قرءانِ مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۱ ۔۔۔۔ سُورَةُ الفَاتِحَةِ   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔ترجمہ آیت۔۷

صِـرَٟطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ

  • یہ راستہ اُن لوگوں کے سفرِ منزل کا ہے جنہیں آپ جناب نے  خلعت کامرانی  سے سرفراز فرما کر منعم بنا دیا ہے۔

آیت مبارکہ کے الفاظ کی صرف و نحو و معنوی تحلیل(ویڈیو)

غَيْـرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْـهِـمْ

  • یہ اُن لوگوں کے احتیارکردہ راستے سے متمیز اور الگ ہے جن پرفرد جرم کی گرفت ہو چکی ہے ۔

وَلَا ٱلضَّآلِّيـنَ .٧

  • (اور اُن سے بھی مختلف جو منحرف؍کج رو ؍ دانستہ غافل ، اپنے آپ میں مگن ہیں۔

Root: ض ل ل


تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت

یہ  آیت۔۶ کا ذیلی  جملہ تفسیری،بیانیہ ہے جس میں متکلم اپنے صراط مستقیم کے متعلق تصور کی وضاحت کرتا ہے۔

صِـرَٟطَ ٱلَّذِينَ۔مرکب اضافی ہے۔دوسرا اسم چونکہ معرفہ ہے اس لئے پہلا اسم بھی اضافت کی وجہ سے(ٱلصِّرَٟطَ) معرفہ ہے،اور پچھلے اسم کامکمل بدل کلُّ مِن کُل‘‘ّ ہے۔ اسم موصول(ٱلَّذِينَ) جمع مذکر،حالت جر میں مضاف الیہ ہے۔یہ مرکب اضافی ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

ضمائر الوصل جملے میں تسلسل اور اس کی اکائیوں کے مابین اجتماع،اتصال کا کردار ادا کرتے ہیں۔یہ جملے میں استعمال ہوئے اسم اور فعل میں موجود ضمیر کو واضح اور متبین کرتے ہیں اپنے صلہ سے۔صلہ ذیلی جملہ ہے ۔اس طرح  ذیلی شق  کے اضافے سےیہ جملے کی ساخت کو ’’مخلوط۔مربوط(complex sentence)بنا دیتے ہیں ۔اسم الموصول کی جنس ، تعداد  اور اعرابی حالت اس معرفہ اسم کے مطابق ہو گی جس کا یہ حوالہ دیتا اور متبین کرتا ہے۔

متعلقہ اسم موصول دو خیالات کے مابین ایک پل/رابطے کے طور سوچا جا سکتا ہے۔گرائمر کے لحاظ سے،اس کا مقصد دوسرے اظہار کو معنی میں پہلے اظہار سے نسبت بتانا ہے۔دوسرے جملے/اظہار میں ایک ضمیر کا موجود ہونا ضروری ہے جو پہلے جملے سے مراد ہے۔اس ضمیر کو ’’عائد‘‘ کہتے ہیں اور یہ پہلے جملے سے تعلق بنتا ہے۔ان کا استعمال گفتگو میں  جامعیت اورزور،اصرار (emphasis)پیدا کرتا ہے۔

أَنْعَمْتَ ۔ جملہ فعلیہ صلۃ الموصول ۔فعل ماضی،ضمیر ”تَ“ واحد مذکر حاضر ،مخاطب کے اتصال کی بناء پر ساکن ہے،باب افعال(Form-IV)، مصدر ”انعَامٌ ۔   فعل متعدی ہے مگر مفعول محذوف ہے۔جملہ صلۃ الموصول   کا نحوی کردار  نہیں ہوتا ۔

عَلَيْـهِـمْ۔جار و مجرور متعلق فعل؛حرف جر  .إستعلانية مجازية۔ضمیر متصل جمع مذکر غائب راجع  اسم موصول۔

غَيْـرِ ٱلْمَغْضُوبِ۔مرکب اضافی؛بدل اسم موصول ۔اسم : مجرور-واحد مذكرمضاف؛یہ ہمیشہ مرکب میں استعمال ہوتا ہے،ماخذ’’غ ى ر‘‘ اسم مفعول معرفہ باللام  مجرور-جمع-مذکر۔مضاف الیہ۔ماخذ’’غ ض ب‘‘۔

عَلَيْـهِـمْ۔جار و مجرور متعلق اسم مفعول؛حرف جر  .إستعلانية مجازية۔ضمیر متصل جمع مذکر غائب راجع  اسم موصول۔

وَلَا ٱلضَّآلِّيـنَ۔حرف عطف؛حرف نفی تاکید کے لئے؛ اسم فاعل-معرفہ باللام مجرور-جمع-مذکر ۔معطوف بجانب ٱلْمَغْضُوب عَلَيْـهِـم۔ماخذ’’ض ل ل‘‘


صِـرَٟطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ

  • یہ راستہ اُن لوگوں کے سفرِ منزل کا ہے جنہیں آپ جناب نے  خلعت کامرانی  سے  سرفراز فرما کر منعَم بنا دیا ہے۔

آیت مبارکہ کے الفاظ کی صرف و نحو و معنوی تحلیل(ویڈیو)

یہ جملہ فعلیہ۔أَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ۔ ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔مگر یہ فعل پانچ مرتبہ آیاہے،چار مرتبہ مخاطب اللہ تعالیٰ ہیں اور ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ۔ فعل متعدی ہے مگر یہاںمفعول محذوف ہے۔باب افعال میں فاعل کا مفعول کو معنی مصدری اور ماخذ سے متصف کر دینے کا مفہوم شامل ہے۔انعام یافتہ،منعَم بنا دینا۔چونکہ مفعول محذوف ہے اس لئے جو انعام دیا گیا وہ کسی ایک نعمت تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر مفہوم کا حامل ہے۔انعام ہمیشہ کارکردگی(performance)پر دیا جاتا ہے جو انعام یافتہ کو سرفرازکرنا ہے۔

جملہ۔أَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ۔کو دوسری ترکیب میں یوں ۔أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم۔دو باربیان کیا گیا ہے۔

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ

  • باخبر رہو؛ جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول کریم(ﷺ)کے قول(قرءان مجید)کو صدق دل سے تسلیم کر تا ہے ۔

فَأُو۟لَـٟٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم

  • تو اس کے صلے میں ان لوگوں کو  آخرت میں صحبت میسر آئے گی اُن ہستیوں کی جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلعت کامرانی سے  سرفراز فرمایاہے

مِّنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ وَٱلصِّدِّيقِيـنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٟلِحِيـنَۚ

  • ان تمام کی حیثیت   اور  شمار  اللہ تعالیٰ کے ازخود سے منتخب   فرمائےاورتمام پر اشرف اور محترم قرار پائے بندوں میں ہے؛ اور صدِّیقین (جنہوں نے قول و فعل سے اپنے اخلاصِ ایمان کو سچ ثابت کر دکھایا)، اور شہداء (شہادت/بطور گواہ مقرر کر دیئے گئے لوگ)اور صالحین(اعمال صالح پر کاربند لوگ)۔

وَحَسُنَ أُو۟لَـٟٓئِكَ رَفِيقٙا .٦٩

  • اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم(محمد ﷺ)کے فرمان کو تسلیم کر کے عمدہ ترین انتخاب کیا ہے، رفاقت کے حوالے سے۔(النساء۔۶۹)

Root: ر ف ق


أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم مِّنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ

  • یہ  نام لے کربیان کردہ ہستیاں وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلعت کامرانی سے  سرفراز فرمایاہے  ؛ان تمام کی حیثیت   اور  شمار  اللہ تعالیٰ کے ازخود سے منتخب   فرمائےاورتمام پر اشرف اور محترم قرار پائے بندوں میں تھا۔

Root: ن ب و

مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنْ حَـمَلْنَا مَعَ نُوحٛ

ان میں سے بعض کا شجرہ نسب ءادم کی ذریت میں تھا اور ان میں بعض کا تعلق ان اشخاص کی ذریت سے تھا جنہیں ہم جناب نے نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار کیا تھا۔

Root: ذ ر ر

وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْرَٟٓءِيلَ

  • اور ان میں بعض کا شجرہ نسب ابراہیم(علیہ السلام)اور بعض کا اسرائیل (علیہ السلام)سے تھا۔

وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَٱجْتَبَيْـنَآۚ

  • اور ان میں سے بعض کا تعلقِ ذریت ان سے تھا جنہیں ہم جناب نے ہدایت سے نوازا اور فوقیت دیتے ہوئے انہیں منتخب فرمایا تھا۔

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٙا وَبُكِيّٙا۩ .٥٨

  • جب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات انہیں سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے حضورآنسؤوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ ازخود سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔(مریم۔۵۸) [آیت سجدہ]

Root: س ج د; خ ر ر

اللہ تعالیٰ کے کلام کے ابتدائی حصے کو بیان کر کے ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کے فرمان یعنی قرء انِ مجید کو ہم نے  صدقِ دل سے قبول کر لیا ہے۔اور اظہار بندگی کرنے کے بعداپنے آپ کو صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کے لئے ہر لمحہ ہدایت کے طلبگار ہیں کہ یہ راستہ ان لوگوں کے سفر منزل کا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سند افتخار اور کامرانی عطا فرما دی ہے۔

غَيْـرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْـهِـمْ

  • یہ اُن لوگوں کے احتیارکردہ راستے سے متمیز اور الگ ہے جن پرفرد جرم کی گرفت ہو چکی ہے ۔

 اسم موصول کو بدل کر۔صِـرَٟطَ۔سے اس کا الصاق کر کے منفی طرز فکر و عمل کے لوگوں کے راہ سفر سے صراط مستقیم  کو متمیز کیا ہے کہ یہ راستہ ان لوگوں کے  اختیار کردہ راستے سے مختلف ہے۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں۔ٱلْمَغْضُوبِ۔اسم مفعول فقط ایک مرتبہ آیا ہے۔کیوں؟اس میں منطق(logic)کیا ہے؟ اس لئے کہ جو شخص  ’’مغضوب‘‘قرار دے دیا گیا تو وہ دائمی طور پر حیات دنیا اور آخرت میں اِس حالت میں رہے گا۔حیات دنیا میں اُس کے لئے خیر ،ایمان  لانےکی جانب پلٹنے کے تمام دروازے بند ہو گئے۔یہ وہ شخص ہے جس کے قلب پرخود سے ڈالے غلاف، زنگ کی دبیز تہہ کو اللہ تعالیٰ نے سربمہر کر دیا ہے(حوالہالبقرۃ۔۶

اس کا ماخذ’’غ ض ب‘‘ہے۔ابن فارس نے  بنیادی معنی قوت و شدت بتائے ہیں۔سرخ یا ہر گہرے سرخ رنگ کی چیز؛ اور چونکہ غصے کی حالت میں انسان کے چہرے کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے ،جو بنیادی طور پر شدت و قوت اور حرارت کی علامت ہے، اِس لئے مخلوقات کے حوالے سے غضب اُس حالت کو کہتے ہیں جب غصے میں یعنی شدت و قوت وحرارت کی گرفت میں  وہ ہوں۔

غصہ (wrath) کے متعلق عام فہم ادراک یہ ہے کہ محبت اور خوف کی مانند ایک گہرا/بڑھا ہوا اِحساس (hightened feeling) ہے اور جذبات (emotion) میں شمار ہوتا ہے۔جذبات انسان کے دل و دماغ پر حاوی ہو جاتے ہیں اور حاوی ہونے والی شئے کی گرفت /غلبے میں وہ شئے ہوتی ہے جس پر وہ چھا گئی ہے۔

اور علم نفسیات میں غصہ رد عمل کا مظہر ہے جو ذی حیات کے جسم کے نظام میں بعض تغیر و تبدل سے منسلک ہے، جیسے دل کی دھڑکن، نبض کی رفتار
(pulse rate) اور جسمانی حرارت(body temperature)کا بڑھنا۔ اِس فوری ردعمل کا محرک (stimuli) خارج سے ہو سکتا ہے اور بعض اوقات یاداشت میں محفوظ باتوں کا تجزیہ کرنے سے انسان اِس احساس کی گرفت میں آ سکتا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کیلئے خارج سے کونسی بات انہیں گرفت میں لینے کا سبب بنی تھی؟

وَمَآ أَعْجَلَكَ عَن قَومِكَ يَٟمُوسَـىٰ .٨٣

  • اللہ تعالیٰ نے پوچھا”اورکیا وجہ ہے جس نے آپ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر یہاں عجلت میں آنے پر راغب کیا؟ اے موسیٰ(علیہ السلام)؟“

Root: ع ج ل

قَالَ هُـمْ أُو۟لَآءِ عَلَـىٰٓ أَثَرِى

  • انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے عرض کیا”وہ میرے بتائے ہوئے طرز عمل پر عمل پیر ا ہیں۔

Root: ء ث ر

وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَـرْضَىٰ .٨٤

  • اس حالت کے پیش نظر میں نے آپ کی جانب آنے میں جلدی کی،اے میرے رب! اس خواہش کے زیر اثرکہ آپ جناب کی رضا پاؤں۔“(طہٰ۔۸۴)

Root: ع ج ل

موسیٰ علیہ السلام نے  اعتماد سے کہا کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آنے اور مقررہ وقت سے جلدی پہنچنے کی وجہ یہ ہے کہ قوم اُن کی پیروی کرتے ہوئے راہ راست پر ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام کے اعتماد اور یقین کواس لمحے سخت دھچکا لگا جب انہیں یہ بتایاگیا:

قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ

  • انہوں نے بتایا”آپ کی بات صحیح ہے مگر آپ کے چلے آنے کے بعد ہم جناب نے آپ کی قوم کو آزمائش میں مبتلا رہنے دیا ہے۔

وَأَضَلَّـهُـمُ ٱلسَّامِرِىُّ .٨٥

  • اس حال میں کہ سامری انہیں منحرف اور گمراہ کر چکا تھا”(طہٰ۔۸۵)

انسان کا کسی پر اعتماد،یقین اور بھروسہ جب مجروح ہو توایک ایسے احساس کی گرفت میں آ جاتا ہے جس میں شدت و قوت، تاسف کا رنگ لئے ہوتی ہے۔

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَـىٰٓ إِلَـىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٟنَ أَسِفٙا

  • اورقوم کے گمراہ کئے جانے کی اطلاع پا کرجوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) احساس افسوس سے غصے سے مغلوب اپنی قوم کی طرف لوٹےتھے۔(حوالہ الاعراف۔۱۵۰)


فَرَجَعَ مُوسَـىٰٓ إِلَـىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٟـنَ أَسِفٙاۚ

  • قوم کے گمراہ کئے جانے کی اطلاع پا کرموسیٰ (علیہ السلام) احساس افسوس سے غصے سے مغلوب اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ (حوالہ طہٰ۔۸۶)

أَسِفٙا“ میں بھی شدت و قوت کا مفہوم مضمر ہے۔کسی شئے کے کھو جانے پر شدید احساسِ افسوس۔غصے میں حرارت بڑھ جاتی ہے اور حرارت رکنے والی شئے نہیں ہے بلکہ خارج (emit, radiate) ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَـى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلۡأَلْوَاحَۖ

  • اور جوں ہی غصہ موسیٰ(علیہ السلام)سے سکوت میں ہوا ،انہوں نے تختیوں کو اٹھا لیا۔

Root: س ك ت; ل و ح

وَفِـى نُسْخَتِـهَا هُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّلَّذِينَ هُـمْ لِرَبِّـهِـمْ يَرْهَبُونَ .١٥٤

  • جان لو؛راست روی کے راستے پر گامزن رہنے کے لئے ہدایت اُن پر کندہ مندرجات کا اہم جزو تھا۔اور رحمت کے نزول کا وعدہ ان لوگوں کے لئے   کندہ تھاجو اپنے رب کے مقام و مرتبہ کا ادراک رکھتے ہوئے مرعوب اور سہمے سہمے رہتے ہیں۔( الاعراف۔۱۵۴)

Root: ن س خ

 ”سَكَتَ“ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔”وہ تھم گیا،سکوت میں ہو گیا،اُس نے خاموشی اختیار کی“۔اِس کے بنیادی معنی خاموش ہونا ہیں اور خاموشی سکوت کو طاری کرتی ہے جب کہ بولنا ہوا کی لہروں میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔اور غصہ جب تھمتا ہے تو درحقیقت ارتعاش سے حالت سکوت میں جانا ہے کہ شئے جب ٹھندی ہو جاتی ہے تو اُس سے حرارت کی لہریں فضا میں ارتعاش پیدا نہیں کرتیں۔ قرءانِ مبین کے الفاظ مادی حقیقتوں کو سموئے ہوئے ہیں۔

وَٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٟٓئِرَ ٱلْإِثْـمِ وَٱلْفَوَٟحِشَ

  • اوریہ (صدق قلب سے ایمان لانے والے)وہ لوگ ہیں جوکوشش و اخلاص سے بڑےگناہوں سے اجتناب کرتے رہتے ہیں،اور اسی طرح فحش، جنسی  بےراہروی سے اجتناب کرتے ہیں۔

Root: ف ح ش

وَإِذَا مَا غَضِبُوا۟ هُـمْ يَغْفِرُونَ .٣٧

  • اور جب انہیں جس نے غضبناک(غصہ دلایا/غصے میں)کیا تو وہ درگزر اورمعاف کر دیتے ہیں۔(الشوریٰ۔۳۷)

اردو کا لفظ ”غصہ“ چونکہ احساس اور جذبات سے تعلق رکھتا ہے اس لئے بعض مترجمین اور مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے عربی لفظ ”غَضَب“ کو ہی اردو ترجمے میں اختیار کیا جب کہ بعض نے اس کا ترجمہ ”غصہ“ ہی کیا۔مگر دونوں میں فرق نہیں کہ اردو ڈکشنری میں غضب کے معنی غصہ، قہرہی ہیں۔جس مجرم کے متعلق اُس کے جرم کے شواہداور ثبوت مل چکے ہوں وہ مقتدر اعلیٰ کی جانب سے گرفت میں لئے جانے ”غَضَب“ کا مستحق ہو جاتا ہے جس کے بعد اُسے اُس کے جرم کی سزا دی جاتی ہے۔سزا دینے کیلئے پہلا مرحلہ مجرم کو گرفت میں لینا/گرفتار کرنا ہے وہ تمام لوگ جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے گرفت میں لئے جانے کے مستحق ہو گئے ہیں انہیں روز قیامت حیات بحال کئے جانے پر فوراً گرفتار کر لیا جائے گااور ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی جائیں گی۔اور اُس وقت اُن سے اُن کا جرم بھی نہیں پوچھا جائے گا کہ دنیا کی حیات کے دوران ہی انہیں مغضوب یعنی مستحقِ گرفت قرار دے دیا گیا تھا۔

فَيَوْمَئِذٛ لَّا يُسْـٔ​َلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنـسٚ وَلَا جَآنّٚ .٣٩

  • بسبب آواز جس دن حیات کو بحال کیا جا چکا ہو گا تو اس دن نہ انسان سے اور نہ جنات سے  کسی مجرم سے اس کے جرم کے متعلق(ملائکہ کی جانب سے)پوچھا جائے گا۔(سورۃ الرحمٰن۔۳۹)


يُعْـرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَٟهُـمْ

  •  مجرمین اپنے چہرے کی علامتوں /تاثرات سے پہچان لئے جائیں گے۔

فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَاصِى وَٱلۡأَقْدَامِ .٤١

  • شناخت کئے جانے پر انہیں پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر گرفتار کرلیا جائے گا۔(سورۃ الرحمٰن۔۴۲)

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ .٤٢

  • اس لئے تم اپنے رب کے مجرمین کی پہچان کیلئے مقرر کی گئی کس کس انداز/علامت کو تم دونوں جھٹلا سکو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۲)

ٱلۡأَقْدَامِ“ جمع اور واحد قَدَمٌ۔ قدم،پاؤں۔قابو کر کے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِيـنَ يَوْمَئِذٛ مُّقَرَّنِيـنَ فِـى ٱلۡأَصْفَادِ .٤٩

  • اور اس دن جب حیات نوپانے پر لوگ قبروں سے نکل چکے ہوں گے، آپ(ﷺ)مجرمین کو اس حال میں دیکھیں گے کہ زنجیروں میں اکھٹے جکڑے ہوئے ہیں۔(سورۃ ابراہیمؐ۔۴۹)

Root: ق ر ن


إِذِ ٱلۡأَغْلَٟلُ فِـىٓ أَعْنَٟقِهِـمْ وٱلسَّلَٟسِلُ يُسْحَبُونَ .٧١

  • (وہ جلد انجام جان لیں گے)جب انہیں اس حال میں دھکیلا جائے گاکہ ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے گئے ہوں گے اورانہیں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہو گا۔(غافر۔۷۱)

Root: س ح ب; س ل س ل;  ع ن ق; غ ل ل


خُذُوهُ فَغُلُّوهُ .٣٠

  •  (پولیس ڈیوٹی پر مامور ملائکہ کو حکم دیا جائے گا)”اسے پکڑکرگرفت میں لے لو اورتم لوگ اسے طوق پہنا دو“۔(الحاقۃ۔۳۰)

Root: غ ل ل


إِنَّـآ أَعْتَدْنَا لِلْـكَـٟفِرِينَ سَلَٟسِلَا۟ وَأَغْلَٟلٙا وَسَعِيـرٙا .٤

  •  یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے حالت کفر میں مرنے والوں کے لئے زنجیریں اور گردن میں ڈالنے والے طوق اور گرم حرارت والا قید خانہ تیار کر رکھا ہے۔(الانسان۔۴)

Root: س ع ر; س ل س ل;  ع ت د; غ ل ل


اللہ تعالیٰ عادل ہیں؛ عدل کرتے ہیں اور عدل مجرم کو قوت و طاقت سے سزا دینے کا طالب ہے۔اللہ تعالیٰ گرفت میں صرف اُسے لیتے ہیں جو اپنے آپ کو گرفتاری کا مستحق(بَآءُو) ثابت کر دے۔اور جو شخص اپنے آپ کومجرم ثابت/ظاہر کر دے اسے سزا دینا عادل مقتدر اعلیٰ پر واجب ہو جاتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو نظام ایسے دکھائی دے گا جیسے (arbitrary and whimsical, dictatorial) خواہشات کے زیر اثر صوابدیدی آمریت ہے۔

بنی اسرائیل مغضوب/گرفت کی مستحق قوم ہے

اللہ تعالیٰ نے اہل یہود کی اکثریت کے جرائم کے متعلق تفصیلی فرد جرم بیان فرمائی ہے اور ان کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَإِذْ قُلْتُـمْ يَٟمُوسَـىٰ لَن نَّصْبِـرَ عَلَـىٰ طَعَامٛ وَٟحِدٛ

  • اور (اے بنی اسرئیل یاد کرو) جب تم لوگوں نے کہا تھا”اے موسیٰ(علیہ السلام)! ہم سے ایک ہی طرح کے طعام پر صبرنہیں ہوتا۔

Root: ص ب ر; ط ع م

فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرْضُ

  •  اِس لئے اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمارے لئے وہ مہیا کرے جسے زمین اگاتی ہے

Root: خ ر ج; ن ب ت; ء ر ض

مِنۢ بَقْلِهَا وَقِثَّـآئِـهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَاۖ

  • اُس کی سبزیاں / ساگ، کھیرے ککڑی، اُس کا اناج/ گیہوں، اُس کی مسور، اُس کی پیازمیں سے“۔

Root:  ب ق ل

قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ ٱلَّذِى هُوَ أَدْنَـىٰ بِٱلَّذِى هُوَ خَيْـرٌۚ

  • انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے کہا”کیا تم اُس طعام کو جوزیادہ بہتر ہے اُس شئے سے بدلنا چاہتے ہو جونسبتاً ادنیٰ ہے؟

Root: ب د ل; د ن و

ٱهْبِطُوا۟ مِصْرٙا فَإِنَّ لَـكُـم مَّا سَأَ لْتُـمْۗ

  • پہاڑی علاقے سے)نیچے /پستی کی جانب بستی میں اترو تو پھر تمہیں یقینا وہ سب ملے گا جس کا تم سوا ل کر رہے ہو“۔)

Root: م ص ر; ھ ب ط; س ء ل

وَضُرِبَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ

  • جان لو ان کے متعلق یہ حقیقت۔ اُن پر زیر سرپرستی رہنے،دوسروں پر انحصار کرنے اور سکونت کی محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔

Root: ذ ل ل; ض ر ب س ك ن

وَبَآءُو بِغَضَبٛ مِّنَ ٱللَّهِۗ

  • اورانہوں نے اپنے آپ کومجرمانہ جانکاری کے مستحق بنا لیا ہے ا للہ تعالیٰ کی جانب سے گرفت میں لئے جانے کے۔

Root: ب و ء

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ كَانُوا۟۟ يَكْـفُـرُونَ بِـٔ​َايَـٟتِ ٱللَّهِ

  • یہ فیصلہ اِس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے انکار کو اپنی سرشت بنائے رکھا۔

وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّــۧنَ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّۗ

  • اور اس بناء پر کہ وہ حقیقت کے منافی باتوں سے نبیوں کی کردار کشی،تحقیر و توہین کرتے اور انہیں زچ کرتے تھے۔

ذَٟلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟۟ يَعْتَدُونَ.٦١

  • آپ جان لیں،یہ اس وجہ سے کرتے تھے کہ انہوں نے اُن(نبیوں) کی بات کوماننے سے انکار کر دیا تھا اور دوری اختیار کرتے/حد سے نکل جانے کی روش کو انہوں نے اپنائے رکھا۔(البقرۃ۔۶۱)


ضُرِبَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٛ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٛ مِّنَ ٱلنَّاسِ

  • جان لو ان کے متعلق یہ حقیقت۔ اُن پر زیر سرپرستی رہنے،دوسروں پر انحصار کرنے  کی محتاجی مسلط کر دی گئی ہے جہاں کہیں انہیں رہنے کی جگہ ملی ہو،اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ’’رسی‘‘سے الصاق کریں یا لوگوں کی جانب سے سہارے کی رسی سے بندھ کر۔

Root: ذ ل ل; ض ر ب

وَبَآءُو بِغَضَبٛ مِّنَ ٱللَّهِ

  • اورانہوں نے اپنے آپ کومجرمانہ جانکاری کے مستحق بنا لیا ہے ا للہ تعالیٰ کی جانب سے گرفت میں لئے جانے کے۔

Root: ب و ء; غ ض ب

وَضُرِبَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلْمَسْكَنَةُۚ

  • جان لو  اور ان پرسکونت کی محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔

Root: ض ر ب; س ك ن

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ كَانُوا۟۟ يَكْـفُـرُونَ بِـٔ​َايَـٟتِ ٱللَّهِ

  • یہ فیصلہ اِس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے انکار کو اپنی سرشت بنائے رکھا۔

Root: ك ف ر

وَيَقْتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيْـرِ حَقّٛۚ

  • اور اس بناء پر کہ وہ حقیقت کے منافی باتوں سے  چندنبیوں کی کردار کشی،تحقیر و توہین کرتے اور انہیں زچ کرتے تھے۔

Root: ق ت ل;غ ى ر; ح ق ق

ذَٟلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ .١١٢

آپ جان لیں،یہ اس وجہ سے کرتے تھے کہ انہوں نے اُن(نبیوں) کی بات کوماننے سے انکار کر دیا تھا اور دوری اختیار کرتے/حد سے نکل جانے کی روش کو انہوں نے اپنائے رکھا۔(ءالِ عمران۔۱۱۲)

Root: ع ص ى; ع د و


بَآءُو:فعل ماضی جمع مذکر غائب کا مادہ ”ب و ء“ہے جس کے بنیادی معنی کسی کی طرف لوٹنا،رجوع کرنا،موافق و مطابق ہو جانا ہیں۔اور جرم وسزاکے حوالے سے اپنے آپ کو موافق و مطابق بنانے کا مفہوم گرفت تک پہنچ جانا/گرفتاری کا مستحق ہو جانا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کے قوم سے عجلت میں جانے سے قبل انہیں سایہ،من و سلویٰ اور پانی مہیا کر دئیے جانے پربنی اسرائیل کو کہا گیا تھا:

كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٟتِ مَا رَزَقْنَـٟكُـمْ

  • کھاؤ اِن طیب (مرغوب اور خود کے لئے صحت افزا)چیزوں میں سے جو ہم جناب نے رزق تم لوگوں کوعطا کیا ہے۔

وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُـمْ غَضَبِىۖ

  • اور تمہیں منع کیا جاتا ہے کہ اس معاملے میں طغیان مند بنو۔ایسا کرو گے تو میرا گرفت میں لینا تم لوگوں پر مستوجب ہو جائے گا۔

Root: ط غ ى

وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ .٨١

  • متنبہ رہو؛میرا گرفت میں لینا جس کسی پر مستوجب ہو گیا تو اس کا انجام سمجھو کہ وہ خالی دامن ہو چکا ہے۔(طہ۔۸۱)

فَيَحِلَّ۔حرف ”ف“انجام کو ظاہر کرتا ہے ماقبل ممانعت کی  حکم عدولی پر۔+ َيَحِلَّفعل واحد مذکر غائب مضارع منصوب۔اِس کا مادہ ”  ح ل ل“ہے جس کے بنیادی معنی/تصور گرہ کھولنے اور ٹھوس چیز کو پگھلا دینا یعنی مائع میں تبدیل کرنا ہے۔جس شئے کی گرہ کھول دی جائے وہ حلال ہوجاتی /کہلاتی ہے۔جن اشیاء کے کھانے پینے کی اجازت ہے انہیں حلال کہتے ہیں کہ جسم کا حصہ بننے سے قبل کھائی ہوئی شئے کو ”پگھلا“ کر مائع بنایا جاتا ہے۔اور ٹھوس شئے کے پگھلنے/مائع بننے کے عمل میں بھی درحقیقت ”گرہیں“کھلتی ہیں۔ کوئی بھی شئے،بات اور عمل حلال صرف اُس صورت میں کہلا سکتا ہے جب گرہ کھول دی جائے۔قرءانِ مجید کا ہر لفظ اپنے اندر لطیف معلومات سموئے ہوئے ہے۔

هَوَىٰ“ فعل ماضی،واحد مذکر غائب،ضمیر فاعل مستتر،راجع اس شخص کی جانب جس کو گرفت میں لینا واجب ہو چکا۔اس کا مادہ ”ھ و ی“ہے جس کے معنی کسی شئے کا اوپر سے نیچے گرنا،خالی اور کھوکھلی چیز کو کہتے ہیں بالخصوص زمین و آسمان کے درمیان خالی فضا خواہشات،جذبات و ہوس(lust)کی غلامی۔قرءانِ مجید نے اِس کے معنی اور مفہوم پست/ سفلی /دنیاوی مفادات کی خواہشات اور تخیلاتی،ظن و گمان کی باتیں بتایاہے جو انسان کے دل و دماغ پر چھائی/ قابض ہوں جن سے علم و حقیقت چھپ کر رہ جائے۔ اِس مادہ سے بنا لفظ” “ انسان کو گرفت میں لینے کے انجام کے حوالے سے صرف ایک مرتبہ آیا ہے۔
هَوَىٰ ایک کیفیت اور حالت کو بیان کر رہا ہے اور اِس کیفیت کے زیر اثر آنے کی وجہ انسان کیلئے اُس کا گرفت میں لئے جانا ہے۔هَوَىٰ کے اِن معنی اور مفہوم کی روشنی میں انسان کے هَوَىٰ ہونے کا مطلب ایک ایسی کھوکھلی خواہشات کی دنیا میں کھو جانے کیلئے دھتکار دیا جانا ہے جو ایسی تباہی و بربادی پر منتج ہو جس میں انسان نہ جیئے اور نہ مرے۔
بنی اسرائیل کو زمان میں متنبہ کیا جاتا رہا کہ اپنے طرز عمل کو درست کریں اس سے قبل کہ انہیں مغضوب قرار دے دیا جائے۔

فَرَجَعَ مُوسَـىٰٓ إِلَـىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٟـنَ أَسِفٙاۚ

  • قوم کے گمراہ کئے جانے کی اطلاع پا کرموسیٰ (علیہ السلام) احساس افسوس سے غصے سے مغلوب اپنی قوم کی طرف لوٹے۔

قَالَ يَٟقَوْمِ أَ لَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُـمْ وَعْدٙا حَسَنٙاۚ

  • انہوں نے کہا:”اے میری قوم!کیا تمہارے رب نے تم سے عمدہ وعدہ نہیں کیا؟

أَفَطَالَ عَلَيْكُـمُ ٱلْعَهْدُ

  • کیاوعدے کی تکمیل میں وہ زمانہ تم لوگوں پر طویل ہو گیا ہے؟

Root: ط و ل; ع ھ د

أَمْ أَرَدتُّـمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُـمْ غَضَبٚ مِّن رَّبِّكُـمْ

  • یا کیا تم لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ تمہارے رب کی جانب سے تمہیں گرفت میں لینا واجب ہو جائے

فَأَخْلَفْتُـم مَّوْعِدِى .٨٦

  • جس کی وجہ سے تم نے میرے ساتھ کیئے وعدے کی خلاف ورزی کی؟‘‘ (طہٰ۔۸۶)

قرءانِ مجید نے غیر مبہم انداز میں واضح فرمایا ہے کہ ”غضب“،”لعنت“اور”عذاب“ایک دوسرے سے الگ الگ معنی اور مفہوم کے حامل ہیں۔گرفت میں لیا جانا عذاب دینے سے قبل ہوتا ہے تاکہ مجرم سزا سے بچنے کیلئے بھاگ/فرار نہ ہو سکے۔

مَن كَفَـرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إيمَٟنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُـهُۥ مُطْمَئِنُّۢ بِٱلْإِيمَٟنِ

  • متنبہ رہو؛اگر کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کر دیا  اپنے ایمان لانے کے بعد کے دور میں تو اپنے آپ کو مجرم بنانے کی راہ پر چل پڑا؛اس بات کا اطلاق اس شخص پر نہیں ہے جسے زبان سے اس انکار پر مجبور کت دیا گیا جبکہ اس کا قلب اپنے ایمان کی صداقت پر مطمئن تھا۔

Root: ك ر ه;  ط م ن

وَلَـٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْـكُـفْـرِ صَدْرٙا فَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٚ مِّنَ ٱللَّهِ

  • لیکن اگرکسی نے اپنے سینے کو کفر کے لئے کھول دیا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے گرفت میں لیئے جاناان پر صادر ہو جائے گا۔

Root: ش ر ح

وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيـمٚ .١٠٦

  • جان لیں ایک  عذاب  جو ان کی ہڈیوں میں سرایت کرے گااُن کیلئے تیار اور منتظر ہے  (غذایت کی کمی)۔(النحل۔۱۰۶)


وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِـى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ٱسَتُجِيبَ لَهُۥ

  • جان لو؛وہ  لوگ جو اللہ تعالیٰ کے  متعلق  باتوں کے پیچ و خم سے الجھتے اور بحث کرتے ہیں بعد اُس کے جس پر ان جناب کے لئے صدائے لبیک کو بلند کیا جا چکا ہے۔

حُجَّتُـهُـمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّـهِـمْ

  • اُن لوگوں کی کٹ حجَّتی ان کے رب کے نزدیک بے سروپا پھسلاہٹ ہے۔

Root: ح ج ج

وَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٚ

  • اوربحثیت مجرم گرفت میں لیئے جانے کا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ان پر صادر ہو  گا۔

وَلَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدٌ .١٦

  • اورایک شدید محسوس ہونے والی جسمانی سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔(الشوریٰ۔۱۶)


وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتِ وَٱلْمُشْـرِكِيـنَ وَٱلْمُشْـرِكَـٟتِ

  • اور اس فتح کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ جناب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور رسول کریم کا انکار کرنے والے بت پرست مردوں اور عورتوں کو عذاب میں مبتلا کردیں۔

ٱلظَّآنِّيـنَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوْءِۚ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق  حقیقت کے منافی یہ لوگ گمان رکھنے والے ہیں۔برائی پر مبنی گمان۔ 

عَلَيْـهِـمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِۖ

  • برائی کا بھنور ان پر منڈلاتا رہتا ہے۔

وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْ وَلَعَنَـهُـمْ

  • اور اللہ تعالیٰ نے ان پر گرفت کا فرمان جاری کر دیا ہے اور ان جناب نے انہیں  ملعون /راندہ درگاہ ، دھتکارے ہوئےقرار دے دیا ہے۔

Root: ل ع ن

وَأَعَدَّ لَـهُـمْ جَهَنَّـمَۖ

  • اور ان جناب نے جہنم کو ان کے لئے ابدی رہائش گاہ کے طور تیار کر رکھا ہے۔

Root: ع د د

وَسَآءَتْ مَصِيـرٙا .٦

  • اور کیا ہی وہ بری منزل ہے رہائش پذیر ہونے کے لئے!(الفتح۔۶)

Root: ص ى ر

منافق کہلانے کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ مومن/اسلامی معاشرے میں یہ جھوٹادعویٰ کرے/بیان دے/حلف اٹھائے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور آقائے نامدار ﷺ کوخاتم النبیین مانتا ہے۔اور قرءانِ مجید میں آخری مرتبہ لفظ ”غضب“ یہ بتانے کیلئے استعمال ہوا ہے:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لَا تَتَوَلَّوْا۟ قوْمٙا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْ

  • تم  کو اس قوم کی جانب   ازخودپلٹنے سے منع کیا جاتا ہے  جس کے لوگوں کی اکثریت پراللہ تعالیٰ نے گرفت کا فرمان جاری کر دیا ہے۔

قَدْ يَئِسُوا۟ مِنَ ٱلۡءَاخِـرَةِ

  • وہ(یہودیوں کی اکثریت)یقینا آخرت میں کامیابی سے مایوس اور ناامید ہو چکے ہیں۔

كَمَا يَئِسَ ٱلْـكُـفَّارُ مِنْ أَصْحَـٟـبِ ٱلْقُبُورِ .١٣

  • اس ناامیدی کا انداز ایسا ہی ہے جیسے کٹر کفار اہل قبور سے کسی قسم کی امید نہیں رکھتے۔(الممتحنہ۔۱۳)۔

Root: ق ب ر ى ء س

صدق قلب سے ایمان  لانے والے صراط مستقیم کومغضوب لوگوں کی راہ  سے الگ  قرار دیتے ہیں  جس کے جواب میں کتابِ لا ریب،قرءانِ عظیم ایسی قوم کی روش اور اختیار کردہ راہ کی نشاندہی کر تاہے جس کی بناء پر اُن کی اکثریت ا للہ تعالیٰ کی جانب سے گرفت کی مستحق (مغضوب)قرار پائی ہے۔گرفت میں آنا اِس بات کا مظہر ہے کہ مجرم ہونا ثابت ہو چکا جس کی بناء پرسزا لازماً ملے گی اور یہی وجہ ہے کہ مغضوب لوگ آخرت میں کسی بھی خیر ملنے سے مایوس ہو جاتے ہیں۔اور پھر اپنے آپ کو یوں طفل تسلیاں دیتے ہیں:

وَقَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٙا مَّعْدُودَةٙۚ

  • اورلوگوں سے وہ کہتے ہیں ”ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں کیلئے“

قُلْ أَتَّخَذْتُـمْ عِندَ ٱللَّهِ عَهْدٙا فَلَن يُخْلِفَ ٱللَّهُ عَهْدَهُ  ۥٓۖ

  • اِن سے پوچھو ”کیا تم لوگوں نے ا للہ تعالیٰ سے اِس بات کاعہد لیا ہے؟ اگر ایسا ہے پھر تو ا للہ تعالیٰ اپنے عہد کے خلاف نہیں کریں گے(کیونکہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتے)

أَمْ تَقُولُونَ عَلَـى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ.٨٠

  • یا تم ا للہ تعالیٰ سے وہ بات منسوب کرکے کہتے ہو جس کا تم لوگوں کو علم نہیں؟‘‘(البقرۃ۔۸۰)

انسان کی نفسیات عجیب ہے۔اپنے آپ کو بھی دھوکا دینے سے باز نہیں رہتا۔ جب اہلِ کتاب کو اختلافی باتوں اور روایات کے بارے میں فیصلے کیلئے قرءانِ مجید کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان کا ایک فریق اس سے اعراض برتتا ہے اور اس بے اعتنائی کی وجہ یہ ہے:

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ قَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٙا مَّعْدُودَٟتٛۖ

  • ان کا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں سے کہا ہوا ہے’’ہمیں جہنم کی آگ/تپش نہیں چھوئے گی سوائے  معدودے چند دنوں کے دوران‘‘۔

وَغَـرَّهُـمْ فِـى دِينِـهِـم مَّا كَانُوا۟۟ يَفْـتَـرُونَ .٢٤

  • متنبہ رہو؛ان باتوں نے جو وہ زیر  مقصدکانٹ چھانٹ کر اختراع کرتے رہے ہیں انہیں  اپنے ضابطہ حیات/دین کے معاملات میں   جھوٹی خوش فہمیوں سے فریب دینے میں مبتلا کر دیا ہے۔(ءالِ عمران۔۲۴)

ان کی اس بات سے یہ اظہار ہوتا ہے کہ ایسے لوگ کسی اصول،کسی دلیل سے قرء ان مجید کی بات کو رد نہیں کر رہے بلکہ اس سے اجتناب برتنے کیلئے ایک منفی نتیجے میں ایک مثبت پہلو اختراع کر کے دل کے نہاں خانے میں بسا کر اپنے آپ کو ذہنی طور پر دھوکہ دیتے ہیں۔خود کہتے ہیں کہ آگ ہمیں چھوئے گی مگرایک طفل تسلی، ایک مثبت پہلو یہ گھڑ لیا کہ ایسا چند روز کیلئے ہو گا۔ یہ ایک عجیب نفسیاتی دھوکہ ہے جو انسان اپنے آپ کو دیتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اختراع کی ہوئی باتیں اس قدر گہری جڑیں پکڑ لیتی ہیں کہ اسے دین کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔

یہود و نصاریٰ کے اس قول کہ’جنت میں کوئی نہیں جائے گا سوائے اسکے جو یہودی ہو یا نصاریٰ‘ کو ”
تِلْكَ أَمَانِيُّـهُـمْ “ ان کی آرزوئیں ،خوش فہمیاںقرار دیا گیا ہے  (حوالہ البقرۃ۔ ۱۱۱)۔شیطان رجیم نے کہا تھا کہ وہ لوگوں کے قلب و ذہن میں ”آرزوئیں“ پیدا کرے گا (حوالہ النساء ۱۱۹۔ ۱۲۰) اس طرح کی خام خیالی اور آرزوئیں انسان کو کتاب،الفرقان سے دور لے جاتی ہیں اور یہ نفسیاتی دھوکہ صرف اہل کتاب سے مخصوص نہیں، اہل ایمان بھی اس کی لپیٹ میں ہیں جس کا اظہار ا للہ تعالیٰ کے  اس فیصلے سے ہوتا ہے:

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّـكُـمْ وَلَآ أَمَانِـىِّ أَهْلِ ٱلْـكِـتَٟبِۗ

  • جنت میں داخل ہونے کا دارومدار نہ تو تم لوگوں (مدعیان ایمان)کی آرزؤں، تمناؤں اور تخیلاتی باتوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزؤں، تمناؤں اور اختراع کردہ کثرت سے پھیلائی باتوں پر منحصر ہے۔

Root: م ن ى

مَن يَعْمَلْ سُوٓءٙا يُجْـزَ بِهِۦ

  • جو جوئی  قابل تعزیربرائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کو اس کے موافق سزا دی جائے گی(اگر توبہ اور اصلاح نہیں کی)

وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٙا وَلَا نَصِيـرٙا .١٢٣

  • اور  اللہ تعالیٰ کے سوائے  وہ کوئی خیر خواہ  سرپرست اور  نہ کوئی مددگار پائے گا جو اسے اس سزا سے نجات دلا سکے۔(النساء۔۱۲۳)

صراط مسقیم کر گامزن رہنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغضوب قوم کے اختراع کئے ہوئے تصورات، طرز فکر اور طرز عمل سے گریز کریں۔

۔ٱلضَّآلِّيـنَ۔اس کے معنی اور مفہوم

صدق قلب سے ایمان لانے والے ذیلی جملے میں صراط مستقیم کے متعلق  اعتماد سےمزید گوش گزار کرتے ہیں:

وَلَا ٱلضَّآلِّيـنَ .٧

  • (اور اُن سے بھی مختلف جو منحرف؍کج رو ؍ دانستہ غافل ، اپنے آپ میں مگن ہیں۔

ٱلضَّآلِّيـنَ۔یہ اسم فاعل،معرفہ باللام،مذکر،جمع سالم،مجرور،ہے۔تنہا صرف یہاں استعمال ہوا ہے۔دوسرے پانچ مقامات پر یہ مرکب کا جزو ہے جن میں سے ایک بار موسیٰ علیہ السلام کے قول میں ہے۔
اس جمع اسم فاعل کا واحد۔
ضَآلّٙا۔ آقائے نامدار،رسول کریم ﷺکے لئے سورۃ الضّحیٰ کی آیت مبارکہ۔۷ میں استعمال ہوا ہے،
اور اس کا مصدر۔ ”
ٱلضَّلَٟلُ “۔ہے اور یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے حوالے سے بھی استعمال ہوا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اہم الفاظ میں سے ہے کیونکہ یہ انسانی رویئے
(attitude) اور طرز عمل (behaviour) سے متعلق ہے اور رویئے اور طرز عمل کے قابل درگزر یا قابل مؤاخذہ،قابل تعذیر،قابل الزام اور قابل گرفت ہونے کے عوامل الگ ہیں، اس لئے اس کا تفصیلی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔یہ مطالعہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اس لفظ کے حوالے سے بعض، بالخصوص انگلش زبان کے مترجمین نے انتہائی غیر ذمہ دارنہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے،اور ایسا انہوں نے ترجمہ کرنے کے تمام اکیڈیمک اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کیا تھا۔

اس کا مادہ ”ض ل ل“ہے۔اس مادہ سے بننے والے الفاظ ایک سو اکیانوے (۱۹۱)مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ مصدر،اسم فاعل اوراسم تفضیل چوہتر۔۷۴ بار اور فعل ایک سو سترہ۔۱۱۷ مرتبہ،اورافعال باب اول ”فَعَلَ“ اور باب چہارم ”افعَال“ سے ہیں۔
جناب ابن فارس کے مطابق اس میں سمویا بنیادی تصور ”
ضَياع الشي“کا ہے یعنی کسی شئے کا گم ہو جانا،کھوجانا،معدوم ہو جانا، غائب ،اوجھل یا الگ ہو جانا؛ اور بنیادی تصور کی مناسبت سے دوسرے سیاق و سباق میں اس کے معنی ”ذهابُهُ في غيرِ حَقِّه“ ہیں یعنی کسی کااپنی مرضی اور صوابدید سے ایسے راستے پر چل پڑنا جو روشن نہیں،سچائی،انصاف پر مبنی نہیں۔ایسے راستے پر جانے کا انجام اندھیروں میں گم ہو جانے پر منتج ہوتا ہے جو اس مادے کا بنیادی تصور ہے۔
انسان اور جانور کے حوالے سے جب ”
ضَياع الشي“کے معنی میں استعمال ہو گا تو اس کے معنی اپنے خیالوں میں کھو جانایا گم ہو جانا، اپنے آپ میں اتنا مگن ہو جانا جیسے ماحول کے لئے وہ کہیں کھو گیا ہو۔اور اس کا خود ماحول سے اتنا غافل ہو جانا جیسے ماحول اس کے لئے معدوم ہو۔تفکر کرتے ہوئے،حقیقت شئے کو جاننے کے لئے انتہائی غوروفکر کی حالت میں اپنے اردگرد کے ماحول اور یہاں تک کہ وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہ رہے۔
قرءانِ مجید اپنے الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم، حدود، گہرائی اور وسعت کا تعین بھی خود کرتا ہے۔قرءانِ مجید اِس حوالے سے بھی منفرد کتاب ہے کہ یہ اپنے الفاظ اور تصورات 
(concepts/semantic frames
) کیلئے بہترین لغت ہے۔ قرء انِ مجید میں جس انداز میں اس مادہ سے بننے والے الفاظ کو دوسرے الفاظ (collocates) کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے،وہ اس کے معنی اور مفہوم کو نکھار کر عیاں کر دیتا ہے۔

۔اسم فاعل .ٱلضَّآلِّيـنَ۔واحد ضَآلّٙا۔، اور مصدر ” ٱلضَّلَٟلُ “کا بنیادی باب اول میں فعل واحد مذکر غائب ۔ضَلَّ۔ہے۔یہ چھبیس بار استعمال ہوا ہے اور تین  مرتبہ متصل ضمیر فاعل کے ساتھ.ضَلَلْتُ،دومرتبہ اور۔ضَلَلْنَا۔ ایک بار۔
لغت کے مطابق اس کے بنیادی معنی ”
ضَياع الشي“ہیں۔قرء انِ مجید سے بھی یہی معنی واضح ہیں:

ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْۚ

  • آپ دیکھیں کیسے انہوں نے اپنے متعلق جھوٹ بولا ہے۔

وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟۟ يَفْتَـرُونَ .٢٤

  • اور  ان کے دل و دماغ سے  وہ غائب ہو گیا جو  زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔(الانعام۔۲۴)

اس آیت مبارکہ کا دوسرا جملہ بھی چھ بار ہے(الاعراف۔۵۳؛یونس۔۳۰؛ھود۔۲۱؛النحل۔۸۷؛القصص۔۷۵)۔اور مشرکین کے من گھڑت معبودوں کے متعلق ہے۔فعل ماضی واحد مذکر غائب کا فاعل اسم موصول ہے اور اس کے صلۃ الموصول نے وضاحت کر دی کہ یہ وہ شئے / تصور ہے جو وہ لوگ دنیاوی زندگی میں افترا کیا کرتے تھے، پتھروں کو تراش کر بت بناتے اور انہیں تخیلاتی نام دے کر متعدد خداؤں کا تصور اختراع کرتے تھے۔

وَإِذَا مَسَّكُـمُ ٱلْضُّرُّ فِـى ٱلْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُۖ

  • اورجب سمندر میں سفر کے دوران تم لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا ہو جاتا ہے توسوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے وہ سب منظر / تصورسے غائب ہو جاتے ہیں جنہیں تم (پرسکون حالات)میں پکارتے رہتے ہو۔

فَلَمَّا نَجَّىٰكُـمْ إِلَـى ٱلْبَـرِّ أَعْـرَضْتُـمْۚ

  • تمہاری مدد کی درخواست کو قبول کر کے جب وہ  جناب تمہیں خشکی کی جانب بحافظت پہنچا دیتےہیں،تو پھر اعراض کی روش اختیار کر لیتے ہو۔

وَكَانَ ٱلْإِنسَٟنُ كَفُورٙا .٦٧

  • اور تاریخی حقیقت ہے کہ انسان عمومی طور پر ناشکرا / احسان فراموش ہے۔(الاسراء۔۶۷)


وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِـى ٱلۡأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٛ جَدِيدِۭۚ

  • اور انہوں (عمائدین)نے لوگوں سے استفسار کرتے ہوئے کہا”کیا اس وقت جب ہم زمین میں ملیامیٹ / غائب / تلف ہو چکے ہوں گے تو کیا واقعی ہمیں از سر نو/ جدید تخلیق کر کے نکال لیا جائے گا؟“

Root: ج د د

بَلْ هُـم بِلَقَآءِ رَبِّـهِـمْ كَٟفِرُونَ .١٠

  • ان کا یہ سوال کرنا  محض لوگوں کو ملتبس کرنا ہے۔ درحقیقت     اپنے رب کے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کا وہ انکار کرنے والے ہیں۔(السجدہ۔۱۰) 


وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟۟ يَدْعُونَ مِن قَبْلُۖ

  • اور ان کے تصور سے وہ معدوم ہو گیا جسے زمانہ قبل میں وہ پکارتے رہتے تھے۔

وَظَنُّوا۟ مَا لَـهُـم مِّن مَّحِيصٛ .٤٨

  • اور انہوں نے اندازہ کر لیا کہ اب ان کے لئے بچت اور فرار کی کوئی سبیل نہیں۔(فصلت۔۴۸)

Root: ح ى ص

ان آیات مبارکہ میں ہم نے دیکھا کہ فعل ۔ضَلَّ۔اپنے مادہ کے بنیادی معنی یعنیضَياع الشي کے لئے استعمال ہوا ہے۔

ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُـهُـمْ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا

  • (خسارا کرنے والے) وہ لوگ ہیں جن کی تگ ودو/جدوجہد دنیاکی زندگی میں تلف وبرباد /رائیگاں ہو گئی۔

Root: س ع ى

وَهُـمْ يَحْسَبُونَ أَنَّـهُـمْ يُحْسِنُونَ صُنْعٙا .١٠٤

  • جس کے متعلق گمان کرتے تھے کہ وہ اعلیٰ پائے کی کارکردگی کر رہے ہیں۔(الکہف۔۱۰۴)۔

Root: ص ن ع

اردو اور انگلش میں ترجمہ کرنے کے لئے جملے میں بیان کردہ ماحول اور اس کی معیت میں استعمال کردہ الفاظ کی مناسبت سے کرنا چاہئے۔ اردو میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں کی سعی/کوشش/جدوجہد کھو گئی یا گم ہو گئی بلکہ مناسب لفظ کسی کی کوشش کا رائیگاں جانا ہے مگر مفہوم وہی ہے جوضَياع الشي کا ہے۔

فعل ۔ضَلَّ۔کا جمع کا صیغہ فعل ماضی جمع مذکر غائب۔ضَلُّوا۟۔ ہے۔

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبٙا أَوْ كَذَّبَ بِـٔ​َايَـٟتِهِۦٓۚ

  •  ان حقائق کے پیش نظر غور کرو کہ اس شخص سے بڑھ کرکون تخریب اور بگاڑ کرتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے متعلق دانستہ زیر مقصدجھوٹ پر مبنی تصور تخلیق کیا یا جس نے ان کے کلام پر مبنی آیات کو برملا جھٹلایا۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ يَنَالُـهُـمْ نَصِيبُـهُـم مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِۖ

  • یہ ہیں وہ لوگ جن کو ان کاحصہ(جرم کی ابتدا اور رواج دینے کا) ان کے کھاتے میں پہنچتا رہے گا،اس کتاب  میں سے جس میں ہر بات درج ہے۔(سورۃ یٰسین کی آیت۔۱۲ دیکھیں)

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَـهُـمْ

  • ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب ہمارے رسول(ملائکہ)ان کے پاس پہنچ کر انہیں مجمع میں سے الگ کر رہے ہوں گے۔

قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُـمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ

  • انہوں (ملائکہ)نے ان سے پوچھا”وہ کہاں ہیں جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارا کرتے تھے“

قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا

  • انہوں (مشرکین)نے جواب دیا”وہ تو ہمارے پاس سے کہیں غائب ہو گئے ہیں“۔

وَشَهِدُوا۟ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْ أَنَّـهُـمْ كَانُوا۟۟ كَٟفِرِينَ .٣٧

  • اور انہوں نے خود اپنے نفوس کے خلاف گواہی دے دی کہ وہ حیات دنیا میں بشر کو رسول اللہ ماننے سے انکار کرتے رہے تھے۔(الاعراف۔۳۷)

مشرکین نے جزا و سزا کے دن اپنے جن خداؤں کے گم، غائب ہو جانے کا کہا ان کے بارے میں خود ہی واضح کر دیا کہ وہ تو پہلے بھی دنیاوی زندگی میں حقیقتاًموجود ہی نہ تھے:

ثُـمَّ قِيلَ لَـهُـمْ أَيْنَ مَا كُنتُـمْ تُشْـرِكُونَ .٧٣

  • بعد ازاں ان سے پوچھا گیا"وہ کہاں ہیں جنہیں تم  مشترک معبودات کا درجہ دیتے تھے

مِن دُونِ ٱللَّهِۖ

  • اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرتے ہوئے ان کے علاوہ"۔

قَـالُوا۟ ضَـلُّوا۟ عَنَّا

  • انہوں (مشرکین)نے جواب دیا”وہ تو ہمارے پاس سے کہیں غائب ہو گئے ہیں۔

بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوا۟ مِن قَبْلُ شَيْـٔٙاۚ

  • نہیں،وہ غائب نہیں ہوئے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ قبل میں ہم حقیقت میں  موجود  کسی شئے کونہیں پکارتے تھے"۔

كَذَٟلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ .٧٤

  • جان لو؛یہ ہے وہ خود ساختہ کج روی جس میں اللہ تعالیٰ دانستہ انکار کرنے والوں کو حالت انحراف میں  گم کردہ راہ رہنے دیتے ہیں۔(غافر۔۷۴)

حیات دنیامیں بیتے زمانے کی قوموں کی ہلاکت کے واقعات بتاتے ہوئے استفسار فرمایا اور قاری کو حقیقت بتائی:

فَلَوْلَا نَصَـرَهُـمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانٙا ءَالِهَةَۢۖ

  • اگر ان کا گمان  سچائی پر مبنی تھا تو کیوں انہوں(عاد علیہ السلام کی قوم)نے  نہیں  پکارا جس وقت ان پر آفت آئی تھی  اوراس قت کیوں انہوں نے ان کی مدد نہیں کی جنہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ خداؤں کے طور پر دانستہ اختیار کیا تھا،اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے قرار دے کر۔

بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْـهُـمْۚ

  • حقیقت یہ ہے کہ مدد کرنا تو درکنار،وہ ان کے تصور سے کہیں دور غائب ہو گئے۔

وَذَٟلِكَ إِفْكُهُـمْ وَمَا كَانُوا۟۟ يَفْـتَـرُونَ .٢٨

  • اوراے قاری جان لے،یہ ان کا دھوکہ دہی پر مبنی جھوٹ تھا،اور وہ  باتیں  جو وہ افترا کرتے رہتے تھے۔(الاحقاف۔۲۸)

 ان آیات ،مبارکہ نے مادہ ”ض ل ل“ اورفعل ۔ضَلَّ ۔کے  لغت  میں بیان کردہ بنیادی معنیضَياع الشي“کی تصدیق کر دی ہے۔اِن معنی میں یہ فعل آقائے  نامدار ﷺ کے جسمانی سفر معراج کا احوال بیان کرتے ہوئے استعمال ہوا ہے ،یہ  بتانے کے لئے کہ بلیک ہول بن چکے ستارے کے جوار سے گزرتے ہوئے وہ اُن پر اثر انداز نہیں ہو سکا تھا؛ وگرنہ  اپنے جوار میں آنے والی ہر شئے بشمول روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے وہ اس کو اوجھل کر دیتا ہے یا اس کی سمت میں خلل پیدا کر دیتا ہے:

وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ .١

  • تمہارے ہمہ تن گوش ہونے کیلئے ہم اُس مخصوص ستارے کی قسم اٹھا کر حقیقت  پر مبنی واقعہ بیان کرنے لگے ہیں جو اپنا سب کچھ بکھیر کرخالی دامن ہو چکا تھا۔

Root:  ن ج م

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُـمْ 

  • وہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے رہنما آقا نہ تو منظر سے غائب ہوئے  تھے

وَمَا غَوَىٰ .٢

  • اور نہ  وہ راہ سفر سے اِدھر اُدھر ہوئے تھے۔

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْـهَوَىٰٓ .٣

  • ۔۔مطلع رہو؛ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ (ﷺ)جو واقعہ سفربیان فرما رہے ہیں (جو انسانی ذہن کے  سمجھنے کےلئے پیچیدہ  ہے)وہ تخیلاتی خلائی پروازپر مبنی نہیں ہے۔۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْـىٚ يُوحَـىٰ .٤

  • ۔۔درحقیقت یہ  صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو انہیں بیان کیا جا رہا ہے۔۔


ٱلضَّآلِّيـنَ۔حقیقت سے منحرف گم کردہ راہ لوگ۔

فعل ۔ضَلَّ۔اور جمع کے صیغہ ۔ضَلُّوا۟۔کے ماخذ ”ض ل ل“کے بنیادی تصور کی مناسبت سے دوسرے سیاق و سباق میں معنی ذهابُهُ في غيرِ حَقِّه ہیں    یعنی کسی کااپنی مرضی اور سوابدید سے ایسے راستے پر چل پڑنا جو روشن نہیں،سچائی،انصاف پر مبنی نہیں۔ایسے راستے پر جانے کا انجام اندھیروں میں گم ہو جانے پر منتج ہوتا ہے، اور گم ہونا اس مادے کا بنیادی تصور ہے۔

أَمْ تُرِيدُونَ أَن  تَسْـٔ​َلُوا۟ رَسُولَـكُـمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَـىٰ مِن قَبْلُۗ

  • کیا(اہلِ یہود کی طرح) تم بھی اپنے رسول کریم (ﷺ)سے اِس طرح سوال کرنا چاہتے ہو جیسے زمانہ قبل میں موسیٰ(علیہ السلام) سے کئے گئے تھے؟

وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلْـكُـفْرَ بِٱلْإِيمَٟنِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ .١٠٨

  • یاد رکھوجو کوئی ایمان کوبدل کرازخودکفر کرے گاتو وہ معتدل راہ سے یقینا بھٹک گیا/اس نے معتدل راہ کو کھو دیا۔(البقرۃ۔۱۰۸)۔


وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٟـقَ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ

  •  مبنی بر حقیقت ماضی کی خبر سے مطلع ہو جاؤ؛اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا تھا۔

Root: و ث ق

وَبَعَثْنَا مِنـهُـمُ ٱثْنَىْ عَشَـرَ نَقِيبٙاۖ

  •  اور ہم جناب نے ان میں سے بارہ سرکردہ/سربراھان قبیلہ کوبطورذمہ داران تعمیل قرار دیا۔

Root: ن ق ب;  ع ش ر

وَقَالَ ٱللَّهُ إِ نِّـى مَعَكُـمْۖ  لَئِنْ أَ قَمْتُـمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُـمُ ٱلزَّكَوٰةَ

  •  اور اللہ تعالیٰ نے میثاق کے نکات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا’’یقیناً میں تمام تر مہربانیوں کے لئے تمہارے ساتھ ہوں اگر تم لوگ استقلال واستقامت،منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو گے اورمعاشرے کے نظم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالیات دیتے رہو گے۔

Root: ز ك و;  ص ل و;

وَءَامَنتُـم بِرُسُلِـى وَعَزَّرْتُـمُوهُـمْ

  •  اور تم لوگ میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہو گے اوران کا ادب و احترام کرتے ہوئے ساتھ دو گے۔

Root: ع ز ر

وَأَ قْرَضْتُـمُ ٱللَّهَ قَرْضٙا حَسَنٙا

  • اور اگر تم لوگ اللہ تعالی کو قرض دیتے رہے،بہترین قرض جو ان کے بندوں پر خرچ کیا فقط ان کی قدردانی کے حصول کی خاطر

Root: ق ر ض

لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُـمْ سَيِّـَٔاتِكُـمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُـمْ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأََنْـهَٟرُۚ

  • تو یقیناً میں  تم لوگوں سے سرزد ہوئی کوتاہیوں اور برائیوں کومستقبل میں تمہارے ریکارڈ سے حذف کر دوں گا اور تم کوایسے باغوں میں داخل کر دں گا جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔

فَمَن كَفَـرَ بَعْدَ ذَٟلِكَ مِنكُـمْ

  • اس دو طرفہ عہد نامے کے بعد تم میں سے جو کوئی اس کاانکار کرے گا

فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ .١٢

  •  تو وہ یقیناً استوار راستے کو اپنانے سے منحرف ہو گیا‘‘۔(المائدہ۔۱۲)

فعل ۔ضَلَّ۔کا مفعول بہ .سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ.ہے۔یہ مرکب اضافی ہے۔مضاف یعنی پہلااسم مصدر بھی معرفہ ہے بسسب مضاف الیہ معرفہ باللام ہے۔اس کے معنی شئے کا سیدھا ہونا ،اوردو کے درمیان توازن ہونا ،اوردو چیزوں /باتوں کا ایک جیسا ہونا۔ٱلسَّبِيلِ.: اس کا مادہ ”س ب ل“ ہے اور بنیادی تصور کسی شئے کو اوپر سے نیچے گرانا ،اور طوالت کا اظہار کرتا ہے۔کسی مقصد تک پہنچنے کاراستہ، طریقہ، طرز عمل۔اس طرح مرکب اضافی کے معنی معتدل، متوازن راہ اور طرز عمل ہے۔

یہ.سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ.اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ راستہ/طرز عمل ہے:

ٱدْعُ إِلَـىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِۖ

  • آپ(ﷺ)اپنے رب کے راستے کی جانب آنے کی لوگوں کو دعوت دیتے رہیں؛مخاطب کےبرمحل عقل و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے اور انتہائی متوازن نصیحت کرتے ہوئے۔

Root: و ع ظ

وَجَٟدِلْـهُـم بِٱلَّتِـى هِىَ أَحْسَنُۚ

  • اور آپ (ﷺ)اُن سے اس انداز میں مکالمہ کریں جو موقع محل کے  لئےانتہائی مناسب ہے،اثر پذیری کے حوالے سے۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦۖ

  • یقینا آپ (ﷺ) کے رب ہی ہیں جو ہر اس  شخص کو بخوبی جانتے ہیں جو ان کے  مقرر کردہ راستے/طرز عمل سے منحرف ہو گیا ہے۔

وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ .١٢٥

  • ۔اور وہ  جناب  ان کوبھی بخوبی جانتے ہیں جو خلوص سے راہ ہدایت پر  اپنے آپ کوگامزن رکھتے                             ہیں۔(النحل۔۱۲۵)


ذَٟلِكَ مَبْلَغُهُـم مِّنَ ٱلْعِلْمِۚ

  • یہ تصور(حیات دنیا ہی سب کچھ ہے)ان کی پہنچ کی منتہا ہے،حصول علم کے لئے۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ

  • یقینا آپ (ﷺ) کے رب ہی ہیں جو ہر اس کو بخوبی جانتے ہیں جو ان کی راہ سے منحرف ہو گیا ہے۔

وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ .٣٠

  • اور وہ اس شخص کوبھی بخوبی جانتے ہیں جو خلوص سے راہ ہدایت پر گامزن رہتا ہے۔(النجم۔۳۰)

ہدایت کے مقابل بے راہروی ہے۔اللہ تعالیٰ کے بتائے راستے سے انحراف انسان کو گم کردہ راہ بنا دیتا ہے اور یہ انسان کا سوچا سمجھا فعل ہے:

أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَـرَوُا۟ ٱلضَّلَـٟلَةَ بِٱلْـهُـدَىٰ

  • یہ متذکرہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زیر مقصد راہنمائی کے بدلے گمراہی خریدی ہے۔

فَمَا رَبِحَت تِّجَٟرَتُـهُـمْ

  • نتیجے کے طوران کی اس تجارت(دونوں فریقوں سے مفاد اٹھانے کا خیال اور نظریہ) نے فائدہ نہیں دیا۔
    ( الٹا اپنے فریق کا اعتماد کھو بیٹھے اور اب انہیں یقین دلانے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کے ساتھ تو ہم مذاق کرتے ہیں )

وَمَا كَانُوا۟۟ مُهْتَدِينَ.١٦

  • (اوروہ اس حالت میں رہے کہ راہ راست کو پانے کے متمنی ہی نہ تھے۔(البقرۃ ۔۱۶


أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَـرَوُا۟ ٱلضَّلَٟلَةَ بِٱلْـهُـدَىٰ

  • یہ متذکرہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زیر مقصد راہنمائی کے بدلے گمراہی خریدی ہے۔

وَٱلْعَذَابَ بِٱلْمَغْفِـرَةِۚ

  • اور اس کاروبار میں عذاب خریدا ہے مغفرت کے عوض۔

فَمَآ أَصْبَـرَهُـمْ عَلَـى ٱلنَّارِ .١٧٥

  • یہ انجام جاننے کے باوجود وہ کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں جہنم کی آگ پر بھی تحمل ہے۔(البقرۃ۔۱۷۵)


أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبٙا مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • کیا آپ نے ان لوگوں کے رویئے پر غور کیا ہے جنہیں ام الکتاب میں سے ان کے لئے مخصوص اور متعین کردہ جزو پہنچا دیا گیا تھا۔

Root: ن ص ب

يَشْتَـرُونَ ٱلضَّلَٟلَةَ

  • یہ لوگ(اپنی الگ شناخت کی خواہش میں)دانستہ زیر مقصد ہدایت سے منحرف ہو کرگمراہی کوخریدتے ہیں۔

وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ .٤٤

  • اور   وہ چاہتے ہیں اوراس تگ و دو میں ہیں کہ تم لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے سے  منحرف ، کج رو، اپنے آپ میں مگن ہو جاؤ۔(النساء۔۴۴)

بعض طرز عمل ایسے ہیں جنہیں انسان دانستہ اور شدومد سے اختیار کرتا اور اپنائے رکھتا ہے۔شرک کرنا اور حقیقت کا انکار کرنا گمراہی ہے جس میں انسان اصل راہ سے بھٹک کر بہت دور کھو جاتا ہے:

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْـرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٟلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ

  • متنبہ رہو؛ یقیناً  اللہ تعالیٰ اس حرکت کوقطعاًمعاف نہیں فرمائیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی (تادم مرگ)کسی کو شریک ٹھہراتارہے۔اور وہ جناب حیات دنیا میں اس کے علاوہ کئے گئے (دوزخیوں کے)گناہ معاف فرمائیں گے، جس کسی کے متعلق ایسا چاہیں گے۔

وَمَن يُشْـرِكْ بِٱللَّهِ

  • خبردار رہو،اگر کسی نے ا للہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کوشریک (اِلہٰ) بنایا

فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلَاۢ بَعِيدٙا .١١٦

  •  تو چونکہ ذرے ذرے سے ان کے مطلق ہونے کی حقیقت اظہر من الشمس ہے اس لئے ایسے شخص نے یقیناً حقیقت سے انحراف کیا، اس انداز میں کہ راہ ضلالت میں  کہیں دور نکل گیا۔(النساء۔۱۱۶)


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ

  • اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (کریم محمّد ﷺ)پر دل کی شاد سے  ایمان لاؤ۔

وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَـىٰ رَسُولِهِۦ

  • اور اس منفرد کتاب (قرءان مجید) پر جسے ان جناب نے اپنے رسول پر وقفے وقفے سے قسط وار نازل فرمایا ہے۔

وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُۚ

  • اور اس منفرد ایک کتاب پر جسے ان جناب نے زمانہ قبل میں مجتمع انداز میں نازل فرمایا تھا(انجیل)

وَمَن يَكْـفُـرْ بِٱللَّهِ وَمَلٟٓئِكَـتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ

  • متنبہ رہو؛ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا  انکار کرتا ہے،اور جو کوئی  ان کے ملائکہ کا،اور ان کے کلام پر مشتمل  نازل کردہ کتابوں کا، اور ان کے رسولوں اور یوم آخر سے انکار کرتا ہے:

فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلَاۢ بَعِيدٙا .١٣٦

  •  تو چونکہ ذرے ذرے سے ان کے مطلق ہونے کی حقیقت اظہر من الشمس ہے اس لئے ایسے شخص نے یقیناً حقیقت سے انحراف کیا، اس انداز میں کہ راہ ضلالت میں  کہیں  دور نکل گیا۔(النساء۔۱۳۶)


إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ

  • ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجیدکو ماننے سے انکار کر دیا ہے ا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے سے روکا یامنحرف کیا ہے۔

قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَٟلَاۢ بَعِيدٙا .١٦٧

  •  یہ لوگ یقیناً حقیقت سے انحراف  کر کے  گم کردہ راہ ہو گئے، اس انداز میں کہ راہ ضلالت میں  کہیں دور نکل  گئے ہیں۔(النساء۔۱۶۷)

ضَلَٟلَاۢ بَعِيدٙا: یہ مرکب توصیفی ہے۔یہ ماقبل استعمال ہوئے فعل کا مصدر ہے اور اس کا مفعول مطلق ہے۔مفعول مطلق فعل کو انجام دیئے جانے کے اندازکو بیان کرنے،یا اس کی شدت کوظاہر کرنے،یا اس فعل پر زور دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

کیا چوپایوں کو گمراہ تصور کیا جا سکتا ہے؟

رویوں کے حوالے سے ایسے انسانوں کو جو بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے،دھیان سے دیکھتے نہیں اور غور سے سنتے نہیں چوپایوں جیسا قرار دیا گیا ہے بلکہ ان سے بھی  زیادہ یہ روش اختیار کرنے والے کہا گیا ہے:

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّـمَ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنْسِۖ

  • متنبہ رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے   جہنم میں  سلگنےکےلئےبکثرت  بھوسہ الگ کر دیا ہے  یہ درج ذیل ’’خصوصیات ‘‘کے حامل  معشر جن و انس سے تعلق رکھنے والے ہیں :

Root: ذ ر ء

لَـهُـمْ قُلُوبٚ لَّا يَفْقَهُونَ بِـهَا

  • قلوب ان کے سینوں میں بھی ان کی نوع کی مانند ان کے استعمال کے لئے موجود ہیں،مگر وہ ان کی مدد سے سمجھتے نہیں۔

Root: ف ق ه

وَلَـهُـمْ أَعْيُـنٚ لَّا يُبْصِرُونَ بِـهَا

  • اور آنکھیں بھی ان کی نوع کی مانند ان کے لئے مہیا ہیں مگر ان کو    مرکوز کر کے دیکھتے نہیں۔

وَلَـهُـمْ ءَاذَانٚ لَّا يَسْمَعُونَ بِـهَآۚ

  • اور کان بھی ان کی نوع کی مانند ان کے لئے دستیاب ہیں مگر ان کو سماعت کا آلہ نہیں بناتے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ كَٱلۡأَنْعَٟمِ بَلْ هُـمْ أَضَلُّۚ

  • یہ متذکرہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں،بلکہ درحقیقت ان سے بھی زیادہ ماحول سے بے پرواہ ہیں۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْغَٟفِلُونَ .١٧٩

  • ۔یہ لوگ ہیں جو حقیقتاًدانستہ غافل ہیں۔(الاعراف۔۱۷۹)

Root: غ ف ل

لفظ ۔أَضَلُّ۔اسم تفضیل ہے دو کے مابین مقابلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔اس کا مصدر بھی اورمادہ ”ض ل ل“ہے۔اس جملے کاترجمہ کرنے کا یہ رواج ہے:

ڈاکٹر طاہر القادری: ہ ولوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ،‘‘

جاوید احمد غامدی:’’وہ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔‘‘

گمراہ وہ ہے جو راہ حق سے انحراف کرے۔گمراہ وہ ہے جو صراط مستقیم کی بجائے دوسری راہوں کو دانستہ اختیار کرے۔گمراہ وہ ہے جو ہدایت کے منافی،متضاد روش اپنائے۔کیا آپ چوپایوں کو گمراہ تصور کر سکتے ہیں؟

مروجہ ترجمے ”گمراہ“کی بجائے۔أَضَلُّ۔ کا ترجمہ”ان سے بھی زیادہ ماحول سے بے پرواہ“میں نے نہیں کیا۔یہ ترجمہ قرءانِ مجید نے خود بتایا ہے کہ انہی لوگوں کے متعلق قرار دیا: أُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْغَٟفِلُونَ

أَضَلُّ کی ابتدا غفلت،عدم توجہ ہے۔ چوپائے غافل ہوتے ہیں لیکن درندے ہر پل چوکنا ہوتے ہیں ،اس لئے قرءانِ مجید میں انسانوں کی غفلت کے روئیے کو بیان کرنے۔ کیلئے چوپایوں جیسا کہا گیا جانور،درندں جیسا نہیں کہا۔

قرءان مجید میں    ٱلدَّوَآبُّ۔یعنی جانوروں کی تقسیم (classification)کرتے ہوئے ”الانعام“ یعنی چارہ کھانے والوں کو دوسروں سے ممیز کیا گیا ہے:

وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلۡأَنْعَٟمِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَٟنُهُۥ كَذَٟلِكَۗ

  • اور یہ بھی عام مشاہدہ کی بات ہے کہ ایک علاقے سے تعلق رکھنے والا  فرد موجود ہے  جو انسانوں میں اور جانوروں میں اور چارہ خورچوپایوں میں منفرد ہے۔اس ہر ایک کی رنگت دوسروں سے مختلف ہے،اس انتہائی کالے پہاڑ کی مانند۔

Root: د ب ب

إِنَّمَا يَخْشَى ٱللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ٱلْعُلَمَـٟٓـؤُا۟ۗ

  • یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال سے ان کے بندوں میں سے صرف وہ مرعوب اور سہمے رہتے ہیں جو معلومات اورعلم حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔

إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ .٢٨

  • یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہیں۔وہ جناب درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔(فاطر۔۲۸)

جانوروں کی دنیا۔ٱلدَّوَآبِّ۔میں ۔ٱلۡأَنْعَٟمِ۔کون ہیں؟ان کی انفرادیت /فصل کو بیان فرمایا:

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٛ أَنزَلْنَٟهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ

  • اس حقیقت کا ادراک کرو کہ حیات دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے پانی،ہم جناب نے اسے آسمان سے مخصوص مقدار میں برسایا تھا۔

فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرْضِ

  • چونکہ حالات سازگار ہو گئے تھے اس لئے زمین کی نباتات نے اس کے ساتھ اختلاط کر کے پروان چڑھایا۔

Root: ن ب ت

مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنْعَٟمُ

  • ۔۔انسان اور چارہ خور چوپائے ان میں سے اپنے لئے موزوں کو کھاتے ہیں۔۔

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلۡأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّـهُـمْ قَـٟدِرُونَ عَلَيْـهَآ

  • نباتات پھلتی پھولتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگھار کر لیا اور اپنے آپ کو جاذب نگاہ بنا لیا اور اس کے باسیوں نے گمان کر لیا کہ اب وہ اس پرکسی لمحے اختیار رکھنے والے بن جائیں گے۔

Root: ز خ ر ف  ; ظ ن ن

أَتَىٰـهَآ أَمْـرُنَا لَيْلٙا أَوْ نَـهَارٙا فَجَعَلْنَٟهَا حَصِيدٙا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلۡأَمْسِۚ

  • تو ہم جناب کا فرمان رات یا دن کے کسی وقت اس پر پہنچ گیا۔اس کے نتیجے میں ہم جناب نے اسے کٹا ہوا بھوسا بنا دیا جیسے کہ بیتے کل میں اس(زمین)نے کچھ دیا ہی نہ تھا۔

Root: ح ص د

كَذَٟلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَـٟتِ لِقَوْمٛ يَتَفَكَّرُونَ .٢٤

  • اس طرح کے انداز بیان سے ہم جناب آیات کو جدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف فرماتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد  ایسےلوگوں  کو حقیقت اور مقصد تخلیق کو سمجھنے کے لئے آسان فہم بنانا ہے جو ازخود تفکر کرتے ہیں۔(سورۃ یونسؐ۔۲۴)

Root: ف ك ر Root: ف ص ل

 سورۃ طہٰ کی آیت ۵۳ میں بتایا کہ زمین میں مختلف النوع کی نباتات پیدا کی ہیں اور آیت ۵۴  میں فرمایا:

كُلُوا۟ وَٱرْعَوْا أَنْعَٟمَكُـمْۗ

  • خود کھاؤ اور اپنے مویشیو ںکو چارہ کھلاؤ۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّأُو۟لِـى ٱلنُّـهَىٰ .٥٤

  • یقینا ان  عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  ،خاص کر ان لوگوں کے لئے جوجذبات سے منزہ رہتے ہوئے حقیقت اور مقصد ِشئے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنےوالے ہیں۔(طہ۔۵۴)

کیا آپ نے اس سوال کا جواب دیا تھاکہ چوپایوں کو گمراہ تصور کر سکتے ہیں؟ہم مویشیوں کو ”گمراہ“تصور نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ مِن دَآبَّةٛ

  • اوریہ جان لو کہ جانوروں میں سےجو کوئی آسمانوں اور زمین میں حیات ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔(حوالہ النحل۔۴۹)

Root: س ج د;  د ب ب

علم اور عقل و فہم کی کسوٹی پرپرکھے بغیر آباؤ اجداد کے طور طریقوں، روایتوں اور ڈگر کی تقلیدانسان کو راہ راست سے بہت دور لے جا سکتی ہے۔یہ پرستش ہے۔یہ عقل وفکر کے اردگرد بنایا گیاایسا حصار ہے جو سماعت اور عقل کاباہمی تعلق معطل کر دیتا ہے:

أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُـمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَۚ

  • کیا آپ (ﷺ) خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر دھیان سے سنتے یا عقل استعمال کرتے ہیں؟

إِنْ هُـمْ إِلَّا كَٱلۡأَنْعَٟمِۖ

  • وہ تونہیں مگر محض چوپایوں کی مانند۔

بَلْ هُـمْ أَضَلُّ سَبِيلٙا .٤٤

  • نہیں،بلکہ ان کے متعلق حقیقت کو یوں بیان کرنا بالکل مناسب ہے کہ یہ لوگ زیادہ بے خبر اور لا پرواہ ہیں چوپایوں کی نسبت،راہ پانے کے معاملے میں۔(الفرقان۔۴۴)

اس پر غورکریں کہ ایسے انسانوں کو چوپایوں کی بجائے درندوں کی مانند کیوں نہیں کہا؟اس لئے کہ درندے سماعتوں میں آنے والی ہر نئی آواز پر چوکنا اور خبردارہو جاتے ہیں اور اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس آواز کی حقیقت کو سمجھ نہ لیں۔
عقل وفکر کے اردگرد بنائے گئے حصارمیں قید اور جکڑے رہنے کی بناء پر سماعتوں سے فیض نہ لینے والوں کی مثال چوپایوں جیسی ہے جو اردگرد کے ماحول سے غافل بیٹھے جگالی کرتے رہتے ہیں۔یہ نازل کردہ کتاب کی طرف بلائے جانے پر آباؤ اجداد کی ڈگر کو جواز بناتے ہیں۔ان کی مثال بتائی :

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟

  • اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے قرء ان کوماننے سے انکار کیا ہے ۔

كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءٙ وَنِدَآءٙۚ

  • اس چرواہے جیسی ہے جوبھیڑ بکریوں کے ریوڑ کوہنکانے پر سماعتوں سے ٹکرانے والی پکار اور اونچی آواز کے سوا کچھ نہیں سنتا۔

صُـمُّۢ بُكْـمٌ عُمْىٚ

  • ایسے لوگ دانستہ بہرے،گونگے،اندھے بنتے ہیں۔

فَهُـمْ لَا يَعْقِلُونَ .١٧١

  • لہذا وہ عقل استعمال نہیں کرتے۔(البقرۃ۔۱۷۱)

بات سماعت سے عقل تک نہ پہنچے تو محض اونچی آواز ہے جس میں الفاظ بھی نہ ہوں اور انجام سماعت کے پردے پر ارتعاش کے علاوہ کچھ نہیں۔اس لئے ایسے لوگوں کو چوپایوں کی مانند کہہ کر فرمایا۔بَلْ هُـمْ أَضَلُّ سَبِيلٙا.۔ ”نہیں،بلکہ ان کے متعلق حقیقت کو یوں بیان کرنا بالکل مناسب ہے کہ یہ لوگ زیادہ بے خبر اور لا پرواہ ہیں چوپایوں کی نسبت،راہ پانے کے معاملے میں۔(حوالہ الفرقان۔۴۴)کیوں؟ يَنْعِقُ۔ (مادہ ”ن ع ق“)نے وجہ بیان کر دی ہے  ۔يَنْعِقُ۔کے معنی بھیڑ بکریوں کو ھانکنے کے لئے چرواہے کا جھڑکنا اور آوازیں دینا ہیں (تاج، محیط و ابن فارس)۔چرواہے کی یہ آواز بھی محض پکار ہوتی ہے جس میں وہ الفاظ استعمال نہیں کرتا۔ لیکن یہ بھیڑ بکریاں چرواہے کی آواز پر نقل و حرکت کرتی ہوئی راستے کو پا ہی لیتی ہیں۔
چاہے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے اور جانتے ہوں اور نہ راہ راست پر چلتے ہوں، ان کی اندھی تقلید کرنے والوں کی مماثلت ان بھیڑ بکریوں سے کی گئی ہے جو چرواہے کی آواز پر نقل و حرکت کرتی ہیں۔
مہذب معاشرہ بھی بلا جھجک ایسے شخص کو ضدی اور ہٹ دھرم قرار دیتا ہے جو بلا سوچے سمجھے باپ دادا کی روایات کی تقلید پر بضد اور علم و عقل کی بات پر غوروفکر کیلئے رضامند ہی نہ ہو۔ راست اورکج کا فیصلہ صرف اور صرف کتاب پر موقوف ہے۔ کسی  بات اور طریقے کی پیروی کوآباؤ اجدادسے منسوب کر نااس طریقے کے صحیح ہونے کی سند نہیں بن جاتی اور نہ  اس روش پر کاربند رہنے کیلئے اسے جواز اور دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ محض قدیم ہونے کی بناء پر کسی بھی بات اور شئے کو تقدیس کی چادر نہیں اوڑھائی جا سکتی اور اگر اوڑھا دی جائے تو لوگوں کے عقل وفہم کے گرد یہ ایک حصار بنا دے گی۔ ا للہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَا كَانَ لِنَفْسٛ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ

  • اس لئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ ایمان لانے کا اعلان کرنا بھی کسی شخص کے لئے ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا اذن ساتھ ہو(انسان زبان سے بولتا کیسے ہے وہ مطالعہ کریں)۔

وَيَجْعَلُ ٱلـرِّجْسَ عَلَـى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ .١٠٠

  • اور وہ جناب  ان کے ہٹ دھرم منحرف طرز عمل کوایسے لوگوں پر چسپاں التباس و اضطراب کی آلودگی کا درجہ   دے دیتے     ہیں جو  حقیقت اور باطل کے مابین فرق جانچنے کے لئے عقل استعمال نہیں کرتے۔(سورۃ یونسؐ۔۱۰۰)

ٱلـرِّجْسَ۔اس کاماخذ ”ر ج س“اوراس کے بنیادی معنی اختلاط اور التباس ہیں۔ گندگی، غلاظت کو بھی رجس اس لئے کہتے ہیں کہ لتھڑ اور چپک جاتی ہے۔ پلیدی،شک،اضطراب،التباس،دل کی تنگی، تعصب،تنگ نگہی، ضد،ہٹ دھرمی،عقل و فکر سے کام نہ لینا۔ایمان لانے میں جوبات رکاوٹ بنتی ہے وہ رجس ہی ہے۔فعل کا دوسرا مفعول محذوف ہے۔
اس مادہ کے استعمال میں ہم نے دیکھا کہ بنیادی معنی سے مماثلت برقرار رہتے ہوئے انسان کے رویئے اورطرزکے لحاظ سے اس کا مطلب کچھ مختلف ہو جاتا ہے۔
اس طرح کے معنی کو ہم حقیقی زندگی کے واقعات کے حوالے سے (Conotative) تعبیری، تضمینی اور آسان فہم انداز میں مفہوم کہتے ہیں۔سیاق و سباق میں اس مادہ سے بنے الفاظ کے معنی قطعاً واضح ہوتے ہیں۔

کتابوں میں صفات اور افعال کو بیان کرنے والے الفاظ اُس صفت اور فعل کی ابتدا، وسط اور منتہاکے حوالے سے استعمال ہوتے ہیں ؛ صفت اور فعل کی وسعت اور گہرائی ہوتی ہے اسلئے اس صفت اور فعل کو بیان کرنے والے لفظ کے معنی اور مفہوم وہ صورتحال متعین کرے گی جس میں وہ استعمال کیا گیا ہے وگرنہ اس لفظ کا انتہائی اور متشدد ترجمہ قاری کو کتاب میں بیان کردہ اصل صورتحال کا ادراک نہیں ہونے دے گا۔

قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّـى فِـى كِتَٟبٛۖ

  • انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے جواب دیا’’ان (پچھلی نسلوں )کے متعلق تمام معلومات /احوال اس کتاب میں مندرج ہیں جو میرے رب کے پاس محفوظ ہے۔

لَّا يَضِلُّ رَبِّـى وَلَا يَنسَى .٥٢

  • میرے رب نہ تو کبھی کسی بھی جانب سے غافل ہوتے ہیں اور نہ کبھی کسی معاملے میں لاپراوہ/لا تعلق ہوتے ہیں۔(طہ۔۵۲)

موسیٰ علیہ السلام کے سورۃ طہٰ کی آیت مبارکہ ۲۵ میں بیان کئے اس قول کا ترجمہ اور تفسیر کرنے کے عام رواج کی ایک جھلک یہ ہے:
[ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی۔تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف۔قرءانِ کریم شاہ فہد پرنٹنگ کمپلیکس۔سعودی عرب]
”جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے،نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے“
[مولانا احمد رضا خان بریلوی۔کنز الایمان فی ترجمۃ القرءانِ]
”کہاان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بہکے نہ بھولے“

[ترجمہ طاہر القادری ’’(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں (محفوظ) ہے، نہ میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے‘‘]

فعل ۔ضَلَّ۔کامضارع کا صیغہ ۔يَضِلُّ۔ہے۔اب ہم خود غورکریں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک  اس کے وہی معنی ہوتے جو عام طور پرترجموں میں بیان کیئے  گئے ہیں تو کیا ان کے قول میں ان دو باتوں کی ترتیب یوں ہو سکتی تھی کہ ”میرا رب نہ غلطی کرتا/بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے“؟اگر ان ترجموں میں اختیار کردہ معنی تصور کئے جائیں توپھر الفاظ کی ترتیب اس کے الٹ ہونا چاہئے کیونکہ”غلطی“کا نتیجہ ”بھول“نہیں ہوتی بلکہ بھول کے بعد ”غلطی“کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

کائنات کانظام چلانے اور اس کی مسلسل حفاظت کیلئے تمام امور کا پیچھا کرنا پڑتا ہے اور ایسا صرف وہ کر سکتا ہے جو ہر طرح کی کمزوری سے منزہ اور پاک ہو۔فرمایا :

لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٚ وَلَا نَوْمٚۚۚ

  • اونگھ اور نہ ہی نیند  کبھی بھی ان پرغالب آ سکتی ہے۔(کہ کسی بھی لمحے کائنات اور تم سے غافل ہو)[حوالہ  البقرۃ۔۲۵۵]

ہماری اونگھ اور نیند کا نتیجہ دنیا و مافیا سے غافل ہونے کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ا للہ تعالیٰ کے متعلق”لَّا يَضِلُّ“کے معنی:

وَمَا ٱللَّهُ بِغَٟفِلٛ عَمَّا تَعْمَلُونَ.

  • اور اللہ تعالیٰ اُس سے کبھی غافل نہیں جو اعمال تم کرتے ہو۔ (البقرۃ۔۷۴)

انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے ۔ ٱلضَّآلِّيـنَ۔کا استعمال

 ا للہ تعالیٰ نے آقائے نامدار ﷺ کوقرءانِ مجید میں ایک احسن قصہ بتایا جو یوسف علیہ السلام اور ان کے برادران سے متعلق ہے:

نَـحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانَ

  • ہم آپ (ﷺ) کو واقعات میں سے بہترین قصہ من وعن وقوع پذیر ہوئے انداز میں سناتے ہیں جن کے متعلق ہم نے آپ (ﷺ) کواِس قرء ان ِ مجید میں مطلع فرمایا ہے(کہ جو سوال آئے گا اس کے متعلق ہم قبل ازیں احسن تفسیر منکشف کر چکے ہوں  گے۔الفرقان۔۳۳)

وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٟفِلِيـنَ .٣

  •  اور اِس (قرء ان ِ مجید)سے قبل آپ بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو اِس قصے کے بارے میں حقائق نہیں جانتے۔

Root: غ ف ل

اس قصے میں یوسف علیہ السلام کے  ماں سوتیلے بھائیوں کی آپس میں کی گئی گفتگو کے متعلق ان کا یہ قول سورۃ یوسف کی آیت ۸ میں بتایا گیا ہے:

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَـىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَـحْنُ عُصْبَةٌ

  • آپ بتائیں ان کی سوانح میں پہلا موڑ اس وقت آیا جب ان کے بھائیوں نے آپس میں کہا’’سچ تو یہ ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے اباجان کے لئے ہم سے  ہٹ کرزیادہ لائق توجہ اور پیار ہیں باوجود اس کے کہ ہم طاقتورجتھا ہیں۔

إِنَّ أَبَانَا لَفِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ .٨

  • یقیناً ہمارے ابا جان کی ان کی جانب ارتکاز محبت سے ظاہر ہے کہ ہماری جانب سے صریحاً غافل   اور عدم توجہ کئے ہوئےہیں۔

جملے میں حرف مشبہ بالفعل کی خبر محذوف ہے جو قاری کے ادراک کے لئے بعد کے تین الفاظ پر مشتمل دو مرکبات،جار و مجرور اور مرکب توصیفی سے واضح ہیں۔ وہ اپنے ابا جان کی کیفیت اور جس حال میں  ان کے نکتہ نظر میں مگن ہیں وہ بیان کر رہے ہیں۔جملوں میں محذوف کو نوٹس کرنا اور اس کو  قرءان مجید کے متن  ہی میں سے متبین کر کے ترجمہ میں شامل کرنا لازم ہے وگرنہ احتمال ہے کہ لاپرواہی سے کیا ترجمہ اصل متن کے تصور اور مفہوم کو بگاڑ دے۔

 یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی مکمل بات کوسننے کے بعد میں نےیہ ترجمہ کیا ہے۔جب تک کسی کی بات کو مکمل طور پر نہ سنا جائے بلکہ آ دھی بات کو سن کر ہی نتیجہ اخذ   کر لیا جائے تو ضروری نہیں کہ ہمارا اخذ کردہ نتیجہ کہنے والے کی بات کے مطابق ہو۔آئیں ان کی بات کو مکمل سنیں:

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضٙا

  • تم لوگ یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی دوردراز جگہ پر چھوڑ آؤ۔

يَخْلُ لَـكُـمْ وَجْهُ أَبِيكُـمْ

  • ایسا کرنے پرتمہارے اباجان کی تمام تر توجہ و محبت تمہارے لئے ہو جائے گی۔

Root: خ ل و

وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمٙا صَٟلِحِيـنَ .٩

  • اوراس(ناپسندیدہ،گھناؤنے فعل)کے بعد تم لوگ صالح اعمال پر کاربندقوم بن کر رہنا‘۔(سورۃ یوسفؐ۔۹)

یوسف علیہ السلام کے سوتیلے بھائیوں کے اپنے والد کے لئے استعمال کئے گئے الفاظ کے اردو اور انگریزی زبان کے بعض مترجمین  کے ترجمے سے قاری کے ذہن میں اُن کے متعلق ایک منفی رائے ابھرتی ہے حالانکہ انہوں نے والد کو ۔ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔میں سے نکالنے کا طریقہ بیان کر کے اس کے معنی اور مفہوم کو واضح کر دیا تھا۔جس چیز  ،والد صاحب کی توجہ اور رغبت،کو پانے کیلئے منصوبہ بندی(حیلہ)کر رہے تھے اس کی متضاد بات کے معنی ہیں کہ ”ہماری جانب ان کی توجہ قطعی نہیں،ہم سے قطعی غافل ہیں“۔معمولی غور سے بھی اگر ہم سوچیں گے تو اس حالت میں مادہ ض ل لکا بنیادی تصورضَياع الشيموجود ہے۔ غافل کے معنی بے پروا، بے فکر، غیرمتوجہ، توجہ کا فقدان ہیں۔

ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔۔اس کے ’’صریح غلطی،خطا،بہک گئے‘‘مروجہ ترجمے سے قصے کی ابتدا ہی میں قاری کے ذہن میں ان کے متعلق ایک منفی تاثر اور تعصب جگہ بنا لیتا ہے۔ان کے متعلق منفی تاثرقائم کرنے سے قبل توجہ اس نکتے پر رہے کہ اُن کی سوچ اپنے دو سوتیلے بھائیوں کے حصے کی وراثت ہتھیانا نہیں بلکہ والد کی توجہ اور محبت پاناتھا۔ توجہ کی ضد،متضاد عدم توجہ،غفلت ہے۔ توجہ کی ضد گمراہی،صریح غلطی نہیں ہوتی۔والد کی عدم توجہ اور محبت کا فقدان، یا اولاد کے مابین محبتیں بانٹنے میں دکھائی دے جانے والا وسیع فرق ا ولاد کی نفسیات میں اس قدر ہیجان برپا کر سکتا ہے کہ اس سے محروم رہنے والی اولاد اُسے پانے کیلئے باپ کی نگاہوں کے محور اپنے بھائی کو مٹانے کے درپے بھی ہو سکتی ہے۔ انسان میں محبت پانے کی خواہش اس قدر شدید ہے کہ نہ ملنے کی صورت میں بیگانہ اور پاگل ہونے کے علاوہ انسانی سطح سے گری ہوئی باغیانہ روش بھی اختیار کر سکتا ہے۔ برادران یوسف علیہ السلام جذبات سے مغلوب تھے اور سوچ سمجھ کر ایک غلط کام کرنے کا ارادہ اس نظرئیے کے ساتھ بنا رہے تھے کہ  یہ فعل کرنے کے بعد اپنے والد کی  محبت پانےکے بعد صالح بن کر رہیں گے۔

یوسف علیہ السلام کے بھائی آپس میں کہہ رہے ہیں کہ تعداد میں جمعیت ہم ہیں لیکن ہمارے والد صاحب محبت یوسفؑ اور اس کے بھائی سے کرتے ہیں۔قبائلی معاشروں میں بیٹوں کی تعداد طاقت،معاشی خوشحالی اور عزت کا سبب سمجھے جاتے ہیں اور وہ باپ کے دست و بازو ہوتے ہیں۔ان کے خیال میں عقل و دانائی، معاشرے میں مروجہ انداز اور اصولوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ والد صاحب کی محبتوں کا محور،مرکز وہ ہوتے لیکن ان کی توجہ یوسف علیہ السلام کی طرف ہے جسے وہ  اپنی جانب  والد صاحب کا عدیم الفرصت ہوناقرر دیتے ہیں۔

بھائی احساس محرومی کا شکار تھے۔ وہ  والد کی توجہ اور محبت کے طالب تھے۔اس خواہش میں برائی تو کوئی نہ تھی۔ ان کا حق بھی تھا۔والد کی محبت پانے کا طریقہ انہیں یہی سوجھا کہ یوسف علیہ السلام کو ان کی نظروں سے دور کر دیا جائے۔مقصود نیک تھا ،لیکن طریقہ غلط اختیار کیا جو  عرصہ بعدیوسف علیہ السلام کے بقول جذبات سے مغلوب ہونا، نادانی کا مظہر تھا۔نیک مقصد حاصل کرنے کیلئے طریقہ اور راستہ بھی صحیح اور نیک اختیار کرنا چاہئے۔غلط راستوں سے نیک مقصد حاصل کرنے کی خواہش نادانی،جھالت (عربی والا۔جذباتیت)ہے۔ والد سے محبت پانے کے جنون میں یہ بھی نہ سوچا کہ جس سے توجہ اور محبت درکار ہے اس کے دل پہ کیا بیتے گی جب یوسف علیہ السلام کو ان کی نظروں سے دور کر دیا جائے گا۔وہ یہ سوچ سکے نہ سمجھ سکے کہ محبت، الفت، توجہ چھینی نہیں جا سکتی۔محبت پانے کیلئے تو رنگنا پڑتا ہے اپنے آپ کو اس کے رنگ میں جس سے محبت پانے کی خواہش ہے۔

اس سے قبل کہ کوئی گمان کر ے کہ ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛکے معنی اور مفہوم ”صریحاً غافل اور عدم توجہ ‘‘ فلسفیانہ انداز کی بحث کے ذریعے کئے گئے ہیں یہ وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ کتابوں میں صفات اور افعال کو بیان کرنے والے الفاظ اس صفت اور فعل کی ابتدا، وسط اور منتہاکے حوالے سے استعمال ہوتے ہیں۔ صفت اور فعل کی وسعت اور گہرائی ہوتی ہے ؛اسلئے اس صفت اور فعل کو بیان کرنے والے لفظ کے معنی اور مفہوم وہ صورتحال متعین کرے گی جس میں وہ استعمال کیا گیا ہے  وگرنہ اس لفظ کا انتہائی اور متشدد ترجمہ قاری کو کتاب میں بیان کردہ اصل صورتحال کا ادراک نہیں ہونے دے گا۔ ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔؛ ضَلَـٰلَاۢ بَعِيدٙا؛  ضَلَٟلٛ كَبِيـرٛ؛جیسے مرکبات توصیفی  سے ازخود واضح ہے کہ  ض ل لمعمولی،کمتر نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے اور بعید اور کبیر بھی ؛لیکن اردو زبان کا لفظ ”گمراہی، بھٹکا ہوا،گم کردہ راہ“ایک مخصوس تصور (perception) کا حامل ہے جو مختلف صورتوں میں عربی کے لفظ کے تصور کے منافی ہے جس کی وجہ سے کتاب میں بیان کردہ اصل حقیقت کے برعکس خیال قاری کے ذہن میں اجاگر ہوتا ہے۔ قرءانِ مجید نے اپنے الفاظ کے معنی کی حدود،ابتدا اور منتہا،وسعت اور گہرائی متعین کی ہوئی ہے اس لئے عجمی زبانوں میں ترجمہ و مفہوم بیان کرتے ہوئے اس نکتے پر توجہ مرکوز رکھنے کی انتہائی اہمیت ہے وگرنہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہوں گے وہ کتاب کی بات نہیں بلکہ ہمارا اپنا خیال ہو گا۔

سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا اپنے والد کی اپنی جانب عدم توجہ اور غفلت  کے معنی ، زاویہ نگاہ اور مفہوم میں ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔ استعمال   کرنا صحیح بھی تھا کیونکہ  بعض مترجمین/مفسرین  تو اس کا ترجمہ’صریح غلطی، خطا‘ کرتے ہیں؟قرءانِ مجید لازوال تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے۔ واقعات بیان کرتا ہے تو اپنے الفاظ کے معنی اور مفہوم بھی واضح فرماتا ہے۔ اس سوال کا جواب قرءانِ مجید،الفرقان ہی سے پوچھتے ہیں۔یہ پہلی مرتبہ سورۃ آلِ عمران کی آیت ۱۶۴ میں آیا ہے۔

لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَـى ٱلْمُؤمِنِيـنَ إِذْ بَعَثَ فِيـهِـمْ رَسُولٙا مِّنْ أَنفُسِهِـمْ

  • یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت موجود صاحبان ایمان کو احسان کے زیر بار کیا تھا جب انہوں نے ان کے درمیان ایک ایسے شخص کو رسول مبعوث فرمایا جو غیر بنی اسرائیل  قوم سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف مومن ہیں۔

Root: م ن ن

يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِهِۦ وَيُزَكِّيـهِـمْ

  • وہ انہیں ان جناب کی آیات لفط بلفظ سناتے ہیں۔

وَيُزَكِّيـهِـمْ

  • اوروہ انہیں سنوارتے /بالیدگی/ارتقاء دیتے رہتے ہیں،(مبنی بر حقیقت معلومات کے ذریعے)

Root: ز ك و

وَيُعَلِّمُهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحِكْمَةَ

  •  اوروہ (رسول امین)انہیں ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں اور حکمت،اس میں درج علم کو بروئے کار لانے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔

وَإِن كَانُوا۟۟ مِن قَبْلُ لَفِـى ضَلٟلٛ مُّبِىنٛ .١٦٤

  • اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ قبل ازیں کےزمان میں حکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں  صریح غفلت میں سرگرداں تھے۔(کتاب اللہ ان کی دسترس میں نہ ہونے کے باعث۔حوالہ سورۃ یٰس۔۶)

اسی بات کو سورۃ ٱلْجُمُعَةکی آیت ۲ میں یوں بتایا ہے:

هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِـى ٱلۡأُمِّيِّــۧنَ رَسُولٙا مِّنْـهُـمْ

  • وہ جناب ہیں جنہوں  نے غیر بنی اسرائیل  قوم ،بنی اسماعیل جنہیں پہلے کتاب اللہ نہیں دی گئی تھی ،میں ایک ایسے شخص کو رسول مبعوث فرمایا جوان میں  سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف مومن ہیں۔

يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِهِۦ

  • وہ انہیں ان جناب کی آیات لفط بلفظ سناتے ہیں۔

 وَيُزَكِّيـهِـمْ

  • اوروہ انہیں سنوارتے /بالیدگی/ارتقاء دیتے رہتے ہیں،(مبنی بر حقیقت معلومات کے ذریعے)

Root: ز ك و

وَيُعَلِّمُهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحِكْمَةَ

  •  اوروہ (رسول امین)انہیں ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں اور حکمت،اس میں درج علم کو بروئے کار لانے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔

وَإِن كَانُوا۟۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ .٢

  • اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ قبل ازیں کےزمان میں حکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں  صریح غفلت میں سرگرداں تھے۔(کتاب اللہ ان کی دسترس میں نہ ہونے کے باعث۔حوالہ سورۃ یٰس۔۶)

ا للہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے متعلق من و عن ایک جیسے الفاظ میں دو بار فرمایاکہ آقائے نامدارﷺ کے قرءانِ مجید کی آیات سنانے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دینے سے قبل   ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔میں تھے انہی کے متعلق آقائے نامدار ﷺ سے فرمایا:

تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِـيـمِ .36:05٥

  • قرءان مجید کا بتدریج/سلسلہ وار انداز میں نزول/لوگوں کو پہنچایا جانا ان جناب کافیصلہ ہےجودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ وہ منبع رحمت ہیں۔

لِتُنذِرَ قَوْمٙا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُـمْ فَهُـمْ غَٟفِلُونَ .٦

  • اس بتدریج ترسیل کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ(ﷺ) اس قوم کو بطور استحقاق پہلے خبردارکریں جن کے اسلاف کو   خبردار نہیں کیا گیا تھا جس کے سبب وہ  غفلت میں ہیں۔[ساتھ مطالعہ کریں؛ الانعام۔۹۲ ؛القصص ۔۴۶ ؛ الشوریٰ۔۷؛اور الجمعہ۔۲]

ا للہ رب العزت کی یہ عادت نہیں  اور ان کے رحمت کی چھاؤں میں  بسائے نظام احتساب و انصاف  کا تقاضہ  بھی ہےکہ لوگوں کو ان کی غفلت سے بیدار کئے بغیر  انصاف کے کھٹن کٹہرے میں کھڑا نہ کریں۔ا للہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا تاکہ لوگوں کو اُن کی آیات سنائیں اور انہیں روز قیامت کے متعلق خبردار کریں ۔

ذَٟلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٛ

  • ;یہ رسولوں کا بھیجنا اتمام حجت تھا کہ آپ(ﷺ)کے رب کسی لمحے کسی مخصوص بستی کو انساف کے تقاضوں کے برعکس زیادتی سے نیست و نابود کر دیں

وَأَهْلُـهَا غَٟفِلُونَ .١٣١

  • اس حال میں کہ اس کے باسی غفلت میں مبتلا تھے۔(الانعام۔۱۳۱)

غَٟفِلُونَ:اسم فاعل ہے۔اس کا مادہ ”غ ف ل“ ہے۔اس کے بنیادی معنی ڈھانپ دینا،چھپا دینا،پردہ ڈال دینا،غافل ہونا، غفلت ہیں۔اس کا مطلب کسی چیز کے متعلق یا کسی کی طرف سے لاپرواہ (Un-mindful)ہو جانا ہے۔اس لئے اَلْغَفُوْل.ُاس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو بچہ چاہے اس کا دودھ پی جائے اور جو آدمی چاہے اس کا دودھ دوہ کر لے جائے اور وہ اس کا کچھ خیال نہ کرے۔قرءانِ مجید میں یہ لفظ بے خبری اور ناواقفیت کے لئے بھی آیا ہے جس میں مذمت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا(حوالہ سورۃ یوسف۔۳)۔
قرءانِ مجید لازوال تفسیر حقیقت ہے۔یہ  الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم کے متعلق اپنے قاری کیلئے کسی قسم کے ابہام اور تشنگی کا امکان نہیں رہنے دیتا ۔ قرءانِ مجید سنائے جانے سے قبل جن کی حالت وکیفیت بتائی کہ اس سے قبل 
ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ۔یعنی غفلت میں تھےقرءانِ مجید کے نزول کے متعلق بتاتے ہوئے ان ہی لوگوں سے فرمایا:

أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْـكِـتَٟبُ عَلَـىٰ طَآئِفَتَيْـنِ مِن قَبْلِنَا

  • اس کے نزول سے تم لوگوں(امیّین)کے لئے یہ کہنے  کاجواز ختم ہو گیا  ہے:’’حقیقت تو صرف   یہ ہے کہ منفرد کتاب کو ہم سےقبل              دوگروہوں(بنی   اسرائیل اور نصاریٰ)پر نازل کیا  گیا تھا۔

Root: ط و ف

وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِـهِـمْ لَغَٟفِلِيـنَ .١٥٦

  • اور ہم یقیناً ان کے درس وتدریس    سے  بے خبر،غافل تھے‘‘۔(الانعام۔۱۵۶)

Root: د ر س;  غ ف ل

انسان کے پاس کون سی صلاحیت ہے جس کی بناء پر خبردار،محتاط ہوتا ہے اور اس صلاحیت کے عدم استعمال سے غافل،غیر محتاط، حالتِ غفلت میں ہوتا ہے؟

إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ مِن نُّطْفَةٛ أَمْشَاجٛ

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے انسان کونطفے کے جزوی حصے سے تخلیق کیا ہے۔اس(نطفے)کی خصوصیت یہ ہے کہ کئی جڑواں جوڑوں کا اجتماع /مخلوط ہے۔

نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَٟهُ سَـمِيعَاۢ بَصِيـرٙا .٢

  • ہم جناب اسے(انسان)آزمانا چاہتے تھے،اس لئے ہم جناب نے اسے سماعت اور بصارت سے بہرہ مند فرما دیا۔(الانسان۔۲)

إِنَّا هَدَيْنَٟهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٙا وَإِمَّا كَفُورٙا .٣

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اس کے لئے موضوع راہ کی ہدایت اسے دے دی ہے ؛اب  چاہے تو شکر گزار بن کر وہ راہ اختیار کرے اور چاہے تو ہٹ دھرم ناشکرا بنا رہے۔(الانسان۔۳)

سماعتیں اور بصارتیں علم،معلومات حاصل کرنے اور خبردار،باخبر ہونے کا ذریعہ ہیں جنہیں دماغ یکجا کر کے علم میں ڈھالتا ہے۔اور ان معلومات پرعقل و فکر سے انسان نتائج مستنبط کرتا ہے۔

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُـم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٟتِكُـمْ

  • اور اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو تمہاری ماؤں کے بطن سے خارج کیا تھا۔

لَا تَعْلَمُونَ شَيْــٔٙا

  • اس حال میں کہ تم لوگ کسی شئے کے متعلق معلومات اور علم نہیں رکھتے تھے۔

وَجَعَلَ لَـكُـمُ ٱلْسَّمْعَ وَٱلۡأَبْصَٟرَ وَٱلۡأَفْـِٔدَةَۚ

  • اور انہوں نے ایک جزو کو تمہارے لئے سماعت کی لیاقت بنا دیا،اورایک کوبصارتوں کا ذریعہ،اور ایک کو(قلیل تعداد میں)معلومات کو منظم/دم پخت  کرنے (علم میں ڈھالنے)والے دماغ۔

Root: ف ء د

لَعَلَّـكُـمْ تَشْكُـرُونَ .٧٨

  • مقصد یہ تھا کہ علم حاصل ہو جانے پرتم لوگ اظہار تشکر کرو۔(النحل۔۷۸)

اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کوحقیقی معنوں میں غافل یعنی  راہ ہدایت،صراط مستقیم،ہدایت نامہ قرءان مجید سے منحرفانہ طرز عمل اختیار کر کے گم کردہ راہ بنایا ہے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْغَٟفِلُونَ .

  •  یہ لوگ ہیں جو حقیقتاًدانستہ غافل ہیں۔(حوالہ الاعراف۔۱۷۹)

یہ تمام لوگوں کی طرح علم حاصل کرنے کے وسائل کے ساتھ سمجھنے کی صلاحیت سے بھی مزین ہیں مگر دانستہ ان کے استعمال سے گریزاں ہیں،ان کے متعلق بتایا

لَـهُـمْ قُلُوبٚ لَّا يَفْقَهُونَ بِـهَا

  • قلوب ان کے سینوں میں بھی ان کی نوع کی مانند ان کے استعمال کے لئے موجود ہیں،مگر وہ ان کی مدد سے سمجھتے نہیں۔

Root: ف ق ه

وَلَـهُـمْ أَعْيُـنٚ لَّا يُبْصِرُونَ بِـهَا

  • اور آنکھیں بھی ان کی نوع کی مانند ان کے لئے مہیا ہیں مگر ان کو    مرکوز کر کے دیکھتے نہیں۔

وَلَـهُـمْ ءَاذَانٚ لَّا يَسْمَعُونَ بِـهَآۚ

  • اور کان بھی ان کی نوع کی مانند ان کے لئے دستیاب ہیں مگر ان کو سماعت کا آلہ نہیں بناتے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ كَٱلۡأَنْعَٟمِ بَلْ هُـمْ أَضَلُّۚ

  • یہ متذکرہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں،بلکہ درحقیقت ان سے بھی زیادہ ماحول سے بے پرواہ ہیں۔


موسیٰ علیہ السلام کے قول میں۔ٱلضَّآلِّيـنَ۔کے استعمال کے معنی اور مفہوم

موسیٰ علیہ السلام ایک علم والے بندے سے  خرطوم میں مجمع البحرین کے مقام پر ملاقات کے بعد جدا ہو کر جس رات شہر میں داخل ہوئے تھے تو آپس میں لڑتے جھگڑتے دو لڑکوں میں سے ایک کے اچانک چیخ کر پکارنے پر انہوں نے دوسرے لڑکے کومکا مار دیا جس سے وہ  اتفاقاًموقعے ہی پر مر گیا تھا۔موسیٰ علیہ السلام اگلی صبح مصر سے فرار ہو گئے تھے۔اُس وقت وہ بھرپور جوان اور پورے مرد کی عمر کے تھے۔اور پھر آٹھ  دس  سال کے عرصے بعد فرائض رسالت تفویض کئے جانے پر اللہ  تعالیٰ کے حکم پر فرعون کے پاس آئے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے اس اتفاقی حادثہ کا حوالہ دیا تھا اور اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا:

قَالَ أَ لَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٙا

  • اس(فرعون)نے کہا’’کیا ہم نے تجھے بچپن سے اپنے درمیان رکھ کر پرورش اور پروان نہیں چڑھایا۔

Root: ر ب و

وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِيـنَ .26:18١٨

  • اور تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے درمیان  آباد رہا۔

Root: س ن ه; ع م ر; ل ب ث

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِـى فَعَلْتَ

  • اور تم نے  پہلی مرتبہ اپنی وہ حرکت کی۔یاد کر وہ پہلی مرتبہ کی ہوئی حرکت جو تونے کی تھی۔(زیر لب اس  اتفاقی قتل کیس کو کھولنے کی دھمکی)

وَأَنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ .١٩

  • اور تواس وقت جو کر رہا ہے وہ تجھے ان میں شامل کر رہا ہے جوشکر گزار نہیں ہوتے‘‘۔

قَالَ فَعَلْتُـهَآ إِذٙا وَأَنَا۟ مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ .٢٠

  • انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا’’میں نے وہ حرکت اس وقت  کی تھی جب  اچانک مجھے زور سے پکارا گیا تھا جبکہ میں اس لمحے گہرے تفکر میں کھویا ہوا تھا ۔   (القصص۔۱۵  پڑھیں)

فَفَرَرْتُ مِنكُـمْ لَمَّا خِفْتُكُـمْ

  • چونکہ مجھے علم ہو گیا تھا کہ آپ لوگ اس حادثے کو جواز بنا کرمجھے پھانسی دینے کا منصوبہ بنا رہے ہو اس لئے میں آپ سے فرار ہو گیا جوں ہی مجھے آپ لوگوں سے خوف محسوس ہوا۔(القصص۔۲۰ پڑھیں)

Root: ف ر ر

فَوَهَبَ لِـى رَبِّـى حُكْـمٙا

  • میرا یہ فیصلہ اس صلاحیت کا استعمال تھا جو میرے رب نے جوانی ہی میں مجھے   حکمت و دانائی سے نوازا تھا۔(حوالہ القصص۔۱۴)

Root: و ھ ب

وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .٢١

  • اور ان جناب نے مجھے مختلف اقوام کی جانب بھیجے گئے میں شامل کر کے آپ لوگوں کی جانب بحثیت رسول پیغام دینے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔

وَتِلْكَ نِعْمَةٚ تَمُنُّـهَا عَلَـىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ .٢٢

  • اور جہاں تک اس بھلائی کا تعلق ہے جس کا آپ مجھ پر احسان جتلا رہے ہیں اس حوالے سے کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا ہوا تھا‘‘۔

Root: م ن ن

موسیٰ علیہ السلام نے مرنے والے شخص کو کسی ہتھیار،ڈنڈے وغیرہ کی ضرب سے نہیں مارا تھا۔بلکہ گھونسہ مارا تھا لیکن پھر بھی وہ مر گیا۔ تھپڑوں اور گھونسوں سے لوگ مرا نہیں کرتے اور نہ ہی اس انداز سے مارنے والوں پر کبھی ارادہ قتل کا الزام لگایا جاتاہے۔فرعون نے بھی ان پر کھلے بندوں قتل کا الزام نہیں لگایا بلکہ ان کے فعل کا حوالہ دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہا ہے کہ چاہے اتفاق ہی تھا لیکن مرا تو تمہارے گھونسے ہی سے تھا۔موسیٰ علیہ السلام نے اس فعل کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ۔مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ۔ تھا۔وقوعہ کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لفظ کے بیان کردہ عمومی معنی گمراہ ہونا، بہکابھٹکا،راہ سے دور جا پڑا،ظائع ہو گیا،گم ہونا ایک ایسے انسان پر منطبق ہوتے دکھائی نہیں دیتے جس کے مکہ مارنے یا دھکہ دینے سے کوئی شخص مر جائے۔

موسیٰ علیہ السلام نے اس خاص لمحے کے حوالے سے اپنی کیفیت بیان فرمائی تھی اور وقوعہ کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لفظ کے بیان کردہ معنی ”میں راہ بھولے لوگوں میں سے تھا“،”مجھے راہ کی خبر نہ تھی“ ”میں ناواقفوں میں تھا“کیا ایک ایسے انسان پر منطبق ہوتے ہیں جس کے مکہ مارنے یا دھکا دینے سے کوئی شخص اتفاقی طور پرمر جائے؟ آپ بتائیں کہ مکا مارنے سے کسی شخص کے اتفاقی طور پر مرنے کے حادثہ کا کسی بھی منطق سے علمیت، ہدایت یا گمراہی،راہ بھولنے، ناواقفیت سے کوئی تعلق بنتا ہے؟
موسیٰ علیہ السلام کے اس قول کا مروجہ ترجمہ ماضی کی تقلید ہے کیونکہ بعض قدیم تفسیروں (حوالہ تفسیر ابن کثیر،تفسیر القرطبی)میں
مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ۔ کا ترجمہ اور تفسیر”من الجاھلین“بتایا گیا تھااوراس ’الجاھلین‘کے فارسی/ اردو/انگریزی میں مروجہ معنی ”جہالت،لاعلمی،کم علمی“ہیں۔کیا موسیٰ علیہ السلام کے ان الفاظ کے معنی من الجاھلینگمان کئے جا سکتے ہیں؟کیا ہمیں یاد نہیں کہ مکا مارنے سے ایک لڑکے کے مرنے والا واقعہ کب پیش آیا تھا؟یہ اس کے بعد پیش آیا تھاجب اللہ تعالیٰ انہیں بھرپور جوان ہونے پرحکمت و دانائی سے قوت فیصلہ اور علم عنایت فرما چکے تھے(حوالہ القصص۔۱۴)۔ا للہ تعالیٰ کی جانب سے جس بندے کو قوت فیصلہ اور علم عطا ہوا ہو اس علم کے بعد بھی کیا  اپنے آپ کووہمن الجاھلینکہہ سکتا تھا؟ اس سوال کا جواب ہمیں دینا چاہئے کیونکہ معلومات حاصل ہونے کے بعد تعقل کی ابتداہوتی ہے۔

 مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ:یہ جار و مجرور محذوف خبر کے متعلق ہے۔حرف جر .مِنَ.تبین کرنے کے لئے ہے۔ اس فعل کے سرزد ہونے کی وجہ اور اس وقت وہ جس ذہنی استغراق  اور اپنے ادھر ادھر کے ماحول سے غفلت کی کیفیت میں تھے وہ بتایا۔انسان  جب کسی نکتے کی گھتیاں سلجھانے میں مستغرق ہوتا ہے تو ماحول سے منقطع، بے خبر ہوتا ہے:

وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَـىٰ حِيـنِ غَفْلَةٛ مِّنْ أَهْلِـهَا

  • اوروہ(موسیٰ علیہ السلام علم والے بندے سے جدا ہو کر۔الکہف۔۱۸)رات کے وقت شہر میں اس  وقت  داخل ہوئے جب  حالت استغراق میں غافل تھے ۔ایسے غافل کے اس میں رہنے والوں میں سے بعض کی اپنے آس پاس موجودگی کو بھی محسوس نہیں کیا۔(حوالہ الشعراء۔۱۵)

موسیٰ علیہ السلام کو اس علم والے بندے نے ایک لڑکے کو قتل کرنے کا سبب بتاتے ہوئے اس فعل کی وجوہات اور مقصد بتایا تھا اور انہیں ا للہ کے ارادے کا نتیجہ کہا تھا۔اور واپس مصر میں داخل ہوتے ہی موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بھی ایک شخص قتل ہو گیا تھا۔موسیٰ علیہ السلام کو پلک جھپکنے میں واضح ہو گیا تھا وہ فرق جو مطلق ہستی ا للہ رب العزت اور انسان کی ہستی کا ہے۔مطلق ہستی کا ہر فعل سوچے سمجھے ارادے کا نتیجہ ہوتا ہے اور مقصد کے تابع ہوتا ہے ،لیکن انسان سے بلا ارادہ و مقصد  افعال کے سرزد ہونے کا امکان ہے۔اور اس کے بالمقابل شیطان کا ہرعمل عقل و شعور کے تقاضوں کے منافی ہوتا ہے۔اسی لے جو وقوعہ پیش آ چکا تھا اور اس کے پیش آنے کی وجہ اور انداز کے متعلق موسیٰ علیہ السلام نے فوراََ فرمایا تھا کہ ”یہ شیطان کے عمل میں سے ہے“۔جبروقدر کے لغو فلسفہ کی نفی کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا”میرے رب!میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے،مجھے بخش دے“۔ موسیٰ علیہ السلام کسی نکتے پر سوچ بچار میں محو ہونے کے بناء پر شہر میں اس کیفیت میں داخل ہوئے تھے کہ وہاں کے لوگوں سے حالت غفلت میں تھے۔اس حالت غفلت میں کئے گئے اپنے نادانستہ،بلاارادہ فعل کی بھی ذمہ داری قبول کی اور ا للہ رب العزت سے معافی کے طلبگار ہوئے۔اور اہل ثروت کے مفکرین اپنے دانستہ،سوچے سمجھے ارادہ اور مفاد کے تحت کئے ہوئے اعمال کو جبروقدر کے اختراع کئے فلسفہ کی نذر کر دیتے ہیں۔

 ٱلضَّآلِّيـنَ:کے معنی کی ابتدا انسان سے اُس حالت میں بلا ارادہ کوئی غیر مناسب فعل سرزد ہو جانا ہے جب کسی دوسرے خیال میں محو، مگن، ڈوبا ہوا ہو اور کوئی شخص اچانک اسے متوجہ کر لے۔آقائے نامدار رسولِ کریمﷺ کے فرمان کو یاد کریں۔

قُلْ إِنَّمَآ أَعِظُكُـم بِوَٟحِدَةٛۖ

  • آپ(ﷺ)تمام لوگوں کو بتائیں’’میں تم لوگوں کو فقط ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔

Root: و ع ظ

أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَٟدَىٰ

  • وہ یہ کہ  اللہ تعالیٰ کےلئےتم لوگ خصوصی طور پر  قیام کرو، وقت نکالو؛اس حال میں کہ دو موجود ہو ںاور اکیلے تنہا ہو۔

Root: ف ر د

ثُـمَّ تَتَفَكَّرُوا۟ۚ

  • بعض ازاں ایک مقام پر متمکن ہو جانے پر از خود  جذبات اور تعصب سے بالاتر ہو کرمقصدیت کے پہلو سے باتوں پر غور و فکر کرو‘‘۔

Root: ف ك ر

ا للہ تعالیٰ اور قرءانِ مجید میں رسولوں کے فرمودات پر جب بھی دھیان سے توجہ کریں گے تو ایک نیا موتی ملے گا۔آقائے نامدارﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ راہ چلتے تفکر کرو۔تفکر انسان کو اردگرد سے منقطع کر دیتا ہے اور کوئی ایسی صورتحال پیش آ سکتی ہے جیسی موسیٰ علیہ السلام کو پیش آ گئی تھی۔ یہ نکتہ سورۃ المزمل میں بھی واضح کیا ہے کہ انتہائی غوروفکر اور انہماک کی حالت میں انسان کے پاس یہ قدرت نہیں ہے کہ اپنے اردگرد کی بعض دوسری باتوں کا احساس رکھ سکے۔سورۃ مبارکہ کی پہلی پانچ آیات میں قیام کے دورانیہ کے متعلق حکم دیا  تھا کہ آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم یا زیادہ کر لیا جائے لیکن اسی سورۃ کی آیت ۔  ۲۰سے واضح ہے کہ آقائے نامدارﷺ اور ان کے ساتھیوں میں سے قیام کرنے والے گروہ سے وقت کے دورانیہ پر گرفت نہیں ہو سکی تھی۔ انہوں نے کسی رات دو تہائی رات کسی رات آدھی رات کیلئے اور کسی رات ایک تہائی رات قیام کیا۔یوں ا للہ تعالیٰ نے ظاہر فرما دیا کہ حالت قیام میں قرءانِ مجید کی حسن تناسب اور پورے انہماک سے تلاوت کرتے ہوئے وقت کااندازہ رکھنا بھی انسان کیلئے ایک مشکل کام ہے کہ قیام کے دوران اس بات کا احاطہ نہ کر سکے کہ رات کے کتنے پہر بیت گئے۔ انسان کے ذہن کی اس محدودیت کو واضح فرمایا گیا کہ یہ ایک وقت پر دو مختلف باتوں پر توجہ مرکوز کر کے ان دونوں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتا۔آقائے نامدارﷺ اور ان کے ساتھیوں کی وقت کے اندازے پر گرفت نہ رہنے کا بتا کر اس نکتے کو واضح فرمایا کہ ان کی تمام تر توجہ اور تفکر کا محور قرءانِ مجید کی آیات مبارکہ تھیں جنہیں آقائے نامدار ﷺ تلاوت فرماتے تھے۔

آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ کے لئے۔ضَلَّ۔اور۔ضَآلّٙا۔کے استعمال کا موقعہ محل اور معنی و مفہوم

 ۔اللہ تعالیٰ نے معراج کے سفر کے متعلق کسی کو مخاطب کئے بغیر سورۃ الاسراء کی آیت۔۱ میں خبر کو بریک کرنے کے انداز کے  بعد اس کے احوال متعلق بتایا:

وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ .١

  • تمہارے ہمہ تن گوش ہونے کیلئے ہم اُس مخصوص ستارے کی قسم اٹھا کر حقیقت  پر مبنی واقعہ بیان کرنے لگے ہیں جو اپنا سب کچھ بکھیر کرخالی دامن ہو چکا تھا۔

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُـمْ 

  • وہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے رہنما آقا نہ تو منظر سے غائب ہوئے  تھے

وَمَا غَوَىٰ .٢

  • اور نہ  وہ راہ سفر سے اِدھر اُدھر ہوئے تھے۔

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْـهَوَىٰٓ .٣

  • ۔۔مطلع رہو؛ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ (ﷺ)جو واقعہ سفربیان فرما رہے ہیں (جو انسانی ذہن کے  سمجھنے کےلئے پیچیدہ  ہے)وہ تخیلاتی خلائی پروازپر مبنی نہیں ہے۔۔[یہ جملہ معترضہ ہے]

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْـىٚ يُوحَـىٰ .٤

  • ۔۔درحقیقت یہ  صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو انہیں بیان کیا جا رہا ہے۔۔

”تمہارے آقا (آقائے نامدار رسولِ کریمﷺ)نہ توغافل تھے اور نہ غلط سمجھاہے“
اس آیت مبارکہ کا ترجمہ اور تفسیر کرنے کے عام رواج کی ایک جھلک یہ ہے:
[ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی۔تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف۔قرءانِ کریم شاہ فہد پرنٹنگ کمپلیکس۔سعودی عرب]
”کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے نہ وہ ٹیڑھی راہ پر ہے“تفسیر:یہ جواب قسم ہے۔صاحبکم (تمہارا ساتھی)کہہ کرنبی ﷺکی صداقت کو واضح تر کیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں،اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں،اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے،راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟اب چالیس سال کے بعد وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے تو ذرا سوچو،وہ کس طرح جھوٹ ہو سکتا ہے؟چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے،ضلالت،راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوایت وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ا للہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ فرمائی ہے]
[مولانا احمد رضا خان بریلوی۔کنز الایمان فی ترجمۃ القرءانِ]”تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے“
[مولانا محمد علی۔بیان القرءانِ]”تمہارا ساتھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ بہکا ہے“۔

 ترجمے سے واضح ہے کہ اس آیت مبارکہ میں بھی ضَلَّکے معنیذهابُهُ في غيرِ حَقِّهہی لئے گئے ہیں۔

باقی  تراجم بھی یہی کچھ کہتے ہیں۔معذرت اور دکھی دل سے عرض ہے کہ یہ تراجم  علمی کاوش کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ محض ان انگریزی تراجم کا اردو ورژن ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں نے بہت عرصہ قبل کئے تھے،جو نیچے درج ہیں۔جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ اس کو گوگل میں ڈال کر اردو ترجمہ دیکھ لیں۔

George Sale: your companion Mohammed erreth not, nor is he led astray:

JM Rodwell: Your compatriot erreth not, nor is he led astray,

 ان مترجمین پر تو مجھے اتنا زیادہ افسوس اور ملال نہیں ہوتا مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ طبری اورقرطبی جیسے مفسرین کو کیا مسئلہ درپیش تھا کہ  سورۃ کے اس فصل/فریم کے مندرجات کو مد نظر رکھے بغیر اور جملوں کی  ساخت  اور معنوی لحاط سے قسم کا تعین کئے بغیر یوں خیال آرائی کی ’ما حاد صاحبكم أيها الناس عن الحقّ ‘‘۔ عجیب  مخمصہ ہے کہ انہوں نے کیوں  مادہ  ”ض ل ل“کو مادہ ’’ح ى د‘‘ سے بدل کرمفہوم بیان کیا اور یہ بھی  چیک نہیں کیا کہ ’’حاد‘‘ سے ملے جلے تصور میں  جب قرءان مجید میں استعمال ہوا تو تخصیص سے  ضَلَّکے ساتھ لکھا گیا’’عَن سَبِيلِهِۦ‘‘۔اس سے قبل بیان کردہ آیات کے مطالعہ میں ہم انتہائی واضح اور سہل انداز میں  سمجھنے کے لئے دیکھ چکے ہیں کہ اس مادہ کا  استعمال  جبذهابُهُ في غيرِ حَقِّه“کے حوالے سے ہوا تو اس کو مخصوص، متبین کیا گیا ہے۔

 قدیم عربی زبان میں "تفسیر"لکھنے والوں نے  نہ جانے کیوں اکیڈیمک اصولوں اور اکیڈیمک اخلاقیات سے تجاوز کرتے ہوئے اصل متن میں مصنف کےپسند کردہ لفظ کو عربی زبان کے کسی دوسرے لفظ سے بدل کراپنی جانب سے تفسیر(اصل میں تشریح)کرنے کو  "رواج" دیا۔قرء انِ مجید کے بیان میں موقع محل کے حوالے سے الفاظ کے چناؤ میں کمال نفاست،انفرادیت اورمناسبت ہے کہ قاری  باریکی سےمگر باآسانی اُس تصورکا ادراک کر سکے جسے اُسے پہنچانا مقصود ہے ۔  اِس لئے انتہائی ضروری ہے کہ اِس کے جملوں کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرنے کیلئے اُن میں استعمال ہوئے لفظ کی جگہ کسی دوسرے عربی لفظ کومتبادل سمجھ کر نہ کیا جائے کیونکہ عربی زبان کا ہر ایک لفظ ہر دوسرے لفظ سے انفرادیت کا حامل ہے۔عربی زبان کا ہر ایک لفظ درحقیقت اپنے آپ میں یکتا ہے۔

آئیں ایک مرتبہ سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات مبارکہ کی اس انداز میں تلاوت کرنے کو کوشش کریں  جیسے ہمارے رہبر،ہمارے صاھب کا انداز ہے تاکہ ہماری تمام تر توجہ ان ہی میں رہے اور کتاب اور ہمارے ذہن کے درمیان خارج از کتاب بات حائل نہ ہو۔

وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلٙا .٤

 اورآپ(ﷺ) قرءانِ(مجید)کو حسن تناسب،توازن، یکسانیت،انہماک سے پڑھیں، ترتیل:ایک ایک لفظ کی سہولت اور استقامت سے ادائیگی کرنے کے انداز میں۔(المزمل۔۴)

Root: ر ت ل

الحمد للہ۔ہم نے سنا کہ ان آیات مبارکہ میں تو آقائے نامدار ﷺکی مبارک نگاہوں اور بصارتوں نے جو دیکھا تھا اس کا ذکر ہے۔ اور آقائے نامدارﷺ نے جو دیکھا وہ ہماری عقل وفکر اور ادراک سے ماوراء بات ہے۔آقائے نامدارﷺ کی مبارک بصارتوں نے جو کچھ دیکھا وہ ان ہی کی بصارتوں کے شایان شان تھا اور انسان کا علم محدود ہے اس لئے ضروری نہیں کہ ان باتوں کاکما حقہ احاطہ کر سکے۔ گفتگو آسمانوں کے ابواب کے اُس پار  موجودات میں عظیم الشان  آیت/شئے دیکھنے کی ہو رہی ہے اس لئے ہم ذرا سوچیں کہ گمراہی اور ٹیڑھی راہوں کا تذکرہ کہاں سے بیچ میں آ سکتا ہے؟ کچھ اندازہ ہے کہ آیات مبارکہ کی باتیں کائنات کے کس مقام کی ہیں؟ بات کی ابتدا اس قسم سے ہے۔ارشاد فرمایا

وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ .١

  • تمہارے ہمہ تن گوش ہونے کیلئے ہم اُس مخصوص ستارے کی قسم اٹھا کر حقیقت  پر مبنی واقعہ بیان کرنے لگے ہیں جو اپنا سب کچھ بکھیر کرخالی دامن ہو چکا تھا۔

Root:  ن ج م

 جملہ حرف قسم سے شروع ہوا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ابتدا میں کچھ محذوف ہے۔گفتگو کے آغاز میں قسم انسانوں کے طرز کلام میں معروف ہے کہ  اس کامقصد متکلم کا جواب قسم میں بتائی جانے والی بات اور خبر کو بدیہی حقیقت کے طور پیش کرنا ہے۔اور قسم ہمیشہ باعظمت اور معروف ہستی یا شئے کی ہوتی ہے۔ٱلنَّجْمِ۔ معرفہ  باللام ہے (الْجِنْسِيَّةُ لبَيَانَ الحَقِيقَةِ)اور ایک منفرد اور مخصوص ستارے کا حوالہ ہے کیونکہ اس کے بعد اس کا حال بیان ہوا ہے:إِذَا هَوَىٰ۔ظرف زمان اور فعل  لازم،ماضی،واحد مذکر غائب پر مشتمل ان دو الفاظ  کوماہرین گرائمر مرکب اضافی کہتے ہیں۔

هَوَىٰ:اس جملہ فعلیہ کا مادہ”ھ و ى“ ہے اور معنی اوپر سے نیچے گرنا۔چیز جو اوپر سے نیچے کی طرف گری۔ابن فارس نے اس مادہ  میں سموئے  بنیادی  تصور کو یوں بیان کیا’’يدلُّ على خُلُوٍّ وسقوط‘‘یعنی   کسی شئے کاخالی، کھوکھلا ہو جانا اور  نیچے گرنا،حالت سقوط میں ہو جانا ہیں۔ ستارے آسمان دنیا کی شئے نہیں ہیں۔ستاروں میں دھماکے ہوتے رہتے ہیں اور ان کا مواد فضا میں گرتا اور بکھرتا رہتا ہے۔یہ ماہرین فلکیات کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ہم نے تو ایک اندازہ لگانا ہے کہ آیات مبارکہ میں گفتگو کن رفعتوں کے مقام کے متعلق ہے۔ہمارے قریب ترین جوستارا(Proxima Centauri) ہے وہ زمین سے بیس ٹریلین میل کے فاصلے پر ہے۔ سورج کی روشنی ہم تک آٹھ منٹوں میں پہنچتی ہے لیکن جو ستارے ہم سے زیادہ دور ہیں ان کی روشنی ہم تک پہنچنے میں اربوں سال بیت جاتے ہیں۔

لیکن اکیسوی صدی میں ہمارے لئے تعجب خیز قرءان مجید میں الفاظ کا چناؤ ہے ایسے جیسے ہمارے زمانے کے علم کے تناظرمیں خاص ہمارے لئے ہیں۔مخصوص ستارے کی   تصویر کشی کے انداز میں جو کیفیت بیان ہوئی  وہ ہمیں آج انسائکلوپیڈیا اور ’’ناسا‘‘(NASA)۔والے اس ستارے کا حال بتاتے ہیں جسے  هَوَىٰ حالت میں ’’بلیک ہول‘‘کا نام دیتے ہیں۔یہ انتہائی گھنا ٹھوس ہے  جس کی کشش ثقل اس قدر زیادہ ہے کہ جو کوئی شئے اس کے قریب ہے حتیٰ کہ روشنی بھی ،یہ اسے کھینچ اور جذب کر کے ماحول سے اوجھل کر دیتا ہے۔

NASA Science   Black Holes
"If the collapsed stellar core is larger than three solar masses, it collapses completely to form a black hole: an infinitely dense object whose gravity is so strong that nothing can escape its immediate proximity, not even light. Since photons are what our instruments are designed to see, black holes can only be detected indirectly. Indirect observations are possible because the gravitational field of a black hole is so powerful that any nearby material - often the outer layers of a companion star - is caught up and dragged in. As matter spirals into a black hole, it forms a disk that is heated to enormous temperatures, emitting copious quantities of X-rays and Gamma-rays that indicate the presence of the underlying hidden companion."

قرءان مجید  میں  ایک حقیقی مادی واقعہ کے بیان (narrative) کے پیش نظر ستاروں کی دنیا کے ان ماہرین کی  معلومات  کو حتمی تسلیم کر لینا چاہئے کیونکہ یہ  وقوعہ کے بیان میں اس محذوف حصے کی نشاندہی کرتا ہے جو القصص کا لازمی جزو ہے یعنی مسئلہ(complication)کیا درپیش تھا۔جواب قسم میں بتایا گیا کہ آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کو یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوا جس نے ہم سب کو بتا دیا کہ بلیک ہول میں غائب ہونے سے استثناء کی مثال موجود ہے:

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُـمْ 

  • وہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے رہنما آقا نہ تو منظر سے غائب ہوئے  تھے

القصص کے متن کی خاص بات یہ ہے کہ صیغے ماضی ہوتے ہیں۔یہاں فعل لازم ماضی ضَلَّکے اِس کے ماخذ کے بنیادی تصورضَياع الشي“کے علاوہ دوسرے معنی  نہیں  کئے جا سکتے۔اور اس کے بعد دوسری نفی نے    تو گمان   کے دروازے بھی بند کر دئیے کہ منظر سے غائب ہونے کے علاوہ  اس کے کچھ اور معنی کئے جا سکتے ہیں۔

وَمَا غَوَىٰ .٢

  • اور نہ  وہ راہ سفر سے اِدھر اُدھر ہوئے تھے۔(النجم۔۲)

اس مخصوص ستارے  کی کشش کی وجہ سے ایک اور ممکنہ اثر کے متعلق بھی بتا دیا کہ ان ﷺ نےایسا  اثرنہیں  لیا تھا۔فعل ماضی لازم۔غَوَىٰ۔کا ماخذ ’’غ و ى‘‘ ہے جس میں سمویا بنیادی تصور متعین کردہ راست راہ (رشد)سے ادھر ادھر ہو جانا ہے۔سفر کا آغاز کرنے سے پہلے گزرگاہ (route)کو متعین کر لیا جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ اس بلیک ہول بنے ستارے کے نواح سے بغیر اپنے  متعین راستے (گزرگاہ۔روٹ)سے ادھر ادھر ہوئے منزل کی جانب محو سفر رہے تھے۔

رسول کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں پیش آئے اس واقعہ اور بیان کی نوعیت ایسی ہے کہ عام آدمی تو کیا آج کے  آئین سٹائین( Albert Einstein)اورسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking)کے پائے کے سائنسدانوں کے دماغ کو چکرا کر رکھ دے کہ چودہ سو سال قبل  کیسے ممکن تھا۔مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ قرءان مجید میں تو اس سے ہزاروں سال  قبل کا واقعہ بھی درج ہے جب چند لوگوں کو ایک بھاری مادی شئے کو ایک ملک کے دارلخلافہ سے دوسرے ملک کے دارالخلافہ کے محل میں پلک   کی جنبش کے دورانیے میں منتقل کرنے پر دسترس حاصل تھی۔اور وہ آج ’’کوانٹم اینٹیگل مینٹ۔Quantum entanglement‘‘پر کام کر رہے ہیں۔اور اگر            عظیم سائنسدان  آئین سٹائین نے قرءان مجید کو پڑھا ہوتا تو نہ وہ کرتا جسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ’’بلنڈر۔Cosmological constant‘‘قرار دیا ،اور اگر کائنات کو پھیلتی دیکھ لینے کے بعد بھی پڑھ لیا ہوتا(الانعام۔۱؛الرعد۔۴۱؛الانبیاء۔۴۴۔ ۱۰۴؛ الزمر۔۶۷؛فصلت۔۵۳؛اور الذاریات۔۴۷)تو اپنی اس بلنڈر کو بھی ایک منفرد دریافت کے طور زیادہ یقین سے دنیا کو دے جاتے۔

اللہ تعالیٰ لوگوں کی نفسیات بخوبی جانتے ہیں کہ جو بات ان کے احاطہ ادراک سے باہر ہو اور ان کے پاس معلومات نہ ہوں تو بعض ہرزہ سرائی سے بھی نہیں چوکتے کہ اپنی کم علمی اور محدودیت ِادراک کو نہیں مانتے۔اس سے پہلے کہ کوئی ہرزہ سرائی کرے،اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے ذریعے احوال سفر کو جاری رکھنے سے پہلے واضح فرما دیا:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْـهَوَىٰٓ .٣

  • ۔۔مطلع رہو؛ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ (ﷺ)جو واقعہ سفربیان فرما رہے  ہیں  (جو انسانی ذہن کے  سمجھنے کےلئے پیچیدہ  ہے)وہ تخیلاتی خلائی پروازپر مبنی نہیں ہے۔۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْـىٚ يُوحَـىٰ .٤

  • ۔۔درحقیقت یہ  صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو انہیں بیان کیا جا رہا ہے۔۔(النجم۔۴)

 قرءان مجید کے ترجمہ اور مفہوم  کوبیان کرنے کے لئے اور جملوں میں ربط اور غایت کے ادراک کے لئے حروف کے استعمال کی نوعیت کو متبین کرنا لازم ہے۔ حرف  عطف ’’وَ‘‘عربی زبان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے۔موقع محل  کی مناسبت سے اس کے استعمال کے معنی اور غایت مختلف ہے  جس کو متبین کرنا بالکل واضح ہے اگر اُس کے اپنے سے ماقبل لفظ اور بعد والے لفظ کے مابین تعلق یا عدم تعلق کو دیکھ لیا جائے۔ماقبل لفظ/جملے کا ما بعد لفظ سے تعلق نہیں ہے کہ ایک ماضی کا صیغہ ہے اور ما بعد جملے میں فعل مضارع مرفوع ہے  جس میں مستتر ضمیر اس لمحے   لوگوں سےمتکلم’’صَاحِبُكُـمْ‘‘کو راجع ہے۔ یہاں’’وَ‘‘ حقیقت اور’’صَاحِبُكُـمْ‘‘کے اس لمحے کے حالیہ بیان کو انتہائی تاکیدی ،واثق انداز (emphatic)میں واضح کرنا ہے؛ پہلے منفی کر کے اور پھر اس بیان کے منبع کو بتا کر۔حرف نفی کے بعد منفصل ضمیر’’هُوَ‘‘اس القصص کو راجع ہے جو’’صَاحِبُكُـمْ‘‘اس لمحے ’’يَنطِقُ‘‘اپنی زبان اور ہونٹوں سے بول رہے ہیں۔تمہارے صاحب من و عن انہی الفاظ اور ترتیب میں بول رہے جیسے خود انہیں   زبانی سنائے جا رہے ہیں۔

الفاظ کے چناؤ اور انداز بیان میں وہ صراحت و بلاغت ہے کہ جنہیں  زمان و مکان(Time and space)کے مدغم(warping)ہونے کے متعلق معلومات  حاصل ہیں وہ چونک کر سہم جائیں گے۔دس لفظوں میں بلیک ہول کے نواح میں جہاں زمان و مکان سمٹتے ہیں، رسول کریم ﷺ کا کائنات کے کناروں سے باہر جانے کے سفر میں منفی اثرات کی نفی کے بعد ان ﷺ کے زبان مبارک سے اس قصہ کی  روئدادکے بارے دس لفظوں میں جس حقیقت کو بیان فرمایا اس انداز میں بھی زمان و مکان کے سمٹنے کاعنصر موجود ہے۔’’صَاحِبُكُـمْ‘‘کوزبانی سنایا جا رہا ہے اور وہ بیک وقت تم لوگوں کو سنا رہے ہیں۔آقائے نامدار،رسول  کریم ﷺ کو عرش معلیٰ دکھانے کے لئے کائنات کی معراج تک کا سفر کرایا گیا جس میں انہوں نے مکان کوزمان میں سمٹنے اور انجماد کا مشاہدہ بھی کیا۔زمان و مکان کے انجماد کو ہمارے سمجھنے کے لئے جملہ معترضہ میں یوں ظاہر کیا کہ اللہ تعالیٰ عرش معلیٰ سے تمہارے صاحب سے کلام کر رہے ہیں جس کو  بیک وقت اپنی زبان سے  وہ تم کو بیان کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ اور تمہارے مابین زمان و مکان حائل نہیں ہو رہا۔یہ انجماد ِزمان و مکان کو سمجھنے میں معاون ہے۔

ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا  کہ۔ٱلضَّآلِّيـنَ۔اور اس کے ماخذ/جذرـض ل لکا مطالعہ کرتے ہوئے اس منزل پر پہمچ جائیں گے۔یہ حقیقت کی منزل ہے۔اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ قرءان مجید آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی ابتدائے آفرینش، ازل سے ابد تک کی بائیوگرافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بتایا:

وَوَجَدَكَ ضَآلّٙا فَهَدَىٰ .٧

  • اور انہوں نے آپ (ﷺ)کو جستجوئے حقیقت میں استغراق میں پایا۔چونکہ آپ منتہائے حقیقت   کو عین الیقین سے جاننے کے آرزومند تھے اس لئے ان جناب   نےآپ کو حقیقت  تک  پہنچنے کا راستہ دکھا  دیا تھا۔(الضحیٰ۔۷)

۔جملہ فعلیہ معطوفہ؛ فعل؛فاعل مستتر؛ مفعول بہ اول متصل؛مفعول ثانی۔حرف عطف۔ فعل ماضٍ مبني على الفتح/الفاعل:ضمير مستتر جوازاً تقديره:هُوَ-واحد مذكر غائب۔ ضمير متصل  في محل نصب مفعول به /واحد مذكر حاضر+ مفعول ثانی: اسم فاعل: منصوب-واحد  مذكر۔ماخذ"ض۔ل۔ل"۔اس مادہ/جذر کے معنی اور مفہوم اور سیاق و سباق کے حوالے  سے رونما ہونے والے فرق کا مطالعہ کریں۔فَهَدَىٰ ۔ حرف فَ (الفصيحة)+ فعل ماضٍ  مبنى على الفتح المقدر على الألف للتعذر/الفاعل :ضمير  مستتر جوازاً تقديره:هُوَ-واحد مذكرغائب۔ماخذ "ھ۔د۔ی"

اس آیت مبارکہ کا ترجمہ کرتے ہوئے بھی مترجمین کی اکثریت نے اس اسم فاعل’’ضَآلّٙا‘‘کو بجائے ضَياع الشي“کے معنی کے اللہ تعالیٰ کے بیان میں اپنی جانب سے اضافہ کر کے’”ذهابُهُ في غيرِ حَقِّه“کے مفہوم میں بدل دیا۔جناب رضا خان بریلوی نے متن اور سیاق و سباق کا جائزہ لے کر اس کا خوبصورت ترجمہ کیا تھا اگرچہ دوسرے مقامات پر وہی سہو کی جس کے مرتکب دوسرے مترجمین  ہوئے۔ترجمہ:’’اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی‘‘۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ .٢

  • تم لوگ وہ بات کیوں لوگوں سے کہتے ہو جس پر خود ایک بار بھی عمل پیرا نہیں ہوتے۔

كَبُـرَ مَقْتٙا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ .٣

  • اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ انتہائی انداز ہے ناپسندیدگی، بیہودہ پن اور برے چلن کے حوالے سے کہ تم وہ بات کہو جس پر خود ایک بار بھی عمل پیرا نہیں ہوتے۔(الصف۔۳)

Root: م ق ت

 آقائے نامدار،نبیّ امیّ کی حیات طیبہ  قرءان  مجید عنایت کئے جانے اور منصب رسالت پر فائز کئے جانے سے قبل اور بعد میں اوپر بیان کردہ بات سے منزہ ہے۔ آقائے نامدار ﷺوہ بات نہیں فرماتے جس پر خود کاربند نہ رہے ہوں۔انہوں نے انسان کو ایک نصیحت فرمائی ہے:

قُلْ إِنَّمَآ أَعِظُكُـم بِوَٟحِدَةٛۖ

  • آپ(ﷺ)تمام لوگوں کو بتائیں’’میں تم لوگوں کو فقط ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔

Root: و ع ظ

أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَٟدَىٰ

  • وہ یہ کہ  اللہ تعالیٰ کےلئےتم لوگ خصوصی طور پر  قیام کرو، وقت نکالو؛اس حال میں کہ دو موجود ہو ںاور اکیلے تنہا ہو۔

Root: ف ر د

ثُـمَّ تَتَفَكَّرُوا۟ۚ

  • بعض ازاں ایک مقام پر متمکن ہو جانے پر از خود  جذبات اور تعصب سے بالاتر ہو کرمقصدیت کے پہلو سے باتوں پر غور و فکر کرو‘‘۔(حوالہ سباء۔۴۶)

Root: ف ك ر

تفکر جستجو کا نام ہے۔تفکر حقیقتِ شئے کی جستجو ہے۔اور تفکر بھی دنیا و مافیا سے اعصابی نقطۂ نظر سے کچھ دیر کیلئے انسان کو بے خبر، غافل کر کے رفعتوں اور حقیقتوں سے باخبر کر دیتا ہے۔

وَوَجَدَكَ ضَآلّٙا فَهَدَىٰ .٧

  • اور انہوں نے آپ (ﷺ)کو جستجوئے حقیقت میں استغراق میں پایا۔چونکہ آپ منتہائے حقیقت   کو عین الیقین سے جاننے کے آرزومند تھے اس لئے ان جناب   نےآپ کو حقیقت  تک  پہنچنے کا راستہ دکھا  دیا تھا۔(الضحیٰ۔۷)

ضَآلّٙا۔ اسم فاعل ۔یہ ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خود رفتگی،کسی نکتے کو سلجھانے کے لئے استغراق کی حالت میں اپنے آپ کو رکھ رہا ہو۔ایسا شخص اپنے آپ میں غرق حالت میں  دیکھنے والوں کے لئے اپنے اردگرد کے  ماحول سے غافل اور انحراف میں دکھائی دیتا ہے۔یہ تنہائی میں تفکر کرنے کی اوج کا انداز ہے۔اور اس کے بعد حرف"فَ الفصيحة"نے طشت از بام کر دیا  کہ  جستجوئے  حقیقت میں وہ  مستغرق تھے تو انہیں   حقیقت سے  نہ صرف آشنا کر دیا بلکہ  ازل سے ابد کی حقیقت کوآسمانوں سے باہر عرش اقتدار تک رسائی دے کربصارتوں کو دکھا بھی دیا۔یہ الکوثر ہے،سرچشمہ ہدایت،علم و حقیقت۔یہ قربت کے تعلق کی منتہا ہے۔اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔اور میرے آقا، آقائے نامدار پر سلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ مترجمین  اور مفسرین کی اکثریت کو کیا  کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے اور اس کے مفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کےبنیادی قواعد و ضوابط معلوم نہیں تھے جنہوں نے اس کا ترجمہ کرنے کے لئے ’’راستے سےبے خبر، ناواقف راہ، بھٹکتا،wandering‘‘جیسے الفاظ منتخب کئے۔

یہ جملہ کس سلسلہ کلام کا ذیل جملہ ہے؟ اس کا:

وَٱلضُّحَـىٰ .١

  • ہم قسم اٹھا کر اعلان کرتے ہیں،قسم ہے روشن اجالے دن کی

وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ .٢

  • اور رات کی جب وہ گہرے سکوت میں ہو جاتی ہے۔

جن اوقات کی قسم اٹھا کر جواب قسم میں ایک بات کو بتایا گیا ہے وہ اوقات ایسے ہیں جن  کے متعلق کسی کو کوئی ابہام نہیں ہوسکتا اور ان کی قسم سے تمام زمان پر یہ بات محیط ہو جاتی ہے۔ "رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی" شاعر کے تخیل کی پرواز ہے،حقیقت سے اس کا واسطہ نہیں۔یک جان محسوس کر کے بھی قالب دو ہی رہتے ہیں۔ادغام ممکن نہیں۔فلسفہ عشق شاعروں کی تخیلاتی پرواز ہے۔عشق وہ کیفیت ہے جس میں لین دین کا سوال نہیں ہوتا،لیکن انسان کا شرف  یہ ہے کہ لین دین کی زنجیروں سے جکڑا ہے۔محبت میں لین دین بھی ہے اور تشہیر بھی جائز ہے۔

عشق کا دعویٰ نہیں ہوا کرتا کہ دعویٰ عشق ہی کو مشکوک بنا دے گا۔خامشی میں پنہاں ہے لطف و لذت عشق۔عشق کا دعویٰ تووہ  بھی نہیں کرتے جو اپنے آپ کو الصمد کہلوانا پسند فرماتے ہیں۔عشق کو بھی طشت ازبام کبھی کرتا ہے کوئی!

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَـىٰ .٣

  • آپ (ﷺ) کے رب نے آپ کو کبھی الوداع نہیں کیا اور نہ کبھی آپ کے رب نے اپنے آپ کو آپ سے جدا کیا۔

وَدَّعَكَ۔یہ باب تفعیل کا فعل ہے  جس کے معنی اس کے مفعول میں وہ حالت اور صفت پیدا کر دینا جو اس کے بنیادی معنی ہیں۔ماخذ"و۔د۔ع"۔جناب ابن فارس نے اس کے تصور کو یوں بیان کیا"يدلُّ على التَّرْك والتَّخْلِية" کہ یہ کسی کو ترک کر دینے اور اپنے پاس سے الوداع ،رخصت کردینا ہے۔ اور"قَلَـىٰ " کے ماخذ"ق۔ل۔و"کے معنی کسی سے اپنے آپ کو جدا کر لینا،الگ تھلگ کر لینا(alienation, estrangement and turning away from)۔اس سے بڑھ کر نہ قربت و الفت،چاہت،انس ممکن ہے اور نہ اس سے بہتر انداز میں اس کا اظہار کرنا ممکن۔یہ محبت کی اوج ہے۔

آپ خود غور کریں کہ کیا ایسی ہستی کے متعلق ان الفاظ کے اطلاق کا گمان بھی جا سکتا جو کئی مترجمین نے استعمال کئے۔

جستجو ایک سوال ہے۔اور ا للہ تعالیٰ نے رسولِ کریمﷺ کی جستجوکو پورا کر دینے کے صلے میں ان سے اس روش کو اپنانے کا مطالبہ فرمایا:

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْـهَرْ .١٠

  • اور جہاں تک جستجوئے علم کے لئے سوال کرنے والے کا تعلق ہے،اس کے سوال کرنے پر اسے مایوس اور سرگرداں نہ رہنے دیں۔(الضحیٰ۔۱۰)

الحمد للہ قرءانِ مجید کی آیات مبارکہ ایک دوسرے کے معنی و مفہوم کو نکھار کر واضح کر دیتی ہیں اور ہمیں اس مطالعہ میں  ماخذ/جذر  ”ض ل ل“ کابنیادی تصور واضح ہو گیا کہ ”ضَياع الشي“کا ہے یعنی کسی شئے کا گم ہو جانا،کھوجانا،معدوم ہو جانا، غائب ،اوجھل یا الگ ہو جانا؛ اور بنیادی تصور کی مناسبت سے دوسرے سیاق و سباق میں اس کے معنی ”ذهابُهُ في غيرِ حَقِّه“ ہیں یعنی کسی کااپنی مرضی اور صوابدید سے ایسے راستے پر چل پڑنا جو روشن نہیں،سچائی،انصاف پر مبنی نہیں۔ ایسے راستے پر جانے کا انجام اندھیروں میں گم ہو جانے پر منتج ہوتا ہے جو اس مادے کا بنیادی تصور ہے۔
انسان اور جانور کے حوالے سے جب ”
ضَياع الشي“کے معنی میں استعمال ہو گا تو اس کے معنی اپنے خیالوں میں کھو جانایا گم ہو جانا، اپنے آپ میں اتنا مگن ہو جانا جیسے ماحول کے لئے وہ کہیں کھو گیا ہو۔اور اس کا خود ماحول سے اتنا غافل ہو جانا جیسے ماحول اس کے لئے معدوم ہو۔تفکر کرتے ہوئے،حقیقت شئے کو جاننے کے لئے انتہائی غوروفکر کی حالت میں اپنے اردگرد کے ماحول اور یہاں تک کہ وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہ رہے۔

اس ابتدائی معنی اور مفہوم ”غفلت،غافل“واضح ہوئے ہیں۔عدم احتیاط غفلت کی ابتدا ہے۔خبردارکئے جانے پر حالت غفلت ٹوٹ جاتی ہے۔استغراق،غوروفکر میں محو ذہن(deep thinking)کا اعصابی رابطہ بھی اردگرد سے منقطع ہو سکتا ہے اور اس دوران ماحول سے غافل،حالت غفلت میں ہو سکتا ہے۔کسی کی محبت اور جستجواور ملنے کی خواہش میں مگن شخص کے متعلق بھی دوسروں کو گمان ہو سکتا ہے کہ حالت غفلت میں ہے۔یعقوب علیہ السلام کی یوسف علیہ السلام کی جدائی کے غم میں حالت کچھ ایسی ہی تھی۔

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيـرُ قَالَ أَبُوهُـمْ إِ نِّـى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ

  • اورجوں ہی قافلہ شہر کی فصیل سے باہر پہنچا تھا تو اس وقت ان کے والد نے اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا’’میں حقیقت میں یوسف کی مہک کوموجود پا رہا ہوں

Root: ر و ح; ع ى ر

لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ .٩٤

  • اگر تم لوگ میری اس بات کو بڑھاپے کا کمزورتخیل نہ سمجھو تووہ مہک تمہیں بھی محسوس ہو گی‘‘

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِـى ضَلَٟلِكَ ٱلْقَدِيـمِ .٩٥

  • انہوں نے جواب دیا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!سچ یہ ہے کہ حقیقت تسلیم کرنے کی بجائےآپ ابھی تک اپنے قدیم تصور میں کھوئے ہوئے ہیں(کہ یوسف زندہ ہے)‘‘۔

یہاں بھی مادہ ”ض ل ل“ہی ہے۔یعقوب علیہ السلام کے خوشبوؤں سے مہکتے ہوئے اس قول کو پڑھنے کے بعد بھی کیا ہم میں اتنا حوصلہ ہے کہ ”ض ل ل“کے معنی محض”گمراہی،بھٹکا ہوا،گم کردہ راہ“ سمجھیں؟ یہ کیسی ”گمراہی“ ہے کہ قافلہ مصر سے محض یوسف علیہ السلام کی قمیض لے کر چلے اور میلوں دور دوسرے شہر میں بیٹھے یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنے لگے؟یعقوب علیہ السلام کے اس مہکتے ہوئے قول ہی کی بنیاد پر (موازنے اور تعصب کی بناء پر نہیں)میں نے مولانا رضا احمد بریلوی صاحب کے اس ترجمے کو خوبصورت کہا تھا”اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی“۔
سبحان ا للہ! قربتوں کے انتہائی قریب مقام تک کی راہ کہ عرش معلیٰ کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا۔
محبت کا جواب محبت ہے۔ ا للہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کو ادب سے ہماری جھکی نگاہوں کے ساتھ ہر لمحہ سلام پہنچے۔دانستہ غفلت وہ ہے جب انسان خبردار کئے جانے کے باوجود محض ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے نکتہ نظر کے ساتھ بندھا رہے اور اِسے گمراہی اور راہ سے بھٹکنا کہتے ہیں اور یہ عربی مادہ ض ل لکی منتہا ہے اور راہ ہدایت کی ضد۔گمراہی دانستہ فعل و عمل ہے۔

یارب!آپ کا ہر فرمان ناقابل تردید حقیقت ہے۔میں اپنے بارے میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ نے سچ فرمایا اگرچہ میں ان میں نہیں جن کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ

  • حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے مطلق مقام و مرتبہ کا احساس و ادراک اور احترام اس طرح نہیں کیا جیسا کہ ان کی عظمت و کبریائی کا استحقاق ہے۔(حوالہ الانعام۔۹۱؛الحج۔۷۴؛الزمر۔۶۷)

یارب!آپ سچ کہتے  ہیں  کہ ہم نے ا للہ کی وہ قدر نہیں کی جتنی ان کی قدر کرنے کا حق ہے۔ یارب!تو ہمیں معاف فرما!تیری قدر کا ادراک تو تب کرتے اگر ہم تیری اس عظیم تخلیق،عظیم بندے کے مقام و مرتبہ کو سمجھ پاتے۔آپ تو ان کی عمر کی قسم  اٹھاتے ہیں۔لَعَمْـرُكَ ”تیری عمر،زندگی کی قسم“(حوالہ الحجر۔۳۷)۔اور ایک ہم ہیں کہ ان کی عمر کو خانوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ یارب!تو معاف فرما!تیرے اس احسان کی ہم قدر کرتے ہیں اور شکر گزار ہیں کہ تونے انہیں مبعوث فرمایا اور گواہی دیتے ہیں کہ ان کا ہر لمحہ قرءانِ مجید کے نزول سے قبل اور بعد میں بھی صرف تیرے لئے ہے اگرچہ تیری اور رسولِ کریمﷺ کی گواہی کے بعد کسی گواہی کی کوئی اہمیت نہیں۔آپ جناب کے بدرجہ اتم لطیف ہونے کا احساس  قرءان مجید میں  آقائے نامدار ﷺ کے متعلق پڑھ کر اور یہ جان کر ہوا کہ آپ نے اپنے کلام کو قول رسولِ کریم ﷺ قرار دیا ہے ۔کیا لطیف انداز ہے یہ بتانے کا کہ قرءان مجید کے نزول سے قبل  جیتے جاگتے  پیکرِقرءان کو  نبیّ امیّ  کے روپ میں لوگوں کے مابین  موجود رکھا تھا۔آقائے نامدار ﷺ پر درود و سلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔