منافقین۔نادان تاجر


 اللہ تعالیٰ نے صراط مسقیم پر کاربند لوگوں  کی دعا کے جواب میں قرءانِ مجید کی پہلی  سورۃ البقرۃکی پہلی سات آیات مبارکہ میں کتاب کے  تعارف کے ساتھ ساتھ نفسیات،روش اور رویوں کے حوالے سے دو منتہاؤں پر گامزن لوگوں کا تعارف بتایا۔ایک متقین جو فلاح پانے کی جانب گامزن ہیں اور دوسرے وہ جن کیلئے انہیں ڈرایا جانا اور نہ ڈرایا جانا ایک ہی معنی اور مفہوم کا حامل ہو چکا ہے کیونکہ اُن کے قلوب اور سماعتیں متاثر ہونے کی صلاحیت سے اِس بناء پر عاری ہو چکی ہیں کہ اُن پر ’’خَتَمَ“کی کیفیت طاری ہو گئی ہے اور اُن کی بصارتوں پر پردے پڑ چکے ہیں۔ متقین وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان لانے کے قول و اقرار کو اپنے عمل (یعنی دین اسلام کی اتباع)سے سچ ثابت کیا اور یوں معاشرے میں محض تعارف کے حوالے سے نہیں بلکہ حقیقی مومن ہیں۔اورجنہوں نے دانستہ کفر پر ڈٹے رہنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے وہ اُس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں دنیا میں بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی اُن کے ”بعث“ یعنی حقیقت میں زندہ،بحال (revive)ہونے کے امکانات معدوم ہو چکے۔خطرناک عواقب و نتائج سے بے پرواہ اور بے خوف ہو جانا در حقیقت مردہ ہو جانے کا مظہر ہے۔

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَۘ

  • حقیقت یہ ہےکہ عقل و فہم پر مبنی جواب/مثبت ردعمل تو صرف وہ لوگ دیتے ہیں جو توجہ سےقرءان مجید کوسنتے ہیں۔

وَٱلْمَوْتَـىٰ يَبْعَثُـهُـمُ ٱللَّهُ

  • ۔اور جہاں تک مردوں کا تعلق ہے ان کے سننے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے؛ اللہ تعالیٰ انہیں یوم قیامت از سرنو حیات دیں گے۔

ثُـمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ .6:36٣٦

  • بعد ازاں اپنی باری پران جناب کی جانب احتساب کیلئے انہیں پیش کیاجائے گا۔(الانعام۔۳۶)

رہے وہ لوگ جو روایات کو پشت در پشت سنتے اور دہرائے جانے کی وجہ سے اُن کے اس قدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں جیسے اُن کے خون میں وہ رچ بس گئی ہوں اور اِس ذہنی و فکری جمود کی حالت میں سچائی اور حقیقت کی طرف متوجہ کئے جانے پر حقیقی طور بھی تذبذب کا شکار ہو سکتے ہیں اور فوری طور کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پاتے۔ایسے لوگ اگر دعوت کوفوراً مانتے نہیں تو فوری طور پر جھٹلاتے اور ٹھکراتے بھی نہیں۔ ایسے لوگ ہٹ دھرمی، ضد،جھوٹی انا اوربغض جیسی بیمار ی میں مبتلا نہیں ہوتے اور مفادات کی دلدل اور جھوٹے سہاروں کی پرچھائیوں میں گم نہیں ہوتے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ سوچنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے ارد گرد ہونے والی سنی سنائی باتوں پر تکیہ کئے رہتے ہیں۔وہ قابلِ علاج اوراُن کے شفایاب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ سچائی اور حقائق کو جب پھیر پھیر کر اُن کے سامنے رکھا جاتا ہے تو ایک وقت آتا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کر کے راہی منزل ہوتے ہیں:

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَۖ

  • ۔ہم جناب بخوبی جانتے ہیں ان لوگوں کی ہرزہ رسائی کے متعلق جو وہ آپ(ﷺ)کے بارے  لوگوں میں کرتے رہتے ہیں۔

وَمَآ أَنتَ عَلَيْـهِـم بِجَبَّارٛۖ

  • ۔باوجود اس حقیقت کے کہ آپ(ﷺ) کبھی بھی ان پر جبرنہیں کرتے۔

فَذَكِّرْ بِٱلْقُرْءَانِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ .5٤٥

  • ۔چونکہ ان کی ہرزہ سرائی  مہمل اوردرخور اعتنا نہیں اس لئے قرءان مجید کے مندرجات کے ذریعے آپ اس شخص کو انتباہ اور نصیحت کریں جو میری وعید سے خوف محسوس کرتا ہے (کیونکہ حقیقت میں وہی زندہ ہے)۔(سورۃ قٓ۔۴۵)

۔اور دوسرے مقام پرتذکیر کے متعلق فرمایا:

فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ .9٩

  • ۔چونکہ یہ آپ(ﷺ)کو ازبر ہے اس لئے آپ لوگوں کو نصیحت اور تاریخ سے سبق لینے کا درس دیتے رہیں۔اگر وہ علمی و فکری ارتقا نہ بھی دے،موقع محل  کے مطابق تادیب فائدہ دے دیتی ہے۔

سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ .0١٠

  • ۔اس سے وہ شخص جلد ازخود نصیحت اور سبق لے گا جو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کااحساس رکھتے ہوئے سہما سہما مرعوب              رہتا ہے،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛

وَيَتَجَنَّبُـهَا ٱلْأَشْقَى .١١

  • ۔مگر وہ شخص جو ضدی ، ہٹ دھرم ہے اپنے آپ کو اس تذکیر سےدانستہ  دور رکھے گا۔(الاعلیٰ۔۱۱)

نفسیات، عادات اور رویوں کے حوالے سے انسان ایک رنگارنگ مخلوق ہے۔ حقیقت پر ایمان لے آنے والے جب ایک معاشرے میں ڈھل جاتے ہیں تو مفادات کے بھنور میں الجھے، ضداور بغض کے مارے لوگوں میں سے خصوصاََ بزدل مسلم معاشرے میں ایک نیا روپ دھار لیتے ہیں۔ نفسیات اور رویوں کے حوالے سے بات کو جاری رکھتے ہوئے قرءانِ مجید ایسے لوگوں کا تعارف اور اُن کی کچھ عادات یوں بیان فرماتا ہے:

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ

  • خبردار رہو کہ مخصوص لوگوں [زمانہ نزول کے حوالے سے عرب میں بسنے اور ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے اہل یہود/آج کے دور :میں منافقین۔فاسقین جو اپنے میثاق سے منحرف ہو کرجھوٹے مدعیان نبوت اور رسالت کے پیروکار ہیں] میں وہ بھی ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں۔

ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ

  • "ہم اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان لے آئے ہیں۔"

وَمَا هُـم بِمُؤْمِنِيـنَ .2:08٨

  • (مگر در حقیقت وہ مومن قطعاً نہیں ہیں۔(البقرۃ: ۸

منافقین کے متعلق معلومات دینے والی آیت ۸ کی ابتدا کے الفاظ وَمِنَ ٱلنَّاسِ ”اورلوگوں میں سے“کے متعلق اہم سوال یہ ہے کہ آیت مبارکہ کے نزول کے وقت یہ منافقین کن لوگوں میں سے تھے؟ مدینہ منورہ میں اُس وقت بسنے والے شناخت،پہچان اور تعارف کے حوالے سے تین طرح کے لوگ تھے یعنی اول مہاجر(بنی اسماعیل کے افراد)جومکہ کے اُن لوگوں پر مشتمل تھے جو ایمان لانے کے تیرہ سال بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے۔اور دوم انصار جو ایمان لے آئے تھے اورجنہوں نے دعوت دے کر مہاجرین کو مدینہ بلایا اور سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ اورسوم اہل کتاب یعنی دو گروہ اہل یہود اور اپنے آپ کونصاریٰ کہنے والے لوگ ۔ مدینہ منورہ کے ان تین مختلف شناخت اور انفرادیت کے حامل لوگوں میں سے وہ کون تھے جن سے منافقین کا تعلق تھا؟اس سوال کا جواب البقرۃ کی  آیت ۱۳۔۱۴  میں ہے :

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ

  • اور جب اُن (ایمان کے جھوٹے دعویداروں)سے یہ کہا گیا

Recitation

ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ

  • ‘‘تم لوگ تسلیم کرو اُس طرح جیسے(یہود و نصاریٰ میں سے) دوسرے لوگوں نے تسلیم کیا ہے’’

کیا یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ مدینہ منورہ میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آنے والے اہل ایمان یا انصار میں سے کسی کو کوئی شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ ”ایسے ایمان لاؤ جیسے لوگ لائے ہیں“۔جواب یقینا نفی میں ہے۔مکہ کے لوگوں میں سے ایمان لانے والوں نے تیرہ سال بعد مدینہ منورہ ہجرت کی تھی اس لئے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ صحیح انداز میں ایمان لانے کا کوئی انہیں بھی کہہ سکتا تھا جو تمام رشتے ناطے توڑ کر اور گھر بار چھوڑ کر دیارِ غیر میں آ ن بسے تھے۔اور نہ انصار میں سے کسی کو یہ کہا جا سکتا تھا جو مکہ جا کر ایمان لائے اور جنہوں نے رسول کریم ﷺ اور ایمان والوں کو دعوت دے کر مدینہ بلایا تھا۔اللہ تعالیٰ کی اِن دو کے متعلق شہادت اور فرمان تو یہ ہے:

وَٱلسَّٟبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٟجِرِينَ وَٱلۡأَنْصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُـم بِإِحْسَٟنٛ

  • اور رسول کریم (ﷺ)اور قرءان مجید پراول اول لوگوں میں سبقت لے جانے والوں کے متعلق حقیقت جان لو جن کا شمار مکہ سے ہجرت کر کے آنے والوں اور مدینہ منورہ کے انصار اور ان لوگوں میں ہے جنہوں نے مخلصانہ اور حسن سلوک سے ان کی پیروی کی۔

Root: س ب ق

رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُۚ

  • اللہ تعالیٰ نے ان(ٱلسَّٟبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ)کی جانب سے طرز عمل کوخوشگوار اندازمیں شرف قبولیت دیا ہے،اور وہ ان جناب کی جانب سے اس پذیرائی پرشادمان ہیں۔

وَأَعَدَّ لَـهُـمْ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى تَحْتَـهَا ٱلۡأََنْـهَٟرُ

  • اور ان جناب نے ان کے استقبال اور رہائش کے لئے ایسے باغات تیار کر دئیے ہیں جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔

Root: ء ب د

 خَٟلِدِينَ فِيـهَآ أَبَدٙاۚ

  • وہ ان میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔

ذَٟلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ .9:100١٠٠

  • یہ زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔(التوبہ۔۱۰۰)

پھر وہ کون تھے جنہیں یہ بات کہی جاتی تھی؟یوں واضح ہے کہ مدینہ منورہ میں بسنے والے یہودیوں کی تقسیم کچھ اس طرح ہو گئی تھی:
(۱) اُن میں سے کچھ ایمان لے آئے تھے اور جماعتِ مومنین میں شامل ہو گئے تھے۔(اُن کی مثال دے کر منافقین کو اُن جیسا ایمان لانے کا کہا جاتا تھا)
(۲)دوسرے وہ تھے جو یہودیت پر سختی سے قائم تھے اور
(۳)تیسرے وہ تھے جو ملاقات پر مومنوں سے کہتے تھے کہ ”ہم ایمان لے آئے ہیں“ اور خلوت میں اپنے سرکردہ یہودیوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے کہتے ’ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں۔اُن کے ساتھ تو ہم ہنسی مذاق ہی کرتے ہیں“ (حوالہ البقرۃ۔۱۴)
قرآنِ مجید نے زمانہ نزول کے حوالے سے اس تیسری قسم کے یہودیوں کو منافق قرار دیا ہے۔مدینہ کے یہودیوں میں سے منافقت کا لبادہ اوڑھنے والوں کے رویئے اور طرز عمل کے متعلق بتایا کہ ملاقات پر جب ایمان والا کوئی شخص اُن کے ایمان کا دعویٰ کرنے پر کہتا کہ ”ایسے ایمان لاؤ جیسے لوگ لائے ہیں‘‘ تو ان کا جواب ہوتا تھا:

قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُۗ

  • " تو انہوں نے جواب میں کہا’’کیا ہم اُس طرح تسلیم کر لیں جس طرح جانے پہچانے بیوقوفوں نے تسلیم کیا ہے ؟

 سوال یہ ہے کہ اس مکالمے میں منافقین کا روئے سخن اور اشارہ کن لوگوں کی طرف ہے؟کیااُن بنی اسماعیل ؑسے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جولگ بھگ تیرہ سال سے ایمان پر قائم تھے اور الگ شہر، الگ قوم اور الگ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور جنہیں یہودی ایمان لانے سے قبل کے زمانے میں خود کافر قرار دیتے تھے یا وہ اپنی قوم (بنی اسرائیل)کے اُن لوگوں کو بیوقوف سمجھتے اور کہتے تھے جو دعوت ملنے پر مدینہ میں نئے نئے ایمان لائے تھے؟ عام فہم بات ہے کہ بیوقوف اپنی نظر میں اپنوں میں سے بیوقوف اُسے سمجھتے ہیں اور طنز اسی پر کرتے ہیں جو اپنے باپ دادا کی روایات سے ہٹے۔ اِس گفتگو میں تین طرح کے لوگوں کا حوالہ ہے ایک وہ جو کہتے تھے دوسرے وہ جن سے کہا جاتا تھا تیسرے وہ جن کی مثال دے کر اُن جیسا ایمان لانے کا کہا جاتا تھا جنہیں وہ جن سے کہا جاتا تھا بیوقوف کہتے تھے۔اس سے واضح ہے کہ اہل یہود میں سے ایسے اشخاص بھی تھے جو صحیح طریقے پر ایمان لے آئے تھے اور انہی کے ایمان کی مثال دے کر ایمان کے اِن جھوٹے دعویداروں کو اُن جیسا ایمان لانے کا کہا جاتا تھا۔ ہجرت سے پہلے مکہ میں منافقین کا وجود نہیں تھا اور پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں اہل یہود میں سے بعض لوگوں نے منافق کا روپ دھارا۔ دنیا میں پہلی بار یہ رسوائی بھی بنی اسرائیل کے لوگوں کے حصے میں آئی۔

ا للہ رب العزت نے فیصلہ سنایا:

أَ لَآ إِنَّـهُـمْ هُـمُ ٱلسُّفَهَآءُ

  • ،خبردار!یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت خود منفرد قسم کے بے وقوف ہیں

Root: س ف ه

وَلَـٟكِن لَّا يَعْلَمُونَ.2:13١٣

  • (لیکن یہ لوگ خود جانتے؍/جاننا چاہتے نہیں۔(البقرۃ:۔۱۳

قرآنِ مجید نے مدینہ کے یہودی نسل سے تعلق رکھنے والے منافقین کو۔ ٱلسُّفَهَآءُ۔یعنی بیوقوف/نادان کہا ہے۔
قرآنِ مجید میں پہلی مرتبہ۔
ٱلسُّفَهَآءُ۔ آیا ہے اور یہ مدینہ منورہ میں یہودیوں میں سے منافق یعنی ایمان لانے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو قرار دیا گیا ہے۔اس کا مادہ ” س ف ه“ہے جس کے معنی عقل کا ہلکا پن، نادانی،  جہالت، بیوقوفی،حماقت ہیں۔ اس سے اس میں حرکت اور اضطراب کا مفہوم بھی ہے(جو کم عقلی کی علامت بھی ہے)۔اِس سے قبل کہ کوئی یہ گمان کرے کہ یہ کہنا کہ یہودی نسل سے تعلق رکھنے والے منافقین کو۔ٱلسُّفَهَآءُ۔ یعنی بیوقوف/نادان کہا گیاہے محض میری رائے یا اخذ(infer)کرنا ہے اِس لئے واضح کر دوں کہ قرآنِ مجید نے غیر مبہم اور دو ٹوک انداز میں بھی بتایا ہوا ہے کہ یہ بات یہودی نسل کے لوگوں ہی سے متعلق ہے:

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا

  • ‘‘اور جب اِن ایمان والوں کے آمنے سامنے ہوتے ہیں جنہیں بےوقوف قرار دیتے ہیں تو اُن سے کہا:’’ہم ایمان لے آئے ہیں

وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَـىٰ شَيَٟطِينِـهِـمْ قَالُوٓا۟

  • :اور جب اپنے شیطانوں (اکابرین یہود) کے ساتھ خلوت میں ہوتے تھے تو ان سے کہا

إِنَّا مَعَكُـمْ إِنَّمَا نَـحْنُ مُسْتَـهْزِءُونَ.2:14١٤

  • (یقیناہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔اُن(مومنین) کے ساتھ تو ہم مذاق کرتے ہیں۔‘‘(البقرۃ: ۔۱۴’’

اور بنی اسرائیل(یہودیوں)کے بعض لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا

  • ‘‘اور جب اِن ایمان والوں کے آمنے سامنے ہوتے ہیں جنہیں بیوقوف قرار دیتے ہیں تو اُن سے کہا:’’ہم ایمان لے آئے ہیں

وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُـمْ إِلَـىٰ بَعْضٛ

  • اور جب اِن(جھوٹے مدعیان ایمان) میں سے بعض دوسروں کی جانب جا کر اُن کے ساتھ خلوت/تنہائی میں ہوتے ہیں

قَالُوٓا۟ أَتُحَدِّثُونَـهُـم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمْ

  •  تووہ اِن سے پوچھتے ہیں ”کیا تم اُن(ایمان والوں) پر وہ باتیں ظاہر کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں ۔

لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُـمْۚ

  •  تا کہ تم انہیں موقع دو کہ تمہارے ساتھ وہ اُس کے ساتھ بحث کریں جو تمہارے رب کی جانب سے ہے؟

أَفَلَا تَعْقِلُونَ.2:76٧٦

  •  کیا تم اِس پر تعقل نہیں کرتے؟“۔(البقرۃ۔۷۶)

خَلَا“ماضی کا صیغہ واحدمذکر غائب۔”خَلَوْا۟“ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔تنہائی،خلوت میں ہونا۔اور ا للہ تعالیٰ نے اِن بیوقوفوں یعنی منافقین کے متعلق بتایا:

أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَـرَوُا۟ ٱلضَّلَـٟلَةَ بِٱلْـهُـدَىٰ

  • یہ متذکرہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زیر مقصد راہنمائی کے بدلے گمراہی خریدی ہے۔

فَمَا رَبِحَت تِّجَٟرَتُـهُـمْ

  • نتیجے کے طوران کی اس تجارت(دونوں فریقوں سے مفاد اٹھانے کا خیال اور نظریہ) نے فائدہ نہیں دیا۔
    ( الٹا اپنے فریق کا اعتماد کھو بیٹھے اور اب انہیں یقین دلانے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کے ساتھ تو ہم مذاق کرتے ہیں )

وَمَا كَانُوا۟۟ مُهْتَدِينَ.2:16١٦

  • (اوروہ اس حالت میں رہے کہ راہ راست کو پانے کے متمنی ہی نہ تھے۔(البقرۃ۔۱۶

اِن لوگوں کے محض منہ سے ماننے /ایمان لانے کے اعلانات کے متعلق مزید بتایا:

وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ

  • مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ(یہودی منافقین)آپ(ﷺ)کو کیوں منصف بناتے ہیں ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لئے۔

وَعِنْدَهُـمُ ٱلتَّوْرَىٰةُ

  • جبکہ تورات ان کے پاس موجود ہے

فِيـهَا حُكْـمُ ٱللَّهِ

  • اللہ تعالیٰ کا حکم اس (مؤنث،تورات)میں کندہ ہےآپﷺپر ایمان لانے اور مدد کرنے کا۔

ثُـمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَۚ

  • بعد ازاں یہ جاننے کے باوجود وہ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔

وَمَآ أُو۟لَـٟٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِيـنَ .٤٣

  • اور یہ لوگ(منافقین،جھوٹے مدعیان ایمان)در حقیقت مومن قطعاً نہیں ہیں۔اور نہ درحقیقت مومنوں سے  قلبی الصاق رکھتے ہیں۔(المائدہ۔۴۳)


وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْـكُـفْرِ وَهُـمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦۚ

  • ۔اور جب وہ تم لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے کہا"ہم ایمان لے آئے ہیں"۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ رسول کریم اور قرءان مجید سے انکاری حالت میں داخل ہوئے تھے اور وہ اسی کفر کی حالت میں تم لوگوں کی محفل سے چلے گئے تھے۔

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟۟ يَكْتُـمُونَ .1٦١

  • ۔اور اللہ تعالیٰ بخوبی اس کو جانتے ہیں جو وہ چھپاتے رہے ہیں۔(المائدہ۔۶۱)

Root: ك ت م


وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعْنَا

  • ۔ اور وہ کہتے  ہیں’’ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کریم(محمّدﷺ)پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے قرءان مجید کو تسلیم کر لیا ہے‘‘۔

ثُـمَّ يَتَوَلَّـىٰ فَرِيقٚ مِّنْـهُـم مِّنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَۚ

  • ۔بعد ازاں،اقرار و اعلان کر لینے کے بعد، ان مدعیان ایمان میں سے ایک گروہ ازخود منحرف ہو کر پلٹ جاتا ہے۔

وَمَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِيـنَ .24:47٤٧

  • ۔متنبہ رہو؛یہ لوگ قطعاًمومن نہیں ہیں اور نہ درحقیقت مومنوں سے  قلبی الصاق رکھتے ہیں۔(النور۔۴۷)

۔یہ مومن بننے کا اعلان کرنے والے جو در حقیقت مومن نہیں کون لوگ ہیں؟اگر مومن نہیں تواِن کا تعارف،پہچان،نام کیا ہے؟ واضح فرمایا:

إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَٟفِقُونَ قَالُوا۟

  • جب  آپ(ﷺ) کے پاس منافقوں کا ایک ٹولہ  آیا تو انہوں نے کہا:۔

نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۚ

  • ۔’’ہم گواہی دیتے ہیں،یقیناً آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘‘

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ

  • ۔اور اللہ تعالیٰ مطلق جانتے ہیں،حقیقت یہ ہے آپ (ﷺ)ان کے رسول ہیں۔(المنافقون۔۱)

محض منہ سے ماننے کاکہنے اور جاننے کے مابین فاصلے کی طوالت اِس قدر ہے کہ ایک کنارہ منافق کہلاتا ہے اور دوسرا کنارہ متقی ہے۔

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَٟنَـهُـمْ جُنَّةٙ

  • ۔اِن منافقین نے اپنی قسموں کواسلامی معاشرےمیں بطور ڈھال/مستور رہنے کیلئے اختیار کر رکھا ہے۔

فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ

  • چونکہ ان کی اختراع کردہ باتیں دلفریب  اور آسانیاں پید کرنے والی لگتی ہیں اس لئے لوگوں کو ان جناب کے مقرر کردہ راستے سے دور کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔

إِنَّـهُـمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟۟ يَعْمَلُونَ .63:02٢

  • ۔ ان  کی یہی حقیقت ہے کیا ہی برا ہے جو عمل وہ کرتے رہتے ہیں۔

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ ءَامَنُوا۟ ثُـمَّ كَفَـرُوا۟

  • ۔ان کا سب کی نسبت برا انجام اس وجہ سے ہے کہ وہ رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے کے دعویدار بنے، بعد ازاں ذہنی و قلبی انکار کے مرتکب ہو گئے۔

فَطُبِــعَ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ

  • ۔چونکہ وہ ایک عرصہ کفر میں غرق رہے اس لئے ان کے قلوب پر ان کے اعمال کے زنگ نے ڈھانپ لگا دی ہے۔

Root: ط ب ع

فَهُـمْ لَا يَفْقَهُونَ .63:03٣

  • ۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انجام کے حوالے سے بات  کوسمجھ  نہیں سکتے۔(المنافقون۔۳)

Root: ف ق ه

اس طرح واضح کر دیا گیا کہ دو منتہاؤں،متقین اور دانستہ اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرنے پر اعلانیہ ڈٹے رہنے والوں کے مابین ایک تیسرا گروہ منافقین کا ہے جو ایمان لانے کا اعلان کرتا ہے،اپنے آپ کو مسلم معاشرے میں مومن کہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی شہادت کے مطابق یقینا وہ جھوٹے ہیں اور یقینا مومن نہیں۔یوں یہ نکتہ واضح ہو گیا کہ معاشرے میں تعارف اورپہچان کے حوالے سے کافر اور منافقین ایک دوسرے سے متمیز ہیں۔ ایسا کوئی بھی شخص جو ایمان لانے کا دعویٰ نہیں کرتا اور اعلانیہ کافر ہے اُسے منافق کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔کسی بھی ایسے شخص کو منافق نہیں کہا جا سکتاجو اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے وابستہ رہتا ہے، ملحد ہے،اللہ تعالیٰ کے سوائے دوسروں نام نہاد اِلہٰ کو ماننے والا،اپنے ہاتھوں تراشے ہوئے بتوں کو کوئی تخیلاتی نام دے کر انہیں اِلہٰ ماننے والا یعنی مشرکین میں سے ہے،اور جودین اسلام کو نہیں مانتا۔منافق کی فہرست میں صرف ایسا شخص شامل تصور ہو گا جو مسلم معاشرے میں ایمان لانے کا دعویٰ کرے۔منافقین اور انکار کرنے والے کافراور مشرکین الگ الگ شناخت،پہچان کے حامل ہیں۔

إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْـكَـٟفِرِينَ فِـى جَهَنَّـمَ جَـمِيعٙا .١٤٠

  • ۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے ایمان کے دعویداروں/منافقین اور رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کو جہنم میں جمع کر دیں گے،اجتماعی انداز میں۔(النساء۔۱۴۰)


وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتِ وَٱلْـكُـفَّارَ نَارَ جَهَنَّـمَ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۚ

  • اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اورمرتے دم تک بدستور رسول کریم(ﷺ)اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں سے جھلسا دینے والی جہنم کا وعدہ کیا ہے۔وہ اس میں ہمیشہ قیام پذیر رہیں گے۔

هِىَ حَسْبُـهُـمْۚ وَلَعَنَـهُـمُۖ

  • ۔وہ(جہنم)ان سے مناسبت رکھتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت میں مسترد، دھتکار، پھٹکار زدہ قرار دے دیا ہے۔

Root: ل ع ن

ٱللَّهُ وَلَـهُـمْ عَذَابٚ مُّقِيـمٚ .9:68٦٨

  • ۔اور برقرار رہنے والا عذاب ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔(التوبہ۔۶۸)


وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتِ وَٱلْمُشْـرِكِيـنَ وَٱلْمُشْـرِكَـٟتِ

  • ۔اور اس فتح کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ جناب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور رسول کریم کا انکار کرنے والے بت پرست مردوں اور عورتوں کو عذاب میں مبتلا کردیں۔(حوالہ الفتح۔۶)

۔منافقین صرف اُس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اپنے آپ کو مومن اور مسلمان کہنے والے لوگ بستے ہیں۔اِس لئے انگریزی زبان کا لفظ hypocrite منافق کا صحیح اور مکمل ترجمہ اور بدل نہیں ہے کیونکہhypocriteکے معنی و مفہوم پر پورا اترنے والا شخص کسی بھی معاشرے میں ہو سکتا ہے۔قیامت کے دن بھی منافقین اپنی نسبت مومنوں کے ساتھ بیان کریں گے:

يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • یہ ہے وہ دن جب منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں کی توجہ مانگتے ہوئے استدعا کریں گے جو صدق قلب سے ایمان لائے تھے۔

ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ

  • ’’آپ لوگ ہمارا انتظار کریں۔آپ کے نور سے ہم کچھ روشنی کا دائرہ دیکھ کر آپ تک پہنچ سکیں‘‘۔

Root: ق ب س

قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورٙا

  • ۔ان کو جواب دیا گیا’’تم لوگ اپنے پیچھے والے مقام پر واپس رجوع کرو۔پھر کوشش کر کے ’’روشنی‘‘کولمس  سے محسوس کر لو‘‘۔

Root: ل م س; و ر ء

فَضُرِبَ بَيْـنَـهُـم بِسُورٛ لَّهُۥ بَابُۢ

  • ۔چونکہ ان مومنین کی آسمان کے پار روانگی کا وقت ہو جائے گا اس لئے ان کے مابین ایک دوسرے کو نظروں سے اوجھل کر دینے والی رکاوٹ کو نمایاں کر دیا گیا،فقط ایک دیوار؛ایک دروازہ باہر جانے کے لئے اس میں موجود ہے۔

Root: س و ر; ض ر ب

بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْـمَةُ وَظَٟهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ .57:13١٣

  • The mercy is everywhere inside the boundary. And its exterior, all around facing boundary wall, there is the punishment. [57:13]

  • ۔اس(دروازے)کا پوشیدہ حصہ۔۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اس میں ہر سو دکھائی دے گی۔۔اور اس(دروازے)کا سامنے کا دکھائی دینے والا حصہ۔۔عذاب اس کے روبرو ہر سو موجود ہو گا۔(الحدید۔۱۳)


يُنَادُونَـهُـمْ أَ لَمْ نَكُن مَّعَكُـمْۖ

  • رخصت ہوتے وقت وہ(منافقین) انہیں (مومنین کو) دور سے اونچی آواز میں پکاریں گے’’کیا ہم لوگ تمہارے ساتھ نہیں بستے تھے‘‘۔

قَالُوا۟ بَلَـىٰ وَلَـٰكِنَّكُـمْ فَتَنتُـمْ أَنفُسَكُـمْ وَتَرَبَّصْتُـمْ وَٱرْتَبْتُـمْ

  • ۔انہوں نے جواب دیا’’یہ صحیح ہے۔لیکن حقیقت اپنی جگہ ہے کہ تم لوگوں نے خود اپنے نفوس کو ہیجان و اضطراب میں مبتلا کیا،اور تم نے اپنے آپ کو ازخود انتظار میں رکھا،اور دانستہ تم نے دوغلے پن کے تذبذب میں اپنے آپ کو مبتلا رکھا۔

Root: ر ب ص; ر ى ب

وَغـرَّتْكُـمُ ٱلۡأَمَانِـىُّ

  • ۔اور لغو،تمناؤں اور خواہشات کی تسکین کرنے والے کتاب اللہ سے ماوراء من گھڑت باتوں نے تمہیں دھوکے میں مبتلا رکھا۔

Root: م ن ى

حَتَّىٰ جَآءَ أَمْـرُ ٱللَّهِ

  • ۔تم لوگ اس روش پر اس وقت تک کاربند رہے   یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کاحکم پہنچ گیا۔

وَغَـرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَـرُورُ .4١٤

  • ۔اور منفرد دھوکے باز نے تمہیں لذت دنیا کے حصول میں مبتلا کر کے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا بھلا دیا۔(الحدید۔۱۴)

Root: غ ر ر


منافقین بھی اگرچہ مومن نہیں اور جو مرتے وقت تک منافق رہتے ہیں حالت کفر میں مرتے ہیں مگر منافق اور انکار کرنے والے کے مابین واضح تفریق مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔انجام کے حوالے سے منافقین کا ”درجہ“کافروں سے ”بلند“ ہے اِس لئے کسی ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے ایسے شخص کو معاشرتی اور قانونی طور پر”کافر“قرار دینا اِس بات کے مترادف ہے کہ ہم اُس کے ”درجہ“کو”پست“ کر رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اعلان اور وعدہ یہ ہے:

إِنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ فِـى ٱلدَّرْكِ ٱلۡأَسْفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ

  • اس حقیقت سے متنبہ رہو؛یقینا منافقین(دھوکہ دہی کے لئے ایمان کے جھوٹے دعویدار)کا آخرت میں ٹھکانہ پست ترین تہہ میں ہے،یہ دوذخ میں ان کا حال ہو گا۔

Root: د ر ك; س ف ل

وَلَن تَجِدَ لَـهُـمْ نَصِيـرٙا .5١٤٥

  • اور آپ(ﷺ)کبھی ایک کو بھی ان کی مدد کرنے پرخواہشمند نہیں پائیں گے۔(النساء۔۱۴۵)

معاشرے میں بعض لوگ قلب و دماغ کے یقین و اقرارسے مومن بنے بغیر اللہ تعالیٰ اور آخرت کو ماننے کااعلان کیوں کرتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں؟ مقصد کیا ہے؟ اسلامی معاشرے میں اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا اظہار شعوری طور اِس خیال اور گمان سے وہ کرتے ہیں :

يُخَٟدِعُونَ ٱللَّهَ

  • اِس کھوکھلے اورجھوٹ پر مبنی اقرار ایمان سے اپنے تئیں یہ لوگ ا للہ تعالیٰ کو بہلاناچاہتے ہیں۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • اور اپنے تئیں حقیقی طور پر ایمان لانے والوں کو دھوکادہی سے یقین دلانا چاہتے ہیں۔

۔يُخَٟدِعُونَ۔کا مادہ ”خ د ع“ ہے۔اس کے معنی جو کچھ دل میں ہو اُس کے خلاف ظاہر کرنا ہیں۔کسی کے ساتھ چھپ کر برائی کرنا (تاج)۔ ابن فارس نے کہا کہ اس کے بنیادی معنی چھپانے اور مخفی رکھنے کے ہیں۔ خَدُ وع اُس اونٹنی کو کہتے ہیں جو کبھی تو دودھ دے اور کبھی بالکل چڑھا جائے۔”خدع“ زندگی کی وہ روش ہے جس میں بظاہر کچھ بتایا جائے اور بباطن کچھ اورہو۔ایسا مفاد پرست جو اپنے آپ کو ایسا بنا کر دکھائے جیسا درحقیقت نہیں اور اِس طرح معاشرے کو دھوکے میں رکھے۔(معاشرے کے استحکام کیلئے ایسے لوگوں پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا)۔ یہ مفاد پرستانہ ذہنیت کا شیوہ ہوتا ہے۔یہ اتنی باریک اور فلسفیانہ بات نہیں کہ سمجھ نہ آ سکے کہ جو لوگ اس روئیے اور روش کا اظہار کرتے ہیں جو اُن کی ذات اور دل کی ترجمان نہیں ہوتی :

وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُـمْ

  • جب کہ حقیقت میں سوائے اپنے آپ کے دھوکاکسی کو نہیں دیتے۔

لیکن مفاد کے پہلو سے ہٹ کر چونکہ کبھی کسی بات کے متعلق غوروفکر نہیں کرتے اس لئے انہیں اس کا احساس (شعور)بھی نہیں ہو پاتا۔

وَمَا يَشْعُـرُونَ .9٩

  • کیونکہ وہ اپنی خواہش اور حقیقت کے مابین تفاوت کا ادراک کرنا نہیں چاہتے۔[مفادات کی سوچ کے بھنور میں سے نکلتے ہی نہیں کہ کسی دوسری بات کا پیچھا کریں](البقرۃ: ۹)

یہ کون لوگ ہیں جو اپنے تئیں اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو۔يُخَٟدِعُونَ  دھوکا دینا چاہتے ہیں؟

إِنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ يُخَٟدِعُونَ ٱللَّهَ

  • ۔جان لو منافقین/جھوٹے مدعیان ایمان کے متعلق حقیقت؛ وہ اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کو بہلانا چاہتے ہیں۔

وَهُوَ خَٟدِعُهُـمْ

  • ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب  انہیں ان کے فریب خیالوں میں مبتلا رہنے دینے کی حکمت  عملی  اختیار کرتے  ہیں۔

۔قرآنِ مجید میں صرف منافقین کے متعلق حتمی اور یقینی انداز میں خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ  اور ایمان والوں کو وہ دھوکہ دینا چاہتے ہیں جس سے واضح ہے کہ  سورۃ البقرۃ کی آیات ۸۔۲۰ میں کسی اور کے متعلق نہیں بلکہ صرف منافقین کی عادات اور روش کے بارے میں اطلاعات بہم پہنچائی گئی ہیں ۔

منافقین کے متعلق دوسری خبر/اطلاع یہ دی گئی ہے۔

فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ

  • ایک [اپنی پیدا کردہ ]نفسیاتی بیماری نے اُن کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے۔

فَزَادَهُـمُ ٱللَّهُ مَـرَضٙاۖ

  • چونکہ  یہ بیماری وہ نہیں جس میں وہ جناب  شفاء دیتے ہیں  اور بسبب انہیں دھتکار کراُن کے حال پر چھوڑ کرا للہ تعالیٰ نے اُنہیں بڑھنے دیا ہے ، حالت مرض کے حوالے سے ۔

مَّـرَضٚ“ (ماخذ ۔م ر ض)کے بنیادی معنی توازن اور اعتدال کا اس طرح بگڑ جاناہے کہ کسی قوت میں اضمحلال،ضعف یا کمی واقع ہو جائے۔”مرض کے معنی ظلمت اور تاریکی کے بھی آتے ہیں اور شک اور نفاق کے بھی“(تاج)۔ قرآنِ مجید میں چوبیس مرتبہ یہ لفظ آیا ہے جس میں بارہ مرتبہ جسمانی طور پر بیمار اور بیماری کیلئے آیا ہ اورسورۃ الشعراء کی آیت ۔۸۰ میں مرض کے مقابل شفا ء،صحت یاب استعمال ہوا ہے۔اور بارہ مرتبہ ذہن و قلب کے توازن و اعتدال سے ہٹی ہوئی نفسیاتی کیفیت کو”قلوب میں مرض“سے بیان فرمایا۔اور اس کے متعلق مزید بتایا:

  • And as for those (Muna'fi'qeen: Imposter believers) are concerned: a disease-Pathological belief-psychological disorder-envy, jealousy, and malice, bias, rancour is self implanted-nurtured within their hearts-locus of understanding-consciousness. Thereby. she (surah) has enhanced them in terms of another layer upon their psychological confusion, perplexity and disquiet

  • ۔اور جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے۔۔۔ایک [اپنی پیدا کردہ ]نفسیاتی بیماری نے اُن کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے۔۔چونکہ وہ اپنی ذات میں مگن ہے اس لئے اس (سورۃ)نے ان کی التباس و اضطراب کی کیفیت کو مہمیز دی ہے۔

  • And they died while they were in the state of deniers/disbelievers. [9:125]

  • ۔اور وہ اس کیفیت میں طبعی موت مر گئے۔وہ اس حالت میں تھے کہ مرتے دم تک ان کا شمار کافروں میں تھا۔

۔ ”رِجسًا“کامادہ ”ر ج س“ اوراس کے بنیادی معنی اختلاط اور التباس ہیں۔ گندگی، غلاظت کو بھی رجس اس لئے کہتے ہیں کہ لتھڑ اور چپک جاتی ہیشک،اضطراب،التباس،دل کی تنگی،تعصب،تنگ نگہی، ضد،ہٹ دھرمی، عقل و فکر سے کام نہ لینے پر رجس کا اضافہ ہوتا ہے:

وَمَا كَانَ لِنَفْسٛ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ

  • ۔اس لئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ ایمان لانے کا اعلان کرنا بھی کسی شخص کے لئے ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا اذن ساتھ ہو(انسان زبان سے بولتا کیسے ہے وہ مطالعہ کریں)۔

وَيَجْعَلُ ٱلـرِّجْسَ عَلَـى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ .10:100١٠٠

  • اور وہ جناب  ان کے ہٹ دھرم منحرف طرز عمل کوایسے لوگوں پر چسپاں التباس و اضطراب کی آلودگی کا درجہ   دے دیتے     ہیں جو  حقیقت اور باطل کے مابین فرق جانچنے کے لئے عقل استعمال نہیں کرتے۔(سورۃ یونسؐ۔۱۰۰)

جذبات،خواہشات،تحفظ مفادات کے غلبے سے بلند ہو کر بتائی گئی کسی بات پر غوروفکرکرنا تعقل کہلاتا ہے اور تعقل کے بغیر اُس بات کا شعور حاصل نہیں ہو سکتا کہ عربی زبان میں شعور کے معنی ہی کسی شئے کا پیچھا کرنا ہے”اورانہیں اس کا احساس (شعور) بھی نہیں ہو پاتا“۔
”قلب میں بیماری“ صرف اُس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب دل و دماغ پر دنیاوی مفادات و خواشات،معاشرے میں حاصل بلندمقام و مرتبہ کے کھونے کا خوف،محفوظ پناہ گاہ کے ختم ہو جانے سے مستقبل میں عدم تحفظ کا گمان اور موجودہ اطمینان بخش ماحول و مواقع میں تغیر و تبدل کی بجائے اُسے برقرار رکھنے (status quo)کی شدید خواہش کسی بھی ایسی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار پر راغب اور بضد رکھتی ہے جس کے متعلق ا نسان کاسوچا سمجھا تجزیہ ہو کہ یہ نئی سچائی اور حقیقت معاشرے کے موجودہ رنگ ڈھنگ اور قدروں کو بدل دے گی۔

”قلب میں بیماری“ نفسیاتی ہے اور صرف اُن لوگوں کو لاحق ہو سکتی ہے جو معاشرے میں مقتدر،صاحب حیثیت، صاحب الرائے،معاشی اور سیاسی غلبہ(vested interest) رکھنے والے اوپر کے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور اِن کے حصار میں نچلے طبقات کے ایسے لوگوں کو”متعدی بیماری“کی طرح لاحق ہو جاتی ہے جو انہیں اپنے اولیاء سمجھتے ہیں جن سے وابستہ رہ کر انہیں گروہی تحفظ اورقوت کے حامل ہونے کا احساس اور گمان ملتا ہے۔ارشاد فرمایا:

بَشِّـرِ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ بِأَنَّ لَـهُـمْ عَذَابٙا أَلِيمٙا .8١٣٨

  •  ۔آپ (ﷺ)منافقین کو بے دھڑک خوش خبری اور ضمانت دے دیں کہ ایک اندوہناک عذاب ان کی خاطر مدارت کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَۚ

  • ۔یہ منافقین وہ لوگ ہیں جو دانستہ اور زیر مقصد رسول کریم(ﷺ)کا انکار کرنے والوں کو اپنے سرپرست اور پشت پناہ کے طور اختیار کرتے ہیں ان  حقیقی معنوں  میں مومنوں کے علاوہ جن کی صحبت میں رہتے ہیں۔

أَيَبْتَغُونَ عِندَهُـمُ ٱلْعِزَّةَ

  •  کیا وہ (منافقین) ایسا اِس لئے کرتے ہیں کہ اُن کے پاس  اپنے لئےغلبہ و قوت  کی تلاش  و تمناکرتے ہیں؟

فَإِنَّ ٱلعِزَّةَ لِلَّهِ جَـمِيعٙا .١٣٩

  • ۔مگر وہ (منافقین)اس  حقیقت  کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ  بلاشبہ ا للہ تعالیٰ کیلئے تمام غلبہ و اقتدارمکمل طور پر مخصوص ہے۔(النساء۔۱۳۹)

 اس طرح واضح ہوا کہ لوگ اولیاء انہیں سمجھتے ہیں جن سے ۔ ٱلْعِزَّةَ۔ملنے کی توقع ہو اور ملنے کی خواہش،گمان میں انہیں ۔أَوْلِيَآءَ۔بناتے ہیں۔ اس کا مادہ ”ع ۔ز۔ ز“ ہے اور قوت، شدت، غلبہ، رفعت،اور حفاظت کو کہتے ہیں۔اُس حالت کو کہتے ہیں جومغلوب ہونے سے انسان کو محفوظ رکھے۔

قرآنِ مجید کا تعارف یہ بتایا گیا ہے کہ سر چشمہ ہدایت اور زمان و مکان میں ھادی/رہنمااوراختتام سلسلہ ہدایت ہے۔ا نسان تنہا نہیں،معاشرے میں مقیم ہے۔اس لئے انسان کی رہنمائی اور رہبری کا فرض احسن طریقے سے انجام دینے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کی پرکھ یہ ہے کہ اُس میں ہر ایک ا نسان کے متعلق بتایا جائے تاکہ دنیا میں ہر ا نسان اپنے ہمعصرا نسان سے محتاط رہ سکے۔قرآنِ مجید میں ہر ایک ا نسان،اول ا نسان آدم علیہ السلام کے ظہورسے لے کر آخر تک موجود ا نسان، زیر بحث لایا گیا ہے،نام لے کر یا نام لئے بغیر۔

لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُـمْ كِتَٟبٙا فِيهِ ذِكْرُكُمْۖ

  • یہ بدیہی حقیقت ہے  کہ ہم جناب نے تم لوگو ںکی جانب مجتمع انداز میں کتاب کو پہنچا دیا ہے۔اس کتاب میں خاص بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی سوانح  حیات کو اس کے مندرجات میں  قلمبند کر دیا گیاہے۔

أَفَلَا تَعْقِلُونَ .0١٠

  • کیا باوجود اپنے متعلق ذکر کو جان کر بھی عقل و فکر سے کام نہیں لو گے۔(کہ ہر لمحہ قریب تر ہونے والے احتساب سے محفوظ اور سرخرو ہونے کا سوچو جو عقل کا اصل کام ہے)۔(الانبیاء۔۱۰)

۔قرآنِ مجید کو ہر ایک ا نسان دھیان سے پڑھے تو اُسے اپنی شخصیت اورنفسیات اِس میں مذکور ملے گی۔ لوگوں کیلئے ہدایت اور رہبری کا فرض انجام دینے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کی پرکھ یہ ہے کہ تمام کے تمام ا نسانوں کی پہچان کرائے۔یہ قرآنِ مجید کا اعجاز ہے۔منافقین کی نفسیات اور روش کے متعلق بتایا:

ٱلَّذِينَ يَتَـرَبَّصُونَ بِكُـمْ فَإِن كَانَ لَـكُـمْ فَتْحٚ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَ لَمْ نَكُن مَّعَكُـمْ

  • ۔ان (منافقین)کے متعلق جان لو؛ وہ جو اپنے آپ کو جنگ میں شرکت سے روکے رکھتے ہیں اورتم پر برا وقت آنے کے منتظر ہیں(التوبہ۔98)۔جنگ کے نتیجے میں اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے فتح نصیب ہو گئی تو کہتے ہیں"کیا ہم لوگ آپ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے؟"۔

Root: ر ب ص;   ف ت ح

وَإِن كَانَ لِلْـكَـٟفِرِينَ نَصِيبٚ قَالُوٓا۟ أَ لَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُـمْ وَنَمْنَعْكُـم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَۚ

  • اور اگر جنگ کا پانسہ انکار کرنے والوں کے نصیب میں ہو گیا تو  کافروں سے کہیں گے:"کیا ہم نے آپ پر غلبہ پانے کی خواہش سے اپنے آپ کو نہیں روکا اور کیا ہم نے ایمان والوں سے آپ کی مزاحمت نہیں کی؟"۔

Root: م ن ع; ن ص ب

فَٱللَّهُ يَحْكُـمُ بَيْـنَكُـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

  • ۔چونکہ یہ تمہارے مابین ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ یوم قیامت تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے۔

وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْـكَـٟفِرِينَ عَلَـى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ سَبِيلٙا .1١٤١

  •  ۔مطمئن رہو؛ اللہ تعالیٰ مومنوں پر  دسترس حاصل کرنے کے لئےرسول کریم اور قرءان کا انکار کرنے والوں کے لئے کوئی را  ہ نہیں  دیں گے۔(النساء۔۱۴۱)

۔منافقین کی بنیادی نفسیات دوغلا پن ہے:

مُّذَبْذَبِيـنَ بَيْـنَ ذَٟلِكَ لَآ إِلَـىٰ هَٟٓـؤُلَآءِ وَلَآ إِلَـىٰ هَٟٓـؤُلَآءِۚ

  • ۔ان (منافقین)کا حال یہ ہے کہ اس دہرے پن کے تذبذب کا شکار ہیں۔درحقیقت نہ وہ اِن کی جانب مائل ہیں اور نہ اُن کی جانب۔

وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٙا .3١٤٣

  • ۔یاد رہے؛ جس کسی کو اللہ تعالیٰ منحرف اور گم کردہ راہ پر رہنے دیں تو اس کا انجام یہ ہے کہ آپ(ﷺ)اس کے اپنے دائرے سے نکلنے کے لئے کوئی راہ نہیں پا سکیں گے۔(النساء۔۱۴۳)

 ایمان والوں کو یہود و نصاریٰ کواولیاء (patron, protector, godfather   مددگار) بنانے سے منع کرنے کے بعد بتایا:

فَـتَـرَى ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ يُسَٟرِعُونَ فِيـهِـمْ

  • ۔چونکہ انہیں ایک سہارے کی طلب ہوتی ہے اس لئے آپ(ﷺ)ان لوگوں کو ان کے درمیان  راہ و رسم پانے کے لئے باہمی سرعت کا مظاہرہ کرتے دیکھتے ہیں جنہوں نے ایک نفسیاتی بیماری کو اپنے قلوب میں جاگزیں کر لیا ہے۔

Root: س ر ع

يَقُولُونَ نَخْشَـىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٚۚ

  • ۔وہ اس دہرے پن کا استدلال دیتے ہوئے کہتے ہیں"ہم اس خدشے سے سراسیمہ رہتے ہیں کہ  کہیں کوئی بھنور/گردش ِقسمت ہمیں لپیٹ میں لے"۔

فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِـىَ بِٱلْفَتْحِ أَوْ أَمْرٛ مِّنْ عِندِهِۦ

  • ۔چونکہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لئے میدان جنگ سے فتح کی خوشخبری پہنچا دیں یا ان جناب کی جانب سے معاملہ ان کے مفاد میں ہو جائے۔

Root: ع س ى;   ف ت ح

فَيُصْبِحُوا۟ عَلَـىٰ مَآ أَسَرُّوا۟ فِـىٓ أَنفُسِهِـمْ نَـٟدِمِيـنَ .٥٢

  • ۔تو یہ (منافقین)ندامت اور پچھتاوے کا اظہار کرنے لگیں گے اس پر جو انہوں نے اپنے نفوس میں چھپایا تھا۔(المائدہ۔۵۲)

Root: ن د م 

منافقین کی جماعت شروع سے آج تک اپنے مراسم بالخصوص یہودیوں سے استوار رکھتے ہیں اور اپنے جماعت خانے،ہیڈ کوارٹر کو بھی ان ہی کے ملکوں میں بناتے ہیں۔ان کے قلوب، جو کہ در حقیقت نفسیات کا مرکز ہے،میں ایک بیماری ان کی شناخت ہے۔

أَفِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٌ أَمِ ٱرْتَابُـوٓا۟ أَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْ وَرَسُولُهُۥۚ

  • ۔کیا ایک خود ساختہ نفسیاتی بیماری نے ان کے دلوں میں گھر کر رکھا؛یا الجھن و تذبذب میں مبتلا ہیں؛یا کیا انہیں اندیشہ لاحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کریم ان سے فیصلے میں تعصب اور زیادتی کریں گے۔

Root: م ر ض; ر ى ب

بَلْ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلظَّٟلِمُونَ .٥٠

  • نہیں،رسول کریم انصاف کرتے ہوئے تعصب اور زیادتی نہیں کرتے،حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہی ہیں جو حقیقت کے منافی بگاڑ اور باطل  روش پر گامزن ہیں۔(النور۔۵۰)

اور اس بیماری کے ساتھ ایک اور کمزوری بھی ان میں ہے:

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٚۖ

  • سب مطلع ہو جاؤ؛وہ (منافقین)جنہوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے،لوگوں سے تنقیدی انداز میں پوچھتے رہتے تھے"کوئی سورۃ بتدریج نازل کیوں نہیں ہوئی(جس میں جنگ کا ذکر ہو)"

فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٚ مُّحْكَـمَةٚ وَذُكِرَ فِيـهَا ٱلْقِتَالُۙ

  •  مگر جب موقع محل کی مناسبت سے ایک محکم سورۃ کو مجتمع انداز میں نازل کر دیا گیااور مسلط کردہ جنگ کے متعلق اس میں ذکر کر دیا گیا۔(حوالہ سورۃ البقرۃ)۔

رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ ٱلْمَغْشِىِّ عَلَيْـهِ مِنَ ٱلْمَوْتِۖ

  •  توآپ(ﷺ)نے دیکھا ان لوگوں (منافقین)کو،ایک اپنی پیدا کردہ نفسیاتی بیماری نے ان کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے،وہ آپ کی جانب یوں دیکھ رہے تھے اس شخص کی نظر کے انداز میں جس پر موت کی غشی چھا رہی ہو۔

Root: غ ش ى

فَأَوْلَـىٰ لَـهُـمْ .47:20٢٠

  • حکم کے پیش نظر  رسول کریم کے زیادہ قریب ہونے کا ان کے لئے بہتر طرز عمل  یہ تھا:

ان منافقین کو پہچاننا اتنا پیچیدہ اور مشکل کام نہیں ہے۔آپ ان سے متعارف ہو سکتے ہیں۔ارشاد فرمایا:

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ ٱللَّهُ أَضْغَٟنَـهُـمْ .٢٩

  • یا کیا ان لوگوں نے یہ اندازہ لگا لیاہے۔۔ایک اپنی پیدا کردہ نفسیاتی بیماری نے جن کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے، کہ اللہ تعالیٰ  ان کے سینوں میں موجزن بغض ،جلن اور کینہ  کو باہر نکال کر سب پر ظاہر نہیں  کریں گے۔

Root: ض غ ن; م ر ض

وَلَوْ نَشَآءُ لَأَرَيْنَٟكَـهُـمْ فَلَعَـرَ فْتَـهُـم بِسِيمَٟهُـمْۚ

  • ۔اور اگر ہم چاہیں تو ہم نے آپ(ﷺ)کو انہیں دکھا دیا ہوتا جس پر آپ(ﷺ)ان کے چہروں پر موجود تاثرات سے ان سے متعارف ہو گئے ہوتے۔

Root:  س و م

وَلَتَعْـرِفَنَّـهُـمْ فِـى لَحْنِ ٱلْقَوْلِۚ

  • ۔اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ(ﷺ)ان کے بیان میں اصل نکتے سے ادھر ادھر ہونے اور ہوشیاری اور چالاکی سے ترتیب دئیے ان کے کلام  کوسن کرآئندہ  آپ ان سےمتعارف ہو جائیں گے۔

Root: ل ح ن

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَٟلَـكُـمْ .0٣٠

  • ۔متنبہ رہو اے لوگو!اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو بخوبی جانتے ہیں۔(سورۃ محمّدﷺ۔۳۰)


۔یہ ضروری نہیں کہ تمام مفاد پرست ا نسان جن کے”قلوب میں بیماری“ہے سب کے سب منافق کے زمرے میں آئیں مگر جو منافقین ہیں اُن کی صفات/ نفسیات میں یہ بات بنیادی اور لازمی شامل ہے کہ ان کے”قلوب میں مرض“ ہے۔”قلب میں مرض“ میں مبتلا شخص اگر دعوت ایمان کا صریحاً انکار کر کے اِس انکار پر ہٹ دھرمی سے قائم رہے تو معاشرے میں اُس کی پہچان کافر ہے منافق نہیں۔”قلب میں مرض“ میں مبتلا وہ شخص منافق کہلائے گا جو اہل ایمان کے سامنے ایمان لانے کا زبان سے اعلان و اقرار کرے۔یہ شخص دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو بیک وقت یہ بتاتا ہے کہ وہ اُن کے ساتھ ہے حالانکہ اُن دونوں میں سے کسی کے ساتھ مخلص نہیں،وہ اِدھر ہے نہ اُدھر۔ حقیقت میں اپنی ذات اور مفادات کا غلام اور اُن کے تحفظ کا خواہاں ہے۔
مرض چاہے جسمانی ہو یا نفسیاتی اِس کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ایسے لوگ جو بزدل بھی ہوں اور ”قلوب میں بیماری“بھی ہو اُنہیں دو مقابل فریقوں میں سے کسی ایک کی فتح و کامیابی کے متعلق تذبذب لاحق رہتا ہے اِس لئے دونوں میں سے کسی ایک فریق کے ساتھ بھی پورے منسلک نہیں ہوتے اور دونوں فریقوں کو الگ الگ یقین دلانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ ہیں۔ اور جب مومن فریق اِن سے جہاد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تواِن کے”قلوب میں بیماری“میں اضافہ /زیادتی ہوجاتی ہے اور قرآنِ مجید کی جنگ/جہاد کا حکم دینے والی آیات کو سن کر اِن پر موت کی بیہوشی طاری ہونے لگتی ہے اور اِس حکم سے اجتناب کیلئے بہانے تراشتے ہیں۔یہ منافقین ہیں۔

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٌ غَـرَّ هَٟٓـؤُلَآءِ دِينُـهُـمْۗ

  • ۔ان دنوں بعض لوگ کیا باتیں کرتے تھے وہ بھی جان لو’’جب جانے پہچانے منافق(جھوٹے مدعیان ایمان)اور وہ جنہوں نے ایک نفسیاتی بیماری کو اپنے قلوب میں جاگزیں کر لیا تھا دوسروں سے کہتے رہتے تھے’’اِن کے دین/آئین اور نظریہ حیات نے ان لوگوں کو نخوت اور فاسد خیال(فتح کا یقین)میں مبتلا کر دیا ہے‘‘۔

Root: غ ر ر; م ر ض

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱللَّهِ

  • ۔(مگر انہیں معلوم نہیں) جو کوئی عقل و فہم سے اپنے معاملات کو انجام دے کر بہتر اور سود مند نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرے گا (تو چونکہ ہر بات کا ظہور پذیر ہونا ان کے اذن کا پابند ہے اس لئے وہ جناب اس کے لئے  بھروسے کے شایان ہیں۔(محذوف جواب شرط کے لئے سورۃ الطلاق۔۳)۔

فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيـمٚ .٤٩

  • کیونکہ  یہ حقیقت  ہے کہ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الانفال۔۴۹)


وَإِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ

  • ۔اور جب منافق اور یہودیوں کے عمائدین جنہوں نے ایک نفسیاتی بیماری کو اپنے قلوب میں جاگزیں کر لیا تھا ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے:

Root: م ر ض

مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُـرُورٙا .33:12١٢

  • ۔’’اللہ اور ان کے رسول نے ہم سے وعدہ نہیں کیا سوائے دھوکہ دہی پر مبنی چکما دینے کے‘‘۔

Root: غ ر ر

وَإِذْ قَالَت طَّـآئِفَةٚ مِّنْـهُـمْ يَٟٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَـكُـمْ فَٱرْجِعُوا۟ۚ

  • ۔اور جب ان لوگوں کے ایک گروہ نے کہا’’اے اہل یثرب؛قطعی کوئی اقامت کا امکان تمہارے لئے نہیں ہے۔چونکہ جو تمہیں بتایا گیا ہے وہ جھانسا ہے اس لئے بہتر ہے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ‘‘۔

Root: ط و ف

وَيَسْتَـْٔذِنُ فَرِيقٚ مِّنْـهُـمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٚ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٛۖ

  • ۔جب کہ دوسری طرف ا ن میں سے ایک  گروہ اللہ تعالیٰ کے ذی شرف بندے(محمّدﷺ)سے جنگ کی تیاریوں میں شرکت  نہ کرنے کی اجازت کے خواہش مند تھے۔وہ کہہ رہے تھے’’حقیقت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں عورتیں غیر محفوظ اکیلی ہیں‘‘۔۔جبکہ حقیقت میں وہ غیر محفوظ حالت میں نہ تھے۔۔

Root: ع و ر

إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارٙا .33:13١٣

  • They intended nothing but an escape [from war]. [33:13]

  • ۔وہ سوائے راہ فرار حاصل کرنے کے کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔(الاحزاب۔۳۳)


لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ وَٱلْمُرْجِفُونَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ

  • ۔یہ یقینی امر ہے جس کا اعلان کر دیا گیا تھا؛اگر منافقوں اور ان یہودی عمائدین نے۔۔ایک نفسیاتی بیماری کو جنہوں نے اپنے قلوب میں جاگزیں کر لیا ہے؛اور وہ جو شہر مدینہ میں ذہنی انتشار اور ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کے درپے ہیں،اپنے آپ کو ان حرکتوں سے باز نہ رکھا:

Root: ر ج ف; م ر ض

لَنُغْـرِيَنَّكَ بِـهِـمْ ثُـمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيـهَآ إِلَّا قَلِيلٙا .33:60٦٠

  • ۔توہم جناب آپ(ﷺ)کوان کو زیر نگاہ اور تسلط رکھنے کا اجازت نامہ دے دیں گے۔بعد ازاں وہ آپ (ﷺ)کے ساتھ اس(شہر)میں سوائے مختصر عرصہ کے ہم نشیں نہیں رہ سکیں گے۔(الاحزاب۔۶۰)

Root: غ ر و

لفظ منافق کا مادہ ”ن ۔ف۔ ق“ ہے۔ نفق اس سرنگ کو کہتے ہیں جس کے داخل ہونے اور نکلنے کے دونوں راستے کھلے ہوں (جس سرنگ میں نکلنے کا راستہ نہ ہو اسے سَربَ کہتے ہیں)۔جنگلی چوہے کے بل کے متعدد سوراخوں میں سے اس سوراخ کو کہتے ہیں جس پر وہ مٹی کی باریک سی پپڑی بچھا کر اسے بند رکھتا ہے اور اسے اُس وقت سر مار کر کھول لیتا ہے جب اس کا دشمن اسے بل کے اندر پکڑنے کی کوشش کرے۔(تاج و محیط و راغب) نفق بنانے کے اغراض و مقاصد کو نظر میں رکھیں تو ایسے انسانوں کی ذہنیت، نفسیات اور کردار کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ نفق بزدلی اور دنیا و موقعہ پرستی کی عکاس ہے۔ حقائق اور سچائی سے دانستہ نظریں چرانے،سچ سے فراراور جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔منافقین کے متعلق پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ دعویٰ کرتے اور کہتے ہیں کہ اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے ہیں۔جو شخص،قبیلہ، گروہ مسلم بننے کا دعویٰ نہ کرے اُسے ہم کافر، یہودی، نصاریٰ،مجوسی،صائبین،مشرک یا جو چاہے کہیں لیکن منافق نہیں کہہ سکتے۔

قرآنِ مجید بیانِ حقیقت ہے۔قرآنِ مجید اپنے زمانہ نزول کے لوگوں سے مخاطب تھا اور دنیا میں بکھرے اور روز قیامت سے قبل تک کے تمام لوگوں سے مخاطب ہے۔یہ مکمل طور پر کاغذ پر پہلے سے لکھی ہوئی کتاب کی صورت میں نازل بھی نہیں فرمایا گیا۔آقائے نامدار رسولِ کریم ﷺ کے قلب مبارک پر بتدریج نازل فرمایا گیا۔اور پھر نزول کے ساتھ ساتھ ترتیب دی ہوئی کتاب کے طور پر مرتب فرمایا گیا یہ اللہ کا کلام ہے۔اسلئے کتاب کا دعویٰ ہے کہ اس میں تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتاان لوگوں کیلئے جنہوں نے نزول کے ساتھ ساتھ سنا اور نہ بعد کے زمان کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اسے ترتیب دی ہوئی کتاب کے طور پر دیکھا،سنا اور پڑھا اور جن لوگوں تک ابھی پہنچنا ہے۔

قرآنِ مجید کی بات ہر زاویے سے ہر سننے اور پڑھنے والے کیلئے مکمل اور پورا سچ ہے چاہے آقائے نامدار ﷺ کی مبارک زندگی میں مکۃ المکرمہ اور مدینہ منورہ کا رہائشی ہو اور چاہے کسی بھی زمان اور مکان کا مکین ہو۔کسی بھی معاشرے اور ملک میں دبے ہوئے اور محکوم لوگوں سے اپنیوابستگی کا اظہار کوئی نہیں کرتا۔مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت سے قبل تیرہ سال کے طویل عرصے میں ایمان لانے والوں نے تمام ذہنی اور جسمانی صعوبتوں کو برداشت کیا تھا۔مکہ میں ایمان والے اکثریت میں نہیں بلکہ ایک کمزور اقلیت تھے۔ انہیں غلبہ و اقتدار بھی حاصل نہ تھاکہ کوئی اُن کی خوشنودی اور حمایت حاصل کرنے کیلئے اُن کے سامنے جھوٹ بول کر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا۔اور یوں قرآنِ مجید نے منافقین کے متعلق اپنی پہلی ہی بات میں اعلان کر دیا کہ ہجرت سے قبل مکۃالمکرمہ میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔
قرآنِ مجید نے بتایا ہے کہ مکۃ المکرمہ میں رسولِ کریم ﷺ کی دعوتِ حق کے نتیجے میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک وہ جنہوں نے عقل و برھان کے تقاضوں کے عین مطابق دعوت کو قبول کر لیا اور منزل کی راہ پر گامزن ہو گئے۔دوسرے وہ جنہوں نے آقائے نامدار ﷺ کو صادق اور امین جاننے کے باوجود دعوت کو ٹھکرا دیا۔ ان حقائق کی موجودگی میں ایسا طرزِ عمل صرف ہٹ دھرمی،ضد، جھوٹی انانیت اور بغض کا اظہار تھا اور مفاد عاجلہ حقیقت کو تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ۔ ایسے لوگوں کے متعلق کھلم کھلا بتا دیا گیا کہ کسی بھی بات سے خبردار کرنا یا نہ کرنا ان کے لئے اہمیت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔اور یہ گروہ مخالفت پر اس قدر کمر بستہ ہو گیا کہ قتل کرنے کی سازشوں میں لگ گیا۔اور جب آقائے نامدار رسولِ کریم ﷺ ایمان لانے والے انصار کی دعوت پر مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو رویوں اور روش کے حوالے سے ایک نئی طرز کے لوگوں کا ظہور ہوا جنہیں منافقین کا نام دیا گیا ہے۔

ایک خاص ذہنیت اور نفسیات کے لوگوں کی چند باتیں بتانے کے بعد ان کی فطرت اور اندرونی کیفیت کو مثالوں سے بتایا :

مَثَلُهُـمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارٙا

  • اِن(منافقین) کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص نے محنت اور لگن سے ایندھن سے آگ جلائی۔

فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ

  • جس کے نتیجے میں جوں ہی اس (آگ)نے اس (مذکورہ شحص)کے اردگردماحول کو منور(گرم اور روشن)کر دیا۔

ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِـمْ

  • ا للہ تعالیٰ اِن(منافقین) کے’’نور‘‘کولے گئے/؍ان کی بصارت و بصیرت کی صلاحیت کو سلب کر لیا۔

وَتَرَكَهُـمْ فِـى ظُلُمَٟتٛ لَّا يُبْصِرُونَ.7١٧

  • اور انہیں اندھیروں میں بسے رہنے کے لئے متروک کردیا۔وہ بصارت و بصیرت کو بروئے کار نہیں لاتے۔


اور ان کے رویئے اور سرشت کے متعلق بتایا:

صُـمُّۢ بُكْـمٌ عُمْىٚ

  • ان (منافقین)کا رویہ ایسا ہے جیسے بہرے، گونگے، اندھے ہوں۔

فَهُـمْ لَا يَرْجِعُونَ.2:18١٨

  • (اس لئے یہ لوگ رجوع نہیں کرتے،ہدایت کی جانب پلٹتے نہیں۔(البقرۃ: ۔۱۸

 

 

أَوْ كَصَيِّبٛ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ

  • یا (منافقین کی مثال ایسے ہے) جیسے آسمان میں سے مہیب بادل نے آن لیا ہو ۔

فِيهِ ظُلُمَٟتٚ وَرَعْدٚ وَبَرْقٚ

  • اُس (مثبت چارج والے مہیب بادل)کے اندر تہہ بر تہہ اندھیرے اور ہلچل،گڑگڑاہت اور بجلی کی چمک موجود ہے ۔

In-Cloud Lightening

يَجْعَلُونَ أَصَٟبِعَهُـمْ فِـىٓ ءَاذَانِـهِـم مِّنَ ٱلصَّوَٟعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِۚ

  • جس کی گھن گرج سے موت کے خوف سے یہ لوگ اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں

وٱللَّهُ مُحِيطُۢ بِٱلْـكَـٟفِرِينَ.2:19١٩

  • خبردار رہو! ا للہ تعالیٰ کی دسترس ہر لمحہ کافر وں پر محیط ہے۔(البقرۃ۔۱۹)


يَكَادُ ٱلْبَـرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٟرَهُـمْۖ

  • قریب ہے کہ آسمانی بجلی ان کی بصارتوں کو چندھیا دے۔

كُلَّمَآ أَضَآءَ لَـهُـم مَّشَوْا۟ فِيهِ

  • ہربار جب اس نے ان کے لئے چمک کو پیدا کیا تو یہ اس میں یہ چل پڑتے ہیں۔

وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْـهِـمْ قَامُوا۟ۚ

  • اور جب اس نے اُن پر اندھیرا؍دھندلکامسلط کر دیاتو کھڑے ہو جاتے ہیں۔

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَـمْعِهِـمْ وَأَبْصَٟرِهِـمْۚ

  • اور اگر ا للہ تعالیٰ نے ایسا چاہا ہوتا تو یقیناان کی سماعتیں اور بصارتیں سلب کر لیتے۔

إِنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ.2:20٢٠

  • (یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔( البقرۃ۔۲۰

قرآنِ عظیم نے سورۃ البقرۃ کی ان آیات (۸۔۲۰)میں جس ذہنیت اور نفسیات کے لوگوں کی چند باتیں بتانے کے بعد ان کی فطرت اور اندرونی کیفیت کو دو مثالوں سے واضح فرمانے پر اکتفا کیا ہے انہیں بعد میں منافقین کہہ کر انکی عادات و اطوار، اندازِ گفتگو، مختلف حالات میں اُن کے رویوں، فریب اور چالبازیوں کے بارے میں مومنین کو سمجھایا ہے۔اور واضح الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے:

هُـمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُـمْۚ

  • ۔وہ منفرد قسم کے دشمن ہیں۔چونکہ آستین کے سانپ کی مانند اردگرد موجود ہیں اس لئے آپ(ﷺ)ان سے محتاط اور ہشیار رہیں۔(حوالہ المنافقون۔۴)

قرآنِ مجید میں جہاں کہیں منافقین کے بارے میں بات ہو ان مثالوں پر ایک نظر ڈالنے یا انہیں ذہن میں لانے سے ان کی جامعیت، لطافت اور خوبصورتی کا اندازہ ہو گا کہ یہ مثالیں ان کی زندگی اور نفسیات کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔

قرءان مجید میں ان کے متعلق جس ترتیب سے ان کے  مختلف چہرے اور پہلو بیان ہوئے ان کے متعلق الگ الگ مطالعہ کریں گے۔

۱۔اللہ تعالیٰ، یوم آخر(آخرت نہیں کہتے)اور رسول کریمﷺ پر ایمان لانے کا دعویٰ اور اعلان
 

 

 

 

۔