سورۃ البقرۃ ۔آیت۔1

مؤلف: مظہر انوار نورانی

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ 


الٓـمٓ ١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تشریح

سورۃ آلِ عمران، العنکبوت،الروم، لقما ن اور سورۃ السجدہ کی پہلی آیت بھی اِن تین حروف اور نشان پر مشتمل ہے۔

الرَّحمٰن ذو الجلال والاکرام ،طالب ہدایت کی پکار سن کر ان  حروف سے اپنے خطاب کا آغاز فرما رہے ہیں۔

عمومی رواج ان حروف کو"حروف مقطعات"کہتے ہیں  جس کا مفہوم یہ ہے کہ قطع کئے ہوئے  حروف ہیں۔مگر ابجد کے حروف تو پہلے ہی سے ایک دوسرے سے منقطع ہوتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے یکجا کرنا کتابت ہے۔قرءان مجید میں  ترجمہ اور مفہوم کے لئےتواتر،تسلسل،ترکیب یکجائی ویسے ہی ہے جیسے انسانی جینوم(human genome)میں میسنجر (رسول)آر، این۔ اے (messenger RNA)میں ہے۔ اس میں تمام خطے(regions)کسی خاص امینو ایسڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ایسے مقام کو"ناقابل ترجمہ خطہ"(Un-translated region) کہتے ہیں۔عربی زبان کے حروف [Letters and consonants]حرکات زیر، زبر،پیش یعنی حروف علت۔vowelکے ساتھ مل کر بامعنی صوت اور الفاظ تشکیل دیتے ہیں جو ایک متعین تصور اور معنی و مفہوم کا اظہار کرتے ہیں۔محض حروف قابل ترجمہ نہیں ہوتے۔میسنجر (رسول)آراین اۓے کی طرح پہلی قابل ترجمہ و مفہوم سورۃ کے بعد ایک خطہ ناقابل ترجمہ ہے اور خطاب کو شروع کرنے کا بارعب انداز محسوس ہوتا ہے۔

اس طرح کے ناقابل ترجمہ انتیس خطے ہیں جو عربی ابجد کے حروف کی تعداد کے برابر ہیں۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا کلام تیس خطوں(regions)پر مشتمل ہے۔ عربی کے حروف  تہج   اُنتیس(29)ہیں  جن میں سے "الف"عربی الفاظ کے ماخذ "جذور"یعنی لسانی بیجوں(Roots/seed)کا کبھی  جزو نہیں ہوتا۔انتیس  میں سے چودہ حروف ابجد کو ان مقامات پر استعمال کیا ہے اور ایک حرف  اپنی دونوں شکلوں "ه"اور "ـهـ"(حوالہ سورۃ مریم۔۱ اور طہ۔۱)میں استعمال ہوا ہے ۔  انیس سورتوں میں یہ حروف  بیس مکمل آیت ہیں اور دس میں آیت کا ابتدائی حصہ ہیں۔

اول آیت اس نکتے کی عکاس ہے کہ عربی کی خطاطی کا  انداز لاطینی زبان سے مستعار لئے  انگلش لفظ "کرسو"(cursive)جیسا ہے جس کے بنیادی معنی"بھاگنا/دوڑنا"ہیں۔اس انداز کتابت میں حروف ایک دوسرے کے اندر"دوڑتے"چلے جاتے ہیں اور ہاتھ پورے صفحہ پر چلتا ہے اور لفظ مکمل ہونے سے قبل کاتب ہاتھ اوپر نہیں اٹھاتا۔اس طرح ایک حرف دوسرے حرف سے جوڑ،ٹانک،پرو دیا جاتا ہے جو کتابت اور کتاب کے ماخذ"ک ت ب"میں سمویا بنیادی تصور ہے۔عربی کے زیادہ تر حروف اپنے ملحقہ لفظ سے پیوست ہوتے ہیں۔عربی اسلوب میں  حروف کی شکل/تشکیل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ ما قبل یا مابعد حرف سے الصاق کرے گا۔ابجد کے یہ سات حروف "الف، ہمزہ،د،ذ،ر،ز اور و"اپنے مابعد حرف سے الصاق نہیں کرتے ۔اس طرح حروف کی تشکیل /تصویر(glyph)کا انحصار اس کے مقام پر ہے؛ ابتدائی، درمیانی،اور حتمی یا الگ تھلگ۔ اس طرح  الفاظ  کے انقطاع کے مقام پر مابعد حرف ابتدائی یا الگ تھلگ تشکیل میں ہو گا۔ اس انداز تشکیل کی وجہ سے جملے میں الفاظ کے چناؤ اور ترتیب کا کمال ہی  کسی  متن کو"ترتیل"(ماخذ ر ت ل)کی خوبصورتی سے مزین کر سکتا ہے کہ   دیکھنے میں بھی ہموار،ترتیب سے صف/برابر ایک خط پر (aligned)پر ہو بلکہ پڑھنے میں زبان   کے لئے نفاست،سہولت،نظم اور روانی ہو۔

وَرَتَّلْنَٟهُ تَرْتِيلٙا .

اورہم  جناب نے اسے حسن ترتیب اور حسن نظم سے ٹھہر ٹھہر کر آپ کوسنایا  اور اس(آپ ﷺ کی زبان  میں مدون قرءان)کوحسن ترتیب  و نظم سے مدون کیا ہے،ایسا متناسب انداز تدوین جس سے ادائیگی میں نفاست اور روانی ہو۔(حوالہ الفرقان۔۳۲)

قرءانِ مجید عربی مبین میں نازل فرمایا گیا اور سب جانتے ہیں کہ اِس کے اول مخاطب وہ لوگ تھے جو فصاحت و بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اِس اندازِ تخاطب میں اگر کوئی غیر معمولی بات ہوتی تو اہل عرب اور خاص کرایسے معترضین اِس بارے سوال ضرور اٹھاتے جو اعتراض برائے اعتراض سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ ایسا کوئی سوا ل یا اعتراض نہیں اٹھایا گیا جبکہ اٹھائے گئے ایسے اعتراض کا بھی جواب دیا گیا جو معترضین کے احمقانہ طرزِ عمل  کا غماز تھا،جیسے فصاحت و بلاغت اور رعنائیوں کے کمال کو چھونے والے عربی زبان کے کلام کے متعلق کسی عقل کے اندھے کا یہ کہنا کہ انہیں (ﷺ)ایک شخص سکھاتا ہے جب کہ وہ ایک عجمی تھا(حوالہ سورۃ النحل۔۱۰۳)

کسی بھی زبان میں تحریر کی ہوئی کتاب کو پڑھنے پر عبور حاصل کرنے کیلئے بنیاد، اُس زبان کے حروف تہجی (alphabet)میں پنہاں صوت/آواز کی شناخت اور ادائیگی کو جاننا اور اُن کے متشکل ہونے کے اندازکو دیکھناہے۔اور اگلا مرحلہ اِن حروف کی صوت کومجتمع کرکے ایک نئی صوت کو وجود دینے،اور جوڑکر ایک نئی شکل میں متشکل کر نا الفاظ کو جنم دیتا ہے جو ایک متعین تصور
(perception)کے حامل ہوتے ہیں۔اور اِن الفاظ سے کلمات،جملے بنتے ہیں جن سے علم، نظریات، خیالات، جذبات، احساسات، سوچ، معلومات، خبر، حدیث اور تصورات ایک ذہن سے دوسرے ذہن کو منتقل کئے جاتے ہیں۔اِن کلمات،جملوں سے کتاب مرتب ہوتی ہے۔

غیر مسلموں کیلئے قرء انِ مجید کی یہ اول آیت مبارکہ نشاندہی کرتی ہے کہ اِس کی تحریر کا انداز ”متصلۃ۔مخطوطۃ“ یعنی Cursive ہےجس کے الفاظ میں حروف کی اکثریت ایک دوسرے سے متصل/جڑے/سلے انداز میں ہے۔اِس لئے اُن کی بظاہر شکل کا انحصار لفظ میں اُن کے موجودگی کے مقام پر ہے،ابتداء،درمیان اور آخر۔تاہم   حروف،الف/ ہمزہ،د،ذ،ر،ز، اور واو تنہا یا لفظ کے آخر میں ہوتے ہیں جس کے سبب اپنے سے بعد والے حرف پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اگلے لفظ کی ابتدا میں ہو یا تنہا ہو۔

قرء انِ مجید کا ہر ایک انداز منفرد ہے۔اول آیت مبارکہ کا محض ایک بے صوت حرف، اور دو صوتی اور ایک دوسرے سے متصل،بمعہ آواز کو طوالت دینے کے نشان نے اظہار کر دیا کہ عربی زبان کی تحریر کا انداز حروف کے باہم گتھے ہونے،اور باہم متصل ہونے کے باوجود صوتی وقفے پر مشتمل ، اور یہ کہ الفاظ کے مابین فاصلے کا ہے۔اِس انداز تحریر کے برعکس اِس کے زمانہ نزول میں اکثر زبانوں کی تحریرکا انداز زبان کے حروف کو الگ الگ بغیر باہمی فاصلے کے لکھنے کا رواج تھا۔اِس تسلسل سے لکھنے کے انداز کو "Scriptio continua" سے موسوم کیا جاتا ہے۔

قرء انِ مجید میں تسلسل،ربط اور ترتیب باکمال اورحقائق کے مطابق ہے۔اول آیت مبارکہ کے تین حروف میں سے کسی ایک پر بھی حرکت یعنی Vowel نہیں ہے جس نے ظاہر کر دیا کہ اِس میں عربی کے لفظ ”
ءَايَةُٚ“کے معنی اور مفہوم کے اظہار کے علاوہ صوتی /لفظی پیغام [Verbal message] نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِس بات کی دعوت اور چیلنج نہیں دیا گیا کہ قرءانِ مجید کی آیت جیسی آیت کہیں سے لے آؤ ؛ بلکہ سورۃ اور حدیث کے الفاط استعمال ہوئے جن میں لفظی پیغام ہوتا ہے۔

اول آیت مبارکہ نے زبان اور تحریر کے متعلق اول نکتے کی جانب رہنمائی کی ہے کہ حروف تہجی اور حرکات/Vowel ایک دوسرے سے متمیزمعاملہ ہے۔
الفاظ کی صوت کوہمارے جسم میں موجود ایک خودکار نظام پیدا کرتا ہے جو ہمارے منہ میں بالکل اُس طرح مجتمع ہو جاتی ہے جیسے پرندے اپنے منہ میں نوزائیدہ بچوں کیلئے خوراک اکٹھی کر کے لاتے ہیں اور پھر بتدریج توڑ توڑ کر بچے کے منہ میں منتقل کر دیتے ہیں ،ہم بھی بالکل اِس انداز میں منہ میں مجتمع صوت کا زبان کے ذریعے حرکات /(Vowel)دے کر بتدریج یکے بعد دیگرے ایک ایک Syllable یعنی لفظ کے اجزاء/مقطع لفظی کو اپنے منہ سے باہر ”پھینک“ دیتے ہیں اس قدر آواز کے ساتھ کہ سننے والے کے کانوں تک پہنچ پائے۔کمال یہ ہے کہ عربی زبان کے جس مادہ ”ل۔ ف۔ ظ“ سے مصدر ”لفظ“ بنا ہے اس میں یہی تصور ہے جو اس حقیقت کا غماز ہے کہ عربی زبان کے الفاظ باطن میں پنہاں مادی حقیقت کو بھی سموئے ہوتے ہیں۔یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ زبان اور ہونٹوں سے ادا کردہ/باہر”پھینک“ دیا لفظ واپس نہیں ہوسکتا،اِس لئے کچھ کہنے سے پہلے محتاط انداز میں سوچ لینا چاہئے۔قرء انِ مجید نے بھی اِس حقیقت کو اِس مادہ کے صرف ایک مرتبہ استعمال( آیت ۸۱ سورۃ قؔ )سے عیاں فرمایا ہے۔

ذہن سے سینے کی معرفت ایک تصور کو دوسروں تک منتقل کرنے کی خواہش پر خودکار نظام حرکت میں آتا ہے جسے ماہرین نے قریب زمانے میں (Vocal Cord) ”آواز پیدا کرنے والی رسی“ کے نام سے متعارف کرایا ہے۔قرء انِ مجید نے اِس نظام کی خوبصورت تصویر کشی کیلئے عربی زبان میں اول مرتبہ ایک تشبیہ،مرکب اضافی ”حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ“متعارف کیا تھا، ”تصور، خیال،قول کو دوسرے مقام تک پہنچانے والی رسی“ ۔
حرکات/
(Vowels) کے مابین سماعت /(auditory faculty) کیلئے تمیز کا انحصار، آواز پیدا کرنے کی جگہ کی وسعت پر ہے جو گلے کے ایک مقام سے ہونٹوں تک ہے جسے زبان کم یا زیادہ کرتی ہے۔

قر
ءانِ مجید نے لفظی پیغام سے عاری محض حروف پر مبنی اول آیت مبارکہ میں،لفظ آیت کے معنی اور مفہوم کے مطابق،جن حقیقتوں کی جانب اشارہ دیاہے اُن کی نفاستوں اور باریکیوں کو کھول کر بیان کرنے پر مجھے عبور نہیں۔یہ اُن ماہرین اور ڈاکٹروں کے زیبا ہے جنہیں آواز (sound, voice)، ارتعاش (vibration) اور بولنے (speech) کے متعلق تحقیقی علم حاصل ہے۔ایک بات طے ہے کہ تصور اور لفظ لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کیلئے وہ مانند”زوج“ہیں، جیسے کائنات کی ہر شئے زوج میں تخلیق کی گئی ہے۔اور یہ بات حتمی ہے کہ تصور کومنتقل کرنے کیلئے لفظ میں ڈھالنا پڑتا ہے(تصور کو تصویری اور اشاراتی شکل میں بھی دوسرے کومنتقل کیا جا سکتا ہے)۔ تصور،خیال اُس وقت لفظ کا روپ اختیار کرتا ہے جب وہ ”گھاٹ پر پہنچانے والی،آواز کی رسی“(vocal cord)میں ارتعاش پیدا کر چکا ہوتا ہے۔یہ ارتعاش انسان کے دانستہ ارادے کی بدولت پیدا نہیں ہوتا اور اِس ارتعاش کی کیفیت اور نوعیت کو وہ بدل نہیں سکتا لیکن اِس ارتعاش سے پیدا ہونے والی صوت کو اپنے ارادہ اور کاوش سے زبان اورہونٹوں کے ذریعے لفظ کا روپ دیتا ہے۔ اِس سے واضح ہوا کہ ہر تصور میں وہ قوت (energy)پنہاں ہے جس سے ارتعاش،صوت پیدا ہوتی ہے۔اِس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصور،خیال میں مخصوس صوت پنہاں ہوتی ہے۔ اِس لئے ارتعاش کو جانچنے کے ذریعے اُس تصور تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس نے اِس صوت کو وجود دیا تھا (یہ کام بھی شاید NASA والے ہی کریں گے)۔
لیکن انسان کو اِس پر عبور ہے کہ زبان اور ہونٹوں کو موڑ،پھیر
(twist) کرمنہ میں پہنچنے والے اِس خیال کی ”
حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ“ کی قدرتی طور پرپیداکردہ صوت کو زبان سے اِس طرح حرکت دے کر منہ سے باہر نکالے کہ سننے والے کو اُس خیال کے خلاف تاثر ملے۔

يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٟعِنَا وَ قُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَ ٱسْـمَعُوا۟ۗ
وَ لِلْـكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيـمٌۭ١٠٤

راعنا عربی زبان کے ذخیرہ الفاظ کا ایک جائز لفظ ہے جس کے استعمال پر قدغن لگائی گئی ہے۔آقائے نامدار ﷺ کا ادب و احترام اولین ترجیح ہے۔اِس لفظ کے استعمال سے اجتناب کی ہدایت کی وجہ یہ تھی:

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْـكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَـمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْـمَعْ غَيْـرَ مُسْمَـعٛ
وَرَٟعِنَا لَيَّـاۢ بِأَ لْسِنَتِـهِـمْ وَطَعْنٙا فِـى ٱلدِّينِۚ
 وَلَوْ أَنَّـهُـمْ قَالُوا۟ سَـمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْـمَعْ وَٱنظُرْنَا لَـكَانَ خَيْـرٙا لَّـهُـمْ وَأَقْوَمَ وَلَٟكِـن لَّعَنَـهُـمُ ٱللَّهُ بِكُـفْرِهِـمْ
فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلٙا 
٤٦

(تمہارے دشمن کون ہیں؟)وہ لوگ جو یہودیت اختیار کرنے والوں میں صاحبان علم کی شناخت رکھتے ہیں۔وہ ایک مخصوص بات کو اس کے سیاق و سباق،ان مقامات کے حوالے سے جہاں اس کا (قرء ان مجید میں)ذکر ہوا ہے،دوسری/الگ جانب پلٹاتے رہتے ہیں۔اور وہ کہتے ہیں"ہم نے قرءان مجید سن لیا ہے۔مگر ہم نے اسے تسلیم نہیں کیا"۔اور کہتے ہیں"آپ توجہ سے سنیں؛ اس شخص سے مختلف انداز میں جس نے کچھ سنا ہی نہ ہو"۔
 اور وہ[یہودیوں میں سے بعض ]رَٟعِنَا کے تلفظ کواپنی زبانوں کے ساتھ بگاڑ کر ادا کرتے ہیں۔ان کے تحریف کرنے کی غایت اور مدعا اللہ تعالیٰ کے  متعین کردہ آئین اور ضابطہ حیات میں طنزیہ انداز میں عیب گیری کرنا ہے۔
جان لو؛ اگر انہوں نے دعوت ایمان کے جواب میں کہا ہوتا"ہم نے توجہ سے قرءان مجید کو سن لیا ہے۔اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا ہے۔اور کہا ہوتا"آپ(ﷺ)ہماری بات سنیں اور ہمیں  نظر عنایت  کریں "تو یقیناً یہ ان کے لئے بہت بہتر اور پائیدارراست طرز عمل ہوتا۔مگر وہ سمجھتے نہیں کہ درحقیقت ا للہ تعالیٰ نے ان کے  رسول کریم اور قرءان مجید کے بالواسطہ انکارپر بضد رہنے پرانہیں مسترد اورپھٹکار زدہ کر دیا ہے۔
چونکہ دائمی نجات اور جنت  کا حصول تمام رسولوں پر ایمان لانے سے مشروط ہے  اِس لئے    جس  ایمان  کا وہ  دعویٰ کرتے رہے ہیں    اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ وجودی طور پر ہمیشہ سے  غیر اہم ،برائے نام ہے ۔(النساء۔٤٦)

 لَيَّـا۔ اس کا مادہ ”ل ۔و۔ ی“ہے اور ابن فارس نے کہا کہ اِس کے بنیادی معنی کسی چیز کو موڑ دینے کے ہیں۔رسی کو بٹا اور دوہرا کر دیا۔قرءانِ مجید میں اِس مادہ سے بننے والے الفاظ پانچ مرتبہ آئے ہیں اوراِس کے سلیس معنی بھی بتا دئیے:

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَـكُـمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُـمْ۟
وَرَأَيْتَـهُـمْ يَصُدُّونَ وَهُـم مُّسْتَكْبِـرُونَ ٥

آقائے نامدار ﷺسے کلام ا للہ سنتے وقت یہودیوں میں سے بعض لوگ اپنی زبانوں کو مروڑ کراِس لفظ کو ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے کسرہ (زیر) کی حرکت کی صوت کو طوالت ملنے سے بعض سننے والوں کو اصل لفظ کے تصور کی بجائے کم مائیگی کا حامل تصور پہنچ سکتاتھا۔
عربی زبان میں سوائے اِس کے الفاظ کو جنم دینے والے مادوں کے، جو ایک خاص ترتیب سے مرتب تین (چند چار)صوتی حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، تنہا حروف کے کوئی معنی اور مفہوم نہیں ہوتے۔اِن میں کوئی لفظی پیغام نہیں ہوتا اگرچہ ہر حرف اپنے آپ میں آیت کے معنی اور مفہوم کا حامل ہے کیونکہ ایک خاص شکل
/ہیئت رکھتا اور جگہ کو گھیرتا ہے۔عربی زبان  کی اِس قدر بنیادی حقیقت کو جاننے کے باوجوداگر پُراسراریت کے شوق اور جنون میں سیدھے سادے حروف تہجی "
الٓـمٓ"میں بھی ہم نے کوئی معنی اور مفہوم تلاش کرنا ہی ہیں تو کیوں نہ الف سے مراد ا للہ تعالیٰ کی مکرم ترین ذات لی جائے۔اور عربی زبان کے حرف ”ل“کے معنی استحقاق،کسی کیلئے کسی کا مخصوص ہونا لئے جائیں اور حرف ”م“ کو آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کے اسم مبارک ”محمد“ﷺ کا مخفف مان لیا جائے تو اِس کا مفہوم یہ بنتا ہے ”اللہ تعالیٰ کیلئے مختص ہیں محمد ﷺ“۔
قرء انِ مجید کے مطالعہ میں آگے بڑحیں گے تواللہ تعالیٰ کے فرمان کی تعمیل میں اُن ﷺ کی ذات کا یہ راز بھی دکھائی دے جائے گا:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِـى وَنُسُكِـى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِـى   لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦٢

آپ (ﷺ)ودنیا کو بتادیں ’’یہ حقیقت ہے کہ میری صلوٰۃ،اور میرے اعمال، اورمیری حیات اور میری طبعی موت،ازل سے اللہ تعالیٰ کیلئے مخصوص ومختص کی گئی ہے جو تمام موجودات کے رب ہیں۔“(الانعام۔١٦٢)

’میرا جینااور میرا مرنا“انسان کے وجودپذیر ہونے سے منتہا تک کاہر ایک ایک لمحہ ہے۔یہ آپ ﷺ کے وجود مبارک کی مکمل تاریخ، بائیوگرافی ہے جسے ایک جملے میں انتہائی جامعیت سے سمویا گیا ہے۔
آپ ﷺ کا جب لوگوں کیلئے ظہور ہوا تو آپ کو اسم مبارک ”محمّد“ ﷺ دیا گیا جس کے معنی ایک ایسی ہستی ہیں جومسلسل و پیہم حمد و ستائش، دنیا بھر کی تعریف اور ستائش کے شایان ہیں اور جن کی تعریف کے تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیا جاتا۔ اور ظہور سے قبل آپ کو عیسیٰ علیہ السلام نے ”احمد“کے نام سے دنیا میں متعارف کر دیا تھا۔آپ ﷺ مادی دنیا میں ظہور سے قبل  ہی نامدار تھے،اس لئے میں آپ جناب کے لئے آقائے نامدار لکھتا ہوں۔”احمد“کے معنی ہیں ”حمد بیان کرنے والا“ یعنی ”ا للہ تعالیٰ کیلئے ہیں محمد ﷺ“ ۔ رب العالمین کا جو ”احمد“تعریف و توصیف بیان کرنے والا ہے،وہ تمام عالمین کیلئے رحمت العالمین، تعریف و ستائش کئے جانے کے لائق ہمارے آقا ہیں،آقائے نامدار،رسول کریم،رحمت للعالمین پر درود و سلام ہے ہر لمحہ بغیر انقطاع کے۔

اللہ تعالیٰ کے باقی اٹھائیس خطابات  بھی  منقطع حروف ابجد سے شروع ہوتے ہیں۔ان تمام مقامات پر اللہ تعالیٰ  خطاب فرما رہے ہیں  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ  اس کے فوراً بعد  زیادہ  مقامات پر ابتدا میں کتاب کا حوالہ ہے۔

الٓـمٓ .١

ٱللَّهُ لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَـىُّ ٱلْقَيُّومُ ٢

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں  نام دے کرمعبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔وہ (اللہ تعالیٰ) کامل حیات ہیں،اوروہ تمام نظام کو سنبھالنے اورقائم رکھنے والے مقتدر اعلیٰ ؛ دائم، قائم بالذات،بلا مبالغہ ہمیشہ سے اور ہمیشہ موجود رہنے والے ہیں۔(آلِ عمران۔۲)


الٓـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْـرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا

کیا لوگوں نے یہ حساب لگا لیا ہے کہ انہیں  آزمائش  سےمتروک کر دیا جائے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں’’ہم ایمان لے آئے ہیں‘‘

وَهُـمْ لَا يُفْتَنُونَ .٢

اور انہیں کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے مرحلے سے نہیں گزارا جائے  گاجیسے کھٹالی میں دھات کو کیا جاتا ہے۔(العنکبوت۔٢)


الٓـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

غُلِبَتِ ٱلرُّومُ .٢

(تازہ خبر سنو)سلطنت روم شکست کھا گئی ہے۔(الروم۔٢)


الٓـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْحَكِيـمِ .٢

یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔(لقمان۔٢)


الٓـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ

منفرد کتاب کا بتدریج/سلسلہ وار انداز میں نزول/لوگوں کو پہنچایا جانا۔

 لَا رَيْبَ فِيهِ 

اس تحریری کلام میں منفرد بات/حال یہ ہے کہ اس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

مِن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .٢

(نزول/لوگوں کو پہنچایا جانا)آسان فہم تدوین میں موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں/ہر ایک وجود پذیر کے رب کی جانب سے ہے۔(السجدہ۔٢)


الٓمٓصٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم اور ص  ۔لام ، میم اور ص کو یکجا کر کے اُن تینوں پر مدّا [طوالت]کا نشان

كِتَٟبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ

یہ وہ کتاب ہے جسے آسان فہم ترتیب و تدوین میں آپ(ﷺ)کی جانب بھیجا گیا ہے۔

فَلَا يَكُنْ فِـى صَدْرِكَ حَرَجٚ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ

چونکہ آپ(ﷺ)نے اس کے ذریعے لوگوں کوکفر و نافرمانیوں کے نتائج و عواقب سے پیشگی خبردار اور متنبہ فرمانا ہے اس لئے اس میں بیان کردہ آپ کے مزاج اور نفسیات کی رو سےسخت جملے آپ کے سینے کے لئے گھٹن کا باعث نہیں بننا چاہئے(کیونکہ ابلاغ تو آپ کی ذمہ داری ہے)۔

وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِيـنَ .٢

اور آپ (ﷺ) پر صدق دل سے ایمان لانے والوں کے لئے  ہر موقع محل کے لئے نصیحت ، یاددہانی ،نوشتہ تاریخ کو مجتمع انداز میں پہنچا دیا گیا ہے(سورۃ ھودؐ۔۱۲۰کے ساتھ پڑھیں)۔(الاعراف۔۲)


الٓرۚ

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْحَكِيـمِ .١

یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔(یونسؐ۔١)


الٓرۚ

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر

كِتَٟبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٟتُهُۥ

  یہ کتاب جو آپ کے زیر مطالعہ ہے اس کا وصف یہ ہے کہ اس  میں درج انفرادی بیانات(آیات) مستحکم،ناقابل تردید،پائیدار فرمان کی حیثیت کی حامل بنا دی گئی ہیں۔

ثُـمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيـمٛ خَبِيـرٛ .١

بعد ازاں وقفے وقفے سے ان آیات کی ترسیل کے انہیں ان جناب کے حکم سے جدا جدا موضوعات کے فریم/فصل میں  اس کتاب میں مدون   کر دیا گیا ہے جو مطلق فرمانروا ہیں اور مطلق باخبر ہیں۔(ھودؐ۔١)


الٓرۚ

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ .١

اے رسولِ  کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب)کےمندرجات( آیات )ہیں،جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (سورۃیوسفؐ۔۲)


الٓرۚ

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔

كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ إِلَيْكَ

اس کتاب(قرءان عظیم)کے متعلق  حقیقت یہ ہے؛ ہم جناب نے مجتمع انداز میں  آپ (ﷺ) کی جانب اس کو نازل فرمایاہے؛

لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّـهِـمْ

اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)زمان و مکان کے لوگوں کو تارکیوں سے نکال کر حیات بخش روشنی کی جانب لے جائیں ان کے رب کا اذن مل جانے پر۔

إِلَـىٰ صِرَٟطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ .١

اس راستے پر گامزن کر کے جو    ان جناب کا متعین کردہ ہے جو دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔(سورۃ ابراہیمؐ۔١)


الٓرۚ

عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ

 یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کی مندرجات/جزئیات( آیات )ہیں۔

وَقُرْءَانٛ مُّبِيـنٛ .١

اور یہ  ایک مدون اور تالیف کردہ متن کی( آیات)باعث ادراک و فہم جزئیات  ہیں جس کا وصف یہ ہے  کہ ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (الحجر۔١)


الٓمٓرۚ

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان،اور حرف ر۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِۗ

اے رسولِ کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کےمندرجات( آیات )ہیں۔

وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ

اور وہ جسے آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں پہنچایا گیا ہے بیان حقیقت ہے۔

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ .١

مگر ناقابل تردید بیان حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کے آپ کے رب کی جانب سے تصنیف و تدوین ہونا نہیں مانتے۔(الرعد۔١)


كٓهيعٓصٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] ک اور مدّا؛ ـهـ؛ ی ؛ع بمعہ مدّا؛ اور ص  بمعہ   مدّا [طوالت]کا نشان۔

ذِكْرُ رَحْـمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُۥ زَكَرِيَّآ .٢

یہ آپ (ﷺ) کے رب کی اس نوازش کر ذکر ہے  جس سے  انہوں نے اپنےمختص بندے زکریا(علیہ السلام) کو نوازا تھا۔(سورۃ مریم۔٢)


طه .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] یکجا کر کے "ط" اور "ہ"۔

مَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لِتَشْقَىٰٓ .٢

اے رسول کریم ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو مجتمع مدون انداز میں قرءان مجید اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ آپ مشقت و جاں فشانی میں پڑیں۔(سورۃ طہ۔٢)


طسٓمٓ .١

عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ اور "میم" بمع آواز کی طوالت کانشان۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ .٢

اے رسولِ کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کےمندرجات( آیات )ہیں،جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (الشعراء۔٢)


طسٓمٓ .١

عربی زبان کے حروف ابجد، باہمدگر "ط"، "س بمع مدا"اور "م بمع مدا"۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ .٢

اے رسولِ کریم!یہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کے مندرجات  (آیات)ہیں؛اس کتاب کا وصف  یہ ہے کہ اس کا بیان ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت کو منکشف کر دینے والاہے۔(القصص۔٢)  


طسٓۚ

عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ بمع آواز کی طوالت کانشان۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْقُرْءَانِ

یہ  زیر بیان القرء ان کی( آیات)باعث ادراک و فہم جزئیات  ہیں۔

وَكِتَابٛ مُّبِيـنٛ .١

اور یہ  ایک کتاب  کی( آیات)باعث ادراک و فہم جزئیات  ہیں جس کا وصف یہ ہے  کہ ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (النمل۔١)


يس .١

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد]  ی اور سین  کو یکجا کر کے اُسں پر مدّا [طوالت]کا نشان۔

وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيـمِ .٢

اور  بدیہی حقیقت  کو بیان کرنے کے لئے قسم ہے قرءان کی،جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔(سورۃ  یسٓ۔٢)

إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .٣

مقصود طشت از بام کرنا ہےکہ یقیناً آپ(ﷺ)بلاشبہ  تمام انسانوں کے لئے عالمگیر رسول ہیں ان میں  سے منفردجنہیں مختلف زمان اور اقوام میں  بحثیت  رسول بھیجا گیا تھا۔(سورۃ  یسٓ۔٣)


صٓۚ

عربی زبان کے حرف ابجد ’’ص۔طوالت کے نشان کے ساتھ۔اس کی عددی طاقت 90 ہے جو اعداد کی  مکمل رینج صفر سے نو کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔

وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ .١

 بات کو  بغور اورتاکید سے  سننے کے لئے قرءان مجید کی قسم سے بیان کرتے ہیں جو ازل سے ابد کی تاریخ کا حامل  بیان ہے۔(سورۃ صٓ۔١)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ 

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا وقفے وقفے سےاتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

 مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيـمِ .٢

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(غافر۔٢)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلٚ مِّنَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ .٢

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب( ٱلْقُرْءَان )کا بتدریج اتارنا  الرّحمٰن ذو الجلال والاکرام کی  جانب سے،جو منبع رحمت ہیں،آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔(فصلت۔٢)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

عٓسٓقٓ .٢

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ع‘‘اور ’’س‘‘اور "ق" بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

كَذَٟلِكَ يُوحِـىٓ إِلَيْكَ وَإِلَـى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ .٣

اور  اس  ابجد پر مشتمل  انداز بیان میں  اللہ تعالیٰ  آپ(ﷺ)کی جانب    اپنا کلام وحی  کر رہے ہیں  اور اسی ابجد والی زبان  میں ان کی جانب  وحی کیا تھا جنہیں آپ (ﷺ)سے قبل  رسول مبعوث فرمایا تھا؛وہ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الشوریٰ۔٣)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ .٢

ہم قسم کے لئے اس معلوم کتاب (ام الکتاب)کا حوالہ دے رہے ہیں  جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (الزخرف۔٢)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ .٢

ہم قسم کے لئے اس منفرد کتاب(قرءان) کاحوالہ دے رہے ہیں  جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو  ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔ (الدخان۔٢)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ 

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے(حوالہ الفرقان۔32)۔

 مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ .٢

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الجاثیہ۔٢)


حـمٓ .١

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ .٢

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الاحقاف۔٢)


عربی زبان کے حرف ابجد ’’ق۔طوالت کے نشان کے ساتھ۔یہ انتیس حروف پر مشتمل ابجد کا بائیسواں حرف ہے‘‘۔

وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْمَجِيدِ .١

 بات کو  بغور اورتاکید سے  سننے کے لئے قرءان مجید کی قسم سے بیان کرتے ہیں جوابد سے ازل کی تاریخ کا حامل  بیان ہے۔(سورۃ قٓ۔١)


نٓۚ وَٱلْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ .١

عربی زبان کے حرف ابجد ’’نون۔طوالت کے نشان کے ساتھ‘‘اورقسم ہے مخصوص قلم اور اس کی جو وہ(ملائکہ)قلمبند کرتے ہیں۔

مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٛ .٢

اس انمٹ حقیقت کی مانند اٹل سچ یہ ہے کہ آپ(ﷺ)اپنے رب کی نعمت سے کبھی بھی پسماندہ ذہن،فریب خیال،ہذیان میں مبتلا نہیں رہے۔(سورۃ نٓ۔٢)