قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


انسانوں کی بنیادی     تقسیم :اللہ                                    تعالیٰ کو بن دیکھے موجود ماننے والے:تقویٰ کی بنیاد اور ان کو نہ ماننے والے ملحد

۔ترجمہ آیت۔۶

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟

  • ایسے لوگوں کے متعلق آپ(ﷺ)حقیقت جان لیں جنہوں نے اپنے رب اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کا انکار کر دیا ہے۔

Recitation  

سَوَآءٌ عَلَيْـهِـمْ ءَأَنذَرْتَـهُـمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُـمْ

  • آپ(ﷺ)نے ایسے لوگوں کو چاہےانجام سے خبردار کر دیا ہے یا ابھی تک انہیں خبردار نہیں کیا ،اثر پذیری کے حوالے سے ان پر یکساں ہے۔

Roots: س و ى; ن ذ ر

لَا يُؤْمِنُونَ.٦

  • ایسے لوگ آپ(ﷺ)اور   قرءان مجید پرایمان نہیں لائیں گے۔(البقرۃ۔۶)

Roots: ء م ن

 

:تحلیل نحوی و صرفی:

۱۔إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟۔ابتدائیہ جملے میں یہ تین الفاظ اٹھارہ مرتبہ آئے ہیں۔

Recurrence:(1)2:06(2)2:161(3)3:04(4)3:10(5)3:90(6)3:91(7)3:116(8)4:56(9)4:167(10)4:168(11)5:36(12)8:36(13)22:25(14)40:10(15)41:41 (16)47:32 (17)47:34(18)98:06=18

۔ إِنَّ۔ حرف المشبهة بالفعل ينصب الاسم ويرفع الخبر، ويفيد التوكيد۔جملے کی ابتدا میں یہ ٖحرف خبر کے مبنی بر حقیقت ہونے پر زور(emphasis)دیتا ہے۔

ٱلَّذِينَ ۔اسم ان َّ۔الاسم الموصول-جمع-مذكر۔

كَفَـرُوٓا۟۔صلہ موصول۔جملہ فعلیہ۔ فعل ماضٍ مبنى على الضم لاتصاله بواو الجماعة/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-والألف-فارقة/جمع مذكرغائب۔ماخذ"ک۔ف۔ر

۲۔سَوَآءٌ۔خبرمقدم۔جملہ خبر حرف مشبہ بالفعل۔ اِسم مصدر:مرفوع ۔مادہ   ’’س و ى‘‘۔

۳۔عَلَيْـهِـمْ۔متعلقان بسواء۔جار و مجرور = حرف جر+ ضمير متصل في محل جر-جمع مذكر غائب۔

۴۔ءَأَنذَرْتَـهُـمْ۔مبتدا مؤخر۔ھمزہ استفہام۔فعل ماضٍ مبنى على السكون لاتصاله بضمير المخاطب۔التاء- ضمير متصل مبنى على الفتح في محل رفع فاعل/باب افعال/ضمير متصل مبنى على الضم في محل نصب مفعول به-جمع مذكر غائب۔

۵۔أَمْ۔ حرف عطف للتسوية/مُتَّصِلَةٌ ۔

۶۔لَمْ۔ حرف جزم و قلب و نفي۔

۷۔تُنْذِرْهُـمْ۔فعل مضارع مجزوم/الفاعل ضمير مستتر فيه-أَنتَ/باب افعال/ضمير متصل مبنى على الضم في محل نصب مفعول به-جمع مذكرغائب۔

۸۔ لَا ۔حرف نفي۔

۹۔يُؤْمِنُونَ۔فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال۔


 چند معروف تراجم:

ڈاکٹر طاہر القادری: "بیشک جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لئے برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے

جاوید احمد غامدی:اِس [11] کے برخلاف جن لوگوں نے اِس کتاب کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے، [12] اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ نہ مانیں گے۔

احمد رضا خان: "بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے ا نہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں۔ "

فتح محمد جالندھری: "جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے۔"

مولانامودودی:"جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں"

یہ تراجم  علمی کاوش کا نتیجہ نہیں ہیں  جس کی وجہ سے مبہم ہیں                        اور زیادہ ابہام افعال کے صیغے    بدلنے سے کر دیا۔یہ  محض ان انگریزی تراجم کا اردو ورژن ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں نے بہت عرصہ قبل کئے تھے،جو نیچے درج ہیں۔جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ اس کو گوگل میں ڈال کر اردو ترجمہ دیکھ لیں۔اکیڈیمک اصولوں اوراخلاقیات   کا احساس رکھنے والے قاری کو ان      مترجمین کی اس قدر ’’ایمانداری‘‘سے نقل کرنے پر حیرت ہوتی ہے کہ جہاں جہاں اُنہوں نے جملوں میں محذوف عنصر کو  ترجمے میں شامل نہیں کیا وہاں وہاں اِنہوں نے بھی   نہیں کیا۔اور جہاں جہاں محذوف عنصر کو انہوں نے     ترجمےمیں شامل کیا اِنہوں نے بھی وہ نقل  کرنا اپنا فرض سمجھا۔

George Sale: As for the unbelievers, it will be equal to them whether thou admonish them, or do not admonish them; they will not believe.

JM Rodwell: As to the infidels, alike is it to them whether thou warn them or warn them not-they will not believe:


تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت

آیات مبارکہ ۶ اور ۷ چھبیس الفاظ پر مشتمل ایک  جملہ ملتف(complex sentence)ہے۔اس طرح کے جملے میں ایک آزاد جملہ اور ذیلی جملے ہوتے ہیں۔اور معنی کے لحاظ سے یہ جملہ declarative sentence ہے جسے آپ اردو میں اعلانیہ،اطلاعی،معلوماتی جملہ کہیں گے۔ایسے جملے کا مقصد مخاطب اور قاری کو معلومات دینا ہوتا ہے،بحث مباحثہ اور نکتے کو منوانا مقصد نہیں ہوتا۔

آیت مبارکہ ان میں سے ہے جنہیں آیات محکمات قرار دیا گیا ہے۔ایسی آیات جن میں احکام ، ممانعتیں اور فیصلےدرج ہیں جو ہمیشہ کے لئے نافذ العمل ہیں۔ان                    میں ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے جو عوام الناس کے فہم و ادراک میں ہے اور بنیادی معنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

کمال    کا  ربط اور      تسلسل اس انداز کا        ہے  جیسے قرءان مجید ان دعا گو لوگوں کی استدعا کی ترتیب سے مدون کیا  گیا ہے۔صراط مستقیم   کو بیان کرتےہوئے انہوں نے اس کو’’غَيْـرِ ٱلْمَغْضُوبِ‘‘قرار دیا۔انعام  یافتہ،کامیابی سے سرخرو ہونے والوں کے بعد ان کو متعارف اور ان کے انجام  کے  متعلق حتمی خبر کو بیان کیا                                                       ہے۔ان لوگوں کا       تعارف ہے’’إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟‘‘۔اس فعل کا ماخذ’’ك ف ر‘‘جس کے کے بنیادی معنی چھپانے اور ڈھانپنے کے ہیں۔اس لئے ایک ایسے شخص کو ”كَافِرٚ“کہا جاتا ہے جو ہتھیاروں میں اِس طرح ڈوب جائے کہ اُس کا بدن نظر نہ آئے۔رات کو بھی ”كَافِر“کہتے ہیں کیونکہ اُس کی تاریکی تمام چیزوں پر پردہ ڈا ل دیتی ہے یعنی انہیں چھپا اور ڈھانپ دیتی ہے۔اسی مادہ سے ”كَفَّارَةٚ“(اردو میں کفارہ مستعمل)ہے جس کے معنی ایسا عمل ہے جو سرزد ہوئی غلطی، لغزش پر پردہ ڈالنے،اُسے چھپانے یعنی غلط کام کے ضرررساں نتیجے کو ڈھانپنے کیلئے انجام دیا جائے(حوالہ المائدہ۔ ۴۵ ، ۹۵اور۹۸)۔”کُفرٌ“کے بنیادی معنی چھپانا اور اس کے متضاد ”شُکرٌ“ہے جس کے معنی کسی چیز کا ابھر کر سامنے آ جانا ہیں۔ ا للہ تعالیٰ کی جانب سے فضل پر انسان کا رویہ دونوں  میں سے ایک ہو سکتا ہے(حوالہ النمل۔۴۰)۔ ”شُکرٌ“ اظہار قدردانی ہے جو لوگوں کیلئے ابھر کر نمایاں ہوتا ہے جبکہ شکرگزاری سے اجتناب ناقدری کرنا ہے جو درحقیقت فضل کولوگوں سے چھپانا اور ڈھانپنا یعنی”کُفرٌ“ ہے۔

عربی زبان کے الفاظ ایک مادہ (Root)سے وجود لیتے ہیں اور اُن کے معنی اور مفہوم میں اُس تصور (perception) کا ہمیشہ غلبہ رہتا ہے جو اُن کے مادہ میں سمویا ہوتا ہے۔انسان کا کسی بات اور دعوت سے انکار بھی محض اِس بناء پر ہوتا ہے کہ اُس کے دل و دماغ کو بدیہی حقیقت یا دعوت کے متضاد کسی شئے نے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے۔اِس لئے عربی زبان کے اِس مادہ ”ک ف ر“کے معنی بدیہی حقیقت اور بتائی جانے والی بات اور دعوت کاانکارکرنا ہیں۔جملے میں فعل ان افعال میں شمار ہوتا ہے جن میں حرکت اور توانائی کا استعمال نہیں بلکہ موجودگی اور حالت کو بیان کرتا ہے جو عموماً مقیم اور مستقل ہے۔ان کا تعلق خیالات،اراء، ایمان،تسلیم، انکار یقین، تصور، احساسات، جذبات،محسوسات وغیرہ سے ہے۔انگلش میں انہیں Stative verbs کہتے ہیں۔ان افعال کا جس معاملے سے تعلق ہوتا ہے اس سے الصاق کے لئے اسے حرف جر  بـِ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔سیاق و سباق میں جب وہ شئے واضح ہو تو اسے محذوف کر دیا جاتا ہے۔جیسے یہاں کیا  گیاہے۔فصاحت و بلاغت میں ایک اہم کردار حذف کا ہے۔اور اختصار متن میں باعث حسن و خوبی اور مصنف کے علمی عبور کو ظاہر کرتا ہے۔مترجم اور"مفسر" کی  ذمہ داری ہے کہ وہ حذف شدہ کو متعین اور تبین کرے تاکہ  اصل مسودہ کی زبان نہ جاننے والے قاری کے لئے ابہام اور مفہوم میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔

جب بھی ’’کفر‘‘کا ذکر ہو گا وہ کسی بدیہی حقیقت کا ہو گا۔ان لوگوں نے کس حقیقت کا انکار کیا ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جنہیں ابھی     رسول کریمﷺ نے متنبہ بھی نہیں کیا۔اس سے اپنے آپ واضح ہے  کہ یقیناً اس کا تعلق رسول کریم اور قرءان مجید کے      کفر یعنی انکار سے نہیں ہے۔اول اور سب سے منفرد کافر وہ ہے جو ہوش سنبھالنے پر کائنات کے   ذرے ذرے سے عیاں سب سے بڑی بدیہی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔یہ وہ لوگ  ہیں جو خوداپنے اور اس کائنات کے خالق اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے جس میں وہ رہ رہے ہیں  اردو میں ملحد اور انگلش میں atheistsکہلاتے ہیں۔انہوں نے انکار کیا ہے بِٱللَّهِ‘‘اللہ     تعالیٰ کا۔انسانوں کی اولین تقسیم(classification)یہ ہے:

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُـمْ

  • ۔وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو تخلیق فرمایا ہے۔

فَمِنكُـمْ كَافِرٚ وَمِنكُـم مُّؤْمِنٚۚ

  • ۔چونکہ تم لوگوں کو صاحب حریت ،اپنے فیصلوں میں خود مختار (خلیفہ )قرار دیا ہے اس لئے تم میں جو لوگ خود اپنے وجود اورمظاہر فطرت پر غور نہیں کرتے وہ خالق کے موجود ہونے کے انکاری ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کوصدق دل سے مانتے ہیں جو تم میں سے عقل و فکر کو استعمال کرتے ہیں۔

وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٌ .64:02٢

  • متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔(التغابن۔۲)

۔اللہ تعالیٰ نےقرءان مجید میں پہلا سوال ہی ان لوگوں سے کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کرتے ہیں:

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ

  • ا للہ تعالیٰ کے موجود ہونے کاتم لوگ کیسے،کس منطق سے انکار کرتے ہو؟

وَكُنتُـمْ أَمْوَٟتٙا فَأَحْيَٟكُـمْۖ

  • تھے۔[matter] جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بے جان،مردہ شئے
    اس مادہ حالت سے بسبب ، زیر مقصدانہوں نے تمہیں حیات دی ۔

ثُـمَّ يُمِيتُكُـمْ

  • بعد ازاں[قَضَیٰٓ أَجَلًا  زندگی کی مدت پوری ہونے پر] وہ جناب تم لوگوں    کو طبعی موت دیں گے۔

ثُـمَّ يُحْيِيكُـمْ

  • بعد ازاں طبعی موت [ أَجَلُ مُسَمًّی متعین مدت پوری ہونے قیامت کے مقررہ وقت پر] وہ جناب تم لوگوں کوحیات دیں گے۔

ثُـمَّ إِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ.2:28٢٨

  • بعد ازاں وقت گزرنے پر( اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر۔المائدہ۔105) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔(البقرۃ۔28)

قرءانِ مجید میں موت اور حیات کا ذکر ہمیشہ اس ترتیب سے ہوا کہ حیات کو مادہ(موت)میں سے نکالنا پہلے اور بعد میں حیات میں سے مردہ کو نکالنا بیان ہوا ہے۔اگر عقل و فکر سے کام لیا جائے توانسان کا اپنا وجود اور ہستی ایک خالق کو تسلیم کرنے کیلئے ناقابل تردید دلیل ہے۔ رب اور ا نسان کا اول تعلق اِس حوالے سے ہے کہ وہ اُس کا خالق ہے۔ انسان جانتا ہے کہ اپنا خالق خود نہیں۔اپنی ہستی کا مالک نہیں بلکہ اُس کا وجود اُس کے رب کا مرہون منت ہے۔اور ا نسان کا یہ تسلیم اور اقرار کرنا کہ وہ مخلوق ہے خود متقاضی ہے کہ اپنے خالق رب کے وجود کو بن دیکھے تسلیم کرے جس کی وجہ سے محتاط روش یعنی تقویٰ اختیار کرنے کی جانب چلنے والوں میں شمار ہونے لگے گا۔کسی بات کاعلم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ا نسان اسے لازماً تسلیم کرتا ہے۔ تسلیم نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ا نسان کو حریت (freedom)حاصل ہے:


نَـحْنُ خَلَقْنَٟكُـمْ 

  • یہ ہم ہیں،ہم جناب نے تم لوگوں کو تخلیق کیا ہے۔

فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ .56:57٥٧

  • توپھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر عیاں حقیقت کی تم لوگ برملا تصدیق نہیں کرتے!

أَفَرَءَيْتُـم مَّا تُـمْنُونَ .8٥٨

  • تو کیا تم لوگوں نے اسے دیکھا ہے جسے تم دلدادگی سے نکالتے رہتے ہو؟


ءَأَنتُـمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ

  • کیا تم لوگ ہو جو اسے(مذکر/منی)باقاعدگی سے تخلیق کرتے رہتے ہو؟

أَم نَـحْنُ ٱلْخَٟلِقُونَ .9٥٩

  • یا ہم جناب اس کے ہمیشہ خالق ہیں؟(غور کر کے جواب دو)(الواقعۃ،۔۵۹)

۔ وہ لوگ جو خوداپنے اور اس کائنات کے خالق اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے جس میں وہ رہ رہے ہیں  اردو میں ملحد اور انگلش میں atheistsکہلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے ہی کو جو لوگ نہیں مانتے  ان کا کسی بشر کو       رسول اللہ یا کسی کلام کو کلام اللہ ماننے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔خبر کے مقام پر یہ جملہ ہے:سَوَآءٌ عَلَيْـهِـمْ۔یہ خبر مقدم ہے جس میں مصدراستمراری طور پر دو باتوں کا ایک جیسا،تسویہ کی حالت ہونا،دو مختلف باتوں کا نتیجہ اور اثر یکساں ہونابتاتا ہے۔اور جار و مجرور مصدر سے متعلق اور ضمیر ملحدوں کو راجع  ہے۔کن دو باتوں کا نتیجہ اور اثر ان پر یکساں ہے؟۔ءَأَنذَرْتَـهُـمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُـمْ۔فعل ماضی اور فعل مضارع مجزوم دونوں   کلام کے وقت تک کی حالت بیان کرتےہوئے مستقبل میں  تنبیہ کرنےکو بھی شامل کئے ہوئے ہے کہ وہ اس حال ہی میں رہیں گے’’لَا يُؤْمِنُونَ‘‘۔وہ آپ ﷺاور قرءان مجید پر ایمان نہیں لائیں گے۔کفر کی طرح ایمان  لانے والا     فعل بھی لازم ہے۔رسول کریم ﷺکو ایسے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے  کوفت اور      رنج کے پیش نظر حتمی انداز میں بتا دیا گیا    کہ  جو لوگ اللہ تعالیٰ  کے موجود ہونے ہی کو نہیں مانتے ان کا رسول اللہ اور کلام اللہ کو ماننے کا کم ہی امکان ہے۔

ایک بات کو ماننے سے انکار کی نوعیت سرسری انکاربھی ہو سکتا ہے کہ اُس شخص نے بات کو اُس وقت زیادہ دھیان سے سنا ہی نہ ہو۔دعوت کا آج”کُفرٌ“ یعنی انکار کر دینے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایسا شخص ہمیشہ کیلئے اُس بات/دعوت سے انکاری ہو گیا ہے۔بعض لوگ کسی بات کو ماننے سے آج انکار کرتے ہیں لیکن ایسا ممکن ہے کہ مستقبل میں بات کی حقیقت کو سمجھ کر اور اُسے نہ ماننے کے نتائج سے خبردار ہو کر بتائی گئی بات پر ایمان لے آئیں۔اور ایک انکار کی نوعیت اُس کا دانستہ انکار ہوتی ہے کہ بات کو سمجھنے کے باوجوداُسے ماننے کو اپنے مفادات اور خواہشات کے منافی سمجھتا ہے۔مفادات اور خواہشات کا غلبہ ایک ایسی ڈھانپ /پردہ /غلاف(کَافِرٌ)ہے جوہر ایسی بات کو تسلیم کرنے سے انکار پر ابھارتی ہے جس سے اُن مفادات اور خواہشات پر ضرب لگنے کا امکان ہو۔ اِس لئے واضح کر دیا گیا کہ دی گئی یہ خبر’کَفَرُوا“ انکارکرنے والوں میں سے صرف اُن کے متعلق ہے جن کی حالت اور کیفیت یہ ہو چکی ہے:

خَتَـمَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ وَعَلَـىٰ سَـمْعِهِـمْۖ

  • اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر(ان کے اپنے بقول)موجود غلاف کو سربمہر کر دیا ہے اور ان کی سماعتوں پر ڈھانپ لگا دی ہے۔
    (عقل و برہان کی بات اُن کی سماعتوں اور دلوں پر اثرانداز نہ ہو سکے گی) 

Recitation  Roots:  ;ق ل ب ; س م ع

وَعَلَـىٰٓ أَبْصَٟرِهِـمْ غِشَٟوَةٚۖ

  • (اور ایک ڈھانپ ان کی بصارتوں پر چھائی ہوئی ہے (کہ آنکھیں ہوتے بھی کچھ نہیں دیکھتے

Roots: ب ص ر; غ ش و

وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عظِيـمٚ.2:07٧

  • جان لیں ایک بڑا عذاب اُن کیلئے تیار اور منتظر ہے۔

 Roots: ع ذ ب; ع ظ م

انسان سے کسی بھی بات اور دعوت سے”کُفرٌ“ یعنی انکار صرف اِس بناء پر ہوتا ہے کہ اُس کے دل و دماغ کو اِس بتائی گئی بات اور دعوت کے متضاد کسی شئے نے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے۔اور اگر دل و دماغ کو ڈھانپنے کی نوعیت اور کیفیت اِس مانند ہو چکی ہے جیسے انہیں غلاف میں بند کر کے اوپرمہرلگادی گئی ہو(sealed)تو اب اِن لوگوں کو انکار کرنے کے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں نتیجہ ایک ہی نکلے گا کیونکہ اب کوئی بھی بات اُن کے دل و دماغ میں داخل نہیں ہو سکتی۔اور جب بات دل و دماغ میں داخل ہی نہ ہو سکے تو اُسے ماننے کی نوبت نہیں آ سکتی۔بات اور کسی بھی شئے کے دل و دماغ میں داخل ہونے کے راستے سماعت اور بصارت ہیں۔ سماعت کے پردے کے آگے غلاف ہو تو کوئی بات دماغ تک نہیں پہنچ سکتی اور اگر بصارتوں کے سامنے پردہ ہو تو یہ حالت ”کَافِرٌ“ہوتی ہے یعنی سامنے کی ہر شئے ڈھکی،چھپی ہوئی ہوتی ہے۔
خَتَـمَکا ماخذ/جذر "خ۔ت۔م" ہے۔اس میں سمویا بنیادی تصور  کسی شئے کے آخری کنارے تک پہنچ جانا،؛ کسی شئے کو مکمل کر کے غلاف بند کر دینے کے بعد اسے سربمہر کر دینا کہ نہ تو اس میں سے کچھ باہر بہہ سکے اور نہ مزید کچھ داخل ہو سکے۔     کسی چیز کو چھپا اور ڈھانک دینا ۔کسی چیز پر لاکھ وغیرہ لگا کر مہر سے اُس پر نشان لگا کر بند کر دینا، سربمہر کرناجس کی بناء پر وہ شئے ڈھک،چھپ جاتی ہے۔ اور اس مفہوم میں کسی چیز کو بند کرنے اور روک دینے کیلئے استعمال ہونے لگا۔"خِتَامٌ"کسی شئے کو رکھنے والے مقام/ ظروف / بوتل/لفافہ  کے منہ پر پیوست ڈھانپ لگا کر اس میں رکھی شئے کو سربستہ  حالت میں کر     دینا۔بوتل میں سربند(sealed)شراب جس کے اندر آمیزش نہ کی جا سکے اُسے ”رَّحِيقٛ مَّخْتُومٛ“کہا گیا ہے(حوالہ المطففین۔ ۵۲)۔ یہ عمل ہمیشہ کسی مادی شئے کی باہر والی سطح کے اوپر انجام پائے گا جیسے اگر کسی کو منہ سے آواز نکالنے سے روکنا ہو تو اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دینا یا اس کے  ہونٹوں پر کسی  چیز کو چسپاں کر دینا۔روز قیامت مجرمین کے ساتھ ایسے کیا جائے گا:

ٱلْيَوْمَ نَخْتِـمُ عَلَـىٰٓ أَفْوَٟهِهِـمْ 

  • ہم جناب اس دن اُن کے مونہوں پر ایک ڈھانپ چسپاں کر دیں گے (جس کی وجہ سے وہ منہ سے بول نہیں سکیں گے)۔

وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيـهِـمْ 

  • ۔اور   ہم جناب سےاُن کے ہاتھ گفتگو کریں گے۔(حوالہ یسٓ۔65)

اس سورۃ مبارک کی پہلی پانچ آیات میں ایک نفسیات اورروش کے حامل لوگوں کو متقین بتلاتے ہوئے ایک ایسی راہ پر گامزن سفر بتایا تھا جو انہیں منزل پر پہنچا کر کامیابی و کامرانی (فلاح)سے ہمکنار کر دے گی۔اور زیر مطالعہ آیت ۶۔۷میں فلاح پانے والوں کے متضاد لوگوں کے متعلق معلومات عطا فرماتے ہوئے اُن کا انجام عذاب ِعظیم بتایا۔وہ اپنی غفلت کے حصار سے باہر نہیں آتے۔یہ وہ غافل اور گم کردہ راہ لوگ ہیں جن کے اختیار کردہ راستے سے بچنے کیلئے طالب ہدایت نے درخواست کی تھی(حوالہ الفاتحۃ۔۷)۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دانستہ دنیاوی زندگی کو اپنی محبتوں کا محور بنا لیا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی بات کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ اِن ہی لوگوں کے متعلق خبر دی گئی کہ اِن کوڈرانا یا نہ ڈراناایک جیسا ہوتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دانستہ انکار پرڈٹے رہتے اور’خَتَمَ“ کی جانب خودبڑھتے ہیں۔ آقائے نامدار، رحمت للعالمین ﷺ کے قلب مبارک کو ایسے لوگوں کی روش کے متعلق دی گئی خبر سے تشفی دیتے ہوئے فرمایا:

وَلَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٟرِعُونَ فِـى ٱلْـكُـفْرِۚ

  • اور(اے رسولِ کریم ﷺ) آپ کیلئے وہ لوگ باعث رنج و غم نہ ہوں جو انکار (الکفر)پرڈٹے رہتے/اُس میں آگے بڑھتے ہیں۔

Root: س ر ع

إِنَّـهُـمْ لَن يَضُـرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْئٙاۗ

  •   یہ حقیقت ہے کہ وہ قطعاً  اللہ تعالیٰ کے لئے  کبھی ضرررساں نہیں بن سکتے۔

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَ لَّا يَجْعَلَ لَـهُـمْ حَظّٙا فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِۖ

  • اللہ تعالیٰ ان کے انکار پر بضد رہنے کے جرم پر یہ فیصلہ کرتے ہیں؛ ان کے بظاہر اچھے اعمال کا کوئی فائدہ ان کے لئے آخرت میں دینے کے لئے نہ مقرر کریں۔

وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيـمٌ .3:176١٧٦

  • جان لیں ایک بڑا عذاب اُن کیلئے تیار اور منتظر ہے۔(ءال عمران۔۱۷۶)

 سورۃ البقرۃ کی آیت ۷ اور ءال عمران    کی          آیت  ۱۷۶ میں ان لوگوں کا انجام ایک جیسے جملے میں بتایا گیا ہے۔”دلوں اور سماعتوں پر ”خَتَمَ“ کا مفہوم یہ ہے کہ دل اور سماعت ایسے ہو جائیں جیسے ان پر غلاف چڑھ چکے ہوں کہ خارج سے کوئی چیز اُن کے اندر داخل نہ ہو سکے۔اورا للہ تعالیٰ کے ’خَتَمَ“ فرمانے یعنی ایسے لوگوں کے دلوں،سماعتوں اور بصارتوں کو ڈھانپ دینے کا معاذ ا للہ یہ مفہوم نہیں کہ ا للہ تعالیٰ کا ارادہ اور منشاء یہ ہے کہ بدستوروہ حالت کفر میں رہیں یا یہ کہ معاذ ا للہ ایسے لوگوں کی ”تقدیر“میں کفرہے۔یہ خود کفر کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ا للہ تعالیٰ تمام جنات اورانسانوں کیلئے ایک غیر جانبدار حکمران اور منصف ہیں۔ امتحان اور آزمائش جنات اور انسان کی ہے اور مقابلہ اُن کے اپنے مابین ہے اور دونوں ارادے اور اختیار کے مالک بنائے گئے ہیں اور انہیں سماعتوں،بصارتوں اور دل و دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔اگر میں اپنی خواہشات کے تابع رہ کر من مانے انداز میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مصر ہوں اور مجھے آخرت میں جواب دہ ہونے کا یقین نہیں یا اُس کی پرواہ نہیں تو میری ان تمام من مانیوں کے باوجود اپنے غلبہ و قوت کو استعمال کرتے ہوئے میری خواہش کے برعکس اگر مجھے ا للہ تعالیٰ ہدایت دے تو یہ آپ کو اعتراض اٹھانے کو موقع میسر کر دے گا کیونکہ امتحان اور آزمائش میں آپ اور میں دونوں یکساں ہیں۔جو ہستی لوگوں کا امتحان لے رہی ہو لوگوں کے حوالے سے وہ غیر جانبدار اور عادل ہوتی ہے۔اس لئے ”دلوں اور سماعتوں پر ”خَتَمَ“ کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنی ہی دنیا میں مگن اور بدمست رہنے پر بضد ہو گیا ہے اُسے ا للہ تعالیٰ دھتکار دیتا اور اُسے اپنی من مانیوں میں مگن اور سرگرداں رہنے دیتا ہے۔ ”خَتَمَ“کی نوبت تک پہنچنا انسان کا اپنا سوچا سمجھا فعل ہے۔

زیر مطالعہ دو آیات  میں آقائے نامدار ﷺ کو دی گئی حتمی خبر کے متعلق  اس میں موجود جملے کو دہرا کربتایا ہے کہ اس کا حقیقت ہونا ثابت ہو گیا تھا اور اس کو ساتھ ملا کر پڑھیں تو بات تمام  جہتوں سے نکھر کر واضح ہو جاتی ہے:

لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَـىٰٓ أَكْثَرِهِـمْ فَهُـمْ لَا يُؤمِنُونَ .36:07٧

  • ۔آپ نے یقیناً مشاہدہ کر لیا ہے کہ ہمارا قول (البقرۃ:6۔7)ان (اللہ        تعالیٰ  کو نہ ماننے والے )میں سے اکثر لوگوں پر ثابت ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ آپ(ﷺ)اور قرءان  مجید پرایمان نہیں لا رہے۔(یسٓ۔۷)

اور انہیں ڈرانا یا نہ ڈرانا اِس وجہ سے ایک جیسا تھا کیونکہ اُن کے دلوں اور سماعت کو ڈھانپ دیا گیا اور بصارتوں پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔اِن باتوں کو یوں واضح فرمایا:

إِنَّا جَعَلْنَا فِـىٓ أَعْنٟقِهِـمْ أَغْلَٟلٙا

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ان کی بد اندیشی،بغض،ہٹ دھرمی،انانیت،روایت اور تقلید پسندی کو ان کی گردنوں میں مانند طوق بنا دیا ہے۔

Root: ع ن ق غ ل ل

فَهِىَ إِلَـى ٱلۡأَذْقَانِ فَهُـم مُّقْمَحُونَ .36:08٨

  • اس طرح ان کی گردنیں تھوڑیوں پر ٹکی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے  وہ اس حال میں ہیں  کہ ان کے سر یک جانب /زاویہ ہو گئے ہیں۔(یسٓ۔۸)

Root: ذ ق ن; ق م ح


وَجَعَلْنَا مِنۢ بَيْـنِ أَيْدِيـهِـمْ سَدّٙا ومِنْ خَلْفِهِـمْ سَدّٙا

  • ۔اور ہم جناب نے ان کی یک نگاہی،یک طرفہ سوچ،ہٹ دھرمی کو ان کے سامنے بطور دیوار بنا دیا اور ان کے پیچھے بطور دیوار۔

Root: س د د

فَأَغْشَيْنَٟهُـمْ

  • ۔اس طرح ہم جناب نے انہیں باڑ میں پابند رہنے دیا ہے۔

Root: غ ش ى

فَهُـمْ لَا يُبْصِرُونَ .36:09٩

  • ۔انجام یہ ہے کہ سامنے اور ماضی کو اب بصارتوں میں نہیں لے سکتے (بصیرت سے محروم)۔(یسٓ۔۹)

۔یہ سبب ہے اور اس کا نتیجہ وہی ہے جو سورۃ البقرۃ کی زیر مطالعہ آیت ۶ میں پہلے بتایا اور اُس کی وجہ بعد میں آیت ۷ میں بتائی تھی

وَسَوَآءُ عَلَيْـهِـمْ ءَأَنذَرْتَـهُـمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُـمْ لَا يُؤْمِنُونَ .36:10١٠

  • اورآپ(ﷺ)نے ایسے لوگوں کو انجام سے خبردار کر دیا ہے یا ابھی تک انہیں خبردار نہیں کیا ،اثر پذیری کے حوالے سے ان پر یکساں ہے۔ایسے لوگ آپ(ﷺ)اور قرءان مجید پر ایمان نہیں لائیں گے۔(یسٓ۔۱۰)

رسول کریم ﷺ کی جانب سے دعوت ایمان کااُس قوم میں سے انکار کرنے والوں میں سے اکثر کی گردنوں میں نہ تو دکھائی دینے والے طوق پڑے ہوئے تھے اور نہ ہی اُن کے آگے اور پیچھے دیواریں چن دی گئی تھیں جس کی بناء پر اِدھر ُادھر دیکھنے کے قابل نہ رہے تھے۔در حقیقت اُن کے ذہن و قلب اور عقل و فہم کی کیفیت کو اس خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ اگر انسان اپنی تمام تر توجہ اور بصارت و بصیرت کو ایک جانب،ایک نقطے پر مرکوز کر دے تو اس کی حالت بعینہ وہی ہو گی جیسے اس کی ٹھوڑی تک گردن میں ایک طوق (collar) ڈال دیا گیا ہو جس کی وجہ سے وہ گردن کو اطراف میں موڑ نہیں سکتا۔اسی طرح بصارت و بصیرت کو ایک نقطے پر منجمد کر دینے والوں کی کیفیت بالکل اُس طرح ہوتی ہے جیسے ان کے آگے اور پیچھے دیواریں چن دی گئی ہوں کہ نئی شئے کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔یہ اُن لوگوں کے اپنے سوچے سمجھے دانستہ فیصلے اور ارادے کا نتیجہ تھا جو اُن کی روش اور روئیے سے عیاں تھا۔اورجن کےقلوب،سماعتوں اور بصارتوں پر اُن کی اپنی روش کی بناء پر کیفیت طاری ہو چکی ہوتی ہے ان کے انداز اورروئیے بدلنے اور سدھرنے کے امکانات کے معدود ہو جانے کی وجہ بھی ہے۔

تقویٰ کی بنیاد’’يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ‘‘اللہ تعالیٰ کو اپنی بصارتوں کی پہنچ میں نہ ہونے کے باوجودعقل و فہم کے لئے ایک بدیہی حقیقت ہونے کی بنا پر تسلیم کرنا ہے۔ان کے متضاد وہ ملحد ہیں جو اللہ تعالیٰ،خالق کے موجود ہونے کے     تصور کی نفی پر بضد ہیں ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے:

إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـم بِٱلْغَيْبِ

  • یہ حقیقت  اپنی جگہ ہے    کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر تو  صرف ان لوگوں  پر ہو گاجو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخوداحساس رکھتے ہوئے سہمے سہمے مرعوب              رہتے ہیں،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛(حوالہ فاطر۔۱۸)


إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ

  • یہ حقیقت زمان و مکان میں برقرار     رہے گی کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر صرف اس  پر ہوتا رہے گا جس نے  سرگزشت تاریخ ، منبع پند و نصیحت (قرءان مجید)کا اس انداز میں اتباع کیا کہ فکرو نظر میں کسی تیسرے کو حائل نہیں ہونے دیا۔

وَخشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِۖ

  • ۔اور اس کا حال یہ تھا کہ الرَّحمٰن ذوالجلال کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخود احساس رکھتے ہوئے   ان کے     بصارتوں             سے اوجھل ہونے کے باوجود سہما سہما مرعوب     رہتا تھا۔

فَبَشِّـرْهُ بِمَغْفِرَةٛ وَأَجْرٛ كَرِيـمٛ .36:11١١

  • چونکہ اس نے جنت کا مستحق ہونا  ثابت کر دیا ہے اس لئے۔آپ(ﷺ)ایسے شخص کو خوشخبری اور ضمانت دے دیں کہ اس کے ماضی کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معافی اور اعلیٰ ترین ایوارد کا وعدہ ہے۔(یسٓ۔۱۱)

Root: ك ر م