قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔آیت: 2:ترجمہ

 

ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ

  • یہ ہے وہ کتاب جس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ منفردکتاب جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

Recitation  Roots: ک ت ب; ر ى ب 

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ.٢

  • (یہ کتابِ لا ریب منزل کی جانب خصوصاً متقین[محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں] کیلئےہر وقت ہدایت/رہنمائی  لینے کا ذریعہ ہے۔(البقرۃ۔۲

Roots: ھ د ى; و ق ى


 تحلیل معنوی و مفہوم،بلاغت۔

آیات 2 تا 5 ایک فریم ہے۔ابتدائی لفظ  ۔ذَٟلِكَ۔سے لے کر اس فریم کے آخری لفظ ۔ٱلْمُفْلِحُونَ۔تک اکتالیس الفاظ پر مشتمل یہ ایک طویل آزاد جملہ ہے جس میں کئی ذیلی جملے ہیں۔انگلش میں اس کے مترادف جملے کوcomplex sentenceکہتے ہیں۔اس جملے کی نوعیت بیانیہ۔اطلاعی /declarativeہے۔ یہ صراط مستقیم پر مسلسل گامزن رہنے کے متمنی اور اس کے لئے طلبگار ہدایت کو قرءان مجید  متعارف کیا گیا ہے اور اس کے متعلق اسے خبر دی گئی کہ زمان و مکان میں سرچشمہ ہدایت ہے۔اُس متمنی ہدایت نے سب سے اول  جن  انعام یافتہ لوگوں  کا حوالہ دیا تھا ان میں عوام الناس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متقین کی اصطلاح سے ان کے کوائف بیان  کر دئیے۔

ان الفاظ کی تحلیل نحوی و صرفی کے بعد  کلیدی الفاظ اور جملوں  میں بیان کردہ موضوعات کا مطالعہ الگ الگ مضمون کی صورت کریں گے کیونکہ  فلاح پانے کے خلاصہ کی مانند یہ فریم ہے۔


:تحلیل نحوی و صرفی

1۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ ۔یہ مبتداء حالت رفع (فی محل رفع)،اسمائے اشارہ میں سے ہے۔بعید کیلئے آتا ہے۔اِس میں ”ذَا“اسم اشارہ ہے (قریب کیلئے استعمال ہوتا ہے) اور حرف ”کَ“ حرف /ضمیرخطاب ہے جو مخاطب کی مناسبت سے تذکیر،تانیث،تثنیہ اور جمع میں بدلتا رہتا ہے۔ یہ مذکر،واحد ہے۔یہ دو سو ترانوے بار استعمال ہوا ہے۔
مقرر اور مصنف،اسم اشارہ کے استعمال سے اپنے سامع/قاری کی توجہ۔بصر کو اُس شئے،تصور،حقیقت کی جانب مبذول کراتا ہے جس کے متعلق کسی اطلاع/خبر سے اُس کو مطلع کرنا چاہتا ہے
۔اسم اشارہ کے استعمال سے سامع اور قاری کو کسی شئے سے متعارف کرایا جاتا ہے اِس لئے جب کسی کی توجہ اور بصر اُس شئے پر ایک مرتبہ مرکوز ہو جاتی ہے تو اُس سے متعارف ہوجانے، اور اُس کے تصور اور ادراک میں پہنچ جانے کی بناء پراُس شئے کانزدیکی دوری کا فرق مٹ جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں کسی کی خصوصیات کے ذریعے اُنہیں متعارف کرانے کیلئے بھی یوں استعمال ہوا ہے ۔
ذَٟلِكَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَۚ۔ ”یہ ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم“(حوالہ مریم۔34

یہ اسم اشار ہ، بدل ”منفرد کتاب“کو سامع اور قاری کو متعارف کرتا ہے۔ ”ٱلْـكِـتَٟبُ “۔”اَل“+” کِتَٰبُ“۔”اَل“ حرف تعریف (definite article)ہے۔نکرہ (common noun) کو معرفہ (definite noun)بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔یہ اسم معرفہ ہے،یعنی قاری کیلئے ایک معروف کتاب، اِس بناء کہ چاہے اُس نے خود اِسے ریک سے اٹھایا ہے یا اُسے کسی نے پیش کیاہے۔
 ”
ٱلْـكِـتَٟبُ “عربی زبان میں مذکر ہے۔ قرء انِ مجید پڑھتے ہوئے الفاظ کے مذکر،مؤنث ہونے کے متعلق خصوصی دھیان رکھیں وگرنہ امکان ہے کہ تراجم میں اِس کا دھیان کئے بغیربیان کیا گیا مفہوم اِس کے اپنے عربی الفاظ کے تصور اورمفہوم سے کوسوں دور ہو۔

۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ قرء انِ مجید میں صرف ایک بار ہے۔کتاب کو ایک بار متعارف کیا جاتا ہے۔دنیا میں کتابیں اَن گنت ہیں اوربعض کو متعارف کرانے کیلئے تقریب رونمائی بھی منعقد کی جاتی ہیں اور کتاب کی ابتدا میں قاری کواُس کاتعارف کرایا جاتا ہے۔ اَن گنت کتابوں میں سے قرء انِ مجید کا اندازِتعارف بھی منفرد ہے۔تحریر اور گفتگو کا آسان انداز یہ ہے کہ مبتداء/ موضوع  ایسا ہو جو سامع/قاری کے تصور/ادراک میں پہلے سے ہو جس کے متعلق اُسے ایسی اطلاع/خبر دی جائے جو قبل ازیں اسے معلوم نہ ہو۔

کتاب کا ابتداء میں تعارف اِن الفاظ سے نہیں فرمایا ۔هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ۔”یہ قرء ان ہے“۔اِس جملے میں۔ٱلْقُرْءَانُ۔ کی بحثیت مشار الیہ نسبت/ ascription اسم اشارہ سے ہے۔ نسبت/خبر/اطلاع سامع اور قاری کو اگر مستفید کرے تو اسے خاموش اور متوجہ رکھتی ہے وگرنہ وہ سوال اٹھا دے گا یا اُس کا ذہن متذبذب ہو جائے گا جس کی وجہ سے توجہ بکھر جائے گی۔ چونکہ کتاب کا اپنا مخصوص نام/ اسم علم ہے جو ممکن ہے سامع نے قبل ازیں نہ سنا ہو،اُس سے وہ متعارف نہ ہو،اِس لئے اِس نام کو ابتداء میں موضوع بنانے سے اُس کی توجہ اِس نام کو جاننے اور سمجھنے پر مرکوز ہو کربکھرنے کا امکان تھا۔بعد ازاں یہ جملہ ہمیں تین مقام پر ملے گا [6:19(2)10:37(3)43:31]

  ۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ یہ دو الفاظ،ایسے قاری کیلئے جس نے کتاب کو خود اٹھایا ہے اور اُس کیلئے بھی جسے کتاب کو پیش کیا جارہا ہے،نامکمل اطلاع ہیں،لیکن یہ اُس کیلئے توجہ،انہماک اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں،اُس بات کو جاننے کیلئے جس کی جانب اسم اشارہ اُس کی توجہ کو مبذول کرانا چاہتا ہے۔کتاب چونکہ شخص کے ہاتھ میں ہے یا اُس کی نظروں کے سامنے ہے جسے تھمایا جا رہا ہے، اِس لئے وہ جانتا ہے کہ اِن دو الفاظ کا مطلب یہ بتانا نہیں ہے کہ ”یہ کتابِ خاص ہے“،”تمہارے لئے یہ معروف کتاب ہے“ بلکہ دوری کا اسم اشارہ اُس حقیقت کی جانب ہے جو کتاب میں درج ہے،کتاب کے مندرجات کی پنہاں حقیقت جو ابھی اُس کے تصور و ادراک سے دور ہے کہ فی الحال اُس نے اِس کا مطالعہ نہیں کیا۔یہ دو الفاظ سامع اورقاری کیلئے کتاب کی انفرادیت، خصوصیت اور اِس کے منفرد ہونے کے سبب کوسننے اور جاننے کے شوق اور توجہ کو ابھارتے ہیں۔اِس طرح اِس ابتدائی جملے کے معنی ہیں ”یہ ہے وہ منفرد/مخصوص کتاب“

 لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ۔یہ جملہ سامنے موجود کتاب،قرءان مجید کے متعلق اول خبر ہے،فی محل رفع۔ لَا ۔حرف ۔نافية للجنس۔اس کی  نظری پہچان یہ ہے کہ اس کے بعد بیان کردہ اسم ہمیشہ  نکرہ اور منصوب ہوتا ہے اور تنوین نہیں ہوتی۔ اور وہ اسم لَا کہلاتا ہے۔ یہ اپنے اسم کے حوالے سےمطلق نفی کرتا ہے۔مطلق نفی کا مطلب ہے کہ  اس کا اسم جس جنس/نوع(species)  سے  تعلق رکھتا ہے اس میں موجود ہر ایک ایک جزو کی مکمل،یکسر نفی کرتا ہے۔اس طرح ایسا کوئی لفظ اس کا اسم نہیں ہو سکتا جو جنس/نوع کا حامل نہیں۔اس کا اسم۔رَيْبَ۔ مصدر ہے، ماخذ "ر۔ی۔ب"۔اس حرف کی خبر اگر ایک لفظ سے بیان ہو تو وہ حرف مرفوع ہوتا ہے۔عموماً اس کی خبر محذوف ہوتی ہے مگر اس کے متعلق استعمال کئے گئے مرکب سے ازخود واضح ہوتی ہے۔فِيهِ۔ جار و مجرور متعلق محذوف خبر لَا ۔متصل ضمیر واحد مذکر،مجرور راجع کتاب۔”اِس کتاب کے اندر،اِس کتاب کے مندرجات میں،اِس  میں درج مجموعہ کلام میں“۔ کتاب اٹھانے والے کو اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ”کتاب کے اندر“ کا مفہوم اُس میں درج /تحریرمجموعہ کلام ہی ہوتا ہے۔
اِس جملے کو ہم گرائمر کے ماہرین کے نقطہ نظر سے مبتدا  ء  
ذَٟلِكَ  کی خبر سمجھ لیں یا ۔ٱلْـكِـتَٟبُ۔کے حوالے سے ”حال“ سمجھیں، معنی اور مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔قرءان مجید میں یہ جملہ دس بار ہے۔

ہم اس  تعارفی جملےکا تفصیلی مطالعہ زیر عنوان "قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے"کریں گے، ان شاء اللہ۔

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ۔یہ مبتدا کی خبر ثانی ہے۔خبر ثان لاسم الإشارة مرفوع بالضمة المقدرة۔لِّلْمُتَّقِيـنَ۔ جار و مجرور۔متعلقان محذوف صفة لهدى۔۔لِّ  حرف جرالإختصاص + اسم فاعل-معرفہ باللام-فى محل جر-جمع-مذکر-باب  اِفْتَعَلَ۔ماخذ "و۔ق۔ی

اس خبر کے متعلق ہم تفصیلی مطالعہ کریں گے بعنوان "قرءان عظیم زمان و مکان کے لئےسرچشمہ ہدایت  اور اختتامِ سلسلہ ہدایت ہے"۔اور دوسرا موضوع  بعنوان"متقین جنت کے راہی"


 چند معروف تراجم:

ڈاکٹر طاہر القادری: "(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے

جاوید احمد غامدی: یہ کتابِ الٰہی [2] ہے، اِس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک [3] نہیں۔ہدایت ہے اِن خدا سے ڈرنے والوں کے [4] لیے۔

احمد رضا خان: "وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو"

فتح محمد جالندھری: "یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے۔"

شبیر احمد: "یہ اللہ کی کتاب ہے، نہیں کوئی شک اس کے کتاب الٰہی ہونے) میں ہدایت ہے (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے۔"

مولانامودودی:" یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے اُن پرہیز گار لوگوں کے لیے"

یہ تراجم  علمی کاوش کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ محض ان انگریزی تراجم کا اردو ورژن ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں نے بہت عرصہ قبل کئے تھے،جو نیچے درج ہیں۔جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ اس کو گوگل میں ڈال کر اردو ترجمہ دیکھ لیں۔

George Sale: There is no doubt in this book; it is a direction to the pious,

JM Rodwell: No doubt is there about this Book: It is a guidance to the God-fearing,

ان کی مانند قدیم عربی زبان میں "تفسیر"لکھنے والوں نے بھی نہ جانے کیوں اکیڈیمک اصولوں اور اکیڈیمک اخلاقیات سے تجاوز کرتے ہوئے اصل متن میں  مصنف کےپسند کردہ لفظ کو عربی زبان کے کسی دوسرے لفظ سے بدل کراپنی جانب سے    تفسیر(اصل میں تشریح)کرنے کو کیوں "رواج" دیا۔انہوں نے :" لَا رَيْبَ فِيهِ"کو "لَاشَكَّ فِيهِ"سے بدل دیا اور یہ خیال بھی نہیں کیا کہ نفی للجنس کے ساتھ" شک" منصوب  حالت میں استعمال نہیں ہو سکتا، سادہ نفی کرتے ہوئے مرفوع حالت میں بمعہ تنوین استعمال ہوتا۔

قرء انِ مجید کے بیان میں موقع محل کے حوالے سے الفاظ کے چناؤ میں کمال نفاست،انفرادیت اورمناسبت ہے کہ قاری انتہائی باریکی سے،مگر باآسانی اُس تصورکا ادراک کر سکے جسے اُسے پہنچانا مقصود ہے۔اِس لئے انتہائی ضروری ہے کہ اِس کے جملوں کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرنے کیلئے اُن میں استعمال ہوئے لفظ کی جگہ کسی دوسرے عربی لفظ کومتبادل سمجھ کر نہ کیا جائے کیونکہ عربی زبان کا ہر ایک لفظ ہر دوسرے لفظ سے انفرادیت کا حامل ہے۔عربی زبان کا ہر ایک لفظ درحقیقت اپنے آپ میں یکتا ہے۔قدیم  ”مفسرین“ نے یہ لکھ دیا کہ   ۔رَيْبَ۔=شَکَّ، اور نتیجہ یہ ہے کہ زمان میں اکثریت نے اسے بنیاد بنا کرتراجم و ”تفاسیر“ میں ۔رَيْبَ۔کو”شک“ میں تبدیل،اور یکے بعد دیگرے مترجم اور ”مفسر“ نے محض دہرا دہرا کر زبان زدعام کر دیا۔شَكّٚ۔ بھی عربی زبان کا مصدر ہے۔اگر آیت مبارکہ میں قرء انِ مجید کے تعارف کے متعلق شک کے حوالے سے تصور دینا ہوتا تو پھر ۔رَيْبَ۔استعمال نہ کیا جاتا۔

تفصیلی مطالعہ کے لئے یہ مضمون پڑھیں: "قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے"


 قرآنِ عظیم متقین کیلئے زمان و مکان میں ہر لمحہ ,ہر موڑ،ہر موقع محل کے لئے ہدایت پانے،رہمنائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے:

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ.

  • (یہ کتابِ لا ریب منزل کی جانب خصوصاً متقین[محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں] کیلئےہر وقت ہدایت/رہنمائی  لینے کا ذریعہ ہے۔

Roots: ھ د ى; و ق ى

۔انگریزی مترجمین کی نقل کرتے ہوئے اردو کے مترجمین نے اس سادہ جملے میں بھی ابہام،الجھاؤ پیدا کر دیا کہ کئی لوگ  یہ سمجھتے ہیں کہ قرءان مجید سے ہدایت پانے کے لئے متقی ہونا شرط ہے۔قرءان مجید تمام دنیا کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔اور ان کے ترجمے میں دوسرا عیب "متقی" کے معنی "ڈرنے والے" کر نا ہے۔جملے میں یہ دوسری خبر ہے اور مرفوع حالت میں ہے۔لِّ  حرف الإختصاص  ہے جو کسی شئے سے خصوصی وابستگی،تعلق، نسبت یا ربط،تقرب کا اظہار کرتا ہے۔

مطالعہ کریں "قرءان عظیم تمام زمان و مکان کے لئےسرچشمہ ہدایت ہے"