیتے رہیں،اور ان لوگوں کے اختیار کردہ راستے کی آئندہ بھی پیروی نہ کریں جو علم حاصل کرنے کے خواہشمند ہی نہیں‘‘۔


وَ جَٟوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُـمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَ عَدْوًاۖ
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَـرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٟهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٟٓءِيلَ وَ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ
٩٠

  • Know it; Our Majesty helped them safely cross over the [dried passage-fringing Reef] Gulf of Suez along with Bani Iesraa'eel —thereupon, seeing them cross safely, Pharaoh and his armed troops pursued them, driven by rebellion and enmity  —
    Until when the impending drowning made him realize — he (Pharaoh) said: "I have believed, indeed there is none at all a deity godhead who is living and is sustainer lord except He in Whom have believed Bani Iesraa'eel  —And now I am among the Muslims." [10:90]

اور ہم جناب نے انہیں بنی اسرائیل کی مصاحبت میں بحر سویز کو باحفاظت عبور کرنے میں مدد دی۔چونکہ انہوں نے سطح آب کے اوپر ابھرے خشک راستے سے بحافظت عبور ہونے کا منظر دیکھ لیا اس لئے فرعون نے  تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا۔اور اس کی پیروی اس کے لشکروں نے کی۔ان کو پکڑنے کی شدید خواہش اورعداوت اس کے قلب و ذہن پر غالب تھی۔
وہ تعاقب کرتا رہا یہاں تک کہ جب خشک راستہ ٹوٹ کر بکھرنے اور اس پر آن پڑنے کے سبب ،جب ڈوبنا اس پر آشکارہ ہو گیا
،
تو اس نے کہا’’میں اس حقیقت پر ایمان لے آیا ہوں کہ ان جناب کے علاوہ جن پر اسرائیل کے بیٹے ایمان لائے تھے کوئی ایک بھی جنہیں معبودان سمجھا جاتا ہے ذی حیات اور صاحب اقتدار نہیں۔اور میں اب اپنے آپ کو اسلام پر کاربند لوگوں میں شامل اور شمار کرتا ہوں‘‘۔

Exodus Root: د ر ك; غ ر ق

ءَآلْـَٔـٟنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٩١

  • He was rebuked: ‘Now — at this very moment — you are choosing to believe? while you had rebelled before, and you were indeed among those who spread corruption and disequilibrium. [10:91]

اسے جواب دیا گیا’’کیااب،اس وقت؛مگر اس سے قبل کے زمان میں ہمیشہ تو انکار کرتا رہا ہے۔اور تیرا شمار ان میں رہا جو حقیقت کے منافی ذہنی و فکری انتشار اور بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں۔

فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةًۭۚ 
وَإِنَّ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَٟتِنَا لَغَٟفِلُونَ 
٩٢

  • Since sufficient time and opportunities were given to you for submission which you availed not, thereby, today is the end of your respite period, therefore, Our Majesty will today render you rescued and relieved of fears, in the state of wearing your scale armour - your protective shield, . It will make you a symbol for him who succeeds you".
    However, fact remains that most of people are indeed neglectful and heedless of Our Aa'ya'at: eye opening existents. [10:92]

چونکہ تجھے سدھرنے کے بہت مواقع دئیے گئے مگر تونے گنوا دئیے اس لئے ہم جناب آج تجھے اپنے سینے پر پہنی زرہ بکتر سمیت اندر جاگزیں خوف اور بزدلی سے نجات دلا دیں گے۔اس طرح ہم تجھے ہر اس  شخص کے لئے  عبرت کا نشان بنا دیں جو تیرے جیسا طرز عمل اختیار کرے گا‘‘۔
متنبہ رہو؛یہ حقیقت ہے لوگوں میں اپنے آپ میں مگن کی اکثریت ہم جناب کی  جانب رہنمائی کرنے والی ہماری مظاہر فطرت کی نشانیوں سے غافل رہنے والے ہیں۔

Root: غ ف ل

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٛ وَرَزَقْنَٟهُـم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٟتِ

  • Know the history; Our Majesty had certainly settled Bani Iesraa'eel, a settlement fulfilling the promised word; and provided them sustenance comprising pleasant nourishing produce.

تاریخ سے مطلع ہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے مصر سے خروج پربنی اسرائیل کو مقرر کردہ ٹھکانا دیا تھا،وعدہ کو سچ کر دکھانے کے انداز میں مقرر کیا ہوا مقام۔اورہم جناب نے انہیں مرغوب اور صحت افزا سامان زیست مہیا کیا تھا۔

فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَـتَّىٰ جَآءَهُـمُ ٱلْعِلْمُۚ

  • Thereat, they mutually differed not till such time the Knowledge came to them.

چونکہ  من گھڑت تاریخ  کو پہلے چیلنج نہیں کیا گیا تھا اس لئے انہوں نے  رسول کریم سے  اس وقت تک اختلاف نہیں کیا تاوقتیکہ مبنی بر حقیقت علم(قرءان مجید)ان  کو پہنچ گیا۔

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ فِيـمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٩٣

  • [ignore them] Indeed your Sustainer Lord will adjudge between them, on the Day of Rising —Regarding the issue about which they kept differing/opposing (read with 2:113; and 34:17) [10:93]

(رہنے دو انہیں ان تخیلاتی خوش فہمی میں)یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ) کے رب  روز قیامت  ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔

فَإِن كُنتَ فِـى شَكّٛ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْـكِـتَٟبَ مِن قَبْلِكَۚ

  • Therefore, if in the past life you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] had responded sceptically regarding their ambiguous, unconfirmed assertions, about which Our Majesty have since compositely sent to you — therefore, subsequent to this communication, question-confront [with the revealed information] those who read the Book which was given to them earlier to you.

چونکہ اہل کتاب   متضاد اختلافی باتیں  کرتے ہیں اِس لئے اگرآپ ماضی میں  ان   موضوعات  پرعدم ثبوت باتوں پر شک کا اظہار کرتے تھےجن کے متعلق مبنی بر حقیقت معلومات ہم آپ پر مجتمع انداز میں نازل فرما چکے ہیں تو اپنے اظہار شک کے متعلق ان سے  سوال پوچھیں/انہیں سامنا کرائیں جو  منفرد  کتاب  کو پڑھ رہے ہیں جس کو آپ (ﷺ) سے قبل  انہیں عنایت کیا تھا۔

Root: ش ك ك 

لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ

  • Indeed the Infallible Doctrine-Discourse of Reality-Profitability and substance of permanence (Qur´ān) has since arrived to you, revealed and rendered in easy to comprehend composition from the Sustainer Lord of you the Messenger. (they know it-6:114)

یقینا بیان حقیقت: قرء ان مجیدآپ (ﷺ) کے رب کی جانب سے آپ کوآسان فہم تدوین میں پہنچ چکا ہے۔ (جسے وہ جانتے ہیں الانعام۔۱۱۴)

فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَـرِينَ ٩٤

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should not henceforth remain worrywart for such people of Book. [10:94]

چونکہ وہ حقیقت کو جاننے کے باوجود لیت و لعل کرتے ہیں اِس لئے آپ (ﷺ)کو چاہئے کہ اُن اہل کتاب کے لئے آج کے بعد زیادہ متردد/فکر مند انداز میں نہ رہیں۔

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـٔ​َايَـٟتِ ٱللَّهِ

  • And nor you should henceforth be worrywart for them who have publicly contradicted the Aa'ya'at: Verbal passages of the Book of Allah the Exalted —

اور نہ آئندہ آپ (ﷺ)ان لوگوں کے لئے       زیادہ  متردد اور فکرمند ہو کر  وقت دیں     جن  کا      تعلق ان سے ہے جنہوں نے اللہ  تعالیٰ کے کلام پر مبنی آیات کو برملا جھٹلایا ہے۔

Root: ء ى ى

فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٩٥

  • Since your time is precious and they are more deserving who feel awe of their Sustainer Lord, therefore, thereby, by working on them it will be loss of time. [10:95]

چونکہ آپ کا وقت قیمتی اور اسکے زیادہ حق دار اپنے رب سے بن دیکھے مرعوب اور سہمے رہتے ہیں اس لئے ایسا  کر کے وقت      کا نقصان کرنے والے بن جائیں گے۔

Root: خ س ر

إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْـهِـمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ ٩٦

  • Remain cognizant of the fact; those upon whom the Word of your Sustainer Lord is established  they will not accept/believe; [10:96]

آپ (ﷺ)یہ حقیقت یاد رکھیں کہ      وہ لوگ جن پر  آپ(ﷺ)کے رب کا بیان   حقیقت بن چکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

وَلَوْ جَآءَتْـهُـمْ كُلُّ ءَايَةٛ

  • They will not submit to belief despite if every unprecedented display (miracle) has come and observed by them —

وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے تمام قسم کی شہادتوں (آیات /معجزات)کا عینی مشاہدہ کر بھی لیں  جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے  اللہ تعالیٰ کی جانب سے سند اور برھان ہونے کا درجہ رکھتی ہوں تب بھی  ان کو وہ تسلیم نہیں کریں گے (اور کہہ دیں گے یہ طلسماتی شعبدہ بازی ہے)

حَـتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٩٧

  • They will believe only when they would see the painful chastisement.  [10:97]

وہ تب ایمان لائیں گے جب المناک عذاب دیکھ لیں گے۔

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٟنُـهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ

  • Despite having seen the unprecedented displays why were there not a town-people who believed whereby its believing would have benefited them; except nation of Yunus [alai'his'slaam] —

باوجود بار بار تنبیہ کئے جانے کے کیوں ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بستی ہوتی جو ایمان لے آتی تو حسب وعدہ رسول ان کا ایمان لانا اسے موجب نفع ہوتا، سوائے یونس(علیہ السلام) کی قوم کے۔

لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْـهُـمْ عَذَابَ ٱلخِزْىِ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا

  • As soon when they believed Our Majesty had averted away from them the chastisement of disgrace in the worldly life —

جوں ہی وہ ایمان لے آئے ہم جناب نے حیات دنیا میں رسوا کن عذاب کو ان سے دور کر دیا۔

; Root: خ ز ى: ك ش ف

وَمَتَّعْنَٟهُـمْ إِلَـىٰ حِيـنٛ ٩٨

  • And Our Majesty granted them the worldly comforts and resources for a term. [10:98]

اور ہم جناب نےایک مدت کے لئے انہیں  خوشحالی اور سامان زیست سے نواز دیا۔

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِـى ٱلۡأَرْضِ كُلُّهُـمْ جَـمِيعًاۚ

  • [You remain relaxed on their non acceptance and contradiction of Grand Qur´ān] Since, had your Sustainer Lord so willed, everyone who exists in the Earth would have undoubtedly accepted/believed, all of them collectively.

مطلع رہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اگر آپ(ﷺ) کے رب کا ارادہ اور منشاء یہ ہوتا تو   ان تمام میں سےہر کوئی جو زمین  میں موجود  ہے آپ (ﷺ) اور الہدی/قرءان مجید پر  ایمان لے آتا(ان کو عطا کردہ حریت سلب کر کے)، اجتماعی انداز میں۔

أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَـتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِيـنَ ٩٩

  • Therefore, would you continue exerting for people against their wilful disliking, for the purpose they they might become believers [to get relieved of grief you have for them]? [10:99]

کیا اس کے باوجود آپ(ﷺ)اپنی توانائیاں  خرچ کر کے اور زیادہ وقت  دے کر لوگوں کو مجبور کر سکیں گے یہاں تک وہ ایمان والے بن جائیں۔

Root: ك ر ه

وَمَا كَانَ لِنَفْسٛ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ

  • Know it; It is not possible for a person that he might proclaim belief except with the explicit permission of Allah the Exalted. [since He transmits data from brain to chest to enable someone utter words]

اس لئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ ایمان لانے کا اعلان کرنا بھی کسی شخص کے لئے ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا اذن ساتھ ہو(انسان زبان سے بولتا کیسے ہے وہ مطالعہ کریں)۔

وَيَجْعَلُ ٱلـرِّجْسَ عَلَـى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ١٠٠

  • And He the Exalted renders the confusion, skepticism, bias, prejudice as inhibition upon those who do not ponder and apply intellect to differentiate [conjecture from the truth]. [10:100]

اور وہ جناب  ان کے ہٹ دھرم منحرف طرز عمل کوایسے لوگوں پر چسپاں التباس و اضطراب کی آلودگی کا درجہ   دے دیتے     ہیں جو  حقیقت اور باطل کے مابین فرق جانچنے کے لئے عقل استعمال نہیں کرتے۔

قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "You people watch giving thought to that which is manifest in the Skies and the Earth.

آپ(ﷺ)لوگوں کو  کہیں’’تم لوگ ان مظاہر فطرت  کو دیکھو اور غور کرو جو آسمانوں اور زمین میں نمایاں ہیں ۔

وَمَا تُغْنِى ٱلْءَايَٟتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٛ لَّا يُؤْمِنُونَ ١٠١

  • The fact remains; the visible signs and the awakeners, admonishers avail not benefit to people who deliberately and persistently believe not. [10:101]

مگر یہ حقیقت ہے کہ مطلق حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی مظاہر فطرت کی نشانیاں اورمتعدد انتباہ ایسے لوگوں کوفائدہ دینے کا محرک نہیں بنتیں جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان نہیں لاتے۔

فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِـهِـمْۚ

  • Thereby, are they waiting to see but the like of the days of those who passed before them?

چونکہ وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تو کیا وہ اس صورتحال کے مثل وقوع پذیر ہونے کے منتظر ہیں جیسا ان لوگوں کے آخری دنوں میں پیش آیا تھا جو ان سے قبل اس طرز عمل پر کاربند رہے تھے۔

Root: خ ل و

قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّـى مَعَكُـم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ١٠٢

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them: "Therefore, wait for the promised thing to happen. I am indeed staying with you people awaiting patiently." [10:102]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’چونکہ تم لوگ اس باطل نظرئیے پرقائم رہنے پر بضد ہو تو نتائج کا انتظار کرو، میں تمہارے ساتھ منتظر ہوں"۔

ثُـمَّ نُنَجِّـى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ۚ كَذَٟلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٠٣

پھر، جب مہلتِ اتمامِ حجت ختم ہو جاتی تھی، تو ہم جناب ہمیشہ اپنے رسولوں اور ان تمام لوگوں کو نجات دیتے رہے جو دل سے ان پر ایمان لائے۔۔یوں — جیسے کہ پچھلی قوموں کے واقعات میں مثالیں بیان ہوئیں — اہلِ ایمان کی نجات، ہم جناب کی اپنی ذات پر عائد کردہ ایک ناگزیر ذمہ داری رہی ہے۔


قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ
  إِن كُنتُـمْ فِـى شَكّٛ مِّن دِينِى فَلَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٟكِنْ أَعْبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُـمْۖ
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٠٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "O you the people! listen;
    If you were in skepticism regarding the origin of my code and way of life —then know I never owe allegiance and submit to dictates in servitude to those whom you in your understanding do so by substituting Allah the Exalted. Instead, I owe allegiance and always submit to dictates in servitude to Allah the Exalted alone. He is the One Who by His own discretion renders you segregated from the society [on death as well on Day of Resurrection Cf. 4:97; 16:28; 16:70; 32:11; ]
    And it was commanded at the time of revelation that I be the first who accepted it (Qur’ān) among the present monotheist believers — [10:104]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:’’اے لوگو!دھیان سے سنو!
اگر آپ لوگ میرے دین،
ضابطۂ حیات اور نظامِ بندگی کے سرچشمہ اور اصل بنیاد کے بارے میں شک میں ہو کہ وہ کیا ہے ، تو جان لو کہ میں ہرگز  اُن کے لئے  بندگی ، وفاداری اور اطاعت  کے ساتھ سرِتسلیم خم کبھی نہیں کرتا جن کے آگے تم اپنے فہم کے مطابق اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بندگی ، وفاداری اور اطاعت   کا اظہار کرتے ہو۔لیکن میں تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی ، وفاداری اور اطاعت  کرتا ہوں — وہی ذات جو اپنی مشیت اور فیصلہ کے تحت تمہیں انسانی معاشرے اور اجتماعی زندگی سے جدا کر دیتی ہے [خواہ موت کے وقت ہو یا روزِ بعث  کے مرحلے میں]۔
اور نزول  قرءان  کے وقت مجھے  حکم دیا گیا تھا کہ میں موجود  توحید پر قائم  اہل ایمان میں  اس پر ایمان لانے میں اول ہونے کا اعزاز حاصل کروں۔

Root: ش ك ك;  و ف ى

وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٙا

  • And that keep maintaining focus of your attention for the Prescribed System-Code, perpetually a staunch monotheist —

اوریہ کہ اپنی  توجہ اور انہماک کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ دستور اور طرز حیات کے لئے مرکوز اور کوشاں رکھوں۔ہمیشہ التزام و دوام سے فلسفہ توحید پر کاربند مسلم۔(سورۃ الرون کی آیت۔۳۰ اور ۴۳ ساتھ پڑھیں)

Root: ح ن ف

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ ١٠٥

  • And like the past in future also you should not identify to be belonging to those who ascribe sculpted idols as associates of Allah the Exalted — [10:105]

اورمجھےمنع کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی ایسے شخص سے  دنیاوی تعلق اور نسبت  رکھوں  جو فلسفہ اشتراک پر کاربند   لوگوں میں سے ہے۔

وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُـرُّكَۖ

  • And you should not call anyone other than Allah the Exalted that neither causes you any benefit nor that could cause you any harm.

اور   یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کو نہیں پکارنا چاہئے جو نہ آپ کو  کبھی نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ کبھی ضرر پہنچا سکتا ہے۔

فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذٙا مِّنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٠٦

  • Since divine command has reached, therefore, if you did it once-first time, then certainly you would instantly be deemed amongst the distorters. [10:106]

چونکہ  انتباہ کر دیا ہے اس لئے اگر اب  اول بار اس کا ارتکاب کرو گے توچونکہ یہ خبردار کئے جانے کے باوجود ہو گا اس لئے ایسا کرنے پر فوراً آپ اس میں شمار ہوں گے جو حقیقت کے منافی باطل طرز عمل اپناتے ہیں۔

وَإِن يَـمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرّٛ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ

  • And if Allah the Exalted inflicts upon you distress; thereat for reason of He being absolutely dominant, there is none capable for removing that distress except Him the Exalted —

اور اگر اللہ تعالیٰ تم کو کسی تکلیف  دہ مشکل سے دوچار کر دیں     تو قطعاً  کوئی تکلیف سے آزاد کروانے والا نہیں  جو اس سے چھٹکارا دلا سکےسوائے خود ان جناب کے۔

Root: ك ش ف

وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْـرٛ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦۚ

  • And if He intends betterment for you, thereby, there is none at all who could revert His bounty —

اور اگر وہ جناب آپ کو بہتری سے فیض یاب کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں  تو چونکہ ان کا ہر ارادہ تکمیل شدہ کی مانند ہے اس لئے  ان کے عنایت کردہ فضل کو مستفیض سے دور کر نے والا قطعاً کوئی نہیں ہے۔

يُصَيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦۚ

  • He the Exalted causes this bounty to reach him whom He likes amongst His created subjects.

وہ جناب اپنے بندوں میں سے جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اس کو اس فضل سے فیض یاب کر دیتے ہیں۔

وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٠٧

  • Remain aware;  He the Exalted is repeatedly Forgiving/Overlooking and the Fountain of Infinite Mercy." [10:107]

اور وہ جناب   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔

قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "O you the Mankind! Listen;

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں!اے لوگو!دھیان سے سنو!

قَدْ جَآءَكُمُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُـمْۖ

  • The Infallible Doctrine-Discourse (Qur’ān) has since reached to you people, rendered easy to comprehend, from your Sustainer Lord —

بیانِ حقیقت (قرء انِ مجید)یقیناآپ لوگوں تک پہنچ گیا ہے،یہ آپ لوگوں کے رب کی جانب سے آسان فہم انداز میں مرتب فرمایا گیا ہے۔

فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَـهْتَدِى لِنَفْسِهِۦۖ

  • Thereby, whoever in response (the Qur’ān having reached) endeavoured getting aright guided, thereat, he is guiding-leading on the way only for his own self

اِس لئے لوگوں میں سے جس کسی نے(قرآنِ مجید پہنچنے پر) از خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔

وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَاۖ

  • Similarly, whoever remained neglectful-indifferent (towards Qur’ān having reached him), thereby the consequential fact is that his strays-neglect has effect upon his self

 اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے۔

وَمَآ أَنَا۟ عَلَيْكُـم بِوَكِيلٛ ١٠٨

  • Remain aware that I-Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] am not assigned the responsibility to act as disposer of affairs and caretaker upon you people." [10:108]

اورمیں آپ لوگوں کا وکیل/ ذمہ دار نہیں ہوں۔“(سورۃ یونس۔۸)

وَٱتَّبِــعْ مَا يُوحَـىٰٓ إِلَيْكَ

  • And you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] follow in practice, in letter and spirit, that (Grand Qur’ān) which has been verbally communicated to you.

اورآپ (ﷺ) خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا  ہوں  جو آپ کو  کتاب میں سے آسان فہم تدوین میں  کلام بھیجا جا رہا ہے ۔

وَٱصْبِـرْ حَـتَّىٰ يَحْكُـمَ ٱللَّهُۚ

  • And be coolly perseverant until Allah the Exalted decides/decrees/adjudges.

اور آپ(ﷺ)دھیرج رکھیں ان  نامعقول باتوں کو سن کر جو انکار کرنے والے عمائدین کرتے رہتے ہیں  جب تک اللہ تعالیٰ فیصلے کا فرمان جاری  فرما دیں۔

وَهُوَ خَيْـرُ ٱلْحَٟكِمِيـنَ ١٠٩

  • Be mindful, He the Exalted is the best of the Judges. (Cf. 7:87; 12:80) [10:109]

اور (آپ جانتے ہیں)وہ جناب بہترین اور اعلیٰ ترین فیصلہ فرمانے والے ہیں

011- سُوۡرَةُ هود

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


الٓرۚ كِتَٟبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٟتُهُۥ ثُـمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيـمٛ خَبِيـرٛ١

  • Alif–Lām–Rā. 5th Divine Address begins.
    (O Messenger, declare:) This is a book. — its Unitary Verbal Passages have been rendered perpetually firm, inviolable, and mutually coherent in structure.
    Afterwards, they were distinctly transmitted and compiled in separated enclaves, articulated in clarity, emanating directly from the Presence of the
    Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms Who is eternally aware.
    [11:01]

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔یہ کتاب جو آپ کے زیر مطالعہ ہے اس کا وصف یہ ہے کہ اس  میں درج انفرادی بیانات(آیات)مستحکم،ناقابل تردید،پائدار فرمان کی حیثیت کی حامل بنا دی گئی ہیں۔بعد ازاں وقفے وقفے سے ان آیات کی ترسیل کے انہیں ان جناب کے حکم سے جدا جدا موضوعات کے فریم/فصل میں  اس کتاب میں مدون   کر دیا گیا ہے جو مطلق فرمانروا ہیں اور مطلق باخبر ہیں۔

Root: ل د ن

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَۚ إِنَّنِى لَـكُـم مِّنْهُ نَذِيرٚ وَبَشِيـرٚ ٢

  • You the Messenger pronounce primary command is that you people submit not to subjection, subservience and allegiance but to Allah the Exalted. I am indeed appointed and assigned the responsibility by Him the Exalted to act as the Awakener and Admonisher and Guarantor of glad tidings for you all the people — [11:02]

آپ(ﷺ)بتائیں کہ بنیادی فرمان یہ ہے کہ "تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کی بندگی اور عبادت نہیں کرو۔میرے متعلق حقیقت یہ ہے کہ میں  کفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار اور خوش کن نتائج کی بشارت اور ضمانت دینے والا ہوں۔میں  تم لوگوں کے لئے اپنی یہ حیثیت ان  جناب کی جانب سے اذن دئیے جانے پر بیان کر رہا ہوں۔

وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ

  • And to advise you that: you people sincerely seek forgiveness from your Sustainer Lord; afterwards turn to Him perfecting sincerity and conduct.

اور ان کا یہ فرمان بتانے کے لئے کہ تم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔

يُمَتِّعْكُـم مَّتَٟعٙا حَسَنًا إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَمّٙى

  • He the Exalted would provide you excellent provision of transitory life-a tranquil life in times approaching the appointed moment of termination.

وہ جناب تم لوگوں کو مناسب اور خوشگوار سامان زیست متعین مدت کی مقررہ ساعت تک فیض یاب رکھیں گے۔

وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٛ فَضْلَـهُۥۖ

  • And He will ensure continued provision of His bounty to every person of grace [since He does not withdraw the granted grace unless people avert].

اور ہر ایک صاحب فضل کو اپنے فضل سے عنایت فرمائے گا۔

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٛ كَبِيـرٍٛ ٣

  • Take note, if you people about-faced refraining this command, then I am indeed afraid and apprehensive of infliction of punishment of a big day upon you. [11:03]

مگر اگر تم لوگ ان بشارتوں کے باوجود از خود پلٹ کر چلے گئے تو مجھے چونکہ اس کے نتائج کا علم ہے اس لئے مجھے بڑے دن کے عذاب کا تم لوگوں پر آن پڑنے کا خوف لاحق ہے۔

إِلَـى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُـمْۖ

  • The return of you people will be directed for accountability towards Allah the Exalted.

تم لوگوں کو آخرکاراللہ تعالیٰ کی جانب احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ٤

  • Remain cognizant, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm." [11:04]

خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں" ۔

أَ لَآ إِنَّـهُـمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُـمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُۚ

  • Look at them! They fold their chests thinking that they might hide their duality from Him the Exalted.

مگر ان کا  بے وقوفانہ بھولا پن تو دیکھو؛وہ اپنے سینوں کو اس خیال سے سکیڑتے ہیں کہ ان جناب سے اپنے دہرے پن کو مخفی رکھ لیں گے۔

أَلَا حِيـنَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَـهُـمْ يَعْلَمُ مَا يُسِـرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَۚ

  • The fact is that when they veil by their clothing; He the Exalted knows what they conceal and what they project.

اور اس بات کو بھی یاد رکھو کہ جب وہ اپنے کپڑے پہننے کی خواہش کرتے ہیں تو وہ جناب جانتے ہیں اسے جو وہ ظاہر کرتے ہیں اور اسے جو وہ چھپاتے ہیں۔

Root: س ر ر; ع ل ن;  غ ش ى

إِنَّهُۥ عَلِيـمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٥

  • Remain mindful;  He the Exalted is absolutely aware of what is possessed inside the chests. [11:05]

یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب اس کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں جوسینوں نے اپنے اندر چسپاں رکھا ہوا ہے۔


وَمَا مِن دَآبَّةٛ فِـى ٱلۡأَرْضِ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِ رِزْقُهَا
وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَاۚ
كُلّٚ فِـى كِتَٟبٛ مُّبِيـنٛ 
٦

  • Take note; there is not a single moving creature in the Earth but provision of their life maintaining sustenance is dependent upon Allah the Exalted —
    And He the Exalted knows the staying place and departing place of all of them.
    Every one of them is recorded in a book; its characteristic is that it is explicitly explicative
    —conveyor of information in succinct, individuated, distinct and crystallized manner. [11:06]

مشاہدہ کرو؛زمین میں تمام کے تمام جانوروں کی اقسام میں  کوئی ایسا موجود نہیں سوائے اس کے جس کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہے۔
اور وہ جناب ان کی دلپسند جائے قرار اور میل ملاپ اور سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتے ہیں
۔
جانوروں کی دنیا کے متعلق ہر ایک بات ایک ایسی کتاب (ام الکتاب)میں مندرج ہے
جس کی خصوصیت یہ ہے  کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔(سورۃ ھودؐ۔۶)

Root: د ب ب; ق ر ر

وَ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ ٱلْأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ
وَ كَانَ عَـرْشُهُۥ عَلَـى ٱلْمَآءِ
لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭاۗ
وَ لَئِن قُلْتَ إِنَّكُـم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٟذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِيـنٌۭٚ ٧

  • Moreover, He the Exalted is the One Who created the Skies and the Earth in a time duration of six days—time reckoned in outside this universe. (Cf. 7:54; 10:03; 25:59; 32:04; 50:38; 57:04)
    -- And His Throne, the Seat of Supreme Sovereignty, is ever located above the Water --.
    The intentionality and wisdom behind this creative activity was that He the Exalted might expose, by subjecting to a test, as to who among you people is more appropriate-balanced-beautiful-moderate with regard to conduct, behaviour and actions. (Cf. 18:07; 67:02)
    And would you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them: "It is a fact you will be resurrected after death" —Those who have refused to believe in Allah the Exalted and Hereafter would certainly say: "This proposition is not but manifest illusory perception-hoax." [11:07]

اوروہی جناب  ہیں جنہوں نے  سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔
۔۔اور ان جناب کا عرش
، یکتا تخت  یعنی اقتدارِ اعلیٰ اور حاکمیتِ مطلق کا مرکز پانی کے ذخیرہ سے اوپر کے مقام پر ہے۔۔
اس پوری تخلیقی تدبیر کے پسِ منظر میں مقصد یہ تھا کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔
اور اگر آپ (ﷺ)نے کہا"یہ حقیقت ہے کہ تم لوگوں کو تمہاری موت کے بعد یقیناً از سر نو حیات دے کر اٹھایا جائے گا"؛تو وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور آخرت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے  یقیناً کہیں گے "یہ تو  کچھ نہیں سوائے صریحاً فریب نظر،جھوٹےجھانسے،واہمہ کے"

   Man and the Universe - Why is the Universe the way it is? Root: ع ر ش; س ح ر

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْـهُـمُ ٱلْعَذَابَ إِلَـىٰٓ أُمَّةٛ مَّعْدُودَةٛ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓۗ

  • Take note; if Our Majesty delayed the infliction of punishment from them towards a determined/counted period (respite period) they would certainly say: "What detains that infliction?"

اور ان کا جانا پہچانا طرز عمل یہ ہے کہ اگر ہم جناب مخصوص عذاب کو ان سے  متعین عرصہ کے لئے مؤخر کر دیں تو وہ کہیں گے’’کیا ہے وہ جو اسے روک رہا ہے‘‘۔

أَ لَا يَوْمَ يَأْتِيـهِـمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْـهُـمْ

  • The fact is the Day it (infliction) comes to them it will not be averted from them.

خبردار رہو؛جس دن وہ عذاب ان پر پہنچے گاتو کوئی اس قابل نہیں ہوگا کہ اسے ان سے دوسری طرف پھیر دے۔

Root: ص ر ف

وَحَاقَ بِـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٨

  • And that hemmed them about which they consciously adopted a non serious jesting attitude keeping themselves playful with. [11:08]

اور ماضی  میں ایسا ہی ہوا کہ آخروہ(عذاب) ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے  دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ح ى ق; ھ  ز ء

وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ مِنَّا رَحْـمَةٙ ثُـمَّ نَزَعْنَٟهَا مِنْهُ

  • And once Our Majesty blessed the man to enjoy mercy from Our Grace; afterwards We wrested it away from him:

بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛ جب ہم جناب  نے اپنی جانب سے  رحمت کا اظہار کرتے ہوئے آسانیوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کئے رکھنے  کے بعد ازاں ہم جناب  نے اسے اس سے محروم کر دیا:  

Root: ذ و ق;  ن ز ع

إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٚ كَفُورٚ ٩

  • It is fact he is certainly despairing and intensely ungrateful. [11:09]

تو یہ حقیقت ہے کہ اس کا ردعمل اور رویہ مایوس، مرجھائے ہوئے ہٹ دھرم ناشکرے پن کا ہے۔

Root: ى ء س

وَلَئِنْ أَذَقْنَٟهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓۚ

  • And if Our Majesty would have let him taste affluence and pleasantness after the affliction which had affected him, he will certainly say: "Bad fortunes and afflictions have gone away from me".

اور یہ بھی مبنی بر مشاہدہ حقیقت ہے کہ جب ہم جناب  نےاسے ناگفتہ بہ اقتصادی صورتحال سے نکال کر جس کا اسے سامنا تھا راحتوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کے اسباب نواز دئیے تو ایسے لوگ یہ کہیں گے’’ پریشانیاں اور تکلیفیں مجھ سے دور ہو گئی ہیں‘‘۔

Root: ذ و ق

إِنَّهُۥ لَفَرِحٚ فَخُورٌ ١٠

  • Indeed he is surely an exulted boisterous boaster. [11:10]

ایسے شخص کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ واقعتاً اترانے اور شیخی بگھارنے والا ہے۔

Root: ف ر ح

إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • The above mentioned psyche in divergent situations is generally of human beings, except those who remained coolly perseverant and performed deeds of righteousness [in affliction and affluence]

حالت کے اتراؤ چڑھاؤ میں مذکورہ طرز عمل سے ایسے لوگ مبراہیں جو حوصلے اور استقامت سے ناگفتہ بہ حالات کو اللہ تعالیٰ سے امیدیں وابستہ رکھتے ہوئے برداشت کرتے ہیں اور صالح اعمال پر کاربند ہیں۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَأَجْرٚ كَبِيـرٚ ١١

  • They are the people [who qualified the test exposing their purity/sincerity]: forgiveness and magnificent reward is promised and is in wait for them. [11:11]

یہ ہیں وہ لوگ ۔۔۔مغفرت اور اعلیٰ ترین ایوارڈ کی بشارت ان کے لئے رسول کریم نے دے دی ہے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعْضَ مَا يُوحَـىٰٓ إِلَيْكَ

  • Thereby, because of information about human psyche that in affluence he falls into exultation and pride [11:9-11], you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] might anticipate him as abandoner of some content of revelation which is verbally communicated to you.

چونکہ لوگوں کی اس روش کاآپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوا ہے اس لئے امکان ہے کہ آپ کا سینہ آزردگی محسوس کرے کہ بعض لوگ آسودہ حال ہونے پر اس میں سے بعض سے صرف نظر کریں گے جو آپ(ﷺ)کی جانب وحی کیا جا رہا ہے۔

وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدْرُكَ

  • Take note, [We are aware] your chest feels constricted by the idea:

اور یہ خیال آپ(ﷺ)کے سینے میں ناگوار طبع اور باعث آزردگی ہے:

Root: ض ى ق

أَن يَقُولُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ

  • That they the affluent elite might say to people: "Why treasures have not been sent to him;

کہ عمائدین مشرکین لوگوں سے یہ کہیں گے’’کیا وجہ ہے کیوں  اس (رسول کریم)پر کوئی خزانہ نہیں اتارا گیا‘‘۔(انہوں نے کہا۔الفرقان۔۸)

Root: ك ن ز

أَوْ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌ

  • Or why an Angel has not come accompanying him [to act along with him as admonisher]"

یا یہ کہیں ’’ کیوں اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نہیں آیا؟‘‘

Root: ء ل ك

إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٚۚ

  • These propositions are not worth worrying since you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have only the assignment to inform, awaken and alert people to become cautious, aware and alarmed —

[یہ تو محض حجتیں ہیں]حقیقت یہ ہے کہ آپ(ﷺ)زمان و مکان کے لوگوں کو باطل پر قائم رہنے کے ناگفتہ بہ انجام اور عواقب سے پیشگی خبردار اور متنبہ کرنے والے ہیں۔

وَٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ وَكِيلٌ ١٢

  • And Allah the Exalted is upon every matter the Guardian, Protector, and Disposer. [11:12]

اور   اللہ تعالیٰ   تمام موجودات اور معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے  والے ہیں۔

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُۖ

  • Do they keep saying to people, "He: Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] has drafted, compiled it (Qur’ān) with his own effort, perception, knowledge, understanding?"

کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں"اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو  ازخوداختراع کیا ہے"۔

قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْـرِ سُوَرٛ مِّثْلِهِ مُفْتَـرَيَٟتٛ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "If you really suspect that it (Qur’ān) is personally authored by me, thereby, the best course to prove it is that you bring ten Suras: Segments/Chapters personally authored in semblance of it (Qur’ān).

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’چونکہ  آپ کا گمان  اور الزام ہے کہ یہ میرا تصنیف کردہ ہے  تواس کو ثابت کرنے یا اپنے آپ کو تذبذب اورالجھاؤ سے نکالنے کے لئےجائیں اوراِس (قرء ان )کے مثل  تصنیف کردہ دس سورتیں لے آئیں۔۔

Root: س و ر;  ع ش ر

وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ

  • And for the needful, you invite-get help of all your friends-helpers-lawyers you have access to other than Allah the Exalted —

اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے  تمام  صاحبان علم اور لکھاریوں  کو بھی مدعو کر لو جن تک تمہاری رسائی ہو سکے۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ١٣

  • Try it, if you were truthful in your assertion about its (Qur’ān) authorship." [11:13]

ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو‘‘۔

فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَـكُـمْ

  • Thereat, if they have failed responding to you people (to come with a similar composition) —

چونکہ اس کے من جانب اللہ ہونے کاان عمائدین کو اندازہ ہے اس لئے اگر وہ تم لوگوں کے لئے اس کا جواب دینا ممکن نہیں پاتے۔

فَٱعْلَمُوٓا۟

  • Thereby, you people convincingly realize-understand:  

تو تم لوگوں کو معلوم ہو جانا چاہئے:

أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلْمِ ٱللَّهِ

  • That it has compositely been sent to the elevated universal Messenger. Its status is that it is the expression of the knowledge of Allah the Exalted —

  • کہ یہ حقیقت ہے کہ اسے  مجتمع انداز میں  عالمی رسول پرنازل کیا گیا ہے۔اس کا متن  مطلق اللہ تعالیٰ کے علم اور اظہار پر مشتمل ہے۔

وَأَن لَّآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَۖ

  • And that realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Exalted (Allah).

اور یہ کہ ان تمام کے متعلق جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےمبنی بر حقیقت خبر یہ ہے کہ ان میں کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان واحد معبود مطلق اللہ تعالیٰ کے۔

فَهَلْ أَنتُـم مُّسْلِمُونَ ١٤

  • Then, for this reason, ask them "do you people surrender to it?" [11:14]

چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل اور ثبوت اس کے من جناب اللہ ہونے کی نفی میں نہیں ہے  اس لئے ان سے پوچھوــ ’’بتاؤ کیا تم تسلیم کر کے اسلام قبول کرتے ہو‘‘۔


مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَـهَا

  • Know the rule; Whoever decisively keep seeking the worldly gains - treasures and its attractions:

اصول جان لو؛جو کوئی حیات دنیا اور اس کی زیبائش و آراستگی کی خواہش کو اپنامطمح نظر بنائے رکھتا ہے۔

نُوَفِّ إِلَيْـهِـمْ أَعْمَٟلَـهُـمْ فِيـهَا

  • Our Majesty would pay them fully for their actions therein (worldly life) —

ہم جناب ایسے لوگوں کے معاشرے میں کئے ہوئے اچھے اعمال کا ثمر اس حیات دنیا میں لوٹا دیتے ہیں۔

Root: و ف ى

وَهُـمْ فِيـهَا لَا يُبْخَسُونَ ١٥

  • Without letting them meet diminutive result of their effort therein. [11:15]

اور ان لوگوں کو اس دنیا میں ثمر دینے میں  وہ کوئی کمی محسوس  نہیں  کرتے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَـهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُۖ

  • These are the people: Except the scorching Hell-Prison as their upshot in the Hereafter, nothing else is due for them.

یہ حیات دنیا میں جذب وہ لوگ ہیں جن کے لئے سوائے جھلسا دینے والی جہنم کے آخرت کی زندگی میں کچھ بھی موجود ہو گا۔

وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا۟ فِيـهَا

  • And that has become voided, weightless froth, destructive what they artfully fabricated therein (worldly life).

اور اس میں  مال و دولت   کے حصول کے لئے  جو فنکاریاں وہ کرتے تھے سب رائیگاں ہو گیا/محض زخم کے داغ کی طرح یاد بن کر رہ گیا۔

Root: ص ن ع

وَبَٟطِلٚ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٦

  • And it is void like the froth that fades away what they people kept doing.". [11:16]

اور وہ عمل و کاوش جو وہ کرتے رہتے تھے پانی پر ابھرے جھاگ اور میل کی طرح نابود ہو گیا۔

أَفَمَن كَانَ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّهِۦ

  • Is then he who has been pursuing the lucid course revealed in the Book from his Sustainer Lord; [like the one who follows his own lusts and conjectures-47:14]

کیا وہ شخص جو اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند رہا ہے

وَيَتْلُوهُ شَاهِدٚ مِّنْهُ

  • And a witness (of Bani Israel -46:10) recites from it (Qur’ān) word by word beginning it being revelation of Allah the Exalted;

اوراس (قرءن مجید)کوگواہی دینے والا (بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا۔الاحقاف۔۱۰)شخص لفظ بلفظ تلاوت کرتا ہے اس کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے منزل ہونے سے ابتدا کرتے ہوئے؛کیا اس کے مساوی ہے جو تخیلاتی باتوں اور اپنی خواہشات کا غلام ہے۔

وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٟبُ مُوسَـىٰٓ إِمَامٙا وَرَحْـمَةٙۚ

  • And the Book of Mūsā [alai'his'slaam] was delivered in times before it (Qur’ān); that served as a guide and blessing for the posterity of Iesraa'eel [alai'his'slaam]

اور موسیٰ(علیہ السلام)کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام پر مشتمل تحریر کردہ کتاب اس(قرءان مجید)کے نزول سے قبل اس مزاج کے لوگوں کے لئے رہنما اور اظہار رحمت کا کردار ادا کرتا تھا۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦۚ

  • Such people who have been pursuing the lucid course revealed in the Book from their Sustainer Lord believe in it (Qur’ān).

یہ پہلے سے واضح اور متبین تصور پر کاربند لوگ  ہیں جواس (قرءان مجید)پر ایمان لاتے ہیں اور لائیں گے۔

وَمَن يَكْـفُـرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥۚ

  • And should a person, presently associating with any of the variously identified groups of people, refuses to accept and believe in it (Qur’ān), thereby, scorching hell-prison is the promised abode for him.

اور جو کوئی اس (قرءان مجید)کا انکار کرے گا جس کا تعلق الگ الگ شناخت رکھنے والے کسی گروہ سے ہے، تو  جھلسا دینے والی جہنم اس کی آخرت میں رہائش گاہ ہو گی۔

فَلَا تَكُ فِـى مِرْيَةٛ مِّنْهُۚ

  • Since this is the pronounced decision from the time man was sent to the Earth, therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should not render yourself worrywart by reading worrying content from it [you will not be questioned/held responsible for residents of Hell]

چونکہ یہ اصول زمین پر بھیجتے وقت سے طے ہے  اور وہ لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اس لئے آپ (ﷺ)اس کے مندرجات سے ان اہل کتاب کے لئے متردد فکرمندی میں نہ رہیں۔

إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ

  • Indeed it (Qur’ān) is the Infallible Doctrine-Discourse to serve as admonition in easy to comprehend composition from the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]

اس  حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ (قرءان مجید)بیان حقیقت ہے ،آپ کے رب کی جانب سے اسے آسان فہم انداز میں منزَّل اور مدون کیا گیا ہے۔(البقرۃ۔۱۴۴، اور  القصص۔۵۳ ساتھ دیکھیں)

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١٧

  • However, despite its infallibility most of the people accept not the Divine origin of it. [11:17]

مگر ناقابل تردید بیان حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کے آپ کے رب کی جانب سے تصنیف و تدوین ہونا نہیں مانتے۔

وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًاۚ
أُو۟لَٟٓئِكَ يُعْـرَضُونَ عَلَـىٰ رَبِّـهِـمْ وَ يَقُولُ ٱلْأَشْهَٟدُ هَٟٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ عَلَـىٰ رَبِّـهِـمْۚ
أَلَا لَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَـى ٱلظَّٟلِمِيـنَ
٨

  • Reflect, who could be more guilty of unjust displacement—and thereby standing in opposition to reality—than the one who deliberately and artfully fabricates a falsehood to deceptively present it as the statement of Allah the Exalted? —
    These fabricators of falsity are the people who will be  forcefully arrayed before their Sustainer Lord —And the witnesses would testify about them saying: "These are the people who conjectured false assertions deceptively presenting them as the statement of their Sustainer Lord۔"
    Be mindful; the curse and condemnation of Allah the Exalted is incumbent upon the unjust evil mongers, distorters of facts: [11:18]

اور اس بڑھ کر حقیقت کے منافی رویہ اپنانے والا تخریب پسند کون ہو سکتا ہے جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟ ا
یہ جھوٹ پر مبنی تخریب کاری کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔اور گواہان کہیں گے’’یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب سے منسوب کر کے جھوٹ بولا تھا‘‘۔
خبردار رہو؛
 اللہ تعالیٰ کی جانب سے دھتکار دیا جانا ان لوگوں پر مستوجب قرار دیا گیا ہے جو حقیقت کے منافی بگاڑ،شر پھیلانے اور تخریب کے مرتکب ہوتے ہیں۔

Root: ل ع ن

ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَـهَا عِوَجٙا

  • Who hinder and divert people off the High road of Allah the Exalted; and vehemently attempt to render it distracted and misaligned for people [by distortions with conjectural myths] —

جو لوگ  اللہ تعالیٰ کی راہ سے پلٹانا چاہتے  ہیں  اس طرح سے کہ اس(راہ)کوناہموار اورکج ثابت کرنے کی جستجو اورتگ و دو کرتے رہتے ہیں ۔

Root: ع و ج

وَهُـم بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ كَٟفِرُونَ ١٩

  • And they in the heart of their heart are the rejecters of the Hereafter. [11:19]

اور یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے ہیں۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • These people [authors of false conjectures] did not become thwarters of the Book of Allah the Exalted in the Earth.

ان لوگوں کی خود اپنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے اور امر کو مؤخر اور وقوع پذیر ہونے سے زمین میں روک نہیں سکتے۔

Root: ع ج ز

وَمَا كَانَ لَـهُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَۘ

  • Take note; And none of protectors is there for them other than Allah the Exalted.

اور  اللہ تعالیٰ  کے علاوہ  خیر خواہوں اور ساتھ دینے والوں میں سے کوئی ایک بھی ان  کی طرف داری اور مدد کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہو گا۔

يُضَٟعَفُ لَـهُـمُ ٱلْعَذَابُۚ

  • The punishment will be doubled for them.

منفرد قسم کا عذاب ان لوگوں کے لئے باہمی طور پر دگنا ہو جائے گا۔

مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ

  • These people were not aspiring using the faculty of listening —

وہ بات کو سننے اور ماننے کی خواہش ہی نہیں رکھتے تھے۔

وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ ٢٠

  • And nor were they in habit of using the faculty of vision — [11:20]

اور نہ ان کی بصارت و بصیرت کو بروئے کار لانے کی عادت تھی۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِـرُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ

  • These are truly the people who have made their selves to suffer loss —

یہ ہیں وہ  لوگ جنہوں  نے اپنے آپ کے مقام و مرتبہ کا خسارا کیا۔

وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ٢١

  • And that lost and vanished from them what they used to artfully fabricate. [11:21]

اور  ان کے دل و دماغ سے  وہ غائب ہو گیا جو  زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔

لَا جَرَمَ أَنَّـهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمُ ٱلۡأَخْسَـرُونَ ٢٢

  • There is absolutely no doubt —That they are who will certainly be the worst losers perishing in the Hereafter. [11:22]

اس کو بدیہی حقیقت کے طور جان لو  کہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بدترین نقصان اٹھانے والے ہیں۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • Know the fact about those who have heartily believed in the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and Qur’ān and performed moderate righteous deeds —

ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَـىٰ رَبِّـهِـمْ

  • And they surrendered, their freedom and will, affectionately before their Sustainer Lord —

اور انہوں نے اپنی حریت کو عاجزی اور انکساری سے اپنے رب کی جانب سرنگوں کر دیا۔

Root: خ ب ت

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلجَنَّةِۖ

  • They are the people who will be the residents-inmates of the Paradise.

یہ لوگ ہیں جو اصحاب جنت ہیں۔

Root: ص ح ب

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٣

  • They will abide therein permanently. [11:23]

یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہائش پذیر رہیں گے۔

مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْـنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَـمِّ وَٱلْبَصِيـرِ وَٱلسَّمِيعِۚ

  • Example of two groups; one like the blind and the deaf; and the other of vision and the listener —

ان دو طرح کے فریقوں کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی جسمانی طور پر اندھا اور بہرہ ہے اور اس کے مقابل بصارت و بصیرت  کو برائے کار لانےاور توجہ سے سننے والا فریق ہے۔

Root: ص م م;  ع م ى

هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلٙاۚ

  • Are they both render identical in public eye?

تم لوگ بتاؤ کیا مثال کے لئے ان دونوں کو مساوی تصور کرتے ہو۔

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٤

  • Why you answer not; Is it for reason that you people are not in habit of self reflecting? [11:24]

کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا  اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَـىٰ قَوْمِهِۦٓ

  • Know the history; Our Majesty had indeed deputed Noah [alai'his'slaam] as the Messenger towards his nation.

قدیم تاریخ سے واقف ہو جاؤ؛ہم جناب نے نوح(علیہ السلام)کو ان کی  قوم کی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔

إِنَّـى لَـكُـمْ نَذِيرٚ مُّبِيـنٌ ٢٥

  • [He said, O my nation] "I am an Awakener, Admonisher, Warner manifesting for you people: [11:25]

انہوں نے قوم سے کہا "یہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردار تم لوگوں کے لئےکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا۔

أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَۖ

  • That you people should not submit in subjection, subservience and allegiance but to Allah the Exalted.

کہ بنیادی فرمان یہ ہے  "تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کی بندگی اور عبادت نہیں کرو۔

إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٍٛ أَلِيـمٛ ٢٦

  • I am apprehensive of punishment of a day of grievous hardship that might befall upon you people." [11:26]

یہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں تم لوگوں پر ایک اندوہناک دن میں عذاب مسلط ہونے کے متعلق"۔

فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِن قِوْمِهِۦ

  • Thereat, those of the ruling elite-chieftains of his nation who had refused to believe, responded:

ان کی قوم میں سے  زیادہ اثر و رسوخ  رکھنے والے ان سرداروں نے  جنہوں نے انہیں رسول ماننے سے انکار کر دیا تھا جواب دیا:۔

Root: م ل ء

مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَـرٙا مِّثْلَنَا

  • "We do not see and acknowledge you but a human being equal of us —

ہم آپ کو ماسوائے ہمارے جیسا ہی ایک بشر ہونے کے کسی اور اہمیت کا حامل نہیں دیکھتے۔

وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُـمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ

  • And we see you not that people have followed you except those who are our vilest-menials-riffraff, they are the men of superficial understanding —

اور ہم آپ کو نہیں دیکھتے سوائے اس حال میں ان لوگوں کے علاوہ کوئی آپ کے پیچھے شوق سے پیروی کرنے والا ہے سوائے ان کے جو بادی النظر میں ہمارے پست ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Root: ر ذ ل

وَمَا نَرَىٰ لَـكُـمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلِۭ بَلْ نَظُنُّكُـمْ كَـٟذِبِيـنَ ٢٧

  • And we see not that you people have any distinction upon us, rather we consider you people as liars." [11:27]

اور نہ ہم آپ کے لئے کسی منفرد عنایت کو دیکھتے ہیں جو ہم پر برتری اور محترم ہونے کا اظہار ہو۔ایسا کچھہ نہیں ہے بلکہ در حقیقت ہم تم لوگوں کو جھوٹا گمان کرتے ہیں"۔

قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّـى

  • He (Noah [alai'his'slaam]) said, "O my nation! Have you given a thought that if I am on the standpoint of rational and logical reason-explicit fact [Aa'ya'at] revealed by my Sustainer Lord —

انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔

وَءَاتَىٰنِى رَحْـمَةٙ مِّنْ عِندِهِۦ

  • And He the Exalted has given me Blessing from His Grace —

اور انہوں نے مجھے رحمت سے نوازا ہے جو ان جناب کی جانب سے قلب کو منور کر دینے والی ہے۔

فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُـمْ

  • Thereby, for reason of attention deficit disorder/not applying intellect under influence of vested interest, it has become obscured upon you.

مگر چونکہ تم لوگ مفادات کو پیش نظر کرعدم توجہ سے دیکھ رہے ہو اس لئے وہ (رحمت)تم پر دھندلا گئی ہے۔

Root: ع م ى

أَنُلْزِمُكُـمُوهَا وَأَنتُـمْ لَـهَا كَٟرِهُونَ ٢٨

  • Could we force its entry into brain/paste upon you people while you people are aversively reluctant for that? [11:28]

کیا ہم اس درخشاں رحمت کو تمہارے قلب و ذہن پر بزور ڈاخل کر سکتے ہیں اس حال  میں کہ تم لوگ اس کے لئے کراہت محسوس کر رہے ہو۔

Root: ك ر ه;  ل ز م

وَيٟقَوْمِ لَآ أَسْـٔ​َلُـكُـمْ عَلَيْـهِ مَالًاۖ

  • And, O my nation, I do not ask you for remuneration in kind upon it —

اور اے میری قوم!اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔

إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِۚ

  • Indeed my reward-remuneration is due upon none except Allah the Exalted —

اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر واجب الادا ہے۔

وَمَآ أَنَا۟ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • And neither I am going to drive away/abandon those who have since accepted/believed —

اور نہ میں ان لوگوں کو اپنے سے کسی بھی لمحے دور کروں گا جو دل کی شاد سے اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان لے آئے ہیں۔

Root: ط ر د

إِنَّـهُـم مُّلَٟقُوا۟ رَبِّـهِـمْ

  • Indeed they feel as if they are at every moment in the Presence of their Sustainer Lord —

یقیناً یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر لمحے اپنے رب کے حضور پیش  ہیں۔

وَلَـٟكِنِّىٓ أَرَىٰكُـمْ قَوْمٙا تَجْهَلُونَ ٢٩

  • But the fact is that I find you a people, you follow passions. [11:29]

مگر میں تم لوگوں کو ایک ایسی قوم دیکھ رہا ہوں کہ تم جذبات کی پیروی کر رہے ہو۔

وَيٟقَوْمِ مَن يَنصُرُنِـى مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّـهُـمْۚ

  • And, O my nation, who will help me under orders of Allah the Exalted if I abandon/drive them away?

اور اے میری قوم!مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کون مدد کرے گا اگر میں ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دوں۔

Root: ط ر د

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣٠

  • Why you answer not; Is it for reason that you people are not in habit of self reflecting?  [11:30]

کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا  اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔

وَلَآ أَقُولُ لَـكُـمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّـى مَلَكٚ

  • And I do not say to you people that the treasures of Allah the Exalted are with me; nor do I proclaim that I know all the non-visible secrets; and nor I say I am the Ruler/King/Sovereign.

اورمیں تم لوگوں میں یہ تشہیر نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں پر تصرف کا اختیار میرے پاس ہے۔اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں بصارتوں سے اوجھل موجودات کا علم رکھتا ہوں۔اور نہ میں تم لوگوں میں یہ تشہیر کرتا ہوں کہ میں  حکمران ہوں۔

وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُـمْ لَن يُؤْتِيَـهُـمُ ٱللَّهُ خَيْـرٙاۖ

  • And nor do I say for those whom your eyes look down upon that Allah the Exalted will never give them affluence, pleasantness.

اور نہ میں ان لوگوں کے لئے جنہیں تمہاری آنکھیں  اپنے تئیں حقیر دیکھتی ہیں  یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسودگی اور بھلائی عنایت نہیں کریں گے۔

ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِـىٓ أَنفُسِهِـمْۖ

  • Allah the Exalted fully knows about what is in their selves.

اللہ تعالیٰ اس بات کو مطلق جانتے ہیں جو ان کے نفوس میں پوشیدہ ہے۔

إِنِّـىٓ إِذٙا لَّمِنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٣١

  • The moment I abandon them I will instantly render myself one of inequitable, unjust, wrongdoers." [11:31]

یقیناً جس لمحے میں نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا میرا شمار بھی ان میں ہو گا جو حقیقت کو باطل سے بدل دیتے ہیں"۔

قَالُوا۟ يٟنُوحُ قَدْ جَٟدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٟلَنَا

  • They (chieftains) replied: "O Noah! listen, you have argued with us; thereby you have surpassed our arguments on disputed positions —

انہوں(کفار عمائدین)نے کہا" اے نوح!آپ نے ہم سے کافی بحث مباحثہ کر لیا ہے۔نتیجے میں ہمارے مباحث سے آپ نے زیادہ کثرت سے بیان کر دئیے ہیں۔

فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٣٢

  • Since we are not going to accept, you bring to us that which you have been promising/ threatening us with, if you were amongst the truth tellers." [11:32]

چونکہ ہم آپ کی  وہ بات نہیں مان رہے اس لئے آپ اسے لے آئے ہیں جس کی وعید ہمیں دے رہے ہیں، ایسا کر کے دکھائیں اگر آپ سچ بتا رہے تھے"۔

قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُـم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ

  • He replied: "Allah the Exalted alone can bring it to you people if He so willed —

انہوں(نوح علیہ السلام)نے جواب دیا"صرف اللہ تعالیٰ ہیں جو اس کو تمہارے پاس لائیں گے اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا،

وَمَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ ٣٣

  • Mind it; you people certainly cannot retard it even with the help of all the diverters.  [11:33]

اور ایسا ہو نے کو یقیناً تم لوگ ملتوی نہیں کر سکو گے۔

Root: ع ج ز

وَلَا يَنفَعُكُـمْ نُصْحِـىٓ إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَـكُـمْ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُـمْۚ

  • And my well wishes will not benefit you people if I decided that I might wish good for you if Allah the Exalted has decided that He might take you to the threshold of doom [which you ask me to hasten].

اور نہ میری نیک تمنائیں تم لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں  گی اگر میں  تمہارے لئے خیر خواہ  بننے کا ارادہ کروں اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہیں عذاب کی دہلیز پر کے جانے کا ہے۔

Root: غ و ى; ن ص ح

هُوَ رَبُّكُـمْ

  • He is the Sustainer Lord of you people —

وہ جناب تم لوگوں کے رب ہیں۔

وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٣٤

  • And be mindful; you will be presented before Him the Exalted for accountability. [11:34]

اور تم لوگوں کو ان کے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا"۔

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُۖ

  • --Or do they keep saying to people: "He (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) has purposely drafted, compiled it (Qur’ān) with his own effort, perception, knowledge, understanding?"

کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں" اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو  ازخوداختراع کیا ہے"۔

قُلْ إِنِ ٱفْتَـرَيْتُهُۥ فَعَلَـىَّ إِجْرَامِى

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "If I have purposely authored and written it (Qur’ān) at my own initiative attributing it as the Word of Allah, thereby, since it is cognizable offence, my crime will be a charge upon me —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "اگر میں نے اس (قرءان مجید)کو ازخود تصنیف و تالیف کر کے اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا ہے تو چونکہ ایسا کرنا جرم ہے اس لئے میرے جرم کا خمیازہ مجھ پر ہے۔

وَأَنَا۟ بَرِىٓءٚ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ٣٥

  • And I am absolved of what crimes you people are committing"-- [11:35]

اور میں اس جرم سے بری الذمہ ہوں جو تم لوگ کر رہے ہو اس کا  انکار کر کے اور حقیقت کے منافی  باتیں اختراع کر کے کیونکہ میرے ذمہ اسے تمہیں پہنچانا تھا"۔(سورۃ ھودؐ۔٣٥)

وَأُوحِـىَ إِلَـىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ

  • (reverting to historical narrative) Know the past history, it was communicated to Noah [alai'his'slaam]: "Be informed, none else in your nation will believe except him who has already accepted/believed —

مزید جان لو؛ نوح (علیہ السلام)کی جانب بذریعہ کلام پیغام بھیجا گیا تھا کہ بتانے کے لئے:"اپ کو قوم میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو اس سے پہلے ایمان لا چکے ہیں۔

فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ٣٦

  • Therefore, you should not feel melancholic - distressed because of what they kept innovatively doing. [11:36]

چونکہ صاحب حریت ہوتے ہوئے ان کا یہ اپنا سوچا سمجھا فیصلہ ہے اس لئے آپ کو ان کے ان افعال پر تکدر محسوس  اور افسوس نہیں کرنا چاہئیے جو وہ کرتے رہے ہیں۔

وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا

  • And you skilfully construct the ship while Our Majesty is watching and are communicating Our verbal instructions —

اور آپ مہارت سے منفردکشتی  بنائیں ،اس دوران آپ ہماری نگاہوں میں ہیں اور ہم زبانی ہدایات(وحی)بھیج رہے ہیں اس کی تعمیر کے لئے۔

وَلَا تُخَٟطِبْنِى فِـى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ۚ

  • And you should not address Me about those who have committed wrong —

اور آپ کو چاہئے کہ ہمیں ان کے حوالے سے مخاطب نہ کریں جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کی روش کو اپنایا ہے۔

Root:  خ ط ب

إِنَّـهُـم مُّغْـرَقُونَ ٣٧

  • Indeed they are who will be drowned." [11:37]

یقیناً وہ لوگ غرق کر دئیے جانے والے ہیں"۔

وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَـرَّ عَلَيْهِ مَلَأٚ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُۚ

  • While he was constructing the ship some of the chieftains of his nation mocked and ridiculed every time they passed by him.

وہ(نوح علیہ السلام)کشتی تیار کر رہے تھے۔جب جب ان کی قوم کے عمائدین ان کے قریب سے گزرتے تو ان میں سے بعض تمسخر کرتے۔

Root: س خ ر;  م ر ر;  ص ن ع;  م ل ء

قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُـمْ كَمَا تَسْخَرُونَ ٣٨

  • He said, "If you people intend to ridicule us thereat we are indifferent/distance from you like what you mock and ridicule. [11:38]

انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"اگر تم لوگ ہم میں سے بعض کا تمسخر اڑاتے ہو تو ہمارا رد عمل یقینا اس مزاح کی وجہ سے  تم  سے لاپرواہ  ہونا ہے جیسے تم ہنسی اڑاتے ہو۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٚ يُخْزِيهِ

  • Thereby soon will you know the one to whom comes the infliction which will humiliate him —

چونکہ تم سمجھنا نہیں چاہتے اس لئے عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کو وہ کون ہے  جس کے پاس وہ عذاب پہنچے گا جو اس کو رسوا کر دے گا۔

Root: خ ز ى

وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٚ مُّقِيـمٌ ٣٩

  • And the perpetuating-enduring infliction will become incumbent upon him." [11:39]

اور برقرار رہنے والا عذاب اس پر مستوجب ہو جائے گا"۔

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْـرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ

  • [they kept mocking] Till the time when Command of Our Majesty reached and the particular "Geyser" of area abruptly gushed forth —

وہ کشتی کی نوک پلک سنوارتے رہے یہاں تک کہ جب ہمارا حکم صادر ہو گیا اور علاقے میں موجود"گیزر"اچانک ابل پڑا:

Root: ف و ر

قُلْنَا ٱحْـمِلْ فِيـهَا مِن كُلّٛ زَوْجَيْـنِ ٱثْنَيْـنِ

ہم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ آپ اس پر ہر ایک چوپائے اور پودے کا جوڑا لاد دیں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔

وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَۚ

  • And embark your family members except the one male-non believing son, for whom the word has preceded/ decreed; and embark whoever has accepted/believed."

اور اپنے اہل خانہ کو اس میں سوار کر دیں،سوائے اس ایک فرمان کے جو ان کو پہلے بتا دیا گیا تھا،اور ہر اس کو جو ایمان لایا ہے۔

Root: س ب ق

وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٚ ٤٠

  • Know it, except a small number, people did not believe along with him [11:40]

اور یہ حقیقت ہے کہ سوائے چند لوگوں کے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان نہیں لائے تھے۔

وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيـهَا

  • And he (Noah [alai'his'slaam]) said, "You people embark in it —

اور ان جناب نے کہا"تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ۔

بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر⋄ىٰـهَا وَمُرْسَىٰـهَآۚ

  • Pronouncing the name of Allah the Exalted. Her activation for taking her course and her anchorage is subject to the permission of Allah the Exalted."

یہ کہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسم ذات سے ابتدا  ہے ۔(مطمئن  رہو)اس کے بہنے کاآغاز اور لنگر انداز ہونا اللہ تعالیٰ  کے منشاء اور اذن کے تابع ہے۔

Root: ر س و

إِنَّ رَبِّـى لَغَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٤١

  • Indeed, my Sustainer Lord is certainly oft-Forgiving and Merciful. [11:41]

حقیقت یہ ہے کہ میرے رب اکثر و بیشتر درگزر کر کے معاف فرمانے والے اور منبع رحمت ہیں"۔

وَهِىَ تَجْـرِى بِـهِـمْ فِـى مَوْجٛ كَٱلْجِبَالِ

  • And she (ship-ark) started smoothly sailing with them on board in the waves like long mountains —

اور وہ تھی کہ ان کو ساتھ لئے ان موجوں میں بہہ رہی تھے جیسے طویل پہاڑی سلسلے ہوں۔

Root: م و ج

وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِـى مَعْزِلٛ

  • And Noah [alai'his'slaam] loudly called his son who was standing at that time in an aloof place —

اور نوح (علیہ السلام)نے اپنے بیٹے کو اونچی آوازا میں پکارا جو اس وقت ایک الگ مقام پر کھڑا تھا۔

Root: ع ز ل

يٟبُنَىَّ ٱرْكَبَ مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْـكَـٟفِرِىنَ ٤٢

  • "O my dear son! embark with us; and you should not remain with the non-believers." [11:42]

"اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور اپنے آپ کو کافروں می معیت میں نہ کر"۔

Root: ر ك ب

قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَـىٰ جَبَلٛ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ

  • He replied; "I will soon betake myself up a mountain, the mountain will save me from the water".

اس(بیٹے)نے کہا'میں ابھی ایک پہاڑ کی جانب پناہ لے لوں گا۔وہ (پہاڑ)مجھے پانی کی پہنچ سے بچا لے گا"۔

قَالَ لَا عَاصِـمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ

  • He [Noah alai'his'slaam] called telling him, "There is none a protector who could save today someone from the commanded matter of Allah the Exalted except upon whom He showered mercy".

انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"آج قطعی کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ فرمان کی زد میں آنے سے بچانے والا ہو۔بچے گا صرف وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا"۔

Root: ع ص م

وَحَالَ بَيْنَـهُـمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْـرَقِيـنَ ٤٣

  • And the wave became barrier-separation in between both of them, whereby he was amongst the drowned. [11:43]

اور اس دوران ایک موج ان کے مابین حائل ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔

Root: م و ج

وَقِيلَ يٟٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيٟسَمَآءُ أَ قْلِعِى

  • Know it, later it was commanded: "O you the Earth! swallow - absorb your water; and O you the Sky, withhold the water".

سیلاب کا مقصد پورا ہو جانے پر فرمان ہوا"اے زمین! اپنے نکالے پانی کو واپس ذخائر میں جذب کر لے؛ اور اے آسمان؛اپنے پانی کو روک لے"۔

Root: ق ل ع

وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلۡأ​َمْـرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَـى ٱلْجُودِىِّ

  • And the water receded-subsided and the matter got accomplished. And the ship settled herself horizontally upon the Judi —

اورپانی اتر گیا اور معاملہ اختتام پذیر ہو گیا اور اس دوران کشتی "جودی" کے اوپر افقی طور پر احتیاط سے لنگر انداز ہو گئی۔

Root: غ ى ض

وَقِيلَ بُعْدٙا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٤٤

  • And it was announced, "Allah the Exalted has destined eradication for the nation of evil doers, distorters, unjust." [11:44]

اور کہہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے    ایسا دور کر دیا جانا جو مٹا دے ایسے لوگوں کا انجام قرار دیا ہے جو حقیقت کے منافی بگاڑ کی روش اور طرز عمل کو اپنائے رکھتے ہیں۔

وَنَادَى نُوحٚ رَّبَّهُۥ

  • Know it; Noah [alai'his'slaam] had groaned to his Sustainer Lord —

اور نوح(علیہ السلام)نے اپنے رب کو پکارا (حالانکہ سیلاب آنے سے قبل ظالموں کے متعلق مخاطب ہونے سے منع کیا تھا کہ انہیں ڈوبنا ہے)۔

فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِـى

  • Thereat [because of passion for progeny, controlling his hesitation] he said: "My Sustainer Lord! indeed my son was a mature member of my family —

اور  جھجک پر قابو پا لینے پرکہا"اے میرے رب!یہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے کہ میرا بیٹا میرے اہل خانہ کا جوان فرد تھا۔

وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ

  • And certainly the promise-word of You the Exalted is the absolute fact [he drowned as was said] —

اور آپ  جناب کا وعدہ توحقیقت بن کر رہتا ہے۔(وہ ڈوب گیا ہے)

وَأَنتَ أَحْكَـمُ ٱلْحَٟكِمِيـنَ ٤٥

  • And You are the Supreme and the Absolute Just of all the rulers and decision makers. [11:45]

اور آپ جناب عدل و انصاف کے تقاضوں کو انجام دینے والے سب سے برتر فرمانروا ،مقتدر اعلیٰ ہیں"۔

قَالَ يٟنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْـرُ صَٟلِحٛۖ

  • He the Exalted said, "O Noah [alai'his'slaam] [why you groan] he was indeed never belonged to your household since his conduct was indeed the opposite of a righteous/perfectionist.

ان جناب نے فرمایا"اے نوح(علیہ السلام)!حقیقت یہ ہے وہ تیرے اہل خانہ میں سے نہیں ہے۔درحقیقت وہ اصلاح کے منافی عمل پر کاربند تھا۔

فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌۖ

  • Therefore, you should not demand from Me about which you have not the complete information.

چونکہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ کون اپنا اور کون بیگانہ ہوتا ہے اس لئے آپ مجھ سے وہ  سوال نہ کریں   جس کے بارے آپ کے پاس معلومات نہیں ہیں۔

إِنِّـىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَـٟهِلِيـنَ ٤٦

  • I am affectionately and politely advising you only for the purpose that you might not become like the passionate. [11:46]

میں آپ کو اس لئے وعظ کر رہا ہوں کہ کہیں آپ جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں  ہو جائیں"۔

قَالَ رَبِّ إِنِّـىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـٔ​َلَكَ مَا لَيْسَ لِـى بِهِۦ عِلْمٚۖ

  • He replied, "O my Sustainer Lord! I beg Your pardon/seek refuge with You that I might ask about a thing about which I do not have complete knowledge/information.

انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"میرے رب!آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس شئے کا مطالبہ کرنے سے جس کے متعلق میرے پاس معلومات نہیں ہیں۔

Root: ع و ذ

وَإِلَّا تَغْفِرْ لِـى وَتَرْحَـمْنِـىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٤٧

  • And if You excused/overlooked for me not and showered mercy upon me I would be among the losers." [11:47]

اور اگر آپ جناب نے میرے لئے درگزر فرماتے ہوئے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں لانحالہ خسارہ کرنے والوں میں شمار ہوں گا"۔

Root: خ س ر

قِيلَ يٟنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٟمٛ مِّنَّا وَبَرَكَٟتٍٛ عَلَيْكَ وَعَلَـىٰٓ أُمَمٛ مِّمَّن مَّعَكَۚ

  • It was pronounced, "O Noah [alai'his'slaam] Disembark with peace and tranquillity bestowed by Our Majesty and blessings are upon you and upon the "nations" who will emerge from some those who are with you —

کہہ دیا گیا"اے نوح (علیہ السلام)!ہماری جناب سے سلامتی کی یقین دہانی کے ساتھ کشتی سے نیچے اتر جائیں۔ اور ہماری جانب سے آپ پر اور ان قوموں پر جو ان میں بعض سے پروان لیں گی جو افراد آپ کے ساتھ سوار ہیں۔

Root: ھ ب ط

وَأُمَمٚ سَنُمَتِّعُهُـمْ ثُـمَّ يَـمَسُّهُـم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٤٨

  • And the "nations" [emerging from those with you] Our Majesty will keep giving them worldly wherewithal; afterwards lapse of time [on becoming unjust/distorters] severe punishment will inflict them from Us. [11:48]

اور جو قومیں پروان لیں گی ہم جناب انہیں متاع حیات سے نوازتے رہیں گے۔بعد ازاں انہیں اپنی روش کو مجرمانہ کر لینے کی وجہ سے ہماری جانب سے جاری فرمان پر ایک اندوہناک عذاب انہیں جکڑ لے گا"۔

تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيـهَآ إِلَيْكَۖ

  • O, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], this information is partly from the news of the past facts which Our Majesty are verbally communicating to you.

یہ ماضی کے واقعات پر مبنی خبروں میں سے ہیں جو ہم جناب آپ(ﷺ)کی جانب بذریعہ کلام بیان کر رہے ہیں۔

مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٟذَاۖ

  • You hitherto did not know these facts/news, neither you nor your nation knew it before this Qur’ān.

(اس انداز میں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن جائے)اگرچہ آپ ان کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ(ﷺ) خود اور نہ آپ کی قوم اس(قرءان مجید)کے نزول اور انکشاف سے قبل کے زمانے میں۔

فَٱصْبِـرْۖ

  • Therefore, you remain coolly perseverant [on negative and irrational response]

چونکہ ان  کی ہرزہ سرائی  مہمل اور درخور اعتنا نہیں  مگر آپ کے لئے باعث کوفت ہے،اس لئے آپ(ﷺ) سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں۔

إِنَّ ٱلْعَٟقِبَةَ لِلْمُتَّقِيـنَ ٤٩

  • Indeed the ultimate accomplishment is exclusively for those who sincerely endeavour to attain salvation. [11:49]

اور جہاں تک آخرت کا اچھا انجام ہے،اس پر استحقاق صرف ان کا ہے جومحتاط اور تندہی سے غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔


وَإِلَـىٰ عَادٍٛ أَخَاهُـمْ هُودٙاۖ

  • And Our Majesty had deputed their brother Hued [alai'his'slaam] as the Messenger towards the nation Aad.

تاریخ جانتے جاؤ؛ ہم جناب نے ان کے ہم قوم بھائی ھود(علیہ السلام)کوقوم  عاد کی جانب بحثیت رسول بھیجا تھا۔

قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ

  • He said: "O my nation! "O my nation! you people be exclusively subservient-allegiant to Allah the Exalted.

انہوں(ھود علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!اتم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو۔

مَا لَـكُـم مِّنْ إِلَٟهٍ غَيْـرُهُۥٓۖ

  • Realize it, none at all of those considered and worshipped as gods other than Him the Exalted acts for you people as cherisher, protector, savior, and nourisher.

 تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛  ان   جناب کے علاوہ  معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی  نہیں جو تم لوگوں  کے  لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔

إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا مُفْتَـرُونَ ٥٠

  • You people are but purposely falsifiers and conjecturers. [11:50]

یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ  حقیقت کوبگاڑنے کے لئے فقط اپنے مقصد کے لئےشاطرانہ اختراع کرتے ہو۔

يٟقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ أَجْرًاۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱلَّذِى فَطَرَنِـىٓۚ
أَفَلَا تَعْقِلُونَ 
٥١

  • O my nation! I do not ask you people to pay any remuneration upon imparting this guidance —My reward/remuneration is upon none except Him the Exalted Who has originated and exposed me.
    Is it, then, for fear of loosing political hegemony that you intend not to reflect on the Divine message, O you the Chieftains? (Cf. 2:44; 2:76; 3:65; 6:32; 7:169; 10:16; 11:51; 12:109; 21:10; 21:67; 23:80; 28:60; 37:138=13) [11:51]

اور اے میری قوم!اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف  ان جناب پر واجب الادا ہے جنہوں نے عدم سے مجھے وجود اور ظہور دیا ہے۔
کیا   یہ سیاسی  اثر و رسوخ کھونے کا خوف ہے کہ آپ لوگ  اپنے رب کے پیغام پر  تعقل  کرنے کے لئے تیار ہی نہیں،اے سردارو!

Root: ف ط ر

وَيٟقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ

  • And O my nation! sincerely seek forgiveness from your Sustainer Lord; afterwards turn to Him perfecting sincerity and conduct.

اور اے میری قوم!تم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔

يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُـم مِّدْرَارٙا

  • He the Exalted would send upon you rain, timely and abundantly —

وہ جناب  تم لوگوں پر آسمان بھیج         دیں گے؛بروقت ضرورت وافر پانی برسنے کے انداز میں۔

Root: د ر ر;  ر س ل

وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَـىٰ قُوَّتِكُـمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِيـنَ ٥٢

  • And will strengthen you in strength over and above your present strength; and you people should not turn away as criminals. [11:52]

اور وہ جناب تم کوبڑھاوا دیں گے،تمہاری قوت میں مزید اضافہ کے حوالہ سے۔اور تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مجرم بنانے کی جانب مت پلٹاؤ‘‘۔

قَالُوا۟ يٟهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٛ وَمَا نَـحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِـهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَـحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيـنَ ٥٣
إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَـرَاكَ بَعْضُ ءَالِـهَتِنَا بِسُوٓءٛۗ
قَالَ إِنِّـىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّـى بَرِىٓءٚ مِّمَّا تُشْـرِكُونَ 
٥٤
مِن دُونِهِۦ فَكِيدُونِـى جَـمِيعٙا ثُـمَّ لَا تُنظِرُونِ ٥٥
إِنِّـى تَوَكَّلْتُ عَلَـى ٱللَّهِ رَبِّـى وَرَبِّكُـمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِـهَآۚ إِنَّ رَبِّـى عَلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٥٦
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُـم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُـمْۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّـى قَوْمًا غَيْـرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْــٔٙاۚ إِنَّ رَبِّـى عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ حَفِيظٚ ٥٧

  • They said, "O Hued, you have not brought to us distinct evidence/argument —And we are not going to leave-abandon our various iela'aha: godheads on your saying —And we will certainly not be believer for you. [11:53]

  • We say nothing except that some of our various iela'aha: godheads has firmly seized you with evil".
    He (Hued [alai'his'slaam]) said, "I call Allah the Exalted to witness, and you people bear witness that I am absolved of what you people associate with
    — [11:54]

  • Other than Him the Exalted. Thereby, you people conspire against me collectively, afterwards/consequentially having plotted let there be no respite for me. [11:55]

  • Indeed I rely and depend upon Allah the Exalted, my Sustainer Lord and yours Sustainer Lord. There is none amongst locomotive animals but He the Exalted has the grasp on her forelock. Indeed my Sustainer Lord guides upon the High road: Course that keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquillity. [11:56]

  • Therefore, if you people have turned away it is your response since I have indeed conveyed/handed over to you that message with which I was sent to you people —And my Sustainer Lord will give a nation other than of your origin ruling power and you people cannot do anything to harm His decision. The fact is that my Sustainer Lord is the guardian upon everything and affair". [11:57]

ان عمائدین مشرکین نے کہا’’اے ھود!تو ہمارے پاس کسی ٹھوس سند اور برھان کو نہیں لے کر آیا۔اور ہم اپنے معبودان کوآپ کے بیان  سے متاثر ہو کرمتروک کرنے والے نہیں ہیں۔اور نہ آپ کے کہنے پر  ہم کبھی ایمان لانے والے ہیں۔
ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودان میں سے بعض نے کسی بری شئے کی مضبوط گرفت میں  آپ کولے لیا ہے‘‘۔
انہوں(ھود علیہ السلام)نے جواب دیا’’میں تو اللہ تعالیٰ کو موقع پر موجود گواہ بناتا ہوں اور تم لوگ گواہی دو کہ 
میں تمہارے اس عمل سے  ہمیشہ بری الذمہ ہوں جوتمہارا فلسفہ اشتراک  معبودان ہے ۔
ان جناب معبود مطلق کے علاوہ۔
چونکہ  میں تمہارے من گھڑت فلسفے کو باطل قرار دے رہا ہوں جو تمہارے لئے باعث ہیجان و اضطراب ہے اس لئے  میرے خلاف  کوئی سازش تیار کرلوم سب مل کر اجتماعی کوشش سے۔بعد ازاں  سازش تیار کر لینے پر مجھے مہلت بھی نہ دینا۔
یہ حقیقت ہے کہ  رسالت کے فرائض انجام دیتے ہوئے  نصرت و حٖفاظت اور بہتر نتائچ کے لئے میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے۔میرے رب اور تم لوگوں کے رب۔اس حقیقت سے مطلع رہو کہ جانداروں میں کوئی ایسا نہیں ہے مگر ان جناب نے ان کی پیشانیوں سے  جب چاہیں گرفت میں کر لیتے ہیں۔یہ حقیقت ہے میرے رب ہر اس شخص کو جو منیب ہے منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والے راستے پر ہدایت سے نوازتے ہیں۔
چونکہ تم صاحب حریت ہو اس لئے اگر تم لوگ ازخود واپس پلٹ جاتے ہو تو عواقب کے ذمہ دار خود ہو گے کیونکہ میں نے وہ پیغام تم کو پہنچا دیا جس کے ساتھ مجھے تم لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہے۔اور میرے رب تم لوگوں سے الگ کسی قوم کوحکمرانی عنایت کر دیں گے اور تم لوگ اس قابل نہیں ہو گے کہ اس کو کسی قسم کا ضرر دے سکو۔اس حقیقت کو جان لو کہ میرے رب ہر ایک ایک شئے اور معاملے پر مطلق نگہبان ہیں‘‘۔

Root: ت ر ك; ع ر و; ك ى د; د ب ب; ن ص و

وَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا هُودٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٟهُـم مِّنْ عَذَابٍٛ غَلِيظٛ ٥٨

  • Know it, when Our Command had reached, Our Majesty rescued Hued [alai'his'slaam] and those who had believed along with him safely, by favour of advance information of matter by Our Majesty. And Our Majesty rescued them safely from a compact infliction. [11:58]

جان لو مہلت کا وقت ختم ہونے پر جوں  ہی ہمارا فرمان پہنچاہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے ھود (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی۔اور  ہم جناب نے  انہیں بحفاظت نکال کر لوگوں پر کٹھور عذاب   دیکھنے سے نجات دی۔

Root: غ ل ظ

وَتِلْكَ عَادٚۖ

  • Remember, this was the civilization of Aad —

متنبہ رہو؛یہ تھے عاد۔

جَحَدُوا۟ بِـٔ​َايَـٟتِ رَبِّـهِـمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَـهُۥ

  • They knowingly and deliberately rejected the Aa'ya'at: verbal passages and unprecedented displays of their Sustainer Lord; and rejected the word of His Messengers —

انہوں نے اپنے رب کی آیات کاباوجود ان کی حقانیت  کا ادراک رکھتے ہوئے انکار کیا؛اور ان جناب کے رسولوں کےانتباہ  کو ماننے سے انکار کرتے رہے۔

Root: ع ص ى; ج ح د

وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍٛ عَنِيدٛ ٥٩

  • And they purposely followed the word and command of every tyrant/powerful obstinate. [11:59]

اور انہوں نے  رسولوں سے عناد رکھنے والےہر جابر  کے فیصلے کی بھرپور پیروی کی۔

وَأُتْبِعُوا۟ فِـى هَـٟذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةٙ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

  • Take lesson, they were chased by curse and condemnation in this worldly life and so will be on the Day of Rising.

ان کا انجام جان لو؛اس دنیا میں اور یوم قیامت کو پھٹکار،لعنت ملامت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے۔

Root: ل ع ن

أَ لَآ إِنَّ عَادٙا كَفَـرُوا۟ رَبَّـهُـمْۗ

  • The fact is that civilization Aad refused to believe in their Sustainer Lord.

خبردار رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ قوم عاد نے اپنے رب کا دراصل انکار کیا تھا۔

أَ لَا بُعْدٙا لِّعَادٛ قَوْمِ هُودٛ ٦٠

  • Be warned; Allah the Exalted commanded eradication of civilization Aad, nation of Hued [alai'his'slaam]. [11:60]

خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم عاد کو نیست و نابود کر دینے کے انداز میں،قوم جس کی شناخت ھود(علیہ السلام)کے نام سے برقرار ہے۔


وَإِلَـىٰ ثَمُودَ أَخَاهُـمْ صَٟلِحٙاۚ

  • And Our Majesty had indeed deputed their brother Sa'leh [alai'his'slaam] as the Messenger towards the nation Sa'mued.

اورہم جناب نے صالح (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم  ثمودکی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔

قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ 

  • He said: "O my nation! "O my nation! you people be exclusively subservient-allegiant to Allah the Exalted.

انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو۔

مَا لَـكُـم مِّنْ إِلَٟهٍ غَيْـرُهُۥۖ

  • Realize it, none at all of those considered and worshipped as gods other than Him the Exalted acts for you people as cherisher, protector, savior, and nourisher.

 تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛  ان   جناب کے علاوہ  معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی  نہیں جو تم لوگوں  کے  لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔

هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرْضِ وَٱسْتَعْمَـرَكُمْ فِيـهَا

  • He the Exalted has given you prominence, originating you from the elements chosen from the Earth since He had desired settling you people therein (for a determined period)

وہ جناب ہیں جنہوں نے  تم لوگوں  کی نمائش  کی ہے؛اس کا آغاز  زمین میں سے پسند کئے عناصر سے  کیا گیا۔اور انہوں نے اس میں تمہیں ایک مدت کے لئے آباد کیا ہے۔

Root: ع م ر; Root: ن ش ء

فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِۚ

  • Therefore, for what you have been doing hitherto seek forgiveness from Him, and afterwards  turn to Him perfecting sincerity/conduct.

چونکہ تم لوگ ان حقائق سے غافل رہے ہو اس لئے ان جناب سے درگزر،پردہ پوشی اور معافی کے خواستگار بنو؛بعد ازاں ندامت محسوس کرتے ہوئے ان جناب کی جانب پلٹو۔

إِنَّ رَبِّـى قَرِيبٚ مُّجِيبٚ ٦١

  • Truly my Sustainer Lord is Omnipresent and Responsive [to those who ask of Him]. [11:61]

یہ حقیقت ہے کہ میرے رب ہمیشہ قربت میں موجود ہوتے ہیں،وہ پکارنے اور رجوع کرنے والے کو جواب دینے والے ہمہ وقت گوش  بر آوازہیں‘‘۔

قَالُوا۟ يٟصَٟلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوّٙا قَبْلَ هَـٟذَآۚ

  • They said, "O Saleh! you were a brightening hope among us before this stance of yours.

انہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"اے صالح!اس(اللہ تعالیٰ کے احکام دینے)سے قبل  آپ ہمارے درمیان ایک روشن امید تھے۔

Root: ر ج و

أَتَنْـهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا

  • Are you forbidding us not to worship/be allegiant for that which our forefathers kept worshipping?

کیا آپ ہمیں اس کی بااظہار بندگی کرنے سے ممانعت کر رہے ہیں جس کی ہمارے آباؤ اجداد بندگی کرتے رہے ہیں۔

وَإِنَّنَا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ ٦٢

  • It is a fact that we are certainly plunged in doubt about that towards which you are inviting us, the doubt having characteristic trait of causing disquiet, irritation, and disconcert". [11:62]

اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔

Root: ش ك ك

قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٙ مِّن رَّبِّـى

  • He (Saleh alai'his'slaam) said, "O my nation! Have you given a thought that if I am on the standpoint of rational and logical reason-explicit fact [Aa'ya'at] revealed by my Sustainer Lord —

انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔

 

وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْـمَةٙ

  • And He the Exalted has given me Blessing from His Grace —

اور انہوں نے مجھے رحمت سے نوازا ہے جو ان جناب کی جانب سے قلب کو منور کر دینے والی ہے۔

فَمَن يَنصُرُنِـى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥۖ

  • Then who can help me from Allah if I defy the word/message of Him the Exalted?

اگر تم لوگ واقعتاً کسی بل بوتے پر بات کر رہے تو مجھے بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی سزا سے بچنے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں  ان کے فرمان کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہوں؟

فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْـرَ تَخْسِيـرٛ ٦٣

  • Since you know there is none, thereby, you are not enhancing me by mention of your hopes other than attributing and expecting deficient." [11:63]

چونکہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کے مقابل کوئی مددگار نہیں اس لئے تم لوگ میری قدر افزائی نہیں کر رہے ہو اپنی امیدوں کا مرکز قرار دے کر بلکہ ذمہ داری کے فقدان کو منسوب کرنے کے مترادف ہے‘‘۔

وَيٟقَوْمِ هَـٟذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَـكُـمْ ءَايَةٙ

  • And O my nation! Here is the she-camel sent by Allah the Exalted; it will stay as unprecedented display for exposure of you people.

اور ان کے مطالبہ کے جواب میں انہوں نے کہا"اے میری قوم!دیکھو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی ہوئی اونٹنی۔یہ تمہارے لئے مافوق الفطرت مشاہدے کا کردار ادا کرے گی۔

فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِـىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ

  • Therefore, leave her that she may freely feed in the land of Allah the Exalted.

چونکہ تمہارے مطالبہ پر یہ پہنچی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی زمین میں تم لوگ  اسےآزادانہ گھومنے پھرنے دو تاکہ وہ کھا سکے۔

وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٛ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٚ قَرِيبٚ ٦٤

  • And you should not touch her with harming intention; if you do so, thereat, a nearby torment might seize you people. [11:64]

اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اسے برائی /تکلیف پہنچانےکی نیت سے مت چھونا۔اگر تم نے ایسا کیا تو ایک قریب میں موجود عذاب تم لوگوں کو پکڑ لے گا۔

فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِـى دَارِكُمْ ثَلَٟثَـةَ أَيَّامٛۖ

  • Thereby, for reason of extreme defiance, they hamstrung her. On this he said to them, "you people enjoy in your hometown for another three days.

چونکہ لوگوں کے جواب سے تلملائے اور خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے تلوار کے وار سے اس کے پاؤں کاٹ کر اسے معذور کر دیا۔اس حرکت پر انہوں (صالح علیہ السلام)نے ان سے کہا’’تم لوگ تین دن تک اپنے علاقہ میں موج اڑاؤ۔

Root: ع ق ر

ذَٟلِكَ وَعْدٌ غَيْـرُ مَكْذُوبٛ ٦٥

  • This is the promise, the other of belied/false one." [11:65]

یہ وعدہ ہے،اس کے متضاد جو جھوٹ ہوتے ہیں‘‘۔

فَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا صَٟلِحٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍۗٛۗ

  • In keeping with the promised word, when Our Command had reached, We rescued Saleh [alai'his'slaam] and those who had believed along with him safely, by favour of advance information of matter by Our Majesty, and saved them to watch the humiliation [of their nation] on that day.

چونکہ ان کا وعدہ ہم جناب کے کہنے پر تھا اس لئے جوں  ہی ہمارا فرمان پہنچاہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے صالح (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی اور اس دن   منکرین  کی رسوائی دیکھنے سے دور کر دیا جس دن ان پر عذاب نازل ہونا تھا۔  

Root: خ ز ى

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ٦٦

  • Indeed, O you the Messenger, your Sustainer Lord is the Absolutely Almighty, Absolutely Dominant. [11:66]

یہ حقیقت ہے آپ(ﷺ)کے رب وہ ہیں جو تمام قوت کے مالک اور مکمل طور پر غالب ہیں۔(سورۃ ھودؐ۔۶۶)

وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِـى دِيَٟرِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٦٧

  • And the overwhelming sound blast [during the daytime causing earthquake-7:78;51:44] suddenly seized those who had done mischief by replacing reality with falsity—Since it was sudden and severe, their fate was they became collapsed and lifeless debris in their homes — (Cf. 11:94) [11:67]

اور ہولناک دھماکے نے  ان لوگوں کو اچانک گرفت میں لے لیا  جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل کو اپنائے   رکھا تھا ۔چونکہ اس بھونچال کی نوعیت   شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔

Root: ص ى ح

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيـهَآۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّـهُـمْۗ أَ لَا بُعْدٙا لِّثَمُودَ ٦٨

  • [they were smashed into pieces-54:31] As if they had never availed therein —The fact is that indeed the Sa'mued refused to believe in their Sustainer Lord. Be warned; Allah the Exalted commanded eradication of civilization of Sa'mued. [11:68]

منظر ایسا  ویران بن گیا تھا جیسے اس بستی میں وہ کبھی آباد ہی نہ رہے تھے۔خبردار رہو؛یہ حقیقت ہے کہ قوم ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا۔خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم ثمود کو نیست و نابود کر دینے کے انداز میں۔


وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٟهِيـمَ بِٱلْبُـشْـرَىٰ قَالُوا۟ سَلَٟمٙاۖ قَالَ سَلَٟمٚۖ

  • Know the authentic history, Our Messengers had come to Iebra'heim [alai'his'slaam] with good news. On arrival they said, "We wish you peace and tranquillity". He returned salutation saying, "I wish peace and tranquillity remains upon you."

مستند تاریخ جان لو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے پیغامی ابراہیم(علیہ السلام)کے پاس خوشخبری کے ساتھ پہنچے تھے۔ملاقات پر انہوں نے کہا’’آپ کی خدمت میں ہم سلام پیش کرتے ہیں‘‘۔انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا’’آپ  پرسلامتی رہے‘‘۔

فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجْلٍٛ حَنِيذٛ ٦٩

  • Finding them unfamiliar faces/not of his place, thereat; he delayed not in serving a roasted calf before them.  [11:69]

چونکہ مہمان  جانے پہچانے نہیں تھے اور سفر کر کے آئے لگتے تھے اس لئے انہوں نے تناول کے لئے بھنے بچھڑے کو انہیں پیش کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔

Root: ع ج ل; ل ب ث

فَلَمَّا رَءَآ أَيْدِيَـهُـمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ

  • Thereat, when he noticed that their hands had not forwarded towards the served food —

کھانا میز پر لگا دینے کے بعد جوں ہی انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے دیکھا کہ  ان(مہمانوں) کے ہاتھ کھانے کے جانب نہیں بڑھ رہے:

Root: و ص ل 

نَكِـرَهُـمْ وَأَوْجَسَ مِنْـهُـمْ خِيفَةٙۚ

  • He felt it strange of them, and he felt the perception of slight apprehension from them.

اس میزبانی سے عدم توجہ پر انہوں نے انہیں غیر معروف اجنبی جان کر    تاثر دئیے بغیران کی جانب سےہلکی سے  ناگواری اوربے چینی کو محسوس کیا۔

Root: ن ك ر; و ج س

قَالُوا۟ لَا تَخَفْ

  • [noticing this] They said, "Please be not apprehensive —

انہوں(مہمانوں) نے کہا’’آپ پریشان نہ ہوں۔

إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَـىٰ قَوْمِ لُوطٛ ٧٠

  • We have been sent as the Messengers towards the nation of Luet [alai'his'slaam]" [11:70]

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں لوط(علیہ السلام)کی قوم کی جانب بھیجا گیا ہے‘‘۔

وَٱمْرَأَتُهُ قَآئِمَةٚ فَضَحِكَتْ  فَبَشَّـرْنَـٰـهَا بِإِسْحَٟقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٟقَ يَعْقُوبَ ٧١

  • [And they gave him the good news of son-51:28] While his wife was standing [behind the door for servicing any thing of need for the guests], Hearing the news of a son she laughed, [and entered the drawing room being emotionally inspired with happy but strange news]. [in response to her saying-51:29] Thereat, Our Majesty had given her the good news of Ies'hauq [alai'his'slaam] and after Ies'hauq grandson Ya'qoob [alai'his'slaam]. [11:71]

اس وقت منظر یہ تھا؛ان(ابراہیم علیہ السلام)کی بیوی دروازے کے ساتھ کھڑی تھیں؛ چونکہ انہوں نے بیٹے کی خوشخبری کو سن لیا تھا اس لئے اچانک ہنس پڑیں(اور لپٹی لپٹائی کمرے میں  حیرت و حیرانگی  اور خوشی کے جذبات سے مغلوب داخل ہو گئیں۔الذاریات۔۲۹)چونکہ انہوں نے اپنے بانجھ پن کا ذکر کیا تھا اس لئے ہم جناب نے انہیں(ابراہیم علیہ السلام کی بیوی)بیٹا اسحاق کے ہونے کی خوشخبری دی اور ان کی زندگی ہی میں اسحاق کے بعد پوتے یعقوب کی بھی خوشخبری دی۔

Root: ض ح ك; م ر ء; و ر ء

قَالَتْ يَٟوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۟ عَجُوزٚ وَهَـٟذَا بَعْلِـى شَيْخًاۖ إِنَّ هَـٟذَا لَشَىْءٌ عَجِىبٚ ٧٢

  • She exclaimed; "how serious a thing for me! Will I give birth to a child while I am aged woman and this, my husband, is in very old stage. Indeed this would certainly be a strange, amazing phenomenon." [11:72]

انہوں(زوجہ محترمہ)نے کہا’’میرے لئے یہ اہم بات ہے؛کیا میں بیٹا جنوں گی؛اس حال میں کہ  اس وقت اس  قابل نہیں اور یہ میرے خاوند عمر رسیدہ ہو چکے ہیں۔بلاشبہ یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے‘‘۔

Root: ش ى خ;  ع ج ز; و ى ل

قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِيـنَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِۖ رَحْـمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٟتُهُۥ عَلَيْكُـمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِۚ إِنَّهُۥ حَـمِيدٚ مَّجِيدٚ ٧٣

  • They said, "Madam, are you feeling something strange in the decree of Allah the Exalted? The mercy of Allah the Exalted  and His blessings are upon you people, you the residents of this house. Indeed He the Exalted is eternally the focus of Glory and Praise, the Infinitely Exalted." [11:73]

انہوں(مہمان ملائکہ)نے کہا’’محترمہ!آپ کیوں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے متعجب ہو رہی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا اظہار رحمت ہے،اور اے اہل خانہ؛ان  جناب کی برقرار رہنے والی آسائشوں اور خوشیوں کے آپ سب پر نزول کا پیش خیمہ ہے۔ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔وہ جناب فی الحقیقت بنفسہ باعظمت و معزز ہیں۔

Root: ع ج ب;  م ج د

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٟهِيـمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْـرَىٰ

  • Sequel to their explanation as soon anxiety subsided from Iebra'heim [alai'his'slaam] and good news had reached him —

ان پیغامی(ملائکہ)کی وضاحت کرنے پر جوں ہی تشویش کی  کیفیت ابراہیم(علیہ السلام)سے دور ہو گئی اور انہیں خوشخبری مل چکی:

يُجَـٟدِلُنَا فِـى قَوْمِ لُوطٍ٧٤

  • He started arguing with Our Majesty in the matter of nation of Luet [alai'his'slaam]. [11:74]

ہم جناب کے ساتھ انہوں نے لوط(علیہ السلام)کی قوم کے ساتھ نرمی کے حق میں دلائل دینے شروع کر دئیے۔

إِنَّ إِبْرَٟهِيـمَ لَحَلِيـمٌ أَوَّٟهٚ مُّنِيبٚ ٧٥

  • -- Indeed Iebra'heim [alai'his'slaam] was certainly a forbearing, compassionate, imploring, oft attention paying person --. [11:75]

۔۔ابراہیم(علیہ السلام)کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ مزاجاً اور فطرتاً    بردبار ،نرم دل تھے اور ہمیشہ  توجہ دینے والے تھے۔۔

Root: ح ل م; ن و ب

يَٟٓإِبْرَٟهِيـمُ أَعْـرِضْ عَنْ هَـٟذَآۖ

  • Our Majesty told him; "O Iebra'heim [alai'his'slaam] you leave aside this topic —

’’اے ابراہیم (علیہ السلام)اس موضوع کو اب رہنے دیں۔

إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْـرُ رَبِّكَۖ

  • Indeed the decision of your Sustainer Lord in this matter has since reached —

یہ حقیقت ہے کہ آپ کے رب کے فیصلے کا فرمان جاری ہو چکا ہے۔

وَإِنَّـهُـمْ ءَاتِيـهِـمْ عَذَابٌ غَيْـرُ مَرْدُودٛ ٧٦

  • And the fact is that an irreversible infliction is approaching them." [11:76]

اور ان کے متعلق  حقیقت یہ ہے کہ نہ پلٹائے جانے کی حالت میں کر دیا گیا عذاب ان کی جانب بڑھ رہا ہے‘‘۔


وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطٙا سِـىٓءَ بِـهِـمْ وَضَاقَ بِـهِـمْ ذَرْعٙا

  • Know it, When Our Messengers came to Luet [alai'his'slaam] he felt distressed by their coming and felt straitened by their presence with uneasiness —

مزید جان لو؛ابراہیم(علیہ السلام)سے اجازت لے کر جوں ہی ہم جناب کے پیغامی لوط(علیہ السلام)کے پاس پہنچے توان کی موجودگی  نے انہیں بے چین کر دیا۔اور ان کے ساتھ سے گھٹن  کو محسوس کیا، اپنے ہاتھو ں کو سامنے کی جانب  کرتے ہوئے۔

Root: ذ ر ع;  ض ى ق

وَقَالَ هَـٟذَا يَوْمٌ عَصِيبٚ ٧٧

  • And said, "This is a distressful day". [11:77]

اور کہا’’یہ دن شدید پریشانی اور بھاری ہے‘‘۔

Root: ع ص ب

وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُـهْرَعُونَ إِلَيْهِ

  • Know it; People of his (Luet [alai'his'slaam]) nation came to him; they came excitedly rushing towards him.

اس دن کا یہ واقعہ بھی جان لو؛ان (لوط علیہ السلام)کے پاس ان کی قوم کے لوگ پہنچ گئے۔وہ ان کی جانب مستی میں جھومتے ہوئے پہنچ رہے تھے۔

Root: ھ ر ع

وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّــَٔاتِۚ

  • And before that they had been doing the evil abominable acts.

باوجود اس کے کہ اس سے قبل ان کا برائیوں میں ملوث ہونا  روزمرہ کی عادت تھی۔

قَالَ يٟقَوْمِ هَٟٓـؤُلَآءِ بَنَاتِـى هُنَّ أَطْهَرُ لَـكُـمْۖ

  • He (Luet [alai'his'slaam]) said to people gathered at his house, "O my people, be careful, here are my daughters, they are most pious, it is a well known fact for you people —

انہوں(لوط علیہ السلام)نے گھر کے باہر جمگھٹا کرنے والوں سے کہا’’اس بات کا خیال کرو یہاں میری بیٹیاں ہیں۔وہ انتہائی پاکیزہ فطرت ہیں، یہ تم لوگوں کے لئے معلوم حقیقت ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِـى ضَيْفِـىٓۖ

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted; and you should not humiliatingly embarrass me in the matter of  my guests —

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور تم لوگ مجھے میرے مہمانوں کے معاملے میں شرمندگی اور رسوائی سے دوچار نہ کرو۔

Root: ض ى ف;  خ ز ى

أَلَيْسَ مِنكُـمْ رَجُلٚ رَّشِيدٚ ٧٨

  • Is not a man right minded rational one present among you [11:78]

کیا  کوئی ایک بھی ایساہوش مند مرد تم لوگوں میں موجود نہیں جو موقع محل کے مطابق عقل و شعور سے کام لے۔

Root: ر ش د

قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِـى بَنَاتِكَ مِنْ حَقّٛ

  • They said: "You are certainly aware that not at all we have considered rightful for us talking something illicit regards your daughters —

انہوں(جمع ہوئے لوگوں)نے جواب دیا’’یقیناً آپ جانتے ہیں کہ ہم نےقطعاً روا نہیں سمجھا اپنے لئے آپ کی بیٹیوں کے متعلق کوئی نازیبا بات کرنا۔

وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ٧٩

  • And likewise you are also certainly aware what we intend and wish". [11:79]

مگر یقیناً آپ کو یہ بھی معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں‘‘۔

قَالَ لَوْ أَنَّ لِـى بِكُـمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَـىٰ رُكْنٛ شَدِيدٛ ٨٠

  • He (Luet alai'his'slaam) said, "Wish that there was some power for me to overcome/forcibly convince you or I could take refuge towards a strong support." [11:80]

انہوں(لوط علیہ السلام)نے کہا’’کاش ایک ایسی قوت میرے پاس ہوتی جس سے میں تم لوگوں کو منتشر کر سکتا یامیں نے مضبوط سہارے والے مقام کی جانب رہائش اختیار کی ہوتی‘‘۔

Root: ر ك ن

قَالُوا۟ يٟلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَۖ

  • They (Angel Messengers) consoled him saying: "O Luet [alai'his'slaam], indeed We are the Messengers of your Sustainer Lord; it will never be possible for them to encroach towards you.

انہوں(انسانوں کا روپ دھارے ملائکہ)نے کہا ’’اے لوط(علیہ السلام)!یہ حقیقت ہے کہ آپ کے رب کے ہم رسول ہیں۔آپ بے فکر رہیں یہ لوگ آپ کی جانب کبھی پہنچ نہیں پائیں گے۔

Root: و ص ل

فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٛ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُـمْ أَحَدٌ

  • Therefore, you travel with your household, in a patch of the Night [illusory dawn-54:34]; Take note, not a single one of you people should look back [to see the happenings behind] —

چونکہ ان پر عذاب نازل ہونا اٹل فیصلہ ہے۔اس لئے آپ(لوط علیہ السلام)اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے رات کے اس پہر روانہ ہو جائیں جو رات میں سے  کاٹا ہوا دورانیہ ہے۔اور آپ میں سے کسی ایک کو بھی قطعاً پیچھے کی جانب مڑ کر دیکھنا نہیں چاہئیے۔

Root: ل ف ت; س ر ى; ق ط ع

إِلَّا ٱمْرَأَتَكَۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُـهَا مَآ أَصَابَـهُـمْۚ

  • Take along your household except your wife. Indeed the same infliction is for her which will strike them.

سوائے اپنی اہلیہ کو ساتھ لینے کے۔وہ عذاب جو انہیں پہنچنے والا ہے وہی اس کو پہنچنے والا ہے۔

إِنَّ مَوْعِدَهُـمُ ٱلصُّبْحُۚ

  • Indeed their appointed time is the true dawn —

یقینا ان لوگوں کے لئے مقرر کردہ وقت آج کی صبح ہے۔

أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٛ ٨١

  • Is the true dawn not so near!" [11:81]

کیا مقررہ صبح کا وقت قریب نہیں آن پہنچا۔

فَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا جَعَلْنَا عَٟلِيَـهَا سَافِلَـهَا

  • In keeping with the information given when Our command had reached Our Majesty rendered the upper surface of her as her lower surface [by spreading on it layer of volcano mud]

چونکہ نزول عذاب کے مقررہ وقت سے قبل رسول اور ایمان والے بحافظت دور پہنچ چکے اس لئے جوں ہی ہمارا فرمان نافذ العمل ہوا ہم جناب نے اس بستی کی اوپر کی سطح زمین کو اس کی نچلی تہہ بنا دیا(آتش فشاں کے کیچڑ نے سطح زمین بنا دی)۔

Root: س ف ل; ع ل و

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهَا حِجَارَةٙ مِّن سِجِّيلٛ مَّنضُودٛ ٨٢

  • And meamwhile Our Majesty showered upon her stones made of baked clay stacked in vertical and parallel layers—obsidians [11:82]

جب کہ اس دوران ہم جناب اس بستی پرکنکریوں کی بارش برسا رہے تھے جن کا ماخذ وہ مقام تھا جہاں  دم پخت مٹی سے بن کرتہہ بر تہہ اورپہلو بہ پہلو جمع رکھی گئی تھیں۔

Root: س ج ل; م ط ر; ن ض د

مُّسَوَّمَةٙ عِندَ رَبِّكَۖ

  • Those stones were earmarked by your Sustainer Lord, O you the Messenger —

ان کنکریوں کو آپ(ﷺ)کے رب کے فرمان کے مطابق نشان زدہ کیا گیا تھا۔(خصوصی طور پر  قیود کی تمام حدیں پھلانگ جانے والوں کے لئے۔الذاریات۔۳۴)

Root:  س و م

وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ بِبَعِيدٛ ٨٣

  • Be mindful that (city) is not located far away from the wrong-doers/evil mongers [of Mecca]. [11:83]

متنبہ رہو؛ وہ بستی ان حقیقت کے منافی بگاڑ پر کاربند لوگوں کے مسکن سے کوئی زیادہ دور بھی نہیں۔


وَإِلَـىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُـمْ شُعَيْبٙاۚ

  • And Our Majesty had indeed deputed their brother Sho'aib [alai'his'slaam] as the Messenger towards the nation by the name Mad'yan.

اورہم جناب نے شعیب (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم  مدین کی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔

قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ 

  • He (Sho'aib [alai'his'slaam]) said: "O my nation! "O my nation! you people be exclusively subservient-allegiant to Allah the Exalted.

انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو۔

مَا لَـكُـم مِّنْ إِلَٟهٍ غَيْـرُهُۥۖ

  • Realize it, none at all of those considered and worshipped as gods other than Him the Exalted acts for you people as cherisher, protector, saviour, and Nourisher.

 تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛  ان   جناب کے علاوہ  معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی  نہیں جو تم لوگوں  کے  لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔

وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْـيَالَ وَٱلْمِيـزَانَۚ

  • And you should not reduce the measure and the weighing scale —

اور تمہیں منع کیا جاتا ہے کہ پیمائش کے آلہ اور ترازو میں تنقیص کرو۔

Root: و ز ن

إِنِّـىٓ أَرَىٰكُـم بِخَيْـرٛ

  • [why you do it] I find you people in prosperity —

میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تم آسودہ حال ہو۔(اس دھوکہ دہی کا قطعی جواز نہیں)۔

وَإِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٛ مُّحِيطٛ ٨٤

  • And indeed I am apprehensive of infliction of punishment of the all encompassing Day upon you. [11:84]

اوریہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں اس دن کے متعلق جب  عذاب  تم لوگوں پربھرپور انداز میں مسلط ہو جائے گا۔

Root: ح و ط

وَيٟقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْـيَالَ وَٱلْمِيـزَانَ بِٱلْقِسْطِۖ

  • And O my people! give away-discharge the liability of measure and weighing equitably on exacting balance —

اور اے میری قوم!پیمائش کے پیمانے  اور ترازو سے ادا کردہ قیمت کے مساوی ادائیگی کرو۔

Root: ك ى ل; ق س ط; ; و ز ن

وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُـمْ

  • And you should not deprive people of their goods by lessening [in quantity, measure and weight] —

اور تمہیں چاہئے کہ لوگوں کو خسارا نہ دو ان کی اشیاء کی پیمائش،وزن،مقدار میں کمی کر کے۔

Root: ب خ س

وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٨٥

  • And you should not, like mischief-doers, create intellectual distortions-conjectural myths-disquiet in the society.  [11:85]

 اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔

بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَۚ

  • The grants/permanent values of Allah the Exalted are far better for you people if you were true believers.

اللہ تعالیٰ کی جانب  سے دیرپا خصلت کی حامل  کا حصول  تم لوگوں کے لئے بہترین  اور بھلائی کا موجب ہے۔اس بات کو یاد رکھو اگر تم حقیقی معنوں میں ایمان لائے ہو۔

وَمَآ أَنَا۟ عَلَيْكُـم بِحَفِيظٛ ٨٦

  • Remain cognizant that I am not at all corporeally the guard-onlooker upon you people in time and space." [11:86]

اور میں تاکید سے یہ واضح کر دوں کہ زمان و مکان میں بشری طور پرمیں تمہاری حفاظت پر مامور نہیں ہوں"۔

قَالُوا۟ يٟشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُـرُكَ أَن نَّتْـرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ

 
  • They said: "O Sho'aib! does your Sa'laat: time bound protocol of servitude and allegiance to Allah commands you to persuade us to leave what our forefathers used to worship and were allegiant to?

عمائدین مشرکین نے کہا’’اے شعیب!کیا تیری صلوٰۃ تجھے یہ حکم بھی دیتی ہے کہ ہم وہ متروک کر دیں جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے رہتے تھے۔

Root: ت ر ك

أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِـىٓ أَمْوَٟلِنَا مَا نَشَـٰۤؤُا۟ۖۖ

  • Or we might leave that doing in our economics what we wish to do?

یا یہ کہ ہم اپنے اموال  سے متعلق ایک نئی طرز کو اپنائیں جو ہم چاہتے ہیں۔

إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيـمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧

  • Indeed you are certainly the only forbearing, the right minded!" [11:87]

یقیناً آپ ہیں،لگتا ہےصرف آپ بردبار اورذی شعور ہیں!‘‘۔

Root: ر ش د; ح ل م

قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّـى

  • He (Sho'aib [alai'his'slaam]) said: "O my nation! Have you given a thought that if I am on the standpoint of rational and logical reason-explicit fact [Aa'ya'at] revealed by my Sustainer Lord —

انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔

وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنٙاۚ

  • And He the Exalted has provided me appropriately proportioned sustenance from His Grace —

اور ان جناب نے اپنی بارگاہ سے مجھے متوازن نفیس سامان زیست عنایت کیا ہے۔

وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُـمْ إِلَـىٰ مَآ أَنْـهَىٰكُـمْ عَنْهُۚ

  • And I do not intend I should differ with you [for the sake of difference] regarding what I forbid you from —

اور میرا ارادہ تم لوگوں سے  محض باہمی تقابل میں اس طرز عمل کو رائج کرنا نہیں ہے جس سے میں تم لوگوں کو منع کر رہا ہوں۔

إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٟحَ مَا ٱسْتَطَعْتُۚ

  • I wish/intend nothing except at perfection/reformation whatever is within my reach/capacity —

میں سوائے معاشرے میں لین دین کے معاملات میں اصلاح لانے کے کچھ اور ارادہ نہیں رکھتا جس قدر سنوارنے کی مجھ میں استطاعت ہے۔

وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ

  • And my reconciliatory effort and success is dependent upon but the will and assistance of Allah the Exalted —

اور اس میں تو دو رائے نہیں ہو سکتی کہ میرا حوصلہ،ہمت اور داعیہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور تائید کے ممکن ہی نہیں۔

Root: و ف ق

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ٨٨

  • Upon Him the Exalted I place reliance and dependences and towards Him I turn. [11:88]

ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور  ان  جناب کی جانب  میں اپنی توجہ کو مرکوز رکھتا ہوں۔

Root: ن و ب

وَيٟقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُـمْ شِقَاقِىٓ

  • And O my nation! let not the dissenting with me overpower/exploit you to an extent:

اور اے میری قوم!مجھ سے الگ شناخت رکھنے کی خواہش تم کو آئندہ اس حد تک الگ نہ کر دے:

Root: ش ق ق

أَن يُصِيبَكُـم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍٛ أَوْ قَوْمَ هُودٍٛ أَوْ قَوْمَ صَٟلِحٛۚ

  • That/lest befalls upon you similar to what befell upon nation of Noah [alai'his'slaam], or that on nation of Hued [alai'his'slaam] or that on nation of Saleh [alai'his'slaam] —

جس سے یہ امکان پیدا ہو جائے کہ تم لوگوں کو اس کے مثل  مصیبت کا سامنا کرنا پڑ جائے جس قسم کی مصیبت کا نوح(علیہ السلام)کی قوم کو سامنا ہوا،یا ویسا جیسا ھود(علیہ السلام)کی قوم نے کیا؛یا ویسا جیسا صالح(علیہ السلام)کی قوم نے بھگتا۔

وَمَا قَوْمُ لُوطٛ مِّنكُـم بِبَعِيدٛ ٨٩

  • And nor the land/area of nation of Luet [alai'his'slaam] is far off from you people, [11:89]

متنبہ رہو؛ لوط(علیہ السلام)کی قوم کی بستی  تم لوگوں کےمسکن سے کوئی زیادہ دور بھی نہیں۔

وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِۚ

  • Take heed; you people sincerely seek forgiveness from your Sustainer Lord; afterwards turn to Him perfecting sincerity and conduct.

اورتم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔

إِنَّ رَبِّـى رَحِـيـمٚ وَدُودٚ ٩٠

  • Indeed my Sustainer Lord is the Merciful, the most appreciative/loving". [11:90]

یہ حقیقت ہے کہ میرے رب منبع رحمت ہیں اور شفقت سے قدر اور حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں‘‘۔

Root: و د د

قَالُوا۟ يٟشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيـرٙا مِّمَّا تَقُولُ

  • They replied: "O Sho'aib, we are not comprehending most of what you are telling us —

انہوں(عمائدین مشرکین)نے کہا’’اے شعیب!آپ جو باتیں کر رہے ہیں ان میں اکثر کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Root: ف ق ه

وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٙاۖ

  • And indeed we see and consider you weaker amongst us —

اور درحقیقت ہم اپنے درمیان آپ کو کمزورنکتہ نظر رکھنے والا دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔

وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَـمْنَٟكَۖ

  • And had the regard of your tribe not been there, we would have certainly stoned you to death —

اور اگر آپ کے قبیلے کا احترام مدنظر نہ ہوتا تو یقیناً ہم  آپ کو سنگسار کر دیتے۔

Root: ر ج م;  ر ھ ط

وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٛ ٩١

  • Know it, you are not in authoritative position upon us." [11:91]

اور آپ نے ہم پر بھاری اورغالب نہیں ہوتا تھا‘‘۔

قَالَ يٟقَوْمِ أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُـم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُـمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّاۖ

  • He said: "O my nation! Is my tribe mightier upon you people than Allah the Exalted? and you people have adopted Him as absent on your backs.

انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا’’اے میری قوم!کیا  اللہ تعالیٰ سے بڑھ کرمیرا کنبہ تم لوگوں پر حاوی ہے اس حال میں کہ تم لوگوں نے ان جناب کو زیر مقصد اپنے سے الگ پس پشت رکھنے کے انداز  میں  اپنایا ہوا ہے۔

Root: ر ھ ط; و ر ء

إِنَّ رَبِّـى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٚ ٩٢

  • Indeed my Sustainer Lord is encompassing that which you people keep doing." [11:92]

اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ یقیناً  میرے رب  ہر لمحہ ان اعمال کا جو تم کرتے رہتے  ہو احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

Root: ح و ط

وَيٟقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَـىٰ مَكَانَتِكُـمْ إِنِّـى عَٟمِلٚۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٚ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَٟذِبٚۖ
وَٱرْتَقِبُوٓا۟ إِنِّـى مَعَكُـمْ رَقِيبٚ ٩٣

  • And O my nation! continue acting from the position and footing you have chosen; indeed, I too remain steadfastly engaged in my course. Soon shall you people know who is he upon whom comes the infliction, one that will render him degraded and humiliated —And you shall know the one who is a liar —(Cf. 6:135; 11:93; 11:121; 39:39; 41:40)
    And you people keep watch and await for outcome; indeed, I too am watching alongside you." [11:93]

اوراے میری قوم!آپ لوگ اپنے طرز عکر پر عمل کرتے رہیں؛میں یقیناً اس طرز عمل پر کاربند ہوں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔چونکہ نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہےتم لوگ اس کو  جلد جان لو گے جس کو ایساعذاب  آن پہنچے گا جو اسے درماندگی اور رسوائی سے دوچار کر دے گا۔اور تم لوگ اس کو جلد جان لو جو جھوٹا ہے۔
اور انتظار کرنے کو منتخب کئے رہو،یقینا ً میں تم لوگوں کے ساتھ منتظر ہوں"۔

Root: خ ز ى; ر ق ب

وَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا

  • Know it, when Our Command had reached, Our Majesty rescued Sho'aib [alai'his'slaam] and those who had believed along with him safely, by favour of advance information of matter by Our Majesty.

جان لو؛  جوں  ہی ہمارا فرمان پہنچا ہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے شعیب (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی ۔

وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ

  • And the sound blast [during the daytime causing earthquake-7:78;51:44] seized those who had done wrong/mischief —

اور ہولناک دھماکے نے  ان لوگوں کو اچانک گرفت میں لے لیا  جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل کو اپنائے   رکھا تھا ۔

Root: ص ى ح

فَأَصْبَحُوا۟ فِـى دِيَٟرِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٩٤

  • Whereby they turned and became debris in their respective houses — [11:94]

چونکہ اس بھونچال کی نوعیت   شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيـهَآۖ

  • As if they had never availed therein —

منظر ایسا  ویران بن گیا تھا جیسے اس بستی میں وہ کبھی آباد ہی نہ رہے تھے۔

أَلَا بُعْدٙا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ٩٥

  • Be warned; Allah the Exalted commanded eradication of Madyan civilization like Sa'mued were eradicated. [11:95]

خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم مدین کو نیست و نابود کر دینے ویسے جیسے ثمود  نے اپنے آپ کو نیست و نابود کر لیا تھا۔


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـٔ​َايَـٟتِنَا وَسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٍٛ ٩٦

  • Know it; Our Majesty had sent Mūsā [alai'his'slaam] with Our unprecedented demonstrative signs and evidently distinct authority, argument and logic — [11:96]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ  کے لئے  اپنی ایسی شہادتوں(آیات/معجزات )کے ساتھ بھیجا تھا،جوتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  تھیں اور    واضح سند  و اختیار کے ساتھ۔

Root: س ل ط

إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ فِرْعَوْنَۖ

  • Towards Fir'aoun/Pharaoh and his chieftains; thereby, they followed the command of Fir'aoun/Pharaoh —

فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب۔مگر عینی مشاہدہ کے باوجود انہوں(سرداروں)نے فرعون کے حکم کی اتباع کی۔

Root: م ل ء

وَمَآ أَمْـرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٛ ٩٧

  • Despite that the command of Fir'aoun/Pharaoh was certainly not a correct judgment. [11:97]

باوجود اس کے کہ فرعون کے حکم میں سچائی،ایمانداری،ہوشمندی،خیر و اصلاح کا کوئی پہلو نہ تھا۔

Root: ر ش د

يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ فَأَوْرَدَهُـمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ ٩٨

  • He shall march  at the head of his people on the Day of Rising, leading them to the Fire, Hell-Prison, as their terminal destiny—And And how abysmal is the destination to which they are led! [11:98]

وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہو گا اور اس طرح انہیں جہنم میں وارد کر دے گے۔اور کیا برا ہے وہ گھاٹ وہاں وارد ہونے والوں کے لئے۔

وَأُتْبِعُوا۟ فِـى هَـٟذِهِۦ لَعْنَةٙ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۚ بِئْسَ ٱلـرِّفْدُ ٱلْمَرْفُودُ ٩٩

  • And they were chased by curse and condemnation in this worldly life and so will be on the Day of Rising. Wretched is the "gift" gifted. [11:99]

ان کا انجام جان لو؛اس دنیا میں اور یوم قیامت کو پھٹکار،لعنت ملامت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے۔کیا ہی برا ہے وہ تحفہ جو انہیں دیا گیا ہے۔

Root: ل ع ن;ر ف د

ذَٟلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَۖ مِنْـهَا قَآئِمٚ وَحَصِيدٚ ١٠٠

  • This episode (Pharaoh's) is a part of the news of the Cities which Our Majesty are replicating verbally to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]. Some of them that are still standing and some reduced to ruins can be traced. (Cf. 14:45; 18:59; 20:128; 22:45; 28:58; 29:38; 32:26; 34:15; 46:25) [11:100]

یہ بستیوں کی تاریخ کی کچھ خبریں ہیں جن کو ہم جناب آپ(ﷺ)پرمن و عن وقوع پذیر انداز میں افشاں کر رہے ہیں۔قائم و برقرار پائی جانے والی  اور تباہ حال کھنڈرات کی صورت  ،ان بستیوں  میں سے صفحہ ہستی پر موجود ہیں  ماضی سے سبق لینے والوں کے لئے۔

Root: ق ص ص; ح ص د  Explanation/Analysis

وَمَا ظَلَمْنَٟهُـمْ وَلَـٟكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْۖ

  • Realize it, Our Majesty did no injustice to them; in fact they did injustice to themselves.

جان لو،ہم جناب نے ان کے ساتھ  زیادتی نہیں کی، بلکہ وہ خود اپنے  نفوس پرزیادتی کرنے کے مرتکب ہوتے رہے۔

فَمَآ أَغْنَتْ عَنْـهُـمْ ءَالِـهَتُـهُـمُ ٱلَّتِـى يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ لَّمَّا جَآءَ أَمْـرُ رَبِّكَۖ

  • Thereby, when the command of your Sustainer Lord reached for infliction of punishment, their various [hypothetical] iela'aha: godheads; those they used to call upon other than Allah the Exalted, did not avail averting infliction not at all from them —

چونکہ سوائے تخیل کے ان کا وجود ہی نہ تھا اس لئے  جوں ہی آپ(ﷺ) کے رب کا فرمان نافذ العمل ہو گیا توان کے   وہ  معبودان  کسی شئے کو ان سے دور نہ کر سکے جن کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ وہ پکارتے رہتے تھے۔

وَمَا زَادُوهُـمْ غَيْـرَ تَتْبِيبٛ ١٠١

  • And they (statue godheads) benefited them naught other than increased ruin. [11:101]

اور انہوں(پتھروں سے تراشے معبودان)نے ان کے لئے اضافہ نہیں کیا جو زیادہ تباہی مچانے سے مختلف تھا۔

وَكَذَٟلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ ٱلْقُرَىٰ وَهِىَ ظَٟلِمَةٌۚ

  • Beware, Such is seizing grip of your Sustainer Lord when He the Exalted seized the localities. It was done while she was respectively persistently unjust.

اور یہ انداز تھا آپ(ﷺ)کے رب کا گرفت میں لینے کا جب انہوں نے بستیوں کو گرفت میں لیا تھا اس حال میں کہ انہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ پیدا کرنے کو اپنی سرشت بنایا ہوا تھا۔

إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيـمٚ شَدِيدٌ ١٠٢

  • The fact is that seizing grip of Him the Exalted is felt painful and severe. [11:102]

یہ حقیقت ہے کہ ان جناب کا مجرمین کو گرفت میں لینا ان کے لئے دردناک ہے اور شدید بھی۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلۡءَاخِـرَةِۚ

  • Indeed the news about the past civilizations have certainly an indication-lesson for him who feared the punishment in the Hereafter.

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کے اوراق سے ان بیان کردہ وقوع پذیر خبروں میں اس شخص کے لئے حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی نشانی موجود ہے جو حیات آخرت کے عذاب کا خوف رکھتا ہے۔

ذَٟلِكَ يَوْمٚ مَّجْمُوعٚ لَّهُ ٱلنَّاسُ

  • That is a day, its feature is that people will be gathered together —

یہ خوف اس دن کا ہے جب لوگوں کو مجموع حالت میں ایک جگہ یکجا کر دیا جائے گا۔

وَذَٟلِكَ يَوْمٚ مَّشْهُودٚ ١٠٣

  • And that is the Day, its feature is that presence of everyone is ensured. [11:103]

اور یہ دن ہے جب ہر کوئی زیر مشاہدہ ہو گا۔

وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٛ مَّعْدُودٛ ١٠٤

  • Beware, Our Majesty are postponing it but for the terminating moment of a determined duration. [11:104]

متنبہ رہو؛ہم جناب اسے سوائے متعین کردہ مدت کے لئے مؤخر نہیں کر رہے۔

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦۚ

  • Be mindful of the the day when terminating point arrives, no person will speak except with prior permission of Him the Exalted.

متنبہ رہو؛ وہ لمحہ جس دن پہنچے گا تو کوئی شخص ازخود نہیں بولے گا سوائے اس وقت جب ان جناب کی جناب سے اجازت ملے گی۔

فَمِنْـهُـمْ شَقِىّٚ وَسَعِيدٚ ١٠٥

  • Thereat, some are wretched and some blessed amongst them [11:105]

چونکہ لوگوں کو تین گروہوں میں منقسم کر کے الگ الگ کر دیا جائے گا اس لئے ہرہٹ دھرم اور ضدی سرشت والا اور نیک بخت خوش کردار طبع والاان میں ہر کسی کے لئے نمایاں ہو گا۔

Root: س ع د

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُوا۟ فَفِـى ٱلنَّارِ

  • Thereby, as for those are concerned who felt wretchedness they will be put in the Hell-Prison —

چونکہ عدالتی کاروائی کے مراحل مکمل ہو چکے ہوں گے اس لئے جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جنہوں نے ہٹ دھرمی سے باطل کو اپنائے رکھا تھا اس لئے انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

Root: ش ق ى

لَـهُـمْ فِيـهَا زَفِيـرٚ وَشَهِيقٌ ١٠٦

  • Sighing and wailing life is in wait for them therein. [11:106]

آہیں اور سسکیاں اس میں رہائش کے دوران ان کے لئے روزمرہ کا معمول ہو گا۔

Root: ز ف ر; ش ھ ق

خَٟلِدِينَ فِيـهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٟوَٟتُ وَٱلۡأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۚ

  • They shall reside therein indefinitely as longevity of the Skies and the Earth but because of what your Sustainer Lord had decided.

انہوں نے ہمیشہ اس(جہنم)میں قیام پذیر رہنا ہے جتنا عرصہ آسمانوں اور زمین کو دوام رہا ہے۔یہ فیصلہ نیا نہیں بلکہ صرف وہی ہے جو آپ(ﷺ)کے رب نے چاہا اور مشتہر کر دیا تھا۔

إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٚ لِّمَا يُرِيدُ ١٠٧

  • Indeed your Sustainer Lord is Innovative Performer of whatever He intends/desires. [11:107]

یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب   جو ارادہ کرتے ہیں اس کو مطلق انجام دیتے ہیں۔

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِـى ٱلْجَنَّةِ

  • And as for those who were gladdened [receiving their account in right hand] they will resultantly be in the Paradise.

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کو نیک بخت اور خوش قسمت قرار دے دیا گیا تھا ، چونکہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا اس لئےانہیں احترام سے جنت میں داخل ہونے کا کہا جائے گا۔

Root: س ع د

خَٟلِدِينَ فِيـهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٟوَٟتُ وَٱلۡأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ

  • They shall reside therein indefinitely as longevity of the Skies and the Earth but because of what your Sustainer Lord had decided.

انہوں نے ہمیشہ اس(جنت)میں قیام پذیر رہنا ہے جتنا عرصہ آسمانوں اور زمین کو دوام رہا ہے۔یہ فیصلہ نیا نہیں بلکہ صرف وہی ہے جو آپ(ﷺ)کے رب نے چاہا اور مشتہر کر دیا تھا۔

Root: د و م

عَطَآءً غَيْـرَ مَجْذُوذٛ ١٠٨

  • This bestowal has characteristic of other than that which is cut/broken away - diminishing value. [11:108]

اللہ تعالیٰ کی جانب سے بنفس نفیس یہ عنایت اس انداز میں ہے کہ اس میں انحطاط کا شائبہ بھی نہیں۔

Root: ع ط و

فَلَا تَكُ فِـى مِرْيَةٛ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٟٓـؤُلَآءِۚ

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] let not yourself be in disturbing worry as to what these people worship/proclaim allegiance.

چونکہ جزا اور سزا کا اصول زمین پر بھیجتے وقت سے طے ہے  اور وہ لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اس لئے آپ (ﷺ)متردد فکرمندی میں نہ رہیں اس وجہ سے کہ یہ لوگ کن کی پرستش کئے چلے جا رہے ہیں۔

Root: م ر ى

مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُـم مِّن قَبْلُۚ

  • They do not worship/proclaim allegiance except what their forefathers worshiped/proclaimed allegiance in foretimes.

وہ کوئی نئے انداز کے معبودان کی پرستش نہیں کر رہے سوائے اس  طرح  جیسے گزرے زمان میں ان کے آباؤاجداد کرتے رہے تھے۔

وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُـمْ نَصِيبَـهُـمْ غَيْـرَ مَنقُوصٛ ١٠٩

  • And indeed Our Majesty will certainly deliver fully to them of their share void of diminishing. [11:109]

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جناب ان لوگوں کو ان کا حرمان نصیب(جیسے آخرت سے مایوس تھے)مکمل طور پر لوٹا دیں گے،اس حال میں کہ  وہ کبھی  منقوص نہیں ہو گا۔

Root: و ف ى; ن ق ص


وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـىٰ ٱلْـكِـتَٟبَ

  • Know the fact, Our Majesty had given to Mūsā [alai'his'slaam] the Book.

 ماضی کی یہ حقیقت بھی جان لو؛ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔

فَٱخْتُلِفَ فِيهِۚ

  • Since it hit their self-interests and exigencies, therefore, its contents were disputed by popularising different content in its place.

چونکہ مفادات پر زد پڑتی تھی اور مصلحتوں کے برعکس بیان تھا اس لئے اس کے مندرجات سے باہمی اختلاف کیا گیا،مختلف باتوں کو سامنے لایا گیا۔

وَلَوْلَا كَلِمَةٚ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْۚ

  • And had a word of promise-decision not preceded granting a respite period by your Sustainer Lord, the matter would have been ended between them.

مطلع رہو کیوں ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے؛ اگر  آپ(ﷺ)کے رب کی جانب  سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر  کرنے کے  متعلق بات  بتا نہ دی گئی ہوتی (حوالہ النحل۔61) تو ان کے مابین اسی وقت  اس معاملے کو ختم کر دیا جاتا  (جس  میں وہ باہمی اختلاف کر رہے ہیں)۔

Root: س ب ق

وَإِنَّـهُـمْ لَفِـى شَكّٛ مِّنْهُ مُرِيبٛ ١١٠

  •  Moreover, the fact is they (Bani Iesraa'eel) are certainly plunged in doubt regarding it (Qur’ān), the doubt having characteristic trait of causer of disquiet, irritation, and disconcert [11:110]

اب ان کاحال یہ ہے کہ یقیناً  اس(قرءان مجید)سے برآمد ہونی والی معلومات سے ایسے شک میں مبتلا ہو گئے  ہیں جو انہیں متردد کیفیت میں گاہے بگاہے کر دیتا ہے۔

Root: ش ك ك; ر ى ب; م ر ى

وَإِنَّ كُلّٙا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّـهُـمْ رَبُّكَ أَعْمَٟلَـهُـمْۚ

  • And indeed your Sustainer Lord will certainly pay back to everyone of them their deeds.

  • جان لیں،یہ حقیقت ہے کہ تمام کے تمام جب آپ(ﷺ)کے رب   مستقبل  میں (یوم قیامت)ان کے اعمال کا نتیجہ انہیں لوٹا چکے ہوں گے اس کا مبنی برحق اور حسب وعدہ  ہونا تسلیم کریں گے۔

Root: و ف ى

إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ١١١

  • Indeed He the Exalted is absolutely aware of all acts that they keep doing. [11:111]

۔ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ مطلق باخبر ہیں ہر اس عمل سے جو وہ کرتے ہیں۔

فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ۚ

  • Therefore you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remain firm and steadfast in what you were commanded and advise him who turned with you and prohibit them "you people should not transgress.

چونکہ مشرکین کی مانند یہ بھی متردد ہیں اس لئے بجائے ان کے لئے فکرمند ہونے کے آپ (ﷺ)استقامت سے اس پر کاربند رہیں جیسے کہ آپ کو  (قرءان مجید میں)حکم دیا گیا ہےاور ہروہ  شخص  ایسا کرے  جو پلٹ کر  آپ کی معیت میں  ہے۔اور انہیں منع فرمائیں ’’تم لوگ کسی بھی معاملے میں متعین حدود قدود سے تجاوز مت کرو۔

Root: ط غ ى

إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ١١٢

  • Certainly He the Exalted ever keeps watching what acts you people perform". [11:112]

ان جناب کے متعلق اس حقیقت کو ہمیشہ مد نظر رکھو کہ وہ ہر اس کام کا ہر لمحہ مشاہدہ کر رہے ہیں جو تم  لوگ کرتے ہو۔

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَـى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُـمُ ٱلنَّارُ

  • And you people should not supportively incline towards those who did evil/unjust lest thereby fire may touch you people —

اور تم لوگوں کو اس سے بھی منع کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی جانب جھکاؤ کر کے ارکان بنو جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ اور باطل روش کو اپنایا ہے۔چونکہ ان کا انجام جہنم ہے اس لئے  آگ کے تمہیں لپیٹ لینے کا امکان بن سکتا ہے۔

Root: ر ك ن

وَمَا لَـكُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ

  • And besides Allah the Exalted there will be none of the protectors to come to your rescue —

متنبہ رہو۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے سوا قطعاً کوئی سہارا /محافظ اور  مددگار نہیں جو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔

ثُـمَّ لَا تُنصَرُونَ ١١٣

  • Afterwards you people will not be helped. [11:113]

ایسا ہو جانے کے بعد ازاں تم لوگوں کی مدد نہیں کی جا سکے گی‘‘۔

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَـىِ ٱلنَّـهَارِ وَزُلَفٙا مِّنَ ٱلَّيْلِۚ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] organize- make people stand for As'salat: Protocol of Servitude and allegiance during the two visual transitions- edges [Solar ephemeris] of the bright day. And organize As'salat at approaching moments: twilight segment of the night [after sun set-17:78]

اور آپ (ﷺ)استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کا انتطام کریں دن کے دو ڈھلتے کناروں پر اور رات میں سے آنے والے  دن کا اختتام کرنے والےلمحوں کے دوران[ظہر، عصر۔ اور مغرب غروب آفتاب الاسراء۔۷۸)۔

Root: ز ل ف; ط ر ف

إِنَّ ٱلْحَسَنَٟتِ يُذْهِبْـنَ ٱلسَّـيِّـَٔاتِۚ

  • Indeed the appropriately balanced- timely acts quit the evil- illicit deeds.

یہ حقیقت ہے کہ اعتدال اور حسن سلوک سے متصف کاروائیاں انسان سے بدی اور برائیوں کے اثرات کو زائل کر دیتی ہیں۔

ذَٟلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٟكِـرِينَ ١١٤

  • It is a reminder for those who remember- retain in memory and relate. [11:114]

یہ بیان کردہ تاریخ بھی ہے اور ان کے لئے  خصوصی طور پریاددہانی جو خودسبق لیتے ہیں اور لوگوں کو دہراتے بھی ہیں۔

وَٱصْبِـرْ

  • And you the Messenger remain coolly perseverant and determined.

اور آپ(ﷺ)دھیرج رکھیں ان  نامعقول باتوں کو سن کر جو انکار کرنے والے عمائدین کرتے رہتے ہیں۔

فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١١٥

  • Thereby, Allah the Exalted does not let remain un-rewarded those who conduct moderately and rationally. [11:115]

تو یقیناً اللہ تعالیٰ  اعتدال اور حن سلوک کا رویہ اپنائے رکھنے والوں کے صلہ کواثر پذیری سے محروم نہیں فرماتے۔

Root: ض ى ع

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلـِكُـمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٛ يَنْـهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • Thereby, [the lesson to be drawn from past examples of nations inflicted with punishment] the factual position is that the people of intellect and wisdom-mindful of eventualities, amongst the generations/ civilizations, in foretimes before you people, were not forbidding people from causing distortions and deviations in the society.

باوجود بار بار تنبیہ کئے جانے کے کیوں ایسا نہیں ہوا کہ ان تہذیبوں میں جو تم سے قبل دنیا میں آباد  تھیں   صاحبان اثر و دانش  دوسروں کو معاشرے میں حقیقت کے منافی بگاڑ پیدا کرنے سے منع کرتے۔

Root: ق ر ن; ب ق ى

إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْـهُـمْۗ

  • --Exceptions were a small minority in them who did attempt. Our Majesty saved/rescued whoever was doing it amongst them [before inflicting punishment]--.

سوائے ایک معمولی تعداد کے جو ان میں سے ایمان لائے تھے جنہیں ہم جناب نے اس بستی سے بحافظت نجات دلائی تھی۔

وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِيـنَ ١١٦

  • Those, who did wrong and manipulated literally pursued the interest of prominence, luxuries, opulence they were placed in. Hence, they were equally persistent criminals. [11:116]

بجائے منع کرنے کے ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے دانستہ  ظلم و استحصال کرنے والوں کی دانستہ پیروی کی جنہیں اس تہذیب میں عیش و عشرت اور امارت حاصل تھی۔اور وہ لوگ  مستوجب سزامجرم قرار  دے دئیے گئے تھے۔

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُـهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٛ وَأَهْلُـهَا مُصْلِحُـونَ ١١٧

  • Take note, your Sustainer Lord is never such that He the Exalted might annihilate certain locality/habitat unjustly while her inhabitants are maintaining righteousness/balanced conduct/ perfection. [11:117]

آپ مطلع رہیں؛ آپ(ﷺ)کے رب نے کبھی یہ مناسب نہیں سمجھا کہ مخصوص بستی کوخواہ مخواہ نیست و نابود کر دے باوجود اس کے کہ اس کے لوگ اصلاح پر کاربند ہیں۔

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙۖ

  • Know it, had your Sustainer Lord so intended, He the Exalted would have rendered the people a singular homogeneous entity/fraternity [that was not the intent of creation]

آپ اپنے قلب کے غم کو کم کرنے کے لئے اس نکتے کو ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ(ﷺ) کے رب کا ارادہ اور منشاء یہ ہوتا تو ان جناب نے لوگوں کو ایک ہم خیال وحدت بنا دینا تھا(ان کو عنایت کردہ حریت کو سلب کر کے)۔

وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِيـنَ ١١٨

  • And they will cease not purposely differing and propagating false content— [11:118]

چونکہ ایسا ارادہ نہیں وہ لوگ  مختلف طرز عمل اپنانے اورمتضاد باتوں کو حقیقت کے مقام پر لانے  میں کمی اور سستی نہیں کریں  گے۔

Root: ز ى ل

إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ

  • Except the one upon whom your Sustainer Lord bestowed mercy.

سوائے اس شخص کے جس پر آپ(ﷺ)کے رب نے رحم فرما دیا۔

وَلِذَٟلِكَ خَلَقَهُـمْۗ

  • And for that [will and decision to accept or differ] He the Exalted created them —

اوران جناب نے انہیں اس طرح تخلیق فرمایا ہے تاکہ بیان کردہ اختلاف کے معاملے میں انہیں حریت حاصل رہے۔

وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّـمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْـمَعِيـنَ ١١٩

  • And the Word-Promise of your Sustainer Lord is accomplished, "It is certain that I will fill the Hell-Prison with people from species Jinn and human beings, all collected together. [see the Word 7:118; 32:13" [11:119]

اور آپ(ﷺ)کے رب کا یہ فرمان پائے تکمیل کو پہنچ جائے۔’’تیری  قسم کا جواب  یہ ہے کہ میں جہنم کو بھر دوں گا نوع جنات اور  نوع انسان میں سے ان افراد سے  جو تیرے نقش قدم پرچلے ہوں گے؛ بھرنااجتماعی انداز میں‘‘[فرمان کے لئے دیکھیں الاعراف۔۱۸ اورالسجدہ۔۱۳]۔

Root: م ل ء


وَكُلّٙا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ
وَجَآءَكَ فِـى هَـٟذِهِ ٱلْحَقُّ
وَمَوْعِظَةٚ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِيـنَ ١٢٠

  • Know it, every individual narrative; Our Majesty is verbally replicating to you, selectively chosen from the accounts of the Messengers, is with the purposeful aim that by means of this narration We may cause your logical-cognitive brain in a state of steadfastness, determination, and composure — especially in the face of hostility and irrational resistance. And note that in this very Sura, the Infallible Truth has reached you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]  —And therein is a source of moral advice, historical instruction, and a reflective reminder — specifically beneficial for the believers. [11:120]

جان لیں؛! ہر ایک منفرد قصہ — جو ہم جناب آپ پر من و عن وقوع پذیر ہوئے انداز میں بیان کر رہے ہیں— ہم نے رسولوں کی تاریخ میں سے منتخب طور پر چُنا ہے، اس مخصوص مقصد کے تحت کہ اس کے ذریعے ہم آپ کے  شعوری و ادراکی دماغ (فُؤَاد) کو مشتعل ہونے کی بجائےثابت قدمی، استقامت، اور ذہنی سکون و توازن کی حالت میں رکھ سکیں —خاص طور پر اس وقت جب مخالفین کی دشمنی، طعنہ زنی، اور بے منطق مخالفت کا سامنا ہے۔
 
اور آپ(ﷺ)کے پاس بیان حقیقت اسی صورت میں  پہنچ گیا ہے —اور بے شک، اس کے اندر اخلاقی نصیحت، تاریخی بصیرت، اور مؤمنین کے لیے ایک فکرانگیز یاددہانی کا سرچشمہ موجود ہے۔

Root: ف ء د; ق ص ص; و ع ظ

وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ٱعْمَلُوا۟ عَلَـىٰ مَكَانَتِكُـمْ إِنَّا عَٟمِلُونَ ١٢١
وَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ 
١٢٢

  • And you the Messenger pronounce for those who do not accept Qur’ān, "Continue acting from the position and footing you have chosen; indeed, we too remain steadfastly engaged in our course. (Cf. 6:135; 11:93; 11:121; 39:39; 41:40) [11:121]

  • And you people wait, we are indeed waiting for the Day." [since we do not have any confusion in our conviction of its coming soon] [11:122]

اورآپ (ﷺ)ان لوگوں کے لئے ارشاد فرما دیں جو آپ اور قرءان مجید پر ایمان  نہیں  لاتے ’’آپ لوگ اپنے طرز عکر پر عمل کرتے رہیں؛ہم یقیناً اس طرز عمل پر کاربند  ہیں  جس کا  ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
تم لوگ دل جمعی سے اس دن کا انتظار کرو؛یقیناً ہم بھی شوق سے منتظر ہیں"۔

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ

  • Know it; the invisible/hidden secrets of the Skies and the Earth are the domain exclusive for Allah the Exalted.

متنبہ رہو؛آسمانوں اور زمین کی دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں حقیقتیں اللہ تعالیٰ کے لئے سرنگوں اور برسر پیکار ہوتے ہیں۔

وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلۡأ​َمْـرُ كُلُّهُۥ

  • And every matter, affair, issue is returned for settling/decision towards Him the Exalted.

مطلع رہو(فلسفہ علت و معلول کی حقیقت سے)؛ہر معاملہ، اپنی کلی حیثیت میں،ان جناب کے حضور نبٹائے جانے کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔

فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِۚ

  • Therefore, you the Messenger be subject/subservient/allegiant to and have your trust and dependence upon Him the Exalted.

چونکہ تمام کائنات مطلق بندگی کا مظہر ہے اس لئے آپ(ﷺ)ان جناب کے لئے بااظہار بندگی کرتے رہیں اور عقل و دانش کے تقاضوں کے مطابق معاملات کو سرانجام دے کر بہترین نتایج کےلئے ان جناب پر بھروسہ اور اعتماد قائم رکھیں۔

وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍٛ عَمَّا تَعْمَلُونَ ١٢٣

  • Be mindful; Sustainer Lord of you the Messenger is indeed never unmindful-neglectful about what you people do. [11:123]

لوگ متنبہ رہیں؛ آپ (ﷺ) کے رب  اُس سے کبھی غافل نہیں ہوتے جو اعمال تم  لوگ کرتے ہو۔

Root: غ ف ل

   012-سُوۡرَةُ يوسف

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation

  سورۃ کا تعارف


الٓرۚ تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ١
إِنَّـآ أَنزَلْنَٟهُ قُرْءَٟنًا عَـرَبِيّٙا لَّعَلَّـكُـمْ تَعْقِلُونَ ٢

  • Alif-Lām-Rā with prolongation glyph. These are the signs inscribed in the Principle Book —that which actively renders every reality luminously distinct and explicit. [12:01]

  • Indeed, Our Majesty has sent it down — as a composite transcript in the eloquent tongue of the Arabian Peninsula — so that you may anchor it in memory, critically analyze its facts against conjecture, and exercise true intellect. [12:02]

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔اے رسولِ کریم!یہ اُس  کتاب(ام الکتاب)کےمندرجاتہیں،جس کا  بنیادی وصف حقائق مستور اور   ہر حقیقت کو روشن،ممتاز اور بالکل واضح اور آشکار کر دینے والے کا ہے۔
یقینا ہم  جناب نے اُس
(کتابِ مبین) کومجتمع انداز میں نازل فرما دیا ہے۔اس کو جزیرہ  نماعرب کی زبان میں تحریر اورمرتب کردہ حالت میں  نازل فرمایا ہے۔اُس  کو یوں نازل کرنے کا  مقصد یہ ہے کہ تم لوگ اس کو اپنی یاداشت میں بغورمحفوظ کر سکو، قیاس و گمان سے مجرد کر کے  حقائق پر مبنی معلومات کا تنقیدی و سائنسی تجزیہ کر سکو، اور حقیقی عقل و تدبر کو کارفرما بنا سکو۔(سورۃیوسف۔۲)

قرءان مجید کا سرچشمہ:ام الکتاب

نَـحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانَ

  • We verbally narrate to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] event by event/clip-by-clip the finest episode which We had conveyed to you in this Qur’ān [that We would have disclosed to you whatever will be asked-25:33]

ہم آپ (ﷺ) کو واقعات میں سے بہترین قصہ من وعن وقوع پذیر ہوئے انداز میں سناتے ہیں جن کے متعلق ہم نے آپ (ﷺ) کواِس قرء ان ِ مجید میں مطلع فرمایا ہے(کہ جو سوال آئے گا اس کے متعلق ہم قبل ازیں احسن تفسیر منکشف کر چکے ہوں  گے۔الفرقان۔۳۳)

وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٟفِلِيـنَ ٣

  • And it is a fact that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] were one of those who were un-aware of it in times before it (Qur’ān) — [12:03]

 اور اِس (قرء ان ِ مجید)سے قبل آپ بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو اِس قصے کے بارے میں حقائق نہیں جانتے۔

Root: غ ف ل

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٟٓأَبَتِ

  • One day when Yu'suf [alai'his'slaam] said to his biological-father: "O my father!

(قصہ یوں ہے کہ) جب یوسف (علیہ السلام) نے ایک دن اپنے والد کے پاس جا کر ادب و احترام سے بیٹھ کر کہا ”ابو جی! ۔

إِنِّـى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَـرَ كَوْكَبٙا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ

  • It is a fact that I watched eleven planets, and the Sun and the Moon —

میں نے خواب میں گیارہ سیارے، اورسورج اور چاند کو دیکھا ہے۔

Root: ع ش ر;  ك و ك ب;  Planets

رَأَيْتُـهُـمْ لِـى سَٟجِدِينَ ٤

  • Father! I observed them as reverent coming nearer and paying obeisance for me." [12:04]

ابا!میں نے انہیں میرے لئے احترام اورتعظیم بجا لانے والوں کی طرح خواب میں دیکھا ہے“۔

Root: س ج د

قَالَ يٟبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَـىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًاۖ

  • He (Father) advised him lovingly, "O my dear son! mind it you should not narrate your dream to your brothers (eleven), for the reason that in sequel they might conspire a plot against you [by whispers of jealousy] —

انہوں (والد) نے اسے لپٹا کرآہستگی سےکہا”میرے  پیارے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ (جلن سے) وہ تیرے خلاف کوئی حیلہ جوئی کریں۔

Root: ك ى د

إِنَّ ٱلشَّيْطَٟنَ لِلْإِنْسَٟنِ عَدُوّٚ مُّبِيـنٚ ٥

  • It is a fact that Shai'taan is a contentious, antagonistic enemy for human beings [12:05]

یہ حقیقت ہے کہ شیطان انسان کا علی الاعلان دشمن ہے۔

وَكَذَٟلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ

  • And like this reverence, your Sustainer Lord will grant you distinction —

اور یاد رکھنا اس(خواب)انداز میں تیرے رب دوسروں پر فوقیت دیتے ہوئے تیرا انتخاب کریں گے۔

وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ

  • And He the Exalted will make you learn foreseeing by deducing the final outcome-logical conclusive interpretation of the happenings, events-dreams —

اور وہ جناب تجھے    پیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ  سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دیں گے۔

وَيُتِـمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَـىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَـىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْحَٟقَۚ

  • And will complete His blessing upon you and the family/followers of Ya'qoob [alai'his'slaam] like He had completed upon your two forefathers [grand father and grand grand father], early on, Iebra'heim [alai'his'slaam] and Ies'hauq [alai'his'slaam]

اور وہ جناب اپنی نعمت کا تم پر اتمام فرمائیں گے اورنسل/پیروکاران  یعقوب(علیہ السلام)پر ویسے جیسے انہوں نے اتمام فرمایا تھا  زمانہ قبل میں تیرے دو جد امجد پر،ابراہیم اور اسحاق(علیہما السلام)۔

إِنَّ رَبَّكَ عَلِيـمٌ حَكِيـمٚ ٦

  • Indeed your Sustainer Lord is the Fountain and Setter of knowledge-science of visible and invisible domains; and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms." [12:06]

یقیناً تیرے رب منبع علم ہیں،بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں"۔


لَّقَدْ كَانَ فِـى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٟتٚ لِّلسَّآئِلِيـنَ ٧

  • It is a fact that pearls-signs of wisdom are embedded in the affair between Yu'suf [alai'his'slaam] and his brothers, reminisce for the seekers of information. [12:07]

حقیقت یہ ہے کہ سوال/استفسار کرنے والوں کے لئے ایسے نکات یوسف(علیہ السلام)اور ان کے بھائیوں کی جگ بیتی/سوانح  حیات میں واضح ہیں جو  صحیح طرز عمل اختیار کرنے کی جانب  ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَـىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَـحْنُ عُصْبَةٌ

  • Know it, when they discussed amongst themselves: "It is obvious fact that Yu'suf and his mother-born brother are more beloved and nearer for our father than us despite we being a well-knit force; [deserving more attention and position]

آپ بتائیں ان کی سوانح میں پہلا موڑ اس وقت آیا جب ان کے بھائیوں نے آپس میں کہا’’سچ تو یہ ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے اباجان کے لئے ہم سے  ہٹ کرزیادہ لائق توجہ اور پیار ہیں باوجود اس کے کہ ہم طاقتورجتھا ہیں۔

إِنَّ أَبَانَا لَفِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٨

  • It is obvious that our father is certainly forgetful/negligent of this fact. [12:08]

یقیناً ہمارے ابا جان کی ان کی جانب ارتکاز محبت سے ظاہر ہے کہ ہماری جانب سے صریحاً غافل ہیں۔

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضٙا

  • You kill Yu'suf or carry him to some other land/city —

تم لوگ یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی دوردراز جگہ پر چھوڑ آؤ۔

يَخْلُ لَـكُـمْ وَجْهُ أَبِيكُـمْ

  • The attention of your father will become exclusively focused for you people —

ایسا کرنے پرتمہارے اباجان کی تمام تر توجہ و محبت تمہارے لئے ہو جائے گی۔

Root: خ ل و

وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمٙا صَٟلِحِيـنَ ٩

  • And you people would afterwards live as righteous people." [12:09]

اوراس(ناپسندیدہ،گھناؤنے فعل)کے بعد تم لوگ صالح اعمال پر کاربندقوم بن کر رہنا‘‘۔

قَالَ قَآئِلٚ مِّنْـهُـمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ

  • A participant of discussion who was less emotional - eldest among them said; "You should not kill Yu'suf —

گفتگو میں شامل  ان میں سے جو کم جذباتی اور قدرے سیانا تھانے کہا’’یوسف کو تم لوگوں کوقتل نہیں کرنا چاہیے۔

وَأَلْقُوهُ فِـى غَيَٟبَتِ ٱلْجُبِّ

  • Instead I direct you people to lower him into the bottom of the dry ditch/well —

بلکہ اسے ویران خشک کنویں کی تہہ میں ڈال دو۔

يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ

  • Some of the passing by caravan will pick him up (and take him to foreign land as one option you proposed-12:9) —

اس راہ سے گزرنے والا قافلہ اسے شوق سے اٹھا کر لے جائے گا۔

Root: س ى ر; ل ق ط

إِن كُنتُـمْ فَٟعِلِيـنَ ١٠

  • Do like it, if you people have become determined to take the initiative." [12:10]

ایسا ہی کرو اگر تم لوگ کچھ فعل کرنے پر تلے ہوئے ہو‘‘۔

قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَا مَا لَكَ لَاعَلَـىٰ يُوسُفَ

  • They said, "O our father! What is the reluctance for you that you trust not upon us regarding Yu'suf while we are certainly the well wishers for him? [12:11]

(کنویں میں ڈالنے والی بات پر متفق ہو کر گھر آئےاور)انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان،آپ کے لئے وہ کون سی بات ہے جس کی وجہ سے آپ یوسف کے لئے ہم پر اعتماد نہیں کرتے

وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٟصِحُونَ ١١

  • Despite the fact that we are certainly the well wishers for him.

حالانکہ ہم یقینا ہر حال میں اس کے خیرخواہ ہیں۔

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدٙا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ

  • You do send him [Yu'suf alai'his'slaam] ] with us tomorrow that he should enjoy eating and drinking in greenery and playing —

آپ اسے کل ہمارے ساتھ باہر بھیج دیں۔خوب کھا پی لے گا،کھیلے کودے گا۔

Root: غ د و

وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ ١٢

  • Whereat we will certainly be taking care guarding him." [12:12]

اور یقینا ہم اس کے لئے حفاظت کرنے والے ہوں گے‘‘۔

قَالَ إِنِّـى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ

  • He replied, "Indeed my position is that your going out taking him along saddens me —

انہوں نے جواب دیا’’درحقیقت  تمہارا اسے ساتھ لے جانا مجھے اداس اور حزن میں  مبتلا کرتا ہے۔

وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُـمْ عَنْهُ غَٟفِلُونَ ١٣

  • And I worry - am afraid the wolf eating him while you are negligent/unmindful of him." [12:13]

کیونکہ مجھے خوف لاحق ہوتا ہے کہ کہیں اسے  بھیڑیا کھا جائے جب تم لوگ اس کی جانب  سےغافل ہو‘‘۔

Root: خ و ف;  غ ف ل

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَـحْنُ عُصْبَةٌ

  • They argued, "Indeed if the wolf eats him while we as a well-knit group are there —

انہوں نے کہا’’اگر اسے بھیڑیا کھا جائے باوجود اس کے کہ ہم ایک مضبوط جتھا اس کے ساتھ ہیں۔

Root: ع ص ب

إِنَّـآ إِذَٙا لَّخَٟسِـرُونَ ١٤

  • Indeed in that case we will certainly become the degraded losers." [12:14]

تویقینا ایسا ہو جانے پر ہم توکمزور نکمے بن جائیں گے‘‘۔

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْـمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِـى غَيَٟبَتِ ٱلْجُبِّۚ

  • Sequel to father's permission when they went taking him along and they joined for rendering him safely placed in the bottom of the dry ditch/well —

اجازت مل جانے پرجوں ہی وہ اسے ساتھ لے کر گئے اور اکٹھے                            ہوکراسے  سطح زمین سے ویران خشک کنویں کی تہہ میں اتار رہے تھے۔

وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَـنَّـهُـم بِأَمْرِهِـمْ هَـٟذَا وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٥

  • While they were doing this, Our Majesty communicated to him (Yu'suf): "Certainly you will one day remind them about this act of theirs while they will have no thought of it." [12:15]

تو ہم جناب نے اسے وحی کر کے بتایا’’یقیناً تو مستقبل میں ان کے اس معاملے کے متعلق متنبہ کرے گا جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا‘‘۔

وَجَآءُوٓ أَبَاهُـمْ عِشَآءٙ يَبْكُونَ ١٦

  • Having done that they came back at early night to their father, they were weeping. [12:16]

اور(کنویں میں اتار دینے کے بعد)وہ عشاء کے وقت اپنے والد کے پاس پہنچ گئے اس انداز میں کہ رو رہے تھے۔

Root: ع ش ى

قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ

  • They said, "O our father, indeed we went away in competition racing towards finish line —

انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان؛سچ یہ ہے کہ ہم چلے گئے تھے،آپس میں دوڑ لگاتے ہوئے ختم لائن کی جانب سبقت لینے کی کوشش کرتے ہوئے۔

Root: س ب ق

وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٟعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُۖ

  • While we had left Yu'suf near our possessions. Thereat in our absence the wolf ate him.

اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا،جس پر اسے اکیلا پا کر بھیڑیا اسے کھا گیا۔

وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٛ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٟدِقِيـنَ ١٧

  • In this situation you will certainly not be believing us notwithstanding we are truthful." [12:17]

مگر آپ توہمارے کہے کو سچ نہیں مانیں گے اگرچہ ہم سچ کہہ رہے ہیں‘‘۔

وَجَآءُو عَلَـىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٛ كَذِبٛۚ

  • And they had come to house bringing his shirt after having stained it with fake blood.

اوروہ گھر پہنچے تھے اس کے کُرتےپرجعلی خون سے دھبے لگا کر۔

Root: د م و; ق م ص

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَـكُـمْ أَنفُسُكُـمْ أَمْرٙاۖ

  • He said: "No, that is not the fact, on the contrary your Consciences resolved matter in such was that was alluring and relaxing for you —

انہوں(والد)نے کہا’’نہیں یہ سب غلط ہے؛حقیقت میں تمہارے نفوس نے اس معاملے کوتمہارے لئے سکون و طمانیت کا باعث بنایا ہے۔

Root: س و ل

فَصَبْـرٚ جَـمِيلٚۖ

  • Thereat, the hopefulness of his being safe is the source for forbearing separation —

اس لئے اس کے سلامت ہونے کا یقین تحمل اور بردباری سے جدائی سہنے کا ذریعہ ہے۔

وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨

  • And Allah the Exalted is the Resort - Recourse for what you people are conjecturing exaggeratedly." [12:18]

اور اللہ تعالیٰ ہی ہیں جن سے طلبگار اعانت ہوں اس کے لئے جو بڑھا چڑھا کر جھوٹ تم بیان کر رہے ہو‘‘۔

Root: ع و ن


وَجَاءَتْ سَيَّارَةٚ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُـمْ فَأَدْلَـىٰ دَلْوَهُۥۖ

  • And there came a caravan. On spotting a well they sent their water-drawer/carrier to the well. Thereat, he lowered his bucket into the well.

اسی شام ایک قافلہ اس جگہ پہنچ گیا۔پڑاؤڈالنے کے بعد انہوں نے اپنے سقہ کو پانی لانے کے لئے بھیجا۔کنواں کے کنارے پہنچ کر اس نے اپنا ڈول نیچے لٹکایا(تو نیچے دیکھتے ہی)۔

Root: ر س ل;  س ى ر

قَالَ يٟبُشْـرَىٰ هَـٟذَا غُلَٟمٚۚ

  • [while lowering he saw into the well and spotted a child instead of water] He loudly called, "O good news! here is a minor boy."

وہ پکارا’’واہ خوشخبری؛سنو یہاں ایک لڑکا ہے‘‘۔

Root: غ ل م

وَأَسَرُّوهُ بِضَٟعَةٙۚ

  • And they, (the caravan merchants), hid him with intent-consideration of merchandize.

اور اسے نکال کر انہوں(تجارتی قافلے والوں)نے اسے چھپا لیا کاروباری پونجی کی نیت سے۔

Root: س ر ر

وَٱللَّهُ عَلِيـمُۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ١٩

  • And Allah the Exalted is eternally All-Knower of what they people were doing. [12:19]

اور(انہوں نے احساس ہی نہیں کیا کہ)اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو حرکت وہ کر رہے تھے۔

وَشَرَوْهُ بِثَمَنِۭ بَخْسٛ دَرَٟهِـمَ مَعْدُودَةٛ

  • And they (the caravan merchants) sold him (minor boy Yu'suf) at the lowered bargain price, by settled number of Dirhams —

اور انہوں(تجارتی قافلے والوں)نے اسے کم قیمت پر سودے بازی کر کے بیچ دیا،طے شدہ معدودے چند درہموں کے عوض۔

وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٟهِدِينَ ٢٠

  • While they (the caravan people) were interested more to give him away-get rid of him. [12:20]

کیونکہ وہ اس کے متعلق فکرمند حالت میں تھے کہ اس سے جان خلاصی کر لیں(ایسا نہ ہو کہ اغواکار سمجھ لئیےجائیں)۔

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَـرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ

  • And he who had bought him (child-Yu'suf) from the market in the City Misr [Egypt] said to his wife imperatively:

اور جس شخص نے مصر  کے بازارمیں سے اسے شوق سے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا۔

Root: م ص ر;  ش رى

أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَـدٙاۚ

  • "You make his permanent stay dignified; may be he becomes profitable for us or we might affectionately adopt him as son."

’’آپ اس کی رہائش کو باوقار بنائیں؛قریب ہے کہ یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہو یا  ہم اسے بطور بیٹا اپنا لیں‘‘

Root: ع س ى

وَكَذَٟلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • And this is how Our Majesty provided a stronghold for Yu'suf in the Land [Misr-known by non Arabs as Egypt] —

اور یوں ہم جناب نے یوسف کے لئے ٹھکانہ بنا دیا،باوقار انداز میں ملک مصر میں رہائش پذیر۔

وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ

  • And so that Our Majesty may make him learn foreseeing by deducing the final outcome-logical conclusive interpretation of the happenings, events-dreams —

اور تاکہ (جیسے ان کے والد نے اسے بتایا تھا)ہم جناب اسے  پیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دیں۔

وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَـىٰٓ أَمْرِهِۦ

  • Realize it, Allah the Exalted is always dominant upon His decision/command [to make it take effect]

مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ  اپنے طے شدہ امر کوحقیقت میں ظہور دینے پر بالا دست ہیں۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٢١

  • But the fact remains that most of the people intend not to understand - realize it. [12:21]

مگراکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔


وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٟهُ حُكْـمٙا وَعِلْمٙاۚ

  •  Know the fact; when as soon he (Yu'suf alahissalam) crossed over his strengthen maturity/became fully grown man, Our Majesty had given him power of restraint - discriminative intelligence and knowledge.

مزید جان لو؛جوں ہی انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اپنی بھرپور جوانی میں قدم رکھا ہم جناب نے انہیں قوت فیصلہ، امتیازی ذہانت اورعلم سے نوازا۔

وَكَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٢٢

  • And like this acknowledgement reward We award those who conduct moderately, decently, gracefully and generously [12:22]

مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

وَ رَٟوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِـى بَيْتِـهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَ غَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٟبَ وَ قَالَتْ هَيْتَ لَكَۚ
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّـىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٟلِمُونَ٢٣

  • Know the incident; [to realize that so called adopted son is never a son] the lady; in whose home he lived since childhood to strengthen maturity, sought to seduce him to take him away from his conscience for fulfilling her desire. She, in a state of contractedness of mind and heart and paucity of patience, overpowered by emotions, auto locked the doors successively [at least 3 of main hall of house]. Having auto locked all the doors, [but still not finding responsive advances despite securing the area] she said to him: "Come on! Now, what is the fear for you!".
    He (Yu'suf alahissalam) replied, "I seek refuge in Allah the Exalted
    —Indeed He the Exalted is my Sustainer Lord, He the Exalted has made my stay perfectly excellent. Indeed the point that needs to be remembered is that the unjust/distorters of realities-relations-equations-balance never attain prosperous success at the end." [12:23]

ان دنوں یہ واقعہ پیش آیا۔اس خاتون نے ،جس کے گھر میں اس کی آنکھوں کے سامنے بچپن سے بھرپور جوان ہوئے تھے،ان   کے آگے پیچھے ہو کر انہیں اپنے آپ سے بے خود کر کےاپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی۔اور(عدم دلچسپی اور ان کی حیرانگی کے پیش نظر) اس نے یکے بعد دیگرے دروازے اندر سے مقفل کر دئیے؛ایسا کر لینے پر انہیں مخاطب کرتے ہوے کہا’’آؤ ؛اب کیا ہے تمہارے لئے خوف اور رکاوٹ!‘‘
انہوں نے جواب دیا’’اللہ تعالیٰ کی پناہ!۔یقیناً وہ جناب میرے رب ہیں؛انہوں نے میرے قیام کو بہترین بنایا ہے۔آپ جان لیں اس حقیقت کو،بے اعتدالیاں کرنے اور حسن ترتیب کو بگاڑنے والے کبھی سرخرو نہیں ہوتے‘‘۔

Root: ھ ى ت;  ع و ذ

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦۖ

  • --(But she did not care) And indeed she had already become determined to associate with him to appease her emotional disquiet—

۔۔مگر(اس وعظ کا کوئی اثر اس خاتون پر نہ ہو اکیونکہ)وہ پہلے ہی جذباتی ہیجان کی ان کے ساتھ تسکین کا ٹھان چکی تھی۔

وَهَـمَّ بِـهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٟنَ رَبِّهِۦۚ

  • [parenthetically let everyone know that had he been an ordinary man in such volatile situation] -- And had he not seen the veracity of statement of his Sustainer Lord [told to him in childhood-12:6], he might have inclined-floated in passion associating with her —

۔۔(ہر کوئی جان لے کہ اس قسم کے محفوط مگر ہیجان خیز انداز اور پیشکش کے ماحول میں اگر وہ عام مرد ہوتا تو)اور وہ اس عورت کے ساتھ طغیانی جذبات میں بہہ جاتا اگر اس نے اپنے رب کے ہر مقام پر موجود ہونے کی دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔۔

كَذَٟلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَۚ

  • That was the reason of restraint. The grant of discriminative intelligence was for Our Majesty intended averting from him the evil and the illicit sexual activity —

اس کے مثل جذبات پر قابو رکھنے کا یہ مظاہرہ تھا۔برھان دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جناب اس سے ہر قابل مذمت کجی اورفحش طرز عمل کواجتناب کی جانب پھیر دیں۔

Root: ص ر ف;  ف ح ش

إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِيـنَ ٢٤

  • Indeed he (Yu'suf alahissalam) was selected since birth as being one of Our exclusively chosen allegiant --. [12:24]

۔۔ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ پیدائش کے وقت سے وہ ہمارے ان بندوں میں سے ایک تھے جنہیں ہم نے خالص اپنے مقصد کے لئے چنا تھا(انبیاء علیہم السلام)۔۔

وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٛ

  • [reverting from parenthetic] And he and she swiftly ran towards the exit door, she racing in effort to catch him cleaved - creased/wrinkled his short from the back —

اور(خاتون خانہ کے جذباتی اندھے پن کوبھانپتے ہوئے)وہ تیزی سے گھر کے باہرکی جانب نکلنے والے دروازے کی طرف لپکے اور  خاتون نے انہیں پیچھے سے پکڑنے کی کوشش میں ان کے کُرتے کےپچھلے حصے کو سلوٹ/شکن زدہ کر دیا۔

Root: س ب ق; ق م ص

وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِۚ

  • (Yusuf managed open the exit-door) And they both found her husband nearing the door.

اوردروازہ کھلتے ہی دونوں نے اس(خاتون)کے خاوندکو دروازے کی طرف آتے پایا۔

Root: س و د 

قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢٥

  • [perplexed by unexpected arrival of her husband and reflective scene of rushing out] She said, "What could be the punishment for him who intended evil with your household except imprisonment or some painful infliction?" [12:25]

(اس اچانک صورتحال پر)اس نے خاوند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’اس شخص کی سزا کیا ہو سکتی ہے جس نے آپ کے اہل خانہ سے بدفعلی کا ارادہ کیا ماسوائے اس کے کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یادردناک جسمانی سزادی جائے‘‘

Root: س ج ن

قَالَ هِىَ رَٟوَدَتْنِى عَن نَّفْسِىۚ

  • He (Yu'suf) said, "It is she who seduced me seeking to take me away from my conscience for fulfilling her desire."

انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’یہ خود ہیں جنہوں نے مجھے اپنے آپ سے بے خودکر کے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی ہے‘‘

وَشَهِدَ شَاهِدٚ مِّنْ أَهْلِهَآ

  • [on these contradictory statements and allegation] And a person of her household present suggested recourse to the circumstantial evidence saying:

(ان دو متضاد بیانات کو سن کر)اس(خاتون)کے اہل خانہ میں سے موقع پر موجودشخص نے شہادت کے طور یہ دیکھنے کے لئے کہا۔

إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٛ فَصَدَقَتْ

  • "If his shirt is damaged-creased on surface facing forward, then it proves she has stated the truth —

’’اگر اس   کا کُرتہ سامنے کی جانب والے مقام سے سلوٹ/شکن آلود ہوا ہے تو یہ ظاہر ہو جائے گا کہ انہوں(خاتون)نے سچ کہا ہے۔

Root: ق د د; ق م ص

وَهُوَ مِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٢٦

  •  And he is one of the liars [Allah forbids] [12:26]

اور وہ(یوسف)جھوٹ بولنے والوں میں شمار ہے۔

وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٛ فَكَذَبَتْ

  • And if his shirt is damaged-creased on part of its back surface then it proves that she has lied —

اور اگر اس کاکرتہ پچھلی جانب سے سلوٹ/ شکن آلودہ حالت میں ہے تویہ ظاہر ہو جائے گا کہ انہوں(خاتون)نے جھوٹ کہا ہے۔

Root: ق د د; ق م ص

وَهُوَ مِن ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٢٧

  • And he is the truthful." [12:27]

اور اس(یوسف)کا شمار سچ بولنے والوں میں ہے‘‘۔

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٛ قَالَ

  • Thereby as soon he saw his shirt damaged-creased on its back he said, [diffusing the embarrassment]

اس معنی خیزبات پر جوں ہی اس (خاوند/عزیز مصر)نے اس کے کُرتے کوپچھلی جانب پر سلوٹ/شکن زدہ دیکھا تو کہا۔

Root: ق د د; ق م ص

إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيـمٌ ٢٨

  • "Indeed that is sort of dissimulation of you women; Indeed dissimulation of you women is great". [12:28]

’’حقیقت یہ ہے کہ مردوں پر الزام تھوپ دیناتم عورتوں کااپنی صفائی پیش کرنے کا ایک حربہ ہے۔یقینا تم عورتوں کاحیلہ بہانے سازی میں بڑا ہے"۔

يُوسُفُ أَعْـرِضْ عَنْ هَـٟذَاۚ

  • He requested, "Yu'suf, do ignore this incident-avert your mind from it —

اور یوسف(علیہ السلام)سے کہا’’یوسف!آپ اس معاملے میں  درگزرکریں‘‘۔

وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِۖ

  • And you, O my wife, sincerely seek forgiveness for your slander —

اور بیوی سے مخاطب ہو کر کہا’’تم  اپنی اس بےہودہ الزام تراشی کے لئے درگزر اور معافی کی خواستگاربنو۔

Root: ذ ن ب

إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔـيـنَ ٢٩

  • Indeed you were one of those who err." [12:29]

یقینا تم، ہاں تم خطا کاروں میں شامل ہو گئی تھی‘‘۔


وَقَالَ نِسْوَةٚ فِـى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٟوِدُ فَتَىٰـهَا عَن نَّفْسِهِۦۖ

  • And a few women in the city talked: "[look at] Wife of Aziz, she seduces her servant seeking to take him away from his conscience for fulfilling her illicit desire —

بات پھر بھی باہر نکل گئی تو شہر میں چند عورتوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا’’عزیز کی بیوی اپنے جوان ملازم کو اپنی جانب بے خود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

Root: ف ت ى; م ر ء

قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاۖ

  • Indeed he has reached her pericardium, piercing desire for nearness-love has impassioned her.

واقعتاً وہ(ملازم)اس کے دل کی جھلی چھیل کر اندر پہنچ گیا ہے،اس کے لئے  چاہت بن گیا ہے۔

إِنَّا لَنَرَىٰـهَا فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٣٠

  • Indeed we find her certainly in a state of manifest forgetfulness/mindlessness". [12:30]

یقیناًہم اسے(عزیز کی بیوی)کو واضح اور عریاں کج روی اور اخلاقی اقدار سے انحراف میں مبتلا سمجھتی ہیں‘‘۔

فَلَمَّا سَـمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْـهِنَّ  وَ أَعْتَدَتْ لَـهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَ ءَاتَتْ كُلَّ وَٟحِدَةٍۢ مِّنْـهُنَّ سِكِّينًۭا
وَ قَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْـهِنَّۖ
 فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَـرْنَهُۥ
وَ قَطَّعْنَ أَيْدِيَـهُنَّ
وَ قُلْنَ حَٟشَ لِلَّهِ مَا هَٟذَا بَشَـرًا إِنْ هَٟذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيـمٌۭ٣١

  • Thereupon, when she heard of their ill talk, she sent an invitation to them — and she prepared for them a reclining arrangement with repast that required leaning forward to cut, and she placed in the hand of each one of them a fruit-knife.
    And she asked him, "Step out before them."
    So when those women saw him, they were overwhelmed by him and extolled him.
    And, seeking to draw his attention, they deliberately pricked their hands —
    Yet when he remained untouched by their gesture, they said: "Absolute exaltation is for Allah alone. This is no human at all; he is none but a noble angel." [12:31]

پھراہلِ ثروت  چندخواتین کی علیحدگی میں کی جانے والی چہ مگوئیوں کی خبر جب اس (عزیز کی بیوی) کو ملی تو اس نے فوراً انہیں اپنے گھر دعوت پر بلا بھیجا۔۔اور وہ اس نشست کا اہتمام کچھ اس طرح سے کر چکی تھی کہ گاؤ تکیوں کے سہارے بیٹھ کر پھل کاٹنے کے لئے جھکنا ناگزیر ہو۔اور اس نے ان میں سے ہر خاتون کے ہاتھ میں ایک ایک پھل کاٹنے والی چھری تھما دی۔
اور یوسف (علیہ السلام)کو پکارا"ان کے سامنے نکل آؤ"۔
پس جب وہ ان کے سامنے آئے اور ان خواتین کی نگاہیں ان پر پڑیں تو سب سے پہلے انہوں نے انہیں  معتبر شخص  کے درجے  کا قرار دیا۔
اور جب انہیں ان کی جانب سے کوئی التفات یا ردِعمل نہ ملا تو انہوں نے دانستہ اپنے ہاتھوں کو خراش  لیا۔
اور جب پھر بھی ان کی بےرُخی برقرار رہی توانہوں(چند مہمان خواتین)نے کہا"بڑائی تو اللہ تعالیٰ  ہی کے لئے مخصوص ہے۔یہ   ہرگز  عام بشر نہیں!یہ تو کوئی نہایت معزز فرشتہ ہی ہیں!"۔

Root: ع ت د

قَالَتْ فَذٟلِـكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِۖ

  • She said, "Then that is the phenomenon about which you objurgated me saying his attraction has pierced into my heart —

میزبان خاتون نے کہا’’یہ ہیں تمہارے جذبات اور دیکھنے کا اثر؛یہ وہی ہے جس کے بارے تم مجھے قابل ملامت کہتی رہی ہو۔

Root: ل و م

وَلَقَدْ رَٟوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسَتَعْصَمَۖ

  • And yes, I seduced him to take him away from his personal-self/conscience to meet my desire. Thereat, he remained firm to his resolve [and ran away to the exit door]

اور یہ سچ ہے کہ میں نےاسے اپنے آپ سے بے خود کر کے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے پر ڈٹا رہا۔

Root: ع ص م

وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُـرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونٙا مِّن ٱلصَّٟغِـرِينَ ٣٢

  • But if he performs not that which I am commanding him, he will certainly be imprisoned and he will become one of the degraded". [12:32]

لیکن اگر اب اس نے وہ فعل نہ کیا جس کا میں اسے کہہ رہی ہوں تو یقینا جیل میں ڈال دیا جائے گااور(جس اونچے مقام پر ہم سب  اس کو بٹھا رہی ہیں)وہ کم تر لوگوں کے مقام کا ہو جائے گا‘‘۔

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَـىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِۖ

  • He prayed: "My Sustainer Lord! imprisonment is more suited and dearer to me than going towards what they are inviting, inciting me.

(اس قدر بیباک ناشائستہ گفتگو سن کر)انہوں(یوسف علیہ السلام)نے دعا فرمائی’’میرے رب!جیل میں جانا اس سے زیادہ مجھے دلپسند ہے جس کی جانب جانے کی یہ(خواتین)مجھے دعوت دیئے جا رہی ہیں۔

Root: س ج ن

وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْـهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٟهِلِيـنَ ٣٣

  • Should You the Exalted not avert their scheme-trick compelling me to incline towards them: I would have surge of passion overwhelmed towards them; and would become one of those who are carried away by emotions. [12:33]

اور اگر آپ جناب نے ان کے مزید حربوں کو مجھ سے دور نہ فرمایا توکہیں میں جذبات کے اچانک ابال سے ان کی جانب متوجہ نہ ہو جاؤں اور جذبات میں بہکنے والوں میں شمار ہو جاؤں‘‘۔

Root: ص ب و; ص ر ف

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّۚ

  • Acceding to his prayer His Sustainer Lord responded, thereby He the Exalted revolved their scheme-seducing tricks away from him.

اس پران کے رب نے جواب میں ان کی خواہش کے مطابق  ایسے حالات کر دئیے جس کے نتیجہ میں انہوں نے ان کے ہتھکنڈے کو ان(یوسف علیہ السلام)سے پھیر دیا۔

Root: ص ر ف

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٣٤

  • The fact remains that He the Exalted is eternally the All-Listening, the All-Knowing. [12:34]

ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔

ثُـمَّ بَدَا لَـهُـم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَـٟتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَـتَّىٰ حِيـنٛ ٣٥

  • Afterwards, the cause became apparent/understood for them after having observed/analyzed evidential hints, they decided they must take him into protective custody-imprison him for a while. [12:35]

بعد ازاں،کچھ وقت گزرنے پربعد اس کے جومسئلے کی نشاندہی کرنے والی نشانیاں انہوں نے دیکھ لی تھیں،ان پر مسئلے کا یہ حل ظاہر ہوا کہ وہ انہیں کچھ عرصہ کے لئے جیل میں(حفاظتی حصار)رکھیں۔

Root: س ج ن


وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِۖ

  • [He was accordingly sent to prison] And two young men entered along with him in the prison.

اس بنا جس دن انہیں(یوسف علیہ السلام)جیل بھیجا گیا ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے۔

قَالَ أَحَدُهُـمَآ إِنِّـىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَـمْرٙاۖ

  • One of those two said, "Indeed I see myself in the dream that I am extracting - distilling alcoholics."

ان دو میں سے ایک نے کہا’’مجھے یہ درپیش ہے کہ میں خواب میں اپنے آپ کو شراب کشید کرتے ہوئےدیکھتا رہتا ہوں ‘‘۔

Root: خ م ر ;  ع ص ر

وَقَالَ ٱلۡءَاخَرُ إِنِّـى أَرَىٰنِىٓ أَحْـمِلُ فَوْقَ رَأْسِـى خُبْـزٙا تَأْكُلُ ٱلطَّيْـرُ مِنْهُۖ

  • And the second one said, "Indeed I see myself in the dream that I am carrying over my head bread out of which the birds are eating."

اور دوسرے نے کہا’’مجھے یہ درپیش ہے کہ میں خواب میں اپنے آپ کو سر کے اوپر روٹیاں اٹھائے دیکھتا رہتا ہوں جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں‘‘۔

نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓۖ

  • You tell us the outcome/eventuality of this dream.

آپ ہمیں اس خواب کا نتیجہ اور حقیقت بتائیں۔

إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٣٦

  • We see you as balanced generous man." [12:36]

یہ حقیقت ہے ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان میں سے ہیں جو اعتدال اور حسن سلوک کو اپنائے رکھتے ہیں‘‘۔

قَالَ لَا يَأْتِيكُـمَا طَعَامٚ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُـمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيكُـمَاۚ

  • He replied, "The food/meal which is served to you both will not reach you but I would have meanwhile told/construed you the effect/end result/meanings of that dream before the meal might reach you.

انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب میں کہا’’کھانا جوآپ کو حسب معمول بطور رزق مہیا کیا جاتا ہے نہیں پہنچے گا کہ قبل اس کے لائے جانے کے میں آپ دونوں کو اس(خواب)کی تعبیر بتا چکا ہوں گا۔

Root: ط ع م

ذَٟلِـكُـمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّـىٓۚ

  • This construing of dreams is with the knowledge my Sustainer Lord has imparted to me —

آپ دونوں کو بتا دوں یہ خواب کی تعبیر جاننا اس علم میں سے ہے جس کی میرے رب نے مجھے تعلیم دی ہے۔

إِنِّـى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٛ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ

  • Let me tell you about myself; I have indeed abandoned the method of interpretation followed by people who believe not in Allah the Exalted —

اپنے متعلق حقیقت بتا دوں میں نے ان لوگوں کے طریقہ کار(خوابوں کی تعبیر)کو متروک قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔

وَهُـم بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ كَٟفِرُونَ ٣٧

  • Be mindful; they in the heart of their heart are the rejecters of the Hereafter. [12:37]

اور یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے ہیں۔

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِ ىٓ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْحَٟقَ وَيَعْقُوبَۚ

  • And that I have diligently followed the ideology and code of life of my fathers, Iebra'heim, and Ies'hauq, and Ya'qoob. [عليهم السلام]

اور میں نے دلجمعی اوراخلاص سے اپنےاباواجداد،ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب(علیہم السلام)کے طرز فکر و عمل کی ہمیشہ پیروی کی ہے۔

Root: م ل ل

مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْـرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَـىْءٛۚ

  • It has never been befitting for us that we might associate with Allah the Exalted anything.

اللہ تعالیٰ کے ساتھ  قطعاً کسی بھی شئے اور بات کوقدر مشترک قرار دینا اور سمجھنا ہم لوگوں کے لئے کبھی جائز نہیں تھا۔

ذَٟلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَـى ٱلنَّاسِ

  • This is a blessing by the grace of Allah the Exalted upon us and upon the people.

یہ سوچ اور رویہ رکھنے کی توفیق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہم پر اور عوام الناس پر عنایات میں سے ایک ہے۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُـرُونَ ٣٨

  • But fact remains that most of the people do not appreciate-recognize-express gratitude.  [12:38]

اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ  اکثر لوگ  ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔

يٟصَٟحِبَىِ ٱلسِّجْنِ

  • O you my two companions of the prison, reflect:

اے میرے جیل کے  دونوںساتھیو!

ءَأَرْبَابٚ مُّتَّفَرِّقُونَ خَيْـرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٣٩

  • "Are diverse lords-godheads better to believe in; or Allah the Exalted Who is the Solitary Lord, Absolutely Dominant for ever? [12:39]

اس نکتے پر غور کرو،کیا رب کی خصوصیت سے متصف قرار دے کر متفرق ارباب کی بندگی کرنا بہتر سوچ ہے یا اللہ تعالیٰ جو یکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں۔

Root: ق ھ ر

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْـمَآءٙ سَـمَّيْتُـمُوهَآ أَنتُـمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِـهَا مِن سُلْطَٟنٛۚ
إِنِ ٱلْحُكْـمُ إِلَّآ لِلَّهِۚ أَمَـرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٟلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّـمُ

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ 
٤٠

  • Not at all you owe allegiance, yield obedient submission, and live in servitude to dictates, by substituting Him, except to mere labels which you and your forefathers have assigned and coined. Allah the Exalted has sent down absolutely no validating authority for them whatsoever. (Cf. 7:71; 53:23)
    The authority for decision and commanding the matters vests with none but is exclusive for Allah the Exalted. He has commanded that you must not submit in allegiance and servitude but exclusively and absolutely to Him the Exalted. That is the primordially settled and enduring governing order prescribed for creation and human existence. (Cf. 9:36; 30:30)
    However, the vast majority of people intend not to consciously understand this evident discipline." (Cf. 7:187; 12:21; 12:68; 16:38; 30:06; 30:30; 34:28; 34:36; 40:57; 45:26) [12:40]

تم  لوگ، ان جناب کو چھوڑ کر بدل کے طور پر   ، اپنے گمان میں جن کی بندگی اور اطاعت کی زندگی بسر کرتے ہو، وہ کچھ نہیں مگر محض نام اور لیبل ہیں جنہیں تم نے اور تمہارے آباء نے خود وضع کرکے اُن کو موسوم کر دیاہے۔اللہ تعالیٰ نےان کی مصاحبت کے نظرئیے کی تائید میں  قطعاًکوئی سند اور مختار نام نہیں بھیجا۔آئین و فرمان جاری کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ،یہ مطلق اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے۔انہوں نے حکم دیا ہے کہ تم لوگ  کسی کی بااظہار    بندگی اور اطاعت  ہرگز نہ کرو،سوائے مطلقاً ان  جناب کے لئے۔یہ حیات و کائنات کیلئے  ازل سےوضع اورمقررکردہ ہمیشہ قائم رہنے والا دستور اورنظام ہے۔
لیکن لوگوں کی بھاری اکثریت اس واضح اور مشہود نظم و ضبط کو شعوری طور پر سمجھنے اور اُس کے ادراک کی کوشش ہی نہیں کرتی۔(سورۃ یوسفؐ۔٤٠)

Root: س ل ط

يٟصَٟحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَـمْرٙاۖ

  • O you both my companions of the prison! one of you after safe release will be serving wine-alcoholic drinks to his Master-King —

اے میرے جیل کے  دونوںساتھیو!تم دونوں میں سے ایک بری ہو جائے گا،پھرملازمت ملنے پر اپنے سرپرست کوشراب پلایا کرے گا۔

Root: خ م ر;  س ق ى

وَأَمَّا ٱلۡءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْـرُ مِن رَّأْسِهِۦۚ

  • And the other [on being convicted/awarded capital punishment] will be crucified, whereat the birds will eat a part of his head.

اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے وہ مجرم قرار پا ئے گا جس پر مصلوب کر دیا جائے گا،اس طرح مر جانے پر پرندے اس کے سر میں سے نوچ کھائیں گے۔

Root: ر ء س;  ص ل ب

قُضِىَ ٱلۡأ​َمْـرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ٤١

  • The matter about which you both inquire has since been decreed." [12:41]

اس معاملے(تم پر لگائے گئے چارج)کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم دونوں وضاحت چاہ رہے ہو‘‘۔

Root: ف ت ى

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٛ مِّنْـهُـمَا ٱذْكُرْنِـى عِندَ رَبِّكَ

  • And he said to the one of them about whom he construed that he will be safely released, "You mention about me before your Master-King."

اور انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اس شخص کے لئے کہا جس کے متعلق انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ دونوں میں سے وہ سزا سے بچ کر جیل سے  کسی بھی وقت رہائی پا جائے گا’’تم میرا ذکر،یاد دہانی کرنا جب تم اپنے سرپرست کے قریب موجود ہو گے‘‘

فَأَنْسَىٰـهُ ٱلشَّيْطَٟنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِـى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِيـنَ ٤٢

  • Thereby, after release Shai'taan/Satan made him forget to mention to his Master-King whereby he remained in the prison for few years. [12:42]

مگر شیطان نے اسے اپنے سرپرست سے ذکر کرنا بھلا دیا،جس کے نتیجے میں وہ(یوسف علیہ السلام)چند سال جیل ہی میں رہے۔

Root: س ج ن;  س ن ه


وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّـىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٟتٛ سِـمَانٛ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٚ

  • And the event of those days; the King said, "I see these days in the dream seven female fat cows whom seven lean ones are eating —

اس کے بعد کے دور کے متعلق مطلع ہو؛ملک کے حکمران نے بتایا’’میں ان دنوں خواب میں سات فربہ گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں۔

Root: س م ن

وَسَبْعَ سُنۢبُلَٟتٍٛ خُضْرٛ وَأُخَرَ يَابِسَٟتٛۖ

  • And I see seven corn ears fresh green and seven others are dry.

اور سات سبز بالیاں دیکھتا ہوں  اور ان کے علاوہ خشک بالیاں۔

Root: س ن ب ل

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِـى فِـى رُءْ يَٟىَ إِن كُنتُـمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُـرُونَ ٤٣

  • O you the chieftains, give me your considered thought about my dream if you people interpret/draw conclusion about dreams." [12:43]

اے سردارو!مجھے میرے خواب میں پنہاں کا مطلب سمجھاؤ اگر تم لوگ خواب کے متعلق ایک بات سے دوسری بات اخذ کرنا جانتے ہو‘‘۔

Root: ع ب ر;  ف ت ى

قَالُوٓا۟ أَضْغَٟثُ أَحْلَٟمٛۖ

  • They (chieftains) replied, "It is admixed-bunched dreams —

انہوں(سرداران)نے جواب دیا’’یہ تو گڈ مڈ الجھے ہوئے خوابوں کا اجتماع ہے۔

Root: ض غ ث; ح ل م

وَمَا نَـحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلۡأَحْلَٟمِ بِعَٟلِمِيـنَ ٤٤

  • And we are not knowledgeable about construing the dreams." [12:44]

اور ہم نے توکبھی سیکھا ہی نہیں ان کی مصاحبت میں جو خوابوں کے تجزئیے سے تعبیر کرنے کاعلم جانتے ہے‘‘۔

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْـهُـمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٛ أَنَا۟ أُنَبِّئُكُـم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ ٤٥

  • And he, the one of  two prisoners who had become free recalled after a period, said: "I will inform you people about interpreting its affect/end result. Therefore, you people send me (to visit the Prison)." [12:45]

اور اس نے جو ان دو(جیل کے ساتھی)میں سے رہا ہو گیا تھا،اور جس نے ایک عرصے بعداس سے کہی ہوئی بات کو یاد کر لیا،کہا’’میں آپ لوگوں کواس(خواب)کی تعبیر کی خبر دونگا،اس لئے آپ مجھے(جیل)بھیجیں‘‘۔

 

يُوسُفُ أَيُّـهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِـى سَبْعِ بَقَرَٟتٛ سِـمَانٛ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٚ

  • (He was sent to the Prison) He said: "Yu'suf, O you the truthful! you give to us verdict about the dream wherein are seven female fat cows whom seven lean ones are eating —

اس نے جیل میں مل کر کہا’’یوسف،اے سچے انسان میری بات سنیں؛آپ ہمیں اس میں پنہاں مطلب سمجھائیں،سات فربہ گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں۔

Root: س م ن;  ف ت ى

وَسَبْعِ سُنۢبُلَٟتٍٛ خُضْرٛ وَأُخَرَ يَابِسَٟتٛ

  • And are seen seven corn ears fresh green and others are dry —

اور سات سرسبز بالیاں دکھائی دیتی ہیں اور ان کے علاوہ خشک بالیاں ہیں۔

Root: ى ب س;  س ن ب ل

لَّعَلِّـىٓ أَرْجِعُ إِلَـى ٱلنَّاسِ لَعَلَّـهُـمْ يَعْلَمُونَ ٤٦

  • So that I return to people to inform them your interpretation that they may know conclusively." [12:46]

تاکہ یہ جان کر میں ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤں  اور انہیں بتاؤں تاکہ انہیں علم ہو جائے‘‘۔

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِيـنَ دَأَبٙا

  • He said: "You people will keep sowing grain crops for seven years as usual —

انہوں(یوسف علیہ السلام)نے بتایا’’تم لوگ سات سال تک حسب معمول  کاشت کرتے رہو گے۔

Root: ز ر ع;  س ن ه

فَمَا حَصَدتُّـمْ فَذَرُوهُ فِـى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ٤٧

  • Thereby, when you people have reaped, thereat, leave grain in its ears except that little which you people will eat. [12:47]

پھر جب تم لوگ فصل کی کٹائی کر چکو تواس اناج کو اس کے خوشے ہی میں چھوڑ دو سوائے اس  میں سے قلیل مقدار جو تم کھانے کے لئے نکالو گے۔

Root: س ن ب ل

ثُـمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ سَبْعٚ شِدَادٚ

  • Afterwards, on expiry of these seven years, seven hard/lean years laden with adverse hard circumstances will come—

بعد ازان ان سات سالوں کے گزرنے پرسات سخت سال آئیں گے۔

يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُـمْ لَـهُنَّ إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ٤٨

  • These years will consume what you had saved/taken advance measures for these years except leaving a little which you will be storing. [12:48]

وہ(سات سال)کھا جائیں گے اس کو جو تم نے ان کے لئے بچا کر رکھے تھے ماسوائے ایک قلیل مقدار کےجو تم محفوظ کر رہے تھے۔

ثُـمَّ يَأْتِـى مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ عَامٚ

  • Afterwards the expiry of seven hard lunar years, there comes a solar year —

بعد ازاں ان(سات شدید سالوں)کے گزر جانے پرجو نیا سال آئے گا۔

Root: ع و م

فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ٤٩

  • Its peculiar feature would be that therein people will be delivered-succoured; and they will during that year keep extracting juices/alcoholics-rejoicing." [12:49]

اس سال کی خصوصیت یہ ہو گی کہ اس کے دوران لوگوں پر خوب بارش برسے گی۔اور یہ کہ اس کے دوران  وہ عرق کشی کرتے رہیں گے‘‘۔


وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِـى بِهِۦۖ

  • And the Kind ordered, "You people bring him to me۔"

اور حکمران نے حکم دیا’’ان (یوسف علیہ السلام)کو لے کر میرے پاس آؤ‘‘۔

فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلـرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَـىٰ رَبِّكَ

  • In compliance thereof when the emissary came to him, he (Yu'suf) said: "You return back to your King —

تعمیل حکم میں جوں ہی حکمران کے قاصد نے ان کے پاس پہنچ کرپیغام دیا تو انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’واپس جائیں اپنے سرپرست کے پاس۔

فَسْـٔ​َلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٟتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَـهُنَّۚ

  • And ask him as to what was the case of those few women who had scratched their hands.

وہاں پہنچ کر ان سے پوچھو کہ ان چند خواتین کانکتہ نظر کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں پرخراش لگائی تھی۔

إِنَّ رَبِّـى بِكَـيْدِهِنَّ عَلِيـمٚ ٥٠

  • The fact remains, my Sustainer Lord is fully aware about their ill design." [12:50]

یقناً میرے رب ان کے اس داؤ کے متعلق بخوبی جانتے ہیں‘‘۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٟوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦۚ

  • [On receiving the message] He (the King) enquired, "What was your affair, you the ladies, when you seduced Yu'suf [alai'his'slaam] seeking to move him away from his conscience eliciting him fulfill illicit desire?"

حکمران نے ان کے جواب کو سن کر ان خواتین کو طلب کر کے پوچھا’’تمہارے دل و دماغ میں کیا معاملہ تھا جب تم یوسف(علیہ السلام)کو اپنے آپ سے بے خود کرکے اپنی  طلب  کی جانب مائل کرنے کے لئے کوشاں تھیں‘‘۔

Root:  خ ط ب

قُلْنَ حَٟشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْـهِ مِن سُوٓءٛۚ

  • They said, "Absolute exaltation is for Allah. We did not find/know about him any sort of evil".

انہوں(چندخواتین)نے کہا’’عظمت و برتری اللہ تعالیٰ کے لئے ہے،ہمیں  ان پرکسی بھی بری بات کا قطعاًکوئی اثرہوتا معلوم نہیں ہوا تھا‘‘۔

قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـٔ​َـٟنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۟ رَٟوَدْتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ

  • The wife of Aziz, individually said, "Now the factual truth has become manifest. I had seduced him seeking to take him away from his conscience to satisfy my desire.

عزیزمصر کی بیوی نے انفرادی طور پرکہا”اب حقیقت آشکارہ ہو گئی ہے۔میں اقرار کرتی ہوں کہ جذبات کی تسکین کے لئے اپنی جانب مائل کرنے کے لئے انہیں  بے خود/ضمیر سے دور کر کےاپنی ثابت قدمی سے پھسلانا چاہا تھا۔

وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٥١

  • And it is fact that he is certainly the truthful." [12:51]

اوریقینا وہ حقیقت بیان کرنے والے شخص ہیں"۔

ذَٟلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّـى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ

  • [Messenger comes back to prison with outcome of court proceedings, he explained him] "This clarification was sought for the purpose that he [Aziz] may know that indeed I did not betray him in his absence.

یوسف (علیہ السلام)نے قاصد کو اس  کے متعلق پوچھنے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا’’یہ میں اس لئے چاہتا ہوں تاکہ انہیں(عزیز مصر)معلوم ہو جائے کہ ان کی عدم موجودگی میں  ان کے اعتماد کو میں نےٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔

وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى كَيْدَ ٱلْخَائِنِيـنَ ٥٢

  • And fact remains that Allah the Exalted does not guide/let succeed the plan of the trust betrayers. [12:52]

اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اعتماد کو پامال کرنے والوں کے حربے کو مشعل راہ نہیں بناتے۔

Root: خ و ن

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓۚ

  • And not that I am immunizing my innerness: private feelings or happening in mind.

اور نہ میں اپنے نفس کومبرا سمجھ اور قرار دے رہا ہوں۔

إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّـىٓۚ

  • Indeed the inner-self/conscience is certainly a forceful/domineering enjoiner when associated with/passes by evils of all sorts. Exception to such response is for the one upon whom my Sustainer Lord showered mercy (to escape it).

یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ نفس /ضمیربرائی کے محرکات سے الصاق کی بناء پرانسان کوشدت سے حکم دینے والا بن جاتا ہے،سوائے اس کے لئے جس پر میرے رب نے رحم فرمایا ہے۔

إِنَّ رَبِّـى غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٥٣

  • The fact remains, my Sustainer Lord is oft-Forgiving and Merciful." [12:53]

یہ حقیقت ہے کہ میرے رب درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِـى بِهِۦٓ

  • And the Kind ordered, "You people bring him to me".

خواتین اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف کو سن کر حکمران نے کہا’’انہیں تم لوگ میرے پاس لے کر آؤ۔

أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىۖ

  • I will seek him exclusively personal advisor for my self."

میری خواہش ہے کہ میں  اپنی ذات کے لئے  انہیں معاون خصوصی بنا لوں‘‘۔

فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيـنٌ أَمِيـنٚ ٥٤

  • Consequently on his arrival when he conversed with him, he said, "Indeed you are today with us firmly established, trusted elite." [12:54]

اس طرح جوں ہی وہ تشریف لائے دونوں نے آپس میں گفتگو کی۔انہوں(حکمران)نے کہا’’یقیناً آپ آج سے ہمارے درمیان اس ملک کی اشرافیہ میں ہیں‘‘۔

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَـىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرْضِۖ

  • He said, "You appoint me as guardian [Finance Minister] on the treasures of the country.

حکمران کی معاون خصوصی بننے کی خواہش کے جواب میں انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’آپ مجھے ملک کے مادی وسائل پر بطور حکمران(عزیز/وزیر خزانہ)مقرر کر دیں۔

إِنِّـى حَفِيظٌ عَلِيـمٚ ٥٥

  • Indeed I am the guardian, having intrinsic-in-depth knowledge." [12:55]

یقیناً میں ان کی حفاظت کر سکتا ہوں،مجھے اس کا گہرا علم ہے‘‘۔

وَكَذَٟلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْـهَا حَيْثُ يَشَآءُۚ

  • And this is how Our Majesty had provided a stronghold for Yu'suf [alai'his'slaam] in the Country [Misr-known by non Arabs as Egypt]. He enjoyed the powers to acquire from whatever part of the country he was so desiring-deciding.

اور یوں ہم جناب نے یوسف کے لئے ٹھکانہ بنا دیا،باوقار انداز میں ملک مصر میں رہائش پذیر،جہاں کہیں بھی وہ پسند  کریں۔

نُصِيبُ بِرَحْـمَتِنَا مَن نَشَآءُۖ

  • Our Majesty renders him the focus of attention; bestowing Our mercy/blessings, about whom  We so decide —

ہم جناب جس کے متعلق ارادہ کرتے ہیں اسے ہماری رحمت سے   دنیاوی آسائش اور تحسین و آفرین کا حامل بنا دیتے ہیں۔

وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٥٦

  • And Our Majesty do not let remain un-rewarded those who conduct moderately/balanced way. [12:56]

اور ہم اعتدال اور حسن سلوک پر کاربند رہنے والوں کے  حق بدلہ کو ضائع نہیں کرتے۔

Root: ض ى ع

وَلَأَجْـرُ ٱلۡءَاخِـرَةِ خَيْـرٚ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٥٧

  • And certainly the reward in the hereafter is the best which is promised for those who believed and kept endeavouring to protect their selves. [12:57]

اورآخرت میں دئیے جانے والا صلہ یقیناً بہترین ہو گا ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور وہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔


وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَـرَفَهُـمْ

  • And the brothers of Yu'suf [alai'his'slaam] having come to Egypt entered upon him. Thereat, he recognized them —

ان کی زندگی کے اس دور میں یوسف (علیہ السلام)کے بھائی غلے کی خریداری کے لئے شہر مصر آئے۔اجازت نامہ لینے کے لئے وہ ان کے دفترمیں داخل ہوئے؛انہیں دیکھتے ہی انہوں نے انہیں(بھائیوںکو)پہچان لیا۔

وَهُـمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨

  • While they did not recognize him. [12:58]

جبکہ وہ اس ملاقات کے دوران انہیں پہچاننے سے قاصر رہے۔

Root: ن ك ر

وَلَمَّا جَهَّزَهُـم بِجَهَازِهِـمْ

  • And when as soon he (Yu'suf [alai'his'slaam]) got ready/uploaded their merchandise [food grains on camels] —

اور جوں ہی انہوں(یوسف علیہ السلام)نے ان کے خریدے ہوئے سامان کو تیار کروا کر ان کے حوالے کیا۔

قَالَ ٱئْتُونِـى بِأَخٛ لَّـكُـم مِّنْ أَبِيكُـمْۚ

  • He said to them: "You come to me next time with one who is brother for you from your father [in the name of whom you wanted to take an extra camel load of grains].

تو ان سے کہا’’آپ میرے پاس اس بھائی کو ساتھ لے کر آئیں جس کے بارے آپ نے بتایا کہ آپ کے والد سے ہے۔

أَلَا تَرَوْنَ أَنِّـىٓ أُوفِـى ٱلْـكَـيْلَ وَأَنَا۟ خَيْـرُ ٱلْمُنزِلِيـنَ ٥٩

  • Are you noticing that I give full measure and am best of the hosts. [12:59]

آپ دیکھ  تورہے ہیں کہ میں غلہ پورے وزن سے دیتا ہوں اور یہ کہ میں بہترین انداز میں مہمان نوازی کرتا ہوں۔

Root: ك ى ل

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِـى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَـكُـمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ ٦٠

  • Thereby, [since you have claimed another brother of yours for whom you wanted to get extra camel load] if you do not come to me next time with him, then for reason there will be no measure for you people from me nor you people will come/allowed near me." [12:60]

اس لئے اگر آپ اس(جس کے لئے غلے کا مطالبہ کیا ہے)کو ساتھ لے کر میرے پاس نہ آئے تومیری طرف سے قطعاً کسی ایک کو بھی غلہ نہیں ملے گا،اور نہ آپ کو میرے قریب آنا چاہئے‘‘۔

Root: ك ى ل

قَالُوا۟ سَنُرَٟوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٟعِلُونَ ٦١

  • They said, "We will incline his father for his departure; we will certainly do it for the first time. [to prove you we were truthful in our claim/request for extra grains]" [12:61]

انہوں نے جواب دیا’’ہم عنقریب  اس کے ابا کواس سے الگ ہونے پر رضامند کر لیں گے،اور یقناً ہم ایسا پہلی مرتبہ کر لیں گے‘‘۔

وَقَالَ لِفِتْيَٟنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٟعَتَـهُـمْ فِـى رِحَالِـهِـمْ

  • And he (Yu'suf) directed his servants-officials of the grain depot: "Place their originally paid capital-stock in their saddlebags —

اور انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اپنے ملازموں سے پہلے کہہ دیا تھا’’تم لوگ غلے کو بمعہ ان  کی ادا کردہ پونجی  ان کی خورجی میں ڈال دو۔

Roor: ر ح ل;  ف ت ى


لَعَلَّـهُـمْ يَعْـرِفُونَـهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَـىٰٓ أَهْلِـهِـمْ

  • So that they recognize it when they have reached and met their household —

تاکہ وہ اسے(پونجی) پہچان لیں جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ چکے ہوں گے۔

لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٦٢

  • This may prompt them to return here." [become our permanent clients] [12:62]

اس سے امکان پیدا ہو جائے گا کہ دوبارہ پلٹ کر آئیں(ہمارے مستقل گاہک بن جائیں)‘‘۔

فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَـىٰٓ أَبِيـهِـمْ قَالُوا۟

  • Thereby, when they had returned to their father they said:

اس طرح جوں ہی وہ اپنے والد صاحب کے پاس پلٹ کر پہنچ گئے تو انہوں نے کہا۔

يَٟٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْـكَـيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ

  • "O our father! One measure has been denied to us, therefore, send with us our brother so that we could get the measure —

’’اے ہمارے ابا جان!ایک اونٹ غلہ کو ہمیں دینے سے روک دیا گیا۔اس لئے آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجیں تا کہ ہم اسے کے حصے کا غلہ بھی لے سکیں۔

Root: ك ى ل

وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ ٦٣

  • And indeed we will certainly be for him the protectors." [12:63]

اور یقیناً ہم اس کے لئے محافظ ہوں گے‘‘۔

قَالَ هَلْ ءَامَنُكُـمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُـمْ عَلَـىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُۖ

  • He replied, "Should I entrust him upon you like I trusted you aforetimes about his brother?

انہوں(والد)نے کہا’’کیا میں اس کے بارے تم پر اس طرح ہی اعتماد کر لوں جیسا  زمانہ قبل میں اس کے بھائی کے متعلق تمہاری بات پر اعتماد کیا تھا؟

فَٱللَّهُ خَيْـرٌ حَٟفِظٙاۖ

  • Thereat, Allah the Exalted is the best Protector —

جہاں تک حفاظت کرنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ بہترین بھروسا ہیں،حفاظت کے معاملہ میں۔

وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٟحِـمِيـنَ ٦٤

  • And He the Exalted is the Most Merciful above all the merciful." [12:64]

اور وہ جناب تمام رحم کرنے والوں میں منبع رحمت ہیں‘‘۔

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٟعَهُـمْ وَجَدُوا۟ بِضَٟعَتَـهُـمْ رُدَّتْ إِلَيْـهِـمْۖ

  • Later as soon they had opened their baggage they found their capital stock had been returned to them.

(منفی جواب سن کر الگ ہٹ گئے)اور جوں ہی انہوں نے اپنے خریدے سامان زیست کو کھولا تو انہوں نے اپنی ادا کردہ پونجی کو موجود پایا جسے ان کو اصل حالت میں لوٹا دیا گیا تھا۔

Root:  ف ت ح

قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَا مَا نَبْغِىۖ هَـٟذِهِۦ بِضَٟعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَاۖ

  • They said, "O our father! what else should we desire. This is our capital stock, it has been returned to us —

پونجی لے کر واپس آبا کے پاس پہنچ کر انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان!ہمیں اور کیا جستجو ہو،یہ ہے ہماری پونجی،اصل حالت میں اسے ہمیں لوٹا دیا گیا ہے۔

وَنَمِيـرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيـرٛۖ

  • And by going there we will acquire provision for our household; and we will protect our brother; and we will get one excess camel load of grains —

اور ہم وہاں جا کر اپنے خاندان کے لئے  خوراک لائیں گے،اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے،اور ہم ایک اونٹ غلہ مزید لیں گے۔

Root: م ى ر

ذَٟلِكَ كَيْلٚ يَسِيـرٚ ٦٥

  • Getting one excess measure would be easy." [12:65]

یہ ایک اونٹ غلہ لینا بالکل آسان ہو گا‘‘۔

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُـمْ حَـتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقٙا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ

  • He said, "I will not send him along with you until you give me a solemn pledge by Allah that you will certainly bring him back to me —

انہوں(والد) نے جواب دیا’’میں اسے تمہارے ساتھ  اس وقت تک نہیں بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ تعالیٰ کے اذن سے منسوب کر کے تم سب پر یکساں لاگو پختہ عہد مجھے نہیں دیتے کہ  تم اسے ضرور واپس میرے پاس لے کر آؤ گے۔

Root: و ث ق

إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُـمْۖ

  • Except that he might along with you gets trapped."

سوائے اس صورت میں کہ بمعہ تم لوگوں کے گھیر لیا جائے‘‘۔

Root: ح و ط

فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُـمْ قَالَ

  • Thereby, when they had given him their solemn pledge, he said:

اس پر جوں ہی انہوں نے انہیں اپنا پختہ عہد دے دیا تو انہوں(والد)نے کہا۔

ٱللَّهُ عَلَـىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٚ ٦٦

  • "Allah the Exalted is the witness upon what we are saying and undertaking." [12:66]

’’اللہ تعالیٰ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگہبان ہیں‘‘۔

Root: و ك ل

وَقَالَ يٟبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٛ وَٟحِدٛ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٟبٛ مُّتَفَرِّقَةٛۖ

  • And he advised, "O my sons, you should not enter all through one entrance only, instead enter separately through different entrances-doors of the city —

اورانہوں نے کہا’’اےمیرے بیٹو!تمہیں چاہئے کہ کسی ایک دروازے سے شہر میں داخل نہ ہوں،اور الگ الگ متفرق دروازوں سے تم لوگ داخل ہونا۔

وَمَآ أُغْنِى عَنكُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛۖ

  • Though I cannot avail you against any thing that is ordained by Allah the Exalted —

یاد رہے   اللہ تعالیٰ کی جانب سے  تم لوگوں کوکسی قسم کی تکلیف  پہنچنے پر میں اسے تم سے دور رکھنے پر قادر نہیں۔

إِنِ ٱلْحُكْـمُ إِلَّا لِلَّهِۖ

  • The authority for decision and commanding the matters is exclusive for Allah the Exalted.

آئین و فرمان جاری کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے۔

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُۖ

  •  I place reliance and dependence upon Him the Exalted —

ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔

Root: و ك ل

وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧

  • Therefore, the reliant should place trust for the best consequence of actions exclusively upon Him the Exalted." [12:67]

چونکہ تمام امور کا فیصلہ کرنا ان کی صوابدید ہے اس لئے اپنے معاملات میں دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو ان پر مکمل اعتماد کرنا چاہئے‘‘۔

Root: و ك ل

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَـرَهُـمْ أَبُوهُـم

  • And having just arrived, they entered the city through different entrances as their father had advised them —

اور جوں ہی وہ فصیل شہر پر پہنچے،وہ منقسم ہو کراس طرح داخل ہوئے جیسے ان کے والد نے انہیں حکم دیا تھا۔

مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ إِلَّا حَاجَةٙ فِـى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰـهَاۚ

  • They were cognizant that such entry could not avail against any thing ordained by Allah the Exalted. It was merely an exigency thought by Ya'qoob [alai'his'slaam] which he expressed.

ان کا اس طرح دخول شہران کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے پہنچنے والی کسی بھی ناگہانی تکلیف و الجھن سے بچا  نہیں سکتا تھا۔یہ تو محض حفظ ما تقدم کی ایک خواہش تھی جویعقوب(علیہ السلام)کے ذہن و قلب میں ابھری جس کا انہوں نے اظہار کر دیا تھا۔

Root: ح و ج

وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٛ لِّمَا عَلَّمْنَٟهُ

  • And indeed he was certainly the possessor of knowledge which Our Majesty had taught him.

اور ان کے متعلق حقیقت ہے کہ وہ صاحب علم تھے ان معاملات /معلومات میں جن کا علم ہم نے انہیں دیا تھا۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨

  • But most of the people do not know/intend to understand that they cannot avail against any thing ordained by Allah the Exalted. [12:68]

مگراکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا۔


وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَـىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُۖ

  • And when they entered upon Yu'suf [alai'his'slaam] he betook his brother towards his chamber/office.

اور جب اکٹھے ہو کر وہ یوسف(علیہ السلام)کے روبرو ہوئے تو انہوں نے شفقت سے اپنے بھائی کو پاس بلا کر اپنے دفتر لے گئے۔

قَالَ إِنِّـىٓ أَنَا۟ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٦٩

  • He told him, "Indeed me, I am your brother, therefore, you should not feel sorry - melancholic about what they were doing." [12:69]

انہوں نے اسے بتایا’’میرے متعلق جان لے۔میں تیرا بھائی ہوں؛اب چونکہ ملاقات ہو گئی ہے اس لئے اب تجھے اس بارے تکدرنہیں ہونا چاہئے جو وہ(ہمارے بھائی)ماضی میں کرتے رہے ہیں‘‘۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُـم بِجَهَازِهِـمْ  جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِـى رَحْلِ أَخِيهِ
ثُـمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُـهَا ٱلْعِيـرُ إِنَّكُـمْ لَسَٟرِقُونَ 
٧٠

  • Eventually when as soon he (Yu'suf [alai'his'slaam]) had got ready-uploaded their merchandise: food grains on camels —He (Yu'suf alai'his'slaam) placed the drink-filled flask [ٱلسِّقَايَةَ -definite feminine noun] in the saddlebag of his younger brother
    Afterwards the caravan had left, a caller chasing them from behind loudly sought their attention: "O you the caravan listen, indeed you are certainly thieves." [12:70]

اس دوران جب  انہوں(یوسف علیہ السلام)نے ان کے خریدے ہوئے سامان کو انہیں دینے کے لئے تیار کروا  دیا۔تو اپنی مشروب سے بھری چھاگل(اسم معرفہ مؤنث۔ٱلسِّقَايَةَ ) اپنے بھائی کی خورجی میں ڈال دی۔
بعد ازاں،قافلے کے چلے جانے کے کچھ وقت بعد ایک پکارنے والے نے انہیں پیچھے سے اونچی آواز میں پکارا۔’’سنو، اوئے قافلے والو،تم یقیناًچور ہو‘‘۔

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْـهِـم

  • They [attended hearing slanderous call from behind] said ----; and they returned and reached to them: officials of depot face to face:

(الزام پر مبنی پکار سن کر رکے)انہوں نے کہا’’۔۔۔۔۔‘‘۔’’ہرکارے نے جواب دیا وہ بلا رہے ہیں‘‘۔اور وہ واپس پلٹ کر ان(ملازمین گودام)کے روبرو پہنچ گئے۔

مَّاذَا تَفْقِدُونَ ٧١

  • They enquired: "What is that which you people are failing to locate?" [12:71]

انہوں نے ملازمین گودام سے پوچھا’’آپ نے کیا گم کر دیا ہے جس کی تلاش ہے؟‘‘

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ

  • They (the servants-officials of the government's supply depot) said: "We have misplaced and are looking for the Official/King's Measuring scale."

انہوں(ملازمین گودام)نے بتایا’’ہم نے غلہ ماپنے کے سرکاری پیمانے کوکہیں کھو دیا ہے اسے تلاش کر رہے ہیں‘‘۔

وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِـمْلُ بَعِيـرٛ

  • And a camel-load gift is promised for him who finds and brings it (the misplaced Official Measuring Scale -masculine) —

اور گودام کے منتظم اعلیٰ(یوسف علیہ السلام)نے اعلان کیا’’ایک اونٹ غلہ اس کو انعام میں دیا جائے گا جو اس(صُوَاعَ  سرکاری پیمانے)کوڈھونڈ دے گا۔

وَأَنَا۟ بِهِۦ زَعِيـمٚ ٧٢

  • And I am (Yu'suf alai'his'slaam) guarantor/undertaker for supplying it free as reward." [12:72]

اور میں اس کی ادائیگی کے لئے ضامن ہوں‘‘

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُـم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • They said, "By Allah, indeed you people have since come to know that we have not come here that we might foully jest in the land —

انہوں نے ملازمین گودام کو مخاطب کر کے کہا’’قسم ہے اللہ کی،تمہیں علم ہے کہ ہم لوگ اس سرزمین میں شرارت(مذاق)،تمہارے کام میں  خلل اوررخنہ اندازی کرنے نہیں آئے ہیں۔

وَمَا كُنَّا سَٟرِقِيـنَ ٧٣

  • And nor were we thieves." [12:73] [at this place and point in time none alleged them as thieves, but they referred to the call of caller on their way back to home; the officials are not aware of it.]

اور نہ ہی ہم کبھی چور رہے ہیں‘‘۔

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٟٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُـمْ كَـٟذِبِيـنَ ٧٤

  • They the officials of depot said: "Sequel to it, what should be the wager/recompense for the foul-jester against one camel load offered to you for searching in your loads if you are found liars." [12:74]

(اپنے وزیر کی موجودگی میں اس جواب پر سٹپٹائے)انہوں(نلازمین)نے کہا’’تو(اگر ہم نے تمہارے سامان میں ڈھوند نکالا)اس کا کیا صلہ ہو گا اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہو گئے‘‘۔

قَالُوا۟ جَزَٟٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِـى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٟٓؤُهُۚ

  • They replied, "The wager/recompense of him the foul-jester; he in whose saddlebag the Measuring scale is found, thereat, he himself should be the requital for that.

انہوں نے ملازمین کو کہا’’اس کا صلہ وہ ہو گا جس کے سامان میں وہ(پیمانہ)پایا گیا؛ملنے پر وہی شخص اس کا صلہ ہو گا۔ 

كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٧٥

  • This is how we pay back the evil doers-creators of imbalances-disturbances." [12:75]

اس طرح کے انداز میں ہم بگاڑپیدا کرنے والوں کوسزا دیتے ہیں‘‘۔

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِـهِـمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ

  • Sequel to squally: the exchange of heated accusations of lying between caravan/his brothers and his officials; he (Yu'suf [alai'his'slaam]) had personally started checking by beginning with the saddlebags of step brothers before checking the saddlebag of his brother. (But it was not found in saddlebag of entire caravan)

ان کے اور ملازمین کے مابین تلخی ہو جانے کی وجہ سے خود انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اسے (صواع)ڈھونڈنے کے لئے اپنے (ماں جائے)بھائی کی خرجی سے پہلے ان کی خرجیوں سے ابتدا کی۔(مگر تمام قافلے والوں کی خرجیوں میں وہ  صواع نہیں ملا)

ثُـمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِۚ

  • After lapse of sometime (having finished and failed to find the Measuring object) he for his self took out "her" (the drink-filled flask [ٱلسِّقَايَةَ-feminine) from the saddlebag of his brother.

بعد ازاں( ثُـمَّسے ظاہر ہے کہ یہ پہلے والے فعل یعنی تلاش سے متعلق نہیں تھا اور دونوں کے مابین وقت کا وقفہ تھا تسلسل نہیں)انہوں نے اپنے بھائی کی خرجی سے اپنے لئے وہ( ٱلسِّقَايَةَمشروب کی چھاگل)نکال لی۔

كَذَٟلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَۖ

  • [Checking bags uploaded on so many camels seems made him thirsty for which reason he took her out to drink-it is why Form-X verb is used]  --This is how Our Majesty provided an excuse for Yu'suf [to retain his mother-born brother] --

اس طرح(اچانک شدید پیاس بجھانے کے لئے چھاگل کے نکالنے کو)ہم نے یوسف(علیہ السلام)کے لئے تدبیر/جواز بنا دیا(اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لینے کا)

 

مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِـى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ

  • -- It was not possible for him retaining his brother in the law of the King, except that Allah the Exalted was intending otherwise --

۔۔ان کے لئے حکمران کے رائج قانون کے مطابق اپنے بھائی کو لیناممکن نہیں تھا،ایسا ممکن تبھی ہوتا اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا چاہا ہوتا۔۔(جملہ معترضہ)

نَرْفَعُ دَرَجَٟتٛ مَّن نَّشَآءُۗ

  • -- Our Majesty exalts the ranks of him for whom We so decide --

ہم جناب جس کے متعلق ایسا چاہتے ہیں اس    کو بلند کرتے ہیں،  درجات میں اٹھان۔

وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍٛ عَلِيـمٚ ٧٦

  • -- Remain aware; He who is intensively and extensively knowledgeable is always present over every person who has knowledge-understanding -- [12:76]

اور  یاد رہے،ایک   علم میں راسخ اور منبع علم ہر ایک صاحب علم کے اوپر موجود ہوتا ہے۔

قَالُوٓا۟ إِن يَسْـرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٚ لَّهُۥ مِن قَبْلُۚ

  • Seeing the flask not belonging to their brother, they said: "If he steals, so had his mother-born brother stolen, aforetimes."

بھائی کے سامان سے نکالی گئی چھاگل دیکھ کر وہ بولے’’اگر وہ چوری کرتا ہے تو گزرے زمانہ میں اس نے بھی چوری کی تھی جو اس کا ماں جایا بھائی ہے‘‘۔

فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِـى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَـهُـمْۚ

  • Thereat, Yu'suf [alai'his'slaam] kept her secret to himself; and he did not let her be evident for them.

ان کی اس لغو بات کو سن کریوسف(علیہ السلام)نےاس (چھاگل)کو اپنے سینے میں راز رکھا اور ان کے لئے اس کو عیاں نہیں ہونےدیا۔

قَالَ أَنتُـمْ شَـرّٚ مَّكَانٙاۖ

  • He said to them: "You are irritant, with regard to taking a bad stance-position —

انہوں نے ان سے کہا’’آپ لوگ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیں،موقف کے اعتبار سے۔

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧

  • And Allah the Exalted knows well what you are concocting exaggeratedly." [12:77]

اور اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو آپ لوگ   بڑھا چڑھا کر جھوٹ  بیان کر رہے ہو‘‘۔

Root: و ص ف

قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْعَزِيزُ

  • They said, "O you the Aziz —

(مگر وہ بات پھر بھی نہیں سمجھے)انہوں نے کہا’’اے عزیز سلطنت، توجہ فرمائیں!

إِنَّ لَهُۥٓ أَبٙا شَيْخٙا كَبِيـرٙا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓۖ

  • The fact is that very aged father remains worried for him, therefore, retain one of us in his place —

حقیقت یہ ہے کہ انتہائی عمر رسیدہ والد اس کے لئے فکرمند رہتے ہیں اس لئے آپ ہم میں کسی ایک کو اس کی جگہ پرپکڑ لیں۔

إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٧٨

  • We indeed see you of generously considerate men." [12:78]

یہ حقیقت ہے ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان میں سے ہیں جو اعتدال اور حسن سلوک کو اپنائے رکھتے ہیں‘‘۔

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٟعَنَا عِندَهُۥٓ

  • He said, "I seek refuge in Allah the Exalted; that we might retain except him with whom we found our utensil [as was offered by you people 12:75] —

انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب دیا’’میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ ہم سوائے اس کے جس کے پاس  ہم نے اپنی شئے کو پایا ہے  اپنے قبضے میں کر لیں۔

إِنَّـآ إِذٙا لَّظَٟلِمُونَ ٧٩

  • The moment we do otherwise, we will certainly become unjust people [as per your version-verdict-12:75]" [12:79]

یہ حقیقت ہے کہ جوں ہی ہم ایسا کریں گےتو(آپ لوگوں کے اپنے بقول)ہم بگاڑ کرنے والے بن جائیں گے‘‘۔

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭاۖ قَالَ كَبِيـرُهُـمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُـم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ
وَ مِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُـمْ فِـى يُوسُفَۖ
فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِـىٓ أَبِـىٓ أَوْ يَحْكُـمَ ٱللَّهُ لِـىۖ
وَ هُوَ خَيْـرُ ٱلْحَٟكِمِيـنَ
٨٠

  • So, when—after some insistence—they despaired of securing acceptance from his side, they withdrew to confer in private.  The eldest among them said, "Their eldest brother said: ‘Do you not know that your father had taken from all of you a binding and solemn covenant, explicitly ascribed by Allah the Exalted? (Cf. 12:66)—
    And do you not know how grievously you fell into culpable negligence foretimes in the case of Yu'suf? (not checking next day the dry well where he was lowered in)?
    Therefore, I shall not leave this land until and unless my father grants me permission or Allah the Exalted might command/decide for me.
    And, He the Exalted is the best of all Judges. (Cf. 7:87; 10:109) [12:80]

اس پر کچھ اصرار کرنے پر جوں ہی  ان کی جانب  سے بات کو قبول ہونے کے متعلق مایوس کر لیا،وہ مشورہ کرنے کے لئے الگ ہو گئے۔ان کے بڑے بھائی نے کہا’’کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ تمہارے ابا نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے منسوب کر کے تم سب پر یکساں لاگو پختہ عہد لیا تھا۔
اور زمانہ قبل کی وہ کوتاہی بھی معلوم نہیں جو تم نے یوسف کے معاملے میں کی تھی(کہ دوبارہ جا کر کنویں میں دیکھا بھی نہیں تھا)۔
اس لئے میں یہ شہر اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک میرے ابا اس کی اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی فیصلہ کریں۔
یہ حقیقت ہے وہ جناب بہترین فیصلے کرنے والے ہیں۔

Root: ى ء س

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَـىٰٓ أَبِيكُـمْ فَقُولُوا۟ يَٟٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا

  • You people turn to your father; thereat on confronting him say: "O our father, indeed your son stole; and we have not testified to you except what we have known —

تم لوگ اپنے ابا جان کی جانب لوٹ جاؤ،گھر پہنچ کر کہنا’’اے ہمارے ابا جان،سچ یہ ہے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے،اور ہم نے آپ سے نہیں کہا سوائے اس کے جو ہمیں معلوم ہوا تھا۔

وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٟفِظِيـنَ ٨١

  • And we were not the protectors [as per our pledge and your quoted exception] for the unforeseen — [12:81]

اور ہم اس کی حفاطت نہیں کر سکتے تھے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل تھا۔

وَسْئَلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِـى كُنَّا فِيـهَا وَٱلْعِيْـرَ ٱلَّتِـىٓ أَقْبَلْنَا فِيـهَاۖ

  • [on reaching they stated and added] "And you verify from the people of the City where we were; and people of the Caravan in which we have returned —

آپ بےشک اس بستی والوں سے پوچھ لیں جس میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے اور اس قافلے والوں سے پوچھ لیں جس میں ہم لوٹ کر آئے ہیں۔

وَإِنَّا لَصَٟدِقُونَ ٨٢

  • And indeed we are truthful in our this statement." [12:82]

آپ کو معلوم ہو جائے گا یقیناً ہم سچ بول رہے ہیں‘‘۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَـكُـمْ أَنفُسُكُـمْ أَمْرٙاۖ

  • He said: "No, that is not the fact, on the contrary your Consciences resolved matter in such was that was alluring and relaxing for you —

انہوں(والد)نے کہا’’نہیں یہ سب غلط ہے؛حقیقت میں تمہارے نفوس نے اس معاملے کوتمہارے لئے سکون و طمانیت کا باعث بنایا ہے۔

Root: س و ل

فَصَبْـرٚ جَـمِيلٚۖ

  • Thereat, my hopefulness-steadfastness lies in dignified perseverance —

اس لئے ان کے سلامت ہونے کا یقین تحمل اور بردباری سے جدائی سہنے کا ذریعہ ہے۔

عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَنِى بِـهِـمْ جَـمِيعًاۚ

  • May be, Allah the Exalted soon brings them (three sons) to me, all together.

اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ جلد ان(تینوں)کو میرے پاس لے آئیں گے، اکٹھے۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْحَكِيـمُ ٨٣

  • Certainly, He the Exalted is intrinsically the Fountain of knowledge of visible and invisible domains; and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm."  [12:83]

ان کے متعلق حقیقت ہے، وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں۔‘‘

وَتَوَلَّـىٰ عَنْـهُـمْ

  • And he turned away from them —

اور وہ(والد)ان سے پلٹ کر چلے گئے۔

وَقَالَ يَٟٓأَسَفَىٰ عَلَـىٰ يُوسُفَ

  • And sighed, "O my longing! for Yu'suf (get true)."

اور انہوں نے خود کلامی میں کہا’’اے میری جدائی کی بے چینی یوسف کے فراق پر‘‘۔

وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ

  • And his eyes became white by the grief —

اور کچھ عرصے میں اس غم کی وجہ سے ان کی دونوں آنکھیں سفیدہو گئیں۔

فَهُوَ كَظِيـمٚ ٨٤

  • Thereby, he was in distress/agony. [12:84]

  اس کی وجہ سے وہ رنج سے نڈھال تھے۔


قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَـتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْـهَٟلِـكِيـنَ ٨٥

  • They said, "By Allah! you will persist remembering and recalling Yu'suf until you might become fatally weak or you may die." [12:85]

انہوں نے(والد کی افسردگی اور نڈھال صحت   کو دیکھتے ہوئے تاسف اور دکھی ہو کر)کہا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!آپ یوسف(علیہ السلام)کو یاد کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ آپ گھل جائیں گے یا اپنے آپ کو ہلاک کرنے والے بن جائیں گے‘‘

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّـى وَحُزْنِـى إِلَـى ٱللَّهِ

  • He said, "Indeed I complain my dispersed state-misery and my grief to Allah —

انہوں نے(والد؛محبت بھرے لہجے میں) کہا’’میں  تو  صرف اللہ تعالیٰ کی جانب اپنی بکھری بکھری کیفیت اور اپنے غم کا شکوہ شکایت کرتا ہوں۔

Root: ش ك و

وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦

  • And I know from Allah the Exalted that about which you people have no knowledge. [12:86]

اور میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ معلومات رکھتا ہوں جو تم لوگوں کو معلوم نہیں ہیں۔

يٟبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ

  • O my sons, you people go, thereat, self try to ascertain about Yu'suf and his brother —

اے میرے بیٹو!تم سب جاؤ،وہاں پہنچ کرازخود لوگوں کی باتوں سے یوسف اور اس کے بھائی کا کھوج لگاؤ۔

Root: ح س س

وَلَا تَا۟ يْـٔ​َسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِۖ

  • And you should not become hopeless of benefiting by the Vitality and Mercy of Allah the Exalted.

اور تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے امور میں رحمت کے عنصر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔

إِنَّهُۥ لَا يَا۟ يْـٔ​َسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ ٨٧

  • Indeed none despairs of benefiting by the Vitality and Mercy of Allah the Exalted but the people who have declined to accept belief." [12:87]

حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب منبع رحمت ہیں؛سوائے ان کے جوذات باری تعالیٰ کا انکار کرنے والے ہیں،اللہ تعالیٰ کے تمام امور میں رحمت کے عنصر سے  کوئی مایوس نہیں ہوتا‘‘

Root: ر و ح;  ى ء س

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟

  • [they decided to first try to acquire youngest brother] For this mission when they entered upon him they said:

تعمیل میں مصر پہنچ کر جوں ہی گودام میں داخل ہو کر ان(یوسف علیہ السلام)کے روبرو ہوئے تو کہا:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ

  • "O you the Aziz, Mental and psychological distress has affected us and our family —

’’اے عزیز سلطنت!توجہ فرمائیں۔اس صدمے(ہمارے چھوٹے بھائی کوروک لینا)نے ہمیں اور ہمارے خاندان کو متاثر/رنجیدہ کیا ہے۔

وَجِئْنَا بِبِضَٟعَةٛ مُّزْجَىٰةٛ

  • [they have indicated to him the effect of retention of their younger brother] And we have come with a little capital [further elaborated that purpose of visit is not commercial] to drive forward our distress—

ان حالات میں ہم  معمولی پونجی کو گزارش کرنے کا ذریعہ بنا کر آئے ہیں۔

Root: ز ج و

فَأَوْفِ لَنَا ٱلْـكَـيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآۖ

  • Therefore you give for us the equivalent measure; and you bestow/remit a gift upon us (by releasing our brother).

 اس لئے اس رقم کاغلہ ہمیں فراہم کروا دیں اورآپ ازخودتحفہ (ہمارا بھائی) دے کر ہم پر مہربانی فرما دیں۔

Root: ك ى ل

إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِيـنَ ٨٨

  • Indeed Allah the Exalted rewards those who bestow generous gifts." [12:88]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے تحائف دینے والوں کو صلے سے نوازتے ہیں‘‘۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُـم مَّا فَعَلْتُـم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُـمْ جَٟهِلُونَ ٨٩

انہوں نے(یوسف علیہ السلام نے درد بھرے لہجے سے پسیج کر)کہا’’کیا آپ کو اس فعل کا علم ہو گیا ہے جو آپ نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اس وقت کیا تھا جب آپ جذبات سے مغلوب تھے‘‘۔

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ

  • [overpowered by happiness and passion] They said, "What, indeed you, certainly you are Yu'suf."

انہوں نے(خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں)کہا’’کیا، یقیناً تو،یقیناً تو یوسف ہے‘‘

قَالَ أَنَا۟ يُوسُفُ وَهَـٟذَا أَخِـىۖ

  • He answered, "I am Yu'suf and (calling hin to come) this is my brother [whom you are demanding to remit as gift]

انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب دیا’’میں یوسف ہوں،اور(آواز دے کر بلایا)یہ میرا بھائی ہے(جسے تحفے میں مانگ رہے ہو)۔

قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآۖ

  • Indeed Allah the Exalted has done obliging favour upon us.

اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرما دیا ہے۔

إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِـرْ

  • The fact is he who would endeavour to attain salvation and remains coolly perseverant:

ان کے متعلق حقیقت ہے،جو کوئی تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان سے پناہ کا خواستگار ہو اوران کی رحمت کا بھروسہ رکھتے ہوئے ضبط و تحمل سے کام لے۔

فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٩٠

  • Thereby, Allah the Exalted does not let remain un-rewarded those who conduct moderately and rationally." [12:90]

تو یقیناً اللہ تعالیٰ  اعتدال اور حن سلوک کا رویہ اپنائے رکھنے والوں کے صلہ کواثر پذیری سے محروم نہیں فرماتے‘‘۔

Root: ض ى ع

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا

  • They said, "We Swear by Allah; certainly Allah the Exalted has preferred you upon us —

انہوں نے کہا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!اللہ تعالیٰ نے یقیناً آپ کوہم پر ترجیح اوربڑائی سے نوازا ہے۔

وَإِن كُنَّا لَخَٟطِـِٔـيـنَ ٩١

  • And that we were certainly the erring ones." [12:91]

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ خطا کار/معینہ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے رہے ہیں‘‘۔

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُـمُ ٱلْيَوْمَۖ

  • He (Yu'suf) said, "Today, there is not at all disgruntlement-animadversion upon you —

انہوں نے(یوسف علیہ السلام نے ان کے اعتراف پر)کہا’’آج کے دن سے قطعاً کسی قسم کے قابل ملامت و مذمت و سرزنش فعل و عمل کا الزام آپ پر نہیں ہے۔

يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَـكُـمْۖ

  • Allah the Exalted will overlook-grant forgiveness for you —

اللہ تعالیٰ آپ کےلئے درگزر اور پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف کریں گے ۔

وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٟحِـمِيـنَ ٩٢

  • Since He the Exalted is the Most Merciful above all the merciful. [12:92]

اور وہ جناب تمام رحم کرنے والوں میں منبع رحمت ہیں‘‘۔

ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَـٟذَا فَأَ لْقُوهُ عَلَـىٰ وَجْهِ أَبِـى يَأْتِ بَصِيـرٙا

  • (After chatting and caravan getting ready for departure he said) "You go back taking along this shirt of mine; thereat, place it on the face of my father, he would regain vision —

(آپس میں گفت و شنید اور قافلے کی روانگی کی تیاری ہو جانے پر)انہوں(یوسف علیہ السلام)نے بھائیوں سے کہا’’آپ لوگ میری اس قمیض کو ساتھ لے کر جائیں۔گھر پہنچ کر اسے میرے ابا جان کے چہرے پر ڈال دیں۔وہ ہو جائیں گے بصارت بحال حالت میں۔

وَأْتُونِـى بِأَهْلِـكُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٩٣

  • And you people come to me along with your families, all jointly." [12:93]

اور آپ لوگ اپنے اہل خانہ سمیت،اکٹھے  میرے پاس آ جائیں‘‘۔


وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيـرُ قَالَ أَبُوهُـمْ إِنِّـى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ

  • Know it, when the caravan had crossed boundary [of Egypt] at that point in time their father pronounced [to the people around him], "Indeed I certainly find the smell of Yu'suf —

اورجوں ہی قافلہ شہر کی فصیل سے باہر پہنچا تھا تو اس وقت ان کے والد نے اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا’’میں حقیقت میں یوسف کی مہک کوموجود پا رہا ہوں۔

Root: ر و ح; ع ى ر

لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤

  • If you people do not consider it as aging-talk of me (you will also feel it)." [12:94]

اگر تم لوگ میری اس بات کو بڑھاپے کا کمزورتخیل نہ سمجھو تووہ مہک تمہیں بھی محسوس ہو گی‘‘۔

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِـى ضَلَٟلِكَ ٱلْقَدِيـمِ ٩٥

  • They said, "By Allah, indeed you are certainly absorbed in the old thought. [that Yu'suf is alive]" [12:95]

انہوں نے جواب دیا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!سچ یہ ہے کہ حقیقت تسلیم کرنے کی بجائےآپ ابھی تک اپنے قدیم تصور میں کھوئے ہوئے ہیں(کہ یوسف زندہ ہے)‘‘۔

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيـرُ أَلْقَىٰـهُ عَلَـىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيـرٙاۖ

  • Thereby on arrival of caravan, waiting felt by him long, the bearer of good news placed that shirt upon his face, thereat, he consciously felt reverted with restored clear vision.

مسافت طے کر کےخوشخبری دینے والامبارکباد کہتے  جوں ہی ان کے پاس پہنچا تو  اس نے حسب ہدایت اس(کُرتے)کو ان کے چہرے پر ڈال دیا؛کچھ دیر میں انہوں نے اپنے آپ کواصلی حالت میں پلٹا محسوس کیا۔بصارت بحال حالت میں۔

قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّـكُـمْ إِنِّـىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٩٦

  • He said, "Had I not told you that I know from Allah the Exalted that about which you people have no knowledge." [12:96]

انہوں(یعقوب علیہ السلام/والد)نے کہا’’کیا میں نے تم لوگوں کے لئے (مصر بھیجتے وقت )یہ نہیں کہا تھا’’میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ معلومات رکھتا ہوں جو تم لوگوں کو معلوم نہیں ہیں‘‘۔

قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ

  • They said, "O our father! You do overlook and seek forgiveness for us for our slanders/faults.

انہوں(بیٹوں)نے کہا’’اے ہمارے اب جان!آپ خود بھی اور اللہ تعالیٰ سے ہمارے جرائم ،الزام تراشی،اور کوتاہیوں  سے اغماض کی درخواست کریں۔

Root: ذ ن ب

إِنَّا كُنَّا خَٟطِـِٔـيـنَ ٩٧

  • Indeed we were the erring ones." [12:97]

اپنے متعلق یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ ہم خطا کار تھے‘‘۔

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَـكُـمْ رَبِّـىٓۖ

  • He replied, "Soon I will seek forgiveness for you from my Sustainer Lord —

انہوں(والد)نے کہا’’میں جلد ہی اپنے رب سے  تمہارے لئے اغماض اورمعافی کے لئے خواستگار ہوں گا۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ٩٨

  • Indeed He the Exalted is oft Forgiving/Overlooking and the Fountain of Mercy." [12:98]

ان کے متعلق یہ حقیقت ہے،وہ جناب اکثر و بیشتر درگزر اور پردہ پوشی کرکے معاف فرمانے والے ہیں۔وہ منبع رحمت ہیں‘‘۔

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَـىٰ يُوسُفَ ء​َاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ

  • Thereby, when they left for Egypt and all met Yu'suf, he took his father and mother with him towards his place —

  • پروگرام کے مطابق جب وہ سب اکٹھے ہو کرجوں ہی  یوسف(علیہ السلام)کے سامنے داخل ہوئے تو اس نے اپنے ابا امی کو اپنے ساتھ لے لیا

وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِيـنَ ٩٩

  • And said [to brothers and their families-plural], "You people enter-dwell in Misr [Egypt], if Allah the Exalted has so decided, safe and sound." [12:99]

اور سب کو مخاطب کر کے کہا’’آپ سب مملکت مصر کی شہریت اختیار کر لیں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کا یہاں رہائش اختیار کرنا امن و سلامتی کا حامل ہو گا‘‘۔

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَـى ٱلْعَـرْشِ

  • And he (Yu'suf alahissalam) raised his mother and father upon the throne.

اور انہوں نے اپنے امی ابا کو سہارا دے کر تخت پرچڑھایا۔

Root: ع ر ش

وَخَرُّوا۟ لَهُ سُجَّدٙاۖ

  • And they three [plural: father, mother, Yu'suf] voluntarily went down, that created little sound, for prostration for Him (Allah) the Exalted.

اور وہ تینوں ان(اللہ تعالیٰ)کے لئے تخت پرہلکی سی آواز پیدا کرتے ہوئےسجدہ کرنے کی حالت میں جھک گئے۔

Root: س ج د

وَقَالَ يَٟٓأَبَتِ

  • And after prostration he (Yu'suf alahissalam) said, "O my father —

اور سجدہ کر لینے پر انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’اے میرے ابا جان!۔

هَـٟذَا تَأْوِيلُ رُءْ يَـٟىَ مِن قَبْلُ

  • This is the outcome - true meaning - manifestation of my dream of foretime —

یہ(آپ سب کا آنامیرے پاس)میرے اس خواب کا جو زمانہ قبل میں دیکھا تھااصل تعبیر/حقیقت ہے۔

قَدْ جَعَلَـهَا رَبِّـى حَقّٙاۖ

  • Indeed my Sustainer Lord has rendered her (the dream) a proven reality —

میرے رب نے اس(خواب)کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔

وَقَدْ أَحْسَنَ بَـىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ

  • And indeed He the Exalted did good to me when He took me out from the prison —

اور انہوں(میرے رب)نے پہلے بھی مجھ پر احسان فرمایا تھا جب انہوں نے مجھے جیل میں سے نکلوایا تھا۔

Root: س ج ن

وَجَآءَ بِكُـم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزغَ ٱلشَّيْطَٟنُ بَيْـنِى وَبَيْـنَ إِخْوَتِـىٓۚ

  • And He has brought you people from the desert region/the Suburban district after that the Shai'tan had caused discord between me and between my brothers.

اور آپ سب کو مضافاتی ضلع سے میرے پاس لے آئے ہیں،اس جدائی کے بعدجو شیطان کے میرے اور میرے بھائیوں کے مابین چپقلش پیدا کرنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

Root: ن ز غ

إِنَّ رَبِّـى لَطِيفٚ لِّمَا يَشَآءُۚ

  • Indeed my Sustainer Lord is au fait of all niceties and delicacies, subtlety, refinements in what He wills/desires.

یقینا میرے رب جس معاملے کو چاہتے ہیں اس کو تمام تر نفاست ،لطافت اور باریک بینی سے سلجھانے والے ہیں۔

Root: ل ط ف

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْحَكِيـمُ ١٠٠

  • Certainly, He the Exalted is intrinsically the Fountain of knowledge of visible and invisible domains; and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm." [12:100]

ان کے متعلق حقیقت ہے، وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں۔‘‘

رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ

  • He prayed: "My Sustainer Lord, Your Majesty has indeed given me the authority in the country; and You the Exalted have taught me foreseeing by deducing the final outcome-logical conclusive interpretation of the happenings, events-dreams [as was disclosed to me by my father in childhood-12:06]

انہوں نے کہا’’اے میرے رب!آپ نے مجھے اس ملک میں فرمانروائی کو عنایت فرمایا ہے  اور آپ نے مجھےپیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ  سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دی ہے۔

فَاطِرَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ

  • O You the Exalted Originator- Exposer of the Skies and the Earth:

اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے۔

Root: ف ط ر

أَنتَ وَلِـىِّۦ فِـى ٱلدُّنُيَا وَٱلۡءَاخِـرَةِۖ

  • You the Exalted are my protector in the worldly life and in the Hereafter.

آپ میرے کارساز ہیں،اس دنیا اور آخرت کی حیات میں۔

تَوَفَّنِى مُسْلِمٙا وَأَ لْحِقْنِى بِٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٠١

  • Kindly segregate me in identity of a Muslim and join me with the righteously perfectionists." [12:101]

آپ مجھے حیات دنیا سے الگ کرنے کا فیصلہ دین اسلام پر کاربندحالت میں کریں۔اور آخرت میں میرا الحاق اصلاح کرنے والوں سے فرما دیں‘‘۔

Root: ل ح ق

ذَٟلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَۖ

  • This episode is the part of the news of history; happenings not seen and perceived by your visual faculty; We are verbally communicating it to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam —

یہ ماضی کے واقعات پر مبنی خبروں میں سے ہے جو ہم جناب آپ(ﷺ)کی جانب بذریعہ کلام بیان کر رہے ہیں۔

وَمَا كُنتَ لَدَيْـهِـمْ إِذْ أَجْـمَعُوٓا۟ أَمْرَهُـمْ وَهُـمْ يَمْكُرُونَ ١٠٢

  • [In such eye witness account description that you can visualize it] And you were not present among them when they finalized their matter by consensus which they were plotting. [12:102]

(اس انداز میں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن جائے)اگرچہ آپ بنفس نفیس ان کے قریب موجود نہیں تھے جب   انہوں نے اپنے معاملے(کنویں میں اتارنا) میں اتفاق رائے کر لیا تھا،اور جب وہ  منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيـنَ ١٠٣

  • Know it, most of the mankind will certainly not be the believers; notwithstanding how much you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] aspire for it. [12:103]

مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اکثر لوگ ایمان بالکل نہیں لاتے قطع نظر اس کے کہ آپ نے شدید خواہش اور محنت سے ان کا دل و دماغ کھولنے کی کوشش کی ہے۔

Root: ح ر ض

وَمَا تَسْـٔ​َلُـهُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ أَجْرٍۚٛۚ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them not any remuneration for publishing, delivering and teaching it: Qur’ān to them —

اورآپ (ﷺ) تو اس (قرءان مجید) کی اشاعت، تبلیغ و تعلیم پر ان  سے  کسی قسم کے اجر کا سوال بھی نہیں کرتے۔

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٚ لِّلْعَٟلَمِيـنَ ١٠٤

  • It (Qur’ān) is but an Admonition-Reference Book, historical account; for beforehand information and guidance of the peoples/humanity [in time and space]". [12:104]

حقیقت میں تو یہ(قرءان مجید)مگرسرگزشت ہے،تمام لوگوں کے لئے  نصیحت اور سبق لینے کے لئے آسان فہم انداز میں تصنیف و تالیف کردہ ہے۔


وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٛ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْـهَا وَهُـمْ عَنْـهَا مُعْـرِضُونَ ١٠٥

  • And there are innumerable awe-inspiring signs in the Skies and the Earth over which they frequently pass by—While having watched they avoid noticing them. [12:105]

اور(انہوں نے لوگوں کی سرگزشت سے کیا سبق حاصل کرنا ہے)کتنے مواقع ہیں  نصیحت اور سبق لینے کے ہر طرح کی نشانی میں جو آسمانوں اور زمین میں  رہنمائی کرنے کے لئے ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں،جن پران کا گزر/مشاہدہ ہوتا ہے۔اس حالت میں کہ وہ اس سے دانستہ اعراض برتتے ہیں۔

Root: م ر ر

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُـم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُـم مُّشْـرِكُونَ ١٠٦

  • And most of them believe not in Allah the Exalted except while simultaneously are polytheists: those who associate-ascribe partners with Him. [12:106]

اور ان میں سے اکثراللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے سوائے اس طرح کے ان کے ساتھ دوسروں کا بطور الہہ اشتراک کرتے ہیں۔

أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَـهُـمْ غَٟشِيَةٚ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ

  • Is it for reason that they have felt secured that there might come the infliction by decree of Allah which encompasses/overwhelms —

کیا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عذاب سے لبریز چھا جانے والی تکلیف سے محفوظ و مامون سمجھ لیا ہے۔

Root: غ ش ى

أَوْ تَأْتِيَـهُـمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةٙ

  • Or the Determined Moment may come to them all of a sudden —

یا وہ مقرر کردہ ساعت یکایک اچانک ان پر آن پہنچے

Root: س و ع

وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٠٧

  • About which they have no idea-clue. [12:107]

جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔

قُلْ هَـٟذِهِۦ سَبِيلِـىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَـىٰ ٱللَّهِۚ عَلَـىٰ بَصِيـرَةٍ أَنَا۟ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِىۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "This is my way, I invite towards Allah the Exalted with insight, I and he who followed me in letter and spirit without there being any third between me and him.

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’یہی میری راہ/قوت استدلال ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب ادراک اور بیناائی قلب سے آنے کی دعوت دیتا ہوں۔اور ایسے ہی ہر وہ شخص دعوت دے گا جس نے صدق دل سے اس انداز میں میری پیروی کی کہ میرے اور اور اس کے درمیان تیسرا حائل نہیں۔

وَسُبْحَٟنَ ٱللَّهِ

  • And Infinite Glory is for Allah-His pleasure is the focus of all effort; He is the Absolute/Independent —

اللہ تعالیٰ حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔

وَمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ ١٠٨

  • And be mindful; I have never been identified as part of the Idolaters-polytheists." [12:108]

اور میں  کبھی بھی زمان کے مشرکین /اصنام پرستوں کے ساتھ سمجھا اور گردانا گیا تھا۔‘‘

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالٙا نُّوحِـىٓ إِلَيْـهِـم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓۗ
أَفَلَمْ يَسِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۗ
وَلَـدَارُ ٱلۡءَاخِـرَةِ خَيْـرٚ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ۗ
أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٠٩

  • Know it; Our Majesty never sent as the Messengers before you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] but the Men whom We communicated verbal messages —They (the Messengers) were known and recognized staunch monotheists among the residents of the cities. (Cf. 16:43; 43:23)
    Is it, then, their deaf response to fall of calamity for reason they (non-believers) have not traversed in the world/land —Whereby they might see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who were before them [and take heed/lesson].
    Be cognizant, the Home of the Hereafter  is the best for the people who endeavoured to attain salvation. (Cf. 6:32; 7:169; 16:30)
    Is it, then, for fear of loosing political hegemony (Cf. 28:57) that you wish not to reflect meeting a similar fate, O you the Chieftains? (Cf. 2:44; 2:76; 3:65; 6:32; 7:169; 10:16; 11:51; 12:109; 21:10; 21:67; 23:80; 28:60; 37:138=13) [12:109]

اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ آپ(ﷺ)سے قبل بھی  ہم نےصرف مردوں کو قوموں کی جانب بحثیت رسول بھیجا،ہم انہیں بذریعہ کلام پیغام دیتے تھے۔وہ تمام بستیوں کے رہنے والوں میں توحید پر ایمان والوں کی شہرت رکھتے تھے۔
کیا ان انکار کرنے والوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔جس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ) دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں بسنے والوں کا انجام کیا تھا۔
جان لو؛آخرت کا مقام رہائش ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جوتندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔
کیا سیاسی اور معاشرتی حیثیت کھونے کا گمان ہے کہ  عقلی تجزیہ سے تم ادراک حقیقت کی کوشش نہیں کرتے،اے سردارو؟(سورۃ یوسفؐ۔
١٠٩)

Root: س ى ر

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـٔ​َسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُـمْ نَصْرُنَا فَنُجِّـىَ مَن نَّشَآءُۖ

  • The eventual end did not come to those nations until when the Messengers felt no hope of people accepting the message and adjudged that they indeed have been contradicted publicly, Our help came to them whereby he was saved about whom Our Majesty so decided.

اس وقت تک انہیں(وہ نیست و نابود کر دی گئی قومیں)مہلت دی گئی جب ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے رسول ان کے ایمان لانے سے نامید ہو گئے اورانہوں نے اپنے جھٹلائے جانے کا پختہ گمان کر لیا تو ہماری جانب سے انہیں مدد پہنچ گئی اور جس کسی کو ہم نے چاہا اسے بچا لیا گیا تھا۔

Root: ى ء س

وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ١١٠

  • But remain mindful; the affliction decreed by Our Majesty does not revert to spare the exploiting, criminal people. [12:110]

اورہماری جانب سے بھیجی گئی قدرتی آفت کومجرمین پر مشتمل قوم سے لوٹایا نہیں جاتا۔

لَقَدْ كَانَ فِـى قَصَصِهِـمْ عِبْـرَةٚ لِّأُو۟لِـى ٱلۡأَ لْبَٟبِۗ

  • Certainly an enlightenment enabling insight is mirrored, in the episodes/incidents of those people, for men who reflect objectively.

حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں(نیست و نابود کردہ قوموں)کے بیان سرگزشت میں تصویر عبرت ہے  صاحبان دانش وبینائی قلب  کے لئے  جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں۔

Root: ع ب ر

مَا كَانَ حَدِيثٙا يُفْتَـرَىٰ

  • It (Qur’ān) is not such discourse that someone (other than Allah the Exalted-10:37) could have compiled-fabricated-authored it —

یہ(قرءان مجید)کبھی ایسا   بیان (حدیث )نہیں ہے جسے (اللہ تعالیٰ کے سوائے) کسی نے تصنیف و تالیف کر لیا ہو۔

وَلَـٟكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِ

  • On the contrary, it is the affirmation and authentication of that one which was in front of it (previously the guidance, Injeel) —

(جس کسی کو ایسا گمان ہے وہ لغو ہے)یہ تواس کلام/ایک کتاب(انجیل)کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے قبل کے ادوار میں نازل کیا گیا تھا۔

وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَـىْءٛ

  • And it is in state of segmented into distinct individuated semantic frames of every matter/subject/thing relevant to audience —

اور ہر ایک موضوع کو فصیل(فریم)میں متمیز کئے ہوئے ہے۔

وَهُدٙى وَرَحْـمَةٙ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ١١١

  • And it is the Guide in time and space because of its permanence, leading on the way to destination and is Mercy/blessing for the believing people. [12:111]

اور یہ تو ہدایت اور رحمت کا نزول ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم(ﷺ)پر ایمان لاتے ہیں۔

013- سُوۡرَةُ الرعد

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation         

سورۃ کا تعارف


الٓمٓرۚ

  • Alif; Laam, Meem and Ra consonants of Arabic alphabet conjoined; two have above them ancillary glyph/prolongation sign. Alif: it is said it means First-Reference-Manifest itself; Laa'm, means Service-For-Provide and Mee'm: Place-Thing-Being; and Ra means Order-Command

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان،اور حرف ر۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِۗ

  • These are Aa'ya'at: symbols, signs, unitary passages of the Mother - Principal Book —

اے رسولِ کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کےمندرجات( آیات )ہیں۔

وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ

  • Take note about that which has been compositely sent to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in easy to understand composition by your Sustainer Lord: It is the Infallible Doctrine-Discourse.

اور وہ جسے آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں پہنچایا گیا ہے بیان حقیقت ہے۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١

  • However, despite its infallibility most of the people accept not the Divine origin of it. [13:01]

مگر ناقابل تردید بیان حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کے آپ کے رب کی جانب سے تصنیف و تدوین ہونا نہیں مانتے۔

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ بِغَيْـرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَـهَاۖ
ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ
وَ سَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَ ٱلْقَمَرَۖ
كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭىۚ
يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ
يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٟتِ لَعَلَّـكُـم بِلِقَآءِ رَبِّكُـمْ تُوقِنُونَ٢

  • Allah the Exalted is He Who has raised high the Skies. This elevation is circumstantially with the help of such supports that are other than ordinary pillars. You people are seeing them elevated as such without visible pillars.
    Thereafter, He the Exalted ascended to the Supreme Sovereign Seat/Throne
    [beyond Skies of universe]
    And He the Exalted has subjected-subjugated to a set discipline the Sun and the Moon.
    Each and all keep flowing for a term/duration of appointed/ named/fixed date and time.
    He the Exalted organizes, manages, and commands all matters to their logical conclusion.
    He the Exalted renders the verbal passages of Qur’ān distinct so that you people might attain conviction-certainty about confronting accountability before your Sustainer Lord.  [13:02]

اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے آسمانوں کو بلند فرمایا۔اس ارتفاع کی حالت   ستونوں کے علاوہ  ذریعے سے ہے۔تم لوگ اسے بغیر ستونوں کے بلند دیکھتے ہو۔
بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔
اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم کیا ہے۔
ہر ایک محو گردش ہے ایک معیاد کو مکمل کرنےکے لئے جو اختتام کے حوالے سے متعین ہے۔
وہ جناب  ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔
وہ جناب آیات کو جدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف فرماتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد  یہ ہے  کہ تم لوگ  اپنے رب کے حضور احتساب  کے لئے پیش کئے جانے  پر یقین کی کیفیت حاصل کر  سکو۔
 

Root: ر ف ع; ع م د ;ع ر ش  ;س خ ر; ق م ر ; ف ص ل; ي ق ن      Why is the Universe the way it is?

وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلۡأَرْضَ
وَجَعَلَ فِيـهَا رَوَٟسِـىَ وَأَنْـهَارٙاۖ
وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَـرَٟتِ جَعَلَ فِيـهَا زَوْجَيْـنِ ٱثْنَيْـنِۖ
يُغْشِى ٱلَّيلَ ٱلنَّـهَارَۚ

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَفَكَّرُونَ 
٣

  • And He the Exalted is the One Who spread, stretched the Earth —
    And He the Exalted rendered the mountains as anchors and paths therein as water flows —
    And He the Exalted rendered in all fruits a duality of pairing-families.
    He the Exalted wraps, covers, veils the Day with the Night.
    Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the aforementioned facts for the people who have the habit of reflecting objectively to arrive at the purpose of creation. [13:03]

اور وہ جناب ہیں جنہوں نے زمین کوپحیلائی حالت میں کر دیا۔
اور ان جناب نے اس کے اندر پہاڑوں کو بطورلنگرداخل کیا اورراستوں کو بطورپانی کی گزرگائیں بنایا۔
اور ان جناب نے اس میں پیدا کئے تمام پھلوں میں ہر ایک کوازدواجی جوڑے کی حیثیت میں مربوط کر دیا۔
وہ جناب رات کو دن سے اور دن کو رات سے ڈھابپتے رہتے ہیں۔
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں جو ازخود تفکر کرنے والوں کے لئے  فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔(الرعد۔٣)

      History of the Earth   Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance.   Root: ر س و; غ ش ى;ف ك ر

وَفِـى ٱلۡأَرْضِ قِطَعٚ مُّتَجَٟوِرَٟتٚ وَجَنَّٟتٚ مِّنْ أَعْنَٟبٛ وَزَرْعٚ وَنَخِيلٚ

  • Tracts neighbouring each other, and gardens of vines, and fields sown and ploughed grain crops and palm trees are all  in the Earth —

ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو قطعات اراضی،اور نوع انگور کے باغات ،اور غلہ اگانے کے کھیت اور کجھور کے درخت زمین میں موجود توجہ دلانے والی بدیہی حقیقتیں ہیں۔

Root: ز ر ع;  ع ن ب; ن خ ل; ق ط ع

صِنْوَانٚ وَغَيْـرُ صِنْوَانٛ

  • The palm trees are parallel in pairs (female and male in vicinity) and other than pairs —

کجھور کے درخت ایک دوسرے کی جانب جھکاؤ رکھتے ہوئے رو در رو بھی ہیں(مذکر اور مؤنث ملے جلے،شاخوں کو کاٹ کر لگائے)اوراس انداز سے مختلف الگ الگ بھی لگائے جاتے ہیں۔

Root: ص ن و

يُسْقَىٰ بِمَآءٛ وَٟحِدٛ

  • They all are watered with the same water —

ان تمام کو ایک ہی طرح کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

Root:  س ق ى

وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَـىٰ بَعْضٛ فِـى ٱلۡءاُكُلِۚ

  • But Our Majesty has granted to some distinction/nutritional richness over some others in diet.

لیکن ہم جناب بعض کو بعض کی نسبت ذائقے ، تاثیراورطبعی افادیت میں  غذائی انفرادیت کا حامل بنا دیتے ہیں۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَعْقِلُونَ ٤

  • Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the foretasted existents for people who use faculty of reason and intellectual inquiry. [13:04]

یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں جو عقل استعمال کرنے والوں کے لئے  فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔

وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٚ قَوْلُـهُـمْ

  • And if their non reflection on aforementioned visible realities appears strange to you, then consider how unusual and strange is their questioning statement:

ان بدیہی حقیقتوں سے بعض لوگوں کی چشم پوشی پر اگر آپ(ﷺ) کو حیرانگی ہوتی ہے تو اس پر غور کریں کہ ان کا لوگوں سے یہ استفسار کرنا کیا عجیب نہیں:

Root: ع ج ب

أَءِذَا كُنَّا تُرَٟبًا أَءِنَّا لَفِـى خَلْقٛ جَدِيدٍۗٛۗ

  • "Is it that when we would have become dust then will we certainly be in a new creation?"

’’کیا جب ہم خاک بن چکے ہوں  گے۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے‘‘۔

Root: ج د د

أُو۟لَـٟٓئِكَ الَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِرَبِّـهِـمْۖ

  • (Their rhetorical questioning is only to delude people) They are in fact the people who have denied their Sustainer Lord.

(ان کا یہ سوال کرنا  محض لوگوں کو ملتبس کرنا ہے)در حقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کا انکار کرتے ہیں۔

وَأُوْلَئِكَ ٱلۡءَاَغْلَالُ فِـىٓ أَعْنَاقِهِـمْۖ

  • And they are the people; shackles are put in their necks [of conjectural myths fabricated by them and their earlier people]

 اور درحقیقت  یہ ایسے لوگ ہیں  کہ ان کی بد اندیشی،بغض،ہٹ دھرمی،انانیت اور عقل و خرد سے بیگانہ روایت پرستی ان کی گردنوں میں مانند طوق  بن گئے ہیں۔

Root: ع ن ق;  غ ل ل

وَأُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِۖ

  • And they are the people who will be the resident inmates of the scorching Hell-Prison.

اور یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔

Root: ص ح ب

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدونَ ٥

  • They shall abide therein permanently. [13:05]

یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ

  • And they seek you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] for hastening the punishment before the good —

مگر(تعجب ہے ان کے عقل و فہم پر)یہ ہیں کہ خوشگواری  کی طلب سے قبل آپ (ﷺ)سے عذاب لانے میں عجلت کی خواہش کر رہے ہیں۔

Root: ع ج ل

وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِـهِـمُ ٱلْمَثُلَٟتُۗ

  • Though indeed before them such eye opening precedents have occurred [when people demanded the Messengers to hasten the punishment] —

باوجود اس حقیقت کے کہ عذاب جلدی لانے کے مطالبے کی مثالیں  ان سے قبل کے لوگوں میں گزر چکی ہیں۔

Root: خ ل و

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٛ لِّلنَّاسِ عَلَـىٰ ظُلْمِهِـمْۖ

  • But indeed your Sustainer Lord is oft forgiving for the people despite their evil conduct —

یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ آپ(ﷺ)کے رب لوگوں کے لئے درگزر اورکچھ عرصہ کے لئے معاف رکھنے کے صاحب اختیار ہیں باوجود ان کے حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنائے ہوئے ہونے کے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٦

  • And indeed your Sustainer Lord is certainly severe in awarding punishment/takes the matter to its logical conclusion. [13:06]

اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے ہیں۔

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ مِّن رَّبِّهِۦٓۖ

  • And they, who have refused to accept the Messenger and Qur’ān, question people saying: "Why is it that an unprecedented display [miracle] has not specifically been sent to him by his Sustainer Lord?"

رسول کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ لوگوں سے کہتے ہیں"کیا وجہ ہے کیوں انہیں  عینی مشاہدہ کرانے کے لئے  ایسی شہادت(آیت/معجزہ) ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے  سند ہوتی  جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟"   

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٚۖ وَلِـكُلِّ قَوْمٛ هَادٍٛ ٧

  • Indeed you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are but Admonisher-Awakener; and the guide universally for every nation. [13:07]

(مگر اس حقیقت کو وہ بھول جاتے ہیں کہ)آپ(ﷺ)تو تمام کونتائج و عواقب سے متنبہ کرنے والے ؛اور عالمگیر،ہر ایک قوم  کے لئےرہنما،ہادی مقرر کئے گئے ہیں۔(سورۃ الرعد۔7)

تحلیل نحوی و صرفی:تشریح


ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْـمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ

  • Allah the Exalted persistently knows that which each female invisibly carry in pregnancy —

اللہ تعالیٰ اس کو بخوبی جانتے ہیں جو تمام میں ہر کوئی مؤنث اپنے رحم میں بار اٹھا لیتی ہے۔

وَمَا تَغِيضُ ٱلۡأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُۖ

  • And He the Exalted knows as to how much the Wombs (Uteruses) keep contracting/getting inside/squeezing, and as to how much they keep expanding reciprocally/relatively (for the developing baby).

اور وہ  جناب اس کو بخوبی جانتے ہیں جو ارحام سکڑتی اور سمٹتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو کتنا پھیلاتی اور وسعت دیتی ہیں۔

Root: غ ى ض

وَكُلُّ شَـىْءٛ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍٛ ٨

  • Take note, every tangible entity introduced in physical realm from His Grace is created by measure - quantity - volume. [13:08]

اور ہر ایک ایک شئے کو ان جناب کے تخمینے کے مطابق متعین مقدار میں تخلیق کیا گیا ہے۔

عَٟلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ

  • He the Exalted is the Knower of the Invisible and the Visible domains, continuously and simultaneously —

وہ تمام  جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔

ٱلْـكَبِيـرُ ٱلْمُتَعَالِ ٩

  • Indeed Allah the Exalted  is eternally the Greatest, The Exclusively most exalted Dominant. [13:09]

وہ جناب  قدر و منزلت میں دائمی مطلق بڑے ہیں،تمام سے بلند و بالا اورزمان و مکان میں سب پرحاوی ہیں۔

سَوَآءٚ مِّنكُـم مَّنْ أَسَرَّ ٱلْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِۦ

  • He who concealed/kept to himself the thought and he who publicized-expressed it by tongue amongst you people are alike for Him the Exalted.

یکساں ہے ان جناب کے لئے تم میں سے وہ شخص جس نے اپنے بیان کو راز رکھا اورتم میں سے وہ جس نے اپنے بیان کو باآواز بلند مشتہر کر دیا۔

Root: س ر ر

وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفِۭ بِٱلَّيلِ وَسَارِبُۢ بِٱلنَّـهَارِ ١٠

  • And so are alike he who hides in the night and the one who goes freely/openly during day. [13:10]

اور یکساں ہےوہ جو رات کے دوران اپنے آپ کو چھپائے رکھنے کا خواہش مند ہے اور وہ جو دن کے دوران کھلے عام گھومتا پھرتا ہے۔

Root: س ر ب

لَهُۥ مُعَقِّبَٟتٚ مِّن بَيْـنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِۗ

  • There are escorts [Angels-masculine-in large number] deputed for him, before and behind him; [those sent protectors-6:61; for the Messenger 72:27] they guard him by the command of Allah the Exalted.

بڑی تعداد میں  تعاقب کرنے والے(ملائکہ)اس(شخص،غیب کے متعلق مطلع کئے ہوئے رسول؛سورۃ الجن۔27)کے لئے مقرر کئے گئے ہیں،وہ جو اس کے سامنے کے مقام اور اس کے پیچھے کے مقام پر موجود ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دئیے گئے حکم کے مطابق اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا بِقَوْمٍٛ حَـتَّىٰ يُغَيِّـرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِـمْۗ

  • [The criminal cognizance is after the lapse of respite period] It is a fact that Allah the Exalted will not substitute the grace and blessing that is bestowed upon a nation until they change that which they earlier cherished.

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آسودہ حالی کو جو انہوں نے کسی قوم پرمرحمت فرمائی ہے اس وقت تک متغیر  نہیں کرتے  جب تک وہ لوگ اسے متغیر نہ کر دیں جس طرز حیات کا اپنے نفوس کو پابند رکھتے تھے۔

وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٛ سُوٓءٙا فَلَا مَـرَدَّ لَهُۥۚ

  • And when Allah the Exalted has taken decision for a nation to punish/inflict, thereby, there is no turning away for it.

متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کوسزا کے طور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو چونکہ قہ قادر مطلق ہیں اس لئے قطعاً کوئی بھی نہیں جو اس ارادے کی تکمیل کو موڑ سکے۔

وَمَا لَـهُـم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍٛ ١١

  • And there is none a protector for them in that situation other than Allah the Exalted. [13:11]

اور قطعاً کوئی حمایتی اور مددگار اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسا نہیں جو ان کی مدد کرنے کا سوچ بھی سکے۔

هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُـمُ ٱلْبَـرْقَ خَوْفٙا وَطَمَعٙا

  • He the Exalted is Who keeps showing to you people the lightening, causing a state of fear, and generating hope of profitability. [release of atmospheric nitrogen brought down by rain-sustenance 45:05].

وہ جناب ہیں جو تم لوگوں کو بجلی گرتے ہوئے دکھاتے رہتے ہیں،اس  مقصد اورحال میں کہ تمہیں خوف محسوس ہونے کے ساتھ خوشگوار امید دلائے۔

Root: ط م ع   Lightening is a ray of hope of profitability

وَيُنْشِىُٔ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ ١٢

  • And He the Exalted originates-gives first appearance to the Middle drifting-trailing Cloud who gradually and successively attains densely compacted characteristic. [13:12]

اور وہ جناب بتدریج دبیز اور بوجھل منڈلاتے بادلوں کو ابھارتے اور نمایاں کرتے ہیں۔

 Root: س ح ب ; Root: ن ش ء      First Atlas of Clouds was published in Qur’ān 

وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعْدُ بِحَمْدِهِۦ وَٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ مِنْ خِيفَتِهِۦ

  • And the thunder remains active in executing work with His glorifying praise and the Angels do so for fear of Him the Exalted.

اور بادلوں کی گڑگڑاہت، گھن گرج ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے  ان کی ہمہ وقت ستائش کرتے ہوئے برسر پیکار ہے۔اور اسی طرح تمام ملائکہ ان جناب کے مقام و مرتبہ کا خوف رکھتے ہوئے برسر پیکار رہتے ہیں۔

Root: ء ل ك

وَيُرْسِلُ ٱلصَّوَٟعِقَ فَيُصِيبُ بِـهَا مَن يَشَآءُ

  • And He the Exalted sends the thunderclap, then for reason [sound travels much slower than light] He strikes/makes it reach only to whom He wills. [Thunderclap can seldom be heard 24 kilometer away]

اور وہ جناب کڑکراہٹوں کو روانہ کرتے ہیں۔چونکہ اس کا نظام بجلی کی چمک سے مختلف ہے اس لئے وہ جناب جس کو سنوانا چاہتے ہیں اسے اس تک پہنچا دیتے ہیں۔

وَهُـمْ يُجَٟدِلُونَ فِـى ٱللَّهِ

  • But despite it they wrangle about Allah the Exalted.

مگر اس کے باوجود وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق باتوں کے پیچ و خم سے الجھتے رہتے ہیں۔

وَهُوَ شَدِيدُ ٱلْمِحَالِ ١٣

  • Mind it, He the Exalted is the Mighty in the grapple. [13:13]

متنبہ رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ان جناب کا مجرمین کو گرفت میں لینا ان کے لئے دردناک ہے اور شدید بھی۔

Root: م ح ل

لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّۖ

  • The truthful-real supplication for response is directed exclusively for Him the Exalted.

حقیقت پر مبنی پکار  خصوصی طور پر ان جناب سے  داد رسی کے لئےکی جاتی ہے۔

وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَـهُـم بِشَىْءٍٛ

  • Be mindful, they who call upon others instead of Him the Exalted, such addressees cannot  respond to them, not at all—

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ان جناب کے علاوہ دوسروں کو معبودان سمجھ کر پکارتے رہتے ہیں وہ کسی بھی معاملے میں ان کو جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔

إِلَّا كَبَٟسِطِ كَفَّيْهِ إِلَـى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٟلِغِهِۦۚ

  • It is but futile like him who spreads his two hands in the direction of the water so that it might reach his mouth while that water itself can never reach him.

ان کا اُن کو پکارنااس پیاسے کی مانند ہے جو پانی کی جانب اپنے  دونوںبازو پھیلائے اس امید میں کہ پانی اس کے منہ میں پہنچ جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہرگزکبھی بھی اس کے پاس پہنچ پائے گا۔

Root: ب س ط; ف و ه; ك ف ف

وَمَا دُعَآءُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٛ ١٤

  • Note that the calls/supplications of those who have refused to accept are nowhere except in abandonment. [13:14]

اوریہ حقیقت ہے کہ رسول اور کتاب اللہ کا انکار کرنے والوں کی ہر موقعہ پر پکار کا انجام سوائے فضا میں تحلیل ہو جانے کے کچھ بھی نہیں۔


وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ طَوْعٙا وَكَرْهٙا
وَظِلٟلُـهُـم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ۩١٥

  • Be aware: whoever sentient being is present in the Skies and the Earth submits in humble surrender, acknowledging that absolute prostration is the prerogative exclusive for Allah the Exalted. They do so at times by willing acceptance and reverent acknowledgement, and at other times under the coercion of compelling circumstances.
    Yet, their shadows — they always go in prostrate posture before Allah the Exalted, at the break of the mornings and at the fall of the evenings. [13:15] [Note: Prostration Ayah; please prostrate-it gets man nearer to Allah the Exalted-96:19]

مطلع رہو؛      جو کوئی ذی حیات آسمانوں اور زمین میں موجود ہے،وہ چاہے چاہت و رغبت و کشش کے زیر اثر اورچاہے نظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا رہتا ہے۔
تاہم اُن کے سائے رغبت و کشش کے زیر اثر ہمیشہ سجدہ ریز ہوتے ہیں علی الصبح اور دن کے آخری پہرکے اوقات میں۔(بحثیت فعل سجدہ کے فاعل سایہ اپنے آپ میں ایک حقیقت ہے)(الرعد۔15)۔(آیت سجدہ ہے،سجدہ کریں)

Root: س ج د;  ك ر ه;ظ ل ل; غ د و

قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Who is the Sustainer Lord of the Skies and the Earth?". You say, "Allah the Exalted is the Sustainer Lord of them".

آپ (ﷺ)پوچھیں"کون ہیں جو آسمانوں اور  زمین کے رب ہیں؟"۔آپ (ﷺ)کہیں  "وہ اللہ تعالیٰ ہیں"۔

قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُـم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَـمْلِـكُونَ لِأَنفُسِهِـمْ نَفْعٙا وَلَا ضَرّٙاۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Are you hesitant answering simple question for reason that you people have purposely assumed protectors/patrons other than Him the Exalted? Their peculiarity is that they possess not even for their selves power/ capacity/authority/control for material gain nor for averting adversity-harm."

آپ (ﷺ)پوچھیں "کیا فوراً جواب دینے میں ججھک اس وجہ سے ہے کہ تم لوگوں نے ان جناب کے علاوہ ایسے حیات سے عاری معبودان کو زیر مقصد بطور کارساز اختیار کر لیا ہے جواپنے لئے کسی ضرر اور نہ نفع کے لئے کوئی قوت و اختیار رکھتے ہیں ۔

قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلۡءَاَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيـرُ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "Does the blind of eye and heart and the man of vision and enlightenment equate with each other?

آپ(ﷺ)ان سے کہیں"اس بات کی تصدیق یا نفی کرو کہ کیا آنکھوں اور دل کےاندھے                                            شخص                    اور بصارت و بصیرت رکھنے والے یکساں تصور کئے جا سکتے ہیں؟

Root: ع م ى

أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٟتُ وَٱلنُّورُۗ

  • Or does the layers of darkness and the visible light equate with other?"

یا کیا تہہ بر تہہ اندھیرے اور نور/سفید روشنی ایک جیسے تصور کئے جا سکتے ہیں"۔

أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٟبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْـهِـمْۚ

  • Or have they declared associates for Allah the Exalted who have created like His creation for which reason that creation has created confusion for them? [it is sensitive for them, will keep mum therefore]

یا کیا انہوں نے جن شرکاء کو اللہ تعالیٰ  کے حوالے سے ہمسر قرار دیا ہے انہوں نے ان جناب کے تخلیق کردہ کے مانند کچھ تخلیق کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے تخلیق کردہ نے ان کے لئے اشتباہ پیدا کیا ہے۔

Root: ش ب ه

قُلِ ٱللَّهُ خَٟلِقُ كُلِّ شَـىْءٛ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Allah the Exalted is the Creator-Primal Originator of each and entire physical realm."

آپ(ﷺ)اارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ ہیں جو  تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔

وَهُوَ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّٟرُ ١٦

  • And He the Exalted is the Solitary, the Almighty, Absolutely Dominant over all. [13:16]

اور وہ جناب یکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں۔

Root: ق ھ ر

أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ

  • He the Exalted dropped certain quantity of water from the Sky —

انہوں نے آسمان سے پانی کی متعین مقدار کر برسایا۔

فَسَالَتْ أَوْدِيَةُۢ بِقَدَرِهَا

  • Thereat, the water pathways-valleys inundated according to their capacity-measure —

اس کے نتیجے میں پانی کی گزرگاہیں/وادیاں اپنی اپنی پیمائش کے مطابق لبریز ہو گئیں۔

Root: س ى ل

فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدٙا رَّابِيٙاۚ

  • Resultantly the inundation uplifted scum, characteristically uprising.

اس کی وجہ سے لبریز بہاؤ نے جھاگ کو اپنے اوپر اٹھا لیا،اوپر کی جانب ابھرتے انداز میں۔

Root: ر ب و ;  ز ب د; س ى ل

وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِـى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍٛ أَوْ مَتَٟعٛ زَبَدٚ مِّثْلُهُۥۚ

  • And similar scum/dross like that (surfaced on water) up-rises from the metal (or ore) which they smelt by kindling fuel in fire upon it for the purpose of  making ornaments or desiring to extract metal as asset.

اور اس کے مثل  وہ جھاگ  اورمیل ہے جو اس دھات اور معدنیات میں سے نکلتا ہے جس پر وہ               آگ سلگاتے ہیں،زیورات بنانے یا دوسرے قیمتی اجزا حاصل کرنے کی خواہش میں۔

Root: ز ب د;  ح ل ى

كَذَٟلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٟطِلَۚ

  • You be aware, in similar way, Allah the Exalted strikes to let shine the established fact-reality, profitable and substance of permanence, and exposes in contrast the: بَاطِل scum/conjecture - filmy layer of extraneous matter or impurities that rises up on the surface of a liquid; dross or refuse from molten metal which becomes visible on surface.

ان  نمایاں مشاہدات کی مانند اللہ تعالیٰ ناقابل تردید حقیقت اور بیکار،فاسد،،لغو،ناقابل مشاہدہ اور ثبوت ہرزہ سرائی کے مابین فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔

فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءٙۖ

  • Thereat, as for scum is concerned it vanishes away/goes away as froth.

چونکہ اصل حقیقت اور کھوٹ  روانی اور حرارت میں الگ ہو جاتے ہیں اس لئے جہاں تک جھاگ اور میل کا تعلق ہے وہ چلا/زائل ہو جاتا ہے،سطح سے ہٹائے ہوئے انداز میں۔

Root: ز ب د

وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَـمْكُثُ فِـى ٱلۡأَرْضِۚ

  • And as for that which benefits people, it for reason/resultantly settles in wait on the earth bed.

اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہے وہ چونکہ حقیقت اور وزن کا حامل ہوتا ہے اس لئے وہ فائدہ اٹھانے کے لئے تہہ میں مجود رہتا ہے۔

Root: م ك ث

كَذَٟلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمْثَالَ ١٧

  • This is how Allah the Exalted strikes the analogies. [13:17]

ان  نمایاں مشاہدات کی مانند اللہ تعالیٰ لوگوں کے استفادہ کے لئے مثالوں سے حقائق کو نمایاں فرماتے ہیں۔

لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّـهِـمُ ٱلْحُسْنَىٰۚ

  • The most befitting reward-response is guaranteed for those who consciously and heartily responded for their Sustainer Lord.

مطلع رہو؛بہترین دل آویز صلہ اور ایوارڈ ان لوگوں کے لئے تیار اور منتظر ہے جنہوں نے اپنے رب کے فرمان پر بصد احترام لبَّیک کہا۔

وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ

  • Beware of the predication-affirmed news about those who consciously and persistently did not let themselves respond for Him the Exalted —

مگر جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے ان جناب کی دعوت حق پر صدائےلبَّیک بلند کرنا پسند نہیں کیا:

لَوْ أَنَّ لَـهُـم مَّا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓۚ

  • Hypothetically speaking, had all collectively that exists in the Earth and alike of it in addition were the treasures exclusively for them they would certainly have offered to redeem their selves in lieu thereof.

  • ان کا انجام  یہ ہو گا کہ اگر وہ سب کچھ جو زمین کے اندر موجود ہے کلی طور پر اور اس کے مثل خزائن پر بیک وقت  ان کی دسترس ہوتی  تو  اسےاپنے جرائم کا معاوضہ دینے پر بخوشی تیار ہوتے  کہ یوم قیامت کو دئیے جانے والے عذاب سےبری ہوسکتے۔

Root: ف د ى

أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ

  • They are the people, the terrible reckoning is in wait for them —

یہ ہیں وہ لوگ۔۔تکلیف دہ احتساب ان کے لئے پچھتاوا بن جائے گا۔

وَمَأْوَىٰـهُـمْ جَهَنَّـمُۖ

  • And [afterwards] their Abode is the Hell-Prison.

متنبہ رہو؛ان کی آخری "پناہ گاہ" جھلسا دینے والی جہنم ہے۔

وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ١٨

  • Mind it, the Hell-Prison is the Worst Dwelling to land in. [13:18]

اور اس جہنم کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے رہائش کے لئے‘‘۔

Root: م ھ د

أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓۚ

  • Is then he who intelligently recognizes that it is the Infallible Doctrine-Discourse which has been revealed to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in easy to understand composition by your Sustainer Lord: Like him who is blind hearted?

کیا تقابلی جائزہ لینے پر وہ شخص جو جانتا ہے کہ  صرف وہ بیان حقیقت ہے جو آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں آپ کی جانب بھیجا گیا ہے اس کی مانند تصور کیا جا سکتا ہے جو قلب کا اندھا، چشم بصیرت سے عاری ہے۔

Root: ع م ى

إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ ١٩

  • The fact is that only Men of Wisdom: who look into matters and conduct objectively without overlapping emotions-prejudices-biases-whims-caprices, save it in memory and frequent it for reference-lesson and to relate. [13:19]

حقیقت یہ ہے کہ صرف دانا وبینا (جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں)ازخود یاد رکھتےاور نصیحت لیتے ہیں۔

Root:  ل ب ب

ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلْمِيثَـٟـقَ ٢٠

  • Men of Wisdom are those who fulfil the obligations of the Contract with Allah the Exalted and they do not violate the Covenant (i.e."We have heard and we have wholeheartedly accepted the Qur’ān-5:7") [13:20]

یہ (دانا  و بینا)وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو ایفا کرتے ہیں اور میثاق کی تنقیض            نہیں کرتے۔

Root: و ث ق; ع ھ د

وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ

  • And they are ones who persistently adhere to what Allah the Exalted has decreed that it be adhered to —

اور یہ لوگ  وہ                                                                                                                                          ہیں جو                اس                                  کو  استوار رکھتے  ہیں   جس کو  استوار رکھنے        اور اس سے پیوستہ رہنے کا اللہ تعالیٰ نے  حکم دیا ہے ۔

Root: و ص ل

وَيَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ

  • And they experience awe of Omnipresence of their Sustainer Lord despite being not in their sight—

اور وہ              ا پنے رب کے جاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے سہمے سہمے اورمرعوب           رہتے  ہیں۔

وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ ٢١

  • And they fear the terrible reckoning/accountability. [13:21]

اور وہ احتساب                                  کے                                            برے نتائج سے خوف زدہ رہتے ہیں۔

وَٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّـهِـمْ

  • And they who exercising patience remained coolly perseverant seeking the approval and appreciation of their Sustainer Lord —

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے  ناگواریوں کوحوصلے اور استقامت سے اپنے عہد پر ثابت قدم رہتے ہوئے برداشت کیا اپنے رب سے شرف قبولیت کے خواہش مند رہتے ہوئے۔

وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ

  • And steadfastly maintained the Institution of As-sa'laat: Time Bound Formal Rite demonstrating Servitude and allegiance to Allah the Exalted —

اور انہوں نے استقلال و استقامت ، منظم طریقے سے صلوٰۃ کی مقررہ اوقات پر ادائیگی کا پابند رکھا۔

وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ

  • And they spent for other's wellbeing out of the sustenance Our Majesty had provided them —

اور انہوں نے ہم جناب کے عنایت کردہ رزق میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا۔

سِرّٙا وَعَلَانِيَةٙ

  • They did it privately and publicly —

خرچ کا انداز تنہائی میں چھپا کر اور بر سرعام تھا۔

Root: س ر ر; ع ل ن

وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ

  • And they kept repelling/averting evil/misconduct with good and mannered conduct —

اور یہ لوگ زمان و مکان میں متعین اور معلوم قبیح طرز عمل کو متوازن احسن طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے رد اور عیاں کرتے رہتے ہیں۔

Root: د رء

أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٢

  • They are the people: the best end place is in wait for them. [13:22]

یہ ہیں وہ لوگ ۔۔بہترین  رہائش گاہ ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

جَنَّٟتُ عَدْنٛ يَدْخُلُونَـهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِـهِـمْ وَأَزْوَٟجِهِـمْ وَذُرِّيَّٟتِـهِـمْۖ

  • The place are gardens of pleasant abode, they will enter therein; and anyone who perfected conduct amongst their fathers, and their wives and their progeny will accompany them.

وہ خوشگوار باغات پر مشتمل ہے۔وہ ان میں داخل ہوں گے اور وہ جن کا تعلق ان کے آباؤ اجداد،اور ان کی ازواج اوراولادوں سے ہے، جس نے اپنے آپ کو اصلاح پر کاربند رکھا تھا۔

Root: ذ ر ر

وَٱلْمَلَـٟٓئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْـهِـم مِّن كُلِّ بَابٛ ٢٣

  • And the Angels will enter calling upon them from every entrance point — [13:23]

اور ملائکہ ہر ایک دروازے سے ان سے ملاقات کے لئے داخل ہوں گے۔

Root: ء ل ك

سَلَٟمٌ عَلَيْكُـم بِمَا صَبَـرْتُـمْۚ

  • [to felicitate] "Peace and tranquillity is bestowed upon you people for you having perseveringly endured in worldly life remaining firm in your resolve —

اور ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہیں گے’’آپ پر دائمی سلامتی اور خوزگواریاں ہیں اس کے سبب جو آپ نے ناگواریوں کو عزم و استقلال سے اپنے عہد سے وفادار رہتے ہوئے برداشت کیا‘‘۔

فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٤

  • Thereby, the best is the end achieved abode." [13:24]

چونکہ انہوں نے استقامت سے اپنے عہد کو نبھاہا اس لئے کیا ہی بہترین  مقام انجام ہے۔

وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٟقِهِۦ

  • Beware about those who violate - breach the Contract with Allah the Exalted, after it is consented as Covenant—

اور جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جو ا للہ تعالیٰ کے عہد کو  اس کے ناقابل تنسیخ میثاق  تسلیم کر لئے جانے کے بعد اُس کے پابند؍بندھے ہونے کے باوجود توڑتے؍تنقیض  کرتے ہیں۔

Root: و ث ق; ع ھ د

وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ

  • Moreover, they cut-distance away from that which Allah the Exalted has decreed that it be adhered to.

اور یہ لوگ(فاسقین) اس کوقطع کرتے؍توڑتے ہیں جس معاملے کواللہ تعالیٰ نے استوار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔

Root: و ص ل

وَيُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِۙ

  • Furthermore, they keep creating disturbance-disquiet-confusion in the society:

اور یہ لوگ زمین (معاشرے) میں  باطل   نظریات  کے پرچار سے ذہنی و فکری  انتشار سے بگاڑ  پھیلاتے ہیں۔[متضاد طرز عمل کے لوگ ۔الرعد۔13]

أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمُ ٱللَّعْنَةُ

  • They are the people: curse and condemnation is fate for them —

یہ ہیں وہ لوگ۔۔ہر طرح کی دھتکار اور عدم توجہ ان کے لئے باعث اضطراب و شرمندگی ہو گی۔

وَلَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ ٢٥

  • And the terribly wretched abode/home is prepared and in wait for them. [13:25]

اور ہیجان خیز اور بے چین رکھنے والا مقام رہائش ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔


ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقَدِرُۚ

  • Allah the Exalted expands the sustenance for a person about whom so decides. And restricts to measure for him about whom so decides.

اللہ تعالیٰ ہیں جو اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔

Root: ب س ط

وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا

  • Take note, they endowed with riches have rejoiced and felt elated in the life of the lowly world.

اور وہ ہیں کہ حیات دنیا میں میسر ثروت و آسودگی سے فرحت اور گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔

Root: ف ر ح

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ إِلَّا مَتَـٟـعٚ ٢٦

  • But the worldly life is not but transitory enjoyment which will be of no avail for them (the Disavowers) in the Hereafter. [13:26]

مگر حیات دنیا تو ایسے سامان زیست کے علاوہ کچھ نہیں جو آخرت میں محسوس ہو گا کہ متاع تو تمنا،آرزو اور فریب میں مبتلا کر دینے والا تھا(محذوف حال کے لئے ءال عمران۔۸۵ ساتھ  دیکھیں)

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ مِّن رَّبِّهِۦۗ

  • And they, who have refused to accept the Messenger and Qur’ān, question people saying: "Why is it that an unprecedented display [miracle] has not specifically been sent to him by his Sustainer Lord?"

رسول کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ لوگوں سے کہتے ہیں"کیا وجہ ہے کیوں انہیں  عینی مشاہدہ کرانے کے لئے  ایسی شہادت(آیت/معجزہ) ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے  سند ہوتی  جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟"   

قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Indeed Allah the Exalted lets remain neglectful/straying him [wilfully indifferent to the sent Book-Guidance] about whom He so decides —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی گم کردہ راہ اور منحرف کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے گمراہی میں مگن رہنے دیتے ہیں۔

وَيَـهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ٢٧

  • And guides towards Him the Exalted that person who had heartily turned". [13:27]

اور وہ جناب اپنی جانب آنے کے لئے اسے راہ (صراط مستقیم)سجھاتے ہیں جس نے اپنے آپ کو فلسفہ توحید پر پلٹا لیا"۔

Root: ن و ب

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُـهُـمْْ بِذِكْرِ ٱللَّهِۗ

  • He the Exalted keep guiding those who have heartily accepted and believed in the Messenger and Qur’ān; and their hearts feel absolutely satisfied with the remembrance of Allah the Exalted.

وہ جناب انہیں اپنی جانب ہدایت دیتے ہیں جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لے آئے اور ان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

Root: ط م ن

أَ  لَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ ٢٨

  • No doubt, the hearts feel satisfactorily tranquil with the remembrance and mention of Allah the Exalted — [13:28]

اس میں تعجب کی بات نہیں؛یقیناً قلوب اطمینان محسوس کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کئے جانے پر۔

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • They who heartily accepted-believed and performed deeds/acts righteously-moderately according to the Book:

ان لوگوں کے قلوب جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور اعمال صالح پر کاربند ہیں۔

طُوبَـىٰ لَـهُـمْ وَحُسْنُ مَـَٔابٛ ٢٩

  • Blessedness and the most appropriate place of return is promised for them. [13:29]

ہر لمحہ عیش و عشرت و آسودہ حالی اور بہترین قیام گاہ ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

Root: ء و ب

كَذَٟلِكَ أَرْسَلْنَـٟكَ فِـىٓ أُمَّةٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٚ

  • Thus We have sent you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in the people before whom many generations have passed: [without Book given to them]

اس طرح ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو  ان لوگوں کی موجودہ نسل میں  رسول مبعوث  فرمایا جن کی کئی نسلیں اس سے  قبل گزر چکی ہیں (جنہیں کتاب سے نہیں نوازا گیا تھا)۔

Root: خ ل و

لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْـهِـمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ

  • So that you recite to them, syllable by syllable, the Grand Qur’ān which Our Majesty has verbally communicated to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

تا کہ آپ(ﷺ) انہیں وہ(قرءان مجید) لفظ بلفظ ترتیل کے انداز میں سنائیں جو  ہم جناب نےآپ(ﷺ)کی جانب بھیجا ہے۔

وَهُـمْ يَكْـفُـرُونَ بِٱلرَّحْـمَـٰنِۚ

  • In an atmosphere where they refuse to recognize/acknowledge Ar'Reh'maan as the Only Iela'aha: Sustainer Lord —

اور وہ اس حالت میں ہیں کہ الرَّحمٰن (عز و جل)کااِلہٰ واحد ہونے سے مسلسل انکار کرتے رہتے ہیں ۔

Root: ك ف ر

قُلْ هُوَ رَبِّـى

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "He the Exalted, Ar'Reh'maan, is my Sustainer Lord.

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”وہ جناب (الرَّحمٰن) میرے رب ہیں۔

لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَ

  • Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (الرّحمٰن زوالجلال و الاکرام) کے۔

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ ٣٠

  • I honestly, diligently and sincerely place reliance and dependence upon Him the Exalted; and my resort, turning direction in timeline is towards Him the Exalted." [13:30]

ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور میرا رجوع کرنا ہر لمحہ ان جناب کی جانب ہے‘‘۔

وَلَوْ أَنَّ قُرْءَ انٙا سُيِّـرَتْ بِهِ ٱلْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ ٱلۡأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ ٱلْمَوْتَـىٰۗ

  • Know it, had there been a written discourse by the reading of which the mountains could have been moved or by that the Land could have cloven asunder or with that the dead could have conversed; they would still not have believed in that Qur’ān - written discourse.

مافوق الفطرت مظاہر کا مطالبہ کرنے والوں کے متعلق حقیقت جان لو؛اگر ایک ایسا تحریری مجموعہ پیش کر دیا جاتا جس کے صوت ِکلام سے پہاڑوں کو حرکت پذیر کر دیا جاتا،یا اس سے زمین کو دراڑ زدہ کر دیا جاتا یا اس کے صوت کلام سے مردوں کو گفتگو کے قابل بنا دیا جاتا (تو انہوں نے کہنا تھا یہ فریب نظر ہے)۔

Root: س ى ر; ق ط ع

بَل لِّلَّهِ ٱلۡأ​َمْـرُ جَـمِيعًاۗ

  • Nay the probability is not fiction and illusionary; The fact is that the matter-affair-commanding is exclusively the domain for Allah the Exalted, all together.

یہ امکان غیر حقیقی نہیں،مگر ہر منفرد امر کا فیصلہ کرنا  اللہ تعالیٰ کے   مطلق   دائرہ اختیار اور قدرت میں ہے،تمام امور کے متعلق اجتماعی طور پر۔

أَفَلَمْ يَا۟ يْــَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَـهَدَى ٱلنَّاسَ جَـمِيعٙاۗ

  • Is it then for reason that those who have heartily believed have not yet lost hope [of their becoming believer-read with 2:75;10:99;12:103;16:37] that if Allah the Exalted had so willed certainly He would have guided the humanity, all collectively.

کیا صدق قلب سے  رسول کریم اور قرءان مجید پرایمان لانے والے ان کے ہٹ دھرم رہنے سے یہ جانتے ہوئے بھی ابھی تک مایوس نہیں ہوئے کہ یہ حقیقت برقرار ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہوتا تو یقیناً تمام انسانوں کومجموعی طور پر ہدایت سے بہرہ مند فرما دیتے۔

Root: ى ء س

وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ تُصِيبُـهُـم بِمَا صَنَعُوا۟ قَارِعَةٌ

  • And some striking knocks of warning will not cease to those who have refused to believe in Qur’ān because of what they have artfully conjectured.

اور جان لو،جنہوں  نے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے،جھنجھوڑنے والی دستک کا انہیں ملنا نہیں رکے گا اس کے سبب جو فنکاریاں انہوں نے کی ہیں۔

Root: ز ى ل;  ص ن ع

أَوْ تَحُلُّ قَرِيبٙا مِّن دَارِهِـمْ حَـتَّىٰ يَأْتِـىَ وَعْدُ ٱللَّهِۚ

  • Or that disaster may liquefy/settle nearby their locality until the time of arrival of Allah's promise.

یا وہ جھنجھوڑ دینے والی دستک ان کے علاقے کے قریب براجمان ہو جائے  یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تکمیل کا لمحہ پہنچ جائے۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ ٣١

  • The fact remains that Allah the Exalted never violates the promise. [13:31]

یہ حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ دئیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔

وَلَقَدِ ٱسْتُـهْزِئَ بِرُسُلٛ مِّن قَبْلِكَ

  • Know the past; the Messengers who were deputed  before you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to different nations were indeed taken non seriously jestingly —

مطلع رہیں؛یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)سے قبل مبعوث فرمائے   گئے رسولوں کےساتھ  بھی غیر سنجیدگی        کےروئیے کو روارکھا گیا تھا۔

Root: ھ  ز ء

فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ ثُـمَّ أَخَذْتُـهُـمْۚ

  • Thereby, I gave respite for those who deliberately refused to believe; afterwards upon expiry of appointed term of respite I seized them.

چونکہ یہ طے شدہ اصول ہے اس لئے  اے رسول کریم میں نے ان لوگوں کے سوچنے سمجھنے کے لئے مہلت کا وقفہ دیا جنہوں نے رسول کو ماننے سے انکار کر دیا تھ؛ بعد ازاں مہلت کا وقت ختم ہونے تک ان کے ہٹ دھرم رہتے ہوئے میں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔

Root: م ل و

فَكَـيْفَ كَانَ عِقَابِ ٣٢

  • Eventually, let people take lesson by traversing in land, how was My conclusive punishment? [13:32]

چونکہ ان کا آخر کارہونے والا انجام بھی بیان کر دیا گیا اس لئے  تم لوگ انتباہ لو کہ میری پکڑ کس قدر سخت تھی۔

أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَـىٰ كُلِّ نَفْسِۭ بِمَا كَسَبَتْۗ

  • Thereby, should He the Exalted Who perpetually administers upon every person regarding what it earned be associated with hypothetical godheads?

تاریخ کے ان واقعات پر غور کر کے سوچو کہ کیا ان جناب کے ہم پلہ اور شریک کار کوئی ہو سکتا ہے جو ہر لمحہ ہر ایک ایک شخص پر نگران ہیں۔

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَـمُّوهُـمْۚ

  • Despite it they ascribe for Allah the Exalted non-living entities as associates. You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "You people give them names."

مگر اس کے بوجود وہ ہیں کہ تخیل سے ہست کئے معبودان کو اللہ تعالیٰ کے لئے شریک کار قرار دیتے ہیں۔آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’ان کے نام بتاؤ۔

أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِـى ٱلۡأَرْضِ أَم بِظَٟهِرٛ مِّنَ ٱلْقَوْلِۗ

  • Or do you people inform Him the Exalted about that which He does not know as existing in the Earth; or its existence you merely express by words of mouth?"

یا کیا تم لوگ ان جناب کواس خبر سے مطلع کرتے ہو جس کی زمین میں موجودگی کو وہ جناب نہیں جانتے یا  حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ محض  منہ سے نکالے کھوکھلے بیان سے ان کا اظہار کرتے ہو‘‘۔

بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مَكْرُهُـمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ

  • Not at all associates exist; fact is that their deceptive plan has been made alluring for those who have refused to accept Divine guidance; and they have dissuaded people away from the course prescribed by Allah the Exalted

ان کی کسی بات میں وزن نہیں؛ در حقیقت ان کی فریب کاریاں ان لوگوں کے لئے خوشنما بنا دی گئی ہیں جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کیا ہے۔اور انہوں نے لوگوں کومنزل کی جانب رواں رکھنے والے راستے سے پلٹا دیا ہے۔

Root: م ك ر

وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٛ ٣٣

  • Know it, should Allah the Exalted let someone absorbed in indifference-engrossed in his self, thereat; there is not at all a guide for him. [13:33]

اوراگر ا للہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت انحراف اورکج روی میں سرگرداں رہنے دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں،تو اس صورت میں اُسے راہ دکھانے کیلئے کوئی بھی رہبرنہیں ہوتا۔

لَّـهُـمْ عَذَابٚ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ

  • Infliction is destined for them in the worldly life.

ایک عذاب ہے  جو حیات دنیا میں خود انہوں نے اپنے لئے روگ جاں  بنا لیا ہے۔  

وَلَعَذَابُ ٱلۡءَاخِـرَةِ أَشَقُّۖ

  • Mind it, the infliction in Hereafter is certainly severely piercing.

اور یقیناً ان کے لئے آخرت کا عذاب کہیں زیادہ شکست و ریخت کا باعث ہو گا۔

Root: ش ق ق

وَمَا لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٛ ٣٤

  • And neither for them is a protector designated by Allah the Exalted. [13:34]

اور قطعاً کسی حفاظت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی مدد کو آنے کا استحقاق دیا گیا ہے۔


مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِـى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَۖ

  • The resemblance of the Paradise which is promised to those who sincerely endeavour to attain salvation —

اس جنت کی مماثلت کے ادراک کے لئے چند معلومات جان لو جس کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو تندہی سے محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہتے ہیں۔

تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُۖ

  • The streams of water flow side by her —

جس کی خاص بات یہ ہو کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہوں۔

أُكُلُـهَا دَآئِمٚ وَظِلُّهَاۚ

  • Its eatables are everlasting and so is the shade-pleasant temperature.

اس کی اشیائے خورد و نوش دائمی ہیں۔اور اسی طرح اس کا ماحول سایہ دار خوشگوار ہے۔

Root: د و م;  ظ ل ل

تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ۖ

  • This is the final destination of those who sincerely endeavoured to attain salvation.

یہ بہترین عاقبت ان لوگوں کی ہے جو حیات دیا میں تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔

وَّعُقْبَى ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٱلنَّارُ ٣٥

  • And ultimate end for the persistent deniers is the abode in heated Hell-Prison. [13:35]

اورانکار کرنے والوں کی عاقبت جہنم میں رہائش پذیر ہونا ہے۔

وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَۖ

  • And they whom We have given the Book feel elated by what has since been compositely sent to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]

مطلع رہیں؛ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق جنہیں ہم جناب نے ماضی میں منفرد کتاب سے نوازا تھا اس پر قائم رہنے والے اس بیان حقیقت (قرءان مجید)سے فرحت محسوس کرتے ہیں جسے مجتمع انداز میں آپ (ﷺ)کی جانب بھیجا جا چکا ہے۔

وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥۚ

  • However, there is one amongst the segments of society who deny some part of it: Grand Qur’ān.

مگر معاشرے کے قبائل/طبقات میں سے جن کے مفادات زد میں آتے ہیں اس (قرءان مجید)کے بعض مندرجات کو دل کے تسلیم کرنے کے لئے غیر معروف قرار دیتے ہیں۔

Root: ن ك ر

قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "I was advised, when Qur’ān was presented-revealed, to remain subject-subservient-allegiant to Allah the Exalted and not to associate with Him anything/anyone —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ میں اپنے آپ کو بھی ان جناب کے ساتھ بندگی کے لئے ملصق قرار نہ دوں۔

إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ٣٦

  • I invite towards Him the Exalted; and my return/abode is towards Him".  [13:36]

میں تو ان کی جانب پلٹنے کی دعوت دے رہا ہوں اور میرا ٹھکانہ،توجہ اور جستجو کا محور ان جناب کی جانب ہے‘‘۔

Root: ء و ب

وَكَذَٟلِكَ أَنزَلْنَٟهُ حُكْمًا عَـرَبِيّٙاۚ

  • And likewise Our Majesty has sent it (that sent to you: Qur’ān) in compiled form. Its purpose is to serve as a Judging Criterion: Decree: Writ for the peoples, it is written in Arabic: distinct-eloquent language of the sons of soil of Arabian peninsula.

 اور لوگوں کے لئے اسی مقصد سے ہم جناب نے اسے (قرءان مجید کو) مجتمع انداز میں پہنچایا ہے۔یہ زمان  و مکان میں عربی زبان میں تحریر کردہ حکم نامہ کا کردار انجام دیتے رہے گا۔

Root: ع ر ب

وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُـم بَعْدَمَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ

  • Therefore, you the Messenger pronounce for everyone: "Should you purposely acted upon their conjectures-desires-wishes after that which it (Qur’ān) has brought you the Knowledge:

آپ(ﷺ)ہر ایک کو واضح فرما دیں ”لیکن اگرتم نے اُن (یہود و نصاریٰ)کی تخیلاتی،ناقابل تصدیق محض منہ کی باتوں اورخواہشات کی دانستہ،زیر مقصدپیروی کی باوجود اِس کے وہ ایک(الہدیٰ)تم تک پہنچ چکا ہے،ہر لمحہ کے لئے ناقابل تردید علم پر مبنی۔

مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِـىّٛ وَلَا وَاقٛ ٣٧

  • Thereby, assuredly there will certainly neither [including myself] a patron, nor a protector permitted by Allah the Exalted to act for you." [13:37]

اور قطعاً کسی حفاظت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیری مدد کو آنے کا استحقاق  نہیں دیا گیا ہے"۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلٙا مِّن قَبْلِكَ

  • And our Majesty had certainly sent Messengers before you (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam)

لوگوں کو مطلع فرما دیں،ہم جناب نے آپ(ﷺ)سے قبل کے ادوار میں رسولوں کوبشیر اور نذیر قرار دے کر قوموں کی جانب بھیجا تھا۔

وَجَعَلْنَا لَـهُـمْ أَزْوَٟجٙا وَذُرِّيَّةٙۚ

  • And Our Majesty had assigned wives and progeny as a means for fulfilment of human need for them/as evidence for them being human messengers.

اور ہم نے بیویوں اورذریت کو ان کے بشری تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ بنایا تھا۔

Root: ذ ر ر

وَمَا كَانَ لِرَسُولٍٛ أَن يَأْتِـىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۗ

  • Know it; demonstration of an unprecedented display (miracle) was not at the discretion of a Messenger, except with the prior explicit sanction of Allah the Exalted.

اورعینی مشاہدہ کے لئے  تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک    ایسی شہادت(آیت/معجزہ)کو  بطور سندلوگوں کے پاس لانے کا استحقاق اور اختیار کسی رسول کے پاس نہیں تھا سوائے  اللہ تعالیٰ سے اجازت/اذن ملنے پر۔ 

لِـكُلِّ أَجَلٛ كِتَابٚ ٣٨

  • A book was sent along with every Messenger for guidance: knowledge: Life Manual for each period of time. [13:38]

ایک کتاب کوہر ایک دور میں لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہر ایک رسول کے ساتھ نازل کیا گیا تھا۔

يَـمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْـكِـتَٟبِ ٣٩

  • Allah the Exalted effaces and deregisters whatever He so decides, and He stabilizes and perpetuates whatever He wills. Take note: the Mother — the Principal Book, the repository of knowledge for all created realms — is in safe custody with Him alone. [13:39]

اللہ تعالیٰ جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے محو فرما دیتے ہیں؛اورجس(کتاب/متن)کے متعلق چاہتے ہیں اسے دوام دے دیتے ہیں۔اور ام الکتاب،تمام تخلیق کے متعلق منبع علم،ان جناب کے پاس محفوظ اور پوشیدہ حالت میں موجود ہے۔( الرعد۔٣٩)

Root: م ح و

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُـمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٟغُ وَعَلَيْنَا ٱلْحِسَابُ ٤٠

  • Since the last moment will happen all of a sudden, thereby, supposing any moment henceforth Our Majesty make you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to witness-see with eyes a part of that (Last Day) which Our Majesty are promising to them; or in future Our Majesty cause you to become segregated from people by natural death before that Day —Since purposely adopted deaf and blind behaviour causes you griefIt, therefore, We remind you the Messenger that the only responsibility upon you is to deliver-convey-pass on the message to their ears and eyes, (orally and in writing; even otherwise you know a human cannot make someone to have listened). On deliverance of it (Qur’ān) your corporeal alienation will make no effect; since subjecting people to accountability vests upon Our Majesty. [13:40]

چونکہ یوم آخر نے بالکل اچانک وقوع پذیر ہونا ہے اس لئے اگر ہم آئندہ کسی وقت اس(دن)کے کچھ ابتدائی حصے کو آپ(ﷺ)کی نگاہوں کو دکھا دیں جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں؛یا اس سے قبل  آنے والے دنوں میں  ہم جناب آپ (ﷺ)کو لوگوں کی مصاحبت سے الگ کر لیں (بسبب طبعی موت)۔۔چونکہ آپ(ﷺ)لوگوں کے دانستہ بہرے اور اندھے روئیے سے ان کے لئے فکر مند ہوتے ہیں اس لئے آپ  کو یاددہانی کراتے ہیں  کہ آپ  پر ذمہ داری صرف کلام اللہ کو من و عن لوگوں کی سماعتوں اور بصارتوں تک پہنچانا ہے۔(کسی کو سنوانا ویسے بھی کسی بشر کے لئے ممکن نہیں)۔اور آپ (ـﷺ) کی بشری علیحدگی سے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہر شخص کا احتساب کرنا ہم جناب پر ذمہ داری ہے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَأْتِـى ٱلۡأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَاۚ

  • Have they not noticed Our Majesty overpowering the Earth while Our Majesty is gradually reducing her from her extremities/edges?

کیا  فلسفہ اشتراک سے منحرف ہونے کے لئے انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہم جناب زمین پر دسترس  اور غلبہ رکھے ہوئے ہیں۔ہم جناب مسلسل اسے اطراف و جوانب سے کم کرتے جا رہے ہیں (جبکہ آسمان کو پھیلا رہے ہیں)۔

Root: ط ر ف; ن ق ص        Astronomy—Scientific study of Universe

وَٱللَّهُ يَحْكُـمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْـمِهِۦۚ

  • Realize it, Allah the Exalted commands, not at all is there who could chase-prevaricate the dictated command of Him the Exalted.

اور اللہ تعالیٰ تمام نظام کے لئے حکم جاری فرماتے ہیں۔قطعاً ان کے حکم کی تکمیل کو روکنے والا نہیں۔

وَهُوَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٤١

  • Beware, He the Exalted is swift in accounting-measuring-judging-evaluating-reckoning. [13:41]

متنبہ رہو، وہ جناب حساب کتاب  انتہائی سرعت سے کرتے ہیں  ۔

Root: س ر ع

وَقَدْ مَكَـرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْـرُ جَـمِيعٙاۖ

  • Know the conduct of people who were before them: they did deceptively strategize, [but utterly failed] for reason/since the planning-organization is the domain for Allah the Exalted, in all circumstances.

ان کی مکاریاں کوئی نئی بات نہیں؛حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی جو اِن سے قبل کے معاشروں کے عمائدین تھے مکارانہ طرز عمل اپنایا تھا۔وہ ناکام ہوئے کیونکہ بہترین تدبیر کوبروئے کار لانا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے،تمام مواقع پرمطلق انداز میں۔

Root: م ك ر

يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٛۗ

  • He the Exalted knows what every person earns.

وہ جناب اس کو مطلق جانتے ہیں جو ہر ایک ایک شخص کسب کرتا ہے۔

وَسَيَعْلَمُ ٱلْـكُـفَّٟرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٤٢

  • And the adamant non-believers will soon know that the ultimate end is joyful for whom. [13:42]

اور رسول کریم اور قرءان مجید کا ڈھٹائی سے انکار کرنے والے جلد جان لیں گے کہ خوشگوار انتہا کو کس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَسْتَ مُرْسَلٙاۚ

  • And they who have deliberately refused to accept say: "You have not been sent as message- conveyer."

اور جن لوگوں نے قرءان مجید کو کلام اللہ ماننے سے انکار کیا ہے کہتے ہیں’’آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسالات دے کر بالکل نہیں بھیجا گیا‘‘۔

قُلْ كَفَـىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَا بَيْنِى وَبَيْنَكُـمْ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Allah the Exalted suffices with regard to witnessing between me and between you people;

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ کا میرے اور تمہارے مابین چشم دید گواہ ہونااکتفا کرتا ہے(کسی اور کی شہادت کی ضرورت نہیں)۔

Root: ك ف ى

وَمَنْ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٤٣

  • And He the Exalted is the One: the Knowledge of the Mother/Principal Book is revealed by His Majesty."  [13:43]

اور ان جناب  کی شہادت مطلق ہے،ام الکتاب میں درج علم ان جناب کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے‘‘۔

014- سورة إِبْرَٟهِيـم

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


الٓرۚ

  • Aleph: a letter; It is said it has the meaning of First -Reference-Manifest itself; Laam: a Consonant with prolongation sign/glyph, meaning Service - For - Provide; Ra: a Consonant conjoined with preceding consonant, meaning Order-Command

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر

كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ إِلَيْكَ

  • This is the Book which Our Majesty has compactly sent towards you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

اس کتاب(قرءان عظیم)کے متعلق  حقیقت یہ ہے؛ ہم جناب نے مجتمع انداز میں  آپ (ﷺ) کی جانب اس کو نازل فرمایاہے؛

لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّـهِـمْ

  • So that you might take out the Mankind from the layers of darkness towards the Visible Light (Qur’ān the sustainer of life) with the permission and approval of their Sustainer Lord —

اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)زمان و مکان کے لوگوں کو تارکیوں سے نکال کر حیات بخش روشنی کی جانب لے جائیں ان کے رب کا اذن مل جانے پر۔

إِلَـىٰ صِرَٟطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ ١

  • Leading them towards the High Road of the Dominant Supreme Sovereign, the magnificently Praised— [14:01]

اس راستے پر گامزن کر کے جو    ان جناب کا متعین کردہ ہے جو دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔

Root: ص ر ط

ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۖ

  • Their Sustainer Lord is Allah the Exalted, the One — whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth are subservient-dependant-subjects for Him the Exalted.

مطلق غالب فرمانروا اللہ تعالیٰ ہیں۔وہ جناب ہی ہیں ۔۔۔جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔

وَوَيْلٚ لِّلْـكَـٟفِرِينَ مِنْ عَذَابٛ شَدِيدٍ ٢

  • Be mindful; woe and regret will be the catchword, resulting from severe punishment, for those who persistently denied to believe. [14:02]

اور  خود مذمتی،ملال اور حیف  ان لوگوں کا شدید عذاب  ملنے پر  معمول ہو گا جنہوں نےرسول کریم اور قرءان مجیدکو ماننے سے مرتے دم تک انکار کیا۔

Root: و ى ل

ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَـى ٱلۡءَاخِـرَةِ

  • They the deniers intensively love the worldly life in preference over the Hereafter —

یہ کافر وہ لوگ ہیں جو حیات دنیا  کو آخرت پر ترجیح دیتے ہوئے اس کی محبت میں مگن رہتے ہیں۔

وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَـهَا عِوَجًاۚ

  • And they hinder/divert people off the High road of Allah the Exalted  and vehemently attempt to render it distracted and misaligned for people [by distortions with conjectural myths]

 اورلوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے پلٹانا چاہتے  ہیں  اس طرح سے کہ اس(راہ)کوناہموار اورکج ثابت کرنے کی جستجو اورتگ و دو کرتے رہتے ہیں ۔

Root: ع و ج

أُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ضَلَٟلِۭ بَعِيدٛ ٣

  • They are the people who are lost in the far destructive end of neglectfulness. [14:03]

یہ ہیں وہ لوگ جو دانستہ  حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے راہ ضلالت میں کہیں دور نکل گئے ہیں۔

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٛ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّـنَ لَـهُـمْۖ
فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَـهْدِى مَن يَشَآءُۚ

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ 
٤

  • Be cognizant of history: Our Majesty not at all commissioned a Messenger except that he held the Divine Book scripted in the native tongue of his own people. The objective was that he makes explicit for them as to what they must avoid. (for elision see 9:115)
    Thereupon, Allah the Exalted lets remain straying the one who remains willfully indifferent to the guidance, and He keeps guiding the one who aspires it.
    Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the entire realm. (Cf. 16:60;29:42;30:27;31:09;35:02;45:37;57:01; 59:01;59:24;61:01;62:03) [14:04]

اس تاریخی حقیقت سے  بھی مطلع رہو؛ ہم جناب نے کسی ایک رسول کو بھی  مبعوث نہیں فرمایا مگر  اس حال میں  کہ  وہ  اپنی  قوم کی  زبان میں   پیغام دینے والے تھے اور ان کی قوم کی زبان  میں تحریر کردہ کتاب کو ساتھ نازل فرمایا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ(رسول)ان (قوم کے)لوگوں کے  فہم و ادراک اور پیروی  کے لئے ہر بات اور  اصول کو نکھار کر توضیح فرما دے(محذوف عنصر دیکھیں التوبہ۔115)۔
چونکہ ان  رسولوں نے تمام کو یکساں اصول پر پیغام زبانی اور تحریر میں پہنچا دیا تھا،اس لئے اللہ تعالیٰ  اس شخص کو منحرف  ثابت کرتےاور گم کردہ راہ کیفیت میں رہنے دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ڈھٹائی سے  دنیا کا طالب ہے اور  وہ جناب اس شخص کو ہدایت  بخشتے ہیں جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ متمنی ہدایت ہے۔
مطلع رہو؛ان
کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(ابراہیمؐ۔٤)

Root: ل س ن


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـٔ​َايَـٟتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ

  • Know the fact of past; Our Majesty had sent Mūsā [alai'his'slaam] with Our Aa'ya'at: Verbal Passages advising him: "You bring out your nation [Bani Israel] from the layers of darkness towards the visible light [Tor'at] —

تاریخ کے ایک اور دور کو جان لو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ  کے لئے  اپنی ایسی شہادتوں/مظاہر(آیات/معجزات )کے ساتھ بھیجا تھا، جوتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  تھیں۔یہ حکم دے کر؛"آپ  اپنی قوم  کے لوگوں کو تارکیوں سے نکال کر حیات بخش روشنی کی جانب لے جائیں۔

وَذَكِّرْهُـم بِأَيَّىٰـمِ ٱللَّهِۚ

  • And mention and admonish them by the days of Allah the Exalted [when they were calling Him day and night]"

اور انہیں ان دنوں کی حالت یاد کرنے کا کہیں جب ہر وقت اللہ تعالیٰ کوپکارتے رہتے تھے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّـكُلِّ صَبَّارٛ شَكُورٛ ٥

  • Indeed in this historical narrative are certainly evident signs for every coolly perseverant person who is ever thankfully obliged. [14:05]

یقینا ان  معلومات اور تاریخی حقائق   کے بیان میں ہر ایک  ایسے شخص کے لئے سبق آموز اشارے ہیں  جواپنے ایمان پر پیکر عزم و استقلال رہتے ہوئے ناگفتہ بہ کو ضبط و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہمیشہ  اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِ

  • Recollect the history; When Mūsā [alai'his'slaam] said to his nation: 

تاریخ سے آگاہ رہو؛اس دور کی جب موسیٰ (علیہ)السلام نے اپنی قوم کے لئے فرمان جاری کیا:

ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُـمْ

  • "Recall the Specific Favour of Allah the one which was bestowed upon you people as achievement award in the circumstances—:

"اللہ تعالیٰ کی  نعمت کو یاد   رکھو  جس کو انہوں نے تمہیں اس حال میں بطور انعام عنایت کی تھی ۔

إِذْ أَنجَىٰكُـم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُـمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ

  • When He the Exalted delivered you people from the fold-ranks of Pharaoh — While you were in a situation wherein they were seeking-marking you people for inflicting the horrible torment —

 جب  ان جناب نے تمہیں آلِ فرعون کے مقتدر طبقے سے نجات دلا دی تھی۔وہ لوگ تمہیں برے عذاب میں مبتلا کئے رکھتے تھے۔

Root:  س و م

وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْۚ

  • And they remained in search for slaughtering your newly born sons. However, they had consciously and purposely decided to leave your wives alive —

وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالنے کی جستجو میں رہتے، اور تمہاری عورتوں کو خاص مقصد کے زیر خواہش زندہ رہنے دیتے۔

وَفِـى ذَٟلـِكُـم بَلَآءٚ مِّن رَّبَّكُـمْ عَظِيـمٚ ٦

  • And a hard trial was inherent therein that your Sustainer Lord let persist for a while for you. [14:06]

 ایک کڑی آزمائش اس کرب عظیم میں تمہارے لئے بھی مخفی تھی جو تمہارے رب کی اجازت سے تھی۔

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُـمْ لَئِن شَكَرْتُـمْ لأَزِيدَنَّكُـمْۖ

  • And when your Sustainer Lord had proclaimed, [for Bani Iesraa'eel] "No doubt, if you people remained thankfully obliged, certainly I will, be assured, render you people prosperous —

  • اور اس بات کو یاد کرو جب تمہارے رب نے یہ فرمان جاری کیا تھا "اگر تم ممنون اور شکر گزار رہو گے تو یقیناً ہم جناب تم لوگوں کو افزوں کریں گے نعمتوں کی کثرت سے۔

وَلَئِن كَفَـرْتُـمْ إِنَّ عَذَابِـى لَشَدِيدٚ ٧

  • But if you people unappreciatively denied-ingrate, forget not that My infliction is certainly severe." [14:07]

مگر اگر تم لوگوں نے کفران نعمت کیا تو اس حقیقت کو یاد رکھنا کہ یقیناً میرا منتخب کیا ہوا عذاب سخت گیر ہوتا ہے"۔

وَقَالَ مُوسَـىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُـمْ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا

  • And Mūsā [alai'his'slaam] said, "if you people disavow, you and whoever is in the Earth all collectively —

اور موسیٰ  (علیہ السلام)نے انتباہ کیا اگر تم لوگ کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہو، تم اور جو کوئ زمین پر موجود ہے،مجموعی انداز میں؛

فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَـمِيدٌ ٨

  • [it makes no difference] Then beware Allah the Exalted is indeed eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [14:08]

تو اس حقیقت سے آگاہ رہو کہ یقینا اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ و بالاتر ہیں؛ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے"۔


أَلَمْ يَأْتِكُـمْ نَبَؤُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلـِكُـمْ قَوْمِ نُوحٛ وَعَادٛ وَثَمُودَۛ

  • Have not come to your knowledge the news of people before you — the nation of Noah [alai'his'slaam], and nation A'ad and nation Thamud —

کیا تم لوگوں تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم لوگوں سے قبل آباد و شادمان تھے،وہ نوح(علیہ السلام)کی قوم،اور قوم عاد اور قوم ثمود؛

وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِـمْۛ لَا يَعْلَمُهُـمْ إِلَّا ٱللَّهُۚ

  • And those after them about whom no one knows except Allah the Exalted.

اور وہ  قومیں جنہوں نے ان بیان کردہ اقوام کے بعد عروج پایا۔اِن کو اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی اور نہیں جانتا۔

جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَـهُـمْ فِـىٓ أَفْوَٟهِهِـمْ

  • There came to them many of their Messengers with evident unprecedented displays - signs/utmost rationally sound arguments, in response they purposely turned their intellect and energies to their original myths [could not rebut/answer the rational evident arguments]

ان کے پاس ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے اللہ تعالیٰ کے  رسول ان (قوم)کے پاس    ان کے لئےمافوق التصور و تجربہ،انہونے صریحاً واضح مظاہر قدرت(معجزات) کے ساتھ آئے تھے ۔جس پراس کی اثر پذیری کو زائل کرنے کے لئے انہوں نے اپنی قوت و صلاحیت کو واپس اپنی اصل افواہ/منہ سے گھڑی باتوں میں پلٹا دیا۔

وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَـرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ

  • And they said, "Indeed we have rejected to accept that which you say to have been sent with —

اورانہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"ہم نے  قطعاً اس کورد کر دیا ہے جس کے ساتھ آپ لوگ بھیجے گئے ہونے کا کہہ رہے ہو۔

وَإِنَّا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ ٩

  • And we are certainly plunged in doubt about that towards which you are inviting us, the doubt having characteristic trait of causing disquiet, irritation, and disconcert."  [14:09]

اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ   لوگ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔(سورۃ ابرراہیم علیہ السلام۔9)

قَالَتْ رُسُلُـهُـمْ أَفِـى ٱللَّهِ شَكّٚ

  • Their Messengers said, "Can there be any skepticism about Allah the Exalted —

ان کے رسولوں نے پوچھا"کیا تم لوگ شک /گومگومیں مبتلا ہو اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے،صفات اوران کے حکم کے متعلق؛

Root: ش ك ك

فَاطِرِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ

  • The Originator-Exposer of the Skies and the Earth?

وہ جناب آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے ہیں۔

Root: ف ط ر

يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَـكُـم مِّن ذُنُوبِكُـمْ

  • He the Exalted invites you people so that He might pronounce forgiveness for you for your slanders and sins —

وہ جناب تمہیں بلا رہے ہیں تاکہ تم لوگوں کی خاطر تمہارے بعض جرائم کی پردہ پوشی کر کے معاف کر دیں۔

Root: ذ ن ب

وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَـمّٙـىۚ

  • And might give you respite towards a term of determined moment of termination."

اور وہ جناب تمہیں اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک مہلت دے دیں"۔

قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا

  • They said: " You are none else except human being exactly resembling us.

انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے جواب دیا"تم لوگ ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔

تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا

  • You intend to divert us from those whom our forefathers used to worship.

تم لوگ محض یہ چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے منحرف کر دو جو ہمارے آباؤ اجداد پوجتے رہے ہیں۔

فَأْتُونَا بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ١٠

  • Since we have not heard it from forefathers what you say, therefore, bring to us explicit evidence." [14:10]

چونکہ جو بات تم کہہ رہے ہو ہم نے اپنے باپ دادا سے نہیں سنی،اس لئے ہمارے پاس  ناقابل تردید واضح  سند و ثبوت کے ساتھ آؤ"۔

Root: س ل ط

قَالَتْ لَـهُـمْ رُسُلُـهُـمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُـكُـمْ

  • Their Messengers said for them, "We are indeed structured beings, our identity is exactly alike you people —

ان کے رسولوں نے ان کے لئے جواب دیا"یہ سچ ہے کہ جامہ بشریت میں ہم تم لوگوں ہی جیسے ہیں۔

وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَـىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦۖ

  • But Allah the Exalted grants obliging Grace upon him whom He the Exalted has chosen from amongst His subjects-allegiants —

مگر اللہ تعالیٰ اس پر احسان کرتے ہیں جسے اپنے بندوں میں سے اس کے لئے پسند فرماتے ہیں۔

Root: م ن ن

وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُـم بِسُلْطَٟنٍٛ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ

  • And it was not for us to display manifest evidence except with the explicit permission of Allah the Exalted —

اورجو سند و ثبوت تم مانگ رہے ہواسے لانے اور دکھانے کی ہمیں اس وقت تک اجازت نہیں دی گئی جب تک اللہ تعالیٰ کا اذن مل جائے۔

Root: س ل ط

وَعلَـى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١١

  • And the believers should keep their trust and hopeful reliance upon Allah the Exalted. [14:11]

اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے حامی و ناصر ہیں مومنوں کو ازخود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے"۔

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَـى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَاۚ

  • And what rationale is for us not to put our trust and reliance upon Allah when He the Exalted has since guided us about our pursuits.

اور ہمارے لئے کیا جواز ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بہترین نتائج کے لئے بھروسہ اور اعتماد  نہ رکھیں ان حالات میں جب ان جناب نے ہمارے طرز عمل کے راستوں کے متعلق ہدایت سے بہرا مند فرما دیا ہے۔

وَلَنَصْبِـرَنَّ عَلَـىٰ مَآ ءَاذَيْتُـمُونَاۚ

  • And of course we will persistently remain certainly firm and determined remaining coolly perseverant on what you caused us physical and mental irritation and disturbance.

اور ہمارے عزم کو جان لو کہ ہم اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے ہر اس جسمانی اور ذہنی کوفت کو تحمل سے برداشت کریں گے جو تم لوگ ہمارے لئے اذیت پیدا کروگے۔

وَعَلَـى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ١٢

  • Therefore, the reliant should place trust for the best consequence of actions exclusively upon Allah the Exalted." [14:12]

چونکہ تمام امور کا فیصلہ کرنا ان کی صوابدید ہے اس لئے اپنے معاملات میں دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پر بہترین نتائج  کے لئےمکمل اعتماد کرنا چاہئے‘‘۔

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِرُسُلِـهِـمْ لَنُخْرِجَنَّـكُـم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِـى مِلَّتِنَاۖ

  • And those who had refused to accept said for their Messengers: "Of course we will certainly drive you out of our city-country or alternatively you people must reconcile with our system of life."

اور ان عمائدین نے جنہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا"قسم ہے،ہم تم کو شہر بدر کر دیں گے اپنی سر زمین سے،یا تم لوگوں کو واپس ہماری ملت میں لازماً شامل ہونا ہو گا"۔

Root: م ل ل;  ع و د

فَأَوْحَـىٰٓ إِلَيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ لَنُـهْلِـكَنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٣

  • Thereat, their Sustainer Lord communicated to them: "Our Majesty will certainly annihilate the distorters -wrong-doers-evil mongers. [14:13]

چونکہ مہلت کا وقت قریب الاختتام تھا اس لئے ان کے رب  نے انہیں یہ  زبانی وعدہ دیا"ہم جناب یقیناً حقیقت کے منافی باطل طرز عمل پر بضد رہنے والوں کو نابود کر دیں گے۔

وَلَنُسْكِنَنَّـكُـمُ ٱلۡأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِـمْۚ

  • And of course Our Majesty will certainly establish you people firmly in the land after them".

اور ان لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم یقیناً تم لوگوں کو زمین پر خود مختار سکونت دیں گے"۔

ذَٟلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ ١٤

  • --This sort of response is for the one who feared about My reckoning/accountability and felt afraid of My warning/caution --. [14:14]

۔۔یہ وعدہ ہر اس شخص کے لئے موجب استقلال و استقامت ہے جو میرے مقام ، سزا دینے کے عزم آوری سے خوف زدہ ہوا،اور میرے انتباہ سے خوف محسوس کیا۔۔

وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍٛ عَنِيدٛ ١٥

  • Know it, they (Messengers) sought victory; and every unjustifiably oppressing obstinate frustratingly abased himself. [14:15]

اور انہوں (رسولوں)نے فتح یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔اوررسولوں سے عناد رکھنے والےتمام کے تمام جابرزمین بوس ہوئے۔ 

Root: خ ى ب;   ف ت ح

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّـمُ

  • And the Hell-Prison is in front of him awaiting —

جہنم اس کے پیچھے منتظر ہے۔

وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٛ صَدِيدٛ ١٦

  • And he will be made to drink from boiling hot water — [14:16]

اورابلتے پانی سے اس کی پیاس کو بجھایا جائے گا۔

Root:  س ق ى

يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ

  • He will keep trying taking it (boiling hot water) sip by sip, and he will not be near swallowing it agreeably —

اس کو وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پینے کی کوشش کرے گا مگر اسے گلے سے اتارنے کے قریب نہ ہو گا۔

Root: س و غ'  ك و د

وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٛ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٛۖ

  • And he will feel the death is coming to him from every side but he will not die —

اور اس کے پاس موت ہر جانب سے منڈلا رہی ہو گی مگر وہ مرے گا نہیں۔

وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٚ ١٧

  • And a heavy-going infliction unrelenting is in front of him. [14:17]

اورکٹھور عذاب مسلسل اس کے پیچھے لگا رہے گا۔

Root: غ ل ظ; و ر ء


مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِرَبِّـهِـمْۖ

  • Understand the similitude of those who persistently refused to acknowledge their Sustainer Lord —

ان لوگوں کے انجام کی مثال جنہوں نے اپنے رب کے موجود ہونے کا انکار کر دیا ہے:

أَعْمَٟلُـهُـمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلـرِّيحُ فِـى يَوْمٍ عَاصِفٛۖ

  • Their deeds are like ash; the wind became violently irresistible for it during a day marked by the presence of one [masculine active participle] who makes things revolve —

ان کے بظاہر اچھے اعمال  کی مثال اس راکھ کےمانند  ہے جس پر ہوا متشدد ہو جاتی ہے  ایک ایسے دن   کی آندھی میں جس میں  بگولا(عاصف۔اسم فاعل مذکر؛گھما دینے والا ، طغیانی کا دائرہ بنا دینے والا)موجود ہے۔

Root: ر و ح; ع ص ف

لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَـىٰ شَـىْءٛۚ

  • They not at all have control to retain-confine what they had earned from scattering-flying away like ash by the wind.

وہ اس پر  قطعی کوئی اختیار اور قدرت نہیں رکھتے کہ اسے بکھرنے سے بچا سکیں جو انہوں نے کمایا تھا۔

ذَٟلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٟلُ ٱلْبَعِيدُ ١٨

  • This is what is called the far destructive end of neglectfulness-straying-wandering. [14:18]

یہ ہے جو در حقیقت انحراف اور کج روی کی منتہا پر پہنچنا ہے۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحقِّۚ

  • Have you not observed the apparent fact that Allah the Exalted has created the Skies and the Earth conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time.

کیا آپ (ﷺ) نے  اس ظاہری حقیقت پر غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔

Root: خ ل ق

إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٛ جَدِيدٛ ١٩

  • Should He the Exalted so desires and decides,  He would extinguish you people and would bring on anew creation. [14:19]

اور     اگر وہ جناب فیصلہ اور   ارادہ فرما لیں تو وہ تم لوگوں کومنظر سے ہٹا دیں اورایک باعظمت  مقتدرمخلوق کو منظر عام پر لے آئیں۔

Root: خ ل ق

وَمَا ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ بِعَزِيزٛ ٢٠

  • Mind it, this proposition is not impregnable upon Allah the Exalted to execute. [14:20]

یاد رہے،اس تجویز اور امکان کوغالب کرنا کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار و قدرت سے بالا تر نہیں ہے۔

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَـمِيعٙا

  • Know the happenings of day of resurrection; they (the non-believers) assembled in the open, all collectively, to make submissions for consideration of Allah the Exalted.

حیات نو دئیے جانے کے دن کو یاد رکھو  جب وہ سامنے نکل آئیں گے، اجتماعی طور پر ،اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے۔

فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٟٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَـكُـمْ تَبَعٙا

  • Thereat, the downtrodden said for those who had attained position of arrogant elite over them and were obsessed with pride of grandeur, "We were indeed for you people the unquestioning followers.

جوں ہی انہیں   ،جو  دنیاوی  اور ذہنی  و فکری  طور پرکمزور و ناتواں  تھے  ،عذاب کے نہ ٹلنے کا یقین ہو گیا توان  سے کہا  جوخود ساختہ زعم میں اپنی عظمت و بڑائی کو منوانے پر مُصر رہے تھے؛"یہ حقیقت ہے کہ ہم   تم لوگوں   کے لئے    حیات دنیا میں تابع فرمان رہے ہیں۔

فَهَلْ أَنتُـم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛۚ

  • Therefore, can you people act as those who could avail averting some thing from the infliction of Allah away from us?"

چونکہ آپ لوگوں کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں اس لئے بتاؤ کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ عذاب میں سے کچھ بھی ہم سے دور کر سکتے ہو؟ "

قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَـهَدَيْنَٟكُـمْۖ

  • They (arrogant trailblazers) replied, "Had Allah the Exalted guided us, we would certainly have guided you people.

انہوں (مختَرِ ع ،نئی راہ دکھانے والے مستکبرین)نے جواب دیا"اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں ہدایت سے بہرا مند کیا ہوتا تو یقیناً ہم تم لوگوں کو راہ ہدایت پر ڈال دیتے۔

سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَـرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٛ ٢١

  • It is one and the same thing for us whether we remain distressed or we exercised patience; for us, there is no retiring place other than the Hell-Prison." [14:21]

ایک جیسا ماحول ہم پر طاری رہنا ہے چاہے ہم ہمت و حوصلہ ہار جائیں یا چاہے ہم اب حوصلے سے برداشت کریں؛ہمارے لئے قطعی کوئی مقام نہیں کہ یہاں سے نکل سکیں"۔

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٟنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلۡأ​َمْـرُ

  • And as soon the matter had been finalized, Shai'tan said to his companions —

اور جوں ہی معاملے کا فیصلہ کر دیا گیا تو شیطان رجیم نے (ان سے جنہیں زمین پر چھوڑ دیا گیا تھا)کہا:

إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُـمْ فَأَخْلَفْتُكُـمْۖ

  • "Indeed Allah the Exalted had promised to you people, the promise of truth and fact. And I promised you, thereby, I absorbed you in it in place of that (Allah's promise).

"یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا،مبنی بر حقیقت وعدہ۔اور میں نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا ،یوں میں نے تم لوگوں کو اس کی جگہ اپنے وعدے میں مگن کر دیا۔

وَمَا كَانَ لِـىَ عَلَيْكُـم مِّن سُلْطَٟنٛ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُـمْ فَٱسْتَجَبْتُـمْ لِـىۖ

  • And not at all authority of piloting was ever vested in me for steering-forcing you people. The only permission that I had was that I invited you people. Thereby, you people purposely responded accordingly for me.

اورقطعاً کسی بھی طرح تم لوگوں پر مختارہونے کی سند کبھی میرے لئے موجود تھی؛ مجھے جو اجازت تھی وہ تم لوگوں کو دعوت دیناتھا جو میں نے تم لوگوں کو دی جس پر تم لوگوں نے اپنی خواہش اورمرضی سے اس کا مثبت جواب دیا۔

Root: س ل ط

فَلَا تَلُومُونِـى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُـمۖ

  • Therefore, you people should not blame-objurgate me. Instead, you people blame-objurgate your selves.

چونکہ ایسا تم لوگوں نے اپنی خواہش اور مقصد سے کیا تھا اس لئے تم لوگوں کو چاہئیے کہ مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔

Root: ل و م

مَّآ أَنَا۟ بِمُصْرِخِكُـمْ وَمَآ أَنتُـم بِمُصْرِخِـىَّۖ

  • Neither I can ever be succor for your screaming, nor are you succor for my screams.

نہ میں تم لوگوں کااس مشکل صورتحال اور   آہ و زاری میں  کبھی دست گیر  بن سکوں گا  اور نہ تم لوگ  کبھی میری آہ وزاری میں  میرے دست گیر بن سکو گے۔

Root: ص ر خ

إِ نِّى كَفَـرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُـمُونِ مِن قَبْلُۗ

  • I have denied that which you people kept sharing in association with me in foretimes."

میں  نےبرملا اس کا انکار کیا ہے جس بارے تم لوگ مجھے دنیا کے زمان میں شراکت دار گردانتے تھے۔

إِنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢٢

  • The distorters-wrong doers are certainly the people -- severe punishment is decreed for them" [14:22]

یہ حقیقت ہے ان لوگوں کے متعلق جو حقیقت کوباطل سے بدلتے ہیں۔۔ایک دردناک عذاب اُن کیلئے مقدر بن چکا ہے"۔

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • Know it, those who had heartily accepted/believed and had performed deeds righteously-moderately according to the Book were entered —

ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(رسول کریم اور قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے؛ انہیں داخل کیا جائے گا:

جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَا

  • Into gardens; canals of water flowing side by it, wherein they will reside perpetually —

ایسے باغات  میں    جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔یہ لوگ ان(باغات)میں ہمیشہ رہائش پذیررہیں گے۔

بِإِذْنِ رَبِّـهِـمْۖ

  • They are entered into Paradise with the permission of their Sustainer Lord —

ان کے رب کی جانب سے پیشگی اجازت دئیے جانے پر۔

تَحِيَّتُـهُـمْ فِيـهَا سَلَٟمٌ ٢٣

  • Their greetings therein are "enjoy peace and tranquillity". [14:23]

 ان میں رہتے ہوئے باہمی ملاقاتوں پرایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور خیر سگالی کا اظہار کریں گے۔


أَ لَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٙا كَلِمَةٙ طَيِّبَةٙ

  • Have you not reflected how Allah the Exalted has struck analogy of a pleasant, meaningful, benefiting and result yielding assertion!

کیا آپ(ﷺ)نے غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ایک  خوشگوار اورمنفعت بخش حقیقت پر مبنی بول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے(حوالہ التوبہ۔40)۔

كَشَجَرةٛ طَيِّبَةٍ أَصْلُـهَا ثَابِتٚ وَفَرْعُهَا فِـى ٱلسَّمَآءِ ٢٤

  • It is like a pleasantly beneficial and result yielding female-fruit bearing tree. Her Root is functioning as firm axis and her tallness (trunk) rising high in to the Sky. [14:24]

ایسا مقولہ اس ثمر بار درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط سہارے کا کام کرتا ہے اور اس کے تنے کی اٹھان آسمان میں بلند ہے۔

تُؤْتِـىٓ أُكُلَـهَا كُلَّ حِيـنِۭ بِإِذْنِ رَبِّـهَاۗۗ

  • She yields her fruit every time with the permission of her Sustainer Lord.

وہ اپنا پھل اپنے رب کی پیشگی اجازت  سےہر دور میں لے آتی ہے۔

وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمْثَالَ لِلنَّاسِ

  • And Allah the Exalted strikes analogies for the people —

اور اللہ تعالیٰ مخصوص قسم کی مثالیں بیان فرماتے ہیں لوگوں کے استفادہ اور غوروفکر کرنے کے لئے۔

Root: ض ر ب

لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٢٥

  • Its objective is that they might at their own conveniently perceive and retain in memory, remember, take lesson and recall to narrate the point explained. [14:25]

اس  تقابلی جائزے سے وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ  لوگ ازخود اسے یاداشت میں محفوظ کر کے نصیحت لیتے رہیں ۔

وَمَثلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢٛ كَشَجَرَةٍٛ خَبِيثَةٍ

  • And the parallel of a conjectural statement is like a picayune tree —

اور بے سروپا،بے معنی،ہرزہ سرائی پر مبنی مقولہ کی مثال ایک بے ثمر درخت کی مانند ہے۔

Root: خ ب ث;  ش ج ر

ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلۡأَرْضِۚ

  • She (picayune tree) has been uprooted over the Earth —

زمین کے اوپر کے مقام سے اسے اکھاڑ دیا گیا ہے۔

Root: ف و ق

مَا لَـهَا مِن قَرَارٛ ٢٦

  • For such uprooted picayune tree there is no place for stationing her. [which could yield it some respectability and worthiness]. [14:26]

اس کے لئے کوئی جگہ نہیں جہاں اسے گاڑ کر سہارا دیا جا سکے۔

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِۖ

  • Allah the Exalted renders strengthened-determined in worldly life those who have heartily believed by ever lasting verbal discourse (Qur’ān) and firmly establishes them in the hereafter —

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو رسول کریم  پر ایمان لائے ہیں دائم اور مستحکم بیان حقیقت(قرءان مجید)کے ذریعے حیات دنیا میں ثابت قدم رکھتے ہیں اور آخرت میں اس کے ساتھ ثابت قدم رہنے پر انہیں ثبات دیں گے۔

وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَۚ

  • And Allah the Exalted lets them neglectfully wander those who are evil mongers-distorters-conjecturers-falsifiers.

 اللہ تعالیٰ    ایسے لوگوں کو ،جو حقیقت کے منافی بگاڑ کے روئیے کو اپنی سرشت بنائے رکھنے پر بضد رہتے ہیں، منحرف  ثابت کرتےاور گم کردہ راہ کیفیت میں رہنے دیتے ہیں۔

وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧

  • And Allah the Exalted anew executes whatever He the Exalted decides. [14:27]

اور اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔

أَلَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرٙا

  • Have you not given a thought towards those people who changed-substituted the favour/blessing of Allah the Exalted with persistent refusing ingratitude —

کیا آپ(ﷺ)نے ان لوگوں کے طرز عمل اور نفسیات پر غور کیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ نعمت(آیات قرءان)کو  انکار اور ناشکری میں بدل دیا ہے۔

وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُـمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ ٢٨

  • And they settled for their nation the place of destruction— [14:28]

اور انہوں نے اپنی قوم کے لئے تباہی اور بربادی کے مقام کو  کھول دیا۔

جَهَنَّـمَ يَصْلَوْنَـهَاۖ

  • Hell Prison, they will push therein to scorch —

وہ مقام جہنم ہے،اس میں داخل ہو کر جھلستے رہیں گے۔

Root: ص ل ى

وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ٢٩

  • And the place of permanent resident is really wretched. [14:29]

اور کیا ہے برا مقام ہے وہ ہمیشہ رہائش پذیر رہنے کے لئے۔

Root: ق ر ر

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادٙا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦۗ

  • Take note, they the leaders-elite ascribed some others as equate in some respect for Allah the Exalted desiring digressing-straying people off the High road of Him the Exalted.

اور انہوں نے دوسروں   کو کسی حوالے سے اللہ تعالیٰ کا  ہمسر؍نظیر؍مثل؍مدمقابل قرار دیا تاکہ  لوگوں کو ان جناب کے مقرر کردہ راستے اور طرز عمل سے منحرف اور گم کردہ راہ کر دیں۔

Root: ن د د

قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيـرَكُمْ إِلَـى ٱلنَّارِ ٣٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "You people self avail the benefit of worldly gain by deceiving people. Thereby the upshot would be your eventual destination towards the heated Hell-Prison." [14:30]

آپ(ﷺ)ان  عمائدین کو ارشاد فرما دیں"تم اپنے آپ کو فیض یاب کر لو کیونکہ آخر کار تمہارے جائے  رہائش کا راستہ  جہنم کی جانب  ہے۔

Root: ص ى ر


قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce for those of My servants who proclaim having accepted and become believers:

آپ(ﷺ)میرے ان بندوں کے لئے فرمان جاری کریں جو قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں:

يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ

  • That they should maintain Ass-sa'laat: Time Bound Protocol of Allegiance and Servitude —

وہ  استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہیں ۔

وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ

  • And that they should spend part of the worldly resources for other's welfare out of that Our Majesty have given them —

اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے  دوسروں کی فلاح و بہوبود پروہ خرچ کرتےرہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]

سِرّٙا وَعَلانِيَةٙ

  • They should do it privately and publicly —

خرچ کا انداز تنہائی میں چھپا کراور بر سرعام ۔

Root: س ر ر; ع ل ن

مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِـىَ يَوْمٚ 

  • Before that the Day might reach —

 اس سے قبل کہ وہ دن آن پہنچے۔

 لَّا بَيْعٚ فِيهِ وَلَا خِلَٟلٌ ٣١

  • Peculiarity of the day is: Neither pay-later system bargain nor friendship could be struck during it. [14:31]

مستقبل میں ادائیگی کی بنیاد پر کیا جانے والا کاروبار اس دن کے دوران نہیں ہو سکے گا۔اور نہ دوستانہ مراسم کام آئیں گے۔

Root: خ ل ل

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ

  • Allah the Exalted is Who created the Skies and the Earth —

اللہ تعالیٰ  وہ جناب ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو  تخلیق کیا ہے۔

وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ

  • Moreover, He the Exalted had dropped water in one go (in measured quantity-23:18) from the Sky.

اوران جناب نے آسمان سے پانی کو (متعین مقدار ۱۸:۲۳)آسمان سے یکبارگی نازل فرمایا تھا۔

فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَـرَٟتِ رِزْقٙا لَّـكُـمْۖ

  • Thereby, with it (Water), He the Exalted had brought out variety of fruits, which were to serve as means of subsistence, nutritious for you people.

بعد ازاں ان جناب نے اُس(پانی) کے استعمال سے مختلف انواع کے ثمرات کوخارج کیاجوتمہارے لئے حیات کو برقرار رکھنے کے لئے رزق /متاع زیست ہے۔

وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْـرِىَ فِـى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦۖ

  • And He the Exalted has subjected the ship to a set discipline-natural law [relativity with air 30:46] - manageability for you people so that it might sail, move in the water reservoir by the commanded affair of Him the Exalted: the observable and discoverable rules and principles of science.

اور ان جناب نے اصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے کشتی کو زیر تسلط کر دیا  تاکہ دریا اور سمندر میں ان کے طے کردہ نظام کے مطابق چلے۔

Root: ف ل ك

وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلۡأَنْـهَٟرَ ٣٢

  • And He the Exalted has subjected to manageability for you people the water-flows. [14:32]

اور ان جناب نے اصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے  نہروں کومسخر کر دیا۔ 

وَسَخَّر لَـكُـمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ دَآئِبَيـنِۖ

  • And He the Exalted has for you people subjected the Sun and the Moon to a set discipline; both persistently, without break and halting follow their course-orbit.

اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے نظام کائنات کو سمجھنا اور مستفید ہونا آسان کر دیا ہے۔دونوں کی کیفیت یہ ہے کہ مسلسل اپنے مدار میں تیرتے ہوئے گردش کرتے رہتے ہیں۔

Root: س خ ر; ق م ر; ش م س

وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلَّيلَ وَٱلنَّـهَارَ ٣٣

  • And He the Exalted has subjected for you the Night and the Day to a set discipline. [14:33]

اور ان جناب نے رات اور دن  کواصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے  معمولات حیات  انجام دینا آسان کر دیا ہے۔

وَءَاتَىٰكُـم مِّن كُلِّ مَا سَأَ لْتُـمُوهُۚ

  • And He the Exalted has granted you people partly of everything that you people asked Him,

اور ان جناب نے اس تمام میں سے تمہیں عنایت کر دیا ہے جس کے لئے تم ان سے سوال کر سکتے تھے۔

وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآۗ

  • And if you people attempt to count the favours-things of benefit granted/created by Allah the Exalted you would not be able to aggregate them.

غور کرو؛اللہ تعالیٰ کی زندگی میں سہولتیں اور فرحت بخش عنایات کو اگر تم لوگ شمار کرنا شروع کرو تو تم ان کا احاطہ نہیں کر پاؤ گے۔

إِنَّ ٱلْإنْسَٟنَ لَظَلُومٚ كَفَّارٚ ٣٤

  • [Despite innumerable favours] Indeed the man, generally speaking, [majority of them] is certainly distorter of realities and equations, falsifier and persistently denying and disavowing ingrate. [14:34]

یہ عمومی حقیقت ہے کہ انسان سیاہ کار ہے،حقیقتوں سے صرف نظر اور انہیں اوجھل کرنے کا شوقین ہے۔


وَإِذْ قَالَ إِبْرَٟهِيـمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَـٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنٙا

  • Know the history of a point in time when Iebra'heim [alai'his'slaam] had prayed, "My Sustainer Lord, Declare and make this Town a place that affords peace-law and order, security and safety —

تاریخ سے آشنا ہو جائیں جب ابراہیم (علیہ السلام) نے التجا کی۔”میرے رب!اس قصبے (وادی کعبہ)کو  امن اور امان دینے والا قرار دیں۔

وَٱجْنُبْنِى وَبَنِـىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلۡأَصْنَامَ ٣٥

  • And do keep me and my progeny away - avoiding worshiping of the hand sculpted statues. [14:35]

اور آپ جناب مجھے اور میرے بیٹوں/پوتوں کومورتیوں کی پرستش سے اجتناب کی عادت اپنائے رکھنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔

رَبِّ إِنَّـهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلنَّاسِۖ

  • My Sustainer Lord, indeed they have caused straying many people away from Monotheism.

میرے رب!یہ حقیقت ہے کہ انہوں(مورتیوں) نے لوگوں کی کثیر تعداد کو بندگی میں توحید کے عنصر سے منحرف کر دیا ہے۔

فَمَن تَبِــعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّـىۖ

  • Thereby, whoever would have followed me in practice, thereat, he is of me whether or not related by blood.

اس لئے جس کسی نے   دل کی شاد اور خلوص سے میری  اتباع کی تو یقیناً اس کا شمار  میری ملت میں ہے۔

وَمَنْ عَصَانِـى

  • And whoever refused to accept my word and act accordingly (he is not member of my community)—

  • اور جس کسی نے(چاہے میری ذریت میں ہو)نے میری بات کوتسلیم کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی مخالفت کی(تو وہ میری ملت سے خارج ہے)

فَإِنَّكَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٣٦

  • Then judgment is Yours, indeed You are oft-forgiving, the Fountain of Mercy." [14:36]

(اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے)یہ حقیقت ہے کہ آپ اکثر و بیشتر درگزر کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں،آپ منبع رحمت ہیں۔

رَّبَّنَآ إِنِّـىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِـى بِوَادٍٛ غَيْـرِ ذِى زَرْعٍٛ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ

  • "Our Sustainer Lord! I have settled one of my progeny near the Sacred House of You the Exalted, in the valley which is characteristically other than the possessor-capable of cultivation for crop production.

اے ہمارے رب!میں نے اپنی اولاد میں سے ایک کوآپ کے تحریم والے گھر کے جوار میں وادی میں رہائش پذیر کر دیا ہے(آپ جانتے ہیں)اس وادی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زراعت کی صلاحیت نہیں۔

Root: ذ ر ر;  ز ر ع

رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ

  • Our Sustainer Lord! The purpose of this settlement is that they might institutionalize the As-Sal'aat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance —

ہمارے رب!ذریت میں سے ایک کو یہاں آباد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ نظام صلوٰۃ کو رائج رکھیں۔

فَٱجْعَلْ أَفْــِٔـدَةٙ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَـهْوِىٓ إِلَيْـهِـمْ

  • Therefore, kindly render the thoughtful minds amongst the people that they yearn for them, emptying their long cherished traditions.

اس لئے آپ جناب لوگوں میں سے قلوب کو ایسا کر دیں   کہ وہ ان کی جانب مائل  رہنے کے خواہشمندرہا کریں ،اپنی  روایات سے خالی کر کے۔

Root: ف ء د

وَٱرْزُقْهُـم مِّنَ ٱلثَّمَـرَٟتِ لَعَلَّـهُـمْ يَشْكُـرُونَ ٣٧

  • And do provide them sustenance of variety of fruits so that they might express gratitude. [14:37]

                                                                                                                                     اورآپ جناب انہیں پھلوں میں سے رزق دستیاب فرماتے رہیں تاکہ وہ شکر گزار  رہیں۔

رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِـى وَمَا نُعْلِنُۗ

  • Our Sustainer Lord, indeed You know what we conceal and what we proclaim.

ہمارے رب!یقینا!آپ کلی طور جانتے ہیں وہ جوہم دوسروں سے خفیہ رکھتے ہیں اور وہ جسے ہم علی اعلان کہتے اور کرتے ہیں"۔

Root: ع ل ن

وَمَا يَخْفَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ فَـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا فِـى ٱلسَّمَآءِ ٣٨

  • It is a fact that Allah the Exalted is from Whom not at all a thing can hide which exists within the Earth, nor that which exists in the Sky. [14:38]

اور یہ حقیقت ہے کہ نہ زمین میں موجود کوئی شئے ہے اور نہ آسمان میں جو اللہ تعالیٰ سے مخفی رہ سکے۔

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِـى عَلَـى ٱلْـكِبَـرِ إِسْـمَٟعِيلَ وَإِسْحَٟقَۚ

  • [Iebra'heim alai'his'slaam said] "The Infinite Glory and Praise stands specified eternally, entirely and exclusively for Allah the Exalted. He the Exalted has granted me Iesma'eile [alai'his'slaam] and Ies'hauq [alai'his'slaam] upon reaching the old age

اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد  ہمیشہ سے مختص ہے۔ان جناب نے  میرے لئے رحمت کا اظہار کرتے اسماعیل اور اسحاق بڑھاپے میں  مجھےدئیے۔

Root: و ھ ب

إِنَّ رَبِّـى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٩

  • Indeed My Sustainer Lord is certainly the listener of the prayer. [14:39]

یہ حقیقت کہ میرے رب  دعا کو ضرور سنتے ہیں‘‘۔

رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيـمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَتِىۚ

  • My Sustainer Lord! do declare me as he who institutionalizes the As-Sal'aat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance. And do declare as such one of my progeny.

انہوں نے دعا کرتے ہوئے مزید کہا’’میرے رب!آپ جناب مجھے نظام صلوٰۃ کو قائم کرنے والا قرار دیں۔اور میری نسل میں سے بھی ایک کواس نظام کوترویج دینے والا مقرر فرمائیں۔

Root: ذ ر ر; ص ل و

رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ٤٠

  • Our Sustainer Lord, and do accept my prayer. [14:40]

ہمارے رب(اسماعیل علیہ السلام شریک دعا تھے)اور آپ میری دعا کو شرف قبولیت عنایت فرمائیں۔

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِـى وَلِوَٟلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِيـنَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ ٤١

  • Our Sustainer Lord, Kindly grant forgiveness for me and for my biological mother and father and for the true believers on the day the accountability will be held." [14:41]

ہمارے رب!آپ میرے       لئے                                                                        اورمیرے والدین(ابو۔چچا آزرشامل نہیں)اور  صدق دل سے ایمان لانے والوں کے مغفرت کا فرمان جاری     فرمائیں جس دن احتساب     ہونا ہے‘‘


وَلَا تَحْسَبَـنَّ ٱللَّهَ غَٟفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٟلِمُونَۚ

  • And you should henceforth not presume about Allah the Exalted as being unmindful of what the evil mongers-conjecturers-distorters of realities and equations-the falsifiers are doing —

اے انسان، اللہ تعالیٰ کے متعلق آئندہ بھی تجھے یہ خیال نہ آئے کہ وہ حقیقت کے منفی سرشت رکھنے والوں کے ان اعمال سے لاتعلق ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں۔

Root: غ ف ل

إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُـمْ لِيَوْمٛ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبْصَٟرُ ٤٢

  • Indeed He the Exalted is delaying-postponing requital for them for the day in which the visions will be open-staring uninterruptedly. [14:42]

حقیقت فقط یہ ہے کہ وہ جناب ان کو تعزیری شکنجے میں لانے کو اس دن کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس کے دوران بصارتیں پتھرا جائیں گی۔

Root: ش خ ص

مُهْطِعِيـنَ مُقْنِعِـى رُءُوسِهِـمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْـهِـمْ طَرْفُهُـمْۖ

  • That day they will be running and hastening to confront him, in fear, submission and docility, focussing their heads approaching from different directions while their eyelid is not turning to them —[read with 70:36-38]

ان کا حال یہ ہوگا کہ نگاہیں جمائے عاجزی اور خوف سے  ان  کے روبرو ہونے کے لئےلپکے جا رہے ہوں گے ،جوش و خروش سے اپنے سروں کو  مختلف سمتوں سے آتے ہوئےایک  جانب مرکوز رکھتے ہوئے۔ان کی پلکیں اپنی جانب   نہیں  جھپک  رہی ہوں گی۔(ان کا رخ کس جانب ہے مطالعہ کریں۔المعارج۔36۔38)

Root: ر ء س; ھ ط ع ; ط ر ف; ق ن ع

وَأَفْــِٔـدَتُـهُـمْ هَوَآءٚ ٤٣

  • Moreover, their brains are empty-lurching. [14:43]

اور ان کے ذہنوں کی حالت یہ ہوگی جیسے باقی ہر بات سے خالی ہوں۔

Root: ف ء د; ھ و ى

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيـهِـمُ ٱلْعَذَابُ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] warn/caution the humanity of the day (Resurrection) the infliction will arrive to them —

اور آپ(ﷺ)لوگوں کو اس دن کے لئے انتباہ کر دیں جب ان کوعذاب پہنچ جائے گا۔

فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ قَرِيبٛ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِــعِ ٱلرُّسُلَۗ

  • Thereat, having seen infliction; those who had done evil, distorted-conjectured, altered realities and equations by falsifications, will say: "Our Sustainer Lord! Respite us for a shortly near period, we would respond Your call and would follow the respective Messengers in practice".

چونکہ تمام ایک اجتماع میں ہوں گے اس لئے حیات دنیا کے زمان کے وہ تمام لوگ جوحقیقت کے منافی باطل عقائد اور طرز عمل پر کاربند رہے تھے،کہیں گے،"ہمارے رب،ہمیں سزا دینے کو کچھ مدت کے لئے مؤخر کر دیں۔آپ کی دعوت کا ہم مثبت جواب دیں گے اور رسولوں  کی اتباع میں عمل پیرا ہوں گے"۔

Root: ء ج ل

أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُـم مِّن قَبْلُ مَا لَـكُـم مِّن زَوَالٛ ٤٤

  • They will be questioned; "Were you not in timeline before it solemnly proclaiming that for you people there is nothing of the sort of fall-decline? [14:44]

ان سے پوچھا جائے گا"کیا تم لوگ قبل کے زمان میں قسمیں اٹھا کر نہیں کہتے تھے کہ قطعی کسی قسم کے زوال کا تم لوگوں کے لئے امکان نہیں ہے۔

Root:  ق س م

وَسَكَنتُـمْ فِـى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ

  • And you dwelled in the abodes of those who had done wrong to their selves in days before you.

اور تم لوگ ان ہی کے مساکن میں آباد رہے تھے جنہوں نے حقیقت کے منافی باطل فکر و عمل کا اپنا کر اپنے آپ پر ظلم کیا تھا۔

وَتَبَيَّـنَ لَـكُـمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِـهِـمْ

  • And it was explicitly rendered evident for you people as to how Our Majesty had dealt with them (the evil doers before you).

اور تم لوگوں کے لئے حیات دنیا میں واضح کر دیا گیا تھا کہ ہم جناب نے ان کے ساتھ نئے انداز میں کیا سلوک کیا تھا۔

 

وَضَرَبْنَا لَـكُـمُ ٱلۡأَمْثَالَ ٤٥

  • And Our Majesty had struck the examples for you people to take heed." [14:45]

اور ہم جناب نے تم لوگوں کے سبق اور نصیحت لینے کے لئے مثالوں سے انجام کو اجاگر کر دیا تھا"۔

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُـمْ

  • And indeed they had planned their strategies —

جان لو؛یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے رسولوں کے خلاف اپنی تیار کردہ سازشوں اور فریب کاریوں کو بروئے کار لائے تھے۔

Root: م ك ر

وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُـمْ

  • But all their strategies are worthless before Allah the Exalted.

مگر ان کی سازشوں اور فریب کاریوں کا جواب اللہ تعالیٰ کی بہترین تدبیر سے زائل کرنا تھا۔

Root: م ك ر

وَإِن كَانَ مَكْرُهُـمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ ٤٦

  • And their deceitful strategies were not such by which the mountain ranges might crumble. [14:46]

اور ان کے سازشی منصوبہ میں قطعاً ایسی کوئی جان نہ تھی کہ پہاڑوں کا سلسلہ اکھڑ جاتے۔

Root: م ك ر : ز و ل

فَلَا تَحْسَبَـنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓۗ

  • Since the happenings of Hereafter are shown, therefore you should certainly henceforth not presume that Allah the Exalted betrays His promise given through His Messengers.

چونکہ آخرت کے مناظر بھی تمہیں دکھا دئیے ہیں اس لئے آئندہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ اندازہ نہ لگانا کہ اپنے اس وعدہ کے خلاف کچھ کریں جو انہوں نے اپنے رسولوں کے ذریعے دیا تھا۔

إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٚ ذُو ٱنتِقَامٛ ٤٧

  • Fact remains, Allah the Exalted is the Dominant holding the Authority to award due punishment to criminals. [14:47]

خبردار رہو،اللہ تعالیٰ مطلق العنان حکمران ہیں۔وہ جرم کی پاداش میں سزا دینے کا مطلق اختیار رکھتے ہیں۔

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرْضُ غَيْـرَ ٱلۡأَرْضِ وَٱلسَّمَٟوَٟتُۖ

  • That day the Earth will be substituted with one that will be different to this Earth and likewise the Skies will be changed —

یہ اس دن ہو گا جب کرہ ارض کو اس کے علاوہ زمین سے بدل دیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی۔

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٟحِدِ الْقَهَّارِ ٤٨

  • And [that having been done, on second Bing Bang all resurrected] they the non-believers assembled in the open to make submissions for consideration of Allah the Exalted; the Solitary Sovereign Sustainer Lord, the Absolutely Dominant over all irresistibly. [14:48]

حیات نو دئیے جانے کے دن کو یاد رکھو  جب وہ سامنے نکل آئیں گے، اجتماعی طور پر ،اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے، وہ جناب قوت و غلبہ کے واحد مالک ہیں۔

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِيـنَ يَوْمَئِذٛ مُّقَرَّنِيـنَ فِـى ٱلۡأَصْفَادِ ٤٩

  • And on that day, when they would have been raised to life, you will see the criminals in the condition that they are tied together in the chains — [14:49]

اور اس دن جب حیات نوپانے پر لوگ قبروں سے نکل چکے ہوں گے، آپ(ﷺ)مجرمین کو اس حال میں دیکھیں گے کہ زنجیروں میں اکھٹے جکڑے ہوئے ہیں۔

Root: ق ر ن

سَرَابِيلُـهُـم مِّن قَطِرَانٛ

  • Their garments-wearing will be made from pitch.

اور ان کا پہناوا رال سے لئے مواد سے بنا ہو گا۔

Root: ق ط ر; س ر ب ل

وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُـمُ ٱلنَّارُ ٥٠

  • And the fire/scorching heat will veil their faces — [14:50]

اور آگ/تپش ان کے چہروں پر چھا رہی ہو گی۔

Root: غ ش ى

لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٛ مَّا كَسَبَتْۚ

  • These actions are for the purpose that Allah the Exalted may recompense every person according to what he had earned.

یہ انتظامات اس لئے کئے گئے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص کو اس کے مطابق عوضانہ دیں جو اس نے حیات دنیا میں کمایا تھا۔

إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٥١

  • Be mindful: Allah the Exalted is certainly swift in accounting-measuring-judging-evaluating-reckoning. [14:51]

متنبہ رہو، اللہ تعالیٰ حساب کتاب  انتہائی سرعت سے کرتے ہیں  ۔

Root: س ر ع

هَـٰذَا بَلَٟغٚ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ

  • This (Qur’ān) is a communication delivered-transmitted in writing, a persuasive discourse in easy to comprehend composition for the mankind in space- time to take counsel and so that they get warned-cautioned-awakened by taking recourse to it (Qur’ān-read 6:19).

یہ(قرءان مجید)لوگوں کے مطالعہ کے لئے تحریر میں پہنچا دینے کے لئے ہے اور اس لئے کہ زمان و مکان میں اس کے ذریعے سے وہ متنبہ ہوتے رہیں۔(الانعام۔19دیکھیں)

وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٚ وَٟحِدٚ

  • And that they might know that He the Exalted is the Solitary Iela'aha: Sovereign Sustainer Lord.

اور اس لئے کہ وہ جان لیں کہ  صرف وہ جناب ہیں جو معبود مطلق ہیں۔

وَلِيَذَّكَّرَ أُوْلُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ ٥٢

  • Moreover, the objective is that the Men of Wisdom - who look into matters and conduct objectively without overlapping it with emotions/prejudices/biases/whims/caprices, may at their own accord save it in memory, frequent it for reference-lesson and orate to others. [14:52]

اور تحریر میں پہنچا دینے کا مقصدیہ  ہےکہ صاحبان  دانش و بینائی قلب جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں ازخود اس سے نصیحت لے سکیں اور دوسروں سے تذکرہ کریں۔

Root:  ل ب ب