قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔آیت: 3:ترجمہ

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ

  • زمان و مکا ن          میں یہ وہ لوگ ہیں جو بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود اپنے خالق اور رب الرَّحمٰن کو موجود مانتے ہیں۔

Recitation   Roots: ء م ن; غ ى ب

وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ

  • اور یہ لوگ استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں

 Roots: ق و م; ص ل و

وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنْفِقُونَ.٣

  • (اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے  دوسروں کی فلاح و بہوبود پرخرچ کرتے رہتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے] (البقرۃ۔۳

Roots: ر ز ق; ن ف ق -

 

 تحلیل معنوی و مفہوم،بلاغت۔

۔ابتائی لفظ  ۔ذَٟلِكَ۔سے لے کر اس فریم کے آخری لفظ ۔ٱلْمُفْلِحُونَ۔تک اکتالیس الفاظ پر مشتمل یہ ایک طویل آزاد جملہ ہے جس میں کئی ذیلی جملے ہیں۔انگلش میں اس کے مترادف جملے کوcomplex sentenceکہتے ہیں۔اس جملے کی نوعیت بیانیہ۔اطلاعی/declarativeہے۔یہ صراط مستقیم پر مسلسل گامزن رہنے کے متمنی اور اس کے لئے طلبگار ہدایت کو قرءان مجید  متعارف کیا گیا ہے اور اس کے متعلق اسے خبر دی گئی کہ زمان و مکان میں سرچشمہ ہدایت ہے۔اس نے سب سے اول  جن  انعام یافتہ لوگوں  کا حوالہ دیا تھا ان میں عوام الناس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متقین کی اصطلاح سے ان کے کوائف بیان  کر دئیے۔

ان الفاظ کی تحلیل نحوی و صرفی کے بعد  کلیدی الفاظ اور جملوں  میں بیان کردہ موضوعات کا مطالعہ الگ الگ مضمون کی صورت کریں گے۔


:تحلیل نحوی و صرفی

۱۔ٱلَّذِينَ ۔یہ ذیلی                                            جملہ متقین کی صفت بیان کرتا ہے اور نحوی اصول کے مطابق اپنے موصوف کی اعرابی حالت کے پیش نظر "فی محل جر" مانا جاتا ہے۔اسم موصول، جمع، مذکر، غائب، مجرور۔

۲۔يُؤْمِنُونَ۔جملہ فعلیہ: صلة الموصول لا محل لها من الإعراب۔ فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال ۔ ماخذ "ء۔م۔ن"۔یہ فعل باب ۔فَعَلَ.يَفْعِلُ۔سے ہے جس میں  متحرک اور غیر متحرک/ مقیم،حالت ظاہر کرنے والے افعال (dynamic and stative verb)شامل ہوتے ہیں۔غیر متحرک افعال لازم ہوتے ہیں اور انہیں متعدی حرف جر"بـِ"کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔۔اس کا مفعول’’بِٱللَّهِ‘‘محذوف ہے۔

۳۔بِٱلْغَيْبِ۔متعلق محذوف حال۔حرف جربـِ ألملابسة أو ألحال،۔اسم مجرور-معرفہ باللام-واحد-مذكر ماخذ "غ۔ی۔ب"۔اس جملے کا مطالعہ کریں گے بعنوان "ایمان بالغیب :اللہ تعالیٰ۔الرّحمٰن کو بصارتوں سے پنہاں ہونے کے باوجود موجود تسلیم کرنا

۴۔وَيُقِيمُونَ۔حرف عطف،الجملة معطوفة. فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال ۔ ماخذ "ق۔و۔م"

۵۔ ٱلصَّلَوٰةَ۔۔مفعول به:  اسم معرفہ باللام منصوب-واحد-مؤنث ۔ماخذ "ص۔ل۔و"۔اس جملے کا مطالعہ کریں گے بعنوان  "منزل کے راہی متقین نماز پر قائم و دائم رہتے ہیں "۔۔

۶۔وَمِمَّا ۔حرف عطف،۔مِمَّا۔جار و مجرور،مِن حرف جر + الاسم الموصول-واحد-مذكر۔

۷۔رَزَقْنَٟهُـمْ۔الجملة صلة الموصول لا محل لها من الإعراب۔ فعل ماضٍ مبنى على السكون لاتصاله بضمير الرفع/نَا-ضمير متصل مبنى على السكون فى محل رفع فاعل-جمع متكلم ۔ ضمير متصل مبنى على الضم في محل نصب مفعول به اول-جمع مذكر غائب؛العائد محذوف وهو المفعول الثاني۔

۸۔ يُنْفِقُونَ۔جملہ فعلیہ۔فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال۔ماخذ "ن۔ف۔ق"۔اس جملے کا تفصیل سے مطالعہ  مضمون بعنوان "بند مٹھی، اضطراب انسانیت کا واحد سبب"میں کریں گے۔۔


 چند معروف تراجم:

ڈاکٹر طاہر القادری: " جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیں

جاوید احمد غامدی: جو بن دیکھے مان رہے ہیں اور نماز کا اہتمام کر رہے ہیں اور جو کچھ ہم نے اِنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کر رہے ہیں۔

احمد رضا خان: "وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں"

فتح محمد جالندھری: "جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔"

شبیر احمد: "جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز اور اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے خرچ کرتے ہیں۔ "

مولانامودودی:"جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں "

 ان تراجم  میں جو ابہام اور اصل متن کی ترجمانی میں کمی اور کجی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ   یہ محض ان انگریزی تراجم کا اردو ورژن ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں نے بہت عرصہ قبل کئے تھے،جو نیچے درج ہیں۔جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ اس کو گوگل میں ڈال کر اردو ترجمہ دیکھ لیں۔

JM Rodwell: Who believe in the unseen, who observe prayer, and out of what we have bestowed on them, expend for God;

George Sale: who believe in the mysteries of faith, who observe the appointed times of prayer, and distribute alms out of what We have bestowed on them;

۔عربی زبان کے مادہ/ماخذ "غ۔ی۔ب" میں سمویا تصور کسی شئے،موجودات کا آنکھوں سے اوجھل ہونا ہے۔

وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ

وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنْفِقُونَ.

  • اور یہ لوگ استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/اسباب دنیا/مال و دولت میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود پرخرچ کرتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]۔(البقرۃ۔۳

 

۔مفکرین کی صدیوں کی محنت اور لاکھوں صفحات پر بکھری اُن کی تحریریں ا نسانی زندگی کی تلخیوں، بے چینی،خوف،بے اطمینانی اور اضطراب کو کم کرنے کا کوئی قابل عمل نسخہ پیش نہیں کرسکیں۔ کتابِ لا ریب کا یہ مختصر سا جملہ انسانی زندگی کا مکمل احاطہ کئے ہوئے ہے انسانی زندگی کے پہلو اور تعلق دو ہی ہیں۔ ایک خالق سے جس کی وجہ سے اس کا وجود ہے اور دوسرا معاشرے میں بسنے والی اپنے جیسی مخلوق سے جن کے متعلق اُسے یقین ہے کہ وہ بھی اُسی کے تخلیق کردہ ہے جسے وہ دیکھے بغیر اپنا رب تسلیم کرتا ہے۔خالق سے تعلق کو استوار رکھنے اور زندگی کے میدان میں ایک خاص قسم کے زاویہ نگاہ کے تعین اور اظہار کا ذریعہ۔ ٱلصَّلَوٰةَ    (نماز) بتایا اور ہم جنس مخلوق سے روابط کو برقرار رکھنے اور باہمی اشتراکِ عمل کے حوالے سے اولین ترجیح یہ بتائی کہ خالق ہی کے عطا کردہ مال میں سے خرچ کرو۔یہ دونوں باتیں عمل (physical act) سے تعلق رکھتی ہیں اور اظہار اور ثبوت ہیں انسان کے اِس قول کا کہ اپنے رب کو اپنی بصارتوں میں نہ ہونے کے باوجود تسلیم کرتا ہے۔ انسان کا فعل و عمل اُس کے صادق یا کاذب ہونے کا مظہر ہے۔