080  عَبَسَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔آیات ایک تا   دس۔ترجمہ

عَبَسَ وَتَوَلَّـىٰٓ .١

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ .٢

اُس صاحب ِثروت (گھر آیا مہمان حوالہ سورۃ المدثر)نے چہرے سے اظہار ِ ناگواری و نفرت کیا اور پیٹھ پھیرکر(ازخود  اجازت مانگے بغیر) روانہ ہو گیا اِس سبب سے کہ اُن(اس کے میزبان رسولِ کریم ﷺ) کے پاس ایک جانا پہچانا نابیناشخص حاضر ہوگیا تھا۔

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ .٣

اور وہ کون سی بات ہے جو آپ(ﷺ)کویہ احساس دے رہی ہے کہ وہ(امیر کبیر سردار) اپنے آپ کو علمی و فکری ارتقا دے گا؟

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ .٤

یا ازخود نصیحت کویاد رکھے گا جس کی وجہ سے آپ کی بتائی ہوئی تادیب اسے فائدہ دیتی رہے گی۔

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ .٥

یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کی حاجت سے مبرا ظاہر کیا ہے۔

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ .٦

اس خیال سے کہ شاید وہ سدھر جائے آپ(ﷺ)اُس کیلئے انہماک سے متوجہ ہیں۔

وَمَا عَلَيْكَ أَ لَّا يَزَّكَّىٰ .٧

(آپ کی خواہش و کوشش اپنی جگہ)مگر اگر وہ اپنے آپ کو علمی و فکری لحاظ سے بلند کرنے پر آمادہ نہیں تو آپ(ﷺ) پر قطعاً اس بات کی ذمہ داری نہیں (کہ آپ کی تنبیہ سن کر سنورنا انسان کا اپنا فعل اور ذمہ ہے)

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ .٨

اور  ایک یہ صاحب ہیں  جو آپ(ﷺ)کے پاس شوق سے کوشش کر کے آئے ہوئے ہیں ۔

وَهُوَ يَخْشَىٰ .٩

اور وہ (اندھا شخص)ا للہ تعالیٰ کے لئے سراپا عجز و انکسار ہے،

فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ .١٠

اُس صاحب حیثیت شخص سے منہمک ہونے کی بناء پرآپ(ﷺ) اِس کی طرف  ابھی متوجہ نہیں ہیں۔


عَبَسَ وَتَوَلَّـىٰٓ کے معنی اور مفہوم۔متکبر صاحب حیثیت کا رویہ

 ان آیات مبارکہ کا تعلق اور پس منظر آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ کے گھر میں آئے ہوئے ایک صاحب ثروت کو خبردار اور تنبیہ کرنے سے ہے جس کا ذکر اس سے قبل سورۃ المدثر کی آیات ۱۔۲۵  میں ہوا ہے اور یہ اس دن میں ہونے والے واقعہ اوررسول کریم کو اس صاحب ثروت کے متعلق وحی کئے جانے کا تسلسل ہے۔

دکھ اور کرب محسوص ہوتا ہے مترجمین اور مفسرین کے طرز عمل پر جنہوں نے  تمام اکیڈیمک اصولوں اور خود قرءان مجید میں بتائے گئے غوروفکر اور ترجمہ و تشریح کرنے کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے   اولین میں شمار ہونے والے انگریز مترجم جارج سیل(George Sale)اور جان روڈویل (John Rodwell) کے ترجمے پر انحصار کرنے کو مناسب سمجھا۔ان انگریزی زبان کے مترجمین کے بغض و عناد پر مبنی روئیے کی بناء پر دانستہ عربی گرائمر اور فصاحت کے اصولوں کو پس پشت ڈال کرترجمہ کرنے کی تو سمجھ آتی ہے جنہوں نے ایک ایسی بات کو آقائے نامدار ﷺ کی ذات اقدس سے منسوب کر دیا جو کسی بھی معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی اقدارکے منافی تصور کی جاتی ہے۔شوق و محبت و احترام کے جذبے سے سرشار ایک نابینا شخص کے گھر آنے پر ترش رو ہونا، بے رخی برتنا، اور ناگواری سے منہ موڑ لینا ایک ایسا فعل ہے  جو آقائے نامدار ﷺ سے خواب میں بھی سرزد نہیں سکتا۔قرءان مجید کا ترجمہ اور تشریح کرنے کا اصول تدبر بتایا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی موضوع کے متعلق اس سے قبل بیان کردہ بات کو پیش نظر رکھا جائے۔ کرب اس بات کا بھی ہے کہ اس صریحاً غلط تراجم  سے ایک تضاد پیدا ہوتا ہے اس اطلاع کے متعلق جوآپ ﷺ کے متعلق دی گئی ہے کہ آقائے نامدار ﷺ رؤوف اور رحیم ہیں۔

غلط تراجم کی بہتات  کے پیش نظر اہل ایمان کو چاہئے کہ قرءان مجید کا ترجمہ کرنے کا ہنر سیکھنے کے لئے ازخود محنت کریں۔یاد رکھیں یہ کوئی پیچیدہ کام نہیں، محض لگن اور توجہ سے محنت درکار ہے۔

قرءان مجیدسر چشمہ ہدایت ہے۔آقائے نامدار،رسول کریمﷺ نے اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لے جانا ہے اور انہیں صراط مستقیم پر ڈالنا ہے کہ منزل پرپہنچ جائیں۔انسان تنہا نہیں،معاشرے میں مقیم ہے۔اس لئے انسان کی رہنمائی اور رہبری کا  فریضہ احسن طریقے سے انجام دینے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کی پرکھ یہ ہے کہ اس میں ہر ایک انسان کے متعلق بتایا جائے تاکہ دنیا میں ہر انسان اپنے ہمعصرانسان سے محتاط رہ سکے۔ قرءان مجید میں ہر ایک انسان،پہلے انسان آدم علیہ السلام سے لے کر سب سے آخر میں پیدا ہونے والا انسان، زیر بحث لایا گیا ہے،نام لے کر یا نام لئے بغیر۔

لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُـمْ كِتَٟبٙا فِيهِ ذِكْرُكُمْۖ

اس حقیقت کو جان لو؛ہم جناب نے تم لوگو ںکی جانب مجتمع انداز میں کتاب کو نازل کر/پہنچا دیا ہے۔اس کتاب میں خاص بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی سوانح /تمہارا اپنا ذکر اس کے مندرجات میں موجود ہے۔

أَفَلَا تَعْقِلُونَ .١٠

کیا باوجود اپنے متعلق ذکر کو جان کر بھی عقل و فکر سے کام نہیں لو گے۔

قرءان مجید کو ہر ایک انسان دھیان سے پڑھے تو اسے اپنی شخصیت اورنفسیات اس میں مذکور ملے گی۔ لوگوں کیلئے ہدایت اور رہبری کا  فریضہ انجام دینے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کی پرکھ یہ ہے کہ تمام کے تمام انسانوں کی پہچان کرائے۔یہ قرءان مجید کا اعجاز ہے۔

انسان قوموں اور قبائل میں منقسم ہیں۔یہ ان کا تعارف (معرفت)ہے،اصلیت کی پہچان نہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ

اے لوگو!دھیان سے سنو:

إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٛ وَأُنثَىٰ

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے تم لوگوں(تمام انسان جو آج موجود ہیں)کو ایک مذکر اور ایک مؤنث میں سے تخلیق کیا ہے۔

وَجَعَلْنَـٟكُـمْ شُعُوبٙا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ۚ

اور ہم جناب نے تم لوگوں کو قومیتوں اور قبائل میں ڈھال دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو متعارف کر سکو۔(حوالہ الحجرات۔۱۳)

 

لسان کے حوالے سے انسان عربی اور عجمی میں منقسم ہے۔لسان بھی تعارف ہے انسان کی پہچان نہیں۔انسان کی جلد کا رنگ مختلف ہے،یہ بھی اس کا تعارف ہے،اس کی ذات،شخصیت (person, personality) کی پہچان نہیں۔

ظاہر تعارف ہے اورباطن،پنہاں پہچان ہے۔تعارف مرئی ہے،پہچان غیر مرئی،خفی ہے۔جس کا ظاہر ہے اس کا باطن ہے۔ اور جس ظاہر کا باطن ہے اس باطن کو بتدریج عیاں ہونا ہے کہ ذات ایک غیر منقسم اکائی ہے۔انسان کا مرئی تعارف اس کا جسم، نام، ولدیت، قبیلہ،قوم، زبان، رنگ، معاشی اور سیاسی مقام و حیثیت اوراس کا اقرار و انکار ہے کہ یہ ”عام“(نکرہ)سے اسے ”خاص“ (معرفہ)کر دیتا ہے۔لیکن یہ اس کی اپنی ذات،شخصیت (Person) کی پہچان نہیں کیونکہ ان باتوں سے وہ ”متعین“نہیں ہوتی۔ ذات کی پہچان صفات،سوچ اور نفسیات ہے اور یہ روئیے، روش،انداز، برتاؤ سے عیاں ہوتی ہے۔کوئی بھی شخص اپنے تعارف کی بنا پر نہ ارفع ہوتا ہے اور نہ رد(condemn)۔ا للہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّ أَكْرَمَكُـمْ عَندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُـمْۚ

اس حقیقت سے مطلع رہو،اللہ تعالیٰ  کی جانب سے تم میں  زیادہ لائق تکریم وہ ہے جوتم میں زیادہ تقویٰ کا حامل ہے۔(حوالہ الحجرات۔۱۳)

آقائے نامدار،رسول کریم ﷺتخلیقات میں عظیم تر ہیں اور ہر ایک حوالے سے معراج انسانیت ہیں۔ان کے کردار،معاشرت، اخلاق،روئیے میں  معمولی سے معمولی کجی کا گمان بھی اس زمرے میں ہے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔آئیں اکیڈیمک اصولوں کے مطابق  زیر مطالعہ آیتوں کو سمجھیں اور ترجمہ کریں:

عَبَسَ وَتَوَلَّـىٰٓ .١

 یہ دو مکمل جملے ہیں۔جملہ فعلیہ کہلاتے ہیں۔عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی اصل ترتیب فعل اور فاعل ہے اور اگر فعل متعدی ہے تو اس کے بعد مفعول بیان ہوتا ہے۔فاعل اگر  فعل کے بعدبیان نہیں کیا گیا توواحد،مذکر/مؤنث غائب کے صیغے میں  اس کی ضمیر کو مستتر/لازمی طور پر پنہاں سمجھا جاتا ہے جو ہمیشہ قبل ازیں بیان کردہ شخص کو راجع ہو گی اور وہ شخص مذکورہ فعل کو کرنے والا مانا جائے گا۔عَبَسَ۔فعل ماضی واحد مذکر غائب ہے اور چونکہ فاعل بعد میں بیان نہیں ہوا اس لئے ضمیر فاعل مستتر ہے۔یہ حرکت کرنے والا شخص لازماً قبل ازیں بیان ہو چکا ہے۔اس فعل کا مادہ ’’ ع۔ب۔س‘‘ہے  اور در اصل اُس گوبر اور پیشاب کو کہتے ہیں جو اونٹ،چوپائے کی دم سے لتھڑ کر خشک ہو جائے (تاج)۔چوپائے کو اِس گندی حالت میں دیکھنے سے ناگواراحساس ابھرتا ہے۔ جناب راغب نے کہا کہ سینے کی تنگی سے چہرے کے بگڑنے کو کہتے ہیں۔ درحقیقت عَبَسَ ایک ناگوارکیفیت اوراحساس کو نمایاں کرتا ہے اور یہ بات صرف ا للہ  تعالیٰ کی خاطر لوگوں کو کھانا کھلانے والوں کے اِس قول سے واضح ہے کہ انہیں اپنے رب کی جانب سے اُس دن کا خوف ہے:

إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمٙا عَبُوسٙا قَمْطَرِيرٙا .١٠

درحقیقت ہم ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے   جو ہمارے رب کی جانب سےانتہائی ناگواری،اذیت و کرب اور پابند سلاسل ہونے کا دن بتایا گیا ہے ۔(الانسان۔۱۰)

لفظ قَمْطَرِيرٙا کامادہ ”ق۔م۔ ط۔ ر“ہے اور اس لکڑی کی بیڑی کو کہتے ہیں جو مجرموں کے پاؤں میں ڈال دی جاتی تھی تاکہ  بھاگ نہ سکیں (تاج،محیط،راغب)۔  اس سے انہیں چلنے پھرنے میں سخت اذیت پہنچتی تھی۔اور پھر اس سے یہ لفظ تکلیف،پریشانی،سختی اور اذیت کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔سختی کی وجہ سے آنکھوں اور ابرؤں پر جو شکنیں پڑ جاتی ہیں اُن کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔عَبَسَ کے معنی سے جس کیفیت اوراحساس کا اظہار ہوتا ہے وہ سینے کی تنگی اور ناگواری ہے اور سینے کی تنگی، سختی،ناگواری کا اظہار چہرے اور ماتھے کی شکنوں، تیوری، بگاڑ سے عیاں ہوتا ہے۔عَبَسَ۔”اُس ایک شخص نے اظہار ناگواری کیا/تیوری چڑھائی“۔یہ نکتہ  ذہن نشین کر لیں کہ عَبَسَ صرف نگاہوں سے کسی ناپسندیدہ شئے کو دیکھنے سے ہوتا ہے سماعتوں میں پڑنے والی آواز سے نہیں۔

حرف عطف ’’وَ‘‘کے بعد دوسرا جملہ فعلیہتَوَلَّـىٰٓ میں بھی ضمیر فاعل مستتر ہے اور اسی شخص کو راجع ہے جس نے پہلے والے کے بعد یہ فعل کیا تھا۔فعل ماضی، واحد مذکر غائب باب پنجم سے ہے جس میں فعل کا اثرخود کرنے والے کی ذات پر پڑتا ہے۔اس کے معنی کسی کے روبرو حالت سے پلٹ کر چلے جانا ہے۔باب پنجم کی وجہ سے کسی کے پاس سے اس سے  جانے کی اجازت  لئے بغیرازخود پلٹ کر چلے جانا ہیں۔’’اور وہ شخص جس کے روبرو تھا اس سے اجازت لئے بغیر از خود پلٹ کر چلا گیا‘‘۔

قرءان مجید دنیا کے تمام لٹریچر اور کتابوں سے منفرد کتاب ہے کہ یہ خبر،واقعات(القصص )کو دوٹوک بیان کرتا ہے۔ قرءان مجید کہانیاں (أَسَٟطِيـرُ ) بیان نہیں کرتا۔خبر اور واقعہ سے کہانیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن کہانی سے خبر،واقعہ کبھی جنم نہیں لیتا۔افشا کی گئی خبر اور بیان کردہ واقعہ میں کچھ باتوں کا اضافہ کر دینے اور کرداروں کو نام دے دینے سے کہانی بنتی ہے۔دکھ کی بات ہے کہ مفسرین کی اکثریت نے یہی کچھ کیا ہے۔یہ دو جملے رسول کریم ﷺ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعہ کے متعلق،بغیر کسی کو مخاطب کئے،بیانیہ/اطلاعی جملے ہیں۔یہ ایک منظر دکھا رہے ہیں جس میں دو اشخاص ایک مقام پر موجود ہیں۔ ایک مہمان اور ایک میزبان۔مہمان ناگواری  کے احساس سے مغلوب حالت میں میزبان سے جانے کا کہے بغیر منہ پھیر کر چلا جاتا ہے۔پڑھنے والے کے ذہن میں فوراً سوال ابھرے گا کہ اس شخص نے اس طرح کی ناپسندیدہ حرکت کیوں کی۔اگر قصہ بیان کرنے والا اس بات کو بیان نہ کرے تو اطلاع مبہم اور بے مقصد ہے۔وجہ بیان فرمائی:

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ .٢

ِاس سبب سے کہ اُن(اس کے میزبان رسولِ کریم ﷺ) کے پاس ایک جانا پہچانا نابیناشخص حاضر ہوگیا تھا۔

یہ جملہ ’’مفعول لاجلہ‘‘ہے،وہ  بیان کرنے کے لئے جو پہلے والے افعال کا سبب بنا تھا۔حرف مصدری ’’أَن ‘‘کے بعد والا جملہ فعلیہ  معنوی مقصد کے لئے مصدر لیا جاتا ہے۔یہ فعل ماضی،ضمیرمفعول  مقدم واحد مذکر غائب اور فاعل پر مشتمل ہے۔فاعل ’’ٱلْأَعْمَىٰ‘‘معرفہ باللام ہے جس کا مطلب ایک ایسا نابینا شخص ہےجو موقع پر پہلے سے موجود دونوں اصحاب کے لئے جانا پہچانا تھا۔فعل ’’جَآءَ‘‘کے معنی ’’وہ دونوں کا جانا پہچانا نابینا شخص آ گیا تھا‘‘۔وہ نابینا جس کے پاس آ گیا تھا اس کے لئے  متصل ضمیر مفعول مقدم ’’هُ ‘‘ہے۔ضمیر ہمیشہ معرفہ اور اس شخص کو راجع ہوتی ہے جو پہلے بیان ہو چکا  یا فاعل کو معلوم ہے۔اس نابینا شخص کا پہنچنا پہلے بیان کردہ افعال کا سبب بنا تھا جس سے ازخود ظاہر ہے کہ وہ نابینا ان صاحب کے پاس آیا تھا جو چلے جانے والے شخص کے بھی میزبان تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کے بعد ازاں  اس واقعہ میں میزبان سے براہ راست خطاب سے بھی واضح ہے کہ وہ نابینا کن کے پاس آیا تھا:

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ .٨

اور  ایک یہ صاحب ہیں  جو آپ(ﷺ)کے پاس شوق سے کوشش کر کے آئے ہوئے ہیں ۔

قرءان مجید تفسیر حقیقت اور بیانِ حقیقت ہے۔یہ تمام زمان و مکان کے لوگوں کیلئے ہے اِس لئے اِس میں واقعات کا انداز بیان ایسے ہے جیسے اُن واقعات کے وجود پذیر ہونے والے وقت اور مقام پر موجود ایک شخص کی طرح ہر زمان و مکان کا قاری اُس واقعہ کو ایسے سمجھ سکے جیسے اُسے وقوع پذیر ہوتے ہوئے خود دیکھ رہا ہو۔ قرءان مجید میں انسان تدبر کرے تو اِس میں بیان کردہ واقعات ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ہم پڑھ نہیں رہے بلکہ وڈیو کلپ دیکھ رہے ہیں۔”تدبر“ کیا ہے؟ اس کا مادہ ”د ۔ب۔ ر“اور معنی ہر شئے کا پچھلا حصہ، پیٹھ، پشت، بات کا انجام ہیں۔کسی معاملہ کے انجام، آخر پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غوروفکر کرنا۔ کتاب میں تدبر کا مفہوم اُس میں بیان کردہ تمام کے تمام متن، پہلی اور آخری بات کو گہری اورتنقیدی نگاہ سے دیکھنا ہے۔تدبر اور کسی فعل کے غیر نامزد کردہ فاعل کی تلاش کے لئےہمیشہ پہلے بیان کردہ متن کو دیکھنا ہوتا ہے۔آئیں قرءان مجید کے اس سے قبل کے اوراق میں دیکھتے ہیں۔

جملہ فعلیہ ’’عَبَسَ‘‘قرءان مجید میں دو بار استعمال ہوا ہے۔اس سے قبل سورۃ المدثر کی آیت ۲۲ میں ہے:

ثُـمَّ نَظَرَ .٢١

بعد ازاں اُس نے (ایک اندھے کوآتے) ایک نظردیکھا۔

ثُـمَّ عَبَسَ وَبَسَـرَ .٢٢

بعد ازاں (عَبَسَ)شکن آلود ہوا/برا منہ بنایا(کہ اندھا آیا/مخل ہوا) اورعجلت میں ہو گیا۔

واقعات کے بیان میں تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے حرف ’’ثُـمَّ ‘‘ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب پہلے اور بعد والی بات کے مابین وقت کا وقفہ ہو اور دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ شخص اچھا بھلا محو گفتگوتھا کہ اس نے ایک نظر کسی کو دیکھا ۔’’نَظَرَ‘‘(واحد مذکر غائب ماضی معروف)کا مادہ ”ن۔ ظ۔ ر“ہے جس کے معنی آنکھ اٹھا کر دیکھنا،نگاہ ڈالناہیں۔نَظَرَ کے معنی غوروفکر(فَکَّرَ) کرنا نہیں ہیں کسی شئے کو محض دیکھنے سے غوروفکر کی منزل شروع نہیں ہوتی۔نظر جب تک بصر میں تبدیل نہ ہو تو کسی شئے پر سوچنے کا مرحلہ ہی نہیں آتا۔ نظر اور بصر میں وسیع فرق ہے۔نظر اس وقت بصارت میں تبدیل ہوتی ہے جب دیکھی ہوئی شئے، علامت،نشانی،راستہ یاداشت میں اس انداز میں محفوظ ہو جائے کہ اسے یاد(Retrieve,decode)کر کے دیکھا جا سکے۔ ہم راہوں کو دیکھتے،جانتے اور پہچانتے اس بناء پر ہیں کہ وہ ہماری یاداشت میں محفوظ ہوتے ہیں۔ آنکھ (eyeball)ایک ذریعہ ہے اور بصارت (vision)صلاحیت ہے جس سے ہم دیکھی جانے والی شئے (object)کی خصوصیات، جزئیات (features)کو دیکھتے اور ممیز کرتے ہیں جس کی بناء پر وہ یاداشتوں (Memory)میں محفوظ بھی ہو جاتے ہیں جیسے رنگ، شکل، حجم(size)، جزئیات، گہرائی، نشیب و فراز، تفاوت اور نہ جانے کیا کچھ۔ بصارت (vision)دیکھی جانے والی شئے پر نگاہ کو مرکوز (focus)کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔اب آپ خود فیصلہ کریں کہ نَظَرَ کے معنی غوروفکر(فَکَّرَ) کرنا ہیں یانہیں۔جس کے بعد اس نے ’’عَبَسَ‘‘ کیا۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اس قسم کی ناگواری کا احساس اور چہرے پر تاثر صرف دیکھنے سے ابھرتا ہے۔اور بتایا کہ’’بَسَـرَ‘‘وہ عجلت میں ہو گیا۔

”بَسَرَ“ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب جس کا مادہ ”ب س ر“ ہے اور اس کے بنیادی معنی کسی چیز کا وقت سے پہلے نامکمل حالت میں جلدی ہو جاناہیں۔ تروتازہ چیز نیز کھجور جو ابھی پکی نہ ہو(تاج،راغب)اِس کے معنی کراہت سے کسی کی طرف دیکھنے کے بھی ہیں، اظہار ناگواری کیونکہ بعض چیزوں /باتوں کا وقت سے پہلے ہو جانا بدمزگی کا موجب ہوتا ہے اور بدمزگی سے منہ بگڑتا ہے۔
کتاب کو اِس انداز میں پڑھنے کے اگرہم عادی نہیں جیسے لوگ الفاظ کی سطح پر بہتے ہوئے کتاب اورواقعات (اخبار،ہفتہ وار رسالے) کو پڑھتے چلے جاتے ہیں، بلکہ توجہ اور انہماک سے کتاب کو پڑھتے ہیں تو پھر اِس مقام پر ہمارے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرے گا کہ ّآخر اُس امیر اور صاحب حیثیت شخص نے کیا دیکھا تھا جس نے اُس کیلئے ناگواری اور بد مزگی کی کیفیت پیدا کر دی؟اُس ناگواری اور بد مزگی کی کیفیت پیدا ہونے پر اُس شخص کے ردِ عمل پر غور کرنے سے بات سمجھ آ جائے گی
:

ثُـمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْـبَـرَ .٢٣

بعد ازاں اُس نے (اُس نابینا شخص سے) پیٹھ پھیرلی، اوراپنے تئیں معزز سمجھتے ہوئے تکریم کا خواہش مند تھا۔

صاحب ثروت امیر آدمی کے عمل  سے یہ بات واضح ہے کہ اُس نے تکبر سے عجلت کامظاہر کیا تھا کیونکہ آقائے نامدار ﷺ سے تو وہ پہلے ہی سے محو گفتگو تھا اور انہیں دیکھ رہا تھا۔امیر اور صاحب حیثیت شخص کے متعلق جب یہ بتایا جائے کہ اُس نے تکبر کیا تو ظاہر ہے کہ وہ اُس شخص کو معمولی اور کمتر سمجھتا ہے جس کی وجہ سے  عجلت میں چل دیاتھا۔ا للہ تعالیٰ کی آیتوں کے مخالف اُس صاحب حیثیت شخص نے کس شخص کو معمولی اور کمتر سمجھتے ہوئے ناگواری اور تکبرکا مظاہر کیا تھا؟

قرءان مجید تصریف آیات،بات کو پھیر کر بیان کر کے اُس کے معنی، مفہوم، وسعت، گہرائی، مختلف زاویے، منتہائیں، مدعا و مقصد اور حقیقت کو نکھار کر قاری کیلئے واضح کرتا ہے۔اِس واقعہ کی اِس بات کو سورۃ عَبَسَ میں بھی یوں بتایا:

عَبَسَ وَتَوَلَّـىٰٓ .١

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ .٢

اُس صاحب ِثروت (گھر آیا مہمان حوالہ سورۃ المدثر)نے چہرے سے اظہار ِ ناگواری و نفرت کیا اور پیٹھ پھیرکر(ازخود  اجازت مانگے بغیر) روانہ ہو گیا اِس سبب سے کہ اُن(اس کے میزبان رسولِ کریم ﷺ) کے پاس ایک جانا پہچانا نابیناشخص حاضر ہوگیا تھا۔

اس صاحب حیثیت شخص نے صرف چہرے سے اظہار ناگواری پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ۔ثُـمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْـبَـرَ۔۔عَبَسَ۔کے بعد ’’أَدْبَرَ‘‘اور عَبَسَ کے بعد ’’تَوَلَّـىٰٓ‘‘کے چناؤ میں وہ کمال ہے کہ ہم اس وقت اُس شخص کی باڈی لینگویج کو بھی ذہن میں دیکھ سکتے ہیں۔ ’’أَدْبَرَ‘‘فعل ماضی واحد مذکر غائب باب افعال سے ہے۔وہ شخص کھڑے ہوکر اپنے آپ کو رسول کریم کی جانب سے پلٹا کر باہر جانے کے رخ ہو گیا اور مغرور انداز میں رسمی اجازت لئے بغیر یہ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا:

فَقَالَ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٚ يُؤْثَرُ .٢٤

اس لئے(اِس جلدی میں رسولِ کریم ﷺ سے) اُس (امیرشخص)نے کہا’’ یہ تو ایک پرانا جھوٹ ہے جو بیان ہوتا چلا آ رہا ہے ۔

إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَـرِ .٢٥

اور یہ بات ماسوائے ایک بشر کے قول کے کچھ نہیں“ (المدثر۔ ۲۵) ۔

سورۃ المدثر کی آیات ۱۱۔۲۵ میں صرف ایک صاحب حیثیت شخص کا ذکر ہے جس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور سورۃ عبس کی پہلی آیت میں بھی ایک شخص کا ذکر ہے جس نے ایک نابینا شخص کے آنے پر برا منایا اور پیٹھ پھیری۔ اِن دونوں مقام پربیان کردہ واقعہ میں نہ تو ایک سے زیادہ صاحب حیثیت شخصیت،سرداروں کی موجودگی کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ مذکور ہے کہ اپنی آمد پراس نابینا شخص نے کسی کوزور زور سے پکارا تھا اور نہ ہی یہ کہ اس نے کچھ سوال پوچھ کر صاحب خانہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ اِس واقعہ میں ایک سے زیادہ سرداروں کو موجود کہنا اورنابینا شخص کی آمد کے حوالے سے اُس سے یہ منسوب کرنا کہ اُس نے پکار پکار کر کچھ کہا بھی تھا قرءان مجید کے بیان کردہ واقعہ سے ماوراء خیال آرائی /تخیل اور اضافہ ہے۔ہرانسان کی اپنی مرضی اور صوابدیدہے کہ کسی خبر اور واقعہ کے بیان کے متعلق ذرائع میں سے کون سے ذریعے کوقابل اعتماد سمجھتا ہے۔

یہ  مکہ کاوہ صاحب ثروت شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے  مال و دولت اوربیٹوں سے نوازا ہوا تھا اور رسول کریم ﷺ کے گھر پر موجود تھا اور آپ ﷺ انتہائی انہماک سے اسے  درس تنبیہ دے رہے تھے جب وہ نابینا  مومن اور متقی شخص بھی پہنچ گئے۔ان کو دیکھ کر اس امیر شخص نے سخت ناگواری  محسوس کی اور اجازت لئے بغیر پیٹھ کر چلا گیا۔

آقائے نامدار،رسولِ کریم ﷺ (گھر آئے) ایک(واحد) امیر،صاحب اولاد شخص(سرداران نہیں) کی طرف انہماک سے متوجہ ہیں۔ ا للہ تعالیٰ نے اِس انہماک سے اُس صاحب حیثیت شخص کی جانب توجہ کی وجہ بتائی:

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ .٣

اور وہ کون سی بات ہے جو آپ(ﷺ)کویہ احساس دے رہی ہے کہ وہ(امیر کبیر سردار) اپنے آپ کو علمی و فکری ارتقا دے گا؟

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ .٤

یا ازخود نصیحت کویاد رکھے گا جس کی وجہ سے آپ کی بتائی ہوئی تادیب اسے فائدہ دیتی رہے گی۔

آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ سے ان کے گھر پر آئے  مکہ کےایک امیر اور طاقت ورشخص سے ملاقات کے احوال  میں سورۃ المدثر کی آیات ۱۔۲۵میں گفت و شنیدکے آخری دورانیے میں پہنچنے والے نابینا شخص کے متعلق  اطلاعی انداز میں بتانے کے بعدبراہ راست خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔یہ بلاغت کا ادبی اسلوب ہے جس میں متکلم پچھلے بیان کو روک کربراہ راست اُس سے مخاطب ہو جاتا ہے جو موقع(scene)پر موجود ہے۔بلاغت کے اس انداز کو ’’پیچھے مڑنا، واپس قصے کے بیان کی جانب پلٹنا‘‘ کہتے ہیں اور انگلش ادب میں Literary device Apostrophe۔یہ انداز بیان  واقعہ کےکرداروں  کو قاری اور سامعین کے لئے زندہ و سلامت بنا دیتا ہے جیسے وہ واقعہ کے چشم دید گواہ ہوں۔

’’وَ‘‘ اِستئنافية۔ ’’مَا‘‘اسم استفہام۔’’يُدْرِيكَ ‘‘فعل مضارع مرفوع،واحد مذکر غائب؛ ضمیر فاعل مستتر؛باب افعال؛ ضمیر متصل مفعول بہ،واحد مذکر مخاطب رسول کریم ﷺ۔مصدر إِدْرَاءٌ۔ماخذ ’’د۔ر۔ی‘‘جس میں سمویا تصور کسی شئے کے متعلق آگاہی،طلب  کرنا ہے۔فعل بات کو مکمل کرنے کے دو مفعول کا طالب ہے۔’’لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ‘‘یہ جملہ مصدریہ معنوں میں مفعول بہ ثانی ہے۔حرف مشبہ بالفعل اور اس کا اسم متصل ضمیر واحد مذکر جو امیر شخص کو راجع ہے اور جملہ فعلیہ خبر ہے۔فعل مضارع مرفوع،واحد مذکر غائب ،ضمیر فاعل مستتر راجع امیر شخص؛ باب پنجم تفاعل؛ماخذ ’’ز۔ک۔و‘‘جس میں سمویا تصور پروان چڑھانا،بڑھانا،زیادہ کرنا،نشوونما ہے۔غیر حقیقی تصورات سے ہٹ کر علمی و فکری ارتقاکا مفہوم ہے۔باب پنجم میں فعل کا اثر(impact; affect)فاعل پر ہوتا ہے، حقیقت پر مبنی معلومات حاصل کر کے ازخودعلمی و فکری  سمجھ بوجھ میں اضافہ کرنا۔

اور اسی استفسار کوپہلے سے کم درجے والی بات کے متعلق جو کسی کے بھی سدھرنے کے لئے کم سے کم شرط ہے دہرایا’’أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ‘‘۔يَذَّكَّرُ فعل مضارع مرفوع،واحد مذکر غائب ،ضمیر فاعل مستتر راجع امیر شخص؛ باب پنجم تفاعل؛ماخذ ’’ذ۔ک۔ر‘‘ جس کے معنی بات کو یاداشت میں محفوط کرنا،یاد رکھنا،یاد کرنا۔اگر نصیحت کو ازخود یاد رکھا جائے  فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ۔حرف ’’فَ‘‘سبب اور نتیجے کو ظاہر کرتا ہے۔پہلے والا فعل اگر کر لیا گیا تو نتیجہ یہ نکلے گا۔جملہ فعلیہ: فعل مضارع مرفوع صیغہ واحد مؤنث،متصل ضمیر مفعول بہ راجع امیر شخص اور فاعل مؤخر ’’ٱلذِّكْرَىٰٓ ‘‘مصدر مرفوع معرفہ باللام جس کی وجہ سے یہ اس مخصوص نصیحت اور تادیب سے متعلق ہے جو رسول کریمﷺ اس شخص کو اس وقت کر رہے تھے (حوالہ سورۃ المدثر ۲۔۱۰)۔

اور اللہ تعالیٰ نے   خود ہی وضاحت فرما دی:

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ .٥

یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کی حاجت سے مبرا ظاہر کیا ہے۔

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ .٦

اس خیال سے کہ شاید وہ سدھر جائے آپ(ﷺ)اُس کیلئے انہماک سے متوجہ ہیں۔

 أَمَّا۔حرف شرط و تفصيلعام طور پر اُن معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں ”باقی رہا یہ کہ۔۔یا ”جہاں تک اس بات کا تعلق ہے“۔ ’’مَنِ‘‘اسم موصول مبتداء۔ ’’ٱسْتَغْنَىٰ‘‘جملہ فعلیہ صلۃ الموصول؛فعل ماضی،واحد مذکر غائب،ضمیر فاعل مستتر راجع امیر شخص؛ باب استفعال؛ ماخذ ’’غ۔ن۔ی‘‘۔ اپنے آپ کو یوں ظاہر کرنا کہ ہر قسم کی حاجت سے  آزاد اور مبراہے۔ایسے شخص کو اس  کی خام خیالی سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لانے کے لئے محنت اور توجہ درکار ہوتی ہے۔’’فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ‘‘جملہ اسمیہ اور یہ خبر ہے مبتداء’’مَنِ‘‘کی۔حرف ’’فَ‘‘اس شخص کی ذہنی کیفیت کی بناء پر؛ضمیر واحد مذکر مخاطب؛ مبتداء ’’آپ(ﷺ)‘‘۔’’ لَهُۥ‘‘جار و مجرور متعلق فعل بعد،ضمیر واحد مذکر غائب راجع امیر شخص’’اس کے لئے‘‘۔’’تَصَدَّىٰ‘‘فعل مضارع مرفوع،واحد مذکر حاضر،  ضمیر فاعل ’’أَنتَ‘‘مستتر؛آپ(ﷺ)؛باب پنجم تفاعل،ماخذ ’’ص۔د۔ی‘‘اور معنی صدائے بازگشت کی طرح کسی کی طرف پلٹنا ہیں۔درپے ہو جانا۔ متوجہ ہونا(راغب)۔

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے شوق و جذبے کو سراہتے ہوئے تشفی آمیزارشاد فرمایا:

وَمَا عَلَيْكَ أَ لَّا يَزَّكَّىٰ .٧

(آپ کی خواہش و کوشش اپنی جگہ) مگر اگر وہ اپنے آپ کو علمی و فکری لحاظ سے بلند کرنے پر آمادہ نہیں تو آپ(ﷺ) پر قطعاً اس بات کی ذمہ داری نہیں (کہ آپ کی تنبیہ سن کر سنورنا انسان کا اپنا فعل اور ذمہ ہے)

یہ پلٹائی ترتیب میں جملہ اسمیہ ہے،تقدیم و تاخیر۔یہ فصاحت و بلاغت کے اسالیب میں سے ہے۔فصاحت کے معنی ’’واضح ہونا‘‘،ایسا کلام جوگرامر کے اصولوں کے مطابق آسانی سے سمجھ آ جائے اور الفاظ کو اس انداز میں استعمال کیا جائے جو ادبی ذوق رکھنے والوں کو پسند آئے۔اور بلاغت کے لغوی معنی ’’مناسب ہونا‘‘ ہیں؛ایسا کلام جو فصیح ہونے کے ساتھ مخاطب کی رعایت سے مناسب ہو۔یہ موقع محل اور مخاطب کی نفسیات کے پہلو سے بھی الفاظ کے چناؤ اور اسلوب کا احاطہ کرتا ہے۔اس جملے میں ’’أَلَّا يَزَّكَّىٰ‘‘حرف مصدری’’أَن‘‘کی وجہ سے مصدر کے معنوں میں مبتداء مؤخرہے۔حرف نفی کے بعد جملہ فعلیہ ’’يَزَّكَّىٰ‘‘ فعل مضارع منصوب واحد مذکر غائب،ضمیر فاعل مستتر راجع امیر شخص،باب پنجم تفاعل۔’’وہ اپنے آپ کوعلمی وفکری لحاظ سے نہ سدھارے؛ باطل نظریات سے نکل کرحق کو نہ اپنائے‘‘۔’’مَا‘‘حرف نفی اور ’’عَلَيْكَ‘‘جار و مجرور ’’آپ (ﷺ) پر‘‘متعلق محذوف خبر۔عربی زبان میں  متن کے کسی جزو کو حذف صرف اس صورت میں کیا جاتا جب معنی اور مفہوم از خود سے واضح ہو اور محذوف کے متعلق واضح ااشارہ موجود ہو۔اختصار کلام میں خوبصورتی کا باعث ہے۔

اگرچہ محذوف خبرمیں براہ راست مخاطب کے  سوچ اور غور کے لئے بہت مواد موجود ہو سکتا ہے مگر مترجمین کو محذوف کے متعلق  قرءان مجید کے دوسرے مقامات پر اس موضوع کے  متعلق معلومات کی بنیاد پر ترجمہ کرنا چاہئیے۔سیاق و سباق ان ﷺ کے ایک بگڑے ہوئے رئیس سردارکو باطل نظریات اور طرز زندگی سے موڑنے کےلئے اس پر اس قدر انہماک سے توجہ دینا ہے ۔اس طرح کی کوشش کے بعد ناکامی کوفت کا باعث بنتی ہے اور آپ ﷺ کے لئے تو دکھ اور غم کا باعث جب لوگ ایمان نہیں لاتے۔اس لئے موقع محل کی مناسبت سے کوشش کے منفی نتیجےپر آپ ﷺ کو دلاسا دینا مقصود ہے۔اور اس کے علاوہ ہر قسم کے احتمال کی نفی کی بھی یقین دہانی موجود ہے،یہ گمان کہ اگر میں نے کچھ اور محنت کی ہوتی تو شاید وہ سدھرنے کا سوچتا؛یا روز قیامت اس شخص کے گلہ شکوہ کرنے کا امکان کہ آپ ﷺ کچھ زیادہ زور دیتے تو شاید میں سدھر جاتا اور اس انجام سے بچ جاتا وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ نےاس کے فوراً بعد انہیں ان کے پاس آئے ہوئے ایک پہلے والے سے متضاد نفسیات اور روئیے کے حامل شخص کے متعلق بتایا جس میں ان ﷺ کے لئے راحت کا پہلو تھا:

 

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ .٨

اور  ایک یہ صاحب ہیں  جو آپ(ﷺ)کے پاس شوق سے کوشش کر کے آئے ہوئے ہیں ۔

وَهُوَ يَخْشَىٰ .٩

اور وہ (اندھا شخص)ا للہ تعالیٰ کے لئے سراپا عجز و انکسار ہے،

فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ .١٠

اُس صاحب حیثیت شخص سے منہمک ہونے کی بناء پرآپ(ﷺ) اِس کی طرف  ابھی متوجہ نہیں ہیں۔

’’مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ‘‘اس جملے کے عام طور پر اردو کے مفسرین،مترجمین نے یہ معنی لکھے ہیں ”جو دوڑتا ہوا آیا“۔ایک نابینا شخص کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کسی کے گھر یا مقام پر دوڑتا ہوا آیا تھا،ایک بے معنی بات ہے کیونکہ اندھےگلی محلے میں دوڑنے سے اجتناب برتتے، معذور ہوتے ہیں۔’’يَسْعَىٰ‘‘فعل ماضی واحد مذکر غائب،ضمیر فاعل مستتر، راجع نابینا شخص/مہمان؛ ماخذ ’’س۔ع۔ی‘‘ جو دوڑنے کے علاوہ کسی کام کیلئے اہتمام،دوڑ دھوپ اور کوشش کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے معنی سعی و کوشش ہیں۔اور کسی بھی کام کیلئے سعی و کوشش شوق،عزم،رغبت کا نتیجہ ہوتا ہے اور ٱسْتَغْنَىٰ اس کی ضد ہے۔امیر شخص کی جانب  انہماک سے متوجہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جونابینا شخص شوق، سعی و کوشش کر کے آیا ہواتھا رسولِ کریم ﷺ کو اس کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی تھی۔              ’’فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ‘‘یہ جملہ مبتداء’’مَن‘‘کی خبر ہے۔ حرف ’’فَ‘‘پہلے بیان کردہ بات کوسبب  قرار دیتے ہوئے بعد کے جملے میں نتیجہ بیان کرتا ہے۔ ’’تَلَهَّىٰ‘‘یہ جملہ فعلیہ جملہ اسمیہ کی خبر ہے،فعل مضارع مرفوع،واحد مذکر حاضر،ضمیر مستتر؛باب تفاعل؛ماخذ   ’’ل۔ھ۔و‘‘،  ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی کسی چیز کے ذریعے دوسری چیز سے توجہ کا ہٹ جانا،دوم کسی چیز کو ہاتھ سے چھوڑ دینا۔’’تَصَدَّىٰ‘‘ایک جانب انہماک سے متوجہ حالت   کا نتیجہ،ضد، الٹ ’’تَلَهَّىٰ‘‘عدم توجہ ہے۔

قصہ واقعات کا بیان ہے،خبر ہے۔خبر میں اہمیت اصل واقعات کا احاطہ کرنے کی ہوتی ہے جب کہ کہانی بنیادی طور پر کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔کہانیوں میں ناموں کی اہمیت سر فہرست ہوتی ہے لیکن خبر اور قصہ،یعنی واقعات کے بیان میں ناموں کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے کہ اُن واقعات کی خبر دینے کا مقصودتذکیر و موعظت ہے،لطف و سرور نہیں۔خبراورواقعہ میں کچھ قطع و برید،کچھ اضافہ،مبالغہ اور مرئی اجسام، شبیہیں داخل کرنے اور کرداروں کو نام دینے سے جو شئے وجود میں آتی ہے وہ افسانہ،کہانی،روایت اورداستان ہے اور یہ سرعت سے لوگوں میں پھیلتی ہے کیونکہ خبر کے تذکیر و موعظت کے پہلو کو دباتے ہوئے مختلف انداز کے لطف و سرور کے سامانِ تسکین انسان کیلئے مہیا کرتی ہے۔ماضی میں پیش آئے کسی واقعہ کو بیان کرنے کا حق اُس کے عینی شاہد کو ہوتا ہے۔عینی شاہد کے بیان کردہ واقعہ میں اگرمیں یاآپ باتوں کا اضافہ کریں گے تو پھر وہ میری اور آپ کی ترتیب دی ہوئی کہانی کہلائے گی شاہد،گواہ کا بیان کیا ہوا واقعہ نہیں۔

انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کیا یاد رکھنا چاہتا ہے۔سنی سنائی کہاوتیں اور کہانیاں،روایتیں یا کتابِ لا ریب کا بیانِ حقیقت۔
عالمین کی سب سے عظیم تخلیق،آقائے نامدار،رسولِ کریم ﷺ پر درودوسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔میرے آقا کے شایان نہیں کہ ناگواری کے احساس تلے تیوریوں پر بل پڑیں۔اُن کا قلب مبارک تو اُن کیلئے بھی غم سے بھرا ہوا ہے جو اُن سے حسد اور بغض رکھتے ہیں۔آقائے نامدار ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق قرءان مجید کے حاشیوں یاکہیں بھی کوئی چھوٹا لفظ لکھا ہوا دیکھیں تو مکمل یقین اور اعتماد سے اُسے کاٹ دیا کریں کہ غلط ہے۔اور کبھی اِس مخمصے اور تذبذب کا شکار نہ ہوں کہ ایسا کرنے سے کسی روایت یا راوی کے بیان کی مخالفت ہو جائے گی یا اُس کی بے ادبی کے مرتکب ہو جائیں گے۔کسی بھی صاحب علم اور صاحب الرائے سے اختلاف کرنا بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا۔موسیٰ علیہ السلام کو ایک شخص سے ملاقات کرنے سے قبل اُس کے متعلق معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی جناب سے اُسے علم عطا کیا گیا ہے مگر اُس کے باوجود انہوں نے اُس کے ہر فعل پر تنقید اور سوال اٹھایا تھا۔لیکن کائنات میں محض ایک ہستی ہے جن کے ادب سے غفلت اور عدم توجہ ہمارے لئے مکمل بربادی کا باعث بن سکتی ہے،ایسی بربادی جس کا ہمیں احساس اور شعور تک نہیں ہونا۔اور وہ ذات اقدس ہے میرے اور آپ کے آقا،آقائے نامدار،رحمت للعالمین،رسولِ کریم ﷺ۔