روایت اور جدیدیت


روایت اور جدیدیت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔اور یہ سکہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا انسانی معاشرہ۔
سکے کے کھوٹے کھرے ہونے کا تعین کر لینا ہی دانائی ہے کیونکہ کھوٹے سکے کے عوض سوائے بیکار شئے کے کچھ نہیں ملتا۔
علم
.ءَايَةٚ.کا ہوتا ہے۔.ءَايَةٚ.کسی ظاہری علامت،شئے، نشانی کو کہتے ہیں جس کا ایک متعین اسم ہوتا ہے جو اپنے علاوہ کسی اور موجود کی جانب بھی اشارہ کرتی اور ادراک دیتی ہے۔
.ءَايَةٚ.بین اور غیر متبدل ہے۔مختلف آیات کی انفرادیت اور ان کے مابین باہمی ربط،تعلق (relationship)،فرق کو سمجھنا اور اس تعلق اور فرق سے پیدا ہونے والے نتیجے کو جاننا عقل سے کام لینا ہے۔عقل اختلاف اور فرق کو متعین کرتی ہے۔اور یہی اختلاف اور فرق سبب بنتا ہے علم کے یاداشت (Memory) میں محفوظ،قید ہونے کا۔اور یہی عربی مادہ ”ع ق ل“کے معنی اور مفہوم ہے۔
”عقل“کے بنیادی معنی روکنا،منع کرنا ہیں۔"
عَقَلَ فُلَانَا۔فلاں کو روک دیا، بند کر دیا،قید کر دیا“۔ ”اَلْمَعْقِلُ۔جائے پناہ کیونکہ آدمی اس میں پناہ گیر ہو تا اور رک جاتا ہے۔نیز اس لئے کہ وہ جگہ دشمن کو وہاں آنے سے روک دیتی ہے“۔اور "عقال" رسی کو کہتے ہیں جس سے اشیاء کو باندھ کر یکجا اور بکھرنے سے محفوظ کیا جاتا ہے۔
ان معنی اور مفہوم میں ”عقل“کا بنیادی فریضہ ”علم“کو قید کرنا،محفوظ کرنا ہے۔اگر ان سائنسی معلومات کا جائزہ لیں گے جو ذہن کا طریقہ کار ہے معلومات اور علم کو محفوظ کرنے کا تو عربی زبان کی جامعیت ، وسعت اور حقانیت کا ادراک کرنے میں سہولت ہو گی۔ آج کے دور میں کمپیوٹر کے "ذہن"کو کام کرتے دیکھ لیں تو بھی عربی مادہ ”
ع ق ل“کے مختلف استعمالات کی  توجیح سمجھ آ جائے گی۔
علم
ءَايَةٚ. کا ہوتا ہے اور ہرءَايَةٚ. کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن جو پنہاں ہے۔اس لئے علم ظاہر سے باطن کی جانب محو سفر ہوتا ہے۔
اور باطن پنہاں ہے اس لئے جب تک مکمل طور پر عیاں نہ ہو عقل احاطہ میں لے کر اسے قید یعنی یاداشت میں محفوظ نہیں کر سکتی اور یوں علم اور عقل کی منزل تشنگی اور بند گلی ہے۔
تشنگی موجب اضطراب ہے یہ اطمینان اور یقین میں جب ڈھل سکتی ہے اور بند گلی کا در تبھی کھل سکتا ہے اگرءَ اےَۃٍ کا باطن،پنہاں عیاں ہو جائے۔
اور
ءَايَةٚ.کا باطن جس سے پنہاں نہیں وہی اسے دوسرے کیلئے عیاں کر سکتا ہے۔ اوریہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ شئے کے خالق کو اس کے ظاہر اور باطن کا مکمل علم ہوتا ہے۔ خالق کی اس شئے کے متعلق بات، کلام ءَايَةٚ.ہوتی ہے اورءَايَةٚ.ظاہر ہوتی ہے جو اضطراب اور شک کو رفع کر کے اطمینان اور امن وسکون (ایمان)عطا کر دیتی ہے۔اور اسی کا نام علم ہے۔
علم 
ءَايَةٚ.کا ہوتا ہے۔کس سے ملے گا؟اس سے ملے گا جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے کا خالق ہے۔لیکن کیسے اور کہاں سے ملے گا؟خالق کہتا ہے ”میری آیتیں“۔اور یہ ”میری آیتیں“ نازل کردہ کتابِ لاریب قرءانِ مجید میں ہیں۔

روایت اور جدیدیت دونوں کتاب سے فرار کے طالب ہیں۔درحقیقت کتاب سے نہیں قیود سے خائف ہیں کہ کتاب قیود عائد کرتی ہے، تصورِ آزادی میں مخل ہوتی ہے اور انسانوں کی اکثریت اپنی بند گلی ہی میں ”آزاد“رہنا چاہتے ہیں جو در حقیقت قید ہے۔اور جنہیں بند گلی ہی نہیں بلکہ آسمانوں اور زمین کی قید سے رہائی کی طلب ہو ان کیلئے کتاب لاریب تفسیر حقیقت ہے اور حقیقت ہی ہے جو زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے۔