قرءانِ مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۱ ۔۔۔۔ سُورَةُ الفَاتِحَةِ   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


ترجمہ آیت۔۱

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .١

  • (آقائے نامدار رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے جومنبع رحمت ہیں۔

Video Urdu adjective: ٱلرَّحِيـمِ Video Proper Noun: ٱلرَّحْـمَـٰنِ;


تحلیل نحوی و صرف:

بِسْمِ ٱللَّهِ۔باہم متصل یہ دو مرکبات ہیں؛جار و مجرور اور مرکب اضافی حقیقی(أَلإضَافَةُ ٱلْحَقِيقِيَّةُ )۔ بِسۡمِ :جارومجرور۔بِ حرف جر  للإِسْتَعَانَةِ  + اسم مجرور-واحد-مذكر، معرفہ بسبب اضافت،اور بعد والے مرکب کا مضاف ہے۔ماخذ ’’س۔م۔و‘‘۔ٱللَّهِ :اسم علم،مذکر،مجرور للتعظیم،مضاف الیہ۔

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ۔مرکب توصیفی(النَّعْتُ الحَقِيقِيُّ)۔اسم علم، اللہ تعالیٰ کا اسم ذات/ہستی۔بدل اللہ،مجرور۔موصوف۔ اسم المبالغة-معرفہ باللام-مجرور-واحد مذكر۔صفت۔ماخذ ’ر۔ح۔م‘‘۔


 چند معروف تراجم:

ڈاکٹر طاہر القادری: "شروع اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے

احمد رضا خان: "اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا"

فتح محمد جالندھری: "شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔"

مولانامودودی:" اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے "

یہ تراجم  علمی کاوش کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ محض ان انگریزی تراجم کا اردو ورژن ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں نے بہت عرصہ قبل کئے تھے،جو نیچے درج ہیں۔جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ اس کو گوگل میں ڈال کر اردو ترجمہ دیکھ لیں۔

George Sale: In the name of the most merciful God.

JM Rodwell: In the Name of God, the Compassionate, the Merciful


تحلیل ۔تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت

یہ ساخت کے حوالے سے اختصارپر مبنی(elliptical sentence)جملہ ہے۔معنی اور مفہوم کے حوالے اس کی نوعیت اعلامیہ،اعلانیہ ہے جسے انگلش گرائمر میں Declarative sentenceکہتے ہیں۔
یہ جملہ ایک حرف (بِ) اور چار اسموں پر مشتمل ہے۔راشد خلیفہ   حروف ، جو آنکھوں کو دکھائی دیتے ہیں، کی گنتی بھی دانستہ غلط کر
تا ہے اپنے دماغی خلل سے پیدا کردہ ’’کوڈ‘‘کو تقویت دینے کے لئے۔حروف انیس(19)نہیں ہیں۔آئیں لفظوں کو بول کرتوڑتے ہوئے خود لکھیں اور خود گنیں۔ ا:بِ؛۲:سۡ۳:مِ۴:ٱ؛۵:ل؛۶:لْ؛۷:لَ؛۸:هِ؛۹:ٱ؛۱۰:ل؛۱۱:رْ۱۲:رَ؛۱۳:حْـ؛۱۴:مَ؛۱۵:ـٰ؛۱۶:نِ؛۱۷:ٱ؛۱۸:ل؛۱۹:رْ؛۲۰:رَ؛۲۱:حِ؛۲۲:يـ؛۲۳:مِ۔

اور معنی اور مفہوم کے لئے گرائمر کے حوالے سے ظاہری طور پر اس کے دو جزو ہیں:

پہلا جزو دو مرکبات کا مجموعہ ہے،جار و مجرور (prepositional phrase) اور مرکب اضافی(Possessive phrase) اور دوسرا جزو مرکب توصیفی(adjectival phrase) ہے ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے کسی اسم کے آخر میں حرف علت پیش نہیں ہے یعنی کوئی بھی اسم مرفوع نہیں ہے۔اور ابتدا میں جار و مجرور
(prepositional phrase) ہے جو نہ تو جملے کاموضوع / مبتداء (subject/topic)ہوتا ہے اور نہ ہی خبر۔
ایسے جملے جن میں کوئی اسم مرفوع نہیں اور اس میں کوئی فعل بیان کرنے والا لفظ نہیں ہے تو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی ابتدا میں کوئی لفظ محذوف ہے یعنی کوئی اطلاع کم /
missingہے۔انگلش میں اس طرح کے جملے کو elliptical sentence کہتے ہیں۔ماہرین گرائمر کہتے ہیں کہ اس جملے کے شروع میں ایک فعل محذوف ہے۔
ان تین مرکبات پر مشتمل الفاظ کے معنی ظاہر کرتے ہیں کہ اس جملے کی نوعیت معلوماتی/بیانیہ /
declarative ہے
۔ اورہم جانتے ہیں کہ ایسے بیانیہ جملوں کے لئے حوالہ /citation درکار ہوتا ہے۔یہ جملہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا آغاز / prelude-prologue ہے اور اس کو سب سے اول آقائے نامدار، رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا اوردائیں دست مبارک سے تحریر فرما کر لوگوں کو دیا تھا، اس لئے محذوف فعل اور فاعل کو ترجمے میں ان الفاظ سے میں نے بیان کیا ہے ”آقائے نامدار، رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا“۔

کلام اللہ کو پڑھنے،سمجھنے اوراس کا گہرائی اور گیرائی سے ادراک  کرنےکے لئے  تصریف آیات کے اصول سے استفادہ کرنا چاہئے۔یہ جملہ دو بار استعمال ہوا ہے۔ دوسری بار آیت ۳۰:۲۷میں مشبہ بالفعل حرف اِنَّ کی محذوف خبر کے متعلق ہے جو سلیمان علیہ السلام کا ایک ملکہ کے نام تحریر کردہ خط(عربی میں کتاب)کا ابتدائیہ،  Prologue تھا۔

قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟

  • ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں۔

Root: م ل ء

إِ نِّـىٓ أُ لْقِىَ إِلَـىَّ كِتَٟبٚ كَرِيـمٌ .٢٩

  • آپ کے علم میں اس حقیقت کو لانا ہے کہ ایک انتہائی نفیس مکتوب کو میرے روبرو پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

Root: ك ر م

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٟنَ وَإِنَّهُۥ

  • یہ (مکتوب)سلیمان (علیہ السلام)نے مجھے پہنچانے کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کا ابتدائیہ یہ ہے:

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ .٣٠

  • ’’اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے،وہ جناب منبع رحمت ہیں۔(النمل۔۳۰)

اس خط کے دوسرے جملے میں حرف مشبہ بالفعل اِنَّ کی خبرسے متعلق حصے کو سورۃ الفاتحہ کی سات میں سے پہلی آیت کے طورپر ایک مکمل جملے کی صورت عنایت فرمایا گیا ہے۔ہم بھی ملکہ سبا کی طرح کہہ سکتے ہیں کہ   قُرْءَانٚ كَرِيـمٚ      ۔ہم تک پہنچا دیا گیا ہے اور ہماری آنکھوں کے روبرو ہے۔یہ  ہمارے رہنما، معلم کے دائیں دست مبارک سے تحریر کردہ انتباہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں میں پہنچا دیا ہے:

وَأُوحِـىَ إِلَـىَّ هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ

  • اور یہ قرءان مجید مجھے زبانی(وحی)پہنچایا گیا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ میں تم لوگوں(اپنے ہمعصر،ہم نشیں)کوکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کروں اور ہر اس شخص کو جسے زمان و مکان میں یہ قرءان پہنچ گیا۔(حوالہ الانعام۔۱۹)

ا للہ تعالیٰ کے منفرد اور یکتا نام الرَحمٰن ذو الجلال والاکرام سے ابتدا کر کے، ہم نے ا للہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اورنبی امیّ ﷺ کی اتباع کا شرف حاصل کیا ہے کہ انہوں نے بھی کلام اللہ کو ایسے ہی پڑھنے کی ابتداکی تھی جب انہیں منصب رسالت پرفائز فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے انہیں قرء ان عظیم عنا یت فرمایا تھا:

ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ .١

  •  [جبرئیل علیہ السلام نے پیغام اور کتاب پیش کرتے ہوئے کہا]”آپ(ﷺ) اپنے رب کے  منفرداسم ذات (الرّحمٰن)سے ابتدا فرماتے ہوئے اِس کتاب کو پڑھیں ؛وہ جناب وہ ہستی ہیں جنہوں نے مادی عالم کو تخلیق فرمایا ہے۔(العلق۔۱)

بِسْمِ“ معنی و مفہوم۔ربط و تسلسل

اکیڈیمک اصول یہ ہے کہ تحریر میں مصنف کے بیان کردہ تصور اور مقصدِ بیان تک پہنچنے کے لئے ہر ایک جملے کو پہلے انفرادی الفاظ کی سطح پر سمجھا جائے، پھر مرکبات کی سطح پر اور آخر میں الفاظ اور مرکبات کے مابین مصنف نے تعلق پیدا کرنے کے لئے جس انداز میں انہیں جملے میں ترتیب دیا ہے اسے سمجھا جائے۔

اللہ تعالیٰ کے کلام  کے پہلے جملے کا پہلا لفظ”
بِسْمِ“ مرکب [Phrase] ہے کہ ایک حرف اور اسم پر مشتمل ہے،تین مرتبہ ہے:(1)01:01(2)11:41(3)27:30=3 

چار دوسرے مقامات پر اِس طرح تحریر فرمایا گیا ہے۔’’بِٱسْمِ‘‘:(1)56:74(2)56:96(3)69:52(4)96:01=4 

زبان اور ہونٹوں سے ادائیگی اور سننے والے کی سماعت کیلئے دونوں میں قطعی کوئی فرق نہیں۔اِس ایک جملہ نمالفظ کی دو طرح سے تحریر سے ثابت ہے کہ انہیں کسی سننے والے نے اول مرتبہ ضبط تحریر نہیں کیا تھا بلکہ اُن ﷺہی کے دائیں دست مبارک نے اِنہیں اول  مرتبہ تحریر فرمایا تھا جنہوں نے ہونٹوں اورزبان مبارک سے انسانیت کی سماعتوں تک پہنچایا تھا۔

 عربی زبان کی گفتگو اور تحریر میں حروف کی اہمیت کا ادراک کرنے کیلئے یہ حقیقت کافی ہے کہ قرء انِ مجید کی ابتداء ایک حرف سے ہوئی ہے۔ اِس عظیم کتاب کا ہر ایک انداز دنیا میں موجود تمام کتابوں سے منفرد اور یکتا ہے بالکل اُن منفرد اور یکتا کی مانند جن کا کلام اِس میں درج ہے اور اُن کی مانند منفرد اور یکتا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اِس کلام کو اپنے مبارک ہونٹوں اور زبان سے قول فرمایا اور اپنے دائیں دست مبارک سے تحریر کر کے انسانیت کو عطا فرمایا۔کہا جاتا ہے کہ حرف جر، کی تعریف definition کو متعین کرنا مشکل ہے مگر اُسے سمجھنا بالکل آسان ہے۔ قرء انِ مجید کی ابتدا،سمجھنے کیلئے آسان حرفِ جر سے ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہمارے رہنما آقا،آقائے نامدار رسولِ کریم ﷺ کی زبان مبارک  میں قرءانِ مجید کو پڑھنے، سیکھنے، سمجھنے اور یاداشت میں محفوظ رکھنے اور بیان کرنے کیلئے سہولت  مہیا کرنے والے کے طور مدون کیا گیا ہے۔
قرء انِ عظیم کا پہلا لفظ ”
بِسْمِحرف اور اسم کامرکب ہے۔ حرف تہجی ”ب“حرف علت زیر کے نشان کے ساتھ بِ کو حرف ِجراور انگلش میں Preposition کہتے ہیں۔یہ اپنے ساتھ منسلک اسم/ Noun کی حالت کو تبدیل کر کے اُس کے آخر میں زیر لگاکر اُسے مجرور یعنی Genitiveبنادیتا ہے اور اِس باہمی تعلق کو گرائمر کے ماہرین جار و مجرورکہتے ہیں۔عربی زبان کے اسماء اپنی اصل حالت/default settingمیں ہمیشہ مرفوع ہوتے ہیں یعنی اُن کے آخر میں ”پیش“ کا نشان یا تنوین یعنی دو پیش ہوتی ہیں۔ اِس لئے جملے میں اگر کوئی اسم  اپنی اصل حالت میں نہیں ہے یعنی اُس کے آخر میں زیر یا زبر ہے تو اُس کی وجہ معلوم کرنے کی ہمیں کوشش کرنا چاہئے۔جیسے یہاں ہم نے لفظ ”اسمُُُُُُ“کے حالت جر میں ہونے کی وجہ جان لی کہ حرف جر یعنی”بِ“کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ اسم کے آخری حرف پر جزم کبھی نہیں ہوتی اور فعل کے آخری حرف پر زیر نہیں ہوتی۔

حرف جر بِ /preposition وسیع تر مفہوم میں ربط اور قربت /contiguity کا اظہار کرتا ہے۔منسلک الفاظ کی نسبت سے مختلف معنی اور کردار کا حامل ہوتا ہے۔چونکہ اس سے منسلک لفظ اسم ہے تو اس کے تسلیم شدہ  معانی میں سے ارتباط، مصاحب یا استعانت کے کیئے جا سکتے ہیں۔اسم یعنی نام، علم کے حصول کی ابتدا ہے۔اسم جانکاری اوررابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔ پہلا  مرکب    کائنات کے نظام کی بنیاد کا اظہار  اور پہلا حرف انسان کے  ارادہ و اختیار، حریت اور ’’میں‘‘ پر مادر ِرحم سے لحد تک فقط معاشرت،ربط و الصاق اور تعاون کی محتاجی لاحق ہونے کا مظہر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ جملہ دوبار ہے جس میں خالق کائنات کے دونوں یکتا نام اللہ اور ا لرّحمٰن موجود ہیں۔اور ایک ایک باراللہ تعالیٰ اور ا لرّحمٰن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ’’
ٱلْمُسْتَعَانُ‘‘ہیں یعنی جن کی جانب استعانت کے لئے رجوع کیا جاتا ہے۔(حوالہ سورۃ یوسف۔۱۸ اور الانبیاء۔۱۱۲)

اِس مرکب کے عام فہم معنی ہیں ” اسم/نام سے ابتدا ہے ۔ Beginning is with the name/code“
عربی زبان کے الفاظ کی اکثریت کا ماخذ ایک تین حرفی ترتیب ہے جسے مادہ/rootکا نام دیتے ہیں۔
اِس لفط ’’اسم“ کا مادہ ”س ۔م۔ و“ہے جس میں سمویا بنیادی تصور  عروج ،بلند و بالا پن،ارتفاع ،وسعت اور پھیلاؤ ہے۔اس سے’’
ٱلسَّمَآءُ‘‘یعنی آسمان ہے۔ یہ شئے اور ہستی کا نام ہے جو اپنے تعین،تعارف اور حوالے کے لئے دوسرے کا محتاج نہیں۔قرء انِ عظیم کا پہلا لفظ مادی کائنات کے متعلق سب سے اول حقیقت /first ever scientific fact کو بیان فرما رہا ہے کہ تخلیق اور اسم لازم و ملزوم ہیں۔ تخلیق کار جب شئے کو وجود دیتا ہے تو بیک وقت اُس کا نام بھی متعین کرتا ہے جس کی بناء پر وہ شئے دوسری تمام اشیاء سے متمیز اور منفرد ہو جاتی ہے۔نام پہلے سے موجود ہستی کا اظہار کرتا ہے اور نام/کوڈتخلیق کردہ شئے اور ہستی کو انفرادیت/ individualityعطا کرتا ہے جو اُس کا تعارف بن جاتا ہے اور اُس کے وجود پذیر ہونے کا ثبوت چاہے وہ شئے یا ہستی کسی کی بصارتوں سے اوجھل کیوں نہ ہو۔جس کتاب عظیم کا اول لفظ مادی کائنات کی اول حقیقت کوبیان کرتا ہو اُس کتاب کے متعلق عدم ربط و تسلسل کی بے سروپا بحث پر سوائے افسوس کے کیا کہا جائے۔

اگر آپ یا میں، یا کوئی بھی خالق کسی شئے کو محض اپنے مشغلے / Pass timeکیلئے تخلیق کرتا ہے تو پھر اُس شئے کو نام دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر خالق نے کسی دوسرے کیلئے شئے کوتخلیق کیا ہے تو پھر اُس شئے کو دوسرے کو متعارف کرانے کیلئے نام دینا ضروری ہے۔ اور یوں تخلیق شدہ کو اُس کا نام یہ اہمیت عطا کر دیتا ہے کہ اُس کا وجود مقصدیت / significance کاحامل ہے۔

بِسْمِ“۔اسم/نام سے ابتدا ہے۔ اور اگرگرائمر کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو سب سے اول تعلق/relationshipجو وجود میں آیا وہ آزاد/ Independent اور محتاج یعنی dependentکا ہے ۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ

  • !اے لوگو!دھیان سے سنو

أَنتُـمُ ٱلْفُقَـرَآءُ إِلَـى ٱللَّهِۖ

  • تم لوگ   قدرتی طور پر دائمی حاجت مند ہو،زمان و مکان   میں بالآخر تمہیں اللہ       تعالیٰ کے حضور گداگر بننا پڑتا ہے۔

Root: ف ق ر

وَٱللَّهُ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَـمِيدُ .35:15١٥

  • اور اللہ تعالیٰ مطلق آزاد،ہر احتیاج سے منزہ اور بلند وبالا ہیں،اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔(فاطر۔۱۵)

اسم سے ابتدا ہے۔ انسان اورآج کے دور میں کمپیوٹر کی یاداشت/Memoryمیں بھی کوئی چیز اُس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک اسے ایک کوڈ/اسم نہ دیا جائے۔نام شئے اور ہستی کا محض تعارف/معرفت اور شناخت ہے اُس کی پہچان نہیں۔نام شئے یا ہستی کو ”نکرہ“ عام یعنی commonailityسے نکال کر معرفہ specific or proper nounتو بنا دیتا ہے جس سے اُس کے وجود میں ہونے کا اظہار ہو جاتا ہے جو علم کی ابتدا ہے مگر یہ نام اُس شئے یا ہستی کی پہچان نہیں کہلاتا کیونکہ کسی بھی شئے اور ہستی کو ہم صرف اُس صورت میں پہچان سکتے ہیں اور اُس کے متعلق علم رکھنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں جب اُس شئے یا ہستی کا باطن ہماری بصارتوں اور ادراک میں آ جائے۔ ہمیں شئے کے باطن کا ادراک اُس کی ”تقدیر“ یعنی اُس کے پیمانے اور دوسری اشیاء کے ساتھ باہمی ربط و تعلق کو دیکھنے اور جانچنے سے ہوتا ہے ۔اس مشاہدے اور جانچنے کو آپ سائنس کہتے ہیں۔

مگر شئے اور ہستی میں فرق ہے۔ہستی کو ہم اُس وقت پہچان سکتے ہیں جب اپنے باطن کو وہ خود نمایاں کرے، اُس کا اظہار کرے، اپنی خصوصیات کو نمایاں اور عیاں کرے اپنے فعل و عمل سے۔اور جو ہستی اپنے باطن کو مکمل طور پر نمایاں کر دے وہ ظاہر سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے چاہے اُس کا ظاہر ہماری بصارتوں کے احاطہ میں نہ ہو،یہ ہماری بصارتوں کی کجی اورکمزوری ہے۔وہ ہر لمحہ ہمارے پاس ہوتا ہے۔

’’بِسْمِ ٱللَّهِ‘‘:جار و مجرور + مرکب اضافی حقیقی

 ہم نے ایک متصل  حرفِ جر اور ایک اسم سے بنے مرکب کے مطالعہ میں دیکھا کہ حرف جر کی وجہ سے اسم کی اعرابی حالت یعنی اُس لفظ کے آخر میں موجود حرف علت [Vowel] کی نوعیت بدل جاتی ہے۔اسم جو اپنی اصل حالت میں مرفوع تھا یعنی اُس کے آخر میں ایک پیش یا دو پیش تھیں وہ ایک زیر یا دو زیر کا حامل بن کر اسم مجرور ہوگیا۔اگر آیت مبارکہ کے پہلے دو الفاظ میں سے حرفِ جر ’’بِ‘‘ کو ہٹائیں [Truncate] تو انہیں ایسا لکھا جائے گا:ٱسْمُ ٱللَّهِ ۔یہ قرء انِ مجید میں چار مرتبہ ہے ان آیات میں:الانعام۔۱۱۸؛۱۱۹؛۱۲۱ اورسورۃ الحج۔۴۰۔ یہ مرکب اضافی [Possessive Phrase] ہے۔

دو اسموں کے مابین ایساتعلق اور نسبت موجود ہو جو حقیقت پر مبنی ہو توایک اسم کے ساتھ دوسرے اسم کی اضافت گرائمر کی زبان میں مرکب اضافی حقیقی کہلاتا ہے۔ایسے مرکب کا پہلا اسم اپنے سے بعد والے اسم کے ساتھ ایک نسبت اور تعلق کا اظہارکرتا  اورمضاف کہلاتا ہے اور دوسرے اسم کو مضاف الیہ کہتے ہیں ۔ جو اسم مضاف الیہ ہے وہ ہمیشہ مجرور/حالت جر میں ہوگا۔اور جو اسم مضاف ہے یعنی اِس مرکب کا پہلا جزو ہے اُس کی ابتداء میں اسماء کو معرفہ  [Definite] بنانے والا حرف [Definite Article] ”ال“ کبھی نہیں ہو گا اور مزید بصری پہچان یہ ہے کہ اُس پر تنوین یعنی دو زیر،دو زبر،دو پیش کبھی نہیں ہوں گی۔خارجی عوامل کی بناء پر اُس پر پیش کے علاوہ ایک زیر یا ایک زبر ہو سکتی ہے جیسے اِس پہلے مرکب اضافی حقیقی کے پہلے اسم یعنی مضاف کے آخر میں زیر ہے  بسبب حرفِ جر ”بِ“۔
یہ معلوم حقیقت ہے کہ اسماء کے مابین تعلق اور نسبت کے متعدد انداز اور زادئیے ہیں جن میں جنس
[Gender] اور تعداد/ واحد، تثنیہ اور جمع [Plurality] حائل نہیں ہوتی۔ اِس لئے اِن دونوں حوالوں سے مرکب اضافی حقیقی میں مضاف اور مضاف الیہ اپنی اپنی حقیقت کا اظہار کرتے ہیں اور مرکب اُس حیثیت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

مرکب اضافی میں مضاف الیہ نکرہ یعنی غیر معروف اسم ۔ [Indefinite Noun] ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اسم معرفہ ہے [Definite/Proper Noun] تو پھر مضاف،باوجود کہ بظاہر نکرہ ہے، اسم معرفہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اُس کے ساتھ حرف ”ال“ اور تنوین متصل/منسلک نہیں ہوتی ۔

چونکہ مرکب کا دوسرا اسم، اسم علَم (proper noun) ہے اس لئے پہلا لفظ اسم بھی معرفہ(definite)ہے یعنی۔ ٱلِآسْمُ   ۔ہے، بمعنی خاص/ مخصوص نام، کہنے اور سننے والے کیلئے جانا پہچانا نام جس کی نسبت اور تعلق طے شدہ اور مخصوص ہے۔اس طرح اس مرکب اضافی کے معنی ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا مخصوص نام/ذاتی نام“۔یاد رہے مرکب اضافی دو مختلف اسموں کے مابین تعلق کو بیان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اور ان کا مخصوص نام دو حقیقتیں ہیں۔

جملے میں جب دو مرکب اکٹھے ہوں تو وہ معنی اور مفہوم کے لئے جملے کاایک جزو ہوتے ہیں۔’’بِسْمِ ٱللَّهِ‘‘ ایک جزو ہے،اور اس کے معنی بن گئے: ’اللہ تعالیٰ کے مخصوص نام سے ابتدا ہے“، جسے پکار کریایاد کر کے ہرقول و فعل کی ابتداء کرنی ہے۔
عربی زبان کی تحریر کے جملوں میں موجود الفاظ کا اپنے سے قبل اور مابعد الفاظ سے نسبت اور تعلق اور خود اُس کی اپنی حیثیت اور ادائیگی کردار کا تعین کرناجملے میں موجود تصور،معنی اور مفہوم کوغیر مبہم انداز میں سمجھنے کی بنیادی شرط ہے۔الفاظ کے محض انفرادی معنی معلوم ہونے سے جملے کے معنی،
مفہوم اور اُس میں بیان کیا گیا تصور اُس وقت تک سننے اور پڑھنے والے کے ذہن کو منتقل نہیں ہو سکتا جب تک الفاظ کے مابین موجود تمام نسبتوں اور تعلق کی اُسے جانکاری ہو۔

’’بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ‘‘

’’بِسْمِ ٱللَّهِ‘‘کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کا اسمِ ہستی/مخصوص اور یکتا اسم گرامی قدر  ٱلرَّحْـمَـٰنِ(ذوالجلال والاکرام)ہے۔

اِس یکتا اسم کے آخر میں بھی زیر ہے یعنی اِس مقام پر یہ بھی اسم مجرور ہے۔گرائمر کے ماہرین اِس کی وجہ یہ اصول بتاتے ہیں کہ پہلے بیان کردہ اسم کے متبادل [Equivalent Apposition] جو اسم جملے میں موجود ہو گا اُس کی اعرابی حالت، جنس [Gender] اور عددی حیثیت [واحد/ تثنیہ/جمع] قبل والے اسم کے مطابق ہو گی۔یہاں چونکہ قبل والے اسم کی اعرابی حالت مجرور ہے اِس لئے اِس اسم کے آخر میں بھی زیر ہے اور دونوں اسم واحد،مذکر ہیں۔

’’بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ‘‘”اللہ تعالیٰ کے مخصوص /یکتا/جانے پہچانے اسم ہستی/ذاتی نام الرحمٰن سے ابتداہے“۔اردو کا لفظ ’’ابتدا‘‘عربی سےمشتق ہے؛ جس کی عربی میں املا’’ابتداء‘‘ہے جو باب افتعال کا مادہ ’’ب۔د۔ء‘‘ سے مصدر ہے، اور اس کے معنی کسی امر کی بسم اللہ،شروعات،آغاز ہیں ۔ اور باب افتعال کی وجہ سے اس کے لئے ارادہ اور قوت کا پہلے سے موجود ہونا لازم ہے۔مگر عربی کے حرف ’’بِ‘‘میں الصاق اور استعانت کے معنی ہیں۔اللہ تعالی  ٰ ’’ٱلْمُسْتَعَانُ‘‘ ہیں جن سے ہر امر کے لئے ہم تعاون کے طلبگار اور خواہش مند ہیں۔ہم درحقیقت کسی بھی امر کی ابتدا کر ہی نہیں سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کا اِذن اور اُن کا تعاون حاصل  نہ ہو۔یہ کائنات اور موجودات میں سب سے اول حقیقت ہے۔

’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ا للہ تعالیٰ کا   اسم ذات ہے؛  صفاتی    ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ میں سے نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے کلام کی پہلی آیت مبارکہ میں ’’ٱلرَّحْـمَـٰنِ‘‘ اسم  علم کا ترجمہ کرتے ہوئے اولین مترجمین میں شمار ہونے والے دو عیسائی انگریز سکالروں جارج سیل (George Sale)ا ور جان روڈویل (John Medows Rodwell) نے اسے صفت (adjective) بنا دیا تھا۔انہوں نے اس کا ترجمہ "the most merciful" اور "compassionate" کیا تھا۔مگر جان روڈ ویل نے زیادہ مقامات پر اس کا ترجمہ God of mercy کیا۔
ان کے بعد کے انگریزی اور اردو زبان کے مترجمین نے ان ہی کے ترجمے کونہ جانے کس بنیاد پر مستند مان کر یہی ترجمہ اختیار کیا۔اردو میں اِس کا ترجمہ ”بڑا مہربان، بہت مہربان،نہایت مہربان“ کیاگیا جو ایک صفت بیان کرتے ہیں اور انہی انگریزی الفاظ کا اردو ترجمہ ہے۔ اور زیادہ مقامات پر اس کا ترجمہ ”خدائے رحمان“ کیا۔
ایک ترجمے کی مثال لیتے ہیں۔ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے نو مقامات پراس کا ترجمہ”نہایت مہربان“ کیا۔دس مقامات پر ”رحمان“، ایک مقام پر ”اللہ“ اور سینتیس مقامات پراس کا ترجمہ ”خدائے رحمان“ کیا۔یہ سینتیس مقام وہی ہیں جہاں روڈ ویل نے ترجمہ
God of mercy کیاتھا۔

 ہستی کا ذاتی نام [Personal Name] ہمیشہ واحد ہوتا ہے، اِس کی تثنیہ اور جمع نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ایسا قاعدہ ہے کہ ایک مذکر کے ذاتی نام کو مؤنث بنایا جا سکے جبکہ عربی زبان میں اوصاف کو بیان کرنے والے اسماء [Adjectival Names] کی تشنیہ اور جمع بھی ہوتی ہے اور اُن اسماء کو مؤنث اور مذکر بنایا جا سکتا ہے۔ عربی زبان کا اصول ہے کہ موصوف کی جنس اور عدد کے مطابق صفت بیان کرنے والے لفظ کی جنس اور عدد ہو گا۔  اگر’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ ذاتی نام کی بجائے صیغہ صفت ہوتا تو اس لفظ کی جمع بھی ہوتی اوراس کے مقابل مؤنث لفظ بھی ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ ہستی کاذاتی نام ہے۔
عربی زبان کے مرکب اضافی میں پہلا اسم یعنی مضاف اسم معرفہ /ذاتی نام نہیں ہوتا۔اسم ذات ہمیشہ مضاف الیہ ہوتا ہے۔قرء انِ مجید کے غیر تمام کتابوں اور تحریروں میں بھی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ کبھی مضاف کی حیثیت میں نہیں ملے گا۔جیسے۔عِبَادُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔ الرحمٰن کے بندے، اگر ہم اس مرکب کا ترجمہ کریں ”بڑے/نہایت مہربان کے بندے/غلام“ تو اردو کایہ مرکب مہمل ہو جاتا ہے کیونکہ سننے والا پوچھے گا کہ ”بڑے/نہایت مہربان“کون صاحب ہیں۔اگر کہنے اور سننے والے دونوں ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کا ذاتی نام مہربان ہے تو ”مہربان کے بندے/غلام“کہا جا سکتا ہے۔

عربی ز                                            بان کے سیدھے سادے قواعد سے یہ بات طے ہے کہ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ذوالجلال والاکرام اللہ تعالیٰ کاذاتی نام ہے اور یہ صفت نہیں مگرہم تقریباً                           تمام دستیاب تراجم اور تفاسیر میں اسے صفت کے طور پر لکھا دیکھتے ہیں۔
اکیڈیمک اصول کا تقاضا ہے کہ مترجم کسی بھی کتاب کا ترجمہ کرنے سے پہلے اس میں بیان کردہ اسماء میں ذاتی نام اور دوسرے اسماء میں فرق دیکھے۔اور ذاتی نام کا ترجمہ نہ کرے بلکہ اس کو ترجمے کی زبان میں ایسے لکھے جس سے وہی صوت پیدا ہو جو اصل زبان میں نام کی صوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی کسی شخص کے نام کا عربی میں میں ترجمہ کر کے قرء انِ مجید میں نہیں لکھا۔عجیب اور حیران کن بات ہے کہ مترجمین نے ایک ایسے لفظ کا تعین بھی نہیں کیا جو قرء انِ مجید میں ستاون بار استعمال ہوا ہے کہ وہ اسم ذات
(proper noun) ہے یا وصف(adjective)۔
عربی زبان کے قواعد سے قطع نظر جو
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ کوصرف ذاتی نام ظاہر کرتے ہیں،ہم للہ تعالیٰ کے فرمان کے بموجب آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ کو اپنے مابین تصور کرتے ہوئے اُن ہی سے رہنمائی لیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے یا ان کی صفت۔
عام فہم بات ہے کہ مخلوقات میں سے جس ہستی کا قلب و ذہن، انمٹ تحریری نقوش میں ہماری دسترس اور نگاہوں میں ہو،اُن کے متعلق ہم زیادہ دعویٰ اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں ہم بخوبی پہچانتے اور جانتے ہیں بہ نسبت اُس شخص کے جو ہمارے ساتھ بشری طور پر موجود رہتاہے۔جس ہستی کا باطن ظاہر ہو جائے وہ موجود سے زیادہ موجود ہوتا ہے۔آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی مکمل حیات طیبہ، ولادت مبارک سے آخری سانس تک کا تحریری عکس،قرء انِ مجید میں موجودہے۔یہ آپ ﷺ کے ذہن و قلب، آپ کے باطن کو ہر لمحہ ہماری نگاہوں کے روبرو رکھتا ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ ہستی کا ذاتی نام ہے یا ان کی ایک صفت،اسم مبالغہ ہے۔سوال معلِّم سے کیا جاتا ہے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ .١

عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ .٢

  • (آگاہ ہو جاؤ)الرّحمن عز و جل نے رسول کریم محمد (ﷺ)کوقرءانِِ مجیدکی تعلیم دی ہے۔ (الرحمٰن۔۱۔۲)

عَلَّمَ۔فعل ماضی واحد مذکر ہے،باب تفعیل اورمصدر تعلیم سے۔مکمل بیان کے لئے اس کے ساتھ دو مفعول آتے ہیں۔ایک وہ جسے تعلیم دی گئی اور دوسرا جس بات کی تعلیم دی گئی۔فعل کے فاعل یعنی معلم الرَّحمٰن سبحانہ و تعالیٰ ہیں اور جنہیں تعلیم دی گئی وہ آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺ ہیں  ۔ جس کی تعلیم دی گئی وہ قرء انِ مجید ہے۔اور ہمارے معلم کون ہیں،ان کے متعلق بتایا:

وَيُعَلِّمُكُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحِكْمَةَ

  •  اوروہ (رسول امین)تم لوگوں کو ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں اور حکمت،اس میں درج علم کو بروئے کار لانے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ (حوالہ البقرۃ۔۱۵۱)

يُعَلِّمُكُـمُ۔ فعل مضارع مرفوع ہے جس میں حال اور مستقبل میں فعل کے وقوع پذیر ہونے اور تسلسل کے معنی ہوتے ہیں۔یہ بھی باب تفعیل اورمصدر تعلیم سے ہے۔ معلم، آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺ ہیں۔جنہیں آپ ﷺ تعلیم دیتے ہیں اس کے لئے جمع حاضرمذکریعنی مخاطبین کی ضمیر ”کُمُ“ہے یعنی آپ اور میں،اور ہر کوئی جو قرء انِ مجید کو پڑھتا ہے اور پڑھے گا۔اورآپ ﷺ جس کی ہمیں تعلیم دیتے ہیں وہ قرء انِ مجید ہے جو فعل کا دوسرا مفعول بہ ہے۔
جوطالب علم بشری طور پرمعلم کے روبرو ہوتے ہیں وہ اگر کسی بات کے متعلق وضاحت چاہتے ہیں توسوال پوچھ لیتے ہیں جس سے انہیں خود ذہنی طور پر زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔موجود لوگوں نے معلم سے سوال پوچھے تھے اور انہیں جواب دئیے گئے تھے۔سوال اور جواب، من وعن انہی لفظوں میں ہمیں تحریرًا  بتا دئیے گئے ہیں۔لیکن جو طالب علم بشری طور پر معلم کے روبرو نہیں،اگر اس کے ذہن میں کوئی نیاسوال اٹھتا ہے تو اسے خود کتاب میں جواب تلاش کرنا ہو گا۔
ہستی کا تعارف اور اُس کو یاد کیا جانااور پکارنا اُس کے مقام و مرتبہ اورذاتی نام
[Personal Name] سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ اِس بات اور نکتے کو ہم لوگوں کو یوں بتائیں اور سمجھائیں:

قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْـمَـٰنَۖ

  • آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا تم لوگ الرَّحمٰن کہہ کر پکارو۔

أَيّٙا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلۡأَسْـمَآءَ ٱلْحُسْنَىٰۚ

  • جس لمحے بھی تم لوگ طلبگار توجہ ہو تو تمہیں بدرجہ اتم تعریف کے حامل اسماء کے ساتھ پکارنا چایئے کیونکہ بدرجہ اتم خصوصیات،توازن و حسن،کبریائی کو بیان کرتے اسماء صرف اور صرف ان (الرحمٰن ذالجلال والاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہیں۔“(حوالہ الاسراء۔۱۱۰)

آقائے نامدار ﷺ نے ہمیں بتایا کہ رب العالمین کو ہم ا للہ کہہ کر پکاریں یا الرَّحمٰن کہہ کر پکاریں۔ان دو ناموں کے درمیان ”اَوِ“ کے معنی ”or،یا“ ہیں، یہ یا اس کے متبادل یہ،اس سے واضح ہے کہ یہ دونوں ذاتی نام(Proper Name) ایک ہستی کے ہیں جو لوگوں کے اِلہٰ ہیں۔

آقائے نامدار ﷺ نے ہمیں بتایا کہ رب العالمین کو ہم ا للہ کہہ کر پکاریں یا الرَّحمٰن کہہ کر پکاریں۔ان دو ناموں کے درمیان ”اَوِ“ کے معنی ”or،یا“ ہیں، یہ یا  ۔اُس کے متبادل یہ،اس سے واضح ہے کہ یہ دونوں ذاتی نام(Proper Name) ایک ہستی کے ہیں جو لوگوں کے اِلہٰ ہیں۔
ا للہ تعالیٰ کے منفرد اور یکتا نام ’’
ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘سے ابتدا کر کے ا للہ تعالیٰ اور قرءانِ عظیم کے حکم کی تعمیل اوررسولِ کریم ﷺ کی اتباع کا شرف ہم نے حاصل کیا ہے کہ انہوں نے بھی قرء انِ مجید کو ایسے ہی پڑھنے کی ابتداکی تھا جب انہیں پیش کئے جانے پر یہ کہا گیا تھا:

ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ .١

  • [جبرئیل علیہ السلام نے پیغام اور کتاب پیش کرتے ہوئے کہا]”آپ(ﷺ) اپنے رب کے  منفرداسم ذات (الرّحمٰن)سے ابتدا فرماتے ہوئے اِس کتاب کو پڑھیں ؛وہ جناب وہ ہستی ہیں جنہوں نے مادی عالم کو تخلیق فرمایا ہے۔(العلق۔۱)

  عام فہم بات اور ہمارا ادراک یہ ہے کہ کسی بھی شئے کے خالق اور تخلیق کردہ کے مابین تعلق رب اور بندے/غلام کا ہوتا ہے۔تخلیق کرنے والے رب کے مخصوص نام کے ساتھ پڑھنے کیلئے کہا گیا اور پڑھا تحریر کو جاتا ہے۔ٱقْرَأْ۔یہ جملہ ایک  منظر دکھا رہا جس میں متکلم اور مخاطب موجود ہیں۔ فعل متعدی ہے جس کا مفعول محذوف ہےکیونکہ کتاب کو پیش کرتے ہوئے اسے پڑھنے کا کہا جا رہا ہے۔”رب“ تعلق کا اظہار کرتاہے خالق کا نام (Proper name)نہیں۔

دوسرے جملے میں  ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ مرکب توصیفی ہے۔ وصف بیان کرتا دوسرا لفظ اسم تفضیل / superlative ہے۔ پہلااسم جمع ہے۔تمام ایسے اسماء جو بدرجہ اتم تعریف بیان کرنے والے ہیں۔ذاتی نام اسم تفضیل نہیں ہوتے، کیونکہ وہ دو یا دو سے زیادہ کے مابین موازنہ کرتے ہیں،بہتر اور بہترین کا۔

تمام اشیاء اور مخلوقات کے نام رکھے جاتے ہیں۔انہیں نام دئیے جاتے ہیں۔

وَإِ نِّـى سَـمَّيْتُـهَا مَـرْيَـمَ

  • اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔(حوالہ ءال عمران۔۳۶)


يـٟزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّـرُكَ بِغُلَٟمٛ ٱسْـمُهُۥ يَحْيَىٰ

اے زکریّا(علیہ السلام)! ہم جناب آپ کو ایک بیٹا عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔اس کا نام یحیَیٰ ہے۔

لَمْ نَجْعَل لَّهُۥ مِن قَبْلُ سَـمِيّٙا .19:07٧

  • ہم نے اُس کی خاطرزمانہ قبل میں کسی کے لیئے یہ نام مقرر نہیں کیا۔(مریم۔۷)

اللہ تعالیٰ نے ذاتی نام’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ خود اپنے لئے پسند فرمایا ہے۔یہ یکتا ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔یہ عربی زبان کا نام ہے۔اور قرء انِ مجید بھی عربی زبان میں ہے جس کے متعلق فرمایا کہ یہ آپ ﷺ کی زبان میں ہے،اور پھر آپ ﷺ سے اپنے نام’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ (ذوالجلال والاکرام)کے متعلق سوال کیا:

هَلْ تَعْلَمُ لَهُۥ سَـمِيّٙا 

  • کیاآپ(ﷺ) اُن (الرَّحمٰن)کے نام کی کوئی نظیر جانتے ہیں؟(حوالہ مریم۔۶۵)

هَلْ۔حرف استفہام ہے جو جملے میں بیان کردہ بات کی تصدیق چاہتا ہے کہ یہ حقیقت ہے یا نہیں۔یا رب!آپ جناب کے حبیب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے اسم مبارک کی کوئی نظیر نہیں۔یا رب!آپ جناب کا میرے آقا کی زبان میں یہ نام پسند فرمانا اور پھر انہی سے پوچھنا،،ہمیں بھی بہت کچھ ظاہر کر گیا ہے کہ محبت اور قربت کی اوج کیا ہے۔سبحانکَ
اللہ تعالیٰ کے کلام میں مختلف موضوعات پر گفتگو میں ہم دیکھیں گے کہ
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام ہے،صفت نہیں۔

۱۔ معبود کا نام ہوتا ہے جس سے انہیں پکارا جاتا ہے۔
انسان جس کسی کو معبود سمجھتا ہے،اگر وہ حقیقت میں موجود نہیں تو بھی انہیں ایک نام دے کر ہست کرتا ہے:

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْـمَآءٙ سَـمَّيْتُـمُوهَآ أَنتُـمْ وَءَابَآؤُكُم

  • ان جناب کے سوائے اور علاوہ تم لوگ در حقیقت بندگی کسی نہیں کرتے مگر محض ناموں کی جو تم لوگوں نے خود سے دئیے ہیں،تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے۔

معبود،جس کی عبادت کی جائے،جس کی بندگی کی جائے،جس کا ہر حال میں ادب و احترام کیا جائے،اس کے لئے عربی میں اسم جنس/نوع (common noun - having sort, genus) ۔إِلَٟهٚ۔ہے۔لوگوں نے زمان و مکان میں بہت سے معبود اختراع کیئے اور ان کے تخیلاتی نام رکھے۔اس گمراہ کن فلسفے کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کا معبود فقط معبود مطلق ہے جن کا نام  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ہے:

وَإِلَـٟهُكُـمْ إِلَـٟهٚ وَٟحِدٚۖ

  • اوریہ حقیقت ہمیشہ مدنظر رہے کہ تم لوگوں کے معبود فقط معبود مطلق ہیں۔

لَّآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ

  • ان تمام کے متعلق جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےمبنی بر حقیقت خبر یہ ہے کہ ان میں کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان واحد معبود مطلق کے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ ٱلرَّحِـيـمُ .١٦٣

  • وہ معبود مطلق الرّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)ہیں جو منبع رحمت ہیں۔(البقرۃ۔۱۶۳)۔


وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ

  • اور آپ(ﷺ)ان سے دریافت کر لیں جنہیں ہم جناب نے آپ سے قبل کے ادوار میں بحثیت رسول بھیجا تھا،یہ آپ ہمارے رسولوں میں سے بعض کی قرءان مجید میں بیان   کردہ خبروں/تاریخ سے کریں۔

أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ءَالِـهَةٙ يُعْبَدُونَ .٤٥

  • ’’کیا ہم جناب نے الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)کے علاوہ مادی اشیا اور مردوں کومعبودان قرار دیا تھا جن کی پرستش کی جاتی         ہے؟‘‘۔(الزخرف۔۴۵)

اللہ تعالیٰ کے کلام،قرءان مجیدکا  محور،کلیدی تصور، مرکزی خیال/مقالہ بیان (Thesis Statement)"لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ"۔ہے۔اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام کے علاوہ وہ تمام جنہیں معبودان، إِلَٟهٚ۔ متصور کیا جاتا ہے ،بشمول عیسیٰ علیہ السلام،ابن مریم، وہ تمام  مادہ اور مردہ ہیں،ذی حیات  سے الگ حیثیت کے حامل۔مطلق معبود اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام ٱلْحَـىُّ  ہیں:

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔(یہ جملہ ءال عمران۔1؛النساء۔87؛طۃ۔8؛النمل۔26؛ القصص۔70؛التغابن۔ 13  میں  بھی ہے)

ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُۚۚ

  • اللہ تعالیٰ کامل حیات ہیں،اوروہ تمام نظام کو سنبھالنے اورقائم رکھنے والے مقتدر اعلیٰ ہیں۔(حوالہ البقرۃ۔۲۵۵)


قرء انِ مجید میں معبود مطلق کا نام صرف اللہ تعالیٰ اور۔  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘۔ ذوالجلال والاکرام بتایا گیا ہے۔اور تمام۔ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۔ معبود مطلق کی صفات (epithets) بیان کرتے ہیں۔


۲۔ معبود مطلق کی بندگی کرنے والے بندے معبود مطلق کے نام سے بیان ہوتے ہیں،ان کی صفات کے حوالے سے نہیں۔

عام گفتگو میں بھی جب کسی ملازم یا غلام شخص کے مالک کا ہم حوالہ دیتے ہیں تو ہمیشہ مالک کا نام لیتے ہیں، اس کی کسی صفت کے حوالے سے نہیں۔ کسی بھی صفاتی نام کے حوالے سے کسی کو بندہ نہیں کہا جاتا۔

۔عَبْدُ ٱللَّهِ۔(حوالہ مریم۔۳۰)

۔عِبَادُ ٱللَّهِ۔(حوالہ  الانسان۔۶)

۔عِبَادُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔(حوالہ الفرقان۔۶۳)

۔عِبَٟدُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ۔(حوالہ الزخرف۔۱۹)

۔ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ کے حوالے سے  کسی کو بندہ نہیں کہا گیا۔اس طرح واضح ہے کہ  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ اسم علم،اسم ذات ہے۔


۳۔ معبود مطلق کی پہچان (recognition) رب العالمین ہے۔اور رب العالمین کا نام اللہ تعالیٰ اور  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘۔ ہے:
قرء انِ مجید میں تمام تخلیقات کے رب کو بیان کرنے کے لئے ان کے دو ذاتی نام بیان ہوئے ہیں، اللہ اور
  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ سبحانہ و تعالیٰ۔

تعارف اور پہچان میں فرق ہے۔نام شئے اور ہستی کو متعارف کرنے کے لئے ہیں۔نام (اسم علم)تمام موجودات میں منفرد حوالے کے لئے ہیں۔علم کی ابتدا مفردات، موجودات کے نام سے متعارف ہونا ہے۔یہ محض  اطلاع ہے۔اور شئے اور ہستی کے متعلق جس قدر معلومات کسی کو حاصل ہوں گی اسی تناسب سے وہ شئے اور ہستی اس کے لئے معروف ہو گی،مشہور، شہرت یافتہ (high profile)۔پہچان اورقدر کا تعلق اس شئے اور ہستی کے خواص،حیثیت،مقام و مرتبہ، قدر،قابلیت،روئیے،سلوک اور ان کےاظہار سے ہے۔ان کے حوالے سے شئے اور ہستی کی قدر(recognition)کے پیمانے اور معیار ہے۔تعارف ادراک یعنی جاننے کا عمل (process)ہے جبکہ پہچان  تسلیم کرنے کا عمل(Act) ہے یا شناخت کی حالت ہے۔پہچان مثبت یا منفی رد عمل کا باعث  ہے۔قدر شناس اور نا قدردان ۔

مَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓۗ

  • حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے مطلق مقام و مرتبہ کا احساس و ادراک اور احترام اس طرح نہیں کیا جیسا کہ ان کی عظمت و کبریائی کا استحقاق ہے۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ .٧٤

  • اوریہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ   تمام قوت کے مطلق مالک اور مکمل طور پر ہر لمحہ ہر مقام پر مطلق غالب ہیں۔(الحج۔۷۴)

اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام کی پہچان اور مقام و مرتبہ کو ہم یوں بیان کرتے ہیں:

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .2٢

  •  اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا ہے [احمد ﷺ نے]۔
    (وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں/ ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ۔(۲

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ.٣

  • (ہروجودپذیر کے رب الرّحمن عز و جل ہیں جومنبع رحمت ہیں۔


كَذَٟلِكَ أَرْسَلْنَـٟكَ فِـىٓ أُمَّةٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٚ

  • اس طرح ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو  ان لوگوں کی موجودہ نسل میں  رسول مبعوث  فرمایا جن کی کئی نسلیں اس سے  قبل گزر چکی ہیں (جنہیں کتاب سے نہیں نوازا گیا تھا)۔

Root: خ ل و

لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْـهِـمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ

  • تا کہ آپ(ﷺ) انہیں وہ(قرءان مجید) لفظ بلفظ ترتیل کے انداز میں سنائیں جو  ہم جناب نےآپ(ﷺ)کی جانب بھیجا ہے۔

وَهُـمْ يَكْـفُـرُونَ بِٱلرَّحْـمَـٰنِۚ

  • اور وہ اس حالت میں ہیں کہ الرَّحمٰن (عز و جل)کااِلہٰ واحد ہونے سے مسلسل انکار کرتے رہتے ہیں ۔

Root: ك ف ر

قُلْ هُوَ رَبِّـى

  • آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”وہ جناب (الرَّحمٰن) میرے رب ہیں۔

لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (الرّحمٰن ذوالجلال و الاکرام) کے۔

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ .٣٠

  • ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور میرا رجوع کرنا ہر لمحہ ان جناب کی جانب ہے‘‘۔(الرعد۔۳۰)


وَإِنَّ رَبَّكُـمُ ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • اور حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے پروردگار الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام)ہیں۔(حوالہ  طہ۔۹۰)


رَّبِّ ٱلسَّـمَٟوَٟتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْـنَـهُمَا ٱلرَّحْـمَـٰنِۖ

  • آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے مابین موجود ہے  ان کے رب الرَّحمٰن(ذوالجلال والاکرام )ہیں۔(حوالہ النباء۔۳۷)


اس طرح واضح ہے کہ الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام) اسم علم، اسم ذات ہے۔

۴۔ ا نسان جس سے طلبگار استعانت ہوتا ہے اسے نام سے پکارتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کلام میں پہلا جملہ دو بار آیا ہے:

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .١

  • (آقائے نامدار رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے جومنبع رحمت ہیں۔

دوسری بار آیت ۳۰:۲۷میں مشبہ بالفعل حرف اِنَّ کی محذوف خبر کے متعلق ہے جو سلیمان علیہ السلام کا ایک ملکہ کے نام تحریر کردہ خط(عربی میں کتاب)کا ابتدائیہ،  Prologue تھا۔

قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟

  • ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں۔

Root: م ل ء

إِ نِّـىٓ أُ لْقِىَ إِلَـىَّ كِتَٟبٚ كَرِيـمٌ .٢٩

  • آپ کے علم میں اس حقیقت کو لانا ہے کہ ایک انتہائی نفیس مکتوب کو میرے روبرو پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

Root: ك ر م

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٟنَ وَإِنَّهُۥ

  • یہ (مکتوب)سلیمان (علیہ السلام)نے مجھے پہنچانے کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کا ابتدائیہ یہ ہے:

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ .٣٠

  • ’’اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے،وہ جناب منبع رحمت ہیں۔(النمل۔۳۰)

ہر فعل و عمل کو شروع کرنے سے قبل ہم اس جملے سے ابتدا کرتے ہیں۔ہم اس ہستی سے اعانت کے طلبگار ہوتے ہیں جن کے نام اللہ،الرّحمن عز و جل ہیں۔اورجو ہستی تعاون طلب کئے جانے پر معاونت کو خود اپنے لیئے تفویض فرما لے انہیں۔ٱلْمُسْتَعَانُ کہتے ہیں۔قرء ان مجید میں ٱلْمُسْتَعَانُاسم فاعل صرف دو بار آیا ہے ۔ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اسے بطور خبر بتایا گیا اور دوسری بار الرّحمٰن عز و جل کے متعلق اسے بطور خبر بتایا گیا:

وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ .١٨

  • اور اللہ تعالیٰ ہی ہیں جن سے طلبگار اعانت ہوں اس کے لئے جو بڑھا چڑھا کر جھوٹ تم بیان کر رہے ہو‘‘۔(حوالہ سورۃ یوسفؐ۔۱۸)

Root: ع و ن


قَٟلَ رَبِّ ٱحْكُـم بِٱلْحَقِّۗ

  • ۔۔انہوں (رسول کریم ﷺ)نے سلسلہ کلام کو قطع کرتے ہوئے دعا فرمائی’’اے میرے رب!آپ مبنی بر حقیقت فیصلہ فرما دیں‘‘۔۔

وَرَبُّنَا ٱلرَّحْـمَـٰنُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ .١١٢

  • اور انہوں نے مخاطبین سے کہا’’ ہمارے رب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)ہیں،وہ اعانت فرمانے والے ہیں،ان ہی سے رجوع کیا جا سکتا ہے ان باتوں پر جو تم اپنے تخیل سے بیان کر رہے ہو“۔( الانبیاء۔۱۱۲)

Root: ع و ن; و ص ف

ٱلْمُسْتَعَانُ۔ معرفہ اسم فاعل با ب استفعل (Form-X) میں مصدر استعانۃٌ سے بنا ہے۔اس باب میں اس بات کے طلبگار اور خواہش مند ہونے کے معنی شامل ہوتے ہیں جو اس کے بنیادی باب کے معنی ہیں اور یہ کہ فاعل اس فعل کو از راہ ”تکلف“ یعنی اپنے آپ پر تفویض کر لیتا ہے۔اس کے بنیادی باب کے معنی اعانت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام سے مخاطب ہو کر  ہم استدعا کرتے ہوئے بتاتے ہیں:

وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيـنُ .5٥

  • اور صرف آپ ہیں جن سے اپنی شخصیت کواوج ثریا پر لے جانے کیلئے اعانت کے ہم طلبگار ہیں۔(الفاتحۃ،۵)

قرء انِ مجید یہ جملہ  ایک بار ہے۔جملہ فعلیہ کا یہ فعل بھی مصدر استعانۃٌ سے بنا ہے۔اللہ تعالیٰ، لرّحمن ذوالجلال والاکرام سے ہم طلبگار اعانت ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو اس کا مکلف بنا لیا ہے کہ اعانت کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ، الرّحمن ذوالجلال والاکرام سے رجوع کریں گے۔


۵۔ سجدہ ہستی کو کیا جاتا ہے،صفات کو نہیں۔

ہستی یا کسی مخصوص شئے کے لئے تعظیم،عظمت،بڑائی،فرمانبرداری کا احساس اور جذبہ ہوتا ہے جس کے مقابل انسان اپنے آپ کو کمتر،کمزور اورعاجزی کا پیکر سمجھتا ہے۔اور اس ہستی یا شئے کے لئے یا اس کے روبروسرتسلیم خم کرتا اور سربسجودہوتا ہے۔تعظیم کا اظہار زبان اور(body language) عمل کی زبان سے کیا جاتا ہے۔ انتہائی عظمت کو تسلیم کرنے اور انتہائی تعظیم کا اظہار سجدے سے کیا جاتا ہے۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٟٓئِكَـةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ

  • اور(ان ملائکہ کے رویہ کے متعلق) وقت کے اُس لمحے کی تاریخ بھی جان لو جب ہم جناب نے ملائکہ سے کہا تھا’’ آدم کیلئے تم سب سرنگوں ہو جاؤ؍ تعظیم بجا لاؤ‘‘ ۔(حوالہ البقرۃ۔۳۴)


مادی طورپر وجود دئیے جانے والے اولین انسان کا ذاتی نام ء آدم علیہ السلام ہے۔یہ حکم ان کے وجودپذیر ہونے سے قبل دیا گیا تھا۔اس قصہ میں استعمال ہوالفظ سجدہ بھی بعض لوگوں کے لئے باعث الجھن بنتا ہے  کیونکہ تمام مترجمین نے ترجمہ یوں کیا"آدم کو سجدہ کرو"؛ "آدم کے آگے سجدہ کرو"جیسے انگریزی کے اولین عیسائی مترجمین نے"prostrate"کیا تھا۔اس کا ماخذ "س۔ج۔د" ہے جس میں سمویا بنیادی تصور کسی کے مقابل اپنے پست، کمتر،انکساری،عجزکا احساس ہے اور دوسرے کے بلند مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہوئے ادب و احترام کرنے کا ایسا جذبہ جس کاجسمانی طور پر اظہار کیا جائے جیسے سر کو تھوڑی کی جانب جھکانا جس سے نگائیں بھی نیچی ہو جائیں۔بنیادی معنوں میں یہ ایسے ہی ہے جیسے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے پریڈ کرتے ہوئے فوجی افسران اور جوان اپنے ہتھیاروں کو نیچے کی جانب کر کے اپنے جنرل یا اعلیٰ شخصیت کو سلوٹ کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ سجدہ کا اظہارجھکنا اور آخری حد اپنی پیشانی کو زمین پر ٹیک دیناہے۔ پیشانی کو زمین پر ٹیک دینا اپنی حریت (خلیفہ)سے دستبردار ہو کر اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی صوابدید کے تابع کرنے کا عملی اظہار ہے۔اور اگر انسان جھک کر اپنی پیشانی کوکسی انسانی پیشوا کے قدموں پر رکھ دے اور سجدہ کروانے والے کا چہرہ فخر سے درخشاں ہو جائے تو دونوں کے دوزخ میں جانے کے امکانات روشن ہو گئے۔

أَ لَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسْجُدُ لَهُۥ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • کیا آپ (ﷺ)نے  یہ نہیں دیکھا کہ  اللہ تعالیٰ ہیں  جن  کے لئےجو کوئی آسمانوں میں ذی حیات موجود ہے اور جو کوئی زمین میں ذ ی حیات موجود ہے دل کی شاد سے سربسجود ہوتا ہے اورنظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر سرنگوں ہو گا۔

وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ

  • اور سورج اور چاند اور ستارے ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَٱلْجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ

  • اور تمام پہاڑ اور تمام درخت اور تمام جانور ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَكَثِيـرٚ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ

  • اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر تعداد ان جناب کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

وَكَثِيـرٌ حَقَّ عَلَيْهِ ٱلْعَذَابُۗ

  • اور جبکہ ان (انسانوں)کی کثیر تعداد پر منفرد عذاب مستوجب ہو گیا ہے۔(حوالہ الحج۔۱۸)

(یہ آیت مبارکہ آیت سجدہ ہے)۔آئیں اپنے رب کے سامنے شوق و رغبت سے سربسجودہونے کی عادت اپنائیں۔بابا بلھے شاہ نے شاید اسی اطلاع پر تڑپ کر کچھ یوں کہا تھا:
”اُٹھ وے بھلیاؔ سُتیا      ۔۔۔۔۔۔۔بازی لَے گئے نیں کتے“

سجدہ ہستی کو ہے، اور لائق سجدہ ہستی کے نام اللہ تعالیٰ اور الرَّحمٰن ذو الجلال و الاکرام ہیں:

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٙا وَبُكِيّٙا۩ .٥٨

  • جب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات انہیں سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے حضورآنسؤوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ ازخود سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔(حوالہ مریم۔۵۸)


وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمُ ٱسْجُدُوا۟ لِلرَّحْـمَـٰنِ

  • اور جب ان سے کہا گیا”تم لوگ سجدہ ریز ہو فقط الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے لئے“

قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • انہوں نے (طنزیہ انداز میں)جواب دیا”کیا؟ فقط الرّحمن؟

أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُـرُنَا

  • کیا ہم سجدہ کریں فقط اس طرح جیسے تو ہمیں حکم دے رہا ہے؟‘‘

وَزَادَهُـمْ نُفُورٙا۩ .٦٠

  • اور اس انداز فکر، انداز تکلم نے انہیں بڑھا دیا،فلسفہ توحید سے دوری اور فرار میں۔ (الفرقان۔۶۰)

Root: ن ف ر


سجدے کے حوالے سے بھی ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرح الرّحمن ذوالجلال والاکرام بھی ذاتی نام (proper noun) ہے۔


۶۔ شئے کو بنانے والے خالق کی پہچان اور اس کا حوالہ ہمیشہ نام سے ہوتا ہے چاہے یہ ایک ہستی ہو،چاہے کوئی کمپنی،ادارہ

ہم کسی شئے کو وجود پذیر کرنے والے خالق کا حوالہ اس کی صفات کے حوالے سے نہیں دیتے بلکہ اس کا نام بتاتے ہیں۔

ٱللَّهُ خَالِقُ كُـلِّ شَـىْءٛۖ

  • اللہ تعالیٰ ہیں جو  تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ وَكِيلٚ .٦٢

  • اور  وہ جناب  تمام موجودات اور معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے  والے ہیں۔(الزمر۔۶۲)


ٱلرَّحْـمَـٰنُ .١

عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ .٢

  • آگاہ ہو جاؤ)الرّحمن عز و جل نے رسول کریم محمد (ﷺ)کوقرءانِ مجیدکی تعلیم دی ہے۔ (الرحمٰن۔۱۔۲)

خَلَقَ ٱلْإِنسَٟنَ .٣

  • (انہوں (الرّحمن عز و جل)نے ا نسان کو تخلیق فرمایا ہے۔(الرحمٰن۔۳


ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٛ طِبَاقٙاۖ

  • (مطلق فرمانروا)وہ جناب ہیں جنہوں نے سات آسمانوں کو تخلیق کیا،طبق در طبق،اوپر تلے باہمدگر انداز میں۔

Root: ط ب ق

مَّا تَرَىٰ فِـى خَلْقِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ مِن تَفَٟوُتٛۖ

  • الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی تخلیق میں تم تفاوت،عدم تناسب کہیں نہیں دیکھو گے۔

Root: ف و ت

فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٛ .٣

  • چونکہ اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اس لئے تم نگاہ کو اس پر مرکوز کر کے دیکھو؛ بتاؤ کہیں شگاف/دراڑدکھائی دیتا ہے؟(حوالہ الملک۔۳)

Root: ف ط ر


أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٛ طِبَاقٙا .١٥

  • کیاتم  لوگوں نے دیکھا/غور نہیں کیا کہ ا للہ تعالیٰ نے کیسے سات آسمانوں کو تخلیق کیا،طبق در طبق،اوپر تلے باہمدگر انداز میں۔(سورۃ نوح ؑ۔۱۵)

Root: خ ل ق;  ط ب ق


تخت حکمرانی پر براجمان ہستی کا حوالہ نام سے دیا جاتا ہے۔

ہمارا عام تصور اور طرز عمل ہے کہ ہم اس ہستی کانام لے کر ذکر کرتے ہیں جو تخت حکمرانی پر براجمان اور تشریف فرما ہوتے ہیں۔ہم تخت پر جلوہ افروز شخصیت کا نام دوسروں کو بتاتے ہیں،ان کی شان اور خصوصیات کا تذکرہ بعد میں کرتے ہیں۔قرء انِ مجید بھی اسی انداز میں تخت پر جلوہ افروز ہستی کا نام اللہ تعالیٰ اور الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)بتایا ہے:

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ بِغَيْـرِ عَمَدٛ تَرَوْنَـهَاۖ

  • اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے آسمانوں کو بلند فرمایا۔اس ارتفاع کی حالت   ستونوں کے علاوہ  ذریعے سے ہے۔تم لوگ اسے بغیر ستونوں کے بلند دیکھتے ہو۔

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔(حوالہ الرعد۔۲)

Root: ع ر ش


ٱلرَّحْـمَـٰنُ عَلَـى ٱلْعَـرْشِ ٱسْتَوَىٰ .٥

  • وہ جناب الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام ہیں جو اعلیٰ آسمانوں کے پار مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہیں۔(طہ۔۵)


ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اوروہی جناب  ہیں جنہوں نے تخلیق فرمایا سات آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۚ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ فَسْـَٔلْ بِهِۦ خَبِيـرٙا .٥٩

  • اس عظیم الشان تخلیق کے خالق الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ہیں۔اگر مزید معلومات درکار ہوں تواس (قرء ان مجید)سے اعانت لیں،باخبر حالت میں رہنے کے لئے۔(الفرقان۔ ۵۹)


ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اللہ تعالیٰ وہ جناب  ہیں جنہوں نے تخلیق فرمایا سات آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔(حوالہ السجدہ۔۴)


۸۔ وعدے کے حوالے کے لئے ہم شخصیت کا نام لیتے ہیں جس کا وہ وعدہ ہے۔

یہ بھی ہمارا عام تصور اور طرز عمل ہے کہ ہم اس ہستی کانام لے کر ذکر کرتے ہیں جس نے کوئی وعدہ کیا ہے۔قرء انِ مجید میں بھی وعدے کے حوالے سے۔
ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۔ کا ذکر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ، الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)،تمہارے رب کا وعدہ کہا گیا ہے۔

۱۔وَعَدَ ٱللَّهُ۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔(حوالہ النساء۔۹۵؛المائدہ۔۹؛التوبہ۔۶۸ اور ۷۲؛النور۔۵۵؛الفتح۔۲۸؛اورالحدید۔۱۰)

۲۔وَعَدَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ۔ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) نے وعدہ کیا ہے۔(حوالہ مریم۔۶۲؛اوریسٓ۔۵۲)

۳۔وَعَدَ رَبُّكُـمْ۔تم لوگوں کے رب نے وعدہ کیا۔(حوالہ الاعراف۔۴۴)۔

۴۔وَعْدَ ٱللَّهِ۔ (مرکب اضافی) اللہ تعالیٰ کا وعدہ۔(ref:4:122;10:4;10:55;13:31;18:21;28:13;30:6;30:60;31:9[31:33;35:5;39:20;40:55;40:77;45:22;46:17)۔


۹۔ معاہدہ فریقین کے مابین ان کے نام سے ہوتا ہے۔
قانون کے نکتہ نظر سے باہمی معاہدہ فریقین پر ایک ذمہ داری عائد کرتا ہے جس کی بجاآوری لازم ہے۔ معاہدے کی بنیاد قانونی طور پر دو مختار فریقوں کے مابین باہمی رضامندی سے کسی معاملے میں طے شدہ شرائط پر اتفاق ہے۔ معاہدے کی بنیادی قانونی تعریف سے واضح ہے کہ فریقین کا حوالہ ان کی خصوصیات سے نہیں بلکہ ان کے نام سے ہو گا۔عربی میں معاہدے کو۔
عَهْدٌ۔ کہتے ہیں۔

ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٟقِهِۦ

  • یہ(فاسقین)وہ لوگ ہیں جو ا للہ تعالیٰ کے عہدکواُس کے پابند؍بندھے ہونے کے باوجود توڑتے؍عہد شکنی کرتے ہیں۔

وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ

  • اور یہ لوگ(فاسقین) اس کوقطع کرتے؍توڑتے ہیں جس معاملے کواللہ تعالیٰ نے استوار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔

وَيُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِۚ

  • [اور یہ لوگ(فاسقین)زمین (معاشرے) میں بگاڑ؍بے اعتدالی پیدا کرتے ہیں۔[متضاد طرز عمل کے لوگ ۲۰:۱۳

أُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ.٢٧

  • [یہ( فاسقین)ایسے لوگ ہیں جو خود اپنا خسارہ ؍/نقصان کرنے والے ہیں۔[ البقرۃ ۔ ۲۷


أَطَّلَعَ ٱلْغَيْبَ

  • اتنا اعتماد کس وجہ سے!کیا اس نے مسقبل میں پنہاں کا کھوج لگا کر اپنے آپ کو مطلع کر لیا ہے؟

أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَهْدٙا .٧٨

  • یا کیا ان کے عنایت کئے جانے کا اس نے الرَّحمٰن (عزو جل)کی جانب سے عہد نامہ حاصل کر لیا ہے؟(سورۃ مریم۔۷۸)


لَّا يَمْلِـكُونَ ٱلشَّفَٟعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَهْدٙا .٨٧

  • وہ (متقین)حق شفاعت کے مالک نہیں،سوائے ان ایک(محمد ﷺ) کے جنہوں نے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) کی جناب سے اختیارِ شفاعت کا عہد لے رکھا ہے۔(سورۃمریم۔۸۷)


۱۰۔ اجازت،اجازت نامہ،اوراعلان جس ہستی،مقتدر شخصیت کی جانب سے ہوتا ہے اس کا نام بتایا جاتا ہے۔

ہمارے تصور اور تجربے میں یہ عام فہم بات ہے کہ کسی  کام اور اختیار رکھنے کی کسی کواجازت دینے اور اعلان عام میں اس ہستی اور اتھارٹی کا نام لیا جاتا ہے جس کی جانب سے وہ ہے۔عربی میں اس کے لئے لفظ بِإِذْنِ  ہے یعنی اجازات کے ساتھ۔
۔
بِإِذْنِ ٱللَّهِ۔ (جار و مجرور + مرکب اضافی) اللہ تعالیٰ کی اجازت (اِذن)کے ساتھ۔

وَكَم مِّن مَّلَكٛ فِى ٱلسَّمَٟوَٟتِ لَا تُغْنِى شَفَٟعَتُـهُـمْ شَيْئٙا

  • اور آسمانوں میں کتنے ہی ملائکہ ہیں جن کی شفاعت/کرم نوازی کی سفارشی درخواست  کسی اِفادہ کا باعث نہیں بنتی۔

Root: ش ف ع

إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ .٢٦

  • سوائے بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق انہیں اذن دے دیا جس کے متعلق  یہ فیصلہ  اور رضا کا اظہار فرماتے ہیں۔(النجم۔۲۶)


يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلََٟٓئِكَـةُ صَفّٙاۖ

  • جس دن جبرئیل(علیہ السلام)اور ملائکہ ایک صف میں کھڑے پیش ہوں گے۔

Root: ر و ح

لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • وہ ازخود سے کلام/خطاب نہیں کریں گے سوائے اس کے جسے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)اجازت مرحمت فرمائیں گے۔

وَقَالَ صَوَابٙا .٣٨

  • اور اس نے پہلے سے ثابت شدہ حقیقت کو بیان کر دیا۔(النباء۔۳۸)


۱۱۔ عام فہم بات ہے کہ بیٹے،(حقیقی اور اختیار کردہ؛adopted)کو ہم اس کے نام سے بتاتے ہیں جس کا وہ بیٹا ہے یاجس سے منسوب کرتے ہیں۔
اس نکتے سے بھی واضح ہے کہ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام
(proper noun) ہے صفت نہیں۔

قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَـدٙاۗ

  • جان لو؛انہوں(قدیم یہودی عمائدین)نے کہا’’اللہ تعالیٰ نے عزیر کو زیر مقصد بطور بیٹا اپنا لیا ہے‘‘۔

سُبْحَٟنَهُۥۖ

  • وہ جناب ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔

هُوَ ٱلْغَنِىُّۖ

  • وہ جناب ہیں جو ہر احتیاج  سےمطلق منزہ اور مطلق آزاد ہیں۔(حوالہ سورۃ یونسؐ۔۶۸)


وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ وَلَـدٙا .٨٨

  • اورانہوں (اکابرین یہود و نصاریٰ)نے کہا” الرَّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)نے  فلاں کوزیر مقصد بیٹا اختیار کیا ہے‘‘۔

لَّقَدْ جِئْتُـمْ شَيْــٔٙا إِدّٙا .٨٩

  • آپﷺانہیں متنبہ کریں  الکہف۔۴)”تم لوگوں نے انتہائی نامناسب،حقیقت سوز/باعث خلفشار بات کومنہ سے بیان کیا ہے“

تَكَادُ ٱلسَّمَٟوَٟتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ

  • قریب ہے کہ آسمان اپنے آپ کو ازخوداس قول سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے اصل حالت میں کر لیں۔

Root: ف ط ر;  ك و د

وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرْضُ وَتَخِرُّ ٱلْجِبَالُ هَدّٙا .٩٠

  • اور زمین شکافتہ ہو جائے اور پہاڑ دھڑام سے نیچے گر جائیں۔

Root: ھ د د;  ش ق ق; خ ر ر

أَن دَعَوْا۟ لِلرَّحْـمَـٰنِ وَلَـدٙا .:٩١

  • اس خلفشار سے کہ انہوں نے الرَّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام) کے حوالے سے بیٹا اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

وَمَا يَنۢبَغِى لِلرَّحْـمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَـدٙا .٩٢

  • باوجود یہ جاننے کہ  کسی کوبطور بیٹا اختیار کرنا الرّحمٰن (عزوجل)کے لئے مناسب اور شایان شان نہیں ہے۔

إِن كُلُّ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ إِلَّآ ءَاتِـى ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَبْدٙا .٩٣

  • تمام کے تمام جو آسمانوں اورزمین میں ذی حیات و شعور بستے ہیں ان میں کوئی ایسا نہیں جو الرّحمٰن(عز و جل) کے حضور پیش ہوتا ہے سوائے بندے کی حیثیت میں۔(سورۃ مریم۔۹۳)


قرء انِ مجید میں اس موضوع پر جب بھی ذکر ہوا تو یہ دو نام بیان ہوئے ہیں۔

۱۲۔قرء ان مجید میں آیات کو صرف۔ءَايَٟتُ ٱللَّهِ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور۔ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات کہا گیا ہے۔اس سے بھی واضح ہے کہ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام (proper noun)ہے صفت نہیں۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّۚۚ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے ۔

وَإِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .٢٥٢

  • اوریقینا آپ(ﷺ)بلاشبہ  تمام انسانوں کے لئے عالمگیر رسول ہیں ان میں  سے منفردجنہیں مختلف زمان اور اقوام میں  بحثیت  رسول بھیجا گیا تھا۔(البقرۃ۔۲۵۲)


وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ

  • مگر تم لوگ کیسے قرءان مجید  کو پس پشت ڈال سکتے ہو،اس سے غفلت برت سکتے ہو۔نگاہوں سے اوجھل کر سکتے ہو؟

وَأَنتُـمْ تُتْلَـىٰ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • جبکہ تم لوگ اس حال میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات لفظ بلفظ تم لوگوں کو سنائی جا تی  ہیں۔

وَفِيكُـمْ رَسُولُهُۥۗ

  • اور  اس حال  میں ہو کہ ان جناب کے رسول(محمد ﷺ)تم لوگوں کے مابین بحثیت نذیر/متنبہ کرنے والے اور معلم موجود ہیں(محذوف خبر کے لئے حوالہ 6:19)۔

وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ

  • اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مرجع خلائق کاتعلق استوار کر لیتا ہے

فَقَدْ هُدِىَ إِلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ .١٠١

  • تویقیناوہ منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والے راستے کی جانب ہدایت دے دیا گیا۔(ءال عمران۔۱۰۱)


تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّۗ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے ۔

وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمٙا لِّلْعَٟلَمِيـنَ .١٠٨

  • مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ تمام تخلیقات سے کسی قسم کی زیادتی کا ارادہ نہیں رکھتے۔(ءال عمران۔۱۰۸)


تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)زبانی سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے  اس مقصد سے کہ آپ نے من وعن لوگوں کو زبانی اور تحریر میں  اشاعت کرنا ہے۔

فَبِأَىِّ حَدِيثِۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَٟتِهِۦ يُؤْمِنُونَ .٦

  • چونکہ بیان حقیقت میں ان کے لئے ہر موقع محل کے لئے ہدایات  موجود ہیں اس لئے  وہ  اللہ تعالیٰ کی جانب سے  حدیث/بیان اور ان کی آیات /مندرجات قرءان مل جانے کے بعد کس  حدیث/بیان  پر وہ ایمان لانا چاہتے ہیں؟ (الجاثیہ۔۶)


أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم مِّنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ

  • یہ  نام لے کربیان کردہ ہستیاں وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلعت کامرانی سے نوازاہے بحثیت انبیاء (علیہم السلام)۔

Root: ن ب و

مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنْ حَـمَلْنَا مَعَ نُوحٛ

  • ان میں سے بعض کا شجرہ نسب ءادم کی ذریت میں تھا اور ان میں بعض کا تعلق ان اشخاص کی ذریت سے تھا جنہیں ہم جناب نے نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار کیا تھا۔

Root: ذ ر ر

وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْرَٟٓءِيلَ

  • اور ان میں بعض کا شجرہ نسب ابراہیم(علیہ السلام)اور بعض کا اسرائیل (علیہ السلام)سے تھا۔

وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَٱجْتَبَيْـنَآۚ

  • اور ان میں سے بعض کا تعلقِ ذریت ان سے تھا جنہیں ہم جناب نے ہدایت سے نوازا اور فوقیت دیتے ہوئے انہیں منتخب فرمایا تھا۔

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٙا وَبُكِيّٙا۩ .٥٨

  • جب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات انہیں سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے حضورآنسؤوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ ازخود سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔(مریم۔۵۸) [آیت سجدہ]

Root: س ج د; خ ر ر


۱۳۔ ادب،عظمت،رعب،دبدبہ،احترام کا احساس شخصیت کے حوالے سے ہوتا ہے۔

ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـم بِٱلْغَيْبِ

  • (متقین وہ ہیں)جو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخوداحساس رکھتے ہوئے سہمے سہمے مرعوب              رہتے ہیں،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛

وَهُـم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشْفِقُونَ .٤٩

  • اور وہ متعین لمحے پر یقین سے محتاط،نرم خو،شفقت اور ہمدردی کا رویہ اپناتے ہیں۔(سورۃ الانبیاء۔۴۹)

Root: س و ع;  ش ف ق


إِنَّ ٱلَّذِينَ هُـم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّـهِـم مُّشْفِقُونَ .٥٧

  •  ان لوگوں کے متعلق جان لو؛وہ جو اپنے رب کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر فطرت سے سہمے سہمے انداز میں متاثر اور مرعوب ہو کر محتاط،نرم خو، لطافت،شفقت اور ہمدردی کا رویہ اور طرز عمل اپنائے رکھتے ہیں۔(المومنون۔۵۷)

Root: ش ف ق


وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ

  • ان کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (ﷺ)کے قول(قرءان عظیم)کو صدق دل سے تسلیم کیا۔

وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ

اور اللہ تعالیٰ کے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا احساس رکھا،اپنی بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود اور تندہی سے محتاط اور محفوظ رکھتے ہوئے ان سے پناہ کے خواستگار رہے۔

Root: و ق ى

فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْفَآئِزُون .٥٢

  • چونکہ انہوں نے جنت کے حقدار بننے کے تمام تقاضے پورے کئے اس لئے یہ ہیں وہ لوگ جو زندگی بھر کی کامیابی کا ایوارڈ پانے والے ہیں۔(النور۔۵۲)

Root: ف و ز


إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ

  • یہ حقیقت زمان و مکان میں برقرار     رہے گی کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر صرف اس  پر ہوتا رہے گا جس نے  سرگزشت تاریخ ، منبع پند و نصیحت (قرءان مجید)کا اس انداز میں اتباع کیا کہ فکرو نظر میں کسی تیسرے کو حائل نہیں ہونے دیا۔

وَخشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِۖ

  • اور اس کا حال یہ تھا کہ الرَّحمٰن ذوالجلال کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخود احساس رکھتے ہوئے   ان کے     بصارتوں             سے اوجھل ہونے کے باوجود سہما سہما مرعوب     رہتا تھا۔

فَبَشِّـرْهُ بِمَغْفِرَةٛ وَأَجْرٛ كَرِيـمٛ .١١

  • چونکہ اس نے جنت کا مستحق ہونا  ثابت کر دیا ہے اس لئے۔آپ(ﷺ)ایسے شخص کو خوشخبری اور ضمانت دے دیں کہ اس کے ماضی کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معافی اور اعلیٰ ترین ایوارد کا وعدہ ہے۔(یسٓ۔۱۱)

Root: ك ر م


مَّنْ خَشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِ

  • جس نے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا احساس رکھا،اپنی بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود،

وَجَآءَ بِقَلْبٛ مُّنِيبٛ .٣٣

  • اور وہ وقف کئے ہوئے قلب کے ساتھ آیا۔(سورۃ قؔ۔ ۳۳)

Root: ن و ب


فعل۔خَشِىَ۔ کا مادہ ”خ ش ی“ہے۔یہ مادہ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ادب،عظمت،رعب،دبدبہ،احترام کا احساس اوردوسرے معنی دہشت،ہیبت ہیں۔ پہلے معنی کے لئے انگریزی کا لفظ "Awe" اس مادہ میں سمائے تصور کے زیادہ قریب ہے۔یہ جذبہ آمیزہ ہے، تعجب اور خوف،حیرانگی اور ادب و احترام کاجس میں خوف اور اپنی نسبتاّکم مائگی،کم وقعتی اورکمزوری کا احساس بھی شامل ہو۔لوگوں کے لئے بصارت اس احساس کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہے،کائنات کے ذرے ذرے کا مشاہدہ اس کے خالق کی موجودگی کے تصور کو ابھارتا ہے۔یہ ایک مثبت احساس ہے کہ ہم ایک عظیم الشان اور لامتنائی ماحول میں ہے جو ہمارے محدود تصور دنیا سے بالاتر ہے۔Awe،تعجب اور خوف،حیرانگی اور ادب و احترام کے احساس کا تجربہ ان لوگوں کو ہوتاہے جو سنجیدگی سے اپنے ماحول اور دنیاکا مشاہدہ کرتے ہیں۔یہ انہیں اپنے کمتر (small-self) ہونے کا احساس دلاتا ہے،کائنات کے مقابل نہیں،بلکہ اپنے رب،قادر مطلق الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے حوالے سے۔اور یہ ان کی اپنی شخصیت کے لئے باعث اوج بنتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ قرء ان مجید نے پوچھے گئے سوال کا جواب انتہائی وضاحت اور ہر زاوئیے سے ہمیں عنایت کر دیاہے کہ الرَّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)ہمارے رب، اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام (Proper noun) ہے، صفت (adjective)نہیں۔یہ مترجمین کی سہو تھی کہ انہوں نے ایک نام نہاد عیسائی سکالر کے صریحاً غلط ترجمے کو اپنایا اور زبان زد عام کر دیا۔


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ

جملے کا آخری لفظ بھی اسم معرفہ ہے اور مجرور ہے جس سے اس کا پچھلے لفظ سے تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ

مرکب توصیفی۔موصوف۔صفت۔

ہستی کاتعارف نام سے ہوتا ہے اور یہ نام/اسمِ خاص اُس ہستی کی انفرادیت / individuality اورباقی تمام موجودات سے منفرد، ممتاز،متمیز [Unique] ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ہستی کا ذاتی نام اُس کے ظاہر یعنی موجود ہونے کی حقیقت کا اظہار کرتا ہے چاہے وہ ہستی بصارتوں کی پہنچ سے باہر ہو۔ہر ہستی ایک واحد اکائی ہے جس کاظاہر یعنی اُس کی موجودگی ہے اور اُس کا باطن ہے۔ ہستی کا ظاہر،اُس کا اسمِ ذات دوسروں کیلئے تعارف ہے اورباطن، پنہاں حقیقت اور اُس ہستی کی پہچان ہے ۔اور اِس پنہاں حقیقت کی پہچان اور ادراک اُس ہستی کی صفات، قدرتوں اور افعال کو جاننے اور پہچاننے سے ہو گا وگرنہ علم و ادراک محض اُس ہستی کے تعارف تک محدود رہے گا۔
دنیا کی تمام زبانوں سے عربی مبین منفرد اور ممتازوبرترزبان ہے۔یہ حقیقت کو بیان کرنے والی زبان ہے۔یہ تخلیق کردہ تمام موجودات میں عظیم ہستی،
ہمارے رہنما،ہمارے معلم،آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ کی زبان ہے جس کا ہر ایک انداز اور قاعدہ صادق اور امین ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ہستی اول ہے، ہستی کی موجودگی کی معرفت اول ہے اور اُس کی صفات کا ادراک ثانوی مقام پر ہے۔ اردو اور انگریزی   زبان کے برعکس  عربی میں موصوف کو پہلے بیان کیا جاتا ہے  کیونکہ اول سچائی/حقیقت اُس کی موجودگی ہے اور صفت بعد میں بیان ہوتی ہے جو اُس ذات کا جزو لاینفک بھی ہوسکتا ہے اور اختیار کردہ بھی۔

 قرء انِ مجید کے اول مرکب توصیفی کے دو اسماء کو اگر ہم معمولی دھیان سے بھی دیکھیں تو ہمیں ایسی چار نشانیاں ابھر کر دکھائی دیں گی جو دونوں میں یکساں ہیں اور کچھ دیر تک اِن کو بار بار دیکھنے اور دہرا لینے اور چند دوسرے مرکبات توصیفی کو تلاش کر لینے کے بعد آئندہ قرء انِ مجید کی تحریر میں ایسے مرکبات کی نشاندہی ہمارا ذہن خود بخودمیکانکی انداز میں ہمیں کراتا رہے گا۔

(۱) جنس: موصوف۔ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔ اور صفت۔ٱلرَّحِيـمِ۔ دونوں مذکر ہیں۔اسم موصوف اور اسم صفت میں ہمیشہ مطابقت ہوتی ہے۔اگر موصوف مؤنث ہے تو صفت بیان کرتا ہوا لفظ/اسم صفت بھی مؤنث ہو گا۔
(۲) عدد: موصوف اور صفت تعداد کے حوالے سے یکساں ہیں۔اگر موصوف واحد ہے تو اسم صفت بھی واحد ہو گا اور اگر موصوف کا عدد تثنیہ/ دو ہے تو صفت بیان کرتا ہوا اسم اُس کے مطابق ہو گا اور اگر موصوف جمع ہے تو صفت کا اسم بھی جمع ہو گا۔
(۳) وسعت: موصوف اور صفت دونوں معرفہ ہیں۔وسعت کے اعتبار سے اس مرکب کے دونوں اسماء یکساں ہوں گے۔ اگر اسم موصوف نکرہ ہے تو اسم صفت بھی نکرہ ہو گا۔
(۴) اعراب: اعراب کے اعتبار سے بھی دونوں اسماء میں مطابقت ہے کہ دونوں مجرور ہیں۔اعراب کے اعتبار سے اس مرکب کے دونوں اسماء یکساں ہوں گے۔اگر موصوف حالت رفع [آخری حرف پر پیش]، حالت نصب [آخری حرف پر زبر] یا حالت جر [آخری حرف پر زیر] میں ہے تو اسم صفت اُس کے مطابق حالت میں ہو گا۔
(کائنات کے اِس عظیم ترین مرکب توصیفی کو انہماک اور محبت سے دیکھنے پر گرائمر کے علاوہ آپ کے قلب و بصر کو کچھ اور بھی سجھائی دینے لگے تو ازراہ کرم مجھے اور میری بیوی کودعاؤں میں یاد رکھیں )

۔ہستی کی پہچان؛ رویہ اور روش ٱلرَّحِيـمِ

ا للہ تعالیٰ اور آقائے نامدار ﷺ نے قرءانِ عظیم میں انتہائی واضح انداز میں بتایا ہے کہ الرحمٰن ہمارے رب کا ذاتی نام ہے۔
ہستی کو ہم اُس کے نام سے پکارتے ہیں۔لیکن ہستی کی پہچان اُس کی صفات ، رویے اور روش  اور منصب کے حوالے سے ہوتی ہے۔اس لئے ہستی کو براہ راست (one
-to-one, personally) پکارنا ہو تواُس کی صفات کے حوالے سے جو نام بنتا ہے اُس سے بھی پکارا جا سکتا ہے۔لیکن دوسروں کے سامنے اُس ہستی کو نام سے متعارف کرانے کے بعد اُس کی صفات (attributes)کو بیان کر کے دوسروں کو اُس کی پہچان کراتے ہیں۔صفات میں مثبت اور منفی کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہر مثبت صفت ”حسن“کی حامل ہے؛ اِس لئے مثبت صفات بیان کرنے والے اسماء ”اسماء الحسنیٰ“کہلاتے ہیں۔

وَلِلَّهِ ٱلۡأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِـهَاۖ

  • یاد رکھو کہ بدرجہ اتم مثبت توازن وحسن کی خصوصیات/صفات کا اظہار کرنے والے نام /اسماء صرف اللہ تعالیٰ کیلئے شایان شان ہیں۔ لہٰذا تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کو اِن بدرجہ اتم صفات کے حامل ناموں کے ساتھ پکارو۔

وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِـىٓ أَسْـمَٟٓئِهِۦۚ

  • اور ان لوگوں کو اپنے حال میں مگن چھوڑ دو جو ان جناب کے ناموں کے بارے میں گستاخی اور کج روی کرتے ہیں۔

سَيُجْـزَوْنَ مَا كَانُوا۟۟ يَعْمَلُونَ .١٨٠

  • عنقریب انہیں اس کی جزا مل جائے گی جو وہ کرتے رہے ہیں۔(الاعراف۔۱۸۰)


قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْـمَـٰنَۖ

  • آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا تم لوگ الرَّحمٰن کہہ کر پکارو۔

أَيّٙا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلۡأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰۚ

  • جس لمحے بھی تم لوگ طلبگار توجہ ہو تو تمہیں بدرجہ اتم تعریف کے حامل اسماء کے ساتھ ان جناب کوپکارنا چایئے کیونکہ بدرجہ اتم خصوصیات،توازن و حسن،کبریائی کو بیان کرتے اسماء صرف اور صرف ان (الرحمٰن ذالجلال والاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہیں۔“

وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِـهَا وَٱبْتَغِ بَيْـنَ ذَٟلِكَ سَبِيلٙا .١١٠

  • اور آپ(ﷺ)اپنی صلوٰۃ کی ادائیگی کے دوران آواز بلند کریں اور نہ اتنا کم کریں کہ  بےصوت/ساکت لگے،اور احتیاط سے ان دو حدوں کے درمیان میں رہیں۔(الاسراء۔۱۱۰)

ٱلرَّحِيـمِ:اسم المبالغة ۔یہ بروزن ”فَعِیلٌ“ مصدر ”رَحْـمَةٚ“ سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔اسم مبالغہ اور اسم تفضیل میں فرق یہ ہے کہ اس میں  معنی دوسروں کو دھیان /تقابل میں رکھے  بغیر اپنے آپ تک محدود رہتے ہیں  جبکہ اسم تفضیل میں اضافی معنی  دوسروں  کے مقابلے میں ہیں۔جب یہ بطور اسم فاعل کے استعمال ہوں توان کی جنس متذکرہ ہستی کے مطابق ہو گی۔یہ معرفہ باللام ہے جو استغراق جنس کے معنوں میں ہے،یعنی منسلک اسم میں پنہاں معنی کی تمام تر وسعتوں اور اس کے تمام زمان و مکان پر محیط ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔اس لئے ترجمہ ’’منبع رحمت‘‘ کیا ہے۔اُن کے تمام فیصلے رحمت کی چھاؤں میں ہوتے ہیں۔
قرء انِ مجید میں مجرور حالت میں یہ لفظ چھ بار اور مرفوع حالت ۔
ٱلرَّحِـيـمُ ۔ اٹھائیس بار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کیلئے استعمال ہوا ہے۔آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی صفت کے طور پر نکرہ حالت میں استعمال فرمایا گیا ہے۔

اِس کا مادہ ”ر ۔ح۔ م“ ہے۔ جناب ابن فارس نے بتایا کہ اِس میں سمویا بنیادی تصور یہ ہے،يدلُّ على الرّقّة والعطف والرأفة۔یہ ہمیں طاقت کے استعمال میں نرمی،ہمدردی، شفقت، احسان، اور التفات اورمحبت کے تصور سے آشنا کرتا ہے۔

قرء انِ مجید کے مطالعہ کی ابتداء کرتے ہوئے ہم نے کائنات کی اول حقیقت کو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرحمٰن سے ابتداء ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الرّحمٰن ذالجلال والاکرام کے ارادہ اور منشاء کے بغیر کائنات میں موجود مادہ تو کیا، ارادہ و اختیار کے مالک بھی، کسی شئے اور معاملے کی ابتداء نہیں کر سکتے حتیٰ کہ ایمان لانے کا اقرار اور اعلان کرنا بھی جبھی ممکن ہے جب اُن کی رضا/اذن شامل ہو[یہ سائنسی /Physical fact حقیقت ہے جس کے متعلق انشاء اللہ ہم مطالعہ کریں گے ]۔ اور سب سے پہلے اُن کی صفت لاینفک / صفاتی نام۔ٱلرَّحِيـمِ ۔ کو ہم نے بیان کیا۔ہم جب لفظ رحم اور رحیم استعمال کرتے ہیں تو ہمارے فہم میں وہ جس  پر رحم اور رحمت کا برتاؤ اور نزول کیا جائے موجود ہوتا ہے۔یہ لفظ دو کے مابین رشتے اور روئیے کا اظہارکرتا ہے۔
الرّحمن ذالجلال والاکرام نے ہمارا رب بننے کیلئے کائنات کی تخلیق کی ابتدا کس سے کی تھی؟کائنات میں اہم اور عیاں ترین حقیقت کیا ہے؟ طاقت،قوت،غلبہ،حاکمیت:

أَنَّ ٱلْقُوَّةَ لِلَّهِ جَـمِيعٙا

  • کہ حقیقی طاقت کا ارتکاز اور استعمال  کا استحقاق اللہ تعالیٰ کے لئے ہے،مکمل طور پر۔(حوالہ البقرۃ۔۱۶۵)

اِس لئے حاکمیت اعلیٰ اور مکمل غلبہ اُن کا ہے:

إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَـمِيعٙاۚ

  • یہ   حقیقت ہے کہ  ا للہ تعالیٰ کیلئے تمام غلبہ و اقتدارمکمل طور پر مخصوص ہے۔(حوالہ النساء۔۱۳۹؛یونس۔۶۵)


إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ .٦٦

  • یہ حقیقت ہے آپ(ﷺ)کے رب وہ ہیں جو تمام قوت کے مالک اور مکمل طور پر غالب ہیں۔(حوالہ سورۃ ھودؐ۔۶۶)

الاسماء الحسنیٰ میں دو نام القوی اورالعزیز ہیں۔قوت و طاقت میں ہر شئے کو تحس نحس کرنے کی صلاحیت ہے۔طاقت میں تخریب کا عنصر بھی پنہاں ہے۔کیا طاقت اور قوت میں حسن ہوتا ہے اور یہ حسین کہلا سکتی ہے؟ کیا طاقت میں حُسن پیدا کیا جا سکتا ہے؟ طاقت،قوت اور غلبہ ایک ایسی شئے ہے جس پر خارج سے پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔طاقت (infinite, absolute power) کے مالک ا للہ رب العزت نے بتایا کہ اُن کی یہ طاقت حُسن کی حامل ہے۔ طاقت میں حسن کیسے پیدا ہوتا ہے؟ الرّحمٰن ذالجلال والاکرام نے ارشاد فرمایا:

كَتَبَ عَلَـىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْـمَةَۚ

  • انہوں نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے آپ پر لازم کر لیاتھا۔(حوالہ الانعام-۱۲)


كَتَبَ رَبُّكُـمْ عَلَـىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْـمَةَۖ

  • تم لوگوں کے رب نے رحم و کرم کا شیوہ ا پنے آپ پر لازم کر لیاتھا۔ (حوالہ الانعام۔۵۴)


وَرَبُّكَ ٱلْغَنِىُّ ذُو ٱلرَّحْـمَةِۚ

  • اورآپ(ﷺ)کے رب کامل غنی اور صاحب رحمت ہیں۔(حوالہ الانعام۔۱۳۳)


فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُـمْ ذُو رَحْـمَةٛ وَٟسِعَةٛ

  • آپ(ﷺ)کے بتا دینے پر اگر وہ آپ کی بات کو برسر عام جھٹلا دیں تو آپ (ﷺ)فرما دیں ”تم لوگوں کے رب صاحب رحمت ہیں جووسیع تر ہے۔(حوالہ انعام۔۱۴۷)


وَرَحْـمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَـىْءٛۚ

  • اور میری رحمت تمام چیزوں پر پھیلی ہوئی ہے۔(حوالہ الاعراف۔۱۵۶)


وَرَبُّكَ ٱلْغَفُورُ ذُو ٱلرَّحْـمَةِۖ

  • مگرآپ(ﷺ)کے رب حددرجہ بخشنے والے اور صاحب رحمت ہیں۔(حوالہ الکہف۔۵۸)

تمام قوت اور تمام غلبے کے مالک   الرَّحمٰن ذالجلال و الاکرام نے عالمین کی تخلیق کی ابتدا فرمائی تو طاقت و قوت و غلبہ پررحمت، رحم وکرم کے شیوہ کو اپنے آپ پر لازم کرلیا۔تمام کی تمام قوت کے مالک نے اپنے آپ کو الرحیم بنا کر تخلیق کی ابتدا فرمائی۔ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرّحمن سے ابتداہے جو الرحیم ہیں کہ رحم و کرم کے شیوہ کو اپنے آپ پر واجب کر کے عالمین کی ابتدا کی۔ اور اِس تخلیق کردہ کائنات کو سمیٹ دینے سے قبل جن و انس کو پیغام اور ہدایت بھیجنے کا جب اختتام فرمایا تو ، سبحان ا للہ، رحمت کو مجسم بھی فرما دیا:

وَمَآ أَرْسَلْنَـٟكَ إِلَّا رَحْـمَةٙ لِّلْعَٟلَمِيـنَ .١٠٧

  •  اورہم جناب نے آپ (محمد ﷺ) کو محض بحیثیت رسول نہیں بھیجا مگرآپ کو دنیا میں بھیجے جانا تمام موجودات کیلئے مجسم اظہار رحمت ہے۔(الانبیاء۔۱۰۷)

آقائے نامدار، محمَد ﷺ کی تخلیقات میں منفرد شان   رَحْـمَةٙ لِّلْعَٟلَمِيـنَ 

الرحمٰن ذالجلال والاکرام کامنبع رحمت ہونا انسان کیلئے اظہار محبت ہے۔ کس انسان کیلئے؟وہ معلوم ہو جائے تو تخلیق کائنات کااول سبب عیاں ہو جائے گا۔ارشاد فرمایا:

قُلْ إِن كُنتُـمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ

  • آپ(ﷺ مدعیان ایمان کو)واضح فرما دیں’’اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے  لگن اور تعلق خاطرچاہتے رہے ہو۔

فَٱتَّبِعُونِـى

  • تو اس کے حصول کے لئے تم لوگ صدق دل سے اس انداز میں میری پیروی کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان تیسرا حائل نہ ہو۔

يُحْبِبْكُـمُ ٱللَّهُ

  • ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ تم سے لگن اور تعلق خاطرفرمائیں گے۔

وَيَغْفِرْ لَـكُـمْ ذُنُوبَكُـمْۗ

  • اور وہ جناب تمہارا یہ طرز عمل اختیار کرنے پر تم لوگوں کی خاطر تمہارے ان  جرائم /مجرمانہ الزام تراشیوں سے جو تم کر چکے ہو پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرما دیں گے۔

وَٱللَّهُ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ .٣١

  • اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یقین رکھو کہ درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔(ءال عمران۔۳۱)

جسے محبت نہیں وہ کیا جانے رحم،رحمت کے معنی اور مفہوم کیا ہیں۔فلسفہ عشق شاعروں کی خیالی پرواز ہے۔عشق کا دعویٰ نہیں ہوا کرتا کہ دعویٰ عشق ہی کو مشکوک بنا دے گا۔خامشی میں پنہاں ہے لطف و لذت عشق۔ عشق کا دعویٰ تو وہ بھی نہیں کرتا جو اپنے آپ کو الصمد کہلوانا پسند کرتے ہیں۔عشق کو بھی طشت از بام کبھی کرتا ہے کوئی! محبت کی اوج  الرّحمٰن ذالجلال والاکرام کا الرحیم ہونا ہے۔

محبت اپنا اظہار کرتی ہے اور محبت مطمئن بھی تبھی ہوتی ہے جب جواب میں محبت ملے۔عشق وہ کیفیت ہے جس میں لین دین کا سوال نہیں ہوتالیکن محبت کا اصول یہی ہے۔ا للہ تعالیٰ نے اپنے سے محبت کرنے کا شوق اور دعویٰ کرنے والوں کوعالمین کے صادق اور امین آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوا بھیجا کہ  ا للہ تعالیٰ سے اپنی محبت کے جواب میں اگر تم محبت پانا چاہتے ہو تو اُسے پانے کا پھر ایک ہی طریقہ ہے کہ رسولِ کریم ﷺ کی اتباع کرو
ہم تم سے محبت کریں گے اور تمہارے گناہ معاف کر دیں گے۔ ویسے بھی چاہے جانیوالوں کی کمزوریوں پرمحبت کرنے والوں کی نگاہ نہیں پڑا کرتی۔
یارب!اصل محبت چھپتی نہیں چاہے تیری ہو یا میری۔ تسبیح کے دانے رولنے سے اطمینان قلب تو لازماًملتاہے
لیکن محبت تو جبھی ملتی ہے جب کوئی رنگ لے اپنے آپ کو اُس کے رنگ میں جس کی محبت پانے کی چاہت ہے۔

محبت کی اوج کیا ہے؟ تمام حمدا للہ تعالیٰ،الرّحمن ذالجلال والاکرام کیلئے ہے جنہوں نے حمد کوبیان کرنے  اور ہمیشہ کیلئے اُن کیلئے مختص قرار دینے والے ’احمد‘ کو کائنات میں محمَد ﷺ کہہ کر ایسی ہستی کے طور پر متعارف کرایا جو مسلسل تعریف کے شایان ہیں۔اسم  محمَدﷺ(جو باب  تفعیل سے اسم مفعول ہے) کے یہی معنی ہیں۔لائق سجدہ ہے صرف ا للہ تعالیٰ، االرحمٰن ذالجلال والاکرام کی ذات جس نے انسانوں کو اپنی محبت پانے کا یہ راز بتایا کہ اُن کی اتباع کرو جن کی تعریف کا تسلسل ا للہ تعالیٰ منقطع ہونے نہیں دیتے:

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٟٓئِكَـتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَـى ٱلنَّبِىِّۚ

  • یہ حقیقت ہے کہ ا للہ تعالیٰ اور اُن کے فرشتے مختص اور بلندیوں پر فائز فرمائے (منفردنبی محمد ﷺ)پرتسلسل سے تعریف اورمحبت سے متوجہ اور چھائے رہتے ہیں۔

اور ایمان کے مدعیان کو حکم صادر فرمایا:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے ایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيـمٙا .٥٦

  • تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ تم بھی اُن کی جانب تعریف اور محبت کے جذبات سے لبریز،متوجہ رہو اور انتہائی ادب و احترام کے انداز میں انہیں سلام کہتے رہو۔(الاحزاب۔۵۶)

آقائے نامدار ،رحمت للعالمین رسولِ کریم ﷺ پر سلام اور ان کی عظمت و برتری اور عظیم تخلیق ہونے کا  ہمیں احساس اور اعتراف ہے ہر لمحہ صبح و شام۔ یارب!چڑھا دے ہم پر بھی یہی رنگ کہ تیری محبت پا سکیں اور سرخرو ہو سکیں۔
عقل فرق کو متعین کرتی ہے۔زمین پر کسی عشق کا دعویٰ کرنے والے کو کیا کوئی سچا مان سکتا ہے؟ عشق کا دعویٰ تکبر ہے انسان کاخود اپنی ذات کے متعلق غلط گمان ہے۔ آقائے نامدار ﷺ پر درودوسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔الحمد للہ

جس کسی کا دل مانتا ہے ان کی عظمت و برتری کو تسلیم کر کے ان کے ادب و احترام سے اپنے قلب کو منور کر لے۔اور جو ابلیس کے شروع کئے "بشر بشر" کی تکرار میں الجھے ہیں تو وہ بھی جان لیں کہ آپ(ﷺ)کو ان سے بھی کدورت اور گلہ نہیں:

وَمَا كَانَ لِنَبِىّٛ أَن يَغُلَّۚ

  • مطلع رہو؛کدورت،بد اندیشی،تعصب،کینہ کے جذبات رکھنا ایک ایسے نبی کے لئے زندگی کے کسی لمحے کسی کے لئے رکھنا ممکن نہیں تھا جومجسم رحمت ہیں۔(حوالہ۔ءال عمران۔۱۶۱)

جملے میں فعل ناقص کی خبر محذوف ہے اور اس کو متعین کرنے کے لئے جار و مجرور/Prepositional Phrase۔لِنَبِىّٛ۔اس مرکب کا ترجمہ "کسی نبی کی نسبت"صحیح نہیں کیونکہ اس میں حرف جر کا اسم مطلق نکرہ  واحدہے اور فقط ایک نبی کی شخصیت کا حوالہ ہے جن کی صفت /specificationبھی محذوف ہے۔ آقائے نامدار، رسول کریم محمَد ﷺواحد نبی ہیں جن کے متعلق تمام نبیوں  کی طرح  بشیر اور نذیر ہونے کے علاوہ یہ خبر بھی دی گئی ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَـٟكَ إِلَّا رَحْـمَةٙ لِّلْعَٟلَمِيـنَ .١٠٧

  • اورہم جناب نے آپ (محمد ﷺ) کو محض بحیثیت رسول نہیں بھیجا مگرآپ کو دنیا میں بھیجے جانا تمام موجودات کیلئے مجسم اظہار رحمت ہے۔(الانبیاء۔۱۰۷)

اللہ تعالیٰ نےآقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی تمام سابقہ اور موجودہ زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے قلب مبارک میں  کسی بھی ذی حیات کے لئے  تعصب، کینہ، رنجش، بد خوئی،کدورت کے جذبات نہیں ہیں۔ان کے قلب   مبارک میں تو لوگوں کے لئے ایسا غم جاگزیں ہے جو بار بار کی تشفیوں سے بھی ختم نہیں ہوا۔ان کے قلب مبارک کا غم کیسے ختم ہو جب  الرَحمٰن ذو الجلال و الاکرام کا  یہ اٹل فیصلہ اور اعلان ہو کہ ان ﷺ کی بات کو تسلیم نہ کرنے والا جہنم جائے گا۔یہ شان  صرف ان کی ہو سکتی ہے جو۔رَحْـمَةٙ لِّلْعَٟلَمِيـنَ ہیں۔