’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ا للہ تعالیٰ کا   اسم ذات ہے؛  صفاتی    ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ میں سے نہیں

 


اللہ تعالیٰ کے کلام کی پہلی آیت مبارکہ میں ’’ٱلرَّحْـمَـٰنِ‘‘ اسم  علم کا ترجمہ کرتے ہوئے اولین مترجمین میں شمار ہونے والے دو عیسائی انگریز سکالروں جارج سیل (George Sale) ا ور جان روڈویل (John Medows Rodwell) نے اسے صفت (adjective) بنا دیا تھا۔انہوں نے اس کا ترجمہ "the most merciful" اور "compassionate" کیا تھا۔مگر جان روڈ ویل نے زیادہ مقامات پر اس کا ترجمہ God of mercy کیا۔
ان کے بعد کے انگریزی اور اردو زبان کے مترجمین نے ان ہی کے ترجمے کونہ جانے کس بنیاد پر مستند مان کر یہی ترجمہ اختیار کیا۔اردو میں اِس کا ترجمہ ”بڑامہربان، بہت مہربان،نہایت مہربان“ کیاگیا جو ایک صفت بیان کرتے ہیں اور انہی انگریزی الفاظ کا اردو ترجمہ ہے۔ اور زیادہ مقامات پر اس کا ترجمہ ”خدائے رحمان“ کیا۔
ایک ترجمے کی مثال لیتے ہیں۔ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے نو مقامات پراس کا ترجمہ”نہایت مہربان“ کیا۔دس مقامات پر ”رحمان“، ایک مقام پر ”اللہ“ اور سینتیس مقامات پراس کا ترجمہ ”خدائے رحمان“ کیا۔یہ سینتیس مقام وہی ہیں جہاں روڈ ویل نے ترجمہ God of mercy کیاتھا۔

 ہستی کا ذاتی نام [Personal Name] ہمیشہ واحد ہوتا ہے، اِس کی تثنیہ اور جمع نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ایسا قاعدہ ہے کہ ایک مذکر کے ذاتی نام کو مو’نث بنایا جا سکے جبکہ عربی زبان میں اوصاف کو بیان کرنے والے اسماء [Adjectival Names] کی تشنیہ اور جمع بھی ہوتی ہے اور اُن اسماء کو مؤنث اور مذکر بنایا جا سکتا ہے۔عربی زبان کا اصول ہے کہ موصوف کی جنس اور عدد کے مطابق صفت بیان کرنے والے لفظ کی جنس اور عدد ہو گا۔  اگر’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ ذاتی نام کی بجائے صیغہ صفت ہوتا تو اس لفظ کی جمع بھی ہوتی اوراس کے مقابل مؤنث لفظ بھی ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ ہستی کاذاتی نام ہے۔
عربی زبان کے مرکب اضافی میں پہلا اسم یعنی مضاف اسم معرفہ /ذاتی نام نہیں ہوتا۔اسم ذات ہمیشہ مضاف الیہ ہوتا ہے۔قرء انِ مجید کے غیر تمام کتابوں اور تحریروں میں بھی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ کبھی مضاف کی حیثیت میں نہیں ملے گا۔جیسے۔عِبَادُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔ الرحمٰن کے بندے، اگر ہم اس مرکب کا ترجمہ کریں ”بڑے/نہایت مہربان کے بندے/غلام“ تو اردو کایہ مرکب مہمل ہو جاتا ہے کیونکہ سننے والا پوچھے گا کہ ”بڑے/نہایت مہربان“کون صاحب ہیں۔اگر کہنے اور سننے والے دونوں ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کا ذاتی نام مہربان ہے تو ”مہربان کے بندے/غلام“کہا جا سکتا ہے۔

عربی ز                                            بان کے سیدھے سادے قواعد سے یہ بات طے ہے کہ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ذوالجلال والاکرام اللہ تعالیٰ کاذاتی نام ہے اور یہ صفت نہیں مگرہم تقریباً                           تمام دستیاب تراجم اور تفاسیر میں اسے صفت کے طور پر لکھا دیکھتے ہیں۔
اکیڈیمک اصول کا تقاضا ہے کہ مترجم کسی بھی کتاب کا ترجمہ کرنے سے پہلے اس میں بیان کردہ اسماء میں ذاتی نام اور دوسرے اسماء میں فرق دیکھے۔اور ذاتی نام کا ترجمہ نہ کرے بلکہ اس کو ترجمے کی زبان میں ایسے لکھے جس سے وہی صوت پیدا ہو جو اصل زبان میں نام کی صوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی کسی شخص کے نام کا عربی میں میں ترجمہ کر کے قرء انِ مجید میں نہیں لکھا۔عجیب اور حیران کن بات ہے کہ مترجمین نے ایک ایسے لفظ کا تعین بھی نہیں کیا جو قرء انِ مجید میں ستاون بار استعمال ہوا ہے کہ وہ اسم ذات (proper noun) ہے یا وصف(adjective)۔
عربی زبان کے قواعد سے قطع نظر جو
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ کوصرف ذاتی نام ظاہر کرتے ہیں،ہم للہ تعالیٰ کے فرمان کے بموجب آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺ کو اپنے مابین تصور کرتے ہوئے اُن ہی سے رہنمائی لیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے یا ان کی صفت۔
عام فہم بات ہے کہ مخلوقات میں سے جس ہستی کا قلب و ذہن، انمٹ تحریری نقوش میں ہماری دسترس اور نگاہوں میں ہو،اُن کے متعلق ہم زیادہ دعویٰ اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں ہم بخوبی پہچانتے اور جانتے ہیں بہ نسبت اُس شخص کے جو ہمارے ساتھ بشری طور پر موجود رہتاہے۔جس ہستی کا باطن ظاہر ہو جائے وہ موجود سے زیادہ موجود ہوتا ہے۔آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ کی مکمل حیات طیبہ، ولادت مبارک سے آخری سانس تک کا تحریری عکس،قرء انِ مجید میں موجودہے۔یہ آپ ﷺ کے ذہن و قلب، آپ کے باطن کو ہر لمحہ ہماری نگاہوں کے روبرو رکھتا ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ ہستی کا ذاتی نام ہے یا ان کی ایک صفت،اسم مبالغہ ہے۔سوال معلِّم سے کیا جاتا ہے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ .55:01١

عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ .55:02٢

  • آگاہ ہو جاؤ)الرّحمن عز و جل نے رسول کریم محمد (ﷺ)کوقرآنِ مجیدکی تعلیم دی ہے۔ (الرحمٰن۔۱۔۲)

عَلَّمَ۔فعل ماضی واحد مذکر ہے،باب تفعیل اورمصدر تعلیم سے۔مکمل بیان کے لئے اس کے ساتھ دو مفعول آتے ہیں۔ایک وہ جسے تعلیم دی گئی اور دوسرا جس بات کی تعلیم دی گئی۔فعل کے فاعل یعنی معلم الرَّحمٰن سبحانہ و تعالیٰ ہیں اور جنہیں تعلیم دی گئی وہ آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺ ہیں  ۔ جس کی تعلیم دی گئی وہ قرء انِ مجید ہے۔اور ہمارے معلم کون ہیں،ان کے متعلق بتایا:

وَيُعَلِّمُكُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحِكْمَةَ

  •  اوروہ (رسول امین)تم لوگوں کو ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں اور حکمت،اس میں درج علم کو بروئے کار لانے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ (حوالہ البقرۃ۔۱۵۱)

۔يُعَلِّمُكُـمُ۔ فعل مضارع مرفوع ہے جس میں حال اور مستقبل میں فعل کے وقوع پذیر ہونے اور تسلسل کے معنی ہوتے ہیں۔یہ بھی باب تفعیل اورمصدر تعلیم سے ہے۔ معلم، آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺ ہیں۔جنہیں آپ ﷺ تعلیم دیتے ہیں اس کے لئے جمع حاضرمذکریعنی مخاطبین کی ضمیر ”کُمُ“ہے یعنی آپ اور میں،اور ہر کوئی جو قرء انِ مجید کو پڑھتا ہے اور پڑھے گا۔اورآپ ﷺ جس کی ہمیں تعلیم دیتے ہیں وہ قرء انِ مجید ہے جو فعل کا دوسرا مفعول بہ ہے۔
جوطالب علم بشری طور پرمعلم کے روبرو ہوتے ہیں وہ اگر کسی بات کے متعلق وضاحت چاہتے ہیں توسوال پوچھ لیتے ہیں جس سے انہیں خود ذہنی طور پر زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔موجود لوگوں نے معلم سے سوال پوچھے تھے اور انہیں جواب دئیے گئے تھے۔سوال اور جواب، من وعن انہی لفظوں میں ہمیں تحریرًا  بتا دئیے گئے ہیں۔لیکن جو طالب علم بشری طور پر معلم کے روبرو نہیں،اگر اس کے ذہن میں کوئی نیاسوال اٹھتا ہے تو اسے خود کتاب میں جواب تلاش کرنا ہو گا۔
ہستی کا تعارف اور اُس کو یاد کیا جانااور پکارنا اُس کے مقام و مرتبہ اورذاتی نام [Personal Name] سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آقائے نامدار، رسولِ کریم ﷺسے ارشاد فرمایا کہ اِس بات اور نکتے کو ہم لوگوں کو یوں بتائیں اور سمجھائیں:

قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْـمَـٰنَۖ

  • ۔آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا تم لوگ الرَّحمٰن کہہ کر پکارو۔

أَيّٙا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلۡأََسْـمَآءَ ٱلْحُسْنَىٰۚ

  • ۔جس لمحے بھی تم لوگ طلبگار توجہ ہو تو تمہیں بدرجہ اتم تعریف کے حامل اسماء کے ساتھ پکارنا چایئے کیونکہ بدرجہ اتم خصوصیات،توازن و حسن،کبریائی کو بیان کرتے اسماء صرف اور صرف ان (الرحمٰن ذالجلال والاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہیں۔“(حوالہ الاسراء۔۱۱۰)

آقائے نامدار ﷺ نے ہمیں بتایا کہ رب العالمین کو ہم ا للہ کہہ کر پکاریں یا الرَّحمٰن کہہ کر پکاریں۔ان دو ناموں کے درمیان ”اَوِ“ کے معنی ”or،یا“ ہیں، یہ یا اس کے متبادل یہ،اس سے واضح ہے کہ یہ دونوں ذاتی نام(Proper Name) ایک ہستی کے ہیں جو لوگوں کے اِلہٰ ہیں۔

دوسرے جملے میں  ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ مرکب توصیفی ہے۔ وصف بیان کرتا دوسرا لفظ اسم تفضیل / superlative ہے۔ پہلااسم جمع ہے۔تمام ایسے اسماء جو بدرجہ اتم تعریف بیان کرنے والے ہیں۔ذاتی نام اسم تفضیل نہیں ہوتے، کیونکہ وہ دو یا دو سے زیادہ کے مابین موازنہ کرتے ہیں،بہتر اور بہترین کا۔

تمام اشیاء اور مخلوقات کے نام رکھے جاتے ہیں۔انہیں نام دئیے جاتے ہیں۔

وَإِ نِّـى سَـمَّيْتُـهَا مَـرْيَـمَ

  • اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔(حوالہ ءال عمران۔۳۶)


يـٟزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّـرُكَ بِغُلَٟمٛ ٱسْـمُهُۥ يَحْيَىٰ

  • ۔اے زکریّا(علیہ السلام)! ہم جناب آپ کو ایک بیٹا عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔اس کا نام یحیَیٰ ہے۔

لَمْ نَجْعَل لَّهُۥ مِن قَبْلُ سَـمِيّٙا .19:07٧

  • ۔ہم نے اُس کی خاطرزمانہ قبل میں کسی کے لیئے یہ نام مقرر نہیں کیا۔(مریم۔۷)

اللہ تعالیٰ نے ذاتی نام’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ خود اپنے لئے پسند فرمایا ہے۔یہ یکتا ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔یہ عربی زبان کا نام ہے۔اور قرء انِ مجید بھی عربی زبان میں ہے جس کے متعلق فرمایا کہ یہ آپ ﷺ کی زبان میں ہے،اور پھر آپ ﷺ سے اپنے نام’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ (ذوالجلال والاکرام)کے متعلق سوال کیا:

هَلْ تَعْلَمُ لَهُۥ سَـمِيّٙا 

  • ۔کیاآپ(ﷺ) اُن (الرَّحمٰن)کے نام کی کوئی نظیر جانتے ہیں؟(حوالہ مریم۔۶۵)

۔هَلْ۔حرف استفہام ہے جو جملے میں بیان کردہ بات کی تصدیق چاہتا ہے کہ یہ حقیقت ہے یا نہیں۔یا رب!آپ جناب کے حبیب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے اسم مبارک کی کوئی نظیر نہیں۔یا رب!آپ جناب کا میرے آقا کی زبان میں یہ نام پسند فرمانا اور پھر انہی سے پوچھنا،،ہمیں بھی بہت کچھ ظاہر کر گیا ہے کہ محبت اور قربت کی اوج کیا ہے۔سبحانکَ
اللہ تعالیٰ کے کلام میں مختلف موضوعات پر گفتگو میں ہم دیکھیں گے کہ
’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام ہے،صفت نہیں۔

۱۔ معبود کا نام ہوتا ہے جس سے انہیں پکارا جاتا ہے۔
انسان جس کسی کو معبود سمجھتا ہے،اگر وہ حقیقت میں موجود نہیں تو بھی انہیں ایک نام دے کر ہست کرتا ہے:

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْـمَآءٙ سَـمَّيْتُـمُوهَآ أَنتُـمْ وَءَابَآؤُكُم

  • ان جناب کے سوائے اور علاوہ تم لوگ در حقیقت بندگی کسی نہیں کرتے مگر محض ناموں کی جو تم لوگوں نے خود سے دئیے ہیں،تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے۔

معبود،جس کی عبادت کی جائے،جس کی بندگی کی جائے،جس کا ہر حال میں ادب و احترام کیا جائے،اس کے لئے عربی میں اسم جنس/نوع (common noun - having sort, genus) ۔إِلَٟهٚ۔ہے۔لوگوں نے زمان و مکان میں بہت سے معبود اختراع کیئے اور ان کے تخیلاتی نام رکھے۔اس گمراہ کن فلسفے کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کا معبود فقط معبود مطلق ہے جن کا نام  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ہے:

وَإِلَـٟهُكُـمْ إِلَـٟهٚ وَٟحِدٚۖ

  • اوریہ حقیقت ہمیشہ مدنظر رہے کہ تم لوگوں کے معبود فقط معبود مطلق ہیں۔

لَّآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ

  • ان تمام کے متعلق جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےمبنی بر حقیقت خبر یہ ہے کہ ان میں کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان واحد معبود مطلق کے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ ٱلرَّحِـيـمُ .2:163١٦٣

  • وہ معبود مطلق الرّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)ہیں جو منبع رحمت ہیں۔(البقرۃ۔۱۶۳


وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ

  • ۔اور آپ(ﷺ)ان سے دریافت کر لیں جنہیں ہم جناب نے آپ سے قبل کے ادوار میں بحثیت رسول بھیجا تھا،یہ آپ ہمارے رسولوں میں سے بعض کی قرءان مجید میں بیان   کردہ خبروں/تاریخ سے کریں۔

أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ءَالِـهَةٙ يُعْبَدُونَ .5٤٥

  • ۔’’کیا ہم جناب نے الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)کے علاوہ مادی اشیا اور مردوں کومعبودان قرار دیا تھا جن کی پرستش کی جاتی         ہے؟‘‘۔(الزخرف۔۴۵)

اللہ تعالیٰ کے کلام،قرءان مجیدکا  محور،کلیدی تصور، مرکزی خیال/مقالہ بیان (Thesis Statement) "لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ"۔ہے۔اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام کے علاوہ وہ تمام جنہیں معبودان، إِلَٟهٚ۔ متصور کیا جاتا ہے ،بشمول عیسیٰ علیہ السلام،ابن مریم، وہ تمام  مادہ اور مردہ ہیں،ذی حیات  سے الگ حیثیت کے حامل۔مطلق معبود اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام ٱلْحَـىُّ  ہیں:

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٟهَ إِلَّا هُوَ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔(یہ جملہ ءال عمران۔1؛النساء۔87؛طۃ۔8؛النمل۔26؛ القصص۔70؛التغابن۔ 13  میں  بھی ہے)

ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُۚۚ

  • اللہ تعالیٰ کامل حیات ہیں،اوروہ تمام نظام کو سنبھالنے اورقائم رکھنے والے مقتدر اعلیٰ ہیں۔(حوالہ البقرۃ۔۲۵۵)


۔قرء انِ مجید میں معبود مطلق کا نام صرف اللہ تعالیٰ اور۔  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘۔ ذوالجلال والاکرام بتایا گیا ہے۔اور تمام۔ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۔ معبود مطلق کی صفات (epithets) بیان کرتے ہیں۔


۲۔ معبود مطلق کی بندگی کرنے والے بندے معبود مطلق کے نام سے بیان ہوتے ہیں،ان کی صفات کے حوالے سے نہیں۔

عام گفتگو میں بھی جب کسی ملازم یا غلام شخص کے مالک کا ہم حوالہ دیتے ہیں تو ہمیشہ مالک کا نام لیتے ہیں، اس کی کسی صفت کے حوالے سے نہیں۔ کسی بھی صفاتی نام کے حوالے سے کسی کو بندہ نہیں کہا جاتا۔

۔عَبْدُ ٱللَّهِ۔(حوالہ مریم۔۳۰)

۔عِبَادُ ٱللَّهِ۔(حوالہ  الانسان۔۶)

۔عِبَادُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔(حوالہ الفرقان۔۶۳)

۔عِبَٟدُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ۔(حوالہ الزخرف۔۱۹)

۔ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ کے حوالے سے  کسی کو بندہ نہیں کہا گیا۔اس طرح واضح ہے کہ  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ اسم علم،اسم ذات ہے۔


۳۔ معبود مطلق کی پہچان (recognition) رب العالمین ہے۔اور رب العالمین کا نام اللہ تعالیٰ اور  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘۔ ہے:
قرء انِ مجید میں تمام تخلیقات کے رب کو بیان کرنے کے لئے ان کے دو ذاتی نام بیان ہوئے ہیں، اللہ اور
  ’’ٱلرَّحْـمَـٰنُ‘‘ سبحانہ و تعالیٰ۔

تعارف اور پہچان میں فرق ہے۔نام شئے اور ہستی کو متعارف کرنے کے لئے ہیں۔نام (اسم علم)تمام موجودات میں منفرد حوالے کے لئے ہیں۔علم کی ابتدا مفردات، موجودات کے نام سے متعارف ہونا ہے۔یہ محض  اطلاع ہے۔اور شئے اور ہستی کے متعلق جس قدر معلومات کسی کو حاصل ہوں گی اسی تناسب سے وہ شئے اور ہستی اس کے لئے معروف ہو گی،مشہور، شہرت یافتہ (high profile)۔پہچان اورقدر کا تعلق اس شئے اور ہستی کے خواص،حیثیت،مقام و مرتبہ،قدر،قابلیت،روئیے،سلوک اور ان کےاظہار سے ہے۔ان کے حوالے سے شئے اور ہستی کی قدر(recognition)کے پیمانے اور معیار ہے۔تعارف ادراک یعنی جاننے کا عمل (process)ہے جبکہ پہچان  تسلیم کرنے کا عمل(Act) ہے یا شناخت کی حالت ہے۔پہچان مثبت یا منفی رد عمل کا باعث بنتا ہے۔قدر شناس اور نا قدردان۔

مَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓۗ

  • ۔حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے مطلق مقام و مرتبہ کا احساس و ادراک اور احترام اس طرح نہیں کیا جیسا کہ ان کی عظمت و کبریائی کا استحقاق ہے۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ .4٧٤

  • ۔اوریہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ   تمام قوت کے مطلق مالک اور مکمل طور پر ہر لمحہ ہر مقام پر مطلق غالب ہیں۔(الحج۔۷۴)

۔اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام کی پہچان اور مقام و مرتبہ کو ہم یوں بیان کرتے ہیں:

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .2٢

  •  اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا ہے [احمد ﷺ نے]۔
    (وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں/ ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ۔(۲

ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ.٣

  • (ہروجودپذیر کے رب الرّحمن عز و جل ہیں جومنبع رحمت ہیں۔


كَذَٟلِكَ أَرْسَلْنَـٟكَ فِـىٓ أُمَّةٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٚ

  • اس طرح ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو  ان لوگوں کی موجودہ نسل میں  رسول مبعوث  فرمایا جن کی کئی نسلیں اس سے  قبل گزر چکی ہیں (جنہیں کتاب سے نہیں نوازا گیا تھا)۔

Root: خ ل و

لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْـهِـمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ

  • ۔تا کہ آپ(ﷺ) انہیں وہ(قرءان مجید) لفظ بلفظ ترتیل کے انداز میں سنائیں جو  ہم جناب نےآپ(ﷺ)کی جانب بھیجا ہے۔

وَهُـمْ يَكْـفُـرُونَ بِٱلرَّحْـمَـٰنِۚ

  • ۔اور وہ اس حالت میں ہیں کہ الرَّحمٰن (عز و جل)کااِلہٰ واحد ہونے سے مسلسل انکار کرتے رہتے ہیں ۔

Root: ك ف ر

قُلْ هُوَ رَبِّـى

  • ۔آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”وہ جناب (الرَّحمٰن) میرے رب ہیں۔

لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَ

  • اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (الرّحمٰن زوالجلال و الاکرام) کے۔

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ .0٣٠

  • ۔ان پربھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر چھوڑ دیتا ہوں۔اور میرا رجوع کرنا ہر لمحہ ان جناب کی جانب ہے‘‘۔(الرعد۔۳۰)


وَإِنَّ رَبَّكُـمُ ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • ۔اور حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے پروردگار الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام)ہیں۔(حوالہ طٰہ۔۹۰)


رَّبِّ ٱلسَّـمَٟوَٟتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْـنَـهُمَا ٱلرَّحْـمَـٰنِۖ

  • ۔آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے مابین موجود ہے  ان کے رب الرَّحمٰن(ذوالجلال والاکرام )ہیں۔(حوالہ النباء۔۳۷)


اس طرح واضح ہے کہ الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام) اسم علم، اسم ذات ہے۔

۔۴۔ ا نسان جس سے طلبگار استعانت ہوتا ہے اسے نام سے پکارتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کلام میں پہلا جملہ دو بار آیا ہے:

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .١

  • (آقائے نامدار رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے جومنبع رحمت ہیں۔

دوسری بار آیت ۳۰:۲۷میں مشبہ بالفعل حرف اِنَّ کی محذوف خبر کے متعلق ہے جو سلیمان علیہ السلام کا ایک ملکہ کے نام تحریر کردہ خط(عربی میں کتاب)کا ابتدائیہ،  Prologue تھا۔

قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟

  • ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں۔

Root: م ل ء

إِ نِّـىٓ أُ لْقِىَ إِلَـىَّ كِتَٟبٚ كَرِيـمٌ .27:29٢٩

  • ۔آپ کے علم میں اس حقیقت کو لانا ہے کہ ایک انتہائی نفیس مکتوب کو میرے روبرو پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

Root: ك ر م

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٟنَ وَإِنَّهُۥ

  • ۔یہ (مکتوب)سلیمان (علیہ السلام)نے مجھے پہنچانے کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کا ابتدائیہ یہ ہے:

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ .27:30٣٠

  • ’’اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے،وہ جناب منبع رحمت ہیں۔(النمل۔۳۰)

ہر فعل و عمل کو شروع کرنے سے قبل ہم اس جملے سے ابتدا کرتے ہیں۔ہم اس ہستی سے اعانت کے طلبگار ہوتے ہیں جن کے نام اللہ،الرّحمن عز و جل ہیں۔اورجو ہستی تعاون طلب کئے جانے پر معاونت کو خود اپنے لیئے تفویض فرما لے انہیں۔ٱلْمُسْتَعَانُ ۔ کہتے ہیں۔قرء ان مجید میں ۔ ٱلْمُسْتَعَانُ ۔   اسم فاعل صرف دو بار آیا ہے۔ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اسے بطور خبر بتایا گیا اور دوسری بار الرّحمٰن عز و جل کے متعلق اسے بطور خبر بتایا گیا:

وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ .8١٨

  • اور اللہ تعالیٰ ہی ہیں جن سے طلبگار اعانت ہوں اس کے لئے جو بڑھا چڑھا کر جھوٹ تم بیان کر رہے ہو‘‘۔(حوالہ سورۃ یوسفؐ۔۱۸)

Root: ع و ن


قَٟلَ رَبِّ ٱحْكُـم بِٱلْحَقِّۗ

  • ۔۔انہوں (رسول کریم ﷺ)نے سلسلہ کلام کو قطع کرتے ہوئے دعا فرمائی’’اے میرے رب!آپ مبنی بر حقیقت فیصلہ فرما دیں‘‘۔۔

وَرَبُّنَا ٱلرَّحْـمَـٰنُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَـىٰ مَا تَصِفُونَ .21:112١١٢

  • اور انہوں نے مخاطبین سے کہا’’ ہمارے رب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)ہیں،وہ اعانت فرمانے والے ہیں،ان ہی سے رجوع کیا جا سکتا ہے ان باتوں پر جو تم اپنے تخیل سے بیان کر رہے ہو“۔( الانبیاء۔۱۱۲)

Root: ع و ن; و ص ف

۔ٱلْمُسْتَعَانُ ۔ معرفہ اسم فاعل با ب استفعل (Form-X) میں مصدر استعانۃٌ سے بنا ہے۔اس باب میں اس بات کے طلبگار اور خواہش مند ہونے کے معنی شامل ہوتے ہیں جو اس کے بنیادی باب کے معنی ہیں اور یہ کہ فاعل اس فعل کو از راہ ”تکلف“ یعنی اپنے آپ پر تفویض کر لیتا ہے۔اس کے بنیادی باب کے معنی اعانت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ، الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام سے مخاطب ہو کر  ہم استدعا کرتے ہوئے بتاتے ہیں:

وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيـنُ .5٥

  • اور صرف آپ ہیں جن سے اپنی شخصیت کواوج ثریا پر لے جانے کیلئے اعانت کے ہم طلبگار ہیں۔(الفاتحۃ،۵)

قرء انِ مجید یہ جملہ  ایک بار ہے۔جملہ فعلیہ کا یہ فعل بھی مصدر استعانۃٌ سے بنا ہے۔اللہ تعالیٰ، لرّحمن ذوالجلال والاکرام سے ہم طلبگار اعانت ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو اس کا مکلف بنا لیا ہے کہ اعانت کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ، الرّحمن ذوالجلال والاکرام سے رجوع کریں گے۔


۔۵۔ سجدہ ہستی کو کیا جاتا ہے،صفات کو نہیں۔

ہستی یا کسی مخصوص شئے کے لئے تعظیم،عظمت،بڑائی،فرمانبرداری کا احساس اور جذبہ ہوتا ہے جس کے مقابل انسان اپنے آپ کو کمتر،کمزور اورعاجزی کا پیکر سمجھتا ہے۔اور اس ہستی یا شئے کے لئے یا اس کے روبروسرتسلیم خم کرتا اور سربسجودہوتا ہے۔تعظیم کا اظہار زبان اور(body language) عمل کی زبان سے کیا جاتا ہے۔انتہائی عظمت کو تسلیم کرنے اور انتہائی تعظیم کا اظہار سجدے سے کیا جاتا ہے۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٟٓئِكَـةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ

  • اور(ان ملائکہ کے رویہ کے متعلق) وقت کے اُس لمحے کی تاریخ بھی جان لو جب ہم جناب نے ملائکہ سے کہا تھا’’ آدم کیلئے تم سب سرنگوں ہو جاؤ؍ تعظیم بجا لاؤ‘‘ ۔(حوالہ البقرۃ۔۳۴)


۔مادی طورپر وجود دئیے جانے والے اولین انسان کا ذاتی نام ء آدم علیہ السلام ہے۔یہ حکم ان کے وجودپذیر ہونے سے قبل دیا گیا تھا۔اس قصہ میں استعمال ہوالفظ سجدہ بھی بعض لوگوں کے لئے باعث الجھن بنتا ہے  کیونکہ تمام مترجمین نے ترجمہ یوں کیا"آدم کو سجدہ کرو"؛ "آدم کے آگے سجدہ کرو" جیسے انگریزی کے اولین عیسائی مترجمین نے"prostrate"کیا تھا۔اس کا ماخذ "س۔ج۔د" ہے جس میں سمویا بنیادی تصور کسی کے مقابل اپنے پست، کمتر،انکساری،عجزکا احساس ہے اور دوسرے کے بلند مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہوئے ادب و احترام کرنے کا ایسا جذبہ جس کاجسمانی طور پر اظہار کیا جائے جیسے سر کو تھوڑی کی جانب جھکانا جس سے نگائیں بھی نیچی ہو جائیں۔بنیادی معنوں میں یہ ایسے ہی ہے جیسے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے پریڈ کرتے ہوئے فوجی افسران اور جوان اپنے ہتھیاروں کو نیچے کی جانب کر کے اپنے جنرل یا اعلیٰ شخصیت کو سلوٹ کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ سجدہ کا اظہارجھکنا اور آخری حد اپنی پیشانی کو زمین پر ٹیک دیناہے۔ پیشانی کو زمین پر ٹیک دینا اپنی حریت (خلیفہ)سے دستبردار ہو کر اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی صوابدید کے تابع کرنے کا عملی اظہار ہے۔اور اگر انسان جھک کر اپنی پیشانی کوکسی انسانی پیشوا کے قدموں پر رکھ دے اور سجدہ کروانے والے کا چہرہ فخر سے درخشاں ہو جائے تو دونوں کے دوزخ میں جانے کے امکانات روشن ہو گئے۔

أَ لَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسْجُدُ لَهُۥ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • ۔کیا آپ (ﷺ)نے  یہ نہیں دیکھا کہ  اللہ تعالیٰ ہیں  جن  کے لئےجو کوئی آسمانوں میں ذی حیات موجود ہے اور جو کوئی زمین میں ذ ی حیات موجود ہے دل کی شاد سے سربسجود ہوتا ہے اورنظام کی مجبوری اور ناگواری جبر کے زیر اثر سرنگوں ہو گا۔

وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ

  • ۔اور سورج اور چاند اور ستارے ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَٱلْجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ

  • ۔اور تمام پہاڑ اور تمام درخت اور تمام جانور ان جناب کے لئے مطیع سجدہ ریز رہتے ہیں۔

وَكَثِيـرٚ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ

  • ۔اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر تعداد ان جناب کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

وَكَثِيـرٌ حَقَّ عَلَيْهِ ٱلْعَذَابُۗ

  • ۔اور جبکہ ان (انسانوں)کی کثیر تعداد پر منفرد عذاب مستوجب ہو گیا ہے۔(حوالہ الحج۔۱۸)

(یہ آیت مبارکہ آیت سجدہ ہے)۔آئیں اپنے رب کے سامنے شوق و رغبت سے سربسجودہونے کی عادت اپنائیں۔بابا بلھے شاہ نے شاید اسی اطلاع پر تڑپ کر کچھ یوں کہا تھا:
”اُٹھ وے بھلیاؔ سُتیا      ۔۔۔۔۔۔۔بازی لَے گئے نیں کتے“

سجدہ ہستی کو ہے، اور لائق سجدہ ہستی کے نام اللہ تعالیٰ اور الرَّحمٰن ذو الجلال و الاکرام ہیں:

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٙا وَبُكِيّٙا۩ .٥٨

  • ۔جب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات انہیں سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے حضورآنسؤوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ ازخود سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔(حوالہ مریم۔۵۸)


وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمُ ٱسْجُدُوا۟ لِلرَّحْـمَـٰنِ

  • اور جب ان سے کہا گیا”تم لوگ سجدہ ریز ہو فقط الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے لئے“

قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • انہوں نے (طنزیہ انداز میں)جواب دیا”کیا؟ فقط الرّحمن؟

أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُـرُنَا

  • ۔کیا ہم سجدہ کریں فقط اس طرح جیسے تو ہمیں حکم دے رہا ہے؟‘‘

وَزَادَهُـمْ نُفُورٙا۩ .0٦٠

  • ۔اور اس انداز فکر، انداز تکلم نے انہیں بڑھا دیا،فلسفہ توحید سے دوری اور فرار میں۔ (الفرقان۔۶۰)

Root: ن ف ر


۔سجدے کے حوالے سے بھی ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرح الرّحمن ذوالجلال والاکرام بھی ذاتی نام (proper noun) ہے۔


۶۔ شئے کو بنانے والے خالق کی پہچان اور اس کا حوالہ ہمیشہ نام سے ہوتا ہے چاہے یہ ایک ہستی ہو،چاہے کوئی کمپنی،ادارہ

ہم کسی شئے کو وجود پذیر کرنے والے خالق کا حوالہ اس کی صفات کے حوالے سے نہیں دیتے بلکہ اس کا نام بتاتے ہیں۔

ٱللَّهُ خَالِقُ كُـلِّ شَـىْءٛۖ

  • ۔اللہ تعالیٰ ہیں جو  تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ وَكِيلٚ .2٦٢

  • ۔اور  وہ جناب  تمام موجودات اور معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے  والے ہیں۔(الزمر۔۶۲)


ٱلرَّحْـمَـٰنُ .55:01١

عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ .55:02٢

  • آگاہ ہو جاؤ)الرّحمن عز و جل نے رسول کریم محمد (ﷺ)کوقرآنِ مجیدکی تعلیم دی ہے۔ (الرحمٰن۔۱۔۲)

خَلَقَ ٱلْإِنسَٟنَ .55:03٣

  • (انہوں (الرّحمن عز و جل)نے ا نسان کو تخلیق فرمایا ہے۔(الرحمٰن۔۳


ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٛ طِبَاقٙاۖ

  • ۔(مطلق فرمانروا)وہ جناب ہیں جنہوں نے سات آسمانوں کو تخلیق کیا،طبق در طبق،اوپر تلے باہمدگر انداز میں۔

Root: ط ب ق

مَّا تَرَىٰ فِـى خَلْقِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ مِن تَفَٟوُتٛۖ

  • ۔الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی تخلیق میں تم تفاوت،عدم تناسب کہیں نہیں دیکھو گے۔

Root: ف و ت

فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٛ .67:03٣

  • ۔چونکہ اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اس لئے تم نگاہ کو اس پر مرکوز کر کے دیکھو؛ بتاؤ کہیں شگاف/دراڑدکھائی دیتا ہے؟(حوالہ الملک۔۳)

Root: ف ط ر


أَ لَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٛ طِبَاقٙا .5١٥

  • ۔کیاتم  لوگوں نے دیکھا/غور نہیں کیا کہ ا للہ تعالیٰ نے کیسے سات آسمانوں کو تخلیق کیا،طبق در طبق،اوپر تلے باہمدگر انداز میں۔(سورۃ نوح ؑ۔۱۵)

Root: خ ل ق;  ط ب ق


۔۷۔ تخت حکمرانی پر براجمان ہستی کا حوالہ نام سے دیا جاتا ہے۔

ہمارا عام تصور اور طرز عمل ہے کہ ہم اس ہستی کانام لے کر ذکر کرتے ہیں جو تخت حکمرانی پر براجمان اور تشریف فرما ہوتے ہیں۔ہم تخت پر جلوہ افروز شخصیت کا نام دوسروں کو بتاتے ہیں،ان کی شان اور خصوصیات کا تذکرہ بعد میں کرتے ہیں۔قرء انِ مجید بھی اسی انداز میں تخت پر جلوہ افروز ہستی کا نام اللہ تعالیٰ اور الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)بتایا ہے:

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ بِغَيْـرِ عَمَدٛ تَرَوْنَـهَاۖ

  • ۔اللہ تعالیٰ ہیں جنہوں نے آسمانوں کو بلند فرمایا۔اس ارتفاع کی حالت   ستونوں کے علاوہ  ذریعے سے ہے۔تم لوگ اسے بغیر ستونوں کے بلند دیکھتے ہو۔

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔(حوالہ الرعد۔۲)

Root: ع ر ش


ٱلرَّحْـمَـٰنُ عَلَـى ٱلْعَـرْشِ ٱسْتَوَىٰ .5٥

  • ۔وہ جناب الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام ہیں جو اعلیٰ آسمانوں کے پار مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہیں۔(طہ۔۵)


ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اوروہی جناب  ہیں جنہوں نے تخلیق فرمایا سات آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۚ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔

ٱلرَّحْـمَـٰنُ فَسْـَٔلْ بِهِۦ خَبِيـرٙا .9٥٩

  • اس عظیم الشان تخلیق کے خالق الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ہیں۔اگر مزید معلومات درکار ہوں تواس (قرء ان مجید)سے اعانت لیں،باخبر حالت میں رہنے کے لئے۔(الفرقان۔ ۵۹)


ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُـمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اللہ تعالیٰ وہ جناب  ہیں جنہوں نے تخلیق فرمایا سات آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۖ

  • بعد ازاں وہ جناب مزیدبلندی پر عرش/یکتا تخت اقتدار پر تشریف فرما ہوئے۔(حوالہ السجدہ۔۴)


۔۸۔ وعدے کے حوالے کے لئے ہم شخصیت کا نام لیتے ہیں جس کا وہ وعدہ ہے۔

یہ بھی ہمارا عام تصور اور طرز عمل ہے کہ ہم اس ہستی کانام لے کر ذکر کرتے ہیں جس نے کوئی وعدہ کیا ہے۔قرء انِ مجید میں بھی وعدے کے حوالے سے۔
ٱلْأَسْـمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۔ کا ذکر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ، الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)،تمہارے رب کا وعدہ کہا گیا ہے۔

۱۔وَعَدَ ٱللَّهُ۔: اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔(حوالہ النساء۔۹۵؛المائدہ۔۹؛التوبہ۔۶۸ اور ۷۲؛النور۔۵۵؛الفتح۔۲۸؛اورالحدید۔۱۰)

۲۔وَعَدَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ۔ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) نے وعدہ کیا ہے۔(حوالہ مریم۔۶۲؛اوریسٓ۔۵۲)

۳۔وَعَدَ رَبُّكُـمْ۔تم لوگوں کے رب نے وعدہ کیا۔(حوالہ الاعراف۔۴۴)۔

۴۔وَعْدَ ٱللَّهِ۔: (مرکب اضافی) اللہ تعالیٰ کا وعدہ۔(ref:4:122;10:4;10:55;13:31;18:21;28:13;30:6;30:60;31:9[31:33;35:5;39:20;40:55;40:77;45:22;46:17)۔


۹۔ معاہدہ فریقین کے مابین ان کے نام سے ہوتا ہے۔
قانون کے نکتہ نظر سے باہمی معاہدہ فریقین پر ایک ذمہ داری عائد کرتا ہے جس کی بجاآوری لازم ہے۔ معاہدے کی بنیاد قانونی طور پر دو مختار فریقوں کے مابین باہمی رضامندی سے کسی معاملے میں طے شدہ شرائط پر اتفاق ہے۔ معاہدے کی بنیادی قانونی تعریف سے واضح ہے کہ فریقین کا حوالہ ان کی خصوصیات سے نہیں بلکہ ان کے نام سے ہو گا۔عربی میں معاہدے کو۔
عَهْدٌ۔ کہتے ہیں۔

ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٟقِهِۦ

  • یہ(فاسقین)وہ لوگ ہیں جو ا للہ تعالیٰ کے عہدکواُس کے پابند؍بندھے ہونے کے باوجود توڑتے؍عہد شکنی کرتے ہیں۔

وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَـرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ

  • اور یہ لوگ(فاسقین) اس کوقطع کرتے؍توڑتے ہیں جس معاملے کواللہ تعالیٰ نے استوار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔

وَيُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِۚ

  • [اور یہ لوگ(فاسقین)زمین (معاشرے) میں بگاڑ؍بے اعتدالی پیدا کرتے ہیں۔[متضاد طرز عمل کے لوگ ۲۰:۱۳

أُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ.2:27٢٧

  • [یہ( فاسقین)ایسے لوگ ہیں جو خود اپنا خسارہ ؍/نقصان کرنے والے ہیں۔[ البقرۃ ۔ ۲۷


أَطَّلَعَ ٱلْغَيْبَ

  • ۔اتنا اعتماد کس وجہ سے!کیا اس نے مسقبل میں پنہاں کا کھوج لگا کر اپنے آپ کو مطلع کر لیا ہے؟

أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَهْدٙا .٧٨

  • ۔یا کیا ان کے عنایت کئے جانے کا اس نے الرَّحمٰن (عزو جل)کی جانب سے عہد نامہ حاصل کر لیا ہے؟(سورۃ مریم۔۷۸)


لَّا يَمْلِـكُونَ ٱلشَّفَٟعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَهْدٙا .٨٧

  • ۔وہ (متقین)حق شفاعت کے مالک نہیں،سوائے ان ایک(محمد ﷺ) کے جنہوں نے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) کی جناب سے اختیارِ شفاعت کا عہد لے رکھا ہے۔(سورۃمریم۔۸۷)


۔ ۱۰۔ اجازت،اجازت نامہ،اوراعلان جس ہستی،مقتدر شخصیت کی جانب سے ہوتا ہے اس کا نام بتایا جاتا ہے۔

ہمارے تصور اور تجربے میں یہ عام فہم بات ہے کہ کسی  کام اور اختیار رکھنے کی کسی کواجازت دینے اور اعلان عام میں اس ہستی اور اتھارٹی کا نام لیا جاتا ہے جس کی جانب سے وہ ہے۔عربی میں اس کے لئے لفظ بِإِذْنِ  ہے یعنی اجازات کے ساتھ۔
۔
بِإِذْنِ ٱللَّهِ۔ (جار و مجرور + مرکب اضافی) اللہ تعالیٰ کی اجازت (اِذن)کے ساتھ۔

وَكَم مِّن مَّلَكٛ فِى ٱلسَّمَٟوَٟتِ لَا تُغْنِى شَفَٟعَتُـهُـمْ شَيْئٙا

  • ۔اور آسمانوں میں کتنے ہی ملائکہ ہیں جن کی شفاعت/کرم نوازی کی سفارشی درخواست  کسی اِفادہ کا باعث نہیں بنتی۔

Root: ش ف ع

إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ .٢٦

  • ۔سوائے بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق انہیں اذن دے دیا جس کے متعلق  یہ فیصلہ  اور رضا کا اظہار فرماتے ہیں۔(النجم۔۲۶)


يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلََٟٓئِكَـةُ صَفّٙاۖ

  • ۔جس دن جبرئیل(علیہ السلام)اور ملائکہ ایک صف میں کھڑے پیش ہوں گے۔

Root: ر و ح

لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْـمَـٰنُ

  • ۔وہ ازخود سے کلام/خطاب نہیں کریں گے سوائے اس کے جسے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)اجازت مرحمت فرمائیں گے۔

وَقَالَ صَوَابٙا .8٣٨

  • ۔اور اس نے پہلے سے ثابت شدہ حقیقت کو بیان کر دیا۔(النباء۔۳۸)


۔۱۱۔ عام فہم بات ہے کہ بیٹے،(حقیقی اور اختیار کردہ (adopted کو ہم اس کے نام سے بتاتے ہیں جس کا وہ بیٹا ہے یاجس سے منسوب کرتے ہیں۔

اس نکتے سے بھی واضح ہے کہ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام (proper noun) ہے صفت نہیں۔

قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَـدٙاۗ

  • جان لو؛انہوں(قدیم یہودی عمائدین)نے کہا’’اللہ تعالیٰ نے عزیر کو زیر مقصد بطور بیٹا اپنا لیا ہے‘‘۔

سُبْحَٟنَهُۥۖ

  • وہ جناب ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔

هُوَ ٱلْغَنِىُّۖ

  • ۔وہ جناب ہیں جو ہر احتیاج  سےمطلق منزہ اور مطلق آزاد ہیں۔(حوالہ سورۃ یونسؐ۔۶۸)


وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ وَلَـدٙا .٨٨

  • ۔اورانہوں (اکابرین یہود و نصاریٰ)نے کہا” الرَّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)نے  فلاں کوزیر مقصد بیٹا اختیار کیا ہے‘‘۔

لَّقَدْ جِئْتُـمْ شَيْــٔٙا إِدّٙا .9٨٩

  • ۔(آپﷺانہیں متنبہ کریں  الکہف۔۴)”تم لوگوں نے انتہائی نامناسب،حقیقت سوز/باعث خلفشار بات کومنہ سے بیان کیا ہے“

تَكَادُ ٱلسَّمَٟوَٟتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ

  • ۔قریب ہے کہ آسمان اپنے آپ کو ازخوداس قول سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے اصل حالت میں کر لیں۔

Root: ف ط ر;  ك و د

وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرْضُ وَتَخِرُّ ٱلْجِبَالُ هَدّٙا .0٩٠

  • ۔اور زمین شکافتہ ہو جائے اور پہاڑ دھڑام سے نیچے گر جائیں۔

Root: ھ د د;  ش ق ق; خ ر ر

أَن دَعَوْا۟ لِلرَّحْـمَـٰنِ وَلَـدٙا .:91٩١

  • ۔اس خلفشار سے کہ انہوں نے الرَّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام) کے حوالے سے بیٹا اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

وَمَا يَنۢبَغِى لِلرَّحْـمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَـدٙا .2٩٢

  • ۔باوجود یہ جاننے کہ  کسی کوبطور بیٹا اختیار کرنا الرّحمٰن (عزوجل)کے لئے مناسب اور شیان شان نہیں ہے۔

إِن كُلُّ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ إِلَّآ ءَاتِـى ٱلرَّحْـمَـٰنِ عَبْدٙا .19:93٩٣

  • Whoever is in the Skies and the Earth comes to Ar'Reh'maan the Exalted as but a bondman-subject. [19:93]

  • ۔تمام کے تمام جو آسمانوں اورزمین میں ذی حیات و شعور بستے ہیں ان میں کوئی ایسا نہیں جو الرّحمٰن(عز و جل) کے حضور پیش ہوتا ہے سوائے بندے کی حیثیت میں۔


۔قرء انِ مجید میں اس موضوع پر جب بھی ذکر ہوا تو یہ دو نام بیان ہوئے ہیں۔

۱۲۔قرء ان مجید میں آیات کو صرف۔ءَايَٟتُ ٱللَّهِ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور۔ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ۔ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات کہا گیا ہے۔اس سے بھی واضح ہے کہ الرّحمن (ذوالجلال والاکرام) ذاتی نام (proper noun)ہے صفت نہیں۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّۚۚ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے ۔

وَإِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .2:252٢٥٢

  • اوریقینا آپ(ﷺ)بلاشبہ  تمام انسانوں کے لئے عالمگیر رسول ہیں ان میں  سے منفردجنہیں مختلف زمان اور اقوام میں  بحثیت  رسول بھیجا گیا تھا۔(البقرۃ۔۲۵۲)


وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ

  • مگر تم لوگ کیسے قرءان مجید  کو پس پشت ڈال سکتے ہو،اس سے غفلت برت سکتے ہو۔نگاہوں سے اوجھل کر سکتے ہو؟

وَأَنتُـمْ تُتْلَـىٰ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • جبکہ تم لوگ اس حال میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات لفظ بلفظ تم لوگوں کو سنائی جا تی  ہیں۔

وَفِيكُـمْ رَسُولُهُۥۗ

  • اور  اس حال  میں ہو کہ ان جناب کے رسول(محمد ﷺ)تم لوگوں کے مابین بحثیت نذیر/متنبہ کرنے والے اور معلم موجود ہیں(محذوف خبر کے لئے حوالہ 6:19)۔

وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ

  • اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مرجع خلائق کاتعلق استوار کر لیتا ہے

فَقَدْ هُدِىَ إِلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ .1١٠١

  • تویقیناوہ منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والے راستے کی جانب ہدایت دے دیا گیا۔(ءال عمران۔۱۰۱)


تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّۗ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے ۔

وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمٙا لِّلْعَٟلَمِيـنَ .3:108١٠٨

  • مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ تمام تخلیقات سے کسی قسم کی زیادتی کا ارادہ نہیں رکھتے۔(ءال عمران۔۱۰۸)


تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • یہ(بیان کردہ) اللہ تعالیٰ کی  آیات ،کلام اللہ پر مشتمل قرءان  حکیم کے مندرجات ہیں۔

نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ

  • ہم جناب  آپ(ﷺ)کو حسن ترتیب سے انہیں(آیات)زبانی سنا رہے ہیں،یہ موقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے  اس مقصد سے کہ آپ نے من وعن لوگوں کو زبانی اور تحریر میں  اشاعت کرنا ہے۔

فَبِأَىِّ حَدِيثِۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَٟتِهِۦ يُؤْمِنُونَ .45:06٦

  • ۔چونکہ بیان حقیقت میں ان کے لئے ہر موقع محل کے لئے ہدایات  موجود ہیں اس لئے  وہ  اللہ تعالیٰ کی جانب سے  حدیث/بیان اور ان کی آیات /مندرجات قرءان مل جانے کے بعد کس  حدیث/بیان  پر وہ ایمان لانا چاہتے ہیں؟ (الجاثیہ۔۶)


أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم مِّنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ

  • ۔یہ  نام لے کربیان کردہ ہستیاں وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلعت کامرانی سے نوازاہے بحثیت انبیاء (علیہم السلام)۔

Root: ن ب و

مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنْ حَـمَلْنَا مَعَ نُوحٛ

  • ۔ان میں سے بعض کا شجرہ نسب ءادم کی ذریت میں تھا اور ان میں بعض کا تعلق ان اشخاص کی ذریت سے تھا جنہیں ہم جناب نے نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار کیا تھا۔

Root: ذ ر ر

وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْرَٟٓءِيلَ

  • ۔اور ان میں بعض کا شجرہ نسب ابراہیم(علیہ السلام)اور بعض کا اسرائیل (علیہ السلام)سے تھا۔

وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَٱجْتَبَيْـنَآۚ

  • ۔اور ان میں سے بعض کا تعلقِ ذریت ان سے تھا جنہیں ہم جناب نے ہدایت سے نوازا اور فوقیت دیتے ہوئے انہیں منتخب فرمایا تھا۔

إِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٙا وَبُكِيّٙا۩ .19:58٥٨

  • جب الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی آیات انہیں سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے حضورآنسؤوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ ازخود سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔(مریم۔۵۸) [آیت سجدہ]

Root: س ج د; خ ر ر


۔۱۳۔ ادب،عظمت،رعب،دبدبہ،احترام کا احساس شخصیت کے حوالے سے ہوتا ہے۔

ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـم بِٱلْغَيْبِ

  • ۔(متقین وہ ہیں)جو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخوداحساس رکھتے ہوئے سہمے سہمے مرعوب              رہتے ہیں،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛

وَهُـم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشْفِقُونَ .21:49٤٩

  • ۔اور وہ متعین لمحے پر یقین سے محتاط،نرم خو،شفقت اور ہمدردی کا رویہ اپناتے ہیں۔(سورۃ الانبیاء۔۴۹)

Root: س و ع;  ش ف ق


إِنَّ ٱلَّذِينَ هُـم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّـهِـم مُّشْفِقُونَ .٥٧

  •  ۔ان لوگوں کے متعلق جان لو؛وہ جو اپنے رب کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر فطرت سے سہمے سہمے انداز میں متاثر اور مرعوب ہو کر محتاط،نرم خو، لطافت،شفقت اور ہمدردی کا رویہ اور طرز عمل اپنائے رکھتے ہیں۔(المومنون۔۵۷)

Root: ش ف ق


وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ

  • ۔ان کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (ﷺ)کے قول(قرءان عظیم)کو صدق دل سے تسلیم کیا۔

وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ

  • ۔اور اللہ تعالیٰ کے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا احساس رکھا،اپنی بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود اور تندہی سے محتاط اور محفوظ رکھتے ہوئے ان سے پناہ کے خواستگار رہے۔،

Root: و ق ى

فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْفَآئِزُون .24:52٥٢

  • ۔چونکہ انہوں نے جنت کے حقدار بننے کے تمام تقاضے پورے کئے اس لئے یہ ہیں وہ لوگ جو زندگی بھر کی کامیابی کا ایوارڈ پانے والے ہیں۔(النور۔۵۲)

Root: ف و ز


إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ

  • یہ حقیقت زمان و مکان میں برقرار     رہے گی کہ آپ(ﷺ)کی تنبیہ کا اثر صرف اس  پر ہوتا رہے گا جس نے  سرگزشت تاریخ ، منبع پند و نصیحت (قرءان مجید)کا اس انداز میں اتباع کیا کہ فکرو نظر میں کسی تیسرے کو حائل نہیں ہونے دیا۔

وَخشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِۖ

  • ۔اور اس کا حال یہ تھا کہ الرَّحمٰن ذوالجلال کے جاہ و جلال کے ہر سو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخود احساس رکھتے ہوئے   ان کے     بصارتوں             سے اوجھل ہونے کے باوجود سہما سہما مرعوب     رہتا تھا۔

فَبَشِّـرْهُ بِمَغْفِرَةٛ وَأَجْرٛ كَرِيـمٛ .36:11١١

  • چونکہ اس نے جنت کا مستحق ہونا  ثابت کر دیا ہے اس لئے۔آپ(ﷺ)ایسے شخص کو خوشخبری اور ضمانت دے دیں کہ اس کے ماضی کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معافی اور اعلیٰ ترین ایوارد کا وعدہ ہے۔(یسٓ۔۱۱)

Root: ك ر م


مَّنْ خَشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِ

  • جس نے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا احساس رکھا،اپنی بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود،

وَجَآءَ بِقَلْبٛ مُّنِيبٛ .٣٣

  • ۔اور وہ وقف کئے ہوئے قلب کے ساتھ آیا۔(سورۃ قؔ۔ ۳۳)

Root: ن و ب


فعل۔خَشِىَ۔ کا مادہ ”خ ش ی“ہے۔یہ مادہ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ادب،عظمت،رعب،دبدبہ،احترام کا احساس اوردوسرے معنی دہشت،ہیبت ہیں۔پہلے معنی کے لئے انگریزی کا لفظ "Awe" اس مادہ میں سمائے تصور کے زیادہ قریب ہے۔یہ جذبہ آمیزہ ہے، تعجب اور خوف،حیرانگی اور ادب و احترام کاجس میں خوف اور اپنی نسبتاّکم مائگی،کم وقعتی اورکمزوری کا احساس بھی شامل ہو۔لوگوں کے لئے بصارت اس احساس کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہے،کائنات کے ذرے ذرے کا مشاہدہ اس کے خالق کی موجودگی کے تصور کو ابھارتا ہے۔یہ ایک مثبت احساس ہے کہ ہم ایک عظیم الشان اور لامتنائی ماحول میں ہے جو ہمارے محدود تصور دنیا سے بالاتر ہے۔Awe،تعجب اور خوف،حیرانگی اور ادب و احترام کے احساس کا تجربہ ان لوگوں کو ہوتاہے جو سنجیدگی سے اپنے ماحول اور دنیاکا مشاہدہ کرتے ہیں۔یہ انہیں اپنے کمتر (small-self) ہونے کا احساس دلاتا ہے،کائنات کے مقابل نہیں،بلکہ اپنے رب،قادر مطلق الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے حوالے سے۔اور یہ ان کی اپنی شخصیت کے لئے باعث اوج بنتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ قرء ان مجید نے پوچھے گئے سوال کا جواب انتہائی وضاحت اور ہر زاوئیے سے ہمیں عنایت کر دیاہے کہ الرَّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)ہمارے رب،اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام (Proper noun) ہے، صفت (adjective) نہیں۔یہ مترجمین کی سہو تھی کہ انہوں نے ایک نام نہاد عیسائی سکالر کے صریحاً غلط ترجمے کو اپنایا اور زبان زد عام کر دیا۔