قرءانِ مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۱ ۔۔۔۔ سُورَةُ الفَاتِحَةِ   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


ترجمہ آیت۔۲ .تا .۴

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .٢

  •  اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا ہے [احمد ﷺ نے]۔
    (وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں/؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ۔(۲

 اردو:آیت مبارکہ کے الفاظ کی صرف و نحو و معنوی تحلیل(ویڈیو)۔۔(قرءان مجید میں اسم/Nounکو پہچاننے کا آسان طریقہ۔ویڈیو)۔۔۔

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ.٣

  • (ہروجودپذیر کے رب الرّحمن عز و جل ہیں جومنبع رحمت ہیں۔

مَـٟلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ .٤

  • (وہ  ( الرّحمن عز و جل )جزا و سزا دئیے جانے کے دن کے مقتدر و منصف ہیں۔(۴

Roots: م ل ك; ى و م ; د ى ن


تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت

ان تین آیات میں  نو( ۹) الفاظ پر مشتمل،ترکیب (structure) کے لحاظ سے ایک سادہ جملہ (simple sentence) ہے۔سادہ جملے میں ایک موضوع (subject/topic) اور ایک خبر (predicate) ہوتی ہے ۔ مرکبات کے اضافے سے جملے کی نوعیت نہیں بدلتی۔الفاظ اور مرکبات کے معنی، اس سادہ جملے کو معنوی لحاظ سے بیانیہ/معلوماتی (declarative) ظاہر کرتے ہیں۔ایسے جملے کا مقصد مخاطب اور قاری کو معلومات دینا ہوتا ہے،بحث مباحثہ اور نکتے کو منوانا مقصد نہیں ہوتا۔

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ :یہ ایک اسم اورایک مرکب(جار و مجرور۔ prepositional phrase) پر مشتمل جملہ اسمیہ ہے۔عربی زبان میں جملے کی تقسیم اُس کی ابتدا کے لحاظ سے بھی ہے، اگر ابتدا میں اسم ہے تو جملہ اسمیہ (nominal sentence)اور اگر ابتدا میں فعل ہے تو جملہ فعلیہ (verbal sentence)کہلاتا ہے۔ قرء انِ مجید میں یہ جملہ تیئس [23]بار موجود ہے۔

ٱلْحَمْدُ ۔اسم،معرفہ باللام،واحد،مذکر، مرفوع بالضمۃ  یعنی آخر میں پیش۔یہ مبتداء ہے یعنی جس موضوع پر گفتگو کی جانے لگی ہے، جس کے متعلق کوئی خبر [predication] بتائی جانی ہے۔جو اسم جملے میں مبتدا کا کردار ادا کرتا ہے ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔یہ معرفہ باللام ہے جو استغراق جنس کے معنوں میں ہے،یعنی منسلک اسم میں پنہاں معنی کی تمام تر وسعتوں اور اس کے تمام زمان و مکان پر محیط ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

۔ لِلَّهِ۔ یہ مرکب جار و مجرورہے۔”لِ“ حرف جر ہے۔استحقاق اور اختصاص کااظہار کرتا ہے یعنی کسی شئے اوربات کااخلاص اور تکمیل سے کسی سے مخصوص اور منسوب ہونا۔اور لفظ الجلالۃ اللہ کے آخر میں حرف جر کی وجہ سے زیر ہے یعنی اسم مجرور ہے،اور اللہ تعالیٰ کے اسم پر اعراب کی حالت کیلئے ہم کہتے ہیں للتعظیم : تعظیم کیلئے۔
یہ جار و مجرور،جسے ماہرین گرائمر”جملہ نما“بھی کہتے ہیں یعنی بظاہر جملہ لگتا ہے مگر درحقیقت جملہ / sentence نہیں، جملہ اسمیہ کی خبر کے متعلق ہے جو محذوف ہے کیونکہ حرف جر سے واضح اور متعین ہے۔ اور اگرجملہ اسمیہ میں خبر،بجائے واحد لفظ کے، مرکب یا جملہ ہے تو گرائمر کے ماہرین کہتے ہیں ”فی محل رفع“ یعنی وہ حالت رفع میں ہے کیونکہ خبر،مبتداء کی مانند، جب ایک لفظ پر مشتمل ہو تو وہ مرفوع ہوتا ہے۔

ٱلْحَمْدُ  کا مادہ ”ح م د“ ہے۔اِس میں سمویا بنیادی تصور ایک ہستی [شئے،مادہ نہیں ] کی عظمت و برتری، قدرت،قوت و غلبہ، باکمال خصوصیات کا بے ساختہ ادراک واحساس ہے، ایسا دل پسند احساس کہ اُس کا اعتراف زبان سے بے ساختہ ادا ہو جائے۔یہ کسی شئے کا نام نہیں بلکہ ایک احساس اور اعتراف کا اظہار ہے۔
یہ قلب و ذہن میں خود اپنی چاہت سے ابھرنے والے اُس احساس کے اظہار کا نام ہے جس کا سبب جبر اور مجبوری نہیں۔یہ کسی کی بزرگ و برتری،اعلیٰ و ارفع مقام و حیثیت کا ادراک اوراپنے کم تر ہونے کے اعتراف کا اظہار ہے۔یہ صرف احساس اور اُس احساس کو بیان کرنے کے متعلق ہے۔اِس لئے
ٱلْحَمْدُ۔ کے  وجود پذیر ہونے کیلئے دو ہستیوں کا موجود ہونا بنیادی اور لازمی امر ہے۔عظمت و برتری، قدرت، قوت و غلبہ، خالق، باکمال خصوصیات کی حامل اول ہستی، اور دوسری تخلیق کردہ وہ ہستی جو اپنے آپ سے موجوداول ہستی کے متعلق اپنے احساس کو بیان کرے۔

ٱلْحَمْدُ۔ کے اول مرتبہ ظہور کیلئے  لازم ہے کہ ایک دوسری ہستی موجود ہو جن کی حیثیت و کردار۔ أَحْـمَدُ۔ ہو [اسم مفعول،اسم ذات]یعنی ایک ایسی ہستی جو حمد بیان کرے۔یہ عام فہم بات ہے کہ۔أَحْـمَدُ ۔ کا احساس اوراُن کا اُس احساس کوانتہائی عقیدت و احترام اور محبت و اخلاص سے بیان کرنا۔ ٱلْحَمْدُ۔ کو حقیقت کا روپ اور ظہوردینا ہے کیونکہ ہمارا ادراک اور سوچا سمجھا فیصلہ یہ ہے کہ کسی ہستی کا خود اپنی تعریف کرنا ہم انسان اچھا اور مناسب نہیں سمجھتے اور خود ستائی جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

 لِلَّهِ:قابل احترام ماہرین گرائمر ہمیں بتاتے ہیں کہ جب جملہ اسمیہ کی خبر کے مقام پر جملہ نما مرکب جار و مجرور ہو تو اُس سے قبل ایک فعل /اسم محذوف ہوتا ہے جو سیاق و سباق اور جملے میں استعمال ہوئے الفاظ سے سامع اور قاری کیلئے غیر مبہم انداز میں واضح ہوتا ہے ۔
ٱلْحَمْدُ میں ایک ایسی ہستی کا تصور موجود ہے جو اپنے سے بلند و برتر،عظمت و جلال کی حامل ہستی کامعترف ہوتا ہے، اور حرف جر ہمیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے  ٱلْحَمْدُ کو اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کیلئے اول و آخر ہمیشہ کیلئے خلوص و محبت سے مختص ومنسوب فرما دیا ہے۔اِس حقیقت کو تخلیق کی ابتداء سے وجود لینے والے تمام موجودات کیلئے طے اور واضح کر دیا گیا ہے۔

رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ : مرکب اضافی۔ رَبِّ۔اسم معرفہ اضافت کی وجہ سے کیونکہ مضاف الیہ معرفہ ہے۔
کلام کی فصاحت و بلاغت اور نفاستوں کا احساس کرنے، اور معنی اور مفہوم کو تمام جہتوں سے احاطہ ادراک میں لینے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارا ذہن ہر ایک لفظ کی حیثیت اور اصلیت کا اپنے آپ بیک وقت تعین کرے۔ قرء انِ مجید میں عربی کا کلام شاید واحد کلام ہے جس کے الفاظ کی حیثیت اور اصلیت کاتعین محض دیکھنے،اور چند اصولوں کو ازبر کر لینے سے کیا جا سکتاہے۔
یہ لفظ واحد، مذکر، مجرورہے۔یہ مجرور اِس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق مزید معلومات دینے کیلئے ”بدل“ہے۔
”بدل“ اپنے سے ماقبل اسم کے متعلق اضافی اطلاع دیتا ہے اور اِس کی نظری پہچان یہ ہے کہ جنس/gender، تعداد اور اعرابی حالت میں اُس اسم کے مطابق ہوتا ہے جس کیلئے یہ بدل ہے۔ایسے ’’بدل‘‘ کو’’
بَدَلُ الإِشْتِمَالِ‘‘کہتے ہیں جو مذکورہ ہستی کی پہچان ہے۔ اِس کا مادہ ”ر ب ب“ ہے۔یہ دو کے مابین ایک آقا اور بندے/غلام ؛مالک اور مملوک؛ خالق اور مخلوق ؛مقتدر اور مسجودجیسے تعلق اور رشتے کا اظہار کرتا ہے جس میں رب اپنے بندے پر تمام نوازشات اورہر طرح سے اُس کا خیال رکھنے کے ساتھ اُس کا احتساب کرنے اور اسے جزا اور سزا دینے پر غالب و مقتدر ہے۔

ٱلْعَٟلَمِيـنَ :مضاف الیہ ہے اور اگرچہ بظاہر زبر کے ساتھ منصوب ہے مگر جملے میں مجرور ہے کیونکہ مضاف الیہ حقیقی ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔چونکہ یہ عالَم کاجمع سالم ہے اِس لئے مجرور اور منصوب حالت میں ہمیشہ زبر کے ساتھ ہوتا ہے۔اور مرفوع حالت میں جمع سالم،واحد کے ساتھ ”و نَ“ کے اضافہ سے بناتے ہیں۔ جمع سالم بنانے کا یہ انداز خصوصی طور پر مذکر اسم فاعل کیلئے اختیار کیا جاتا ہے لیکن۔ٱلْعَٟلَمِيـنَ  ۔ ایک مخصوص ندرت کا حامل لفظ ہے جس کا مادہ ”ع ل م“ ہے۔ علم ہمیشہ وجود اور موجود کا ہوتا ہے۔اِس لئے یہ لفظ اجتماعی طور پر تمام موجودات یعنی تخلیق کردہ سب کچھ کو احاطہ میں لیتا ہے۔تخلیقات میں جو کچھ موجود ہے، موجودومعلوم تخلیق کردہ دنیاؤں /ہر ایک وجود پذیرکارب/خالق،آقا،پروردگار،محتسب اللہ تعالیٰ ہیں۔

سبحان ا للہ۔کس قدر دانائی کی بات ہماری زبان سے ادا ہوئی۔ہم نے نہ صرف  اللہ تعالیٰ  کو  رب اللعالمین کے طور پہچاننے (recognizing) کا اعلان کیا بلکہ ہم نے مخلوق ہونے کا اقرار بھی کیا۔وگرنہ دنیا میں اُن کی بھی کمی نہیں جو اپنا تخلیق کیا جانا ہی تسلیم نہیں کرتے۔


نَـحْنُ خَلَقْنَٟكُـمْ 

  • یہ ہم ہیں،ہم جناب نے تم لوگوں کو تخلیق کیا ہے۔

فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ .٥٧

  • توپھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر عیاں حقیقت کی تم لوگ برملا تصدیق نہیں کرتے!

أَفَرَءَيْتُـم مَّا تُـمْنُونَ .٥٨

  • تو کیا تم لوگوں نے اسے دیکھا ہے جسے تم دلدادگی سے نکالتے رہتے ہو؟


ءَأَنتُـمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ

  • کیا تم لوگ ہو جو اسے(مذکر/منی)باقاعدگی سے تخلیق کرتے رہتے ہو؟

أَم نَـحْنُ ٱلْخَٟلِقُونَ .٥٩

  • یا ہم جناب اس کے ہمیشہ خالق ہیں؟(غور کر کے جواب دو)(الواقعۃ۔۵۹)

ہم نے عالمین کے رب ا للہ تعالیٰ کی حمد کر کے دانائی کا ثبوت دیا کہ تخلیق کردہ کو یہی زیبا ہے کہ اپنے خالق،رب کی حمد کرے۔ خالق اور تخلیق کے مابین تعلق کا تقدس یہ ہے کہ خالق اُس کیلئے الرحیم بنے اور تخلیق کردہ اپنے خالق کا ”احمد“یعنی حمد کرنے والابنے۔اور جو اپنے خالق کا ’احمد‘نہیں اور ”احمد“کی اتباع کرنے والا نہیں وہ شرالبریہ،بدترین  انداز میں حریت کو استعمال  کرنے والا کہلانے ہی کا مستحق ہے۔

اور جو ”احمد“ہے انہیں خالق ”خلق عظیم“یعنی اپنی سب سے عظیم تخلیق قرار دیتے ہیں(حوالہ القلم۔۴)۔تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ا للہ تعالیٰ سب سے بڑے قدردان ہیں کہ ”احمد“کو۔مَقَامٙا مَّحْمُودٙا ۔پر تشریف فرما/براجمان/فائزفرماتے ہیں (حوالہ الاسراء۔۷۹)۔اور تمام تخلیقات/موجودات کیلئے رحمت کا مجسم حالت میں  اظہار کر دینے کے بعدانہیں واپس اُن کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں۔ یہ گمان پیدا نہ ہو کہ میں نے ترجمہ غلط کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ (مفعولا)پور اہو کر رہتا ہے ۔  اور جس وعدے نے پورا ہو کر رہنا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے پورا ہو چکا۔آقائے نامدار ﷺ پر درودوسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔

مجھے یقین ہے کہ یہ نکتہ واضح ہو گیا ہے کہ عربی لفظ ”حمد“ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس، الرحمٰن ذالجلال والاکرام کیلئے منفرد اورمختص قرار دے دیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے احمد،اور ہمارے رہنما،آقائے نامدار،رسول کریم ﷺکے مقام قیام کو ۔ مَّحْمُودٙا  [حَمْدٌسے اسم مفعول کا صیغہ،واحد،مذکر] قرار دے کر طشت ازبام کر دیا ہے کہ اُن کے بعد اُن کے ارادے اور فیصلے کے مطابق حمد کا استحقاق صرف اور صرف اس  شخصیت کیلئے ہے۔اور یہ نکتہ آپ ﷺ کے اسم گرامی سے بھی اپنے آپ عیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ، اور مخلوقات میں آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور ہستی کیلئے لفظ ”حمد“ استعمال نہیں ہو گا۔اُن کیلئے مدح،اور اردو کے لفظ تعریف / to appreciate /اظہار محبت و احترام وعقیدت کئے جائیں گے۔

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ۔قرءان مجید یہ جملہ چھ بار ہے۔[ Recurrence: (1)1:02(2)6:45(3)10:10(4)37:182(5)39:75(6)40:65=6]

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ۔اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔

 ا للہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے قرءانِ عظیم میں بتائے مخلص لوگوں کے انداز میں ہم نے دانائی کی بات کی۔

فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ۚ

  • چونکہ حالات کے ردوبدل اور مہلت دئیے جانے کے باوجود  وہ اپنی روش پر ڈھٹائی سے قائم رہے اس لئے مہلت کا وقت ختم ہونے پر  ان لوگوں کے سلسلہ نسب کو  صفحہ ہستی سے مٹا کرمنقطع کر دیا  گیا جنہوں نے  حقیقت کے متضاد                   روش  اور طرز عمل         کو اپنا کر خود پر ظلم کیا تھا۔

Root: ق ط ع

وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .٤٥

  • اور اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیاگیا ہے ۔(الانعام۔۴۵)


دَعْوَىٰـهُـمْ فِيـهَا سُبْحَٟنَكَ ٱللَّهُـمَّ وَتَحِيَّتُـهُـمْ فِيـهَا سَلَٟمٚۚ

  • ان کاان میں رہتے ہوئے طرز عمل  اس دعا سے ہو گا"آپ جناب عظیم ہیں!تمام عظمت وکبریائی اور جدوجہد کا محورآپ جناب ہیں، اے اللہ  تعالیٰ‘‘۔اور ان میں رہتے ہوئے باہمی ملاقاتوں پرایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور خیر سگالی کا اظہار کریں گے۔

وَءَاخِرُ دَعْوَىٰـهُـمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .١٠

  • اور آخر میں جدا ہوتے وقت ان کے الفاظ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیاگیا ہے ۔(سورۃ یونسؐ۔۱۰)


سُبْحَٟنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ .١٨٠

  • آپ (ﷺ) کے رب حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں؛مطق غلبہ و قوت والے مطلق رب،ان تمام باتوں سے منزہ اور مطلق عالی مرتبت ہیں جو وہ لوگ ان سے منسوب کرتے رہتے ہیں۔

Root: و ص ف

وَسَلَٟمٌ عَلَـىٰ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .١٨١

  • اور ادب و احترام سے اللہ تعالیٰ کے  ماضی میں بھیجے گئے تمام رسولوں پر سلام کہنا لوگوں پر واجب ہے۔

وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .١٨٢

  • اوراللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ۔(الصافات۔۱۸۲)


وَتَرَى ٱلْمَلَٟٓئِكَـةَ حَآفِّيـنَ مِنْ حَوْلِ ٱلْعَـرْشِ

  • ۔اور آپ(ﷺ) ملائکہ کودیکھیں گے کہ تخت حکمرانی کے ارد گرد حلقے میں مصروف کار ہیں۔

Root: ع ر ش; ء ل ك

يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّـهِـمْۖ

  • وہ  ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہمہ وقت ستائش کرتے برسرپیکار رہتے ہیں  اپنے رب کی عظمت و برتری اور شرف و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے۔

وَقُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْحَقِّ

  • اور لوگوں کے مابین مبنی بر حقیقت فیصلہ فرما دیا گیا۔

وَقِيلَ

  • اوراعلان ہوا:

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .٧٥

  • ’’اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ‘‘۔(الزمر۔۷۵)


هُوَ ٱلْحَـىُّ

  • وہ جناب (رب العالمین)کامل حیات ہیں۔

لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔

فَـٱدْعُوهُ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَۗ

  • چونکہ ان  حقائق سے کوئی صاحب عقل  بے بہرا نہیں اس لئے   تم لوگ  ان  جناب  کو پکارو  اُن کے  متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے ۔

Root: خ ل ص

ٱلْحَـمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .٦٥

  •  (اور اقرار کرو)اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا ہے [احمد ﷺ نے]۔(غافر۔۶۵)


ہم وہ حقیقت بیان کر رہے ہیں جس کا تعلق اُس  جہاں سے ہے جسے ہم آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی نگاہوں  اور اُن کے ذریعے حاصل کردہ بصیرت سے نگاہ قلب سے دیکھ سکتے ہیں۔یہ بیان ابتدائے آفرینش ہی میں ازل سے ابد تک کے لئے طے کر دیا گیا تھا:

وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ

  • سب کچھ جاننے والے آپ(ﷺ)کے رب اللہ تعالیٰ ہیں۔ان کےمتعلق یہ  بدیہی حقیقت  ہے—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔

لَهُ ٱلْحَمْدُ فِـى ٱلۡأُولَـىٰ وَٱلۡءَاخِـرَةِۖ

  • عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے ابتدائے آفرینش کے جہاں میں ان جناب کے  لئے مختص اور استحقاق قرار دے دیا گیا تھا اور ایسا ہی جہان آخرت میں ہے ۔

وَلَهُ ٱلْحُكْـمُ

  • اور فرمان جاری کرنے اور حاکمیت اعلیٰ کا استحقاق ان جناب کے لئے مطلق ہے۔

وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ .٧٠

  • متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔(القصص۔۷۰)


اور عالمین کے رب کون ہیں؟

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ.٣

  • (ہروجودپذیر کے رب الرّحمن عز و جل ہیں جومنبع رحمت ہیں۔

اس مقام پر۔ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔اپنے سے قبل۔رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ کا بدل ہے۔اللہ تعالی کا بدل  رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَاور رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَکا بدل  ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔اس سے بھی واضح ہوا کہ دونوں ایک ہستی کے   نام ہیں جن کی  پہچان   ہے رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ۔

اِس مرکب توصیفی کے متعلق ہم قبل ازیں آیت۔۱میں مطالعہ کر چکے ہیں۔
سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا یہ دہرانا/
Repetition ہے؟ قطعی نہیں۔دہرانا اُس کو کہتے ہیں جب ایک ہی بات کی بلامقصد تکرار کی جائے جو کلام/تحریر کے حسن کے منافی سمجھا جاتا ہے۔لیکن جب کوئی جملہ تحریر میں دوسری مرتبہ اِس مقصد سے استعمال ہو کہ اُس کے ذریعے اضافی معلومات اور قبل ازیں بیان کردہ کو ایک دوسری سمت/جہت سے قاری کو دکھایا اور سمجھایا جائے تو اے دہرانا نہیں کہتے۔یہ بیان میں خوبصورتی اور لطافت کے ساتھ قاری کیلئے قبل ازیں بیان کردہ کے متعلق التباس کی گنجائش نہیں رہنے دیتا۔ قرء انِ مجید کا ایک منفرد انداز تصریف آیات ہے۔ایک تصور اور حقیقت کے متعلق معلومات کو آہستگی سے گھما گھما کر بیان کر دینے سے قاری کیلئے ممکن ہو جاتا ہے کہ  اسے تمام جہتوں /زاویوں سے دیکھ لے؛  پرکھ لے جس پر تذبذب اور تشنگی کا کوئی پہلواُس کیلئے باقی نہیں رہتا۔

ہم جہان آفرینش میں ہیں۔الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام نے  اگر تخلیق کی ابتداء  الرَّحیم بن کرنہ کی ہوتی تو کیا تمام کائنات اور جن و انس کی تخلیق محض ایک کھیل سے زیادہ اہمیت کی حامل قرار پا سکتی تھی؟تمام کی تمام قوت و غلبہ کے سامنے ہر شئے اور ہستی کی حیثیت مجبورِ محض کی ہوتی کیونکہ جبر کے زیر اثر ہوتی اور ہماری تخلیق ہمارے ساتھ ایک مذاق سے زیادہ کچھ کہلا سکتی تھی؟

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا لَـٰعِبِيـنَ .١٦

  • متنبہ رہو؛ہم جناب نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے تفریح طبع  اور دل لگی کرنے والوں کے انداز میں تخلیق نہیں فرمایا۔(الانبیاء۔۱۶)

Root: ل ع ب

لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَـهْوٙا لَّٱتَّخَذْنَـٰـهُ مِن لَّدُنَّـآ إِن كُنَّا فَٟعِلِيـنَ .١٧

  • اگر ہم جناب کا ارادہ کھیل تماشے کا شوق پورا کرنا ہوتا تو ہم جناب  اسے اپنے علاقے میں اپنا لیتے اگر ہم ایسا کرنے والے ہوتے۔(الانبیاء۔۱۷)

Root: ل ھ و; ل د ن


وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْـنَـهُـمَا لَـٰعِبِيـنَ .٣٨

  • اور ہم  جناب  نے  آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود  ہے   تخلیق نہیں کیا ان کی طرح جو ایساتفریح،وقت گزاری اور کھیل کھیل میں کرتے ہیں۔(الدخان۔۳۸)

اگر کائنات کو ایک کھیل اور مشغلے کے طور پر بنانا ہوتا تو ا للہ تعالیٰ کویہ کرنے کی ضرورت نہ تھی:

كَتَبَ عَلَـىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْـمَةَۚ

  • انہوں نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے آپ پر لازم کر لیاتھا۔(حوالہ الانعام-۱۲)

ساحل سمندر پر بچے ریت کے گھروندے بناتے ہیں۔وہ بھی تخلیق ہے لیکن کھیل کھیلنے والوں کی۔کائنات کی تخلیق کے متعلق بتایا:

خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّۚ

  • ۔اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ .٤٤

  • یقینا  عینی مشاہدہ میں   ہر وقت موجود ایسی شہادت     اس  منظم تخلیق کائنات میں ظاہر ہے  جو خاص کر ایمان لانے والوں کے لئے فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی اشارہ کرنے والی ہے۔(العنکبوت۔۴۴)

آسمانوں اورزمین کی تخلیق کو۔ بِٱلْحَقِّ۔ قرار دیا گیا ہے۔اور ا س حقیقت کو پھیر کر یوں بتایا:

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّۗ

  • اور ہم  جناب  نے  آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود کو سوائے متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق  نہیں کیا ہے۔

وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَءَاتِيَةٚۖ

  • یہ حقیقت ہے کہ دنیاوی حیات کی مدت کی اختتامی ساعت پہنچ رہی ہے۔(حوالہ الحجر۔۸۵)

Root: س و ع


مَا خَلَقْنَٟهُـمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ

  • ہم جناب نے انہیں  سوائے متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق  نہیں کیا ہے۔

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ .٣٩

  • مگر ان کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔(الدخان۔۳۹)

بِٱلْحَقِّ۔تخلیق کے معنی اورمفہوم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کو ایک سوچے سمجھے ارادے،منصوبے اور عظیم مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا بَٟطِلٙاۚ

  • متنبہ رہو؛ ہم جناب نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے یونہی بلا مقصد اور قصد تخلیق نہیں فرمایا ہے۔

ذَٟلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ۚ

  • یہ بلا قصد موجود ہونے کا گمان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے ہی کا انکار کیا ہے۔

فَوَيْلٚ لِّلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ .٢٧

  • چونکہ عقل و فہم کے لئے   بدیہی حقیقت  سے انکار  محض جاذبیت دنیا سے ہے اس لئےانجام کارخود  اپنی مذمت و ملال ان  لوگوں کا  روزمرہ کا معمول ہو  گا جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور یوم قیامت کا انکار کیا ہے جب جہنم کی تپش سے جھلں  رہے ہوں گے۔(سورۃ صٓ۔۲۷)

Root: و ى ل

انسان کو بھی بتایا گیا:

أَفَحَسِبْتُـمْ أَنَّمَا خَلَقْنَٟكُـمْ عَبَثٙا

  • کیا اس دن کے متعلق لاپرواہی اس وجہ سے تھی کہ تم لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ہم جناب نے تم لوگوں کو یونہی بے مقصد تخلیق کیا تھا۔

وَأَنَّكُـمْ إِلَيْنَا لَا تُـرْجَعُونَ .١١٥

  • اور یہ کہ تم لوگوں کو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا‘‘۔(المومنون۔۱۱۵)


أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٟنُ أَن يُتْـرَكَ سُدٙى .٣٦

  • کیا بعض انسان یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ اسے ترک کر دیا جائے گا،آزاد منش حال میں؟(القیامۃ۔۳۶)

بے مقصد اور کھیل کھیلتے ہوئے کسی شئے کو بنانے میں ارادے اور خواہش کا عنصر غالب نہیں ہوتا۔بامقصد تخلیق خواہش اور ارادے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

بَدِيعُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  •  وہ جناب آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود دینے والے ہیں۔

وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرٙا

  • اور جب وہ جناب کسی بھی امر/معاملے کو نبٹا دینے کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُنْ

  •  تو وہ جناب اُس(امر) کے لئے صرف اتنا کہہ دیتے ہیں ”تومادی دنیا میں وجود پذیر ہو جا“

فَيَكُونُ .١١٧

  • تکمیل حکم میں وہ (امر؛شئے،ذی حیات،وقوعہ) مادی دنیا کے لئے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔(البقرۃ۔۱۱۷)


إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَـٰهُ

  • :یہ صرف  ہم جناب کے      کسی بھی مادِّیات  کے لئے جاری کردہ  فرمان  کا خاصہ ہے کہ جب  ہم نے اس  کو ظہور پذیر کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے

أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن

  •  تو  ہم جناب کااُس  شئے  کے لئے یہ کہنا کافی ہوتا ہے ”تومادی دنیا میں وجود پذیر ہو جا“

فَيَكُونُ .٤٠

  • تکمیل حکم میں وہ (امر؛شئے،ذی حیات،وقوعہ) مادی دنیا کے لئے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔(النحل۔۴۰)


إِنَّمَآ أَمْـرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـٔٙا

  • یہ صرف ان جناب کے حکم کا خاصہ ہے کہ جب انہوں نے کسی بھی مادِّیات کو ظہور پذیر کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے

أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن

  •  تو ان جناب  کااُس  شئے  کے لئے یہ کہنا کافی ہوتا ہے ”تومادی دنیا میں وجود پذیر ہو جا“

فَيَكُونُ .٨٢

  • تکمیل حکم میں وہ (امر؛شئے،ذی حیات،وقوعہ) مادی دنیا کے لئے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔(یسٓ۔۸۲)

کائنات کی تخلیق کا انتہائی مقصدانسان کی تخلیق تھا۔اور انسان کی تخلیق کا مقصد؟

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَق ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اوروہی جناب  ہیں جنہوں نے  سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔

وَكَانَ عَـرْشُهُۥ عَلَـى ٱلْمَآءِ

  • ۔۔اور ان جناب کا عرش/یکتا تخت اقتدارپانی کے ذخیرہ سے اوپر کے مقام پر ہے۔۔

Root: ع ر ش

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلٙاۗ

  • اس تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ، بہترحسن عمل کے حوالے سے۔(حوالہ سورۃ  ھودؐ۔۷)


إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَـى ٱلۡأَرْضِ زِينَةٙ لَّـهَا

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اسے جو زمین کے اوپر موجود ہے اس کے لئے باعث کشش و آرائش بنایا ہے۔

لِنَبْلُوَهُـمْ أَيُّـهُـم أَحْسَنُ عَمَلٙا .٧

  • اس  کا مقصد یہ ہے کہ ہم  جناب ان لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ ان  میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔(الکہف۔۷)


ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَـيَوٰةَ

  • اس ذات کو صرف دوام و ثبات ہے جنہوں نے مادے اور حیات کو تخلیق فرمایا ہے۔

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلٙاۚ

  • اس تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے بہترحسن عمل کے حوالے سے۔

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ .٢

  • اور وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غالب ہیں،وہ اکثر و بیشتر درگزر کرنے،پردہ پوشی اور معاف فرمانے والے ہیں۔(الملک۔۲)

انسان کیلئے وسیع تر معنی اور مفہوم میں أَحْسَنُ عَمَلًا کیا ہے؟اس کا مفہوم وہی ہو سکتا ہے جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہو۔فرمایا:

وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ .٥٦

  • ا ور میں نے جن و انس کو صرف اِس لئے تخلیق کیا ہے کہ وہ بطیب خاطرمیری بندگی/محکومی کریں۔(الذاریات۔۵۶)

اللہ تعالیٰ کے کلام کے ابتدائی دس الفاظ میں دو بار مرکب توصیفی۔ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ۔نے   انسان کیلئے کائنات کی تخلیق کے اصول کو واضح کر دیا کہ یہ طاقت اور جبر کا کھیل نہیں۔انسان جانتا ہے کہ طاقت اور جبر کے کھیل میں رحمت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔طاقت اور جبر کا اصول جب پیش نظر ہو تو اس میں رحمت کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔کائنات کی تخلیق انسان کیلئے ہے اور انسان کی تخلیق اِس خواہش کا نتیجہ ہے کہ رضاو رغبت اور محبت سے اپنے خالق،رب کی بندگی کرے  ۔طاقت اور غلبے کے بل بوطے پر طاقتور کا اپنے آپ کو آقا اور مالک منوانا تو اتنی بڑی بات نہیں۔طاقت نے اگر اپنے آپ کو محبت اور شوق سے منوانا ہے تو طاقت کو اپنے آپ پر رحمت کو واجب کرنا ضروری ہے۔ا للہ،الرحمٰن کا الرحیم ہونا بعض لوگوں کے اختراع کردہ فلسفہ جبروقدر کی نفی بھی ہبے۔

ا للہ تعالیٰ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا:

هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡءَاخِرُ

  • وہ جناب موجودگی کے حوالے سے اول ہیں اور آخر بھی وہ جناب ہی ہیں۔

وَٱلظَّٟهِرُ وَٱلْبَاطِنُۖ

  • وہ جناب بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں؛اپنے موجود ہونے کا اظہار کرنے والے ہیں؛ اوراپنے آپ کو بصارتوں سے پوشیدہ رکھنے والے ہیں۔

وَهُوَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٌ .٣

  • اور وہ جناب ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔(الحدید۔۳)

ذات،ہستی کا ایک ظاہر ہے۔جس ہستی اور شئے کا ظاہر نہیں وہ موجود نہیں۔اور جوموجود نہیں اسے (وَجَد) پایا نہیں جا سکتا۔اور اس اول  ازخود سےموجودنے ہر شئے کو وجود اور شناخت دیا:

هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَٟلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ

  • وہ جناب (الرَّحمٰن)اللہ تعالیٰ ہیں۔وہ عدم سے مادِّیات کو تخلیق کرنے والے ہیں۔عناصرکو الگ کرنے اور تحفظ دینے والے ہیں؛ وہ جناب ہر شئے کو انوکھی صورت اور چہرہ عنایت کرنے والے ہیں۔

لَهُ ٱلۡأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰۚ

  • بدرجہ اتم خصوصیات،توازن و حسن،کبریائی کو بیان کرتے اسماء صرف اور صرف ان (الرحمٰن ذالجلال والاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہیں۔

يُسَبِّـحُ لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ

  • یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے  ان جناب کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے برسرپیکار ہیں۔

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ .٢٤

  • مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الحشر۔۲۴)

ا للہ یکتا ہیں کہ کوئی دوسرا عدم سے شئے کو تخلیق نہیں کر سکتا۔اور یہ تمام تخلیق کس کیلئے ہے؟

أَ لَمْ تَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • کیا تم  لوگوں نے اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اورجو کچھ زمین میں موجود ہے اسے ان جناب نے تمہارے لئے  قابل دسترس حالت میں کیا ہے۔

Root: س خ ر

وَأَسْبَغَ عَلَيْكُـمْ نِعَمَهُۥ ظَٟهِرَةٙ وَبَاطِنَةٙۗ

  • اور ان جناب نے اپنی لاتعداد نعمتوں کو تم لوگوں پر نچھاور فرمایا ہے؛ہر کسی کے لئے عیاں ہیں اورپنہاں،تاثیری حوالے سے بھی ہیں۔

Root: س ب غ

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَـٟدِلُ فِـى ٱللَّهِ بِغَيْـرِ عِلْمٛ

  • مگر اس کے باوجود  ایک  ایسا بدگمان اور بدزبان شخص لوگوں میں موجود ہوتا ہے  جو اللہ تعالیٰ کے متعلق   معلومات اور ٹھوس علم کے علاوہ ہرزہ سرائی پر مشتمل  باتوں کے پیچ و خم سے الجھتا رہتا ہے۔

وَلَا هُدٙى وَلَا كِتَٟبٛ مُّنِيـرٛ .٢٠

  • اور مزید وہ ایسا اس حال میں کرتا ہے کہ نہ اسے کسی سے رہنمائی حاصل ہے اور نہ بصیرت افروز کتاب پر اسے دسترس ہے۔(لقمان۔۲۰)

ہستی اورکائنات کی ہر شئے کا ”الظاہر“ہے اور ”الباطن“ ہے۔اگرشئے کا ”الظاہر“نہیں تو ”الباطن“بھی عدم ہے۔ پھل کی شکل، رنگ، خوشبو اورذائقہ نعمتِ ظاہرہ اور فرحت و قوت،تاثیر اس میں نعمت ِباطن (پنہاں)ہے جو بعد ازاں ظاہر ہوتی ہے۔اور یہ سب کچھ جس کیلئے تخلیق کیا اُسے اِس کی حقیقت کاادراک دینے کیلئے سماعتوں،بصارتوں اور قلب و ذہن کی صلاحیتوں سے مزین کر کے اس دنیا میں داخل کیا۔ انسان دنیا میں اپنی آمد پرکسی شئے کا علم نہیں رکھتا لیکن ا للہ تعالیٰ نے سماعتوں اور بصارتوں کے ذریعے ملنے والی خبر،اطلاع اور علم پر سوچنے سمجھنے،غوروفکر کیلئے دل و دماغ عطا فرما ئے کہ خبراوراطلاع پر سوچ بچار،غور و خوض اورتفکر کے بعد نتائج، اصول، قانون،نصیحت حاصل کر کے یقین کی حالت میں پہنچنے کی صلاحیت انسان کو کائنات کے تمام مادے اور حیات سے ممیز اورممتاز کر دیتی ہے۔

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُـم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٟتِكُـمْ

  • اور اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو تمہاری ماؤں کے بطن سے خارج کیا تھا۔

لَا تَعْلَمُونَ شَيْــٔٙا

  • اس حال میں کہ تم لوگ کسی شئے کے متعلق معلومات اور علم نہیں رکھتے تھے۔

وَجَعَلَ لَـكُـمُ ٱلْسَّمْعَ وَٱلۡأَبْصَٟرَ وَٱلۡأَفْـِٔدَةَۚ

  • اور انہوں نے  تمہارےایک جزو کو تمہارے لئے سماعت کی لیاقت بنا دیا،اوربصارتوں کا ذریعہ،اور (قلیل تعداد میں)معلومات کو منظم/پکانے والے دماغ۔

Root: ف ء د

لَعَلَّـكُـمْ تَشْكُـرُونَ .٧٨

  • مقصد یہ تھا کہ علم حاصل ہو جانے پرتم لوگ اظہار تشکر کرو۔(النحل۔۷۸)

 انسان۔لَا تَعْلَمُونَ شَيْــٔٙا ۔کے مقام سے ابھرتے اور اشیاء کے اسماء کا علم حاصل کرتے ہوئے۔ تَعْلَمُونَ”جانتے، علم رکھتے ہیں“کے مقام پر پہنچتا ہے۔علم ظاہر سے باطن تک پہنچنے کا نام ہے۔پھر اپنے خالق کا علم انسان کیسے حاصل کرے؟

لَّا تُدْرِكُهُ ٱلۡأَبْصَٟرُ

  • بصارتیں ان جناب کومتصور نہیں کر سکتیں۔

Root: د ر ك

وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلۡأَبْصَٟرَۖ

  • اور وہ جناب بصارتوں کا ان کی پہنچ تک پیچھا کرتے ہیں۔

وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيـرُ .١٠٣

  • وہ جناب تمام تر نفاست،،لطافت اور باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہر لمحہ ہر شئے سے باخبر ہیں۔(الانعام۔۱۰۳)

Root: ل ط ف

ظاہر سے باطن،پنہاں کا علم اشیاء کے مابین تعلق،رشتے  (relationship) کو دیکھنے اور جاننے سے ہوتا ہے۔ ا نسان کا علم ظاہر سے باطن کی جانب سفر کرتا ہے لیکن علم باطن سے ابتدا نہیں کرسکتاکہ وہ علم نہیں تخیل ہو گا۔یہ انسان کی بظاہرکمزوری اور محدودیت ہے لیکن حقیقت میں اس کے مخلوق ہونے کا یہ ثبوت ہے اور اس کا شرف بھی۔خالق،ا للہ رب العزت نے اپنے پنہاں (باطن) کو ظاہر کر دیا کیونکہ اُن کا ظاہر انسان کی بصارتوں کیلئے ظاہر نہیں بلکہ پنہاں ہے۔مخلوق کا وجود ظاہر  اور اس کی حقیقت، باطن نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے اس لئے کسی بھی ظاہر مخلوق اور شئے (کائنات)کے باطن کو جاننے میں تشنگی کا عنصر ہمیشہ غالب رہے گا کہ مجاز سے حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

 لیکن جس موجود کا باطن،پنہاں ظاہر ہو اس کے متعلق جاننے اور علم میں تشنگی کا عنصر قطعی طور پر موجود نہیں ہوتا۔وہ ظاہر سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے پھر بھی مجاز نہیں ہوتاکیونکہ بصارت اس  حقیقت کو پا نہیں سکتی اور اگر     حقیقت مجاز میں آئے تو عام انسان کو سوائے التباس کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ انسان کا یقین پنہاں کو جاننے کا محتاج ہے۔جس انسان کو حقیقت شئے،پنہاں پر یقین نہیں وہ شئے کے وجود کو کیونکر مان سکتا ہے؟ حقیقتِ شئے اس شئے کے مقصد کو ظاہر کر دیتی ہے۔اور مقصد ِشئے اس شئے کے خالق کے ارادے کو ظاہر کر دیتاہے۔ جنہیں اپنے اردگرد کی تمام تخلیق بامقصد دکھائی دے انہیں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ طاقت اور قوت کے اوپر رحمت ہی رحمت چھائی ہوئی ہے ۔اس لئے وہی لوگ اپنے رب، الرَّحمٰن کو بن دیکھے مانتے اور ان سے ڈرتے ہیں کیونکہ اتنا فہم تو ہر کسی کا ہے کہ قوت و غلبے کے باوجود جو الرحیم ہے وہ آخر ایک دن ضرور پوچھے گا کہ سیانے جانتے ہیں کہ بامقصد تخلیق ایک متعین انجام کیلئے ہوتی ہے۔اس لئے دانا و بینا لوگ اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

مَـٟلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ .٤

  • (وہ  ( الرّحمن عز و جل )جزا و سزا دئیے جانے کے دن کے مقتدر و منصف ہیں۔(۴

Roots: م ل ك; ى و م ;  

یہ کہہ کر حقیقت کو بیان کرنے کا شرف ہم نے حاصل کیا۔ حقیقت کو بیان کرنا دانائی اور حکمت کا اظہار اور کائنات میں مہک بکھیرنے کے مترادف ہے۔

یہ تین الفاظ دو مرکب اضافی ہیں۔قرء انِ مجید میں یہ صرف ایک مرتبہ ہیں۔اور ان میں جس بات کا ذکر ہے وہ بھی صرف ایک مرتبہ واقعہ ہونا ہے۔

۔مَٟلِكِ۔ اسم فاعل کا صیغہ ہے، معرفہ بسبب اضافت، واحد،مذکر، مجرور۔یہ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .کا ’’بَدَلُ الإِشْتِمَالِ‘‘ہے اور مضاف ہے۔اس بدل میں اُس خصوصیت، فعالیت اور منصب(حیثیت موجودہ اور ضابطۂ اخلاق کے اعتبار سے حق، حیثیت، رتبہ، درجہ)کو جومذکورہ ہستی کا اشتمال ہے بیان کیا جاتا ہے۔الرّحمٰن  الرحیم کو ہم نے ان کی دوسری پہچان(recognition)۔سے بیان کیا ہے۔

۔يَوْمِ۔مضاف الیہ ہے اور پھر مضاف ہے،معرفہ بسبب اضافت، واحد، مذکر،مجرور۔اورمعنی ہیں ”خاص/متعین/کہنے اور سننے والے دونوں کے تصور میں جانا پہچانا  دن“۔

ٱلدِّينِ۔مضاف الیہ،معرفہ باللام۔ یہ فعل ”دَانَ، يَدِینُ“ کا مصدر ہے۔اِس کا مادہ ”د ى ن“ ہے۔اِس میں سمویا تصور اور معنی غلبہ،اقتدار، حکومت، آئین،قانون،نظم و نسق،نظام، معاشرت، اطاعت و فرمانبرداری،روش، ضابطہ حیات،جزا و سزا ہیں۔ ہمیں بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ۔ ٱلدِّينِ۔ کے معنی ایک سے زیادہ ہیں لیکن اِن تمام الفاظ پراپنے معاشرے اور ریاست کے حوالے سے بھی معمولی غور کرلیں تو حقیقت ہم پرواضح ہو جائے گی کہ یہ تمام آپس میں منسلک ہیں اوراُن کے درمیان ایک ایساتعلق اور نسبت ہے جو لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر ایک لفظ میں انہیں سمیٹنا ہو تویوں کہیں گے ”نظامِ حیات و کائنات“۔اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ نظامِ حیات و کائنات کو طے اورمرتب کرنے کا اختیار، قوت اور غلبہ اُن کے ہاتھ ہو گا جنہوں نے حیات و کائنات کو تخلیق فرمایا ہے۔ کائنات کی تخلیق ایک ایسی حقیقت ہے جس کے متعلق مشرکین بھی کہتے ہیں کہ بلاشبہ یہ قوت و غلبہ کے مالک اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے:

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٟمُۗ

  • یہ حقیقت ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی جانب سے حیات و کائنات کیلئے وضع اورمقررکردہ  دستور اورنظام صرف اسلام ہے۔(حوالہ ءالِ عمران۔۱۹)

ٱلْإِسْلَٟمُ۔یہ بھی باب افعال سے مصدر ہے مگر اِس کے فعل متعدی نہیں بلکہ لازم ہے۔مصدر، زمان کے حوالے/صیغے کے بغیر فعل و عمل،حالت، میکنزم، نظم، نظام کا اظہار کرتا ہے۔اور اِس کا مادہ ”س ل م“ ہے جس میں سمویا بنیادی تصور کسی شئے اور ہستی کا اپنے آپ کوکسی دوسرے کے پسند، متعین کردہ طریقہ کار، نظام  کا پابند و مکلف بنا لینا ہے، چاہے ایسا چاہت و رغبت کے احساس و جذبہ سے ہو یا ماحول اورموجودات کے منفی تعلق واثرات کے جبر کے زیر اثر اُس متعین کردہ نظام کا حصہ بننا پڑے۔یہ دو طرح کے انداز اِس مصدر کے غیر متعدی ہونے سے بھی عیاں ہیں۔

أَفَغَيْـرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبْغُونَ

  • مگر کیا وہ لوگ ا للہ تعالیٰ کے وضع کردہ نظام کے علاوہ کسی دوسرے طریقہ کار کے متلاشی رہتے ہیں؟

وَلَهُۥٓ أَسْلَمَ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ طَوْعٙا وَكَرْهٙا

  • باوجود اِس روشن حقیقت کی موجودگی/حال میں کہ جو کوئی ذی حیات آسمانوں اور زمین میں موجود ہے درحقیقت اُس نے اپنے آپ کواُن /اللہ تعالیٰ کیلئے پابند و مکلف/ فرمانبردار/خود سپردگی میں دیا ہے،چاہے چاہت و رغبت و کشش کے زیر اثر اورچاہے نظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر۔

Root: ك ر ه

وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ .٨٣

  • اوران جناب کی جانب احتساب کیلئے انہیں پیش کیاجائے گا۔(ءالِ عمران۔۸۳)

اللہ تعالیٰ کا ذی حیات کیلئے۔دِينِ ٱللَّهِ۔ وضع کردہ نظام صرف اور صرف اسلام ہے۔یعنی اختیار،ارادہ،قوت فعل و عمل،حیات کے تمام پہلو اور جہتوں کو مربوط انداز میں زیرنگیں اور سپردگی میں دے دینا؛ عطا کردہ حریت کو رضا و رغبت سے بتائے گئے نظام کی حدود و قیود میں مقید و محدود کر دینا،عربی زبان کے مصدر اسلام میں سموئے تصور کامتحرک اور عملی مظاہرہ ہے۔اور اِس نظام کو رضا و رغبت سے تسلیم کرنے اور اُس پرحیات کو متحرک رکھنے کا انتہائی مظاہرہ اُس نظام کو مرتب اور پسند کرنے والے کے حضورذی حیات کاسر بسجود ہوجانا ہے جو عطا کردہ حریت کو عطا کرنے والے کے حضور ٹیک /سرنڈر [complete surrender]کر دینے کا تمام کیلئے مشہود اظہار ہے۔ہستی کیلئے اور اُس کے سامنے سرنگوں ہونا ہوتا ہے۔ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہوا جاتا ہے۔سجدہ ذات کو ہے صفات کو نہیں۔

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ طَوْعٙا وَكَرْهٙا

  • مطلع رہو؛      جو کوئی ذی حیات آسمانوں اور زمین میں موجود ہے،وہ چاہے چاہت و رغبت و کشش کے زیر اثر اورچاہے نظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا رہتا ہے۔

Root: س ج د;  ك ر ه

وَظِلٟلُـهُـم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ۩ .١٥

  • تاہم اُن کے سائے سجدہ ریز ہوتے ہیں علی الصبح اور دن کے آخری پہرکے اوقات میں۔(بحثیت فعل سجدہ کے فاعل سایہ اپنے آپ میں ایک حقیقت ہے)(الرعد۔۱۵)۔(آیت سجدہ ہے،سجدہ کریں)

Root: ظ ل ل; غ د و


وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ مِن دَآبَّةٛ

  • اوریہ جان لو کہ جانوروں میں سےجو کوئی آسمانوں اور زمین میں حیات ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔

Root:   د ب ب

وَٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ وَهُـمْ لَا يَسْتَكْبِـرُونَ .٤٩

  • اور ملائکہ سجدہ کرتے ہیں، اور وہ کبھی قابل تعظیم اور اعلیٰ و ارفع تسلیم کئے جانے کے خواہش مند نہیں ہوتے۔

يَخَافُونَ رَبَّـهُـم مِّن فَوْقِهِـمْ

  • وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ اپنے رب کا خوف ہر وقت محسوس کرتے ہیں،اور سہمے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے اوپر سے عذاب نہ آن پڑے۔

وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۩ .٥٠

  • اور وہ تمام اس فعل کو انجام دیتے ہیں جس کو انجام دینے کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔(النحل۔50۔آیت سجدہ ہے)


أَ لَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسْجُدُ لَهُۥ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • کیا آپ (ﷺ)نے  یہ نہیں دیکھا کہ  اللہ تعالیٰ ہیں  جن  کے لئےجو کوئی آسمانوں میں ذی حیات موجود ہے اور جو کوئی زمین میں ذ ی حیات موجود ہے دل کی شاد سے سربسجود ہوتا ہے اورنظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر سرنگوں ہو گا۔

وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ

  • اور سورج اور چاند اور ستارے ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَٱلْجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ

  • اور تمام پہاڑ اور تمام درخت اور تمام جانور ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَكَثِيـرٚ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ

  • اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر تعداد ان جناب کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

وَكَثِيـرٌ حَقَّ عَلَيْهِ ٱلْعَذَابُۗ

  • اور جبکہ ان (انسانوں)کی کثیر تعداد پر منفرد عذاب مستوجب ہو گیا ہے۔(حوالہ الحج۔۱۸)

يَسْجُدُ“واحد مذکر غائب مضارع مرفوع۔مادہ ”س ج د“جس کے بنیادی معنی پست ہونا،جھک جانا ہیں (ابن فارس)۔ پست ہونے اور جھک جانے سے شئے پیمانوں /ایک متعین طریقے میں محدود ہو جاتی ہے جو تکبر کی ضد ہے۔تکبر محدودیت کو تسلیم کرنے سے انکار اور متعین پیمانے اور طریقے سے باہر ہونے کا نام ہے۔”سجدہ“اور ”تکبر“ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔

دِينِ ٱللَّهِ۔اللہ تعالی کا وضع کردہ نظام کیاہے؟

 ا للہ تعالیٰ کے حضور تمام کی تمام کائنات۔طَوْعٙا وَكَرْهٙا۔يَسْجُدُ“ ہے۔یہ۔دِينِ ٱللَّهِ۔ہے۔اور اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ کائنات میں ہرذی حیات۔ طَوْعٙا وَكَرْهٙا۔ ’’أَسْلَمَ‘‘َ ہے۔ اور جو کوئی  أَسْلَمَ ۔ہے وہ ۔دِينِ ٱللَّهِ۔پر ہے۔ا للہ تعالیٰ کی جانب سے۔ٱلدِّينُ ۔صرف ۔ٱلْإِسْلَٟمُ۔ہے اور اِس دین پر کائنات کی ہر شئے کاربند ہے۔

کائنات کی ہر شئے فرمانبردار ہے، چاہت و رغبت سے اور انتہائی مربوط نظام کا جزو ہونے کی مجبوری کی بناء پر۔یہ اُس کی فطرت ہے یہ اُس کی تقدیر ہے۔ فرمانبرداری کائنات کے تسلسل اور وجود کی ضامن ہے۔ کائنات کی ہر شئے کی مقدار ہے۔پیمانہ ہے۔زوج ہے؛ ایک دوسرے کیلئے معاون و مددگار اور تکمیل کا سبب کہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورا ہے۔اور تمام اشیاء کی آپس میں موزوں نسبت، تقدیر ہے۔ایک دوسرے سے مربوط و منظم ہیں۔ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد لیکن معمولی دھیان سے بھی دیکھیں تو سب ایک اکائی نظر آئیں گے۔یہ اُن کی تقدیر ہے۔یہ اُن کی فطرت ہے۔یہ اُن کے۔ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّـمُ ۔یعنی دوام و ثبات کے حامل نظام کے زیر اثر ہونے کا مظاہرہ ہے۔یہ اُن کے”يَسْجُدُ“ اور ۔أَسْلَمَ ۔ہونے پر دلیل ہے۔اسلام میں تفرقہ نہیں۔وہ۔دِينِ ٱللَّهِ۔پر ہیں۔ کائنات۔ٱلْإِسْلَٟمُ۔کی پیروکار ہے۔

سبحان ا للہ! کائنات کو اسلام کی پیروکار بنانے میں کمال یہ ہے کہ یہ الرَّحیم بن کر تخلیق کی گئی کیونکہ یہ تخلیق کسی اور کے لئے ہے۔

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا

  • وہی ایک جناب ہیں جنہوں نے جو کچھ بھی زمین میں ہے تمام کا تمام؍مجموعی طور تم لوگوں کی خاطر تخلیق فرمایا۔(حوالہ البقرۃ۔۲۹)


وَسَخَّرَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا مِّنْهُۚ

  • کیا تم نے اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اورجو کچھ زمین میں موجود ہے اسے ان جناب نے تم لوگوں  کے لئے  قابل دسترس حالت میں کیا ہے۔مجموعی طور پر،یہ ان کی جانب سے اظہار رحمت ہے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَفَكَّرُونَ .١٣

  • یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں جو ازخود تفکر کرنے والوں کے لئے  فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔(الجاثیہ۔۱۳)

Root: ف ك ر

سبحان ا للہ!الحمد للہ!کائنات کو اسلام یعنی۔دِينِ ٱللَّهِ۔پر پابند ہمارے لئے کیا گیا ہے۔”يَسْجُدُُ“ اور ۔أَسْلَمَ ۔ہونے کی بناء پر ہی ہمارے لئے مسخر ہے۔وہ کائنات”يَسْجُدُُ“ اور ۔أَسْلَمَ ۔ہے جسے تخلیق بھی ہمارے لئے کیا گیااور مسخر بھی ہمارے لئے کر دیا گیا۔ ہمیں دئیے گئے علم کے مطابق ہماری تخلیق سے قبل کائنات کے علاوہ دو مخلوقات اور بھی موجود تھیں،ملائکہ اور جنات جن میں سے ابلیس بھی ہے۔ آدم علیہ السلام کیلئے تمام ملائکہ  محبت و قربت کے جذبے سے سرشار مجسم تعظیم ہو گئے؛  اور ا للہ تعالیٰ،الرّحمن ذالجلال و الاکرام کی رحمت کو واجب کر کے تخلیق کی ابتدا کی ہوئی کائنات اور مخلوقات میں سے ایک نے آدم کیلئے ”اُسْجُد“ تعظیم بجا لانے،سرنگوں اور پست ہونے سے انکار کر دیا۔انجام گھٹیا قرار پایا اور دھتکاردیا گیا۔ا للہ اکبر!ا للہ اکبر!

یہ حقیقت ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی جانب سے حیات و کائنات کیلئے وضع اورمقررکردہ نظام صرف اسلام ہے۔اِس کے باوجود،عطا کردہ حریت اور ارادہ اور قوتِ فیصلہ کے زعم میں کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے، یہ واضح کر دیاگیا۔

وَمَن يَبْتَغِ غَيْـرَ ٱلْإِسْلَٟمِ دِينٙا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ

  • متنبہ رہو؛جو کوئی دانستہ زیر مقصد اسلام کے بجزکسی آئین /نظام حیات  کو  بطور دستوراپنانے  کاخواہشمند ہو گا تو کبھی بھی اس کی جانب سے قبول کیا جائے گا۔

وَهُوَ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ مِنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ .٨٥

  • اور وہ شخص آخرت میں اپنا خسارہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔(ءالِ عمران۔۸۵)

Root: خ س ر

ہم نے ا للہ تعالیٰ اور دنیا کو بتایا کہ ہمیں اقرارہے کہ فیصلے کا ایک دن ہے،یوم حساب ہے جب تمام جن و انس کا احتساب ہو گا اور اُس دن کے مالک،مقتدر اور منصفِ اعلیٰ الرّحمن ذالجلال والاکرام ہیں کیونکہ فیصلہ اُن کے مابین ہونا ہے جنہیں حریت (freedom) عطا ء کی گئی تھی،ارادہ اور اختیار کا مالک بنایا گیا تھا۔ اُس دن کسی کو بھی حریت (freedom) حاصل نہیں ہو گی کہ جو چاہا سو کہہ دیا۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے بیان کرنے کے لئے یہ دو مرکبات ۔ مَٟلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ ترتیب دے کر عنایت فرمائے۔اس حقیقت کو قرء ان مجید میں انتہائی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے:

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّۖ

  • اور وہی جناب ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔

وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُۚ

  • اور جس دن وہ کہیں گے ”وقوع پذیرہو جا“ تو تعمیل حکم میں وہ وواقعہ وقوع پذیر ہو جائے گا۔

قَوْلُهُ ٱلْحَقُّۚ

  • ان  جناب کا قول ناقابل تردیدحقیقت ہے۔

وَلَهُ ٱلْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِـى ٱلصُّورِۚ

  •  اور اُس د ن مقتدر و منصف ہونااُن کیلئے مخصوص ہے جب صور میں پھونک دیاجائے گا۔

Root: ن ف خ

عَٟلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِۚ

  • وہ تمام  جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔

وَهُوَ ٱلْحَكِيـمُ ٱلْخَبِيـرُ .٧٣

  • اوروہ جناب  بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا،سلطنت کے ذرے ذرے سے ہر لمحہ باخبر ہیں۔(الانعام۔۷۳)


يَوْمَئِذٛ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٟعَةُ

  • جس دن حیات نو کا ظہور ہو چکا ہو گا تو سفارش کسی شخص کو فائدہ نہیں  پہنچائے گی۔

Root: ش ف ع

إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْـمَـٰنُ 

  • اس بیان سے استثناء اُن(ﷺ) کے لئے ہے جن کیلئے الرّحمن(ذالجلال والاکرام) نے اجازت دی ہوئی ہے۔

وَرَضِىَ لَهُۥ قَوْلٙا .١٠٩

  •  اور االرّحمن(ذالجلال والاکرام) اُن کیلئے رضا و رغبت کا قول قبولیت دے چکے ہیں۔(سورۃ طہ۔۱۰۹)


ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٛ لِّلَّهِ يَحْكُـمُ بَيْنَـهُـمْۚ

  • اقتدار مطلق اللہ تعالیٰ کے لئے مختص ہو گا جس دن حیات نو دئیے جانے پر لوگوں کو مجتمع کر دیا گیا ہو گا۔ وہ جناب ان کے مابین فیصلہ فرما دیں گے۔

Root: م ل ك

فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • قرءان مجید پہنچ جانے اور متنبہ کر دئیے جانے پر جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

فِـى جَنَّٟتِ ٱلنَّعِيـمِ .٥٦

  • ان کی حیات آخر میں پُرمسرت  و تعیش باغات میں رہائش کا انتظام ہے۔(الحج۔۵۶)


أَفَحَسِبْتُـمْ أَنَّمَا خَلَقْنَٟكُـمْ عَبَثٙا

  • کیا اس دن کے متعلق لاپرواہی اس وجہ سے تھی کہ تم لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ہم جناب نے تم لوگوں کو یونہی بے مقصد تخلیق کیا تھا۔

وَأَنَّكُـمْ إِلَيْنَا لَا تُـرْجَعُونَ .١١٥

  • اور یہ کہ تم لوگوں کو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا۔(المومنون۔۱۱۵)


ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٛ ٱلْحَقُّ لِلرَّحْـمَـٰنِۚ

  • مبنی بر حقیقت اقتدار الرَّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہے جس دن حیات ِنو دئیے جانے پر لوگوں کو مجتمع کر دیا گیا ہو گا۔

وَكَانَ يَوْمٙا عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ عَسِيـرٙا .٢٦

  • متنبہ رہو؛ وہ دن ایسا ہے کہ مرتے دم تک ہٹ دھرمی سے انکار کرنے والوں پر کٹھن ہو گا۔(الفرقان۔۲۶)

Root: ع س ر


يَوْمَ هُـم بَٟرِزُونَۖ

  • یہ دن وہ ہے جب وہ سامنے نکل آئیں گے۔

لَا يَخْفَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ مِنْـهُـمْ شَـىْءٚۚ

  •  اُن کی کوئی بات حسب معمول ا للہ تعالیٰ سے چھپی نہ ہو گی۔

لِّمَنِ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَۖ

  •  (پوچھا جائے گا) ”آج بادشاہت،مقتدر و منصف ہونا کس کیلئے ہے“

Root: م ل ك

لِلَّهِ ٱلْوَٟحِدِ ٱلْقَهَّارِ .١٦

  •  (جواب دیں گے)”اللہ تعالیٰ کیلئے مختص ہے،قوت و غلبہ کے واحد مالک کیلئے“۔(غافر۔۱۶)

Root: ق ھ ر

الحمد للہ ہم اس بات کا اعتراف اوربرملا اعلان آج بھی کرتے ہیں۔

يَوْمِ ٱلدِّينِ۔جزا  و سزا دئیے جانے کا دن

یہ آیت مبارکہ۔۴ میں دوسرا مرکب اضافی ہے جو آیت۔۲ کے جملے کا حصہ ہیں۔
قرء انِ مجید میں مجرور حالت میں یہ مرکب اضافی تین بار ہے: Recurrence:(1)01:04(2)15:35(3)38:78=3
مضاف کے اعراب کے فرق کے ساتھ منصوب حالت میں بھی تین بار ہے۔
يَوْمَ ٱلدِّينِ۔: (1)26:82(2)56:56,(3)82:15
مرفوع حالت میں چار بار ہے
.
يَوْمُ ٱلدِّينِ: (1)37:20(2)51:12(3)82:17(4)82:18=4
اور ابتداء میں حرف جر کے ساتھ بھی تین بار ہے
بِيَوْمِ ٱلدِّينِ: (1)70:26,(2)74:46(3)83:11

مضاف الیہ : ٱلدِّينِ ۔معرفہ باللام ہے۔اس مقام پر حرف کی قسم ”الْعَهْدُ الذِّهْنِيُّ“ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ بیان نہیں ہوا۔اس قسم کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہمارے تصور اور علم میں پہلے سے ہے، قرء ان مجید میں بیان کے حوالے سے۔اس طرح کے معنی”متعین/کہنے اور سننے والے دونوں کے تصور میں جانا پہچانا دن“ہیں۔ہم جب خود اپنی زبان سے کہہ رہے ہیں، تو ظاہر ہے کہ اُس دن کو نہ صرف جانتے اور پہچانتے ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اُس دن کی خصوصیت اور اُس میں پنہاں واقعات کیا ہیں۔دوسری مرتبہ یہ مرکب اضافی مجرور حالت میں انسان کی تاریخ کے اولین دورکے قصے میں بیان ہوا ہے جب وہ اس کائنات سے باہر کی دنیا میں وجود پذیر ہوا تھا۔ ا للہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیم بجا لانے کے حکم کی عدم تعمیل پر ابلیس کو حکم دیاتھا:

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْـهَا فَإِنَّكَ رَجِيـمٚ .٣٤

  •  انہوں نے کہا”عدم تعمیلِ حکم اور اپنے تئیں آدم سے بہتر سمجھنے کے سبب تجھے حکم دیا جاتا ہے کہ یہاں سے نکل جا۔اس کے بعدتو رجیم/مردود، دھتکارا،دور کیا ہوارہے گا۔

وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ .٣٥

  • اور یقینا یوم الدین ۔جزا و سزا کے دن تک تجھ پر دھتکار ہے۔“(الحجر۔۳۵)


قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْـهَا فَإِنَّكَ رَجِيـمٚ .٧٧

  •  انہوں نے کہا”عدم تعمیل ِحکم اور اپنے تئیں آدم سے بہتر سمجھنے کے سبب تجھے حکم دیا جاتا ہے کہ یہاں سے نکل جا۔اس کے بعدتو رجیم/مردود، دھتکارا،دور کیا ہوارہے گا۔

Root: ر ج م

وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ .٧٨

  • اور یقینا یوم الدین ۔جزا و سزا کے دن تک تجھ پرمیری جانب سے دھتکار ہے۔(سورۃ ص۔۷۸)

اور یوں ابلیس رجیم قرار پایا اور ملعون ہوا۔ا للہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے کی بجائے ابلیس نے یہ اپیل/مطالبہ کر دیا:

قَالَ أَنظِرْنِـىٓ إِلَـىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ .١٤

  • اس (ابلیس)نے التجا کرتے ہوئے کہا"اس لئے آپ جناب مجھے حیات نو دئیے جانے کے دن تک مہلت عنایت فرمائیں"۔

قَالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرِينَ .١٥

  • ا للہ تعالیٰ نے کہا”چونکہ تیری التجا قبول کر لی گئی ہے، اس لئے یقینا مہلت دئیے جانے والوں میں توسب سے اول ہے"۔(الاعراف۔۱۵)

ابلیس کی مہلت مانگنے والی بات سورۃ الحجر کی آیت 36 اور سورۃ صؔ کی آیت 79 میں من و عن ایک جیسے الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے:

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِـىٓ إِلَـىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ .٣٦

  • اس (ابلیس)نے التجا کرتے ہوئے کہا"میرے رب!آپ نے چونکہ مجھے اس بشر کی وجہ سے ملعون کر دیا ہے اس لئے آپ جناب مجھے حیات نو دئیے جانے کے دن تک مہلت عنایت فرمائیں"۔(الحجر۔۳۶)

ا للہ تعالیٰ کا ابلیس کو جواب سورۃ الحجر کی آیت ۳۷۔۳۸اور سورۃ صؔ کی آیت ۸۰۔۸۱ میں من و عن ایک جیسے الفاظ میں یہ بیان ہوا ہے:

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ .٣٧

  • ا للہ تعالیٰ نے کہا”چونکہ تیری التجا قبول کر لی گئی ہے، اس لئے یقینا مہلت دئیے جانے والوں میں توسب سے اول ہے،

إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ .٣٨

  • ایک طے شدہ وقت پر ظہور پذیر ہونے والے مخصوص دن تک۔(الحجر۔۳۸)

ابلیس کو بھی معلوم ہے کہ ٱلدِّينِ۔فعل ”دَانَ، يَدِینُ“ کا مصدر ہے۔اور احتساب جبھی ہوتا ہے جب حالت حیات میں ہو۔ اُس نے بنی آدم کی اکثریت کے انجام پر اثر انداز ہونے اور اسے برباد کرنے کیلئے یوم بعث تک کیلئے مہلت کی درخواست/رٹ دائر کر دی جو منظور کر لی گئی۔ یوم الدین یوم بعث ہے۔یہ وہ دن ہے جب تمام لوگوں کو احتساب کیلئے اٹھایا(بعث)جانا ہے۔اِس کا مادہ ”ب ع ث“ اور اِس کے بنیادی معنی اُس چیز کو راستہ سے ہٹا دیناہیں جو کسی کی آزادانہ نقل و حرکت میں حائل ہو،اُس قسم کے موانع کو دور کرکے اُس کی حرکت کو جاری کر دینا۔ اُس چیزکوجس کی بناء پر”موت“واقع ہوئی تھی اگر راہ سے ہٹا دیا جائے تو زندگی پھر سے رواں دواں ہو جائے گی۔
اگر ابلیس کو۔
يَوْمِ ٱلدِّينِ۔کے معنی اور مفہوم، دن کی جان اور پہچان ہے اور اُس کی اہمیت اور نوعیت کا بھی احساس ہے تو کیا انسان اُس دن کے متعلق لاعلم ہے؟ کیا انسان اُس دن کو نہیں جانتا اور پہچانتا؟ کیا اُس کیلئے معرفہ نہیں؟ ذی ہوش جانتے ہیں:

فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٚ وَٟحِدَةٚ

  • چونکہ حیاتِ نو کے ظہور کانظام تخلیق کا جزو ہے اس لئے وہ(نفخ ِبعثت)الصور میں دوسری/آخری پھونک توصرف ایک ہی زوردار آواز ہو گی

Root: ز ج ر

فَإِذَا هُـمْ يَنظُرُونَ .١٩

  • جس کے نتیجے میں اس  وقت وہ لوگ یکایک کھڑے ہو کر منتظر ہوں گے(کہ آگے کیا پیش آتا ہے)۔(الصافات۔۱۹)

وَقَالُوا۟ يَٟوَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ .٢٠

  • اور انہوں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا’’ہائے ہماری شومئیِ قسمت!یہ یومُ الدین ہے‘‘۔(الصافات۔۲۰)

Root: و ى ل  

انسان کسی دوسرے کے بتائے اور کہے بغیر جب کسی بات کو اعلانیہ بیان کرتا ہے تو یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ اعلان کردہ بات اُس کی یاداشت میں پہلے سے محفوظ ہے،اور اِس انداز میں محفوظ ہے کہ  اُس کے متعلق جانکاری اور پہچان رکھتا ہے۔یوم قیامت کواُن کا یہ بیان اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دن اُن کیلئے زمین پر دوران حیات جانے پہچانے معنی اور مفہوم کا حامل تھا۔ملائکہ نے اُن لوگوں کی اعلانیہ گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے اُن سے کہا:

هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ

  • انہیں  ملائکہ نےکہا’’ہاں !یہ فیصلے،الگ الگ کر دئیے جانے کا دن ہے۔

ٱلَّذِى كُنتُـم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ .37:21٢١

  • یہ وہی دن ہے جسے تم لوگ مسلسل سر عام جھٹلاتے رہتے تھے‘‘۔(الصافات۔۲۱)

یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے قبروں سے اٹھتے ہی اُس دن کو۔يَوْمُ ٱلدِّين قرار دیا ہے؟
یہ وہ لوگ ہیں جوآج از راہ مزاح یہ پوچھتے ہیں کہ اُس دن کی تاریخ کون سی ہے۔

يَـسْـٔ​َلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ .١٢

  • وہ (فریب زدہ/فریب کار)پوچھتے رہتے ہیں ”احتساب اورجزا و سز فیصلے کادن مستقبل کی کس تاریخ کو ٹھہرایا گیا ہے؟“(الذاریات۔۱۲)

 قابل اہمیت نکتہ یہ ہے کہ آخرت ہے لیکن ایسے لوگ جنہیں تذبذب ہے، اُس دن کی جنہیں پرواہ نہیں،جنہیں احتساب کا یقین نہیں، اور جواُس کو اعلانیہ جھٹلاتے ہیں،ایسے لوگ اُس دن کا زمان اور تاریخ جاننے میں دلچسپی رکھتے اور کریدتے رہتے ہیں۔

يَـسْئَلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰـهَاۖ

  • آپ(ﷺ)سے وہ اُس مخصوص ساعت کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں ۔کہ آپ بتائیں مستقبل میں اُس کے لنگر انداز/ وقوع پذیرہونے کامقررہ وقت کیا ہے؟

Root: ر س و;  س و ع

اورآقائے نامدار ﷺ سے فرمایا:

قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّـىۖۖ

  • آپ(ﷺ)جواب دیں، ’’حقیقت  تو یہ  ہے کہ میرے پاس اس کا جواب نہیں  کیونکہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔

لَا يُجَلِّيـهَا لِوَقْتِـهَآ إِلَّا هُوَۚ

  • سوائے اُن  جناب کے کوئی نہیں ظاہر کر سکتا کہ وقت کے کس مقام پروہ لمحہ ہے۔

ثَقُلَتْ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • تاہم میں صرف  یہ  تم لوگوں پر واضح کر سکتا ہوں  کہ وہ ساعت آسمانوں اور زمین میں بھاری ہو گی۔

لَا تَأْتِيكُـمْ إِلَّا بَغْتَةٙۗ

  • وہ تم لوگوں پر بالکل اچانک آن پہنچے گی۔“

 اور پھر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے ان کے روئیے پر اظہار تعجب کرتے ہوئے وہی جواب  لوگوں کودہرانے کے لئے کہا:

يَـسْئَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِـىٌّ عَنْـهَاۖ

  • تعجب ہےآپ (ﷺ)سے وہ لوگ تویوں اُس کے متعلق پوچھتے ہیں جیسے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر آپ صرف اِس بات کی تحقیق میں لگے ہوں۔

قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ

  • آپ (ﷺ) ارشاد فرمائیں ”حقیقت یہ ہے کہ اُس لمحے کا علم تو صرف ا للہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“

وَلَـٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ .١٨٧

  • اس قدر دو ٹوک  جواب کے باجود اکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔(الاعراف۔۱۸۷)

دوسرے مقام پر مزید بتایا:

يَسْـٔ​َلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِۖ

  • آپ(ﷺ)سے وہ اُس مخصوص ساعت کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں ۔

قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِۚ

  • آپ(ﷺ)جواب دیں، ’’حقیقت  تو یہ  ہے کہ میرے پاس اس کا جواب نہیں  کیونکہ ا س کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘۔

اور زمانے کے حوالے سے بھی قیاس آرائیوں کا راستہ بند کر دیا۔ فرمایا

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبٙا .٦٣

  • اور وہ کون سے اشارہ اورنشان ہے جو آپ (ﷺ)کو اُس لمحے کا ادراک دے سکے کہ ممکن ہے وہ ساعت بالکل قریب پہنچ چکی ہو۔(الاحزاب۔۶۳)

Root: د ر ى


ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ

  • اللہ تعالیٰ وہ جناب ہیں جنہوں نے منفرد کتاب (قرءان عظیم)کو مجتمع انداز میں نازل فرمایا ہے؛مبنی بر حقیقت اور زمان کی مناسبت سے۔

وَٱلْمِيـزَانَۗ

  • اور عدل وانصاف اور جھوٹ و سچ کو جانچنے کا معیارنازل کیا ہے۔[لوگوں کے مابین انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے مطابق جانچ کا معیار۔الحدید۔۲۵]

Root: و ز ن

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٚ .١٧

  • اوراس کتاب سے ماوراء وہ کون سے اشارہ اورنشان ہے جو آپ (ﷺ)کو اُس لمحے کا ادراک دے سکے کہ ممکن ہے  آخری ساعت بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔(الشوریٰ۔۱۷)

ا للہ تعالیٰ نے آقائے نامدار ﷺ سے  ادراک کے متعلق یہ بات   دو بارارشاد فرمائی اوراُن ﷺسے قرءانِ مجید میں دو مرتبہ لوگوں کوکہلوایا:

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ ءَاذَنتُكُـمْ عَلَـىٰ سَوَآءٛۖ

  • بات کو سن کر اگر وہ لوگ اقرار کئے بغیر منہ موڑ کر چل دیں توآپ (ﷺ) انہیں سنا دیں ”میں نے تم لوگوں کوبرابری /یکسانیت کے اصول پراطلاع کر دی ہے۔

وَإِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٚ مَّا تُوعَدُونَ .١٠٩

  • اور جہاں تک تمہارے اُس لمحے/دن کے متعلق سوال کا تعلق ہے تو مجھے اِس بات کا اِدراک نہیں کہ جس دن کا تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے آیا وہ مستقبل قریب میں ہے یا مستقبل بعید میں۔ (الانبیاء۔۱۰۹)


قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٚ مَّا تُوعَدُونَ

  • آپ(ﷺ)لوگوں کوکہہ دیں ”مجھے اِس بات کا ادراک نہیں کہ جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے آیامستقبل قریب کیلئے ہے۔

أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّـىٓ أَمَدٙا .٢٥

  • یا اس وعدے کی تکمیل کے لئے میرے رب دور کی مدت میں تاریخ کو قرار دیتے ہیں ۔(الجن۔۲۵)

آقائے نامدار ﷺ نے یہ بات لوگوں سے کہی تھی اور اُن کے اپنے الفاظ میں یہ بات/حدیث اللہ،قول رسول  بن کرہم تک پہنچی ہے۔آپ ﷺ نے حتمی تاریخ اور نشانی تو کیا اُن لوگوں اور ہمارے لئے روز قیامت کیلئے قریب اور دور کے حوالے سے بھی مدت کا تعین نہیں فرمایا۔ کسی بھی بات،شئے،مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کا ادراک کرنے کیلئے سبب اور وجہ کوئی دوسری بات،اشارہ، نشانی بنتی ہے۔اگر دوسری نشانی اور اشارہ کوئی نہیں، تو ہم کسی بھی بات کا ادراک نہیں کر سکتے۔ا للہ تعالیٰ اور رسولِ کریم ﷺ نے واضح فرمادیا ہے کہ رسولِ کریم ﷺ اور انسانوں کیلئے اُس دن کیلئے کوئی نشانی نہیں جو انہیں اُس مخصوص دن کے متعلق ادراک دے سکے۔

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ .١٧

  • اور وہ کون سا اشارہ ہے جو آپ(ﷺ) کواِس بات کا ادراک/جانکاری دے سکے کہ  جزا و سزا کا دن / یوم الدین کون سا ہے۔

Root: د ر ى

ثُـمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ .١٨

  • ۔بعد ازاں سوچ بچار کر لینے پر بھی وہ کون سا اشارہ ہے جو آپ(ﷺ) کواِس بات کا ادراک/جانکاری دے سکے کہ  جزا و سزا کا دن / یوم الدین کون سا ہے۔

Root: د ر ى

يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٚ لِنَفْسٛ شَيْئٙاۖ

  • آپ(ﷺ) اِتنا بتا دیں ؛ ”اُس دن کوئی شخص کسی دوسرے شخص کیلئے کچھ اختیار نہیں رکھے گا۔

Root: م ل ك

وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٛ لِّلَّهِ .١٩

  • اور یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ جب یہ دن وقوع ہو گا تومعاملے کا فیصلہ کرنا ا للہ تعالیٰ کے لئے مختص ہے“۔(الانفطار۔۱۹)

ہم نے یوم قیامت کے مناظر میں یہ دیکھ اور سن لیا ہے کہ تمام کو۔يَوْمِ ٱلدِّينِ ۔ کے معنی اور مفہوم معلوم ہیں۔ حقیقت کو دانستہ سرعام لوگوں میں جھٹلانے والے یہ جھوٹے جہنم میں پہنچنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لوگوں سے خود اعتراف کریں گے۔

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ .٤٦

  • اور ہم جزا اورسزا دئیے جانے کے دن کو سرعام دانستہ جھٹلاتے رہتے تھے۔

 

حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِيـنُ .٤٧

  • ہم نے اسی عادت کو اپنائے رکھایہاں تک کہ موت نےہمیں آن لیا۔“(المدثر۔۴۷)

اِن لوگوں کے آج کے روئیے اور انجام کے متعلق لگی لپٹی رکھے بغیرآسان فہم انداز میں بتایا جا رہا ہے:

وَيْل ٚ يَوْمَئِذٛ لِّلْمُكَذِّبِيـنَ .١٠

  • افسوس ، کڑھن،شومئی قسمت کا واویلہ دانستہ تکذیب کے مرتکب افراد کا معمول ہو گا جس دن وہ حیات ِنو دئیے جانے پر اکٹھے ہو چکے ہوں گے۔

Root: و ى ل

ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ .١١

  •  وہ جو جزا و سزا کے دن (یوم الدین)کو برملا جھٹلاتے رہتے ہیں۔(المطففین۔۱۱)

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٛ أَثِيـمٛ .١٢

  • اور اسے جھٹلانے کیلئے کوئی بھی سرعام جھوٹ نہیں بولتا سوائے ہر ایک ایک حد سے نکلنے والے گنہگار /سفر کو بوجھل کرنے والے کے۔

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْهِ ءَايَٟتُنَا قَالَ أَسَٟطِيـرُ ٱلْأَوَّلِيـنَ .١٣

  •  ہماری آیتیں جب اُس کوسنائی گئیں تو اُس نے کہا ”یہ اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں“

كَلَّا ۖ بَلْۜ رَانَ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ .١٤

  • نہیں!(یہ کہانیاں نہیں ہیں)؛درحقیقت وہ  جو یہ لوگ  کماتے رہے ہیں  اس نے ان  کے دلوں پر زنگ  کی تہہ چڑھا دی ہے۔(اب سمجھ داخل نہیں ہوتی)۔(المطففین۔۱۴)

ہم  خوش نصیب ہیں جنہوں نے الرَّحمٰن ذو الجلال والاکرام کو ۔مَٟلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ۔قرار دے کر اپنے آپ کو اِن لوگوں کی صف میں شامل کرنے کی سعی کی ہے:

وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ .٢٦

  • اور وہ لوگ جو  جزا و سزا کے دن (یوم الدین) کو حقیقت سمجھتے ہوئے اُس کی سرعام تصدیق کرتے رہتے ہیں۔(المعارج۔۲۶)

 اور آئیں ہم اُن میں نہ ہوں جنہیں اُس دن کی نشانیوں کی کھوج ہے بلکہ اپنے  عظیم المرتبت ابا حضور،ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں ہم بھی کہیں:

وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِـى خَطِيٓــَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ .٨٢

  • ”اور وہ جناب ہیں جن سے میں آرزو کرتا ہوں کہ جزا و سزا کے دن(یوم الد ین)میرے لئے میری خطائیں بخش دیں گے“۔(الشعراء۔۸۲)

Root: ط م ع; خ ط ء

وَلَا تُخْزِنِـى يَوْمَ يُبْعَثُونَ .٨٧

  • ”اور میرے رب! مجھے اُس دن  ازراہ کرم رسوا نہ کریں جب لوگ اٹھائیں جائیں گے‘‘۔(الشعراء۔۸۷)

Root: خ ز ى

دانا وبینا لوگوں کی طرح جو تفکر کرتے ہیں اور جانتے ہیں کائنات بلامقصد نہیں بنائی گئی ہم بھی رب العزت سے دعا کریں:

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥۖ

  • ہمارے رب!یہ حقیقت ہے آپ جناب نے جس کو دوزخ میں داخل کر دیا تو یقیناً اسے آپ نے رسوائی میں دھکیل دیا۔

وَمَا لِلظَّٟلِمِيـنَ مِنْ أَنصَارٛ .١٩٢

  • اورکوئی بھی جومددگار ہو سکتا ہے ایسے لوگوں کے لئے مدد کی حامی نہیں بھرے گا جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں"۔(ءالِ عمران۔۱۹۲)


رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَـىٰ رُسُلِكَ

  • ہمارے رب! ہمیں وہ دیں جس کاآپ نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ کیا ہے۔

وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

  • اور روز قیامت کو ازراہ کرم ہمیں رسوا نہ کریں۔

إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ .١٩٤

  • یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتے“۔(ءالِ عمران۔۱۹۴)

ا للہ تعالیٰ سے ابراہیم علیہ السلام اور دانا و بینا لوگوں کے انداز میں ہم نے  ان کے وعدے کی یاددہانی کراتے ہوئے مانگ تو بہت کچھ لیا ہے لیکن یہ جاننا بھی تو ضروری ہے کہ اُس دن بعض لوگوں کو سب سے بڑی رسوائی ملے گی کیوں ؛ تاکہ پہلے اس سے بچنے کی ترکیب کریں پھر تمنا کریں۔مانگنے میں بھی غیرت اور حیا کے تقاضے پیش نظر رہنے چاہئیں ۔

أَ لَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّـهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّـمَ خَٟلِدٙا فِيـهَاۚ

  • کیا انہوں(منافقین)نے اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ)کے پیغام میں رکاوٹیں ڈالتا ہے تو اس کے نتیجے میں جہنم میں جھلسنا اس کے لئے مستوجب ہو جاتا ہے۔وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔

ذَٟلِكَ ٱلْخِزْىُ ٱلْعَظِيـمُ .٦٣

  • یہ سب سے بڑی رسوائی ہے جو ان کاپورا ڈھانچہ محسوس کرے گا۔

تَوْبَةٙ نَّصُوحٙا

ہم ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جن تک قرءانِ مجید پہنچا (وَمَنۢ بَلَغَ۔الانعام۔۱۹)ہے۔اس لئے ہمارے دور میں ا للہ تعالیٰ اور رسولِ کریم کی مخالفت کا بس ایک انداز ہو سکتا ہے،اللہ تعالیٰ کی ”حدیث، کلام“ اور قول رسول کریم ﷺ یعنی قرءانِ مجید کے بیانِ حقیقت کے خلاف بات کو ماننا اور اس کی اتباع کرنا۔ا للہ تعالیٰ کے وعدے کے حوالے سے ہم نے رسوائی سے بچانے کیلئے کہا ہے۔لیکن وعدے سے قبل انہوں  نے آج کچھ کرنے کیلئے ہمیں بھی کہا ہے۔ آئیں ہم پہلے وہ کر لیں :

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

تُوبُوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِ تَوْبَةٙ نَّصُوحٙا

  • اللہ تعالیٰ کی جانب فہم و فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے جذبات کے زیر اثر کئے طرز عمل پر احساس ندامت سے پلٹ آؤ۔مکمل اصلاح کی سوچ اور نیت سے پلٹنے کا انداز ہو۔

عَسَىٰ رَبُّكُـمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُـمْ سَيِّئَاتِكُـمْ

  • تم لوگوں کے رب کی جانب سے قوی امکان ہے کہ جلد وہ جناب تمہاری  لغزشوں،برائیوں اورکوتاہیوں کو تمہارے اعمال نامے سے مکمل  محوکردیں۔

Root: ع س ى

وَيُدْخِلَـكُـمْ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأََنْـهَٟرُ

  • اور وہ جناب تم لوگوں کو ان باغات میں داخل فرما دیں جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔

يَوْمَ لَا يُخْزِى ٱللَّهُ ٱلنَّبِىَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥٓ

  • اس دن اللہ تعالیٰ اپنے  اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے اخلاص کے پیکر بندے(محمّد ﷺ)، اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ قرءان مجید پر ایمان لائے، مایوس نہیں فرمائیں گے۔

نُورُهُـمْ يَسْعَىٰ بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَبِأَيْمَٟنِـهِـمْ

  • رسول کریم دیکھیں گے کہ ان لوگوں سے پھوٹنے والا نور(سفید روشنی)ان کے سامنے اور دائیں جانب چلتے ہوئے ماحول کو منور کر رہا ہے۔

Root: س ع ى

يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَٱغْفِرْ لَنَآۖ

  • وہ سراپا التجا ہوں گے’’اے ہمارے رب!آپ جناب ہمارے نور بصیرت کو ہمارے لئے بدرجہ اتم فرما دیں،اور ہمارے لئے دائمی فرمان ِمعافی جاری فرما دیں۔

إِنَّكَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ .٨

  • یقیناً آپ جناب ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں"۔(التحریم۔۸)

توبہ کے معنی واپس آ جانا، پلٹ آنا ہیں (تاج)۔سفر میں آگے بڑھتے ہوئے اگر شاہراہ کے کسی چوراہے پر ایک طرف مڑ کر کچھ قدم چلنے کے بعد احساس ہو کہ غلط سمت میں قدم اٹھ گئے ہیں،یہ صحیح راستہ نہیں ہے تو پھر صحیح راستے کی طرف چلنے کیلئے اسی مقام پر لوٹ کر آنا ہو گا جہاں سے قدم غلط سمت کو اٹھے تھے۔منزل کی طرف بڑھنے کیلئے پہلے اسی مقام پر آنا پڑے گا جہاں سے قدم غلط سمت کو اٹھے تھے اور پھر وہاں سے صحیح راستے پر گامزن ہونا پڑے گا۔یہ توبہ کا مفہوم ہے۔توبہ توبہ کہنے سے غلطی کا ازالہ نہیں ہوتا۔توبہ عملی قدم ہے جس سے غلط کام کا ازالہ کیا جانا ہے۔غلط کام کے مضر اثرات کی تلافی کرنا ہے۔اپنی غلطی کا احساس کر کے غلط روش کو چھوڑ دینا اور صحیح راستہ،روش،رویئے کو اپنا لینے کا نام توبہ ہے۔ ان تین مراحل کی تکمیل کا نام توبہ ہے۔ایسا کرنے والے کو تائب کہتے ہیں (تاج)۔ غلطی کے احساس کے بعد اصلاح اور صحیح روش کو اپناناتوبہ کا لازمی جزو ہے۔

یہ بنیادی طور پر فکری سرگرمی ہے۔دانش سے متعلق ہے۔اس میں جذبوں کی بجائے سوچ اور استدلال کی جانب عقل و فکر کا راغب ہونا ہے۔یہ ذہن کو جذبات کے دائرے سے پیشانی کے پیچھے والے دماغ میں حقیقت اور روشن خیالی کے دائرے میں موڑنا ہے۔یہ ذہنی تبدیلی  احساس ِجرم و غفلت اور پچھتاوے کے حقیقی احساس کا سبب بنتا ہے کیونکہ ماضی میں  جسے انتخاب کیا تھا  اسے  اب غلطی یا غلط سمجھتا ہے اور استثناء اور بریَّت حاصل کرنے کی امید اور خواہش رکھتا ہے ۔

إِنَّمَا ٱلتَّوْبَةُ عَلَـى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٟلَةٛ

  •  اصول یاد رکھنا؛ ا للہ تعالیٰ پر توبہ کی قبولیت کا حق اُن  صرف لوگوں کے لئے یقینا ہے جو برا عمل  اچانک جذبات  سے مغلوب اور اس کی رو میں  بہہ جانے کی وجہ سے کر گزرتے ہیں۔

ثُـمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٛ فَأُو۟لَـٟٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْۗ

  • بعد ازاں وہ قریب وقت میں  ندامت سےاپنی اصلاح کی جانب  پلٹ لیتے ہیں۔ان کے اس ازخود اصلاح کے جذبے  کی قدر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ  درگزر اور نظر عنایت سے متوجہ ہو جاتے ہیں۔

وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيـمٙا حَكِيـمٙا .١٧

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ منبع علم ہیں،تمام نظام کے   بدرجہ اتم انصاف کے تقاضوں  کو پورا کرنے والےفرمانروا ہیں۔(النساء۔۱۷)


وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـٔ​َايَـٟتِنَا

  • اور جب آپ(ﷺ)کے پاس وہ لوگ ملاقات کے لئے آئیں جو ہم جناب کی (قرءان مجید میں درج)آیات کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں:

فَقُلْ سَلَٟمٌ عَلَيْكُـمْۖ

  • تو رسمی علیک سلیک کے بعد آپ (ﷺ)انہیں بشارت دیں"تم پر سلامتی کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے وعدہ ہے۔

كَتَبَ رَبُّكُـمْ عَلَـىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْـمَةَۖ

  • تم لوگوں کے رب نے رحم و کرم کا شیوہ ا پنے آپ پر لازم کر لیاتھا۔

أَنَّـهُۥ مَنْ عَمِلَ مِنكُـمْ سُوٓءَۢا بِجَهَٟلَةٛ

  • وہ رحم و کرم یہ ہے کہ تم میں سے جس کسی نے  جذبات کی شورش سے مغلوب حالت میں   برائی  کے عمل کا ارتکاب کر لیا۔

ثُـمَّ تَابَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَصْلَحَ

  • بعد ازاں اس عمل کا مرتکب ہو جانے کے بعد اس نے ندامت کے احساس سے معافی کے لئے  خواستگار ہوا اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کر لی۔

فَأَنَّهُۥ غَفُورٚ رَّحِيـمٚ .٥٤

  • تو وہ  جناب اس کی توبہ قبول کرتے ہیں  کہ  وہ جناب   اکثر و بیشتر درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔(الانعام۔۵۴)


ثُـمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٟلَةٛ

  • بعد ازاں ایک  برےفعل کے مرتکب ہونے کے آپ (ﷺ) کے رب ان لوگوں کو موقع دیتے ہیں جنہوں نے جذبات کی شورش سے مغلوب ہو کر برا عمل کر دیا ہے۔

ثُـمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٟلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟

  • بعد ازاں ،اس عمل کو انجام دینے کے بعد، جذبات کے دائرے سے نکل کو عقل و خرد کی دنیا میں پشیمانی اور ندامت محسوس کرتے ہوئے پلٹ آئے۔اور انہوں نے آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کر لی۔

إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٚ رَّحِـيـمٌ .١١٩

  • یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب ان ذہنی و فکری اورطرز عمل کی تبدیلیوں کے بعد لامحالہ درگزر اور پردہ پوشی کرتے ہوئے معاف فرمانے والے ہیں؛ وہ جناب منبع رحمت ہیں، تمام فیصلے رحمت کی چھاؤں میں فرماتے ہیں۔(النحل۔۱۱۹)

اردو/انگریزی میں انسان کے ہر اس عمل کو جو علم کی ضد میں سرزد ہوتا ہے جہالت،نادانی کہتے ہیں۔لیکن عربی زبان میں  علم کے متضاد عمل کو۔بِجَهَٟلَةٛ۔ سے بیان نہیں کرتے۔قرءانِ مجیدعلم کے بغیر کئے گئے عمل کو یوں بیان کرتا ہے:

قَدْ خَسِـرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَٟدَهُـمْ سَفَهَاۢ بِغَيْـرِ عِلْمٛ

  • یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو انجام میں خسارے میں کر لیا ہے جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا،محض توہم پرستی کی خاطر۔یہ کرتے ہوئے علم کے متضاد رویہ اپنایا۔(حوالہ الانعام۔۱۴۰)

Root: س ف ه

کیا برا عمل/فحش جنسی عمل بشمول زنا۔بِجَهَٟلَةٛ۔ اُس اردو والے لفظ”جہالت“کے سبب ہوتا ہے جسے ”علم“کی ضد قرار دیا جاتا ہے؟ نہیں!برا عمل یا تو حالت غفلت میں ہو سکتا ہے یا پھر سینے،شکم اور زیرناف کی کسی بھوک کو مٹانے کیلئے اور خواہش کی تسکین کے جذبے کے زیر اثر اور اس سے مغلوب ہونے پر وجود پذیر ہوتا ہے۔برا عمل ایک عالم،داناوبینا،صاحب علم و بصیرت سے بھی سرزد ہو سکتا ہے اور اس سے بھی جو علم نہیں رکھتا،عقل وفہم کا کمزور ہے،جاہل و گنوار ہے۔ توبہ ان لوگوں کیلئے ہے جو کوئی برا فعل و عمل۔بِجَهَٟلَةٛ۔کر بیٹھتے ہیں پھر توبہ اور اصلاح کر لیتے ہیں۔اگر ”جہالت“ کے معنی علم کی ضد تصور کئے جائیں تو پھر ”اصلاح“کے معنی علم حاصل کرنا ہو جائیں گے۔

چونکہ ۔بِجَهَٟلَةٛ۔کی بناء پر برا عمل کرنے والے کیلئے شرائط پورا کرنے پر توبہ کی قبولیت کا حق ہے اس لئے اس کے معنی اور مفہوم اس سے بھی واضح ہو جائیں گے کہ کن کے برے عمل کی توبہ نہیں ہے۔

وَلَيْسَتِ ٱلتَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّئَاتِ

  • مگر متنبہ رہو؛توبہ کی قبولیت کا استحقاق ان لوگوں کے لئے قطعی نہیں ہے جو بدستور قابل تعزیر برائیوں پر عمل پیرا رہتے ہیں

حَتَّـىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُـمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ إِ نِّـى تُبْتُ ٱلْـٔ​َـٟنَ

  • یہاں تک  کہ ان میں سے کسی ایک کے پاس  جب یقینی موت کا احساس پہنچ گیا تو اس نے کہا"یقیناً میں نے اسی لمحے اپنے آپ کو برائیوں سے تائب کر لیا ہے"۔

وَلَا ٱلَّذِينَ يَـمُوتُونَ وَهُـمْ كُفَّارٌۚ

  • اور نہ توبہ کی قبولیت کا استحقاق ان لوگوں کے لئے  ہےجو طبعی موت مرنے لگے ہیں اس حالت میں کہ اس لمحے تک رسول کریم اور قرءان مجید کا ہٹ دھرمی سے انکار کرنے والے تھے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابٙا أَلِيـمٙا .١٨

  • یہ ہیں وہ لوگ۔۔ہم جناب نے ایک دردناک عذاب ان کے جرائم کی ان کو سزا دینے کےلئے تیار کردیا ہے۔

Root: ع ت د

واضح ہوا کہ برے عمل کو برا سمجھنے اور جاننے کے باوجود ایک شخص سے برے عمل  جذبات و خواہش سے مغلوب ہو کر دانستہ اور نادانستہ بھی سرزد ہو تے ہیں۔اور دوسرا شخص موت کا وقت آنے تک دانستہ برے عمل کئے چلا جاتا ہے جبکہ ۔بِجَهَٟلَةٛ۔جذبات سے مغلوب ہوکر برا عمل کرنے والا جلد ہی توبہ کرتا ہے اور اصلاح کرتا ہے اور اس کیلئے ا للہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں(الانعام۔۵۴)۔اور الانعام کی آیت ۵۵ میں بتایا :

وَكَذَٟلِكَ نفَصِّلُ ٱلْءَايَـٟتِ

  • اس طرح کے انداز بیان سے ہم جناب آیات کو جدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف فرماتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد لوگوں کے سمجھنے کے لئے آسان فہم بنانا ہے۔

Root: ف ص ل

وَلِتَسْتَبِيـنَ سَبِيلُ ٱلْمُجْرِمِيـنَ .٥٥

  • اور مزید براں ایسا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مجرمین کی راہ/نظریہ اور طریق حیات اپنے آپ سے متمیز اور نمایاں ہو جائے۔(الانعام-۵۵)

جذبات کے زیر اثر غلط کام دو طرح سے وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔پہلی صورت یہ کہ جذبات کی طغیانی میں بہہ کر کوئی غلط کام اچانک سرزد ہو جائے(on the spur of a moment or instinctively) اور دوسری صورت یہ ہے کہ دل کی خواہش اور جذبات کی تسکین کیلئے کسی غلط کام کو سوچ سمجھ کر دانستہ کرنا۔ خواہش، آرزو، جذبات کاسبب اور تحریک بننے والے مراکز سینہ،شکم اور زیر ناف ہے۔صالح فعل و عمل عقل و فہم کے تابع ہوتا ہے اور دانستہ یا غیر دانستہ برا فعل وعمل غفلت کی بناء پر یا نفس (جذبات)کے کہنے پر ہوتا ہے جو سینے اور زیرناف کی کسی خواہش اور بھوک کی تسکین کا ذریعہ بنتا ہے۔سینہ اور زیر ناف انسان کے  ارادے اور اختیار کے تابع ہے ۔لیکن شکم کی بھوک مکمل طور پر انسان کے ارادے اور اختیار میں نہیں ہے  اور حیات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس لئے استثنا دیا گیا ہے۔

فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِـى مَخْمَصَةٛ غَيْـرَ مُتَجَانِفٛ لِّإِثْـمٛۙ

  • چونکہ زندگی کو اچانک خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لئے اس ممانعت کا اطلاق اس شخص پر نہیں ہو گاجو لاچارگی،بھوک سے نڈھال اضطراری کیفیت میں ہو گیا ہے بشرطیکہ گناہ پر مائل سوچ میں نہیں ہے۔(حوالہ المائدہ۔۳)

Root: خ م ص

انسان  جب۔تَوْبَةٙ نَّصُوحٙا۔کے مرحلے سے گزر جاتا ہے تو ان کا ہمعصر بن جاتا ہے جنہوں نے یہ پوچھے جانے پر کہا تھا:

وَأَشْهَدَهُـمْ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُـمْۖ

  • اور خود انہیں ان کے نفوس پر عہد کا گواہ بنایا اور ان سے پوچھا"مجھے بتاؤ،کیا  تمہارا رب فقط میں نہیں ہوں"

قَالُوا۟ بَلَـىٰۛ شَهِدْنَآۛ

  • انہوں نے جواب دیا"کیوں نہیں،آپ ہمارے مطلق رب ہیں؛ہم نے اس بات کی گواہی دے دی ہے"۔(حوالہ الاعراف۔۱۷۲)

نَّصُوحٙا۔“کا مادہ ”ن ص ح“ہے۔شہد صاف کرنے اور کپڑا سینے کو کہتے ہیں۔شئے خالص ہو گئی۔تَوْبَةٙ نَّصُوحٙا۔کے معنی ایسی توبہ ہیں جس کے بعد انسان مخلص بندہ بن جائے۔تَوْبَةٙ نَّصُوحٙا۔کے بعد انسان محض منہ سے نہیں دل کی گہرائیوں سے پورے خلوص سے کہہ اٹھے گا:

إِيَّاكَ نَعْبُدُ

  •  آپ اور صرف آپ جناب ہیں جن کی بندگی ہم تسلسل سے بااظہارکرتے ہیں اور کرتے رہیں گے

وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيـنُ .5٥

  • اور صرف آپ ہیں جن سے اپنی شخصیت کواوج ثریا پر لے جانے کیلئے اعانت کے ہم طلبگار ہیں۔(الفاتحہ۔۵)