قرءان مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۔۔۔ٱلْمُدَّثِّر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


ترجمہ آیات۔۱۔۱۰

 

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمُدَّثِّرُ .١

  • اے عفت وحیا کے پیکر /ازخود سےچادر اوڑھ کر سونے کی عادت اپنانے والے!

قُمْ فَأَنذِرْ .٢

  • آپ(ﷺ)اٹھیں ،تیار ہوکر اس ملاقاتی کو خبردار کریں جوآپ سے ملنے آیا ہے،اِن باتوں کے متعلق:

وَرَبَّكَ فَكَـبِّـرْ .٣

  • ....”اوراپنے رب کی بندگی کریں؛چونکہ وہ معبود مطلق ہیں  اس لئے اپنے رب کی  عظمت  کو لوگوں میں اجاگر کریں۔

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ .٤

  • اور  اپنے پہنے ہوئے کپڑوں  کو دیکھو۔اگر کچھ نجاست  دکھائی دے  تو انہیں مطہر حالت میں کرو۔

وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ .٥

  • اوراگر کپڑوں پروہ دکھائی دےجس سے گھن آئے /باعث اضطراب  بننے والی شئے  تو اس کو دور کرو/دھوؤ

وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْـثِرُ .٦

  • اور تمہیں چاہئیے کہ احسان نہ کرواِس خیال سے کہ زیادہ حاصل کرو۔

وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِـرْ .٧

  • اور اپنے رب کے لئے دعوت کے جواب میں لبیک کہہ۔اگر اس تبدیلی سے مشکلات کا سامنا ہو تو صبر و تحمل سے برداشت کر۔

فَإِذَا نُقِرَ فِـى ٱلنَّاقُورِ .٨

  • چونکہ بخیر انجام ایمان لانے سے مشروط ہے اس   لئے جب ناقور میں پھونک دیا جائے گا۔

فَذَٟلِكَ يَوْمَئِذٛ يَوْمٌ عَسِيـرٌ .٩

  • تو  جس  وقت یہ پھونک دیا جائے گا توہ دن بھاری،تکلیف دہ ہوگا۔

عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ غَيْـرُ يَسِيـرٛ .١٠

  • اس دن میں  نرمی کا کوئی پہلو  قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لئےنہیں ہو گا‘‘۔

 

:تحلیل نحوی و صرفی:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمُدَّثِّرُ۔جملہ ابتدائیہ۔

يَـٰٓأَيُّـهَا۔ يَآ :أداة نداء + أَيُّ: منادى مبنى على الضم فى محل نصب + هَا: حرف للتنبيه توجہ۔

ٱلْمُدَّثِّر۔بدل منادی۔ اسم فاعل:معرفہ باللام-مرفوع-واحد مذكر/باب  تَفَعَّلَ۔

قُمْ۔ فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ /واحد مذكر-حاضر۔

فَأَنذِرْ۔حرف فَ ۔رابطہ لشرط مقدر/محذوف+فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكرمخاطب/باب افعال۔مفعول به محذوف۔

وَرَبَّكَ فَكَـبِّـرْ۔جملہ استنافیہ۔۔

وَ۔الواو استئنافية۔

رَبَّكَ۔جملہ فعلیہ۔فعل محذوف۔مفعول به۔مرکب اضافی۔الإِضَافَةُ-اسم: منصوب-واحد مذكر/مضاف + ضمير متصل-واحد مذكرحاضر في محل جر-مضاف إليه۔

فَكَـبِّـرْ۔حرف فَ ۔الفصيحة/محذوف+فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكرمخاطب/باب  تَفْعِيل۔مفعول به محذوف۔۔

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۔جملہ معطوفہ۔

وَ۔حرف عطف۔

ثِيَابَكَ۔جملہ فعلیہ۔فعل محذوف۔مفعول به۔مرکب اضافی۔  الإِضَافَةُ-اسم: منصوب-واحد مذكر/مضاف + ضمير متصل-واحد مذكرحاضر في محل جر-مضاف إليه ۔

فَطَهِّرْ۔حرف فَ ۔رابطہ لشرط مقدر/محذوف+فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكرمخاطب/باب  تَفْعِيل۔مفعول به محذوف۔

وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ ۔جملہ معطوفہ۔

وَ۔حرف عطف

ٱلرُّجْزَ۔جملہ فعلیہ۔فعل محذوف۔مفعول به۔اسم :معرفہ باللام-منصوب-واحد مذكر ۔

فَٱهْجُرْ ۔حرف فَ ۔رابطہ لشرط مقدر/محذوف+فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكرمخاطب/باب  تَفْعِيل۔مفعول به محذوف۔۔

وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْـثِرُ۔جملہ استنافیہ۔

وَ۔الواو استئنافية

لَا۔نَاهية جَازمة۔

تَمْنُن۔ فعل مضارع مجزوم/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ/واحد مذكرحاضر۔

تَسْتَكْـثِرُ۔جملہ حال۔ فعل مضارع مرفوع بالضمة/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكر حاضر/باب اِسْتَفْعَلَ۔

وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِـرْ۔جملہ معطوفہ۔

وَ۔حرف عطف

لِرَبِّكَ۔متعلق فعل محذوف۔جار و مجرور +مرکب اضافی۔جار و مجرور + الإِضَافَةُ =  لِ حرف جر + اسم:مجرور واحد-مذكر/مضافضمير متصل-واحد مذكر مخاطب في محل جر-مضاف إليه۔

فَٱصْبِـرْ۔حرف فَ ۔رابطہ لشرط مقدر/محذوف + فعل أمر مبنى على السكون/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ-واحد مذكرمخاطب۔

فَإِذَا نُقِرَ فِـى ٱلنَّاقُورِ۔

فَإِذَا نُقِرَ۔ حرف فَ ۔الفصيحة +  ظرف زمان ۔مضاف۔الجملة في محل جر بالإضافة۔فعل  ماضٍ مبني للمجهول-مبني على الفتح/صيغة:واحد مذكرغائب۔

فِـى ٱلنَّاقُورِ۔متعلق فعل۔جار و مجرور۔حرف جر۔ اسم آله:معرفہ باللام-مجرور-واحد مذكر

10۔فَذَٟلِكَ يَوْمَئِذٛ يَوْمٌ عَسِيـرٌ۔

فَذَٟلِكَ۔ حرف فَ + اسم الإشارة۔مبتداء

يَوْمَئِذٛ۔ظرف زمان۔مرکب اضافی+مرکب اضافی۔تنوین بعوض محذوف مضاف الیہ۔

يَوْمٌ عَسِيـرٌ۔خبر۔مرکب توصیفی۔اسم :مرفوع-واحد مذكر۔الصفة المشبهة:- مرفوع-واحد مذكر۔

11۔عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ غَيْـرُ يَسِيـرٛ۔

عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ۔ صفت ثانی لیوم ۔متعلق  غَيْـرُ يَسِيـر۔جار و مجرور ۔حرف جر۔  اسم فاعل:معرفہ باللام- منصوب/مجرور-جمع سالم مذكر۔

غَيْـرُ يَسِيـرٛ۔مرکب اضافی۔ اسم:مرفوع-واحد-مذكر۔


تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت

سورۃ کے دس آیات پرمشتمل پہلے فریم/فصل میں محض بتیس الفاظ ہیں مگر بلاغت درجہ کمال پر ہے۔فصاحت و بلاغت میں ایک اہم کردار حذف کا ہے۔اور اختصار متن میں باعث حسن و خوبی اور مصنف کے علمی عبور کو ظاہر کرتا ہے۔مترجم اور"مفسر" کی  ذمہ داری ہے کہ  حذف شدہ کو متعین اور تبین کرے تاکہ  اصل مسودہ کی زبان نہ جاننے والے قاری کے لئے ابہام اور مفہوم میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔عربی زبان کا اصول ہے کہ اختصار اور حسن ِبیان کے لئے الفاظ کو حذف صرف اس صورت میں کیا جائے گا جب عربی تحریر کو سمجھنے والے قاری کے لئے واضح اشارہ موجود ہو اور وہ باآسانی اور روانی میں اس محذوف  کو پہچان لے۔

عرب گفتگو میں کثیر تعداد میں الفاظ کے استعمال کو پسند نہیں کرتے اورکم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معلومات اور پیغام پہنچانے کو جامع بیان سمجھتے ہیں۔اس سے یہ بھی عکاسی ہوتی ہے کہ عربی زبان اپنے سامع اور قاری کو ایک ذمہ دار،ذہین شخص کی حیثیت دیتی ہے جو عقل و فہم کی تمام صلاحیتوں اور دھیان کو متوجہ رکھتے ہوئے سنتا اور پڑھتا ہے۔اس کا اندازہ ان اٹھائیس الفاظ سے ہو جائے گا جو آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ نے گھر آئے ایک مشرک  سردار سے کہے تھے۔

آقائے نامدار،رسولِ کریم ﷺ اپنی تمام حیات میں عفت و حیا ؔ    اور معرفت وعلم کے پیکر ہیں

اللہ رب العزت نے آقائے نامدار ﷺ کو آواز دے کر نیند سے یوں جگایا:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمُدَّثِّرُ .١

  • اے عفت وحیا کے پیکر /ازخود سےچادر اوڑھ کر سونے کی عادت اپنانے والے!

يَـٰٓأَيُّـهَا۔میں  ’’یَآ ‘‘حرفِ ندا ہے۔”أَےُّھَا“ ندا میں جب منادی/پکارے جانے والے پر ”ا ل“داخل ہو تو مذکر کیلئے”أَےُّھَا“ اور مؤنث کیلئے ”أَےُّتُھَا حرف ندا  کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے۔ا للہ تعالیٰ نے آقائے نامدار،رسولِ کریمﷺ کو ایک خطاب دے کر پکاراہے۔ اسم فاعل واحد مذکر ہے۔اِس خطاب کا مادہ ”د۔ ث۔ ر“ اور معنی وہ کپڑا ہیں جو آدمی اپنے لباس کے اوپر اوڑھ لے۔ شِعار اُس کپڑے کو کہتے ہیں جو بدن (جلد)سے ملا ہوتا ہے اور دثار وہ کپڑا جو اوپر سے پہنا یا اوڑھا جاتا ہے۔درختوں کے حوالے سے استعمال ہو تو اِس کا مفہوم پتوں کا نکلنا اور سبز شاخیں پھیلنا ہوتا ہے جو ٹہنیوں کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ابن فارس نے کہا کہ اِس کے بنیادی معنی چیزوں کا اوپر تلے آ جانا،تہہ بہ تہہ جم جانا یا اوپر چڑھ جانا ہیں۔
جسم عورت کا ہو یا مرد کا،اُس کی اپنی عفت ہے۔لباس جسم کو ڈھانپ دیتا ہے۔لباس کا مقصود کیا ہے؟

وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيلَ لِبَاسٙا

  • اور وہ جناب ہیں جنہوں نے رات کو تم لوگوں کے لئےلباس کی مانند کر دیا جو نشیب و فراز کو اوجھل کر دیتا ہے۔(حوالہ الفرقان۔۴۷)

وَجَعَلْنَا ٱلَّيلَ لِبَاسٙا .١٠

  • اورہم جناب نےرات کولباس کی مانند کر دیا جو نشیب و فراز کو اوجھل کر دیتا ہے۔(النباء۔١٠)

لباس وہ ہے جو جسم کو تاریکی کا لبادہ اوڑھا کر نظروں سے اوجھل کرے۔رات تاریک ہوتی ہے جو اشیاء کو نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے اور لباس کا یہی مفہوم اور مقصد ہے۔ہم شئے اورجسم کو اِس وجہ سے دیکھتے ہیں کہ روشنی کی شعاعیں اُس سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں میں آتی ہیں۔ لباس کے باوجود عورت کے جسم کے خدوخال،نشیب و فرازانسان اور شیطان کی نگاہ میں آتے ہیں۔ا للہ تعالیٰ نے آقائے نامدار ﷺ سے فرمایا کہ عورتوں کو حکم دیں:

وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَـىٰ جُيُوبِـهِنَّۖ

  • اور انہیں چاہیے کہ انہیں(قدرتی ابھری زینت)اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینے پر ڈال کر ڈھانپ دیں۔

Root: خ م ر

 آقائے نامدار ﷺ سے سورۃ الاحزاب کی آیت ۵۹ میں یہ بھی فرمایا کہ حکم دیں:

قُل لِّأَزْوَٟجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ يُدْنِيـنَ عَلَيْـهِنَّ مِن جَلَٟبِيبِـهِنَّۚ

  • آپ(ﷺ)اپنی ازواج مطہرات،اپنی دختران اور ایمان والوں کی عورتوں/بیویوں کے لئے  یہ فرمان جاری کریں کہ گھر سے باہر نکلنے کے لئے اپنی دراز چادروں کو اپنے اوپر نیچے کی جانب اوڑھ لیں۔

گھروں میں اور اپنی جان پہچان کے لوگوں کے سامنے سینے پر ”خُمُرِ“ڈالنے کیلئے کہا گیا تاکہ سینے کے ابھار چھپ جائیں۔لیکن اِن شالوں،چادروں (خُمُرِھِنَّ)کے متعلق یہ نہیں کہا”يُدْنِيـنَ “جمع مؤنث غائب مضارع کا صیغہ ”وہ نیچے کر لیں“۔شال،چادر سے سینے کوڈھانپنے کیلئے کہا گیا اور اِن چادروں کو سینے سے نیچے کرنے کا نہیں کہا۔مگر گھر سے باہرنکلنے پر انہیں اپنی بڑی چادروں میں سے”يُدْنِيـنَ “نیچے کرنے کیلئے کہا گیا۔”جَلَٟبِيبِـهِنَّ“بڑی چادروں کو کہتے ہیں۔ خُمُر سینے کے ابھاروں کو چھپانے کیلئے کافی ہوتی ہیں لیکن گھر سے نکلنے پر بڑی چادروں کو سینے سے نیچے (پیٹ،کولہے پر)بھی کر لیا جائے تاکہ کمر/کولہے کے متعلق بھی دیکھنے والے کو اندازہ نہ ہو سکے۔عورت کو اپنے گھر سے باہر اپنے نشیب و فراز(figure)لوگوں کی نگاہوں سے چھپائے رکھنے کی ہدایت ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ لوگوں سے وہ بات نہ کہا کرو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔آقائے نامدار ﷺ سے مومنین عورتوں کو کہلوایا گیا کہ نامحرم مردوں اور غیر عورتوں کے سامنے لباس کے اوپر سینے پر چادر اوڑھ لیا کریں۔ ا للہ تعالیٰ نے عورت کے سینے پر اُس کی زینت ابھار بنائے ہیں جنہیں لباس نگاہوں سے اوجھل نہیں رکھ سکتا کہ ابھرے ہوئے ہونے کی بناء پر اپنے آپ سے ظاہر ہیں۔ اِس لئے حتی الامکان اُن کو نگاہوں سے اوجھل رکھنے کیلئے سلے ہوئے لباس کے اوپر اَن سلی چادر اوڑھنے کا حکم دیا
(جسم اور چادر کے درمیان ہوا کی موجودگی ابھار کو چھپانے میں ممدومعاون ہو گی)اور نچلے دھڑکو بھی اَن سلی چادرسے ڈھانپنے کیلئے۔ چادر خواتین کے جسم کو تقدس،عفت اور حیا عطا کرتی ہے۔چادراُن پر پڑنے والی بے حیا نگاہوں کو اُن کے عفت مآب جسم پر پھسلنے سے روک دیتی ہے کیونکہ آنکھ کے ذریعے ان کے دماغ کو کوئی سگنل نہیں ملتا ۔

اور میرے آقا،آقائے نامدار ﷺ کے جسم مبارک سے بڑھ کر کوئی بھی جسم  عفت مآب نہیں اور اُن سے بڑھ کر کوئی محتاط بھی نہیں۔ا للہ تعالی میرے آقا، آقائے نامدار ﷺ سے وہی بات کہلواتے ہیں جس پر وہ خود عمل پیرا رہےہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمُدَّثِّرُ .١

  • اے عفت وحیا کے پیکر /ازخود سےچادر اوڑھ کر سونے کی عادت اپنانے والے!

          د ث ر Root 

کسی بندے کے علم و معرفت کی پہچان کیا ہے؟علم و معرفت پنہاں شئے کا نام ہے جو انسان کے ذہن میں محفوظ ہوتا ہے۔ علم و معرفت کا اظہار انسان کے عمل اور روش سے ہوتا ہے۔ غفلت لاعلمی کی مظہر ہے۔ احتیاط اور حیاعلم ومعرفت کی مظہر ہے ۔  غفلت اور احتیاط میں فرق اور فاصلہ بہت طویل ہے۔حیاؔ ہر لمحہ احتیاط کی طالب ہے۔قرءانِ مجید کے نزول سے قبل آقائے نامدار،نبی امی ﷺکی علم و معرفت کو اگر کسی نے جاننا ہے تو اُس کیلئے سوال ا للہ تعالیٰ سے کرے ۔ لیکن ا للہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کی علم و معرفت کی بلندیوں کو واشگاف الفاظ میں افشا کر دیا ہوا ہے۔آپ ﷺ نزول قرءانِ مجید سے قبل کیا تھے؟ ٱلْمُزَّمِّلُ۔اور  ٱلْمُدَّثِّرُ۔ ہمارے رب نے ہمارے آقا، آقائے نامدار ﷺ کو ان ناموں سے پکارا ہے۔ا للہ تعالیٰ کاآپ ﷺ کو اِن ناموں سے خطاب کرنا آپ ﷺ کے علم و معرفت کا اعتراف بھی ہے اور واشگاف اعلان بھی۔

 میرے آقا پر درود وسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔قرءانِ مجید کے نزول سے قبل بھی علم و ادراک کی اُن بلندیوں پر تھے جنہیں جاننے کیلئے انسان کو نہ جانے کتنی صدیاں اور درکار ہوں گی۔آقائے نامدار ﷺ پر نازل فرمائے گئے قرءانِ مجید میں فرمان ہے:

سَنُرِيـهِـمْ ءَايَٟتِنَا فِـى ٱلْءَافَاقِ وَفِـىٓ أَنفُسِهِـمْ

  • ہم جناب انہیں (قرءانِ مجید کا انکار کرنے والے) آج کے بعد سے آفاق کے گوشے گوشے اور خود اُن کے جسموں میں پنہاں مادی حقیقتوں (علم آیات کا ہوتا ہے) کاگاہے بگاہے  مشاہدہ کراتے رہیں گے۔(حوالہ فصلت۔۵۳)

میرے آقا کو نزول قرءانِ مجید سے قبل بھی اپنی ذات میں پنہاں حقیقتوں کا علم تھا۔اور اُن سے وہ محتاط تھے۔جسم مبارک کوچادرمیں لپیٹ کر سونے میں احتیاط ہی کا پہلو ہے۔ا نسان نیند میں اپنے جسم سے غافل ہو جاتا ہے اور اُس کے بعض اعضاء من مانی کر سکتے ہیں۔ چادر میں لپٹے انسان کے جسم کی”عفت‘‘حالت نیند کی غفلت میں بھی دوسروں سے پنہاں اور محفوظ رہتی ہے۔ا للہ رب العزت نے آقائے نامدار ﷺ کی جسم مبارک کو لپیٹ اور ڈھانپ کرسونے کے انداز اور عادت کواتنا پسند فرمایااور لائق اہمیت جانا کہ اسے اُن کیلئے اسم ندا بنا دیا۔اور ہمیں واضح فرما یا کہ ہمارے آقا کی زندگی میں غفلت کا لمحہ کبھی نہیں آیا۔آقائے نامدار پر درودوسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔
انسان اُس وقت تک طفل کی حد میں شمار ہوتے ہیں جب تک عورت کے پردے کی باتوں (جنسی اعضاء،معاملات) سے آگاہ ہونے کی عمر کو نہیں پہنچتے اور اسی بناء پرسورۃالنور کی آیت ۳۱ میں بتایا

أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا۟ عَلَـىٰ عَوْرَٟتِ ٱلنِّسَآ ءِۖ

  • یا ایسے بچوں کے سامنے عورتوں پر پابندی نہیں کہ وہ اپنے لباس کے اوپر سینے پر ڈالی ہوئی اضافی اوڑھنی اتار دیں جنہیں ابھی عورتوں کے جنسی معاملات اعضاء کا شعور نہیں۔

اِس کے بعد وہ طفل نہیں رہتے:

وَإِذَا بَلَغَ ٱلۡأَطْفَٟلُ مِنكُـمُ ٱلْحُلُمَ

  •  اور جب تم میں سے اطفال عنفوان شباب کی حد میں داخل ہو چکے ہوں۔(حوالہ النور۔۵۸)

ٱلْحُلُمَ۔کے معنی ”خواب میں احتلام،یعنی جنسی منتہا (orgasm) تک پہنچنا“ ہیں۔یہ سن تمیز و بلوغت (adolescence)ہے جس کے شروع ہونے پرانسان کو اِس کا پہلی مرتبہ تجربہ،احساس ہوتا ہے۔حیوانوں کے رویوں پر تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ خواب میں اِس کیفیت سے صرف انسان دوچار ہوتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جانوروں کے بچے اپنے ”بڑوں“کواس کام میں ملوث ہوتے دیکھتے رہتے ہیں اور انسانوں کے ہاں یہ فعل تنہائی اور تقدس کا پہلو لئے ہوئے ہے اور بچوں کی نگاہوں میں اسے نہ آنے دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ سن تمیز و بلوغت یعنی  ٱلْحُلُمَ مادہ منویہ کے خارج ہونے کےلطف کی کیفیت اور اُس کی وجہ سے پہنے ہوئے کپڑے پر پڑے لتھڑے/چپکنے والے داغ کو جان لینے والے بچوں کو جنسی معلومات کے متعلق مواد اور تعلیم بہم پہنچانا بڑوں کا فرض ہے تاکہ اپنی تنہائی میں ذاتی طور پر اس کے اسرارورموز کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں اور بے راہ روی میں پڑنے کے خطرے سے بچ سکیں۔اور بچے جب اِس عمر میں پہنچیں تو آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ کی بہت زیادہ احتیاط برتنے اور لیٹتے وقت جسم مبارک کو چادر میں لپیٹ کر رکھنے کی عادت مبارک کی تقلید اور پیروی میں والدین کو چاہئے کہ اپنے بیٹوں کو رات کے وقت چادر اوڑھ کر کروٹ کے بل سونے کی عادت پر راغب کریں۔بالغ ہونے پر نیند کی غفلت میں مرد کے جنسی عضو میں بغیر خواہش اور احساس کے چار پانچ مرتبہ ابھار اور انتہائی سختی والامکمل تناؤ پیدا ہوتا ہے جس کا دورانیہ پندرہ پندرہ منٹ رہتا ہے۔

The penis has two states, flaccid and erect. The difference between the two depends on the filling of the penile chambers with blood up to the level of pressure in the major arteries of the body. If not sexually active, normal men are flaccid about 23 hours of the day, with approximately one aggregate hour of erection occurring during a part of rapid eye movement (REM) sleep. Men average four or five REM erections a night, each lasting about 15 minutes. The cause and function of these erections are not known, The frequency of REM erections usually diminishes with age. (Microsoft® Encarta® Reference Library 2003)

یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ انسانوں کی اکثریت کے مشاہدے اور علم میں یہ بات نہیں تھی کہ نیند کی غفلت میں عضو تناسل ایک گھنٹے یا اُس سے بھی زیادہ دیر کیلئے ابھار اور تناؤ کی حالت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے جاگتے ہوئے لوگوں اور شیطان کی نگاہ میں عیاں ہوتا ہے کہ ابھار کی بناء پر جسم کالباس اسے چھپانے سے معذور ہے۔لیکن مردوں کی اکثریت کے مشاہدے اور علم میں یہ بات ہمیشہ سے ہے کہ صبح کے وقت نیند سے بیدار اور ہوشیار ہونے سے قبل ایسا ہوتا ہے۔ مگر اِس بات پر کتنوں نے توجہ دی ہو گی کہ اِس بناء پر چادر اوڑھ کر کروٹ کے بل سونا چایئے؟غفلت اور احتیاط میں فرق اور فاصلہ بہت طویل ہے۔حیاؔ ہر لمحہ احتیاط کی طالب ہے۔میرے آقا، آقائے نامدار ﷺ پر درود و سلام ہے ہر لمحہ صبح و شام جو نہ زمین پر کبھی غافل ہوتے ہیں اور نہ افق اعلیٰ اور اُس سے پار کی وسعتوں میں۔

گھر آئے مشرک سردار کو انتباہ  کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو پکار کر  یہ فرمان دیا:

قُمْ فَأَنذِرْ ٢

  • آپ(ﷺ)اٹھیں ،تیار ہوکر اس ملاقاتی کو خبردار کریں جوآپ سے ملنے آیا ہے،اِن باتوں کے متعلق:

رسول کریم ﷺ کو ندا دے کر بستر سے اٹھنے کے لئےکہا۔مگر اس کے بعد "حرف فَ"نے واضح کر دیا کہ انہیں فوری طور پر مہمان سے ملاقات کرنے کا نہیں کہا۔حرف جواب شرط نے ہمارے لئے بھی واضح کر دیا  کہ بستر سے اٹھ کر انہوں نے حسب معمول تسبیح کی(حوالہ الطور۔۴۸)ہو گی اور لباس بدلا ہو گا۔فعل امر کا مفعول محذوف ہے۔ہمارے لئے بھی اس کا تعین کرنا اس کے متصل فریم کی ابتدائی آیات میں بیان کردہ کوائف سے آسان ہے کہ صاحب ثروت مشہور  مشرک سردار ہے۔آپ ﷺ کو اس سردار سے یہ کہنے کو کہا گیا:

وَرَبَّكَ فَكَـبِّـرْ .٣

  • ۔۔۔”اوراپنے رب کی بندگی کریں؛چونکہ وہ معبود مطلق ہیں  اس لئے اپنے رب کی  عظمت  کو لوگوں میں اجاگر کریں۔

متکلم اور مخاطب دونوں کو معلوم ہے کہ کیا پیغام اور ہدایت دی گئی۔بلاغت کو جاننے کے لئے ہمیں تحلیل نحوی کا سہارا لینا ہوتا ہے اور الفاظ کے چناؤ اور ترتیب کو سمجھنے کے لئے تصریف آیات سے مدد۔مرکب اضافی "رَبَّكَ"میں مضاف منصوب ہے اور ہم جانتے ہے کہ منصوب اسم جملوں میں بارہ کردار ادا کرتا ہے۔ہم انہیں یاد کر کے فوراً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ فعل کا مفعول ہونے کے علاوہ کسی اور کردار کا حامل نہیں۔فعل محذوف کا اندازہ لگانے کی بجائے حتمی تعین کے لئے جب اس مرکب اضافی کے استعمال کو دیکھتے ہیں تو چھپن مرتبہ متن قرءان میں موجود ہے۔گیارہ مرتبہ یہ بیان کردہ فعل کا مفعول ہے۔زیر مطالعہ آیت میں محذوف فعل کا تعین اس آیت مبارکہ سے ہو جاتا ہے:

وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِيـنُ .٩٩

  • اور آپ (ﷺ)اپنے رب کی بااظہار بندگی کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو وفات دینے کے لئے موت  آپ کے پاس آن حاضر ہو۔(الحجر۔٩٩)

Root: ي ق ن

مشرک سردار کو فلسفہ توحید کا درس دیا جا رہا ہے۔اپنے رب کی بندگی  کو طرز حیات  بنانے کا کہنے کے بعد  حرف الفصيحة سے جملے کو محذوف کرتے ہوئے اُس    کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے ذمہ لگایا کہ اپنے لوگوں پر اپنے رب کی بڑائی اور عظمت کا اظہار اور پرچار کرے۔فعل باب تفعیل سے ہے جس کا مفعول محذوف ہے (كَبِّـرْهُ)جو اس کے رب کو راجع ہے۔

مشرک سردار کو مزید یہ معنی خیز جملہ کہنے کا کہا گیا:

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ .٤

  • اور  اپنے پہنے ہوئے کپڑوں  کو دیکھو۔اگر کچھ نجاست  دکھائی دے  تو انہیں مطہر حالت میں کرو۔

 ابتدائی جملے میں  یہاں بھی مرکب اضافی "ثِيَابَكَ"میں مضاف منصوب ہے  اور جس محذوف فعل کا مفعول ہے اس کو  بعد والے جملے سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ پہنے ہوئے کپڑوں کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا اگر کوئی نجاست،رجس ان پہ لگا ہے تو اسے ہٹا کر انہیں مطہر، پاکیزہ حالت میں کر دیا جائے۔بظاہر سیدھا سادا جملہ ہے جو ظاہری معنوں میں بھی  ضروری اور اچھا عمل ہے۔مگر اس میں  مخاطب پنہاں اشارہ بھی  سمجھ سکتاہے کہ مشرکانہ   خیال  اور طرز عمل  کالباس نجس ہے۔

وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ .٥

  • اوراگر کپڑوں پروہ دکھائی دےجس سے گھن آئے /باعث اضطراب  بننے والی شئے  تو اس کو دور کرو/دھوؤ

ثِيَاب“کا مادہ ”ث و ب“جس کے بنیادی معنی چلے جانے کے بعد پھر واپس آ جانا ہے۔پہننے/اوڑھنے والے کپڑے کو کہتے ہیں ۔”فَطَهِّرْ“حرف ”ف“بعد والی بات کو کسی سبب کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔”طَهِّرْ“کا مادہ ”ط ھ ر“جس کے بنیادی معنی نجاست اور غلاضت کا دور ہو جانا ہے،میل کچیل سے الگ ستھرا پن ۔ کپڑوں کو اطہر کرنے کی ضرورت اُس وقت پیش آئے گی اگر  حالت طہارت سے باہر ہو جائیں۔ حقوق زوجیت کی ادائیگی اورخواتین کے ایام انسان کواطہر حالت میں نہیں رہنے دیتے، اِس لئے اِن دونوں کے اختتام پر نہانے سے انسان حالت طہارت میں ہوتا ہے۔اور اِن دو مواقع کے علاوہ عنفوان شباب میں لڑکا لڑکی اور مرد اور عورت بھی الگ الگ نیند کے دوران حالت طہارت سے خارج ہو سکتے ہیں اگرچہ انہیں خواب یاد بھی نہ رہا ہو مگر اُن کا لباس بھی اِس کو اُن پر عیاں کر دے گا۔”طَهِّرْ“کیلئے چپک/لتھڑ جانے والی نجاست و غلاظت کو دور کرناہوتا ہے۔ ”َٱلرُّجْزَ“کا مادہ ”ر ج ز“ ہے جس کے بنیادی معنی اضطراب اور مسلسل حرکت کے ہیں۔یہ ایسی چیز ہے جس سے انسان کو گھن آئے اور باعث اضطراب/بے چینی ہو۔

إِذْ يُغَشِّيكُـمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةٙ مِّنْهُ

  • یہ اطمینان اس وقت محسوس ہو رہا تھا جب وہ جناب تم پر غنودگی طاری کر رہے تھے،سکون کا ذریعہ،جس سے تناؤ ختم ہو گیا۔

Root: غ ش ى

وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُـم مِّن ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُـمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٟنِ

  • اور وہ جناب آسمان سے وقفے وقفے سے تم لوگوں پر پانی برسا رہے تھے تاکہ اس کے ساتھ تمہیں دوبارہ مطہر حالت میں کر دیں اور وہ (پانی)تم سے شیطانی لتھڑن کو بہا لے جائے۔

وَلِيَـرْبِطَ عَلَـىٰ قُلُوبِكُـمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلۡأَقْدَامَ .١١

  • اور تمہارے دل   منہمک ہو جائیں،اور اس (پانی) کے ساتھ تمہارے  قدم جما دے۔(الانفال۔١١)

Root: ر ب ط; ق د م

لوگوں کی معاشی امداد کے حوالے سے ممانعت بتائی:

وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْـثِرُ .٦

  • اور تمہیں چاہئیے کہ احسان نہ کرواِس خیال سے کہ زیادہ حاصل کرو۔

اس میں جملہ"تَسْتَكْـثِرُ"حالیہ ہے کہ لوگوں پر احسان اس خیال اور خواہش کے ساتھ نہ کرو کہ دنیاوی مفاد،شہرت،سیاسی اثر و رسوخ میں کثرت حاصل ہو جائے ۔اور اسے اپنے رب کی جانب آنے کی دعوت پر لبیک کہنے اور اظہار بندگی کا کہا:

وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِـرْ .٧

  • اپنے رب کے لئے دعوت کے جواب میں لبیک کہہ۔اگر اس تبدیلی سے مشکلات کا سامنا ہو تو صبر و تحمل سے برداشت کر۔

"لِرَبِّكَ"یہ دو مرکب بعد والے جملے سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ مابین میں حرف "فَ"وصل/فصل موجود ہے۔لوگوں کو دعوت ہے:

ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُـم

  • تم لوگ اپنے رب کے لئے لبیک کہو اس دعوت کے جواب میں جو رسول کریم تمہیں دے رہے ہیں۔

مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٚ لَّا مَـرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ

  • اس دن کے پہنچ جانے سے قبل دعوت حق پر لبیک کہو۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس (دن)کے  ارادے کی تکمیل کو موڑ دینے والا قطعاً کوئی نہیں۔

مَا لَـكُـم مِّن مَّلْجَأٛ يَوْمَئِذٛ

  • جس دن ناقور میں صور پھونک دیا جا چکا ہو گا تو قطعاً کوئی ایسی جگہ نہیں ہو گی تم لوگوں کے لئے جہاں پناہ لے سکو۔

وَمَا لَـكُـم مِّن نَّكِيـرٛ .٤٧

  • اور نہ تم لوگوں کے لئے  انکار کرنے کی قطعی گنجائش نہیں ہو گی۔(الشوریٰ۔٤٧)

Root: ن ك ر

اس کو دعوت پر لبیک نہ کہنے کے انجام سے متنبہ کرتے ہوئے یہ بتانے کے لئے فرمایا:

فَإِذَا نُقِرَ فِـى ٱلنَّاقُورِ .٨

  • چونکہ بخیر انجام ایمان لانے سے مشروط ہے اس   لئے جب ناقور میں پھونک دیا جائے گا۔

فَذَٟلِكَ يَوْمَئِذٛ يَوْمٌ عَسِيـرٌ .٩

  • تو  جس  وقت یہ پھونک دیا جائے گا توہ دن بھاری،تکلیف دہ ہوگا۔

عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ غَيْـرُ يَسِيـرٛ .١٠

  • اس دن میں  نرمی کا کوئی پہلو  قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لئےنہیں ہو گا‘‘۔

۔