10-سُوۡرَةُ يونس
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura
Recitation
تعارف
|
الٓر |
عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔ |
|
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ رَجُلٛ مِّنْـهُـمْ |
ہم جناب کا اس کتاب کو ایک ایسے مرد کو پہبچانا جو ان میں ہمیشہ توحید کے پیروکار مشہور ہیں ایسے لوگوں کے لئے کیا واقعی باعث تعجب ہے جوکثرت معبودان کے قائل اورپجاری ہیں۔ Root: ع ج ب |
|
أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّـرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَـهُـمْ
قَدَمَ
صِدْقٍٛ عِندَ رَبِّـهِـمْ |
یہ حکم دے کر کہ’’آپ (ﷺ)لوگوں کو باطل طرز عمل پر گامزن رہنے کے لازمی تکلیف دہ عواقب و نتائج سے متنبہ فرمائیں اور ان لوگوں کو خوش کن نتائج کی پیشگی بشارت اور ضمانت دیں جو آپ اور قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں کہ ان کا سچائی پر اٹھایا قدم ان کے رب کی جانب سے تحسین وپذیرائی کا ان کے لئے پیش خیمہ ہے‘‘۔ Root: ق د م |
|
قَالَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ إِنَّ هَـٟذَا لَسَٟحِرٚ مُّبِيـنٌ ٢ |
رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کر دینے والے عمائدین نے لوگوں سے کہا’’یہ صاحب دراصل فریب نظر اور جھوٹے جھانسے دینے والا ہے‘‘۔ Root: س ح ر |
|
إِنَّ رَبَّكُـمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ |
اے لوگو جان لویہ حقیقت ہے کہ تم لوگوں کے رب اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔ |
|
ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِ |
بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔ Root: ع ر ش |
|
يُدَبِّرُ ٱلۡأَمْرَ |
وہ جناب ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ |
|
مَا مِن
شَفِيعٍٛ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ |
متنبہ رہو؛ قطعی کوئی حمایت و سفارش کرنے والا تمہارے لئے کھڑا ہو گا سوائے ان جناب کے اجازت دینے کے بعد۔(محذوف کے لئے الشوریٰ۔۸) Root: ش ف ع |
|
ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْ فَٱعْبُدُوهُ |
یہ ہے تم لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کے شواہد اور حقائق؛ وہ جناب تمہارے رب ہیں۔ چونکہ بدیہی حقائق سے دانستہ غفلت برتنے والے صاحب عقل و فکر نہیں ہوتے اس لئے تم لوگ ان جناب کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣ |
کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔ |
|
إِلَيْهِ مَرْجِعُكُـمْ جَـمِيعٙا |
تم سب لوگ متنبہ رہو،بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم نے احتساب کے لئے ان جناب کی جانب لوٹنا ہے،مجموع ۔ |
|
وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّاۚ |
متنبہ رہو،یہ محض بیان نہیں،یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے،یہ ایسا وعدہ ہے جس نے وقوع پذیر ہو کر رہنا ہے۔ |
|
إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥ |
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔ |
|
لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ
بِٱلْقِسْطِ |
یہ ازسر نو حیات دینا اس مقصد سے ہے کہ وہ جناب ان لوگوں کو جو رسول کریم اور کتاب اللہ پر صدق قلب سے ایمان لائے اور ان اعمال پر کاربند رہے جنہیں صالح قرار دیا گیا تھابہترین ایوارڈ سے نوازیں انصاف اور مساوات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے۔ Root: ق س ط |
|
وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو من جانب اللہ ماننے سے انکار کیا ہے۔ |
|
لَـهُـمْ شَرَابٚ مِّنْ حَـمِيـمٛ وَعَذَابٌ أَلِيـمُ |
گرم چشمے کا پانی اورایک دردناک عذاب ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ان کا یہ انجام اس بنا پر ہے کہ مسلسل رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرتے رہے تھے۔ |
|
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءٙ وَٱلْقَمَـرَ نُورٙا |
وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے سورج کو ضیاء /روشنی اور حرارت پیدا کرنے والی کے طور بنایا ہے اورچاند کو روشنی منعکس کرنے والا۔ |
|
وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِيـنَ وَٱلْحِسَابَ |
اور انہوں نے اس ( مذکر۔چاند) کیلئے منزلیں مقرر کیں تا کہ تم قمری برسوں کوشمار کرنا جان سکو، اورباہمی پیمائشوں کو معلوم کر سکو۔ |
|
مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٟلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ |
اوریہ نظام ا للہ تعالیٰ نے بے مقصد،بے ترتیب،بے اصول(randomly) تخلیق نہیں کیابلکہ غلطی سے مبرا یقینی اصول،مقصد اور ثابت شدہ حقیقت(scientifically established system) کے طور تخلیق کیا ہے۔ |
|
يُفَصِّلُ ٱلْءَايَـٟتِ لِقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٥ |
وہ جناب علم کی جستجو کرنے والے لوگوں کے لئے قرءان مجید کی آیات کو ہر نکتے کے حوالے سے متمیز اور منفرد انداز میں فصل کر دیتے ہیں۔ |
|
إِنَّ فِـى ٱخْتِلَٟفِ ٱلَّيلِ وَٱلنَّـهَارِ |
یقیناً ان مظاہر فطرت کا عینی مشاہدہ فلسفہ توحید،معبود مطلق پر گواہ ہیں : رات اور دن کے ایک دوسرے کے مقام پرآنے کے نظام میں؛ |
|
وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
اور وہ جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں تخلیق فرمایا ہے۔ |
|
لءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَّقُونَ ٦ |
یہ شناخت اور پہچان کے لئے مادی توضیحات ہیں ان لوگوں کے لئے جو ممانعات سے اپنے آپ کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا |
ان لوگوں کے انجام کے متعلق جان لو جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کومتوقع نہیں سمجھتے ۔ Root: ر ج و |
|
وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِـهَا |
اور دنیا کی حیات میں شادمان ہیں اور اس کی لگن میں اپنے آپ کو مطمئن اور مگن رکھتے ہیں۔ Root: ط م ن |
|
وَٱلَّذِينَ هُـمْ عَنْ ءَايَٟتِنَا غَٟفِلُونَ ٧ |
اور وہ لوگ جو ہم جناب کی آیات ۔۔حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی عناصر فطرت اور کتاب اللہ میں درج مندرجات سے ہر وقت بے پرواہ،غفلت شعار ہیں۔ Root: غ ف ل |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ مَأْوَىٰـهُـمُ ٱلنَّارُ |
یہ ہیں وہ لوگ ۔۔۔ ان کی آخری "پناہ گاہ"جھلسا دینے والی جہنم ہے۔ |
|
بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٨ |
یہ ان کے جرائم کی پاداش ہے جووہ اپنے مفادات کے حصول کی خاطر کرتے رہے ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ يَـهْدِيـهِـمْ
رَبُّـهُـم بِإِيمَٟنِـهِـمْ |
ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجورسول کریم اور قرء ان پردل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ان کے رب انہیں اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے جنت کی جانب رواں دواں رہنے کے لئےہدایت دیتے رہیں گے۔ |
|
تَجْـرِى مِن تَحْتِـهِـمُ ٱلۡأَنْـهَٟرُ فِـى جَنَّٟتِ ٱلنَّعِيـمِ ٩ |
خوبصورت منظر پیش کرتی نہریں ان لوگوں کے پائیں بہہ رہی ہوں گی جب وہ نعمتوں سے بھرپور باغات میں رہائش پذیر ہوں گے۔۔ |
|
دَعْوَىٰـهُـمْ فِيـهَا سُبْحَٟنَكَ ٱللَّهُـمَّ وَتَحِيَّتُـهُـمْ
فِيـهَا سَلَٟمٚ |
ان کاان میں رہتے ہوئے طرز عمل اس دعا سے ہو گا"آپ جناب عظیم ہیں!تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محورآپ جناب ہیں، اے اللہ تعالیٰ‘‘۔اور ان میں رہتے ہوئے باہمی ملاقاتوں پرایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور خیر سگالی کا اظہار کریں گے۔ |
|
وَءَاخِرُ دَعْوَىٰـهُـمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٠ |
اور آخر میں جدا ہوتے وقت ان کے الفاظ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیاگیا ہے ۔ |
|
وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّـرَّ ٱسْتِعْجَالَـهُـم
بِٱلْخَيْـرِ لَقُضِىَ إِلَيْـهِـمْ أَجَلُـهُـمْ |
متنبہ رہو؛ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے انتشار اور ابتلا کی کیفیت پیدا کر دیں جیسے ان کی عجلت میں ہر بھلائی کو حاصل کر لینے کی خواہش و آرزو ہے تو یقیناً ان کی مہلت کے اختتام ان کے نزدیک پہنچ چکا ہوتا۔ Root: ش ر ر |
|
فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِـى طُغْيَٟنِـهِـمْ يَعْمَهُونَ ١١ |
چونکہ احتساب کے لئے متعین مدت تک مہلت ہے،اس لئےہم جناب ان لوگوں کو جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کو متوقع نہیں سمجھتے انہیں اُن کی بیوقوفانہ احمقانہ بہکی سرگرمیوں میں دراز و سرگرداں رہنے میں ڈھیل دیتے ہیں۔ |
|
وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٟنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدٙا أَوْ قَآئِمٙا |
اور جب درد اورتکلیف کا احساس انسان کو لاحق ہو جاتا ہے تو چاہے اس حالت میں اپنے کروٹ کے بل ہو،یا بیٹھا ہو،یا کھڑا ہو ہم جناب کو پکارتا ہے۔ Root: ق ع د |
|
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَـرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ
إِلَـىٰ ضُرّٛ مَّسَّهُۥ |
تو فریاد کو قبول کرتے اور مہلت دیتے ہوئے جوں ہی ہم جناب نے اسے لاحق اذیت ناک صورتحال سے نجات دے دی تو ایسے چل دیا جیسے اس نے کبھی ہم جناب کو پکارا ہی نہیں تھا اس اذیت کی جانب جس سے وہ لاچار تھا۔ |
|
كَذَٟلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْـرِفِيـنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٢ |
یہ طرز عمل اس بات کا مظہر ہے کہ جو وہ کرتے رہے ہیں وہ ایسے لوگوں کے لئے باعث کشش و لگن بنا دیا گیا ہے جوبے پرواہ سرشت کےحامل ہیں۔ Root: س ر ف |
|
وَلَقَدْ أَهْلَـكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلـِكُـمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ۙ |
تاریخی حقیقت سے خبردار رہو؛ہم جناب نے کئی تہذیبوں کو نیست و نابود کر دیا جنہوں نے تم لوگوں سے قبل عروج دیکھا تھا،جب انہوں نے حقیقت کے متضاد روئیے کو اپنی سرشت بنا لیا تھا۔ |
|
وَجَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ |
اور یہ حقیقت ہے کہ ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے ان کے رسول ان کے لئےمافوق التصور و تجربہ،انہونے صریحاً واضح مظاہر قدرت(معجزات)کے ساتھ آئے تھے۔مگر عینی تجربہ اور ثبوت کے باوجود وہ ا ایمان لانے کا سوچتے بھی نہ تھے (جس کو وہ گزرے زمانہ میں برملا جھٹلا چکے تھے۔الاعراف۔101)۔ |
|
كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ١٣ |
خبردار رہو؛ہم جناب اس انداز میں اس قوم کو سزا دیتے ہیں جسے بالاخرمجرم قرار دے دیا گیا۔ |
|
ثُـمَّ جَعَلْنَـٟكُـمْ خَلَـٰٓئِفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِـم لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ١٤ |
بعض ازاں ،ان لوگوں کے زوال کے بعد،ہم جناب نے تم لوگوں کو زمین میں خود مختار حکمرانی کا حامل بنا دیا تا کہ ہم مشاہدہ کریں اور دکھا دیں کہ تم لوگ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہو۔ |
|
وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٟتٛ |
مطلع
رہوزمانہ نزول کی تاریخ سےجب ہم جناب کے تحریری کلام پر مشتمل
عبارات
لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس
انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔تو
ان عمائدین مشرکین نے جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کومتوقع
نہیں سمجھتے، رسول کریم سے
ملاقات
میں کہا"آپ ایک ایسےمتن کو ہمیں پیش کریں جواِس
قرءان مجید سے غیر متعلق اور مختلف ہو ؛یاآپ اس قرءان مجیدکے متن کی
عبارت میں ترمیم کر دیں"۔ |
|
قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُـمْ
وَلَآ أَدْرَىٰكُـم بِهِۦ |
آپ (ﷺ)ان سرکش
عمائدین
کے اس مطالبے کے جواب میں — جو یہ
چاہتے ہیں کہ
قرءان
کے بجائے آپ ان کے مزاج کے مطابق کوئی
دوسری تحریر پیش کریں —فرما دیجئے:"اگر
اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہی ہوتا تو میں ہرگز نہ تو
اسے پڑھ کر
آپ کو لفظ بہ لفظ
سناتا، اور نہ ہی اس کے بارے میں
آپ لوگوں کو کسی قسم کا ادراک حاصل ہوتا۔ |
|
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ
كَذِبًا أَوْ
كَذَّبَ بِـَٔايَـٟتِهِۦٓ |
اس
حقیقت کا ادراک کر لینے کے باوجود، اس شخص سے بڑھ کر حقیقت کے خلاف رویّہ
اختیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ
ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟ یا اس سے بڑھ کر حقیقت کے
برخلاف باطل مؤقف اپنانے والا کون ہو سکتا ہے جس نے ان جناب کے کلام (قرءانِ
مجید) پر مشتمل عبارات کو بلا دلیل و ثبوت برملا جھٹلایا اور ان کے متضاد
دعوے اختیار کیے؟ |
|
وَ يَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ
مَا لَا يَضُرُّهُـمْ وَ لَا يَنفَعُهُـمْ |
ان مجرمین کے عقل و فہم کو دیکھو؛
اور اللہ
تعالیٰ کے علاوہ
تجاوز
کرتے ہوئے وہ اس غیر حیات کی بندگی/پرستش کرتے ہیں جو نہ تو انہیں
کوئی ضرر پہنچاتا اور نہ کوئی نفع انہیں پہنچاتا اور پہنچا سکے گا۔ |
|
وَ مَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٟحِدَةًۭ
فَٱخْتَلَفُوا۟ۚ |
آگاہ رہو! انسان ابتداء میں ایک ہم
خیال وحدت اور فلسفۂ توحید پر یکجا اجتماع کے سوا کچھ نہ تھے۔ پھر چونکہ
معاشرت میں ایک طبقاتی تقسیم (اراذل و اکابر)وجود پذیر ہو چکی تھی، اس لیے
انہوں نے آپس میں ایک نئے نظریے کو سابقہ مقام پر لا کر (فطری) وحدت کا
خاتمہ کیا اور دوئی (تفرقے) کو اختیار کر لیا۔ Root: س ب ق |
|
وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ مِّن رَّبِّهِۦ |
انکار
کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ
عوام الناس میں مسلسل یہی کہتے رہتے ہیں:"کیا
وجہ ہے ،کیوں انہیں عینی مشاہدہ کرانے کے لئے ایسی شہادت ان
کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ،
سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک
ہوتے ہوئے سند ہوتی ؟" |
|
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْـمَةٙ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ
مَسَّتْـهُـمْ إِذَا لَـهُـم مَّكْـرٚ فِـىٓ ءَايَاتِنَا |
بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛ جب ہم
جناب بعض لوگوں کو اس تکلیف سے جس میں وہ مبتلا تھے نجات دے کر آسانیوں
اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں تو
ہم جناب کے کلام پر مشتمل آیات کے متعلق مکارانہ طرز عمل اس کے چھچھورے پن کی شناخت
بن جاتاہے۔ |
|
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّـرُكُمْ فِـى ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِ |
وہ جناب ہیں جو تمہارے لئے خشک مقامات اور سمندر میں جانا اور سفر کرنا ممکن بناتے ہیں۔ Root: س ى ر |
|
حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُـمْ فِـى ٱلْفُلْكِ |
تم اس حقیقت کا اس وقت تک ادراک نہیں کرتے جب تم کشتیوں میں سوارسکون سے سفر کر رہے ہوتے ہو۔ Root: ف ل ك |
|
وَجَرَيْنَ بِـهِـم بِرِيحٛ طَيِّبَةٛ وَفَرِحُوا۟ بِـهَا |
اور وہ موافق ہوا کے ساتھ اپنے مسافروں کو ساتھ لئے رواں ہوتی ہیں اوروہ لوگ خوشگوار ہوا سے فرحت محسوص کر رہے ہوتے ہیں۔ |
|
جَآءَتْـهَا رِيحٌ عَاصِفٚ |
کہ اچانک اس سمندری آندھی (hurricane)نے اسے(کشتی)آن لیا جس کے اندر ایک (عاصف۔اسم فاعل مذکر)گھما دینے والا ، طغیانی کا دائرہ بنا دینے والاموجود ہے۔ Root: ر و ح; ع ص ف Hurricane and Waterspout |
|
وَجَآءَهُـمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٛ |
اور ان پر جھپٹتے ہوئے موج نےہر جانب سے انہیں گھیر لیا۔ Root: م و ج |
|
وَظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ أُحِيطَ بِـهِـمْ |
اور انہوں نے یقینی گمان کرلیا کہ ان موجوں کے ذریعے انہیں گھیر لیا گیا ہے۔ Root: ح و ط |
|
دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ |
اس وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ اُن کے متعین کردہ آئین اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے کاربند رہیں گے۔ |
|
لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٟذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٟكِـرِينَ ٢٢ |
"ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ جناب نے اس طوفان میں ڈوبنے سے ہمیں محفوظ رکھا تو یقیناً آئندہ ہم شکر گزار رہیں گے"۔ |
|
فَلَمَّآ أَنجَىٰـهُـمْ إِذَا هُـمْ يَبْغُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ
ٱلْحَقِّ |
ان کی عاجزانہ دعا اور انہیں وعدہ کو سچ کر دکھانے کا موقع دینے کے لئے جب ہم جناب نے پانی کی پہنچ سے دور رکھ کراس خطرے سے انہیں نجات دلاکر خشکی پر پہنچا دیاتو پھر وہ لگے معاشرے میں بغیر جواز اور مبنی بر حقیقت استدلال کے بگاڑ کی جستجو میں۔ |
|
يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُـمْ عَلَـىٰٓ أَنفُسِكُـم |
اے لوگو!دھیان سے سنو! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے سرکش روئیے کا خمیازہ خود تمہارے نفوس پر ہو گا۔ |
|
مَّتَٟعَ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
تمہارا یہ سرکش رویہ محض دنیاوی حیات کے سامان زیست کے لالچ میں ہے۔ |
|
ثُـمَّ إِلَينَا مَرْجِعُكُـمْ |
بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم نے احتساب کے لئے ان جناب کی جانب لوٹنا ہے۔ |
|
فَنُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٢٣ |
چونکہ انصاف اور عدالتی تقاضوں کو پورا کیا جائے اس لئے ہم جناب فرد جرم تم لوگوں کو بتائیں گے جو مستوجب سزا اعمال تم کرتے رہے تھے۔ |
|
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ
أَنزَلْنَٟهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا
يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَ ٱلْأَنْعَٟمُ |
اس حقیقت کا ادراک کرو کہ حیات دنیا
کی مثال ایسے ہے جیسے پانی،ہم جناب نے اسے آسمان سے مخصوص مقدار میں
برسایا تھا۔چونکہ حالات سازگار ہو گئے تھے اس لئے
زمین کی نباتات نے اس کے ساتھ اختلاط کر کے پروان چڑھایا۔۔۔انسان اور چارہ خور چوپائے ان میں سے
اپنے لئے موزوں کو کھاتے ہیں۔۔ |
|
وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَـىٰ دَارِ ٱلسَّلَٟمِ وَيَـهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٢٥ |
مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ (تمہیں اس فانی دنیا میں ہر وقت الجھے رہنے کی بجائے)امن ،سکون و سلامتی،خوف و حزن سے منزہ قیام گاہ کی طرف محو سفر ہونے کے لئے مسلسل توجہ دلاتے اور دعوت دیتے ہیں۔وہ جناب ہدایت کی تمنا و جستجوکرنے والے ہر شخص کو صراط مستقیم کی جانب گامزن ہونے اور اس پر قائم رہنے کے لئے ہدایت فرماتے رہتے ہیں۔(سورۃ یونسؐ۔٢٥) |
|
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَـىٰ وَزِيَادَةٚ |
انتہائی مناسب اوردل آویز صلہ اور اس پر اضافہ،کم از کم دس گناان میں سے ان کے لئے منتظر ہے جنہوں نے حسن توازن کا مظاہرہ کیا؛ |
|
وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُـمْ قَتَـرٚ وَلَا ذِلَّـةٌ |
نہ تو افسردگی، مرجھاہٹ اور نہ خواری کے تاثرات ان کے چہروں پر چھائے ہوں گے۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلْجَنَّةِ |
یہ لوگ ہیں جو اصحاب جنت ہیں۔ Root: ص ح ب |
|
هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٦ |
یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہائش پذیر رہیں گے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّــَٔاتِ
جَزَآءُ سَيِّئَةِ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے برائیوں کو اپنا کسب بنائے رکھا ان کو سزا کے طور اس برائی کے مثل تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا جو ان کی برائی تکلیف کا باعث بنی تھی۔ |
|
وَتَرْهَقُهُـمْ ذِلَّـةٚ |
خواری کے تاثرات ان کے چہروں پر چھائے اور نمایاں ہوں گے۔ |
|
مَّا لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِـمٛ |
اللہ تعالیٰ کی جانب سے قطعاً کوئی وکیل صفائی ان کی معاونت کرنے کے لئے مقرر کیا جائے گا۔ Root: ع ص م |
|
كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُـمْ قِطَعٙا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمٙا |
ان کے چہروں پر خواری کے تاثرات ایسے ہوں گے جیسے تاریک سیاہ رات میں سے قطع کئے ٹکڑے نے ان کے چہروں کو ڈھانپ لیا ہو۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ |
یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔ Root: ص ح ب |
|
هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٧ |
یہ لوگ اس(جہنم)میں ہمیشہ رہائش پذیررہیں گے۔ |
|
وَيَوْمَ نَحْشُـرُهُـمْ جَـمِيعٙا |
آخرت کے حقائق سے بھی مطلع ہو جاؤ؛ہم جناب جس دن ان سب کو اجتماعی طور پر اکٹھا کریں گے؛ |
|
ثُـمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُـمْ أَنتُـمْ
وَشُرَكَآؤُكُمْ |
بعد ازاں اسمبلی ہم جناب ان لوگوں سے کہیں گے جو اپنےہاتھوں سے تراشے بتوں کو مشترک معبودان قرار دے کر پرستش کرتے تھے، تم لوگ اور تمہارے اختیار کردہ شرکاء اپنے اپنے مقام پر رکے رہو۔ |
|
فَزَيَّلْنَا بَيْنَـهُـمْ |
چونکہ ہم جناب نے انہیں قوت گویائی عنایت کر دی تھی اس لئے ان کے مابین تخیلاتی قربت و تعلق کے باطل پن کو پاش کر دیا۔ Root: ز ى ل |
|
وَقَالَ شُرَكَآؤُهُـم مَّا كُنتُـمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ٢٨ |
جس پر ان کے بنائے ہوئے شریک خداؤں نے کہا’’تم لوگ ہماری بندگی نہیں کرتے تھے۔ |
|
فَكَـفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَا |
چونکہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن کو جانتے ہیں،اس لئے وہ جناب ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ عینی شاہد کے طور موجود تھے۔ Root: ك ف ى |
|
إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُـمْ لَغَٟفِلِيـنَ ٢٩ |
یہ حقیقت ہے ہمارے بارے کہ ہم یقیناً تم لوگوں کی عبادت سے بے خبر(اپنی تسبیحات میں مصروف)تھے‘‘(سورۃ مریم۔۸۲ بھی دیکھ لیں)۔ Root: غ ف ل |
|
هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٛ مَّآ أَسْلَفَتْ |
اس بیان پر فوری طور پر وہیں کھڑے کھڑے ہر مشرک شخص جان لے گا اس بات کی اصلیت کو جو گئے دنوں وہ کرتا رہا تھا۔ Root: س ل ف |
|
وَرُدُّوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِ مَوْلَاهُـمُ ٱلْحَقِّ |
اور انہیں اللہ تعالیٰ کی جانب لے جایا جائے گا۔ان کے فرمانروا،حقیقی مالک۔ |
|
وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ٣٠ |
اور ان کے دل و دماغ سے وہ غائب ہو گیا جو زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔ |
|
قُلْ مَن يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ |
آپ(ﷺ)لوگوں کو اس حقیقت کا سامنا کرائیں یہ پوچھ کر’’وہ کون ہیں جو تم لوگوں کو آسمان اور زمین میں سے رزق مہیا کرتے ہیں؟ |
|
أَمَّن يَـمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلۡأَبْصَٟرَ |
یا وہ کون ہیں جو سماعت اور بصارتیں دینے پر اختیار رکھتے ہیں؟ Root: م ل ك |
|
وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَـىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَـىِّ |
اور وہ کون ہیں جو مادے سے ابتدا کر کے حیات کو خروج دیتے ہیں اور حیات میں سے مادے/میت کو خروج دیتے ہیں؟ |
|
وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمْرَ |
اور کون ہیں وہ جناب جو ہر طے شدہ معاملے کوترتیب سے پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ |
|
فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ |
چونکہ جس نکتے کر اجاگر کرنے کے لئے سوال پوچھا گیا ہےان کے متعلق جانتے ہیں کہ ایسی کوئی صلاحیت ان میں نہیں اس لئے کچھ ٹھہر کر کہیں گے’’یہ اللہ تعالیٰ کرتے ہیں‘‘۔ |
|
فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٣١ |
چونکہ انہوں نے اعتراف کر لیا ہے اس لئے آپ (ﷺ) ان سے پوچھیں "کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سےپناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟" |
|
فَذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمُ ٱلْحَقُّ |
چونکہ بالواسطہ تم نے تمام معبودوں کو کسی بھی خصوصیت سے عاری قرار دے دیا تو ان تمام کے حامل اللہ تعالیٰ ہیں، تم لوگوں کے رب،وہ جناب مطلق حقیقت ہیں۔ |
|
فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٟلُ |
چونکہ حقیقت تمہیں سمجھ آ رہی ہے تو دانستہ انحراف اور گم کردہ راہ رہنےکا حقیقت کے افشاں ہو جانے کے بعد کیا جواز اور سبب ہے۔ |
|
فَأَنَّـىٰ تُصْرَفُونَ ٣٢ |
چونکہ تم اس انحراف پر قائم ہو اس لئے یہ تو بتاؤ کہ کیسے اور کیوں تم لوگوں کو دوسری جانب پلٹا دیا جاتا ہے۔ Root: ص ر ف |
|
كَذَٟلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَـى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّـهُـمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٣٣ |
اس طرح آپ(ﷺ)کے رب کی دی ہوئی اطلاع ان لوگوں پر حقیقت بن گئی ہے جنہوں نے بدیہی حقیقتوں سے تنفر انگیز علیحدگی کو اپنی سرشت بنا لیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ Root: ف س ق |
|
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُـم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ
يُعِيدُهُۥ |
آپ(ﷺ)ان سے پوچھیں’’ذرا یہ تو بتاؤ؛تمہارے معبودان میں سے کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا کر سکتا ہے،بعد ازاں اس کے معدوم ہو جانے کے اسے از سر نواصل حالت میں لوٹا سکتا ہے؟ Root: ع و د |
|
قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥ |
آپ (ﷺ) ارشاد فرمائیں ’’یہ اللہ تعالیٰ ہیں ۔۔۔ وہ جناب سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔ |
|
فَأَنَّـىٰ تُؤْفَكُونَ ٣٤ |
چونکہ تم لوگوں کو ان معبودان کی اصلیت کا تجربے اور مشاہدے سے ادراک ہے تو کیسے اور کیوں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے منحرف کر کے جھوٹے نظریہ کی جانب راغب کر دیا جاتا ہے‘‘۔ |
|
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُـم مَّن يَـهْدِىٓ إِلَـى ٱلْحَقِّ |
آپ(ﷺ)ان سے پوچھیں’’ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے معبودان میں سے کوئی ہے جو حقیقت کی جانب رہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ |
|
قُلِ ٱللَّهُ يَـهْدِى لِلْحَقِّ |
آپ(ﷺ)بتائیں’’یہ اللہ تعالیٰ ہیں جو مطلق حقیقت کو جاننے کے لئے رہنمائی فرماتے رہتے ہیں‘‘۔ |
|
أَفَمَن يَـهْدِىٓ إِلَـى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا
يَـهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُـهْدَىٰ |
کیا یہ صائب نہیں کہ جو شخص (رسول کریم ﷺ)بیان حقیقت کی جانب جانے کی راہ دکھا رہاہے وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کے پیچھے خلوص سے چلا جائے یا اس کے پیچھے جانا جو خود تو کسی مقام کی جانب رہنمائی نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ خود اس کو کسی مقام پر لے جایا جائے۔ |
|
فَمَا لَـكُـمْ كَيْفَ تَحْكُـمُونَ ٣٥ |
چونکہ تم جانتے ہو کہ وہ خود تو چل کر کسی جگہ کا نشان راہ(ھدًی)بھی نہیں بن سکتے تو تمہارے لئے کیا جواز ہے کہ کیسے لوگوں کو ان کی پرستش کا حکم دیتے ہو۔ |
|
وَمَا يَتَّبِــعُ أَكْثَرُهُـمْ إِلَّا |
متنبہ رہو؛ان لوگوں کی اکثریت سوائے گمان سے اختراع کردہ تصور کے کسی مبنی بر حقیقت بات کی زیر مقصد پیروی نہیں کرتے۔ |
|
إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْئٙا |
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرسودہ گمان پائے ثبوت کو پہنچی سچائی کے مقابل کسی بھی معاملے میں منفعت بخش نہیں ہوتا۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ عَلَيـمُ |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے مطلق باخبر ہیں جو بھی جدید حرکت وہ کرتے ہیں۔ |
|
وَمَا كَانَ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَـرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ |
اس حقیقت کو جان بھی لو اور پرکھ بھی لو؛یہ ٱلْقُرْءَانُ ایسا کلام نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی تصنیف و تالیف کبھی بھی کر سکے۔ |
|
وَلَـٟكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِ |
یہ کہنا کہ رسول کریم ماضی کی اساطیر کے مؤلف ہیں دروغ گوئی ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زمان و مکان میں یہ اس کی تصدیق کرتا رہے گا جو زمان و مکان میں اس سے قبل حسب وعدہ ہدایت نامہ بھیجا گیا تھا۔ |
|
وَتَفْصِيلَ ٱلْـكِـتَٟبِ |
اور تو اور منفرد کتاب(ٱلْقُرْءَانُ )کو موضوعات کی فصول(فریم)میں متمیز اور مدون کرنا بھی ان جناب کی جانب اور صوابدید سے ہے۔ |
|
لَا رَيْبَ فِيهِ |
۔۔اس (ٱلْقُرْءَانُ )کے مجموعہ کلام/؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ کتابِ خاص جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔۔ |
|
مِن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٣٧ |
اس کو متمیز فصول اورآسان فہم انداز میں عالمین کے رب کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے مطابق مدون اور تالیف کیا گیا ہے۔ |
|
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُ |
کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں" اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(ٱلْقُرْءَانُ )کو ازخوداختراع کیا ہے"۔ |
|
قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٛ مِّثْلِهِۦ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’چونکہ آپ کا گمان اور الزام ہے کہ یہ میرا تصنیف کردہ ہے تواس کو ثابت کرنے یا اپنے آپ کو تذبذب اورالجھاؤ سے نکالنے کے لئےجائیں اوراِس (ٱلْقُرْءَانُ )کے مثل تصنیف کردہ ایک سورۃ ہی لے آئیں۔ Root: س و ر |
|
وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ |
اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے تمام صاحبان علم اور لکھاریوں کو بھی مدعو کر لو جن تک تمہاری رسائی ہو سکے۔ |
|
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٣٨ |
ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو‘‘۔ |
|
بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ |
ان کا یہ محض گمان ہے،انہوں نے برسرعام اس کو اس سبب سے جھٹلایاہے کہ اس میں مندرج معلومات و علم کا مطالعہ کر کے انہوں نے احاطہ ہی نہیں کیا۔ Root: ح و ط |
|
وَلَمَّا يَأْتِـهِـمْ تَأْوِيلُـهُۥ |
اور نہ ہی اب تک اس میں بیان کردہ انجام تکذیب کا ان پروقوع ہوا ہے۔ |
|
كَذَٟلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ |
اس انداز میں ان لوگوں نے بھی کلام اللہ کو برسرعام جھٹلایاتھا جن کی جانب ان سے قبل رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔ |
|
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٣٩ |
اس لئے(اپنے احساس غم کو کم کرنے کےلئے)آپ (ﷺ)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنانےوالوں کا آخر کار کیا انجام ہوا۔ |
|
وَمِنـهُـم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْـهُـم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦ |
ان میں عقل و فہم کے تابع رہنے والے دل کی شاد سے اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں جوجذبات و تعصب کے زیراثررہنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ |
|
وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ ٤٠ |
اور آپ(ﷺ)کے رب انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں جوبگاڑ پیدا کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ |
|
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّـى عَمَلِـى وَلَـكُـمْ عَمَلُـكُـمْ |
کیا یہ
انکار کرنے والے عمائدینِ قوم لوگوں سے مسلسل یہ کہتے رہتے ہیں کہ:"اس نے
اپنے مقاصد کی خاطر محنت اور قصد کے ساتھ اس (قرءان)کو
خود تصنیف کیا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر اس کی طرف جھوٹی
نسبت کر دی ہے؟" |
|
وَمِنْـهُـم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ |
اور ان عمائدین مشرکین میں لوگوں کو فریب دینے والے وہ بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ (قرءان)سننے کی خواہش آپ(ﷺ)کی جانب متوجہ ہیں۔ |
|
أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ ٤٢ |
اے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ کیا آپ ایک ایسے کانوں سے بہرے شخص کو اپنی بات سنوا سکتے ہیں جو آپ سے پیٹھ پھیر کر چل دے اور کیا ان کی سماعتوں تک بات پہنچا سکتے ہیں جو عقل استعمال کرنے پر رضامند ہی نہیں ہوتے تھے؟ Root: ص م م |
|
وَمِنـهُـم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ |
اوران عمائدین مشرکین میں لوگوں کو فریب دینے والے وہ بھی ہیں جو محفل میں آپ کی جانب دیکھتے رہتے ہیں۔ |
|
أَفَأَنتَ تَـهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ ٤٣ |
آپ اس پر غور کریں کہ کیا اسطرح کے منفرد اندھے کو آپ راستہ دکھا سکتے ہیں اور ان کو جو بصارتوں کو برؤے کار لانے پرراغب ہی نہیں ہوتے تھے۔ Root: ع م ى |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْــٔٙا |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کےساتھ معمولی سے معمولی زیادتی ،ناروا برتاؤ نہیں کرتے۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُـمْ يَظْلِمُونَ ٤٤ |
لیکن لوگ حقیقت کو باطل سے بدل کر خود اپنے نفوس پر زیادتی کرتے اور اپنی شخصیت کوبگاڑتے ہیں ۔ |
|
وَيَوْمَ يَحْشُـرُهُـمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةٙ مِّنَ
ٱلنَّـهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَـهُـمْ |
مطلع رہو؛جس دن ازسر نو حیات دئیے جانے پر وہ جناب انہیں ایک مقام پر مجتمع کر دیں گے تو ان کا اندازہ یہ ہوگا جیسے وہ دن کے کچھ وقت کے دوران پہلی حالت میں رہے تھے۔وہ ایک دوسرے سے پہلے سے متعارف ہیں۔ Root: ل ب ث |
|
قَدْ خَسِـرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ |
یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں نے انجام کےحوالے سےخسارا کمایا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور احتساب کےلئے پیش ہونے کوبرملاجھٹلایا تھا۔ |
|
وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ٤٥ |
اوروہ اس حالت میں رہے کہ راہ راست کو پانے کے متمنی ہی نہ تھے۔ |
|
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُـمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ |
چونکہ یوم آخر نے بالکل اچانک وقوع پذیر ہونا ہے اس لئے اگر ہم آئندہ
کسی وقت اس(دن)کے کچھ ابتدائی حصے کو آپ(ﷺ)کی نگاہوں کو دکھا دیں جس کا
ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں؛یا اس سے قبل آنے والے دنوں میں
ہم جناب آپ (ﷺ)کو لوگوں کی مصاحبت سے
الگ کر لیں (بسبب طبعی موت)۔۔ |
|
وَلِـكُلِّ أُمَّةٛ رَّسُولٚ |
اور زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ کے مبعوث فرمائے رسول ہر ایک ایک نسل کے لئے وکیل استغاثہ اوروکیل صفائی کا فرض انجام دیں گے۔ |
|
فَإِذَا جَآءَ رَسُولُـهُـمْ قُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْقِسْطِ |
چونکہ عدالتی کاروائی پر فیصلہ ہوگا اس لئے جب ان کے لئے دنیا میں مبعوث فرمائے رسول تشریف لے آئیں گے۔تو ان لوگوں کے مابین انصاف اور برابری کے اصولوں کے مطابق معاملہ انجام کو پہنچا دیا جائے گا۔ Root: ق س ط |
|
وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٤٧ |
اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ |
|
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٟذَا ٱلْوَعْدُ |
۔اور وہ پوچھتے ہیں’’بتاؤ یہ وعدہ کس تاریخ/دن کو پورا ہو گا۔ |
|
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٤٨ |
بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘ |
|
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرّٙا وَلَا
نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ
ٱللَّهُ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’میرے پاس خود اپنی ذات کو ضرر دینے اور نہ نفع کا اختیار ہے۔ میرے لئے نفع اور ضرر صرف وہ ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہوا ہے۔ Root: م ل ك |
|
لِـكُلِّ أُمَّةٛ أَجَلٌ |
ایک مقررہ میعاد اور لمحہ ہر ایک قوم کے ناکام یا کامیاب ہونے اور احتساب کے لئے پیش ہونے کے لئے متعین شدہ ہے ۔ |
|
إِذَا جَآءَ أَجَلُـهُـمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةٙ |
چونکہ مساوات و عدل کے اصولوں کے تحت یہ متعین کردہ ہے اس لئے جب ان کا مقررکردہ لمحہ پہنچ جاتا ہے تو ان کے لئے باوجود شدید خواہش کے ایک گھڑی مؤخر کرنا ممکن ہے اور نہ وہ اپنی خواہش سے اس کو مقدم کر سکتے ہیں۔ |
|
قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِنْ أَتَىٰكُـمْ عَذَابُهُۥ بَيَٟتًا أَوْ نَـهَارٙا |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’کیا تم لوگوں نے اس امکان پر غور کیا ہے کہ اگر ان جناب کا فرمان آفت تم لوگوں پررات کو نیند کے دوران یا دن دہاڑے پہنچ جائے۔ |
|
مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ ٥٠ |
اس میں سے کیا ہے جس کے لئے جرائم کے مرتکب قرار پائے لوگ عجلت کے خواہش مند ہوں گے۔ Root: ع ج ل |
|
أَثُـمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنْتُـم بِهِۦٓ |
کیا عذاب کے بعد ازاں جب وہ وقوع پذیر ہو چکا تو اس پر ایمان لاؤ گے کہ وہ دھمکی نہیں حقیقت تھا۔ Root: و ق ع |
|
ءَآلْـَٔـٟنَ وَقَدْ كُنتُـم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ٥١ |
کہا جائے گا’’اب! جبکہ تم اس کو عجلت میں لانے کا کہتے رہتے تھے‘‘۔ Root: ع ج ل |
|
ثُـمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ |
بعد ازاں یوم قیامت از سر بو حیات دئیے جانے پر ان لوگوں کے لئے اعلان کر دیا گیا جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل اور سرشت کو اپنائے رکھا تھا’’ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب کو بھگتو۔ Root: ذ و ق |
|
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُـمْ تَكْسِبُونَ ٥٢ |
بتاؤ کیا تمہیں سوائے اس کے کچھ اور سزا سے تو ہمکنار نہیں کیا جا رہا سوائے اس کے مطابق جو کسب تم لوگ کرتے رہے تھے‘‘۔ |
|
وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ |
اور آپ(ﷺ)سے لوگ اس خبر کی تصدیق چاہتے ہیں کہ کیا وہ بدیہی حقیقت ہے۔ |
|
قُلْ إِى وَرَبِّـىٓ إِنَّهُۥ لَحَقّٚ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’بالکل؛اور میں اپنے رب کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں،وہ(یوم آخر اور حیات نو)اس طرح کا بیان حقیقت ہے جیسے وہ وقوعہ جو ہو چکا ہو۔ |
|
وَمَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ ٥٣ |
اور تم لوگ یہ سکت نہیں رکھتے کہ اسے روک سکوموخر کر سکو‘‘۔ Root: ع ج ز |
|
وَلَوْ أَنَّ لِـكُلِّ نَفْسٛ ظَلَمَتْ مَا فِـى ٱلۡأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ
بِهِۦ |
متنبہ رہو؛اگر بالفرض وہ تمام دولت جو زمین میں موجود ہے ہر اس شخص کے پاس ہو جس نے حقیقت کے منافی باطل سرشت کو اپنائے رکھا تھا کہ اس کو معافی پانے کے لئے زرہرجانہ کے طور پیش کر سکے،تو بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ Root: ف د ى |
|
وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ |
اور وہ ندامت اور احساس شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کریں گے جوں ہی انہوں نے انہیں گرفت میں لینے والے عذاب کو دیکھ لیا۔ |
|
وَقُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْقِسْطِ |
اور ان کے مابین انصاف اور برابری کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کے معاملے کو نبٹا دیا گیا۔ Root: ق س ط |
|
وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٥٤ |
اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ |
|
أَ لَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
خبردار رہو؛حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ جوآسمانوں میں موجود ہے اور سب کچھ جو زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے شرف و کبریائی بیان اور ظاہر کرتے ہوئےمصروف عمل ہے۔ |
|
أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚ |
خبردار رہو؛یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اتنا بدیہی حقیقت ہے جیسے پائے ثبوت کو پہنچ چکا ہو۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٥٥ |
مگر ان کی اکثریت معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔ |
|
هُوَ يُحْـىِۦ وَيُمِيتُ |
وہ جناب حیات کو ظہور دیتے ہیں اور ذی حیات کو موت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ |
|
وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٥٦ |
متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔ |
|
يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ |
اے لوگو!دھیان سے سنو!زمان و مکان میں نافذ العمل نصیحت تم لوگوں تک پہنچ
چکی ہے۔اس کو تمہارے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں ملنے پر رسول
کریم نے بیان کر دیا ہے۔اور ان نفسیاتی بیماریوں کے لئے تدارک جن کو تمہارے
سینوں میں جاگزیں کر دیا گیا تھا۔ Root: و ع ظ |
|
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْـمَتِهِۦ فَبِذَٟلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اس(قرءان مجید)کا عنایت کیا جانا اللہ تعالیٰ کے فضل اور ان کی رحمت کے دائمی موجود ہونے کا اظہار ہے۔چونکہ یہ ہدایت نامہ ہے اس لئے اس سے استفادہ کرو۔چونکہ تمام نفسیاتی الجھنوں سے بچنے کی نصیحت اس میں موجود ہے اس لئے شاداں رہو۔ Root: ف ر ح |
|
هُوَ خَيْـرٚ مِّمَّا يَجْـمَعُونَ ٥٨ |
یہ(قرءان مجید)اس تمام فضل و کرم سے بہترین ہے جسے وہ جمع کرتے رہتے ہیں‘‘[الزخرف۔31 ساتھ دیکھیں)۔ |
|
قُلْ أَرَءَيْتُـم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَـكُـم مِّن رِّزْقٛ فَجَعَلْتُـم مِّنْهُ حَرَامٙا وَحَلَٟلٙا |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’کیا تم لوگوں نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے بطور رزق دنیا میں بھیجا ہے۔چونکہ تم اپنے مفاد میں اختراع کرنے کے شوقین ہو اس لئے تم نے اس رزق میں کچھ کو حرام اور کچھ کو لوگوں کے لئے حلال قرار دیا ہے‘‘۔ |
|
قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَـكُـمْ |
آپ(ﷺ)سوال کریں’’کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا کرنے کا اجازت نامہ دیا ہے۔ |
|
أَمْ عَلَـى ٱللَّهِ تَفْتَـرُونَ ٥٩ |
یا حقیقت اس کے برعکس ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے کانٹ چھانٹ کر زیر مقصد باتیں اختراع کرتے ہو‘‘۔ |
|
وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْـتَـرُونَ عَلَـى ٱللَّهِ ٱلْـكَذِبَ يَوْمَ
ٱلْقِيَٟمَةِ |
اوران لوگوں کا یوم قیامت کے متعلق کیا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر جھوٹ اختراع کر کے لوگوں سے بیان کرتے رہتے ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَـى ٱلنَّاسِ |
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو کہ بلاشبہ لوگوں پرصاحب فضل وکرم ہیں۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُونَ ٦٠ |
اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔ |
|
وَمَا تَكُونُ فِـى شَأْنٛ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْـهُ مِن قُرْءَانٛ |
مطلع رہیں؛آپ(ﷺ)کے فرائض رسالت انجام
دینے کے دوران کوئی لمحہ ایسا نہیں اوراس اہم کام میں سے جوآپ(ﷺ)اس (ٱلْقُرْءَانُ)میں
سے موقع محل کے مطابق اس کے متن میں سے لوگوں کو لفظ
بلفظ سنا رہے ہوتے ہیں؛ Root: ف ى ض; ذ ر ر Sub-Atomic Particles are inventoried/catalogued; tells Qur’ān. |
|
أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ
عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٦٢ |
جان لو؛ان لوگوں کے متعلق یہ حقیقت ہے
جو اللہ تعالیٰ سے رفاقت اور قربت رکھتے ہیں:آخرت
میں کسی طرح کا خوف ان
پر مسلط نہیں ہوگا۔اور نہ کبھی انہیں حزن
و ملال کا سامنا ہو گا۔ |
|
لَـهُـمُ ٱلْبُشْـرَىٰ فِـى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ |
رسول کریم(ﷺ)نے ان کے لئے حیات دنیا اور حیات آخرت میں بہترین نتائج اور انجام کے متعلق خوش خبری کا عندیہ دے دیا ہے۔(الزمر۔۱۰ ساتھ پڑھیں) |
|
لَا تَبْدِيلَ لِـكَلِمَٟتِ ٱللَّهِ |
(آپ ﷺ مطمئن رہیں )یہ حقیقت ہے کہ زمان و مکان میں قطعاً کوئی مبدَّل کلام نہیں جو اللہ تعالیٰ کے مدون اور مرتب کئےکلمات میں ردو بدل کر کے اورمتبادل خصوصیت کا حامل بنا کر پیش کیا جا سکے۔ |
|
ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ٦٤ |
یہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔ Root: ف و ز |
|
وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُـهُـمْ |
اور ان لوگوں کی ہرزہ سرائی اور لغو بیانی آپ(ﷺ)کے لئے موجب رمج،حزن و ملال نہ بننے پائے۔ |
|
إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ |
یہ حقیقت ہے کہ ا للہ تعالیٰ کیلئے تمام غلبہ و اقتدارمکمل طور پر مخصوص ہے۔ |
|
هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٦٥ |
ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
أَ لَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَنْ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
مطلع رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی آسمانوں میں ذی حیات موجود ہے اور جو کوئی زمین میں ذ ی حیات موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے دل کی شاد سے سربسجود ہوتا ہے اورنظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر سرنگوں ہو گا(محذوف خبر کے لئے دیکھیں الحج۔۸)۔ |
|
وَمَا يَتَّبِــعُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَ |
اور وہ عمائدین مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ متفرق معبودان کو پکارتے رہتے ہیں ، وہ رسول کریم اور قرءان مجید کی اتباع نہیں کریں گے۔ |
|
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ |
متنبہ رہو؛وہ دانستہ زیر مقصد(دنیاوی مفادات بٹورنے کی غرض سے)علم و ثبوت سےعاری باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ |
|
وَإِنْ هُـمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ٦٦ |
اور وہ علم و سچائی سے ماورا جھوٹےتخیلاتی قیاسات کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرتے۔ |
|
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيلَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّـهَارَ مُبْصِرًاۚ |
وہ جناب ہیں جنہوں نے رات کو تم لوگوں کے لئے دھندلا اور نسبتاً بارد بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ اس کے دوران راحت و آرام حاصل کرو۔اور ہم جناب نے دن کو تمہارے لئے روشن اور منور بنایا ہے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَسْمَعُونَ ٦٧ |
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں ایسی شہادتیں ہیں جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں خاص کر ان لوگوں کے لئے جوبات توجہ اور انہماک سے سنتے ہیں۔ |
|
قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَـدٙا |
جان لو؛انہوں(قدیم یہودی عمائدین)نے کہا’’اللہ تعالیٰ نے عزیر کو زیر مقصد بطور بیٹا اپنا لیا ہے‘‘۔ |
|
سُبْحَٟنَهُۥ |
وہ جناب ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔ |
|
هُوَ ٱلْغَنِىُّ |
وہ جناب ہیں جو ہر احتیاج سےمطلق منزہ اور مطلق آزاد ہیں۔ |
|
لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟت وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ |
جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔ |
|
إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَٟن |
۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے اس قول کے دفاع کے لئے قطعاً کوئی دلیل اور سند تم لوگوں کی جانب سے پیش نہیں کیا جاتا۔اگر تمہارے پاس ہے تو بیان کرو۔(محذوف کے لئے الصافات۔۱۵۵۔۱۵۷) Root: س ل ط |
|
أَتقُولُونَ عَلَـى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٦٨ |
کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے وہ بات کہتے ہو جس کا ان کی جانب سے تمہیں علم حاصل نہیں۔ |
|
قُلْ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْـتَـرُونَ عَلَـى ٱللَّهِ ٱلْـكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ٦٩ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہوئے منفرد جھوٹ اختراع کرتے ہیں کبھی دائمی کامیاب اور سرخرو نہیں ہو پائیں گے‘‘۔ Root: ف ل ح |
|
مَتَـٟـعٚ فِـى ٱلدُّنْيَا |
سامان زیست کا حصول دنیا میں ان کے روئیے اور طرز عمل کا محور ہے۔ |
|
ثُـمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ |
بعد ازاں حیات نو دئیے جانے پرحتمی طور پر طے شدہ یہ ہے کہ انہیں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔ |
|
ثُـمَّ نُذِيقُهُـمُ ٱلْعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا۟ يَكْـفُـرُونَ ٧٠ |
بعد ازاں عدالتی کاروائی مکمل ہو جانے پر ہم جناب انہیں شدید جسمانی اور نفسیاتی عذاب کا مزہ چکھاتے رہیں گے اس جرم کی سزا میں جو وہ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولوں کے مابین تفریق ظاہر کر کے بدیہی کافر رہے تھے۔ |
|
وَٱتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ |
اور آپ(ﷺ)نوح(علیہ السلام)کے دور کی یہ خبر من وعن ان پر افشاں کر دیں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: |
|
يٟقَوْمِ إِن كَانَ كَبُـرَ عَلَيْكُـم مَّقَامِـى وَتَذْكِيـرِى بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ |
’’اے میری قوم!اگر اللہ تعالیٰ کے کلام پر مبنی آیات کے مطابق میرا مؤقف اور میرا عوام الناس کو انتباہ اور خبردار کرنا تم لوگوں پر گراں ہے۔ |
|
فَعَلَـى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ |
چونکہ میں رسالت کے فرائض انجام دے رہا ہوں اس لئے بہتر نتائچ کے لئے میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے۔ |
|
فَأَجْـمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُـمَّ لَا يَكُنْ أَمْـرُكُمْ عَلَيْكُـمْ غُمَّةٙ |
چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین ہے اس لئے تم لوگ اپنے ارادے کو متحد ہو کر حتمی کر لو؛اور اپنے شریک کاروں کو مدعو کر کے ان سے مشورہ بھی کر لو۔بعد ازاں اجتماعی سوچ بچار کے تمہارا منصوبہ تم پر کسی پہلو سے باعث الجھاؤ اور پریشانی نہیں ہوگا[محذوف فعل کے لئے دیکھیں الاعراف۔۱۹۵]۔ Root: غ م م |
|
ثُـمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَـىَّ وَلَا تُنظِرُونَ ٧١ |
بعد ازاں اس سوچے سمجھے منصوبہ کو میرے خلاف بروئے کار لے آؤ اور مجھے مہلت بھی نہ دو۔ |
|
فَإِن تَوَلَّيْتُـمْ فَمَا سَأَ لْتُكُـم مِّنْ
أَجْرٍۖٛ |
چونکہ میں نے تمہیں بھی متنبہ کر دیا ہے اس لئے اگر تم ازخود پلٹ کر جاتے ہو تو اس بات پر تو غور کرو کہ میں نے اس کام کے لئے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کیا ہے۔ Root: و ل ى |
|
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِ |
اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر واجب الادا ہے۔ |
|
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٧٢ |
اور مجھے منصب رسالت سونپتے ہوئے یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں کلام اللہ کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں میں اول تسلیم کرنے والا بنوں‘‘۔ |
|
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَٟهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِـى ٱلْفُلْكِ |
چونکہ ان پر مفادات اور لوگوں پر تسلط رکھنے کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے ان کے فرمودات کو برملا جھٹلا دیا۔نتیجے میں مہلت کا وقت ختم ہونے پر عذاب پہنچنے سے قبل ہم جناب نے انہیں(نوح علیہ السلام) اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے وہاں سے باحفاظت نکال دیا۔ Root: ف ل ك |
|
وَجَعَلْنَٟهُـمْ خَلَـٰٓئِفَ |
اور ہم جناب نے انہیں زمین میں خود مختار فرمانروا قرار دے دیا تھا۔ |
|
وَأَغْـرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا |
اور ہم جناب نے ان لوگوں کو مقامی سیلاب میں غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات(کتاب کے مندرجات اور معجزہ)کو برملا جھٹلایا تھا۔ Root: غ ر ق |
|
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ ٧٣ |
چونکہ مجرمین کو سزا دینے کا اصول طے شدہ ہے اس لئے آپ(ﷺ) اپنے احساس غم کو کم کرتے کے لئے)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں متنبہ کئے گئے لوگوں کا اخر کار انجام کیا ہوا تھا۔ |
|
ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَـىٰ قَوْمِهِـمْ |
بعد ازاں ان(نوح علیہ السلام)کی طبعی موت کے ایک عرصہ بعد رسولوں کو جو اپنی قوم میں توحید کے پیروکار مشہور تھے ان کی قوم کی جانب ہم جناب نےمبعوث فرمایا۔ |
|
فَجَآءُوهُـم بِٱلْبَيِّنَٟتِ |
فرائض رسالت سونپے جانے پروہ ان (قوم)کے پاس عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے تھے جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔۔ |
|
فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ |
عینی تجربہ اور ثبوت کے باوجود وہ لوگ اس پر ایمان لانے کا سوچتے بھی نہ تھے جس کو وہ گزرے زمانہ میں برملا جھٹلا چکے تھے۔ |
|
كَذَٟلِكَ نَطْبَعُ عَلَـىٰ قُلوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ ٧٤ |
یہ ہے طرز عمل کا وہ انداز جس پر ہم جناب مسلسل دانستہ زیر مقصد بے اعتدالیاں کرنے اور حدود و قیود کو پامال کرنے والوں کے دلوں پر،ان کے اپنے بقول پڑے غلافوںکوسربمہر کر دیتے ہیں۔ Root: ط ب ع |
|
ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِـم مُّوسَـىٰ وَهَـٟرُونَ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَـٟتِنَا |
ان قوموں کی ہلاکت کے عرصہ بعد ہم جناب نے موسیٰ اور ھارون(علیہماالسلام)کو فرائض رسالت تفویض فرما کر فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب مبعوث فرمایا عینی مشاہدہ کے لئےہماری ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔۔۔ Root: م ل ء |
|
فَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمٙا مُّجْرِمِيـنَ ٧٥ |
عینی مشاہدہ اور تجربہ ہو جانے کے باوجود غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنی عظمت کے خواہش مند رہے؛اور ان کی روش بدستورمجرم قوم کی تھی۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا |
ان کے مطالبہ پر جوں ہی اس منفرد حقیقت کا اظہار ہو گیا جسےہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھانے کے لئے عنایت کیا تھا: |
|
قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٟذَا لَسِحْرٚ مُّبِيـنٚ ٧٦ |
انہوں(فرعون کے قریبی رفقا)نے جھٹ سے کہا’’یہ تو درحقیقت صریح شعبدہ بازی کا مظاہرہ ہے‘‘۔ Root: س ح ر |
|
قَالَ مُوسَـىٰٓ أَتقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ |
موسیٰ(علیہ السلام)نے ان کو مخاطب کر کے کہا’’کیا تم لوگ یہ بات بدیہی حقیقت کے حوالے سے کہہ رہے ہو جوں ہی تم نے اس کو دیکھا۔ |
|
أَسِحْرٌ هَـٟذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّٟحِرُونَ ٧٧ |
کیا یہ جو دیکھ رہے ہو شعبدہ ہے؟متنبہ رہو،شعبدہ باز آخرکار کبھی کامیاب نہیں ہوتے لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنے میں‘‘۔ |
|
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا |
انہوں(فرعون کے قریبی رفقاء)نے کہا’’کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس تہذیب سے دور کر دیں جس پر ہم نے اپنے آباؤاجداد کو پایا تھا۔ Root: ل ف ت |
|
وَتَكُونَ لَـكُـمَا ٱلْـكِـبْـرِيَآءُ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
اور سلطنت میں عظمت و بڑائی آپ دونوں کے لئے ہو جائے۔ |
|
وَمَا نَـحْنُ لَـكُـمَا بِمُؤْمِنِيـنَ ٧٨ |
اور ہم آپ دونوں کے لئے قطعاً ایمان لانے والے نہیں ہیں‘‘۔ |
|
وَقَالَ فِرْعَوْنُ |
اور فرعون نے اپنے قریبی رفقاء سے کہا: |
|
ٱئْتُونِـى بِكُلِّ سَٟحِرٍ عَلِيـمٛ ٧٩ |
’’ تمام کے تمام شعبدہ بازی کے علم میں ماہرین کو لے کر میرے پاس آؤ"۔ Root: س ح ر |
|
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ |
چونکہ وہ الگ مشورہ کرنے چلے گئے تھے اس لئے جوں ہی شعبدہ باز واپس آئےتو انہوں نے پہل کرنے کے متعلق استفسار کیا : Root: س ح ر |
|
قَالَ لَـهُـم مُّوسَـىٰٓ أَ لْقُوا۟ مَآ أَنتُـم مُّلْقُونَ ٨٠ |
موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا"آپ لوگ کرتب دکھائیں، سامنے زمین پر پھینکیں جو تم پھینک کر شعبدہ دکھاتے ہو"۔ |
|
فَلَمَّآ أَلْقَوا۟ قَالَ مُوسَـىٰ مَا جِئْتُـم بِهِ ٱلسِّحْرُ |
چونکہ وہ یکے بعد دیگرے تسلسل سے پھینک رہے تھے اس لئے جب وہ تمام پھینک چکے تو موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا’’وہ جو تم نے اس عمل سے پیش کیا ہے وہ منفرد شعبدہ ہے،مختصر وقت کے لئے فریب کی کیفیت ہے۔ Root: س ح ر |
|
إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ |
اس حقیقت کو جان لو؛اللہ تعالیٰ جلد اس کو باطل، پانی پر ابھرے جاگ کی مانند زائل کر دیں گے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٨١ |
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ ذہنی و فکری انتشار پھیلانے ،بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو بحال نہیں رہنے دیتے‘‘۔ |
|
وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٟتِهِۦ |
جان لو؛ اللہ تعالیٰ حقیقت کو اپنے بیان کردہ کلمات کے ذریعے بدیہی حقیقت کے روپ میں بیان فرماتے ہیں ۔ |
|
وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ ٨٢ |
اس سے قطع نظر کرتے ہوئے چاہے وہ مجرم قرار پائے لوگوں کوناگوار محسوس ہو۔ Root: ك ر ه |
|
فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَـىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٚ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَـىٰ
خَوْفٛ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟ـهِـمْ أَن يَفْتِنَـهُـمْ |
چونکہ ریاستی جبر سے لوگ دہشت زدہ تھے
اس لئے حقیقت جان لینے کے باوجود موسیٰ )علیہ السلام)پر
ایمان نہیں لائے،سوائے ان کی قوم کے چند جوانوں کے، جو فرعون اور اس کے
سرداروں کے خوف سے ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں ہیجان اور تکلیف دہ
آزمائش میں مبتلا نہ کر دیں۔ Root: ذ ر ر; م ل ء ; س ر فFir'aoun - Pharaoh: a King with acute Narcissistic personality disorder |
|
وَقَالَ مُوسَـىٰ يٟقَوْمِ إِن كُنتُـمْ ءَامَنتُـم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُـم مُّسْلِمِيـنَ ٨٤ |
اس دور کی تاریخ کے متعلق مزید جان لو؛موسیٰ(علیہ السلام) نے کہا’’اے میری قوم!اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو پختگی ایمان کے اظہار کے لئے بہتر وقت اور نتائج کے لئے ان پر بھروسہ اور اعتماد رکھو۔پر امید رہو اگر تم ضابطہ حیات اسلام پر کاربند ہو‘‘۔ Root: و ك ل |
|
فَقَالُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٙ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٨٥ |
رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ہم عقل و خرد کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوکر بہترین نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ہمارے رب!ہمیں اس قوم کی آزمائش/کھوٹے کھرے کو ظاہر کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں جو حقیقت کے منافی باطل نظریات اور طرز عمل پر کاربند ہیں۔ |
|
وَنَجِّنَا بِرَحْـمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٨٦ |
اور آپ جناب ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ رسول اللہ کا انکار کرنے والی قوم کے ظلم و استحصال سے نجات دلائیں"۔(سورۃ یونسؐ۔٨٦) |
|
وَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُـمَا بِمِصْرَ بُيُوتٙا |
جان لو حالات کے پیش نظر ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)اور ان کے بھائی کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ’’آپ دونوں شہر مصر میں اپنی قوم کے لئے موافق اور سازگارگھروں کی نشاندہی کریں۔ |
|
وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُـمْ قِبْلَةٙ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ |
اور اپنے ان گھروں کو مختلف علاقوں میں روبرو ہونے کا مقام قرار دے دو۔اور استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے تم لوگ صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے رہو |
|
وَبَشِّـرِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٨٧ |
اورآپ (موسیٰ علیہ السلام)صدق قلب سےایمان لانے والوں کو کامیابی و کامرانی کی بشارت / ضمانت دیں‘‘۔ |
|
وَقَالَ مُوسَـىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةٙ وَأَمْوَٟلٙا فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
اور موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا’’اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہے کہ آپ جناب نے فرعون اور اس کے رفقاء سرداروں کوشان و شوکت اور مال و دولت سے حیات دنیا میں نوازا ہے۔ Root: م ل ء |
|
رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ |
اے ہمارے رب!مگر انہوں نے اس عنایت کو آپ جناب کے مقرر راستے سے لوگوں کو منحرف کر کے دور کر دینے کے لئے استعمال کیا ہے۔ |
|
رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَـىٰٓ أَمْوَٟلِـهِـمْ وَٱشْدُدْ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ |
اے ہمارے رب!آپ ان کے مال و دولت پر خستگی طاری کر دیں۔اور ان کے دلوں پر سختی اور جمود کا اثر قائم رہنے دیں۔ |
|
فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَـتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٨٨ |
چونکہ یہ غفلت اور لا پرواہی کا سبب ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں تاوقتیکہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں‘‘۔ |
|
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُـمَا |
ان جناب نے جواب دیا’’میں نے تم دونوں کی دعا کو شرف قبولیت دے دیا ہے(ایسا ہی ہوگا)‘‘۔ |
|
فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ٨٩ |
چونکہ ابھی مہلت کا کچھ وقت باقی ہے اس لئے آپ دونوں مطنئن رہتے ہوئے استقامت سے فرائض انجام دیتے رہیں،اور ان لوگوں کے اختیار کردہ راستے کی آئندہ بھی پیروی نہ کریں جو علم حاصل کرنے کے خواہشمند ہی نہیں‘‘۔ |
|
وَ جَٟوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ
فَأَتْبَعَهُـمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَ عَدْوًاۖ |
اور ہم جناب نے
انہیں بنی اسرائیل کی مصاحبت میں بحر سویز کو باحفاظت عبور کرنے میں
مدد دی۔چونکہ
انہوں نے سطح آب کے اوپر ابھرے خشک راستے سے بحافظت عبور ہونے کا منظر
دیکھ لیا اس لئے فرعون نے تعاقب کرنے کا فیصلہ
کیا۔اور اس کی پیروی اس کے لشکروں نے کی۔ان کو پکڑنے کی شدید خواہش
اورعداوت اس کے قلب و ذہن پر غالب تھی۔ |
|
ءَآلْـَٔـٟنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٩١ |
اسے جواب دیا گیا’’کیااب،اس وقت؛مگر اس سے قبل کے زمان میں ہمیشہ تو انکار کرتا رہا ہے۔اور تیرا شمار ان میں رہا جو حقیقت کے منافی ذہنی و فکری انتشار اور بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں۔ |
|
فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ
خَلْفَكَ ءَايَةًۭۚ |
چونکہ
تجھے سدھرنے کے بہت مواقع دئیے گئے مگر تونے گنوا دئیے اس لئے ہم جناب
آج تجھے اپنے سینے پر پہنی زرہ بکتر سمیت اندر جاگزیں خوف اور بزدلی سے
نجات دلا دیں گے۔اس طرح ہم تجھے ہر اس شخص کے لئے عبرت کا
نشان بنا دیں جو تیرے جیسا طرز عمل اختیار کرے گا‘‘۔ Root: غ ف ل |
|
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٛ وَرَزَقْنَٟهُـم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٟتِ |
تاریخ سے مطلع ہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے مصر سے خروج پربنی اسرائیل کو مقرر کردہ ٹھکانا دیا تھا،وعدہ کو سچ کر دکھانے کے انداز میں مقرر کیا ہوا مقام۔اورہم جناب نے انہیں مرغوب اور صحت افزا سامان زیست مہیا کیا تھا۔ |
|
فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَـتَّىٰ جَآءَهُـمُ ٱلْعِلْمُ |
چونکہ من گھڑت تاریخ کو پہلے چیلنج نہیں کیا گیا تھا اس لئے انہوں نے رسول کریم سے اس وقت تک اختلاف نہیں کیا تاوقتیکہ مبنی بر حقیقت علم(قرءان مجید)ان کو پہنچ گیا۔ |
|
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ فِيـمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٩٣ |
(رہنے دو انہیں ان تخیلاتی خوش فہمی میں)یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ) کے رب روز قیامت ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔ |
|
فَإِن كُنتَ فِـى شَكّٛ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ
ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْـكِـتَٟبَ مِن قَبْلِكَ |
چونکہ اہل کتاب متضاد اختلافی باتیں کرتے ہیں اِس لئے اگرآپ ماضی میں ان موضوعات پرعدم ثبوت باتوں پر شک کا اظہار کرتے تھےجن کے متعلق مبنی بر حقیقت معلومات ہم آپ پر مجتمع انداز میں نازل فرما چکے ہیں تو اپنے اظہار شک کے متعلق ان سے سوال پوچھیں/انہیں سامنا کرائیں جو منفرد کتاب کو پڑھ رہے ہیں جس کو آپ (ﷺ) سے قبل انہیں عنایت کیا تھا۔ Root: ش ك ك |
|
لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ |
یقینا بیان حقیقت: قرء ان مجیدآپ (ﷺ) کے رب کی جانب سے آپ کوآسان فہم تدوین میں پہنچ چکا ہے۔ (جسے وہ جانتے ہیں الانعام۔۱۱۴) |
|
فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَـرِينَ ٩٤ |
چونکہ وہ حقیقت کو جاننے کے باوجود لیت و لعل کرتے ہیں اِس لئے آپ (ﷺ)کو چاہئے کہ اُن اہل کتاب کے لئے آج کے بعد زیادہ متردد/فکر مند انداز میں نہ رہیں۔ |
|
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ |
اور نہ آئندہ آپ (ﷺ)ان لوگوں کے لئے زیادہ متردد اور فکرمند ہو کر وقت دیں جن کا تعلق ان سے ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام پر مبنی آیات کو برملا جھٹلایا ہے۔ Root: ء ى ى |
|
فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٩٥ |
چونکہ آپ کا وقت قیمتی اور اسکے زیادہ حق دار اپنے رب سے بن دیکھے مرعوب اور سہمے رہتے ہیں اس لئے ایسا کر کے وقت کا نقصان کرنے والے بن جائیں گے۔ Root: خ س ر |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْـهِـمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ ٩٦ |
آپ (ﷺ)یہ حقیقت یاد رکھیں کہ وہ لوگ جن پر آپ(ﷺ)کے رب کا بیان حقیقت بن چکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ |
|
وَلَوْ جَآءَتْـهُـمْ كُلُّ ءَايَةٛ |
وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے تمام قسم کی شہادتوں (آیات /معجزات)کا عینی مشاہدہ کر بھی لیں جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے سند اور برھان ہونے کا درجہ رکھتی ہوں تب بھی ان کو وہ تسلیم نہیں کریں گے (اور کہہ دیں گے یہ طلسماتی شعبدہ بازی ہے) |
|
حَـتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٩٧ |
وہ تب ایمان لائیں گے جب المناک عذاب دیکھ لیں گے۔ |
|
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٟنُـهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ |
باوجود بار بار تنبیہ کئے جانے کے کیوں ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بستی ہوتی جو ایمان لے آتی تو حسب وعدہ رسول ان کا ایمان لانا اسے موجب نفع ہوتا، سوائے یونس(علیہ السلام) کی قوم کے۔ |
|
لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْـهُـمْ عَذَابَ ٱلخِزْىِ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
جوں ہی وہ ایمان لے آئے ہم جناب نے حیات دنیا میں رسوا کن عذاب کو ان سے دور کر دیا۔ |
|
وَمَتَّعْنَٟهُـمْ إِلَـىٰ حِيـنٛ ٩٨ |
اور ہم جناب نےایک مدت کے لئے انہیں خوشحالی اور سامان زیست سے نواز دیا۔ |
|
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِـى ٱلۡأَرْضِ كُلُّهُـمْ جَـمِيعًاۚ |
مطلع رہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اگر آپ(ﷺ) کے رب کا ارادہ اور منشاء یہ ہوتا تو ان تمام میں سےہر کوئی جو زمین میں موجود ہے آپ (ﷺ) اور الہدی/قرءان مجید پر ایمان لے آتا(ان کو عطا کردہ حریت سلب کر کے)، اجتماعی انداز میں۔ |
|
أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَـتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِيـنَ ٩٩ |
کیا اس کے باوجود آپ(ﷺ)اپنی توانائیاں خرچ کر کے اور زیادہ وقت دے کر لوگوں کو مجبور کر سکیں گے یہاں تک وہ ایمان والے بن جائیں۔ Root: ك ر ه |
|
وَمَا كَانَ لِنَفْسٛ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ |
اس لئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ ایمان لانے کا اعلان کرنا بھی کسی شخص کے لئے ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا اذن ساتھ ہو(انسان زبان سے بولتا کیسے ہے وہ مطالعہ کریں)۔ |
|
وَيَجْعَلُ ٱلـرِّجْسَ عَلَـى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ١٠٠ |
اور وہ جناب ان کے ہٹ دھرم منحرف طرز عمل کوایسے لوگوں پر چسپاں التباس و اضطراب کی آلودگی کا درجہ دے دیتے ہیں جو حقیقت اور باطل کے مابین فرق جانچنے کے لئے عقل استعمال نہیں کرتے۔ |
|
قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
آپ(ﷺ)لوگوں کو کہیں’’تم لوگ ان مظاہر فطرت کو دیکھو اور غور کرو جو آسمانوں اور زمین میں نمایاں ہیں ۔ |
|
وَمَا تُغْنِى ٱلْءَايَٟتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٛ لَّا يُؤْمِنُونَ ١٠١ |
مگر یہ حقیقت ہے کہ مطلق حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی مظاہر فطرت کی نشانیاں اورمتعدد انتباہ ایسے لوگوں کوفائدہ دینے کا محرک نہیں بنتیں جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان نہیں لاتے۔ |
|
فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن
قَبْلِـهِـمْ |
چونکہ وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تو کیا وہ اس صورتحال کے مثل وقوع پذیر ہونے کے منتظر ہیں جیسا ان لوگوں کے آخری دنوں میں پیش آیا تھا جو ان سے قبل اس طرز عمل پر کاربند رہے تھے۔ Root: خ ل و |
|
قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّـى مَعَكُـم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ١٠٢ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’چونکہ تم لوگ اس باطل نظرئیے پرقائم رہنے پر بضد ہو تو نتائج کا انتظار کرو، میں تمہارے ساتھ منتظر ہوں"۔ |
|
ثُـمَّ نُنَجِّـى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
Then,
following the expiry of the appointed respite, Our Majesty would
always rescue Our Messengers and those who had sincerely believed in
them.
Thus—just as exemplified by the chronicles of the past—the
deliverance of the believers has ever remained a self-imposed
obligation upon Our Majesty. [10:103]
پھر، جب مہلتِ اتمامِ حجت ختم ہو جاتی تھی، تو ہم جناب ہمیشہ اپنے رسولوں اور ان تمام لوگوں کو نجات دیتے رہے جو دل سے ان پر ایمان لائے۔۔یوں — جیسے کہ پچھلی قوموں کے واقعات میں مثالیں بیان ہوئیں — اہلِ ایمان کی نجات، ہم جناب کی اپنی ذات پر عائد کردہ ایک ناگزیر ذمہ داری رہی ہے۔
|
قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:’’اے لوگو!دھیان سے سنو! |
|
وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٙا |
اوریہ کہ اپنی توجہ اور انہماک کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ دستور اور طرز حیات کے لئے مرکوز اور کوشاں رکھوں۔ہمیشہ التزام و دوام سے فلسفہ توحید پر کاربند مسلم۔(سورۃ الرون کی آیت۔۳۰ اور ۴۳ ساتھ پڑھیں) Root: ح ن ف |
|
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ ١٠٥ |
اورمجھےمنع کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی ایسے شخص سے دنیاوی تعلق اور نسبت رکھوں جو فلسفہ اشتراک پر کاربند لوگوں میں سے ہے۔ |
|
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُـرُّكَ |
اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کو نہیں پکارنا چاہئے جو نہ آپ کو کبھی نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ کبھی ضرر پہنچا سکتا ہے۔ |
|
فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذٙا مِّنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٠٦ |
چونکہ انتباہ کر دیا ہے اس لئے اگر اب اول بار اس کا ارتکاب کرو گے توچونکہ یہ خبردار کئے جانے کے باوجود ہو گا اس لئے ایسا کرنے پر فوراً آپ اس میں شمار ہوں گے جو حقیقت کے منافی باطل طرز عمل اپناتے ہیں۔ |
|
وَإِن يَـمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرّٛ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ |
اور اگر اللہ تعالیٰ تم کو کسی تکلیف دہ مشکل سے دوچار کر دیں تو قطعاً کوئی تکلیف سے آزاد کروانے والا نہیں جو اس سے چھٹکارا دلا سکےسوائے خود ان جناب کے۔ Root: ك ش ف |
|
وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْـرٛ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦ |
اور اگر وہ جناب آپ کو بہتری سے فیض یاب کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو چونکہ ان کا ہر ارادہ تکمیل شدہ کی مانند ہے اس لئے ان کے عنایت کردہ فضل کو مستفیض سے دور کر نے والا قطعاً کوئی نہیں ہے۔ |
|
يُصَيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ |
وہ جناب اپنے بندوں میں سے جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اس کو اس فضل سے فیض یاب کر دیتے ہیں۔ |
|
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٠٧ |
اور وہ جناب درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔ |
|
قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں!اے لوگو!دھیان سے سنو! |
|
قَدْ جَآءَكُمُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُـمْ |
بیانِ حقیقت (قرء انِ مجید)یقیناآپ لوگوں تک پہنچ گیا ہے،یہ آپ لوگوں کے رب کی جانب سے آسان فہم انداز میں مرتب فرمایا گیا ہے۔ |
|
فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَـهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ |
اِس لئے لوگوں میں سے جس کسی نے(قرآنِ مجید پہنچنے پر) از خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔ |
|
وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَا |
اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے۔ |
|
وَمَآ أَنَا۟ عَلَيْكُـم بِوَكِيلٛ ١٠٨ |
اورمیں آپ لوگوں کا وکیل/ ذمہ دار نہیں ہوں۔“(سورۃ یونس۔۸) |
|
وَٱتَّبِــعْ مَا يُوحَـىٰٓ إِلَيْكَ |
اورآپ (ﷺ) خلوص اور تن دہی سےفقط اس کی پیروی میں عمل پیرا ہوں جو آپ کو کتاب میں سے آسان فہم تدوین میں کلام بھیجا جا رہا ہے ۔ |
|
وَٱصْبِـرْ حَـتَّىٰ يَحْكُـمَ ٱللَّهُ |
اور آپ(ﷺ)دھیرج رکھیں ان نامعقول باتوں کو سن کر جو انکار کرنے والے عمائدین کرتے رہتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ فیصلے کا فرمان جاری فرما دیں۔ |
|
وَهُوَ خَيْـرُ ٱلْحَٟكِمِيـنَ ١٠٩ |
اور (آپ جانتے ہیں)وہ جناب بہترین اور اعلیٰ ترین فیصلہ فرمانے والے ہیں |
![]()
011- سُوۡرَةُ هود
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
الٓر |
عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔یہ کتاب جو آپ کے زیر مطالعہ ہے اس کا وصف یہ ہے کہ اس میں درج انفرادی بیانات(آیات)مستحکم،ناقابل تردید،پائدار فرمان کی حیثیت کی حامل بنا دی گئی ہیں۔بعد ازاں وقفے وقفے سے ان آیات کی ترسیل کے انہیں ان جناب کے حکم سے جدا جدا موضوعات کے فریم/فصل میں اس کتاب میں مدون کر دیا گیا ہے جو مطلق فرمانروا ہیں اور مطلق باخبر ہیں۔ Root: ل د ن |
|
أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ |
آپ(ﷺ)بتائیں کہ بنیادی فرمان یہ ہے کہ "تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کی بندگی اور عبادت نہیں کرو۔میرے متعلق حقیقت یہ ہے کہ میں کفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار اور خوش کن نتائج کی بشارت اور ضمانت دینے والا ہوں۔میں تم لوگوں کے لئے اپنی یہ حیثیت ان جناب کی جانب سے اذن دئیے جانے پر بیان کر رہا ہوں۔ |
|
وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ |
اور ان کا یہ فرمان بتانے کے لئے کہ تم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔ |
|
يُمَتِّعْكُـم مَّتَٟعٙا حَسَنًا إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَمّٙى |
وہ جناب تم لوگوں کو مناسب اور خوشگوار سامان زیست متعین مدت کی مقررہ ساعت تک فیض یاب رکھیں گے۔ |
|
وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٛ فَضْلَـهُۥ |
اور ہر ایک صاحب فضل کو اپنے فضل سے عنایت فرمائے گا۔ |
|
وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٛ كَبِيـرٍٛ ٣ |
مگر اگر تم لوگ ان بشارتوں کے باوجود از خود پلٹ کر چلے گئے تو مجھے چونکہ اس کے نتائج کا علم ہے اس لئے مجھے بڑے دن کے عذاب کا تم لوگوں پر آن پڑنے کا خوف لاحق ہے۔ |
|
إِلَـى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُـمْ |
تم لوگوں کو آخرکاراللہ تعالیٰ کی جانب احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔ |
|
وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ٤ |
خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں" ۔ |
|
أَ لَآ إِنَّـهُـمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُـمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ |
مگر ان کا بے وقوفانہ بھولا پن تو دیکھو؛وہ اپنے سینوں کو اس خیال سے سکیڑتے ہیں کہ ان جناب سے اپنے دہرے پن کو مخفی رکھ لیں گے۔ |
|
أَلَا حِيـنَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَـهُـمْ يَعْلَمُ مَا يُسِـرُّونَ
وَمَا يُعْلِنُونَ |
اور اس بات کو بھی یاد رکھو کہ جب وہ اپنے کپڑے پہننے کی خواہش کرتے ہیں تو وہ جناب جانتے ہیں اسے جو وہ ظاہر کرتے ہیں اور اسے جو وہ چھپاتے ہیں۔ |
|
إِنَّهُۥ عَلِيـمُ |
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب اس کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں جوسینوں نے اپنے اندر چسپاں رکھا ہوا ہے۔ |
|
وَمَا مِن دَآبَّةٛ فِـى ٱلۡأَرْضِ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِ رِزْقُهَا |
مشاہدہ
کرو؛زمین میں تمام کے تمام جانوروں کی اقسام میں کوئی ایسا موجود
نہیں سوائے اس کے جس کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہے۔ |
|
وَ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ ٱلْأَرْضَ فِـى سِتَّةِ
أَيَّامٍۢ |
اوروہی جناب ہیں
جنہوں نے سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر
کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔ Man and the Universe - Why is the Universe the way it is? Root: ع ر ش; س ح ر |
|
وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْـهُـمُ ٱلْعَذَابَ إِلَـىٰٓ أُمَّةٛ
مَّعْدُودَةٛ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ |
اور ان کا جانا پہچانا طرز عمل یہ ہے کہ اگر ہم جناب مخصوص عذاب کو ان سے متعین عرصہ کے لئے مؤخر کر دیں تو وہ کہیں گے’’کیا ہے وہ جو اسے روک رہا ہے‘‘۔ |
|
أَ لَا يَوْمَ يَأْتِيـهِـمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْـهُـمْ |
خبردار رہو؛جس دن وہ عذاب ان پر پہنچے گاتو کوئی اس قابل نہیں ہوگا کہ اسے ان سے دوسری طرف پھیر دے۔ Root: ص ر ف |
|
وَحَاقَ بِـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٨ |
اور ماضی میں ایسا ہی ہوا کہ آخروہ(عذاب) ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔ |
|
وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ مِنَّا رَحْـمَةٙ ثُـمَّ نَزَعْنَٟهَا مِنْهُ |
بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛ جب ہم جناب نے اپنی جانب سے رحمت کا اظہار کرتے ہوئے آسانیوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کئے رکھنے کے بعد ازاں ہم جناب نے اسے اس سے محروم کر دیا: |
|
إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٚ كَفُورٚ ٩ |
تو یہ حقیقت ہے کہ اس کا ردعمل اور رویہ مایوس، مرجھائے ہوئے ہٹ دھرم ناشکرے پن کا ہے۔ Root: ى ء س |
|
وَلَئِنْ أَذَقْنَٟهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ
ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ |
اور یہ بھی مبنی بر مشاہدہ حقیقت ہے کہ جب ہم جناب نےاسے ناگفتہ بہ اقتصادی صورتحال سے نکال کر جس کا اسے سامنا تھا راحتوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کے اسباب نواز دئیے تو ایسے لوگ یہ کہیں گے’’ پریشانیاں اور تکلیفیں مجھ سے دور ہو گئی ہیں‘‘۔ Root: ذ و ق |
|
إِنَّهُۥ لَفَرِحٚ فَخُورٌ ١٠ |
ایسے شخص کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ واقعتاً اترانے اور شیخی بگھارنے والا ہے۔ Root: ف ر ح |
|
إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
حالت کے اتراؤ چڑھاؤ میں مذکورہ طرز عمل سے ایسے لوگ مبراہیں جو حوصلے اور استقامت سے ناگفتہ بہ حالات کو اللہ تعالیٰ سے امیدیں وابستہ رکھتے ہوئے برداشت کرتے ہیں اور صالح اعمال پر کاربند ہیں۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَأَجْرٚ كَبِيـرٚ ١١ |
یہ ہیں وہ لوگ ۔۔۔مغفرت اور اعلیٰ ترین ایوارڈ کی بشارت ان کے لئے رسول کریم نے دے دی ہے۔ |
|
فَلَعَلَّكَ تَارِكُ |
چونکہ لوگوں کی اس روش کاآپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوا ہے اس لئے امکان ہے کہ آپ کا سینہ آزردگی محسوس کرے کہ بعض لوگ آسودہ حال ہونے پر اس میں سے بعض سے صرف نظر کریں گے جو آپ(ﷺ)کی جانب وحی کیا جا رہا ہے۔ |
|
وَضَآئِقُ |
اور یہ خیال آپ(ﷺ)کے سینے میں ناگوار طبع اور باعث آزردگی ہے: Root: ض ى ق |
|
أَن يَقُولُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ |
کہ عمائدین مشرکین لوگوں سے یہ کہیں گے’’کیا وجہ ہے کیوں اس (رسول کریم)پر کوئی خزانہ نہیں اتارا گیا‘‘۔(انہوں نے کہا۔الفرقان۔۸) Root: ك ن ز |
|
أَوْ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌ |
یا یہ کہیں ’’ کیوں اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نہیں آیا؟‘‘ Root: ء ل ك |
|
إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٚ |
[یہ تو محض حجتیں ہیں]حقیقت یہ ہے کہ آپ(ﷺ)زمان و مکان کے لوگوں کو باطل پر قائم رہنے کے ناگفتہ بہ انجام اور عواقب سے پیشگی خبردار اور متنبہ کرنے والے ہیں۔ |
|
وَٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ وَكِيلٌ ١٢ |
اور اللہ تعالیٰ تمام موجودات اور معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے والے ہیں۔ |
|
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُ |
کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں"اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو ازخوداختراع کیا ہے"۔ |
|
قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْـرِ سُوَرٛ مِّثْلِهِ مُفْتَـرَيَٟتٛ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’چونکہ آپ کا گمان اور الزام ہے کہ یہ میرا تصنیف کردہ ہے تواس کو ثابت کرنے یا اپنے آپ کو تذبذب اورالجھاؤ سے نکالنے کے لئےجائیں اوراِس (قرء ان )کے مثل تصنیف کردہ دس سورتیں لے آئیں۔۔ |
|
وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ |
اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے تمام صاحبان علم اور لکھاریوں کو بھی مدعو کر لو جن تک تمہاری رسائی ہو سکے۔ |
|
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ١٣ |
ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو‘‘۔ |
|
فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَـكُـمْ |
چونکہ اس کے من جانب اللہ ہونے کاان عمائدین کو اندازہ ہے اس لئے اگر وہ تم لوگوں کے لئے اس کا جواب دینا ممکن نہیں پاتے۔ |
|
فَٱعْلَمُوٓا۟ |
تو تم لوگوں کو معلوم ہو جانا چاہئے: |
|
أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلْمِ ٱللَّهِ |
کہ یہ حقیقت ہے کہ اسے مجتمع انداز میں عالمی رسول پرنازل کیا گیا ہے۔اس کا متن مطلق اللہ تعالیٰ کے علم اور اظہار پر مشتمل ہے۔ |
|
وَأَن لَّآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ |
اور یہ کہ ان تمام کے متعلق جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےمبنی بر حقیقت خبر یہ ہے کہ ان میں کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان واحد معبود مطلق اللہ تعالیٰ کے۔ |
|
فَهَلْ أَنتُـم مُّسْلِمُونَ ١٤ |
چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل اور ثبوت اس کے من جناب اللہ ہونے کی نفی میں نہیں ہے اس لئے ان سے پوچھوــ ’’بتاؤ کیا تم تسلیم کر کے اسلام قبول کرتے ہو‘‘۔ |
|
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَـهَا |
اصول جان لو؛جو کوئی حیات دنیا اور اس کی زیبائش و آراستگی کی خواہش کو اپنامطمح نظر بنائے رکھتا ہے۔ |
|
نُوَفِّ إِلَيْـهِـمْ أَعْمَٟلَـهُـمْ فِيـهَا |
ہم جناب ایسے لوگوں کے معاشرے میں کئے ہوئے اچھے اعمال کا ثمر اس حیات دنیا میں لوٹا دیتے ہیں۔ Root: و ف ى |
|
وَهُـمْ فِيـهَا لَا يُبْخَسُونَ ١٥ |
اور ان لوگوں کو اس دنیا میں ثمر دینے میں وہ کوئی کمی محسوس نہیں کرتے۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَـهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ إِلَّا
ٱلنَّارُ |
یہ حیات دنیا میں جذب وہ لوگ ہیں جن کے لئے سوائے جھلسا دینے والی جہنم کے آخرت کی زندگی میں کچھ بھی موجود ہو گا۔ |
|
وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا۟ فِيـهَا |
اور اس میں مال و دولت کے حصول کے لئے جو فنکاریاں وہ کرتے تھے سب رائیگاں ہو گیا/محض زخم کے داغ کی طرح یاد بن کر رہ گیا۔ Root: ص ن ع |
|
وَبَٟطِلٚ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٦ |
اور وہ عمل و کاوش جو وہ کرتے رہتے تھے پانی پر ابھرے جھاگ اور میل کی طرح نابود ہو گیا۔ |
|
أَفَمَن كَانَ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّهِۦ |
کیا وہ شخص جو اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند رہا ہے |
|
وَيَتْلُوهُ شَاهِدٚ مِّنْهُ |
اوراس (قرءن مجید)کوگواہی دینے والا (بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا۔الاحقاف۔۱۰)شخص لفظ بلفظ تلاوت کرتا ہے اس کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے منزل ہونے سے ابتدا کرتے ہوئے؛کیا اس کے مساوی ہے جو تخیلاتی باتوں اور اپنی خواہشات کا غلام ہے۔ |
|
وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٟبُ مُوسَـىٰٓ إِمَامٙا وَرَحْـمَةٙ |
اور موسیٰ(علیہ السلام)کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام پر مشتمل تحریر کردہ کتاب اس(قرءان مجید)کے نزول سے قبل اس مزاج کے لوگوں کے لئے رہنما اور اظہار رحمت کا کردار ادا کرتا تھا۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ |
یہ پہلے سے واضح اور متبین تصور پر کاربند لوگ ہیں جواس (قرءان مجید)پر ایمان لاتے ہیں اور لائیں گے۔ |
|
وَمَن يَكْـفُـرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥ |
اور جو کوئی اس (قرءان مجید)کا انکار کرے گا جس کا تعلق الگ الگ شناخت رکھنے والے کسی گروہ سے ہے، تو جھلسا دینے والی جہنم اس کی آخرت میں رہائش گاہ ہو گی۔ |
|
فَلَا تَكُ فِـى مِرْيَةٛ مِّنْهُ |
چونکہ یہ اصول زمین پر بھیجتے وقت سے طے ہے اور وہ لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اس لئے آپ (ﷺ)اس کے مندرجات سے ان اہل کتاب کے لئے متردد فکرمندی میں نہ رہیں۔ |
|
إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ |
اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ (قرءان مجید)بیان حقیقت ہے ،آپ کے رب کی جانب سے اسے آسان فہم انداز میں منزَّل اور مدون کیا گیا ہے۔(البقرۃ۔۱۴۴، اور القصص۔۵۳ ساتھ دیکھیں) |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١٧ |
مگر ناقابل تردید بیان حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کے آپ کے رب کی جانب سے تصنیف و تدوین ہونا نہیں مانتے۔ |
|
وَ
مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًاۚ |
اور اس
بڑھ کر حقیقت کے منافی رویہ اپنانے والا تخریب پسند کون ہو سکتا ہے
جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے
میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟
ا Root: ل ع ن |
|
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَـهَا عِوَجٙا |
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ سے پلٹانا چاہتے ہیں اس طرح سے کہ اس(راہ)کوناہموار اورکج ثابت کرنے کی جستجو اورتگ و دو کرتے رہتے ہیں ۔ Root: ع و ج |
|
وَهُـم بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ كَٟفِرُونَ ١٩ |
اور یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے ہیں۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
ان لوگوں کی خود اپنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے اور امر کو مؤخر اور وقوع پذیر ہونے سے زمین میں روک نہیں سکتے۔ Root: ع ج ز |
|
وَمَا كَانَ لَـهُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ |
اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ خیر خواہوں اور ساتھ دینے والوں میں سے کوئی ایک بھی ان کی طرف داری اور مدد کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہو گا۔ |
|
يُضَٟعَفُ لَـهُـمُ ٱلْعَذَابُ |
منفرد قسم کا عذاب ان لوگوں کے لئے باہمی طور پر دگنا ہو جائے گا۔ |
|
مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ |
وہ بات کو سننے اور ماننے کی خواہش ہی نہیں رکھتے تھے۔ |
|
وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ ٢٠ |
اور نہ ان کی بصارت و بصیرت کو بروئے کار لانے کی عادت تھی۔ |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِـرُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ |
یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کے مقام و مرتبہ کا خسارا کیا۔ |
|
وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ٢١ |
اور ان کے دل و دماغ سے وہ غائب ہو گیا جو زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔ |
|
لَا جَرَمَ أَنَّـهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمُ ٱلۡأَخْسَـرُونَ ٢٢ |
اس کو بدیہی حقیقت کے طور جان لو کہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بدترین نقصان اٹھانے والے ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ |
|
وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَـىٰ رَبِّـهِـمْ |
اور انہوں نے اپنی حریت کو عاجزی اور انکساری سے اپنے رب کی جانب سرنگوں کر دیا۔ Root: خ ب ت |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلجَنَّةِ |
یہ لوگ ہیں جو اصحاب جنت ہیں۔ Root: ص ح ب |
|
هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٢٣ |
یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہائش پذیر رہیں گے۔ |
|
مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْـنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَـمِّ وَٱلْبَصِيـرِ
وَٱلسَّمِيعِ |
ان دو طرح کے فریقوں کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی جسمانی طور پر اندھا اور بہرہ ہے اور اس کے مقابل بصارت و بصیرت کو برائے کار لانےاور توجہ سے سننے والا فریق ہے۔ |
|
هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلٙا |
تم لوگ بتاؤ کیا مثال کے لئے ان دونوں کو مساوی تصور کرتے ہو۔ |
|
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٤ |
کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔ |
|
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَـىٰ قَوْمِهِۦٓ |
قدیم تاریخ سے واقف ہو جاؤ؛ہم جناب نے نوح(علیہ السلام)کو ان کی قوم کی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔ |
|
إِنَّـى لَـكُـمْ نَذِيرٚ مُّبِيـنٌ ٢٥ |
انہوں نے قوم سے کہا "یہ حقیقت ہے کہ میری ذمہ داری اور کردار تم لوگوں کے لئےکفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا۔ |
|
أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ |
کہ بنیادی فرمان یہ ہے "تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کی بندگی اور عبادت نہیں کرو۔ |
|
إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٍٛ أَلِيـمٛ ٢٦ |
یہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں تم لوگوں پر ایک اندوہناک دن میں عذاب مسلط ہونے کے متعلق"۔ |
|
فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِن قِوْمِهِۦ |
ان کی قوم میں سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے ان سرداروں نے جنہوں نے انہیں رسول ماننے سے انکار کر دیا تھا جواب دیا:۔ Root: م ل ء |
|
مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَـرٙا مِّثْلَنَا |
ہم آپ کو ماسوائے ہمارے جیسا ہی ایک بشر ہونے کے کسی اور اہمیت کا حامل نہیں دیکھتے۔ |
|
وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُـمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ |
اور ہم آپ کو نہیں دیکھتے سوائے اس حال میں ان لوگوں کے علاوہ کوئی آپ کے پیچھے شوق سے پیروی کرنے والا ہے سوائے ان کے جو بادی النظر میں ہمارے پست ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ Root: ر ذ ل |
|
وَمَا نَرَىٰ لَـكُـمْ عَلَيْنَا مِن فَضْل |
اور نہ ہم آپ کے لئے کسی منفرد عنایت کو دیکھتے ہیں جو ہم پر برتری اور محترم ہونے کا اظہار ہو۔ایسا کچھہ نہیں ہے بلکہ در حقیقت ہم تم لوگوں کو جھوٹا گمان کرتے ہیں"۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّـى |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔ |
|
وَءَاتَىٰنِى رَحْـمَةٙ مِّنْ عِندِهِۦ |
اور انہوں نے مجھے رحمت سے نوازا ہے جو ان جناب کی جانب سے قلب کو منور کر دینے والی ہے۔ |
|
فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُـمْ |
مگر چونکہ تم لوگ مفادات کو پیش نظر کرعدم توجہ سے دیکھ رہے ہو اس لئے وہ (رحمت)تم پر دھندلا گئی ہے۔ Root: ع م ى |
|
أَنُلْزِمُكُـمُوهَا وَأَنتُـمْ لَـهَا كَٟرِهُونَ ٢٨ |
کیا ہم اس درخشاں رحمت کو تمہارے قلب و ذہن پر بزور ڈاخل کر سکتے ہیں اس حال میں کہ تم لوگ اس کے لئے کراہت محسوس کر رہے ہو۔ |
|
وَيٟقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْـهِ مَالًاۖ |
اور اے میری قوم!اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔ |
|
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱللَّهِ |
اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر واجب الادا ہے۔ |
|
وَمَآ أَنَا۟ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ |
اور نہ میں ان لوگوں کو اپنے سے کسی بھی لمحے دور کروں گا جو دل کی شاد سے اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ Root: ط ر د |
|
إِنَّـهُـم مُّلَٟقُوا۟ رَبِّـهِـمْ |
یقیناً یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر لمحے اپنے رب کے حضور پیش ہیں۔ |
|
وَلَـٟكِنِّىٓ أَرَىٰكُـمْ قَوْمٙا تَجْهَلُونَ ٢٩ |
مگر میں تم لوگوں کو ایک ایسی قوم دیکھ رہا ہوں کہ تم جذبات کی پیروی کر رہے ہو۔ |
|
وَيٟقَوْمِ مَن يَنصُرُنِـى مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّـهُـمْ |
اور اے میری قوم!مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کون مدد کرے گا اگر میں ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دوں۔ Root: ط ر د |
|
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣٠ |
کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔ |
|
وَلَآ أَقُولُ لَـكُـمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّـى مَلَكٚ |
اورمیں تم لوگوں میں یہ تشہیر نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں پر تصرف کا اختیار میرے پاس ہے۔اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں بصارتوں سے اوجھل موجودات کا علم رکھتا ہوں۔اور نہ میں تم لوگوں میں یہ تشہیر کرتا ہوں کہ میں حکمران ہوں۔ |
|
وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُـمْ لَن يُؤْتِيَـهُـمُ
ٱللَّهُ خَيْـرٙا |
اور نہ میں ان لوگوں کے لئے جنہیں تمہاری آنکھیں اپنے تئیں حقیر دیکھتی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسودگی اور بھلائی عنایت نہیں کریں گے۔ |
|
ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِـىٓ أَنفُسِهِـمْ |
اللہ تعالیٰ اس بات کو مطلق جانتے ہیں جو ان کے نفوس میں پوشیدہ ہے۔ |
|
إِنِّـىٓ إِذٙا لَّمِنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٣١ |
یقیناً جس لمحے میں نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا میرا شمار بھی ان میں ہو گا جو حقیقت کو باطل سے بدل دیتے ہیں"۔ |
|
قَالُوا۟ يٟنُوحُ قَدْ جَٟدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٟلَنَا |
انہوں(کفار عمائدین)نے کہا" اے نوح!آپ نے ہم سے کافی بحث مباحثہ کر لیا ہے۔نتیجے میں ہمارے مباحث سے آپ نے زیادہ کثرت سے بیان کر دئیے ہیں۔ |
|
فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٣٢ |
چونکہ ہم آپ کی وہ بات نہیں مان رہے اس لئے آپ اسے لے آئے ہیں جس کی وعید ہمیں دے رہے ہیں، ایسا کر کے دکھائیں اگر آپ سچ بتا رہے تھے"۔ |
|
قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُـم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے جواب دیا"صرف اللہ تعالیٰ ہیں جو اس کو تمہارے پاس لائیں گے اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا، |
|
وَمَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ ٣٣ |
اور ایسا ہو نے کو یقیناً تم لوگ ملتوی نہیں کر سکو گے۔ Root: ع ج ز |
|
وَلَا يَنفَعُكُـمْ نُصْحِـىٓ إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَـكُـمْ
إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُـمْ |
اور نہ میری نیک تمنائیں تم لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گی اگر میں تمہارے لئے خیر خواہ بننے کا ارادہ کروں اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہیں عذاب کی دہلیز پر کے جانے کا ہے۔ |
|
هُوَ رَبُّكُـمْ |
وہ جناب تم لوگوں کے رب ہیں۔ |
|
وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٣٤ |
اور تم لوگوں کو ان کے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا"۔ |
|
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُ |
کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں" اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو ازخوداختراع کیا ہے"۔ |
|
قُلْ إِنِ ٱفْتَـرَيْتُهُۥ فَعَلَـىَّ إِجْرَامِى |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "اگر میں نے اس (قرءان مجید)کو ازخود تصنیف و تالیف کر کے اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا ہے تو چونکہ ایسا کرنا جرم ہے اس لئے میرے جرم کا خمیازہ مجھ پر ہے۔ |
|
وَأَنَا۟ بَرِىٓءٚ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ٣٥ |
اور میں اس جرم سے بری الذمہ ہوں جو تم لوگ کر رہے ہو اس کا انکار کر کے اور حقیقت کے منافی باتیں اختراع کر کے کیونکہ میرے ذمہ اسے تمہیں پہنچانا تھا"۔(سورۃ ھودؐ۔٣٥) |
|
وَأُوحِـىَ إِلَـىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ |
مزید جان لو؛ نوح (علیہ السلام)کی جانب بذریعہ کلام پیغام بھیجا گیا تھا کہ بتانے کے لئے:"اپ کو قوم میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو اس سے پہلے ایمان لا چکے ہیں۔ |
|
فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ٣٦ |
چونکہ صاحب حریت ہوتے ہوئے ان کا یہ اپنا سوچا سمجھا فیصلہ ہے اس لئے آپ کو ان کے ان افعال پر تکدر محسوس اور افسوس نہیں کرنا چاہئیے جو وہ کرتے رہے ہیں۔ |
|
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا |
اور آپ مہارت سے منفردکشتی بنائیں ،اس دوران آپ ہماری نگاہوں میں ہیں اور ہم زبانی ہدایات(وحی)بھیج رہے ہیں اس کی تعمیر کے لئے۔ |
|
وَلَا تُخَٟطِبْنِى فِـى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ |
اور آپ کو چاہئے کہ ہمیں ان کے حوالے سے مخاطب نہ کریں جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کی روش کو اپنایا ہے۔ Root: خ ط ب |
|
إِنَّـهُـم مُّغْـرَقُونَ ٣٧ |
یقیناً وہ لوگ غرق کر دئیے جانے والے ہیں"۔ |
|
وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَـرَّ عَلَيْهِ مَلَأٚ مِّن قَوْمِهِۦ
سَخِرُوا۟ مِنْهُ |
وہ(نوح علیہ السلام)کشتی تیار کر رہے تھے۔جب جب ان کی قوم کے عمائدین ان کے قریب سے گزرتے تو ان میں سے بعض تمسخر کرتے۔ |
|
قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُـمْ كَمَا تَسْخَرُونَ ٣٨ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"اگر تم لوگ ہم میں سے بعض کا تمسخر اڑاتے ہو تو ہمارا رد عمل یقینا اس مزاح کی وجہ سے تم سے لاپرواہ ہونا ہے جیسے تم ہنسی اڑاتے ہو۔ |
|
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٚ يُخْزِيهِ |
چونکہ تم سمجھنا نہیں چاہتے اس لئے عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کو وہ کون ہے جس کے پاس وہ عذاب پہنچے گا جو اس کو رسوا کر دے گا۔ Root: خ ز ى |
|
وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٚ مُّقِيـمٌ ٣٩ |
اور برقرار رہنے والا عذاب اس پر مستوجب ہو جائے گا"۔ |
|
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْـرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ |
وہ کشتی کی نوک پلک سنوارتے رہے یہاں تک کہ جب ہمارا حکم صادر ہو گیا اور علاقے میں موجود"گیزر"اچانک ابل پڑا: Root: ف و ر |
|
قُلْنَا ٱحْـمِلْ فِيـهَا مِن كُلّٛ زَوْجَيْـنِ ٱثْنَيْـنِ |
|
ہم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ آپ اس پر ہر ایک چوپائے اور پودے کا جوڑا لاد دیں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔ |
|
وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ |
اور اپنے اہل خانہ کو اس میں سوار کر دیں،سوائے اس ایک فرمان کے جو ان کو پہلے بتا دیا گیا تھا،اور ہر اس کو جو ایمان لایا ہے۔ Root: س ب ق |
|
وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٚ ٤٠ |
اور یہ حقیقت ہے کہ سوائے چند لوگوں کے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ |
|
وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيـهَا |
اور ان جناب نے کہا"تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ۔ |
|
بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر |
یہ کہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسم ذات سے ابتدا ہے ۔(مطمئن رہو)اس کے بہنے کاآغاز اور لنگر انداز ہونا اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اذن کے تابع ہے۔ Root: ر س و |
|
إِنَّ رَبِّـى لَغَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٤١ |
حقیقت یہ ہے کہ میرے رب اکثر و بیشتر درگزر کر کے معاف فرمانے والے اور منبع رحمت ہیں"۔ |
|
وَهِىَ تَجْـرِى بِـهِـمْ فِـى مَوْجٛ كَٱلْجِبَالِ |
اور وہ تھی کہ ان کو ساتھ لئے ان موجوں میں بہہ رہی تھے جیسے طویل پہاڑی سلسلے ہوں۔ Root: م و ج |
|
وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِـى مَعْزِلٛ |
اور نوح (علیہ السلام)نے اپنے بیٹے کو اونچی آوازا میں پکارا جو اس وقت ایک الگ مقام پر کھڑا تھا۔ Root: ع ز ل |
|
يٟبُنَىَّ ٱرْكَبَ مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْـكَـٟفِرِىنَ ٤٢ |
"اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور اپنے آپ کو کافروں می معیت میں نہ کر"۔ Root: ر ك ب |
|
قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَـىٰ جَبَلٛ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ |
اس(بیٹے)نے کہا'میں ابھی ایک پہاڑ کی جانب پناہ لے لوں گا۔وہ (پہاڑ)مجھے پانی کی پہنچ سے بچا لے گا"۔ |
|
قَالَ لَا عَاصِـمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"آج قطعی کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ فرمان کی زد میں آنے سے بچانے والا ہو۔بچے گا صرف وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا"۔ Root: ع ص م |
|
وَحَالَ بَيْنَـهُـمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْـرَقِيـنَ ٤٣ |
اور اس دوران ایک موج ان کے مابین حائل ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔ Root: م و ج |
|
وَقِيلَ يٟٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيٟسَمَآءُ أَ قْلِعِى |
سیلاب کا مقصد پورا ہو جانے پر فرمان ہوا"اے زمین! اپنے نکالے پانی کو واپس ذخائر میں جذب کر لے؛ اور اے آسمان؛اپنے پانی کو روک لے"۔ Root: ق ل ع |
|
وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلۡأَمْـرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَـى ٱلْجُودِىِّ |
اورپانی اتر گیا اور معاملہ اختتام پذیر ہو گیا اور اس دوران کشتی "جودی" کے اوپر افقی طور پر احتیاط سے لنگر انداز ہو گئی۔ Root: غ ى ض |
|
وَقِيلَ بُعْدٙا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٤٤ |
اور کہہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا دور کر دیا جانا جو مٹا دے ایسے لوگوں کا انجام قرار دیا ہے جو حقیقت کے منافی بگاڑ کی روش اور طرز عمل کو اپنائے رکھتے ہیں۔ |
|
وَنَادَى نُوحٚ رَّبَّهُۥ |
اور نوح(علیہ السلام)نے اپنے رب کو پکارا (حالانکہ سیلاب آنے سے قبل ظالموں کے متعلق مخاطب ہونے سے منع کیا تھا کہ انہیں ڈوبنا ہے)۔ |
|
فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِـى |
اور جھجک پر قابو پا لینے پرکہا"اے میرے رب!یہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے کہ میرا بیٹا میرے اہل خانہ کا جوان فرد تھا۔ |
|
وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ |
اور آپ جناب کا وعدہ توحقیقت بن کر رہتا ہے۔(وہ ڈوب گیا ہے) |
|
وَأَنتَ أَحْكَـمُ ٱلْحَٟكِمِيـنَ ٤٥ |
اور آپ جناب عدل و انصاف کے تقاضوں کو انجام دینے والے سب سے برتر فرمانروا ،مقتدر اعلیٰ ہیں"۔ |
|
قَالَ يٟنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ |
ان جناب نے فرمایا"اے نوح(علیہ السلام)!حقیقت یہ ہے وہ تیرے اہل خانہ میں سے نہیں ہے۔درحقیقت وہ اصلاح کے منافی عمل پر کاربند تھا۔ |
|
فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ |
چونکہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ کون اپنا اور کون بیگانہ ہوتا ہے اس لئے آپ مجھ سے وہ سوال نہ کریں جس کے بارے آپ کے پاس معلومات نہیں ہیں۔ |
|
إِنِّـىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَـٟهِلِيـنَ ٤٦ |
میں آپ کو اس لئے وعظ کر رہا ہوں کہ کہیں آپ جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں ہو جائیں"۔ |
|
قَالَ رَبِّ إِنِّـىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِـى
بِهِۦ عِلْمٚ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے کہا"میرے رب!آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس شئے کا مطالبہ کرنے سے جس کے متعلق میرے پاس معلومات نہیں ہیں۔ Root: ع و ذ |
|
وَإِلَّا تَغْفِرْ لِـى وَتَرْحَـمْنِـىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٤٧ |
اور اگر آپ جناب نے میرے لئے درگزر فرماتے ہوئے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں لانحالہ خسارہ کرنے والوں میں شمار ہوں گا"۔ Root: خ س ر |
|
قِيلَ يٟنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٟمٛ مِّنَّا وَبَرَكَٟتٍٛ عَلَيْكَ وَعَلَـىٰٓ
أُمَمٛ مِّمَّن مَّعَكَ |
کہہ دیا گیا"اے نوح (علیہ السلام)!ہماری جناب سے سلامتی کی یقین دہانی کے ساتھ کشتی سے نیچے اتر جائیں۔ اور ہماری جانب سے آپ پر اور ان قوموں پر جو ان میں بعض سے پروان لیں گی جو افراد آپ کے ساتھ سوار ہیں۔ Root: ھ ب ط |
|
وَأُمَمٚ سَنُمَتِّعُهُـمْ ثُـمَّ يَـمَسُّهُـم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٤٨ |
اور جو قومیں پروان لیں گی ہم جناب انہیں متاع حیات سے نوازتے رہیں گے۔بعد ازاں انہیں اپنی روش کو مجرمانہ کر لینے کی وجہ سے ہماری جانب سے جاری فرمان پر ایک اندوہناک عذاب انہیں جکڑ لے گا"۔ |
|
تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيـهَآ إِلَيْكَ |
یہ ماضی کے واقعات پر مبنی خبروں میں سے ہیں جو ہم جناب آپ(ﷺ)کی جانب بذریعہ کلام بیان کر رہے ہیں۔ |
|
مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٟذَا |
(اس انداز میں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن جائے)اگرچہ آپ ان کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ(ﷺ) خود اور نہ آپ کی قوم اس(قرءان مجید)کے نزول اور انکشاف سے قبل کے زمانے میں۔ |
|
فَٱصْبِـرْ |
چونکہ ان کی ہرزہ سرائی مہمل اور درخور اعتنا نہیں مگر آپ کے لئے باعث کوفت ہے،اس لئے آپ(ﷺ) سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں۔ |
|
إِنَّ ٱلْعَٟقِبَةَ لِلْمُتَّقِيـنَ ٤٩ |
اور جہاں تک آخرت کا اچھا انجام ہے،اس پر استحقاق صرف ان کا ہے جومحتاط اور تندہی سے غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔ |
|
وَإِلَـىٰ
عَادٍٛ أَخَاهُـمْ هُودٙا |
تاریخ جانتے جاؤ؛ ہم جناب نے ان کے ہم قوم بھائی ھود(علیہ السلام)کوقوم عاد کی جانب بحثیت رسول بھیجا تھا۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ |
انہوں(ھود علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!اتم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
مَا لَـكُـم مِّنْ
إِلَٟهٍ
غَيْـرُهُۥٓ |
تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛ ان جناب کے علاوہ معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی نہیں جو تم لوگوں کے لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔ |
|
إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا مُفْتَـرُونَ ٥٠ |
یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ حقیقت کوبگاڑنے کے لئے فقط اپنے مقصد کے لئےشاطرانہ اختراع کرتے ہو۔ |
|
يٟقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ
أَجْرًاۖ
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـى ٱلَّذِى فَطَرَنِـىٓ |
اور اے میری قوم!اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور
تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف
ان جناب پر واجب
الادا ہے جنہوں نے عدم سے مجھے وجود اور ظہور دیا ہے۔ Root: ف ط ر |
|
وَيٟقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ |
اور اے میری قوم!تم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔ |
|
يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُـم مِّدْرَارٙا |
وہ جناب تم لوگوں پر آسمان بھیج دیں گے؛بروقت ضرورت وافر پانی برسنے کے انداز میں۔ |
|
وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَـىٰ قُوَّتِكُـمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِيـنَ ٥٢ |
اور وہ جناب تم کوبڑھاوا دیں گے،تمہاری قوت میں مزید اضافہ کے حوالہ سے۔اور تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مجرم بنانے کی جانب مت پلٹاؤ‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ يٟهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٛ وَمَا نَـحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِـهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَـحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيـنَ ٥٣ |
ان عمائدین مشرکین نے کہا’’اے ھود!تو ہمارے پاس کسی ٹھوس
سند اور برھان کو نہیں لے کر آیا۔اور ہم اپنے معبودان کوآپ کے بیان سے متاثر ہو
کرمتروک کرنے والے نہیں ہیں۔اور نہ آپ کے کہنے پر ہم کبھی ایمان لانے والے ہیں۔ |
|
وَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا هُودٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٟهُـم مِّنْ عَذَابٍٛ غَلِيظٛ ٥٨ |
جان لو مہلت کا وقت ختم ہونے پر جوں ہی ہمارا فرمان پہنچاہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے ھود (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی۔اور ہم جناب نے انہیں بحفاظت نکال کر لوگوں پر کٹھور عذاب دیکھنے سے نجات دی۔ Root: غ ل ظ |
|
وَتِلْكَ عَادٚ |
متنبہ رہو؛یہ تھے عاد۔ |
|
جَحَدُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ رَبِّـهِـمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَـهُۥ |
انہوں نے اپنے رب کی آیات کاباوجود ان کی حقانیت کا ادراک رکھتے ہوئے انکار کیا؛اور ان جناب کے رسولوں کےانتباہ کو ماننے سے انکار کرتے رہے۔ |
|
وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍٛ عَنِيدٛ ٥٩ |
اور انہوں نے رسولوں سے عناد رکھنے والےہر جابر کے فیصلے کی بھرپور پیروی کی۔ |
|
وَأُتْبِعُوا۟ فِـى هَـٟذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةٙ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ |
ان کا انجام جان لو؛اس دنیا میں اور یوم قیامت کو پھٹکار،لعنت ملامت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے۔ Root: ل ع ن |
|
أَ لَآ إِنَّ عَادٙا كَفَـرُوا۟ رَبَّـهُـمْ |
خبردار رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ قوم عاد نے اپنے رب کا دراصل انکار کیا تھا۔ |
|
أَ لَا بُعْدٙا لِّعَادٛ قَوْمِ هُودٛ ٦٠ |
خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم عاد کو نیست و نابود کر دینے کے انداز میں،قوم جس کی شناخت ھود(علیہ السلام)کے نام سے برقرار ہے۔ |
|
وَإِلَـىٰ ثَمُودَ أَخَاهُـمْ صَٟلِحٙا |
اورہم جناب نے صالح (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم ثمودکی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ |
انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
مَا لَـكُـم مِّنْ
إِلَٟهٍ
غَيْـرُهُۥ |
تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛ ان جناب کے علاوہ معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی نہیں جو تم لوگوں کے لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔ |
|
هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرْضِ وَٱسْتَعْمَـرَكُمْ فِيـهَا |
وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کی نمائش کی ہے؛اس کا آغاز زمین میں سے پسند کئے عناصر سے کیا گیا۔اور انہوں نے اس میں تمہیں ایک مدت کے لئے آباد کیا ہے۔ |
|
فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ |
چونکہ تم لوگ ان حقائق سے غافل رہے ہو اس لئے ان جناب سے درگزر،پردہ پوشی اور معافی کے خواستگار بنو؛بعد ازاں ندامت محسوس کرتے ہوئے ان جناب کی جانب پلٹو۔ |
|
إِنَّ رَبِّـى قَرِيبٚ مُّجِيبٚ ٦١ |
یہ حقیقت ہے کہ میرے رب ہمیشہ قربت میں موجود ہوتے ہیں،وہ پکارنے اور رجوع کرنے والے کو جواب دینے والے ہمہ وقت گوش بر آوازہیں‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ يٟصَٟلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوّٙا قَبْلَ هَـٟذَآ |
انہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"اے صالح!اس(اللہ تعالیٰ کے احکام دینے)سے قبل آپ ہمارے درمیان ایک روشن امید تھے۔ Root: ر ج و |
|
أَتَنْـهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا |
کیا آپ ہمیں اس کی بااظہار بندگی کرنے سے ممانعت کر رہے ہیں جس کی ہمارے آباؤ اجداد بندگی کرتے رہے ہیں۔ |
|
وَإِنَّنَا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ ٦٢ |
اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔ Root: ش ك ك |
|
قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٙ مِّن رَّبِّـى |
انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔ |
|
وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْـمَةٙ |
اور انہوں نے مجھے رحمت سے نوازا ہے جو ان جناب کی جانب سے قلب کو منور کر دینے والی ہے۔ |
|
فَمَن يَنصُرُنِـى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ |
اگر تم لوگ واقعتاً کسی بل بوتے پر بات کر رہے تو مجھے بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی سزا سے بچنے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں ان کے فرمان کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہوں؟ |
|
فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْـرَ تَخْسِيـرٛ ٦٣ |
چونکہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کے مقابل کوئی مددگار نہیں اس لئے تم لوگ میری قدر افزائی نہیں کر رہے ہو اپنی امیدوں کا مرکز قرار دے کر بلکہ ذمہ داری کے فقدان کو منسوب کرنے کے مترادف ہے‘‘۔ |
|
وَيٟقَوْمِ هَـٟذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَـكُـمْ ءَايَةٙ |
اور ان کے مطالبہ کے جواب میں انہوں نے کہا"اے میری قوم!دیکھو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی ہوئی اونٹنی۔یہ تمہارے لئے مافوق الفطرت مشاہدے کا کردار ادا کرے گی۔ |
|
فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِـىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ |
چونکہ تمہارے مطالبہ پر یہ پہنچی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی زمین میں تم لوگ اسےآزادانہ گھومنے پھرنے دو تاکہ وہ کھا سکے۔ |
|
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٛ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٚ قَرِيبٚ ٦٤ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اسے برائی /تکلیف پہنچانےکی نیت سے مت چھونا۔اگر تم نے ایسا کیا تو ایک قریب میں موجود عذاب تم لوگوں کو پکڑ لے گا۔ |
|
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِـى دَارِكُمْ ثَلَٟثَـةَ أَيَّامٛ |
چونکہ لوگوں کے جواب سے تلملائے اور خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے تلوار کے وار سے اس کے پاؤں کاٹ کر اسے معذور کر دیا۔اس حرکت پر انہوں (صالح علیہ السلام)نے ان سے کہا’’تم لوگ تین دن تک اپنے علاقہ میں موج اڑاؤ۔ Root: ع ق ر |
|
ذَٟلِكَ وَعْدٌ غَيْـرُ مَكْذُوبٛ ٦٥ |
یہ وعدہ ہے،اس کے متضاد جو جھوٹ ہوتے ہیں‘‘۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا صَٟلِحٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ
يَوْمِئِذٍۗٛ |
چونکہ ان کا وعدہ ہم جناب کے کہنے پر تھا اس لئے جوں ہی ہمارا فرمان پہنچاہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے صالح (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی اور اس دن منکرین کی رسوائی دیکھنے سے دور کر دیا جس دن ان پر عذاب نازل ہونا تھا۔ Root: خ ز ى |
|
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ٦٦ |
یہ حقیقت ہے آپ(ﷺ)کے رب وہ ہیں جو تمام قوت کے مالک اور مکمل طور پر غالب ہیں۔(سورۃ ھودؐ۔۶۶) |
|
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِـى دِيَٟرِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٦٧ |
اور ہولناک دھماکے نے ان لوگوں کو اچانک گرفت میں لے لیا جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل کو اپنائے رکھا تھا ۔چونکہ اس بھونچال کی نوعیت شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔ Root: ص ى ح |
|
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيـهَآ |
منظر ایسا ویران بن گیا تھا جیسے اس بستی میں وہ کبھی آباد ہی نہ رہے تھے۔خبردار رہو؛یہ حقیقت ہے کہ قوم ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا۔خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم ثمود کو نیست و نابود کر دینے کے انداز میں۔ |
|
وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٟهِيـمَ بِٱلْبُـشْـرَىٰ قَالُوا۟
سَلَٟمٙا |
مستند تاریخ جان لو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کے پیغامی ابراہیم(علیہ السلام)کے پاس خوشخبری کے ساتھ پہنچے تھے۔ملاقات پر انہوں نے کہا’’آپ کی خدمت میں ہم سلام پیش کرتے ہیں‘‘۔انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا’’آپ پرسلامتی رہے‘‘۔ |
|
فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجْلٍٛ حَنِيذٛ ٦٩ |
چونکہ مہمان جانے پہچانے نہیں تھے اور سفر کر کے آئے لگتے تھے اس لئے انہوں نے تناول کے لئے بھنے بچھڑے کو انہیں پیش کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔ |
|
فَلَمَّا رَءَآ أَيْدِيَـهُـمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ |
کھانا میز پر لگا دینے کے بعد جوں ہی انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے دیکھا کہ ان(مہمانوں) کے ہاتھ کھانے کے جانب نہیں بڑھ رہے: Root: و ص ل |
|
نَكِـرَهُـمْ وَأَوْجَسَ مِنْـهُـمْ خِيفَةٙ |
اس میزبانی سے عدم توجہ پر انہوں نے انہیں غیر معروف اجنبی جان کر تاثر دئیے بغیران کی جانب سےہلکی سے ناگواری اوربے چینی کو محسوس کیا۔ |
|
قَالُوا۟ لَا تَخَفْ |
انہوں(مہمانوں) نے کہا’’آپ پریشان نہ ہوں۔ |
|
إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَـىٰ قَوْمِ لُوطٛ ٧٠ |
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں لوط(علیہ السلام)کی قوم کی جانب بھیجا گیا ہے‘‘۔ |
|
وَٱمْرَأَتُهُ قَآئِمَةٚ فَضَحِكَتْ فَبَشَّـرْنَـٰـهَا بِإِسْحَٟقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٟقَ يَعْقُوبَ ٧١ |
اس وقت منظر یہ تھا؛ان(ابراہیم علیہ السلام)کی بیوی دروازے کے ساتھ کھڑی تھیں؛ چونکہ انہوں نے بیٹے کی خوشخبری کو سن لیا تھا اس لئے اچانک ہنس پڑیں(اور لپٹی لپٹائی کمرے میں حیرت و حیرانگی اور خوشی کے جذبات سے مغلوب داخل ہو گئیں۔الذاریات۔۲۹)چونکہ انہوں نے اپنے بانجھ پن کا ذکر کیا تھا اس لئے ہم جناب نے انہیں(ابراہیم علیہ السلام کی بیوی)بیٹا اسحاق کے ہونے کی خوشخبری دی اور ان کی زندگی ہی میں اسحاق کے بعد پوتے یعقوب کی بھی خوشخبری دی۔ |
|
قَالَتْ يَٟوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۟ عَجُوزٚ وَهَـٟذَا بَعْلِـى شَيْخًاۖ إِنَّ هَـٟذَا لَشَىْءٌ عَجِىبٚ ٧٢ |
انہوں(زوجہ محترمہ)نے کہا’’میرے لئے یہ اہم بات ہے؛کیا میں بیٹا جنوں گی؛اس حال میں کہ اس وقت اس قابل نہیں اور یہ میرے خاوند عمر رسیدہ ہو چکے ہیں۔بلاشبہ یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے‘‘۔ |
|
قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِيـنَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ |
انہوں(مہمان ملائکہ)نے کہا’’محترمہ!آپ کیوں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے متعجب ہو رہی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا اظہار رحمت ہے،اور اے اہل خانہ؛ان جناب کی برقرار رہنے والی آسائشوں اور خوشیوں کے آپ سب پر نزول کا پیش خیمہ ہے۔ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔وہ جناب فی الحقیقت بنفسہ باعظمت و معزز ہیں۔ |
|
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٟهِيـمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْـرَىٰ |
ان پیغامی(ملائکہ)کی وضاحت کرنے پر جوں ہی تشویش کی کیفیت ابراہیم(علیہ السلام)سے دور ہو گئی اور انہیں خوشخبری مل چکی: |
|
يُجَـٟدِلُنَا فِـى قَوْمِ لُوطٍ٧٤ |
ہم جناب کے ساتھ انہوں نے لوط(علیہ السلام)کی قوم کے ساتھ نرمی کے حق میں دلائل دینے شروع کر دئیے۔ |
|
إِنَّ إِبْرَٟهِيـمَ لَحَلِيـمٌ أَوَّٟهٚ مُّنِيبٚ ٧٥ |
۔۔ابراہیم(علیہ السلام)کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ مزاجاً اور فطرتاً بردبار ،نرم دل تھے اور ہمیشہ توجہ دینے والے تھے۔۔ |
|
يَٟٓإِبْرَٟهِيـمُ أَعْـرِضْ عَنْ هَـٟذَآ |
’’اے ابراہیم (علیہ السلام)اس موضوع کو اب رہنے دیں۔ |
|
إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْـرُ رَبِّكَ |
یہ حقیقت ہے کہ آپ کے رب کے فیصلے کا فرمان جاری ہو چکا ہے۔ |
|
وَإِنَّـهُـمْ ءَاتِيـهِـمْ عَذَابٌ غَيْـرُ مَرْدُودٛ ٧٦ |
اور ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ نہ پلٹائے جانے کی حالت میں کر دیا گیا عذاب ان کی جانب بڑھ رہا ہے‘‘۔ |
|
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطٙا سِـىٓءَ بِـهِـمْ وَضَاقَ بِـهِـمْ ذَرْعٙا |
مزید جان لو؛ابراہیم(علیہ السلام)سے اجازت لے کر جوں ہی ہم جناب کے پیغامی لوط(علیہ السلام)کے پاس پہنچے توان کی موجودگی نے انہیں بے چین کر دیا۔اور ان کے ساتھ سے گھٹن کو محسوس کیا، اپنے ہاتھو ں کو سامنے کی جانب کرتے ہوئے۔ |
|
وَقَالَ هَـٟذَا يَوْمٌ عَصِيبٚ ٧٧ |
اور کہا’’یہ دن شدید پریشانی اور بھاری ہے‘‘۔ Root: ع ص ب |
|
وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُـهْرَعُونَ إِلَيْهِ |
اس دن کا یہ واقعہ بھی جان لو؛ان (لوط علیہ السلام)کے پاس ان کی قوم کے لوگ پہنچ گئے۔وہ ان کی جانب مستی میں جھومتے ہوئے پہنچ رہے تھے۔ Root: ھ ر ع |
|
وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّــَٔاتِ |
باوجود اس کے کہ اس سے قبل ان کا برائیوں میں ملوث ہونا روزمرہ کی عادت تھی۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ هَٟٓـؤُلَآءِ بَنَاتِـى هُنَّ أَطْهَرُ لَـكُـمْ |
انہوں(لوط علیہ السلام)نے گھر کے باہر جمگھٹا کرنے والوں سے کہا’’اس بات کا خیال کرو یہاں میری بیٹیاں ہیں۔وہ انتہائی پاکیزہ فطرت ہیں، یہ تم لوگوں کے لئے معلوم حقیقت ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِـى ضَيْفِـىٓ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور تم لوگ مجھے میرے مہمانوں کے معاملے میں شرمندگی اور رسوائی سے دوچار نہ کرو۔ |
|
أَلَيْسَ مِنكُـمْ رَجُلٚ رَّشِيدٚ ٧٨ |
کیا کوئی ایک بھی ایساہوش مند مرد تم لوگوں میں موجود نہیں جو موقع محل کے مطابق عقل و شعور سے کام لے۔ Root: ر ش د |
|
قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِـى بَنَاتِكَ مِنْ حَقّٛ |
انہوں(جمع ہوئے لوگوں)نے جواب دیا’’یقیناً آپ جانتے ہیں کہ ہم نےقطعاً روا نہیں سمجھا اپنے لئے آپ کی بیٹیوں کے متعلق کوئی نازیبا بات کرنا۔ |
|
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ٧٩ |
مگر یقیناً آپ کو یہ بھی معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ لَوْ أَنَّ لِـى بِكُـمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَـىٰ رُكْنٛ شَدِيدٛ ٨٠ |
انہوں(لوط علیہ السلام)نے کہا’’کاش ایک ایسی قوت میرے پاس ہوتی جس سے میں تم لوگوں کو منتشر کر سکتا یامیں نے مضبوط سہارے والے مقام کی جانب رہائش اختیار کی ہوتی‘‘۔ Root: ر ك ن |
|
قَالُوا۟ يٟلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَ |
انہوں(انسانوں کا روپ دھارے ملائکہ)نے کہا ’’اے لوط(علیہ السلام)!یہ حقیقت ہے کہ آپ کے رب کے ہم رسول ہیں۔آپ بے فکر رہیں یہ لوگ آپ کی جانب کبھی پہنچ نہیں پائیں گے۔ Root: و ص ل |
|
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٛ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُـمْ أَحَدٌ |
چونکہ ان پر عذاب نازل ہونا اٹل فیصلہ ہے۔اس لئے آپ(لوط علیہ السلام)اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے رات کے اس پہر روانہ ہو جائیں جو رات میں سے کاٹا ہوا دورانیہ ہے۔اور آپ میں سے کسی ایک کو بھی قطعاً پیچھے کی جانب مڑ کر دیکھنا نہیں چاہئیے۔ |
|
إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ |
سوائے اپنی اہلیہ کو ساتھ لینے کے۔وہ عذاب جو انہیں پہنچنے والا ہے وہی اس کو پہنچنے والا ہے۔ |
|
إِنَّ مَوْعِدَهُـمُ ٱلصُّبْحُ |
یقینا ان لوگوں کے لئے مقرر کردہ وقت آج کی صبح ہے۔ |
|
أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٛ ٨١ |
کیا مقررہ صبح کا وقت قریب نہیں آن پہنچا۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا جَعَلْنَا عَٟلِيَـهَا سَافِلَـهَا |
چونکہ نزول عذاب کے مقررہ وقت سے قبل رسول اور ایمان والے بحافظت دور پہنچ چکے اس لئے جوں ہی ہمارا فرمان نافذ العمل ہوا ہم جناب نے اس بستی کی اوپر کی سطح زمین کو اس کی نچلی تہہ بنا دیا(آتش فشاں کے کیچڑ نے سطح زمین بنا دی)۔ |
|
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهَا حِجَارَةٙ مِّن سِجِّيلٛ مَّنضُودٛ ٨٢ |
جب کہ اس دوران ہم جناب اس بستی پرکنکریوں کی بارش برسا رہے تھے جن کا ماخذ وہ مقام تھا جہاں دم پخت مٹی سے بن کرتہہ بر تہہ اورپہلو بہ پہلو جمع رکھی گئی تھیں۔ |
|
مُّسَوَّمَةٙ عِندَ رَبِّكَ |
ان کنکریوں کو آپ(ﷺ)کے رب کے فرمان کے مطابق نشان زدہ کیا گیا تھا۔(خصوصی طور پر قیود کی تمام حدیں پھلانگ جانے والوں کے لئے۔الذاریات۔۳۴) Root: س و م |
|
وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ بِبَعِيدٛ ٨٣ |
متنبہ رہو؛ وہ بستی ان حقیقت کے منافی بگاڑ پر کاربند لوگوں کے مسکن سے کوئی زیادہ دور بھی نہیں۔ |
|
وَإِلَـىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُـمْ شُعَيْبٙا |
اورہم جناب نے شعیب (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم مدین کی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ |
انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
مَا لَـكُـم مِّنْ
إِلَٟهٍ
غَيْـرُهُۥ |
تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ادراک کرو؛ ان جناب کے علاوہ معبودان تصور کئے جانے والوں میں قطعاً کوئی نہیں جو تم لوگوں کے لئےرب/پروردگار کے کردار کا حامل ہو۔ |
|
وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْـيَالَ وَٱلْمِيـزَانَ |
اور تمہیں منع کیا جاتا ہے کہ پیمائش کے آلہ اور ترازو میں تنقیص کرو۔ Root: و ز ن |
|
إِنِّـىٓ أَرَىٰكُـم بِخَيْـرٛ |
میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تم آسودہ حال ہو۔(اس دھوکہ دہی کا قطعی جواز نہیں)۔ |
|
وَإِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٛ مُّحِيطٛ ٨٤ |
اوریہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں اس دن کے متعلق جب عذاب تم لوگوں پربھرپور انداز میں مسلط ہو جائے گا۔ Root: ح و ط |
|
وَيٟقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْـيَالَ وَٱلْمِيـزَانَ بِٱلْقِسْطِ |
اور اے میری قوم!پیمائش کے پیمانے اور ترازو سے ادا کردہ قیمت کے مساوی ادائیگی کرو۔ |
|
وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُـمْ |
اور تمہیں چاہئے کہ لوگوں کو خسارا نہ دو ان کی اشیاء کی پیمائش،وزن،مقدار میں کمی کر کے۔ Root: ب خ س |
|
وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٨٥ |
اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔ |
|
بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَ |
اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیرپا خصلت کی حامل کا حصول تم لوگوں کے لئے بہترین اور بھلائی کا موجب ہے۔اس بات کو یاد رکھو اگر تم حقیقی معنوں میں ایمان لائے ہو۔ |
|
وَمَآ أَنَا۟ عَلَيْكُـم بِحَفِيظٛ ٨٦ |
اور میں تاکید سے یہ واضح کر دوں کہ زمان و مکان میں بشری طور پرمیں تمہاری حفاظت پر مامور نہیں ہوں"۔ |
|
قَالُوا۟ يٟشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُـرُكَ أَن نَّتْـرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ |
عمائدین مشرکین نے کہا’’اے شعیب!کیا تیری صلوٰۃ تجھے یہ حکم بھی دیتی ہے کہ ہم وہ متروک کر دیں جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے رہتے تھے۔ Root: ت ر ك |
|
أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِـىٓ أَمْوَٟلِنَا مَا
|
یا یہ کہ ہم اپنے اموال سے متعلق ایک نئی طرز کو اپنائیں جو ہم چاہتے ہیں۔ |
|
إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيـمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧ |
یقیناً آپ ہیں،لگتا ہےصرف آپ بردبار اورذی شعور ہیں!‘‘۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ أَرَءَيْتُـمْ إِن كُنتُ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّـى |
انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!کیا تم لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند ہوں۔ |
|
وَرَزَقَنِى مِنْهُ
رِزْقًا حَسَنٙا |
اور ان جناب نے اپنی بارگاہ سے مجھے متوازن نفیس سامان زیست عنایت کیا ہے۔ |
|
وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُـمْ إِلَـىٰ مَآ أَنْـهَىٰكُـمْ عَنْهُ |
اور میرا ارادہ تم لوگوں سے محض باہمی تقابل میں اس طرز عمل کو رائج کرنا نہیں ہے جس سے میں تم لوگوں کو منع کر رہا ہوں۔ |
|
إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٟحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ |
میں سوائے معاشرے میں لین دین کے معاملات میں اصلاح لانے کے کچھ اور ارادہ نہیں رکھتا جس قدر سنوارنے کی مجھ میں استطاعت ہے۔ |
|
وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ |
اور اس میں تو دو رائے نہیں ہو سکتی کہ میرا حوصلہ،ہمت اور داعیہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور تائید کے ممکن ہی نہیں۔ Root: و ف ق |
|
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ٨٨ |
ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور ان جناب کی جانب میں اپنی توجہ کو مرکوز رکھتا ہوں۔ Root: ن و ب |
|
وَيٟقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُـمْ شِقَاقِىٓ |
اور اے میری قوم!مجھ سے الگ شناخت رکھنے کی خواہش تم کو آئندہ اس حد تک الگ نہ کر دے: Root: ش ق ق |
|
أَن يُصِيبَكُـم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ
نُوحٍٛ أَوْ قَوْمَ
هُودٍٛ
أَوْ قَوْمَ صَٟلِحٛ |
جس سے یہ امکان پیدا ہو جائے کہ تم لوگوں کو اس کے مثل مصیبت کا سامنا کرنا پڑ جائے جس قسم کی مصیبت کا نوح(علیہ السلام)کی قوم کو سامنا ہوا،یا ویسا جیسا ھود(علیہ السلام)کی قوم نے کیا؛یا ویسا جیسا صالح(علیہ السلام)کی قوم نے بھگتا۔ |
|
وَمَا قَوْمُ لُوطٛ مِّنكُـم بِبَعِيدٛ ٨٩ |
متنبہ رہو؛ لوط(علیہ السلام)کی قوم کی بستی تم لوگوں کےمسکن سے کوئی زیادہ دور بھی نہیں۔ |
|
وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُـمْ ثُـمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ |
اورتم لوگ اپنے رب سے پردہ پوشی اور بخشش کے خواہش مند بنو،بعد ازاں ان کی جانب ندامت کے احساس اور اصلاح کے ارادے سے پلٹو۔ |
|
إِنَّ رَبِّـى رَحِـيـمٚ وَدُودٚ ٩٠ |
یہ حقیقت ہے کہ میرے رب منبع رحمت ہیں اور شفقت سے قدر اور حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں‘‘۔ Root: و د د |
|
قَالُوا۟ يٟشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيـرٙا مِّمَّا تَقُولُ |
انہوں(عمائدین مشرکین)نے کہا’’اے شعیب!آپ جو باتیں کر رہے ہیں ان میں اکثر کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ Root: ف ق ه |
|
وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٙا |
اور درحقیقت ہم اپنے درمیان آپ کو کمزورنکتہ نظر رکھنے والا دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ |
|
وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَـمْنَٟكَ |
اور اگر آپ کے قبیلے کا احترام مدنظر نہ ہوتا تو یقیناً ہم آپ کو سنگسار کر دیتے۔ |
|
وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٛ ٩١ |
اور آپ نے ہم پر بھاری اورغالب نہیں ہوتا تھا‘‘۔ |
|
قَالَ يٟقَوْمِ أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُـم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُـمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّاۖ |
انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا’’اے میری قوم!کیا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کرمیرا کنبہ تم لوگوں پر حاوی ہے اس حال میں کہ تم لوگوں نے ان جناب کو زیر مقصد اپنے سے الگ پس پشت رکھنے کے انداز میں اپنایا ہوا ہے۔ |
|
إِنَّ رَبِّـى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٚ ٩٢ |
اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ یقیناً میرے رب ہر لمحہ ان اعمال کا جو تم کرتے رہتے ہو احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ Root: ح و ط |
|
وَيٟقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَـىٰ مَكَانَتِكُـمْ إِنِّـى عَٟمِلٚ |
اوراے میری
قوم!آپ لوگ اپنے طرز عکر پر عمل کرتے رہیں؛میں یقیناً اس طرز عمل پر
کاربند ہوں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔چونکہ
نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہےتم
لوگ اس کو جلد جان لو گے جس کو ایساعذاب آن پہنچے گا جو اسے
درماندگی اور رسوائی سے دوچار کر دے گا۔اور تم لوگ اس کو جلد جان لو جو
جھوٹا ہے۔ |
|
وَلَمَّا جَآءَ أَمْـرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبٙا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْـمَةٛ مِّنَّا |
جان لو؛ جوں ہی ہمارا فرمان پہنچا ہم جناب نے اپنی جانب سے اظہار رحمت کے لئے شعیب (علیہ السلام)کواور جو ان کے ساتھ نازل کردہ پر ایمان لائے تھے بحفاظت وہاں سے نجات دلائی ۔ |
|
وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ |
اور ہولناک دھماکے نے ان لوگوں کو اچانک گرفت میں لے لیا جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ کے طرز عمل کو اپنائے رکھا تھا ۔ Root: ص ى ح |
|
فَأَصْبَحُوا۟ فِـى دِيَٟرِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٩٤ |
چونکہ اس بھونچال کی نوعیت شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔ |
|
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيـهَآ |
منظر ایسا ویران بن گیا تھا جیسے اس بستی میں وہ کبھی آباد ہی نہ رہے تھے۔ |
|
أَلَا بُعْدٙا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ٩٥ |
خبردار رہو؛ہولناک انجام تھا،خصوصی طور پرقوم مدین کو نیست و نابود کر دینے ویسے جیسے ثمود نے اپنے آپ کو نیست و نابود کر لیا تھا۔ |
|
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـَٔايَـٟتِنَا وَسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٍٛ ٩٦ |
یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ کے لئے اپنی ایسی شہادتوں(آیات/معجزات )کے ساتھ بھیجا تھا،جوتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک تھیں اور واضح سند و اختیار کے ساتھ۔ Root: س ل ط |
|
إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ فِرْعَوْنَ |
فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب۔مگر عینی مشاہدہ کے باوجود انہوں(سرداروں)نے فرعون کے حکم کی اتباع کی۔ Root: م ل ء |
|
وَمَآ أَمْـرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٛ ٩٧ |
باوجود اس کے کہ فرعون کے حکم میں سچائی،ایمانداری،ہوشمندی،خیر و اصلاح کا کوئی پہلو نہ تھا۔ Root: ر ش د |
|
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ فَأَوْرَدَهُـمُ ٱلنَّارَ |
وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہو گا اور اس طرح انہیں جہنم میں وارد کر دے گے۔اور کیا برا ہے وہ گھاٹ وہاں وارد ہونے والوں کے لئے۔ |
|
وَأُتْبِعُوا۟ فِـى هَـٟذِهِۦ لَعْنَةٙ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ |
ان کا انجام جان لو؛اس دنیا میں اور یوم قیامت کو پھٹکار،لعنت ملامت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے۔کیا ہی برا ہے وہ تحفہ جو انہیں دیا گیا ہے۔ |
|
ذَٟلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ |
یہ بستیوں کی تاریخ کی کچھ خبریں ہیں جن کو ہم جناب آپ(ﷺ)پرمن و عن وقوع پذیر انداز میں افشاں کر رہے ہیں۔قائم و برقرار پائی جانے والی اور تباہ حال کھنڈرات کی صورت ،ان بستیوں میں سے صفحہ ہستی پر موجود ہیں ماضی سے سبق لینے والوں کے لئے۔ Root: ق ص ص; ح ص د Explanation/Analysis |
|
وَمَا ظَلَمْنَٟهُـمْ وَلَـٟكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ |
جان لو،ہم جناب نے ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی، بلکہ وہ خود اپنے نفوس پرزیادتی کرنے کے مرتکب ہوتے رہے۔ |
|
فَمَآ
أَغْنَتْ عَنْـهُـمْ ءَالِـهَتُـهُـمُ ٱلَّتِـى يَدْعُونَ مِن دُونِ
ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ لَّمَّا جَآءَ أَمْـرُ رَبِّكَ |
چونکہ سوائے تخیل کے ان کا وجود ہی نہ تھا اس لئے جوں ہی آپ(ﷺ) کے رب کا فرمان نافذ العمل ہو گیا توان کے وہ معبودان کسی شئے کو ان سے دور نہ کر سکے جن کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ وہ پکارتے رہتے تھے۔ |
|
وَمَا زَادُوهُـمْ غَيْـرَ تَتْبِيبٛ ١٠١ |
اور انہوں(پتھروں سے تراشے معبودان)نے ان کے لئے اضافہ نہیں کیا جو زیادہ تباہی مچانے سے مختلف تھا۔ |
|
وَكَذَٟلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ ٱلْقُرَىٰ وَهِىَ ظَٟلِمَةٌ |
اور یہ انداز تھا آپ(ﷺ)کے رب کا گرفت میں لینے کا جب انہوں نے بستیوں کو گرفت میں لیا تھا اس حال میں کہ انہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ پیدا کرنے کو اپنی سرشت بنایا ہوا تھا۔ |
|
إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيـمٚ شَدِيدٌ ١٠٢ |
یہ حقیقت ہے کہ ان جناب کا مجرمین کو گرفت میں لینا ان کے لئے دردناک ہے اور شدید بھی۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلۡءَاخِـرَةِ |
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کے اوراق سے ان بیان کردہ وقوع پذیر خبروں میں اس شخص کے لئے حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی نشانی موجود ہے جو حیات آخرت کے عذاب کا خوف رکھتا ہے۔ |
|
ذَٟلِكَ يَوْمٚ مَّجْمُوعٚ لَّهُ ٱلنَّاسُ |
یہ خوف اس دن کا ہے جب لوگوں کو مجموع حالت میں ایک جگہ یکجا کر دیا جائے گا۔ |
|
وَذَٟلِكَ يَوْمٚ مَّشْهُودٚ ١٠٣ |
اور یہ دن ہے جب ہر کوئی زیر مشاہدہ ہو گا۔ |
|
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٛ مَّعْدُودٛ ١٠٤ |
متنبہ رہو؛ہم جناب اسے سوائے متعین کردہ مدت کے لئے مؤخر نہیں کر رہے۔ |
|
يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ |
متنبہ رہو؛ وہ لمحہ جس دن پہنچے گا تو کوئی شخص ازخود نہیں بولے گا سوائے اس وقت جب ان جناب کی جناب سے اجازت ملے گی۔ |
|
فَمِنْـهُـمْ شَقِىّٚ وَسَعِيدٚ ١٠٥ |
چونکہ لوگوں کو تین گروہوں میں منقسم کر کے الگ الگ کر دیا جائے گا اس لئے ہرہٹ دھرم اور ضدی سرشت والا اور نیک بخت خوش کردار طبع والاان میں ہر کسی کے لئے نمایاں ہو گا۔ Root: س ع د |
|
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُوا۟ فَفِـى ٱلنَّارِ |
چونکہ عدالتی کاروائی کے مراحل مکمل ہو چکے ہوں گے اس لئے جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جنہوں نے ہٹ دھرمی سے باطل کو اپنائے رکھا تھا اس لئے انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ Root: ش ق ى |
|
لَـهُـمْ فِيـهَا زَفِيـرٚ وَشَهِيقٌ ١٠٦ |
آہیں اور سسکیاں اس میں رہائش کے دوران ان کے لئے روزمرہ کا معمول ہو گا۔ |
|
خَٟلِدِينَ فِيـهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٟوَٟتُ وَٱلۡأَرْضُ إِلَّا مَا
شَآءَ رَبُّكَ |
انہوں نے ہمیشہ اس(جہنم)میں قیام پذیر رہنا ہے جتنا عرصہ آسمانوں اور زمین کو دوام رہا ہے۔یہ فیصلہ نیا نہیں بلکہ صرف وہی ہے جو آپ(ﷺ)کے رب نے چاہا اور مشتہر کر دیا تھا۔ |
|
إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٚ لِّمَا يُرِيدُ ١٠٧ |
یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب جو ارادہ کرتے ہیں اس کو مطلق انجام دیتے ہیں۔ |
|
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِـى ٱلْجَنَّةِ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کو نیک بخت اور خوش قسمت قرار دے دیا گیا تھا ، چونکہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا اس لئےانہیں احترام سے جنت میں داخل ہونے کا کہا جائے گا۔ Root: س ع د |
|
خَٟلِدِينَ فِيـهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٟوَٟتُ وَٱلۡأَرْضُ إِلَّا مَا
شَآءَ رَبُّكَ |
انہوں نے ہمیشہ اس(جنت)میں قیام پذیر رہنا ہے جتنا عرصہ آسمانوں اور زمین کو دوام رہا ہے۔یہ فیصلہ نیا نہیں بلکہ صرف وہی ہے جو آپ(ﷺ)کے رب نے چاہا اور مشتہر کر دیا تھا۔ Root: د و م |
|
عَطَآءً غَيْـرَ مَجْذُوذٛ ١٠٨ |
اللہ تعالیٰ کی جانب سے بنفس نفیس یہ عنایت اس انداز میں ہے کہ اس میں انحطاط کا شائبہ بھی نہیں۔ Root: ع ط و |
|
فَلَا تَكُ فِـى مِرْيَةٛ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٟٓـؤُلَآءِ |
چونکہ جزا اور سزا کا اصول زمین پر بھیجتے وقت سے طے ہے اور وہ لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اس لئے آپ (ﷺ)متردد فکرمندی میں نہ رہیں اس وجہ سے کہ یہ لوگ کن کی پرستش کئے چلے جا رہے ہیں۔ Root: م ر ى |
|
مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُـم مِّن قَبْلُ |
وہ کوئی نئے انداز کے معبودان کی پرستش نہیں کر رہے سوائے اس طرح جیسے گزرے زمان میں ان کے آباؤاجداد کرتے رہے تھے۔ |
|
وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُـمْ نَصِيبَـهُـمْ غَيْـرَ مَنقُوصٛ ١٠٩ |
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جناب ان لوگوں کو ان کا حرمان نصیب(جیسے آخرت سے مایوس تھے)مکمل طور پر لوٹا دیں گے،اس حال میں کہ وہ کبھی منقوص نہیں ہو گا۔ |
|
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـىٰ ٱلْـكِـتَٟبَ |
ماضی کی یہ حقیقت بھی جان لو؛ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔ |
|
فَٱخْتُلِفَ فِيهِ |
چونکہ مفادات پر زد پڑتی تھی اور مصلحتوں کے برعکس بیان تھا اس لئے اس کے مندرجات سے باہمی اختلاف کیا گیا،مختلف باتوں کو سامنے لایا گیا۔ |
|
وَلَوْلَا كَلِمَةٚ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ |
مطلع رہو کیوں ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے؛ اگر آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر کرنے کے متعلق بات بتا نہ دی گئی ہوتی (حوالہ النحل۔61) تو ان کے مابین اسی وقت اس معاملے کو ختم کر دیا جاتا (جس میں وہ باہمی اختلاف کر رہے ہیں)۔ Root: س ب ق |
|
وَإِنَّـهُـمْ لَفِـى شَكّٛ مِّنْهُ مُرِيبٛ ١١٠ |
اب ان کاحال یہ ہے کہ یقیناً اس(قرءان مجید)سے برآمد ہونی والی معلومات سے ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو انہیں متردد کیفیت میں گاہے بگاہے کر دیتا ہے۔ |
|
وَإِنَّ كُلّٙا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّـهُـمْ رَبُّكَ أَعْمَٟلَـهُـمْ |
Root: و ف ى |
|
إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ١١١ |
۔ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ مطلق باخبر ہیں ہر اس عمل سے جو وہ کرتے ہیں۔ |
|
فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ |
چونکہ مشرکین کی مانند یہ بھی متردد ہیں اس لئے بجائے ان کے لئے فکرمند ہونے کے آپ (ﷺ)استقامت سے اس پر کاربند رہیں جیسے کہ آپ کو (قرءان مجید میں)حکم دیا گیا ہےاور ہروہ شخص ایسا کرے جو پلٹ کر آپ کی معیت میں ہے۔اور انہیں منع فرمائیں ’’تم لوگ کسی بھی معاملے میں متعین حدود قدود سے تجاوز مت کرو۔ Root: ط غ ى |
|
إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ١١٢ |
ان جناب کے متعلق اس حقیقت کو ہمیشہ مد نظر رکھو کہ وہ ہر اس کام کا ہر لمحہ مشاہدہ کر رہے ہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔ |
|
وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَـى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُـمُ ٱلنَّارُ |
اور تم لوگوں کو اس سے بھی منع کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی جانب جھکاؤ کر کے ارکان بنو جنہوں نے حقیقت کے منافی بگاڑ اور باطل روش کو اپنایا ہے۔چونکہ ان کا انجام جہنم ہے اس لئے آگ کے تمہیں لپیٹ لینے کا امکان بن سکتا ہے۔ Root: ر ك ن |
|
وَمَا لَـكُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ |
متنبہ رہو۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے سوا قطعاً کوئی سہارا /محافظ اور مددگار نہیں جو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔ |
|
ثُـمَّ لَا تُنصَرُونَ ١١٣ |
ایسا ہو جانے کے بعد ازاں تم لوگوں کی مدد نہیں کی جا سکے گی‘‘۔ |
|
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَـىِ ٱلنَّـهَارِ وَزُلَفٙا مِّنَ ٱلَّيْلِ |
اور آپ (ﷺ)استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کا انتطام کریں دن کے دو ڈھلتے کناروں پر اور رات میں سے آنے والے دن کا اختتام کرنے والےلمحوں کے دوران[ظہر، عصر۔ اور مغرب غروب آفتاب الاسراء۔۷۸)۔ |
|
إِنَّ ٱلْحَسَنَٟتِ يُذْهِبْـنَ ٱلسَّـيِّـَٔاتِ |
یہ حقیقت ہے کہ اعتدال اور حسن سلوک سے متصف کاروائیاں انسان سے بدی اور برائیوں کے اثرات کو زائل کر دیتی ہیں۔ |
|
ذَٟلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٟكِـرِينَ ١١٤ |
یہ بیان کردہ تاریخ بھی ہے اور ان کے لئے خصوصی طور پریاددہانی جو خودسبق لیتے ہیں اور لوگوں کو دہراتے بھی ہیں۔ |
|
وَٱصْبِـرْ |
اور آپ(ﷺ)دھیرج رکھیں ان نامعقول باتوں کو سن کر جو انکار کرنے والے عمائدین کرتے رہتے ہیں۔ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ١١٥ |
تو یقیناً اللہ تعالیٰ اعتدال اور حن سلوک کا رویہ اپنائے رکھنے والوں کے صلہ کواثر پذیری سے محروم نہیں فرماتے۔ Root: ض ى ع |
|
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلـِكُـمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٛ يَنْـهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
باوجود بار بار تنبیہ کئے جانے کے کیوں ایسا نہیں ہوا کہ ان تہذیبوں میں جو تم سے قبل دنیا میں آباد تھیں صاحبان اثر و دانش دوسروں کو معاشرے میں حقیقت کے منافی بگاڑ پیدا کرنے سے منع کرتے۔ |
|
إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْـهُـمْ |
سوائے ایک معمولی تعداد کے جو ان میں سے ایمان لائے تھے جنہیں ہم جناب نے اس بستی سے بحافظت نجات دلائی تھی۔ |
|
وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِيـنَ ١١٦ |
بجائے منع کرنے کے ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے دانستہ ظلم و استحصال کرنے والوں کی دانستہ پیروی کی جنہیں اس تہذیب میں عیش و عشرت اور امارت حاصل تھی۔اور وہ لوگ مستوجب سزامجرم قرار دے دئیے گئے تھے۔ |
|
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُـهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٛ وَأَهْلُـهَا مُصْلِحُـونَ ١١٧ |
آپ مطلع رہیں؛ آپ(ﷺ)کے رب نے کبھی یہ مناسب نہیں سمجھا کہ مخصوص بستی کوخواہ مخواہ نیست و نابود کر دے باوجود اس کے کہ اس کے لوگ اصلاح پر کاربند ہیں۔ |
|
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙ |
آپ اپنے قلب کے غم کو کم کرنے کے لئے اس نکتے کو ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ(ﷺ) کے رب کا ارادہ اور منشاء یہ ہوتا تو ان جناب نے لوگوں کو ایک ہم خیال وحدت بنا دینا تھا(ان کو عنایت کردہ حریت کو سلب کر کے)۔ |
|
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِيـنَ ١١٨ |
چونکہ ایسا ارادہ نہیں وہ لوگ مختلف طرز عمل اپنانے اورمتضاد باتوں کو حقیقت کے مقام پر لانے میں کمی اور سستی نہیں کریں گے۔ Root: ز ى ل |
|
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ |
سوائے اس شخص کے جس پر آپ(ﷺ)کے رب نے رحم فرما دیا۔ |
|
وَلِذَٟلِكَ خَلَقَهُـمْ |
اوران جناب نے انہیں اس طرح تخلیق فرمایا ہے تاکہ بیان کردہ اختلاف کے معاملے میں انہیں حریت حاصل رہے۔ |
|
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّـمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْـمَعِيـنَ ١١٩ |
اور آپ(ﷺ)کے رب کا یہ فرمان پائے تکمیل کو پہنچ جائے۔’’تیری قسم کا جواب یہ ہے کہ میں جہنم کو بھر دوں گا نوع جنات اور نوع انسان میں سے ان افراد سے جو تیرے نقش قدم پرچلے ہوں گے؛ بھرنااجتماعی انداز میں‘‘[فرمان کے لئے دیکھیں الاعراف۔۱۸ اورالسجدہ۔۱۳]۔ Root: م ل ء |
|
وَكُلّٙا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ
بِهِۦ فُؤَادَكَ |
جان لیں؛!
ہر ایک منفرد قصہ — جو ہم جناب آپ پر من و عن
وقوع پذیر ہوئے انداز میں
بیان کر رہے ہیں—
ہم نے رسولوں کی تاریخ میں سے
منتخب طور پر چُنا ہے،
اس مخصوص مقصد کے تحت کہ
اس کے ذریعے ہم آپ کے
شعوری و ادراکی دماغ (فُؤَاد) کو
مشتعل ہونے کی
بجائےثابت قدمی، استقامت، اور ذہنی سکون و توازن کی حالت
میں رکھ سکیں —خاص طور پر اس وقت جب مخالفین کی
دشمنی، طعنہ زنی، اور بے منطق
مخالفت کا سامنا ہے۔ |
|
وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ٱعْمَلُوا۟ عَلَـىٰ مَكَانَتِكُـمْ
إِنَّا عَٟمِلُونَ ١٢١ |
اورآپ (ﷺ)ان لوگوں کے لئے ارشاد
فرما دیں جو آپ اور قرءان مجید پر ایمان نہیں لاتے ’’آپ لوگ اپنے طرز عکر پر عمل کرتے رہیں؛ہم
یقیناً اس طرز عمل پر کاربند ہیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ |
|
وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
متنبہ رہو؛آسمانوں اور زمین کی دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں حقیقتیں اللہ تعالیٰ کے لئے سرنگوں اور برسر پیکار ہوتے ہیں۔ |
|
وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلۡأَمْـرُ كُلُّهُۥ |
مطلع رہو(فلسفہ علت و معلول کی حقیقت سے)؛ہر معاملہ، اپنی کلی حیثیت میں،ان جناب کے حضور نبٹائے جانے کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ |
|
فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ |
چونکہ تمام کائنات مطلق بندگی کا مظہر ہے اس لئے آپ(ﷺ)ان جناب کے لئے بااظہار بندگی کرتے رہیں اور عقل و دانش کے تقاضوں کے مطابق معاملات کو سرانجام دے کر بہترین نتایج کےلئے ان جناب پر بھروسہ اور اعتماد قائم رکھیں۔ |
|
وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍٛ عَمَّا تَعْمَلُونَ ١٢٣ |
لوگ متنبہ رہیں؛ آپ (ﷺ) کے رب اُس سے کبھی غافل نہیں ہوتے جو اعمال تم لوگ کرتے ہو۔ Root: غ ف ل |
![]()
012-سُوۡرَةُ يوسف
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
الٓر |
عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت
کانشان اور منسلک حرف ر۔اے رسولِ کریم!یہ
اُس کتاب(ام الکتاب)کےمندرجاتہیں،جس
کا بنیادی وصف
حقائق مستور
اور
ہر حقیقت کو روشن،ممتاز اور بالکل واضح اور آشکار کر دینے والے کا ہے۔ |
|
نَـحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانَ |
ہم آپ (ﷺ) کو واقعات میں سے بہترین قصہ من وعن وقوع پذیر ہوئے انداز میں سناتے ہیں جن کے متعلق ہم نے آپ (ﷺ) کواِس قرء ان ِ مجید میں مطلع فرمایا ہے(کہ جو سوال آئے گا اس کے متعلق ہم قبل ازیں احسن تفسیر منکشف کر چکے ہوں گے۔الفرقان۔۳۳) |
|
وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٟفِلِيـنَ ٣ |
اور اِس (قرء ان ِ مجید)سے قبل آپ بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو اِس قصے کے بارے میں حقائق نہیں جانتے۔ Root: غ ف ل |
|
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٟٓأَبَتِ |
(قصہ یوں ہے کہ) جب یوسف (علیہ السلام) نے ایک دن اپنے والد کے پاس جا کر ادب و احترام سے بیٹھ کر کہا ”ابو جی! ۔ |
|
إِنِّـى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَـرَ كَوْكَبٙا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ |
میں نے خواب میں گیارہ سیارے، اورسورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ |
|
رَأَيْتُـهُـمْ لِـى سَٟجِدِينَ ٤ |
ابا!میں نے انہیں میرے لئے احترام اورتعظیم بجا لانے والوں کی طرح خواب میں دیکھا ہے“۔ Root: س ج د |
|
قَالَ يٟبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَـىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًاۖ |
انہوں (والد) نے اسے لپٹا کرآہستگی سےکہا”میرے پیارے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ (جلن سے) وہ تیرے خلاف کوئی حیلہ جوئی کریں۔ Root: ك ى د |
|
إِنَّ ٱلشَّيْطَٟنَ لِلْإِنْسَٟنِ عَدُوّٚ مُّبِيـنٚ ٥ |
یہ حقیقت ہے کہ شیطان انسان کا علی الاعلان دشمن ہے۔ |
|
وَكَذَٟلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ |
اور یاد رکھنا اس(خواب)انداز میں تیرے رب دوسروں پر فوقیت دیتے ہوئے تیرا انتخاب کریں گے۔ |
|
وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ |
اور وہ جناب تجھے پیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دیں گے۔ |
|
وَيُتِـمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَـىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ
أَتَمَّهَا عَلَـىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْحَٟقَ |
اور وہ جناب اپنی نعمت کا تم پر اتمام فرمائیں گے اورنسل/پیروکاران یعقوب(علیہ السلام)پر ویسے جیسے انہوں نے اتمام فرمایا تھا زمانہ قبل میں تیرے دو جد امجد پر،ابراہیم اور اسحاق(علیہما السلام)۔ |
|
إِنَّ رَبَّكَ عَلِيـمٌ حَكِيـمٚ ٦ |
یقیناً تیرے رب منبع علم ہیں،بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں"۔ |
|
لَّقَدْ كَانَ فِـى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٟتٚ لِّلسَّآئِلِيـنَ ٧ |
حقیقت یہ ہے کہ سوال/استفسار کرنے والوں کے لئے ایسے نکات یوسف(علیہ السلام)اور ان کے بھائیوں کی جگ بیتی/سوانح حیات میں واضح ہیں جو صحیح طرز عمل اختیار کرنے کی جانب ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ |
|
إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَـىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَـحْنُ عُصْبَةٌ |
آپ بتائیں ان کی سوانح میں پہلا موڑ اس وقت آیا جب ان کے بھائیوں نے آپس میں کہا’’سچ تو یہ ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے اباجان کے لئے ہم سے ہٹ کرزیادہ لائق توجہ اور پیار ہیں باوجود اس کے کہ ہم طاقتورجتھا ہیں۔ |
|
إِنَّ أَبَانَا لَفِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٨ |
یقیناً ہمارے ابا جان کی ان کی جانب ارتکاز محبت سے ظاہر ہے کہ ہماری جانب سے صریحاً غافل ہیں۔ |
|
ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضٙا |
تم لوگ یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی دوردراز جگہ پر چھوڑ آؤ۔ |
|
يَخْلُ لَـكُـمْ وَجْهُ أَبِيكُـمْ |
ایسا کرنے پرتمہارے اباجان کی تمام تر توجہ و محبت تمہارے لئے ہو جائے گی۔ Root: خ ل و |
|
وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمٙا صَٟلِحِيـنَ ٩ |
اوراس(ناپسندیدہ،گھناؤنے فعل)کے بعد تم لوگ صالح اعمال پر کاربندقوم بن کر رہنا‘‘۔ |
|
قَالَ قَآئِلٚ مِّنْـهُـمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ |
گفتگو میں شامل ان میں سے جو کم جذباتی اور قدرے سیانا تھانے کہا’’یوسف کو تم لوگوں کوقتل نہیں کرنا چاہیے۔ |
|
وَأَلْقُوهُ فِـى غَيَٟبَتِ ٱلْجُبِّ |
بلکہ اسے ویران خشک کنویں کی تہہ میں ڈال دو۔ |
|
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ |
اس راہ سے گزرنے والا قافلہ اسے شوق سے اٹھا کر لے جائے گا۔ |
|
إِن كُنتُـمْ فَٟعِلِيـنَ ١٠ |
ایسا ہی کرو اگر تم لوگ کچھ فعل کرنے پر تلے ہوئے ہو‘‘۔ |
(کنویں میں ڈالنے والی بات پر متفق ہو کر گھر آئےاور)انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان،آپ کے لئے وہ کون سی بات ہے جس کی وجہ سے آپ یوسف کے لئے ہم پر اعتماد نہیں کرتے |
|
وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٟصِحُونَ ١١ |
حالانکہ ہم یقینا ہر حال میں اس کے خیرخواہ ہیں۔ |
|
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدٙا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ |
آپ اسے کل ہمارے ساتھ باہر بھیج دیں۔خوب کھا پی لے گا،کھیلے کودے گا۔ Root: غ د و |
|
وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ ١٢ |
اور یقینا ہم اس کے لئے حفاظت کرنے والے ہوں گے‘‘۔ |
|
قَالَ إِنِّـى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ |
انہوں نے جواب دیا’’درحقیقت تمہارا اسے ساتھ لے جانا مجھے اداس اور حزن میں مبتلا کرتا ہے۔ |
|
وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُـمْ عَنْهُ غَٟفِلُونَ ١٣ |
کیونکہ مجھے خوف لاحق ہوتا ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا کھا جائے جب تم لوگ اس کی جانب سےغافل ہو‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَـحْنُ عُصْبَةٌ |
انہوں نے کہا’’اگر اسے بھیڑیا کھا جائے باوجود اس کے کہ ہم ایک مضبوط جتھا اس کے ساتھ ہیں۔ Root: ع ص ب |
|
إِنَّـآ إِذَٙا لَّخَٟسِـرُونَ ١٤ |
تویقینا ایسا ہو جانے پر ہم توکمزور نکمے بن جائیں گے‘‘۔ |
|
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْـمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِـى
غَيَٟبَتِ ٱلْجُبِّ |
اجازت مل جانے پرجوں ہی وہ اسے ساتھ لے کر گئے اور اکٹھے ہوکراسے سطح زمین سے ویران خشک کنویں کی تہہ میں اتار رہے تھے۔ |
|
وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَـنَّـهُـم بِأَمْرِهِـمْ هَـٟذَا وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٥ |
تو ہم جناب نے اسے وحی کر کے بتایا’’یقیناً تو مستقبل میں ان کے اس معاملے کے متعلق متنبہ کرے گا جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا‘‘۔ |
|
وَجَآءُوٓ أَبَاهُـمْ عِشَآءٙ يَبْكُونَ ١٦ |
اور(کنویں میں اتار دینے کے بعد)وہ عشاء کے وقت اپنے والد کے پاس پہنچ گئے اس انداز میں کہ رو رہے تھے۔ Root: ع ش ى |
|
قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ |
انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان؛سچ یہ ہے کہ ہم چلے گئے تھے،آپس میں دوڑ لگاتے ہوئے ختم لائن کی جانب سبقت لینے کی کوشش کرتے ہوئے۔ Root: س ب ق |
|
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٟعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ |
اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا،جس پر اسے اکیلا پا کر بھیڑیا اسے کھا گیا۔ |
|
وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٛ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٟدِقِيـنَ ١٧ |
مگر آپ توہمارے کہے کو سچ نہیں مانیں گے اگرچہ ہم سچ کہہ رہے ہیں‘‘۔ |
|
وَجَآءُو عَلَـىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٛ كَذِبٛ |
اوروہ گھر پہنچے تھے اس کے کُرتےپرجعلی خون سے دھبے لگا کر۔ |
|
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَـكُـمْ أَنفُسُكُـمْ أَمْرٙا |
انہوں(والد)نے کہا’’نہیں یہ سب غلط ہے؛حقیقت میں تمہارے نفوس نے اس معاملے کوتمہارے لئے سکون و طمانیت کا باعث بنایا ہے۔ Root: س و ل |
|
فَصَبْـرٚ جَـمِيلٚ |
اس لئے اس کے سلامت ہونے کا یقین تحمل اور بردباری سے جدائی سہنے کا ذریعہ ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨ |
اور اللہ تعالیٰ ہی ہیں جن سے طلبگار اعانت ہوں اس کے لئے جو بڑھا چڑھا کر جھوٹ تم بیان کر رہے ہو‘‘۔ Root: ع و ن |
|
وَجَاءَتْ سَيَّارَةٚ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُـمْ فَأَدْلَـىٰ دَلْوَهُۥ |
اسی شام ایک قافلہ اس جگہ پہنچ گیا۔پڑاؤڈالنے کے بعد انہوں نے اپنے سقہ کو پانی لانے کے لئے بھیجا۔کنواں کے کنارے پہنچ کر اس نے اپنا ڈول نیچے لٹکایا(تو نیچے دیکھتے ہی)۔ |
|
قَالَ يٟبُشْـرَىٰ هَـٟذَا غُلَٟمٚ |
وہ پکارا’’واہ خوشخبری؛سنو یہاں ایک لڑکا ہے‘‘۔ Root: غ ل م |
|
وَأَسَرُّوهُ بِضَٟعَةٙ |
اور اسے نکال کر انہوں(تجارتی قافلے والوں)نے اسے چھپا لیا کاروباری پونجی کی نیت سے۔ Root: س ر ر |
|
وَٱللَّهُ عَلِيـمُ |
اور(انہوں نے احساس ہی نہیں کیا کہ)اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو حرکت وہ کر رہے تھے۔ |
|
وَشَرَوْهُ بِثَمَنِ |
اور انہوں(تجارتی قافلے والوں)نے اسے کم قیمت پر سودے بازی کر کے بیچ دیا،طے شدہ معدودے چند درہموں کے عوض۔ |
|
وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٟهِدِينَ ٢٠ |
کیونکہ وہ اس کے متعلق فکرمند حالت میں تھے کہ اس سے جان خلاصی کر لیں(ایسا نہ ہو کہ اغواکار سمجھ لئیےجائیں)۔ |
|
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَـرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ |
اور جس شخص نے مصر کے بازارمیں سے اسے شوق سے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ |
|
أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ
وَلَـدٙا |
’’آپ اس کی رہائش کو باوقار بنائیں؛قریب ہے کہ یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہو یا ہم اسے بطور بیٹا اپنا لیں‘‘ Root: ع س ى |
|
وَكَذَٟلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
اور یوں ہم جناب نے یوسف کے لئے ٹھکانہ بنا دیا،باوقار انداز میں ملک مصر میں رہائش پذیر۔ |
|
وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ |
اور تاکہ (جیسے ان کے والد نے اسے بتایا تھا)ہم جناب اسے پیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دیں۔ |
|
وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَـىٰٓ أَمْرِهِۦ |
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ اپنے طے شدہ امر کوحقیقت میں ظہور دینے پر بالا دست ہیں۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٢١ |
مگراکثر لوگ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ |
|
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٟهُ حُكْـمٙا وَعِلْمٙا |
مزید جان لو؛جوں ہی انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اپنی بھرپور جوانی میں قدم رکھا ہم جناب نے انہیں قوت فیصلہ، امتیازی ذہانت اورعلم سے نوازا۔ |
|
وَكَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٢٢ |
مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔ |
|
وَ رَٟوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِـى بَيْتِـهَا عَن
نَّفْسِهِۦ وَ غَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٟبَ وَ قَالَتْ هَيْتَ لَكَۚ |
ان دنوں یہ واقعہ پیش آیا۔اس خاتون نے ،جس کے گھر میں
اس کی آنکھوں کے سامنے بچپن سے بھرپور جوان ہوئے تھے،ان کے
آگے پیچھے ہو کر انہیں اپنے آپ سے بے خود کر کےاپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی۔اور(عدم دلچسپی اور ان کی حیرانگی کے پیش نظر) اس نے
یکے بعد دیگرے دروازے اندر سے مقفل کر دئیے؛ایسا کر لینے پر انہیں
مخاطب کرتے ہوے کہا’’آؤ ؛اب کیا ہے تمہارے لئے خوف اور رکاوٹ!‘‘ |
|
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ |
۔۔مگر(اس وعظ کا کوئی اثر اس خاتون پر نہ ہو اکیونکہ)وہ پہلے ہی جذباتی ہیجان کی ان کے ساتھ تسکین کا ٹھان چکی تھی۔ |
|
وَهَـمَّ بِـهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٟنَ رَبِّهِۦ |
۔۔(ہر کوئی جان لے کہ اس قسم کے محفوط مگر ہیجان خیز انداز اور پیشکش کے ماحول میں اگر وہ عام مرد ہوتا تو)اور وہ اس عورت کے ساتھ طغیانی جذبات میں بہہ جاتا اگر اس نے اپنے رب کے ہر مقام پر موجود ہونے کی دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔۔ |
|
كَذَٟلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ |
اس کے مثل جذبات پر قابو رکھنے کا یہ مظاہرہ تھا۔برھان دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جناب اس سے ہر قابل مذمت کجی اورفحش طرز عمل کواجتناب کی جانب پھیر دیں۔ |
|
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِيـنَ ٢٤ |
۔۔ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ پیدائش کے وقت سے وہ ہمارے ان بندوں میں سے ایک تھے جنہیں ہم نے خالص اپنے مقصد کے لئے چنا تھا(انبیاء علیہم السلام)۔۔ |
|
وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٛ |
اور(خاتون خانہ کے جذباتی اندھے پن کوبھانپتے ہوئے)وہ تیزی سے گھر کے باہرکی جانب نکلنے والے دروازے کی طرف لپکے اور خاتون نے انہیں پیچھے سے پکڑنے کی کوشش میں ان کے کُرتے کےپچھلے حصے کو سلوٹ/شکن زدہ کر دیا۔ |
|
وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ |
اوردروازہ کھلتے ہی دونوں نے اس(خاتون)کے خاوندکو دروازے کی طرف آتے پایا۔ Root: س و د |
|
قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢٥ |
(اس اچانک صورتحال پر)اس نے خاوند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’اس شخص کی سزا کیا ہو سکتی ہے جس نے آپ کے اہل خانہ سے بدفعلی کا ارادہ کیا ماسوائے اس کے کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یادردناک جسمانی سزادی جائے‘‘ Root: س ج ن |
|
قَالَ هِىَ رَٟوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى |
انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’یہ خود ہیں جنہوں نے مجھے اپنے آپ سے بے خودکر کے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی ہے‘‘ |
|
وَشَهِدَ شَاهِدٚ مِّنْ أَهْلِهَآ |
(ان دو متضاد بیانات کو سن کر)اس(خاتون)کے اہل خانہ میں سے موقع پر موجودشخص نے شہادت کے طور یہ دیکھنے کے لئے کہا۔ |
|
إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٛ فَصَدَقَتْ |
’’اگر اس کا کُرتہ سامنے کی جانب والے مقام سے سلوٹ/شکن آلود ہوا ہے تو یہ ظاہر ہو جائے گا کہ انہوں(خاتون)نے سچ کہا ہے۔ |
|
وَهُوَ مِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٢٦ |
اور وہ(یوسف)جھوٹ بولنے والوں میں شمار ہے۔ |
|
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٛ فَكَذَبَتْ |
اور اگر اس کاکرتہ پچھلی جانب سے سلوٹ/ شکن آلودہ حالت میں ہے تویہ ظاہر ہو جائے گا کہ انہوں(خاتون)نے جھوٹ کہا ہے۔ |
|
وَهُوَ مِن ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٢٧ |
اور اس(یوسف)کا شمار سچ بولنے والوں میں ہے‘‘۔ |
|
فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٛ قَالَ |
اس معنی خیزبات پر جوں ہی اس (خاوند/عزیز مصر)نے اس کے کُرتے کوپچھلی جانب پر سلوٹ/شکن زدہ دیکھا تو کہا۔ |
|
إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ |
’’حقیقت یہ ہے کہ مردوں پر الزام تھوپ دیناتم عورتوں کااپنی صفائی پیش کرنے کا ایک حربہ ہے۔یقینا تم عورتوں کاحیلہ بہانے سازی میں بڑا ہے"۔ |
|
يُوسُفُ أَعْـرِضْ عَنْ هَـٟذَا |
اور یوسف(علیہ السلام)سے کہا’’یوسف!آپ اس معاملے میں درگزرکریں‘‘۔ |
|
وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ |
اور بیوی سے مخاطب ہو کر کہا’’تم اپنی اس بےہودہ الزام تراشی کے لئے درگزر اور معافی کی خواستگاربنو۔ Root: ذ ن ب |
|
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔـيـنَ ٢٩ |
یقینا تم، ہاں تم خطا کاروں میں شامل ہو گئی تھی‘‘۔ |
|
وَقَالَ نِسْوَةٚ فِـى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٟوِدُ
فَتَىٰـهَا عَن نَّفْسِهِۦ |
بات پھر بھی باہر نکل گئی تو شہر میں چند عورتوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا’’عزیز کی بیوی اپنے جوان ملازم کو اپنی جانب بے خود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ |
|
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاۖ |
واقعتاً وہ(ملازم)اس کے دل کی جھلی چھیل کر اندر پہنچ گیا ہے،اس کے لئے چاہت بن گیا ہے۔ |
|
إِنَّا لَنَرَىٰـهَا فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٣٠ |
یقیناًہم اسے(عزیز کی بیوی)کو واضح اور عریاں کج روی اور اخلاقی اقدار سے انحراف میں مبتلا سمجھتی ہیں‘‘۔ |
|
فَلَمَّا سَـمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ
إِلَيْـهِنَّ وَ أَعْتَدَتْ لَـهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَ ءَاتَتْ
كُلَّ وَٟحِدَةٍۢ مِّنْـهُنَّ سِكِّينًۭا |
پھراہلِ ثروت
چندخواتین کی علیحدگی میں کی جانے والی چہ
مگوئیوں کی خبر جب اس (عزیز کی بیوی) کو ملی تو اس نے فوراً انہیں اپنے گھر
دعوت پر بلا بھیجا۔۔اور
وہ اس نشست کا اہتمام کچھ اس طرح سے کر چکی تھی کہ
گاؤ تکیوں کے سہارے بیٹھ کر پھل
کاٹنے کے لئے جھکنا ناگزیر ہو۔اور اس نے
ان میں سے ہر خاتون کے ہاتھ میں
ایک ایک پھل کاٹنے والی چھری تھما دی۔ Root: ع ت د |
|
قَالَتْ فَذٟلِـكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ |
میزبان خاتون نے کہا’’یہ ہیں تمہارے جذبات اور دیکھنے کا اثر؛یہ وہی ہے جس کے بارے تم مجھے قابل ملامت کہتی رہی ہو۔ Root: ل و م |
|
وَلَقَدْ رَٟوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسَتَعْصَمَ |
اور یہ سچ ہے کہ میں نےاسے اپنے آپ سے بے خود کر کے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے پر ڈٹا رہا۔ Root: ع ص م |
|
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُـرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونٙا مِّن ٱلصَّٟغِـرِينَ ٣٢ |
لیکن اگر اب اس نے وہ فعل نہ کیا جس کا میں اسے کہہ رہی ہوں تو یقینا جیل میں ڈال دیا جائے گااور(جس اونچے مقام پر ہم سب اس کو بٹھا رہی ہیں)وہ کم تر لوگوں کے مقام کا ہو جائے گا‘‘۔ |
|
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَـىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ |
(اس قدر بیباک ناشائستہ گفتگو سن کر)انہوں(یوسف علیہ السلام)نے دعا فرمائی’’میرے رب!جیل میں جانا اس سے زیادہ مجھے دلپسند ہے جس کی جانب جانے کی یہ(خواتین)مجھے دعوت دیئے جا رہی ہیں۔ Root: س ج ن |
|
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْـهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٟهِلِيـنَ ٣٣ |
اور اگر آپ جناب نے ان کے مزید حربوں کو مجھ سے دور نہ فرمایا توکہیں میں جذبات کے اچانک ابال سے ان کی جانب متوجہ نہ ہو جاؤں اور جذبات میں بہکنے والوں میں شمار ہو جاؤں‘‘۔ |
|
فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ |
اس پران کے رب نے جواب میں ان کی خواہش کے مطابق ایسے حالات کر دئیے جس کے نتیجہ میں انہوں نے ان کے ہتھکنڈے کو ان(یوسف علیہ السلام)سے پھیر دیا۔ Root: ص ر ف |
|
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٣٤ |
ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
ثُـمَّ بَدَا لَـهُـم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَـٟتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَـتَّىٰ حِيـنٛ ٣٥ |
بعد ازاں،کچھ وقت گزرنے پربعد اس کے جومسئلے کی نشاندہی کرنے والی نشانیاں انہوں نے دیکھ لی تھیں،ان پر مسئلے کا یہ حل ظاہر ہوا کہ وہ انہیں کچھ عرصہ کے لئے جیل میں(حفاظتی حصار)رکھیں۔ Root: س ج ن |
|
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ |
اس بنا جس دن انہیں(یوسف علیہ السلام)جیل بھیجا گیا ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے۔ |
|
قَالَ أَحَدُهُـمَآ إِنِّـىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَـمْرٙا |
ان دو میں سے ایک نے کہا’’مجھے یہ درپیش ہے کہ میں خواب میں اپنے آپ کو شراب کشید کرتے ہوئےدیکھتا رہتا ہوں ‘‘۔ |
|
وَقَالَ ٱلۡءَاخَرُ إِنِّـى أَرَىٰنِىٓ أَحْـمِلُ فَوْقَ رَأْسِـى
خُبْـزٙا تَأْكُلُ ٱلطَّيْـرُ مِنْهُ |
اور دوسرے نے کہا’’مجھے یہ درپیش ہے کہ میں خواب میں اپنے آپ کو سر کے اوپر روٹیاں اٹھائے دیکھتا رہتا ہوں جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں‘‘۔ |
|
نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ |
آپ ہمیں اس خواب کا نتیجہ اور حقیقت بتائیں۔ |
|
إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٣٦ |
یہ حقیقت ہے ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان میں سے ہیں جو اعتدال اور حسن سلوک کو اپنائے رکھتے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ لَا يَأْتِيكُـمَا طَعَامٚ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا
نَبَّأْتُكُـمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيكُـمَا |
انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب میں کہا’’کھانا جوآپ کو حسب معمول بطور رزق مہیا کیا جاتا ہے نہیں پہنچے گا کہ قبل اس کے لائے جانے کے میں آپ دونوں کو اس(خواب)کی تعبیر بتا چکا ہوں گا۔ Root: ط ع م |
|
ذَٟلِـكُـمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّـىٓ |
آپ دونوں کو بتا دوں یہ خواب کی تعبیر جاننا اس علم میں سے ہے جس کی میرے رب نے مجھے تعلیم دی ہے۔ |
|
إِنِّـى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٛ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ |
اپنے متعلق حقیقت بتا دوں میں نے ان لوگوں کے طریقہ کار(خوابوں کی تعبیر)کو متروک قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ |
|
وَهُـم بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ كَٟفِرُونَ ٣٧ |
اور یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے ہیں۔ |
|
وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِ ىٓ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْحَٟقَ
وَيَعْقُوبَ |
اور میں نے دلجمعی اوراخلاص سے اپنےاباواجداد،ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب(علیہم السلام)کے طرز فکر و عمل کی ہمیشہ پیروی کی ہے۔ Root: م ل ل |
|
مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْـرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ |
اللہ تعالیٰ کے ساتھ قطعاً کسی بھی شئے اور بات کوقدر مشترک قرار دینا اور سمجھنا ہم لوگوں کے لئے کبھی جائز نہیں تھا۔ |
|
ذَٟلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَـى ٱلنَّاسِ |
یہ سوچ اور رویہ رکھنے کی توفیق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہم پر اور عوام الناس پر عنایات میں سے ایک ہے۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُـرُونَ ٣٨ |
اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔ |
|
يٟصَٟحِبَىِ ٱلسِّجْنِ |
اے میرے جیل کے دونوںساتھیو! |
|
ءَأَرْبَابٚ مُّتَّفَرِّقُونَ خَيْـرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٣٩ |
اس نکتے پر غور کرو،کیا رب کی خصوصیت سے متصف قرار دے کر متفرق ارباب کی بندگی کرنا بہتر سوچ ہے یا اللہ تعالیٰ جو یکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں۔ |
|
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْـمَآءٙ سَـمَّيْتُـمُوهَآ
أَنتُـمْ وَءَابَآؤُكُم
مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِـهَا مِن سُلْطَٟنٛ |
تم لوگ، ان
جناب کو چھوڑ کر بدل کے
طور پر ، اپنے گمان میں جن کی بندگی اور
اطاعت کی زندگی بسر کرتے ہو، وہ کچھ نہیں مگر محض نام اور لیبل ہیں جنہیں
تم نے اور تمہارے آباء نے خود وضع کرکے اُن کو
موسوم کر دیاہے۔اللہ تعالیٰ نےان
کی مصاحبت کے نظرئیے کی تائید میں قطعاًکوئی سند اور مختار نام
نہیں بھیجا۔آئین و فرمان جاری کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں
،یہ
مطلق اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے۔انہوں نے حکم دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی
بااظہار بندگی اور اطاعت ہرگز نہ
کرو،سوائے مطلقاً ان جناب کے لئے۔یہ
حیات و کائنات کیلئے
ازل سےوضع اورمقررکردہ ہمیشہ
قائم رہنے والا
دستور
اورنظام
ہے۔ Root: س ل ط |
|
يٟصَٟحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَـمْرٙا |
اے میرے جیل کے دونوںساتھیو!تم دونوں میں سے ایک بری ہو جائے گا،پھرملازمت ملنے پر اپنے سرپرست کوشراب پلایا کرے گا۔ |
|
وَأَمَّا ٱلۡءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْـرُ مِن رَّأْسِهِۦ |
اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے وہ مجرم قرار پا ئے گا جس پر مصلوب کر دیا جائے گا،اس طرح مر جانے پر پرندے اس کے سر میں سے نوچ کھائیں گے۔ |
|
قُضِىَ ٱلۡأَمْـرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ٤١ |
اس معاملے(تم پر لگائے گئے چارج)کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم دونوں وضاحت چاہ رہے ہو‘‘۔ Root: ف ت ى |
|
وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٛ مِّنْـهُـمَا ٱذْكُرْنِـى عِندَ رَبِّكَ |
اور انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اس شخص کے لئے کہا جس کے متعلق انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ دونوں میں سے وہ سزا سے بچ کر جیل سے کسی بھی وقت رہائی پا جائے گا’’تم میرا ذکر،یاد دہانی کرنا جب تم اپنے سرپرست کے قریب موجود ہو گے‘‘ |
|
فَأَنْسَىٰـهُ ٱلشَّيْطَٟنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِـى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِيـنَ ٤٢ |
مگر شیطان نے اسے اپنے سرپرست سے ذکر کرنا بھلا دیا،جس کے نتیجے میں وہ(یوسف علیہ السلام)چند سال جیل ہی میں رہے۔ |
|
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّـىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٟتٛ سِـمَانٛ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٚ |
اس کے بعد کے دور کے متعلق مطلع ہو؛ملک کے حکمران نے بتایا’’میں ان دنوں خواب میں سات فربہ گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں۔ Root: س م ن |
|
وَسَبْعَ
سُنۢبُلَٟتٍٛ خُضْرٛ وَأُخَرَ يَابِسَٟتٛ |
اور سات سبز بالیاں دیکھتا ہوں اور ان کے علاوہ خشک بالیاں۔ Root: س ن ب ل |
|
يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِـى فِـى رُءْ يَٟىَ إِن كُنتُـمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُـرُونَ ٤٣ |
اے سردارو!مجھے میرے خواب میں پنہاں کا مطلب سمجھاؤ اگر تم لوگ خواب کے متعلق ایک بات سے دوسری بات اخذ کرنا جانتے ہو‘‘۔ |
|
قَالُوٓا۟ أَضْغَٟثُ أَحْلَٟمٛ |
انہوں(سرداران)نے جواب دیا’’یہ تو گڈ مڈ الجھے ہوئے خوابوں کا اجتماع ہے۔ |
|
وَمَا نَـحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلۡأَحْلَٟمِ بِعَٟلِمِيـنَ ٤٤ |
اور ہم نے توکبھی سیکھا ہی نہیں ان کی مصاحبت میں جو خوابوں کے تجزئیے سے تعبیر کرنے کاعلم جانتے ہے‘‘۔ |
|
وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْـهُـمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٛ أَنَا۟ أُنَبِّئُكُـم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ ٤٥ |
اور اس نے جو ان دو(جیل کے ساتھی)میں سے رہا ہو گیا تھا،اور جس نے ایک عرصے بعداس سے کہی ہوئی بات کو یاد کر لیا،کہا’’میں آپ لوگوں کواس(خواب)کی تعبیر کی خبر دونگا،اس لئے آپ مجھے(جیل)بھیجیں‘‘۔ |
|
يُوسُفُ أَيُّـهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِـى سَبْعِ بَقَرَٟتٛ سِـمَانٛ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٚ |
اس نے جیل میں مل کر کہا’’یوسف،اے سچے انسان میری بات سنیں؛آپ ہمیں اس میں پنہاں مطلب سمجھائیں،سات فربہ گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں۔ |
|
وَسَبْعِ سُنۢبُلَٟتٍٛ خُضْرٛ وَأُخَرَ يَابِسَٟتٛ |
اور سات سرسبز بالیاں دکھائی دیتی ہیں اور ان کے علاوہ خشک بالیاں ہیں۔ |
|
لَّعَلِّـىٓ أَرْجِعُ إِلَـى ٱلنَّاسِ لَعَلَّـهُـمْ يَعْلَمُونَ ٤٦ |
تاکہ یہ جان کر میں ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤں اور انہیں بتاؤں تاکہ انہیں علم ہو جائے‘‘۔ |
|
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِيـنَ دَأَبٙا |
انہوں(یوسف علیہ السلام)نے بتایا’’تم لوگ سات سال تک حسب معمول کاشت کرتے رہو گے۔ |
|
فَمَا حَصَدتُّـمْ فَذَرُوهُ فِـى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ٤٧ |
پھر جب تم لوگ فصل کی کٹائی کر چکو تواس اناج کو اس کے خوشے ہی میں چھوڑ دو سوائے اس میں سے قلیل مقدار جو تم کھانے کے لئے نکالو گے۔ Root: س ن ب ل |
|
ثُـمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ سَبْعٚ شِدَادٚ |
بعد ازان ان سات سالوں کے گزرنے پرسات سخت سال آئیں گے۔ |
|
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُـمْ لَـهُنَّ إِلَّا قَلِيلٙا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ٤٨ |
وہ(سات سال)کھا جائیں گے اس کو جو تم نے ان کے لئے بچا کر رکھے تھے ماسوائے ایک قلیل مقدار کےجو تم محفوظ کر رہے تھے۔ |
|
ثُـمَّ يَأْتِـى مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ عَامٚ |
بعد ازاں ان(سات شدید سالوں)کے گزر جانے پرجو نیا سال آئے گا۔ Root: ع و م |
|
فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ٤٩ |
اس سال کی خصوصیت یہ ہو گی کہ اس کے دوران لوگوں پر خوب بارش برسے گی۔اور یہ کہ اس کے دوران وہ عرق کشی کرتے رہیں گے‘‘۔ |
|
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِـى بِهِۦ |
اور حکمران نے حکم دیا’’ان (یوسف علیہ السلام)کو لے کر میرے پاس آؤ‘‘۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلـرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَـىٰ رَبِّكَ |
تعمیل حکم میں جوں ہی حکمران کے قاصد نے ان کے پاس پہنچ کرپیغام دیا تو انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’واپس جائیں اپنے سرپرست کے پاس۔ |
|
فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٟتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَـهُنَّ |
وہاں پہنچ کر ان سے پوچھو کہ ان چند خواتین کانکتہ نظر کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں پرخراش لگائی تھی۔ |
|
إِنَّ رَبِّـى بِكَـيْدِهِنَّ عَلِيـمٚ ٥٠ |
یقناً میرے رب ان کے اس داؤ کے متعلق بخوبی جانتے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٟوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ |
حکمران نے ان کے جواب کو سن کر ان خواتین کو طلب کر کے پوچھا’’تمہارے دل و دماغ میں کیا معاملہ تھا جب تم یوسف(علیہ السلام)کو اپنے آپ سے بے خود کرکے اپنی طلب کی جانب مائل کرنے کے لئے کوشاں تھیں‘‘۔ Root: خ ط ب |
|
قُلْنَ حَٟشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْـهِ مِن سُوٓءٛ |
انہوں(چندخواتین)نے کہا’’عظمت و برتری اللہ تعالیٰ کے لئے ہے،ہمیں ان پرکسی بھی بری بات کا قطعاًکوئی اثرہوتا معلوم نہیں ہوا تھا‘‘۔ |
|
قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٟنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۟ رَٟوَدْتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ |
عزیزمصر کی بیوی نے انفرادی طور پرکہا”اب حقیقت آشکارہ ہو گئی ہے۔میں اقرار کرتی ہوں کہ جذبات کی تسکین کے لئے اپنی جانب مائل کرنے کے لئے انہیں بے خود/ضمیر سے دور کر کےاپنی ثابت قدمی سے پھسلانا چاہا تھا۔ |
|
وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٥١ |
اوریقینا وہ حقیقت بیان کرنے والے شخص ہیں"۔ |
|
ذَٟلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّـى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ |
یوسف (علیہ السلام)نے قاصد کو اس کے متعلق پوچھنے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا’’یہ میں اس لئے چاہتا ہوں تاکہ انہیں(عزیز مصر)معلوم ہو جائے کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے اعتماد کو میں نےٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔ |
|
وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى كَيْدَ ٱلْخَائِنِيـنَ ٥٢ |
اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اعتماد کو پامال کرنے والوں کے حربے کو مشعل راہ نہیں بناتے۔ Root: خ و ن |
|
وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ |
اور نہ میں اپنے نفس کومبرا سمجھ اور قرار دے رہا ہوں۔ |
|
إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةُ |
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ نفس /ضمیربرائی کے محرکات سے الصاق کی بناء پرانسان کوشدت سے حکم دینے والا بن جاتا ہے،سوائے اس کے لئے جس پر میرے رب نے رحم فرمایا ہے۔ |
|
إِنَّ رَبِّـى غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٥٣ |
یہ حقیقت ہے کہ میرے رب درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔ |
|
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِـى بِهِۦٓ |
خواتین اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف کو سن کر حکمران نے کہا’’انہیں تم لوگ میرے پاس لے کر آؤ۔ |
|
أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى |
میری خواہش ہے کہ میں اپنی ذات کے لئے انہیں معاون خصوصی بنا لوں‘‘۔ |
|
فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيـنٌ أَمِيـنٚ ٥٤ |
اس طرح جوں ہی وہ تشریف لائے دونوں نے آپس میں گفتگو کی۔انہوں(حکمران)نے کہا’’یقیناً آپ آج سے ہمارے درمیان اس ملک کی اشرافیہ میں ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَـىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرْضِ |
حکمران کی معاون خصوصی بننے کی خواہش کے جواب میں انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’آپ مجھے ملک کے مادی وسائل پر بطور حکمران(عزیز/وزیر خزانہ)مقرر کر دیں۔ |
|
إِنِّـى حَفِيظٌ عَلِيـمٚ ٥٥ |
یقیناً میں ان کی حفاظت کر سکتا ہوں،مجھے اس کا گہرا علم ہے‘‘۔ |
|
وَكَذَٟلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِـى ٱلۡأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْـهَا
حَيْثُ يَشَآءُ |
اور یوں ہم جناب نے یوسف کے لئے ٹھکانہ بنا دیا،باوقار انداز میں ملک مصر میں رہائش پذیر،جہاں کہیں بھی وہ پسند کریں۔ |
|
نُصِيبُ بِرَحْـمَتِنَا مَن نَشَآءُ |
ہم جناب جس کے متعلق ارادہ کرتے ہیں اسے ہماری رحمت سے دنیاوی آسائش اور تحسین و آفرین کا حامل بنا دیتے ہیں۔ |
|
وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٥٦ |
اور ہم اعتدال اور حسن سلوک پر کاربند رہنے والوں کے حق بدلہ کو ضائع نہیں کرتے۔ Root: ض ى ع |
|
وَلَأَجْـرُ ٱلۡءَاخِـرَةِ خَيْـرٚ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٥٧ |
اورآخرت میں دئیے جانے والا صلہ یقیناً بہترین ہو گا ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور وہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔ |
|
وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَـرَفَهُـمْ |
ان کی زندگی کے اس دور میں یوسف (علیہ السلام)کے بھائی غلے کی خریداری کے لئے شہر مصر آئے۔اجازت نامہ لینے کے لئے وہ ان کے دفترمیں داخل ہوئے؛انہیں دیکھتے ہی انہوں نے انہیں(بھائیوںکو)پہچان لیا۔ |
|
وَهُـمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨ |
جبکہ وہ اس ملاقات کے دوران انہیں پہچاننے سے قاصر رہے۔ Root: ن ك ر |
|
وَلَمَّا جَهَّزَهُـم بِجَهَازِهِـمْ |
اور جوں ہی انہوں(یوسف علیہ السلام)نے ان کے خریدے ہوئے سامان کو تیار کروا کر ان کے حوالے کیا۔ |
|
قَالَ ٱئْتُونِـى بِأَخٛ لَّـكُـم مِّنْ أَبِيكُـمْ |
تو ان سے کہا’’آپ میرے پاس اس بھائی کو ساتھ لے کر آئیں جس کے بارے آپ نے بتایا کہ آپ کے والد سے ہے۔ |
|
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّـىٓ أُوفِـى ٱلْـكَـيْلَ وَأَنَا۟ خَيْـرُ ٱلْمُنزِلِيـنَ ٥٩ |
آپ دیکھ تورہے ہیں کہ میں غلہ پورے وزن سے دیتا ہوں اور یہ کہ میں بہترین انداز میں مہمان نوازی کرتا ہوں۔ Root: ك ى ل |
|
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِـى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَـكُـمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ ٦٠ |
اس لئے اگر آپ اس(جس کے لئے غلے کا مطالبہ کیا ہے)کو ساتھ لے کر میرے پاس نہ آئے تومیری طرف سے قطعاً کسی ایک کو بھی غلہ نہیں ملے گا،اور نہ آپ کو میرے قریب آنا چاہئے‘‘۔ Root: ك ى ل |
|
قَالُوا۟ سَنُرَٟوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٟعِلُونَ ٦١ |
انہوں نے جواب دیا’’ہم عنقریب اس کے ابا کواس سے الگ ہونے پر رضامند کر لیں گے،اور یقناً ہم ایسا پہلی مرتبہ کر لیں گے‘‘۔ |
|
وَقَالَ لِفِتْيَٟنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٟعَتَـهُـمْ فِـى رِحَالِـهِـمْ |
اور انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اپنے ملازموں سے پہلے کہہ دیا تھا’’تم لوگ غلے کو بمعہ ان کی ادا کردہ پونجی ان کی خورجی میں ڈال دو۔ |
|
|
تاکہ وہ اسے(پونجی) پہچان لیں جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ چکے ہوں گے۔ |
|
لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٦٢ |
اس سے امکان پیدا ہو جائے گا کہ دوبارہ پلٹ کر آئیں(ہمارے مستقل گاہک بن جائیں)‘‘۔ |
|
فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَـىٰٓ أَبِيـهِـمْ قَالُوا۟ |
اس طرح جوں ہی وہ اپنے والد صاحب کے پاس پلٹ کر پہنچ گئے تو انہوں نے کہا۔ |
|
يَٟٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْـكَـيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ |
’’اے ہمارے ابا جان!ایک اونٹ غلہ کو ہمیں دینے سے روک دیا گیا۔اس لئے آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجیں تا کہ ہم اسے کے حصے کا غلہ بھی لے سکیں۔ Root: ك ى ل |
|
وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ ٦٣ |
اور یقیناً ہم اس کے لئے محافظ ہوں گے‘‘۔ |
|
قَالَ هَلْ ءَامَنُكُـمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُـمْ عَلَـىٰٓ
أَخِيهِ مِن قَبْلُ |
انہوں(والد)نے کہا’’کیا میں اس کے بارے تم پر اس طرح ہی اعتماد کر لوں جیسا زمانہ قبل میں اس کے بھائی کے متعلق تمہاری بات پر اعتماد کیا تھا؟ |
|
فَٱللَّهُ خَيْـرٌ حَٟفِظٙا |
جہاں تک حفاظت کرنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ بہترین بھروسا ہیں،حفاظت کے معاملہ میں۔ |
|
وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٟحِـمِيـنَ ٦٤ |
اور وہ جناب تمام رحم کرنے والوں میں منبع رحمت ہیں‘‘۔ |
|
وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٟعَهُـمْ وَجَدُوا۟ بِضَٟعَتَـهُـمْ رُدَّتْ
إِلَيْـهِـمْ |
(منفی جواب سن کر الگ ہٹ گئے)اور جوں ہی انہوں نے اپنے خریدے سامان زیست کو کھولا تو انہوں نے اپنی ادا کردہ پونجی کو موجود پایا جسے ان کو اصل حالت میں لوٹا دیا گیا تھا۔ Root: ف ت ح |
|
قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَا مَا نَبْغِى |
پونجی لے کر واپس آبا کے پاس پہنچ کر انہوں نے کہا’’اے ہمارے ابا جان!ہمیں اور کیا جستجو ہو،یہ ہے ہماری پونجی،اصل حالت میں اسے ہمیں لوٹا دیا گیا ہے۔ |
|
وَنَمِيـرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيـرٛ |
اور ہم وہاں جا کر اپنے خاندان کے لئے خوراک لائیں گے،اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے،اور ہم ایک اونٹ غلہ مزید لیں گے۔ Root: م ى ر |
|
ذَٟلِكَ كَيْلٚ يَسِيـرٚ ٦٥ |
یہ ایک اونٹ غلہ لینا بالکل آسان ہو گا‘‘۔ |
|
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُـمْ حَـتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقٙا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ |
انہوں(والد) نے جواب دیا’’میں اسے تمہارے ساتھ اس وقت تک نہیں بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ تعالیٰ کے اذن سے منسوب کر کے تم سب پر یکساں لاگو پختہ عہد مجھے نہیں دیتے کہ تم اسے ضرور واپس میرے پاس لے کر آؤ گے۔ Root: و ث ق |
|
إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُـمْ |
سوائے اس صورت میں کہ بمعہ تم لوگوں کے گھیر لیا جائے‘‘۔ Root: ح و ط |
|
فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُـمْ قَالَ |
اس پر جوں ہی انہوں نے انہیں اپنا پختہ عہد دے دیا تو انہوں(والد)نے کہا۔ |
|
ٱللَّهُ عَلَـىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٚ ٦٦ |
’’اللہ تعالیٰ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگہبان ہیں‘‘۔ Root: و ك ل |
|
وَقَالَ يٟبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٛ وَٟحِدٛ وَٱدْخُلُوا۟
مِنْ أَبْوَٟبٛ مُّتَفَرِّقَةٛ |
اورانہوں نے کہا’’اےمیرے بیٹو!تمہیں چاہئے کہ کسی ایک دروازے سے شہر میں داخل نہ ہوں،اور الگ الگ متفرق دروازوں سے تم لوگ داخل ہونا۔ |
|
وَمَآ أُغْنِى عَنكُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ |
یاد رہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم لوگوں کوکسی قسم کی تکلیف پہنچنے پر میں اسے تم سے دور رکھنے پر قادر نہیں۔ |
|
إِنِ ٱلْحُكْـمُ إِلَّا لِلَّهِ |
آئین و فرمان جاری کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ |
|
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ |
ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔ Root: و ك ل |
|
وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧ |
چونکہ تمام امور کا فیصلہ کرنا ان کی صوابدید ہے اس لئے اپنے معاملات میں دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو ان پر مکمل اعتماد کرنا چاہئے‘‘۔ Root: و ك ل |
|
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَـرَهُـمْ أَبُوهُـم |
اور جوں ہی وہ فصیل شہر پر پہنچے،وہ منقسم ہو کراس طرح داخل ہوئے جیسے ان کے والد نے انہیں حکم دیا تھا۔ |
|
مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ إِلَّا حَاجَةٙ
فِـى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰـهَا |
ان کا اس طرح دخول شہران کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے پہنچنے والی کسی بھی ناگہانی تکلیف و الجھن سے بچا نہیں سکتا تھا۔یہ تو محض حفظ ما تقدم کی ایک خواہش تھی جویعقوب(علیہ السلام)کے ذہن و قلب میں ابھری جس کا انہوں نے اظہار کر دیا تھا۔ Root: ح و ج |
|
وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٛ لِّمَا عَلَّمْنَٟهُ |
اور ان کے متعلق حقیقت ہے کہ وہ صاحب علم تھے ان معاملات /معلومات میں جن کا علم ہم نے انہیں دیا تھا۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨ |
مگراکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ |
|
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَـىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ |
اور جب اکٹھے ہو کر وہ یوسف(علیہ السلام)کے روبرو ہوئے تو انہوں نے شفقت سے اپنے بھائی کو پاس بلا کر اپنے دفتر لے گئے۔ |
|
قَالَ إِنِّـىٓ أَنَا۟ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٦٩ |
انہوں نے اسے بتایا’’میرے متعلق جان لے۔میں تیرا بھائی ہوں؛اب چونکہ ملاقات ہو گئی ہے اس لئے اب تجھے اس بارے تکدرنہیں ہونا چاہئے جو وہ(ہمارے بھائی)ماضی میں کرتے رہے ہیں‘‘۔ |
|
فَلَمَّا جَهَّزَهُـم بِجَهَازِهِـمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِـى رَحْلِ أَخِيهِ |
اس دوران جب انہوں(یوسف علیہ السلام)نے ان کے خریدے
ہوئے سامان کو انہیں دینے کے لئے تیار کروا دیا۔تو اپنی مشروب سے بھری چھاگل(اسم معرفہ مؤنث۔ٱلسِّقَايَةَ )
اپنے بھائی کی خورجی میں ڈال دی۔ |
|
قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْـهِـم |
(الزام پر مبنی پکار سن کر رکے)انہوں نے کہا’’۔۔۔۔۔‘‘۔’’ہرکارے نے جواب دیا وہ بلا رہے ہیں‘‘۔اور وہ واپس پلٹ کر ان(ملازمین گودام)کے روبرو پہنچ گئے۔ |
|
مَّاذَا تَفْقِدُونَ ٧١ |
انہوں نے ملازمین گودام سے پوچھا’’آپ نے کیا گم کر دیا ہے جس کی تلاش ہے؟‘‘ |
|
قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ |
انہوں(ملازمین گودام)نے بتایا’’ہم نے غلہ ماپنے کے سرکاری پیمانے کوکہیں کھو دیا ہے اسے تلاش کر رہے ہیں‘‘۔ |
|
وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِـمْلُ بَعِيـرٛ |
|
وَأَنَا۟ بِهِۦ زَعِيـمٚ ٧٢ |
اور میں اس کی ادائیگی کے لئے ضامن ہوں‘‘ |
|
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُـم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
انہوں نے ملازمین گودام کو مخاطب کر کے کہا’’قسم ہے اللہ کی،تمہیں علم ہے کہ ہم لوگ اس سرزمین میں شرارت(مذاق)،تمہارے کام میں خلل اوررخنہ اندازی کرنے نہیں آئے ہیں۔ |
|
وَمَا كُنَّا سَٟرِقِيـنَ ٧٣ |
اور نہ ہی ہم کبھی چور رہے ہیں‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ فَمَا جَزَٟٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُـمْ كَـٟذِبِيـنَ ٧٤ |
(اپنے وزیر کی موجودگی میں اس جواب پر سٹپٹائے)انہوں(نلازمین)نے کہا’’تو(اگر ہم نے تمہارے سامان میں ڈھوند نکالا)اس کا کیا صلہ ہو گا اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہو گئے‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ جَزَٟٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِـى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٟٓؤُهُ |
انہوں نے ملازمین کو کہا’’اس کا صلہ وہ ہو گا جس کے سامان میں وہ(پیمانہ)پایا گیا؛ملنے پر وہی شخص اس کا صلہ ہو گا۔ |
|
كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٧٥ |
اس طرح کے انداز میں ہم بگاڑپیدا کرنے والوں کوسزا دیتے ہیں‘‘۔ |
|
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِـهِـمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ |
ان کے اور ملازمین کے مابین تلخی ہو جانے کی وجہ سے خود انہوں(یوسف علیہ السلام)نے اسے (صواع)ڈھونڈنے کے لئے اپنے (ماں جائے)بھائی کی خرجی سے پہلے ان کی خرجیوں سے ابتدا کی۔(مگر تمام قافلے والوں کی خرجیوں میں وہ صواع نہیں ملا) |
|
ثُـمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ |
بعد ازاں( ثُـمَّسے ظاہر ہے کہ یہ پہلے والے فعل یعنی تلاش سے متعلق نہیں تھا اور دونوں کے مابین وقت کا وقفہ تھا تسلسل نہیں)انہوں نے اپنے بھائی کی خرجی سے اپنے لئے وہ( ٱلسِّقَايَةَمشروب کی چھاگل)نکال لی۔ |
|
كَذَٟلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ |
اس طرح(اچانک شدید پیاس بجھانے کے لئے چھاگل کے نکالنے کو)ہم نے یوسف(علیہ السلام)کے لئے تدبیر/جواز بنا دیا(اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لینے کا) |
|
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِـى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن
يَشَآءَ ٱللَّهُ |
۔۔ان کے لئے حکمران کے رائج قانون کے مطابق اپنے بھائی کو لیناممکن نہیں تھا،ایسا ممکن تبھی ہوتا اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا چاہا ہوتا۔۔(جملہ معترضہ) |
|
نَرْفَعُ دَرَجَٟتٛ مَّن نَّشَآءُ |
ہم جناب جس کے متعلق ایسا چاہتے ہیں اس کو بلند کرتے ہیں، درجات میں اٹھان۔ |
|
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍٛ عَلِيـمٚ ٧٦ |
اور یاد رہے،ایک علم میں راسخ اور منبع علم ہر ایک صاحب علم کے اوپر موجود ہوتا ہے۔ |
|
قَالُوٓا۟ إِن يَسْـرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٚ لَّهُۥ مِن قَبْلُ |
بھائی کے سامان سے نکالی گئی چھاگل دیکھ کر وہ بولے’’اگر وہ چوری کرتا ہے تو گزرے زمانہ میں اس نے بھی چوری کی تھی جو اس کا ماں جایا بھائی ہے‘‘۔ |
|
فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِـى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَـهُـمْ |
ان کی اس لغو بات کو سن کریوسف(علیہ السلام)نےاس (چھاگل)کو اپنے سینے میں راز رکھا اور ان کے لئے اس کو عیاں نہیں ہونےدیا۔ |
|
قَالَ أَنتُـمْ شَـرّٚ مَّكَانٙا |
انہوں نے ان سے کہا’’آپ لوگ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیں،موقف کے اعتبار سے۔ |
|
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧ |
اور اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو آپ لوگ بڑھا چڑھا کر جھوٹ بیان کر رہے ہو‘‘۔ Root: و ص ف |
|
قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْعَزِيزُ |
(مگر وہ بات پھر بھی نہیں سمجھے)انہوں نے کہا’’اے عزیز سلطنت، توجہ فرمائیں! |
|
إِنَّ لَهُۥٓ أَبٙا شَيْخٙا كَبِيـرٙا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ |
حقیقت یہ ہے کہ انتہائی عمر رسیدہ والد اس کے لئے فکرمند رہتے ہیں اس لئے آپ ہم میں کسی ایک کو اس کی جگہ پرپکڑ لیں۔ |
|
إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٧٨ |
یہ حقیقت ہے ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان میں سے ہیں جو اعتدال اور حسن سلوک کو اپنائے رکھتے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٟعَنَا عِندَهُۥٓ |
انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب دیا’’میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ ہم سوائے اس کے جس کے پاس ہم نے اپنی شئے کو پایا ہے اپنے قبضے میں کر لیں۔ |
|
إِنَّـآ إِذٙا لَّظَٟلِمُونَ ٧٩ |
یہ حقیقت ہے کہ جوں ہی ہم ایسا کریں گےتو(آپ لوگوں کے اپنے بقول)ہم بگاڑ کرنے والے بن جائیں گے‘‘۔ |
|
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭاۖ
قَالَ كَبِيـرُهُـمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ
عَلَيْكُـم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ |
اس پر کچھ اصرار کرنے پر جوں ہی ان کی جانب سے بات کو قبول
ہونے کے متعلق مایوس کر لیا،وہ مشورہ کرنے کے لئے الگ ہو گئے۔ان کے بڑے بھائی نے کہا’’کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ تمہارے ابا نے
اللہ تعالیٰ کے اذن سے منسوب کر کے تم سب پر یکساں لاگو پختہ عہد لیا
تھا۔ Root: ى ء س |
|
ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَـىٰٓ أَبِيكُـمْ فَقُولُوا۟ يَٟٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا |
تم لوگ اپنے ابا جان کی جانب لوٹ جاؤ،گھر پہنچ کر کہنا’’اے ہمارے ابا جان،سچ یہ ہے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے،اور ہم نے آپ سے نہیں کہا سوائے اس کے جو ہمیں معلوم ہوا تھا۔ |
|
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٟفِظِيـنَ ٨١ |
اور ہم اس کی حفاطت نہیں کر سکتے تھے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل تھا۔ |
|
وَسْئَلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِـى كُنَّا فِيـهَا وَٱلْعِيْـرَ ٱلَّتِـىٓ
أَقْبَلْنَا فِيـهَا |
آپ بےشک اس بستی والوں سے پوچھ لیں جس میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے اور اس قافلے والوں سے پوچھ لیں جس میں ہم لوٹ کر آئے ہیں۔ |
|
وَإِنَّا لَصَٟدِقُونَ ٨٢ |
آپ کو معلوم ہو جائے گا یقیناً ہم سچ بول رہے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَـكُـمْ أَنفُسُكُـمْ أَمْرٙا |
انہوں(والد)نے کہا’’نہیں یہ سب غلط ہے؛حقیقت میں تمہارے نفوس نے اس معاملے کوتمہارے لئے سکون و طمانیت کا باعث بنایا ہے۔ Root: س و ل |
|
فَصَبْـرٚ جَـمِيلٚ |
اس لئے ان کے سلامت ہونے کا یقین تحمل اور بردباری سے جدائی سہنے کا ذریعہ ہے۔ |
|
عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَنِى بِـهِـمْ |
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ جلد ان(تینوں)کو میرے پاس لے آئیں گے، اکٹھے۔ |
|
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْحَكِيـمُ ٨٣ |
ان کے متعلق حقیقت ہے، وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں۔‘‘ |
|
وَتَوَلَّـىٰ عَنْـهُـمْ |
اور وہ(والد)ان سے پلٹ کر چلے گئے۔ |
|
وَقَالَ يَٟٓأَسَفَىٰ عَلَـىٰ يُوسُفَ |
اور انہوں نے خود کلامی میں کہا’’اے میری جدائی کی بے چینی یوسف کے فراق پر‘‘۔ |
|
وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ |
اور کچھ عرصے میں اس غم کی وجہ سے ان کی دونوں آنکھیں سفیدہو گئیں۔ |
|
فَهُوَ كَظِيـمٚ ٨٤ |
اس کی وجہ سے وہ رنج سے نڈھال تھے۔ |
|
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَـتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْـهَٟلِـكِيـنَ ٨٥ |
انہوں نے(والد کی افسردگی اور نڈھال صحت کو دیکھتے ہوئے تاسف اور دکھی ہو کر)کہا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!آپ یوسف(علیہ السلام)کو یاد کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ آپ گھل جائیں گے یا اپنے آپ کو ہلاک کرنے والے بن جائیں گے‘‘ |
|
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّـى وَحُزْنِـى إِلَـى ٱللَّهِ |
انہوں نے(والد؛محبت بھرے لہجے میں) کہا’’میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی جانب اپنی بکھری بکھری کیفیت اور اپنے غم کا شکوہ شکایت کرتا ہوں۔ Root: ش ك و |
|
وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦ |
اور میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ معلومات رکھتا ہوں جو تم لوگوں کو معلوم نہیں ہیں۔ |
|
يٟبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ |
اے میرے بیٹو!تم سب جاؤ،وہاں پہنچ کرازخود لوگوں کی باتوں سے یوسف اور اس کے بھائی کا کھوج لگاؤ۔ Root: ح س س |
|
وَلَا تَا۟ يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ |
اور تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے امور میں رحمت کے عنصر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ |
|
إِنَّهُۥ لَا يَا۟ يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ ٨٧ |
حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب منبع رحمت ہیں؛سوائے ان کے جوذات باری تعالیٰ کا انکار کرنے والے ہیں،اللہ تعالیٰ کے تمام امور میں رحمت کے عنصر سے کوئی مایوس نہیں ہوتا‘‘ |
|
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ |
تعمیل میں مصر پہنچ کر جوں ہی گودام میں داخل ہو کر ان(یوسف علیہ السلام)کے روبرو ہوئے تو کہا: |
|
يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ |
’’اے عزیز سلطنت!توجہ فرمائیں۔اس صدمے(ہمارے چھوٹے بھائی کوروک لینا)نے ہمیں اور ہمارے خاندان کو متاثر/رنجیدہ کیا ہے۔ |
|
وَجِئْنَا بِبِضَٟعَةٛ مُّزْجَىٰةٛ |
ان حالات میں ہم معمولی پونجی کو گزارش کرنے کا ذریعہ بنا کر آئے ہیں۔ Root: ز ج و |
|
فَأَوْفِ لَنَا ٱلْـكَـيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ |
اس لئے اس رقم کاغلہ ہمیں فراہم کروا دیں اورآپ ازخودتحفہ (ہمارا بھائی) دے کر ہم پر مہربانی فرما دیں۔ Root: ك ى ل |
|
إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِيـنَ ٨٨ |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے تحائف دینے والوں کو صلے سے نوازتے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ هَلْ عَلِمْتُـم مَّا فَعَلْتُـم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُـمْ جَٟهِلُونَ ٨٩ |
|
انہوں نے(یوسف علیہ السلام نے درد بھرے لہجے سے پسیج کر)کہا’’کیا آپ کو اس فعل کا علم ہو گیا ہے جو آپ نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اس وقت کیا تھا جب آپ جذبات سے مغلوب تھے‘‘۔ |
|
قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ |
انہوں نے(خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں)کہا’’کیا، یقیناً تو،یقیناً تو یوسف ہے‘‘ |
|
قَالَ أَنَا۟ يُوسُفُ وَهَـٟذَا أَخِـى |
انہوں(یوسف علیہ السلام)نے جواب دیا’’میں یوسف ہوں،اور(آواز دے کر بلایا)یہ میرا بھائی ہے(جسے تحفے میں مانگ رہے ہو)۔ |
|
قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ |
اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرما دیا ہے۔ |
|
إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِـرْ |
ان کے متعلق حقیقت ہے،جو کوئی تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان سے پناہ کا خواستگار ہو اوران کی رحمت کا بھروسہ رکھتے ہوئے ضبط و تحمل سے کام لے۔ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٩٠ |
تو یقیناً اللہ تعالیٰ اعتدال اور حن سلوک کا رویہ اپنائے رکھنے والوں کے صلہ کواثر پذیری سے محروم نہیں فرماتے‘‘۔ Root: ض ى ع |
|
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا |
انہوں نے کہا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!اللہ تعالیٰ نے یقیناً آپ کوہم پر ترجیح اوربڑائی سے نوازا ہے۔ |
|
وَإِن كُنَّا لَخَٟطِـِٔـيـنَ ٩١ |
اور یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ خطا کار/معینہ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے رہے ہیں‘‘۔ |
|
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُـمُ ٱلْيَوْمَ |
انہوں نے(یوسف علیہ السلام نے ان کے اعتراف پر)کہا’’آج کے دن سے قطعاً کسی قسم کے قابل ملامت و مذمت و سرزنش فعل و عمل کا الزام آپ پر نہیں ہے۔ |
|
يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَـكُـمْ |
اللہ تعالیٰ آپ کےلئے درگزر اور پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف کریں گے ۔ |
|
وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٟحِـمِيـنَ ٩٢ |
اور وہ جناب تمام رحم کرنے والوں میں منبع رحمت ہیں‘‘۔ |
|
ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَـٟذَا فَأَ لْقُوهُ عَلَـىٰ وَجْهِ أَبِـى يَأْتِ بَصِيـرٙا |
(آپس میں گفت و شنید اور قافلے کی روانگی کی تیاری ہو جانے پر)انہوں(یوسف علیہ السلام)نے بھائیوں سے کہا’’آپ لوگ میری اس قمیض کو ساتھ لے کر جائیں۔گھر پہنچ کر اسے میرے ابا جان کے چہرے پر ڈال دیں۔وہ ہو جائیں گے بصارت بحال حالت میں۔ |
|
وَأْتُونِـى بِأَهْلِـكُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٩٣ |
اور آپ لوگ اپنے اہل خانہ سمیت،اکٹھے میرے پاس آ جائیں‘‘۔ |
|
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيـرُ قَالَ أَبُوهُـمْ إِنِّـى لَأَجِدُ رِيحَ
يُوسُفَ |
اورجوں ہی قافلہ شہر کی فصیل سے باہر پہنچا تھا تو اس وقت ان کے والد نے اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا’’میں حقیقت میں یوسف کی مہک کوموجود پا رہا ہوں۔ |
|
لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤ |
اگر تم لوگ میری اس بات کو بڑھاپے کا کمزورتخیل نہ سمجھو تووہ مہک تمہیں بھی محسوس ہو گی‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِـى ضَلَٟلِكَ ٱلْقَدِيـمِ ٩٥ |
انہوں نے جواب دیا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!سچ یہ ہے کہ حقیقت تسلیم کرنے کی بجائےآپ ابھی تک اپنے قدیم تصور میں کھوئے ہوئے ہیں(کہ یوسف زندہ ہے)‘‘۔ |
|
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيـرُ أَلْقَىٰـهُ عَلَـىٰ وَجْهِهِۦ
فَٱرْتَدَّ بَصِيـرٙا |
مسافت طے کر کےخوشخبری دینے والامبارکباد کہتے جوں ہی ان کے پاس پہنچا تو اس نے حسب ہدایت اس(کُرتے)کو ان کے چہرے پر ڈال دیا؛کچھ دیر میں انہوں نے اپنے آپ کواصلی حالت میں پلٹا محسوس کیا۔بصارت بحال حالت میں۔ |
|
قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّـكُـمْ إِنِّـىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٩٦ |
انہوں(یعقوب علیہ السلام/والد)نے کہا’’کیا میں نے تم لوگوں کے لئے (مصر بھیجتے وقت )یہ نہیں کہا تھا’’میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ معلومات رکھتا ہوں جو تم لوگوں کو معلوم نہیں ہیں‘‘۔ |
|
قَالُوا۟ يَٟٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ |
انہوں(بیٹوں)نے کہا’’اے ہمارے اب جان!آپ خود بھی اور اللہ تعالیٰ سے ہمارے جرائم ،الزام تراشی،اور کوتاہیوں سے اغماض کی درخواست کریں۔ Root: ذ ن ب |
|
إِنَّا كُنَّا خَٟطِـِٔـيـنَ ٩٧ |
اپنے متعلق یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ ہم خطا کار تھے‘‘۔ |
|
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَـكُـمْ رَبِّـىٓ |
انہوں(والد)نے کہا’’میں جلد ہی اپنے رب سے تمہارے لئے اغماض اورمعافی کے لئے خواستگار ہوں گا۔ |
|
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ٩٨ |
ان کے متعلق یہ حقیقت ہے،وہ جناب اکثر و بیشتر درگزر اور پردہ پوشی کرکے معاف فرمانے والے ہیں۔وہ منبع رحمت ہیں‘‘۔ |
|
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَـىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ |
|
|
وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِيـنَ ٩٩ |
اور سب کو مخاطب کر کے کہا’’آپ سب مملکت مصر کی شہریت اختیار کر لیں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کا یہاں رہائش اختیار کرنا امن و سلامتی کا حامل ہو گا‘‘۔ |
|
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَـى ٱلْعَـرْشِ |
اور انہوں نے اپنے امی ابا کو سہارا دے کر تخت پرچڑھایا۔ Root: ع ر ش |
|
وَخَرُّوا۟ لَهُ سُجَّدٙا |
اور وہ تینوں ان(اللہ تعالیٰ)کے لئے تخت پرہلکی سی آواز پیدا کرتے ہوئےسجدہ کرنے کی حالت میں جھک گئے۔ Root: س ج د |
|
وَقَالَ يَٟٓأَبَتِ |
اور سجدہ کر لینے پر انہوں(یوسف علیہ السلام)نے کہا’’اے میرے ابا جان!۔ |
|
هَـٟذَا تَأْوِيلُ رُءْ يَـٟىَ مِن قَبْلُ |
یہ(آپ سب کا آنامیرے پاس)میرے اس خواب کا جو زمانہ قبل میں دیکھا تھااصل تعبیر/حقیقت ہے۔ |
|
قَدْ جَعَلَـهَا رَبِّـى حَقّٙا |
میرے رب نے اس(خواب)کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ |
|
وَقَدْ أَحْسَنَ بَـىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ |
اور انہوں(میرے رب)نے پہلے بھی مجھ پر احسان فرمایا تھا جب انہوں نے مجھے جیل میں سے نکلوایا تھا۔ Root: س ج ن |
|
وَجَآءَ بِكُـم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزغَ ٱلشَّيْطَٟنُ
بَيْـنِى وَبَيْـنَ إِخْوَتِـىٓ |
اور آپ سب کو مضافاتی ضلع سے میرے پاس لے آئے ہیں،اس جدائی کے بعدجو شیطان کے میرے اور میرے بھائیوں کے مابین چپقلش پیدا کرنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ Root: ن ز غ |
|
إِنَّ رَبِّـى لَطِيفٚ لِّمَا يَشَآءُ |
یقینا میرے رب جس معاملے کو چاہتے ہیں اس کو تمام تر نفاست ،لطافت اور باریک بینی سے سلجھانے والے ہیں۔ Root: ل ط ف |
|
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْحَكِيـمُ ١٠٠ |
ان کے متعلق حقیقت ہے، وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں۔‘‘ |
|
رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ
ٱلۡأَحَادِيثِ |
انہوں نے کہا’’اے میرے رب!آپ نے مجھے اس ملک میں فرمانروائی کو عنایت فرمایا ہے اور آپ نے مجھےپیش آنے والے واقعات اور باتوں کی ابتدا اور منتہا کی کڑیوں کے تجزیہ سے انجام کوپہلے ہی سے جان لینے کی تعلیم دی ہے۔ |
|
فَاطِرَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے۔ Root: ف ط ر |
|
أَنتَ وَلِـىِّۦ فِـى ٱلدُّنُيَا وَٱلۡءَاخِـرَةِ |
آپ میرے کارساز ہیں،اس دنیا اور آخرت کی حیات میں۔ |
|
تَوَفَّنِى مُسْلِمٙا وَأَ لْحِقْنِى بِٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٠١ |
آپ مجھے حیات دنیا سے الگ کرنے کا فیصلہ دین اسلام پر کاربندحالت میں کریں۔اور آخرت میں میرا الحاق اصلاح کرنے والوں سے فرما دیں‘‘۔ Root: ل ح ق |
|
ذَٟلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ |
یہ ماضی کے واقعات پر مبنی خبروں میں سے ہے جو ہم جناب آپ(ﷺ)کی جانب بذریعہ کلام بیان کر رہے ہیں۔ |
|
وَمَا كُنتَ لَدَيْـهِـمْ إِذْ أَجْـمَعُوٓا۟ أَمْرَهُـمْ وَهُـمْ يَمْكُرُونَ ١٠٢ |
(اس انداز میں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن جائے)اگرچہ آپ بنفس نفیس ان کے قریب موجود نہیں تھے جب انہوں نے اپنے معاملے(کنویں میں اتارنا) میں اتفاق رائے کر لیا تھا،اور جب وہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ |
|
وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيـنَ ١٠٣ |
مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اکثر لوگ ایمان بالکل نہیں لاتے قطع نظر اس کے کہ آپ نے شدید خواہش اور محنت سے ان کا دل و دماغ کھولنے کی کوشش کی ہے۔ Root: ح ر ض |
|
وَمَا تَسْـَٔلُـهُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ
أَجْرٍۚٛ |
اورآپ (ﷺ) تو اس (قرءان مجید) کی اشاعت، تبلیغ و تعلیم پر ان سے کسی قسم کے اجر کا سوال بھی نہیں کرتے۔ |
|
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٚ لِّلْعَٟلَمِيـنَ ١٠٤ |
حقیقت میں تو یہ(قرءان مجید)مگرسرگزشت ہے،تمام لوگوں کے لئے نصیحت اور سبق لینے کے لئے آسان فہم انداز میں تصنیف و تالیف کردہ ہے۔ |
|
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٛ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْـهَا وَهُـمْ عَنْـهَا مُعْـرِضُونَ ١٠٥ |
اور(انہوں نے لوگوں کی سرگزشت سے کیا سبق حاصل کرنا ہے)کتنے مواقع ہیں نصیحت اور سبق لینے کے ہر طرح کی نشانی میں جو آسمانوں اور زمین میں رہنمائی کرنے کے لئے ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں،جن پران کا گزر/مشاہدہ ہوتا ہے۔اس حالت میں کہ وہ اس سے دانستہ اعراض برتتے ہیں۔ Root: م ر ر |
|
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُـم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُـم مُّشْـرِكُونَ ١٠٦ |
اور ان میں سے اکثراللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے سوائے اس طرح کے ان کے ساتھ دوسروں کا بطور الہہ اشتراک کرتے ہیں۔ |
|
أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَـهُـمْ غَٟشِيَةٚ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ |
کیا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عذاب سے لبریز چھا جانے والی تکلیف سے محفوظ و مامون سمجھ لیا ہے۔ Root: غ ش ى |
|
أَوْ تَأْتِيَـهُـمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةٙ |
یا وہ مقرر کردہ ساعت یکایک اچانک ان پر آن پہنچے Root: س و ع |
|
وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٠٧ |
جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔ |
|
قُلْ هَـٟذِهِۦ سَبِيلِـىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَـىٰ ٱللَّهِ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’یہی میری راہ/قوت استدلال ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب ادراک اور بیناائی قلب سے آنے کی دعوت دیتا ہوں۔اور ایسے ہی ہر وہ شخص دعوت دے گا جس نے صدق دل سے اس انداز میں میری پیروی کی کہ میرے اور اور اس کے درمیان تیسرا حائل نہیں۔ |
|
وَسُبْحَٟنَ ٱللَّهِ |
اللہ تعالیٰ حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔ |
|
وَمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ ١٠٨ |
اور میں کبھی بھی زمان کے مشرکین /اصنام پرستوں کے ساتھ سمجھا اور گردانا گیا تھا۔‘‘ |
|
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالٙا نُّوحِـىٓ إِلَيْـهِـم
مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ |
اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ آپ(ﷺ)سے قبل
بھی ہم نےصرف مردوں کو قوموں کی جانب بحثیت رسول بھیجا،ہم انہیں
بذریعہ کلام پیغام دیتے تھے۔وہ تمام بستیوں کے رہنے والوں میں
توحید پر ایمان والوں کی شہرت رکھتے تھے۔ Root: س ى ر |
|
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ قَدْ
كُذِبُوا۟ جَآءَهُـمْ نَصْرُنَا فَنُجِّـىَ مَن نَّشَآءُ |
اس وقت تک انہیں(وہ نیست و نابود کر دی گئی قومیں)مہلت دی گئی جب ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے رسول ان کے ایمان لانے سے نامید ہو گئے اورانہوں نے اپنے جھٹلائے جانے کا پختہ گمان کر لیا تو ہماری جانب سے انہیں مدد پہنچ گئی اور جس کسی کو ہم نے چاہا اسے بچا لیا گیا تھا۔ Root: ى ء س |
|
وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ١١٠ |
اورہماری جانب سے بھیجی گئی قدرتی آفت کومجرمین پر مشتمل قوم سے لوٹایا نہیں جاتا۔ |
|
لَقَدْ كَانَ فِـى قَصَصِهِـمْ عِبْـرَةٚ لِّأُو۟لِـى ٱلۡأَ لْبَٟبِ |
حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں(نیست و نابود کردہ قوموں)کے بیان سرگزشت میں تصویر عبرت ہے صاحبان دانش وبینائی قلب کے لئے جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں۔ Root: ع ب ر |
|
مَا كَانَ حَدِيثٙا يُفْتَـرَىٰ |
یہ(قرءان مجید)کبھی ایسا بیان (حدیث )نہیں ہے جسے (اللہ تعالیٰ کے سوائے) کسی نے تصنیف و تالیف کر لیا ہو۔ |
|
وَلَـٟكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِ |
(جس کسی کو ایسا گمان ہے وہ لغو ہے)یہ تواس کلام/ایک کتاب(انجیل)کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے قبل کے ادوار میں نازل کیا گیا تھا۔ |
|
وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَـىْءٛ |
اور ہر ایک موضوع کو فصیل(فریم)میں متمیز کئے ہوئے ہے۔ |
|
وَهُدٙى وَرَحْـمَةٙ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ١١١ |
اور یہ تو ہدایت اور رحمت کا نزول ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم(ﷺ)پر ایمان لاتے ہیں۔ |
![]()
013- سُوۡرَةُ الرعد
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
الٓمٓر |
عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان،اور حرف ر۔ |
|
تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ |
اے رسولِ کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کےمندرجات( آیات )ہیں۔ |
|
وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ |
اور وہ جسے آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں پہنچایا گیا ہے بیان حقیقت ہے۔ |
|
وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١ |
مگر ناقابل تردید بیان حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کے آپ کے رب کی جانب سے تصنیف و تدوین ہونا نہیں مانتے۔ |
|
ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ بِغَيْـرِ عَمَدٍۢ
تَرَوْنَـهَاۖ |
اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے آسمانوں کو
بلند فرمایا۔اس ارتفاع کی حالت ستونوں کے علاوہ
ذریعے سے ہے۔تم لوگ اسے بغیر ستونوں کے بلند دیکھتے ہو۔ Root: ر ف ع; ع م د ;ع ر ش ;س خ ر; ق م ر ; ف ص ل; ي ق ن Why is the Universe the way it is? |
|
وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلۡأَرْضَ
|
اور وہ جناب ہیں جنہوں نے زمین
کوپحیلائی حالت میں کر دیا۔ History of the Earth Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance. Root: ر س و; غ ش ى;ف ك ر |
|
وَفِـى ٱلۡأَرْضِ قِطَعٚ مُّتَجَٟوِرَٟتٚ وَجَنَّٟتٚ مِّنْ أَعْنَٟبٛ وَزَرْعٚ وَنَخِيلٚ |
ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو قطعات اراضی،اور نوع انگور کے باغات ،اور غلہ اگانے کے کھیت اور کجھور کے درخت زمین میں موجود توجہ دلانے والی بدیہی حقیقتیں ہیں۔ |
|
صِنْوَانٚ وَغَيْـرُ صِنْوَانٛ |
کجھور کے درخت ایک دوسرے کی جانب جھکاؤ رکھتے ہوئے رو در رو بھی ہیں(مذکر اور مؤنث ملے جلے،شاخوں کو کاٹ کر لگائے)اوراس انداز سے مختلف الگ الگ بھی لگائے جاتے ہیں۔ Root: ص ن و |
|
يُسْقَىٰ بِمَآءٛ وَٟحِدٛ |
ان تمام کو ایک ہی طرح کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ Root: س ق ى |
|
وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَـىٰ بَعْضٛ فِـى ٱلۡءاُكُلِ |
لیکن ہم جناب بعض کو بعض کی نسبت ذائقے ، تاثیراورطبعی افادیت میں غذائی انفرادیت کا حامل بنا دیتے ہیں۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَعْقِلُونَ ٤ |
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں ایسی شہادتیں ہیں جو عقل استعمال کرنے والوں کے لئے فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔ |
|
وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٚ قَوْلُـهُـمْ |
ان بدیہی حقیقتوں سے بعض لوگوں کی چشم پوشی پر اگر آپ(ﷺ) کو حیرانگی ہوتی ہے تو اس پر غور کریں کہ ان کا لوگوں سے یہ استفسار کرنا کیا عجیب نہیں: Root: ع ج ب |
|
أَءِذَا كُنَّا
تُرَٟبًا أَءِنَّا لَفِـى خَلْقٛ
جَدِيدٍۗٛ |
’’کیا جب ہم خاک بن چکے ہوں گے۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے‘‘۔ Root: ج د د |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ الَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِرَبِّـهِـمْ |
(ان کا یہ سوال کرنا محض لوگوں کو ملتبس کرنا ہے)در حقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کا انکار کرتے ہیں۔ |
|
وَأُوْلَئِكَ ٱلۡءَاَغْلَالُ فِـىٓ أَعْنَاقِهِـمْ |
اور درحقیقت یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی بد اندیشی،بغض،ہٹ دھرمی،انانیت اور عقل و خرد سے بیگانہ روایت پرستی ان کی گردنوں میں مانند طوق بن گئے ہیں۔ |
|
وَأُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ |
اور یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔ Root: ص ح ب |
|
هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدونَ ٥ |
یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔ |
|
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ |
مگر(تعجب ہے ان کے عقل و فہم پر)یہ ہیں کہ خوشگواری کی طلب سے قبل آپ (ﷺ)سے عذاب لانے میں عجلت کی خواہش کر رہے ہیں۔ Root: ع ج ل |
|
وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِـهِـمُ ٱلْمَثُلَٟتُ |
باوجود اس حقیقت کے کہ عذاب جلدی لانے کے مطالبے کی مثالیں ان سے قبل کے لوگوں میں گزر چکی ہیں۔ Root: خ ل و |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٛ لِّلنَّاسِ عَلَـىٰ ظُلْمِهِـمْ |
یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ آپ(ﷺ)کے رب لوگوں کے لئے درگزر اورکچھ عرصہ کے لئے معاف رکھنے کے صاحب اختیار ہیں باوجود ان کے حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنائے ہوئے ہونے کے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٦ |
اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے ہیں۔ |
|
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ
مِّن رَّبِّهِۦٓ |
رسول کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ لوگوں سے کہتے ہیں"کیا وجہ ہے کیوں انہیں عینی مشاہدہ کرانے کے لئے ایسی شہادت(آیت/معجزہ) ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے سند ہوتی جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟" |
|
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٚ |
(مگر اس حقیقت کو وہ بھول جاتے ہیں کہ)آپ(ﷺ)تو تمام کونتائج و عواقب سے متنبہ کرنے والے ؛اور عالمگیر،ہر ایک قوم کے لئےرہنما،ہادی مقرر کئے گئے ہیں۔(سورۃ الرعد۔7) |
|
ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْـمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ |
اللہ تعالیٰ اس کو بخوبی جانتے ہیں جو تمام میں ہر کوئی مؤنث اپنے رحم میں بار اٹھا لیتی ہے۔ |
|
وَمَا تَغِيضُ ٱلۡأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ |
اور وہ جناب اس کو بخوبی جانتے ہیں جو ارحام سکڑتی اور سمٹتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو کتنا پھیلاتی اور وسعت دیتی ہیں۔ Root: غ ى ض |
|
وَكُلُّ شَـىْءٛ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍٛ ٨ |
اور ہر ایک ایک شئے کو ان جناب کے تخمینے کے مطابق متعین مقدار میں تخلیق کیا گیا ہے۔ |
|
عَٟلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ |
وہ تمام جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔ |
|
ٱلْـكَبِيـرُ ٱلْمُتَعَالِ ٩ |
وہ جناب قدر و منزلت میں دائمی مطلق بڑے ہیں،تمام سے بلند و بالا اورزمان و مکان میں سب پرحاوی ہیں۔ |
|
سَوَآءٚ مِّنكُـم مَّنْ أَسَرَّ ٱلْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِۦ |
یکساں ہے ان جناب کے لئے تم میں سے وہ شخص جس نے اپنے بیان کو راز رکھا اورتم میں سے وہ جس نے اپنے بیان کو باآواز بلند مشتہر کر دیا۔ Root: س ر ر |
|
وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْف |
اور یکساں ہےوہ جو رات کے دوران اپنے آپ کو چھپائے رکھنے کا خواہش مند ہے اور وہ جو دن کے دوران کھلے عام گھومتا پھرتا ہے۔ Root: س ر ب |
|
لَهُۥ مُعَقِّبَٟتٚ مِّن بَيْـنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ
يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ |
بڑی تعداد میں تعاقب کرنے والے(ملائکہ)اس(شخص،غیب کے متعلق مطلع کئے ہوئے رسول؛سورۃ الجن۔27)کے لئے مقرر کئے گئے ہیں،وہ جو اس کے سامنے کے مقام اور اس کے پیچھے کے مقام پر موجود ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دئیے گئے حکم کے مطابق اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا
بِقَوْمٍٛ حَـتَّىٰ يُغَيِّـرُوا۟ مَا
بِأَنفُسِهِـمْ |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آسودہ حالی کو جو انہوں نے کسی قوم پرمرحمت فرمائی ہے اس وقت تک متغیر نہیں کرتے جب تک وہ لوگ اسے متغیر نہ کر دیں جس طرز حیات کا اپنے نفوس کو پابند رکھتے تھے۔ |
|
وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٛ سُوٓءٙا فَلَا مَـرَدَّ لَهُۥ |
متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کوسزا کے طور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو چونکہ قہ قادر مطلق ہیں اس لئے قطعاً کوئی بھی نہیں جو اس ارادے کی تکمیل کو موڑ سکے۔ |
|
وَمَا لَـهُـم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍٛ ١١ |
اور قطعاً کوئی حمایتی اور مددگار اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسا نہیں جو ان کی مدد کرنے کا سوچ بھی سکے۔ |
|
هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُـمُ ٱلْبَـرْقَ خَوْفٙا وَطَمَعٙا |
وہ جناب ہیں جو تم لوگوں کو بجلی گرتے ہوئے دکھاتے رہتے ہیں،اس مقصد اورحال میں کہ تمہیں خوف محسوس ہونے کے ساتھ خوشگوار امید دلائے۔ |
|
وَيُنْشِىُٔ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ ١٢ |
اور وہ جناب بتدریج دبیز اور بوجھل منڈلاتے بادلوں کو ابھارتے اور نمایاں کرتے ہیں۔ Root: س ح ب ; Root: ن ش ء First Atlas of Clouds was published in Qur’ān |
|
وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعْدُ بِحَمْدِهِۦ وَٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ مِنْ خِيفَتِهِۦ |
اور بادلوں کی گڑگڑاہت، گھن گرج ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ان کی ہمہ وقت ستائش کرتے ہوئے برسر پیکار ہے۔اور اسی طرح تمام ملائکہ ان جناب کے مقام و مرتبہ کا خوف رکھتے ہوئے برسر پیکار رہتے ہیں۔ Root: ء ل ك |
|
وَيُرْسِلُ ٱلصَّوَٟعِقَ فَيُصِيبُ بِـهَا مَن يَشَآءُ |
اور وہ جناب کڑکراہٹوں کو روانہ کرتے ہیں۔چونکہ اس کا نظام بجلی کی چمک سے مختلف ہے اس لئے وہ جناب جس کو سنوانا چاہتے ہیں اسے اس تک پہنچا دیتے ہیں۔ |
|
وَهُـمْ يُجَٟدِلُونَ فِـى ٱللَّهِ |
مگر اس کے باوجود وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق باتوں کے پیچ و خم سے الجھتے رہتے ہیں۔ |
|
وَهُوَ شَدِيدُ ٱلْمِحَالِ ١٣ |
متنبہ رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ان جناب کا مجرمین کو گرفت میں لینا ان کے لئے دردناک ہے اور شدید بھی۔ Root: م ح ل |
|
لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ |
حقیقت پر مبنی پکار خصوصی طور پر ان جناب سے داد رسی کے لئےکی جاتی ہے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَـهُـم بِشَىْءٍٛ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ان جناب کے علاوہ دوسروں کو معبودان سمجھ کر پکارتے رہتے ہیں وہ کسی بھی معاملے میں ان کو جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔ |
|
إِلَّا كَبَٟسِطِ كَفَّيْهِ إِلَـى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا
هُوَ بِبَٟلِغِهِۦ |
ان کا اُن کو پکارنااس پیاسے کی مانند ہے جو پانی کی جانب اپنے دونوںبازو پھیلائے اس امید میں کہ پانی اس کے منہ میں پہنچ جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہرگزکبھی بھی اس کے پاس پہنچ پائے گا۔ |
|
وَمَا دُعَآءُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٛ ١٤ |
اوریہ حقیقت ہے کہ رسول اور کتاب اللہ کا انکار کرنے والوں کی ہر موقعہ پر پکار کا انجام سوائے فضا میں تحلیل ہو جانے کے کچھ بھی نہیں۔ |
|
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ طَوْعٙا
وَكَرْهٙا |
مطلع رہو؛
جو
کوئی ذی حیات آسمانوں اور زمین میں موجود ہے،وہ چاہے چاہت و رغبت و کشش
کے زیر اثر اورچاہے نظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر اللہ
تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا رہتا ہے۔
|
|
قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ |
آپ (ﷺ)پوچھیں"کون ہیں جو آسمانوں اور زمین کے رب ہیں؟"۔آپ (ﷺ)کہیں "وہ اللہ تعالیٰ ہیں"۔ |
|
قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُـم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَـمْلِـكُونَ
لِأَنفُسِهِـمْ نَفْعٙا وَلَا ضَرّٙا |
آپ (ﷺ)پوچھیں "کیا فوراً جواب دینے میں ججھک اس وجہ سے ہے کہ تم لوگوں نے ان جناب کے علاوہ ایسے حیات سے عاری معبودان کو زیر مقصد بطور کارساز اختیار کر لیا ہے جواپنے لئے کسی ضرر اور نہ نفع کے لئے کوئی قوت و اختیار رکھتے ہیں ۔ |
|
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلۡءَاَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيـرُ |
آپ(ﷺ)ان سے کہیں"اس بات کی تصدیق یا نفی کرو کہ کیا آنکھوں اور دل کےاندھے شخص اور بصارت و بصیرت رکھنے والے یکساں تصور کئے جا سکتے ہیں؟ Root: ع م ى |
|
أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٟتُ وَٱلنُّورُ |
یا کیا تہہ بر تہہ اندھیرے اور نور/سفید روشنی ایک جیسے تصور کئے جا سکتے ہیں"۔ |
|
أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٟبَهَ
ٱلْخَلْقُ عَلَيْـهِـمْ |
یا کیا انہوں نے جن شرکاء کو اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ہمسر قرار دیا ہے انہوں نے ان جناب کے تخلیق کردہ کے مانند کچھ تخلیق کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے تخلیق کردہ نے ان کے لئے اشتباہ پیدا کیا ہے۔ Root: ش ب ه |
|
قُلِ ٱللَّهُ خَٟلِقُ كُلِّ شَـىْءٛ |
آپ(ﷺ)اارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ ہیں جو تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔ |
|
وَهُوَ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّٟرُ ١٦ |
اور وہ جناب یکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں۔ |
|
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ |
انہوں نے آسمان سے پانی کی متعین مقدار کر برسایا۔ |
|
فَسَالَتْ أَوْدِيَةُ |
اس کے نتیجے میں پانی کی گزرگاہیں/وادیاں اپنی اپنی پیمائش کے مطابق لبریز ہو گئیں۔ Root: س ى ل |
|
فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدٙا رَّابِيٙا |
اس کی وجہ سے لبریز بہاؤ نے جھاگ کو اپنے اوپر اٹھا لیا،اوپر کی جانب ابھرتے انداز میں۔ |
|
وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِـى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ
حِلْيَةٍٛ أَوْ
مَتَٟعٛ زَبَدٚ مِّثْلُهُۥ |
اور اس کے مثل وہ جھاگ اورمیل ہے جو اس دھات اور معدنیات میں سے نکلتا ہے جس پر وہ آگ سلگاتے ہیں،زیورات بنانے یا دوسرے قیمتی اجزا حاصل کرنے کی خواہش میں۔ |
|
كَذَٟلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٟطِلَ |
ان نمایاں مشاہدات کی مانند اللہ تعالیٰ ناقابل تردید حقیقت اور بیکار،فاسد،،لغو،ناقابل مشاہدہ اور ثبوت ہرزہ سرائی کے مابین فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ |
|
فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءٙ |
چونکہ اصل حقیقت اور کھوٹ روانی اور حرارت میں الگ ہو جاتے ہیں اس لئے جہاں تک جھاگ اور میل کا تعلق ہے وہ چلا/زائل ہو جاتا ہے،سطح سے ہٹائے ہوئے انداز میں۔ Root: ز ب د |
|
وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَـمْكُثُ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہے وہ چونکہ حقیقت اور وزن کا حامل ہوتا ہے اس لئے وہ فائدہ اٹھانے کے لئے تہہ میں مجود رہتا ہے۔ Root: م ك ث |
|
كَذَٟلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمْثَالَ ١٧ |
ان نمایاں مشاہدات کی مانند اللہ تعالیٰ لوگوں کے استفادہ کے لئے مثالوں سے حقائق کو نمایاں فرماتے ہیں۔ |
|
لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّـهِـمُ ٱلْحُسْنَىٰ |
مطلع رہو؛بہترین دل آویز صلہ اور ایوارڈ ان لوگوں کے لئے تیار اور منتظر ہے جنہوں نے اپنے رب کے فرمان پر بصد احترام لبَّیک کہا۔ |
|
وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ |
مگر جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے ان جناب کی دعوت حق پر صدائےلبَّیک بلند کرنا پسند نہیں کیا: |
|
لَوْ أَنَّ لَـهُـم مَّا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ
لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓ |
Root: ف د ى |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ |
یہ ہیں وہ لوگ۔۔تکلیف دہ احتساب ان کے لئے پچھتاوا بن جائے گا۔ |
|
وَمَأْوَىٰـهُـمْ جَهَنَّـمُ |
متنبہ رہو؛ان کی آخری "پناہ گاہ" جھلسا دینے والی جہنم ہے۔ |
|
وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ١٨ |
اور اس جہنم کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے رہائش کے لئے‘‘۔ Root: م ھ د |
|
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن
رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓ |
کیا تقابلی جائزہ لینے پر وہ شخص جو جانتا ہے کہ صرف وہ بیان حقیقت ہے جو آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں آپ کی جانب بھیجا گیا ہے اس کی مانند تصور کیا جا سکتا ہے جو قلب کا اندھا، چشم بصیرت سے عاری ہے۔ Root: ع م ى |
|
إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ ١٩ |
حقیقت یہ ہے کہ صرف دانا وبینا (جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں)ازخود یاد رکھتےاور نصیحت لیتے ہیں۔ Root: ل ب ب |
|
ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلْمِيثَـٟـقَ ٢٠ |
یہ (دانا و بینا)وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو ایفا کرتے ہیں اور میثاق کی تنقیض نہیں کرتے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ |
اور یہ لوگ وہ ہیں جو اس کو استوار رکھتے ہیں جس کو استوار رکھنے اور اس سے پیوستہ رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔ Root: و ص ل |
|
وَيَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ |
اور وہ ا پنے رب کے جاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے سہمے سہمے اورمرعوب رہتے ہیں۔ |
|
وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ ٢١ |
اور وہ احتساب کے برے نتائج سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ |
|
وَٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّـهِـمْ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے ناگواریوں کوحوصلے اور استقامت سے اپنے عہد پر ثابت قدم رہتے ہوئے برداشت کیا اپنے رب سے شرف قبولیت کے خواہش مند رہتے ہوئے۔ |
|
وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ |
اور انہوں نے استقلال و استقامت ، منظم طریقے سے صلوٰۃ کی مقررہ اوقات پر ادائیگی کا پابند رکھا۔ |
|
وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ |
اور انہوں نے ہم جناب کے عنایت کردہ رزق میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا۔ |
|
سِرّٙا وَعَلَانِيَةٙ |
خرچ کا انداز تنہائی میں چھپا کر اور بر سرعام تھا۔ |
|
وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ |
اور یہ لوگ زمان و مکان میں متعین اور معلوم قبیح طرز عمل کو متوازن احسن طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے رد اور عیاں کرتے رہتے ہیں۔ Root: د رء |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٢ |
یہ ہیں وہ لوگ ۔۔بہترین رہائش گاہ ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ |
|
جَنَّٟتُ عَدْنٛ يَدْخُلُونَـهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِـهِـمْ
وَأَزْوَٟجِهِـمْ وَذُرِّيَّٟتِـهِـمْ |
وہ خوشگوار باغات پر مشتمل ہے۔وہ ان میں داخل ہوں گے اور وہ جن کا تعلق ان کے آباؤ اجداد،اور ان کی ازواج اوراولادوں سے ہے، جس نے اپنے آپ کو اصلاح پر کاربند رکھا تھا۔ Root: ذ ر ر |
|
وَٱلْمَلَـٟٓئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْـهِـم مِّن كُلِّ بَابٛ ٢٣ |
اور ملائکہ ہر ایک دروازے سے ان سے ملاقات کے لئے داخل ہوں گے۔ Root: ء ل ك |
|
سَلَٟمٌ عَلَيْكُـم بِمَا صَبَـرْتُـمْ |
اور ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہیں گے’’آپ پر دائمی سلامتی اور خوزگواریاں ہیں اس کے سبب جو آپ نے ناگواریوں کو عزم و استقلال سے اپنے عہد سے وفادار رہتے ہوئے برداشت کیا‘‘۔ |
|
فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٤ |
چونکہ انہوں نے استقامت سے اپنے عہد کو نبھاہا اس لئے کیا ہی بہترین مقام انجام ہے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٟقِهِۦ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جو ا للہ تعالیٰ کے عہد کو اس کے ناقابل تنسیخ میثاق تسلیم کر لئے جانے کے بعد اُس کے پابند؍بندھے ہونے کے باوجود توڑتے؍تنقیض کرتے ہیں۔ |
|
وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ |
اور یہ لوگ(فاسقین) اس کوقطع کرتے؍توڑتے ہیں جس معاملے کواللہ تعالیٰ نے استوار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ Root: و ص ل |
|
وَيُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
اور یہ لوگ زمین (معاشرے) میں باطل نظریات کے پرچار سے ذہنی و فکری انتشار سے بگاڑ پھیلاتے ہیں۔[متضاد طرز عمل کے لوگ ۔الرعد۔13] |
|
أُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمُ ٱللَّعْنَةُ |
یہ ہیں وہ لوگ۔۔ہر طرح کی دھتکار اور عدم توجہ ان کے لئے باعث اضطراب و شرمندگی ہو گی۔ |
|
وَلَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ ٢٥ |
اور ہیجان خیز اور بے چین رکھنے والا مقام رہائش ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ |
|
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقَدِرُ |
اللہ تعالیٰ ہیں جو اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔ Root: ب س ط |
|
وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
اور وہ ہیں کہ حیات دنیا میں میسر ثروت و آسودگی سے فرحت اور گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔ Root: ف ر ح |
|
وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ إِلَّا مَتَـٟـعٚ ٢٦ |
مگر حیات دنیا تو ایسے سامان زیست کے علاوہ کچھ نہیں جو آخرت میں محسوس ہو گا کہ متاع تو تمنا،آرزو اور فریب میں مبتلا کر دینے والا تھا(محذوف حال کے لئے ءال عمران۔۸۵ ساتھ دیکھیں) |
|
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٚ مِّن
رَّبِّهِۦ |
رسول کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،وہ لوگوں سے کہتے ہیں"کیا وجہ ہے کیوں انہیں عینی مشاہدہ کرانے کے لئے ایسی شہادت(آیت/معجزہ) ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجی جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے سند ہوتی جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟" |
|
قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی گم کردہ راہ اور منحرف کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے گمراہی میں مگن رہنے دیتے ہیں۔ |
|
وَيَـهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ٢٧ |
اور وہ جناب اپنی جانب آنے کے لئے اسے راہ (صراط مستقیم)سجھاتے ہیں جس نے اپنے آپ کو فلسفہ توحید پر پلٹا لیا"۔ Root: ن و ب |
|
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُـهُـمْْ بِذِكْرِ ٱللَّهِ |
وہ جناب انہیں اپنی جانب ہدایت دیتے ہیں جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لے آئے اور ان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ Root: ط م ن |
|
أَ لَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ ٢٨ |
اس میں تعجب کی بات نہیں؛یقیناً قلوب اطمینان محسوس کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کئے جانے پر۔ |
|
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
ان لوگوں کے قلوب جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور اعمال صالح پر کاربند ہیں۔ |
|
طُوبَـىٰ لَـهُـمْ وَحُسْنُ مَـَٔابٛ ٢٩ |
ہر لمحہ عیش و عشرت و آسودہ حالی اور بہترین قیام گاہ ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ Root: ء و ب |
|
كَذَٟلِكَ أَرْسَلْنَـٟكَ فِـىٓ أُمَّةٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٚ |
اس طرح ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو ان لوگوں کی موجودہ نسل میں رسول مبعوث فرمایا جن کی کئی نسلیں اس سے قبل گزر چکی ہیں (جنہیں کتاب سے نہیں نوازا گیا تھا)۔ Root: خ ل و |
|
لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْـهِـمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ |
تا کہ آپ(ﷺ) انہیں وہ(قرءان مجید) لفظ بلفظ ترتیل کے انداز میں سنائیں جو ہم جناب نےآپ(ﷺ)کی جانب بھیجا ہے۔ |
|
وَهُـمْ يَكْـفُـرُونَ بِٱلرَّحْـمَـٰنِ |
اور وہ اس حالت میں ہیں کہ الرَّحمٰن (عز و جل)کااِلہٰ واحد ہونے سے مسلسل انکار کرتے رہتے ہیں ۔ Root: ك ف ر |
|
قُلْ هُوَ رَبِّـى |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”وہ جناب (الرَّحمٰن) میرے رب ہیں۔ |
|
لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَ |
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (الرّحمٰن زوالجلال و الاکرام) کے۔ |
|
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ ٣٠ |
ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور میرا رجوع کرنا ہر لمحہ ان جناب کی جانب ہے‘‘۔ |
|
وَلَوْ أَنَّ قُرْءَ انٙا سُيِّـرَتْ بِهِ ٱلْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ
بِهِ ٱلۡأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ ٱلْمَوْتَـىٰ |
مافوق الفطرت مظاہر کا مطالبہ کرنے والوں کے متعلق حقیقت جان لو؛اگر ایک ایسا تحریری مجموعہ پیش کر دیا جاتا جس کے صوت ِکلام سے پہاڑوں کو حرکت پذیر کر دیا جاتا،یا اس سے زمین کو دراڑ زدہ کر دیا جاتا یا اس کے صوت کلام سے مردوں کو گفتگو کے قابل بنا دیا جاتا (تو انہوں نے کہنا تھا یہ فریب نظر ہے)۔ |
|
بَل لِّلَّهِ ٱلۡأَمْـرُ |
یہ امکان غیر حقیقی نہیں،مگر ہر منفرد امر کا فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کے مطلق دائرہ اختیار اور قدرت میں ہے،تمام امور کے متعلق اجتماعی طور پر۔ |
|
أَفَلَمْ يَا۟ يْــَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن لَّوْ يَشَآءُ
ٱللَّهُ لَـهَدَى ٱلنَّاسَ جَـمِيعٙا |
کیا صدق قلب سے رسول کریم اور قرءان مجید پرایمان لانے والے ان کے ہٹ دھرم رہنے سے یہ جانتے ہوئے بھی ابھی تک مایوس نہیں ہوئے کہ یہ حقیقت برقرار ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہوتا تو یقیناً تمام انسانوں کومجموعی طور پر ہدایت سے بہرہ مند فرما دیتے۔ Root: ى ء س |
|
وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ تُصِيبُـهُـم بِمَا صَنَعُوا۟ قَارِعَةٌ |
اور جان لو،جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے،جھنجھوڑنے والی دستک کا انہیں ملنا نہیں رکے گا اس کے سبب جو فنکاریاں انہوں نے کی ہیں۔ |
|
أَوْ تَحُلُّ قَرِيبٙا مِّن دَارِهِـمْ حَـتَّىٰ يَأْتِـىَ وَعْدُ ٱللَّهِ |
یا وہ جھنجھوڑ دینے والی دستک ان کے علاقے کے قریب براجمان ہو جائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تکمیل کا لمحہ پہنچ جائے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ ٣١ |
یہ حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ دئیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔ |
|
وَلَقَدِ ٱسْتُـهْزِئَ بِرُسُلٛ مِّن قَبْلِكَ |
مطلع رہیں؛یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)سے قبل مبعوث فرمائے گئے رسولوں کےساتھ بھی غیر سنجیدگی کےروئیے کو روارکھا گیا تھا۔ Root: ھ ز ء |
|
فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ ثُـمَّ أَخَذْتُـهُـمْ |
چونکہ یہ طے شدہ اصول ہے اس لئے اے رسول کریم میں نے ان لوگوں کے سوچنے سمجھنے کے لئے مہلت کا وقفہ دیا جنہوں نے رسول کو ماننے سے انکار کر دیا تھ؛ بعد ازاں مہلت کا وقت ختم ہونے تک ان کے ہٹ دھرم رہتے ہوئے میں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔ Root: م ل و |
|
فَكَـيْفَ كَانَ عِقَابِ ٣٢ |
چونکہ ان کا آخر کارہونے والا انجام بھی بیان کر دیا گیا اس لئے تم لوگ انتباہ لو کہ میری پکڑ کس قدر سخت تھی۔ |
|
أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَـىٰ كُلِّ
|
تاریخ کے ان واقعات پر غور کر کے سوچو کہ کیا ان جناب کے ہم پلہ اور شریک کار کوئی ہو سکتا ہے جو ہر لمحہ ہر ایک ایک شخص پر نگران ہیں۔ |
|
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَـمُّوهُـمْ |
مگر اس کے بوجود وہ ہیں کہ تخیل سے ہست کئے معبودان کو اللہ تعالیٰ کے لئے شریک کار قرار دیتے ہیں۔آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’ان کے نام بتاؤ۔ |
|
أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِـى ٱلۡأَرْضِ أَم بِظَٟهِرٛ
مِّنَ ٱلْقَوْلِ |
یا کیا تم لوگ ان جناب کواس خبر سے مطلع کرتے ہو جس کی زمین میں موجودگی کو وہ جناب نہیں جانتے یا حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ محض منہ سے نکالے کھوکھلے بیان سے ان کا اظہار کرتے ہو‘‘۔ |
|
بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مَكْرُهُـمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ
ٱلسَّبِيلِ |
ان کی کسی بات میں وزن نہیں؛ در حقیقت ان کی فریب کاریاں ان لوگوں کے لئے خوشنما بنا دی گئی ہیں جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کیا ہے۔اور انہوں نے لوگوں کومنزل کی جانب رواں رکھنے والے راستے سے پلٹا دیا ہے۔ Root: م ك ر |
|
وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٛ ٣٣ |
اوراگر ا للہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت انحراف اورکج روی میں سرگرداں رہنے دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں،تو اس صورت میں اُسے راہ دکھانے کیلئے کوئی بھی رہبرنہیں ہوتا۔ |
|
لَّـهُـمْ عَذَابٚ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا |
ایک عذاب ہے جو حیات دنیا میں خود انہوں نے اپنے لئے روگ جاں بنا لیا ہے۔ |
|
وَلَعَذَابُ ٱلۡءَاخِـرَةِ أَشَقُّ |
اور یقیناً ان کے لئے آخرت کا عذاب کہیں زیادہ شکست و ریخت کا باعث ہو گا۔ Root: ش ق ق |
|
وَمَا لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٛ ٣٤ |
اور قطعاً کسی حفاظت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی مدد کو آنے کا استحقاق دیا گیا ہے۔ |
|
مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِـى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَۖ |
اس جنت کی مماثلت کے ادراک کے لئے چند معلومات جان لو جس کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو تندہی سے محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہتے ہیں۔ |
|
تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُ |
جس کی خاص بات یہ ہو کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہوں۔ |
|
أُكُلُـهَا دَآئِمٚ وَظِلُّهَاۚ |
اس کی اشیائے خورد و نوش دائمی ہیں۔اور اسی طرح اس کا ماحول سایہ دار خوشگوار ہے۔ |
|
تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ |
یہ بہترین عاقبت ان لوگوں کی ہے جو حیات دیا میں تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔ |
|
وَّعُقْبَى ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٱلنَّارُ ٣٥ |
اورانکار کرنے والوں کی عاقبت جہنم میں رہائش پذیر ہونا ہے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَۖ |
مطلع رہیں؛ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق جنہیں ہم جناب نے ماضی میں منفرد کتاب سے نوازا تھا اس پر قائم رہنے والے اس بیان حقیقت (قرءان مجید)سے فرحت محسوس کرتے ہیں جسے مجتمع انداز میں آپ (ﷺ)کی جانب بھیجا جا چکا ہے۔ |
|
وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ |
مگر معاشرے کے قبائل/طبقات میں سے جن کے مفادات زد میں آتے ہیں اس (قرءان مجید)کے بعض مندرجات کو دل کے تسلیم کرنے کے لئے غیر معروف قرار دیتے ہیں۔ Root: ن ك ر |
|
قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ میں اپنے آپ کو بھی ان جناب کے ساتھ بندگی کے لئے ملصق قرار نہ دوں۔ |
|
إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ٣٦ |
میں تو ان کی جانب پلٹنے کی دعوت دے رہا ہوں اور میرا ٹھکانہ،توجہ اور جستجو کا محور ان جناب کی جانب ہے‘‘۔ Root: ء و ب |
|
وَكَذَٟلِكَ أَنزَلْنَٟهُ حُكْمًا عَـرَبِيّٙاۚ |
اور لوگوں کے لئے اسی مقصد سے ہم جناب نے اسے (قرءان مجید کو) مجتمع انداز میں پہنچایا ہے۔یہ زمان و مکان میں عربی زبان میں تحریر کردہ حکم نامہ کا کردار انجام دیتے رہے گا۔ Root: ع ر ب |
|
وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُـم بَعْدَمَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ |
آپ(ﷺ)ہر ایک کو واضح فرما دیں ”لیکن اگرتم نے اُن (یہود و نصاریٰ)کی تخیلاتی،ناقابل تصدیق محض منہ کی باتوں اورخواہشات کی دانستہ،زیر مقصدپیروی کی باوجود اِس کے وہ ایک(الہدیٰ)تم تک پہنچ چکا ہے،ہر لمحہ کے لئے ناقابل تردید علم پر مبنی۔ |
|
مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِـىّٛ وَلَا وَاقٛ ٣٧ |
اور قطعاً کسی حفاظت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیری مدد کو آنے کا استحقاق نہیں دیا گیا ہے"۔ |
|
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلٙا مِّن قَبْلِكَ |
لوگوں کو مطلع فرما دیں،ہم جناب نے آپ(ﷺ)سے قبل کے ادوار میں رسولوں کوبشیر اور نذیر قرار دے کر قوموں کی جانب بھیجا تھا۔ |
|
وَجَعَلْنَا لَـهُـمْ أَزْوَٟجٙا وَذُرِّيَّةٙ |
اور ہم نے بیویوں اورذریت کو ان کے بشری تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ بنایا تھا۔ Root: ذ ر ر |
|
وَمَا كَانَ
لِرَسُولٍٛ أَن يَأْتِـىَ
بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ
ٱللَّهِ |
اورعینی مشاہدہ کے لئے تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ایسی شہادت(آیت/معجزہ)کو بطور سندلوگوں کے پاس لانے کا استحقاق اور اختیار کسی رسول کے پاس نہیں تھا سوائے اللہ تعالیٰ سے اجازت/اذن ملنے پر۔ |
|
لِـكُلِّ أَجَلٛ كِتَابٚ ٣٨ |
ایک کتاب کوہر ایک دور میں لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہر ایک رسول کے ساتھ نازل کیا گیا تھا۔ |
|
يَـمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْـكِـتَٟبِ ٣٩ |
اللہ تعالیٰ جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے محو فرما دیتے ہیں؛اورجس(کتاب/متن)کے متعلق چاہتے ہیں اسے دوام دے دیتے ہیں۔اور ام الکتاب،تمام تخلیق کے متعلق منبع علم،ان جناب کے پاس محفوظ اور پوشیدہ حالت میں موجود ہے۔( الرعد۔٣٩) Root: م ح و |
|
وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُـمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٟغُ وَعَلَيْنَا ٱلْحِسَابُ ٤٠ |
چونکہ یوم آخر نے بالکل اچانک وقوع پذیر ہونا ہے اس لئے اگر ہم آئندہ کسی وقت اس(دن)کے کچھ ابتدائی حصے کو آپ(ﷺ)کی نگاہوں کو دکھا دیں جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں؛یا اس سے قبل آنے والے دنوں میں ہم جناب آپ (ﷺ)کو لوگوں کی مصاحبت سے الگ کر لیں (بسبب طبعی موت)۔۔چونکہ آپ(ﷺ)لوگوں کے دانستہ بہرے اور اندھے روئیے سے ان کے لئے فکر مند ہوتے ہیں اس لئے آپ کو یاددہانی کراتے ہیں کہ آپ پر ذمہ داری صرف کلام اللہ کو من و عن لوگوں کی سماعتوں اور بصارتوں تک پہنچانا ہے۔(کسی کو سنوانا ویسے بھی کسی بشر کے لئے ممکن نہیں)۔اور آپ (ـﷺ) کی بشری علیحدگی سے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہر شخص کا احتساب کرنا ہم جناب پر ذمہ داری ہے۔ |
|
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَأْتِـى ٱلۡأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَاۚ |
کیا فلسفہ اشتراک سے منحرف ہونے کے لئے انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہم جناب زمین پر دسترس اور غلبہ رکھے ہوئے ہیں۔ہم جناب مسلسل اسے اطراف و جوانب سے کم کرتے جا رہے ہیں (جبکہ آسمان کو پھیلا رہے ہیں)۔ |
|
وَٱللَّهُ يَحْكُـمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْـمِهِۦ |
اور اللہ تعالیٰ تمام نظام کے لئے حکم جاری فرماتے ہیں۔قطعاً ان کے حکم کی تکمیل کو روکنے والا نہیں۔ |
|
وَهُوَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٤١ |
متنبہ رہو، وہ جناب حساب کتاب انتہائی سرعت سے کرتے ہیں ۔ Root: س ر ع |
|
وَقَدْ مَكَـرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْـرُ جَـمِيعٙاۖ |
ان کی مکاریاں کوئی نئی بات نہیں؛حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی جو اِن سے قبل کے معاشروں کے عمائدین تھے مکارانہ طرز عمل اپنایا تھا۔وہ ناکام ہوئے کیونکہ بہترین تدبیر کوبروئے کار لانا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے،تمام مواقع پرمطلق انداز میں۔ Root: م ك ر |
|
يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٛ |
وہ جناب اس کو مطلق جانتے ہیں جو ہر ایک ایک شخص کسب کرتا ہے۔ |
|
وَسَيَعْلَمُ ٱلْـكُـفَّٟرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٤٢ |
اور رسول کریم اور قرءان مجید کا ڈھٹائی سے انکار کرنے والے جلد جان لیں گے کہ خوشگوار انتہا کو کس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ |
|
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَسْتَ مُرْسَلٙاۚ |
اور جن لوگوں نے قرءان مجید کو کلام اللہ ماننے سے انکار کیا ہے کہتے ہیں’’آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسالات دے کر بالکل نہیں بھیجا گیا‘‘۔ |
|
قُلْ كَفَـىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَا بَيْنِى وَبَيْنَكُـمْ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ کا میرے اور تمہارے مابین چشم دید گواہ ہونااکتفا کرتا ہے(کسی اور کی شہادت کی ضرورت نہیں)۔ Root: ك ف ى |
|
وَمَنْ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٤٣ |
اور ان جناب کی شہادت مطلق ہے،ام الکتاب میں درج علم ان جناب کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے‘‘۔ |
![]()
014- سورة إِبْرَٟهِيـم
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
الٓر |
عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر |
|
كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ إِلَيْكَ |
اس کتاب(قرءان عظیم)کے متعلق حقیقت یہ ہے؛ ہم جناب نے مجتمع انداز میں آپ (ﷺ) کی جانب اس کو نازل فرمایاہے؛ |
|
لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّـهِـمْ |
اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)زمان و مکان کے لوگوں کو تارکیوں سے نکال کر حیات بخش روشنی کی جانب لے جائیں ان کے رب کا اذن مل جانے پر۔ |
|
إِلَـىٰ صِرَٟطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ ١ |
اس راستے پر گامزن کر کے جو ان جناب کا متعین کردہ ہے جو دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد ہمیشہ ان کے لئے ہے۔ Root: ص ر ط |
|
ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ |
مطلق غالب فرمانروا اللہ تعالیٰ ہیں۔وہ جناب ہی ہیں ۔۔۔جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔ |
|
وَوَيْلٚ لِّلْـكَـٟفِرِينَ مِنْ عَذَابٛ شَدِيدٍ ٢ |
اور خود مذمتی،ملال اور حیف ان لوگوں کا شدید عذاب ملنے پر معمول ہو گا جنہوں نےرسول کریم اور قرءان مجیدکو ماننے سے مرتے دم تک انکار کیا۔ Root: و ى ل |
|
ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَـى ٱلۡءَاخِـرَةِ |
یہ کافر وہ لوگ ہیں جو حیات دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہوئے اس کی محبت میں مگن رہتے ہیں۔ |
|
وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَـهَا عِوَجًاۚ |
اورلوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے پلٹانا چاہتے ہیں اس طرح سے کہ اس(راہ)کوناہموار اورکج ثابت کرنے کی جستجو اورتگ و دو کرتے رہتے ہیں ۔ Root: ع و ج |
|
أُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ضَلَٟل |
یہ ہیں وہ لوگ جو دانستہ حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے راہ ضلالت میں کہیں دور نکل گئے ہیں۔ |
|
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٛ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ
لِيُبَيِّـنَ لَـهُـمْ |
اس تاریخی حقیقت سے بھی مطلع رہو؛ ہم جناب نے کسی ایک
رسول کو بھی مبعوث نہیں فرمایا مگر اس حال میں کہ
وہ اپنی قوم کی زبان میں پیغام دینے والے
تھے اور ان کی قوم کی زبان میں
تحریر کردہ کتاب کو ساتھ نازل فرمایا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ(رسول)ان (قوم
کے)لوگوں کے فہم و ادراک اور پیروی کے لئے ہر بات اور
اصول کو نکھار کر توضیح فرما دے(محذوف عنصر دیکھیں التوبہ۔115)۔ Root: ل س ن |
|
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـَٔايَـٟتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ |
تاریخ کے ایک اور دور کو جان لو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ کے لئے اپنی ایسی شہادتوں/مظاہر(آیات/معجزات )کے ساتھ بھیجا تھا، جوتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک تھیں۔یہ حکم دے کر؛"آپ اپنی قوم کے لوگوں کو تارکیوں سے نکال کر حیات بخش روشنی کی جانب لے جائیں۔ |
|
وَذَكِّرْهُـم بِأَيَّىٰـمِ ٱللَّهِۚ |
اور انہیں ان دنوں کی حالت یاد کرنے کا کہیں جب ہر وقت اللہ تعالیٰ کوپکارتے رہتے تھے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّـكُلِّ صَبَّارٛ شَكُورٛ ٥ |
یقینا ان معلومات اور تاریخی حقائق کے بیان میں ہر ایک ایسے شخص کے لئے سبق آموز اشارے ہیں جواپنے ایمان پر پیکر عزم و استقلال رہتے ہوئے ناگفتہ بہ کو ضبط و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے۔ |
|
وَإِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِ |
تاریخ سے آگاہ رہو؛اس دور کی جب موسیٰ (علیہ)السلام نے اپنی قوم کے لئے فرمان جاری کیا: |
|
ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُـمْ |
"اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جس کو انہوں نے تمہیں اس حال میں بطور انعام عنایت کی تھی ۔ |
|
إِذْ أَنجَىٰكُـم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُـمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ |
جب ان جناب نے تمہیں آلِ فرعون کے مقتدر طبقے سے نجات دلا دی تھی۔وہ لوگ تمہیں برے عذاب میں مبتلا کئے رکھتے تھے۔ Root: س و م |
|
وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ |
وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالنے کی جستجو میں رہتے، اور تمہاری عورتوں کو خاص مقصد کے زیر خواہش زندہ رہنے دیتے۔ |
|
وَفِـى ذَٟلـِكُـم بَلَآءٚ مِّن رَّبَّكُـمْ عَظِيـمٚ ٦ |
ایک کڑی آزمائش اس کرب عظیم میں تمہارے لئے بھی مخفی تھی جو تمہارے رب کی اجازت سے تھی۔ |
|
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُـمْ لَئِن شَكَرْتُـمْ لأَزِيدَنَّكُـمْ |
|
|
وَلَئِن كَفَـرْتُـمْ إِنَّ عَذَابِـى لَشَدِيدٚ ٧ |
مگر اگر تم لوگوں نے کفران نعمت کیا تو اس حقیقت کو یاد رکھنا کہ یقیناً میرا منتخب کیا ہوا عذاب سخت گیر ہوتا ہے"۔ |
|
وَقَالَ مُوسَـىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُـمْ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا |
اور موسیٰ (علیہ السلام)نے انتباہ کیا اگر تم لوگ کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہو، تم اور جو کوئ زمین پر موجود ہے،مجموعی انداز میں؛ |
|
فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَـمِيدٌ ٨ |
تو اس حقیقت سے آگاہ رہو کہ یقینا اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ و بالاتر ہیں؛ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے"۔ |
|
أَلَمْ يَأْتِكُـمْ نَبَؤُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلـِكُـمْ قَوْمِ نُوحٛ
وَعَادٛ وَثَمُودَ |
کیا تم لوگوں تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم لوگوں سے قبل آباد و شادمان تھے،وہ نوح(علیہ السلام)کی قوم،اور قوم عاد اور قوم ثمود؛ |
|
وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِـمْ |
اور وہ قومیں جنہوں نے ان بیان کردہ اقوام کے بعد عروج پایا۔اِن کو اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی اور نہیں جانتا۔ |
|
جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَـهُـمْ فِـىٓ أَفْوَٟهِهِـمْ |
ان کے پاس ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے اللہ تعالیٰ کے رسول ان (قوم)کے پاس ان کے لئےمافوق التصور و تجربہ،انہونے صریحاً واضح مظاہر قدرت(معجزات) کے ساتھ آئے تھے ۔جس پراس کی اثر پذیری کو زائل کرنے کے لئے انہوں نے اپنی قوت و صلاحیت کو واپس اپنی اصل افواہ/منہ سے گھڑی باتوں میں پلٹا دیا۔ |
|
وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَـرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ |
اورانہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"ہم نے قطعاً اس کورد کر دیا ہے جس کے ساتھ آپ لوگ بھیجے گئے ہونے کا کہہ رہے ہو۔ |
|
وَإِنَّا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ ٩ |
اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ لوگ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔(سورۃ ابرراہیم علیہ السلام۔9) |
|
قَالَتْ رُسُلُـهُـمْ أَفِـى ٱللَّهِ شَكّٚ |
ان کے رسولوں نے پوچھا"کیا تم لوگ شک /گومگومیں مبتلا ہو اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے،صفات اوران کے حکم کے متعلق؛ Root: ش ك ك |
|
فَاطِرِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
وہ جناب آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے ہیں۔ Root: ف ط ر |
|
يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَـكُـم مِّن ذُنُوبِكُـمْ |
وہ جناب تمہیں بلا رہے ہیں تاکہ تم لوگوں کی خاطر تمہارے بعض جرائم کی پردہ پوشی کر کے معاف کر دیں۔ Root: ذ ن ب |
|
وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَـمّٙـى |
اور وہ جناب تمہیں اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک مہلت دے دیں"۔ |
|
قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا |
انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے جواب دیا"تم لوگ ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔ |
|
تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا |
تم لوگ محض یہ چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے منحرف کر دو جو ہمارے آباؤ اجداد پوجتے رہے ہیں۔ |
|
فَأْتُونَا بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ١٠ |
چونکہ جو بات تم کہہ رہے ہو ہم نے اپنے باپ دادا سے نہیں سنی،اس لئے ہمارے پاس ناقابل تردید واضح سند و ثبوت کے ساتھ آؤ"۔ Root: س ل ط |
|
قَالَتْ لَـهُـمْ رُسُلُـهُـمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُـكُـمْ |
ان کے رسولوں نے ان کے لئے جواب دیا"یہ سچ ہے کہ جامہ بشریت میں ہم تم لوگوں ہی جیسے ہیں۔ |
|
وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَـىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ |
مگر اللہ تعالیٰ اس پر احسان کرتے ہیں جسے اپنے بندوں میں سے اس کے لئے پسند فرماتے ہیں۔ Root: م ن ن |
|
وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُـم
بِسُلْطَٟنٍٛ إِلَّا بِإِذْنِ
ٱللَّهِ |
اورجو سند و ثبوت تم مانگ رہے ہواسے لانے اور دکھانے کی ہمیں اس وقت تک اجازت نہیں دی گئی جب تک اللہ تعالیٰ کا اذن مل جائے۔ Root: س ل ط |
|
وَعلَـى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١١ |
اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے حامی و ناصر ہیں مومنوں کو ازخود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے"۔ |
|
وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَـى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَاۚ |
اور ہمارے لئے کیا جواز ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بہترین نتائج کے لئے بھروسہ اور اعتماد نہ رکھیں ان حالات میں جب ان جناب نے ہمارے طرز عمل کے راستوں کے متعلق ہدایت سے بہرا مند فرما دیا ہے۔ |
|
وَلَنَصْبِـرَنَّ عَلَـىٰ مَآ ءَاذَيْتُـمُونَاۚ |
اور ہمارے عزم کو جان لو کہ ہم اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے ہر اس جسمانی اور ذہنی کوفت کو تحمل سے برداشت کریں گے جو تم لوگ ہمارے لئے اذیت پیدا کروگے۔ |
|
وَعَلَـى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ١٢ |
چونکہ تمام امور کا فیصلہ کرنا ان کی صوابدید ہے اس لئے اپنے معاملات میں دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پر بہترین نتائج کے لئےمکمل اعتماد کرنا چاہئے‘‘۔ |
|
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِرُسُلِـهِـمْ لَنُخْرِجَنَّـكُـم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِـى مِلَّتِنَاۖ |
اور ان عمائدین نے جنہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا"قسم ہے،ہم تم کو شہر بدر کر دیں گے اپنی سر زمین سے،یا تم لوگوں کو واپس ہماری ملت میں لازماً شامل ہونا ہو گا"۔ |
|
فَأَوْحَـىٰٓ إِلَيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ لَنُـهْلِـكَنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٣ |
چونکہ مہلت کا وقت قریب الاختتام تھا اس لئے ان کے رب نے انہیں یہ زبانی وعدہ دیا"ہم جناب یقیناً حقیقت کے منافی باطل طرز عمل پر بضد رہنے والوں کو نابود کر دیں گے۔ |
|
وَلَنُسْكِنَنَّـكُـمُ ٱلۡأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِـمْ |
اور ان لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم یقیناً تم لوگوں کو زمین پر خود مختار سکونت دیں گے"۔ |
|
ذَٟلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ ١٤ |
۔۔یہ وعدہ ہر اس شخص کے لئے موجب استقلال و استقامت ہے جو میرے مقام ، سزا دینے کے عزم آوری سے خوف زدہ ہوا،اور میرے انتباہ سے خوف محسوس کیا۔۔ |
|
وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍٛ عَنِيدٛ ١٥ |
اور انہوں (رسولوں)نے فتح یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔اوررسولوں سے عناد رکھنے والےتمام کے تمام جابرزمین بوس ہوئے۔ |
|
مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّـمُ |
جہنم اس کے پیچھے منتظر ہے۔ |
|
وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٛ صَدِيدٛ ١٦ |
اورابلتے پانی سے اس کی پیاس کو بجھایا جائے گا۔ Root: س ق ى |
|
يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ |
اس کو وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پینے کی کوشش کرے گا مگر اسے گلے سے اتارنے کے قریب نہ ہو گا۔ |
|
وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٛ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٛ |
اور اس کے پاس موت ہر جانب سے منڈلا رہی ہو گی مگر وہ مرے گا نہیں۔ |
|
وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٚ ١٧ |
اورکٹھور عذاب مسلسل اس کے پیچھے لگا رہے گا۔ |
|
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِرَبِّـهِـمْ |
ان لوگوں کے انجام کی مثال جنہوں نے اپنے رب کے موجود ہونے کا انکار کر دیا ہے: |
|
أَعْمَٟلُـهُـمْ
كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلـرِّيحُ فِـى
يَوْمٍ عَاصِفٛ |
ان کے بظاہر اچھے اعمال کی مثال اس راکھ کےمانند ہے جس پر ہوا متشدد ہو جاتی ہے ایک ایسے دن کی آندھی میں جس میں بگولا(عاصف۔اسم فاعل مذکر؛گھما دینے والا ، طغیانی کا دائرہ بنا دینے والا)موجود ہے۔ |
|
لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَـىٰ شَـىْءٛ |
وہ اس پر قطعی کوئی اختیار اور قدرت نہیں رکھتے کہ اسے بکھرنے سے بچا سکیں جو انہوں نے کمایا تھا۔ |
|
ذَٟلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٟلُ ٱلْبَعِيدُ ١٨ |
یہ ہے جو در حقیقت انحراف اور کج روی کی منتہا پر پہنچنا ہے۔ |
|
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحقِّ |
کیا آپ (ﷺ) نے اس ظاہری حقیقت پر غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔ Root: خ ل ق |
|
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٛ جَدِيدٛ ١٩ |
اور اگر وہ جناب فیصلہ اور ارادہ فرما لیں تو وہ تم لوگوں کومنظر سے ہٹا دیں اورایک باعظمت مقتدرمخلوق کو منظر عام پر لے آئیں۔ Root: خ ل ق |
|
وَمَا ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ بِعَزِيزٛ ٢٠ |
یاد رہے،اس تجویز اور امکان کوغالب کرنا کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار و قدرت سے بالا تر نہیں ہے۔ |
|
وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَـمِيعٙا |
حیات نو دئیے جانے کے دن کو یاد رکھو جب وہ سامنے نکل آئیں گے، اجتماعی طور پر ،اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے۔ |
|
فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٟٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَـكُـمْ تَبَعٙا |
جوں ہی انہیں ،جو دنیاوی اور ذہنی و فکری طور پرکمزور و ناتواں تھے ،عذاب کے نہ ٹلنے کا یقین ہو گیا توان سے کہا جوخود ساختہ زعم میں اپنی عظمت و بڑائی کو منوانے پر مُصر رہے تھے؛"یہ حقیقت ہے کہ ہم تم لوگوں کے لئے حیات دنیا میں تابع فرمان رہے ہیں۔ |
|
فَهَلْ أَنتُـم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ |
چونکہ آپ لوگوں کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں اس لئے بتاؤ کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ عذاب میں سے کچھ بھی ہم سے دور کر سکتے ہو؟ " |
|
قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَـهَدَيْنَٟكُـمْ |
انہوں (مختَرِ ع ،نئی راہ دکھانے والے مستکبرین)نے جواب دیا"اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں ہدایت سے بہرا مند کیا ہوتا تو یقیناً ہم تم لوگوں کو راہ ہدایت پر ڈال دیتے۔ |
|
سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَـرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٛ ٢١ |
ایک جیسا ماحول ہم پر طاری رہنا ہے چاہے ہم ہمت و حوصلہ ہار جائیں یا چاہے ہم اب حوصلے سے برداشت کریں؛ہمارے لئے قطعی کوئی مقام نہیں کہ یہاں سے نکل سکیں"۔ |
|
وَقَالَ ٱلشَّيْطَٟنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلۡأَمْـرُ |
اور جوں ہی معاملے کا فیصلہ کر دیا گیا تو شیطان رجیم نے (ان سے جنہیں زمین پر چھوڑ دیا گیا تھا)کہا: |
|
إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُـمْ
فَأَخْلَفْتُكُـمْ |
"یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا،مبنی بر حقیقت وعدہ۔اور میں نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا ،یوں میں نے تم لوگوں کو اس کی جگہ اپنے وعدے میں مگن کر دیا۔ |
|
وَمَا كَانَ لِـىَ عَلَيْكُـم مِّن سُلْطَٟنٛ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُـمْ
فَٱسْتَجَبْتُـمْ لِـى |
اورقطعاً کسی بھی طرح تم لوگوں پر مختارہونے کی سند کبھی میرے لئے موجود تھی؛ مجھے جو اجازت تھی وہ تم لوگوں کو دعوت دیناتھا جو میں نے تم لوگوں کو دی جس پر تم لوگوں نے اپنی خواہش اورمرضی سے اس کا مثبت جواب دیا۔ Root: س ل ط |
|
فَلَا تَلُومُونِـى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُـم |
چونکہ ایسا تم لوگوں نے اپنی خواہش اور مقصد سے کیا تھا اس لئے تم لوگوں کو چاہئیے کہ مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ Root: ل و م |
|
مَّآ أَنَا۟ بِمُصْرِخِكُـمْ وَمَآ أَنتُـم بِمُصْرِخِـىَّ |
نہ میں تم لوگوں کااس مشکل صورتحال اور آہ و زاری میں کبھی دست گیر بن سکوں گا اور نہ تم لوگ کبھی میری آہ وزاری میں میرے دست گیر بن سکو گے۔ Root: ص ر خ |
|
إِ نِّى كَفَـرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُـمُونِ مِن قَبْلُ |
میں نےبرملا اس کا انکار کیا ہے جس بارے تم لوگ مجھے دنیا کے زمان میں شراکت دار گردانتے تھے۔ |
|
إِنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢٢ |
یہ حقیقت ہے ان لوگوں کے متعلق جو حقیقت کوباطل سے بدلتے ہیں۔۔ایک دردناک عذاب اُن کیلئے مقدر بن چکا ہے"۔ |
|
وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(رسول کریم اور قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے؛ انہیں داخل کیا جائے گا: |
|
جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَا |
ایسے باغات میں جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔یہ لوگ ان(باغات)میں ہمیشہ رہائش پذیررہیں گے۔ |
|
بِإِذْنِ رَبِّـهِـمْ |
ان کے رب کی جانب سے پیشگی اجازت دئیے جانے پر۔ |
|
تَحِيَّتُـهُـمْ فِيـهَا سَلَٟمٌ ٢٣ |
ان میں رہتے ہوئے باہمی ملاقاتوں پرایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور خیر سگالی کا اظہار کریں گے۔ |
|
أَ لَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٙا كَلِمَةٙ طَيِّبَةٙ |
کیا آپ(ﷺ)نے غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ایک خوشگوار اورمنفعت بخش حقیقت پر مبنی بول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے(حوالہ التوبہ۔40)۔ |
|
كَشَجَرةٛ طَيِّبَةٍ أَصْلُـهَا ثَابِتٚ وَفَرْعُهَا فِـى ٱلسَّمَآءِ ٢٤ |
ایسا مقولہ اس ثمر بار درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط سہارے کا کام کرتا ہے اور اس کے تنے کی اٹھان آسمان میں بلند ہے۔ |
|
تُؤْتِـىٓ أُكُلَـهَا كُلَّ حِيـنِ |
وہ اپنا پھل اپنے رب کی پیشگی اجازت سےہر دور میں لے آتی ہے۔ |
|
وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمْثَالَ لِلنَّاسِ |
اور اللہ تعالیٰ مخصوص قسم کی مثالیں بیان فرماتے ہیں لوگوں کے استفادہ اور غوروفکر کرنے کے لئے۔ Root: ض ر ب |
|
لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٢٥ |
اس تقابلی جائزے سے وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ازخود اسے یاداشت میں محفوظ کر کے نصیحت لیتے رہیں ۔ |
|
وَمَثلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢٛ كَشَجَرَةٍٛ خَبِيثَةٍ |
اور بے سروپا،بے معنی،ہرزہ سرائی پر مبنی مقولہ کی مثال ایک بے ثمر درخت کی مانند ہے۔ |
|
ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلۡأَرْضِ |
زمین کے اوپر کے مقام سے اسے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ Root: ف و ق |
|
مَا لَـهَا مِن قَرَارٛ ٢٦ |
اس کے لئے کوئی جگہ نہیں جہاں اسے گاڑ کر سہارا دیا جا سکے۔ |
|
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِـى
ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ |
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو رسول کریم پر ایمان لائے ہیں دائم اور مستحکم بیان حقیقت(قرءان مجید)کے ذریعے حیات دنیا میں ثابت قدم رکھتے ہیں اور آخرت میں اس کے ساتھ ثابت قدم رہنے پر انہیں ثبات دیں گے۔ |
|
وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ |
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ،جو حقیقت کے منافی بگاڑ کے روئیے کو اپنی سرشت بنائے رکھنے پر بضد رہتے ہیں، منحرف ثابت کرتےاور گم کردہ راہ کیفیت میں رہنے دیتے ہیں۔ |
|
وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧ |
اور اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔ |
|
أَلَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرٙا |
کیا آپ(ﷺ)نے ان لوگوں کے طرز عمل اور نفسیات پر غور کیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ نعمت(آیات قرءان)کو انکار اور ناشکری میں بدل دیا ہے۔ |
|
وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُـمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ ٢٨ |
اور انہوں نے اپنی قوم کے لئے تباہی اور بربادی کے مقام کو کھول دیا۔ |
|
جَهَنَّـمَ يَصْلَوْنَـهَاۖ |
وہ مقام جہنم ہے،اس میں داخل ہو کر جھلستے رہیں گے۔ Root: ص ل ى |
|
وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ٢٩ |
اور کیا ہے برا مقام ہے وہ ہمیشہ رہائش پذیر رہنے کے لئے۔ Root: ق ر ر |
|
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادٙا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ |
اور انہوں نے دوسروں کو کسی حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ہمسر؍نظیر؍مثل؍مدمقابل قرار دیا تاکہ لوگوں کو ان جناب کے مقرر کردہ راستے اور طرز عمل سے منحرف اور گم کردہ راہ کر دیں۔ Root: ن د د |
|
قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيـرَكُمْ إِلَـى ٱلنَّارِ ٣٠ |
آپ(ﷺ)ان عمائدین کو ارشاد فرما دیں"تم اپنے آپ کو فیض یاب کر لو کیونکہ آخر کار تمہارے جائے رہائش کا راستہ جہنم کی جانب ہے۔ Root: ص ى ر |
|
قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ |
آپ(ﷺ)میرے ان بندوں کے لئے فرمان جاری کریں جو قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں: |
|
يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ |
وہ استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہیں ۔ |
|
وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ |
اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے دوسروں کی فلاح و بہوبود پروہ خرچ کرتےرہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے] |
|
سِرّٙا وَعَلانِيَةٙ |
خرچ کا انداز تنہائی میں چھپا کراور بر سرعام ۔ |
|
مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِـىَ يَوْمٚ |
اس سے قبل کہ وہ دن آن پہنچے۔ |
|
لَّا بَيْعٚ فِيهِ وَلَا خِلَٟلٌ ٣١ |
مستقبل میں ادائیگی کی بنیاد پر کیا جانے والا کاروبار اس دن کے دوران نہیں ہو سکے گا۔اور نہ دوستانہ مراسم کام آئیں گے۔ Root: خ ل ل |
|
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ |
اللہ تعالیٰ وہ جناب ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا ہے۔ |
|
وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ |
اوران جناب نے آسمان سے پانی کو (متعین مقدار ۱۸:۲۳)آسمان سے یکبارگی نازل فرمایا تھا۔ |
|
فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَـرَٟتِ رِزْقٙا لَّـكُـمْ |
بعد ازاں ان جناب نے اُس(پانی) کے استعمال سے مختلف انواع کے ثمرات کوخارج کیاجوتمہارے لئے حیات کو برقرار رکھنے کے لئے رزق /متاع زیست ہے۔ |
|
وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْـرِىَ فِـى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ |
اور ان جناب نے اصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے کشتی کو زیر تسلط کر دیا تاکہ دریا اور سمندر میں ان کے طے کردہ نظام کے مطابق چلے۔ Root: ف ل ك |
|
وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلۡأَنْـهَٟرَ ٣٢ |
اور ان جناب نے اصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے نہروں کومسخر کر دیا۔ |
|
وَسَخَّر لَـكُـمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ دَآئِبَيـنِ |
اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے نظام کائنات کو سمجھنا اور مستفید ہونا آسان کر دیا ہے۔دونوں کی کیفیت یہ ہے کہ مسلسل اپنے مدار میں تیرتے ہوئے گردش کرتے رہتے ہیں۔ |
|
وَسَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلَّيلَ وَٱلنَّـهَارَ ٣٣ |
اور ان جناب نے رات اور دن کواصول و ضوابط اور تقدیر کے پیمانوں میں محدود کر کے تم لوگوں کے لئے معمولات حیات انجام دینا آسان کر دیا ہے۔ |
|
وَءَاتَىٰكُـم مِّن كُلِّ مَا سَأَ لْتُـمُوهُۚ |
اور ان جناب نے اس تمام میں سے تمہیں عنایت کر دیا ہے جس کے لئے تم ان سے سوال کر سکتے تھے۔ |
|
وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآۗ |
غور کرو؛اللہ تعالیٰ کی زندگی میں سہولتیں اور فرحت بخش عنایات کو اگر تم لوگ شمار کرنا شروع کرو تو تم ان کا احاطہ نہیں کر پاؤ گے۔ |
|
إِنَّ ٱلْإنْسَٟنَ لَظَلُومٚ كَفَّارٚ ٣٤ |
یہ عمومی حقیقت ہے کہ انسان سیاہ کار ہے،حقیقتوں سے صرف نظر اور انہیں اوجھل کرنے کا شوقین ہے۔ |
|
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٟهِيـمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَـٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنٙا |
تاریخ سے آشنا ہو جائیں جب ابراہیم (علیہ السلام) نے التجا کی۔”میرے رب!اس قصبے (وادی کعبہ)کو امن اور امان دینے والا قرار دیں۔ |
|
وَٱجْنُبْنِى وَبَنِـىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلۡأَصْنَامَ ٣٥ |
اور آپ جناب مجھے اور میرے بیٹوں/پوتوں کومورتیوں کی پرستش سے اجتناب کی عادت اپنائے رکھنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔ |
|
رَبِّ إِنَّـهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلنَّاسِ |
میرے رب!یہ حقیقت ہے کہ انہوں(مورتیوں) نے لوگوں کی کثیر تعداد کو بندگی میں توحید کے عنصر سے منحرف کر دیا ہے۔ |
|
فَمَن تَبِــعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّـى |
اس لئے جس کسی نے دل کی شاد اور خلوص سے میری اتباع کی تو یقیناً اس کا شمار میری ملت میں ہے۔ |
|
وَمَنْ عَصَانِـى |
|
|
فَإِنَّكَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٣٦ |
(اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے)یہ حقیقت ہے کہ آپ اکثر و بیشتر درگزر کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں،آپ منبع رحمت ہیں۔ |
|
رَّبَّنَآ إِنِّـىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِـى بِوَادٍٛ غَيْـرِ ذِى زَرْعٍٛ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ |
اے ہمارے رب!میں نے اپنی اولاد میں سے ایک کوآپ کے تحریم والے گھر کے جوار میں وادی میں رہائش پذیر کر دیا ہے(آپ جانتے ہیں)اس وادی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زراعت کی صلاحیت نہیں۔ |
|
رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ |
ہمارے رب!ذریت میں سے ایک کو یہاں آباد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ نظام صلوٰۃ کو رائج رکھیں۔ |
|
فَٱجْعَلْ أَفْــِٔـدَةٙ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَـهْوِىٓ إِلَيْـهِـمْ |
اس لئے آپ جناب لوگوں میں سے قلوب کو ایسا کر دیں کہ وہ ان کی جانب مائل رہنے کے خواہشمندرہا کریں ،اپنی روایات سے خالی کر کے۔ Root: ف ء د |
|
وَٱرْزُقْهُـم مِّنَ ٱلثَّمَـرَٟتِ لَعَلَّـهُـمْ يَشْكُـرُونَ ٣٧ |
اورآپ جناب انہیں پھلوں میں سے رزق دستیاب فرماتے رہیں تاکہ وہ شکر گزار رہیں۔ |
|
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِـى وَمَا نُعْلِنُۗ |
ہمارے رب!یقینا!آپ کلی طور جانتے ہیں وہ جوہم دوسروں سے خفیہ رکھتے ہیں اور وہ جسے ہم علی اعلان کہتے اور کرتے ہیں"۔ Root: ع ل ن |
|
وَمَا يَخْفَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛ فَـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا فِـى ٱلسَّمَآءِ ٣٨ |
اور یہ حقیقت ہے کہ نہ زمین میں موجود کوئی شئے ہے اور نہ آسمان میں جو اللہ تعالیٰ سے مخفی رہ سکے۔ |
|
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِـى عَلَـى ٱلْـكِبَـرِ
إِسْـمَٟعِيلَ وَإِسْحَٟقَ |
اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد ہمیشہ سے مختص ہے۔ان جناب نے میرے لئے رحمت کا اظہار کرتے اسماعیل اور اسحاق بڑھاپے میں مجھےدئیے۔ Root: و ھ ب |
|
إِنَّ رَبِّـى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٩ |
یہ حقیقت کہ میرے رب دعا کو ضرور سنتے ہیں‘‘۔ |
|
رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيـمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَتِى |
انہوں نے دعا کرتے ہوئے مزید کہا’’میرے رب!آپ جناب مجھے نظام صلوٰۃ کو قائم کرنے والا قرار دیں۔اور میری نسل میں سے بھی ایک کواس نظام کوترویج دینے والا مقرر فرمائیں۔ |
|
رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ٤٠ |
ہمارے رب(اسماعیل علیہ السلام شریک دعا تھے)اور آپ میری دعا کو شرف قبولیت عنایت فرمائیں۔ |
|
رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِـى وَلِوَٟلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِيـنَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ ٤١ |
ہمارے رب!آپ میرے لئے اورمیرے والدین(ابو۔چچا آزرشامل نہیں)اور صدق دل سے ایمان لانے والوں کے مغفرت کا فرمان جاری فرمائیں جس دن احتساب ہونا ہے‘‘ |
|
وَلَا تَحْسَبَـنَّ ٱللَّهَ
غَٟفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٟلِمُونَ |
اے انسان، اللہ تعالیٰ کے متعلق آئندہ بھی تجھے یہ خیال نہ آئے کہ وہ حقیقت کے منفی سرشت رکھنے والوں کے ان اعمال سے لاتعلق ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں۔ Root: غ ف ل |
|
إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُـمْ لِيَوْمٛ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبْصَٟرُ ٤٢ |
حقیقت فقط یہ ہے کہ وہ جناب ان کو تعزیری شکنجے میں لانے کو اس دن کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس کے دوران بصارتیں پتھرا جائیں گی۔ Root: ش خ ص |
|
مُهْطِعِيـنَ مُقْنِعِـى رُءُوسِهِـمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْـهِـمْ
طَرْفُهُـمْ |
ان کا حال یہ ہوگا کہ نگاہیں جمائے عاجزی اور خوف سے ان کے روبرو ہونے کے لئےلپکے جا رہے ہوں گے ،جوش و خروش سے اپنے سروں کو مختلف سمتوں سے آتے ہوئےایک جانب مرکوز رکھتے ہوئے۔ان کی پلکیں اپنی جانب نہیں جھپک رہی ہوں گی۔(ان کا رخ کس جانب ہے مطالعہ کریں۔المعارج۔36۔38) |
|
وَأَفْــِٔـدَتُـهُـمْ هَوَآءٚ ٤٣ |
اور ان کے ذہنوں کی حالت یہ ہوگی جیسے باقی ہر بات سے خالی ہوں۔ |
|
وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيـهِـمُ ٱلْعَذَابُ |
اور آپ(ﷺ)لوگوں کو اس دن کے لئے انتباہ کر دیں جب ان کوعذاب پہنچ جائے گا۔ |
|
فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ
قَرِيبٛ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِــعِ ٱلرُّسُلَ |
چونکہ تمام ایک اجتماع میں ہوں گے اس لئے حیات دنیا کے زمان کے وہ تمام لوگ جوحقیقت کے منافی باطل عقائد اور طرز عمل پر کاربند رہے تھے،کہیں گے،"ہمارے رب،ہمیں سزا دینے کو کچھ مدت کے لئے مؤخر کر دیں۔آپ کی دعوت کا ہم مثبت جواب دیں گے اور رسولوں کی اتباع میں عمل پیرا ہوں گے"۔ Root: ء ج ل |
|
أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُـم مِّن قَبْلُ مَا لَـكُـم مِّن زَوَالٛ ٤٤ |
ان سے پوچھا جائے گا"کیا تم لوگ قبل کے زمان میں قسمیں اٹھا کر نہیں کہتے تھے کہ قطعی کسی قسم کے زوال کا تم لوگوں کے لئے امکان نہیں ہے۔ Root: ق س م |
|
وَسَكَنتُـمْ فِـى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ |
اور تم لوگ ان ہی کے مساکن میں آباد رہے تھے جنہوں نے حقیقت کے منافی باطل فکر و عمل کا اپنا کر اپنے آپ پر ظلم کیا تھا۔ |
|
وَتَبَيَّـنَ لَـكُـمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِـهِـمْ |
اور تم لوگوں کے لئے حیات دنیا میں واضح کر دیا گیا تھا کہ ہم جناب نے ان کے ساتھ نئے انداز میں کیا سلوک کیا تھا۔
|
|
وَضَرَبْنَا لَـكُـمُ ٱلۡأَمْثَالَ ٤٥ |
اور ہم جناب نے تم لوگوں کے سبق اور نصیحت لینے کے لئے مثالوں سے انجام کو اجاگر کر دیا تھا"۔ |
|
وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُـمْ |
جان لو؛یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے رسولوں کے خلاف اپنی تیار کردہ سازشوں اور فریب کاریوں کو بروئے کار لائے تھے۔ Root: م ك ر |
|
وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُـمْ |
مگر ان کی سازشوں اور فریب کاریوں کا جواب اللہ تعالیٰ کی بہترین تدبیر سے زائل کرنا تھا۔ Root: م ك ر |
|
وَإِن كَانَ مَكْرُهُـمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ ٤٦ |
اور ان کے سازشی منصوبہ میں قطعاً ایسی کوئی جان نہ تھی کہ پہاڑوں کا سلسلہ اکھڑ جاتے۔ |
|
فَلَا تَحْسَبَـنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ |
چونکہ آخرت کے مناظر بھی تمہیں دکھا دئیے ہیں اس لئے آئندہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ اندازہ نہ لگانا کہ اپنے اس وعدہ کے خلاف کچھ کریں جو انہوں نے اپنے رسولوں کے ذریعے دیا تھا۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٚ ذُو ٱنتِقَامٛ ٤٧ |
خبردار رہو،اللہ تعالیٰ مطلق العنان حکمران ہیں۔وہ جرم کی پاداش میں سزا دینے کا مطلق اختیار رکھتے ہیں۔ |
|
يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرْضُ غَيْـرَ ٱلۡأَرْضِ وَٱلسَّمَٟوَٟتُ |
یہ اس دن ہو گا جب کرہ ارض کو اس کے علاوہ زمین سے بدل دیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی۔ |
|
وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٟحِدِ الْقَهَّارِ ٤٨ |
حیات نو دئیے جانے کے دن کو یاد رکھو جب وہ سامنے نکل آئیں گے، اجتماعی طور پر ،اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے، وہ جناب قوت و غلبہ کے واحد مالک ہیں۔ |
|
وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِيـنَ يَوْمَئِذٛ مُّقَرَّنِيـنَ فِـى ٱلۡأَصْفَادِ ٤٩ |
اور اس دن جب حیات نوپانے پر لوگ قبروں سے نکل چکے ہوں گے، آپ(ﷺ)مجرمین کو اس حال میں دیکھیں گے کہ زنجیروں میں اکھٹے جکڑے ہوئے ہیں۔ Root: ق ر ن |
|
سَرَابِيلُـهُـم مِّن قَطِرَانٛ |
اور ان کا پہناوا رال سے لئے مواد سے بنا ہو گا۔ |
|
وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُـمُ ٱلنَّارُ ٥٠ |
اور آگ/تپش ان کے چہروں پر چھا رہی ہو گی۔ Root: غ ش ى |
|
لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٛ مَّا كَسَبَتْ |
یہ انتظامات اس لئے کئے گئے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص کو اس کے مطابق عوضانہ دیں جو اس نے حیات دنیا میں کمایا تھا۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٥١ |
متنبہ رہو، اللہ تعالیٰ حساب کتاب انتہائی سرعت سے کرتے ہیں ۔ Root: س ر ع |
|
هَـٰذَا بَلَٟغٚ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ |
یہ(قرءان مجید)لوگوں کے مطالعہ کے لئے تحریر میں پہنچا دینے کے لئے ہے اور اس لئے کہ زمان و مکان میں اس کے ذریعے سے وہ متنبہ ہوتے رہیں۔(الانعام۔19دیکھیں) |
|
وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٚ وَٟحِدٚ |
اور اس لئے کہ وہ جان لیں کہ صرف وہ جناب ہیں جو معبود مطلق ہیں۔ |
|
وَلِيَذَّكَّرَ أُوْلُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ ٥٢ |
اور تحریر میں پہنچا دینے کا مقصدیہ ہےکہ صاحبان دانش و بینائی قلب جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں ازخود اس سے نصیحت لے سکیں اور دوسروں سے تذکرہ کریں۔ Root: ل ب ب |
![]()