سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔

 سُورَةُ الفَاتِحَة


تعارف اور انفرادیت

ا للہ تعالیٰ نے آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ کوجس انداز میں اپنے کلام کو ترتیب دے کر عطا فرمایا تھا، اس کے متعلق ارشادفرمایا:

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٟكَ سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى

  • اور یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ) کو پنہاں کو ظاہر کے روبرو کرتے/متناظرمجموعہ [Binary/Symmetrical-analogous] میں سے منتخب فرمائی ہو ئی سات صریحاًواضح آیات عنایت فرمائی/پہنچائی ہیں۔

وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيـمَ .15:87٨٧

  • (اورہم جناب نے آپ(ﷺ) کو قرء انِ عظیم عنایت فرمایا /پہنچایاہے۔ (سورۃ الحجر۔۸۷

آیت مبارکہ کا یہ جملہ ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے ایک مرکب جملہ/compound sentence ہے۔یعنی دو جملوں کا آمیزہ ہے۔ایسے جملے میں الفاظ میں کفایت/economy کے ساتھ ساتھ تحریر میں حسن پیدا ہو تا ہے،اور دو مختلف باتوں کے مابین یکساں پہلو اور کچھ نسبت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔اور معنی کے لحاظ سے یہ جملہ declarative sentence ہے جسے آپ اردو میں اعلانیہ،اطلاعی،معلوماتی جملہ کہیں گے۔ایسے جملے کا مقصد مخاطب اور قاری کو معلومات دینا ہوتا ہے،بحث مباحثہ اور نکتے کو منوانا مقصد نہیں ہوتا۔

اس جملے میں دو مختلف عنایات کا ذکر ہے۔ءَاتَيْنَٟكَ بناوٹ میں ایک لفظ دکھائی دیتا ہے مگر تین الفاظ پرمشتمل ہے، فعل ماضی،”نَا“ ضمیر متکلم جمع فاعل کی ہے،اللہ تعالیٰ شاہانہ انداز میں بیان فرما رہے ہیں اور ’کَ“ واحد مذکر مخاطب کی ضمیر اول مفعول بہ ہے، آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ جنہیں متذکرہ چیز پہنچائی گئی تھی۔ فعل ماضی، باب افعال سے ہے جس کے معنی کسی کو کوئی شئے پہنچانا،عنایت کرنا ہے اور جو چیز پہنچائی گئی تھی وہ فعل ماضی کا دوسرا مفعول بہ ہے، اور وہ ہے سَبعًا جس کے معنی کوئی سات مونث اشیاء ہیں جو آیت مبارکہ میں بظاہر لفظاً لکھی دکھائی نہیں دیتیں۔عربی زبان کا اصول ہے کہ اختصار اور حسن ِ   بیان کے لئے الفاظ کو حذف صرف اس صورت میں کیا جائے گا جب عربی تحریر کو سمجھنے والے قاری کے لئے واضح اشارہ موجود ہو اور وہ باآسانی اور روانی میں اس محذوف لفظ کو پہچان لے۔

اصولی طور پر ترجمہ کرتے ہوئے محذوف الفاظ کو ترجمے میں شامل کرنا ازحد ضروری ہے۔وگرنہ عربی زبان سے نابلد شخص کے لئے ترجمے میں سقم اور ابہام ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ آپ انگلش کے پہلے مشہور ترجمے سے لے کر جتنے اردو ترجمے موجود ہیں ان تمام میں آیت مبارکہ میں لفظ سَبعًا کے بعدمحذوف لفظ کا ترجمہ ”آیتیں“موجود پاتے ہیں۔دو مثالیں:

George Sale
We have already brought unto thee seven verses which are frequently to be repeated, and the glorious Koran
جناب طاہر القادری صاحب: ”اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرئی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۃ فاتحہ)اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے“

آیت مبارکہ میں لفظ کے محذوف ہونے کا اشارہ لفظ”سَبعًًا“ کی تنوین میں موجود ہے۔یہ تنوین اُس لفظ کے عوض ہے جو محذوف ہے۔اگر اس کے بعدکے لفظ کو حذف نہ کیا گیا ہوتا تو یہ لفظسَبعًًاکی بجائے سَبعَ ہوتا۔یہ لفظ  ہمیشہ مرکب اضافی کی صورت ہوتا ہے اور دوسرا جزو یعنی مضاف الیہ جمع مونث ہو گا۔ عدد اور معدود یعنی جس شئے کی تعداد بیان کی جا رہی ہے اکٹھے ہوتے ہیں:

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـىٰ تِسْعَ ءَايَٟتِۭ بَيِّنَٟتٛۖ

  • تاریخ سے آگاہ رہو؛ہم جناب نے موسیٰ(علیہ السلام)کو   نو عدد  آیات عنایت کی تھیں جو اپنے آپ میں  حقیقت کی جانب  رہنمائی کرنے والے بےنظیر مشاہدات پر مبنی تھیں  ۔(حوالہ الاسراء۔101)

’’سَبعَ‘‘کی طرح ’’تِسْعَ‘‘بھی مونث معدود کی تعداد نو ظاہر کرتا ہے۔چونکہ یہاں معدود،لفظاً موجود ہے اس لئے اس پر تنوین نہیں ہے۔’’سَبْعٙا‘‘کی تنوین نے ظاہر کیا  کہ یہ مرکب اضافی ’’سَبعَ ءَايَٟتِ‘‘ہے  یعنی سات آیات ہیں۔

آپ دو بیان کردہ تراجم میں ان سات آیتوں کا وصف بھی لکھا دیکھ رہے ہیں،frequently to be repeated،بار بار دہرائی جانے والی،مگر ان الفاظ کو بیان کرنے والے عربی کے الفاظ آیت مبارکہ میں موجود نہیں۔ اور نہ قرآنِ مجید میں کہیں بھی آیتوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات کا وصف جو بیان کیا گیا ہے وہ ’بَيِّنَٟتٛٛ‘‘ اور ’’مُّبَيِّنَٟتٛٛ‘‘ ہے یعنی صریحاً واضح اور ہر بات کو متمیزاور نمایاں کر دینے والی ہیں۔

وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ءَايَٟتِۭ بَيِّنَٟتٛۖ

  • اور ہم جناب نے آپ (ﷺ) کی جانب یقینامجتمع انداز میں  معنی و مفہوم میں واضح آیتیں نازل فرما دی ہیں۔(حوالہ البقرۃ۔۹۹)


وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُـمْ ءَايَٟتٛ مُّبَيِّنَٟتٛ

  • اور ہم جناب نے تم لوگوں کی جانب مجتمع انداز میں ہر بات کو نکھار کر واضح کر دینے والی آیتیں نازل فرما دی ہیں ۔(حوالہ النور۔۳۴)

آیت مبارکہ کے پہلے جملے میں محذوف لفظ ’’ءَايَٟتٛٛ‘‘ کا وصف بھی محذوف ہے جس کا اظہار مرکب،جار و مجرور’’مِّنَ ٱلْمَثَانِـى‘‘ سے ہوتا ہے جو آیات کے وصف کے متعلق ہے۔اس مرکب کے معنی ہیں ”المثانی /مجموعہ میں سے“۔جن دو تراجم کا ہم نے حوالہ دیا ہے ان میں اس مرکب،جار و مجرور (prepositional phrase)کا ترجمہ بیان نہیں ہوا۔

حرف’’مِّنَ‘‘ کے معنی کل میں سے بعض ہیں (اسے تبعیض کہتے ہیں)۔یہاں حرف”مِن“کے معنی ”کل میں سے بعض“ کے علاوہ نہیں ہو سکتے کیونکہ اِس سے قبل اسم عدد (سَبعًا)موجود ہے۔قرآن مجید آیات کا مجموعہ ہے۔ قرآنِ عظیم کیلئے صیغہ ہمیشہ مذکر اور سورتوں اور آیات کیلئے صیغہ مؤنث استعمال ہوتا ہے۔

’’ٱلْمَثَانِـى‘‘: (معرفہ جمع مکسر مجرور،مؤنث۔ واحد مَثُنَیٰ)کا مادہ”ث ۔ن۔ ی“ ہے جس میں سمویا بنیادی تصور کسی شئے (جیسے کپڑا، چادر)کو دہرا کرنا یا تہہ کرنا,یا کسی چیز (جیسے درخت کی شاخ)کو موڑ کر دہرا کرنا،کسی شئے کی ایک حد/کنارے کو موڑ کر اُس کے دوسرے کنارے سے باہمدگرملانا ہے۔یہ دہرے / folding کئے جانے کے مقام کی بھی نشاندہی [signifiy] کرتا ہے۔
جب ہم کسی شئے کو دہرا / fold کرتے ہیں تو اُس کے دونوں حصے ایک دوسرے کے روبرو/ confrontingہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا عکس بنتے اور ایک دوسرے کو منعکس / mirror کرتے ہیں۔
اِس میں کسی چیز کے حصوں کے تہہ بر تہہ / as layers یا ایک دوسرے کے ساتھ متصل انداز یعنی بصورت مجموعہ / bundle کے موجود ہونے کا تصور موجود ہے۔
استثناء کے معنی ہیں کسی کو مستثنیٰ کرنا(set aside as exluded, excerpted)، الگ نکال کر رکھ دینا، چھانٹ لینا۔ الاثنان۔دو،ایک کا دگنا۔

اِس طرح اِن تین الفاظ کے معنی کی روشنی میںسَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى کے معنی اور مفہوم یہ ہیں ”پنہاں کو ظاہر کے روبرو کرتے/متناظر مجموعہ میں سے منتخب فرمائی ہو ئی سات صریحاًواضح آیات“

سورۃ الفاتحۃ  پنہاں کو ظاہر کے روبرو کرتے/متناظر مجموعہ       ’’ ٱلْمَثَانِـى ‘‘میں سے منتخب فرمائی ہو ئی سات آیات پر مشتمل ہے۔
۔
سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کا ابتدائی حصہ، اول سورۃ ہے جس کا نام الفاتحۃ ہے اور ایک دوسرانام الحمد بھی ہے۔اِس میں سات(سَبعًا) آیتیں ہیں اور اِس کے بعد قرآنِ مجید کی ایک سو تیرہ سورتیں ہیں جن میں چھ ہزار دو سو انتیس آیات مبارکہ ہیں۔

۔سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔ اور قرآنِ عظیم مجموعی طور پر ایک سوچودہ سورتیں بن جاتی ہیں جوستاون کا دگنا ہے۔اور دونوں کی آیات کا مجموعہ چھ ہزار دوسو چھتیس بنتا ہے۔اگر سورتوں یاآیات مبارکہ کی گنتی کی تعداد طاق ہوتی تو لفظ   ٱلْمَثَانِـى میں پنہاں تصور مجروح ہوتا کیونکہ طاق تعداد کسی کا دہرا،دگنا نہیں ہوتی۔اور یہ بھی یاد رہے کہ جفت ہمیشہ طاق ہی سے بنایا جاتا ہے چاہے انسان ہو (نفس واحدہ،اور پھر اُس ایک نفس میں سے عورت کی تخلیق،زوج،جفت بنا دیا) یا اعداد کی گنتی۔

سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔ میں لفظ سَبعًا مؤنث اشیاء کی تعداد سات ہونے کا اظہار کرتا ہے۔اور یہ ماقبل متعدی فعل کادوسرا مفعول بہ ہے جس کی  وجہ سے  منصوب ہے اور تنوین مضاف الیہ کے محذوف ہونے کی نشاندہی کرتی ہے جو اسم عدد کے مؤنث اشیاء سے متعلق ہونے سے قاری اور سامع کیلئے بالکل واضح ہے۔ قرآنِ عظیم کیلئے صیغہ ہمیشہ مذکر اور اِس کی سورتوں اور آیات کیلئے صیغہ مؤنث استعمال ہوتا ہے۔
۔
مِّنَ ٱلْمَثَانِـى۔ جار و مجرور ماقبل مفعول بہ کی محذوف صفت سے متعلق ہے۔ حرفمِّنَ  کے معنی کل میں سے بعض ہیں (اسے تبعیض کہتے ہیں)۔یہاں حرف”مِن“کے معنی ”کل میں سے بعض (تبعیض) کے علاوہ نہیں ہو سکتے کیونکہ اِس سے قبل اسم عدد (سَبعًا)موجود ہے۔
اِس طرح اِن تین الفاظ کے معنی کی روشنی میں۔
سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى۔ کے معنی اور مفہوم یہ ہیں ”پنہاں کو ظاہر کے روبرو کرتے/متناظر [Binary/Symmetrical-analogous] مجموعہ میں سے منتخب فرمائی ہو ئی سات صریحاًواضح آیات“
سورۃ الفاتحۃ پنہاں کو ظاہر کے روبرو کرتے/متناظر [Binary/Symmetrical-analogous] مجموعہ میں سے منتخب فرمائی ہو ئی سات آیات پر مشتمل ہے۔

اور جملے کے دوسرے حصے میں قرآنِ عظیم کوعنایت کرنے اور پہنچانے کا الگ سے ذکر ہے۔اس طرح واضح ہے کہ یہ دو عنایات ایک دوسرے سے متمیز اور منفرد ہیں مگر باہمدگر،ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔قرآنِ مجید کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَقُرْءَ انٙا فَرَقْنَٟهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَـى ٱلنَّاسِ عَلَـىٰ مُكْثٛ

  • اور ہم جناب نے قرء ان کو الگ الگ حصوں (سورتوں /آیتوں) میں منقسم کیا ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ) توقف توقف سے تدوین وترتیل فرما کو لوگوں کو سنائیں۔

وَنَزَّلْنَٟهُ تَنْزِيلٙا .١٠٦

  • اورلوگ جان لیں کہ ہم نے اِسے بتدریج /وقفے وقفے سے(آیتوں /سورتوں میں) نازل کیاہے۔(الاسراء۔۱۰۶)

۔قرآنِ مجید سورتوں کی صورت میں الگ الگ کیا گیا ہے اور سورتیں آیات پر مشتمل ہیں۔ ارشاد فرمایا:

  • ایک سورۃ جسے ہم جناب نے مجتمع حالت میں نازل کیا ہے۔اور اِسے ہم نے معین و مقرر(ہمیشہ کیلئے) کر دیا ہے۔

وَأَنزَلْنَا فِيـهَآ ايَٟتِۭ  بَيِّنَٟتٛ

  • اور ہم جناب نے اِس سورۃمیں مجتمع انداز میں آیات نازل کی ہیں واضح اور متمیز کر دینے والی

لَّعَلَّـكُـمْ تَذَكَّرُونَ .24:01١

  • تاکہ تم لوگ ازخودیاداشت میں تسلسل سے محفوظ رکھ سکو/نصیحت لے سکو۔“ (النور۔۱)

قرء انِ مجید کی ”سپاروں“ اور سورتوں کی”رکوعوں“ میں تقسیم بعض لوگوں نے اپنے تئیں تلاوت کی سہولت اور حساب کیلئے کی تھی۔اللہ تعالیٰ کا قرء انِ مجید کے متعلق یہ معلوماتی جملہ ’’قُرْءَ انٙا فَرَقْنَٟهُ‘‘ صرف ایک بار بیان ہوا ہے:’’اور ہم جناب نے اِس قرء انِ مجید کوسر میں مانگ [الْفَرْقُ]کی مانندمنقسم کر دیا ہے‘‘۔اور فعل ماضی معلوم۔فَرَقْنَا۔ دو بارہے، ایک مرتبہ یہاں اور اِس سے قبل سورۃ البقرۃ کی آیت ۵۰ میں جہاں خلیج سویز کو، بڑی بڑی ہڈی نما ٹکڑوں کے سطح سمندر پر ابھارنے سے ایک سر کی مانگ کی مانند خشک راستے کے ذریعے،دو حصوں میں منقسم کر دیا تھا۔ اِس فعل کا مصدر ”فَرْقٌ“ ہے اورمادہ ”ف۔ ر۔ ق“۔ الْفَرْق سر کی مانگ کو کہتے ہیں جو دائیں اور بائیں جانب کے بالوں کو ایک دوسرے سے متمیز اور نمایاں کر دیتی ہے۔قرء انِ مجید کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ ٱلْفُرْقَانَ ہے(حوالہ البقرۃ۔۱۸۵)یہ بھی مصدر ہے جو فعل اور حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ایک ایسا پیمانہ، کسوٹی اور جانچ جو دواشیاء/باتوں /تصورات کو ایک دوسرے سے متمیز اور ممتار کر کے اِس انداز میں اجاگر اور نمایاں کر دے کہ  اُن میں سے کسی ایک کے متعلق بھی التباس کا امکان نہ رہے۔

سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى یعنی سورۃ الفاتحۃ اور قرآنِ عظیم کی ایک سو تیرہ سورتوں کی آیات میں واضح فرق یہ ہے کہ اِس سورۃ کے الفاظ وہ ہیں جو ا للہ تعالیٰ سے ایک انسان کہتا ہے اگرچہ اُس کے اپنے چنے اور مرتب کئے ہوئے یہ کلمات نہیں ہیں۔یہ ا للہ تعالیٰ کے مرتب کئے ہوئے ہیں مگر اِن سے قبل لفظ ”قُل“ (آپ،تو،تم کہہ،کہو) نہیں ہے جبکہ قرآنِ عظیم کی ایک سو تیرہ سورتوں میں رسول کریم ﷺ اور دوسرے لوگوں سے ا للہ تعالیٰ سے یا دوسرے انسانوں سے مخاطب ہو کرجب بھی کوئی بات کہنی یا بتائی جانی ہو تو اِس سے قبل لفظ ”قُل“ آیا ہے۔ جب کوئی بھی شخص کسی دوسرے سے مخاطب ہو کر کچھ کہتا ہے تو یہ قول کہلاتا ہے۔  رسولِ کریم ﷺ جب لوگوں سے مخاطب ہو کر کوئی بات فرماتے ہیں تو یہ قولِ رسول کریم ﷺ کہلائے گا۔لیکن لفظ ”قُل“واضح کر دیتا ہے کہ قولِ رسول کریم ﷺ میں جو بات (حدیث)کہی گئی ہے وہ بات (حدیث)آپ ﷺ کی اپنی نہیں ہے بلکہ حدیث ا للہ ہے۔قول سے قبل حدیث موجود ہوتی ہے کیونکہ قول میں حدیث بیان ہوتی ہے۔قرآنِ عظیم غیر مسلموں کو سنانے کیلئے اوراُس پر ایمان لانے والے مسلموں کے پڑھنے کیلئے  ۔سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔ ہے اوراُن کیلئے قرآنِ عظیم زمان و مکان کے لمحات میں ھادی،رہنما ہے کہ ہر لمحے اور ہرکسی قسم کے حالات اور مسائل میں عمل اور اتباع کیلئے اُس سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى  صرف اُن لوگوں کیلئے ہے جو ا للہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ اور قرآنِ عظیم پر ایمان رکھتے اور لے آتے ہیں یہ غیر مسلموں کیلئے نہیں ہے۔ا للہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم کی ایک سو تیرہ سورتوں کی چھ ہزاردو سو انتیس آیات  (ٱلْمَثَانِـى )کے مواد میں سے چھانٹ کر، الگ کر کے سات آیات پر مشتمل ایک سورۃ اِس انداز میں مرتب کر کے عطا کی ہے کہ اِن آیات کے الفاظ وہ ہیں جوصرف ا للہ تعالیٰ،رسول کریم ﷺ اور قرآنِ عظیم پر ایمان لانے والوں کیلئے ہیں۔
ا للہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اُنہوں نے ہمیں وہ کلمات بھی مرتب کر کے دئیے ہیں جن الفاظ میں اُن سے ہم نے مخاطب ہونا ہے۔ ا للہ تعالیٰ نے ہماری پہلی بھول پر بھی اظہار ندامت کیلئے کلمات ہمیں سکھائے تھے:

 

فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٟتٛ

  • احساس ندامت  سے مغلوب ہو جانے پرآدم(علیہ السلام) نے چند کلمات  کا توجہ سے مشاہدہ کر کے اظہار ندامت اورعرضِ مدعا کیلئے پڑھ کر ازبر کرلئے جنہیں ان کے رب کی جانب سے   تحریراً دکھایا گیا تھا۔

فَتَابَ عَلَيْهِۚ

  • طلب گار معافی ہونے پر اُن جناب نے اُن (آدم)کی معذرت کو قبول فرما لیا ۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِـيـمُ.2:37٣٧

  • [یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب اکثر و بیشتر توبہ قبول فرمانے والے ہیں، وہ منبع رحمت ہیں۔[البقرۃ۔۳۷

قرءان عظیم کے متن کے یکتا اورمنفرد ہونے کے متعلق  مزید واضح فرمایا:

ٱللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ

  • [ا للہ تعالیٰ نے اعلیٰ اور کامل ترین کلام (قرآنِ عظیم)کو سلسلہ وار،یکے بعد دیگرے نازل فرمایا ہے،[لوگوں تک پہنچایاہے

كِتَٟبٙا مُّتَشَٟبِـهٙا مَّثَانِـىَ

  • بحیثیت ایک کتاب،تشبیہات سے پنہاں کو عیاں کر دینے کی خصوصیت سے مزین،متناظر مجموعہ کی صورت میں۔

۔كِتَٟبٙا مُّتَشَٟبِـهٙا مَّثَانِـىَ۔کے معنی و مفہوم یوں واضح فرمائے:

تَقْشَعِـرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ

  •  اِس کلام کے بعض حصوں سے اُن لوگوں کی جلد کپکپانے اور لرزنے لگتی ہے جو اپنے رب سے سراسیمہ رہتے ہیں۔

ثُـمَّ تَلِيـنُ جُلُودُهُـمْ

  • بعد ازاں اُن لوگوں کی جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے۔

وَقُلُوبُـهُـمْ إِلَـىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِۚ

  • مزید برآں اُن لوگوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ”ذکر“(قرء ان مجید کے بیان)کی جانب خشوع و اخلاص سے متوجہ رہتے ہیں۔

ذَٟلِكَ هُدَى ٱللَّهِ

  • یہ(قرء ان عظیم)ا للہ تعالیٰ کا فرمان ہدایت ہے۔

يَـهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُۚ

  • وہ جناب اِس کے ذریعے ہر کسی طلبگار ہدایت کو ہدایت فرما دیتے ہیں۔(حوالہ الزمر۔23)

قرء انِ مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ مَّثَانِـىَ (جمع مکسر،منصوب،مؤنث۔ واحد مَثُنَیٰ)ہے جس سے ایک متناظر [Binary/Symmetrical-analogous] مجموعہ کا اظہار ہوتا ہے۔قرء انِ مجید کے اندر آیات(جمع،مؤنث) کا مجموعہ ہے۔قرء انِ مجید میں ہر ایک ایک بات کو نکھار کر عیاں فرمایا گیا ہے۔اِس  مَّثَانِـىَ  مجموعہ کے متعلق ارشاد فرمایا:۔

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ

  • وہ جناب ہیں جنہوں نے مجتمع انداز میں کتاب خاص (قرء ان مجید)کو آپ (ﷺ)پر نازل فرمایا ہے۔

مِنْهُ ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ

  • آئین حیات کے متعلق احکامات کو متعین کر دینے والی آیات اُس(قرء ان)کا ایک جزو ہیں۔(حوالہ  ءال عمران)

۔آیت مبارکہ۔هُوَ ٱلَّذِىٓ۔ سے شروع ہوئی ہے اور اِس سے قبل ا للہ تعالیٰ نے اپنی اِن صفات۔ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ۔ کا بتایا اِس طرح واضح ہے کہ کتاب کا مجتمع انداز میں نزول اللہ تعالیٰ  کی جانب سے ہےجو   دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ .39:01١

  • یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الزمر۔۱)

۔اور قرءان مجید کے متعلق بتایا:

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْحَكِيـمِ .31:02٢

  • یہ آیات اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)میں سے ہیں؛جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔(سورۃ لقمان۔2)


وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيـمِ .36:02٢

  • اور قسم ہے قرءان کی،جس کی خصوصیت ہے کہ پنہاں کو عیاں کرتابصیرت افروز ہے۔(یس۔۲)

۔ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔ اِس مرکب توصیفی میں موصوفءَايَٟتٚٚ  [جمع،مرفوع،مؤنث] جملے کا موضوع/مبتداء ہے جسے مؤخر کیا گیا اور اِس کی خبر کے متعلق۔مِنْهُ  جار و مجرور کو مقدم فرمایا گیا جس میں واحد مذکر غائب کی ضمیر کتابِ خاص یعنی قرء انِ مجید کیلئے ہے۔اور اِنَايَٟتٚ  ،جنہیں کتابِ خاص کے مجموعہ کا ایک جزو بتایا گیا ہے،کی صفت  مُّحْكَـمَٟتٌ[جمع، مرفوع، مؤنث] ہے۔یہ باب اِفْعَال سے مفعول [Passive Participle] کا صیغہ ہے جس کا مصدر اِحْکَامٌ ہے اور مادہ ”ح ۔ک۔ م“۔جناب ابن فارس نے کہا ہے کہ اِس مادہ کے بنیادی معنی بات سے روک دینا،منع کر دینا ہیں۔روکنے اور منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو بتا دیا جائے کہ اُس کی آخری حد کونسی ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔اور اسی بات کو اختلافی امور میں فیصلہ کرنے کو کہتے ہیں یعنی ہر کسی کے حقوق و فرائض اور واجبات کی حدیں متعین کر دینا اور کسی کو اُن سے آگے نہ بڑھنے دینا۔اسی کو حُکم کہتے ہیں۔ حاکم کے معنی فیصلہ کرنے والاہیں اور ظاہر ہے کہ فیصلے وہی کر سکتا ہے جوٱلْعَزِيزُ یعنی قوت و غلبہ رکھنے والا ہو۔
۔
ٱلْحَكِيـمُ۔ کا مادہ بھی ”ح۔ک۔ م“ہے اور یہ اُن کیلئے بولا جاتا ہے جو ہر شئے کا صحیح مقام متعین کرے،کسی کو اُن حدود سے آگے نہ بڑھنے دے، وہ جوتمام امور میں صحیح فیصلے کرتا ہے۔ جو۔ٱلْحَكِيـمُ۔ ہے وہ اپنی ہر بات،امر،ارادے،حکم،اور فیصلے کے متعلق اُس کے ظاہر، عیاں کو بھی اور اسے بھی جو اُس میں پنہاں،مخفی ہے جانتا ہے۔ا للہ تعالیٰ حکیم ہے کہ کائنات کو اپنے متعین کردہ صحیح راستے پر چلاتا ہے اور ہر شئے کو صحیح اندازے اور تناسب کے مطابق بغیر کسی تفاوت کے پیدا فرماتا ہے اور اپنے طے کردہ اصولوں، قانون، مقدر /پیمانوں کے شکنجے میں کس کر کائنات کی ہر شئے کو مسخر کئے ہوئے ہے اور انسانوں کے اختلافی امور میں فیصلے کرتا ہے۔
۔ اِن آیات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری خبر یہ عطا فرمائی ہے:

هُنَّ أُمُّ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • وہ (آیات محکمات)کتاب کی اساس۔بنیادی مقصد ہے(قاری کی حیات کو اس کا پابند بنانے کے لئے)۔

یہ بھی جملہ اسمیہ ہے جس میں ۔هُنَّ ۔ ضمیر منفصل مبنی علی الفتح فی محل رفع،جمع مؤنث غائب مبتداء ہے اور خبر مرکب اضافی کا پہلا اسم ہے جس کی حیثیت معرفہ ہے کیونکہ مضاف الیہ  ٱلْـكِـتَٟبِ معرفہ ہے۔ ”کتاب خاص کی مادر خاص“۔
کسی چیز کو ایک مقام پر روک دیا جائے تو جم کر کھڑی ہو جانے کے سبب سے وہ مستحکم،محکم کہلاتی ہے۔اور یوں ۔
ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔ کے معنی اور مفہوم ایسی مفعول آیات ہیں جنہیں اپنی جگہ پر قائم اور اٹل کر دیا گیا ہے، جن میں بات کی حدود کو متعین کرنے،صاف اور دو ٹوک فیصلہ کرنے والی باتوں،احکامات اور اصولوں کو بیان کر دیا گیا ہے جو ۔ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ۔ قوت و غلبہ رکھنے والے اور پنہاں کو مکمل طور پر جاننے والے نے صادر فرمائے ہیں جن کی حیثیت ام الکتاب یعنی کتاب کی اصل کی ہے۔قرآنِ مجید کو ٱلْحَكِيـمُ قرار دینے سے ۔ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔ کے معنی اور مفہوم نکھر کر واضح ہو جاتے ہیں کہ اِن کی باتوں کے معنی و مفہوم، وسعتیں، حدیں متعین،مستحکم ہیں اور تفاوت،تضاد،ٹکراؤسے آزاد اور مبرا ہیں۔اِس بات کو پھیر کر سورۃ ھود کی ابتدا میں یوں بتایا :

الٓرۚ

  • عربی زبان کے حروف الف،لام بمع آواز کی طوالت کانشان اور منسلک حرف ر

كِتَٟبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٟتُهُۥ

  •   ۔یہ کتاب جو آپ کے زیر مطالعہ ہے اس کا وصف یہ ہے کہ اس  میں درج انفرادی بیانات(آیات) مستحکم،ناقابل تردید،پائدار فرمان کی حیثیت کی حامل بنا دی گئی ہیں۔

ثُـمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيـمٛ خَبِيـرٛ .11:01١

  • ۔بعد ازاں وقفے وقفے سے ان آیات کی ترسیل کے انہیں ان جناب کے حکم سے جدا جدا موضوعات کے فریم/فصل میں  اس کتاب میں مدون   کر دیا گیا ہے جو مطلق فرمانروا ہیں اور مطلق باخبر ہیں۔

۔حیات و موت اورکائنات کی تخلیق کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ ا نسانوں میں سے أَحْسَنُ عَمَلًا عمدہ عمل کون کرتا ہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ  
أَحْسَنُ عَمَلًا
 کا پیمانہ،معیاراور کسوٹی کیا ہے؟کون طے کرے گا کہ فلاں ا نسان  أَحْسَنُ عَمَلًاکی صفات کا حامل ہے اور کون اُس کی ضد ہے؟  أَحْسَنُ عَمَلًا کی اقدار کون طے کر ے گا؟یہ سوال اتنا پیچیدہ نہیں کہ ا نسانی عقل و فہم اِس کا جواب نہ دے سکے۔ أَحْسَنُ عَمَلًا کے پیمانے ، معیار، اقدار، کسوٹی اور حدود کا تعین کرنے کا مجاز وہی ہو سکتا ہے جو تخلیق کرے۔اور جوخالق تخلیق کا مقصد یہ بتائے کہ مخلوق  أَحْسَنُ عَمَلًا پر کاربند ہو تو یہ اسی کے ذمہ ہو جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کرے اور حکم دے کہ اُس کے نزدیک  أَحْسَنُ عَمَلًا میں کون سے اعمال شامل ہیں اور اُن اعمال سے خبردار کرے جو اُس کے نزدیک  أَحْسَنُ عَمَلًا سے خارج ہیں یا اُن کی ضد ہیں۔اور ا نسان کاہرعمل اُس کے جسم کے تین مراکز،سینہ،شکم،زیر ناف، میں سے کسی کی خواہشات اور بھوک کو مٹانے اور تسکین کے جذبے کے زیر اثر ہوتا ہے۔ا نسان کو اپنے جسم کے اِن تین مراکز کی بھوک اور خواہشات کی تسکین کیلئے معاشرتی زندگی کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔اِس لئے أَحْسَنُ عَمَلًا  کا تعلق اُن اقدار سے ہو گا جو معاشرے میں ا نسان کی بھوک کے اِن تین مراکز کی خواہشات کی تکمیل کیلئے ۔ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔ میں متعین فرما دی گئی ہیں۔
ہم قرء انِ مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت (جمع مکسر،منصوب،مؤنث۔ واحد مَثُنَیٰ)کے متعلق مطالعہ کر رہے ہیں جس سے ایک متناظر 
[Binary/Symmetrical-analogous]  مجموعہ کا اظہار ہوتا ہے ۔  اِس / مجموعہ،جس کا واحد مَثُنَی یعنی دودو ہے،اُس کے دوسرے جزو کے متعلق ارشاد فرمایا :

وَأُخَرُ مُتَشَٟبِـهَٟتٚۖ

  • اور اُن (آیات محکمات)کے علاوہ ایسی آیات اِس کتابِ خاص کے مجموعہ کا جزو ہیں جو تشبیہات کے ذریعے پنہاں کے متعلق بیان کردہ معلومات و علم کو عیاں کر دینے کا فعل سرانجام دیتی رہیں گی۔

۔ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔کی طرح۔أُخَرُ مُتَشَٟبِـهَٟتٚ۔بھی مرکب توصیفی ہے لیکن پہلی والی آیات سے بالکل مختلف کہ  صفت ۔مُتَشَٟبِـهَٟت۔   ہے  جوباب تفاعل کا اسم فاعل کا صیغہ ہے،یعنی ایسی آیات جو اشیاء اور تصورات کے مابین باہمی تعلق اور پنہاں حقیقتوں کوتشبیہات [Metaphors]کے ذریعے سامع اور قاری کے تصور [Perception] میں اجاگر کرنے کا فعل انجام دیتی رہیں گی۔ تشبیہ کے معنی کسی چیز کو اُس سے ملتی جلتی لیکن پنہاں چیز سے بیان اور واضح کرناہیں۔ مثال ظاہری مماثلت اور محسوس حوالے سے ہوتی ہے لیکن تشبیہ ایسی مماثلت کی نشاندہی کرتی ہے جو پنہاں، مخفی ہوتی ہے۔تشبیہ محکم کی ضد    نہیں ہے۔     قرآنِ مجید کی۔ مُتَشَٟبِـهَٟت ۔ آیات اس کی ۔ءَايَٟتٚ مُّحْكَـمَٟتٌ۔ کی ضد نہیں بلکہ ان کے علاوہ ہیں۔

۔ مُتَشَٟبِـهَٟت ۔کے معنی،غیر محکم، غیر واضح وغیرہ بھی نہیں ہیں۔ کسی بات کو کسی کیلئے مثال کے ذریعے واضح کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس سے قبل بات غیر واضح (vague) تھی۔ سوجھ بوجھ، فکر، عقل،  علم کے حوالے سے لوگوں کی ذہنی سطح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ تشبیہ دینے کا مقصود کسی کو اشتباہ اور التباس میں مبتلا کرنا نہیں  بلکہ علمی، فکری، مادی یا زمان و مکان سے ماوراء کسی شئے کے بارے میں پنہاں حقیقتوں، علم کی لطافتوں،نزاکتوں اور باریکیوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ جن کی سوچ کے زاویے درست ہوتے ہیں وہ کم علمی کی بناء پر اِن تشبیہات سے حقیقت کی تہہ تک چاہے نہ پہنچ سکیں لیکن کسی التباس کا شکار بھی نہیں ہوتے۔جن کے دلوں میں میل(ٹیڑھا پن) ہوتا ہے اور جو درحقیقت حکم کی اطاعت کرنا نہیں چاہتے انہیں گائے کی عمر اور رنگ بتائے جانے کے بعد بھی شبہ ہوتا ہے کہ کون سی گائے کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔

سوا ل یہ ہے کہ کیا کسی بھی شخص کے ایمان اور یقین میں اضافہ کا سبب محض یہ بات بن سکتی ہے کہ اُسے فلاں عمل کرنے کا حکم دیا جائے اور فلاں عمل سے منع کر دیا جائے یا اعمال کے متعلق احکامات دینے کی وجہ سے اہل ایمان کے بدن میں خوف کی لہر دوڑنے اور جلد کے کپکپانے اور لرزنے،رونگٹے کھڑے ہونے کا کیا کوئی جوازبنتا ہے؟بدن میں خوف کی لہر اُس وقت دوڑتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں جب پنہاں ظاہر ہو کر نظروں کے سامنے یا ادراک میں آ جائے۔ یہ مثبت خوف ہے جس کا نتیجہ خیر ہے جس کے بعد ازاں جلد اور دل نرم ہو جاتے ہیں۔ اگرپنہاں عیاں ہونے پر ا للہ کے خوف سے دل میں لرزہ طاری نہ ہو تو قلوب سخت ہو جاتے ہیں۔
جب تشبیہ اور اُس کی اصل۔ تاویل
۔ تعبیر،نتیجہ آمنے سامنے آ جائیں تو پنہاں ظاہر ہو کر احاطہ ادراک میں آ جاتا ہے۔حقیقت مشہود ہونے پر دلوں پر لرزہ طاری ہوتا ہے۔اور حقیقت عیاں ہونے پر طاری ہونے والا یہ خوف ایمان اور یقین کو پختہ اور غیر متزلزل کر دیتا ہے، دل نرم ہو جاتے ہیں۔ ساحروں نے فرعون کے دربار میں حقیقت کو عیاں ہوتے دیکھا توسجدہ ریز ہو گئے۔ آیات متشابہات نے اہل علم کیلئے پنہاں حقیقتوں کو زمان و مکان پر محیط تشبیہات سے سمجھاتے رہنا ہے یہاں تک کہ جب وہ پنہاں حقیقتیں عیاں ہوکر اُن کی بصارتوں کے احاطہ میں آئیں گی توانہیں وہ حقیقت اُس تشبیہ کے مطابق ہی دکھائی دے گی۔

سَنُرِيـهِـمْ ءَايَٟتِنَا فِـى ٱلْءَافَاقِ وَفِـىٓ أَنفُسِهِـمْ

  • ہم جناب انہیں (قرآنِ مجید کا انکار کرنے والے) آج کے بعد سے آفاق کے گوشے گوشے اور خود اُن کے جسموں میں پنہاں مادی حقیقتوں (آیات ) کاگاہے بگاہے  مشاہدہ کراتے رہیں گے۔

حَتَّىٰ يَتَبَيَّـنَ لَـهُـمْ أَنَّهُ ٱلْحَقُّۗ

  • انہیں مشاہدہ کرانے کا مقصد یہ ہے کہ اُن کے لئےازخود واضح ہو جائے کہ یہ(قرآنِ مجید)بیانِ حقیقت ہے۔(حوالہ فصلت۔ ۵۳

۔قرآنِ مجید کی آیات میں آفاق اور نفس ا نسان کے متعلق بیان کیا گیا علم بتدریج انسان کے مشاہدے میں آئے گا کہ علم ہمیشہ ظاہر سے پنہاں کی جانب سفر کرتا ہے اور پنہاں جب نظروں میں آ جائے تو پھر اِس پنہاں کو مشاہدے میں آنے سے قبل ازیں بتانے والے کے بیان کے متعلق انسان کو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بیانِ حقیقت ہے۔

۔سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔یعنی۔سُورَةُ الفَاتِحَة۔واحد سورۃ ہے جس کی ابتداء میں ایمان والوں کیلئے آیت ہے:

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .١

  • (آقائے نامدار رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا]ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے جومنبع رحمت ہیں۔(۱]

۔قرء انِ مجید کے طبع شدہ/تحریری نسخوں میں ہر سورۃ سوائے سورۃ التوبہ کے آغاز میں بغیر نمبر کے اِس آیت مبارکہ کو مسلم عوام الناس کی سہولت کیلئے اِس وجہ سے شامل کیا جاتا ہے کہ اِس حکم کی تعمیل ہو کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھنے کی ابتداء اِن الفاظ سے کرنی ہے۔ اِس آیت مبارکہ کو بغیر نمبر کے لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ عظیم کی ایک سو تیرہ سورتوں کی ابتداء میں یہ آیت مبارکہ اصل تحریر [Text] کا حصہ نہیں ہے کیونکہ قرآنِ عظیم ہر ایک انسان کیلئے نازل فرمایا گیا ہے جن میں وہ بھی شامل ہیں جو زمان و مکان کے کسی مقام پر ا للہ تعالیٰ کو ماننے ہی سے انکاری ہیں۔

۔سَبْعٙا مِّنَ ٱلْمَثَانِـى ۔صرف اُن لوگوں کیلئے ہے جو ا للہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ اور قرآنِ عظیم پر ایمان رکھتے اور لے آتے ہیں یہ غیر مسلموں کیلئے نہیں ہے۔ا للہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم کی ایک سو تیرہ سورتوں کی چھ ہزاردو سو انتیس آیات کے مواد میں سے چھانٹ کر، الگ کر کے سات آیات پر مشتمل ایک سورۃ اِس انداز میں مرتب کر کے عطا کی ہے کہ اِن آیات کے الفاظ وہ ہیں جوصرف ا للہ تعالیٰ،رسول کریم ﷺ اور قرآنِ عظیم پر ایمان لانے والوں کیلئے ہیں۔اس سورۃ کے بعد متکلم اللہ تعالیٰ، الرّحمٰن ذو الجلال و الاکرام ہیں اس لئے ابتدا  بِسۡمِ ٱللَّهِ سے نہیں ہے۔