آدم(علیہ السلام) اور ابلیس


پیش لفظ
اللہ رب العالمین کے ارادے اور تخلیق میں انسان مکرم اور ذی عزت ہے۔ارادہ خفی ہوتا ہے۔اور اس کا اظہار وجودِ شئے ہے۔اللہ رب العزت کے نزدیک انسان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی واضح ہے کہ وجودِ کائنات انسان کا مرہون منت ہے۔انسان کائنات کیلئے نہیں ہے۔کائنات انسان کیلئے ہے۔کائنات کی ہر شئے ایک ایسے قاعدے قانون کی پابند ہے جو انسان کیلئے ارادے اور اختیار کے استعمال میں ممد و معاون ہے۔ اگریہ سب کچھ ارتقاء کا نتیجہ ہے اورانسان خود بھی ارتقاء کے نتیجے میں انسان ہے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اول دن سے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس انداز سے ارتقائی منازل طے کر رہا تھا کہ آخر ہر شئے یوں ترتیب پا جائے کہ انسان کے مفاد کے تابع ہو۔یہ ارتقاء کے مفروضے کی ا پنے آپ میں نفی ہے۔

عیاں حقیقتیں آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں جب کوئی مخلوق تکبر اور احساس برتری میں مبتلا ہوتی ہے۔بصارتوں پر پردے پڑ جاتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔آدم کو ابلیس نے مٹھی بھر طین(مٹی)کا بنا ہوا بشرسمجھا۔ ہیولے،پتلے سے آگے اس کی نگاہ نہ جا سکی کہ عقل پر خود ساختہ فضیلت کے گمان نے دھند ڈال رکھی تھی۔یہ ابلیسیت ہے کہ توجہ کو تعارف(اسم+ہیئت = معرفت) پر مرکوز رکھتا ہے،پہچان کی منزل پر نہیں پہنچنا۔

قرآنِ مجید انسان کیلئے آسمان کے ابواب کے اُس پار جنت الفردوس میں پہنچنے کیلئے رہنما ہے۔انسان کے زمان و مکان میں اٹھنے والے ہر قدم پرصحیح راہ کا تعین کرتا ہے اور ٹیڑھے راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی جانب نہ مڑنے کی نصیحت کرتا ہے کہ یہ منزل سے دور کر دیں گے اور واضح کرتا ہے کہ ٹیڑھے راستوں میں بظاہر جاذبیت اور نگاہوں کیلئے خوش کن اوردلفریب نظارے ہیں مگر یہ پُرفریب ہیں کہ انسان کو احساس ہونے نہیں دیتے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے حقیقت میں پستیوں کی جانب محوِسفر ہے۔قرآنِ مجید لازوال تفسیرِ حقیقت ہے۔ ہر حقیقت کو واضح کر کے اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔یہ اللہ رب العزت کی آیات ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جنت الفردوس سے انسان کو زمین پر بھیجتے وقت یہی نصیحت فرمائی تھی کہ اگر میری آیات پر عمل کرو گے تو جنت الفردوس میں واپس آنے میں کسی :پریشانی کا سامنا نہیں ہو گا۔لیکن شیطان جن باتوں کی تلقین کرتا ہے ان میں سے خطرناک ترین یہ ہے

وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ 

  • And that you indulge in attributing to Allah the Exalted by saying that which you personally know not (verified whether it is written in Qur’ān or is established by tangible evidence). [Refer 2:169)

  • اور اس بات   کی ترغیب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے تم لوگوں سے وہ باتیں کہو جن کے متعلق تم کتاب اور آثار علم سے معلومات نہیں رکھتے۔

اور آقائے نامدار رسول کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ ہمیں ان چیزوں اور باتوں کے متعلق آگاہ کریں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔اس میں وہ بات شامل ہے جس کی ترغیب و اکساہٹ شیطان دنیا کے تمام انسانوں کو دیتا ہے:۔

وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ .7:33٣٣

  • And that you might tell others something attributing to Allah the Exalted about which you  personally have no authentic knowledge (verified whether it is written in Qur’ān or is established by tangible evidence). [Refer 7:33]

  • اور یہ کہ  اللہ تعالیٰ سے منسوب کر کے تم لوگوں سے وہ باتیں کہو جن کے متعلق تم کتاب اور آثار علم سے معلومات نہیں رکھتے‘‘۔

 ابلیس نے اس حربے کو مسلسل آزمایا ہے اور ہر دور میں ایسے انسان میسر آتے رہتے جنہیں من گھڑت ،دلفریب ،لطف ابھارنے والی،داستانیں اختراع کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَـرِى لَـهْوَ ٱلْحَدِيثِ

  • But know it; besides them, a certain man is there in the society who purposely sprouts a well thought captivating conjectural story

  • لیکن(محسنین کے علاوہ)ایک ایسا شخص لوگوں میں موجود ہوتا ہے جودانستہ سوچ بچارسے دلفریب،لطف ابھارنے والی بات پیدا کرتا ہے۔

لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيْـرِ عِلْمٛ

  • He does this with the objective to stray people away from the Path prescribed by Allah the Exalted; he does this  the state of not having acquired  authentic knowledge

  • اس کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ  سے منحرف کر نا ہے،وہ ایسا علم حاصل کئے بغیر حالت میں کرتا ہے۔

وَيَتَّخِذَهَا هُـزُوٙاۚ

  • And he deliberately and purposely holds her (the Path) contemptuously and mockingly

  • اور وہ دانستہ اس(اللہ تعالیٰ کی راہ)کومذاق اڑانے کے انداز میں لیتا ہے۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٚ مُّهِيـنٚ .31:06٦

  • Such are the people; know their upshot, a humiliating punishment is prepared and is in wait for them. [31:06]

  • یہ ہیں وہ لوگ،جان لو ان کے متعلق،ایک توہین آمیز عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔

قرآنِ مجید کی آیات میں محفوظ کی گئی ابلیس کی گفتگو اور استدلال سے ہمیں یہ اندازہ قائم کرنے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی کہ ابلیس کتنا سیانا اور دانا وبینا تھا۔ہم کہہ سکتے ہیں Pseudo intellectual،نام نہاد مفکرکہلانے کے لائق سب سے اول ابلیس ہے۔اور اگر آپ انسان کی تاریخ کے مختلف ادوار پر ایک گہری نظر ڈالیں اور آج بھی اپنے ارد گرد دیکھیں تو محسوس ہو گا کہ Pseudo intellectuals ہی انسان کو بہکانے اور گم کردہ راہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔یہ دوسروں کے نقش پا سے اپنی مٹھی میں کچھ بھر لیتے ہیں اور پھر سادہ لوح لوگوں کی اکثریت کی (common sense) عقل و فہم کو استعمال نہ کرنے اور تدبر نہ کرنے کی عادت سے ناجائز فاہدہ اٹھاتے ہوئے انہیں نت نئی کہانیاں سنا کر اپنے گرد معتکف کر لیتے ہیں۔آدم اور ابلیس کے حوالے سے بھی ڈارون،ہربرٹ سپنسراور انسائکلو پیڈیا برٹینکا کے ابواب Homo Sapiens اور Primates کو پڑھ کر بعض جدید ”مفکرین“ نے بھی اس لغو خیال اور تصور کو (معاذ اللہ)قرآنِ مجید کا بیان بتا کر اور ”خطبے“کے انداز میں لوگوں کو سنا یا ہے کہ انسان ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے مانندِ جانور سے انسان بنا اور یہ کہ اس کا دماغ بتدریج اتنے CC (کیوبک سینٹی میٹر) سے اتنے CC ہو گیا تو انسان کہلانے کا مستحق بنا اور آدم (علیہ السلام)بنا۔اِدھر ُادھر سے ملنے والی قدیم اور بوسیدہ ہڈیوں اور کھوپڑیوں کو ناپ کر ان کے مختلف حجم سے یہ اخذ کر لینا کہ بتدریج ترقی پانے والے انسان کی ہڈیاں اور دماغ تھیں ایسے ہی ہے جیسے ابلیس نے آدم کو آدم (علیہ السلام)ماننے کی بجائے مٹی سے بنا بشر قرار دے کر سجدہ نہ کرنے کا جواز بتایا تھا۔

قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ انسان تو وجود سے بھی قبل ارادے کی منزل پرہی مکرم اور عظیم تھا۔قرآنِ مجید لازوال تفسیر حقیقت ہے۔قرآنِ مجید خبر دیتا ہے اور خبر تمثیل نہیں ہے۔آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ کوئی تمثیل نہیں بلکہ حقیقی طور پر پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ ہے  جس کے کردار کبھی نہیں مرتے۔یہ لازوال ہے۔یہ کلاسک (All time classic) ہے اور دنیا کے سٹیج کا روزمرہ کا معمول۔