038-سُوۡرَةُ صٓ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


صٓۚ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ ١

  • Sād: Fifteenth-middle letter of the 29 letter Arabic Alphabet,  with ancillary glyph/prolongation sign/mark which extends/stretches the sound value of the letter to which it is added. As a numeral, it denotes 90-reflecting the entire range from 0 to 9. Interestingly, its head part is used in Grand Qur’ān as a sign to suggest linkage in recitation. And swearing is by the Qur’ān; its peculiarity is that it is the holder of the Memoir. [38:01]

عربی زبان کے حرف ابجد ’’ص۔طوالت کے نشان کے ساتھ۔اس کی عددی طاقت 90 ہے جو اعداد کی  مکمل رینج صفر سے نو کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔ بات کو  بغور اورتاکید سے  سننے کے لئے قرءان مجید کی قسم سے بیان کرتے ہیں جو ازل سے ابد کی تاریخ کا حامل  بیان ہے۔

بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ فِـى عِزَّةٛ وَشِقَاقٛ ٢

  • Nay, their utterances are false, the fact is that those who have refused to accept [Qur’ān] they are in the perception of holding power/control/status quo and in retaining/maintaining a separate identity/entity [as against the Qur’ān that intends to link the humanity as a homogenous unit]. [38:02]

ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ رسول کریم(ﷺ)کا تصنیف و تالیف کردہ  پرانے افسانے کہانیوں کا مجموعہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جن عمائدین نے رسول اللہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے وہ اس کوشش میں ہیں کہ اپنے غلبہ و بالا دستی کے حالات  اور اپنی الگ  شناخت میں برقرار رہ سکیں ۔

Root: ش ق ق

كَمْ أَهْلَـكْنَا مِن قَبْلِـهِـم مِّن قَرْنٛ
فَنَادَوا۟ وَّلَاتَ حِيـنَ مَنَاصٛ ٣

  • --(Why not they realize) And many a civilizations before them in human history Our Majesty have annihilated —
    Having seen thereat they called [declaring themselves believers]; but that turning was no escape/of benefit at that moment. [38:03]

کچھ اندازہ ہے  انہیں کہ کتنی ہی تہذیبیں ان سے قبل انسانی تاریخ میں تھیں جنہیں ہم جناب نے نیست و نابود کر دیا تھا۔
چونکہ مہلت کاوقت ختم ہونے پر ہلاکت خیز گرفت غیر متوقع اور اچانک تھی ،اس لئے ان کا ایمان لانے کا پکارنا اور لوٹنا اس وقت ان کے لئے قطعی سود مند نہیں تھا۔

Root: ق ر ن;ل و ت; ن و ص

وَعَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُـم مُّنذِرٚ مِّنْـهُـمْۖ
وَقَالَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ هَـٰذَا سَٟحِـرٚ كَذَّابٌ ٤

  • Know the proceedings of their private sittings; they the elite expressed it unaccustomed/strange that a Warner has come to them who is an individual of same status among them —
    And the denying elite of society said to people, "This man is an illusionist liar — [38:04]

اور انہوں(عمائدین)نے اپنی نشست میں اس بات پر اظہار تعجب کیا کہ اُن میں  اُن سے متضاد نظریات رکھنے والےسردار(محمّد ﷺ)کومُنذِر بنا دیا گیا ہے۔
اور ہٹ دھرمی سے انکار کرنے والے عمائدین نے کہا"یہ صاحب تو  صدیوں سےمروجہ عقائد و نظریات کو جھٹلانے والےشعبدہ باز ہیں۔ 

Root: س ح ر

أَجَعَلَ ٱلْءَالِـهَةَ إِلَـٰهٙا وَٟحِدٙاۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٚ ٥

  • Has he made/declared various numerous iela'aha as Only One Iela'aha —Indeed this is certainly a strange thing." [38:05]

کیا انہوں نے تمام معبودان کو رد کر کے فقط ایک معبود مطلق قرار دیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا تو بلا شبہ انتہائی عجیب و غریب بات ہے"۔

Root: ع ج ب

وَٱنطَلَقَ ٱلْمَلَأُ مِنْـهُـمْ أَنِ ٱمْشُوا۟ وَا۟صْبِـرُوا۟ عَلَـىٰٓ ءَالِـهَتِكُـمْۖ
إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٚ يُرَادُ ٦

  • And the leaders among them walked away, imperatively saying to people, "Walk/disperse you people away, and you people remain constantly satisfied upon your various iela'aha —
    Certainly this is definitely a thing which is intended and desired to be done. [38:06]

اور ان میں سے کچھ سردار نشست سے اٹھ کر جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ محفل برخاست کرو اور تم لوگ اپنے معبودان کے نظرئیے پر ثابت قدم رہو۔
یقیناً یہ استقامت  ہمارا مطمح نظر اور ارادہ ہے۔

Root: ط  ل ق; م ش ى;  م ل ء

مَا سَـمِعْنَا بِـهَـٰذَا فِـى ٱلْمِلَّةِ ٱلۡءَاخِـرَةِ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا ٱخْتِلَٟقٌ ٧

  • We have never heard the like of this in the earlier religious system and practices —This is nothing but a made-up tale! [38:07]

ہم نے اس بات کو جو وہ کہہ رہے ہیں  پہلے  سے رائج  مذہبی سسٹم اور پریکٹس میں نہیں سنا۔ان کا یہ کہنا سوائے محنت اور زیر مقصد  نئےتخلیق کردہ نظریہ کے کچھ نہیں۔

Root: م ل ل

أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَاۚ
بَلْ هُـمْ فِـى شَكّٛ مِّن ذِكْرِىۖ

بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ ٨

  • Has the Divine message - Reminder descended upon him, grandly selected from us all?"
    Nay, this is nonsense they have conjectured (41:26), they intend make people plunge in skepticism about the contents of My Memoir (Qur’ān).
    --Nay, this is just nonsense while they have confessed the truth in solitude (28:57); the moment as soon they experience My torment they would publicly admit it--. [38:08]

"کیامکمل سرگزشت ِتخلیق،منبع رشد و ہدایت  (قرءان مجید) کواس پر مجتمع انداز میں نازل کیا گیا ہے ،ہم سب کے درمیان اس کو فوقیت دے کر؟"
نہیں یہ لغو گوئی ہے،حقیقت یہ ہے  کہ وہ  لوگوں کو میرے نازل کردہ نوشتہ تاریخ کے مندرجات کے متعلق حالت شک میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔
۔۔یہ محض لغو گوئی ہے جبکہ  تنہائی  میں حقیقت کا اعتراف کر چکے(القصص۔57
)۔جب اچانک میرے عذاب کا سامنا ہو گا تو اس حقیقت کو برملا بھی تسلیم کریں گے۔۔

Root: ش ك ك;ذ و ق

أَمْ عِندَهُـمْ خَزَآئِنُ رَحْـمَةِ رَبِّكَ ٱلْعَزِيزِ ٱلْوَهَّابِ ٩

  • [they command people as if] Are with them the treasures of the Mercy of your Sustainer Lord, the Dominantly All Pervasive and the Benefactor-the One Who bestows — [38:09]

آپ(ﷺ)سے ان سرداروں کو پرخاش کیوں ہے،کیا آپ کے رب کی رحمت کے خزانوں کی تقسیم ان کی صوابدید پر ہو گی،وہ جناب  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہیں۔وہ منبع  بے لوث عنایات ہیں۔

Root: و ھ ب

أَمْ لَـهُـم مُّلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَاۖ فَلْيَـرْتَقُوا۟ فِـى ٱلْأَسْبَٟبِ١٠

  • Or is it for them the dominion of the Skies and the Earth and that which is in between two of them —Thereby, [to roam in their dominion] they should make themselves ascend by specific means. [38:10]

یا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے ان پر دسترس اورحق ملکیت ان(سرداروں)کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔اگر ان کا یہ گمان ہے تو پھر کوشش کر کے بلند پرواز ہو کراسباب زیست پر قبضہ کر لیں۔

Root: ر ق ى;  س ب ب

جُندٚ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٚ  مِّن ٱلْأَحْزَابِ١١

  • [they have not yet been made to taste chastisement-38:08] They are the group who at that point in time will be the crinkly suppressed part of the confederations [of earlier times].  [38:11]

یہ لوگ(سرداران قبائل) تو ایک ایسا جمگھٹ ہے جو اس وقت بھی   قابل ذکر لشکروں میں  ذہنی طور پر شکست خوردہ ہزیمت کا شکار ہیں۔

Root: ھ ز م

كَذَّبَتْ قَبْلَـهُـمْ قَوْمُ نُوحٛ وَعَادٚ وفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ١٢

  • The people of the nation of Noah [alai'his'slaam], and of Aad and Fir'aoun, who were the holder of deeply entrenched vested interests, had publicly contradicted in times before them — [38:12]

نوح (علیہ السلام)اور قوم عاد  کے سرداران اورفرعون    نےجودنیاوی مفادات  اور تسلط کے  حامل  زمین میں گڑے ہوئے تھےاِن سے قبل رسولوں کے پہنچائے پیغام کو برملا جھٹلایا تھا۔

Root: و ت د

وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٛ وَأَصْحَـٟـبُ لْـَٔيْكَةِۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ١٣

  • And Sa'mued, and the nation of Luet [alai'his'slaam] and the residents of "Al-Aikate had publically contradicted" —They were the confederations [of earlier times as referred in 38:11] [38:13]

اور ثمود اور لوط(علیہ السلام)کی قوم اور ٱلۡأَيْكَةِ میں بسنے والے  لوگوں   نے برملا جھٹلایا تھا۔یہ تھے جو درحقیقت متحد ریاستی قوت رکھتے تھے ۔

إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ١٤

  • They all did but publicly contradicted the Messengers whereupon the criminal cognizance for awarding them My punishment became incumbent. [38:14]

ان تمام نے سوائے رسولوں کے پیغام کو برملا جھٹلانے کے عقل و فہم سے کام نہیں لیا۔چونکہ وہ ہٹ دھرم رہے اس لئے مہلت کو وقت ختم ہونے میرا سزا دینا ان پر مستوجب ہو گیا۔

وَمَا يَنظُرُ هَٟٓـؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةٙ واحِدَةٙ مَّا لَـهَا مِن فَوَاقٛ ١٥

  • Know it, these people [present day confederates] are in wait for nothing but a big/mighty bang blowing continuously —There will be no gap/interval for seizing her [wave after wave of sound, breaking everything] — [38:15]

متنبہ رہو؛یہ لوگ(سرداران قبائل عرب)تو محض ایک گونج دار دھماکہ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔قطعاً کوئی وقفہ نہیں ہو گا جو اس دھماکے کے گونج کو ختم کر سکے۔

Root: ص ى ح;ف و ق

وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ ١٦

  • And they said: "Our Lord! hasten to us our share of punishment before the Day of Accountability!" [38:16]

متنبہ رہو؛اپنے استدلال کو باوزن ظاہر کرنے کے  لئےلوگوں کے سامنے  استہزائیہ انداز میں کہا"ہمارے رب!آپ  ہمارے حصے کی صعوبت دینے میں ہمارے لئے عجلت کریں یوم حساب سے قبل"۔

Root: ع ج ل; ق ط ط


ٱصْبِـر عَلَـىٰ مَا يَقُولُونَ
وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا
ٱلْأَيْدِۖ 
إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ١٧

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remain coolly perseverant upon what they say - slander —
    And mention about sincere allegiant of Our Majesty, Dawood [alai'his'slaam], the holder of great powers/kingdom [for comparative study of people holding power and affluence] —
    Indeed he was maintainer of sincere righteous orientation [38:17]

آپ، اے رسول کریم [ﷺ]، ان کی باتوں - بہتان تراشیوں  پر صبر و تحمل سے کام لیتے رہیں—
اور ہمارے مخلص بندے، داؤد [علیہ السلام] کا ذکر کریں، جو عظیم طاقتوں/بادشاہی کے حامل تھے [طاقت اور دولت رکھنے والے لوگوں کے تقابلی مطالعہ کے لیے]—
ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ مخلصانہ اور راست انداز میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹنے کا رجحان رکھتے تھے۔

Root: ء و ب

إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ ١٨
وَٱلطَّيْـرَ
مَحْشُورَةًۭۖ  كُلٌّ لَّهُۥٓ أَوَّابٚ ١٩

  • It is a fact that Our Majesty had subjected: the mountains, they along with him echoed the repetitive praises [of Allah the Exalted] in the evening and after the Sunrise — [38:18] (read 28:79)

  • And the birds assembled-domesticated —Each one was responsive in subordination for him. [38:19]

یہ حقیقت ہے کہ  ہم جناب نے پہاڑوں کو ان کے لئے پابند کیا تھا۔وہ  ان (داوُودعلیہ السلام)کے ساتھ مل کرتسبیح کرتے تھے شام کے وقت اور طلوع آفتاب کے بعد۔
 اور پالے ہوئےپرندے تسبیح کرتے تھے ان کے ساتھ مل کر۔
ان  میں سے ہر ایک ایک  مخلصانہ اور راست انداز میں  ان  (داوُودعلیہ السلام)کی جانب  پلٹنے کا رجحان رکھتے تھے۔

Root: س ب ح;  س خ ر;  ش ر ق ;  ع ش ى; ء و ب

وَشَدَدْنَا مُلْـكَهُۥ وَءَاتَيْنَـٟهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ ٢٠

  • And Our Majesty had firmly strengthened his dominion and Our Majesty had granted him wisdom and the ability of eloquent oratory. [38:20]

اور ہم  جناب نے اُن (داؤد علیہ السلام)کی سلطنت کو مضبوط کیا،اور اُنہیں دانائی اور فیصلہ کن خطاب کی اہلیت  اور صلاحیت سے بہرہ مند فرمایا تھا۔

وَهَلْ أَ تَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ ٢١

  • And has the news of disputants reached to you when they people at their own climbed on to the private chamber—[38:21]

آپ (ﷺ)سنیں؛ کیا آپ تک جھگڑے کے فریقین  کی خبر پہنچی ہے، جب وہ لوگ خود ہی بالا خانہ پر چڑھ آئے تھے؟

Root: س و ر

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَـىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنْـهُـمْۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْۖ
خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَـىٰ بَعْضٛ فَٱحْكُـم بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ
وَٱهْدِنَآ إِلَـىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٟطِ ٢٢
إِنَّ هَذَآ أَخِـى لَهُۥ تِسْعٚ وَتِسْعُونَ نَعْجَةٙ وَلِـىَ نَعْجَةٚ وَٟحِدَةٚ
فَقَالَ أَكْفِلْنِيـهَا وَعَزَّنِـى فِـى ٱلْخِطَابِ ٢٣

  • When they entered on to Da'wood [alai'his'slaam], thereat, he felt cautiously afraid from them [for obvious reason that many people had broken all the security barriers unto the King's privacy] —They said, "Do not feel cautious—
    We are two disputant parties, some of us have done wrong upon others, therefore, you decide the matter between us on principle of equity and justice, and you should not deprive - depose us—
    And you guide us towards the equitable course. [38:22]

  • Indeed this is my brother, for him are ninety-nine ewe and for me there is only one ewe —
    Whereupon/for which reason he said, "you entrust her to me"; and he overpowered me in the speech."  [38:23]

جب وہ داؤد [علیہ السلام] کے پاس داخل ہوئے، تو وہ ان سے محتاط خوف محسوس کرنے لگے [ظاہر ہے کہ کئی لوگ تمام حفاظتی رکاوٹیں توڑ کر بادشاہ کی خلوت گاہ تک پہنچ گئے تھے]۔انہوں نے کہا، "آپ ڈریں نہیں—
ہم دو فریق ہیں، ہم میں سے بعض نے دوسروں پر ظلم کیا ہے،اس لیے آپ ہمارے درمیان اصولی انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں اور ہمیں محروم نہ کریں
(اس انداز میں آپ کے پاس آنے کی وجہ سے)—
اور آپ ہمیں انصاف
و مساوات کے راستے پر گامزن کریں۔
بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے—
چونکہ وہ سو بنانا چاہتا تھا اس لئے  اس نے  مجھےکہا،"اس ایک کو میرے حوالے کر د"۔ اور وہ مجھ پر زور خطابت میں غالب آ گیا"۔

Root: ف ز ع; ش ط ط;  خ ص م; ص ر ط;ن ع ج;خ ط ب;  ك ف ل

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَـىٰ نِعَاجِهِۦۖ
وَإِنَّ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُـمْ عَلَـىٰ بَعْضٍٛ

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ وَقَلِيلٚ مَّا هُـمْۗ
وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٟهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعٙا وَأَنَابَ۩ ٢٤

  • He (Da'wood [alai'his'slaam]) said: "He has certainly done injustice by asking your ewe towards his ewes—
    And certainly many of the partners are some who definitely oppress the other—
    Except those who accepted/believed and conducted righteous acts and they are in small number".
    And Da'wood [
    alai'his'slaam] thought positively [by this incident since the matter stated by those men could never warrant entering the Palace in such illegal risky manner] that only Our Majesty had subjected him to irked trial whereupon he sought the condonation of his Sustainer Lord and went down bowing, and he turned. [38:24] [Please prostrate and get near to the Sustainer Lord of Worlds]

انہوں (داؤدعلیہ السلام)نے فرمایا:"یقیناً اس نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ مانگنے میں زیادتی کی ہے—
اور یقیناً اکثر شراکت دار ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں—
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔"
اور داؤد [علیہ السلام] نے مثبت سوچا [اس واقعہ سے، کیونکہ ان لوگوں کا بیان کردہ مسئلہ کسی طرح محل میں غیر قانونی اور خطرناک طریقے سے داخل ہونے کی وضاحت نہیں کرتا تھا] کہ صرف ہماری ذات نے انہیں امتحان میں ڈالا ہے؛ چنانچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی طلب کی اور جھک کر سجدے میں گر گئے ۔اور معاشرے کے لوگوں کے معاملات کو سلجھانے کی جانب مائل ہو گئے۔

Root: ن ع ج; ر ك ع; ن و ب; خ ر ر

فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٟلِكَۖ
وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٛ ٢٥

  • Therefore. Our Majesty condoned this [administrative lapse] for him —
    And certainly for him with Our Majesty is near access and par excellence abode of return [and he was reminded] —  [38:25]

لہٰذا،ہم جناب  نے ان کے لیے اس [انتظامی کوتاہی] کو معاف کر دیا—
اور یقیناً ان کے لیے ہماری بارگاہ میں قریب ترین رسائی اور بہترین مقامِ واپسی ہے [اور انہیں یاد دہانی کرائی گئی]۔

Root: ز ل ف;  ء و ب

يَٟدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَٟكَ خَلِيفَةٙ فِـى ٱلۡأَرْضِ
فَٱحْكُـم بَيْـنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ
وَلَا تَتَّبِــعِ ٱلْـهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ
لَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ ٢٦

  • Our Majesty addressed him; "O Da'wood [alai'his'slaam]! Indeed Our Majesty have appointed you as the sovereign in the country —
    Therefore, decide and adjudge among people on principle of justice and equity on the basis of established facts and irrefutable evidence.
    And [advise everyone] you should not follow the conjectural statement which might render you forgetful off the Path of Allah the Exalted.
    Indeed those who aberrantly move away from the Path of Allah the Exalted
    —A severe punishment is in wait for them because they neglected the Day of Accountability."  [38:26]

اور ہم جناب نے ان سے کہا تھا"اے داؤد (علیہ السلام)یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے آپ کوزمین میں بطور حکمران کا مقام دیا ہے۔
چونکہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ہے اس لئے عوام الناس کے مابین انصاف کے تقاضوں کے مطابق مطلق حقائق کی بنیاد پر احکام اور فیصلہ کریں۔
اور آپ دانستہ محض  خواہش اور کھوکھلی باتوں کی پیروی میں فیصلے نہ کریں کیونکہ یہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے انحراف کی جانب لے جائیں گے(شخصی حکمرانی)۔
ان لوگوں کا یقینی انجام جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے منحرف ہو کر گم کردہ راہ بنتے ہیں: ایک شدید نوعیت کا جسمانی اور نفسیاتی عذاب ان لوگوں کے لئے تیار اور منتظر ہے اس جرم کی پاداش میں وہ یوم احتساب کو بھول گئے ہیں۔

Root: ن س ى


وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا بَٟطِلٙاۚ
ذَٟلِكَ ظَنُّ
ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ۚ
فَوَيْلٚ لِّلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ ٢٧

  • Be mindful, Our Majesty has neither created the Sky and the Earth and nor that which exists in between both randomly and purposelessly.
    Such is the unproved theorem of those who deny the first cause - the Creator - Allah the Exalted.
    Since they have denied for no plausible reason absorbed in worldly life, thereby, woe-regret is the catchword in the scorching temperature of Hell-Prison for those who disavowed. [38:27]

متنبہ رہو؛ ہم جناب نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے یونہی بلا مقصد اور قصد تخلیق نہیں فرمایا ہے۔
یہ بلا قصد موجود ہونے کا گمان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے ہی کا انکار کیا ہے۔
چونکہ عقل و فہم کے لئے   بدیہی حقیقت  سے انکار  محض جاذبیت دنیا سے ہے اس لئےانجام کارخود  اپنی مذمت و ملال ان  لوگوں کا  روزمرہ کا معمول ہو  گا جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور یوم قیامت کا انکار کیا ہے جب جہنم کی تپش سے جھلسے گے۔(سورۃ صٓ۔۲۷)

Root: و ى ل

أَمْ نَجْعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ كَٱلْمُفْسِدِينَ فِـى ٱلۡأَرْضِ
أَمْ نَجْعَلُ ٱلْمُتَّقِيـنَ كَٱلْفُجَّارِ ٢٨

  • Should Our Majesty render and treat those who believed and performed appropriate and balanced acts like those who create distortions/impropriety/disturbance/spread conjectures in the Earth-society?
    Or should Our Majesty declare and treat those
    who sincerely endeavour to attain salvation equal and alike those who propagate falsities prominently? [38:28]

یہ جزا و سزا ضروری ہے وگرنہ کیا ہم جناب ان لوگوں کو جو رسولوں پر ایمان لائے اور اعمال صالح پر کاربند رہے ان جیسے قرار دے دیں جو زمین میں حقیقت کے منافی باطل نظریات اور طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یا کیا ہم ہر لمحہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہنے والوں کو  ان  جیسے سلوک کا مستحق بنا دیں جوڈھٹائی سے باطل کو بڑھا چڑھا کر نمایاں کرتے ہیں۔

Root: ف ج ر

كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ إِلَيْكَ مُبَٟرَكٚ
لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٟتِهِۦ
وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟
ٱلْأَلْبَٟبِ٢٩

  • This is the Book; its peculiarity is that Our Majesty has compositely sent it to you the Messenger (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]). Its characteristic is that it has permanence and perpetuation.
    The purpose is that they (people) may personally study its verbal passages critically, logically and coherently pursuing the information mirrored by them.
    Moreover, the objective is that the Men of Understanding: who look into matters and conduct objectively without overlapping with emotions-prejudices-biases-whims-caprices, may at their own save it in memory, frequent it for reference-lesson and relate it. [38:29]

اس کتاب(قرءان عظیم)کے متعلق  حقیقت یہ ہے؛ ہم جناب نے مجتمع انداز میں  آپ (ﷺ) کی جانب اس کو نازل فرمایاہے؛اس کی یکتا خصوصیت  یہ ہے کہ اس کو دوام دیا گیا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ (متقین،حدود و قیود میں اپنے آپ کو محفوظ کرنے والے)اس کی آیات /مندرجات میں ترتیب و تسلسل سے ازخودغوروفکر/تدبر کرنے کی عادت کو  اپنائیں ۔
اور یہ کہ صاحبان  دانش و بینائی قلب جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں ازخود اس سے نصیحت لے سکیں اور دوسروں سے تذکرہ کریں۔

Root:  ل ب ب


وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَٟنَۚ
نِعْمَ ٱلْعَبْدُۖ
إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ٣٠

  • And Our Majesty granted to Dawood [alai'his'slaam] a son, Sulie'maan [alai'his'slaam]
    What a remarkable sincere allegiant was he! Certainly he was
    maintainer of sincere righteous orientation towards Allah the Exalted. [38:30]

اور ہم جناب نے داؤد(علیہ السلام)کو(ان کا وارث بیٹا۔النمل ۔16)سلیمان (علیہ السلام)عنایت فرمایا۔
کیا ہی کمال کا ہمارا بندہ تھا!
ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ مخلصانہ اور راست انداز میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹنے کا رجحان رکھتے تھے۔

Root: و ھ ب; ء و ب

إِذْ عُـرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّٟفِنَٟتُ ٱلْجِيَادُ ٣١

  • When one day excellent bred steed were presented before him at evening —  [38:31]

جب وہ شہزادہ تھے، ایک دن شام کے وقت عمدہ تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے—

Root: ع ش ى

فَقَالَ إِنِّـىٓ أَحْبَبْتُ حُبَّ ٱلْخَيْـرِ عَن ذِكْرِ رَبِّـى حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِٱلْحِجَابِ ٣٢

  • After remaining absorbed with horses he realized and remarked to servants; "Indeed, I developed a love for the good (horses) that kept me preoccupied over the remembrance of my Sustainer Lord, until she (the sun) disappeared behind the veil. — [38:32]

ان کے ساتھ محو رہنے کے بعد انہیں کچھ احساس ہوا توخدام سے کہا:"بے شک۔بے شک، میں نے بھلائی (گھوڑوں)کی محبت  زیادہ پیدا کر لی جو مجھے میرے رب کے ذکر سے غافل کر گئی، یہاں تک کہ وہ (سورج) پردے کے پیچھے غائب ہو گئی۔

Root: و ر ى

رُدُّوهَا عَلَـىَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ٣٣

  • You people take them now; afterwards bring them back in same state before me". In compliance to the order when they were brought back, he lovingly started touching them in the manner of massaging, on thighs and the necks.  [38:33]

ابھی انہیں لے جاؤ بعد میں  انہیں اسی حالت میں میرے پاس  واپس لے آنا"۔

حکم کی تعمیل میں جب  گھوڑے واپس لائے گئے تو انہوں نے محبت سے ان کے پچھلے اور گردن کے حصوں پر مالش کرتے ہوئے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔

Root: ر د د; س و ق; ط ف ق;  ع ن ق; م س ح

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَٟنَ
وَأَلْقَيْنَا عَلَـىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدٙا 
ثُـمَّ أَنَابَ ٣٤
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِـى
وَهَبْ لِـى مُلْـكٙا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٛ مِّنۢ بَعْدِىٓۖ
إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ٣٥

  • Know the fact that Our Majesty had indeed subjected Sulie'maan [alai'his'slaam] to an irking experience —
    While Our Majesty had caused placing a dummy upon his Seat.
    Afterwards, having reflected he had turned to us, praying
    —[38:34]

  • He prayed; "O my Sustainer Lord, I request you the Exalted to overlook for my slackening in time management.
    And unlike dummy-monotonous kingdoms, you the Exalted do grant me unique kingship which might not be possible for a single one after me to acquire it.
    Undeniably, You the Exalted are certainly the Benefactor-the One Who bestows". [38:35]

جان لو ؛ ہم نے یقیناً سلیمان [علیہ السلام] کو ایک  پریشان کن صورتحال سے دوچار کیا تھا—
جب ہم نے ان کے تخت پر ایک بےجان مجسمہ رکھ
وا دیا۔
بعد ازاں غور و فکر کرنے کے علامت کا مفہوم سمجھ کر انہوں نے رجوع کرتے ہوئے:
انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے دعا کی"میرے رب!آپ میری سہو سے درگزر فرما کر مجھے معاف فرمائیں۔
اور آپ جناب ازراہ کرم مجھے خصوصی طور پر اس طرح کی حکمرانی عنایت فرمائیں جو میری طبعی موت کے بعد کسی ایک  حکمران کے لئے بھی  مناسب  اور زیبانہ ہو۔
آپ کے متعلق یہ حقیقت ہے،آپ منبع عنایات ہیں۔
 

Root: ك ر س;ن و ب;  و ھ ب

فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلـرِّيحَ
تَجْـرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ ٣٦

  • Granting his request, Our Majesty subjected the particular breeze for him —
    It (breeze) used to quickly move under his command —It moved softly in whatever direction he wanted its descending-hitting and continued blowing.  [38:36]

ان کی منفرد درخواست کو شرف قبولیت دیتے ہوئے  ہم جناب نے پودوں کو بارآور کرنے  والی باد نسیم  کو  ان (سلیمان علیہ السلام)کے لئے مسخر کر دیا  جس پر دسترس رکھنے کا اختیار و حکمرانی انہیں حاصل ہو گیا۔
وہ ان کے حکم کے تابع  رواں رہتی تھی ۔اس انداز میں کہ جس سمت میں وہ اسے چلانا چاہتے تھے وہ خراماں خراماں چلتی رہتی تھی۔

Root: ر و ح;  س خ ر

وَٱلشَّيَٟطِيـنَ كُلَّ بَنَّـآءٛ وَغَوَّاصٛ ٣٧

  • And Our Majesty subjugated for him the Shaiyateen [convicted prisoner criminals from Jinn species] all builders and expert divers — [38:37]

اور  ہم جناب  اُس کے لئے شیاطین (جنات کی نوع سے مجرم قیدی) دستیاب کر دئیے تھے ، جو تمام  تعمیرات کرنے والے اور غوطہ خور تھے۔

Root: غ و ص

وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِيـنَ فِـى ٱلْأَصْفَادِ٣٨

  • And these last ones [of his hosts] were bound in chains [prisoners]. [38:38]

 اور یہ (ان کی افواج کے آخری افراد) زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

Root: ق ر ن

هَـٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٛ ٣٩

  • "This is the gift of Our Majesty to you, therefore, whether you oblige others or you hold it to yourself; without there being accountability." [38:39]

ہم نے اسے بتایا"یہ (ہوا پر قابو)ہماری طرف سے تمہیں عطا کیا گیا ہے، پس تم چاہو تو دوسروں پر خرچ کرو یا خود اپنے پاس رکھو، تم پر اس کا کوئی حساب نہیں۔

Root: م س ك;  ع ط و;  م ن ن

وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٛ ٤٠

  • And certainly for him with Our Majesty is near access and par excellence abode of return [38:40]

اور یقیناً  ان کے لئے ہماری طرف قرب کی جگہ اور بہترین مقامِ واپس لوٹنے کا ہے۔

Root: ز ل ف;  ء و ب


وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ
أَنِّـى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَٟنُ بِنُصْبٛ وَعَذَابٍٛ ٤١
ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلُۢ بَارِدٚ وَشَرَابٚ ٤٢
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَـهُـم مَّعَهُـمْ رَحْـمَةٙ مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِـى
ٱلْأَلْبَٟبِ٤٣
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثٙا فَٱضْـرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْۗ إِنَّا وَجَدْنَٟهُ صَابِرٙاۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُۖ  إِنَّهُۥٓ أَوَّابٚ ٤٤

  • Moreover, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] mention Our Sincere Allegiant, Ayub [alai'his'slaam], when he called upon his Sustainer Lord, saying —"Indeed Cobra has bitten me causing exhaustion and pain". [38:41]

  • Allah the Exalted responded, advising, "Strike the ground with your foot. [he did it water came up] —This is a cleansing location [to wash the wound to remove away venom]. It gives cooling-soothing effect [pain reducing therapy]. It is also drinkable". [38:42]

  • -- And [saving him from life threatening incident] Our Majesty let him meet his family, and others like of family with them, for showing the mercy from Our Grace [to all of them]. And to make mention of this episode as a piece of advice for men of wisdom who look into matters and conduct objectively without overlapping it with emotions/ prejudices/ whims/ conjectural fascinating myths --. [38:43]

  • [reverting from parenthetic to cobra bite treatment suggested] "And take in your hand a gathered handful of the cleansing cool water, then apply it to the wound, and do not give way to distress.".
    It is a fact that We had found him coolly perseverant. What a remarkable sincere allegiant subject was he! Certainly he was
    maintainer of sincere righteous orientation towards Allah the Exalted. [38:44]

اس کے علاوہ، آپ [ﷺ]ہمارے  مخلص اور وفادار بندے ایوب [عليه السلام] کا ذکر کریں۔ اُس واقعے کا ذکر کریں جب اُنہوں  نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا:یہ حقیقت ہے کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے، کوبرا سانپ نے مجھے ڈس لیا ہے جس سے تھکن اور درد ہوا ہے"۔

 اللہ تعالیٰ نے جواب دیا، اور فرمایا:"تم اپنے پاؤں کی ایڑی سے زمین  میں گڑھا بناؤ ۔ [انہوں  نے ایسا کیا، پانی اُبھر آیا] —یہ زخم دھونے  والا  ہے [تاکہ زہر کو نکالا جا سکے]۔یہ  ٹھنڈاسکون دہ اور آرام دینے والی تاثیر رکھتا ہے [درد کو کم کرنے والی تدبیر]اور پینے کے قابل ہے۔

اور ہم جناب نے انہیں خطرہ موت سے بچا کر ان کے اہل خانہ کو ان سے ملوا دیا۔اور ان کے ساتھ ان کے خاندان جیسے احباب سے ملوا دیا۔یہ ہم جناب کی جانب سے ان سب پر اظہار رحمت تھا۔(سورۃ الانبیاء84۔میں بھی اس کا ذکر ہے)
اور اس کو بیان کرنے کا مقصد دانا و بینا لوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔۔

"اور تم اپنے ہاتھ کی ہتھیلی  سے چلو بھر صاف پانی لے لو، پھر اسے ڈسے مقام پرانڈیلو تا کہ زخم نمایاں ہو کر زہر کم ہو۔۔اور ایسا  عجلت سے کرنے  میں کوتاہی نہ کرنا"۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم نے  انہیں ہر حال میں  ثابت قدم پایا۔کیا  ہی شاندار سچا وفادار/تابع فرمان  بندہ تھے  وہ!یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچی راستبازی کے راستے کا پابند تھا۔

Root: ر ك ض; غ س ل; و ھ ب; ل ب ب; ض غ ث; ض ر ب;  ء و ب


وَٱذْكُرْ عِبَٟدَنَآ إِبْرَٟهِيـمَ وَإِسْحَٟقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِـى ٱلْأَيْدِى وَ ٱلْأَبْصَٟرِ٤٥
إِنَّـآ أَخْلَصْنَٟهُـم بِخَالِصَةٛ ذِكْرَى ٱلدَّارِ ٤٦
وَإِنَّـهُـمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْـنَ
ٱلْأَخْيَارِ٤٧
وَٱذْكُرْ إِسْـمَٟعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْـكِفْلِۖ  وَكُلّٚ مِّنَ
ٱلْأَخْيَارِ٤٨

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] commemorate Our sincerely dedicated staunch allegiants — Iebra'heim and Ies'hauq and Ya'qoob [علیھم السلام]—men of formidable determination and enlightened vision. [38:45]

  • "Indeed, We chose them exclusively for Our service, bestowing upon them in return a pure, untainted legacy of reverent remembrance throughout the world." [38:46]

  • And indeed, in the judgment of Our Majesty,  they are among the galaxy of exquisitely chosen—perpetually the elite of absolute goodness. [38:47]

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] mention Iesma'eile and Al'Yas'aa and Zal-Kif'le [علیھم السلام]. And pronounce the fact that each one of them is and shall remain perpetually in the consideration of Allah the Exalted the member of galaxy of Best Persons. [38:48]

اور آپ(ﷺ)ہمارے مکمل طور پر یکسو، پختہ اور وفادار بندوں— ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام)—کا ذکر کریں جو زبردست عزم و ہمت  اور روشن  بصیرت کے پیکر تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے انہیں اخلاص کے مجسم پیکر کے طور اپنے لئے مخصوص کر لیا تھا،اور اس کے عوض انہیں دنیا میں ادب و احترام  سے مسلسل یاد رکھے جانے  اور ذکر و چرچا سے نوازا ہے۔
اور ان کے متعلق یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہماری بارگاہ میں اور نقطہ نظر سے ان (انبیاء علیہم السلام)میں  یقیناًہر ایک  ایک اس جماعت کا فرد ہے جو انتہائی احتیاط سےتمام سے معتبر ترین بندوں کی حیثیت سے پسند فرمائے گئے ہیں۔ان کا وصف یہ ہے کہ  ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔
اور آپ(ﷺ)اسماعیل،اور الیسع اور ذا الکفل (علیہم السلام)کا ذکر فرمائیں۔اور بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور نقطہ نظر میں ان میں ہر ایک ایک اس جماعت کا فرد ہے جس کا وصف یہ ہے کہ  ظاہری اور باطنی  دونوں لحاظ سےہمیشہ بہترین  اور اشرف انسان ہیں۔(سورۃ۔صۤ۔
٤٨)


هَـٰذَا ذِكْرٚۚ
وَإِنَّ لِلْمُتَّقِيـنَ لَحُسْنَ مَـَٔابٛ٤٩

جَنَّٟتِ عَدْنٛ مُّفَتَّحَةٙ لَّـهُـمُ ٱلْأَبْوَٟبُ٥٠

  • This Qur’ān is the Admonishment/Reminder/Memoir-Reference Book.
    And certainly
    the most appropriate place to return to has especially been made and is in wait exclusively for those who sincerely endeavour to attain salvation  — [38:49]

  • This pleasant abode comprises of  Gardens  —The entry doors are already kept open for welcoming them in. [38:50]

یہ قرءان مجید سرگزشتِ تاریخ ازل تا ابد ہے۔
اور یہ حقیقت ہے کہ لوٹنے کا بہترین مقام خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے اور ان لوگوں کا منتظر ہے جو تندہی سے غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔
وہ لوٹنے کا مقام رہائش خوشگوار باغات پر مشتمل ہے۔اس مقام کے دروازے ان کے استقبال کی خاطر پہلے ہی سے کھول کر رکھ دئیے گئے ہیں۔

Root: ء و ب;  ف ت ح

مُتَّكِــِٔيـنَ فِيـهَا يَدْعُونَ فِيـهَا بِفَٟكِهَةٛ كَثِيـرَةٛ وَشَرَابٛ ٥١

  • Therein they while reclining [on cushioned sofas] will call for fruits in abundance and drink. [38:51]

وہ  ان میں آرام دہ قطار در قطار رکھے   پر تکلف نشستوں پر بے تکلفی سے  خوش گپیوں کی محفل سجائے بیٹھے ہوں گے۔وہ اس میں  کافی مقدار میں میوہ جات اور شراب طلب کرتے رہیں گے

Root: و ك ء; ف ك ه

وَعِندَهُـمْ قَٟصِرَٟتُ ٱلطَّرْفِ أَتْرَابٌ ٥٢

  • And by their sides are their well-matched respective species wives who restrict gaze of their eyes. [38:52]

 اپنی  نگاہوں کو محدود/سمٹائے اورآنکھوں کی چمک کو ماند رکھنے والی  خواتین ان  کی بیویاں ہیں جوان کے نواح میں  شریک محفل ہیں۔وہ خواتین ان کی  ہم سر (نوع)ہیں۔(سورۃ صٓ۔٥٢)

Root: ط ر ف; ق ص ر      

جنت کی ازواج خواتین  کو باوقار توضیحی  نام  "حُورٌ"؛"قَٟصِرَٟتُ ٱلطَّرْفِ" ؛ "أَتْرَابٌ"اور"عِيـنٚ"سے بیان فرمایا  ہے

هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ ٥٣

  • This is that which you people are being promised for the Day of Accountability. [38:53]

یہ اس کا بیان ہے جو تم سے یوم احتساب کے حوالے سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

إِنَّ هَـٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ ٥٤

  • Certainly this is Our provision for which there will definitely be no depletion. [38:54]

یقیناً یہ ہم جناب کی جانب سے  آخرت میں مہیا کیا جانے والا سامان زیست ہے۔اس میں قطعاً کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔

هَـٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّٟغِيـنَ لَشَـرَّ مَـَٔابٛ ٥٥

  • This reward is for Mutta'qeena; and certainly for those who over brimmed in transgression the place of return is undoubtedly irritating one. [38:55]

یہ متقین کا انعام ہے۔اور حدود و قیود سے نکل کر بغاوت کرنے والوں کے لئے ٹھکانہ بے چین کرنے والا ہے۔

Root: ش ر ر;  ط غ ى;  ء و ب

جَهَنَّـمَ يَصْلَوْنَـهَا فَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ٥٦

  • The Hell-Prison; they will scorch therein; thereby that is a worst place for staying. [38:56]

ٹھکانہ جہنم؛وہ اسے جھلساتے رہیں گے،نتیجہ! کیا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ!

Root: ص ل ى' م ھ د

هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَـمِيـمٚ وَغَسَّاقٚ ٥٧

  • This [is the recompense for that which they did]. Thereat [when they will ask for water] they will be let taste it as extremely hot and extremely cold. [38:57]

یہ ٹھکانہ۔اوپر سے انہیں کہا جائے گا؛مزہ لو ابلتے پانی اور یخ بستہ پانی کا۔

Root: ذ و ق;  غ س ق

وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِۦٓ أَزْوَٟجٌ ٥٨

  • And other punishments are of similar sort. [38:58]

اور دیگر سزائیں اسی قسم کی ہیں۔

هَـٰذَا فَوْجٚ مُّقْتَحِمٚ مَّعَكُـمْۖ
لَا مَرۡحَبَۢا بِـهِـمْۚ

إِنَّـهُـمْ صَالُوا۟ ٱلنَّارِ ٥٩

  • [a small group of worldly elite people will say] "This large crowd is making themselves heading along with you people —
    There is no welcome for them —
    Indeed they are marching to scorch in the Heat". [38:59]

[دنیا کے چند اشرافیہ لوگ کہیں گے] "یہ بڑی جماعت تم لوگوں کے ساتھ جا رہی ہے —
ان کا کوئی استقبال نہیں — 
یہ لوگ یقینی طور پر شدید گرمی میں جلنے کے لیے جا رہے ہیں۔"

Root: ف و ج; ق ح م;ر ح ب;ص ل ى

قَالُوا۟ بَلْ أَنتُـمْ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُـمْۖ
أَنتُـمْ قَدَّمْتُـمُوهُ لَنَاۖ

فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ٦٠

  • They rebutted, "No, in fact you are the people, there is no welcome for you people —
    You people are the one who brought/sent forward this for us —
    Resultantly what a worst place for staying". [38:60]

انہوں نے جواب دیا، "نہیں، بلکہ تم لوگ وہ ہو، جن کا کسی نے استقبال نہیں کرنا —
تم ہی وہ ہو جنہوں نے ہمارے لیے یہ سب کچھ پیشگی انتظام کیاہے —
نتیجتاً یہ کس قدر بدترین جگہ ہے قیام کرنے کے لیے۔"

Root: ر ح ب; ق د م; ق ر ر

قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـٰذَا فَزِدْهُ عَذَابٙا ضِعْفٙا فِـى ٱلنَّارِ ٦١

  • They said, "O our Sustainer Lord, the one who has sent forward for us this, for that reason You increase his punishment two-fold in the Hell-Prison". [38:61]

 انہوں نے کہا، "اے ہمارے رب! جس نے ہمارے لیے یہ سب کچھ پیشگی کیا ہے، آپ اس کے عذاب کو دوگنا کر دے جہنم کی قید میں۔"

Root: ق د م

وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٙا كُنَّا نَعُدُّهُـم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ٦٢

  • And they said, "What is the matter with us that we do not see those men we used to count/regard them as the irritating ones — [38:62]

اور انہوں نے کہا، "ہمارے ساتھ کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم پہلے جھوٹے سمجھتے تھے —

Root: ش ر ر; ع د د

أَتَّخَذْنَٟهُـمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْـهُـمُ ٱلْأَبْصَٟرُ٦٣

  • Whom we kept taking mockingly; or the visions have turned away from them." [38:63]

 جنہیں ہم  تمسخر و مذاق اڑاتے تھے؛ یا تو ہماری نظرین ان سے ہٹ گئی ہیں۔"

Root: ز ى غ;  س خ ر

إِنَّ ذَٟلِكَ لَحَقّٚ تَخَاصُـمُ أَهْلِ ٱلنَّارِ ٦٤

  • Indeed these mutual recriminations amongst the companions of Hell-Prison are certainly the physical fact. [38:64]

متنبہ رہو؛یہ بیان کردہ حقیقت ہے جہنم میں رہنے والوں کے ہر وقت باہمی جھگڑے اور تکرار۔

Root: خ ص م


قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۟ مُنذِرٚۖ
وَمَا مِنْ إِلَٟهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٦٥

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "It is a fact that I am only the Admonisher/Awakener/ Revivalist —
    And not at all there is alive amongst those considered as iela'aha: godheads for worship except Allah the Exalted, the Only One Who is The Supreme, Irresistible — [38:65]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "یہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردار تم لوگوں کے لئےکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح، متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا۔
اور ان تمام کے تمام میں سے کوئی  ایک بھی صاحب حیات نہیں جنہیں لوگ  معبود قرار دیتے ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔وہ جناب یکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں۔

Root: ق ھ ر

رَبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا
ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفَّٟرُ ٦٦

  • The Sustainer Lord of the Skies and the Earth and whatever is in between two of them —
    The Dominantly All-Pervasive and the Oft-forgiving".  [38:66]

وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے کے رب ہیں۔وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔وہ جناب   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظِيـمٌ ٦٧

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "That [happening of Last Day and Accountability, and the scenes of Hell-Prison shown Ayah 55-64] is a Great News — [38:67]

آپ (ﷺ)متنبہ فرما دیں"وہ بیان کردہ  احوال (آیت 55۔64)انتہائی   اہمیت  کا حامل   خبر نامہ ہے۔ 

أَنتُـمْ عَنْهُ مُعْـرِضُونَ ٦٨

  • You people are deliberately keeping your eyes closed/refraining from that. [38:68]

تم لوگ ہو کہ اس کی جانب توجہ کرنے سے دانستہ اعراض برتنے والے ہو۔

مَا كَانَ لِـىَ مِنْ عِلۡم ِۭ بِٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَـىٰٓ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ٦٩

  • It is not for me to know/have the knowledge of that when the Exalted Chiefs are mutually discussing — [38:69]

میرے لئے  اس علم میں سے کچھ بھی  جاننا ممکن نہیں  جب عالی مرتبت سرداران ملائکہ آپس میں اس بارے گفت و شنید کر رہے ہوتے ہیں۔

Root: م ل ء;  خ ص م

إِن يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۟ نَذِيرٚ مُّبِيـنٌ ٧٠

  • It is but communicated to me that I am but only the Distinctly Manifest Warner/ Revivalist / Admonisher." [and not the executor of the affairs of the worlds] [38:70]

یہ حقیقت ہے کہ  میری  جانب  فقط یہ پیغام  بھیجا جاتا ہے کہ  میں  صرف کفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی   ذمہ داری اور کردار انجام دوں ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔


إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ
إِنِّـى خَـٰلِقُۢ بَشَـرٙا مِّن طِيـنٛ ٧١
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِـى
فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٟجِدِينَ ٧٢

  • Know the history of point in time when your Sustainer Lord had said for the Angels —
    "I am about to create a "skinned corporeal compact structure" —It will be structured with extract drawn from wet clay. [38:71]

  • Thereby, consequent to composing-coagulating, when I would have proportioned it to have attributes of proportionality and balance with others for efficient performance of the job he is being created for —And when I would have blown within him the Essence-Verbal Command about My decision-finalized affair [kun-take existence as living] —
    Thereat, he [Aa'dam alahissalam] having taken existence in pursuance of My command, you all are directed to settle in the state-frame of mind showing obeisance for him ."  [38:72]

قدیم تاریخ سے آگاہ ہوں جب آپ(ﷺ)کے رب نے ملائکہ کےلئے فرمایا تھا:
’’میں  حسن و جمال کے پیکرایک سانچے/جسد کو تخلیق کرنے لگا ہوں۔یہ پیکر ریت ملی کھنکھناتی ترمٹی میں سے پسند کردہ ماحصل سے تشکیل ہو گا۔
ایسا کر لینے کے بعد جب میں اس(مذکر)تخلیق کردہ کوسنوار کر دوسروں کے ساتھ حامل اعتدال کر چکوں  اس مقصد کی انجام دہی کے لئے جو اس کی تخلیق کا سبب ہے
۔اور میں اس(مذکر)کے اندراپنے امرمیں سے حیات پذیر ہونے کا حکم پھونک چکوں۔
تو اس وقت تم لوگ اس(ذی حیات پیکر حسن وجمال)کے لئے تعظیم بجا لانے کےانداز میں ہو جانا
۔
 

آدم(علیہ السلام) اور ابلیس        Man's origin  - History of his coming into being    تسویہ: بشر کو مقصدتخلیق کی انجام   دہی کے لئے   صلاحیتوں کا حامل بنایا ۔

فَسَجَدَ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ كُـلُّهُـمْ أَجْـمَعُونَ ٧٣

  • Thereupon, in compliance thereof the Angels, everyone of them, did pay obeisance to him (Adam) collectively [38:73]

اس کے وجود پذیر ہو جانے پر تعمیل حکم میں ملائکہ انہیں تعظیم بجا لائے،جان لیں تمام کے تمام ملائکہ اجتماعی طورپراحترام میں سر نگوں ہوئے تھے۔

إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْـبَـرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٧٤

  • However, Ieb'lees (in response to the command given to him separately-7:12) did not pay obeisance —While he (Ieb'lees) Self obsessed-puffed with delusion of grandeur and superiority aspired aggrandisement. And thus became the first/leader who refuse to acknowledge paying obeisance to those given exaltation by Allah the Exalted. [38:74]

مگر ابلیس نے اُسے الگ سے دئیے گئے حکم کی تعمیل میں  اپنے کمتر ہونے کے احساس کے ساتھ ان کے لئے تعظیم بجا لانے سے اپنے آپ کوباز رکھا تھا۔اس ذہنی و قلبی حالت میں کہ  اپنے آپ کو معتبر سمجھتے ہوئے عظمت دئیے جانے کامتمنی تھا۔اور وہ ( ابلیس )مکرم (لائق احترام، معزز، بلند مرتبہ)قراردئیے کو تکریم دینے سےانکار کرنے والوں کا سرداربن گیا۔

قَالَ يَٟٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّۖ
أَسْتَكْـبَـرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِيـنَ ٧٥

  • He the Exalted asked,  "O Ieb'lees, what is that which hindered/prevented you that you should show obeisance for the one whom I created conglutinating with my attention and force?
    Were you aspiring for exaltation; or you were first of the self-aggrandizers/haughty?" [38:75]

ان جناب نے پوچھا’’اے ابلیس،کس بات نے اس کے لئے  تعظیم بجا لانے  سے تجھے  روکا   جسے میں نے  اپنی توجہ اور قوت سے اتصال کرتے ہوئےتخلیق کیا ؟‘‘۔
کیا تونے قابل تعظیم قرار پانے کی خواہش و استدعا کی یاخود اپنے  تئیں بڑے معتبرہونے کا گھمنڈ تھا۔

Root: س ج د; م ن ع

قَالَ أَنَا۟ خَيْـرٚ مِّنْهُۖ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٛ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِيـنٛ ٧٦

  • He replied, "I am superior than him —Because You have created me from fire —And You created him from clay." [38:76]

اُس ( ابلیس )نےجواب دیاـ’’میں اس سے زیادہ قابل تعظیم ہوں۔کیونکہ آپ نے مجھے آگ میں سے تخلیق کیا ہے۔اور آپ نے اسےمٹی میں سے تخلیق کیا ہے‘‘۔

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْـهَا فَإِنَّكَ رَجِيـمٚ٧٧

  • He the Exalted said, "Then you get out of it whereby indeed you are permanently discarded one — [38:77]

 انہوں نے کہا”عدم تعمیل حکم اور اپنے تئیں آدم سے بہتر سمجھنے کے سبب تجھے حکم دیا جاتا ہے کہ یہاں سے نکل جا۔اس کے بعدتو رجیم/مردود، دھتکارا،دور کیا ہوارہے گا۔

Root: ر ج م

وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ٧٨

  • And indeed My curse and condemnation will hover upon you until the Day of Requital." [38:78]

۔اور یقینا یوم الدین ۔جزا و سزا کے دن تک تجھ پرمیری جانب سے دھتکار ہے۔“

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِـىٓ إِلَـىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ٧٩

  • He (Ieb'lees) requested, "My Sustainer Lord! Thereby, since You have condemned me because of him [to prove my point] do give me respite until the Day they will be Revived - Resurrected." [38:79]

اس (ابلیس)نے التجا کرتے ہوئے کہا"میرے رب!آپ نے چونکہ مجھے اس بشر کی وجہ سے ملعون کر دیا ہے اس لئے آپ جناب مجھے حیات نو دئیے جانے کے دن تک مہلت عنایت فرمائیں"۔

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ٨٠

  • He the Exalted said, "your request is indeed acceded, you are reprieved—[38:80]

ا للہ تعالیٰ نے کہا”چونکہ تیری التجا قبول کر لی گئی ہے، اس لئے یقینا مہلت دئیے جانے والوں میں توسب سے اول ہے،

إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ ٨١

  • Until the Day of the appointed- determined Time and Date." [38:81]

ایک طے شدہ وقت پر ظہور پذیر ہونے والے مخصوص دن تک۔“

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّـهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٨٢

  • He (Ieb'lees) said, "Since You have given me respite I swear by Your Dominance and Dignity; I will certainly distract and thereby ruin them, all collectively — [38:82]

اس (ابلیس) نے کہا"چونکہ آپ جناب نے مہلت عنایت فرما دی ہے  تو آپ جناب کے جاہ و جلال،قوت و غلبہ ، عزت کی کی قسم اٹھا کر اس عزم کا اظہار کرتا ہوں ؛ مستقبل میں ان کو میں رشد و راست سے بہکا کرکج روی پر مائل کر  کے برباد کردوں گا۔اجتماعی طور پر۔

Root: غ و ى

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْـهُـمُ ٱلْمُخْلَصِيـنَ ٨٣

  • Exception to my promised Endeavour against humanity is only with regard to those who are exclusively chosen as absolutely sincere allegiants of You the Exalted and those who would have become embodiment of sincerity." [38:83]

سوائےان (انسانوں)میں سے آپ جناب کے ایسے  بندوں  کے   جنہیں اخلاص کے مجسم پیکر کی حیثیت   میں  خصوصاً منتخب کیا گیا ہے(انبیاء علیہم السلام) اوروہ جنہوں نے اپنے آپ کو پیکر اخلاص میں ڈھال لیا ہو گا"

قَالَ فَٱلْحَقُّ وَٱلْحَقَّ أَقُولُ ٨٤

  • He the Exalted said, "Then it is established and proven fact [you cannot distract the sincere allegiants]; and I am mentioning another infallible fact —  [38:84]

ان جناب نے فرمایا"چونکہ اپنے دعویٰ میں کمزوری تونے خود بیان کر دی ہے،تمام حقیقت بھی آخر عیاں ہو جائے گی۔اور میں مبنی بر مطلق حقیقت تجھے بتاتا ہوں:

لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّـمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْـهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٨٥

  • [It is My promise] Certainly I will fill the scorching Hell-Prison with you and whoever among them physically followed you/your footsteps, all collected together" [38:85]

تیری جواب قسم یہ ہے کہ میں جہنم کو بھر دوں گاتجھ سے اورہر ایک سے جو تیری نوع اور ان بنی آدم میں سے تیرے نقش قدم پرچلا ہو گا، اجتماعی انداز میں۔

Root: م ل ء


قُلْ مَآ أَسْـٔ​لُـكُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ أَجْرٛ
وَمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُتَكَلِّفِيـنَ ٨٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remind them: "I am not asking you people any award - appreciation for it; publishing, delivering and teaching Qur’ān —
    And nor I am of those who personally force things and ideas by hook or by crook upon others against their will — [38:86]

آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"میں اس (قرءان مجید)کی اشاعت،تبلیغ و تعلیم پر آپ لوگوں سے کسی قسم کے اجر کا سوال نہیں کرتا۔
اورمیں ایسے لوگوں کے طرز عمل کو نہیں اپناتا جو ایسے کام کا لوگوں کو پابند /متکلف کرتے ہیں جو گراں گزرے۔

Root: ك ل ف

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٚ لِّلْعَٟلَمِيـنَ ٨٧

  • It (Qur’ān) is but Admonition-Reference Book, historical account for beforehand information; its peculiarity is easy to comprehend composition for the peoples for taking lesson and guidance [in time-space] [38:87]

حقیقت میں تو یہ(قرءان مجید)مگرسرگزشت ہے،تمام لوگوں کے لئے  نصیحت اور سبق لینے کے لئے آسان فہم انداز میں تصنیف و تالیف کردہ ہے۔

وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعْدَ حِيـن ِۭ  ٨٨

  • And you people will henceforth know its news-disclosures after some time." [38:88]

اور یقیناً آپ لوگوں کو کچھ عرصہ بعداس میں بیان کردہ خبروں کا علم حاصل ہوتا رہے گا"۔

039-سُوۡرَةُ الزمر

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ ١

  • The piecemeal dispatch and delivery of the Book (Grand Qur’ān)—(is for the reason to let your brain remain persistently in stable state of calmness and tranquillity-25:32) It is in easy to understand composition from Allah the Exalted Who is Pervasively dominant and is Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms, visible and invisible [39:01]

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الزمر۔۱)

إِنَّـآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ
فَٱعْبُدِ ٱللَّهَ مُخْلِصٙا لَّهُ ٱلدِّينَ ٢

  • Indeed Our Majesty has compositely sent to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] the Book (Qur’ān); to meet the exigency incorporating Infallible Doctrine-Discourse-Constitution:
    Since its primary objective is to revert people to Monotheism, therefore, issue directive for every individual to whom it reaches; "you submit as subject, subservient, allegiant to Allah the Exalted
    —Remaining exclusively and sincerely subservient for Him in the Way of physical Conduct/Life. [39:02]

یہ حقیقت ہے، ہم جناب  نے منفرد  کتاب (قرء ان مجید) کو آپ(ﷺ)کی جانب   مجتمع انداز میں نازل فرمایا ہے،مبنی بر بیان حقیقت اور موقع محل کی مناسبت سے۔
چونکہ اس کا بنیادی مقصد انسان کو واپس فلسفہ توحید پر قائل کرنا ہے اس لئے ہر فرد کے لئے آپ فرمان جاری کریں"اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو۔ہر حال میں ان کے لئے اخلاص ظاہر کرنے کے لئے  ان کے متعین کردہ اپنے آئین  اور ضابطہ حیات/دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے"۔

أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلْخَالِصُۚ
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ

مَا نَعْبُدُهُـمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَـى ٱللَّهِ زُلْفَىٰٓ
إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُـمُ بَيْنَـهُـمْ فِـى مَا هُـمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَۗ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى مَنْ هُوَ كَٟذِبٚ كَـفَّارٚ ٣

  • The absolute sincere Code and Conduct of Life void of any admixture and impurity is exclusively and unquestionably submission for Allah the Exalted —
    And as for those (polytheist chieftains) who have purposely adopted gods besides Him the Exalted as their protectors; they assert —
    "We worship them not (imaged deities) except for the purpose that they might cause us to be nearer in access to Allah, in manner of close nearness".
    Allah the Exalted will certainly adjudge between them in what they keep differing therein —
    Since [in the world] Allah the Exalted certainly does not guide the one who is persistently a liar and ungrateful rejecter. [39:03]

یہ حقیقت جان لو؛ حیات و کائنات کیلئے وضع اورمقررکردہ   خالص دستور اورنظام (اسلام)اللہ تعالیٰ کے لئے اظہار بندگی ہے۔
اور جہاں تک ان  لوگوں کا معاملہ ہے جنہوں نےان جناب کے علاوہ  تراشے خداؤں کو دانستہ  اپنے مقصد کے زیر اثر بطورسرپرست اختیار کیا ہے۔
وہ جواز بتاتے ہوئے لوگوں سے کہتے ہیں:’’ہم ان کی بندگی نہیں کرتے سوائے اس مقصد کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب قریب کر دیں؛تیزی سے
نزدیکی قربت کے انداز میں‘‘۔
یقیناً
اللہ تعالیٰ روز قیامت  ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کوہدایت نہیں دیتے جودانستہ  دروغ گوہٹ دھرمی سے ایمان لانے سے انکاری ہے۔

Root: خ ل ص؛ ز ل ف

لَّوْ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَـدٙا لَّٱصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُۚ
سُبْحَٟنَهُۥۖ

هُوَ ٱللَّهُ ٱلْوَٟحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٤

  • You the Messenger tell them, who falsely name someone as adopted son, by hypothetical proposition: If at all Allah the Exalted had consciously decided to choose adopting as son, He could have certainly selected and elevated someone He creates, the one He willed.
    He the Exalted is above such needs-support-weakness; Infinite Glory is for Him, His pleasure is the focus of all effort. He is Allah, The Only One, The Irresistible in His Grip". (Cf. 10:68-69; 19:35; 19:92) [39:04]

آپ (ﷺ) ان لوگوں  کوجو نام لے کر اللہ تعالیٰ  کا اختیار کردہ بیٹا  افتراء کرتے ہیں،اس   امتناعی قضیہ  (Hypothetical Proposition)کے ذریعے حقیقتِ حال سے آگاہ کر دیجیے کہ:"اگرفرض محال ، اللہ تعالیٰ شعوری طور پر کسی خاص مقصد کے لئے کسی کو بطور بیٹا اختیار کرنے کا ارادہ کرتے تو ان میں سے کسی کو فوقیت دے کر منتخب  اور سرفرازفرما لیتے جو وہ تخلیق کرتے رہتے ہیں۔
وہ جناب ان حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔
و ہ اللہ تعالیٰ ہیں  جویکتا،واحد مطلق فرمانروا ہیں،گرفت مکمل اور ناقابل تسخیر"۔(الزمر۔
٤)

Root: ص ف و؛ ق ھ ر

خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّۖ
يُكَوِّرُ ٱلَّيْـلَ عَلَـى ٱلنَّـهَـارِ وَيُكَـوِّرُ ٱلنَّـهَارَ عَلَـى ٱلَّيْلِۖ
وَسَخَّـرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَۖ
كُـلّٚ يَجْرِى لِأَجَـلٛ مُّسَـمّٙىۗ
أَلَا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفَّٟرُ ٥

  • He the Exalted has created the Skies and the Earth; conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time.
    He the Exalted continuously folds the Night rolling upon the Day and keeps folding the Day rolling upon the Night
    —
    And He the Exalted has constrained the Sun and the Moon subject to predictable scientific discipline.
    They all are moving for an appointed-named moment of expiry of a term.
    Unquestionably, He the Exalted is absolutely Dominantly All-Pervasive but is Oft-forgiving. [39:05]

انہوں نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔
وہ جناب  ہیں جو مسلسل رات کو گردشی انداز میں دن کے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں  اور مسلسل دن  کو گردشی انداز میں رات کے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں—
اور ان جناب نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم کیا ہے۔
ہر ایک محو گردش ہے ایک معیاد کو مکمل کرنےکے لئے جو اختتام کے حوالے سے متعین ہے۔
خبردار رہو؛وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔وہ جناب   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔

Root: ك و ر;س خ ر; ق م ر؛ ش م س; ء ج ل

خَلَقَكُـم مِّن نَّفْسٛ وَٟحِدَةٛ
ثُـمَّ جَعَلَ مِنْـهَا زَوْجَهَا
وَأَنزَلَ لَـكُـم مِّنَ
ٱلْأَنْعَٟمِ ثَمَٟنِيَةَ أَزْوَٟجٛۚ
يَخْلُقُكُـمْ فِـى بُطُونِ أُمَّهَٟتِكُـمْ خَلْقٙا مِّنۢ بَعْدِ خَلْقٛ فِـى ظُلُمَٟتٛ ثَلَٟثٛۚ

ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْ لَهُ ٱلْمُلْكُۖ
لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ
فَأَنَّـىٰ تُصْرَفُونَ ٦

  • He the Exalted has created you people from an entity-person that acts as individual; retains individuality —
    Afterwards, He the Exalted rendered a part drawn from that person as his spouse-wife.
    And He the Exalted has descended for you people eight families of the herbivore mammals (ground reality: nine families; ninth is not for us Pig's family)
    He the Exalted keeps creating  you the living human beings. This creation proceeds in a place within the bellies of your respective mothers. The manner of creation is successive, creation after a stage of creation. This multiple creative process happens inside the three layered darkness (uterus).
    The above describes for your recognition of Allah the Exalted, the Sustainer Lord of you people. The dominion and governance of the created realm is the domain exclusive for Him the Exalted.
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities-godheads that are
    uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.
    Since you are aware and also experience the stated facts, then how and for what reason you people are turned away [from Allah]. [39:06]

ان جناب (اللہ تعالیٰ)نے  تم لوگوں کو نفس واحدہ میں سے تخلیق کیا ہے۔
بعد ازاں  ان جناب نے اس ( نفس واحدہ)کے ایک جزو کو  اُس کی ہمسرزوجہ(بیوی،اول رشتہ) بنا اور قرار دے دیا۔
اور ان جناب نے تم لوگوں کی خاطر چارہ خور جانوروں کے آٹھ خاندان نازل کئے ہیں(اصل میں نو خاندان ہیں نواں سور تمہارے لئے نہیں)۔
وہ جناب(اللہ تعالیٰ)تم لوگوں کو تمہاری ماؤں کے بطون میں تخلیق کرتے ہیں؛ ایک کے بعد ایک مدرج تخلیق کے انداز میں؛یہ تخلیق کا عمل تکمیل پاتا ہے ماؤں کے بطون میں ایک تین تہوں پر مشتمل اندھیرے مقام کے اندر (رحم کی تصویری حالت)
یہ  حقائق تم لوگوں کے لئے  اللہ تعالیٰ کی پہچان ہیں ؛تم لوگوں کے رب؛تمام  تخلیق کردہ سلطنت کا اقتدار اعلیٰ اور اس کا نظم و نسق صرف ان  جناب کے دائرہ کار میں ہے۔
ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں
اور نہ حیات کو ظہور دینے والا ہے،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔
چونکہ تم  لوگ ان حقائق کو جاننے کے باجود  انحراف پر قائم ہو اس لئے یہ تو بتاؤ کہ کیسے اور کیوں تم لوگوں کو دوسری جانب پلٹا دیا جاتا ہے۔

Root: م ل ك; ص ر ف

إِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُـمْۖ
وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلْـكُـفْرَۖ
وَإِن تَشْكُرُوا۟ يَرْضَهُ لَـكُـمْۗ
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٚ وِزْرَ أُخْرَىٰۗ
ثُـمَّ إِلَـىٰ رَبِّكُـم مَّرْجِعُكُـمْ فَيُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَۚ
إِنَّهُۥ عَلِيـمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧

  • If you choose refusal and ingratitude, it causes no deficiency, for Allah the Exalted is absolutely independent of you. (Cf. 3:97; 31:12)
    However,
    He the Exalted does not approve for His subjects the state of rejection and ingratitude. And if you acknowledge with gratitude, He approves it for your own good.
    And none of the bearer of burden shall bear the burden of another.
    Then, after due time [not now, on the Day of Requital] you shall be turned to your Sustainer Lord; thereat, He the Exalted will tell you what you deliberately used to do.
    Indeed He the Exalted is absolutely aware of what is possessed inside the chests. (Cf. 8:43; 11:05; 35:38; 39:07; 42:24; 67:13=6) [39:07]

اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ  اور توحید پر ایمان لانے سے انکار کرو، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ یاد رکھو کہ اللہ تعالی تم سب سے بالاتر، مطلق آزاد اور خود کفیل ہیں۔
 تاہم، وہ اپنی مخلوق کے لیے  حقیقت کے انکار یا رد  کرنےکو پسند نہیں کرتے۔ اور اگر تم لوگ شکر گزار ہو کر ایمان لاتے ہو، تو وہ  تم لوگوں کی خاطر اسے شرف قبولیت اور پذیرائی دیں گے۔
اورکوئی بوجھ بردارکسی دوسرے کا بوجھ اپنے پر لادنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔
تم سب لوگ متنبہ رہو،بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم نے احتساب کے لئے  اپنے رب جانب لوٹنا ہے۔
چونکہ انصاف کے تقاضوں  کو پورا کیا جائے گا اس لئے  وہ جناب تم لوگوں کو وہ فرد جرم بتائیں گے جو تم دنیاوی زندگی میں  کرتے رہے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب اس کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں جوسینوں نے اپنے اندر چسپاں رکھا ہوا ہے۔(الزمر۔٧)

Root: و ز ر

وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٟنَ ضُرّٚ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيْهِ
ثُـمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةٙ مِّنْهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدْعُوٓا۟ إِلَيْـهِ مِن قَبْلُۖ
وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادٙا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦۚ

قُلْ تَمَتَّعْ بِكُـفْرِكَ قَلِيلٙاۖ
إِنَّكَ مِنْ أَصْحَـٟـبِ ٱلنَّارِ ٨

  • And when economic adversity touches the man he called upon his Sustainer Lord as returnee towards Him.
    Afterwards when He the Exalted made him affluent with bounty from Him he forgot so intensively as if in earlier times he never used to call upon Him
    —
    And despite having experienced still he ascribed others as equate in some respect for Allah the Exalted desiring digressing-straying people off the High road of Him the Exalted.
    You the Messenger,
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You may enjoy with your ungrateful disavowal for a little while —
    Thereafter, it is certain that you are amongst the companions of Hell-Prison." [39:08]

عمومی روش کو جان لو؛   معاشی مشکلات انسان کو جب  درپیش آتی ہیں ، تو اپنے پروردگار سے  دعا کرتا ہے،اس عاجزی سے جیسے وہ ان کی جانب اخلاص سے واپس لوٹ رہا ہو۔
بعد از دعا جب ان جناب  نے اپنی نوازشات سے اسے مالدار کر دیا، تو وہ اتنی شدت سے بھول گیا جیسے پہلے وہ کبھی اللہ سے دعا نہیں کرتا تھا —
مگر اس تجربے کے باوجود اس نے دوسروں   کو کسی حوالے سےاُن کا ہمسر؍نظیر؍مثل؍مدمقابل قرار دیا اس مقصد سے کہ ان جناب کے متعین کردہ راستے سے لوگوں کو منحرف کر دے۔
آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں "تم اپنے انکار و ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو،
پھر یقیناً تم جہنم کی ساتھیوں میں سے ہو گے۔"

Root: ن و ب; خ و ل; ن س ى; ن د د

أَمَّنْ هُوَ قَٟنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيلِ سَاجِدٙا وَقَآئِمٙا يَحْذَرُ ٱلۡءَاخِـرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْـمَةَ رَبِّهِۦۗ
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَۗ

إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٟبِ٩

  • [is the aforementioned person who is absorbed in worldly enjoyment and satisfied with it-also10:07] Is he like that one who devotes hours of the night for prostration and standing/remaining busy [in reading the Aay'aa't of Allah Grand Qur’ān-3:113] he being cautiously afraid of the Hereafter and seeking the Mercy of his Sustainer Lord.
    You the Messenger
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] question the people, "Are those who have the information/knowledge and those who do not have the information/knowledge alike?"
    The fact is that only
    Men of Wisdom: who look into matters and conduct objectively without overlapping emotions-prejudices-biases-whims-caprices, save it in memory and frequent it for reference-lesson and to relate. [39:09]

(کیا وہ متذکرہ شخص جو دنیوی لذتوں میں غرق ہے اور اس سے مطمئن ہے)، وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو رات کے اوقات  میں سجدہ اور قیام میں   اللہ کی آیات کی تلاوت میں مشغول رہتا ہے،  آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا طالب ہے؟
آپ(ﷺ)حصول علم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کریں، "کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے،  تمہاری نگاہ میں ایک دوسرے کےبرابر تصور ہو سکتے ہیں؟"
حقیقت یہ ہے کہ صرف
 دانا و بینا لوگ ہی یہ سمجھتے ہیں، جو معاملات کو بغض، جذبات، تعصبات یا خواہشات سے آزاد ہو کر دیکھتے ہیں، اور انہیں  ازخودیاد رکھتے ہیں تاکہ انہیں عبرت و نصیحت کے طور پر بار بار استعمال کر سکیں۔

Root: ر ج و;  ق ن ت; ل ب ب


قُلْ يَٟعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُـمْۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "O my reverent allegiant who have on my urging believed in Qur’ān! You people sincerely endeavour adopting a prudent attitude to attain the protection of your Sustainer Lord.

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اے  انس و محبت   والے  میرے فدائیوں جو میرے کہنے پر قرءان مجید پر ایمان لائے ہو؛محتاط طرز عمل اپناتے ہوئےاپنے رب سے پناہ کے خواستگار بنو۔

لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِـى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٚۗ

  • Appropriate and proportioned reward in this world is due for those who conducted [and advised others] moderately, gracefully and generously.

انتہائی مناسب اوردل آویز صلہ  ان کے لئے منتظر ہے جنہوں نے اس دنیا میں  حسن توازن کا مظاہرہ کیا؛

وَأَرْضُ ٱللَّهِ وَٟسِعَةٌۗ

  • And the Earth of Allah the Exalted is vast and spacious —

یاد رہے؛ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی وسعت کی حامل ہے(اگر ہجرت کرنا ضروری ہو)۔

Root: و س ع

إِنَّمَا يُوَفَّـى ٱلصَّٟبِـرُونَ أَجْرَهُـم بِغَيْـرِ حِسَابٛ ١٠

  • It is certain that the steadfast and coolly perseverant will be awarded their remuneration/reward without any measure/account/cause and effect relationship". [39:10]

یہ حقیقت ہے کہ اپنے نکتہ نظر پر ثابت قدم رہتے ہوئے ناگفتہ بہ حالات کا تحمل و حوصلے سے سامنا کرنے والوں کو ان کا اجر ادا کیا جائے گا تخمینہ لگائے بغیر"۔

Root: و ف ى

قُلْ إِنِّـىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ مُخْلِصٙا لَّهُ ٱلدِّينَ ١١

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "I was advised [when Qur’ān was presented] that I may remain subject/subservient/allegiant to Allah the Exalted —
    Remaining exclusively and sincerely subservient for Him in the Way of physical Conduct/Life [39:11]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ مجھے قرءان مجید دئیے جانے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ  کی بندگی پر قائم و دائم رہوں؛
ہر حال میں ان کے لئے اخلاص ظاہر کرنے کے لئے  ان کے متعین کردہ   آئین  اور ضابطہ حیات/دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے۔

Root: خ ل ص

وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ١٢

  • And I was advised [when Qur’ān was presented] that I may be the first of its acceptors/ submitters". [39:12]

اور مجھے (نزول قرءان پر) یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس (قرءان مجید) کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں  میں  اول تسلیم کرنے والا بنوں"۔

قُلْ إِنِّـىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّـى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٣

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them, "I am afraid of the punishment of Great Day: if I had refused to accept the Word of My Sustainer Lord [Qur’ān]. [39:13]

آپ(ﷺ) ارشاد فرمائیں"حقیقت تو یہ ہے کہ میں ایک عظیم دن میں دئیے جانے والے عذاب کا خوف  رکھتا ہوں اگر میں نے اپنے رب کے سونپے ہوئے کام کے خلاف کیا"۔

قُلِ ٱللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصٙا لَّهُۥ دِينِى ١٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them, "Allah the Exalted  is the One for whom I remain exclusively and sincerely subservient in my Way of physical Conduct/Life. [39:14]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ ہیں جن کی میں بندگی کرتا ہوں،ہر حال میں ان کے لئے اخلاص ظاہر کرنے کے لئے  ان کے متعین کردہ اپنے آئین  اور ضابطہ حیات/دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے۔

Root: خ ل ص

فَٱعْبُدُوا۟ مَا شِئْتُـم مِّن دُونِهِۦۗ
قُلْ إِنَّ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِـرُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ وَأَهْلِيـهِـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

أَ    لَا ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْخُسْـرَانُ ٱلْمُبِيـنُ ١٥

  • Since man is granted free will, therefore [as stated earlier that I am not like those who force things upon others against their will-38:86] you people worship/be allegiant to that which you people desired other than Him the Exalted."
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Certainly the losers are those  people who have made their selves and their household to suffer loss [for momentary worldly gains/pleasures] on the Day of Rising." [Read with 7:09;23:103]
    Be cautious; undoubtedly that is which is truly the Manifest Loss. [39:15]

  • چونکہ انسان صاحب حریت ہے اس لئے تم لوگ بندگی کرو جو تم چاہتے ہو ان جناب کے علاوہ جس کسی کی صوابدید پر تم زندگی استوار کرنا چاہتے ہو"۔
    آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"حقیقی معنوں میں خسارہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذات  اور اپنے اہل خانہ کے مقام و مرتبہ کو یوم قیامت میں گراوٹ کا مستحق بنایا۔
    دھیان رہے،یہ ہے  وہ جو انتہائی واضح دکھائی دینے والا خسارے کا دائمی احساس ہو گا۔

لَـهُـم مِّن فَوْقِهِـمْ ظُلَلٚ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحْتِـهِـمْ ظُلَلٚۚ
ذَٟلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥۚ

يَٟعِبَادِ فَٱتَّقُونِ ١٦

  • They will be in the condition — invisible layers/awning extending from scorching heat are sent for them in the atmosphere above them, and layers of invisible scorching heat are at surface below them.
    This situation is disclosed
    — Allah the Exalted makes His subjects - allegiants cautiously apprehensive by it (information portraying conditions in Hell-Prison).
    O My subjects, therefore, sincerely endeavour to attain salvation from Me. [39:16]

  • آگ میں سے ابھرنے والے سائے ان کے اوپر کی جانب سے ان کو تپش کا احساس دینے کے لئے رواں رہیں گے اور تپش کے سائے ان کے نیچے کی جانب سے بھی ان کے لئے موجود ہوں گے۔
    جہنم کی زندگی کا یہ منظر ہے جسے دکھا کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف کا احساس دلاتے ہیں۔
    اور متنبہ فرماتے ہیں"اے میرے بندوں، چونکہ میں نے تمہیں خوفناک انجام کا احساس دلایا ہے اس لئے محتاط طرز عمل اپناتے ہوئے میری پناہ کے خواستگار بنو"۔

    Root: ظ ل ل; ف و ق

وَٱلَّذِينَ ٱجْتَنَبُوا۟ ٱلطَّٟغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِ لَـهُـمُ ٱلْبُشْـرَىٰۚ
فَبَشِّـرْ عِبَادِ ١٧

  • And those people who refrain/avoid that they be obedient/subservient to the defiant/refractory/ wanderer and they return towards [the Aa'ya'at/Book of] Allah the Exalted, the good news are assured for them —
    Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] guarantee/give glad tidings to My Servants — [39:17]

اور وہ لوگ جو سرکشی کرنے والے اور بے راہ چلنے والوں کی تابعداری سے بچتے ہیں اور اللہ کے آیات کی طرف رجوع کرتے ہیں، ان کے لیے خوشخبری ہے۔
اس لئے آپ(ﷺ)اپنے رب کی جانب سے میرے ان بندوں کو خوشگوار نتائج کی ضمانت دے دیں۔

Root: ط غ ى; ن و ب

ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَـتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓۚ
أُو۟لَٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰـهُـمُ ٱللَّهُۖ

وَأُو۟لَٟٓئِكَ هُـمْ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٟبِ١٨

  • Those of My subjects who attentively and carefully listen the Verbal Communication (Qur’ān); thereat they pursue in letter and spirit the best course of conduct prescribed therein —
    They are truly the people whom Allah the Exalted has guided aright.
    And they are truly the men of wisdom who look into matters objectively without overlapping with emotions-prejudices-biases-whims and conjectural myths. [39:18]

یہ ہمارے وہ بندے ہیں جو انہماک اور توجہ سے بیان حقیقت(قرءان مجید)کوسنتے ہیں۔چونکہ اس میں رشد کو کج سے متمیزکر دیا گیا ہے اس لئے وہ اس میں بیان کردہ بہترین اور متوازن طرز عمل کی احتیاط سے پیروی کرتے ہیں۔
یہ ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے مستفید فرما دیا ہے۔
جان لو؛ یہ ہیں وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں ایسےدانا و بینا ہیں کہ جستجو حقیقت اوروجودِ شئے کو جاننے کے لئے روایات،تعصبات،مصلحت،جذبات، خواہشات اور مفادات سے بالاتر ہوکر تفکر کرتے ہیں۔

Root:  ل ب ب

أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِـى ٱلنَّارِ ١٩

  • Can, therefore/for reason [of criminal conduct] upon whom the word of punishment/chastisement has become proven/established then will you, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] release/take out/deliver the one who is in the Hell? [39:19]

سوال یہ ہے کہ کیا جس پر گرفت میں لینے کا وعدہ ثابت/واجب ہو چکا جس کے سبب جہنم میں ہے، توپھر کیا آپ(ﷺ) اُس شخص کو جسے جہنم(جیل) میں داخل کر دیا گیا ہے آزاد کروا لیں گے؟ (الزمر۔۱۹)

لَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ رَبَّـهُـمْ لَـهُـمْ غُـرَفٚ مِّن فَوْقِهَا غُـرَفٚ مَّبْنِيَّةٚ
تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا
 ٱلْأَنْـهَٟرُۖ 
وَعْدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ ٱلْمِيعَادَ ٢٠

  • But those who sincerely endeavoured to attain the protection from their Sustainer Lord: for them are lofty mansions of multiple stories —
    Beneath/side by which streams flow.
    This is the promise of Allah the Exalted. Allah the Exalted never violates the promise. [39:20]

لیکن جو لوگ  تندہی سے  ،فعل و عمل  میں حدود و قیود  کےبارے  میں محتاط رہتے ہوئے  اپنے پروردگار سے پناہ  کی درخواست  کرتے ہیں ، ان کے لیے بلند و بالا محل  تیار اور انتظار میں ہیں ۔
ان کی خاص بات یہ ہے کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔یہ حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ دئیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔

Root: غ ر ف; ف و ق


أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ
فَسَلَـكَهُ يَنَٟبِيعَ فِـى ٱلۡأَرْضِ
ثُـمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعٙا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٟنُهُۥ
ثُـمَّ يَـهِـيجُ فَـتَـرَىٰهُ مُصْفَـرّٙا ثُـمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَٟمًاۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِـى
ٱلْأَلْبَٟبِ٢١

  • Have you not visualized/understood [reflect/study/investigate plant kingdom] the apparent fact that Allah sent water from the sky —
    Thereat He the Exalted soaked and percolated it into underground reservoirs [springs, seeps, and wells] —
    Afterwards/lapse of time He sprouted with it cultivated grain crops [monocotyledon-family grass-48:29], their colours markedly vary —
    After a lapse of time it (crop) experiences phase of excitement and shrivel, thereupon you see it golden yellowish. Afterwards He the Exalted renders it as threshed-fragmented.
    Indeed in it is certainly cause of remembrance and taking heed for men of wisdom who look into matters objectively without overlapping it with emotions/ prejudices/ biases/ whims/ caprices/conjectural myths. [39:21]

کیا آپ (ﷺ)نے  نباتات کا نظام دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی کو  برسایا ۔
چونکہ زیر زمین پانی کے قابل استعمال  ذخائر کو برقرار رکھنا ہے اس لئے انہوں نے اُسے زیرِ زمین ذخائر (چشمے، رسنے کی جگہیں اور کنویں) میں جذب اور ٹپکا دیا۔
بعد ازاں  اس  پانی  کے ملاپ سے وہ جناب زرعی فصلیں/اناج   نکالتے ہیں ؛ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛اس کے رنگ  ان کو مختلف دکھاتے ہیں۔
وقت گزرنے پر وہ (فصل)جوش و خروش کے مرحلہ کا تجربہ کرتا ہے جس پر آپ اسے سنہرا پیلا ہوتے دیکھتے ہیں۔بعد ازاں وہ اناج اور چوکر میں بٹ جاتا ہے۔
 یقیناً اس میں عبرت اور یاد دہانی کا سامان ہے ان لوگوں کے لیے جو حکمت رکھتے ہیں، جو بغیر جذبات، تعصبات، مفروضات یا خواہشات کے معاملے کو منطقی طور پر دیکھتے ہیں۔"

Root: س ل ك;  ن ب ع; ز ر ع;  ھ ى ج; ص ف ر; ل ب ب

أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٟمِ فَهُوَ عَلَـىٰ نُورٛ مِّن رَّبِّهِۦۚ
فَوَيْلٚ لِّلْقَـٟسِيَةِ قُلُوبُـهُـم مِّن ذِكْرِ ٱللَّهِۚ

أُو۟لَٟٓئِكَ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٢٢

  • Is it then the one whose chest Allah has opened for Islam whereupon he is on Enlightenment-the Visible Light/Grand Qur’ān from his Sustainer Lord [like that who has opened his chest for disbelief-plunged it into darkness-16:106]
    For reason/thereby woe/regret is for hardened/inflexible attitude of their hearts about the Reminder-Verbal Message of Allah the Exalted: (Qur’ān) —
    They are the people who are in manifest forgetfulness/heedlessness wandering. [39:22]

غور کر کے بتاؤ جس       شخص کی خواہش پر اللہ     تعالیٰ نے اس کے سینے کواسلام سے محبت  میں کشادہ کر دیا جس کے نتیجے میں وہ بصیرت افروز پیغام پر کاربند ہے جسے اس کے رب کی  جانب سےآسان فہم تدوین          میں پہنچایا  گیا ہے (اس کی مانند      ہےجو اس سے انحراف برت رہا ہے)۔
چونکہ ان کے رب کی جانب سے قلوب کو درخشاں کرنے والا بصیرت افروز پدایت نامہ ملنے کے  باوجودراہ نہ پا سکے اس لئے  حیف،خود مذمتی اور ملال ان کا انجام ہو گا اپنے قلوب کی اللہ تعالیٰ کے     نوشتہ تاریخ سے                                                        ہٹ دھرمی پر مائل  رہنے  کے سبب۔
یہ وہ لوگ ہیں جوحکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں  منحرف صریح غفلت میں سرگرداں ہیں۔

Root: ش ر ح; ق س و; و ى ل

ٱللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ
كِتَٟبٙا مُّتَشَٟبِـهٙا مَّثَانِـىَ

تَقْشَعِـرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ ثُـمَّ تَلِيـنُ جُلُودُهُـمْ وَقُلُوبُـهُـمْ إِلَـىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِۚ
ذَٟلِكَ هُدَى ٱللَّهِ
يَـهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُۚوَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٛ ٢٣

  • Allah the Exalted has serially dispatched the finest intellectually balanced Expository Verbal Discourse (to His sincere chosen allegiant) —
    It is conveyed in the form of a written book — it is the explainer with metaphors—mirroring the hidden realities — it is a Miscellany-cluster of Binary-Symmetrical-analogous verbal passages—
    The skins of those who experience awe of their Sustainer Lord become bristled by some segment of it (Qur’ān). Afterwards, their skins become soft —
    And their hearts become soft and revered towards the Reminder-Verbal Message of Allah the Exalted: (Qur’ān).
    It (Qur’ān) is the Guidance prescribed by Allah the Exalted. He the Exalted guides with it (Qur’ān) a person about whom He decides to be guided.
    Know it: Should Allah the Exalted let someone 
    absorbed in indifference, engrossed in his self, thereat, there is not at all a guide for him. (Cf. 7:186; 13:33; 39:36; 40:33) [39:23]

ا للہ تعالیٰ نے (اپنے نہایت برگزیدہ مخلص فرماں بردار بندے محمّد ﷺ)پر لوگوں کو پہنچانے کے لئے)بہترین، فکری توازن رکھنے والا، توضیحی اور بیانی کلام  تدریجاً نازل فرمایا ہے۔
یہ ایک مکتوب کتابی صورت میں پہنچایا گیا ہے۔
یہ تشبیہات سے پنہاں کو عیاں کر دینے کی خصوصیت سے مزین ایک متناظر مجموعہ کی صورت میں ہے۔
 
 اِس کلام کے بعض حصوں سے اُن لوگوں کی جلد کپکپانے اور لرزنے لگتی ہے جو اپنے رب سے سراسیمہ رہتے ہیں۔بعد ازاں اُن لوگوں کی جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے۔مزید برآں اُن لوگوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ”ذکر“(قرء ان مجید کے بیان)کی جانب خشوع و اخلاص سے متوجہ رہتے ہیں۔
یہ(قرء ان عظیم)ا للہ تعالیٰ کا فرمان ہدایت ہے۔وہ جناب اِس کے ذریعے ہر کسی طلبگار ہدایت کو ہدایت فرما دیتے ہیں۔اوراگر ا للہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت انحراف اورکج روی میں سرگرداں رہنے دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں،تو اس صورت میں اُسے راہ دکھانے کیلئے کوئی بھی رہبرنہیں ہوتا۔(الزمر۔
٢٣)

أَفَمَن يَتَّقِى بِوَجْهِهِۦ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۚ
وَقِيلَ لِلظَّٟلِمِيـنَ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُـمْ تَكْسِبُونَ ٢٤

  • Is it then the one who endeavours to  protect his face of worst punishment on the Day of Rising—
    And it is said for those who were evil mongers/distorters/unjust, "You people taste punishment for what you people kept earning". [39:24]

توجہ کریں؛ کیا وہ شخص جو اپنے چہرے کو بدترین عذاب سے بچانے کی کوشش کرتا ہے جو قیامت کے دن ناگزیر ہے—(وہ سیانا ہے یا جو غافل ہے)
 یوم قیامت سے لاپرواہ  حقیقت کے منافی  باطل طرز عمل پر گامزن لوگوں سے کہا جائے گا"متعین کردہ سزا کے عذاب کو بھگتو اس کے نتیجے  میں جو تم اعمال سے کماتے     ر ہے  تھے"۔

Root: ذ و ق

كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ فَأَتَىٰـهُـمُ ٱلْعَـذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُـرُونَ ٢٥

  • Those who were before them in time and space publicly contradicted whereupon came to them the punishment from the direction they had no thought/perception. [39:25]

ان ہٹ دھرم عمائدین کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان  سے قبل زمانے میں لوگ بھی رسولوں کے پیغام کی برسرعام تکذیب  کے مرتکب ہوئے تھے۔جس کے نتیجے میں منفرد قسم کا عذاب ان  لوگوں کو اس جانب سے  پہنچ  گیاجس کا انہیں شعور  بھی نہیں تھا۔

فَأَذَاقَهُـمُ ٱللَّهُ ٱلْخِزْىَ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ
وَلَعَذَابُ ٱلۡءَاخِـرَةِ أَكْبَـرُۚ

لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٢٦

  • Resultantly Allah the Exalted made them taste disgrace in the worldly life —
    And certainly the punishment in the Hereafter is the greatest —
    Had they but tried to know - realize the given information. [39:26]

تیجتاً اللہ تعالی نے ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کا ذائقہ چکھایا —
متنبہ رہو؛یقیناً آخرت کا عذاب سب سے زیادہ بڑا ہے ۔
اپنے آپ کو بچا سکتے تھے اس اندوہناک صورتحال سے اگر علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

Root: ذ و ق;  خ ز ى


وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِـى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٛ
لَّعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٢٧

  • Take notice; Our Majesty have struck, for the benefit of people in this Qur’ān, some examples selected from all instances —
    Its objective is that they might at their own conveniently perceive and retain in memory, take lesson and recall to narrate the point explained — [39:27]

مطلع رہو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اس ٱلْقُرْءَان  کو سمجھنے اور نصیحت لینے کے لئے اس کے متن میں ہر طرح کی مثال بیان کر کے سہل بنا دیا ہے۔
اس  تقابلی جائزے سے وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ  لوگ ازخود اسے یاداشت میں محفوظ کر کے نصیحت لیتے رہیں ۔

قُرْءَانًا عَـرَبِيّٙا غَيْـرَ ذِى عِوَجٛ
لَّعَلَّـهُـمْ يَتَّقُونَ ٢٨

  • This Qur’ān is in the state of a compilation having characteristic of text transcription in Arabic: a perspicuous, eloquent, distinctive and precisely expressive language; the language of the sons of soil of Arabian peninsula. The characteristic of the text is that it is unlike those texts which contain illusory, delusory, conflicting, contradictory, confusing, unaligned content—
    So that they might endeavour to protect their selves. [39:28]

یہ (ٱلْقُرْءَان ) ایسا مدون کیا ہوا متن ہے  جس کا وصف یہ ہےکہ جزیرہ عرب کی فصیح و بلیغ  زبان میں تحریر کردہ حالت میں ہے۔اس کا دوسرا وصف یہ ہے  کہ  پیچیدگی، تضاد،ابہام، الجھاؤ،التباس  اور کسی قسم کا کج  پہلو  رکھنے والے متن  سے مختلف ہے۔
اس  کو ہر قسم کی کجی سے منزہ مدون کرنے کا مقصد اور امکان یہ ہے کہ وہ تندہی سے محتاط ہو کر اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہوں۔

Root: ع ر ب;  ع و ج

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٙا رَّجُلٙا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَٟكِسُونَ وَرَجُلٙا سَلَمٙا لِّرَجُلٍٛ
هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلٙاۚ
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِۚ

بَلْ أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٢٩

  • Allah the Exalted has struck citing a man whose characteristic is that many persons of conflicting nature and psyche have partnership rights of subjugation-subordination-service in holding him —And of another man who is subservient-in obedience solely for one man —
    Adjudge, do they both equalize for purposes of citing?
    [having understood the point and you not being such man, say] The Infinite Glory and Praise stands specified eternally, entirely and exclusively for Allah the Exalted.
    However, the fact is that most of them pursue not to know [retain such simple facts in their memory].
    [39:29]

اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کو بیان  فرما کر نکتے کو عیاں کیا ہے،مثال ایک ایسے مرد سے  تقابل ہے   ۔کئی   متضاد نفسیات  اور روش رکھنے والےلوگ  اس پر استحقاق  حکمرانی میں شراکت دار ہیں۔اور اس کے مقابل ایک مرد جو فقط ایک مرد کی خدمت پر مامور ہے۔
تم لوگ بتاؤ کیا مثال کے لئے ان دونوں کو مساوی تصور کرتے ہو۔
اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیاگیا ہے ۔
لوگوں کا منفی طرز عمل   کسی دلیل پر نہیں کہ  بدیہی حقیقتوں کا بھی جائزہ نہیں لیتے ؛ درحقیقت اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق حقائق کو جاننے کے آرزو مند ہی نہیں۔

Root: ر ج ل

إِنَّكَ مَيِّتٚ وَإِنَّـهُـم مَّيِّتُونَ ٣٠

  • Let this fact be known to your reverent followers that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] will die natural death; and that they (the polytheists) will be dead sooner or later. [39:30]

آپ(ﷺ)کے چاہنے والے اس حقیقت کو جان لیں کہ آپ(ﷺ)نے طبعی موت مرنا ہے۔اور یہ کہ انہوں (مشرکین)نے بھی مردے بن جانا ہے جلد یا بدیر۔

ثُـمَّ إِنَّكُـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ عِندَ رَبِّكُـمْ تَخْتَصِمُونَ ٣١

  • Afterwards, on the Day of Rising, you will mutually argue before your Sustainer Lord. [39:31]

بعد ازاں  قیامت کے دن  اکٹھے کئے جانے پرتم لوگ (مقتدر اور زیر نگیں)اپنے پروردگار کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑو گے۔

Root: خ ص م

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَـى ٱللَّهِ وَكَذَّبَ بِٱلصِّدْقِ إِذْ جَآءَهُۥٓۚ
أَلَيْسَ فِـى جَهَنَّـمَ مَثْوٙى لِّلْـكَـٟفِرِينَ ٣٢

  • Reflect: who could be more guilty of unjust displacement—and thereby standing in opposition to reality—than the one who lied attributing as the statement of Allah the Exalted and thus actively lied by commission—in direct contradiction to the Infallible Truth (Qur’ān) when it has reached to him.
    An abode in the Hell-Prison - is it not a befitting and sufficient reward for the persistent disbelievers of the Messenger and Qur’ān until the moment of their death?" (Cf. 29:68) [39:32]

معلومات ظاہر ہو جانے کے باوجود ا اس شخص سے بڑھ کر حقیقت کے خلاف رویّہ اختیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے جوایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟ اور وہ ناقابل تردید سچائی  پر مبنی بیان حقیقت (قرءان)کو   دانستہ جھوٹ بول کر جھٹلاتاہے جب وہ تحریری شکل میں  اُس تک پہنچ چکا ہو۔
جہنم کی قید خانہ میں ایک ٹھکانا—کیا یہ ان مرتے دم تک مسلسل  رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لیے ایک مناسب اور کافی سزا نہیں ہے؟

وَٱلَّذِى جَآءَ بِٱلصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِۦٓۙ أُو۟لَٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُتَّقُونَ ٣٣

  • And the one who came forward with observed truth and testified by it (Qur’ān) remaining steadfast proved his word [of believing] as true —Such are the people who sincerely endeavour to attain salvation. [39:33]

اور وہ شخص جو سچائی   کو بیان کرتے سامنے آیا اور اس (قرءان)کے ساتھ اس نے تصدیق کر کےاپنے ایمان کی بات کو سچا ثابت کیا —یہ ہیں وہ لوگ  جو تندہی سے حددود و قیود کا احترام کرتے ہوئے اپنے رب سے پناہ کی رخواست  کرنے والے  ہیں۔"

لَـهُـم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّـهِـمْۚ
ذَٟلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٣٤

  • Whatever they would desire it will be made available for them by the grace of their Sustainer Lord —
    This is the reward for moderate/balanced people. [39:34]

وہ جس جس  شئےکی خواہش کریں گے وہ ان کے رب کی جانب سے ان کے لئے دستیاب کر دیا جائے گا۔
مطلع رہو؛یہ انعام اور ایوارڈ ہے ان لوگوں کا جو حسن سلوک اور اعتدال کا رویہ اور روش اپناتے ہیں۔

لِيُكَـفِّرَ ٱللَّهُ عَنْـهُـمْ أَسْوَأَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟
وَيَجْزِيَـهُـمْ أَجْرَهُـم بِأَحْسَنِ ٱلَّذِى كَـانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٣٥

  • Their prayer for salvation aims that Allah the Exalted may delete/remove/hide from them the misdoings/ill deeds they did —

  • And He the Exalted may pay them their reward most appropriate for what good they had been doing. [39:35]

ان کی نجات کی دعا کا قصد یہ ہے کہ اللہ تعالی ان  کے لئے ان کے کیے ہوئے برے اعمال کو  ان کی دستاویز سےمٹا دیں(کیونکہ انہیں معلوم سب کچھ لکھا جاتا ہے)۔
اورانہیں اس سے کہیں زیادہ  بہتر  اجرعنایت  فرمائیں  جو احسن اعمال وہ کرتے رہے تھے ۔

Root: ك ف ر

أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِكَافٍٛ عَبْدَهُۥۖ
وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ

وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٛ ٣٦

  • Is Allah the Exalted not suffices absolutely for His sincere allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    Gauge their intellect; they threaten you, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] by those hypothetical godheads other than Him the Exalted.
    Should Allah the Exalted let someone
    absorbed in indifference-engrossed in his self, thereat; there is not at all a guide for him.  [39:36]

(سازشی میٹنگیں کرتے ہیں یہ عمائدین)کیا اللہ تعالی اپنے مخلص بندے [محمد ﷺ]کے لیے مکمل کفایت نہیں کرتے؟
ان سرداروں کی عقل تو دیکھو؛آپ (ﷺ)کو اپنے ان خیالی معبودوں سے  خوف دلانے کی  باتیں کرتے  ہیں  جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ وہ سمجھتے ہیں۔
اوراگر ا للہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت انحراف اورکج روی میں سرگرداں رہنے دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں،تو اس صورت میں اُسے راہ دکھانے کیلئے کوئی بھی رہبرنہیں ہوتا۔

Root: ك ف ى

وَمَن يَـهْدِ ٱللَّهُ فَمَا لَه ُمِن مُّضِلٍّۗٛۗ
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِعَزِيزٛ ذِى ٱنتِقَامٛ ٣٧

  • And whom Allah the Exalted guides, thereat, there is not at all one who could divagate him.
    Is Allah the Exalted with the Dominance/sovereignty not the Authority to award due punishment to criminals? [39:37]

اور اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو  ہدایت سے بہرامند فرما دیا تو پھر اس کے بعد قطعاً منحرف کرنے والوں میں سے کوئی اس کے لئے نہیں ہوتا۔
خبردار رہو،کیااللہ تعالیٰ مطلق العنان حکمران  نہیں ہیں جو جرم کی پاداش میں سزا دینے کا مطلق اختیار رکھتے ہیں۔


وَ لَئِن سَأَلْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ ٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ
قُلْ أَفَرَءَيْتُـم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ
إِنْ أَرَادَنِـىَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَٰشِفَٟتُ ضُرِّهِۦٓ
أَوْ أَرَادَنِـى بِرَحْـمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَٟتُ رَحْـمَتِهِۦۚ
قُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُۖ
عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
٣٨

  • And if you ask them as to who created the Skies and the Earth —They will certainly answer "Allah did it".
    You the Messenger [
    Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them, "Have you then seen/given it a thought that, those which you people call upon other than Allah the Exalted —
    If Allah the Exalted decided for inflicting upon me distress/adversity would those feminine named [associates of you people] be capable to remove His infliction? —
    Or if He the Exalted intended Mercy for me, would those feminine named [associates of you people] be capable to cause for holding back His Mercy?" [Read with 35:02]
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam
    ] pronounce, "Allah suffices for me —
    Upon Him the ones who entrust to others should place reliance and dependence." [39:38]

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے تخلیق کیا —تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔"
آپ(ﷺ)انہیں  غور کرنے  پر ابھارنےکے لئے سوال کریں’’یہ جاننے کے باوجود کیا تم لوگوں نے ان کے متعلق  صلاحیت پر کچھ غور کیا ہے جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے رہتے ہو ؟۔
 مجھے بتاؤاگر اللہ تعالی میرے لیے کسی مصیبت کا فیصلہ کر لیں، تو کیا یہ تمہارے وہ مؤنث نام والے شریک  اس قابل ہیں کہ ان کی  مسلط کی ہوئی  مصیبت کو دور کر سکیں؟ —
یا اگر وہ میرے لیے رحمت کا ارادہ کریں، تو کیا یہ مؤنث نام والے ا
ن کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟"
آپ ارشاد فرمائیں ’’اللہ تعالیٰ کی نصرت میرے اندازے میں میرے لئے سب سے بڑی قوت ہے۔
چونکہ تمام امور کا فیصلہ کرنا ان کی صوابدید ہے اس لئے اپنے معاملات میں دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو ان پر مکمل اعتماد کرنا چاہئے‘‘۔

Root: ك ش فl م س ك

قُلْ يَٟقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَـىٰ مَكَانَتِكُـمْ إِنِّـى عَٟمِلٚۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ٣٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] say, O my nation! Keep acting upon you stand for; indeed I am performer that I stand for —Then/for reason soon you people will know — [39:39]

آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’اے میری قوم!آپ لوگ اپنے طرز عکر پر عمل کرتے رہیں؛میں یقیناً اس طرز عمل پر کاربند ہوں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔چونکہ نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہے اس لئے  تم لوگ عنقریب جان لو گے۔

مَن يَأْتِيهِ عَذَابٚ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٚ مُّقِيـمٌ ٤٠

  • Thereby soon will you know the one to whom comes the infliction which will humiliate him —And the perpetuating-enduring infliction will become incumbent upon him." [39:40]

تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آئے گا جو اسے ذلیل کر دے گا — اور اس پر ایسا عذاب لازم ہو جائے گا جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔"

Root: خ ز ى

إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ لِلنَّـاسِ بِٱلْحَقِّۖ
فَـمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦۖ

وَمَن ضَـلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَاۖ
وَمَآ أَنتَ عَلَيْـهِـم بِوَكِيلٍ ٤١

  • Indeed Our Majesty have compositely sent upon you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] the Book (Qur’ān), its objective is to provide source of guidance for entire humanity; it will serve as Guide-Manual to resolve situations according to the Infallible Doctrine-Discourse.
    Therefore, in response the Qur’ān having reached to him, whoever endeavoured getting aright guided, thereby, he is guiding-leading on the way only for his self.
    Similarly, the person who remained neglectful-indifferent towards Grand Qur’ān having reached him, thereby the consequential fact is that his strays-neglect has effect upon his self.
    And you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are not assigned the responsibility to act as disposer of affairs and caretaker upon them. [He pronounced it 6:66;10:108] [39:41]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)پر منفرد کتاب (قرءان مجید)کو مجتمع انداز میں نازل کیا ہے،اس کا مدعا تمام لوگوں کے لئے سرچشمہ ہدایت دینا ہے،یہ ہر طرح کے مواقع و حالات میں مبنی بر حقیقت رہنمائی دے گا۔
اس لئے جس کسی نے قرءان مجید پہنچ جانے پراز خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔
 اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے۔
اور آپ (ﷺ)ان کے انحراف اور گمراہی پر رہنے اور ہو جانے کے قطعی ذمہ دار نہیں ہیں۔(اس لئے آپ سے دوزخ میں جانے والوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا ۔ البقرۃ۔۱۱۹)


ٱللَّهُ يَتَوَفَّـى ٱلْأَنفُسَ حِيـنَ مَوْتِـهَا
وَ ٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِـى مَنَامِهَاۖ
 فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْـهَا ٱلْمَوْتَ
وَ يُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَـىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّىۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ
٤٢

  • Allah the Exalted gradually alienates/segregates the " Controlling Masters" [real entity that holds will and decision] of some persons from the bodies at the time of their death —
    And as for that person is concerned who has not died, Allah the Exalted gradually alienates/ segregates the "Controlling Master" from the company of body, and other people during her sleeps.
    Since the moment of death is also appointed, therefore, He the Exalted causes to be held back that "self-master" of a person upon whom He the Exalted has decreed the death [during sleep] —
    And He the Exalted causes to be sent back the other one [after sleep revives the will and freedom of action] until the determined duration/time reaches the appointed moment.
    Indeed in this phenomena there are explicit manifestations for the people who have the habit of reflecting objectively to arrive at the purpose of creation/recognize the Divine Providence and Will. [39:42]

اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کے نفوس/صاحب حریت کو  دھیرے دھیرے جسد سے جدا/الگ کرتے ہیں، ان  اشخاص کی موت کا فرمان جاری ہو جانے کے وقت۔ 
اور جہاں تک اس شخص  کا تعلق ہے جس کی موت کا فرمان ابھی جاری نہیں ہوا ،اس کے نفس/حریت کو اس کی نیند کے دوران دھیرے دھیرے جسد سے جدا/الگ کرتے ہیں۔
چونکہ موت کا وقت متعین کر دیا جاتا ہے اس لئے وہ جناب اس نفس/علمبردار حریت کو روک لیتے ہیں جس پر موت کافیصلہ کر دیا گیا۔
اور وہ جناب دوسرے نفس کو واپس بھیج دیتے ہیں ایک متعین مدت کو پورا کرنے کی جانب۔
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں جو ازخود تفکر کرنے والوں کے لئے  فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔

Root: و ف ى; ن و م; م س ك; ء ج ل; ف ك ر

أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ
قُلْ أَوَلَوْ كَـانُوا۟ لَا يَمْلِـكُونَ شَيْـٔٙا وَلَا يَعْقِلُونَ ٤٣

  • Have they purposely held hand sculpted godheads as intercessors - pleaders in place of those authorized by Allah the Exalted?
    You the Messenger
    [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] confront them, "Would you presume this even though they (so held intercessors) were neither possessing any thing and nor they have intellect/faculty to differentiate." [39:43]

کیا انہوں نے جان بوجھ کر اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ شفاعت کرنے والوں کے بجائے اپنا سفارشی مقرر کر لیا ہے؟
آپ (ﷺ)ان سے دریافت کریں، "کیا تم ایسا گمان رکھتے ہو، باوجود اس کے کہ وہ (جنہیں تم سفارشی مانتے ہو) نہ کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ ہی ان کے پاس عقل و شعور ہے کہ وہ تمیز کر سکیں؟"

Root: م ل ك

قُل لِّلَّـهِ ٱلشَّفَٟعَةُ جَـمِيعٙاۖ
لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ

ثُـمَّ إِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٤٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "The Intercession/intervening-prayer on behalf of another is solely and exclusively subject to the permission of Allah the Exalted, all together.
    The dominion and governance of the Skies and the Earth is exclusively the domain for His Majesty.
    Thereafter, you will be presented before Him the Exalted for accountability (on your turn to tell you what you did in worldly life-39:7). [39:44]

آپ (ﷺ)ارشاد  فرمائیں،"شفاعت (دوسرے کے حق میں سفارش یا دعا) کلی طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مشروط ہے، اور یہ ان کے اختیار میں ہے"۔
وہ جناب ہی ہیں۔۔ آسمانوں اور زمین پراقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق صرف ان کے دائرہ کار میں ہے۔
بعد ازاں وقت گزرنے پر( اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

Root: ش ف ع; م ل ك


وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحْدَهُ ٱشْـمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلۡءَاخِـرَةِۖ
وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِـرُونَ ٤٥

  • Know it, when Allah the Exalted was described before them as being: "He is the Absolute-Uniquely singular": The hearts of those reflexively repulsed who believe not in the Hereafter.
    And when they were mentioned by someone, whom they consider godheads as intercessors, other than Him the Exalted, thereat, they (non-believers of Hereafter) were joyfully celebrating. [39:45]

اس حقیقت جو جان لو؛جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر یوں کیا گیا"وہ جناب معبود  مطلق ہیں": تو آخرت پر ایمان نہ لانے والے  لوگوں کے قلوب   نےمنقبض، گھٹن  کا اس قدر شدید احساس کیا کہ چہرے سے بھی عیاں ہو گیا۔
اور جب کسی نے ان جناب کے علاوہ ان کے کسی معبودان کا ذکر کیا  جنہیں اپنے سفارشی اور اللہ سے قرب پانے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں تو اس وقت وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

قُلِ ٱللَّهُـمَّ
فَاطِرَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
عَٟلِمَ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ
أَنتَ تَحْكُـمُ بَيْـنَ عِبَادِكَ فِـى مَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٤٦

  • You say, "O Allah the Exalted —
    You the Exalted the Primal Originator/Creator of the Skies and the Earth —
    You the Exalted the Knower of what is invisible/non perceivable and visible/perceivable for the creatures —
    You the Exalted are the Only Who will adjudge between Your subjects in that which they kept mutually differing/opposing". [39:46]

آپ(ﷺ)لوگوں سے کہیں کہ اللہ تعالیٰ  کو یوں مخاطب کرکے  ان کےحضور یہ اعتراف کریں"ٱللَّهُـمَّ!
اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے۔
اے آپ جناب ان  تمام کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے    جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ۔
آپ جناب ہیں جو  روز قیامت  اپنے بندوں کے مابین فیصلہ فرمائیں گے اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔

Root: ف ط ر

وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَافْتَدَوْا۟ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۚ
وَبَدَا لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا۟ يَحْتَسِبُونَ ٤٧

  • Beware of the fact that hypothetically speaking; Had all collectively that exists in the Earth and alike of it in addition were the treasures exclusively for those who did wrong their selves, they would certainly have offered it to redeem their selves —In lieu thereof, from the sentence on the Day of Rising.
    And that became self exposed-evident for them, which was communicated from Allah the Exalted but they deliberately and persistently did not reckon it. [39:47]

خبردار!بفرض محال اگر  ان لوگوں کے پاس ،جنہوں نے حقیقت کے منافی باطل عقائد اور طرز عمل کو اپنایا تھا،وہ سب ہوتا جو زمین میں خزائن ہیں اور اس کے برابر کا ایک اور حصہ بھی ان لوگوں کے پاس خزانے کے طور پر ہوتا، تو وہ اسے لازمی طور پر اپنی جانیں چھڑانے کے لیے پیش کر دینے پر تیار ہوں  گے—قیامت کے دن کی سزا سے بچنے کے عوض۔مگر وہ بھی قبول نہیں ہو گا۔
اور ان پر وہ بات واضح ہو جائے گی جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں پہلے بتائی گئی تھی، مگر وہ اسے جان بوجھ کر اور مسلسل نظر انداز کرتے رہے۔

Root: ف د ى

وَبَدَا لَـهُـمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَـسَبُوا۟
وَحَاقَ بِـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۥ يَسْتَـهْزِءُونَ ٤٨

  • And the evil deeds exposed for them, on perusing the written record book, that which they earned/accomplished—
    And they will be hemmed with that about which they consciously adopted a non serious jesting attitude keeping themselves playful with. [39:48]

اور ان کے بداعمال کو ان  کو دئیے گئے  تحریری اعمال نامہ  نے ان پر افشاں کر دیاجو کچھ انہوں نے کمایا اور انجام دیا تھا۔
اورآخروہ(عذاب)ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے  دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ح ى ق; ھ  ز ء

فَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٟنَ ضُرّٚ دَعَانَا
ثُـمَّ إِذَا خَوَّلْنَٟهُ نِعْمَةٙ مِّنَّا
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَـىٰ عِلْمِۭۚ
بَلْ هِىَ فِتْنَةٚ
وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٤٩

  • For reason [knows who can help] when economic adversity has touched the man he called upon Our Majesty —
    Afterwards when Our Majesty made him affluent with bounty from Our Majesty —
    He said, "I have been given all that only because of the knowledge I have".
    No, that is not true, the fact is that it is given for liquefying trial for exposure of his true self
    —
    But the fact is that most of them-affluent class do not know/intend to understand. [39:49]

چونکہ انسان  توحید کو اپنے سینے میں تو جانتا ہے اس  لئےعمومی روش  ہے کہ جب جب  ناگفتہ بہ  تکلیف کا سامنا ہوتا ہے توہم جناب کو پکار کر درخواست کرتا ہے۔
بعد از دعا جب ہم  جناب  نے اپنی نوازشات سے اسے مالدار کر دیا،(تو وہ اتنی شدت سے بھول گیا جیسے پہلے وہ کبھی اللہ سے دعا نہیں کرتا تھا )—
اس نے الٹا لوگوں سے  کہا"یہ مال و دولت مجھے فقط میرے علم کی بدولت دیا گیا ہے"۔
نہیں اس کا کہنا خام خیالی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسی کھٹالی ہے جو ااس کے اندر کے کھوٹ اور غلاضت کو نمایاں کر دے گی۔
مگر ان صاحب ثروت کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔

Root: خ و ل

قَدْ قَالَـهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ
فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٥٠

  • Indeed the same boisterous statement was made by those who were before them —
    Thereat, that which they had been earning-attaining could not avail to avert anything from them.  [39:50]

ان لوگوں سے قبل جو صاحبان ثروت تھے انہوں نے بھی اس خام خیالی کو بیان کیا تھا۔
مہلت کا وقت ختم ہو جانے پر ان سے سزا کی گرفت کو دور کرنے میں   وہ کچھ کام نہ آیا جو وہ کما رہے تھے۔

فَأَصَابَـهُـمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ۚ 
وَٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ هَٟٓـؤُلَآءِ سَيُصِيبُـهُـمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟
وَمَا هُـم بِمُعْجِزِينَ ٥١

  • Since every act inevitably bring a result or effect, sooner or later; consequently upon the lapse of the respite period, the adverse outcomes of what they deliberately earned struck them.
    Since the law knows no distinction; those among these people who have distorted beliefs and established misguided protocols will soon face the adverse consequences of the evil deeds they have deliberately earned. And they will certainly not be able to escape or avert it." 
    —
    And they will certainly not be able to frustrate/avert that. [39:51]

چونکہ ہر عمل لازمی طور پر دیر یا بدیر اپنا نتیجہ یا اثر لاتا ہے، اس لئے مہلت کا وقفہ ختم ہونے پر ان کے ارادی اعمال کے بدنتائج ان پر آن پڑے۔
چونکہ قانون
 لوگوں کے مابین تفریق نہیں کرتا؛ ان لوگوں میں سے جو حقیقت کے منافی باطل نظریات اور گمراہ کن اصول قائم کر چکے ہیں، عنقریب ان کے جان بوجھ کر کمائے گئے برے اعمال کے منفی نتائج ان پر واقع ہوں گے۔
 اور وہ یقیناً اس سے بچنے یا اسے ٹالنے میں  قطعی کامیاب نہیں ہو پائیں۔

Root: ع ج ز

أَوَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٥٢

  • Have they not known that Allah expands the sustenance for the one He willed from His created ones and restricts to measure for one He willed —
    Indeed in it are explicit manifestations reflective for people who wish to perceive/recognize the Divine Providence and Will. [in the magnanimity of Creator, their Sustainer Lord]. [39:52]

کیا ان کی نفسیات کا یہ سبب ہے کہ یہ جان نہیں پائے  کہ اللہ تعالیٰ ہیں جو ا اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔
یقینا ان   بیان کردہ حقائق میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔

Root: ب س ط


قُلْ يَٟعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسْرَفُوا۟ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْ لَا تَقْنَطُوا۟ مِن رَّحْـمَةِ ٱللَّهِۚ
إِنَّ ٱللَّهَ يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَـمِيعًاۚ
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ٥٣

  • You, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce universally and declaratively—"O my those subjects who have done excesses to their selves; you people should not loose hope for the Mercy of Allah the Exalted in consideration of your hitherto conduct.
    It is a fact that Allah the Exalted forgives the slanders and crimes [of the past subject to conditions hereafter mentioned], all collectively [thus it includes statue worshiping in the past]
    Indeed He the Exalted is the One Who is repeatedly Forgiving-Overlooking, and is the Fountain of Infinite Mercy. [39:53]

آپ(ﷺ)اعلان فرما دیں"اے میرے  وہ بندوں جنہوں نے حدود کو پامال کر کے،اپنے آپ کو غفلت اور لاپرواہی میں رکھ اپنے آپ پر زیادتی کی ہے،تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رحمت کے متعلق قنوطی(یاس پسندانہ نقطہ نظر رکھنے والا،نامید، مایوس)نہیں ہونا چاہئیے۔
اس حقیقت سے مطلع رہو، اللہ تعالیٰ ماضی کی الزام تراشیوں اور جرائم کی پردہ پوشی،درگزر فرماتے ہوئے معاف کر دیتے ہیں (بعد ازیں بیان کردہ رویہ اپنانے پر)،تمام کے تمام اجتماعی طور پر (ماضی کی مشرکانہ روش خود بخود شامل ہو گئی)۔
ان کے متعلق یہ حقیقت ہے،وہ جناب اکثر و بیشتر درگزر اور پردہ پوشی کرکے معاف فرمانے والے ہیں۔وہ منبع رحمت ہیں۔

Root: س ر ف;  ق ن ط; ذ ن ب

وَأَنِيبُـوٓا۟ إِلَـىٰ رَبِّكُـمْ وَأَسْلِمُوا۟ لَهُۥ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَـكُـمُ ٱلْعَذَابُ
ثُـمَّ لَا تُنصَرُونَ ٥٤

  • And you people return inclining towards your Sustainer Lord and you people become Muslims for Him before the point in time—Lest the infliction may come to you people —
    Afterwards, you people will not be helped. [39:54]

اورتم لوگ اپنے آپ کو اپنے رب کی جانب واپس پلٹا لو،اور ان کے مقرر فرمائے آئین حیات کے لئے سر تسلیم خم کر دو،اس سے قبل کہ باغیوں کے لئے مقرر کردہ عذاب تم تک پہنچ جائے۔
ایسا ہو جانے کے بعد ازاں تم لوگوں کی مدد نہیں کی جا سکے گی۔

وَٱتَّبِعُـوٓا۟ أَحْسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُـم مِّن رَّبِّكُـم
مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَكُـمُ ٱلْعَذَابُ بَغْتَةٙ
وَأَنتُـمْ لَا تَشْعُـرُونَ ٥٥

  • And you people incline yourself to follow, in letter and spirit there being none third party in between, the Best Course of Action of that/Grand Qur’ān which has since compositely been sent to you people in easy to understand composition from your Sustainer Lord —
    Before the point in time that the infliction may come to you people all of a sudden —
    While you people do not have its perception. [39:55]

اور اس بہترین طریقہ کار کی اس انداز میں خلوص سے پیروی کرو کہ اس کے اورتمہارے عقل و فہم کے مابین کچھ حائل نہ ہو جسے تمہارے رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں مجتمع انداز میں بھیج دیا گیا ہے۔
اس(قرءان مجید)کی اتباع کرو قبل اس کے کہ نافرمانوں کے لئے مقرر کردہ عذاب تم تک آن پہنچے،اچانک اور یکلخت۔
ایسا اس حال میں ہو گا کہ اس یکلخت آن پہنچنے کا شعور، وہم و گمان بھی نہیں ہو گا۔

أَن تَقُولَ نَفْسٚ يَٟحَسْـرَتَـىٰ عَلَـىٰ مَا فَرَّطَتُ فِـى جَنۢبِ ٱللَّهِ  وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّٟخِرِينَ ٥٦

  • Lest then someone should say in anguished regret: "Ah— my crushing remorse over all that I culpably neglected what could take me to the direction and side of Allah the Exalted —while I was indeed one of those who used to ridicule and mock the reality of Day of Resurrection." — [39:56]

انتظار مت کرو یکلخت عذاب کا؛مبادا اُس وقت کوئی جان شدید حسرت و ندامت کے عالم میں یہ کہنے لگے: "ہائے افسوس! مجھے اس امر پر گہرا اور جانگسل پچھتاوا ہے کہ میں نے دانستہ طور پر اُن تمام امور میں کوتاہی اور تقصیر کی جو مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب، اُس کے حق اور اُس کی رضا کے دائرے میں لے جا سکتے تھے—جب میں حقیقت میں اُن ہی لوگوں میں شامل تھا جو یومِ قیامت کی حقیقت کا تمسخر اور استہزاء کیا کرتے تھے۔"

Root: س خ ر

أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ ٱللَّهَ هَدَ ىٰنِى لَـكُـنتُ مِنَ ٱلْمُتَّقِيـنَ ٥٧

  • Or lest that person say, "had Allah guided me indeed I would have been amongst those who sincerely endeavour to attain salvation." [39:57]

یا یہ کہے ، "اگر اللہ تعالیٰ  مجھے ہدایت دیتے تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جو اپنی نجات کی کوشش میں سچے دل سے کوشاں  تھے۔"

أَوْ تَقُولَ حِيـنَ تَرَى ٱلْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِـى كَـرَّةٙ فَأَكُونَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٥٨

  • Or lest that person might say when he saw the infliction, "Had there been a possibility for me to return thereat I will be amongst the people of appropriate and balanced conduct." [39:58]

یا کوئی  شخص  جب عذاب واقع ہوتا دیکھے تو یہ  کہے ، "اگر مجھے واپس جانے کا موقع ملتا تو میں ان لوگوں میں ہوجاتا جو صحیح اور متوازن رویہ اختیار کرنے والے تھے۔"

Root: ك ر ر

بَلَـىٰ قَدْ جَآءَتْكَ ءَايَٟتِى فَكَذَّبْتَ بِـهَا وَٱسْتَكْـبَـرْتَ
وَكُنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٥٩

  • [He will be told] "No, there is no possibility; indeed My Aa'ya'at: Verbal passages [of Qur’ān] reached to you whereupon you publicly contradicted those and you demonstrated pride—
    And you remained one of the adamant disbelievers until death". [39:59]

[اسے جواب دیا جائے گا] "نہیں، اب واپسی کا کوئی موقع نہیں؛ یقیناً میری آیات تمہیں پہنچ چکی تھیں، مگر تم نے ان کی  دانستہ تکذیب کی اور  اپنے تئیں   بڑا  سمجھے اور مانے جانے کے خواہش مند رہے —
اور تم
  ڈھٹائی سے مرتے دم تک  حقیقت کا انکار کرنے والے ہی رہے"۔

وَيَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ تَرَى ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِ وُجُوهُهُـم مُّسْوَدَّ ةٌۚ
أَ لَيْسَ فِـى جَهَنَّـمَ مَثْوٙى لِّلْمُتَكَـبِّـرِينَ ٦٠

  • And on the Day of Rising you will see those who conjectured false sayings attributing to Allah that their faces have dark/blackened look.
    An abode in the Hell-Prison - is it not a befitting and sufficient reward for the persistent disbelievers of the Messenger and
    Qur’ān until the moment of their death?"  [39:60]

اور قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ جنہوں نے اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کیں، ان کے چہروں پر سیاہ اور سیاہت چھا جائے گی۔ جہنم کی آتش —
جهنم کی قید خانہ میں ایک ٹھکانا—کیا یہ ان مرتے دم تک رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں  کے لیے ایک مناسب اور کافی سزا نہیں ہے؟

Root: س و د

وَيُنَجِّى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ بِمَفَازَتِـهِـمْ
لَا يَمَسُّهُـمُ ٱلسُّوٓءُ وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ٦١

  • And Allah the Exalted will render them safe who endeavoured to attain salvation, by their achievement.
    Physical weakness, pain or any troublesome thing will not touch them and nor will they face any grieve. [39:61]

 اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو محفوظ رکھیں  گا جو نجات کی کوشش میں رہے،ان کی  اپنی کامیابی کے انعام میں۔
جسمانی کمزوری، تکلیف یا کوئی پریشانی ان پر چھائے گی نہ ہی کوئی غم ان کے قریب آئے گا۔

Root: ف و ز; ح ز ن


ٱللَّهُ خَالِقُ كُـلِّ شَـىْءٛۖ
وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ وَكِيلٚ ٦٢

  • Allah the Exalted is the Creator - Primal Originator of all that exists.
    Know it; He the Exalted is the Guardian-Protector-Disposer of Affairs of physical realm. [39:62]

اللہ تعالیٰ ہیں جو  تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔
اور  وہ جناب  تمام موجودات اور معاملات کی نگرانی اور انجام تک پہنچانے  والے ہیں۔

لَّهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۗ
وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِـَٔايَٟتِ ٱللَّهِ

أُو۟لَٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ ٦٣

  • The decision to own and disburse the treasures attached to the Skies and the Earth are at the exclusive discretion of Him the Exalted.
    Take note, those who disavowed the Aa'ya'at: verbal passages of the Book of Allah the Exalted—
    They are truly those who cause-earn loss to their selves in time-line. [39:63]

آسمانوں اور زمین میں پیوست خزائن کی ملکیت اور تقسیم کا فیصلہ ان کی صوابدید ہے۔
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل آیات کا انکار کر دیا:
انجام کے حوالے سےیہ ہیں وہ لوگ جو درحقیقت  خود اپنا خسارہ /نقصان کرنے والے ہیں۔

Root: ق ل د;ء ى ى

قُلْ أَفَغَيْـرَ ٱللَّهِ تَأْمُـرُوٓنِّـىٓ أَعْبُدُ أَيُّـهَا ٱلْجَٟهِلُونَ ٦٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "Do you people despite knowing all this still ask me that I be allegiant to someone other than Allah the Exalted, O you the emotionalists blind followers of traditional hearsay?" [39:64]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"کیا آپ لوگ میری تبلیغ پر غور نہیں کرتے جس کے باوجود آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی بھی بندگی کروں؛غور کرو اے جذبات اور روایت پرستو!"۔

وَلَقَدْ أُوحِـىَ إِلَيْكَ وَإِلَـى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٦٥

  • It is strange demand; certainly (it is in their knowledge) it was earlier verbally communicated to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and to those Messengers who were in times before you to declare:
    "Beware of this hypothetical proposition; if you associate even your self in partnership with Allah the Exalted, certainly your effort of preaching and convincing Monotheism will become voided in effect, and thus you will also be counted among the losers". [39:65] ([Read in conjunction 3:80; 6:88; 10:104; 13:36;72:20])

تعجب ہے ان کی خواہش پر باوجود اس کے کہ ہم جناب آپ کی جانب   یہ   زبانی پیغام بھیج چکے ہیں اور ان رسولوں میں سے بھی ہر ایک کو بھیجا تھا جو آپ سے قبل مبعوث فرمائے گئے تھے:
"یہ مفروضے پر مبنی تنبیہ ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو بھی اگربندگی اور ارباب میں مشترک قرار دیا تو یقیناً آپ کا عمل تبلیغ و اشاعت  اثر پذیری میں   بیکار ہو جائے گا اور یوں آپ کا شمار بھی خسارہ کرنے والوں میں  ہو جائے گا"۔(ا؛زمر۔65)[اس کی نفی ءال عمران۔79۔89اورالانعام۔88،یونس۔104،الرعد۔36; سورۃ الجن۔20  اور سورۃ الکافرون کے ساتھ مطالعہ کریں]

Root: خ س ر

بَلِ ٱللَّهَ فَٱعْبُدْ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٟكِـرِينَ ٦٦

  • You respond to them; "Not anyone else, I solely and exclusively submit in allegiance to Allah the Exalted. Since He is the Alone and Absolute Sovereign Lord, therefore, I direct you to submit to subservience and allegiance solely for Him the Exalted —
    And be amongst those who appreciate/acknowledge and express gratitude. [39:66]

آپ ـ(ﷺ)جذبات پرستوں کو بتائیں"کسی غیر کی نہیں میں صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا ہوں؛چونکہ وہ مطلق معبود ہیں اس لئے تم سے کہتا ہوں ان کی بندگی کر۔ اوراپنے آپ کو شکر گزاروں میں شمار کر لے"۔

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ
وَٱلۡأَرْضُ جَـمِيعٙـا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ
وَٱلسَّمَٟوَٟتُ مَطْوِيَّٟتُۢ بِيَمِينِهِۦۚ
سُبْحَٟنَهُۥ وَتَعَٟلَـىٰ عَمَّا يُشْـرِكُونَ ٦٧

  • Know it; they have not esteemed Allah the Exalted as is appropriate for His Magnificence: And they have not regarded Allah as is His right to be regarded.
    Know it; the Earth will be in His Grip, wholly folded, on the Day of Rising —
    And the Skies will be folded/pressed back by His Right Hand. (read along with 21:104)
    Glory is for Him the Exalted, His pleasure is the focus of all effort; and He is Exalted above all what they conjecturally associate with Him. [39:67]

اورحقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے مطلق مقام و مرتبہ کا احساس و ادراک اور احترام اس طرح نہیں کیا جیسا کہ ان کی عظمت و کبریائی کا استحقاق ہے۔
۔جان لو؛کرہ ارض یوم قیامت کو یکجا  ٹھوس ٹکڑے کی حالت میں تمام کی تمام ان کی ملکیت میں ہو گی۔
اور آسمانوں کو وہ جناب اپنی قوت سے سمیٹ دیں گے۔

Root: ق ب ض; ط و ى; ع ل و


وَنُفِخَ فِـى ٱلصُّورِ
فَصَعِقَ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَن فِـى ٱلۡأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ
ثُـمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُـمْ قِيَامٚ يَنظُرُونَ ٦٨

  • Know it, the sound was blown in the Trumpet—
    Thereby, whoever was living in the Skies and whoever was living in the Earth felt thunderstruck —Except the one whom Allah the Exalted willed [not to be effected by terrible happenings of the Day [21:103;27:89].
    Afterwards, upon lapse of certain duration, the sound is blown in the Trumpet second time, thereupon - at that point in time they will suddenly be standing in waiting. [39:68]

اوراس دن جب خاص طور پر بنائے گئے نقارے میں  دوسری مرتبہ پھونک دیا جائے گا۔
چونکہ   اچانک اور اوسان خطا کر دینے والی وہ ہولناک  صوت ہو گی  اس لئے جو کوئی آسمانوں میں موجود ہو گا اور جو کوئی زمین میں موجود ہو گا تو شدت آواز سے حواس باختہ ہو جائے گا۔سوائے اس کے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس دن سختی سے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔
 ایک معین مدت کے بعد، صور میں دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا، اس مرتبہ اثر یہ ہو گا کہ  اس وقت اچانک وہ سب لوگ کھڑے ہو کر منتظر ہوں گے۔

Root: ن ف خ

وَ أَشْرَقَتِ ٱلْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّـهَا
 وَ وُضِعَ ٱلْـكِتَٟبُ
وَ جِا۟ىٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَ ٱلشُّهَدَآءِ
وَ قُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْحَقِّ  وَ هُـمْ لَا يُظْلَمُونَ
٦٩

  • And the Earth went brighten with the Visible Light generated by her Sustainer Lord —
    And the Book is laid open [for everyone's reading] —
    And the Distinctly Chosen and Elevated Persons and the Witnesses are escorted [to the Court] —
    And the matter is decided and concluded amongst the resurrected people on the basis of the Statement of Fact-the Book/the proven and established fact and justice —And they will not be subjected to any injustice [not even iota of it] [39:69]

اور زمین اپنے رب کے سموئے ہوئے نور سے جگمگاتی کیفیت میں ہو گئی۔
اور مخصوص کتاب(ام الکتاب میں باب مجرمین و متقین)کوشائع شدہ کر دیا گیا۔
اور معتمد عدالت  نےمخلوقات میں اشرف قرار پائے بندوں اور مخصوص گواہوں کوادب و احترام سے پہنچا دیا۔
اور لوگوں کے مابین ٹھوس شواہد پر مبنی حقائق کے مطابق مبنی بر انصاف فیصلہ کر دیا گیا۔
اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔

Root: ش ر ق ; و ض ع

وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٛ مَّا عَمِلَتْ
وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ ٧٠

  • And every individual shall be requited what he had volitionally done.
    And He the Exalted is fully aware of that which they people initially perform. [39:70]

    اور ہر ایک شخص کواس کا مکمل انعام دے دیا گیا جو اس نے حیات دنیا میں عمل کیا تھا۔
    اور وہ جناب مطلق جانتے ہیں ہر اس فعل/پہلی مرتبہ کئے کام کو جو وہ کرتے ہیں۔

Root: و ف ى

وَ سِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَـىٰ جَهَنَّـمَ زُمَرًاۖ
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَٟبُـهَا
وَ قَالَ لَـهُـمْ خَزَنَتُـهَآ
 أَلَمْ يَأْتِكُـمْ رُسُلٌۭ مِّنكُـمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتِ رَبِّكُـمْ وَ يُنذِرُونَكُـمْ لِقَآءَ يَوْمِكُـمْ هَٟذَاۚ
قَالُوا۟ بَلَـىٰ
وَ لَٟـكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ عَلَـى ٱلْـكَـٰفِرِينَ
 ٧١

  • And those who had refused to accept the word of the Messenger were driven/pushed towards Hell, in groups—
    Till when they arrived to her, thereat her [outer] gates were opened—
    And her Guards questioned them [in the entrance hall of Prison]:
    "Did not come to you people Messengers, they who were the chosen and dignified allegiant Human Beings living among you —
    Who kept narrating/reciting for you people the Aa'ya'at [of Book] of your Sustainer Lord word by word —
    And they were warning-admonishing you people about confronting this Day of  yours?"
    They replied, "No, the fact is that they did come to us and did both the things."
    [of no benefit is the admission] Since the Word of Punishment had already been established against the Unbelievers. [39:71]

اور ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا تھا اور کفر کی حالت میں مر گئے تھے جہنم کی جانب ٹولیوں کی صورت دھکیلتے ہوئے لے جایا گیا۔
یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ گئے تو اس کے دروازوں کو کھول دیا گیا۔
اور اس(جہنم)پر تعینات دروغوں نے ان سے کہا:
"کیا تم لوگوں کے پاس  رسول نہیں آتے رہے تھے،وہ جو تم میں نبوت سے سرفراز صاحبان توحید انسان تھے۔
وہ تم لوگوں کو تمہارے رب کی آیات لفظ بہ لفظ سناتے تھے
اور تم لوگوں کو اپنے دن کا سامنا کرنے کے متعلق پیشگی خبردار کرتے  رہے،یہ آج کا دن"۔
انہوں نے جواب دیا"نہیں؛ وہ آئے تھے اور دونوں  باتیں حقیقت ہے"۔
مگراب تسلیم کرنے کا فائدہ نہیں کیونکہ اس دن کا فرمان ِعذاب حقیقت بن کر کافروں کےسامنے آ چکا ہو گا۔(الزمر۔71)

Root: س و ق; ف ت ح

قِيلَ ٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٟبَ جَهَنَّـمَ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۖ
فَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَـبِّـرِينَ ٧٢

  • It was said, "you people enter the [respective] gates of Hell-Prison for permanent abode in her."
    Thereby, woeful is the abode of arrogant/suffering from misconception of greatness. [39:72]

کہا گیا، "تم لوگ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ تم ہمیشہ کے لیے اس میں رہو گے۔"
اس طرح، تکلیف دہ ہے ان کی رہائش جو تکبر کرتے ہیں اور جو اپنی بڑائی کے دھوکے میں مبتلا ہیں۔

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّـهُـمْ إِلَـى ٱلّجَنَّةِ زُمَرًاۖ
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَٟبُـهَا
وَقَالَ لَـهُـمْ خَزَنَتُـهَا سَلَٟمٌ عَلَيْكُـمْ طِبْتُـمْ فَٱدْخُلُوهَا خَٟلِدِينَ ٧٣

  • And those who endeavoured to attain salvation—they were escorted [on their turn] towards the Paradise in small groups (speakers of same language in worldly life)—
    Till when they arrived to her, its doors were already open—
    And its Guards said to them [in the reception Hall], "Welcome Peace and tranquillity is upon you people; you have done well; therefore you people enter into her (the Paradise) for ever". [39:73]

اور ان لوگوں کو ادب و احترام سے جنت کی جانب لے جایا جائے گا جو تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اپنے رب سے پناہ کے خواستگار رہے،ہم زبان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت۔
یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ گئے جس کے دروازے پہلے سے کھول دئیے گئے ہوئے تھے۔
تو اس پر مامور منتظمین ملائکہ نے ان کے لئے بآواز بلند کہا"آپ لوگوں پر سلامتی ہے۔آپ نے طیب زندگی گزاری اورطیب کو حاصل کر لیا ہے۔آپ اس کے اندر تشریف لے جائیں، ہمیشہ رہائش پذیر رہنے کے لئے"۔

Root: س و ق;  ف ت ح

وَقَـالُوا۟ ٱلْحَـمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى صَدَقَنَا وَعْدَهُۥ
وَأَوْرَثَنَا ٱلۡأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُۖ
فَنِعْمَ أَجْـرُ ٱلْعَٟمِلِيـنَ ٧٤

  • And they pronounced, "The Infinite Glory and Praise eternally is entirely and exclusively for Allah, the One Who has fulfilled for Us His promise (handing over the possession of Paradise-9:111).
    And He the Exalted has made us the demesne of the Land that we may settle ourselves in the part of Paradise wherever we wish".
    Thereby what a pleasant/exalted/aggrandized reward of performers is. [39:74]

اور وہ کہیں گے، "اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرمایا گیاہے۔،ان جناب  نے ہمارے لیے اپنا وعدہ پورا کیا ہے(جو بیع  ہمیں جنت کے بدلے خریدنے کا وعدہ تھا۔۔التوبہ۔111)
 اور وہ اللہ عز و جل نے ہمیں زمین کا مالک بنا دیا ہےتاکہ ہم جنت کے کسی بھی حصے میں جہاں چاہیں بس سکیں۔ 
اس انعام کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ کیا کمال عظمت و توقیر والا اجر ہے اپنے میثاق کے مطابق عمل کرنے والوں کا!

Root: و ر ث

وَتَرَى ٱلْمَلَٟٓئِكَـةَ حَآفِّيـنَ مِنْ حَوْلِ ٱلْعَـرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّـهِـمْۖ
وَقُضِىَ بَيْنَـهُـم بِٱلْحَقِّ
وَقِيلَ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٧٥

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] will see the Angels active in the surroundings of the atmosphere of the exalted Throne [Al-Arsh] —While repetitively mentioning the Glory with praises of their Sustainer Lord.
    And the matter is decided and finally concluded amongst all the resurrected people on the basis of the Statement of Fact-the Book/the proven and established fact and justice.
    On having everything resolved and people settled in respective abodes, it was said [by all]
     —"The Infinite Glory and Praise is truly eternally and exclusively for Allah, the Sustainer Lord of the Known/Existing Worlds-All that exists". [39:75]

اور آپ(ﷺ) ملائکہ کودیکھیں گے کہ تخت حکمرانی کے ارد گرد حلقے میں مصروف کار ہیں۔وہ  ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہمہ وقت ستائش کرتے برسرپیکار رہتے ہیں  اپنے رب کی عظمت و برتری اور شرف و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے۔
اور لوگوں کے مابین مبنی بر حقیقت فیصلہ فرما دیا گیا۔
اوراعلان ہوا
’’اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں ‘‘۔:

Root: ع ر ش; ء ل ك

 

040-سُوۡرَةُ غافر

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ .١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added.

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ 
مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيـمِ ٢

  • The piecemeal dispatch and delivery of the Book (Grand Qur’ān)—is for the reason to let your brain remain persistently in stable state of calmness and tranquillity (Cf. 25:32)—(Cf. 32:02; 39:01; 45:02; 46:02)
    It is in easy to understand composition from Allah the Exalted Who is Pervasively dominant. He the Exalted is the Source of knowledge - setter of sciences. [40:02]

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا وقفے وقفے سےاتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ منبع علم ہیں۔

غَافِـرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوْبِ شَدِيدِ ٱلْعِقَابِ ذِى ٱلطَّوْلِۖ
لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ

إِلَيْهِ ٱلْمَصِيـرُ ٣

  • He the Exalted does overlook and forgive in certain cases the liable to criminal cognizance slander -character assassination and crime—Because He the Exalted is the Acknowledger of the Sincere Repentance—But be mindful; He the Exalted is the Resolute Pursuer of matters to their logical conclusion—He the Exalted is the Possessor of the Farthest Reach.
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities-godheads that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.
    The finality of issues is the exclusive prerogative of Him the Exalted. [40:03]

وہ جناب(اللہ تعالیٰ)قابل گرفت الزام تراشیوں اور قابل گرفت و تعزیر جرائم سے صرف نظر کرنے اور معاف فرما دینے والے ہیں۔کیونکہ وہ جناب ندامت سےاپنی اصلاح کی جانب  پلٹ  جانے والوں کی توبہ کو شرف قبولیت دینے والے  ہیں۔ مگر اس سے متنبہ رہو کہ وہ جناب معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے  بھی ہیں۔متنبہ رہو، وہ جناب دراز ترین پہنچ رکھنے والے صاحب ہیں۔
ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں اور نہ حیات کو ظہور دینے والا ہے،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔
مطلع رہو؛یہ نظریہ کہ تمام امور کو منطقی انجام کے فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹایا جاتا ہے حقیقت ہے۔

Root: ذ ن ب; ط و ل; ص ى ر

مَا يُجَٟـدِلُ فِـىٓ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟
فَلَا يَغْـرُرْكَ تَقَلُّبُـهُـمْ فِـى ٱلْبِلَٟدِ ٤

  • None whatsoever engages in contentious wrangle with you, the Messenger, about amending and replacing the contents of the verbal passages of the Book of Allah the Exalted, except those adamant chieftains who have refused to recognize you as the Messenger  —(see 10:15)
    Since their disbelief in you as Messenger is for political and tribal considerations, let not their  political manoeuvres and manipulative activities in public in the towns upset or unsettle you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam-read with 28:57] [40:04]

آپ (ﷺ)کے ساتھ   کتاب میں درج اللہ تعالیٰ کے رسالات  کے مندرجات  میں ردوبدل  کے لئے بحث و تکرار  کوئی بھی  نہیں کرتا، سوائے اُن  سرداروں اور عمائدین کے جنہوں نے آپ کو رسول اللہ ماننے سے انکار کر دیا ہے (آپ کو محض اپنے جیسا ایک سردار مانتے ہیں)—
چونکہ ان کا آپ کو رسول اللہ تسلیم نہ  کرنے کا سبب  سیاسی اور قبائلی مفادات  اور غلبہ کے چھن جانے کا خوف ہے؛اس لئے  ان کی عوامی سطح پر شہروں میں کی جانے والی سیاسی چالبازیوں اور چالاک سرگرمیاں آپ (ﷺ)کو پریشان یا بے چین  کرنے کا سبب نہ بن پائیں۔

Root: غ ر ر

كَـذَّبَتْ قَبْلَـهُـمْ قَوْمُ نُوحٛ وَٱلْأَحْزَابُمِنۢ بَعْدِهِـمْۖ
وَهَمَّتْ كُـلُّ أُمَّةِۭ بِرَسُولِـهِـمْ لِيَأْخُذُوهُۖ

وَجَٟدَلُوا بِٱلْبَٟطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ فَأَخَذْتُـهُـمْۖ
فَكَـيْفَ كَانَ عِقَابِ ٥

  • In times before them (present No-believers) the nation of Noah [alai'his'slaam], and the confederations [as referred in 38:11-13] after them (nation of Noah alai'his'slaam) did publicly contradict the Divine revelations communicated by their Messenger—
    And the adamant elite of every community/civilization had decided - was bent upon about their Messenger that they may somehow seize him —
    And they kept contending with falsehood, conjecture, scum, purposely to obscure by it (false contentions) the Infallible Doctrine-Discourse (the revealed book) — thereby, since they remained adamant till the end of respite period, I seized them for awarding punishment.
    Eventually, let people take lesson by traversing in land, how was My conclusive punishment? [40:05]

آج کے دور کے ان لوگوں سے قبل نوح(علیہ السلام)کی قوم کے لوگوں اور ان کے بعد  عروج پانے والی سلطنتوں  کےہم خیال و مفاد لوگوں نے رسولوں کے پہنچائے پیغام کو برملا جھٹلایا تھا۔(الاحزاب میں شمار قومیں۔سورۃ صۤ۔13۔12)
اور ہر ایک قوم کے سرکردہ سرداروں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ ان کی جانب مبعوث فرمائے رسول کو         کسی بھی طریقے سے گرفت میں لیا جائے۔
اور یہ لوگ  ظن و گمان  اور جھوٹ پر مبنی باتوں کے ذریعے الجھتے رہے اس خیال سے کہ اس کے ذریعے بیان حقیقت کو لوگوں کی نگاہوں میں ماند کر دیں۔چونکہ عنایت کردہ مہلت کا وقت ختم ہونے تک باطل طرز عمل پر بضد رہے اس لئے میں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔
چونکہ ان کا آخر کارہونے والا انجام بھی بیان کر دیا گیا اس لئے  تم لوگ انتباہ لو کہ میری پکڑ کس قدر سخت تھی۔

Root: ح ز ب; ھ م م

وَكَذَٟلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَـى ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟
أَنَّـهُـمْ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ ٦

  • And this is how the Word of your Sustainer Lord was established upon those who had refused to recognise the Messenger —
    That indeed they are the resident inmates of the scorching Hell-Prison. [40:06]

اور یوں آپ (ﷺ)کے رب کا تنبیہ اور وعید پر مبنی پیغام حقیقت بن گیا ان لوگوں پر جنہوں نے رسول اللہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
کہ یقیناً وہ جہنم کے باسی ہوں گے۔ 

Root: ص ح ب


ٱلَّذِينَ يَحْـمِلُونَ ٱلْعَـرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّـهِـمْ 
وَيُؤْمِنُونَ بِهِۦ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَـىْءٛ رَّحْـمَةٙ وَعِلْمٙا
فَٱغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا۟ وَٱتَّبَعُوا۟ سَبِيلَكَ
وَقِهِـمْ عَذَابَ ٱلْجَحِـيـمِ ٧

  • Those [Angels] who hold the responsibility for the The Exalted Throne [Al-Arsh] and whoever is in its surroundings —They all repetitively mention the Glory with praises of their Sustainer Lord  —
    While they heartily believe in it —
    And they sincerely seek forgiveness for those who have accepted/believed (in it Qur’ān) —
    They pray; "Our Sustainer Lord, You are beyond the bounds of every thing, with regard to Mercy and Knowledge —
    Therefore, You do forgive for those who have regretted and repented and have followed the Path appointed by You—
    And You do save them of the affliction of Hell-Prison" [40:07]

  ملائکہ کے طرز عمل کو جان لو؛وہ جو عرش معلیٰ کو سنبھالنے کی ذمہ ڈاری پر مامور ہیں اور وہ جو اس کے اردگرد موجود ہیں۔وہ  ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہمہ وقت ستائش کرتے برسرپیکار رہتے ہیں  اپنے رب کی عظمت و برتری اور شرف و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے۔
وہ ان(رسول کریم اور قرءان مجید)پر ایمان رکھتے ہیں۔
اور وہ ان کے لئے جو زمین پر حقیقی معنوں میں ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے خواستگار  رہتے ہیں۔
وہ دعا کرتے ہیں"اے ہمارے رب!آپ تمام اشیاء /موجودات سے ماوراء وسعت کے مالک ہیں؛ رحمت فرمانے اور علم کے حوالے سے۔
اس لئے وسعتوں پر محیط اپنی رحمت سے ان لوگوں کی ہر بات کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرمائیں جنہوں نے ندامت محسوس کر کے آپ کی جانب لوٹ آئے ہیں اور انہوں نے آپ کے بتائے ہوئے راستے کی پیروی کی ہے۔
اور انہیں گرم زنداں کے عذاب سے پناہ دیں"۔

Root: ع ر ش;  و س ع

رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُـمْ جَنَّٟتِ عَدْنٍٛ ٱلَّتِـى وَعَدْتَّـهُـمْ
وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِـهِـمْ وَأَزْوَٟجِهِـمْ وَذُرِّيَّٟتِـهِـمْۚ
إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٨

  • Our Sustainer Lord, and You enter them in the Gardens of Delight which you have promised to them —
    And whoever had perfected from their fathers and their spouses and their progenies —
    The fact remains that You the Exalted are certainly the Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible." [40:08]

"اے ہمارے رب! اور انہیں خوشگوار باغات  میں داخل فرمائیں جن کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔
اور ان کے آباؤ اجداد میں سے ان کو بھی جنہوں نے اپنے آپ کو اصلاح پر کاربند رکھا اور ان کے شریک حیات اور ذریت کو جنت میں داخل فرمائیں۔
یقینا آپ کے بارے حقیقت یہ ہے کہ آپ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اورآپ بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

Root: ذ ر ر

وَقِهِـمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ
وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوْمَئِذٛ فَقَدْ رَحِـمْتَهُۥۚ

وَذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ٩

  • And Your Majesty do protect them of wrongs and ill deeds —
    And the one whom Your Majesty would protect of wrongs and ill deeds when the day of accountability happens, thereat certainly You bestowed Mercy upon him —
    And this [approval and appreciation of Allah] is the one which is the greatest/grand manifest achievement/success". [40:09] 

اور انہیں ان کی کوتاہیوں اور برائیوں سے پناہ دے دیں۔
یہ حقیقت ہے کہ آپ جناب نے  حیات نو دئیے جانے کے دن جس کسی کو بد ااعمالیوں سے پناہ دے دی تو یقیناً آپ نے اس پر کرم کیا۔
 اوعیہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے"۔

Root: ف و ز


إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ ٱللَّهِ أَكْبَـرُ مِن مَّقْتِكُـمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَـى ٱلْإِيمَٟنِ فَتَكْفُرُونَ ١٠

  • Visualize a scene from the Day of Resurrection: Certainly those who had refused to recognize the Messenger will be reminded of their behaviour by the Angels—"Behold! The detestation of Allah the Exalted was far greater than the revulsion you yourselves felt when you were invited to belief—but you kept denying it, deeming it contrary to your interests.. [40:10]

یوم قیامت  کے مناظر میں حقیقت دیکھو؛یقیناً ان لوگوں کا پکارا جائے گا جنہوں نے مرتے دم تک رسول اللہ اور کتاب اللہ کو ماننے سے انکار کیا تھا اور کہا جائے گا:"یقیناً اللہ عزوجل کے   نکتہ نظر سے وہ  حرکت    اس سے زیادہ ناگوار  سمجھی جانی چاہئے تھی  تمہاری اس ناگواری سے  جو  تمہارےنفوس محسوس کرتے تھے جب تمہیں  رسول اللہ ایمان لانے کی جانب بلاتے تھے۔چونکہ تم اسے اپنے مفادات  کے خلاف سمجھتے تھے اس لئے تم مسلسل انکار کرتے رہے"۔

Root: م ق ت

قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثْنَتَيْـنِ وَأَحْيَيْتَنَا ٱثْنَتَيْـنِ فَٱعْتَـرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَـىٰ خُرُوجٛ مِّن سَبِيلٛ ١١

  • They said, "Our Sustainer Lord, indeed You caused us to die — twice in two distinct manners — and You gave us life — twice in two distinct manners. Thereat, we had already confessed our sins once You restored us [when we had pleaded to return — as recorded in 23:100]. So now, is there any possible way out?" [40:11]

انہوں نے کہا، "ہمارے پروردگار!آپ نے ہمیں  دو موقعوں پر موت دی اور دو موقعوں پر زندہ کیا۔(دنیا میں پہلی زندگی کو موت؛قبر میں دوسری زندگی اور دوسری موت )۔
اس وقت دوبارہ زندگی دئیے جانے پر ہم نے اپنے گناہوں اور جرائم کا اعتراف کر لیا تھا(جب یہ گزارش بھی کی تھی
"میرے رب !مجھے واپس بھیج دیں۔تاکہ میں صالح اعمال کو انجام دوں اس (دنیا)میں جسے میں چھوڑ آیا ہوں"۔ حوالہ المؤمنون۔100)اس لئے براہ کرم بتائیں  کہ کیا اب کوئی راستہ ایسا ہے جو ہمیں یہاں سے نکال سکے"

Root: ذ ن ب

ذَٟلِـكُـم بِأَنَّهُۥٓ إِذَا دُعِىَ ٱللَّهُ وَحْدَهُۥ كَـفَرْتُـمْۖ
وَإِن يُشْـرَكْ بِهِۦ تُؤْمِنُوا۟ۚ

فَٱلْحُكْـمُ لِلَّهِ ٱلْعَلِـىِّ ٱلْـكَبِيـرِ ١٢

  • [They are told that two deaths and two lives was for reason of their non belief in singularity] "This was for the reason that you people refused to accept when Allah the Exalted was mentioned as "He is the One and Only"
    But if a partner was joined with Him the Exalted you believed that.
    Therefore, the decision/command is for Allah, the Exalted, the Greatest." [40:12]

انہیں جواب دیا گیا"یہ  تمہارے لئے دو زندگیوں اور دو موتوں کا سبب یہ ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی جانب بلایا جاتا کہ  وہ جناب مطلق معبود ہیں، تم لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔(الجاثیہ۔21 دیکھیں)
مگر جب لوگ ان جناب کے ساتھ ہمسر شریک معبودان بتاتے تھے تو تم اس پر ایمان لے آتے تھے۔
اس لئے تمہیں اتنا شعور تو ہونا چاہئے تھا کہ حکم دینا فقط اللہ تعالیٰ کا استحقاق ہے؛
جواپنے آپ میں لازوال عالی مقام ہیں،ابدی عظیم ترین ہیں"۔(اس سے کہ معبودان بنانے والے سردار خود کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے قرب  پانے کے لئے ان بتوں کو پوجتے ہیں)۔(غافر۔١٢)

هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُـمْ ءَايَٟتِهِۦ
وَيُنَزِّلُ لَـكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزْقٙاۚ
وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ ١٣

  • He the Exalted is the One Who shows to eyes of you people evident demonstrative physical signs of His Majesty—
    And He the Exalted intermittently sends for you people from the Sky the provision of life —
    Bur fact remains, people do not self notice/remember/get cautioned except the one who heeds. [40:13]

وہ جناب ہیں جو اپنےتخلیق کردہ عناصر فطرت   کا تم لوگوں  کوعینی مشاہدہ کراتے رہتے ہیں  جو فلسفہ توحید کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اور وہ جناب ہیں جو  آسمان سے وقفے وقفے سے رزق  اتارتے رہتے ہیں جو تمہارے لئے سامان زیست ہے۔(جاثیہ۔5 ساتھ پڑھیں)
مگر سوائے اس شخص کے جو مظاہر فطرت کےمشاہدہ  سےاللہ تعالیٰ کی جانب پلٹتا رہتا ہے لوگ ازخود یاد نہیں رکھتے نہ نصیحت لیتے ہیں۔

Root: ن و ب

فَٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ
وَلَوْ كَرِهَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ ١٤

  • Therefore you people [the heedful] call upon Allah the Exalted remaining acting as exclusively sincere devotee/ allegiant for Him in the physical conduct/code/procedure of life—
    Without caring how much it made feel aversive to those who have persistently and deliberately refused to accept/believe. [40:14]

چونکہ ان  حقائق سے کوئی صاحب عقل  بے بہرا نہیں اس لئے   تم لوگ  ان  جناب  کو پکارو  اُن کے  متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے ۔
اس حالت میں بھی چاہے  کتنا ہی رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لئے   وہ باعث ناپسندیدگی اور ناگواری ہو۔

Root: خ ل ص; ك ر ه

رَفِيعُ ٱلدَّرَجَٟتِ
ذُو ٱلْعَـرْشِ
يُلْقِى ٱلرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَـىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ
لِيُنذِرَ يَوْمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥

  • He the Exalted decides to elevate to lofty ranks His Subjects in His Divine hierarchy (cf. 2:253; 6:83; 12:76; 43:32; 58:11).
    He the Exalted is the Possessor of Absolute Sovereignty.
    He is sending down the life-giving Word (serial part of the Noble Qur’an), the most exalted part of His divine decree, for exposure upon the one who is His chosen servant for its publication—(Also refer to 42:52)
    The purpose of this is so that he (the Noble Messenger) may warn all of the Day when everyone will stand before one another. [40:15]
     

وہ جناب مراتب میں  اپنے بندوں کوارفع مقام دینے کا فیصلہ کرتے ہیں(حوالہ البقرۃ۔253؛ الانعام۔83،165؛یوسفؐ۔76؛الزخرف۔32؛المجادلہ۔11)۔
وہ جناب بلند ترین مسند اقتدار کے حامل ہیں۔
وہ جناب    جاں  افروزکلام (قرءان مجید)جو ان  جناب کے  قلمبند فرمان کا ممتاز ترین حصہ ہےاپنے بندوں  میں سےاس پر بالمشافہ پیش کرنے کے لئے بھیج رہے ہیں جس کوانہوں نے اس کی  تشہیر و تبلیغ کے لئے پسند فرمایا ہے(ساتھ الشوریٰ۔52پڑھیں)۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ(رسول کریمﷺ)تمام کو اس دن کے متعلق متنبہ کر دیں جب سب ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے۔(غافر۔
١٥)

Root: د ر ج;  ر ف ع;  ع ر ش

يَوْمَ هُـم بَٟرِزُونَۖ لَا يَخْفَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ مِنْـهُـمْ شَـىْءٚۚ
لِّمَنِ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَۖ       لِلَّهِ ٱلْوَٟحِدِ ٱلْقَهَّارِ ١٦

  • The Day they will appear in the open —Nothing of any sort hides about them from Allah the Exalted —
    It will be asked; For whom is the Dominion and Dispensation of Justice this Day? It will be replied: This day it is exclusively for Allah the Exalted,  the Only Absolutely Dominant over all irresistibly. [40:16]

یہ دن وہ ہے جب وہ سامنے نکل آئیں گے۔اُن کی کوئی بات حسب معمول ا للہ تعالیٰ سے چھپی نہ ہو گی۔
 (پوچھا جائے گا) ”آج بادشاہت،مقتدر و منصف ہونا کس کیلئے ہے“۔(جواب دیں گے)”اللہ تعالیٰ کیلئے مختص ہے،قوت و غلبہ کے واحد مالک کیلئے“۔

Root: م ل ك; ق ھ ر

ٱلْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسِۭ بِمَا كَـسَبَتْۚ
لَا ظُلْمَ ٱلْيَوْمَۚ

إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ١٧

  • This Day each and every person shall be paid back that which he had earned/acts performed —
    This Day is such that there is absolutely no injustice for anyone.
    Be mindful: Allah the Exalted is certainly swift in accounting-measuring-judging-evaluating-reckoning. [40:17]

آج کے دن  ہر شخص کو اس کا صلہ  دےدیا جائے اس کی مناسبت سے جو اس نے  سعی اور اعمال سے کمایا تھا۔
آج کے دن کسی کے حق کو قطعاً رتی بھر پامال نہیں کیا جائے گا۔
متنبہ رہو، اللہ تعالیٰ حساب کتاب  انتہائی سرعت سے کرتے ہیں  ۔

Root: س ر ع

وَأَنذِرْهُـمْ يَوْمَ ٱلۡءَاَزِفَةِ إِذِ ٱلْقُلُوبُ لَدَى ٱلْحَنَاجِرِ كَـٟظِمِيـنَۚ
مَا لِلظَّٟلِمِيـنَ مِنْ حَـمِيـمٛ  وَلَا شَفِيعٛ يُطَاعُ ١٨

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] warn/admonish them about the Day which is ever approaching nearer and nearer [to terminus moment of deadline] —When the hearts will bulge unto throats, extremely terrified and perturbed ones.
    There will neither be a friend for the distorters - creators of imbalances - evil doers
    —Nor an intercessor who will be listening and accepting their calls. [40:18]

اور آپ(ﷺ) انہیں ہر لمحہ  قریب ہوے والی متعین ساعت والے دن کے متعلق متنبہ فرمائیں۔اس لمحے اچانک  دل   حلق میں اٹک جائیں گے ، انتہائی خوفزدہ اور بے چین ہوں گے۔
حقیقت کے منافی باطل نظریات کا پرچار اور راہ عمل اختیار کرنے والوں  کواس دن گرمجوش دوستوں سے  قطعاًکوئی نہیں ملے گا۔ اور نہ شفاعت کا حق رکھنے والوں میں کوئی ہو گا،جو ان کی فریاد کو سنے اور مانے۔

Root: ك ظ م; ش ف ع  

يَعْلَمُ خَآئِنَةَ ٱلْأَعْيُـنِ  وَمَا تُخْفِـى ٱلصُّدُورُ ١٩

  • He the Exalted even fully knows the contraction (betraying) of the eyes —And that which the chests conceal/holdback from mentioning. [40:19]

وہ، اللہ عزوجل، آنکھوں کی جکڑ (خیانت/دھوکہ دینے والی)حرکت کو بخوبی جانتے ہیں —اور جو کچھ سینے چھپاتے ہیں اور ذکر کرنے سے رک جاتے ہیں، وہ بھی جانتےہیں۔

Root: خ و ن; خ ف ى

وَٱللَّهُ يَقْضِى بِٱلْحَقِّۖ
وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَقْضُونَ بِشَىْءٍۗٛۗ

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيـرُ ٢٠

  • And Allah the Exalted decides/concludes the matters on the basis of truth and established/proven fact.
    And those whom they call, other than Allah the Exalted, they decide and conclude nothing of the sort.
    Indeed Allah the Exalted is the One Who is eternally the Hearer [of what is said, at whatever frequency] and is of Vision [everything/act is in His focus]. [40:20]

اور اللہ عزوجل حق اور ثابت شدہ حقیقت کی بنیاد پر معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں۔
 اور جنہیں وہ اللہ عزوجل کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی فیصلہ یا نتیجہ نہیں نکالتے۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  ہی ہیں جوہر لمحہ ہر آواز/صوت کو بغور سننے والے ہیں،ہر لمحہ ہر شئے کو احاطہ بصارت میں رکھنے والے ہیں۔


أَوَلَمْ يَسِيـرُوا۟ فِـى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ مِن قَبْلِهِـمْۚ
كَانُوا۟ هُـمْ أَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةًۭ وَ ءَاثَارًۭا فِـى ٱلْأَرْضِ
فَأَخَذَهُـمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِـهِـمْ
وَ مَا كَانَ لَـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍۢ
ٛ ٢١

  • Is it that they have not traversed in the world/land [Read also with 12:109;22:46;40:82;47:10] —Whereby they may see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who were before them [and take heed/lesson].
    They were mightier than them with regard to strength —And in the matter of leaving impressions/monuments in the Earth —
    Thereat, Allah the Exalted seized them for reason of their persistent crimes and slanders against the Messengers.
    And there was not a protector permitted by Allah the Exalted for them to save them. [40:21]

کیا ان انکار کرنے والوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔جس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ) دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں بسنے والوں کا انجام کیا تھا۔
وہ لوگ اِن سے زیادہ مضبوط،سخت گیر تھے قوت وطاقت کے حوالے سے۔اور زمین میں یادگاریں تعمیر کرنے کے حوالے سے۔
اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم  اور رسولوں کے متعلق ہرزہ سرائی کی پاداش میں انہیں گرفت میں لے لیا۔
اور قطعاً کسی حفاظت کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی مدد کو آنے کا استحقاق نہیں  دیا گیا تھا۔

Root: س ى ر; ء ث ر;ذ ن ب

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ كَانَت تَّأْتِيـهِـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ
فَكَفَـرُوا۟ فَأَخَذَهُـمُ ٱللَّهُۚ
إِنَّهُۥ قَوِىّٚ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢٢

  • This happened certainly because of the reason that their Messengers used to come to them with the distinct unprecedented demonstrative signs/Aa'ya'at verbal passages of the Divine Book —
    Whereupon they persistently refused to accept/believe, thereby, in consequence Allah the Exalted seized them.
    Indeed He the Exalted is the Most Powerful, severe in awarding punishment — is watchful/examines matters minutely till conclusion [40:22]

ان کا یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ ان کے پاس ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے رسول ان کے پاس عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لاتے رہے     جوان کےتصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان  ہیں۔
انہوں نے برسرعام ہم جناب کی
عینی مشاہدہ  کے لئے انہیں دکھائی گئی  ایسی شہادتوں(آیات/معجزات )کے مشاہدہ کے باوجود ایمان لانے سے انکار کر دیا۔اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم کی پاداش میں انہیں گرفت میں لے لیا۔
متنبہ رہو؛وہ جناب مطلق قوت کے مالک ہیں؛ معاملات کا سختی سے تکمیل تک پیچھا کرنے والے ہیں/مجرمین کو مبنی بر انصاف سزا دینے والے ہیں۔


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـَٔايَـٟتِنَا وَسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٍٛ ٢٣
إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَهَٟمَٟنَ وَقَٟرُونَ فَقَالُوا۟ سَٟحِـرٚ كَـذَّابٚ ٢٤

  • Know it; Our Majesty had sent Mūsā [alai'his'slaam] with Our unprecedented signs and distinct authority, argument and logic — [40:23]

  • Towards Fir'aoun (Pharaoh) and Haa'maan and Qa'roon—Thereupon [on presentation of unprecedented signs] they said, "He is an illusionist hoaxer liar". [40:24]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ  کے لئے  اپنی ایسی شہادتوں(آیات/معجزات )کے ساتھ        فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب بھیجا،جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  تھیں اور    واضح سند  و اختیار کے ساتھ۔
فرعون اور ھامان اور قارون کی جانب۔طلب کرنے پر عینی مشاہدہ دیکھ لینے پر انہوں نے کہا"یہ تو شعبدہ باز فریب پرست دھوکے باز جھوٹا ہے"۔

Root: س ل ط; س ح ر

فَلَمَّا جَآءَهُـم بِٱلْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
قَالُوا۟ ٱقْتُلُوٓا۟ أَبْنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ وَٱسْتَحْيُوا۟ نِسَآءَهُـمْۚ
وَمَا كَـيْدُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٛ ٢٥

  • For reason/in consequence [of their arrogant pride] when he brought to them the eminent reality [unprecedented visible signs-displays] from Our Majesty —
    They (the inner confidants) said, "You people murder the sons of those who have believed along with him (Mūsā alai'his'slaam) and let their wives alive." —
    -- But the deceptive plans of the disavowers are nowhere except in abandonment/lurch --. [40:25]

ان کے مطالبہ پر جوں ہی  اس منفرد حقیقت کا اظہار ہو گیا جسےہم جناب   نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھانے کے لئے عنایت کیا تھا:
انہوں  (فرعون کے قریبی مشیروں )نے کہا:"تم لوگ اُن (حضرت موسیٰ علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کرتے رہو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو"۔
-- لیکن منکرین کی دھوکہ دہی پر مبنی سازشیں
 اور حربےکہیں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ وہ ناکامی میں پڑی رہیں۔۔

Root: ق ت ل; ك ى د
 

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِـىٓ أَقْتُلْ مُوسَـىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُۥٓۖ
إِنِّـىٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِـى ٱلۡأَرْضِ ٱلْفَسَادَ ٢٦

  • And Fir'aoun/Pharaoh said to his chiefs, "You people give me the leave so that I should kill Mūsā and let him call his Sustainer Lord —
    Since I am certainly afraid that he may cause change/replacement of system/procedure of life of you people or he may cause disturbance/in equilibrium/disrupt status quo in the country". [40:26]

اور فرعون نے اپنے سرداروں سے کہا:"مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں، اور وہ اپنے پروردگار کو پکارے۔
کیونکہ مجھے یقیناً ڈر ہے کہ وہ تمہاری طرزِ زندگی/نظام کو تبدیل نہ کر دے یا وہ ملک میں فساد/عدم توازن/حالات کو بگاڑ نہ دے"۔

Root: و ذ ر; ق ت ل

وَقَالَ مُوسَـىٰٓ إِنِّـى عُذْتُ بِرَبِّـى وَرَبِّكُـم مِّن كُلِّ مُتَكَـبِّـرٛ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ ٢٧

  • And Mūsā [alai'his'slaam] said, "I have already taken refuge with my Sustainer Lord and Sustainer Lord of you people against any sort of harm from every arrogant obsessed with feel of grandeur —He who in fact believes not in the Day of Reckoning/ Accountability." [40:27]
     

اور موسیٰ(علیہ السلام)نے اس کے جواب میں فرمایا"میں اپنے رب اور تم لوگوں کے رب کی پناہ لے چکا ہوں  ہر ایک  خود ساختہ بڑائی کے زعم میں مبتلا  کے مکروفریب اور گزند سے ۔وہ جو یوم احتساب کو مانتا نہیں۔

Root: ع و ذ


وَقَالَ رَجُلٚ مُّؤْمِنٚ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُـمُ إِيمَٟنَهُۥٓ
أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّـىَ ٱللَّهُ
وَقَدْ جَآءَكُم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ مِن رَّبِّكُـمْۖ
وَإِن يَكُ كَٟذِبٙا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۥۖ

وَإِن يَكُ صَادِقٙا يُصِبْكُـم بَعْضُ ٱلَّذِى يَعِدُكُمْۖ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى مَنْ هُوَ مُسْـرِفٚ كَذَّابٚ ٢٨

  • And a believing man belonging to the Family of Fir'aoun/Pharaoh who was hitherto keeping undisclosed the fact of his belief said:
    "Would you people murder a man because he says, "My Sustainer Lord is Allah the Exalted —
    And indeed he has already brought to you people the unprecedented evident signs (miracles) from the Sustainer Lord of you people —
    And if [Allah forbids] he is telling lie then upon him is his lie—
    And if he is the truthful then some of that will come to you which he has promised to you people.
    It is, however, certain that Allah the Exalted does not guide him who is a deceptively lying committer of excesses/extremities [40:28]

اور فرعون کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک مومن مرد نے جو اپنے لانے کو اس سے قبل چھپائے ہوئے تھے تمام دربار کو مخاطب کر کے کہا:
"کیا تم لوگ ایک مرد کو صرف اس بنا پر قتل کرنے کے درپے ہو کہ وہ کہتا ہے"میرے رب پروردگار اللہ تعالی ہیں"۔
جبکہ وہ تمہارے پاس یقینا  عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتیں(آیات ) لے کر آئے ہیں   جوتمہارے تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی ہیں کہ تمہارے رب کی جانب سے  سند اور برھان ہیں۔
اور اگر بفرض محال وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو جھوٹ کا وبال ان ہی پر ہے۔
اور اگر وہ صادق ہیں تو تم لوگوں کو اس میں سے بعض کو جھیلنا پڑے گا جس کا وہ تم سے وعدہ کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتے جو جو حدود و قیود کو پامال کرتا انتہا پسند اور انتہائی جھوٹا ہے"۔

Root: ك ت م;  س ر ف

يَٟقَوْمِ لَـكُـمُ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ظَٟهِرِينَ فِـى ٱلۡأَرْضِ
فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأْسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَاۚ
قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ أُرِيكُـمْ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهْدِيكُـمْ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ ٢٩

  • O my people, the country is presently dominion for you people, you being dominant in the land —
    But who will help us against the infliction of Allah the Exalted if it came to us?"
    Fir'aoun (Pharaoh) said [trying to explain his position and to diffuse the effect on others], "I do not show to you people except that which I have seen; nor do I guide you but the path of propriety and success." [40:29]

اے میری قوم!آج  سلطنت کے نظم و نسق کا اختیار آپ سرداروں کے پاس ہے۔آپ  اس خطہ سرزمین پر غالب  ہیں —
مگر اس امکان پر غور کریں کہ  اگر ہم پر اللہ  تعالیٰ کی جانب سے عذاب آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ "
سرداروں کو ہمہ تن گوش دیکھ کر فرعون نے مخل ہوتے ہو ئے کہا"میں آپ لوگوں  کو مستقبل میں صرف وہ دکھا رہا ہوں جو میں دیکھ رہا ہوں۔اور میں
 اور میں تمہیں صرف بھلائی اور کامیابی کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہوں۔"

Root: م ل ك

وَقَالَ ٱلَّذِىٓ ءَامَنَ يَٟقَوْمِ إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـم مِّثْلَ يَوْمِ ٱلْأَحْزَابِ٣٠

  • And the man who had believed said —"O my people, truly I am apprehensive for you people like of something of the Day of Confederates — [40:30]

مگر اس کی دخل اندازی کو اہمیت نہ دیتے اس  شخص جس نے ایمان قبول کر لیا تھا، اس کو جواب دینے کی بجائے سرداروں سے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا:"اے میری قوم! واقعی مجھے  آپ کے  بارے میں اندیشہ ہے کہ  آپ  پر بھی  وہی  دن نہ آ جائے جو پہلے والی سلطنتوں کے مثل ہو۔

Root: ح ز ب

مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٛ وَعَادٛ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِـمْۚ
وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمٙا لِّلْعِبَادِ ٣١

  • Like the prototype end of nation of Noah [alai'his'slaam], and civilization Aad and Samued and those nations who had emerged after them —
    And Allah the Exalted does not intend any injustice and inequity for the people. [40:31]

جیسا کہ قومِ نوح (علیہ السلام)، اور عاد و ثمود کی قوموں اور ان کے بعد آنے والی قوموں کا انجام ہوا۔
یہ ان کے اپنے طرز عمل کی وجہ سے حشر ہوا تھا کیونکہ  اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی قسم کی ناانصافی و زیادتی  کا ارادہ نہیں رکھتے۔

وَيَٟقَوْمِ إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ يَوْمَ ٱلتَّنَادِ ٣٢

  • And O my people, truly I am apprehensive for you people the Day of mutual seeking/crying for help — [40:32]

اور اے میری قوم! مجھے تمہارے بارے میں اس دن کا خوف ہے جب تم ایک دوسرے سے مدد مانگو گے —

يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَـكُـم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِـمٛۗ
وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ
مِنْ هَادٍۢ٣٣

  • That is the Day when you people will turn away unresponsive to calls of help on your backs, there will be none from Allah the Exalted from amongst the helpers for you people.
    Know it: Should Allah the Exalted let someone
    absorbed in indifference-engrossed in his self, thereat; there is not at all a guide for him. [40:33]

یہ وہ دن ہو گا جب تم اپنی پشت پھیر کر بھاگو گے، اور اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
اوراگر ا للہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت انحراف اورکج روی میں سرگرداں رہنے دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں،تو اس صورت میں اُسے راہ دکھانے کیلئے کوئی بھی رہبرنہیں ہوتا۔

Root: ع ص م

وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِٱلْبَيِّنَـٟتِ
فَمَا زِلْتُـمْ فِـى شَكّٛ مِّمَّا جَآءَكُـم بِهِۦۖ
حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلْتُـمْ لَن يَبْعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِهِۦ رَسُولٙاۚ

كَذَٟلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْـرِفٚ مُّـرْتَابٌ ٣٤

  • And it is a certain fact that in foretimes Yusuf [alai'his'slaam] had come to you people with the unprecedented evidently supernatural displays - signs (miracles) —
    Whereupon you people ceased not to remain in skepticism about that which he had come with (the Book) —
    Until when he died natural death you people had said, "Allah will never send after him any more as Messenger."
    This is how Allah exposes/lets remain in neglectfulness/straying the one who  is committer of excesses/extremities to others, suffering disquiet of double mindedness
    —[40:34]

اور یہ حقیقت ہے کہ بیتے دنوں میں یوسف(علیہ السلام)بحثیت رسول اللہ تمہارے پاس   عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے      جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔
مگر تم لوگ اس کے متعلق شک میں مبتلا رہنے سے باز نہ آئے جو(کتاب)وہ تمہارے پاس لائے تھے۔
یہاں تک کہ جب وہ طبعی موت سے ہمکنار ہو گئے تو تم لوگوں نے کہا تھا"اللہ تعالیٰ ان کی طبعی موت کے بعد اب ہماری جانب رسول مبعوث نہیں کریں گے"۔
اس طرح اللہ تعالیٰ اس شخص کو حقیقت سےمنحرف  گم کردہ راہ رہنے دیتے ہیں جو حدود و قیود کو پامال کرتا ہے،تذبذب اور ذہنی و قلبی دوغلے پن کے ہیجان کا شکار ہے۔

Root: ز ى ل;  ش ك ك; س ر ف
 

ٱلَّذِينَ يُجَٟـدِلُونَ فِـىٓ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ بِغَيْـرِ سُلْطَٟنٛ أَتَىٰـهُـمْۖ
كَبُـرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ
وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ۚ
كَذَٟلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَـىٰ كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَـبِّـرٛ جَبَّارٛ ٣٥

  • Let it be clear about those who keep wrangling by twisting facts without the support of concrete argument and authority given to them on the subject regarding the unprecedented evidently supernatural displays (miracles) shown to them by Allah the Exalted —
    This wrangling is the most inappropriate conduct in the Judgment of Allah the Exalted—And is so in the judgment of those who have believed.
    This is how eventually Allah the Exalted lets the veil persist upon the heart of each and every one who is self obsessed with pride of grandeur-aggrandisement tyrannically forcing others to accept it." [40:35]

وہ لوگ   جان لیں جو اللہ تعالیٰ  کے اذن سے ظہور پذیر ہونے والی ایسی عینی شہادتوں(آیات/معجزات)  کے بارے میں، جوتصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے ازخود  سند اور برھان  ہیں،  ہرزہ رسائی کرتے  ہوئے الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں   بغیر کسی ٹھوس دلیل اور ثبوت کے  جو انہیں دیا گیا ہو،۔ ۔
اللہ تعالیٰ کے حضور ان کا یہ طرز عمل انتہائی ناروا،نازیبا،قابل مذمت ہے۔اور ایسا ہی ان لوگوں کے نکتہ نگاہ میں بھی جو ایمان لے آئے ہیں"۔
یہ ہے طرز عمل کا وہ انداز جس پر اللہ تعالیٰ ہر ایک ایسے شخص  کے قلب پر،اس کے اپنے بقول پڑے غلاف کوسربمہر کر دیتے ہیں جوخود پرستانہ عظمت/تکبر میں مبتلا ہے،جبر و استبداد سے اس کو منوانے پر بضد بھی ہے"۔

Root: س ل ط;م ق ت; ط ب ع

وَقَالَ فَرْعَوْنُ يَٟهَٟمَٟنُ ٱبْنِ لِـى صَرْحٙا لَّعَـلِّـىٓ أَبْلُغُ ٱلْأَسْبَٟبَ٣٦

  • And Fir'aoun (Pharaoh) said, "O Haa'maan, build for me a lofty tower/obelisk so that I have the reach to means— [40:36]

فرعون نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا"اے ھامان!ایک مینار خاص میرے لئے تعمیر کر۔تا کہ میں ان ذرائع تک پہنچ جاؤں۔

Root: ص ر ح

أَسْبَٟبَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ فَأَطَّلِعَ إِلَـىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَـىٰ
وَإِنِّـى لَأَظُنُّهُۥ كَٟذِبٙاۚ
وَكَـذَٟلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِ

وَمَا كَـيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِـى تَبَابٛ ٣٧

  • The means of the Skies whereupon I would diligently obtain information about the iela'aha: the God of Mūsā —Though, of course, I certainly consider him to be a liar."
    And this is how the bad effect of his conduct had become alluring for Fir'aoun (Pharaoh) and had averted him from the aright Path
    —
    And the deceptive tactic of Fir'aoun (Pharaoh) was not to lead him except in diminution. [40:37]

آسمانوں میں موجود ذرئع۔تاکہ ان کے ذریعے میں موسیٰ کے معبود کے متعلق معلومات حاصل کر سکوں۔
اور یہ تو میں ازراہ تفنن کہہ رہا ہوں وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے متعلق میرا یقینی گمان ہے کہ جھوٹا ہے"۔
اور یوں فرعون کے لیے اس کے  برے  نظریات پر مبنی عمل خوشنما اور دلفریب بنا دیا گیا، اور اسے راہِ راست سے دور کر دیا گیا—
اور فرعون ک
ے دھوکہ دہی کے منصوبہ نے اسے کچھ نہ دیا سوائے نقصان  اور کمزوری کے۔

Root: س ب ب;  ط ل ع; ك ى د

وَقَالَ ٱلَّذِىٓ ءَامَنَ يَٟقَوْمِ ٱتَّبِعُونِ أَهْدِكُـمْ سَبِيـلَ ٱلرَّشَـادِ .٣٨

  • And the man who had believed said —"O my nation! you people follow me, I will guide you to the Path of Propriety and Success. [40:38]

مگر اس کی  غیر سنجیدہ دخل اندازی کو اہمیت نہ دیتے اس  شخص جس نے ایمان قبول کر لیا تھا، اس کو جواب دینے کی بجائے سرداروں سے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا:"اے میری قوم! میری پیروی کرو، میں  آپ کو بھلائی اور کامیابی کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔

Root: ر ش د

يَٟقَوْمِ إِنَّمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا مَتَـٟـعٚ
وَإِنَّ ٱلۡءَاخِـرَةَ هِىَ دَارُ ٱلْقَـرَارِ ٣٩

  • O my nation! the worldly life is only a temporary sojourn of enjoyment—
    And indeed the Hereafter is truly the place of permanent pleasant abode — [40:39]

اے میری قوم! دنیاوی زندگی محض ایک عارضی لطف کا ٹھکانہ ہے —
اور یقیناً آخرت ہی دائمی خوشگوار قیام کی جگہ ہے۔

Root: ق ر ر

مَنْ عَمِـلَ سَـيِّئَةٙ فَلَا يُجْـزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَـهَاۖ
وَمَنْ عَمِـلَ صَٟلِحٙا مِّن ذَكَرٍٛ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٚ

فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ
يُرْزَقُونَ فِيـهَا بِغَيْـرِ حِسَابٛ ٤٠

  • And he who conducted bad-sinful act, thereby, for reason of retributive justice he will not be awarded punishment except proportionate-similar to it.
    And the one who acted/performed acts/conducted righteously/moderately [as directed in the Book] from amongst the male or female, provided he or she is a true believer—
    Then for this reason, being believer and doer of good deeds, they are the people who will enter the Paradise.
    They will be provided therein provisions without measure. [40:40]

اور  جس کسی نے                           مستوجب سزا برا عمل کیا            تو چونکہ انصاف کے تقاضوں کو بدرجہ اتم ملحوظ رکھا جائے گا اس لئے سوائے اس جرم کے مساوی سزا نہیں دی جائے گی۔
جان لیں؛ جو کوئی اصلاحی اعمال پر کاربند رہتا ہے،چاہے  وہ اپنی نوع میں مذکر ہے چاہے مونث،بشرطیکہ حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول  پر ایمان رکھنے والا ہے:
حسب وعدہ یہ ہیں وہ  لوگ  جوجنت میں داخل ہوں گے۔
اس میں انہیں سامان زیست  بغیر حساب کتاب اور علت و معلول  عنایت کیا جائے گا۔

وَيَٟقَوْمِ مَا لِـىٓ أَدْعُوكُـمْ إِلَـى ٱلنَّجَوٰةِ وَتَدْعُونَنِىٓ إِلَـى ٱلنَّارِ ٤١

  • And O my people, what is for me that I invite you people to salvation while you people call me towards Fire/Hell-Prison. [40:41]

اور اے میری قوم!یہ کیا بات  ہوئی  کہ میں آپ کو نجات کی طرف بلاتا ہوں جبکہ آپ  مجھے آگ/جہنم کی قید کی طرف بلا رہے ہو۔

تَدْعُونَنِى لِأَكْـفُرَ بِٱللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِۦ مَا لَيْسَ لِـى بِهِۦ عِلْمٚ
وَأَنَا۟ أَدْعُوكُمْ إِلَـى ٱلْعَزِيزِ ٱلْغَفَّٟرِ ٤٢

  • You people call me that I may refuse the Oneness of Allah the Exalted and that I may associate with Him that for which with me there is nothing of knowledge. And I am inviting you people towards the All Pervasive Dominant, the Oft-Forgiving. [40:42]

آپ  لوگ مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کروں اور ان کے ساتھ شریک ٹھہراؤں جس کے بارے میں میرے پاس کوئی علم نہیں ہے۔
 جبکہ  میں
آپ کو بلا رہا ہوں ان کی جانب
جو دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔وہ جناب   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔

لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِـى ٱلدُّنْيَا وَلَا فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ
وَأَنَّ مَـرَدَّنَآ إِلَـى ٱللَّهِ
وَأَنَّ ٱلْمُسْـرِفِيـنَ هُـمْ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ ٤٣

  • There is absolutely no doubt, that the one towards whom you people call me — there is no worth for him to be called upon neither in this worldly life nor in the Hereafter —
    And that the transgressors are the ones who are the resident inmates of the scorching Hell-Prison. [40:43]

اس میں کوئی شک نہیں کہ جس کی طرف تم لوگ مجھے بلاتے ہو — نہ اس دنیاوی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت ہے،اور نہ آخرت میں —
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے —
اور یقیناً وہی سرکش لوگ ہیں جو دہکتی ہوئی جہنم کے مستقل رہائشی ہیں۔

Root: ص ح ب;  س ر ف

فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَـكُـمْۚ
وَأُفَوِّضُ أَمْرِىٓ إِلَـى ٱللَّهِۚ

إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيـرُۢبِٱلْعِبَادِ ٤٤

  • Thereby, soon you people will recall that which I am saying for you people—
    And I entrust my affair to Allah the Exalted—
    Indeed Allah the Exalted is ever focuses attention to His servants/subjects.".  [40:44]

اگر آپ لوگ آج میری بات نہیں سن رہے تووقت قریب ہے جب آپ لوگ یاد کرو گے وہ باتیں جو میں  آپ کے لئے اب  کہہ رہا ہوں —
اور میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں —
 
اور متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحے  خصوصی صفات کے حامل بندوں کا اپنا ہونے کے ناطے مشاہدہ /توجہ فرماتے ہیں"۔

فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُوا۟ۖ
وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ ٤٥

  • Therefore/consequently Allah the Exalted saved him from the evil which they people had conspired.
    And the worst of the punishment has hemmed the people of Fir'aoun (Pharaoh). [40:45]

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس شر سے بچا لیا جو وہ لوگ اس کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
اور فرعون  کے حامیوں اور پیراکاروں  کو بدترین عذاب نے آ گھیرا۔

Root: م ك ر; ح ى ق

ٱلنَّارُ يُعْـرَضُونَ عَلَيْـهَا غُدُوّٙا وَعَشِيّٙاۚ
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ ٤٦

  • (the punishment that has hemmed the people of Fir'aoun/Pharaoh is) The Fire—Hell Prison, they are presented/brought upon her in the morning and evening, [this after death punishing treatment is being meted only to Fir'aoun and his people before the Last Day] —
    And the Day when the Determined Moment would have come, it will be commanded [to Angels], "You force the entry of the people of Fir'aoun/Pharaoh into severer punishment-Hell-Prison." [40:46]

(فرعون اور حامیوں کو گھیرنے والی سزا ہے) آگ — جہنم کی قید، اس کو ان پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ [یہ موت کے بعد کی سزا ہے جو قیامت کے دن سے پہلے صرف فرعون اور اس  کے حواریوں  کو دی جا رہی ہے] —
 اور جس دن مقررہ گھڑی آ جائے گی، تو حکم ہوگا [فرشتوں سے]:
"فرعون  اور اس کے پیروکاروں  کو سخت تر عذاب — جہنم کی قید — میں داخل کر دو"۔

Root: ع ش ى; غ د و;  س و ع


وَإِذْ يَتَحَآجُّونَ فِـى ٱلنَّـارِ
فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَـٟٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَـكُـمْ تَبَعٙا
فَهَلْ أَنتُـم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبٙا مِّنَ ٱلنَّارِ ٤٧

  • Take advance time travel to see scenes in Hell-prison; when they will be mutually engaged in heated dispute—
    Upon confronting; the people of weaker segment of society/downtrodden will say to those who had made themselves obsessed with pride of grandeur, "It is a fact that we people used to be the obedient followers for you people —
    Since this upshot is because of you, therefore, tell us can you people act to avail averting from us some share of the Fire/Heat? [40:47]

آگے وقت کو سمٹا سمجھ کر دوزخ کی قید کے مناظر کو دیکھو؛ جب وہ آپس میں شدید جھگڑوں میں مصروف ہوں گے —
سامنا ہونے پر، کمزور طبقے کے لوگ/پست طبقے کے افراد ان لوگوں سے کہیں گے جو خود کو غرور و تکبر کے نشے میں مبتلا کیے ہوئے تھے، "یہ حقیقت ہے کہ ہم 
تم لوگوں کے پیروکار تھے —
چونکہ تم لوگوں کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں لہٰذا، کیاتم لوگ کچھ حصہ آگ/حرارت سے ہم سے دور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟"

Root: ح ج ج

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْـبَـرُوٓا۟ إِنَّا كُلّٚ فِيـهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ حَكَـمَ بَيْـنَ ٱلْعِبَادِ ٤٨

  • Those who had demonstrated arrogance having made themselves obsessed with pride of grandeur said, "Indeed we all are in it—Allah has indeed since decided amongst the people". [40:48] [Read with 34:31]

 وہ لوگ جنہوں نے غرور و تکبر کا مظاہرہ کیا اور خود کو بڑائی کے زعم میں مبتلا کیاتھا، کہیں گے، "یقیناً ہم سب اس میں ہیں — اللہ  تعالیٰ نے  لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا ہے۔"[34:31 کے ساتھ پڑھیں]

وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِـى ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّـمَ
ٱدْعُوا۟ رَبَّكُـمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمٙا مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٤٩

  • And those in Hell [scorching temperature] requested the Guards/Wardens of Hell-Prison —
    "You people invoke your Sustainer Lord with the request to lighten/grant remission for us for one day from punishment." [40:49]

اور جو لوگ دوزخ میں (شدید گرمی کے عذاب میں)ہوں گے، وہ دوزخ کی قید کے نگہبانوں/داروغوں سے درخواست کریں گے—
"تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ہمارے لیے ایک دن کے لیے عذاب میں تخفیف/رعایت کر دے۔"

Root: خ ف ف

قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُـمْ رُسُلُـكُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِۖ  قَالُوا۟ بَلَـىٰۚ
قَالُوا۟ فَٱدْعُوا۟ۗ
وَمَا دُعَٟٓؤُا۟  ٱلْـكَـٟفِرِينَ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٍٛ ٥٠

  • They replied, "Did not come to you people your Messengers with evident demonstrative signs/distinct Aa'ya'at?" They replied, "No, the fact is that they did come to us."
    They said, "Then you people call!."
    -- And the calls/supplications of those who have refused to accept are nowhere except in abandonment --. [40:50]

 انہوں(جہنم کے دروغوں)نے کہا"کیا تم لوگوں  کے رسول  تمہارے پاس   عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف نہیں  لائے  تھے     جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں"۔انہوں(جہنم کے رہائشی)نے جواب دیا"ہاں، یہ حقیقت ہے"۔
انہوں(جہنم کے دروغوں)نے کہا"چونکہ ہمیں اجازت نہیں اس لئے خود دعا کر لو؟۔
اوریہ حقیقت ہے کہ رسول اور کتاب اللہ کا انکار کرنے والوں کی ہر موقعہ پر پکار کا انجام سوائے فضا میں تحلیل ہو جانے کے کچھ بھی نہیں۔

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاوَيَوْمَ يَقُومُ ٱلْأَشْهَٟدُ٥١

  • It is a fact that Our Majesty certainly kept helping Our Messengers and those who believed during the life of this world —
    And the Day when the witnesses will stand. [40:51]

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب  بلا شبہ اپنے رسولوں اور ان لوگوں کی مدد کرتے رہیں  ہیں جو دنیا کی زندگی میں ایمان لائے —
 اور اس دن  جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

يَوْمَ لَا يَنفَعُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ مَعْذِرَتُـهُـمْۖ وَلَـهُـمُ ٱلْلَّعْنَةُ وَلَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ ٥٢

  • That Day their regrets and excuses will not benefit the wrong doers/creators of imbalances/distorters—And for them is curse and condemnation—And the terribly wretched abode/home is prepared and is in wait for them. [40:52]

اس دن  حقیقت کے منافی بال نظریات کا پرچار اور طرز عمل اختیار  کرنے والوں کو ان کے افسوس اور بہانے ۔ معذرتیں کوئی فائدہ نہ دیں گے—اورہر طرح کی دھتکار اور عدم توجہ ان کے لئے باعث اضطراب و شرمندگی ہو گی۔اور ہیجان خیز اور بے چین رکھنے والا مقام رہائش ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

Root: ع ذ ر; ل ع ن


وَلَقَدْ ءَاتَيْـنَا مُوسَـى ٱلْـهُدَىٰ
وَأَوْرَثْنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٱلْـكِـتَٟبَ ٥٣

  • And it is certain that in the past Our Majesty had given to Musa [alai'his'slaam] the Guidance-Guide:
    And Our Majesty had caused
    Bani Iesraa'eel to inherit the Book. [40:53]

تاریخی حقیقت جان لیں؛ یہ یقینی بات ہے کہ ماضی میں ہم  جناب نے موسیٰ [علیہ السلام] کو  ان کی قوم کو راہ ہدایت پر رکھنے کے لئے ہدایت نامہ دیا تھا—
 اور ہم نے بنی اسرائیل کو  مخصوص کتاب (تورات  جسے کاغذوں پر منتقل کر دیا گیا تھا)کا وارث بنایا تھا۔

Root: و ر ث

هُدٙى وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِـى ٱلْأَلْبَٟبِ٥٤

  • It served as guidance and a source-reference book to frequent for the men of wisdom who look into matters objectively without overlapping with emotions-prejudices-biases-whims-caprices. [40:54]

 اس کتاب  کا کردار ان لوگوں کے لیے  رہنمائی اور  حوالہ  تھا جو معاملوں کو دانشمندی سے دیکھتے ہیں، بغیر جذبات، تعصبات، خواہشات، یا نرالی باتوں کے ساتھ خلط ملط کیے۔

Root:  ل ب ب

فَٱصْبِـرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚ وَٱسْتَغْفِـرْ لِذَنۢبِكَ
وَسَبِّـحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِبْكَـٟرِ ٥٥

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remain coolly perseverant, indeed the promise of Allah [regarding Last Day] is a fact —And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] assign yourself overlooking the slander/ad hominem against you (instead of feeling grieved)—
    And praising your Sustainer Lord keep struggling for the assigned job in the evening/dusk and at the dawn. [40:55]

چونکہ ان کا یوم آخر کو جھٹلانا زیر مقصد مگر آپ کے لئے باعث کوفت،اس لئے آپ(ﷺ)سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ کے رب کے وعدہ نے پایہ تکمیل کو پہنچنا ہے۔اور آپ(ﷺ)اپنے پر لگائے الزامات اور متعصب ہرزہ رسائی سے درگزر اور صرف نظر کرنے کی عادت اپنائیں (بجائے غمکین ہونے کے)۔
اوراپنے رب  کو مطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تگ و دو فرماتے رہیں   اس حال میں کہ آپ(ﷺ)ان جناب کی  شام اور علی الصبح     حمدیہ تسبیح کریں ۔

Root: ذ ن ب; س ب ح; ع ش ى

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٟـدِلُونَ فِـىٓ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ بِغَيْـرِ سُلْطَٟنٛ أَتَىٰـهُـمْۙ إِن فِـى صُدُورِهِـمْ إِلَّا كِبْـرٚ مَّـا هُـم بِبَٟلِغِيهِۚ
فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيـرُ ٥٦

  • Let it be clear about those who keep wrangling by twisting facts without the support of concrete argument and authority given to them on the subject [but merely with conjectures and void of substance talk] regarding the verbal passages of Allah the Exalted —That is because they have that feel of superiority and grandeur in their chests to which greatness they are not the ones to reach/acquire. Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] advise people: Sequel to listening presumptive vain talks and conjectural assertions deliberately spread in society immediately desire seeking protection with Allah the Exalted. Indeed He the Exalted is the One Who is eternally the Hearer [of what is said, at whatever frequency] and is of Vision [everything/act is in His focus]. [40:56]

ان لوگوں کی حقیقت   جان لیں جو اللہ تعالیٰ   کی آیات (مندرجات قرءان) کے متعلق  ہرزہ رسائی کرتے  ہوئے الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں   بغیر کسی ٹھوس دلیل اور ثبوت کے  جو انہیں دیا گیا ہو، —یہ محض اس وجہ سے ہے کہ بڑائی کا زعم ایک نفسیاتی بیماری بن کر ان کے سینوں میں براجمان ہو گیا ہے،برتری کا ایسا نفسیاتی فریب جس کو حقیقی معنوں میں کبھی نہ پا سکیں گے۔
 آپ (ﷺ)اہل ایمان کو ہدایت دیں" ان کی ریشہ دوانیوں  پر مشتمل  بے سروپا  باتوں کو سننے پر فوراً  اللہ تعالیٰ کی پناہ کے خواہش مند  بن جاؤ۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب ہی ہیں جو ہر لمحہ ہر آواز/صوت کو بغور سننے والے ہیں،ہر لمحہ ہر شئے کو احاطہ بصارت میں رکھنے والے ہیں"۔(غافر۔٥٦)

Root: ع و ذ

لَخَلْقُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ أَكْـبَـرُ مِنْ خَلْقِ ٱلنَّاسِ
وَلَـٰكِنَّ أَكْـثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ٥٧

  • Certainly, the act of Creation of the Skies and the Earth is comparatively a greater assignment - undertaking than the act of the creation of the species-Human Being.
    However, most of the people remain in the state of not accepting/realizing this fact/reality [to appreciate their own importance among all that exists] [40:57]

یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا فعل انسان کی تخلیق کے عمل کے مقابلے میں ایک عظیم تر کام ہے۔
تاہم، اکثر لوگ اس حقیقت
کو تسلیم یا سمجھنے کی حالت میں نہیں رہتے [تاکہ اپنی اہمیت کو ان تمام موجودات کے درمیان پہچان سکیں]

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيـرُ
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ
وَلَا ٱلْمُسِىٓ ءُۚ
قَلِيلٙا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ٥٨

  • And the Blind and the perceptive Man of Vision equate not —
    And also those who accepted and believed in the Messenger and did act righteously and moderately as directed in the Divine Discourse—Equate not with the one who conducts erroneously and irrationally.
    Fact remains: whatever you have been wishfully retaining in memory without analysis is qualitatively insignificant. [40:58]

متنبہ رہو؛آنکھوں سے اندھا اور اندھے قلب والا  اورصاحب بصارت اوربصیرت  کبھی ایک دوسرے کےمساوی ہوتے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔
 اور جو لوگ  دل کی شاد سےرسول کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ اور ان کا موازنہ ان لوگوں سے نہیں ہو سکتا جو غلط اور بے بنیاد طریقے سے عمل کرتے ہیں۔
زمینی حقیقت یہ ہے  کہ تم لوگ جو کچھ بھی بے تجزیہ و تحلیل  اپنی یاد داشت میں محض حسرت آمیز ، خواہشی انداز میں محفوظ کئے ہوئے ہو ، وہ معیاری  اور نوعی اعتبار سے (qualitatively) غیر اہم اور ادنیٰ درجے کا ہے۔

Root: ع م ى


إِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَاتِيَةٚ
لَّا رَيْبَ فِيـهَا
وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ٥٩

  • Indeed the [determined terminating] Final Moment is certainly coming.
    That regards the Final Moment there is absolutely nothing uncertain and perplexing therein.
    However, the fact remains that most of the people do not accept and believe in it. [40:59]

یہ حقیقت ہے کہ دنیاوی حیات کی مدت کی اختتامی ساعت  بلا شبہ  نزدیک پہنچ رہی ہے۔
جس کے  ادراک کرنے میں قطعاً کوئی الجھن اور تذبذب کا پہلو نہیں ۔
مگر ناقابل تردید  حقیقت ہونے کے باوجود اکثر لوگ اس کو  ادراک میں لا کرماننے  پر تیار نہیں۔

Root: س و ع; ر ى ب

وَقَالَ رَبُّكُـمُ ٱدْعُونِـىٓ أَسْتَجِبْ لَـكُـمْۚ
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسْتَكْبِـرُونَ عَنْ عِبَادَتِـى
سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّـمَ دَاخِرِينَ ٦٠

  • And the Sustainer Lord of you people pronounced, "You people call upon Me, I will respond for you people."
    It is certain that those who make themselves obsessed with pride of grandeur arrogantly turning away from demonstrative
    — allegiance/servitude of Me —Soon shall they enter into Hell-Prison as submissive and humbling ones. [40:60]

اور تمہارے رب نے فرمایا، "تم لوگ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا کا جواب دوں گا۔"
یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ اپنی بڑائی کے غرور میں مبتلا ہو کر میری بندگی اور اطاعت سے تکبر کرتے ہیں—وہ جلد ہی جہنم کی قید میں عاجز اور جھکے ہوئے داخل کیے جائیں گے۔

 

ٱللَّهُ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيْلَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّـهَـارَ مُبْصِرًاۚ
إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَـى ٱلنَّاسِ
وَلَـٰكِنَّ أَكْـثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُـرُونَ ٦١

  • Allah the Exalted is the One Who has appointed-rendered the Night as a time-duration for your rest-stillness in it, and the Day as provider of brightness and vision —
    Indeed Allah the Exalted is possessor of bounty showered for people —
    But most of the people do not appreciate/recognize/express gratitude. [40:61]

اللہ تعالیٰ وہ جناب ہیں جنہوں نے رات کو تم لوگوں کے لئے دھندلا اور نسبتاً بارد بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ اس کے دوران راحت و آرام حاصل کرو۔اوران جناب نے دن کو تمہارے لئے روشن اور منور بنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو کہ بلاشبہ  لوگوں  پرصاحب فضل وکرم ہیں۔
اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ  اکثر لوگ  ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔

ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْ
خَـٰلِقُ كُلِّ شَـىْءٛ
لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ
فَأَنَّـىٰ تُؤْفَكُونَ ٦٢

  • The above describes for your recognition of Allah the Exalted, the Sustainer Lord of you people —
    He the Exalted is the Creator/Primal Originator of all the physical realm —
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.
    Since you know and experience these facts, then how you people are deluded away from Him the Exalted? [40:62]

یہ  حقائق تم لوگوں کے لئے  اللہ تعالیٰ کی پہچان ہیں ؛تم لوگوں کے رب؛وہ جناب   تمام کے تمام موجودات کے خالق ہیں۔
ان تمام کے متعلق جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہےمبنی بر حقیقت خبر یہ ہے کہ ان میں کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان واحد معبود مطلق  اللہ تعالیٰ،ہر شئے کے خالق کے۔
چونکہ تم لوگوں کو ان معبودان کی اصلیت کا تجربے اور مشاہدے سے ادراک ہے تو کیسے اور کیوں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے منحرف کر کے جھوٹے نظریہ کی جانب راغب کر دیا جاتا ہے۔

كَذَٟلِكَ يُؤْفَكُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ بِـَٔايَٟتِٱللَّهِ يَجْحَدُونَ ٦٣

  • This is like as those were deluded/diverted [with baseless conjectural assertions] who used to deliberately and knowingly discard the Aa'ya'at of Allah the Exalted—verbal passages of Book and unprecedented signs—displays sent to them. [40:63]

یہ ویسا ہی ہے جیسے وہ لوگ دھوکہ کھا گئے تھے [بے بنیاد قیاسی دعووں کے ذریعے]جو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی آیات کو نظرانداز کر دیتے تھے—کتاب کی زبانی عبارتیں اور ان کے پاس بھیجی گئی بے نظیر نشانیاں۔

Root: ء ى ى; ج ح د; ء ف ك


ٱللَّهُ ٱلَّذِى جَعَـلَ لَـكُـمُ ٱلۡأَرْضَ قَـرَارٙا وَٱلسَّمَآءَ بِنَـآءٙ
وَصَوَّرَكُـمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُـمْ
وَرَزَقَكُـم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٟتِۚ
ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبُّكُـمْۖ

فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٦٤

  • Allah the Exalted is the One Who rendered for you people the Earth cooled and comfortable living place —And the Sky as an overarching canopy —
    And He the Exalted has given you unique facial identity, thereby, He the Exalted gave symmetrical beauty to your facial features —
    And He the Exalted provided you people worldly sustenance from pleasant nourishing things —
    Remember the aforesaid about Allah the Exalted, the Sustainer Sovereign Lord of you people.
    Thereby realize; Allah the Exalted, the Sustainer Lord of the universes-all that exists, is the Omnipresent, the Perpetual, the Absolute
    — [40:64]

اللہ تعالیٰ وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کے خوشگوار قیام کے لئے زمین کو سرد منجمد جائے قرار کا روپ دے دیا تھا۔اور آسمان کو پھیلی ہوئی چھت کا روپ عطا فرما دیا۔
اور ان جناب نے  تم لوگوں کو(ماؤں کے رحم میں موجودگی کے دنوں میں) انوکھی صورت کا حامل بنایا ،اس لئے انہوں نے چہرے کے خدوخال کو متناسب حسن دے دیا۔
اور ان جناب نے تم لوگوں کو مرغوب اور صحت افزا رزق عنایت فرمایا ہے۔
یہ عنایات تم لوگوں کے لئے پہچان ہیں اللہ تعالیٰ کو جاننے کے لئے،تم لوگوں کے پروردگار اور فرمانروا ہیں ۔
چونکہ یہ تم لوگوں کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے اس لئے اس حقیقت کا ادراک کرو کہ اللہ تعالیٰ کو ثبات ہے،ہمہ جہت،دائمی،مطلق ہیں؛ان جناب کی یکتا پہچان اور شناخت ان کاتمام  موجودات کا پروردگار اور فرمانروا ہونا ہے۔

 

 History of the Earth   Root: ق ر ر

هُوَ ٱلْحَـىُّ
لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ
فَـٱدْعُوهُ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَۗ
ٱلْحَـمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٦٥

  • He (Sustainer Lord of the universes) the Exalted is The Living —
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.
    Therefore, you people [the heedful] call upon Him remaining exclusively sincere devotee/allegiant for Him in the physical conduct/code/procedure of life —
    The Infinite Glory and Praise is specified eternally, entirely and exclusively for Allah, the Sustainer Lord of the Existing Worlds-All that exists. [40:65]

وہ جناب کامل حیات ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔
چونکہ ان  حقائق سے کوئی صاحب عقل  بے بہرا نہیں اس لئے   تم لوگ  ان  جناب  کو پکارو  اُن کے  متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے ۔
 (اور اقرار کرو)اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا ہے [احمد ﷺ نے]۔

Root: خ ل ص


قُلْ إِنِّـى نُـهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِـىَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّـى
وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٦٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] tell them, "I was advised, at the time when distinct Aa'ya'at [of Qur’ān] were brought to me from my Sustainer Lord, to keep restricting that I should not be subservient to those who call others besides Allah the Exalted.
    And I was commanded that I should accept [be the first who accepted Grand Qur’ān] for the Sustainer Lord of the Worlds" [40:66]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ’’یہ حقیقت ہے کہ مجھے آپ لوگوں کی خواہش کی تسکین کے لئے انہیں معبود تسلیم کرنے سے منع کیا گیا ہے جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے رہتے ہو۔
اور مجھے (نزول قرءان پر) یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس (قرءان مجید) کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں  میں  اول تسلیم کرنے والا بنوں، تمام موجودات کے رب کا مخلص بندہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے"۔

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُـم مِّن تُرَابٍۢ
ثُـمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ
ثُـمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُـمَّ
يُخْرِجُكُـمْ طِفْلًۭا
ثُـمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُـمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭاۚ
وَ مِنكُـم مَّن يُتَوَفَّـىٰ مِن قَبْلُۖ
وَ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى
وَ لَعَلَّـكُـمْ تَعْقِلُونَ
٦٧

  • He the Exalted is the One Who has created you people corporeally structured with substances of clay drawn from dust [initially] —
    Afterwards lapse of time He the Exalted created you in different manner from the segment of a sperm (the origin of Adam's progeny)—
    Afterwards the sperm having been poured into a place (مُسْتَوْدَعٚ) and having lovingly and affectionately joined another object He the Exalted created you from this joined clot in implanted/clung state [zygote-Greek "zogotus" meaning "joined"] —
    Afterwards the lapse of appointed duration He the Exalted discharge you as an infant.
    Afterwards He the Exalted determines your span of life so that you people keep developing to cross over to your strengthen maturity., thereafter, He the Exalted extends life span of some so that you people become aged
    —
    And you know ground realities that amongst you is a matured person who may be alienated [by natural death, murder or alive on being killed in the cause of Allah] before reaching the aged stage —
    This process is continuing for reason so that you people may exhaust/reach the appointed moment of determined duration —
    The objective of disclosing these information is that you people apply intellect and reason to differentiate between fact and conjecture. [40:67]

وہ جناب  ہیں ہیں جنہوں نے تم لوگوں کوخاک کے ذرات میں سے چنے مواد سے تخلیق کیا تھا۔
بعد ازاں،وقت کے فاصلے پراُس تخلیق سے مختلف انداز میں تم لوگوں کو نطفہ کے ایک جزو سے تخلیق کیا(نسل آدم کا ابتدائیہ)۔
بعد ازاں   بیوی کو سونپے جانے  کے کچھ وقت بعد  جائے وعدہ معاہدہ(مستودع)پر اس مخصوص نطفے  سے ایک دوسری شئے سےباہمی کشش و محبت سے ملاپ کر کے بنی مخلوط باہم دگر مخلوق سےتم کو بطور مذکر و مؤنث رحم مادر میں   معلق حالت  میں تخلیق کیا۔ (المؤمنون۔24کے ساتھ پڑھیں)
بعد ازاں تخلیق کے مراحل ختم ہونے پر ہم جناب تم لوگوں کو ارحام مادر سے خروج دیتے ہیں، بطور نومولود طفل۔
بعد ازاں  تم لوگوں کی عمر کا تعین بھی کر دیتے ہیں تا کہ تم لوگ اپنی بھرپورتوانا جوانی کی جانب بڑھتے رہو۔بعد ازاں اس عمر کو پہنچ جانے کے بعد وہ جناب بعض کی عمر میں طوالت دیتےہیں تاکہ تم لوگ عمر رسیدہ ہو جاؤ۔
اور زمینی حقائق تم جانتے ہو  کہ ایک ایسا بھرپور جوان شخص  عمر رسیدگی کے قبل کے دور میں ہوتا ہے جس کے  طبعی  وجود کومعاشرے سےالگ کر دیا جاتا ہے اور کر دیا جائے گاجو تم میں سے طبعی موت مر جائے،یا قتل کر دیا جائے،یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہو جائے۔
اور یہ حیات اورمعاشرے سے بوجوہ علیحدہ کئے جانے کا نظام چلتا رہے گا تا کہ تم لوگ بحثیت نوع دنیا کے اختتام کے حوالے سے طے شدہ لمحے کے دورانئے کو پہنچ جاؤ۔
ان معلومات دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ان پر تعقل کرو جس سے امکان ہے کہ حقیقت اور لغویات میں تمیز کر سکو۔

    Origin of Man The procreation of Man - Anisogamy   Root: ن ط ف; ع ل ق; ط ف ل; ش ى خ; و ف ى; ء ج ل

هُوَ ٱلَّذِى يُحْـىِۦ وَيُمِيتُۖ
فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرٙا
فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فيَكُونُ ٦٨

  • He the Exalted is the One Who causes emergence of life in matter and causes death to alive.
    Thereby, subject to He the Exalted has finalized-decided a matter —thereat, He the Exalted merely decrees  for it (thing-matter-affair-person) verbally saying; "You become in evident-tangibly existing state". In compliance thereof that (abstract but effected thing- matter - affair - person) takes existence in physical realm (which can be known- cognizable by others). (Cf. 2:117; 3:47; 19:35; 40:68) [40:68]

وہ جناب  ہیں جوحیات کو ظہور دیتے ہیں اور ذی حیات کو موت سے ہمکنار کرتے ہیں۔
اس لئےجب وہ جناب کسی بھی امر/معاملے کو نبٹا دینے کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ تو وہ جناب اُس(امر) کے لئے صرف اتنا کہہ دیتے ہیں ”تومادی دنیا میں وجود پذیر ہو جا“۔تکمیل حکم میں وہ (امر؛شئے،ذی حیات،وقوعہ) مادی دنیا کے لئے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔


أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ يُجَٟـدِلُونَ فِـىٓ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ
أَ نَّـىٰ يُصْرَفُونَ ٦٩

  • Have you not given a thought about those who keep wrangling by twisting facts regarding the verbal passages of Allah the Exalted (without support of concrete argument and authority given to them on the subject but merely with conjectures and void of substance talk] —


  • What is turning them away from reality and rationality? [40:69] [Read with 40:56]

کیا آپ (ﷺ)نے ان لوگوں کے روئیے پر غور کیا ہے جو اللہ تعالیٰ   کی آیات (مندرجات قرءان)کے متعلق  ہرزہ رسائی کرتے  ہوئے الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں   (بے سروپا تبصروںبغیر کسی ٹھوس دلیل اور ثبوت کے  جو انہیں دیا گیا ہو) —
کیوں اور کیا ہے جو انہیں حقیقت اور معقولیت سے پلٹا رہا ہے۔

Root: ص ر ف

ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِٱلْـكِـتَٟبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِۦ رُسُلَنَاۖ
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ٧٠

  • Those people who publicly contradicted the Book, and that with which Our Majesty had sent Our Messengers —
    The eventuality of this they will soon know — [40:70]

وہ لوگ  جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب  اور اس (برھان )کوجھٹلا دیا تھا جن کے ساتھ ہم جناب نے ہمارے رسولوں کو ان کے پاس بھیجا تھا۔
اس کا انجام وہ لوگ جلد جان لیں گے۔

إِذِ ٱلْأَغْلَٟلُ فِـىٓ أَعْنَٟقِهِـمْ وٱلسَّلَٟسِلُ يُسْحَبُونَ ٧١

  • When the iron collars will be placed in their necks and tied in chains they will be dragged — [40:71]

(وہ جلد انجام جان لیں گے)جب انہیں اس حال میں دھکیلا جائے گاکہ ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے گئے ہوں گے اورانہیں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہو گا۔(غافر۔۷۱)

Root: س ح ب; س ل س ل;  ع ن ق; غ ل ل

فِـى ٱلْحَـمِيـمِ ثُـمَّ فِـى ٱلنَّارِ يُسْجَرُونَ ٧٢

  • Through hot water, thereafter they will scorch as fuel in the Heated Hell-prison. [40:72]

گرم پانی میں سے گزارتے ہوئے، بعد ازاں جہنم کی تپش میں سلگتے رہیں گے۔

Root: س ج ر

ثُـمَّ قِيلَ لَـهُـمْ أَيْنَ مَا كُنتُـمْ تُشْـرِكُونَ ٧٣
مِن دُونِ ٱللَّهِۖ
قَـالُوا۟ ضَـلُّوا۟ عَنَّا

بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوا۟ مِن قَبْلُ شَيْـٔٙاۚ
كَذَٟلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ٧٤

  • Afterwards they will be asked, "Where are those whom you used to ascribe as partners— [40:73]

  • Apart from Allah the Exalted?
    They replied, "they have vanished from us
    —
    Nay, rather the fact is that it was not something existing what we people used to call upon."
    This is how Allah the Exalted lets remain neglectfully straying those who knowingly refused to accept/believe. [40:74]

بعد ازاں ان سے پوچھا گیا"وہ کہاں ہیں جنہیں تم  مشترک معبودات کا درجہ دیتے تھے

اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرتے ہوئے ان کے علاوہ"؟۔
انہوں (مشرکین)نے جواب دیا”وہ تو ہمارے پاس سے کہیں غائب ہو گئے ہیں۔
نہیں،وہ غائب نہیں ہوئے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ قبل میں ہم حقیقت میں  موجود  کسی شئے کونہیں پکارتے تھے"۔
جان لو؛یہ ہے وہ خود ساختہ کج روی جس میں اللہ تعالیٰ دانستہ انکار کرنے والوں کو حالت انحراف میں  گم کردہ راہ ا رہنے دیتے ہیں۔(غافر۔۷۴)

ذَٟلـِكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَفْرَحُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّ
وَبِمَا كُنتُـمْ تَمْرَحُونَ٧٥

  • "This [eventuality of landing into Hell-prison] is because you people kept boisterously rejoicing in the Earth without any justifiable cause and fact —
    And for that which you people kept behaving insolently. [about the Book of Allah] [40:75]

جہنم میں ہونے کی وجہ انہیں بتائی جائے گی"تمہارا یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ تم حقیقت کے منافی سوچ  اور جوازکے تحت زمین میں فرحت و انبساط میں مگن رہتے تھے۔
اور اس وجہ سے کہ تم لوگ اپنی کھال سے باہر ہو کر اتراتے اور تنبیہات کے متعلق گستاخانہ رویہ روا رکھتے تھے۔

Root: غ ى ر and ح ق ق;  ف ر ح؛ م ر ح

ٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٟبَ جَهَنَّـمَ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۖ
فَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَـبِّـرِينَ ٧٦

  • You people enter the gates of Hell [respectively earmarked for identities] for permanent abode in her".
    Having known this upshot mend your selves since woeful is the abode of arrogant/suffering from misconception of greatness." [40:76]

جہنم کے دروازوں سے اند داخل ہو جاؤ، تم ہمیشہ اس میں رہو گے"۔
۔اس انجام کو جان کر سدھر جاؤ کیونکہ خود پرستانہ عظمت/تکبر میں مبتلا لوگوں کے لئے کیا ہی برا ٹھکانہ ہے آخر میں۔

فَٱصْبِـرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚۚ
فَـإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُـمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ

فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ ٧٧

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remain coolly perseverant, indeed the promise of Allah the Exalted [regarding Last Day] is a fact —
    Since the last moment will happen all of sudden, thereby, supposing any moment henceforth Our Majesty make you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to witness-see with eyes a part of that (Last Day) which Our Majesty are promising to them; or in future Our Majesty cause you to become segregated from people by natural death before that Day —
    Since you are also not aware about the time and place of Last Day it does not make a difference between two assumptions, the final decision is that they will brought before Our Majesty for accountability [40:77]

چونکہ ان کا یوم آخر کو جھٹلانا زیر مقصد مگر آپ کے لئے باعث کوفت،اس لئے آپ(ﷺ)استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ کے رب کے وعدہ نے پایہ تکمیل کو پہنچنا ہے۔
چونکہ یوم آخر نے بالکل اچانک وقوع پذیر ہونا ہے اس لئے اگر ہم آئندہ کسی وقت اس(دن)کے کچھ ابتدائی حصے کو آپ(ﷺ)کی نگاہوں کو دکھا دیں جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں؛یا اس سے قبل آپ (ﷺ)کو لوگوں کی مصاحبت سے الگ کر لیں (بسبب طبعی موت)۔۔
چونکہ اس دن کے وقوع ہونے کا وقت اور زمانہ آپ(ﷺ)کو بھی معلوم نہیں اس لئے دونوں مفروضوں سے فرق نہیں پڑھتا؛حتمی طور پر طے شدہ یہ ہے کہ انہیں ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلٙا مِّن قَبْلِكَ
مِنْـهُـم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْـهُـم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَۗ
وَمَا كَانَ لِرَسُولٍٛ أَن يَأْتِـىَ بِـَٔايَةٍٛ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ

فَإِذَا جَـآءَ أَمْـرُ ٱللَّهِ قُضِىَ بِٱلْحَقِّ
وَخَسِـرَ هُنَالِكَ ٱلْمُبْطِلُونَ ٧٨

  • And indeed Our Majesty had sent the Messengers to respective nations before you—they were sent with unique accreditation sign — displayed miracles. (Cf. 57:25)
    Among them are those whose accounts Our Majesty have deliberately unfolded to you, and among them are those whose accounts We have not disclosed to you. [Cf. 4:164]
    And it never belonged to any messenger to bring forth unprecedented sign (miracle) except by the authorization of Allah the Exalted.
    Then, on expiry of  respite period when the Command of Allah arrived, the matter was decisively settled upon the basis of truth—
    And it was there that the falsifiers, the fabricators of false concepts suffered utter loss. [40:78]

لوگوں کو مطلع فرما دیں،ہم جناب نے آپ(ﷺ)سے قبل کے ادوار میں رسولوں کوبشیر اور نذیر قرار دے کر قوموں کی جانب بھیجا تھا۔ان سب کی خاص بات عینی مشاہدہ کے لئے  تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک     نشانی(معجزہ)پیش کرنا تھا۔(Cf. 57:25)
وہ آپ پر سلسلہ رسالت ختم ہونے والے رسولوں کی لڑی میں سے ہیں جن کے واقعات ہم آپ (ﷺ)کو من و عن سنا چکے ہیں اور وہ بھی جن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ہم نے آپ کو نہیں سنایا۔
اور
عینی مشاہدہ کے لئے  تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک    ایسی شہادت(آیت/معجزہ)کو  بطور سندلوگوں کے پاس لانے کا استحقاق اور اختیار کسی رسول کے پاس نہیں تھا سوائے  اللہ تعالیٰ سے اجازت/اذن ملنے پر۔
اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہو جانے پر جب اللہ تعالیٰ کا فرمان جاری ہو گیا تو معاملے کوثابت شدہ حقائق کے مطابق پائے تکمیل تک پہنچا دیا گیا تھا۔
اور عین اس وقت حقیقت کے منافی جھاگ اور فاسد مادوں کی مانند ابھرے ظن و گمان سے اختراع کردہ نظریات اور اعمال کے پیروکار وں نے نقصان اٹھایا۔


ٱللَّهُ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلْأَنْعَٟمَ لِتَـرْكَـبُوا۟ مِنْـهَا وَمِنْـهَا تَأْكُلُونَ ٧٩

  • Allah the Exalted is the One Who has rendered for you people the herbivore mammals that you may deploy some of them for riding/beast of burden —And some of them you people eat. [40:79]

اللہ تعالیٰ  ہیں جنہوں نے  چارہ خور بکثرت دودھ دینے والے چوپایوں میں سے بعض کو( گھوڑے اورخچر اور گدھے)تمہارے سواری اور سفر کرنے کے لئے  موزوں بنایا ہے۔اور  تم لوگ ان میں  سے ان کو کھاتے ہو جومضبوط ٹھوس جسم   اور آواز میں ابہام والے  چوپائےہیں(حوالہ المائدہ۔1)۔

Root: ر ك ب

وَلَـكُـمْ فِيـهَا مَنَٟفِعُ
وَلِتَـبْلُغُوا۟ عَلَيْـهَا حَاجَةٙ فِـى صُدُورِكُمْ
وَعَلَيْـهَا وَعَلَـى ٱلْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ٨٠

  • And a number of benefits are endowed for you people in these mammals.
    And so that upon them you people may reach/cross over to the point/destination you have the desire for in your hearts [Read with 16:07]
    And upon them and upon the ships you people are carried. [40:80]

اور ان مویشیوں میں تمہارے لیے بہت سے فوائد رکھے گئے ہیں،
 اور تاکہ ان پر تم اپنے دلوں کی خواہش کے مطابق کسی مقام یا منزل تک پہنچ سکو۔(النحل۔7ساتھ پڑھیں)
اور تم لوگ ان پر اور کشتی پر باربرداری کا کام لیتے ہو۔

Root: ح و ج; ف ل ك

وَيُرِيكُـمْ ءَايَٟتِهِۦ فَأَىَّ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ تُنكِرُونَ ٨١

  • And He the Exalted shows to you people His evident physical signs, therefore, which of the e physical signs of Allah the Exalted spread all around you people will deny to recognize? [40:81]

اور وہ (اللہ تعالیٰ) تم لوگوں کو اپنی واضح اور مادی نشانیاں دکھاتے ہیں، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی ان مادی نشانیوں میں سے کس کو جھٹلاؤ گے جو تمہارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں؟

Root: ن ك ر

أَفَلَمْ يَسِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۚ
كَانُوٓا۟ أَكْـثَرَ مِنْـهُـمْ وَأَشَدَّ قُوَّةٙ
وَءَاثَارٙا فِـى ٱلۡأَرْضِ
فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٨٢

  • Is it for reason that they have not traversed in the world/land —Whereby they could see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who were flourishing before them [and take heed/lesson].
    They were more than them and they were mightier than them with regard to strength
    —And in the matter of leaving impressions/monuments in the Earth.
    Then, that which they had attained could not avail to avert anything from them. [40:82]

کیا ان انکار کرنے والوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔جس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ) دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں عروج پانے والوں  کا انجام کیا تھا۔
وہ لوگ اِن سےتعداد میں زیادہ تھے،اور مضبوط،سخت غیر تھے قوت وطاقت کے حوالے سے۔اور زمین میں یادگاریں تعمیر کرنے کے حوالے سے۔
مہلت کا وقت ختم ہو جانے پر ان سے سزا کی گرفت کو دور کرنے میں   وہ کچھ کام نہ آیا جو وہ کما رہے تھے۔

Root: س ى ر; ء ث ر

فَلَمَّا جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ
فَرِحُوا۟ بِمَا عِندَهُـم مِّنَ ٱلْعِلْمِ
وَحَاقَ بِـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٨٣

  • Prior to infliction of punishment, when their Messengers had brought to them evident unprecedented [miraculous] demonstrative Signs —
    They boisterously rejoiced with that which they people had attained from the knowledge/technology —
    And that hemmed then about which they consciously adopted a non serious jesting attitude keeping themselves playful with. [40:83]

ان کا یہ انجام یوں ہوا کہ جوں ہی ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے اللہ تعالیٰ کے رسول  عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لائے      جواس وقت کے لوگوں کےتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔
تو بجائے ان پر غور کرنے کے اس علم اور معلومات پر نازاں اورشاداں رہے جو ان کی دسترس میں تھا۔
اورآخروہ(عذاب) ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے  دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ف ر ح; ح ى ق

فَلَمَّا رَأَوْا۟ بَأْسَنَا قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِۦ مُشْـرِكِيـنَ ٨٤

  • Sequel to passing of respite period and consequence of their persistent unjust conduct, when they saw the catastrophe decreed by Our Majesty they said —"We have believed in Allah the Exalted; He is the One and Alone sovereign —And we have rejected that with which we kept ascribing associates with Him." [40:84]

و مہلت کا وقت گزر جانے کے بعد اور ان کے مسلسل ظالمانہ رویے کے نتیجے میں ہماری طرف سے مقرر کردہ عذاب جوں ہی  نظر آیا تو انہوں نے کہا:"ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہیں، وہ جناب واحد اور یکتا  مطلق معبود ہیں —اور ہم نے ان تمام باتوں کو رد کر دیا ہے جنہیں ہم ان کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔"

فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُـمْ إِيمَٟنُـهُـمْ لَمَّا رَأَوْا۟ بَأْسَنَاۖ
سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِـى قَدْ خَلَتْ فِـى عِبَادِهِۦۖ

وَخَسِـرَ هُنَالِكَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ ٨٥

  • For reason of laid down principle, their declaration of believing at that point in time did not avail them benefit when they had seen the catastrophe decreed by Our Majesty. This is the precedent set by Allah the Exalted that has preceded amongst His subjects —
    And at that point in time the rejecters of the message conveyed by the Messenger were at loss. [40:85]

چونکہ اصول طے شدہ ہیں اس لئے  اس وقت ایمان لانے کا اعلان ان کے لیے نفع مند نہ ہوا، کیونکہ وہ ہماری طرف سے مقرر کردہ عذاب کو آتا دیکھ چکے تھے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی  سنت
/مقرر کردہ دستور ہے جو اس کے بندوں کے درمیان پہلے سے جاری ہے —
اور اس وقت ان لوگوں کے لیے خسارہ ہی خسارہ تھا جو رسول کے پیغام کو جھٹلاتے رہے تھے۔

Root: خ ل و

041-سُوۡرَةُ فصّلت

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ .١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added. [41:01]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلٚ مِّنَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ ٢

  • This Qur’ān is a serial dispatch and delivery in easy to understand composition by Ar'Reh'maan the Exalted Who is the Fountain of Infinite Mercy - (is for the reason to let your brain remain persistently in stable state of calmness and tranquillity-25:32) [41:02]

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا  الرّحمٰن ذو الجلال والاکرام کی  جانب سے،جو منبع رحمت ہیں،آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

كِتَٟبٚ فُصِّلَتْ ءَايَٟتُهُۥ قُرْءَانًا عَـرَبِيّٙا لِّقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٣
بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙا فَأَعْـرَضَ أَكْثَرُهُـمْ فَهُـمْ لَا يَسْمَعُونَ ٤

  • It (Qur’ān in Arabic) is a book of characteristic that it's Aa'ya'at: Verbal Passages - linguistic tokens are rendered into distinct enclaves [Surat-chapters] and semantic frames individuating each subject matter — It (the book-Qur’ān) is a compilation having characteristic of transcription in Arabic: a perspicuous, eloquent, distinctive and precisely expressive language; the language of the sons of soil of Arabian peninsula. It is for people in pursuit of obtaining and learning knowledge [41:03]

  • It (Qur’ān) serves as guarantor-conveyor of glad tidings and revivalist-Warner-awakener. [perpetually present in time and space]. Thereby, most of them, the ruling elite apprehending it detrimental to their vested interests have purposely avoided - stayed away from it. Thereby, they people will listen not. [41:04]

یہ کتاب ہے،اس کا اہم وصف یہ ہے کہ اس کی آیات/مندرجات کو جدا جدا    سورتوں/ابواب اورموضوعات کے فریم میں تالیف کیا گیا ہے۔اس کے مدون متن کا وصف یہ ہے کہ جزیرہ عرب کی فصیح و بلیغ زبان میں ہے؛ان لوگوں کے لئے جو معلومات حاصل کرنے کے متمنی رہتے ہیں۔
چونکہ اسے اپنے مفادات سے متصادم سمجھتے ہیں اس لئے ان(اکابرین،عمایدین)کی اکثریت نے اس کو پیش کئے جانے پر اعراض برتا ہے،نتیجہ یہ ہے کہ اب اسے توجہ سے سنتے بھی نہیں۔اس کی حیثیت زمان و مکان میں خوش کن نتائج کی خبر،ضامن اورکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کرنے والے کی ہے۔

آقائے نامدار، محمَد ﷺ کا منفرد اعزاز اور عالمی و دائمی حیثیت  بطور نذی

     : Classification -categorization - demarcation and individuation  Root: ع ر ب

وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا فِـىٓ أَكِنَّةٛ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ 
وَفِـى ءَاذانِنَا وَقْر
ٚ وَمِنۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٚ
فَٱعْمَلْ إِنَّنَا عَٟمِلُونَ ٥

  • And they (Disavowers) said "Our hearts are in veil from that towards which you (the Messenger) invite us—
    And a heavy load is deposited within our ears causing acoustic impedance—
    And between us and between you is a barrier—
    Therefore, you act as you like, indeed we are acting the way we like." [41:05]
     

اور انہوں نے(رسول کریم)کو جواب دیا"ہمارے دلوں پرغلاف نے انہیں اس سے پردے میں کر دیا  ہےجس (قرءان مجید)کی جانب آنے کی آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں۔
اور ایک بوجھ ہمارے کانوں میں ایسا ہے جو سماعت میں مانع ہے۔
اور اختلافات کی ایک دیوار ہمارے اور آپ کے درمیان کھڑی ہو چکی ہے۔
چونکہ یہ دیوار گرائی نہیں جا سکتی اس لئے آپ اپنا کام کریں،ہم بھی یقیناً اپنے مفاد کا کام کرتے رہیں گے"۔

Human Ear

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۟ بَشَـرٚ مِّثْلُـكُـمْ يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّ
أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُـمْ إِلَـٰهٚ وَٟحِدٚ
فَٱسْتَقِيمُوٓا۟ إِلَيْهِ وَٱسْتَغْفِرُوهُۗ
وَوَيْلٚ لِّلْمُشْـرِكِيـنَ ٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "No doubt I am a human being; characteristically like you people; the other feature of identity is the Communication of Word of Allah the Exalted to me:
    That the Iiela'aha: Sovereign Sustainer Lord of you people is characteristically such Sustainer Lord Who maintains Aloneness, the One and Only Sustainer Lord.
    Therefore, you people transform yourselves to take stand and Path towards Him; and incline yourselves to self-accountability to seek bucketing, protection, forgiveness of Him the Exalted for lapses/omissions.
    Take note; woe, dispraise and threat is eminent for the Polytheists: who refuse to accept Human Messenger of Allah and ascribe associates and worship sculpted statues — [41:06]

آپ(ﷺاپنے عمل کی وضاحت میں)ارشاد فرمائیں"یہ سچ ہے کہ جامہ بشریت میں    تم لوگوں  جیسا  میں بھی ہوں۔مگر مجھے تم لوگوں تک پہنچانے کے لئے پیغام وحی کیا جاتا ہے۔
تم لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے کہ یہ حقیقت ہمیشہ مدنظر رہے کہ تم لوگوں کے معبود فقط معبود مطلق ہیں۔
چونکہ مجھے وحی کیا گیا ہے اس لئے آپ لوگوں کو یہ حکم دے رہا ہوں کہ ان جناب کی جانب سے دئیے پیغام پر استمرار سے کھڑے ہونے کی خواہش کرو اور ان سے پردہ پوشی اور معافی کے خواستگار بنو"۔
متنبہ رہوحیف،خود مذمتی،افسوس و ملال ایسے لوگوں کا روزمرہ کا معمول ہو گا جو بشر کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننے سے انکاری  اور ان کے ساتھ معبودان کے فلسفہ اشتراک کے پیروکارہیں۔

ٱلَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ
وَهُـم بِٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمْ كَٟفِرُونَ ٧

  • Woe, regret will be the daily routine for those do not pay the Az-zaka'at: financial liability for economic uplift of society (in a state of mind)—
    Be mindful; they in the heart of their heart are the rejecters of the Hereafter. [41:07]

حیف، خود مزمتی،ملال و یاسیت ان لوگوں کا بھی روزمرہ کا معمول ہوگا جومعاشرے کے نظم و نسق اوراٹھان میں مالیاتی ذمہ داری ادا نہیں کرتے:۔
کیونکہ  یہ لوگ   درحقیقت آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے ہیں۔  

Root: ز ك و

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ
لَـهُـمْ أَجْرٌ غَيْـرُ مَمْنُونٛ ٨

  • Know the fact about those who have heartily believed in the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and Qur’ān and performed moderate righteous deeds — [as directed in the Book] —
    A reward which is never abated is in wait for them. [41:08]

ان لوگوں کے متعلق مبنی بر حقیقت خبر جان لوجو(نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔
اس کے اعتراف  میں ایک ایسا صلہ ان کے لئے منتظر ہے جو لامتناہی ہے۔

Root: م ن ن


قُلْ أَئِنَّكُـمْ لَتَكْفُرُونَ بِٱلَّذِى خَلَقَ ٱلۡأَرْضَ فِـى يَوْمَيْـنِ
وَتَجْعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادٙاۚ
ذَٟلِكَ رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Do you people in fact deny Him Who created the Earth in two days? [of reckoned time beyond your Universe]
    And despite having realized the universe as integrated whole you (scholars, elite) still ascribe someone as equate in some respect for Him the Exalted?
    And despite having realized the universe
    as integrated whole you (scholars, elite) still ascribe someone as equate in some respect for for Him the Exalted?
    [there is no equal and partner] He is the Sustainer Lord of the Worlds-All that exists." [41:09]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"کیا آپ ان جناب کا انکار کرتے ہیں جنہوں نے کرہ ارض کوعدم سے اس سے باہر کے وقت کے حساب سے دو دنوں کی مدت میں تخلیق فرمایا تھا۔
اورباوجود کائنات کو ایک اکائی سمجھنے کے تم(سکالر،سرکردہ عمائدین)کسی کوکسی  حوالے سےاُن کا ہمسر؍نظیر؍مثل؍مدمقابل قرار دیتے ہو۔
یہ جناب کائنات کے خالق تمام موجودات کے پروردگار اور پالنہار ہیں۔

Root: ن د د

وَجَعَلَ فِيـهَا رَوَٟسِـىَ مِن فَوْقِهَا وَبَٟرَكَ فِيـهَا
وَقَدَّرَ فِيـهَآ أَقْوَٟتَـهَا  فِـىٓ أَرْبَعَةِ أَيَّامٛ سَوَآءٙ لِّلسَّآئِلِيـنَ ١٠

  • And He the Exalted inserted in her (the Earth) firmly grounded anchors (mountains) characteristically visible above her surface, and He the Exalted permanently and relatively fixed/pegged them inside her —
    And He the Exalted determined in her (the Earth) its foods, nourishments, sustenance, provisions of it. He the Exalted proportioned all of them, the Earth and the creative works relating to her wherewithal in a period of four days; appropriately proportioned for the would-be-seekers-creatures. [41:10]

اور ان جناب  نے اس کے اندر پہاڑوں کو بطورلنگرداخل کیا۔اس انداز میں کہ وہ اس کی سطح پر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں اور ان جناب  نے انہیں مستقل اور نسبتاً مستحکم طور پر اس کے اندر گاڑ دیا۔
اور ان جناب نے، جو بلند و برتر ہیں، زمین میں اس کی خوراک، پرورش، روزی اور رزق  مہیا کرنے کے پیمانے مقرر کر دیئے۔اُن جناب نے  زمین اور اس کے لوازمات کی تخلیق کے تمام مراحل کو چار دنوں میں پائے تکمیل کو پہنچایا۔متناسب طور پر ان لوگوں کے ضرورت کے مطابق  جواس پر متلاشی ہونے تھے۔

 

        Mountains - Anchors   Root: ر س و; ف و ق; ب ر ك; ق و ت

ثُـمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَـى ٱلسَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٚ
فَقَالَ لَـهَا وَلِلْأَرْضِ ٱئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهٙا
قَالَتَآ أَتَيْنَا طَآئِعِيـنَ ١١

  • Afterwards having created the Earth and its wherewithal He the Exalted attended upwards the Sky while she already existed in gaseous state.
    Thereby, He the Exalted decreed for her (the gaseous Sky- singular) and for the Earth: solid mass-matter: "You both develop relationship either of attraction-tug-pull or repulsion".
    They (Sky and the Earth both feminine) said: "We have assembled like those who develop relationship of pull-affection-attraction desiring proximity". [41:11]

بعد ازاں وقت گزرنے پر ان جناب نے آسمان کی جانب توجہ فرمائی جو پہلے سے مانند دھواں موجودتھی۔
چونکہ وہ آسمان اور زمین پر مشتمل کائنات تخلیق کرنے کا ارادہ فرما چکے تھے اس لئے اس(آسمان)کے لئے اور زمین کے لئے فرمان جاری کیا"آپس میں تعلق استوار کریں چاہے باہمی رغبت،خوشی،کشش کا یا چاہے عدم لگاؤ،دوری،باہمی بے رغبتی کا"۔
دونوں(مؤنث)نے تکمیل حکم کر کے جواب دیا"ہم باہم مل گئی ہیں  اُن کے انداز میں جو رغبت اور قربت کی خواہش رکھنے والے ہیں "۔

Root: د خ ن; ك ر ه

فَقَضَٟهُنَّ سَبْعَ سَـمَٟوَاتٛ فِـى يَوْمَيْـنِ
وَأَوْحَـىٰ فِـى كُلِّ سَـمَآءٛ أَمْرَهَاۚ
وَزَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِمَصَٟبِيحَ وَحِفْظٙاۚ

ذَٟلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيـمِ ١٢

  • Thereby, applying of stretching in layers [firmaments one above the other] He the Exalted completed them seven skies within two days.
    And He the Exalted assigned to each of the layers of the Sky her specific task.


  • And Our Majesty have adorned the lowest Sky of Lowly World-Earth with Comets, and have rendered it protected—
    These are the equations-measured settings of relations-relativity determined by the absolutely Dominant, Infinitely Knowledgeable - the setter of sciences. [41:12]

یگانگت کا مرحلہ مکمل ہونے پر ہم جناب نے اس(آسمان)کی تقسیم کر کے سات آسمان  اس زیر تکمیل کائنات سے باہر کے وقت کے مطابق دو دن میں  طبق در طبق مکمل کر دئیے۔
اور ان جناب نے ہر ایک آسمان کا معاملہ و کردارہر ایک کوالگ سے تفویض (وحی)کر دیا۔
اور ہم جناب نے  دنیا کے آسمان کو مصابیح (Comets)کی دلکش کشش سے مزین فرمایا ہے۔اور ہم جناب نے ہر ایک دھتکارے ہوئے شیطان کی شر انگیزیوں  اور دسترس سے  وہ محفوظ بنائی ہے۔
یہ نظام ان جناب کےمتعین کردہ پیمانوں اور باہمی                                                  تناسب  کا مظہر ہے جومطلق غالب اور منبع علم ہیں۔

      Origin of Universe     Comets

فَإِنْ أَعْـرَضُوا۟ فَقُلْ أَنذَرْتُكُـمْ صَٟعِقَةٙ مِّثْلَ صَٟعِقَةِ عَادٛ وَثَمُودَ ١٣

  • In response to admonition; if they purposely avoid paying heed, thereat You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "I have admonished you people unambiguously and conspicuously like thunderbolt, the like of flash and thunder encountered by Aad and Samued civilizations — [41:13]

دو ٹوک انداز میں تنبیہ کو سن کر بھی  اگر وہ  اس سے دانستہ صرف نظر کر کے کوئی اثر نہیں لیتے  تو آپ (ﷺ)ارشاد فرما دیں  (اپنے بری الذمہ ہونے بارے):"اے عمائدین!میں نے  آپ  لوگوں کو واضح اور روشن انداز میں خبردار کیا ہے، ایک ایسی کڑک کی مانند جو قومِ عاد اور قومِ ثمود پر آفت کے وقت گونجی تھی۔

إِذْ جَآءَتْـهُـمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيْـنِ أَيْدِيـهِـمْ وَمِنْ خَلْفِهِـمْ
أَلَّاتَعْبُدُوٓا۟ إِلَّاٱللَّهَۖ
قَالُوا۟ لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَـٟٓئِكَـةٙ
فَإِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ كَٟفِرُونَ ١٤

  • When the Messengers had come to them [Aad and Sumued civilizations] in their earlier generations/foretime and their later generations —
    [and asked them] That "you people should not be subject/subservient/allegiant to anyone whatsoever except Allah the Exalted"—
    They (ruling elite) replied, "Had our Sustainer Lord willed certainly He would have sent Angels —
    Therefore, indeed we are the deniers for that with which you have been sent." [41:14]

جب  اللہ تعالیٰ کے رسول ان کے پاس  آئے تھے ، ان کی پہلی اور بعد کی نسلوں میں، اور ان سے کہا:
"تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بندگی، غلامی،  اطاعت نہ کرو۔"
انہوں (اشرافیہ) نے جواب دیا:"اگر ہمارے رب کو کچھ کرنا ہوتا تو وہ یقیناً فرشتے بھیجتا —
 لہٰذا، ہم تو اس پیغام کے مکمل منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔"

Root: ء ل ك

فَأَمَّا عَادٚ فَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّ
وَقَالُوا۟ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةًۖ
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَهُـمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْـهُـمْ قُوَّةًۭۖ 
وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا يَجْحَدُونَ ١٥

  • And as for A'ad are concerned,  they for reason made their selves obsessed-puffed with pride of grandeur and superiority in the World, without justifiable cause and reason.
    And they boasted, "Who is stronger than us in power and might?"
    Why could they not see-given a thought before uttering it that Allah the Exalted, Who had created them, is far more powerful than them in strength and might.
    Moreover, they deliberately kept refuting publicly acknowledging Our Verbal communications sent through the Messengers. [41:15]

چونکہ انہیں ماضی کی تاریخ سے انتباہ لینے کا کہا گیا ہے اس لئے جہاں تک عاد کے لوگوں کو تعلق ہے انہوں نے بغیر جواز اور مبنی بر حقیقت استدلال کے اپنے آپ کو بڑائی اور عظمت کی خواہش میں مبتلا کئے رکھا۔
اور انہوں(عمائدین عاد)نے دعویٰ کیا یہ کہتے ہوئے"کون ہے جو طاقت و قوت میں ہم سے بڑھ کر ہے؟
کیا اتنا بڑا بول بولتے ہوئے  انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جنہوں نے انہیں تخلیق کیا تھا  ان سے طاقت و قوت میں  وہ کہیں بڑھ کر ہیں۔
اور یہ لوگ ہم جناب کے رسولوں کی معرفت بھیجی ہوئی آیات کی حقانیت کا ادراک کر لینے کے باوجود تردید کرتے رہے۔"

Root: غ ى ر and ح ق ق; ج ح د

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ رِيحٙا صَرْصَرٙا فِـىٓ أَيَّامٛ نَّحِسَاتٛ
لِّنُذِيقَهُـمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ
وَلَعَذَابُ ٱلۡءَاخِـرَةِ أَخْزَىٰۖ
وَهُـمْ لَا يُنصَرُونَ ١٦

  • Thereby, on their asking, Our Majesty sent upon them creaking furious Wind in troubling hot days [that blew for seven nights and eight days] —
    The object was that Our Majesty cause them taste corporal infliction with feel of belittlement and remorse in the worldly life [not early death by wind chill effect]
    And it is a certain fact that the Corporal punishment in the Hereafter is much more of belittlement and remorse.
    And they all will not be helped by anyone who could help. [41:16]

چونکہ اتمام حجت ہو چکا تھا اور انہوں نے مطالبہ بھی کر دیا تھا اس لئے ہم جناب نے ان پر  سخت گرمی کے دنوں میں تند و تیز پرشور آندھی کو بھیجاجو(سات راتیں اور آٹھ دن)لگاتار چلتی رہی۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ انہیں حیات دنیا ہی میں ہلکے پن اور کم مائیگی  کی رسوائی کا احساس دلانے والے عذاب کا احساس و تجربہ ہو جائے۔
اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ حیات آخرت میں ملنے والا عذاب ہلکے پن اور کم مائیگی کی رسوائی کا احساس دلانے میں کہیں زیادہ ہے۔
اور اس حال میں انہیں کہیں سے مدد نہیں ملے گی۔

Root: ر و ح; ص ر ص ر; ذ و ق; خ ز ى

وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَٟهُـمْ فَٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْعَمَىٰ عَلَـى ٱلْـهُدَىٰ
فَأَخَذَتْـهُـمْ صَاعِقَةُ ٱلْعَذَابِ ٱلْـهُونِ
بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ١٧

  • And as for Sanued are concerned, for reason Our Majesty had guided them [by sending Messengers] whereupon they purposely preferred mindless blindness over the Guidance —
    Resultantly the thunder of infliction of painful belittlement seized them —
    Because of that which they people deliberately did and performed. [41:17]

اور جہاں تک ثمود کا تعلق ہے ہم جناب نے حسب وعدہ ان کو رسولوں کی معرفت ہدایت نامہ بھجوایا تھا۔چونکہ وہ مفادات کی دلدل میں دھنسے رہنے پر بضد تھے اس لئے انہیں ہدایت نامہ پر اندھے بنے رہنا زہادہ محبوب تھا۔
چونکہ اتمام حجت کر دیا گیا تھا،مہلت کا وقت بھی اختتام پذیر ہوا،ان کے مطالبہ پر نشانی بھی عنایت کی گئی اس لئے منفرد ذلت آمیز عذاب کی حامل گھن گرج نے انہیں گرفت میں لے لیا۔
یہ ان کے جرائم کی پاداش ہے جووہ اپنے مفادات کے حصول کی خاطر کرتے رہے ہیں۔

Root: ع م ى; ھ و ن

وَنَجَّيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يتَّقُونَ ١٨

  • And Our Majesty saved/rescued [in keeping with Our promise and self assumed obligation] those who believed and kept endeavouring to protect their selves. [41:18]

اور ہم جناب نے ان کو بحفاطت وہاں سے نکال دیا تھا جو ایمان لائے تھے اور وہ محتاط طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار تھے۔


وَيَوْمَ يُحْشَـرُ أَعْدَآءُ ٱللَّهِ إِلَـى ٱلنَّارِ فَهُـمْ يُوزَعُونَ ١٩

  • Visualise the day which is not far off; when [after second blow in Trumpet] all the enemies of Allah the Exalted will be gathered to be dragged towards the Hell-Prison—Thereat, they will be distributed in restrictions, in respectively earmarked part of Hell-Prison comprising seven partitions. [41:19]

تصور کریں اُس دن کا جو زیادہ دور نہیں ہے؛ جب [دوسری بار صور پھونکے جانے کے بعد] اللہ تعالیٰ کے تمام دشمنوں کو  جمع کر کےجہنم کی قید خانے کی طرف گھسیٹ کر لے جایا جائے گا — تب انہیں  وہاں پہنچ کرقید میں پابندیوں کے ساتھ جہنم کی سات تقسیم کردہ حصوں میں ان کے اپنے مقررہ حصے میں بھیج دیا جائے گا۔

Root: و ز ع

حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيْـهِـمْ سَـمْعُهُـمْ وَأَبْصَٟرُهُـمْ وَجُلُودُهُـم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢٠

  • They kept pleading innocence until when what had brought them to her (Hell) was exposed upon them by their faculty of audition and their eyes and their skins by associating with that which they people kept doing in worldly life  [41:20]

وہ   راستے میں مسلسل  ملائکہ کواپنی بے گناہی کی دہائی دیتے رہے    یہاں تک جب  اس  کو جس نے انہیں یہاں پہنچایا تھا ان کے سماعت کے اعضا، ان کی آنکھوں  اور ان کی  جلدوں نے عیاں کر دیا ان اعمال سے الصاق کر کے جو دنیا میں کرتے رہے تھے۔

وَقَالُوا۟ لِجُلُودِهِـمْ لِمَ شَهِدتُّـمْ عَلَيْنَاۖ
قَالُوٓا۟ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِى أَنطَقَ كُلَّ شَـىْءٛ وَهُوَ خَلَقَكُـمْ أَوَّلَ مَـرَّةٛ
وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٢١

  • And they said for [to] their skins, "Why have you testified against our selves?"
    They said, "Allah the Exalted has granted us the capability of verbal oration, the One who has caused the ability of speech to everything that intelligibly communicate". Why you forget; He the Exalted is the One Who created you people in the first instance —(to help you understand the Creator fully knows in and out of his creation)
    And you will be presented before Him [on day of Resurrection] for accountability [41:21]

اور انہوں نے اپنی جلدوں  سے کہا:"تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟"
انہوں نے جواب دیا:"ہمیں اللہ تعالیٰ نے بولنے کی صلاحیت دی ہے، وہی  جناب جنہوں  نے ہر چیز کو جو سمجھنے اور بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کلام کرنے کی طاقت بخشی ہے۔"تم لوگ کیوں بھول جاتے ہو کہ وہ جناب ہیں جنہوں نے اول بار تم کو تخلیق کیا تھا(کہ ادراک کرو خالق کو اپنی مخلوق کا ہر پہلو معلوم ہوتا ہے)
متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

Root: ن ط ق; م ر ر

وَمَا كُنتُـمْ تَسْتَتِـرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُـمْ سَـمْعُكُـمْ وَلَآ أَبْصَٟرُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ
وَلَـٰكِن ظَنَنتُـمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيـرٙا مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٢٢

  • And not at all you felt ashamed and tried to hide illicit activities neither considering lest your ears and your eyes/visions and your skins might witness against you —
    Rather you people even thought that as if Allah the Exalted also does not know most of that which you people did. [41:22]

اور تمہیں   کبھی شرم محسوس  نہ ہوئی  ناجائز کاموں کو چھپانے کی کوشش  کرنے کے لئے   یہ سوچ کر کے نہ  تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور  نہ تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دے سکتی ہیں —
بلکہ تم لوگوں نے تو یہ بھی سمجھ لیا جیسے اللہ تعالیٰ کو بھی ان میں سے زیادہ تر چیزوں کا علم نہیں جو تم لوگ کرتے رہے۔

Root: س ت ر

وَذَٟلـِكُـمْ ظَنُّكُـمُ ٱلَّذِى ظَنَنتُـم بِرَبِّكُـمْ أَرْدَىٰكُـمْ فَأَصْبَحْتُـم مِّنَ ٱلُخَٟسِـرِينَ ٢٣

  • And this presumptive thought of you people, which you considered about your Sustainer Lord, has caused you this ruin —Thereby, you people have become amongst the losers". [41:23]

اور یہ تمہارا گمان، جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا، یہی تمہاری بربادی  کا باعث بن گیا  ہے—چنانچہ تم لوگ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گئے ہو"۔

Root: ر د ى; خ س ر

فَإِن يَصْبِـرُوا۟ فَٱلنَّارُ مَثْوٙى لَّـهُـمْۖ
وَإِن يَسْتَعْتِبُوا۟ فَمَا هُـم مِّنَ ٱلْمُعْتَبِيـنَ ٢٤

  • You have unambiguously and conspicuously informed people-41:13; thereat, if they persist in their resolve to refrain [Grand Qur’ān] then resultantly the abode for them is the Hell-Prison —
    Having landed therein, if they desired seeking pardon, thereat they will not be of those who are the pardoned. [41:24]

آپ (ﷺ)نے چونکہ  انہیں واضح اور کھلے طور پر آگاہ کر دیا ہے [41:13]؛ اس کے باوجود اگر وہ [قرءانِ عظیم سے]اجتناب  اور اپنی ہٹ دھرمی پراستقامت سے  قائم رہتے ہیں ، تو نتیجتاً ان کے لیے ٹھکانہ جہنم کی قید خانہ ہے — وہاں داخل ہونے کے بعد، اگر وہ معافی مانگنے کی خواہش کریں گے، تو وہ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں معاف کیا جاتا ہے۔

Root: ع ت ب

وَقَيَّضْنَا لَـهُـمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَـهُـم مَّا بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ
وَحَقَّ عَلَيْـهِـمُ ٱلْقَوْلُ فِـىٓ أُمَمٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِـهِـم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِۖ
إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ خَٟسِـرِينَ ٢٥

  • And Our Majesty have rendered their preferred companions as a shell-like enclosure for them, akin to the protective casing of an egg, confining them in delusion. These companions, exploiting their proximity, have adorned for them their past and their future, rendering both alluring and enticing.
    And the Word (that they will be thrown into Hell) has become proven and incumbent upon the people of generations, who have passed before them of human beings and Jinn species  —(read with 46:18)
    Indeed they were the people who were the losers. [41:25]

اور ہم جناب نے ان کے پسندیدہ ساتھیوں کو ان کے لئے  انڈے کے خول کی مانند ایک  ایسا حصار قرار دے دیا ہے جو انہیں گمراہی میں جکڑ لے۔ان ساتھیوں نے قربت  کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے لئے  ان کےماضی اور ان کے مستقبل کو دلفریب  اور پر کشش بنا دیا ہے۔
اور ان پر وہ فیصلہ ثابت  مستوجب ہو گیا (کہ انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا) جیسے ان پرجو ان سے پہلے گزر جانے والی انسانی اور جنات کی نسلوں کے لوگوں پر صادر ہوا تھا—
یقیناً یہ وہ لوگ تھے جو نقصان اٹھانے والے تھے۔

Root: ق ى ض; ق ر ن؛ خ ل و


وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَا تَسْمَعُوا۟ لِـهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ لَعَلَّـكُـمْ تَغْلِبُونَ ٢٦

  • Know it: those ruling elite who had refused to recognise Our sincere allegiant Muhammad (Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) as Our Universal Messenger, advised other aristocrats saying: "You should not attentively listen this Qur’ān — but Instead, you are instructed to create distracting noise within its discourse  — by introducing and spreading conjectures, palavers, frivolous arguments, myths, misleading expressions, and catch phrases associated with it — Do adopt this strategy — perhaps you may overcome its influence and retain the dominating authority." [41:26]

مطلع رہو؛ہم جناب کے مخلص بندے محمّد (ﷺ)کو  رسول کریم ماننے سے انکار کر دینے والے عمائدین  اپنی نشست میں  دوسرے سرداروں اور اشرافیہ کو یہ ہدایت دے رہے تھے:’’تمہیں  اس  ٱلْقُرْءَان   کو توجہ اور غور سے نہیں سننا چاہیے؛ بلکہ تمہیں تاکید کی جاتی ہے کہ اس کے متن میں خلط ملط پیدا کرنے والا شور و غل مچاؤ — اس کے ساتھ منسوب کر کے  قیاس آرائیوں، لایعنی گفتگو، غیر سنجیدہ دلائل، گمان پر مبنی باتوں ،  اعتراضات، خود ساختہ قصوں، گمراہ کن تعبیرات اور  چیدہ فقروں  کو مشہور کرو۔یہ حکمتِ عملی اختیار کرو — بس امید ہے کہ تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور اپنا تسلط برقرار رکھ سکو گے۔'" ۔(فصلت۔٢٦)

Root: غ ل ب

فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ عَذَابٙا شَدِيدٙا
وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ أَسْوَأَ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢٧

  • Consequently it is certain that Our Majesty will definitely cause those taste the severe punishment who persistently denied —
    And certainly Our Majesty will definitely requite them the bad effect of that which they people kept doing. [41:27]

چنانچہ یہ یقیناً حقیقت ہے کہ  ہم جناب  ان لوگوں کو سخت عذاب چکھائے گے جو مسلسل رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرتے رہے —
 اور یقیناً  ہم  جناب  انہیں اس کے بدلے میں وہ برے اثرات دیں گے  جو انہوں نے  اعمال کئے۔

Root: ذ و ق

ذَٟلِكَ جَزَآءُ أَعْدَآءِ ٱللَّهِ ٱلنَّارُۖ
لَـهُـمْ فِيـهَا دَارُ الخُلْدِۖ
جَزَآءَۢ بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٟتِنَا يَجْحَدُونَ ٢٨

  • This, the Requital and reward for the enemies of Allah the Exalted is the Hell-Prison.
    The permanent abode is reserved therein for them.
    The requital for that which they people deliberately and knowingly kept denying verbal passages of the Book of Our Majesty. [41:28]

یہی ہے، اللہ   تعالیٰ  سے  دشمنی  کا اظہاران کے رسولوں سے دشمنی  کرنے والوں  لئے بدلہ اور جزا، جہنم کی قید خانہ ہے۔
 ان کے لئے وہاں ہمیشہ کا مسکن مختص کیا گیا ہے۔
یہ سزا     ان کاہم جناب کے رسولوں کی معرفت بھیجی ہوئی آیات کی حقانیت کا ادراک کر لینے کے باوجود تردید کرتے رہنے کا نتیجہ ہے۔

Root: ج ح د

وَقَال الَّذِينَ كَفَـرُوا۟ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ نَجْعَلْهُـمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلْأَسْفَلِيـنَ٢٩

  • And those who knowingly and deliberately refused to accept the Messenger said —"Our Sustainer Lord, You show us, those who caused us the forgetful straying, from among the species Jinn and humans —We will crush them both under our feet so that they become the most abased"  [41:29]

انجام جان لو؛  جنہوں نے جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر رسول کو قبول کرنے سے انکار کیا، انہوں نے کہا: "ہمارے پروردگار! آپ ہمیں وہ لوگ دکھا دیجئے جنہوں نے ہمیں بھٹکنے کی حالت میں مبتلا کیا،  جنات اور انسانوں کےگروہ میں سے  — ہم دونوں کو اپنے قدموں تلے رگڑ دیں گے تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل ہو جائیں۔"

Root: س ف ل; ق د م


إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُـمَّ ٱسْتَقَٟمُوا۟
تَتَنَزَّلُ عَلَيْـهِـمُ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ أَ لَّاتَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِـرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِـى كُنتُـمْ تُوعَدُونَ ٣٠

  • It is true that those who said, "Our Sustainer Lord is Allah the Exalted"; and thereafter they persistently kept themselves firm in this belief —
    The Angels will descend upon them (on resurrection) for the purpose to say, "you people would not have any fear nor anything would make you grieve—And accept congratulation for the Paradise, the one which used to be promised to you people. [41:30]

ان لوگوں کے انجام کو جان لو جنہوں نے کہا تھا"اللہ تعالیٰ ہمارے مطلق رب ہیں" اور بعد ازاں حیات میں مستقل مزاجی اور خلوص سے اس پر قائم رہے:
ان کے متعلق  خبر جان لو؛ یوم  بعث حیات نو دئیے جانے پر ان   مستقل مزاجی سے راہ راست  پر رہنے والوں پر  ملائکہ یکے بعد دیگرے ،رفتہ رفتہ  بے تکان و دقت وزحمت اترتے  رہیں گے  ہیں   یہ کہنے کے لئے کہ "آپ  لوگوں کے لئے نہ کسی قسم  کے خوف اور نہ  کچھ باعث رنجیدگی ہونے کا امکان اور احتمال ہے ۔اور آپ لوگ جنت ملنے کا جشن منائیں جس کا آپ لوگوں سے بار بار وعدہ کیا جاتا رہا تھا۔

Root: خ و ف; ء ل ك; ح ز ن

نَـحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِۖ
وَلَـكُـمْ فِيـهَا مَا تَشْتَـهِىٓ أَنفُسُكُـمْ وَلَـكُـمْ فِيـهَا مَا تَدَّعُونَ ٣١
نُزُلٙا مِّنْ غَفُورٛ رَّحِـيـمٛ ٣٢

  • We were your companions/caretakers in the life of world and are so in the Hereafter—
    And whatever your selves desire it is already arranged therein (Paradise) for you people —And whatever which you people will ask it will be served for you therein— [41:31]

  • As hospitality gift by the grace of the Oft-forgiving, the Fountain of Infinite Mercy." [41:32]

ہم تمہارے ساتھی اور نگہبان تھے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھی ہیں  —
اور جو کچھ تمہارے نفوس روحیں چاہیں گی وہ پہلے ہی وہاں (جنت میں) تمہارے لیے تیار ہے —اور جو کچھ تم وہاں طلب کرو گے وہ تمہیں فراہم کیا جائے گا — 
یہ سب کچھ مہمان نوازی کے طور پر بخشش  کرنے والے منبع  رحمت  کی جانب سے ہوگا۔"

Root: ش ھ و

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلٙا مِّمَّن دَعَآ إِلَـى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٟلِحٙا وَقَالَ إِنَّنِى مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٣٣

  • And who is more appropriate and evenly poised in oral utterance than the one who called upon Allah —And conducted righteously —And said, "Indeed I aspire to be recognized and acknowledged as one of the Muslims-those who conduct their life in accordance with the Prescribed Code and Procedure: Islam," [41:33]

سوچو؛ کون ہے جو زیادہ موزوں اور متوازن انداز میں زبانی اظہار کرتا ہو اس سے بڑھ کر جو اللہ کو پکارے — اور عمل میں درست ہو — اور کہے "یقیناً میں اللہ  تعالیٰ کے سامنے  سرخم تسلیم ہونے والوں میں سے ہوں، وہ جو اپنے زندگی کو مقرر کردہ نظام اسلام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں "۔

وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ
ٱدْفَعْ بِٱلَّتِـى هِىَ أَحْسَنُ
فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَٟوَةٚ كَأَنَّهُۥ وَلِـىٌّ حَـمِيـمٚ ٣٤

  • And the appropriate and evenly poised conduct and conduct of evil import are not alike.
    You repel/avert-turn back the evil misconduct - conjecture - hearsay with that conduct and discourse which is most beautifully poised - the best conduct.
    Thereat, the one, between you and between whom is animosity, will bent like as if he is your intimate friend. [41:34]

کیا یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ  مناسب اور متوازن عمل اور برے اثرات والے عمل برابر نہیں ہو سکتے۔
آپ(ﷺ)ہر طرح کے ناروا روئیے،لغو بےسروپا الزام تراشی،برائی کے زمرے میں آنے والی باتوں پر ایسا ردعمل دے کر اسے زائل کریں جو بہترین اعتدال و توازن کا حامل ہے۔
اس کے بعد، وہ شخص جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے، جھک جائے گا جیسے وہ آپ کا قریبی دوست ہو۔

Root: د ف ع

وَمَا يُلَقَّىٰـهَآ إِلَّاٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ وَمَا يُلَقَّىٰـهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيـمٛ ٣٥

  • And this approach is not adopted/confronted except by those who remained coolly perseverant. And this approach is not adopted/confronted except by the holder of a great fortune. [41:35]

اور یہ رویہ صرف وہی اپناتے ہیں جو  ناگفتہ بہ حالات کے باوجود اپنے نظریہ پر ضبط و تحمل سے برداشت کرتے پائے اسقلال پر رہنے والے ہیں۔اور یہ رویہ صرف وہی اپناتے ہیں جو عظیم نصیب کے حامل ہوتے ہیں۔

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٟنِ نَزْغٚ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٣٦

  • And if [against those people] a partitioning-ill will thought inspiration is caused by the Shai'taan —Thereat/then in that case you make yourself seek protection with Allah the Exalted [by remembering/recalling Him against their conjectural assertions deliberately spread in society] —Indeed He the Exalted is the eternally All-Hearing, the Fountain of Knowledge - the setter of sciences. [41:36]

اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی تفریق پیدا کرنے والا خیال آپ کے دل میں ڈال دیا جائے— تو پھر اس صورت میں آپ خود کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں لے جائیں [ان کے معاشرتی طور پر پھیلائے گئے بدگمان خیالات کے خلاف یاد دہانی اور رجوع کے ذریعے]—ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔

Root: ن ز غ; ع و ذ


وَمِنْ ءَايَٟتِهِ ٱلَّيلُ وَٱلنَّـهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُۚ
لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ

وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ
إِن كُنتُـمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ٣٧

  • Look; the creation of the Night and the Day, and the Sun, and the Moon is the most prominent in His signs pointing toward His recognition as the Sustainer Lord of all that exists.
    You people should not prostrate for the Sun and nor for the Moon —
    Instead you people are hereby directed to prostrate for Allah the Exalted, He the Exalted is the One Who has created all of them—Follow the injunction if you people were rendering submissive allegiance exclusively to Him the Exalted. [41:37] 

جان لو،رات اور دن،اور سورج اور چاند ان جناب کے تخلیق کردہ  نشانیوں میں سب سے نمایاں اور ممتاز نشانی /مظاہر ہیں  جو ان کی ہستی اور ان کے رب العالمین ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ نہ سورج کے لئے اور نہ چاند کے لئے سجدہ ریز ہو۔
اور تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریز ہو جنہوں نے ان تمام کوتخلیق کیا ہے۔اس پر عمل پیرا رہو اگر تم لوگ ان جناب کی بااظہار بندگی کرنے والے ہو۔

Root: س ج د; ق م ر

فَإِنِ ٱسْتَكْـبَـرُوا۟ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّـهَارِ
وَهُـمْ لَا يَسْـَٔمُونَ۩ ٣٨

  • Thereupon if they responded making themselves obsessed/puffed with pride of grandeur and superiority, then [people should know] those people who are near your Sustainer Lord, they make efforts/frequently narrate His praises during the Night and the Day —
    And they never neglect and feel stereotype. [41:38] [Prostrate and make yourself nearer to Allah]  

اس حکم کی تبلیغ کے جواب میں اگر  اپنی بڑائی اور عظمت کو منوانے کے زعم میں  وہ رہے تو انہیں مگن رہنے دیں کیونکہ وہ لوگ جو آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے پذیرائی اور تحسین کے خواہشمند ہیں وہ رات اور دن کے اوقات میں ان جناب کوتمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہوئے ستائش کرتے ہیں۔
اوروہ تسبیح کرنے کو نظر انداز نہیں کرتے۔

Root: س ب ح; س ء م

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرْضَ خَٟشِعَةٙ
فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْـهَا ٱلْمَآءَ ٱهْتَزَّتْ وَرَبَتْۚ
إِنَّ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاهَا لَمُحْـىِ ٱلْمَوْتَـىٰٓۚ
إِنَّهُۥ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ٣٩

  • And amongst pointer manifestations-cognizable recognition signs of His providence is that you see the Earth giving look of sterile/contracted, dried and cracked—
    Thereat, when Our Majesty dropped upon her water, she thrilled with freshness and she swelled; [These are not literary expressions but narration of physical facts-Grand Qur’ān is a statement of absolute fact.]
    It is certain that the He the Exalted Who revived her (land) to life, He the Exalted is definitely the Reviver of life to the dead.
    Certainly, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon every and all things - to set them right-fix them in measure. [41:39]

پرمژدہ حالت میں لوگوں کے سوچنے کے لئے آپ کو ایک بات بتاتے ہیں؛آپ(ﷺ)زمین کے قطعہ کو  دیکھتے ہیں  کہ پرمژدہ عاجز محسوس کر رہی ہے ۔یہ ان جناب کی نشانیوں/مظاہر میں ایسی نشانی ہے جوعقل و فہم  رکھنے والوں  کو  افسردگی میں منبع رحمت اپنے رب کی جانب متوجہ کرتی ہے۔
چونکہ وہ تروتازگی پانے کی آرزومند ہے اس لئے جب ہم جناب نے اس پر پانی برسا دیا تو اچانک اس کی سطح خوشی سے جھوم اٹھی اور وہ ابھر گئی۔
یہ حقیقت ہے کہ جنہوں نے اسے(زمین)حیات نو دی یقیناًوہ مردہ ہو جانے والے کو کسی بھی وقت زندہ کرنے والے ہیں۔
ان  جناب کے متعلق اس حقیقت سے  باخبر رہو کہ ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

Root: ر ب و ; ھ ز ز


إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِـىٓ ءَايَٟتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَآۗ
أَفَمَن يُلْقَىٰ فِـى ٱلنَّارِ خَيْـرٌ أَم مَّن يَأْتِـىٓ ءَامِنٙا يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۚ
ٱعْمَلُوا۟ مَا شِئْتُـمْۖ
إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٌ ٤٠

  • Realize it; Those — scholars and clerics — who persist in associating and propagating fabricated assertions, assigning to Our verbal passages of the  Discourse, meanings contrary to their true content, are not hidden from Our Majesty. (Cf. 2:79; 3:7; 3:78; 6:93; 16:116; 22:52-53; 25:30; 41:26; 41:43; 45:6-7)
    Is then the one who is made to confront the Hell-Prison better or the one who comes as calm and tranquil secured person on the Day of Rising?
    O you — the intelligentsia — who associate fabricated assertions with the verbal passages of Qur’ān, you are at liberty to do whatever you wish and decide to do —
    But beware; certainly He the Exalted is ever watching with focus what acts you people keep performing. [41:40]

لوگ حقیقت جان لیں — وہ اہلِ علم، دانشور اور مذہبی پیشوا جو ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کی آیات میں ایسے مفاہیم جوڑتے اور پھیلاتے رہتے ہیں جو ان میں نہیں ہیں، اور یوں ان کے اصل سیاق و سباق کو بگاڑ کر من گھڑت تعبیرات رائج کرتے ہیں — وہ ہماری نگاہ سے ہرگز پوشیدہ نہیں ہیں۔
کیا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ
کیا وہ بہتر ہے جو آگ میں پھینکا جانے والا ہے؟؟ یا وہ جو یومِ قیامت میں سکون و اطمینان کے ساتھ محفوظ و مامون آتا ہے؟۔
اے
ہلِ علم، دانشور اور مذہبی پیشوا   تسلیم کئے جانے والوجو  اختراع کردہ مواد کوہمارے کلام کے ساتھ من گھڑت نسبتیں جوڑتے ہو،سنو! تمہیں اختیار دیا گیا ہے — جو چاہو کرو، جو ارادہ کرو بجا لاؤ —
مگر ان جناب کے متعلق اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ وہ  ہر لمحہ اس عمل کو  باریک بینی  سے دیکھ رہے ہیں جو تم کرتے ہو۔

Root: خ ف ى

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِٱلذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُـمْۖ
وَإِنَّهُۥ لَـكِـتَٟبٌ عَزِيزٚ ٤١

  • The fact about those people-elite of society who have purposely refused to accept the Admonisher/Grand Memoir (Grand Qur’ān) when it has reached them, they have started fabricating conjectural assertions (refer 41:40) and have adopted a slandering strategy against the Messenger [refer 41:43]
    --And the certain fact about it (Qur’ān) is that it is definitely a pervasive and dominant Book — [41:41]

ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے  نوشتہ تاریخ (قرءان مجید)کو ماننے سے انکار کر دیا ہے جب وہ انہیں آگاہ کرنے کے لئے تحریرًا پہنچ گیا ہے۔تو انہوں نے اس کے مندرجات سے من گھڑت باتیں منسوب کرنا شروع کر دیا ہے (فصلت۔٤٠)اور رسول کریم کے متعلق بے سروپا ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔(محذوف خبر کے لئے آیت ۔۴۳)
۔۔اس حال میں کہ وہ یقیناً کتاب ہے جو زمان و مکان پر غالب ہے۔۔

لَّايَأْتِيهِ ٱلْبَٟطِلُ مِنۢ بَيْـنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِۦۖ 
تَنزِيلٚ مِّنْ حَكِيـمٍٛ حَـمِيدٛ ٤٢

  • The unique feature of the Book (Grand Qur’ān) is that neither whimsical, conjectural falsity fabricated in times before it will associate with its text and nor that fabricated after its revelation, as suggested by "ٱلْغَوْا۟ فِيهِ" (refer 41:26) will ever associate in meanings with it —
    This is because this Book is gradually communicated and delivered by the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms, visible and invisible, the Praiseworthy --. [41:42]

پانی پر ابھر آنے والے جاگ اور پگھلانے پر معدنیات میں ابھر آنے والے میل کچیل کے مانند نہ تو اس سے قبل کے زمانہ میں اختراع کردہ  مواد اس کے متن   سے موافقت  /ہم آہنگی کر سکے گا اور نہ وہ  مطابقت کر سکے گا  جو اس کے نزول کے بعد لوگ  "ٱلْغَوْا۟ فِيهِ"کے حربے کے تحت اختراع کرتے رہیں گے(حوالہ فصلت۔26)۔
اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا وقفے وقفے سے اتارنا ان جناب کی جانب سے ہے جو تمام پنہاں کو جاننے والے،بدرجہ اتم انصاف پر کاربند موجودات کے فرمانروا، اورازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّامَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَۚ
إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٛ وَذُو عِقَابٍٛ أَلِيـمٛ ٤٣

  • O You the Messenger — remain assured; nothing would ever be said and shall be propagated about you and by your reference throughout the course of time except what has already been said and spread about and with reference to the Messengers sent before you, each in his nation with the Divine Book.
    Let the people know that indeed the Sustainer Lord of you-Mohammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is certainly the Oft Forgiving; but is equally and simultaneously certainly severe in awarding punishment taking the matter to its logical conclusion. [41:43]

اے رسولِ مکرم آپ مطمئن اور پُر یقین رہیں — آپ (ﷺ) کے بارے میں اور آپ سے منسوب کرکے   من گھڑت جو کچھ  زمان میں کہا جاتا رہے گاسوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا جو آپ(ﷺ)سے قبل رسولوں کے بارے میں اور ان کے حوالے سے کہا اور پھیلایا جا چکا ہے جنہیں اقوام عالم میں   اپنی کتاب کے ساتھ مامور فرمایا تھا۔
یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ آپ(ﷺ)کے رب لوگوں کے لئے درگزر اورکچھ عرصہ کے لئے معاف رکھنے کے صاحب اختیار ہیں۔اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب معاملات کا  تکمیل اور دردناک انجام  تک پیچھا کرنے والے ہیں۔

وَلَوْ جَعَلْنَٟهُ قُرْءَانًا أعْجَمِيّٙا لَّقَالُوا۟ لَوْلَا فُصِّلَتْ ءَايَٟتُهُۥٓۖ ءَا۬عْجَمِىٌّ ۭوَعَـرَبِـىّٚۗ
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هُدٙى وَشِفَاءٚۖ
وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِـىٓ ءَاذَانِـهِـمْ وَقْرٚ وَهُوَ عَلَيْـهِـمْ عَمًىۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٛ ٤٤

  • Know it, had Our Majesty rendered it (Qur’ān in Arabic) as a transcription in some language of Non-Arab land, [contrary to their present assertions of teaching by a Non-Arab-16:103] —Certainly they would have said to people exclaiming: "Why its Aa'ya'at: Verbal Passages (of Qur’ān in non-Arabic language) are not rendered distinct? Can a Non Arab: indistinct language and Arabic: distinct-eloquent language of the sons of soil of Arabian Peninsula be considered corresponding?"
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "It (Qur’ān in Arabic) is guidance: regulatory information for aright conduct and healer for all those (whether Arab or Non Arab) who have heartily accepted it."
     Know about those who do not believe in the Hereafter — heavy load is deposited within their ears: acoustic impedance is persisting in their ears. And it (Qur’ān) enshrouds - obscures not reflecting light upon them (whether they are Arabs or Non-Arab). [Read with 17:45]
    They are the people as if they are being called to listen it (Qur’ān) from a far distant place. [41:44]

(ان کی تعلیم ِقرءان کی ہرزہ سرائی  قابل اعتنا نہیں)۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم جناب نے اس(عربی زبان میں ٱلْقُرْءَانُ)کو لفظ بلفظ غیر عرب علاقے کی زبان میں منطبق کر دہ متن بنادیا ہوتا۔تو یقیناً لوگوں کے سامنے یہ کہتے’’کیوں اس (عجمی زبان کے قرآن)کی آیات کوتشریح و تصریح اور فیصل انداز میں بیان نہیں کیا گیا؟کیا عجم کی زبان اور عرب کی زبان  کو لفظاً منطبق کیا جا سکتا ہے؟‘‘۔
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’وہ(عربی میں مدون
ٱلْقُرْءَانُ)سرچشمہ ہدایت  اورسینوں میں پنپنے والی کجی کے لئے شفاء ہے ان لوگوں کے لئے جو صدق قلب سے اس پر ایمان لائے ہیں۔
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جوآخرت  پر ایمان نہیں لاتے۔۔ ایک بوجھ  ان کے اپنے بقول (فصلت۔۵)ان کے کانوں میں ایسا ہے جو سماعت میں مانع ہے۔
اور وہ(قرءان مجید)ان لوگوں کے فہم پر ایسے ہے جیسے غلاف بند حالت میں ہو جس سے نور ان کی آنکھوں کو نہیں پہنچتا۔(الاسراء۔۴۵ بھی پڑھیں)۔
یہ لوگ ایسے ہیں جیسے انہیں انتہائی دور  واقعہ جگہ سے پکارا جا رہا ہے۔(فصلت۔
٤٤)

تعجب خیز نادِر عنوان "ٱلْقُرْءَانُ"

Literary device:    Human Ear - Acoustic impedance   Root: ع ج م; ع ر ب;و ق ر;ع م ى


وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِـتَٟبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِۗ
وَلَوْلَا كَلِمَةٚ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْۚ
وَإِنَّـهُـمْ لَفِـى شَكّٛ مِّنْهُ مُرِيبٛ ٤٥

  • Know the fact, Our Majesty had given to Mūsā [alai'his'slaam] the Book. Since it hit their self-interests and exigencies, therefore, its contents were disputed by popularising different content in its place.
    And had a word of promise-decision not preceded granting a respite period by your Sustainer Lord (refer 16:61), the matter would have been ended between them.
    Moreover, the fact is that they (Bani Iesraa'eel) are certainly plunged in doubt regarding it (the Book), the doubt having characteristic trait of causer of disquiet, irritation, and disconcert [41:45]

 ماضی کی یہ حقیقت بھی جان لو؛ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔چونکہ مفادات پر زد پڑتی تھی اور مصلحتوں کے برعکس بیان تھا اس لئے اس کے مندرجات سے باہمی اختلاف کیا گیا،مختلف باتوں کو سامنے لایا گیا۔
مطلع رہو کیوں ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے؛ اگر  آپ(ﷺ)کے رب کی جانب  سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر  کرنے کے  متعلق بات  بتا نہ دی گئی ہوتی (حوالہ النحل۔61) تو ان کے مابین اسی وقت  اس معاملے کو ختم کر دیا جاتا  (جس  میں وہ باہمی اختلاف کر رہے ہیں)۔
اب ان کاحال یہ ہے کہ یقیناً  اس(قرءان مجید)سے برآمد ہونی والی معلومات سے ایسے شک میں مبتلا ہو گئے  ہیں جو انہیں متردد کیفیت میں گاہے بگاہے کر دیتا ہے۔

Root: ش ك ك; ر ى ب; م ر ى

مَّنْ عَمِلَ صَـٰلِحٙا فَلِنَفْسِهِۦۖ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْـهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـٰمٛ لِّلْعَبِيدِ ٤٦

  • Whoever conducts their actions with perfection and excellence, they are indeed paving the way for ease and favour for their own selves as a result. And whoever engages in wrongdoing, the consequent harm falls upon their own selves. And indeed, your Sustainer Lord is never unjust, not even to the slightest degree, towards His subjects. [41:46]

جو بھی اپنے اعمال کو عمدگی اور کمال کے ساتھ انجام دیتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے نفس کے لئے انجام کو آسان اور خوشگوار بنا رہا ہے۔ اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے تو اس کا نقصان بھی اسی کے نفس پر ہوگا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ  آپ(ﷺ)کے رب کبھی بندوں کے ساتھ قطعاً زیادتی کرنے والے نہیں ہیں۔

إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِۚ
وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَـرَاتٛ مِّنْ أَكْمَامِهَ
وَمَا تَحْـمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّابِعِلْمِهِۦۚ 
وَيَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ أَيْنَ شُرَكَآءِى قَالُوٓا۟ ءَاذَنَّـٟكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٛ ٤٧

  • The quest for the knowledge of the Appointed Moment is always referred towards Him the Exalted (your Sustainer Lord - that it is guarded secret known only to Him).
    And no part of various fruits comes out of their coverings/wrappings —
    And neither a single female amongst feminine creatures uplifts pregnancy-conceives; nor she delivers the pregnancy except by the prior knowledge of Him the Exalted.
    Be informed, the Day He the Exalted will call them: the polytheists and ask them: "where are My partners?" They said: "We have pronounced before Your Majesty that there is none amongst us as witness to testify existence of partners." [41:47]

 اس مخصوس ساعت کے متعلق علم کے سوال کو  ان (آپ ﷺکے رب) کی جانب پلٹا دیا جاتا ہے (کہ یہ صرف انہیں معلوم ہے)۔
اور پھلوں کے کسی ایک خوشے سے بھی کوئی پھل نہیں نکلتا
 اور نہ کوئی مؤنث حمل کا وزن اٹھاتی ہے اور نہ وہ وضع حمل کرتی ہے  مگرسوائے  اس حال
میں کہ یہ
ان جناب کے پیشگی علم  کے دائرہ میں ۔
جان لو؛جس دن  وہ جناب  انہیں پکار کرپوچھیں گے"میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم اس زعم کا اظہار کرتے تھے کہ تمہارے  لئے شفاعت کریں گے؟"انہوں نے کہا"آپ کے حضور ہم اعلان کر چکے ہیں ہم میں کوئی ایک بھی نہیں جو ان کے موجود ہونے کی شہادت دے سکے"۔

Root: س و ع;ك م م؛ و ض ع

وَضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَدْعُونَ مِن قَبْلُۖ وَظَنُّوا۟ مَا لَـهُـم مِّن مَّحِيصٛ ٤٨

  • And that lost/vanished from them what they kept calling earlier in worldly life — And they evaluated that for them there is no escape. [41:48]

اور ان کے تصور سے وہ معدوم ہو گیا جسے زمانہ قبل میں وہ پکارتے رہتے تھے۔اور انہوں نے اندازہ کر لیا کہ اب ان کے لئے بچت اور فرار کی کوئی سبیل نہیں۔(فصلت۔۴۸)

Root: ح ى ص

لَّايَسْـَٔمُ ٱلْإِنسَٟنُ مِن دُعَآءِ ٱلْخَيْـرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّـرُّ فَيَـُٔـوسٚ قَنُوطٚ ٤٩

  • The man does not feel boredom praying for seeking the betterment —And if the infliction/adversity has touched him thereat he feels disappointed despairing. [41:49]

انسان کبھی کوتاہی اور اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ہر قسم کی بھلائی اور آسودگی کو طلب کرنے کی دعا کرنے میں۔اور جب  ناگفتہ بہ حالات اس کو پیش آتے ہیں تو وہ قنوطیت کا شکاریاسیت پسند بن جاتا ہے۔

Root: س ء م;  ش ر ر;  ى ء س;  ق ن ط

وَلَئِنْ أَذَقْنَٟهُ رَحْـمَةٙ مِّنَّا مِنۢ بَعْدِ ضَـرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِـى وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٙ وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَـىٰ رَبِّـىٓ إِنَّ لِـى عِندَهُۥ لَلْحُسْنَىٰۚ
فَلَنُنَبِّئَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَلَنُذِيقَنَّـهُـم مِّنْ عَذَابٍٛ غَلِيظٛ ٥٠

  • And when Our Majesty make him taste affluence and pleasantness, by the grace of Our Majesty, after the affliction which had affected him—He will henceforth certainly say [boisterously], "This is for me, and I do not think that the Last Moment will happen —And even if I am returned towards my Sustainer Lord, certainly for me from Him shall be the best."
    Thereat, it is certain that Our Majesty will definitely inform those who deliberately and persistently refused to accept/believe about that which they people kept doing. And it is certain that Our Majesty will definitely cause them taste from severe compacted torment [41:50]

بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛ اگر ہم جناب اس  کو اس تکلیف سے جس میں وہ مبتلاتھا نجات دے کر  بعد میں آسانیوں اور خوشگواریوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کر دیں :تو  آئندہ کہے گا"یہ  میرے لئے میرے علم کا ثمر ہے۔اور  میں نہیں سمجھتا  کہ آخری ساعت سمجھے جانے والی گھڑی کبھی قائم ہو گی۔   اور اگر فرض محال مجھے اپنے رب کی جانب پلٹا بھی  دیاگیا تو یقیناً  ان کی جانب سے میرے لئے بہترین انعام و اکرام  ہو گا"۔
 حیات نو دئیے جانے پر یقیناً ہم ان لوگوں کو، جنہوں نے جان بوجھ کر اور مسلسل  رسول اللہ کاانکار کیا، اُن اعمال کے بارے میں ضرور آگاہ کریں گے جو وہ انجام دیتے رہے۔ اور یقیناً ہم انہیں شدید اور سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔

Root: ذ و ق; س و ع; ذ و ق;  غ ل ظ

وَإِذَآ أَنْعَمْنَا عَلَـى ٱلْإِنسَٟنِ أَعْـرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّـرُّ فَذُو دُعَآءٍٛ عَـرِيضٛ ٥١

  • And when Our Majesty bestowed graces upon the man he knowingly refrained [feeling obliged and thankful] and he tilted to his own side/vested interests. And when liquefying adversity touched him thereat he has the habit of making lengthy supplication. [41:51]

بعض لوگوں کے رویئے جان لو؛جب ہم جناب انسان کو نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو احسان مند اور مشکور ہونے سے اعراض کرتا ہے اور ان جناب سے دور ہو کر خود اپنے میں مگن ہو جاتا ہے۔اور جب  ناگفتہ بہ حالات اس کو پیش آتے ہیں تو پھر لمبی لمبی دعا کرنے والا صاحب بن جاتا ہے۔

Root: ش ر ر


قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ثُـمَّ كَفَـرْتُـم بِهِۦ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِـى شِقَاقِۭ بَعِيدٛ ٥٢

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Have you people given a thought to the proposition that if it (Qur’ān) is the Discourse sent by Allah the Exalted - thereafter you have refused to accept it: Who is more neglectful than him who is in a determined - prolonged opposition just for retaining separate identity?" [41:52]

آپ(ﷺ)اتمام حجت کے لئے آخری بات ان کے غور کرنے کے لئے کہہ دیں جو قرءان مجید کو آپ کی تصنیف قرار دیتے ہیں:’’کیا تم لوگوں نے اس نکتے پر غور کیا ہے کہ  تمہارے پاس  مستقبل میں عذر کیا ہو گااگر وہ(قرءان مجید)واقعی اللہ تعالیٰ کی جانب سے   اس انداز میں منزَل ہے کہ شواہد و دلائل سے مدون ہے مگر باوجود اس کے بعد ازاں تم لوگوں نے اس کا انکار کر دیا تھا۔اس شخص سے بھلا کون زیادہ منحرف اورگم کردہ عقل ہو گا جو دوسروں سےانتہائی الگ شناخت رکھنے پر بضد ہے۔

Root: ش ق ق

سَنُرِيـهِـمْ ءَايَٟتِنَا فِـى ٱلْءَافَاقِ وَفِـىٓ أَنفُسِهِـمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّـنَ لَـهُـمْ أَنَّهُ ٱلْحَقُّۗ
أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ شَهِيدٌ ٥٣

  • Our Majesty shall henceforth persistently manifest Our tangible signs — within the expansive horizons of the Universe and within the intricate depths of their own biological selves— to the visual faculty of those who deny the Divine authorship of Qur’ān; with the deliberate intent that the Infallible Reality of this Discourse (Qur’ān) explicates itself to them as having been sent by their Sustainer Lord.
    Is it not sufficient for them to realize that Sustainer Lord of you the Messenger is the Ultimate Observer— the Omnipresent Witness over every single thing across all time and space? (Cf. 27:93) [41:53]

  • ہم جناب  مستقبل  میں آفاق کے گوشے گوشے اور خود اُن کے جسموں میں پنہاں مادی حقیقتوں  کوگاہے بگاہے   ان لوگوں کی بصارت کے سامنے آشکار کرتے رہیں گے جوقرءان مجید کوکتاب اللہ ماننے سے انکاری ہیں۔انہیں مشاہدہ کرانے کا متعین مقصد یہ ہے کہ اس کلام کی لاریب حقیقت  ان پر خود اپنی وضاحت کر دے  کہ یہ  بیان حقیقت(قرءان مجید)ان کے رب کی جانب سے ان کے لئے بھیجا گیا ہے (محمَّد ﷺ کی تصنیف نہیں )۔
    کیا  ان کا رویہ اس وجہ سے ہے کہ ان کے ادراک کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ آپ(ﷺ)کے  رب   نگران اعلیٰ ہیں، ہر ایک ایک شئے پر نگران ہیں۔ (فصلت۔۵۳)

أَ لَآ إِنَّـهُـمْ فِـى مِرْيَةٛ مِّن لِّقَآءِ رَبِّـهِـمْۗ
أَ لَآ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَـىْءٛ مُّحِيطُۢ ٥٤

  • But the fact is that they are certainly in suspicion regarding confronting the accountability by their Sustainer Lord.
    And the fact is that He the Exalted always encompasses (absolute command of) each and every thing. [41:54]

اس حقیقت کو مدنظر رکھو کہ یہ لوگ دراصل اپنے رب کے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کے انتباہ کے متعلق متردد گومگو کی کیفیت میں ہیں۔
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر ایک ایک شئے/معاملے  کا مکمل احاطہ کرتے ہیں۔

Root: ح و ط

 

042-سُوۡرَةُ الشُّوْرىٰ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ ١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added. [42:01]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

عٓسٓقٓ ٢

  • Ayn Seen Qaaf. Two consonants of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎),  mutually conjoined; all three have ancillary glyph/prolongation sign/mark. It reflects that the Grand Qur’ān is in the language that has letters and other marks, representing that its writing system is letter-diacritic combination based, resulting in the combination of sounds that form a syllable, rather than a single sound. [42:02]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ع‘‘اور ’’س‘‘اور "ق" بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

كَذَٟلِكَ يُوحِـىٓ إِلَيْكَ وَإِلَـى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٣

  • Like the alphabet and diacritical marks; Allah the Exalted verbally communicates [His Parlance-Book] to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]; and likewise was conveyed to those Messengers who were before you—He the Exalted is the Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [42:03]

اور  اس  ابجد پر مشتمل  انداز بیان میں  اللہ تعالیٰ  آپ(ﷺ)کی جانب    اپنا کلام وحی  کر رہے ہیں  اور اسی ابجد والی زبان  میں ان کی جانب  وحی کیا تھا جنہیں آپ (ﷺ)سے قبل  رسول مبعوث فرمایا تھا؛وہ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۖ

  • Realize it, Whatever exists in the Skies and the Earth are subservient-dependant-subjects for Him the Exalted

جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔

وَهُوَ ٱلْعَلِـىُّ ٱلعَظِيـمُ ٤

  • Remain vigilant; He is the One and only Exalted Supreme, the Greatest - the Almighty.  [42:04]

آگاہ رہو؛وہ جناب  اپنے آپ میں لازوال عالی مقام ہیں؛ابدی عظیم ترین ہیں۔

تَكَادُ ٱلسَّمَٟوَٟتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّۚ

  • The Skies are almost nearing to self revert to original state by its effect above them [for reason people have put forth/conjectured an abominable commotional thing-19:89-90] —

 قریب ہے کہ ان کے اوپر سے آسمان اپنے آپ کو ازخوداس قول سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے اصل ئکجا حالت میں کر لیں۔(اس خلفشار سے کہ انہوں نے الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام کے حوالے سے بیٹا اپنانے کا اعلان کیا ہے۔حوالہ مریم۔89-90)—

Root: ف ط ر;  ك و د; ف و ق

وَٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّـهِـمْ

  • While the Angels repetitively mention the Glory with praises of their Sustainer Lord —

اور ملائکہ  ان جناب کو تمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہمہ وقت ستائش کرتے برسرپیکار رہتے ہیں  اپنے رب کی عظمت و برتری اور شرف و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے۔

Root: ء ل ك

وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِـى ٱلۡأَرْضِۗ

  • And they have assigned for themselves at their own the task of seeking forgiveness for those who are true believers on Earth.

اور وہ ان کے لئے جو زمین پر حقیقی معنوں میں مومن ہیں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے خواستگار ہیں۔

أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ٥

  • Unquestionably it is a fact that Allah the Exalted is He Who is Oft-Forgiving, the Fountain of Infinite Mercy [42:05]

مگر یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ    درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْـهِـمْ

  • Be patient, people who have purposely adopted satanic-minded people as their patrons, colleagues, trailblazers besides Him the Exalted — Allah the Exalted is ever observant upon them—

آپ(ﷺ)صبر کریں ؛                     وہ لوگ  جنہوں نے دانستہ                                                                                                                                        شیاطین  کو اللہ تعالیٰ سے پرے ہٹ کر اپنے خیر خواہوں کے طور اپنا لیا     ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر مطلق نگہبان ہیں۔

وَمَآ أَنتَ عَلَيْـهِـم بِوَكِيلٛ ٦

  • While you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are not assigned the responsibility to act as disposer of affairs and caretaker upon them/humanity. [He pronounced it 6:66;10:108] [42:06]

اور آپ (ﷺ)ان کے انحراف اور گمراہی پر رہنے اور ہو جانے کے قطعی ذمہ دار نہیں ہیں۔(اس لئے آپ سے دوزخ میں جانے والوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔حوالہ البقرۃ۔119)

وَكَذَٟلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ قُرْءَانًا عَـرَبِيّٙا
لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَـهَا
وَتُنذِرَ يَوْمَ ٱلْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِۚ
فَرِيقٚ فِـى ٱلْجَنَّةِ وَفَرِيقٚ فِـى ٱلسَّعِيـرِ ٧

  • And likewise Our Majesty have verbally communicated to you, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], a scripted discourse characteristically in language of Arabian peninsula— Arabic, a perspicuous, eloquent language (Cf. 12:02;13:37;16:103;20:113;26:195; 39:28;41:03; 41:44;42:07;43:03;46:12) —
    The intended objective is to give you, the Messenger, the mandate to forewarn  the population of the Mother of cities [Mecca-the Sanctified City] and all those who inhabit around it (Cf. 6:92)—
    And to give solemn warning of the Day of Gathering. There shall absolutely be no perplexity about rigorous judicial scrutiny in it (contrary to what people feign today). (Cf. 3:09; 3:25;4:87;6:12;42:07;45:26)
    On that Day, a group will be escorted into the Paradise, and a group will be dragged into the Scorching Hell-Prison. (Cf. 19:86) [42:07]

اور  اس  ابجد پر مشتمل کلام کےانداز  میں ہم جناب نے آپ(ﷺ)کی جانب جزیرہ عرب کی زبان میں تحریراور مدون  کردہ  متن (بعنوان ٱلْقُرْءَان)زبانی پہنچایا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد اور غایت  آپ(ﷺ)کو یہ منصبی اختیار دینا ہے کہ آپ ام القریٰ(مکہ مکرمہ)کے باشندوں اور اس کے اطراف و اکناف میں بسنے والے تمام لوگوں کو کفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار فرماتے رہیں۔
اور یہ کہ آپ(ﷺ) اجتماع والے دن کے متعلق انتباہ کرتے رہیں۔یہ  وہ دن ہے
جس میں کڑے احتساب کے بارے میں قطعاً کوئی وہم، خبط اور تذبذب باقی نہیں رہے گا(برعکس اس کے جو لوگ آج بناوٹی اظہار کرتے ہیں) ۔
اس دن  لوگوں  کے ایک فریق کو
نہایت عزت و احترام   سے جنت میں لے جایا جائے گا اور  دوسرا فریق جہنم میں جھلسنے کے لئے دھکیل دیا جائے گا۔(الشوریٰ۔٧)

Root: ع ر ب; ق ر ء; ر ى ب;س ع ر

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَـهُـمْ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙ

  • [to differ is the right and prerogative granted to man] And had it been the Will/desire of Allah the Exalted, He would have certainly rendered them/people as singular homogeneous entity/fraternity [by exercising infinite power and dominance and taking away the freedom of will/choice; but that was not the intent of creation].

یہ اختلافات رہیں گے،وگرنہ اللہ تعالیٰ  نےاگرایسا چاہا ہوتا تو ان لوگوں کو ایک ہم خیال و نظریہ جماعت بنا دیتے(مگر صاحب حریت بنایا ہے)۔

وَلَـٰكِن يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِـى رَحْـمَتِهِۦۚ

  • But [does not seize the freedom of choice/will, therefore, whoever turns to Him] He the Exalted will enter them about whom He judiciously decides to be included with those deserving His Mercy— —

صاحب حریت ہونے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جناب جس کسی کے متعلق  عدالتی فیصلہ کریں گے اسے اپنی رحمت کے حقدار لوگوں میں شامل کریں گے۔

وَٱلظَّٟلِمُونَ مَا لَـهُـم مِّن وَلِـىّٛ وَلَا نَصِيـرٛ ٨

  • And as for the mischief-mongers/unjust/distorters of fact, there will neither be a guardian/protector and nor there shall be any from helpers for them. [42:08]

متنبہ رہو؛حقیقت کے منافی بگاڑ پیدا کرنے والوں کے مجرم قرار دئیے جانے پر قطعی کوئی بہی خواہ اور نہ کوئی مدد کرنے والاان کے لئے کھڑا ہو گا۔

أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَۖ

  • Or have they at their own determining [on mere presumptive conjectures] have held guardians other than Him the Exalted, as protectors?

کیا انہوں نے اپنی ہی خواہش اور قیاس پر مبنی فیصلہ کرتے ہوئے، اللہ کے سوا کسی اور سرپرست  کو اپنے محافظ کے طور اپنا لیا ہے؟

فَٱللَّهُ هُوَ ٱلْوَلِـىُّ

  • Then they have false hopes of protection; since Allah the Exalted is the only Who is the Protector and Omnipresent companion.

پھر تو وہ محض جھوٹی امیدوں کے سہارے جی رہے ہیں، کیونکہ حقیقت میں صرف اللہ ہی ہے جو محافظ اور ہر جگہ موجود ساتھی ہے۔

وَهُوَ يُحْـىِ ٱلْمَوْتَـىٰ

  • And that He the Exalted is the One who revives to life the dead.

اور وہ جناب ہیں جوموت کے بعد مردے کو حیات دیتے ہیں۔

وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٩

  • Remain cognizant, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm. [42:09]

خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

وَمَا ٱخْتَلَفْتُـمْ فِيهِ مِن شَـىْءٛ فَحُكْـمُهُۥٓ إِلَـى ٱللَّهِۚ

  • [Reverting from parenthetic] You, the Messenger Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam, declare: "In whatever matter you people deliberately differ and oppose by design and motive, since I am not the judge, its judgement solely rests with Allah the Exalted —

آپ(ﷺ)اعلان فرما دیں:"جس معاملے میں بھی تم لوگ جان بوجھ کر، ارادے اور مقصد کے تحت اختلاف کرتے اور مخالفت برپا کرتے ہو، تو چونکہ میں فیصلہ کرنے والا نہیں ہوں، لہٰذا اس کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

ذَٟلِـكُـمُ ٱللَّهُ رَبِّـى

  • Therefore, realize that Allah alone is the Sovereign Judge, my Sustainer Lord —

لہٰذا سمجھ لو کہ صرف اللہ ہی حاکمِ اعلیٰ اور فیصلہ کرنے والا ہے، جو میرا پروردگار ہے —

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ١٠

  • Upon Him alone do I place my trust, and towards Him alone do I continually turn in submission." [42:10]

میں ان پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتے ہوئے، بہتر انجام کی امید کے ساتھ اپنے تمام معاملات ان کے سپرد کر دیتا ہوں، اور انہی کی جانب مسلسل رجوع کرتا ہوں"۔

Root: ن و ب


فَاطِرُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ
جَعَلَ لَـكُـم مِّنْ أَنفُسِكُـمْ أَزْوَٟجٙا
وَمِنَ ٱلْأَنْعَٟمِ أَزْوٟجٙاۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِۚ
لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَـىْءٚۖ 
وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيـرُ ١١

  • He the Exalted is the Primordial Originator of the Skies and the Earth (Cf. 6:14; 12:101; 14:10; 35:01; 39:46; 42:11)—
    He the Exalted has disposed for you—from within your own species—pairs/mates, and of the mammals, pairs likewise; He demographically increases and disperses you through this systemic binary composition.
    There is absolutely nothing—no physical matter, no living entity, nor any conceptual likeness—that can serve as a representational image of Him the Exalted.
    And He the Exalted is eternally the Absolute Listener—capturing every frequency—and the Absolute Observer—with every act and entity in His constant Focus-surveillance. (Cf. 17:01; 40:20; 40:56) [42:11]

وہ جناب آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود پذیر فرمانے والے ہیں۔(Cf. 6:14; 12:101; 14:10; 35:01; 39:46; 42:11)
ان جناب نے
تمہارے لئے
—تمہاری اپنی ہی نوع (انسان)میں سے— ا  یک دوسرے کا ہمسر جوڑا قرار دیا ہے۔اور اسی طرح ان جناب نے چارہ خور بکثرت دودھ دینے والے چوپایوں میں ہمسر جوڑے بنائے ہیں۔اس باہمی ہمسر جوڑے،منظم ثنائی ترکیب  کی حالت  میں وہ جناب تم لوگوں کو آبادیاتی پھیلاؤ دیتے ہیں۔
قطعی طور پر کوئی تمثیلی شبیہ (Representational Image) ممکن نہیں ہے—نہ کوئی مادی شے، نہ کوئی جاندار وجود، اور نہ ہی کوئی ذہنی و فکری تصور اس کی مشابہت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔(کیونکہ وہ جناب شئے نہیں ہیں)۔
اوروہ جناب ہر لمحہ ہر آواز،صوت کو بغور سننے
— ہر ارتعاش اور فریکوئنسی کو گرفت میں  لینےوالے ہیں،ہر لمحہ ہر شئے ،ہر عمل کو احاطہ بصارت  اور ہمہ وقت نگرانی (Surveillance)میں رکھنے والے ہیں۔(الشوریٰ۔١١)

Root: ف ط ر

جَعَلَ لَـكُـم مِّنْ أَنفُسِكُـمْ أَزْوَٟجٙا

  • He the Exalted has declared/appointed for you people the member of opposite sex of your species as mates/spouses —

ان جناب نے ان کو جو  تمہارے نفوس ہی میں سے ہیں  تمہارے لئے ایک دوسرے کا ہمسر جوڑا قرار دیا ہے۔

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٟمِ أَزْوٟجٙاۖ

  • And He the Exalted has rendered the members of opposite sex of species mammals as mates —

اور اسی طرح ان جناب نے چارہ خور بکثرت دودھ دینے والے چوپایوں میں ہمسر جوڑے بنائے ہیں۔

يَذْرَؤُكُمْ فِيهِۚ

  • He the Exalted spreads - demographically increases you people in it (binary composition of species).

اس باہمی ہمسر جوڑے کی حالت  میں وہ جناب تم لوگوں کو آبادیاتی پھیلاؤ دیتے ہیں۔

Root: ذ ر ء

لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَـىْءٚۖ

  • There is not at all a physical object: matter and living for the purpose of imaging and visually representing Him the Exalted.

قطعی کوئی بھی  شئے،مادہ اور حیات،نہیں ہے جو ان جناب کو متصور کرنے کے لئے  ان کے لئے نمائندہ مثال بن سکے(کیونکہ وہ جناب شئے نہیں ہیں)۔

وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيـرُ ١١

  • And He the Exalted is eternally the Listener [of what is said, at whatever frequency] and is of Vision - everything/act is in His focus. [42:11]

اوروہ جناب ہر لمحہ ہر آواز/صوت کو بغور سننے والے ہیں،ہر لمحہ ہر شئے کو احاطہ بصارت میں رکھنے والے ہیں۔

لَهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ

  • The keys of treasures of the Skies and the Earth are in exclusive control of Him the Exalted —

آسمانوں اور زمین میں پیوست خزائن کی ملکیت اور تقسیم کا فیصلہ ان کی صوابدید ہے۔

Root: ق ل د

يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُۚ

  • He the Exalted expands the sustenance for the one He willed and restricts to measure for one He willed —

وہ جناب ہیں ہیں جو اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔

Root: ب س ط

إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ١٢

  • Indeed He the Exalted is intrinsically and eternally the Knower of all the physical realm [42:12]

ان جناب کے متعلق یہ حقیقت  ہے کہ وہ جناب ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔


شَرَعَ لَـكُـم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٙا

  • He the Exalted has ordained for you people the Path-Fountain of perpetual flow/ Source/ Ordinance - Code of Conduct that which He had enjoined on Noah [alai'his'slaam]—

ان جناب (رسول کریم کے رب)نے اُس کو منبع آب ِحیات تم لوگوں کے  لئے قرار دیا ہےجس کا انہوں نے نوح(علیہ السلام)کواس کے ساتھ پابند رہنے کا کہا تھا۔

Root: ش ر ع

وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ

  • And He the Exalted has ordained for the people the Path-Fountain of perpetual flow/Source/ Ordinance - Code of Conduct that (Qur´ān) which Our Majesty have verbally communicated to you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]—

اور انہوں نے اس ایک کو تمام انسانوں کے لئے منبع آبِ حیات قرار دیا ہے جس کو ہم جناب نے آپ(ﷺ)کو زبانی پہنچایا ہے(قرءان عظیم)۔

وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٟهِيـمَ وَمُوسَـىٰ وَعِيسَىٰٓۖ

  • And Our Majesty has ordained for you people the Path-Fountain of perpetual flow/Source/ Ordinance - Code of Conduct that which was enjoined upon Iebra'heim (alai'his'slaam. honorific father of Muslims), and upon Mūsā [alai'his'slaam] and upon Easa [alai'his'slaam, the like of Adam]—

اور انہوں نے اُس  کو تمام انسانوں کے لئے منبع آبِ حیات قرار دیا ہے جس کا ہم جناب نے  ابراہیم (علیہ السلام،مسلمانوں کے جد امجد)اور موسیٰ (علیہ السلام )اور عیسیٰ (علیہ السلام، مثل  ءادم) کواس کے ساتھ پابند رہنے کا کہا تھا۔

Root: و ص ى

أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِۚ

  • That Universal Ordinance is this command: "you people keep yourselves firm and steadfast for the Prescribed Code of Conduct and Procedure, and you people are hereby prohibited to transform yourselves cleaving divisions -sects in it."

وہ منبع آب حیات کی جانب لے جانے والی شاہراہ یہ حکم ہے کہ"اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ (الدین)دستور حیات کو تم لوگ نافذ العمل رکھ کر اس پر قائم رہو اور  تمہیں منع کیا جاتا ہے کہ اس  دستور کے مندرجات میں  زیر مقصد درزیں اور دراڑیں پیدا کرو"۔

كَبُـرَ عَلَـى ٱلْمُشْـرِكِيـنَ مَا تَدْعُوهُـمْ إِلَيْهِۚ

  • This universally ordained Ordinance; towards which you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] invite them, is heavy upon those who refuse to accept you the Messenger and worship hand-sculpted Statues calling them as various iela'aha: godheads [exactly as it was heavy upon the polytheists who denied to believe Noah alai'his'slaam; refer 10:7]

وہ شاہراہ آب حیات  جس کی جانب آپ(ﷺ)انہیں آنے کی دعوت دے رہے ہیں وہ آپ (ﷺ)کو رسول ماننے سے انکار کرنے والے بت پرستوں پر بہت بھاری ہے۔(ویسے ہی جیسے نوح علیہ السلام کا انکار کرنے والے مشرکین پر بھاری تھا۔حوالہ یونس۔71)

ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ

  • Allah the Exalted chooses for grouping towards Him the one whom He wills—

اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اپنی جانب آنے کے لئے پسند فرماتے ہیں۔

وَيَـهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ١٣

  • And guides towards Him the one who determines to turn on the Ordained Straight Path. [42:13]

اور وہ جناب اپنی جانب آنے والے شاہراہ آب پر اس شخص کو ہدایت سے نواز دیتے ہیں جو اس راہ سے متعارف ہوتے ہوئے واپس لوٹتا ہے۔

Root: ن و ب

وَمَا تَفَرَّقُـوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُـمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيَاۢ  بَيْنَـهُـمْۚ

  • However, despite being commanded to uphold the Prescribed Code and not create divisions, they fragmented into separate identities only when the knowledge based on absolute reality (Allah’s Book, Injeel) had made clear to them. The cause of this division was that one group harbored stubborn opposition, resentment, discord, and enmity against the other.

مگر  باوجود اس کے کہ انہیں دین کو قائم رکھنے اور تفرقہ نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا تھاانہوں  نے   اپنے آپ کو الگ الگ گروہوں میں اس کے بعد بانٹ لیا    جومبنی بر حقیقت علم(اللہ کی کتاب، انجیل)نے ان پر واضح کر دیا تھا،اس کا سبب  ان کے مابین ایک گروہ کی   دوسرے سےضد،  کدورت، چپقلش اور عداوت تھی ۔

وَلَوْلَا كَلِمَةٚ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ مُّسَمّٙى لَّقُضِىَ بِيْنَـهُـمْۚ

  • And had it not been for the word from your Lord—foreordaining a deferred judgment until a specified term—their matter would have been settled among them in that very era.

اور اگر  آپ(ﷺ)کے رب کی جانب  سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر  کرنے کے  متعلق بات  بتا نہ دی گئی ہوتی  تو ان کے مابین  معاملے کو  اسی دور میں  ختم کر دیا جاتا  ۔

Root: س ب ق; ء ج ل

وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُوا۟ ٱلْـكِـتَٟبَ مِنۢ بَعْدِهِـمْ لَفِـى شَكّٛ مِّنْهُ مُرِيبٛ ١٤

  • And indeed, these people (the descendants of Ismaeel alahissalam)—who have now been made the inheritors of the exclusive Book (the Qur’an) after them (the People of the Book)—their leaders are in such a state of doubt regarding it that it repeatedly throws them into perplexity and agitation. [42:14]

اور یقیناً یہ لوگ  (بنی اسماعیل)جنہیں ان (اہل کتاب)کے بعداب منفرد کتاب (قرءان مجید)کا وارث بنایا گیا ہے ان کے عمائدین کاحال یہ ہے کہ   اس میں درج  معلومات سے ایسے شک میں مبتلا ہو گئے  ہیں جو انہیں متردد  و مضطرب کیفیت میں گاہے بگاہے کر دیتا ہے۔(الشوریٰ۔١٤)

Root: ش ك ك; و ر ث; ر ى ب; م ر ى

فَلِذَٟلِكَ فَٱدْعُۖ

  • Therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] call people towards this Universal Ordinance—

لہٰذا، اے رسول کریم [ﷺ]! اس آفاقی ضابطے کی طرف لوگوں کو بلائیں—

وَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَۖ

  • And keep maintaining yourself in your resolve firm and steadfast as you have been advised—

اور اپنے عزم کو ویسا ہی مضبوط اور ثابت قدم رکھیں جیسا کہ آپ کو ہدایت دی گئی ہے—

وَلَا تَتَّبِــعْ أَهْوَآءَهُـمْۖ

  • And you should not consider worthwhile following their conjectures and wishes —

اور ان کی قیاسات اور خواہشات کی پیروی کو قابلِ اعتنا نہ سمجھیں—

وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٟبٛۖ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "I have believed in what has compositely been sent to me which is the segment of a book—

اور اعلان کریں، "میں اس پر ایمان لا چکا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے  مجتمع انداز میں پہنچایا  ہے؛ وہ جو ایک  کتاب  (ام الکتاب)کے جامع  حصہ پر مشتمل ہے—

وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُـمُۖ

  • And I have have been advised that I should do justice between you people—

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں—

ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُـمْۖ

  • Allah is the Sustainer Lord of us and the Sustainer Lord of you people—

اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے رب ہیں—

لَنَآ أَعْمَٟلُنَا وَلَـكُـمْ أَعْمَٟلُـكُـمْۖ

  • For us are the deeds of ours and for you are the deeds of you people—

ہمارے اعمال ہمارے لیے جزا و سزا کا باعث اور پیمانہ بنیں گے، اور تمہارے اعمال تمہارے لیے جزا و سزا کا سبب اور معیار—

لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُـمُۖ

  • There is no conflict and controversy for winning over between us and between you people—

ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی تنازعہ نہیں—

ٱللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَاۖ

  • Allah the Exalted will arrange assembly amongst us [the believers] —

اللہ  تعالیٰ ہمیں یوم قیامت  جمع کریں گے—

وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيـرُ ١٥

  • Be cognizant of the doctrine that the finality of issues is the exclusive prerogative of Him the Exalted."  [42:15]

جان لو کہ تمام معاملات کا انجام صرف ان جناب کے اختیار میں ہے۔"

وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِـى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ٱسَتُجِيبَ لَهُۥ

  • And those people who argue/dispute regards the Ordinance of Allah the Exalted after acknowledging response for it  —

جان لو؛وہ  لوگ جو اللہ تعالیٰ کے  متعلق  باتوں کے پیچ و خم سے الجھتے اور بحث کرتے ہیں بعد اُس کے جس پر ان جناب کے لئے صدائے لبیک کو بلند کیا جا چکا ہے۔

حُجَّتُـهُـمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّـهِـمْ

  • Their polemics is slippery and precarious in the judgment of their Sustainer Lord.

اُن لوگوں کی کٹ حجَّتی ان کے رب کے نزدیک بے سروپا پھسلاہٹ ہے۔

Root: ح ج ج

وَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٚ

  • And the liability of criminal cognizance has become incumbent-decreed upon them —

اوربحثیت مجرم گرفت میں لیئے جانے کا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ان پر صادر ہو  گا۔

وَلَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدٌ ١٦

  • And a grave punishment is prepared and is in wait for them. [42:16]

اورایک شدید محسوس ہونے والی جسمانی سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔


ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ

  • Allah the Exalted is the One Who has since compositely sent the Book (Qur´ān) as the Infallible Discourse relevant to the hour —

اللہ تعالیٰ وہ جناب ہیں جنہوں نے منفرد کتاب (قرءان عظیم)کو مجتمع انداز میں نازل فرمایا ہے؛مبنی بر حقیقت اور زمان کی مناسبت سے۔

وَٱلْمِيـزَانَۗ

  • And has sent Criterion/Weighing Scale for ad judgment/ evaluation/appreciation/weighing/Equity [In time and space the Book of Allah is the sole Criterion-the Weighing Scale for upholding principle of Equity and Justice in evaluation of people-57:25]

اور عدل وانصاف اور جھوٹ و سچ کو جانچنے کا معیارنازل کیا ہے۔[لوگوں کے مابین انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے مطابق جانچ کا معیار۔الحدید۔۲۵]

Root: و ز ن

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٚ ١٧

  • And what is that which could lead you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to the perception that perhaps/may be the Determined Moment is in near future? [He was questioned twice and asked twice to pronounce it 21:109;72:25] [42:17]

اوراس کتاب سے ماوراء وہ کون سے اشارہ اورنشان ہے جو آپ (ﷺ)کو اُس لمحے کا ادراک دے سکے کہ ممکن ہے  آخری ساعت بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔

Root: د ر ى;  س و ع

يَسْتَعْجِلُ بِـهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـهَاۖ

  • Only those people seek [mock] to hasten the Determined Moment who do not accept/believe in her—

وہ لوگ جو درحقیقت آخری ساعت کے وقوع پذیر ہونے کو تسلیم نہیں کرتے از راہ تفنن اس کو جلدی وقوع پذیر کرانے کا کہتے رہتے ہیں۔

Root: ع ج ل

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مُشْفِقُونَ مِنْـهَا

  • And as for those who have believed in Qur´ān feel terror of her happening any moment —

مگر جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں وہ اس کے کسی لمحے وقوع پذیر ہونے کے متعلق سہمے سہمے رہتے ہیں۔

Root: ش ف ق

وَيَعْلَمُونَ أَنَّـهَا ٱلْحَقُّۗ

  •  Since they know her happening is indeed infallible fact.

اس ذہنی کیفیت میں کہ وہ اسے ٹھوس علمی انداز میں جانتے ہیں کہ اس کا وقوع پذیر ہونا بدیہی حقیقت ہے۔

أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِـى ٱلسَّاعَةِ لَفِـى ضَلَٟلِۭ بَعِيدٍٛ ١٨

  • Be aware; The fact is that those who create curiosity, confusion and illusions regarding the point of occurrence of the Appointed Moment—they are indeed in prolonged heedlessness. [42:18]

خبردار رہو؛یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ  معاشرے میں  ااس ساعت کے وقوع پذیر ہونے کے متعلق   تجسس،تذبذب  اور الجھن پیدا کرتے رہتے ہیں ،اصل میں دانستہ  حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے راہ ضلالت میں کہیں دور نکل گئے ہیں۔

Root: س و ع; م ر ى


ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُۖ

  • Allah the Exalted is au fait of all niceties and delicacies - subtlety - refinements with regard to His subjects. He grants sustenance  without regard to measure and causality for whom He so wills/desires.

اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں سے  نفیس اور شائستہ برتاؤ کرتے ہیں۔ان میں سے جس  کو نوازنا چاہتے ہیں  اسے رزق دنیا سے بغیر حساب کتاب اور علت و معلول نوازتے ہیں۔ 

Root: ل ط ف

وَهُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ١٩

  • Realize it, He the Exalted is the Absolutely Almighty, Absolutely Dominant. [42:19]

اور وہ جناب  تمام قوت کے مطلق مالک اور مکمل طور پر ہر لمحہ ہر مقام پر مطلق غالب ہیں۔

مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلۡءَاخِـرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِـى حَرْثِهِۦۖ

  • Know it, whoever was desiring and seeking the yield of the Hereafter, Our Majesty would increase in his yield as reward for him —

مطلع رہو؛ جو صاحب ایمان اچھے اعمال کا ایوارڈ حیات آخر میں لینے کا خواہش مند رہتاہے ہم جناب اس کے محنت و کاوش  کے پھل میں  اس  کو عنایت کر نے کے لئیے اضافہ کردیں گے۔

وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْـهَا

  • Beware; whoever was desiring and seeking the yield of the Earthly world, Our Majesty would  give him from her—

اور جان لو؛ اگر کوئی شخص اچھے اعمال کا ایوارڈ حیات دنیا میں لینے کا خواہش مند ہے ہم جناب اسے اس میں سے عنایت کر دیتے ہیں۔

وَمَا لَهُۥ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ مِن نَّصِيبٍ ٢٠

  • And none at all share shall be left for him to benefit in the Hereafter. [42:20]

اس کا نتیجہ یہ ہو گا  کہ قطعاً  کچھ  اجر اس کے  آخرت میں فائدے کےلئے بچا کرنہیں  رکھا جائے گا۔

أَمْ لَـهُـمْ شُرَكَـٟٓؤُا۟ شَرَعُوا۟ لَـهُـم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ
وَلَوْلَا كَلِمَةُ ٱلْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْۗ
وَإِنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢١

  • The fact is that polytheists immersed in worldly life have invented about whom it is said they have ordained that ordinance in the Code of life while Allah the Exalted has not allowed it.
    And had the Word of Day of Segregation/Separation/Compartmentalization not preceded [from your Sustainer Lord refer 16:61] certainly the matter would have been finalized between them.
    And indeed the distorters/wrong doers are the ones—a severe punishment is prepared and is in wait for them. [42:21]

حقیقت یہ ہے کہ ایسے  شریک معبودان ان حیات دنیا میں غرق لوگوں نے اپنے لئے شریک معبودان اختراع کر لئے ہیں جن کے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے  ضابطہ حیات میں اس کو شارع بنایا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قطعی اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
مطلع رہو کیوں ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے؛ اگر  آپ(ﷺ)کے رب کی جانب  سے اختتام کے حوالے سے متعین مدت تک گرفت مؤخر  کرنے کے  متعلق فیصلہ کن بات  بتا نہ دی گئی ہوتی (حوالہ النحل۔61) تو ان کے مابین اسی وقت  اس معاملے کو ختم کر دیا جاتا  (جس  میں وہ باہمی اختلاف کر رہے ہیں)۔
یہ حقیقت ہے ان لوگوں کے متعلق جو حقیقت کوباطل سے بدلتے ہیں۔۔ایک دردناک عذاب اُن کیلئے مقدر بن چکا ہے۔
 

Root: ش ر ع

تَرَى ٱلظَّـٟلِمِيـنَ مُشْفِقِيـنَ مِمَّا كَسَبُوا۟ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِـهِـمْۗ

  • You will see the wrong doers/creators of imbalances/distorters perplexedly frightened from that [seeing written in their record book] which they had earned, and that is going to happen with them any moment.

آپ(ﷺ)حقیقت کو باطل سے بدلنے کے مرتکب افراد کو شرمسار گھبراہٹ میں دیکھیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے مجرمین کی کتاب میں پڑھ لیا جو انہوں نے حیات دنیا میں کسب کیا تھا۔اور ایسا ان کے ساتھ کسی بھی لمحے وقوع پذیر ہونے والا ہے۔(الکہف۔49محذوف کے لئے پڑھیں)

Root: ش ف ق; و ق ع

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • And as for those those who accepted/believed in Qur’ān and did act righteously/moderately as directed—

 اور جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہےجونازل کردہ قرء ان پر دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

فِـى رَوْضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ

  • Are in the beautiful parks of delight and comfort —

وہ جنت کے باغات کے سبزہ زاروں میں مطمئن اور خوشحال رہیں گے۔

Root: ر و ض

لَـهُـم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّـهِـمْۚ

  • Everything they desire therein it will be provided for them by the grace of their Sustainer Lord —

وہ جس جس  شئےکی خواہش کریں گے وہ ان کے رب کی جانب سے ان کے لئے دستیاب کر دیا جائے گا۔

ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْـكَبِيـرُ ٢٢

  • This is that which is the greatest Bounty. [42:22]

یہ ہے۔۔حقیقت میں سب سے بڑا مقام فضیلت جو بندوں کو عنایت کیا جائے گا۔

ذَٟلِكَ ٱلَّذِى يُبَشِّـرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِۗ
قُل لَّآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِـى ٱلْقُـرْبَـىٰۗ
وَمَن يَقْتَـرِفْ حَسَنَةٙ نَّزِدْ لَهُۥ فِيـهَا حُسْنٙاۚ
إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ شَكُورٌ ٢٣

  • That is the one, Allah the Exalted gives advance congratulations/glad tidings to those allegiants of Him—Who accepted/believed and did act righteously/moderately as directed [in the Book].
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remind them: "I do not ask you people any award - appreciation for it; publishing, delivering and teaching Qur’ān —But I do require you people to maintain state of affection within the kinship".
    And whoever shall cause himself earn-over wears good Our Majesty will increase for him in that, goodness.
    Allah the Exalted is indeed the Oft-forgiving, the Recognizer, the acknowledger and appreciative. [42:23]

یہ ہے وہ جس کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بشارت دیتے ہیں۔وہ بندے جو  آپ (ﷺ) اورنازل کردہ قرء ان پردل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔
اس سلسلے میں آپ ارشاد فرمائیں"میں اس (قرءان مجید)کی اشاعت،تبلیغ و تعلیم پر آپ لوگوں سے کسی قسم کے اجر کا سوال نہیں کرتا۔مگر سوائے اس مطالبہ کے کہ قرابت کے رشتوں کے انس کا احترام برقرار رکھا جائے"۔
مطلع رہو؛جو کوئی خلوص سے اعتدال اور حسن سلوک کے رجحان کو اپنائے گا ہم جناب اس کی اس خصلت میں اس کی خاطر اضافہ فرمائیں گے،شخصیت میں حسن و اعتدال کے حوالے سے۔
اللہ تعالیٰ کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ اکثر و بیشتر در گزر فرما کر معاف کرنے والے ہیں؛ وہ جناب قدردان اور پذیرائی دینے والے ہیں۔

Root: و د د; ق ر ف

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبٙاۖ
فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخْتِـمْ عَلَـىٰ قَلْبِكَۗ
وَيَمْحُ ٱللَّهُ ٱلْبَٟطِلَ وَيُحِقُّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٟتِهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ عَلِيـمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٢٤

  • Or do they — the obstinate polytheist elite — still keep saying to their people, "He has diligently and purposefully fabricated a false narrative declaring it as revelation from Allah?" (Cf. 6:21; 6:93; 6:144; 7:37; 10:17; 11:18; 18:15; 23:38; 29:68).
    Their allegation is so absurd that it can only be answered by a hypothetical retort: Had Allah so willed, He could have sealed your heart — rendering you incapable of recitation or writing. (Cf. 10:16)
    Realize this: Allah effaces the false — the froth of human fabrication and conjecture —and by His decisive Words, He establishes the truth as a manifest and enduring reality —
    Remain mindful; Indeed, He alone knows what thoughts and motives are harboured within the chests.  (Cf. 8:43; 11:05; 35:38; 39:07; 42:24; 67:13) [42:24]

کیا یہ لوگ — یعنی ضدی مشرک اشرافیہ — اب بھی اپنے لوگوں سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ "انہوں(رسول کریم)نے  اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے  جھوٹ   کو تالیف کر کے  من جانب اللہ  قرار دیا ہے"؟(تدبر کے لیے ملاحظہ کریں: Cf. 6:21; 6:93; 6:144; 7:37; 10:17; 11:18; 18:15; 23:38; 29:68)
ان کا یہ الزام اس قدر مہمل اور لغو  
ہرزہ سرائی ہے کہ اسے صرف مفروضی
ردعمل(hypothetical retort)کے انداز میں  بتاتے ہیں:"اگر اللہ  تعالیٰ چاہتے، تو آپ کے قلب پر مہر لگا دیتے، اور یوں آپ اسے  وہاں  سے نکال کرنہ سنا سکتے نہ تحریر کر کے دے سکتے"(اشارہ: 10:16)
یاد رکھو!اللہ تعالیٰ باطل کو — جو انسانی افکار کا میل، قیاس، یا افتراء ہو — مٹا دیتے ہیں ،اور اپنے کلماتِ ازلیہ کے ذریعے حق کو ثابت و قائم کر دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب سینوں میں مکنونات اور باطن میں محفوظ خیالات کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں ۔(مطابقت کے لیے ملاحظہ کریں: 8:43
Cf. 8:43; 11:05; 35:38; 39:07; 42:24; 67:13)

Root: م ح و


وَهُوَ ٱلَّذِى يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَعْفُوا۟ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ
وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ٢٥

  • Be assured that He the Exalted is the One who accepts repentance and remorse from His servants —and He pardons their misdeeds, overlooking them graciously.
    Yet, He is fully aware of all that you do, whether for the first time or repeatedly."[42:25]

یہ یقین رکھو کہ وہی جناب ہیں جو اپنے بندوں کے دل کی گہرائی سے محسوس کی گئی ندامت اور راہِ راست پر پلٹنے کے ارادے کو قبولیت بخشتے ہیں۔اور وہی  جناب ہیں  جو برے اعمال  سے صرف نظر اور درگزر کرتے ہوئے معاف  فرماتے ہیں۔
خبردار رہو؛یہ بدیہی حقیقت ہے کہ وہ جناب   ہر اس فعل کو  بخوبی جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔

Root: ع ف و

وَيَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ وَيَزِيدُهُـم مِّن فَضْلِهِۦۚ
وَٱلْـكَـٟفِـرُونَ لَـهُـمْ عَذَابٚ شَدِيدٚ ٢٦

  • Be assured that He the Exalted invariably responds to those who have believed in the Messenger and the Divine Book and acted righteously and moderately [according to the Book]. And He the Exalted will increase them in blessings from His immense Bounty.
    Be aware about the consequence of those who remained non-believers till the time of death — a severe punishment is prepared and awaits them. [42:26]

یقین رکھو کہ وہی جناب ہیں جو اپنے بندوں کے دل کی گہرائی سے ایمان لانے والوں اور راست عمل کرنے والوں کی دعاؤں کا جواب دیتے ہیں۔اور وہی جناب ہیں جو اپنے بے پایاں فضل سے انہیں مزید برکتوں سے نوازتے ہیں۔
اورجہاں تک رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کا معاملہ ہے۔۔ایک شدید محسوس ہونے والی جسمانی سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔
 

وَلَوْ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلـرِّزْقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَـٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٛ مَّا يَشَآءُۚ
إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيـرُۢ بَصِيـرٚ ٢٧

  • Know the wisdom behind His measures; had Allah the Exalted abundantly outstretched the provisions for His servants, they would certainly have rebelled on Earth, thinking it was due to their own efforts and achievements. Therefore, He the Exalted intermittently sends it in measured amounts, according to His will and what He deems sufficient.
    Indeed, He the Exalted is fully aware and constantly watches over His servants. [42:27]

پیمانوں کی حکمت کو سمجھو؛ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے رزق کو بے حساب بڑھا دیتے تو وہ یقیناً زمین میں فساد مچاتے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ان کی اپنی محنت اور کامیابی ہے۔لہذا، وہ اپنی مرضی اور جتنا مناسب سمجھیں، رزق کو وقفے وقفے سے اور مقدار میں مقررہ طور پر نازل کرتے ہیں۔
یقیناً وہ اپنے بندوں کے بارے میں بخوبی آگاہ اور انہیں مسلسل دیکھنے والے ہیں۔

Root: ب س ط

وَهُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ مِنۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوا۟ وَيَنشُـرُ رَحْـمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلْوَلِـىُّ ٱلْحَـمِيدُ ٢٨

  • Observe the repeated phenomenon: He the Exalted is the One Who sends the rain after they had despaired due to drought, and He the Exalted spreads His mercy. And He the Exalted is the Protector, the Caretaking Lord, eternally deserving of all Glory and Praise.[42:28]

اس بار بار ظاہر ہونے والے واقعے پر غور کرو؛ وہی جناب ہیں جو بارش بھیجتے ہیں جب لوگ  خشک سالی کی وجہ سےمایوسی کا شکار ہو چکے تھے ، اور وہی جناب ہیں جو اپنی رحمت کو پھیلاتے ہیں
اور وہی جناب ہیں جو سرپرست اور پرورش کرنے والے رب ہیں، ہمیشہ کے لیے جلال و عظمت کے مستحق ہیں۔

Root: غ ى ث;  ق ن ط; ن ش ر

وَمِنْ ءَايَٟتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
وَمَا بَثَّ فِيـهِـمَا مِن دَآبَّةٛۚ وَهُوَ عَلَـىٰ جَـمْعِهِـمْ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٚ ٢٩

  • Look; the creation of the skies and the earth is the most prominent in His signs pointing toward His recognition as the Sustainer Lord of all that exists.
    And so are various kinds of creatures He the Exalted has dispersed within both of them. And He the Exalted has full command and control over their collection as and when He would have so willed. [42:29]

    دیکھو؛ آسمانوں اور زمین کی تخلیق ان جناب کی نشانیوں میں سب سے نمایاں اور ممتاز نشانی ہے جو ان کی ہستی اور ان کے رب العالمین ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    اور وہ جو تمام جانوروں میں سے ان جناب نے ان دونوں میں پھیلا دئیے ہیں وہ بھی  اس حقیقت کی جانب مشار ہیں۔اور وہ جناب جب چاہیں ان تمام کو جمع کرنے پر مکمل قدرت رکھتے ہیں۔

    Root: د ب ب


وَمَآ أَصَـٰبَكُـم مِّن مُّصِيبَةٛ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُـمْ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيـرٛ ٣٠

  • Recall and realize; whatever distressing and unpleasant did affect you people, since every act inevitably yields an effect, it was by reason of cause and effect of that which your hands  had earned —But the fact remains He the Exalted overlooks and forgivingly ignores many by not letting the cause to take negative effect and impact. [42:30] (read with 57:22 and 64:11)

یاد کرو اور سمجھو!جو بھی تمہیں پریشانی یا تکلیف پہنچی تھی،چونکہ تم جانتے ہو کہ ہر عمل نتیجہ خیز ہوتا ہے، لہٰذا وہ   تمہارے اپنے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کا  دراصل نتیجہ تھی۔مگر اس حقیقت کا ادراک بھی کرو کہ قطع نظر علت و معلول کے کارفرما نظام کے ،وہ جناب تمہارے اکثر اعمال سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کے برے اثرات کو ظہور پذیر  ہونے نہیں دیتے۔

وَمَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ فِـى ٱلۡأَرْضِۖ
وَمَا لَـكُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِـىّٛ وَلَا نَصِيـرٛ ٣١

  • And you people certainly cannot frustrate/avert His decisions in the Earth.
    And you people realize that not at all a patron-guardian-protector nor at all a helper is there, other than Allah the Exalted, who could be of avail for you. [42:31]

اور تم لوگ یہ سکت نہیں رکھتے کہ  ان جناب کے فیصلوں کو  کبھی بھی روک سکویاموخر کر سکو زمین میں ۔
 اوراے لوگو!یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے سوا قطعاً کوئی سہارا /محافظ اور قطعاًکوئی مددگار نہیں جو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔

Root: ع ج ز

وَمِنْ ءَايَٟتِهِ ٱلْجَوَارِ فِـى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٟمِ٣٢

  • Reflect on the setting of sciences by seeing; the ships resembling like flagged mountains within the ocean sailing are a sign demonstrating a unique thought provoking idea as a subset of many  signs of His Highness. [42:32]

مشاہدہ کر کے  نظام فطرت/سائنس پر غور کرو تو؛رواں دواں جہاز جو  دور سےسمندر  کے بیچ میں  سطح آب پر ابھرےجھنڈا بردار پہاڑوں کی مانند   دکھائی دیتے  وہ اپنے آپ میں ان جناب کی بے شمار نشانیوں/مظاہر  فطرت میں سے ایک منفرد نشانی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تمہاری سہولت کے لئے بنایا گیا نظام ہے۔(جناب نوح علیہ السلام کے ذریعے۔سورۃ ھودؐ۔37-43)

إِن يَشَأْ يُسْكِنِ ٱلـرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَـىٰ ظَهْرِهِۦٓۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّـكُلِّ صَبَّارٛ شَكُورٍٛ ٣٣

  • Should He the Exalted so decide, He can cause the air to become motionless—Thereby, those ships would become still shadows upon the surface of ocean. The fact is that these existents, which are simplistically observable, are reminder for all who are coolly perseverant, ever thankfully obliged. [42:33]

 اگر وہ جناب چاہیں  تو  ہوا کو بالکل ساکت حالت میں کر دیں،تو نتیجہ کیا ہوگا—تب یہ جہاز سمندر کی سطح پر بے جان سائے بن کر رُک جائیں گے۔
یقینا  سبق آموز اشارےان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں ہیں ہر ایک  ایسے شخص کے لئے  ہیں  جواپنے ایمان پر پیکر عزم و استقلال رہتے ہوئے ناگفتہ بہ کو ضبط و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہمیشہ  اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے۔

Root: ر و ح;  ظ ل ل

أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا۟ وَيَعْفُ عَن كَثِيـرٛ ٣٤

  • Or instead of making them stranded, He the Exalted could tear them (ships) apart as punishment for what they people earned by bad deeds —However, He the Exalted overlooks and forgivingly ignores most of their bad deeds from natural consequential affect. [42:34]

یا ساکن کرنے کے بجائے وہ جناب ان کشتیوں کو سمندر کے بیچ میں دو ٹکڑے کر دیں  ان جرائم کی پاداش میں جو انہوں نے اپنے برے اعمال سے کمائے ہیں۔
تاہم وہ جناب ڈھیل دیتے ہوئے ان کے اکثر قابل سزا جرائم سے درگزر اور صرف نظر فرماتے ہیں۔

Root: و ب ق; ع ف و

وَيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَـٟدِلُونَ فِـىٓ ءَايَٟتِنَا مَا لَـهُـم مِّن مَّحِيصٛ ٣٥

  • But they, who desperately wrangle about the veracity of Our Verbal Passages with conjectures and void of substance talk, should be aware that for them there is not at all a place for escape and refuge. [42:35]

 مگر وہ لوگ اس کو بخوبی جان لیں جو ہم جناب کے  کتاب میں بیان کردہ فرمودات/آیات کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ،بے سروپا تبصروںبغیر کسی ٹھوس دلیل اور ثبوت کے  جو انہیں دیا گیا ہو الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں   ، ان کے لئے انجام کار قطعاً کوئی پناہ کی جگہ نہ ہو گی۔

Root: ح ى ص

فَمَآ أُوتِيتُـم مِّن شَـىْءٛ فَمَتَٟعُ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ
وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْـرٚ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
وَعَلَـىٰ رَبِّـهِـمْ يَتَوَكَّلُونَ ٣٦

  • Do not get misled by affluence, because whatever wherewithal is granted to you people, it is just the sustenance of the worldly life and its attraction —
    While that which is with Allah the Exalted is far superior and ever lasting for those who believed in the Messenger and Qur’ān —
    And they sincerely and confidently place reliance, trust and hope in their Sustainer Lord. [42:36]

دھوکہ کھانے سے بچنے کے لئے اس بات کا ادراک کرو کہ مادی اشیاء میں سے جو کچھ تم لوگوں کو عنایت کیا گیا وہ حیات دنیا کے لئے زیست اور اس (حیات)کی زیبائش و کشش ہے۔
مگر جو اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے  حیات آخرت میں عنایت کرنے کے لیئے  وہ بہترین بھی ہے اوربرقرار رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے۔
آخرت میں عظیم ایوارڈ پانے والے  یہ وہ لوگ  ہیں جنہوں نے صعوبتوں کو تحمل سے برداشت کیااور یہ لوگ ہر معاملے میں عقل و دانش کو بروئے کار لانے کے بعد خوشگوار نتائج کے ظہور پذیر ہونے کے لئے اپنے رب پر مکمل بھروسا اور اعتماد رکھتے ہیں۔

Root: ب ق ى

وَٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٟٓئِرَ ٱلْإِثْـمِ وَٱلْفَوَٟحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا۟ هُـمْ يَغْفِرُونَ ٣٧

  • And they (true believers) are those who consciously restrict themselves to avoid committing major and grave sins [that cause serious and deep rooted disturbance in society] and the illicit sexual activities —And at the point in time when they were seized by anger they forgive that which caused this —  [42:37]

اوریہ (صدق قلب سے ایمان لانے والے)وہ لوگ ہیں جوکوشش و اخلاص سے بڑےگناہوں سے اجتناب کرتے رہتے ہیں،اور اسی طرح فحش،جنسی بےراہروی سے اجتناب کرتے ہیں۔اور جب انہیں جس نے غضبناک(غصہ دلایا/غصے میں)کیا تو وہ درگزر اورمعاف کر دیتے ہیں۔

Root: ف ح ش

وَٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّـهِـمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمْـرُهُـمْ شُورَىٰ بَيْنَـهُـمْ
وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنفِقُونَ ٣٨

  • And they are the people who have consciously and rationally responded to the message of their Sustainer Lord —And steadfastly maintained the Institution of As-sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance to Allah the Exalted —And their affair is organized on the basis of consultation and consensus between them —
    Further, they heartily spend some of the worldly resources for other's welfare out of that which Our Majesty have given them as sustenance. [only for seeking approval and attention of Allah the Exalted] [42:38]

اور جن لوگوں نے اپنے رب کے لئے رسول کریم کی دعوت پر  شوق و رغبت سے لبیک کہا؛اور اسقلال و استقامت،منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کرتےرہے ۔اور یہ لوگ  اجتماعی نظام اپنے مابین مشاورت سے ترتیب دیتے ہیں۔
اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے  دوسروں کی فلاح و بہوبود پرخرچ کرتے رہتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]

Root: ش و ر

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَـهُـمُ ٱلْبَغْىُ هُـمْ يَنتَصِرُونَ ٣٩

  • And they are the people who will fiercely defend in case of aggression. [42:39]

اور یہ لوگ وہ ہیں کہ اگر ان پر جارحیت ہو گی وہ تندہی اور طاقت سے دفاع کریں گے۔


وَجَزَٟٓؤُا۟ سَيِّئَةٛ سَيِّئَةٚ مِّثْلُـهَاۖ

  • Note the foundation of system of justice;  the retaliatory punishment/requital for a wrong/bad/damaging act is proportionate/similar in nature to the wrong/bad done —

اصول انصاف جان لو؛کسی بھی نقصان  اور تکلیف دہ عمل کی سزا اس سے مماثلت کے حوالے سے مقرر کی جائے۔

فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْـرُهُۥ عَلَـى ٱللَّهِۚ

  • Since penal code is necessity for society, thereat, the one who overlooked pardoning the convict and gave opportunity to become perfectionist, thereupon his reward is due upon Allah the Exalted —

چونکہ معاشرے کی  افراد کے حقوق کی حفاظت کے لئے تعزیری قوانین لازم ہے اس لئے سزا دئیے جانے پر جس مدعی نے درگزر کرتے ہوئے مجرم کو معاف کر دیا اوراس کو اصلاح کا موقعہ دے دیا تو اس کا اس فراخ دلی کا اجر دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گیا۔

إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٤٠

  • And remain cognizant that He the Exalted does not approve for nearness the evil-mongers, oppressors, those who distort - transgress the prescribed code. [42:40]

ان جناب کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے  اور زیادتی کرنے والے ہیں قابل قدر نہیں گردانتے۔ 

وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَا عَلَيْـهِـم مِّن سَبِيلٍٛ ٤١

  • Note the rule; if someone after having been wronged takes recourse to self-defense and uses force to protect himself, resulting in proportionate harm to the aggressor, then such a person cannot be held liable for any offence or indictment [42:41]

اصول مد نطر رہے؛ اگر کسی شخص نے اپنے اوپر  زیادتی ہونے  کے بعد حق دفاع میں اپنی مدد آپ کے تحت طاقت استعمال کر  لی جس کے نتیجے میں جارح کو مساوی نقصان پہنچا تو چونکہ  یہ اقدام اپنی حفاظت کے لئے تھا اس لئے اس پر کسی الزام یا گرفت کا جواز نہیں ہے۔

إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَـى ٱلَّذِينَ يَظْلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبْغُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّۚ

  • Indeed the state has the right for criminal justice upon those who do injustice, oppress, wrong the people —and they indulge in excesses in the Earth void of justification and rightful cause.

یقیناً ریاست کو ان لوگوں کے خلاف فوجداری انصاف کا حق حاصل ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، ان پر زیادتی اور ناانصافی کرتے ہیں — اور جو زمین میں بلا کسی جواز اور حق کے حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٤٢

  • In any case, they are the people — a severe punishment is prepared - in wait for them [on Day of Requital] [42:42]

بہرحال، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے سخت عذاب تیار ہے، جو قیامت کے دن ان کا انتظار کر رہا ہے۔

وَلَمَن صَبَـرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٟلِكَ لَمِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ٤٣

  • And certainly the one who remained steadfast coolly perseverant and he forgave; (unlimited reward is due and in wait for him-39:10) —This course is indeed a subject of strong willpower. [42:43]

تاہم جوزیادتی  کے باوجود ضبط و تحمل سے برداشت کرتے  ہوئےپائے استقلال پر رہا اور اس نے درگزر کرتے ہوئے معاف کر دیا تو یہ اس کی اخلاقی برتری کا اظہار ہے۔یقینًا یہ پختہ ارادے اور حوصلے کے امور میں سے ہے۔

Root: ص ب ر;ع ز م


وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِـىّٛ مِّنۢ بَعْدِهِۦۗ

  • Beware! Whomever Allah the Exalted allows to remain in straying due to their adamant persistence in heedlessness, there is none at all guiding guardian and patron for him after being abandoned by Him the Exalted.

خبردار ہو جاؤ مباداوقت نکل جائے؛اللہ تعالیٰ جس کو مسلسل ہٹ دھرمی اور غفلت میں مگن رہنے  کی بناء پر گم کردہ راہ رہنے دینا کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان جناب کے چھوڑ دینے کے بعد قطعاً کوئی نہیں جو اس کا بہی خواہ بن کر ہدایت دے سکے۔

وَتَرَى ٱلظَّـٟلِمِيـنَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَـىٰ مَـرَدّٛ مِّن سَبِيلٛ ٤٤

  • And you will see on the Day of Resurrection when the wrongdoers will have witnessed the punishment, they will say, "Is there any way to turn back or escape from this fate?" [42:44]

اور آپ قیامت کے دن دیکھیں گے جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے، تو وہ پوچھیں گے، "کیا اس عذاب سے واپس جانے یا بچنے کا کوئی راستہ ہے؟"

وَتَرَىٰـهُـمْ يُعْـرَضُونَ عَلَيْـهَا خَٟشِعِيـنَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍٛ خَفِـىّٛۗ

  • And you will see them humbled in humiliation when they are exposed to her (Hell Prison); they will be gazing furtively with downcast eyes —

اور آپ انہیں ذلت میں دبے ہوئے دیکھیں گے جب وہ اس (دوزخ)کے سامنے لائے جائیں گے؛ وہ  نگاہیں جھکائے   اور چھپاتے ہوئے ادھر ادھردیکھ رہے ہوں گے۔

Root: ذ ل ل;  ط ر ف;  خ ف ى

وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • And those who had accepted/believed in the Messenger and Divine Book said —

اور وہ لوگ جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے تھے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں گے:

إِنَّ ٱلْخَٟسِـرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِـرُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ وَأَهْلِيـهِـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۗ

  • "Certainly the losers are those  people who have made their selves and their household to suffer loss [for momentary worldly gains/pleasures] on the Day of Rising." [Read with 7:09;23:103]

"حقیقی معنوں میں خسارہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذات  اور اپنے اہل خانہ کے مقام و مرتبہ کو یوم قیامت میں گراوٹ کا مستحق بنایا "۔

 

أَلَآ إِنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ فِـى عَذَابٛ مُّقِيـمٛ ٤٥

  • Unquestionably it is a fact that the wrong does/distorters/unjust people shall have to live in the perpetuating/enduring infliction. [42:45]

دھیان رہے،یہ اٹل ہے کہ حقیقت کے منافی باطل نظریہ اور طرز عمل پر کاربند رہنے والوں نے مسلسل عذاب میں رہنا ہے۔

وَمَا كَانَ لَـهُـم مِّنْ أَوْلِيَآءَ يَنصُرُونَـهُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِۗ

  • And there is none from protectors, other than Allah the Exalted, who could help them —

اور  اللہ تعالیٰ  کے علاوہ  خیر خواہوں اور ساتھ دینے والوں میں سے کوئی ایک بھی ان  کی  مدد کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہو گا۔

وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍٛ ٤٦

  • Beware! Whomever Allah the Exalted allows to remain in straying due to their adamant persistence in heedlessness, there is none at all guiding guardian and patron for him after being abandoned by Him the Exalted to find a way out. [to get out of his circular wandering]. [42:46]

خبردار! جسے اللہ تعالیٰ اپنی ہٹ دھرمی اور غفلت پر اصرار کی بنا پر گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے لئے پھر قطعاًکوئی راستہ نہیں کہ وہ نکلنے کی راہ پا سکے۔

ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُـم

  • You people consciously respond affirmatively for the Sustainer Lord of you people to the call conveyed by the Messenger—

تم لوگ اپنے رب کے لئے لبیک کہو اس دعوت کے جواب میں جو رسول کریم تمہیں دے رہے ہیں۔

مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٚ لَّا مَـرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ

  • Before that the Day may arrive when there is not at all possibility of its reverting by Allah.

اس دن کے پہنچ جانے سے قبل دعوت حق پر لبیک کہو۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس (دن)کے  ارادے کی تکمیل کو موڑ دینے والا قطعاً کوئی نہیں۔

مَا لَـكُـم مِّن مَّلْجَأٛ يَوْمَئِذٛ

  • That Day when Trumpet would have been blown, there shall be no place for you people to flee —

جس دن ناقور میں صور پھونک دیا جا چکا ہو گا تو قطعاً کوئی ایسی جگہ نہیں ہو گی تم لوگوں کے لئے جہاں پناہ لے سکو۔

وَمَا لَـكُـم مِّن نَّكِيـرٛ ٤٧

  • And nor for you people shall be any chance/excuse for denial. [42:47]

اور نہ تم لوگوں کے لئے  انکار کرنے کی قطعی گنجائش نہیں ہو گی۔

Root: ن ك ر

فَإِنْ أَعْـرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَـٟكَ عَلَيْـهِـمْ حَفِيظًاۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلََٟغُۗ
وَإِنَّـآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ مِنَّا رَحْـمَةٙ فَرِحَ بِـهَاۖ وَإِن تُصِبْـهُـمْ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيـهِـمْ
فَإِنَّ ٱلْإِنسَٟنَ كَفُورٚ ٤٨

  • In response if they purposely refrained submitting— Since it is their choice/freedom granted/discretion, why should you worry, let them go; Our Majesty have not sent you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] for acting as guard upon them. [Allah is watching them-42:06. Messenger pronounced it in 6:104;11:57,86] —The only responsibility upon you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is to deliver/convey/pass on the message [to their ears and hands, orally and in writing; and your responsibility is not to keep always watching them]
    And indeed when Our Majesty make him taste mercy/affluence and pleasantness as grace of our Majesty, he rejoices it boisterously —And when infliction/adversity reaches them for reason/as result of what they had sent forward/done [at that point in time they are despaired] —
    It is true that generally man is ungratefully disobedient. [42:48]

آپ (ﷺ)کے انتباہ کرنے کے باوجود اگر ان لوگوں نے اعراض برتا ہے۔۔تو یہ عنایت کردہ حریت کا غلط استعمال ہے،آپ کو گراں محسوس کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم جناب نے آپ (ﷺ)کوان لوگوں پر بشری محافظ/پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔قرءان مجید کو زبانی اور تحریری طور پر پہنچا دینے کے علاوہ لوگوں کے طرز عمل کے حوالے سے آپ(محمّد ﷺ)پر کوئی بوجھ اور ذمہ داری نہیں۔
دیکھو لوگوں کے عمومی رویوں کو؛ ہم جناب جب  انسان کو فضل و کرم سے  خوشحالی سے لطف اندوز  ہونے کا موقع فراہم  کرتے ہیں تو   اس کا ساتھ ہونے سےلطف و سرور سے نہال فخریہ  اظہار کرتے ہیں ۔اور جب ان پر تکلیف یا مصیبت آتی ہے جس کا سبب وہ خود اپنے اعمال سے دیتے ہیں  تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔
اس طرح خود ثابت کرتا ہے اس  تاریخی حقیقت ہے کہ انسان عمومی طور پر ناشکرا /احسان فراموش ہے۔

Root: ذ و ق;  ف ر ح; ق د م


لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • The Dominion of the Skies and the Earth in absolute terms is exclusively for Allah the Exalted.

آسمانوں اور زمین پراقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق صرف  اللہ تعالیٰ کے دائرہ کار میں ہے۔

Root: م ل ك

يَخْلُقُ مَا يَشَآءُۚ

  • He the Exalted creates that which He desires-wills.

وہ جناب تخلیق فرماتے رہتے ہیں جس کو وجود پذیر کرنے کا وہ ارادہ فرماتے ہیں۔

يَـهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٟثٙا وَيَـهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ٤٩

  • He the Exalted grants females to the one for whom He the Exalted so decides. And grants males to the one for whom He the Exalted so decides — [42:49]

وہ جناب  جس کسی کے لئے  مناسب سمجھتے ہیں اسےبیٹیاں عنایت کرتے ہیں؛ اور وہ جناب جس کسی کے لئے مناسب سمجھتے ہیں بیٹے عنایت کرتے ہیں۔

Root: و ھ ب

أَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْرَانٙا وَإِنَٟثٙاۖ

  • Or He the Exalted causes the grant as by grouping the offspring, males and females —

اور  جس کسی  کے لئے چاہتے ہیں اس کے لئے اولاد میں تزویج فرما دیتے ہیں،بیٹے اور بیٹیوں کو یکجا کرنے کے انداز میں۔

وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًاۚ

  • And He the Exalted renders someone about whom so desires to remain barren-without offspring

اور وہ جناب جس کسی کے بارے ایسا چاہتے ہیں اسے بانجھ/بے اولاد حالت میں کر دیتے ہیں۔

Root: ع ق م

إِنَّهُۥ عَلِيـمٚ قَدِيرٚ ٥٠

  • It is a certain fact that He the Exalted is Fountain and Setter of sciences, the absolutely Dominant in setting equations and measures. [42:50]

اس حقیقت کو ذہن نشین رکھو کہ وہ جناب   منبع علم ہیں ، سائنسز کو طلوع و ظہور دینے والے ہیں؛وہ  جناب ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔


وَمَا كَانَ لِبَشَـرٛ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ

  • Know the method of Divine contact; The face to face verbal communication by Allah the Exalted in a humanly understandable language has never been the privilege for any human being —

اس حقیقت کو جان لو؛اللہ تعالیٰ کا قابل فہم زبان میں روبروہم کلام ہونے کا شرف  پانے کا  ایک بشر بھی ذی اختصاص نہیں  رہاہے۔

إِلَّا وَحْيًا

  • The exception to the negation of lingual communication with a human being is firstly in the manner of a written revelation: giving him specific book —

ماسوائے اس انداز میں کہ کلام پر مبنی کتاب سے اس کے ساتھ       رابطہ کیا گیا؛

أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍٛ

  • Or He the Exalted might communicate speaking to him from behind a barrier —

یا نگاہوں سے اوجھل رکھنے والی آڑ کے پیچھے سے صوتی رابطے کے انداز میں؛

أَوْ يُرْسِلَ رَسُولٙا

  • Or He the exalted would send a messenger, angel or a man, to a person —

یا ان جناب کے رسول بھیجنے کے ذریعے۔

فَيُوحِـىَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ

  • Whereby he (the Messenger) would reveal, with the permission of Him the Exalted, to a person about that which He the Exalted intended to be communicated: His Verbal Message-Parlance-Book.

جس نے اس کے پاس پہنچ جانے پر ان جناب کی پیشگی اجازت/اذن سے وہ زبانی پیغام دیا جو وہ جناب دینا چاہتے رہے۔

إِنَّهُۥ عَلِـىٌّ حَكِيـمٚ ٥١

  • Indeed He is the Exalted Supreme; eternally the Knower of visible and invisible domains and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms [42:51]

ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے؛وہ  جناب لازوال مطلق عالی  مقام ہیں؛تمام نظام کے   بدرجہ اتم انصاف کے تقاضوں  کو پورا کرنے والےفرمانروا ہیں۔

وَكَذَٟلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحٙا مِّنْ أَمْرِنَاۚ

  • Let it be on record that in the same manner: through Angel Messenger and directly when you visited beyond the Skies, Our Majesty has communicated to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] the Life Breathing and Sustaining Guarantor: Vital Principle: (Grand Qur’ān) a promised affair of Ours - guidance being exclusively Our task —

اور اس بیان کردہ انداز میں ہم جناب نے آپ(ﷺ)کی جانب جاں  افروزکلام (کتاب  بعنوان قرءان )بھیجاہے۔اس کلام کی خصوصیت اور اہمیت یہ ہے کہ ہم جناب کے قلمبند فرمان کاممتاز اور فائز حصہ ہے۔

Root: ر و ح

مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْـكِـتَٟبُ وَلَا ٱلْإِيمَٟنُ

  • (Let it be known) In your past life you the Messenger was not in habit of inquiring/asking (the People of Book) regards neither the specific Book and nor for specific belief (they were pursuing).

(اس کو پیش کئے جانے سے قبل)آپ(ﷺ)کی  اہل کتاب  سے نہ یہ جاننے کی عادت تھی کہ نازل کردہ منفرد کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ان کا ایمان کیا ہے۔

Root: د ر ى

وَلَـٰكِن جَعَلْنَٟهُ نُورٙا

  • The assertion that you have compiled plagiarizing old myths is baseless; on the contrary Our Majesty have declared it (Grand Qur’ān) as the Visible Light-the Sustainer of Life.

لوگوں کا  یہ گمان کہ اساطیر الاولین سے آپ نے اسے مرتب کیا ہے غلط ہے،اس کے بر عکس حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اسے(رُوحٙا۔قرءان مجید)نور/سفید روشنی قرار دیا ہے (جو تسلسلِ حیات کا ضامن ہے)۔

نَّـهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاۚ

  • Our Majesty guide with it (Grand Qur’ān) anyone for whom We so intend-decide —who is desirous of guidance among Our subjects.

ہم جناب اس (قرءان مجید)کے ذریعے اپنے بندوں میں سے اس کو ہدایت دیتے رہتے ہیں جو متمنی ہدایت ہے۔

وَإِنَّكَ لَتَـهْدِىٓ إِلَـىٰ صِرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٥٢

  • And beyond an iota of doubt you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are certainly guiding  towards High road: Course that keeps heading safely and stably to the destination of peace and tranquility — [42:52]

اوریہ حقیقت ہے، آپ(ﷺ) یقینااس راستے کی جانب  ہدایت دے رہے ہیں جوکامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب گامزن رکھتا ہے۔

صِرَٟطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ  مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۗ

  • This is the High Road of Allah the Exalted; the One and Only—Whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth are subservient-dependant-subjects for Him the Exalted

یہ اللہ تعالیٰ کا متعین اور اجاگر کردہ راستہ ہے۔جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ تمام ان جناب کے لئے نگیں ہیں۔

أَ لَآ إِلَـى ٱللَّهِ تَصِيـرُ ٱلْأُمُورُ٥٣

  • Unquestionably the matters for finalization/disposal/decision are returned towards Allah the Exalted. [42:53]

متنبہ رہو؛تمام امور نمٹائے جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب           لوٹتے ہیں۔

 

043-سُوۡرَةُ الزُّخْرُف

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ ١
وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢
إِنَّا جَعَلْنَٟهُۥ قُرْءَٟنًا عَـرَبِيّٙا لَّعَلَّـكُـمْ تَعْقِلُونَ ٣
وَإِنَّهُۥ فِـىٓ أُمِّ ٱلْـكِـتَٟبِ لَدَيْنَا لَعَلِـىٌّ حَكِيـمٌ ٤

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added.  [43:01]

  • And swearing by the Principal Book — that which actively renders every reality luminously distinct and explicit — [43:02]

  • Indeed Our Majesty has rendered that (afore-mentioned Book) as a composite transcript in the eloquent tongue of the Arabian Peninsula — so that you may anchor it in memory, critically analyze its facts against conjecture, and exercise true intellect [43:03]

  • And further know, it (Qur’ān) is certainly the divinely rendered Arabic disclosure of the most exalted and wisdom-laden portion of that Principal Book which is safe in Our custody. It (Qur’ān) is the holder of wisdom: the knowledge of invisible-secreted-infolded, judging rightly in matters relating to life and conduct. [43:04]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔
ہم قسم کے لئے اس معلوم کتاب (ام الکتاب)کا حوالہ دے رہے ہیں  جس کا  بنیادی وصف حقائق مستور اور   ہر حقیقت کو روشن،ممتاز اور بالکل واضح اور آشکار کر دینے والے کا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب نے اس(ام الکتاب کے مندرجات)کو
جزیرہ  نماعرب کی فصیح و بلیغ زبان میں  ترتیب دیا ہوا متن بنا دیا ہے۔تاکہ تم لوگ اس کو اپنی یاداشت میں بغورمحفوظ کر سکو، قیاس و گمان سے مجرد کر کے  حقائق پر مبنی معلومات کا تنقیدی و سائنسی تجزیہ کر سکو، اور حقیقی عقل و تدبر کو کارفرما بنا سکو۔
اور اِس(عربی میں تالیف و تدوین دیا متن بعنوان قرءان)کے متعلق حقیقت جان لو،بلاشبہ یہ ہمیشہ سے ام الکتاب کے مندرجات میں اعلی ترین مقام رکھتا ہے؛وہ(ام الکتاب)ہمارے پاس محفوظ ہے۔یہ(قرءان)حکمت و دانائی اور پنہاں حقیقتوں کو سموئے ہوئے ہے۔

Root: ع ر ب ;

قرءان مجید کا سرچشمہ:ام الکتاب

أَفَنَضْرِبُ عَنكُـمُ ٱلذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُـمْ قَوْمٙا مُّسْـرِفِيـنَ ٥

  • "O you who demand the replacement of the Qur’ān! Do you expect that Our Majesty, yielding to your desire (10:15), would remove and distance the Memoir (Qur’ān) from you merely because you have been heedless and transgressing?" [43:05]

قرءان مجید کو بدلوانے کا مطالبہ کرنے والو !کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ ،ہم تمہاری خواہش کے آگے جھکتے ہوئے (10:15)، سرگزشت تخلیق اور سلسلہ رشدوہدایت(قرءان مجید)کو ہٹا کر تم سے دور کر دیں، صرف اس لیے کہ تم لوگ غفلت برتتے ہوئے حد سے گزر جانے والے ہو؟"

Root: س ر ف; ص ف ح; ض ر ب

وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِن نَّبِىّٛ فِـى ٱلْأَوَّلِيـنَ٦

  • Why do they not recall (those whom they frequently mention when demanding miracles) that Our Majesty sent many a distinguished Messengers from the galaxy of the Elevated and Distinct Chosen Allegiant among the people of earlier times, carrying a similar message?" [43:06]

وہ کیوں انہیں  یاد نہیں کرتے (جن کا بار بار  ذکر کرتے ہیں   معجزات کے مطالبہ کے ساتھ)جنہیں ہم جناب نے اپنے  فضل اور قدر دانی سے  منتخب کئے مخلوقات میں  اشرف و برگزیدہ   دئیے بندوں میں سے منصب رسالت پر فائز  کر کے  اولین  تہذیبوں میں بھیجا تھا؟

وَمَا يَأْتِيـهِـم مِّنْ نَّبِىٍّ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِ ءُونَ ٧

  • And this is a definite fact; Whenever a Messenger, one from the galaxy of those chosen and granted distinction by Allah the Exalted, came to them with a message and extraordinary sign (miracles), the leaders of those civilizations only reacted with a conscious attitude of mockery, deliberately ridiculing him in front of the people. [43:07]

اور یہ قطعی حقیقت ہے کہ جب جب ز مان و مکان میں  مخلوقات میں  اشرف و برگزیدہ   دئیے بندوں میں سے منصب رسالت پر فائز   بندہ ان کے پاس پیغام  اور ما فوق الفطرت  مظاہرلے کر آیا تو ان تہذیبوں کےعمائدین کا  شعوری رویہ   اور ردعمل سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ دانستہ لوگوں کے سامنے                                                زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ھ  ز ء

فَأَهْلَـكْنَآ أَشَدَّ مِنْـهُـم بَطْشٙا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلْأَوَّلِيـنَ٨

  • Thereby, for reason of their persistent denial until expiry of respite period, Our Majesty  annihilated those who were more mightier than them in seizing people with violent force—They should remain mindful the example of earlier peoples has already been set forth as a warning.. [43:08]

چنانچہ، ان کے مسلسل انکار کے باعث، یہاں تک کہ ان کے لئے مہلت کی مدت ختم ہو گئی، ہم جناب نے ان لوگوں کو نیست و نابود کر دیا جو اِن سے کہیں زیادہ زبردست تھے لوگوں کو زور و قوت کے ساتھ پکڑنے میں—اِنہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پہلے لوگوں کی مثال بطور تنبیہ پہلے ہی پیش کی جا چکی ہے۔

 

Root: م ض ى


وَلَئِن سَأَلْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ

  • And If you ask them as to who created the Skies and the Earth —

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے تخلیق کیا —

لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيـمُ ٩

  • They will certainly answer "Allah, the Dominant, All Pervasive; the Fountain of Knowledgeable has created them." [43:09]

تو یقیناً  تسلیم کرتے ہوئے کہیں گے کہ انہیں  ان جناب  (اللہ تعالیٰ۔31:25اور39:38)نے تخلیق کہا ہے جو دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں،وہ منبع علم ہیں۔

 

ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلۡأَرْضَ مَهْدٙا

  • He the Exalted is the One Who has rendered the Earth plain, smooth and soft like child's bed especially for you people —

وہ جناب وہ ہیں جنہوں نے خصوصی طور پرتم لوگوں کے لئے زمین کوبچھونے کی مانند ہمواربنا دیا۔

Root: م ھ د  History of the Earth

وَجَعَلَ لَـكُـمْ فِيـهَا سُبُلٙا

  • And He the Exalted has rendered within her (Earth) tracks as paths/passages for travel for you people —

اور ان جناب نے خصوصی طور پر تم لوگوں کی خاطر اس میں  سفر کےراستے رکھ دئیے،

لَّعَلَّـكُـمْ تَـهْتَدُونَ ١٠

  • So that you people may lead your selves to desired destination. [43:10]

 اس  کامقصد یہ  ہے کہ  تم لوگ ازخود صحیح سمت کی رہنمائی حاصل کر سکو۔

وَٱلَّذِى نَزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَاۤءَۢ  بِقَدَرٛ

  • And He the Exalted is the One Who sent water from the Sky in a measured quantity —

اور وہ جناب ہیں جنہوں نے وقفے وقفے سے آسمان سے  ایک مخصوص مقدار میں آسمان   سےپانی  زمین پر برسایا۔

 

فَأَنشَـرْنَا بِهِۦ بَلْدَةٙ مَّيْتٙاۚ

  • Whereupon We rejuvenated/revived with it the dead piece of land/locality —

چونکہ پانی نمو حیات کا لازمی عنصر ہے چنانچہ اس کے ملاپ سے ایک  موضع کی مردہ زمین کو نمو دے دی۔

Root: ن ش ر

كَذَٟلِكَ تُخْرَجُونَ ١١

  • Like this you people will be the brought out [from Earth on Day of Resurrection] [43:11]

تم لوگوں کو بھی اس انداز میں زمین میں سے خارج کیا جائے گا۔

وَٱلَّذِى خَلَقَ ٱلۡأَزْوَٟجَ كُلَّهَا

  • And He the All-Dominant, All-Pervasive, and the Fountain of Knowledge has created the Couplings, all of them without exception.

اور وہ جناب ہیں جنہوں نے تمام جوڑا جوڑا اشیاء کو تخلیق فرمایا ہے۔

وَجَعَلَ لَـكُـم مِّنَ ٱلْفُلْكِ وَٱلۡأَنْعَٟمِ مَا تَرْكَبُونَ ١٢

  • And He the Exalted has rendered that, many ships and mammals you travel with, as embarkable vehicle for you people — [43:12]

اور ان جناب نے  کشتیوں اور چارہ خور چوپایوں میں سے قابل سواری بنا دیا ہے جن پر تم سوار ہو کر بروبحر میں سفر کرتے ہو۔

لِتَسْتَوُۥا۟ عَلَـىٰ ظُهُورِهِۦ

  • So that you may make yourself comfortably and firmly seated over his upper surface —

اس طرح کہ اس کی سطح پر ہموار طریقے سے تم بیٹھ سکو۔

 ثُـمَّ تَذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ رَبِّكُـمْ إِذَا ٱسْتَوَيْتُـمْ عَلَيْهِ

  • Thereafter, you may recall and celebrate the blessing of Sustainer Lord of you people when you have made yourself firmly seated over it —

بعد ازاں  مستحکم انداز میں اس پر سوار ہو جانے  کے بعد اپنے رب کی عنایت کردہ نعمت کو یاد کرو۔

وَتَقُولُوا۟ سُبْحَٟنَ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِنِيـنَ ١٣

  • And you may say, "Glory and Praise is for the One who has subjected this for us, otherwise upon which we would not have acquired command and control — [43:13]

اور کہو"تمام کبریائی ان کے لئےاور تمام کوششوں کا  محور وہی  ہیں جنہوں نے اسے ہمارے لئے مسخر کر دیا وگرنہ ہم ہرگز خود سے اس پر قابو پانے کے قابل نہ ہوتے۔

Root: ق ر ن Root: س خ ر

وَإِنَّـآ إِلَـىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ١٤

  • And it is certain that we will definitely return towards our Sustainer Lord". [43:14]

 اور یہ حقیقت ہے کہ اپنے رب کی جانب ہم نے   لازماً پلٹ کر جانا ہے"۔


وَجَعَلُوا۟ لَهُۥ مِنْ عِبَادِهِۦ جُزْءًاۚ

  • Yet, they declared for Him the Exalted some of His subjects as a part of Him.

متنبہ رہو کہ  اللہ تعالیٰ کو مطلق خالق ماننے کے باوجود  اِن لوگوں نے  ان کے بندوں میں سے بعض کوان جناب کا جزو قرار دے دیا۔

إِنَّ ٱلْإِنسَٟنَ لَـكَفُورٚ مُّبِيـنٌ ١٥

  • It is true that the Man, generally speaking, is certainly and manifestly ungratefully denier of realities and facts. [43:15]

یہ حقیقت ہے کہ انسان،بالعموم،بدیہی حقیقتوں سے بھی ناشکری  کا مظاہرہ کرتے ہوئے منکر ہے۔

أَمِ ٱتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٛ وَأَصْفَىٰكُـم بِٱلْبَنِيـنَ ١٦

  • Or has He the Exalted adopted as daughters out of what that He has created, and has chosen for you people to have sons? [which you aspire to have] [43:16]

یاکیا ان جناب نے ان میں سے جنہیں وہ تخلیق کرتے ہیں بطور بیٹیاں اپنا لیا ہے اور انہوں نے تم لوگوں کو بیٹوں سے نواز کر معاشرے میں ممتاز کیا ہے؟

Root: ص ف و

وَإِذَا بُشِّـرَ أَحَدُهُـم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْـمَـٰنِ مَثَلٙا

  • And when any of them is congratulated with news of that which he illustratively ascribed for Ar'Reh'maan the Exalted—

اور جب ان میں سے کسی ایک کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے  جس کی مثال  دیتے ہوئے الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام)سے منسوب کرتا ہے(النحل۔58ساتھ پڑھیں):

ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدّٙا وَهُوَ كَظِيـمٌ ١٧

  • His face is veiled blackish, becoming exhibitor of darkened expression. And he is in state of disconcert. [43:17]

تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہےاور وہ اس وقت بیقرار مضطرب کیفیت میں ہو جاتا ہے۔

Root: س و د;  ظ ل ل; ك ظ م

أَوَمَن يُنَشَّؤُا۟ فِـى ٱلْحِلْيَةِ وَهُوَ فِـى ٱلْخِصَامِ غَيْـرُ مُبِيـنٛ ١٨

  • Could she be like, he contemplates, the male-son who is brought up in the demonstrative pomp and show? And he the father of newly born daughter is in the vague, self arguing perplexity-duality of thoughts of choosing from two alternatives. [43:18]

اور سوچتا ہے کہ کیا جو پیدا ہو گئی ہے اسے اس کی مانند برداشت کر لوں جسے ظاہری شان و شوکت سے فخریہ پالا پوسا جاتا ہے؟اور وہ شخص نومولود بیٹی کا باپ غیر واضح انداز میں اپنے آپ سے بحث میں الجھا ہوا ہے۔

Root: ن ش ء; ح ل ى; خ ص م


وَجَعَلُوا۟ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةَ ٱلَّذِينَ هُـمْ عِبَٟدُ ٱلرَّحْـمَـٰنِ إِنَٟثًاۚ أَشَهِدُوا۟ خَلْقَهُـمْۚ سَتُكْـتَبُ شَهَٟدَتُـهُـمْ وَيُسْـَٔلُونَ ١٩
وَقَالُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ مَا عَبَدْنَٟهُـمۗ مَّا لَـهُـم بِذَٟلِكَ مِنْ عِلْمٍۖٛۖ     إِنْ هُـمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ٢٠

  • Reflect on their conjectures; they the Polytheist elite have declared the Angels as feminine, the ones —those who are, in their very identity, devoted servants of Ar'Reh'maan (the Exalted). Why do they believe and declare so; have they witnessed - observed their creation? Their such utterances before public will be kept recorded and they will be held questionable-accountable. [43:19]

  • And they, to impliedly convince people  it is being done under His command, said: "Had it been the will of Ar'Reh'maan we would have not worshipped them". There is nothing in the domain of independent knowledge that could be enabling for them to substantiate their foretasted assertion —Indeed they do nothing except conjecturing and lying by commission. [43:20]

ان کی ہوا میں باتوں  پر غور کرو؛انہوں نے ملائکہ کو جو الرّحمٰن(ذوالجلال والاکرام)کے بندے ہیں،مؤنث قرار دے دیا ہے۔وہ ایسا کس بنیاد پر کرتے ہیں ؛کیا انہوں نے انہیں تخلیق ہوتے ہوئے دیکھا تھا؟لوگوں کے سامنے ان کی بیان کردہ شہادت کو ضبط تحریر لایا جاتا رہے گا اور ان سے اس کی باز پرس ہو گی۔
اور لوگوں کو اصنام پرستی کا جواز بتاتے ہوئے ان عمائدین نے کہا"اگر الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)کا ارادہ ایسا ہوتا تو ہم نے کبھی ان(معبودان)کی بندگی نہ کی ہوتی"۔حالانکہ  معلومات کاکوئی ذریعہ ان کے پاس  قطعاً  نہیں ہے جسے وہ تائید میں پیش کر سکیں۔
اور وہ         علم و سچائی سے                                 ماورا  جھوٹےتخیلاتی قیاسات            کرنے کے علاوہ کچھ اور  نہیں کرتے۔

Root: ء ل ك

أَمْ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْ كِتَٟبٙا مِّن قَبْلِهِۦ فَهُـم بِهِۦ مُسْتَمْسِكُونَ ٢١

  • Or (if they had not gained knowledge about what they say by observation) had Our Majesty given them a book before it (Qur’ān) —Whereby they have consciously made themselves determined to keep attached/restrained with it? [43:21]

یا اگر ان کا کہنا مشاہدہ سے حاصل کردہ علم کی بنیاد پر نہیں ہے تو کیا ہم جناب نے اس(قرءان)سے قبل ان کو کتاب سے نوازا تھا جس سے انہوں نے اخذ کیا۔چونکہ نازل کردہ کتاب بیان حقیقت ہے اس لئے وہ اس کے ساتھ پابند رہنے کے متمنی ہیں؟

Root: م س ك

بَلْ قَالُوٓا۟

  • No, they have neither knowledge by observation nor by the book, on the contrary they confessed by saying to people: —

نہیں،ان کے پاس نہ مشاہدہ اور نہ کتاب کا علم ہے بلکہ انہوں نے خود اعتراف کرتے ہوئے  صاحبان ایمان لوگوں سے کہا:

إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَـىٰٓ أُمَّةٛ

  • "We had certainly found our fathers on a pattern and system —

یہ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایک نمونے اور نظام پر ہم خیال اکائی پایا تھا۔

وَإِنَّا عَلَـىٰٓ ءَاثَٟرِهِـم مُّهْتَدُونَ ٢٢

  • And certainly we are consciously determined to guide ourselves on the legacy and symbols/ traditions of them." [43:22]

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم شعوری طور پر ان کی علامتوں اور روایات  پر اپنی رہنمائی کرنے کے لئے پر عزم ہیں"۔

Root: ء ث ر

وَكَذَٟلِكَ مَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِـى قَرْيَةٛ مِّن نَّذِيرٍٛ إِلَّا قَالَ مُتْـرَفُوهَآ

  • Know the history; And in the same manner Our Majesty whenever sent an Admonisher/Awakener before you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in a community/city the response of her ruling elite was but what they said to them —

اس  تاریخی حقیقت کو جان کر اطمینان رکھیں؛آپ (ﷺ)سے قبل  بھی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم جناب نے  کسی بستی میں باطل راہ پر چلنے  کے دردناک  نتائج و عواقب سے انتباہ کرنے والے کو مبعوث فرمایا ہو تو ان کی طرح اس کے  سرکردہ  صاحبان و ثروت اقتدار کا رد عمل بھی صرف یہ کہنا تھا:

إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَـىٰٓ أُمَّةٛ

  • "We have certainly found our forefathers on a pattern and system —

    "یہ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایک نمونے اور نظام پر ہم خیال اکائی پایا تھا۔

وَإِنَّا عَلَـىٰٓ ءَاثَٟرِهِـم مُّقْتَدُونَ ٢٣

  • And certainly we are patterning our lives upon their legacy and symbols/traditions." [43:23]

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم شعوری طور پر ان کی علامتوں اور روایات   کی تقلید  کرنے کے لئے پر عزم ہیں"۔

Root: ق د و;  ء ث ر

قَـٟلَ أَوَلَوْ جِئْتُكُـم بِأَهْدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّـمْ عَلَيْهِ ءَابَآءَكُمْۖ

  • The respective Messenger said to them, "Even [would you keep blindly following forefathers] if I have come to you with that which is better guidance/course of action than that on which you found your forefathers?"

مبعوث فرمائے نذیر نے کہا"کیا آپ لوگ باوجود اس کے    تقلید پر قائم رہنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس بہترین ہدایت نامہ کو لے کر آیا ہوں بہ نسبت اس کے جس پر آپ لوگوں نے اپنے آباؤ اجداد کو کاربند پایا تھا!"

قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ كَٟفِرُونَ ٢٤

  • They replied, "Certainly we refuse to accept that with which you have been sent." [43:24]

انہوں نے جواب دیا"ہم اپنے متعلق حقیقت بتاتے ہیں کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں جس کے ساتھ تم لوگوں کو بھیجا گیا ہے"۔

فَٱنتَقَمْنَا مِنْـهُـمْۖ

  • Thereby, on termination of respite period Our Majesty decided to award punishment to those amongst them who persistently refused and committed crimes.

اس طرح جب عنایت کردہ مہلت کو وقت ختم ہو گیا، تو ہم جناب نے انہیں مستوجب سزا قرار دے دیا،

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِيـنَ ٢٥

  • Therefore, [to take a lesson, advise to travel in land and] you the Messenger tell each of the aristocrat visitor; "Do see the remains/archaeological evidences as to what was the end of those who publicly contradicted [the Messengers and Aa'ya'at of Allah]. [43:25] [read with 6:11]

چونکہ یہ بھی ہٹ دھرمی پر مائل ہیں اس لئے آپ (ﷺ)ملاقات پر ہر ایک سردار سے کہیں "آپ  کرہ ارض پر گھومیں پھریں اس طرح آثار قدیمہ پانے پر دیکھیں  کہ  رسول کے پہنچائے ہدایت نامہ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیسا تھا"(الانعام۔11کے ساتھ پڑھیں)۔


وَإِذْ قَالَ إِبْرَٟهِيـمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦٓ  إِنَّنِى بَرَآءٚ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ٢٦
إِلَّا ٱلَّذِى فَطَرَنِـى فَإِنَّهُۥ سَيَـهْدِينِ 
٢٧

  • Be acquainted with that moment in history when Iebra'heim [علیہ السلام]  in a declarative address to his Uncle and, on another occasion, to his people, said: —"Indeed, I am entirely and perpetually dissociated from each and every statue you take as deities and owe allegiance and demonstrate servitude under a philosophy of association — [43:26]
  • Except the One Who brought me into existence and manifestation out of non-being. Since I am migrating under His Command, surely He will keep guiding me in future course." [43:27]

تاریخ کے اُس دور سے بھی آشنا ہو جاؤ جب ابراہیم (علیہ السلام)نے اپنے ابو(چچا آذر)سے اور دوسرے موقعہ پر اپنی قوم  کے لئے اعلانیہ  کہا تھا"یقیناً میں، ہر اس ایک    ایک سے  ہمیشہ سے لاتعلق  ہوں جنہیں آپ  فلسفہ اشتراک  کے   تحت معبود قرار دے کر اپنے تئیں اظہار بندگی کرتے ہو۔
سوائے ان ایک جناب کے جنہوں نے عدم سے مجھے وجود اور ظہور دیا ہے۔چونکہ میں  ان کے حکم کی تعمیل میں ہجرت کر رہاہوں اس لئے  یقینی بات ہے کہ وہ جناب  میری رہنمائی فرماتے رہیں گے  ۔

Root: ف ط ر

وَجَعَلَـهَا كَلِمَةَۢ  بَاقِيَةٙ فِـى عَقِبِهِۦ لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٢٨

  • And He the Exalted rendered it — his solemn declaration of Monotheism — as a lasting statement uprising after his departure  — so that they might revert to Monotheism. (Cf. 60:04) [43:28]

اور ان جناب نے ان کے اس کلمہ توحید کو ان کے  ہجرت  کر جانے کے بعد ان کی  قوم میں  برقرار رہنے والا  کلمہ بنا دیا ا تاکہ امکان پیدا ہو جائے کہ وہ توحید پر پلٹ آئیں ۔(ساتھ دیکھیں  الممتحنہ۔4)

Root: ب ق ى

بَلْ مَتَّعْتُ هَٟٓـؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُـمْ حَتَّىٰ جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ وَرَسُولٚ مُّبِيـنٚ ٢٩

  • No indeed; their claim that they would lose their socio-political standing is but an excuse (cf. 28:57). Rather, I allowed these people and their forefathers to enjoy prolonged prosperity and privilege, generation after generation, until there came to them Al-Ḥaqq—the Infallible Divine Doctrine-Discourse—and a Messenger clearly recognized for making its realities manifest.[43:29]

ان کا اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی برتری کے زوال کو انکارِ حق کا جواز بنانا لغو اور بے اصل ہے (حوالہ: القصص 57)۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان عمائدینِ مکہ اور ان کے آباء و اجداد کو فراوانیِ رزق، ثروت اور اقتدار سے بہرہ مند رکھا، اور یہ مہلت و آسودگی اسی طرح برقرار رہی یہاں تک کہ ان کے پاس بیانِ حقیقت (قرءانِ مجید) اور وہ رسول پہنچ گئے ہیں  جو حقیقت کو شعورِ انسانی کے لیے دلیل و برہان کے ساتھ نمایاں اور واضح کرنے والے، فصاحت و بلاغت کے  پیکرہیں ۔(الزخرف۔٢٩)

وَلَمَّا جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٚ وَإِنَّا بِهِۦ كَٟفِرُونَ ٣٠

  • And as soon the Infallible Doctrine-Discourse (Qur’ān) reached to them scripted —They (ruling polytheists) showing the script in their hands said: "This (Qur’ān) is illusionary lie —And know it, of course, we are the deniers of it accepting as word of Allah." [43:30]

 اور جوں ہی بیان حقیقت(قرءان مجید)انہیں  تحریر میں پہنچ گیا۔انہوں (منکرین عمائدین مشرکین)نے اپنے ہاتھ میں تھامے  مسودہ قرءان  کو دکھاتے ہوئے لوگوں سے کہا"تو سوائے صریحاً طلسماتی شعبدہ بازی کی کہانیوں کے کچھ بھی نہیں ہے ۔اور اس حقیقت کو جان لو ہم یقیناً اس کو کلام اللہ ماننے سے انکار کرتے ہیں"۔

Root: س ح ر

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ عَلَـىٰ رَجُلٛ مِّنَ ٱلْقَرْيَتَيْـنِ عَظِيـمٛ ٣١

  • And (See their panicked state, they called it illusory lie yet yearn) they (ruling polytheists) showing the script in their hands further said: "Why has this Qur’ān not been sent upon a fabulously rich man of the two cities?" [43:31]

اور(ان کے اوسان خطا ہونے کو دیکھو خود کہتے ہیں یہ طلسماتی کہانیاں ہیں اور تڑپ یہ ہے)انہوں نے اپنے ہاتھ میں تھامے  مسودہ  کو دکھاتے ہوئے لوگوں سے کہا"کیا وجہ ہے کیوں نہیں  یہ ٱلْقُرْءَانُ  دو شہروں میں سے کسی عظیم مرد(انتہائی دولت مند اورکثیر ذریت)پر وقفے وقفے سے نازل کیا گیا؟"۔

أَهُـمْ يَقْسِمُونَ رَحْـمَتَ رَبِّكَۚ

  • Do they people distribute the Mercy of the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]?

کیا یہ لوگ ہیں جو آپ(ﷺ)کے رب کی رحمت کے تقسیم کنندہ  ہیں!

Root:  ق س م

نَـحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَـهُـم مَّعِيشَتَـهُـمْ فِـى ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۚ

  • Our Majesty have distributed amongst them their economy in the Worldly Life.

ہم جناب ہیں جنہوں نے حیات دنیا میں ان کی معیشیت کو ان کے مابین تقسیم کیا ہے۔

Root:  ق س م

وَرَفَعْنَا بَعْضَهُـمْ فَوْقَ بَعْضٛ دَرَجَٟتٛ

  • And Our Majesty have uplifted some of them over others, with regard to worldly rankings —

اور ہم جناب نےتم لوگوں میں بعض کو بعض پر دنیاوی  معاملات میں بلند مقام پر فائز کیا ہے۔

Root: د ر ج;  ر ف ع; ف و ق

لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُـم بَعْضٙا سُخْرِيّٙاۗ

  • So that some of them may hold some others as employees - service providers.

اس کا مقصد یہ ہے ان میں سے بعض دوسروں کو بطور مطیع و فرمانبردار ملازم بنا لیں۔

Root: س خ ر

وَرَحْـمَتُ رَبِّكَ خَيْـرٚ مِّمَّا يَجْـمَعُونَ ٣٢

  • And the Mercy [Grand Qur’ān] of the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is far better a blessing than that which they people accumulate. [43:32]

اور آپ (ﷺ) کے رب کا اظہار رحمت (قرءان مجید)اس تمام فضل و کرم سے بہترین ہے جسے وہ جمع کرتے رہتے ہیں۔

وَلَوْلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙ لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْـفُـرُ بِٱلرَّحْـمَـٰنِ

  • And had there been not the possibility of people becoming a like-minded entity, certainly Our Majesty would have rendered, for whoever disavows Ar'Reh'maan the Exalted—

مطلع رہو؛اگر  لوگوں کے ہم خیال جماعت بن جانے کا امکان نہ ہوتا تو جو الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام) کے مطلق معبود ہونے کا انکار کرتے ہیں تو ہم جناب فراوانی دولت کو ان کے لئے ذریعہ بنا دیتے:

لِبُيُوتِـهِـمْ سُقُفٙا مِّن فِضَّةٛ وَمَعَارِجَ عَلَيْـهَا يَظْهَرُونَ ٣٣

  • Their economy expanded to make roofs-ceilings for their houses of silver, and likewise staircases upon which they climbed to surface above — [43:33]

چاندی کو پگھلا کر اپنے گھروں کی چھتیں بناتے اور ان پر چڑھنے کے لئے سیڑھیاں جس         سے وہ ان کے اوپر جاتے۔

Root: س ق ف;  ع ر ج; ف ض ض

وَلِبُيُوتِـهِـمْ أَبْوَٟبٙا وَسُرُرًا عَلَيْـهَا يَتَّكِــُٔونَ ٣٤

  • And the doors for their houses; and couches upon which they recline— [43:34]

اور ان کے گھروں کے دروازوں کے لئے؛اور تخت بھی چاندی جن پر مسند لگاتے۔

Root: س ر ر; و ك ء

وَزُخْرُفٙاۚ

  • And decoration - gold plating.

اور سونے کے پانی سے آرائش کے لئے فراوانی دولت۔

Root: ز خ ر ف

وَإِن كُلُّ ذَٟلِكَ لَمَّا مَتَٟعُ ٱلْحَـيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۚ

  • Bu it is certain that all these are merely the provision and enjoyment of the worldly life with no sustaining benefit to non-believers—

مگر یہ سب کچھ سوائے حیات دنیا کے سامان زیست کے ایسے منکرین کے لئے کچھ اور اہمیت اور استفادے کا حامل نہیں۔

وَٱلۡءَاخِـرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيـنَ ٣٥

  • And the Hereafter life is much luxurious by the grace of the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] for those who sincerely endeavour to attain salvation. [43:35]

اور آخرت میں ثروت و آرائش آپ کے رب کی جانب  سے فقط ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو محتاط طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔


وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَٟنٙا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٚ ٣٦

  • Beware! Whoever drifts into darkness, neglecting the Grand Memoir—the source of light and guidance from Ar'Reh'maan the Exalted—Our Majesty acknowledges his choice of a satanic-minded trailblazer who has become like a shell enclosing him. Consequently, this trailblazer becomes his closest companion, alluring and deluding him with conjectural fascinations. [43:36]

خبردار! اگر کوئی الرَّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام)کے سرگزشت تخلیق اور سلسلہ رشدوہدایت(قرءان مجید)سے رخ موڑ کر اندھیروں کی جانب گامزن ہو جاتا ہے، تو ہم جناب (جہنم میں اس کے ساتھی بننے والے) اس شیطان صفت کا تعین بھی کر لیں گے، جو اس کے لیے ایک محیط خول بن چکا ہے اور نتیجتاً اس کا قریبی رازدار، ہم نشین اور دلفریب ساتھی ہے۔

Root: ع ش ى; ق ى ض; ق ر ن

وَإِنَّـهُـمْ لَيَصُدُّونَـهُـمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّـهُـم مُّهْتَدُونَ ٣٧

  • And indeed, they, the satanic trailblazers, are actively hindering them from the path that leads to salvation, while they assess that they have achieved success becoming rightly guided. [43:37]

اور یقیناً  وہ شیطان صفت رہنما انہیں نجات کے راستے سے سرگرمی سے روکتے رہتے ہیں، جبکہ وہ یہ اندازہ لگاتے ہیں  کہ  محنت کر کے کامیاب  حاصل کی اور ہدایت یافتہ بن گئے  ہیں۔

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَٟلَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ ٱلْمَشْـرِقَيْـنِ فَبِئْسَ ٱلْقَرِينُ ٣٨

  • He retained this misguided perception until death, and when he is resurrected and presented before Our Majesty, he will say to his companion, "I wish there had been the distance of the two Easts between you and me, so we had never met. Now it is evident how terrible a close companion you were.” [43:38]

یہ گمراہ کن تصورمرتے دم تک قائم رکھتے ہوئے جب حیاتِ نو پا کر ہمارے حضور پیش ہوگا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، "کاش میرے اور تمہارے درمیان دو مشرقوں جتنا فاصلہ ہوتا،    جس کی وجہ سے ہم کبھی نہ ملتے۔ اب یہ واضح ہو گیا کہ تم کس قدر برے  قریبی ساتھی تھے"۔

Root: ش ر ق

وَلَن يَنفَعَكُـمُ ٱلْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُـمْ أَنَّكُـمْ فِـى ٱلْعَذَابِ مُشْتَـرِكُونَ ٣٩

  • And it will be pronounced; "When you adopted a wrongful ideology and association you veiled the fact it will be of on benefit to you people on this Day. The result is that you people live in  the infliction as sincere shareholders." [43:39]

اور کہا جائے گا"جب تم نے حقیقت کے منافی باطل نظرئیے اور طرز عمل کو اپنایا  تو تم نے اس کو پس پشت کیا تھا کہ آج کے دن یہ فائدہ مند قطعاً نہیں ہو گا۔اب انجام یہ ہے کہ تم سب  عذاب  میں اشتراک سے رہو"۔

أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ

  • O you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] why you feel grief, for consolation consider; can you make that deaf of ears to have listened who about faced?

اے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ کیا آپ ایک ایک ایسے کانوں سے  بہرے  شخص کو اپنی بات سنوا سکتے ہیں جو آپ سے پیٹھ پھیر کر چل دے؟

Root: ص م م

أَوْ تَـهْدِى ٱلْعُمْىَ

  • Or can you show the path to that person who is blind of eyes—  and guide him whose heart is gone blind?

یا کیا آپ  ایک ایسے  شخص کوراستہ دکھا سکتے ہیں جو آنکھوں سے اندھا ہے او۔۔اس کو ہدایت دے سکتے ہیں  جس کا قلب اندھا  ہو چکا۔

Root: ع م ى

وَمَن كَانَ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٤٠

اور اس کو راہ ہدایت پر لا سکتے ہیں جو عرصہ دراز سے دانستہ دانائی بینائی سے منحرف،،کج روی،غفلت اوراپنے آپ میں مگن ہے  اور ایسے ہی رہنا چاہتا ہے۔

فَإِمَّا نَذْهَبَـنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْـهُـم مُّنتَقِمُونَ ٤١

  • Therefore, whether Our Majesty takes you along in days to come, it will make no difference since you have delivered the Message-Qur’ān. Thus certainly Our Majesty are the awarder of punishment judiciously to people held guilty among them. [43:41]

چونکہ لوگوں کو صاحب حریت قرار دے کر قابل مؤاخذہ بنایا گیا ہے اس لئے اگر ہم جناب آپ(ﷺ)کو آنے والوں دنوں میں ساتھ لے جائیں(طبعی موت پر لوگوں سے علیحدگی) تو بھی ہم جناب  ان میں  مجرم قرار پائے لوگوں کو انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لازماً سزا دیں گے۔

أَوْ نُرِيَنَّكَ ٱلَّذِى وَعَدْنَٟهُـمْ

  • Or whether Our Majesty show you in days to come that One/The Day We have promised to them —

اور اگر ہم آپ(ﷺ)کو آنے والے دنوں میں وہ(یوم آخر آپ کی دنیاوی حیات ہی میں)دکھا دیں جس کا ہم جناب نے اسن سے وعدہ کر رکھا ہے

فَإِنَّا عَلَيْـهِـم مُّقْتَدِرُونَ ٤٢

  • Thereby, Our Majesty are certainly the determining authority for decreeing punishment upon them. [43:42]

تو اس صورت میں بھی یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب ان پر سزا کا فرمان جاری کرنے کا مکمل اختیار و اقتدار رکھتے ہیں۔

فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِـىَ إِلَيْكَۖ

  • Ignoring their demand of giving them some content of personal origin other than that of Qur’ān and not feeling irritated, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] keep your desire and resolve of remaining confined/restrained/restricted with the One (Qur’ān) which has since been verbally communicated to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam, for guiding people].

ان کے  اپنے پاس سے اور غیر قرءان  باتیں بتانے کے مطالبہ  سے نہ کوفت محسوس کریں نہ اسے درخور اعتنا سمجھیں؛اس لئے آپ(ﷺ)لوگوں کو ہدایت دینے کیلئے حسب معمول (حوالہ یونس ؐ۔۵۱)اپنے آپ کو اِس ایک (قرءانِ مجید)تک محدود اور پابند رکھنے کی خواہش اور ارادے پربدستور قائم رہیں جو آپ (ﷺ)کی طرف بذریعہ کلام(وحی) بھیجا گیا ہے۔

Root: م س ك

إِنَّكَ عَلَـىٰ صِرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٤٣

  • It is the certain fact; you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have always been upon that High road - Course towards which you are inviting people which keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquillity [Leading to Me] [43:43]

آپ کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ آپ (ﷺ) یقیناًہمیشہ سے اس راستے پر گامزن ہیں جس کی جانب آنے کا  لوگوں کو پیغام اور دعوت دے رہے ہیں  جوکامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب رواں دواں رکھتا ہے۔ جوکامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب رواں دواں رکھتا ہے۔

Root: ص ر ط

وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٚ لَّكَ وَلِقَوْمِكَۖ

  • And fact remains that it (Qur’ān) is certainly a Memoir/Referential/Reference Book that was reserved as honour-blessing for you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and for your Nation.

مزید برآں، یہ حقیقت ہے کہ یہ (قرءانِ مجید) درحقیقت ایک ایسا ذکر /نوشت ازل و ابدہے جو بطور اعزاز مختص فرمایا گیاآپ (ﷺ) کے بیان کرنے کیلئے۔ اور آپ کی قوم کیلئے  خاص طور  پربحیثیت ایک یاددہانی و نصیحت۔

وَسَوْفَ تُسْـٔ​ـلُونَ ٤٤

  • O you the Mankind be mindful, you people will soon be subjected to questioning/accountability [43:44]

 اے لوگو خبردار رہو!تم سے عنقریب اِس بیان فرمائے گئے کے متعلق پوچھاجائے گا۔

وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ

  • And inquire in to from any one of them whom Our Majesty had sent in times before you as Messenger, do it from the record/history of Our Messengers incorporated in Qur’ān —

اور آپ(ﷺ)ان میں سے کسی سے  بھی دریافت کر لیں جنہیں ہم جناب نے آپ سے قبل کے ادوار میں بحثیت رسول بھیجا تھا،یہ آپ ہمارے رسولوں کی قرءان مجید میں بیان   کردہ خبروں/تاریخ سے کریں۔

أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ءَالِـهَةٙ يُعْبَدُونَ ٤٥

  • As to whether other than Ar'Reh'maan, did Our Majesty ever declare others as various iela'aha: godheads to be worshipped? [43:45]

’’کیا ہم جناب نے الرّحمٰن(ذوالجلال و الاکرام)کے علاوہ مادی اشیا اور مردوں کومعبودان قرار دیا تھا جن کی پرستش کی جاتی         ہے؟‘‘۔


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَـىٰ بِـَٔايَٟتِنَـآ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ

  • And in the past Our Majesty had indeed sent Mūsā [alai'his'slaam] as emissary with Our unprecedented Signs-displays towards Fir'aoun/Pharaoh and his chieftains.

    یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ  کے لئے  اپنی ایسی شہادتوں(آیات/معجزات )کے ساتھ        فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب بھیجا،جوان کےتصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے    واضح سند  و برھان کا درجہ رکھتی تھیں۔

Root: م ل ء

فَقَالَ إِنِّـى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٤٦

  1. Thereupon, on reaching there he said to them, "Indeed, I am the Messenger of the Sustainer Lord of the Universes-all that exists." [43:46]

تکمیل حکم میں جب وہ مصر میں فرعون کے دربار میں پہنچ گئے توکہا"اس حقیقت کو جان لیں میں  عالمین کے رب کا رسول ہوں"۔

فَلَمَّا جَآءَهُـم بِـَٔايَـٟتِنَآ إِذَا هُـم مِّنْـهَا يَضْحَكُونَ ٤٧

  • And when he came to them with Our unprecedented Signs at that point in time they, the ruling chieftains, ridiculously laughed early on seeing them — [43:47]

پیغام رسالت کی حقانیت کے سلسلے میں جوں ہی انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے ہماری شہادتوں(آیات/معجزات)کا انہیں مشاہدہ کرایا تو  ابتدا میں ان کو  وہ(فرعون اور اس کے قریبی رفقاء) ہنسی مذاق میں لیتے تھے۔

Root: ض ح ك

وَمَا نُرِيِـهِـم مِّنْ ءَايَةٛ إِلَّا هِىَ أَكْبَـرُ مِنْ أُخْتِـهَاۖ

  • While what Our Majesty showed them some demonstrative physical sings/manifestations it was greater in affect than its sister one/earlier happening —

اور ہم جناب نے جس بھی عینی شہادت(آیت/معجزہ)کو انہیں دکھایا وہ اپنے سے پہلے دکھائی گئی شہادت سے حجم اور وسعت اور لوگوں کے علم میں آنے کے حوالے سے بڑی تھی۔

وَأَخَذْنَٟهُـم بِٱلْعَذَابِ

  • And Our Majesty seized them with infliction —

اور ہم جناب نے انہیں ذہنی و جسمانی تکلیف سے گرفت میں لیا۔

لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٤٨

  • So that they might revert to prescribed code of conduct. [43:48]

جس کا بنیادی مقصد تنبیہ تھا کہ حقیقت کی جانب وہ پلٹ آئیں۔

وَقَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ

  • And they/ruling chieftains said (to Mūsā [alai'his'slaam), "O you the Illusionist/Magician!

تو انہوں (فرعون اور اس کے معتمدین)نے موسیٰ(علیہ السلام)سے رجوع کرتے ہوئے کہا"اے باکمال شعبدہ باز!

Root: س ح ر

ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ٤٩

  • Pray/call your Sustainer Lord for us by that which He has made covenant with you, indeed we will certainly transform ourselves as guided ones". [43:49]

"آپ ہماری خاطر اپنے رب کو پکاریں،اس ذمہ داری کو نباہنے کی استعانت کے لئے جو انہوں نے آپ کو سونپا ہے۔یقیناہم  اپنے آپ کو ہدایت یافتہ بنا لیں گے

Root: ع ھ د

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْـهُـمُ ٱلْعَذَابَ إِذَا هُـمْ يَنكُثُونَ ٥٠

  • Then/acceding their request when Our Majesty removed from them the irritating/abominable trouble/infliction, [for a period reaching its terminating point] at that point of time they used to twist away from their word/promise. [43:50]

مگر جوں ہی ہم جناب نے اس تکلیف اور بے چین کر دینے والی مصیبت سے  انہیں نجات دے دی، اس وقت وہ اپنے قسمیہ وعدے سے پلٹ جاتے تھے۔

Root: ك ش ف

وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِـى قَوْمِهِۦ قَالَ

  • Know this fact, Fir'aoun (Pharaoh) circulated proclamation/address within his Nation, he said —

(شاطرانہ انداز بھی جان لو)فرعون نے اپنی قوم کے لئے یہ ڈھنڈورا کروایا:اس نے کہا:

يَٟقَوْمِ أَلَيْسَ لِـى مُلْكُ مِصْرَ

  • "O my nation! Is the country of Misr [Unified country of Two Lands- (Egypt)] not the dominion exclusively for me —

"اے میری قوم کے لوگو!کیا مصر پر حکمرانی اور ملکیت میرے لئے وقف نہیں ہے؟

Root: م ل ك

وَهَـٰذِهِ ٱلْأَنْـهَٟرُتَجْـرِى مِن تَحْتِىٓۖ

  • And these streams of water that are flowing by my side/underneath [which indicates and refers to his palace]?

اور کیا یہ نہریں جو میرے محل کے پائیں بہتی ہیں میری ملکیت نہیں ہیں؟

أَفَلَا تُبْصِرُونَ ٥١

  • Are you people, thereby, not observing - deducing [about my superiority]? [43:51]

کیا تم لوگ اس سے اس لئے متاثر ہو رہے ہو کہ ان حقیقتوں کو تم دیکھ نہیں رہے؟

أَمْ أَنَا۟ خَيْـرٚ مِّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ مَهِيـنٚ وَلَا يَكَادُ يُبِيـنُ ٥٢

  • Or am I not better than this one (Mūsā [alai'his'slaam]) who is insignificant - man of a slave group; neither he is near achieving distinction - place of position. [43:52]

یا کیا  تم  لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ میں اس شخص کی نسبت حکمرانی کے لئے کہیں زیادہ بہتر ہوں جو پیدائشی طور پر کمزور اور غلام قوم سے ہے،اور نہ  امکان ہے کہ وہ امتیازی مقام حاصل کر لے گا/اور نہ وہ بات کو واضح انداز میں بیان کرنے کے  قریب نہیں ہے۔

Root: ك و د; م ھ ن

فَلَوْلَآ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٚ مِّن ذَهَبٍٛ

  • Thereby, [if he is truly a Messenger] why bracelets of gold have not been placed upon him —

اگر وہ رسول کی امتیازی حیثیت دینے کا دعویدار ہے تو کیوں سونے میں سے خالص حالت میں تیار کردہ کنگن اس پر  ڈالے نہیں گئے۔  

Root: س و ر

أَوْ جَآءَ مَعَهُ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ مُقْتَـرِنِيـنَ ٥٣

  • Or why the Angels have not came along with him, accompanying for command and control?" [43:53]

یا کیوں فرشتے اس کی معیت میں نہیں آئےکہ اس کے ساتھ مل کر کام کرتے"۔

Root: ق ر ن; ء ل ك

فَٱسْتَخَفَّ قَوْمَهُۥ فَأَطَاعُوهُۚ

  • Thereby he cleverly bluffed his nation whereupon they accepted his word.

اس شاطرانہ  اعلان سے  اپنی قوم کو خفیف العقل کرنے میں وہ کامیاب ہوا  جس پر انہوں نے اس کی بات کو تسلیم کر لیا۔

Root: خ ف ف

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَوْمٙا فَٟسِقِيـنَ ٥٤

  • --Indeed they were a people who had long been deviants and limits violators--. [43:54]

۔۔ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم تھے جن کی سرشت وعدہ خلافی اورطے شدہ معاملات سے تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنا ہے۔۔

Root: ف س ق

فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمْنَا مِنْـهُـمْ

  • Thereby, they having disregarded Our Majesty, We decided to award them punishment —

اس طرح جوں ہی انہوں(فرعون اور اس کی قوم)نے ہم جناب کے پیغام کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تو ہم نے انہیں سزا دینے کا فرمان جاری کر دیا۔

فَأَغْـرَقْنَٟهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٥٥

  • Thereby, Our Majesty drowned them, all together. [43:55]

جس کے نتیجے میں ہم جناب نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا،اجتماعی طور پر۔

Root: غ ر ق

فَجَعَلْنَٟهُـمْ سَلَفٙا وَمَثَلٙا لِّلْءَاخِرِينَ ٥٦

  • Thus, Our Majesty rendered and declared them the past precedence and example [to take lesson] for the later people. [43:56]

اس طرح ہم نے انہیں ماضی سے عبرت لینے کا یادگار واقعہ بنا دیا اور بعد والوں کے لئے ایک مثال کہ محتاط رہیں۔

Root: س ل ف


وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبْنُ مَـرْيَـمَ مَثَلٙا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ٥٧

  • Observe their orientation: as soon as the Son of Maryam [Siddiqa] was presented, illustrating him as a sincere subject and Messenger rebutting the notion of him being called a god, the chieftains of your nation, O Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], laughed out loud in ridicule. — [43:57]

ان کی سوچ کے زاوئیے دیکھو؛جوں ہی  مریم صدیقہ کے بیٹے کی مثال کو بیان کیا گیا(انہیں اللہ ماننے کے حوالے سے)کہ وہ مخلص بندے اور رسول ہیں تو اس وقت آپ کی قوم کے عمائدین نے ان سے ہیجان محسوس کر کے بات کا رخ پلٹ دیا:

وَقَالُوٓا۟ ءَأَٰلِـهَتُنَا خَيْـرٌ أَمْ هُوَۚ

  • And they (the ruling elite of the polytheists) said: "Are our godheads better and more extraordinary, or is he (the Son of Maryam, regarded as a god by some)?"

اور   کہا"کیا ہمارے معبودان بہتر ہیں یا وہ(عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)؟"

مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلَۢاۚ

  • They have struck his analogy for nothing but to raise a meaningless wrangling.

انہوں نے ان(عیسیٰ علیہ السلام)کی مثال  پر ردعمل  محض اس وجہ سے دیا ہے  کہ آپ (ﷺ)سے ایک بے معنی بحث  و تکرارکا موضوع  بنایا جائے۔

بَلْ هُـمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ٥٨

  • Not only about it, the fact is that they are a people who habitually indulge in vain wrangling. [43:58]

محض اس بارے نہیں؛حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بے سروپا اور لغو مباحث میں الجھنے والے لوگ ہیں۔

Root: خ ص م

إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ

  • [The quote of the Son of Maryam simply highlighted] That he was but a sincere allegiant upon whom Our Majesty had showered blessings —

وہ(عیسیٰ علیہ السلام)تو محض ہمارے مختص بندے ہیں جن پر ہم جناب نے  سرفرازی اور اشرفیت کا انعام کیا تھا۔

وَجَعَلْنَٟهُ مَثَلٙا لِّبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٥٩

  • And Our Majesty had declared him an example pointer for Bani Iesraa'eel to get out of blood superiority delusion. [43:59]

اور ہم جناب نے انہیں  بنی ا سرائیل کے لئے ایک ایسی مثال بنایا تھا کہ خون کی عظمت کے گمان سے باہر آ سکیں۔

وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنكُـم مَّلَـٟٓئِكَةٙ فِـى ٱلۡأَرْضِ يَخْلُفُونَ ٦٠

  • [Our powers and capabilities are limitless] And if Our Majesty so willed We certainly could have rendered some of you people as Angels [possessing Wings] in the Earth, roaming freely in the Land. [43:60]

تخلیق کے منفرد انداز سے کیوں حیرانی ہے!جہاں تک  ملائکہ کے بارے ان کی باتیں ہیں، اگر ہم چاہیں تو تم میں سے بعض کو ملائکہ کا روپ دے دیں کہ وہ زمین میں خود مختار بنے  گھومتےپھریں۔

Root: ء ل ك


وَإِنَّهُۥ لَعِلْمٚ لِّلسَّاعَةِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "Know the certain fact, the Knowledge about the Appointed Moment is a guarded secret only with Allah the Exalted (read with 7:187; 31:34;33:63;41:47;43:85) .

آپ(ﷺ)سمجھائیں ”اِس حقیقت کو جان لو کہ مخصوص ساعت کے وقوع پذیر ہونے کے متعلق علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس راز ہے۔

فَلَا تَمْتَـرُنَّ بِـهَا

  • Since I am not told about her era and time of anchorage, therefore, in view of the aforesaid fact, henceforth you people should not be curious and questing about her (Last Moment) —

چونکہ مجھے  اس ساعت کے ظہور پذیر ہونے کے زمانہ اور تاریخ  سے مطلع نہیں کیا گیااس لئے تم لوگوں کو  آئندہ اُس کے متعلق متردد نہیں ہونا چاہئے۔

Root: م ر ى

وَٱتَّبِعُونِۚ

  • And you people are directed to sincerely and affectionately follow me [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] in letter and spirit without there being in between third party interference—

اور تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ میری اتباع ،پیروی کرواس انداز میں  کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی اور حائل نہ ہو۔

هَـٰذَا صِرَٟطٚ مُّسْتَقِيـمٚ ٦١

  • This act of sincere and affectionately following me is the High Road that leads safely and stably to the destination of peace and tranquillity — [43:61]

یہ(میری اتباع کرنا)وہ طرز عمل/راستہ ہے جوکامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب گامزن رکھتا ہے۔ (الزخرف۔ ۶۱)

وَلَا يَصُدَّنَّكُـمُ ٱلشَّيْطَٟنُۖ

  • And you people let not Shai'taan hinder you people keep journeying on High Road, [since he is determined to sit there to divert you by deceptive conjectural fascinating myths-7:16]

اور متنبہ رہو؛ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ شیطان تم لوگوں کومستقبل میں اس (صراط مستقیم) سے ہٹا، منحرف کر دے۔

إِنَّهُۥ لَـكُـمْ عَدُوّٚ مُّبِيـنٚ ٦٢

  • It is a fact that he is contentious, antagonistic enemy for you people." [43:62]

“یقینا وہ تم لوگوں کے لئے اعلانیہ دشمن ہے۔


وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلْبَيِّنَـٟتِ قَالَ

  • And as soon Easa [alai'his'slaam] attained strengthen maturity, he came with unprecedented [miraculous] demonstrative Signs — he addressed them —

اور جب بھرپور جوان ہو جانے پرعیسیٰ (علیہ السلام)عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ ان سے مخاطب ہوتے ہوئے      ،جوان کےتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں، یہ کہا:

قَدْ جِئْتُكُـم بِٱلْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّـنَ لَـكُـم بَعْضَ ٱلَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِۖ

  • "Indeed I have come to you people with the pearls of wisdom and for the purpose that I may make for you people distinctly evident and crystal clear some of that in which you people mutually differ.

"میں تم لوگوں کے پاس عقل و دانش کی باتوں کو بروئے کار لانے کی ہدایت لے کر آیا ہوں؛اور اس غایت سے کہ بعض باتوں کو تم لوگوں کے لئے نکھار کر واضح کر دوں جس میں تم لوگ آپس میں اختلاف کرتے رہتے ہو۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ٦٣

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted, and listen and accept my word. [43:63]

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ رَبِّـى وَرَبُّكُـمْ فَٱعْبُدُوهُۚ

  • Indeed Allah the Exalted is He Who is the Sustainer-Lord of me and the Sustainer Lord of you people, therefore, you people be subservient/allegiant to Him alone —

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے رب ہیں اور تم لوگوں کے رب ہیں۔اس لئے  ان کی بااظہار بندگی کرو۔

هَـٰذَا صِرَٟطٚ مُّسْتَقِيـمٚ ٦٤

  • This exclusive servitude and allegiance is the High Road: that leads safely and stably to the destination of peace and tranquillity." [43:64]

یہ اظہار بندگی  صراط مستقیم: منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والا راستہ ہے‘‘۔

فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُمِنۢ بَيْنِـهِـمْۖ

  • Since what he stated was not according to their wishes and interests, the elite groups desperately differed in stances between them.

چونکہ ان کا بیان کردہ  فرمان ہدایت   بعض  با اثر گروہوں  کی خواہشات اور مفادات  سے ہم آہنگ نہ تھا اس لئے  انہوں نے اپنے  مابین اختلافات کو مزید شدت اورگہرائی دے دی۔

Root: ح ز ب

فَوَيْلٚ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيـمٛ ٦٥

  • Thereby, woe/regret is the upshot for those who persistently refused to accept/believe upon witnessing/confronting the severe day. [43:65]

انجام کارخود  اپنی مذمت و ملال ان کا  روزمرہ کا معمول ہو  گا  یوم عظیم   کو  مشہودحقائق کی وجہ سے جنہوں نے انہیں رسول اور مسیحا ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

Root: و ى ل

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَـهُـم بَغْتَةٙ

  • The elite of Arab are also reluctant and hesitant to believe despite knowing infallibility of the Message, thereby, you confirm are they waiting to believe the Qur’ān but that the Determined Moment may come to them all of a sudden?

جزیرہ عربی کے بھی بااثر قبائل لیت و لعل اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس لئے آپ(ﷺ)اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ فقط اس بات کے منتظر ہیں کہ متعین اختتام کی گھڑی اچانک ان کو دبوچ لے۔

Root: س و ع

وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٦٦

  • While they have no idea/perception/clue of that particular Moment. [43:66]

جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔

ٱلْأَخِلَّآءُيَوْمَئِذِۭ بَعْضُهُـمْ لِبَعْضٍٛ عَدُوٌّ إِلَّا ٱلْمُتَّقِيـنَ ٦٧

  • That Day when they would have been resurrected, the close friends will be foes for some others, except the friends of those who sincerely endeavour to attain salvation. [43:67]

گہرے دوستوں میں سے بھی بعض بعض کے لئے دشمن بن جائیں گے جس دن حیات نو پانے پر ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے۔سوائے  ان دوستوں کے جو محتاط روش رکھتے ہوئے قیامت کے دن سرخرو ہونے کے خواہش مند ہیں۔

Root: خ ل ل

يَٟعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُـمُ ٱلْيَوْمَ وَلَآ أَنتُـمْ تَحْزَنُونَ ٦٨

  • It will be proclaimed; "O My devoted subjects, today no fear shall overshadow you, nor shall you grieve— [43:68]

یہ اعلان ہو گا:"اے میرے مخلص بندو، آج  سےتم پر کوئی خوف طاری نہ ہوگا اور نہ تم کسی غم میں مبتلا ہوگے۔

Root: خ و ف; ح ز ن

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا وَكَانُوا۟ مُسْلِمِيـنَ ٦٩

  • Those who believed in Our Aa'ya'at: verbal passages of the Divine Book and they kept  following the Primordial Code and Procedure of Physical Conduct-Islam till death. [43:69]

وہ جو نازل کردہ کتاب کے رسالات پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے آپ کو مرتے دم تک مقرر کردہ ضابطہ حیات اسلام کا پابند رکھا۔

ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ أَنتُـمْ وَأَزْوَٟجُكُـمْ تُحْبَـرُونَ ٧٠

  • You people enter Paradise, you and your spouses, where you will be delightedly honoured and acknowledged as the true scholars and intelligentsia" [43:70]

تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تم اور تمہاری بیویاں۔تمہاری زندگی کو خوشگوار بنا دیا گیا ہے اور تمہیں   حقیقی صاحبان علم و دانش  تسلیم کیا گیا ہے"۔

جنت کی ازواج خواتین  کو باوقار توضیحی  نام  "حُورٌ"؛"قَٟصِرَٟتُ ٱلطَّرْفِ" ؛ "أَتْرَابٌ"اور"عِيـنٚ"سے بیان فرمایا  ہے

يُطَافُ عَلَيْـهِـم بِصِحَافٛ مِّن ذَهَبٛ وَأَكْوَابٛۖ

  • They will be served on the trays made of gold; and crystal mugs adorned with silver.

اور ان پر شراب کے دور چلیں گے۔سونے  سے بنے  ٹرے پر سجائے اور  ان جاموں سے جو بلور سے بنے  چاندی کے  پانی سے مزین ہیں ۔

Root: ص ح ف; ط و ف; ك و ب

وَفِيـهَا مَا تَشْتَـهِيهِ ٱلْأَنفُسُوَتَلَذُّ ٱلْأَعْيُـنُۖ 

  • And therein is everything the souls desire, and the eyes find delight in its splendid presentation.

اور سب کچھ  جو دلوں کی خواہش ہو گی، اور  وہ جو آنکھوں کو اس کی شاندار پیشکش میں خوشی دے،اس کا اس میں بھرپور انتظام ہے۔

Root: ش ھ و;  ل ذ ذ

وَأَنتُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ٧١

  • Be delighted, for you will dwell therein eternally. [43:71]

خوش ہو جاؤ، کیونکہ تم وہاں ہمیشہ کے لئے رہو گے۔

وَتِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِـىٓ أُورِثْتُـمُوهَا بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٧٢

  • And this is the Paradise which you people have deserved and inherited her —With what you people had done/performed. [ الحمدلله how appreciative and encouraging remarks] [43:72]

اور یہ ہے وہ جنت جس کا تم نے استحقاق حاصل کیا اور تمہیں بطور وراثت دی گئی —ان اعمال کے بدلے جو تم نے کئے۔ [الحمد للہ کتنی عزت آفزائی کی بات ہے]

Root: و ر ث

لَـكُـمْ فِيـهَا فَـٟكِـهَةٚ كَثِيـرَةٚ مِّنْـهَا تَأْكُلُونَ ٧٣

  • Fruits in abundance are available therein; from which you will eat to your heart's content." [43:73]

بکثرت پھل  تم لوگوں کے لئے اس میں موجود ہیں؛ جن میں  سےاپنے دلپسند  اور مرغوب پھل جب بھی چاہو گے کھاؤ گے"۔

Root: ف ك ه


إِنَّ ٱلْمُجْرِمِيـنَ فِـى عَذَابِ جَهَنَّـمَ خَٟلِدُونَ ٧٤

  • Indeed the convicts/criminals will suffer the punishment of Hell-Prison abiding therein permanently. [43:74]

اس حقیقت سے خبردار رہو؛مجرم قرار پائے لوگوں نے جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنا ہے۔

لَا يُفَتَّـرُ عَنْـهُـمْ وَهُـمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ٧٥

  • It will not be alleviated for them and they will be for that in a state of frustrating hopelessness. [43:75]

ان سے عذاب کو دھیما نہیں کیا جائے گا اور وہ  ہر وقت عذاب میں مبتلامایوس رہیں گے۔

Root: ف ت ر

وَمَا ظَلَمْنَٟهُـمْ

  • And Our Majesty did no injustice to them —

جان لو،ہم جناب نے ان کے ساتھ  زیادتی نہیں کی،

وَلَـٰكِن كَانُوا۟ هُـمُ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٧٦

  • But in fact they were persistently the unjust/distorter/creators of imbalances and oppression. [43:76]

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  انہوں نے دانستہ عارضی مفادات کے لئے حقیقت کے منافی باطل نظریات اور طرز عمل کو اپنے رکھا باوجود خبردار کئے جانے کہ یہ قابل تعزیر جرم ہے۔

وَنَادَوْا۟ يَٟمَٟلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَۖ

  • And they loudly addressed their respective Angel Warder, "O you the Angel Warder, pray to the Sustainer Lord of you to put an end upon us."

اور انہوں بلند آواز میں پکارا"اے دروغہ صاحب!اپنے رب سے درخواست کریں کہ ہمیں نابود کر دیں"۔

Root: ء ل ك

قَالَ إِنَّكُـم مَّٟكِثُونَ ٧٧

  • He replied, "Indeed you people will survive in this condition for ever". [43:77]

اس نے جواب دیا"حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں نے اس حالت میں ہمیشہ رہنا ہے"۔

Root: م ك ث

لَقَدْ جِئْنَٟكُـم بِٱلْحَقِّ

  • [No, what he tells them are not delusions] Indeed the fact is that Our Majesty have brought to you people the Infallible Discourse —

ان سے کہا جائے گا"یہ حقیقت ہے کہ جناب نے تم لوگوں  کومبنی بر حقیقت اور زمان کی مناسبت سے پیغام پہنچا دیا تھا۔

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَٟرِهُونَ ٧٨

  • But most of you people are aversive for the infallible truth [since it demolished their fabricated system/status quo jeopardizing their worldly interests] [43:78]

مگر تم لوگوں کی اکثریت بیان حقیقت (کتاب اللہ)کے لئے ناگواری کا اظہار کرنے والےتھے۔(وجہ واضح ہے کہ تمہارے باطل نظریات کی تنقیض کرتا تھا)"۔

Root: ك ر ه

أَمْ أَبْرَمُوٓا۟ أَمْرٙا فَإِنَّا مُبْـرِمُونَ ٧٩

  • Have they turned to reflection or have they resolved upon specific a plan [to act against the Messenger as they plotted in 8:30]? Whatever course they choose to take, let them know: Our Majesty is the ultimate authority in concluding all matters. [43:79]

کیا انہوں نے غور و فکر کی طرف رجوع کیا ہے یا کسی مخصوص منصوبے پر  عمل کرنے کافیصلہ کر لیا ہے [رسول  کریم کے خلاف سازش  کا منصوبہ 8:30]؟جو بھی راستہ وہ اختیار کریں، انہیں یہ جان لینا چاہیے  کہ ہم جناب ہی تمام معاملات کے فیصلے کا حتمی اختیار رکھتے ہیں۔

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُـمْ وَنَجْوَىٰـهُـمۚ

  • Or do they think that Our Majesty listen not their secret whispers and counsels in isolation —

یا کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جناب  ان کی سرگوشیوں اور ان کی تنہائی میں خفیہ سازشی منصوبہ سازیوں  پر ہونے والی گفتگو کو نہیں سنتے ۔

Root: س ر ر

بَلَـىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْـهِـمْ يَكْتُبُونَ ٨٠

  • Their perception is false; what to say of listening, the deputed angels by Our Majesty are by their sides who are recording everything in writing. [43:80]

۔ان کا خیال لغو ہے؛سننا تو ایک طرف ہم جناب کے مقرر کردہ پیامبر ان کے اطراف میں موجود ہیں جو ان کی ہر بات کو ضبط تحریر کرتے رہتے ہیں۔


قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْـمَـٰنِ وَلَـدٚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "If there had been a son for Ar'Reh'maan the Exalted—

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اگر کبھی بھی بیٹا الرّحمٰن ذوالجلال و الاکرام کے لئے شریک کار ہوتا؛

فَأَنَا۟ أَوَّلُ ٱلْعَٟبِدِينَ ٨١

  • Thereby, I [Muhammad (Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam), being first to know about it would have been the First of his (son) allegiants—[43:81]

تو چونکہ اس کا علم سب سے پہلے مجھے ہوتا اس لئے اس (بیٹے)کے لئے عبادت گزاروں میں اول ،میں ہوتا۔

سُبْحَٟنَ رَبِّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَـرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٨٢

  • Infinitely Glorious and Elevated and above such needs/support/weakness is the Sustainer Lord of the Skies and the Earth; and the Sustainer Lord of Throne of Absolute Sovereignty—of all that they people conjecturally attribute". [43:82]

خبردار؛ وہ جناب تمام  عظمت وکبریائی  اور جد و جہد کا محور ہیں۔آسمانوں اور زمین کے رب ہیں؛وہ جناب یکتا اور عظیم الشان تخت اقتدار کے رب ہیں ۔ وہ  جناب مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام حاجات اور تعاون شراکت کے جو جھوٹ پر مبنی منفی نوعیت  کی باتیں ان سے منسوب کرتے رہتے ہیں"۔

Root: ع ر ش; و ص ف

فَذَرْهُـمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُـمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ٨٣

  • -- Afterwards having told them, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] leave them playing in their conjectural discourses till they meet/encounter the Day, the one which is being promised to them --. [43:83]

۔۔چونکہ  آپ(ﷺ) نے تمام کو برابری کے اصول پر متنبہ کر دیا ہے مگر ہٹ دھرمی پر بضد ہیں اس لئے آپ  ان لوگوں  (عمائدین یہود )کوالگ /نظر انداز کر دیں،وہ بے سروپا بحثوں اور لطف اندوزیوں  میں مگن رہیں  یہاں  تک  کہ اپنے اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔۔

Root: و ذ ر Root: خ و ض; ل ع ب

وَهُوَ ٱلَّذِى فِـى ٱلسَّمَآءِ إِلَـٰهٚ وَفِـى ٱلۡأَرْضِ إِلَـٰهٚۚ

  • And He the Exalted is the One and only Who is Iela'aha: Sustainer Lord administering affairs in the Sky and is Iela'aha:: Sustainer Lord administering affairs in the Earth.

یہ بدیہی حقیقت ہے کہ وہ جناب ہی ہیں جو آسمان میں مطلق معبود ہیں اور مطلق معبود زمین میں ہیں۔

وَهُوَ ٱلْحَكِيـمُ ٱلْعَلِيـمُ ٨٤

  • Indeed He the Exalted is Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms, the Fountain and Setter of knowledge - science of visible and invisible domains.". [43:84]

اوروہ جناب  بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا،وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں۔

وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُـمَا

  • And the Omnipresent, Perpetual, Absolute is the One for Whom is the Dominion of the Skies and the Earth and all that which is in between two of them —

اورثبات و دوام ہے ان جناب کو  ۔۔ آسمانوں اور زمین پر اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے اقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق صرف  ان  کے دائرہ کار میں ہے۔

Root: م ل ك; ب ر ك

وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ

  • And with Him is The Knowledge of the Appointed Moment —

اس حقیقت سے باعلم رہو؛مخصوص ساعت کے وقوع پذیر ہونے کے متعلق علم صرف  ان کے پاس  محفوذ راز ہے۔

Root: س و ع

وَإِلَيْهِ تُـرْجَعُونَ ٨٥

  • And you people will be presented before Him [on Day of Resurrection] for accountability." [43:85]

متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَٟعَةَ

  • Know it, other than Him the Exalted those whom they people call do not hold the capacity for the Intercession.

اوراللہ تعالیٰ کے سوائےیہ عمائدین مشرکین جن کو  پکارتے رہتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے انہیں شفاعت کا ذریعہ کہتے ہیں ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں۔

Root: ش ف ع; م ل ك

إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُـمْ يَعْلَمُونَ ٨٦

  • Except [the Messengers of Allah] the one who deposed on the basis of fact while they conclusively know [all record having been told to them]. [43:86]

شفاعت کا اختیار صرف ان کے پاس ہے جنہوں نے حقیقت پر مبنی شہادت دی اس حال کہ وہ حقیقت کو جانتے ہیں۔

وَلَئِن سَأَ لْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَهُـمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ

  • And if you ask them as to who created them they will certainly answer "Allah created them."

اور اگر آپ (ﷺ)ان عمائدین سے پوچھیں کہ انہیں کس نے  تخلیق کیا ہےتو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے ہمیں تخلیق کیا ہے"۔

فَأَنَّـىٰ يُؤْفَكُونَ ٨٧

  • Then how they get deluded? [43:87]

اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے باوجودتعجب ہے پھر یہ کیسے دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ ان کے سوائے دوسروں کو پکارتے ہیں؟

Root: ء ف ك

وَقِيلِهِۦ يَٟرَبِّ إِنَّ هَٟٓـؤُلَآءِ قَوْمٚ لَّا يُؤْمِنُونَ ٨٨

  • Recall his saying, (Noah alahissalam-41:26) "O my Sustainer Lord, indeed these are a people who will not believe." [43:88]

اور اپنے موجودہ حالات میں ان کے قول کو یاد رکھیں جب انہوں نے کہا تھا"اے میرے رب!یقیناً یہ لوگ وہ قوم ہیں جو ایمان نہیں لاتے"۔

فَٱصْفَحْ عَنْـهُـمْ وَقُلْ سَلَٟمٚۚ

  • Therefore having known the conduct of earlier people and information about these elite, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] overlook and distance from them and say "I wish you could be at peace".

چونکہ وہ (عمائدین)ہرزہ سرائی اور اخلاقیات سے گر کرالزام تراشیوں پر اتر آئے ہیں اس لئے آپ(ﷺ)ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور ان سے کہہ دیں"میری خواہش ہے تم سلامتی کی جانب ہو سکو"۔

Root: ص ف ح

فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ٨٩

  • [you leave them] Thereby, soon they will know. [43:89]

آپ (ﷺ)نے انتباہ کر دیا ہے اس لئےاگر  اس روش پر مرتے دم تک قائم رہے تو عنقریب وہ اس کا انجام جان لیں گے۔

044- سُوۡرَةُ الدُّخَان

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ ١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added.  [44:01]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

وَٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢

  • And swearing by the Book (Qur’ān) which is characteristically explicit: conveyor of information in succinct, individuated, distinct and crystallized manner — [44:02]

ہم  اس بات کو عیاں کرنے کے لئے کہ  آپ (ﷺ)کی معیت میں  النور(قرءان مجید۔الاعراف ۔157) کو دنیا میں بھیجا تھا قسم کے لئے منفرد کتاب(قرءان) کاحوالہ دے رہے ہیں  جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔

إِنَّـآ أَنزَلْنَٟهُ فِـى لَيْلَةٛ مُّبَٟرَكَةٛۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ٣

  • Know the fact: Our Majesty had compositely sent it (Qur’ān) during a night which is by reciprocal comparison declared as of permanence and perpetuation: the blessed one. Certainly Our Majesty were any time to Warn/Admonish/Revive/Awaken by it. [44:03]

اس حقیقت سے مطلع ہو جاؤ؛ ہم جناب نے اس(منفرد کتاب۔قرءان مجید)کو مجتمع انداز میں(ماہ رمضان کی)اس رات اوپر سے نیچے بھیج(نازل)دیا تھا جسے باہمی تناظر میں خیر و برکت اور ثبات کی حامل قرار دیا گیا ہے۔یقیناً ہم جناب کسی بھی  وقت اس کےذریعے خبردار اور  تہدید و تنبیہ کرنے والے تھے۔

فِيـهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍٛ حَكِيـمٍٛ ٤

  • --The peculiarity of her (aforementioned night) is that during her currency all decided matters and affairs are rendered explicitly individuated [to the concerned Angels-the executers of commands of Allah]-- — [44:04]

۔۔متذکرہ رات کی خصوصیت  بھی لگے ہاتھوں جان لو کہ  اس کے دوران تمام کے تمام فیصلہ کردہ  امور کوسر کی مانگ کی مانند الگ الگ نمایاں کر دیا جاتا ہے۔۔ (جملہ معترضہ)

أَمْرٙا مِّنْ عِنْدِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيـنَ ٥

  • The sending of the Book at that point in time was an ordained matter, a gesture of grace by Our Majesty —The choice of time for sending down the Book was for reason that indeed Our Majesty were to send you the Messenger-designate in the world concurrently —  [44:05]

اس  (قرءان مجید)کودنیا میں  اس وقت بھیجنا ہم جناب کی جانب سے طے شدہ فیصلہ تھا(کیونکہ اس کو مشتہر کرنا آپ ﷺکے لئے مختص کیا ہوا تھا۔الزخرف۔44)۔اس رات قرءان کو مجتمع حالت میں بھیجنے کی حکمت/حقیقت  پر مبنی اہم بات یہ تھی کہ  ہم جناب  اس کی معیت  میں  آپ ﷺکودنیا میں  مبعوث /پیدا فرما نے  والے تھے مرسل بننے کے لئے۔

رَحْـمَةٙ مِّن رَّبِّكَۖ

  • [of the Book, on the Night of your corporeal appearance/birth] To exhibit blessing earmarked for you the Messenger by your Sustainer Lord (see 43:44)-

اس(قرءان مجید)کو بھیجنے کی غایت آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے اظہار رحمت تھا۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٦

  • Indeed He is the eternally All-listening, intrinsically the Fountain and Setter of knowledge - sciences of visible and invisible domains [44:06]

ان جناب کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں،وہ جناب منبع علم ہیں۔

رَبِّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَآۖ

  • --Your Sustainer Lord is the Sustainer Lord of the Skies and the Earth and whatever is in between two of them -- —

۔۔(آپ ﷺ کے رب کی جانب سے)وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے،تمام موجودات کے رب ہیں۔۔

إِن كُنتُـم مُّوقِنِيـنَ ٧

  • Accept the disclosed information if you people were convinced about the infallible discourse. [44:07]

متذکرہ انکشاف کو تسلیم کر لو اگر تم لوگ  اللہ تعالیٰ کے فرمودات پریقین کرنے والے ہو۔

لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ

  • Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped — none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He (Allah the Exalted).

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔

يُحْـىِۦ وَيُمِيتُۖ

  • He the Exalted gives life and causes to die.

وہ جناب حیات کو ظہور دیتے ہیں اور ذی حیات کو موت سے ہمکنار کرتے ہیں۔

رَبُّكُـمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُـمُ ٱلْأَوَّلِيـنَ٨

  • The Sustainer Lord of you people and the Sustainer Lord of the earlier forefathers of you people. [44:08]

وہ تم لوگوں کے رب ہیں اور تم لوگوں کے اولین آباؤ اجداد کے رب۔


بَلْ هُـمْ فِـى شَكّٛ يَلْعَبُونَ ٩

  • Their inquiries about the timing of the Last Day are just rhetoric; the fact is, they are merely playful, seeking to relieve their dissonance in skepticism. [44:09]

ان کے آخری دن کے وقت کے بارے میں سوالات محض زبانی بحث ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ وہ محض کھیل رہے ہیں اور اپنے شکوک و شبہات کی کشمکش کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Root: ش ك ك; ل ع ب

فَٱرْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِـى ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٛ مُّبِيـنٛ ١٠

  • Therefore, disregarding their mockery, and since the event is inevitable, you—the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]—coolly wait for the Day when the Sky will bring forth an evidently visible smoke-gaseous concentration. [44:10]

لہٰذا، ان کے تمسخر کو نظرانداز کرتے ہوئے، اور چونکہ یہ واقعہ ناگزیر ہے، آپ(ﷺ)اطمینان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح طور پر نظر آنے والے دھوئیں-گیس کی گہری تہہ لے کر آئے گا۔

Root: د خ ن;  ر ق ب

يَغْشَى ٱلنَّاسَۖ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيـمٚ ١١

  • It will veil and envelop the people, and upon experiencing it, they will say, 'This is a painful punishment. [44:11]

یہ دھوئیں لوگوں کو ڈھانپ دے گا اور ان پر چھا جائے گا، اور جب وہ اسے محسوس کریں گے تو کہیں گے، "یہ ایک دردناک عذاب ہے۔

Root: غ ش ى

رَّبَّنَا ٱكْشِفْ عَنَّا ٱلْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ ١٢

  • O our Sustainer Lord! Remove this punishment from us; indeed, we have now become believers in Monotheism and the Hereafter." [44:12]

اے ہمارے پروردگار!ہم سے یہ عذاب دور کر دے؛ یقیناً ہم اب توحید اور آخرت کے ماننے والے بن گئے ہیں"۔

Root: ك ش ف

أَنَّـى لَـهُـمُ ٱلذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَآءَهُـمْ رَسُولٚ مُّبِيـنٚ ١٣

  • How, by what logic, can becoming heedful at the eleventh hour be of any avail to them —particularly when a manifestly recognized Messenger had come to them, explaining every subject distinctly? — [44:13]

کس منطق سے آخری وقت میں توبہ کا کوئی فائدہ ہوگا—خاص طور پر جب کہ ان کے پاس ایک واضح طور پر پہچانے ہوئے رسول آچکے تھے، جو ہر موضوع کو کھل کر واضح کر رہے تھے؟

ثُـمَّ تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَقَالُوا۟ مُعَلَّمٚ مَّجْنُونٌ ١٤

  • After hearing the Messenger in private meetings, they, the elite of Arab turned away and said to people, "Of course he [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is an educated person, but he has become obsessed with delusions." [44:14]

بعد ازاں ملاقات ان(ﷺ)کی جانب سے وہ عمائدین از خود منہ موڑ کر چلے گئے اور لوگوں سے جا کر ان کے متعلق کہا"وہ ایک تعلیم یافتہ،باعلم شخص ہے،مگراب خیالات میں گم کردہ ہو گیا ہے" ۔

إِنَّا كَاشِفُوا۟ ٱلْعَذَابِ قَلِيلٙاۚ إِنَّكُـمْ عَآئِدُونَ ١٥

  • Indeed, Our Majesty are at present withholding the affliction, granting a brief respite — Indeed, you will return to it when the Day arrives. [44:15]

یہ حقیقت ہے ہم جناب اس وقت سزا کو روکے ہوئے ہیں،تھوڑی دیر مہلت دینے کے انداز میں۔یقیناً تم لوگ فوراً پلٹ آؤ گے جب وہ دن پہنچے گا۔

Root: ك ش ف; ع و د

يَوْمَ نَبْطِشُ ٱلْبَطْشَةَ ٱلْـكُـبْـرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ١٦

  • The Day when Our Majesty will seize, with the greatest and most decisive seizure. Indeed, Our Majesty are the Authority for retribution, at any moment. [44:16]

وہ دن ہے جب ہم جناب سخت گرفت میں لیں گے،سب سے تند گرفت۔یہ ناگزیر حقیقت ہے کہ ہم جناب  مجرم قرار پائے لوگوں کو انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لازماً سزا دیں گے۔


وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَـهُـمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ

  • And certainly Our Majesty had subjected the people of Fir'aoun/ Pharaoh to "liquefaction test" before them (residents of Arabian Peninsula) —

  • ان لوگوں کے لئے تاریخ میں سامان عبرت ہے کہ ہم جناب نے ان(اہل عرب)سے قبل فرعون کی قوم کی اصلیت کو طشت از بام کرنے کے لئے تحلیل کر دینے والی آزمائش میں مبتلا کیا تھا۔

وَجَآءَهُـمْ رَسُولٚ كَرِيـمٌ ١٧

  • And had come to them the exalted Messenger — [44:17]

اور رسول کریم (موسیٰ علیہ السلام)ان کے پاس آئے تھے۔

Root: ك ر م

أَنْ أَدُّوٓا۟ إِلَـىَّ عِبَادَ ٱللَّهِۖ

  • With the message [Musa alai'his'slaam demanded] that "You people restore-release to me the subjects-allegiants of Allah [Bani Iesraa'eel] —

اللہ تعالیٰ کےاس پیغام کے ساتھ"تم لوگ اللہ تعالیٰ کے بندوں(بنی اسرائیل)کو آزاد کر کے مجھے دے دو۔

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٨

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger — [44:18]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بیجا گیا ہے۔

وَأَن لَّا تَعْلُوا۟ عَلَـى ٱللَّهِۖ

  • And to advise you people that you should not exalt yourselves defiantly against command of Allah the Exalted —

اور یہ بتانے کے لئے کہ تم لوگوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے آپ کو بالاتر مت سمجھو۔

إِنِّـىٓ ءَاتِيكُـم بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ١٩

  • Indeed I have come to you with manifest authority — [44:19]

میں تم لوگوں کے پاس واضح سند  و اختیار کے ساتھ آیا ہوں۔

Root: س ل ط

وَإِنِّـى عُذْتُ بِرَبِّـى وَرَبِّكُـمْ أَن تَرْجُـمُونِ ٢٠

  • And indeed I have already taken refuge with the Sustainer Lord of me and the Sustainer Lord of you people that you could hurl harm to me. [44:20]

اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنے رب  اور تم لوگوں کے رب کی استعانت میں پناہ لے رکھی ہے تمہارے جھوٹے الزام کی بوچھاڑ سے۔

Root: ر ج م;  ع و ذ

وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ لِـى فَٱعْتَزِلُونِ ٢١

  • And if you have decided not to believe for me, thereby, in view of possible infliction upon you, consciously keep yourselves aloof from me." [44:21]

اور اگر تم میرے کہنے پر ایمان نہیں لاؤ گے تو اس صورت میں بھی ممکنہ عذاب کے پیش نظر اپنے آپ کو سوچ سمجھ کرمجھ سے کنارہ کش رکھو"۔

Root: ع ز ل

فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٟٓـؤُلَآءِ قَوْمٚ مُّجْرِمُونَ ٢٢

  • Later on, seeing them adamant and dirty plans of becoming harsh, he prayed to his Sustainer Lord that "these people are determined criminals." [44:22]

ان کے بدستور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے اور ممکنہ ریشہ دوانی کے پیش نظر انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ جو لوگ ہیں اس قوم نے اپنے آپ کو مجرم ثابت کر دیا ہے"۔

فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلًا

  • Thereat, he was told, "You [O Musa] travel by night with My subjects —

اللہ تعالیٰ نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ان سے فرمایا"آپ میرے بندوں کو ساتھ لے کر رات کے کسی پہر روانہ ہو جائیں۔

Root: س ر ى

إِنَّكُـم مُّتَّبَعُونَ ٢٣

  • Remain aware, Indeed you people will be purposely chased — [44:23]

اس حقیقت سے مطلع رہیں کہ آپ لوگ  پکڑے جانے کی کاوش میں نقوش قدم پر پیچھا کئے جانے والے ہوں گے۔۔

وَٱتْرُكِ ٱلْبَحْرَ رَهْوًاۖ

  • And [after having crossed over to the other side of Gulf of Suez on the Dry Bridge/Passage] you abandon the Gulf of Suez, leaving it in the ridged state.

اس لئے(پار کر جانے پر)آپ بحر سویز کو چھوڑ دیں ، اس حال میں کہ خشک راستے کو ساکن اور ابھرا رہنے دیتے ہوئے،

إِنَّـهُـمْ جُندٚ مُّغْـرَقُونَ ٢٤

  • It is a fact that they are the troops that will be caused to be drowned". [44:24]

یہ حقیقت ہے کہ وہ (پیچھا کرنے والے)لشکر ہے جسے بحر سویز میں غرق کر دیا جائے گا"۔

Exodus - Eyewitness account

كَمْ تَرَكُوا۟ مِن جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ٢٥

  • They left behind many gardens and springs — [44:25]

آباد باغات اور بہتے چشموں کی ایک بڑی تعداد وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے

وَزُرُوعٛ وَمَقَامٛ كَرِيـمٛ ٢٦

  • And harvested fields and par excellent places — [44:26]

اور کتنے ہی لہلہاتے کھیت اوراحترام و وقار کے مقامات۔

Root: ز ر ع; ك ر م

وَنَعْمَةٛ كَانُوا۟ فِيـهَا فَٟكِهِيـنَ ٢٧

  • And pleasant thing in which they people used to enjoy delightfully. [44:27]

اور عیش و آرام جن میں شان و شوکت سے پرلطف اور پر آسائش انداز میں رہتے تھے۔

كَذَٟلِكَۖ وَأَوْرَثْنَٟهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ ٢٨

  • This is how Our Majesty awarded them the punishment; and Our Majesty made another people to inherit all those. [44:28]

یہ سب ویسے ہی پیچھے رہ گیا اور ہم جناب نے ایک دوسری قوم کو ان کا وارث بنا دیا۔

فَمَا بَكَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرْضُ

  • Thereat, [upon their annihilation] neither the Sky nor the Earth shed tear/wept upon them —

چونکہ ان کے غرق ہو جانے پر باقی رہ جانے والے لوگ تو ان کے ستائے ہوئے تھے انہیں تو دکھ ہونا نہیں تھا؛آسمان اور زمین نے ان پر ایک آنسو نہ بہایا۔

وَمَا كَانُوا۟ مُنظَرِينَ ٢٩

  • And they were not given further respite. [44:29]

اور نہ انہیں مزید مہلت دی گئی تھی۔

وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ مِنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِيـنِ ٣٠

  • And whether they recall it or not, it remains an undeniable historic reality that We rescued the Children of Israel from the humiliating sufferings — [44:30]

اور چاہے وہ اسے یاد کریں یا نہ کریں، یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز مصائب سے نجات دی تھی —

Root: ھ و ن

مِن فِرْعَوْنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٙا مِّنَ ٱلْمُسْـرِفِيـنَ ٣١

  • They were subjected to tyranny, oppression, and humiliating sufferings at the hands of  Fir'aoun (Pharaoh). Indeed he had become the top most self-aggrandizer in the group of  transgressors — unjust rulers. [44:31]

وہ فرعون کے ہاتھوں جبر، ظلم، اور ذلت آمیز مصائب کا شکار تھے۔ بے شک، وہ سرکشی اور خود پسندی سے  حقیقت کے منافی ذہنی و فکری انتشار اور بگاڑ پیدا کرنے مطلق العنان انتہا کو پہنچ چکا تھا اور حد سے گزر جانے والے ظالم حکمرانوں کے گروہ میں سب سے نمایاں تھا۔

Root: س ر ف King with acute Narcissistic personality disorder

وَلَقَدِ ٱخْتَـرْنَٟهُـمْ عَلَـىٰ عِلْمٍ عَلَـى ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٣٢

  • They (Pharaoh and his nation) were ungrateful in not acknowledging that Our Majesty had made them surpass, in preference over contemporary nations, upon acquiring worldly knowledge, science, and technology. [44:32]

اور  وہ (فرعون اور قوم)ناشکرے تھے؛یہ احساس نہیں کیا کہ  ہم جناب نے انہیں دنیاوی علم،سائنس اور ٹیکنالوجی  میں معاصر اقوام  پر فوقیت  دی تھی۔

وَءَاتَيْنَـٟـهُـم مِّنَ ٱلْءَايَـٟتِ مَا فِيهِ بَلَـٟٓـؤٚا۟ مُّبِيـنٌ ٣٣

  • And Our Majesty had granted them that (male object, gold) out of natural resources  — a manifestly reliable source of affluence was embedded within it. [44:33]

اور ہم جناب نے  وہ (مذکر شئے۔سونے کے ذخائر)قدرتی وسائل  سے انہیں عنایت کیا تھا  جس میں واضح طور پر خوشحالی  کا قابل اعتماد ذریعہ چھپا ہوا تھا۔۔

Root: ب ل و


إِنَّ هَٟٓـؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ ٣٤

  • Indeed these Polytheist ruling elite respond to forewarnings about resurrection: [44:34]

یہ (سرداران مشرکین)وہ ہیں جو  آخرت کا بتائے جانے پرباتکرار کہتے  ہیں :

إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَـىٰ 

  • "This is but just our first death, nothing else is truth—

"ہماری اولین موت ہی سب کچھ ہے،اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

وَمَا نَـحْنُ بِمُنشَـرِينَ ٣٥

  • And we will certainly not be revived/resurrected — [44:35]

اور  نہ ہم نے کبھی دوبارہ حیات نو دے کر اٹھایا جانا ہے۔

Root: ن ش ر

فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ

  • Thereby, to rebut us, you people come to us with our forefathers —

چونکہ تم لوگوں کا بعد از موت حیات پر یقین ہے تو ہمارے آباؤ اجداد کو لے کر آؤ۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٣٦

  • If you were truthful in what you say about resurrection, prove it by this act". [44:36]

اگر تم اپنے یقین میں سچے ہو تو ایسا کر کے دکھاؤ"۔

أَهُـمْ خَيْـرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّـعٛ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۚ

  • Are they better/firmly settled or the people of Tubba and those who were before them?

کیا یہ عمائدین عرب زیادہ محفوظ و مضبوط ہیں یا قوم تبع کے سردار اور ان قوموں کے جو ان سے پہلے عروج پر تھیں؟

أَهْلَـكْنَٟهُـمْۖ إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِيـنَ ٣٧

  • Our Majesty annihilated them. Indeed they were persistently criminals. [44:37]

ہم جناب نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ وہ مجرمانہ طرز عمل پر ڈھٹائی سے قائم رہے تھے۔


وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْـنَـهُـمَا لَـٰعِبِيـنَ ٣٨

  • Realize it, Our Majesty have not created the skies and the Earth and all that exists between them, enacting it in the state of those who indulge in recreation and pastime activities. [44:38]

اور ہم  جناب  نے  آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین موجود  ہے   تخلیق نہیں کیا ان کی طرح جو ایساتفریح،وقت گزاری اور کھیل کھیل میں کرتے ہیں۔

Root: ل ع ب

مَا خَلَقْنَٟهُـمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ

  • Our Majesty have not created both of them but by conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time —

ہم جناب نے انہیں  سوائے متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق  نہیں کیا ہے۔

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٣٩

  • But the fact is that most of them do not know/intend to understand. [44:39]

مگر ان کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔

إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ مِيقَٟتُـهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٤٠

  • Notwithstanding their heedlessness, the fact remains the Day of Sorting is their Appointed Time for retribution, collectively —

اس کے باوجود کہ وہ غفلت میں ہیں، اٹل حقیقت یہ ہے کہ گروہی علیحدگی کا دن  ان  کے احتساب کے وعدے کا وقت ہے، اجتماعی طور پر —

Root: و ق ت

يَوْمَ لَا يُغْنِى مَوْلًـى عَن مَّوْلٙـى شَيْـٔٙا

  • That is the Day during which no trailblazer and well-wisher will avail relieving any harm from a relative held guilty.

یہ وہ دن ہوگا جس میں کوئی رہنما اور خیر خواہ کسی گناہ گار رشتہ دار کو نقصان سے بچانے میں مدد نہیں دے سکے گا۔

وَلَا هُـمْ يُنصَرُونَ ٤١

  • And the undeniable truth is that they will not receive help or rescue — [44:41]

اور ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ انہیں کوئی مدد یا نجات نہیں ملے گی۔

إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ

  • The exception for availing and helping relatives is for the one whom Allah the Exalted has bestowed mercy.

 مذکورہ بیان سے استثناء ان لوگوں کے لئے  ہو گاجن پر اللہ تعالیٰ نے رحم فرماتے ہوئے کامیاب و کامران گروہ میں شامل فرمایا۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٤٢

  • It is a certain fact that He the Exalted is Absolutely Dominant, He the Exalted is the Fountain of Infinite Mercy. [44:42]

 یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ ٤٣طَعَامُ ٱلْأَثِيـمِ٤٤

  • The certain information about the Tree named: ٱلزَّقُّومِ Az-Zaquem is:  [44:43] It will be the Feast of the Sinner/dilapidated laggard — [44:44]

یہ حقیقت ہے کہ جہنم میں ڈالے جانے والے   جرائم کے زیر بار لوگوں کی خاطر تواضع الزقوم کے درخت کے پھل سے تیار کردہ کھانے سے کی جائے گی۔

Root: ش ج ر

كَٱلْمُهْلِ يَغْلِـى فِـى ٱلْبُطُونِ ٤٥

  • This feast like the semi liquefied compound-paste substance. It causes/will cause a burning-irritating state in the bellies— [44:45]

یہ تناول  نیم  مائع مرکب چپچپی مادے کی طرح  ہو گا جو پیٹوں میں جلن اور اُبال پیدا کرے گا۔

Root: م ھ ل

كَغَلْـىِ ٱلْحَـمِيـمِ ٤٦

  • Similar to as is caused by the scalding water. [44:46]

اس کی مانند جیسے ابلتا پانی پیا ہو۔

خُذُوهُ فَٱعْتِلُوهُ إِلَـىٰ سَوَآءِ ٱلْجَحِـيـمِ ٤٧

  • Concerned Angels will be ordered; "You people hold him, thereby, drag him towards the path leading to the Hell-Prison. [44:47]

کھانا تناول کر لینے پر پولیس ڈیوٹی پر مامور ملائکہ کو حکم ہو گا"اسے گرفتار کر لو۔پھر اسے دھکیلتے ہوئے زندان جہنم کی جانب لے چلو۔

Root: ع ت ل

ثُـمَّ صُبُّوا۟ فَوْقَ رَأْسِهِۦ مِنْ عَذَابِ ٱلْحَـمِيـمِ ٤٨

  • Afterwards, pour from place over his head some scalding meal; saying — [44:48]

بعد ازاں جہنم میں کھانا مانگے تو اس کے سر کے اوپر سے  تکلیف دہ گرم کھانا انڈیلتے ہوئے کہنا:

Root: ر ء س;  ص ب ب; ف و ق

ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْـكَرِيـمُ ٤٩

  • "You taste it. You are indeed the Excellency Magnificent Monarch". [44:49]

کھانا کھائیں۔آپ تو یقیناً بادشاہ معظم ہیں"۔

Root: ذ و ق; ك ر م

إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُـم بِهِۦ تَمْتَـرُونَ ٥٠

  • It will be said: "Recall! This is the very reality regarding which you used to keep people in hesitation and confusion to maintain your influence over them." [44:50]

کہا جائے گا"یاد کرو یہ ہے وہ حقیقت جس کے متعلق تم لوگوں کو اپنے اثرو رسوخ میں رکھنے کے لئے متردد اور متذبذب کرتے رہتے تھے"۔

Root: م ر ى


إِنَّ ٱلْمُتَّقِيـنَ فِـى مَقَامٍ أَمِيـنٛ ٥١

  • Indeed those who sincerely endeavour to attain salvation are stationed at a place of peace and tranquillity— [44:51]

حیات دنیا میں محتاط اور غلط روش سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہنے والوں کا انعام ان کا مقام امن و آسائش میں مقیم ہونا ہے۔

فِـى جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ٥٢

  • In the gardens and springs. [44:52]

    باغات اور پانی کے چشموں کی وافر دستیابی  میں ۔

يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٛ وَإِسْتَبْـرَقٛ

  • They people wear garments green made from natural yarn of fine silk, and lightening effect producing cloth—cloud brocade —

وہ خوبصورت لباس زیب تن کریں گے جو قدرتی ریشم کے ریشوں کے بنا ہو گا اور ایسےکپڑے (مخمل)سے جو برق کی مانند جھلک دیتا ہے۔

Root: ل ب س

مُّتَقَٟبِلِيـنَ ٥٣

  • While they meet and confront each other [in celebrating parties]. [44:53]

وہ آمنے سامنے بیٹھے محفلیں سجائے ہوں گے۔

كَذَٟلِكَ

  • This is how they are rewarded —

یہ بیان حقیقت ہے۔ایسا ہی ہو گا ان کا انعام و اکرام۔

وَزَوَّجْنَٟهُـم بِحُورٍٛ عِيـنٛ ٥٤

  • And Our Majesty coupled them in marriage with beautiful white texture women, they are illustrious visionary. [44:54]

اور ہم جناب نے رشتہ ازدواج میں انہیں  صاف و شفاف رنگت اور طبیعت والی خواتین سے منسلک کر دیا۔وہ صاحبات چشم و بصیرت ہیں۔(الدخان۔٥٤)

جنت کی ازواج خواتین  کو باوقار توضیحی  نام  "حُورٌ"؛"قَٟصِرَٟتُ ٱلطَّرْفِ" ؛ "أَتْرَابٌ"اور"عِيـنٚ"سے بیان فرمایا  ہے......     Pdf version

يَدْعُونَ فِيـهَا بِكلِّ فَٟكِهَةٍٛ ءَامِنِيـنَ ٥٥

  • They will call for every kind of fruit therein, while enjoying security and tranquillity. [44:55]

وہ اس میں ہر طرح کے پھل طلب کیا کریں گے،اطمینان اور خوشگوار ماحول میں۔

Root: ف ك ه

لَا يَذُوقُونَ فِيـهَا ٱلْمَوْتَ إِلَّا ٱلْمَوْتَةَ ٱلْأُولَـىٰۖ 

  • They will not taste the death therein—Except the first death they had experienced earlier. [A true believer destined for Paradise dies only once and is resurrected on the Day of Judgment-nothing happens in grave to such people]

وہ اس میں رہتے ہوئے موت  سے  کبھی ہمکنار نہیں ہوں گے۔سوائے ان کی ایک بار اول موت جس سے وہ دنیا میں ہمکنار ہوئے تھے۔

Root: ذ و ق

وَوَقَىٰـهُـمْ عَذَابَ ٱلْجَحِـيـمِ ٥٦

  • And He the Exalted had already protected them from the torment of the Hell-Prison— [44:56]

اور ان جناب نے انہیں  عذاب دوزخ سے پہلے ہی  محفوظ قرار دے دیا تھا۔

فَضْلٙا مِّن رَّبِّكَۚ

  • As Grace from the Sustainer Lord of you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

یہ آپ(ﷺ)کے رب کے وعدہ کے مطابق اظہار کرم ہے۔

ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ٥٧

  • This [protection from Hell] is the one which is the greatest/grand manifest achievement/success. [44:57]

یہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

Root: ف و ز


فَإِنَّمَا يَسَّـرْنَٟهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٥٨

  • Thereby, for reason of its universality and permanence, Our Majesty have certainly rendered it (Qur’ān) easy, open and facilitator for reading and comprehension by transcribing it in the mother tongue - dialect of you Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —The purpose of rendering it facilitator is that people might at their own sincerely comprehend, make their selves enlightened, recall and relate it. [44:58]

  • چونکہ زمان و مکان میں دوام سے  منبع ہدایت اوررہنماکی حیثیت سے اس نے برقرار رہنا ہے اس لئے ہم  جناب نے اِس (کتاب مبین قرء ان )کوآپ (ﷺ) کی زبان اور لہجے میں مدون کر کے  پڑھنے اور فہم و ادراک کے لئے معاون و مددگار اورسہل بنایا ہے۔معاون و مددگار اورسہل  بنانے کا مقصد یہ ہے کہ  زمان و مکان میں تسلسل  سےلوگوں کواز خود پڑھنے، سمجھنے ، فہم و ادراک  میں محفوظ کرنے میں سہولت رہے۔ (الدخان۔۵۸)

Root: ى س ر; ل س ن

فَٱرْتَقِبْ إِنَّـهُـم مُّرْتَقِبُونَ ٥٩

  • In consequence of having communicated, you consciously make yourself await, indeed they have made themselves as mere awaiting ones. [44:59]

چونکہ آپ (ﷺ)نے اس کو زبانی اور تحریر میں  لوگوں کو پہنچا دیا ہے  مگر پھر بھی آخرت   کے منکر ہیں اس لئے  آپ انتظار فرمائیں،ان کے متعلق تو یہ حقیقت ہے ہی کہ انہوں نے  انتظار کرنے کو منتخب کیا ہے ۔

Root: ر ق ب

045- سُوۡرَةُ الْجَاثِيَة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ ١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added. [45:01]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ 

  • The piecemeal dispatch and delivery of the Book (Grand Qur’ān)—(is for the reason to let your brain remain persistently in stable state of calmness and tranquillity-25:32)

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔

 مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ ٢

  • It is being dispatched in easy to understand composition by the command of Allah the Exalted Who is Pervasively dominant and is Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms, visible and invisible — [45:02]

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

إِنَّ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ لَءَايَٟتٛ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ ٣

  • Take time to reflect, for many symbolic manifestations in the skies and the earth are visible, enabling reflection that grants conviction to the believers about their faith. [45:03]

غور و فکر کرنے کا وقت نکالو، کیونکہ آسمانوں اور زمین میں کئی علامتی مظاہر ہیں جو دکھائی دیتے ہیں، اور سوچ و بچار کو ممکن بناتے ہیں  ایمان والوں کے لئے کہ اس بارے پختہ یقین ہو جائیں۔

وَفِـى خَلْقِكُـمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍٛ ءَايَٟتٚ لِّقَوْمٛ يُوقِنُونَ ٤

  • And reflect, for indeed symbolic manifestations are visibly noticeable in your creation and in that which he the exalted spreads belonging to animal kingdom for people who intend to attain determined conviction — [45:04]

اور تفکر کرو، کیونکہ حقیقتاً علامتی مظاہر تمہاری تخلیق میں  ،اور جو کچھ وہ جناب حیوانات کی نوع سے تعلق رکھنے والوں کو پھیلاتے ہیں ،ازخود  واضح طور پر نظر آتے ہیں  ان لوگوں کے لیے جو پختہ یقین حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Root: د ب ب;  ي ق ن

وَٱخْتِلَٟفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّـهَارِ

  • And in the phenomenon of alteration-revolving-circular pursuit of the Night and the Day —

اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے مقام پرآنے کے نظام میں؛

وَمَآ أَنَزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزْقٛ

  • And in that Allah the Exalted has dropped from the Sky which is part of sustenance/food —

اور اس میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یکبارگی برسایا جس میں رزق بننے والی شئے موجود ہے۔

فَأَحْيَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا

  • Thereby, He the Exalted rejuvenated with it (nitrogen - water) the Earth after its demise/drying up —

چونکہ   پانی اوررزق   حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے  اس کے ذریعے انہوں نے بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات  دے دی۔

وَتَصْرِيفِ ٱلـرِّيَٟحِ

  • And in the phenomenon of atmospheric circulation-changing directions—curving the Winds —

اور ہواوں کے مختلف سمتوں  سے چلنے کے انداز میں؛

Root: ر و ح;  ص ر ف

ءَايَٟتٚ لِّقَوْمٛ يَعْقِلُونَ ٥

  • These are the existential - signs that are explicitly distinct indicating the presence of Sole Setter of Sciences for such people who recognize, differentiate, relate and reflect - people of critical thinking. [45:05]

یقینا ان  عناصر فطرت کےمظاہر میں عقل استعمال کرنے والوں کے لئے حقیقت (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی کرنے والے   اشارے/نشانیاں موجود ہیں۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ
فَبِأَىِّ حَدِيثِۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَٟتِهِۦ يُؤْمِنُونَ ٦

  • These are the already inscribed Reality-signifying Verbal passages of Allah the Exalted that Our Majesty are reciting with exact vocal sequence upon you the Messenger [Mohammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]; conveying the infallible fact responsive to lived exigencies  for transmission to humanity. (Cf. 2:252; 3:108)
    Since they are still hesitating to believe, it is then relevant to ask them: in what public assertion would they believe after the infallibly authentic and balanced Exposition of Allah the Exalted and revelation of His Verbal Passages? (Cf. 10:15; 39:23; 52:34; 77:50) [45:06]

یہ اللہ تعالیٰ کی پہلے سے قلمبند کی ہوئی  حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے والی عبارتیں(آیات)ہیں  جنہیں ہم جناب  تحریری ترتیب کے عین مطابق    تلفظ کرتے ہوئےآپ(ﷺ)کو سنا رہے ہیں،یہ  انسانیت  کو پہنچانے کے لئےموقع محل کی نسبت سےبیان حقیقت ہے ۔
چونکہ وہ اب بھی ایمان لانے میں لیت و لعل کر رہے ہیں، اس لئے سوال  اٹھتا ہے:وہ  ایمان لانے کے لئے  اللہ تعالیٰ کی جانب سے احسن الحدیث  اور ان کی عبارتیں مل جانے کے بعد کس نئے بیانیہ پر ایمان لائیں گے؟(Cf. 39:23; 52:34; 77:55) (الجاثیہ۔۶)

وَيْلٚ لِّـكُلِّ أَفَّاكٛ أَثِيـمٛ ٧

  • Reflex irritation, moral realization and existential condemnation shall be every day ritual in the Hereafter for every perfidiously lying sinner. (67:10) [45:07]

حیف،خود مذمتی اور ملال ہر اس کے لئے روزمرہ کا معمول ہو گاجو ہٹ دھرمی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی جھوٹ بولتا ہے اور ہمیشہ اچھائی سے کوتاہی کرتا ہے۔

يَسْمَعُ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ تُتْلَـىٰ عَلَيْهِ

  • He (a perfidious laggard) hears the verses of Allah—the verbal passages of the Qur’ān—which are narrated to him  word by word.

یہ (فریبی اور ہٹ دھرم ) اللہ تعالیٰ کی آیات—قرءان کی زبانی بیان کردہ آیات کو لفظ بہ لفظ سنتا ہے۔

ثُـمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِـرٙا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَاۖ

  • Yet, despite having listened to them, he remains adamantly clinging to his conjectures, retaining a posture of arrogance and self importance, as if he had never heard them at all.

پھر بھی انہیں سننے کے باوجود وہ اپنی بے بنیاد قیاس آرائیوں سے ضد کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، تکبر میں مبتلا رہتا ہے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں۔

Root: ص ر ر

فَبَشِّـرْهُ بِعَذَابٍٛ أَلِيـمٛ ٨

  • Since having been duly forewarned he is deliberately adamant, therefore,  you the Messenger announce for him "glad tidings" of painful punishment (same in 31:7). [45:08]

چونکہ تنبیہ اور اتمامِ حجت کے باوجود اس کا گریز دانستہ اور اس کے لیے باعثِ مسرت ہے، اس لیے آپ (ﷺ) اس شخص کے لیے دردناک عذاب کا مستحق ہونے کا اعلان فرما دیں، جو اس رویے پر خوش ہو رہا ہے، تاکہ وہ اپنے انجام سے آگاہ ہو جائے۔

وَإِذَا عَلِمَ مِنْ ءَايَٟتِنَا شَيْـٔٙا ٱتَّخَذَهَا هُزُوًاۚ

  • And when he came to know an information anew from Our Aa'ya'at: Verbal Passages of Qur’ān he deliberately took them (passages) jestingly.

اور جب اس شخص کو ہم جناب کی آیات میں بیان کردہ کسی بات کا علم اس کو اپنے جذبات اور عقل و فہم سے ماوراء لگا تو اس نے اسے مذاق  کے طور لے لیا۔

Root: ھ  ز ء

أُو۟لَـٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٚ مُّهِيـنٚ ٩

  • Such are the people: humiliating punishment is prepared and is in wait for them. [45:09]

متنبہ رہو؛یہ ہیں وہ لوگ  جن کے لئے ایک ذلت آمیز تیار اور منتظر ہے۔

Root: ھ و ن

مِّن وَرَآئِـهِـمْ جَهَنَّـمُۖ

  • They are heedless despite being told the heated Hell-Prison is on their back to seize them—

وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ زندان جہنم ان کے پیچھے ہے انہیں اپنے اندر لینے کے لئے۔

Root: و ر ء

وَلَا يُغْنِى عَنْـهُـم مَّا كَسَبُوا۟ شَيْـٔٙا

  • And neither will that be of avail, which they have earned, for averting anything harmful from them —

اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان سے معمولی تکلیف بھی رد کرنے کے کام نہیں آئے گا۔

وَلَا مَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَۖ

  • And nor those will be of any avail whom they have consciously adopted as comrades and protectors other than Allah the Exalted.

اور نہ ان میں سے کوئی دادرسی کر سکے گا جن حزب الشیطان کو انہوں نے دانستہ بطور سرپرست اور پشت پناہ اختیار کیا تھا، اللہ تعالیٰ  کے علاوہ ۔

وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيـمٌ ١٠

  • And a grave torment is in wait for them. [45:10]

جان لیں ایک بڑا عذاب  جو ان کی ہڈیوں میں سرایت کرے گااُن کیلئے تیار اور منتظر ہے  (غذایت کی کمی)۔

هَـٰذَا هُدٙىۖ

  • This (Grand Qur’ān) is guidance: regulatory information for aright conduct/Guide [in time and space]—

یہ (قرءان مجید)زمان و مکان میں ہدایت نامہ ہے۔

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِـَٔايَٟتِ رَبِّـهِـمْ

  • Know about those who persistently refused to accept the Aa'ya'at: Unitary verbal passages of their Sustainer Lord—

ان لوگوں کا انجام جان لو جنہوں نے اپنے رب کے تحریری فرمودات کو ماننے سے انکار کیا ہے:

لَـهُـمْ عَذَابٚ مِّن رِّجْزٍٛ أَلِيـمٌ ١١

  • A grave torment emanating from irk, agitation, convulsions is in wait for them. [45:11]

ایک دردناک عذاب جو ہیجان،جلن، اور اضطراب سے ابھرے گا ان کے لئے منتظر ہے۔


ٱللَّهُ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَـكُـمُ ٱلْبَحْرَ لِتَجْـرِىَ ٱلْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِۦ

  • Allah the Exalted is the One Who has subjected the water-reservoir to a set discipline [relativity with air 30:46] for you, so that the ship may sail/move within it by His commanded decree—

 اور وہ جناب  ہیں جنہوں پانی کے ذخائر دریاؤں اور سمندروں کو طے شدہ ضوابط کا پابند کر کے تمہارے لئے قابل دسترس بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ کشتیاں اس میں چل سکیں ان کے حکم کے بموجب۔

Root: س خ ر; ف ل ك

وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ

  • And so that you people make seek His bounty with effort —

اور پانی کے ذخائر میں گھومنے پر دسترس دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ان جناب کے مہیا کردہ فضل کو پانے کی جستجو کرو۔

وَلَعَلَّـكُـمْ تَشْكُـرُونَ ١٢

  • And so that you people may keep expressing gratitude. [45:12]

اورتاکہ  رزق پانے پرتم لوگ شکر گزار بنے رہو۔

وَسَخَّرَ لَـكُـم مَّا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ جَـمِيعٙا مِّنْهُۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يَتَفَكَّرُونَ ١٣

  • And He the Exalted has subjected all that is in the Skies and that in the Earth to a set discipline, tied as a coherently integrated whole; specially aligned in relational service to you; (acquiring knowledge and manipulation), all of it proceeds from Him alone, a blessing from His Grace. (Cf. 14:32-33; 16:12; 22:36-37; 22:65; 31:20; 45:12)
    Indeed, within this ordered and disciplined cosmos lie evident signs for a people who engage in reflective, analytical contemplation toward discerning the ultimate purpose of existence. (Cf. 13:03; 30:21; 39:42) [45:13]

اور جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اورجو کچھ زمین میں موجود ہے— ان جناب نے  سب کو ایک منظم ضابطے اور مربوط نظام کے تحت تمہارے لیے مسخر ،قابل دسترس حالت میں کر دیا؛ ایسا تسخیر شدہ نظام جو باہمی ربط، تناسب اور ہم آہنگی کے ساتھ قائم ہے، اور جو خاص طور پر تمہارے لیے تعلقِ خدمت میں جُڑا ہوا ہے—تاکہ تم علم حاصل کرو، قوانینِ فطرت کو سمجھو اور ان کے اندر کارفرما نظم کو بروئے کار لا سکو۔ یہ سب کچھ ان کی جانب سے ہے، محض ان کے فضل اور عنایت کے طور پر۔(Cf. 14:32-33; 16:12; 22:36-37; 22:65; 31:20; 45:12)
یقیناً اس منظم، مربوط اور ضابطہ بند کائنات کے اندر ازخود تفکر کرنے والوں کے لئے  —
جو محض سطحی مشاہدے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ غور و فکر، تدبر اور عقلی تجزیے کے ذریعے وجود کے حتمی مقصد تک رسائی چاہتے ہیں کھلی نشانیاں موجود ہیں  جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں ۔ (Cf. 13:03; 30:21; 39:42)(الجاثیہ۔۱۳)

Root: ف ك ر


قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَغْفِرُوا۟ لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce for those who have believed in you that they should cultivate passion of forgiving and ignoring (instead of overreacting) towards those who have lost hope in the Days of Allah the Exalted (that is, in regaining divine favour.)—

آپ(ﷺ)قرءان مجید اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت جاری کریں کہ وہ ان لوگوں (قوم یہود)سے درگزر اور معاف کرنے کے جذبہ کو اختیار کریں (بجائے شدید ردعمل  کے)جو اللہ تعالیٰ سے خیر کے دنوں کی واپسی سے مایوس ہو چکے ہیں۔(رسول کریمﷺ سے جلن اور غبار خاطران کا جذباتی پن  اور مایوسی کا غلبہ ہے۔29:23 اور 60:13)

Root: ر ج و

لِيَجْزِىَ قَوۡمَۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ١٤

  • They should leave it so that He the Exalted may requite people for that which they deliberately did and performed. [45:14]

انہیں جذباتی ردعمل سے اجتناب کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ  من حیث القوم جزا و سزا دیں گے اس کے عوض جو  وہ حیات دنیا میں کماتے رہے۔

مَنْ عَمِلَ صَـٰلِحٙا فَلِنَفْسِهِۦۖ

  • Whoever conducts their actions with perfection and excellence, they are indeed paving the way for ease and favour for their own selves as a result.

جو بھی اپنے اعمال کو عمدگی اور کمال کے ساتھ انجام دیتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے نفس کے لئے انجام کو آسان اور خوشگوار بنا رہا ہے۔

وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْـهَاۖ

  • And whoever engages in wrongdoing, the consequent harm falls upon their own selves.

 اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے تو اس کا نقصان بھی اسی کے نفس پر ہوگا۔

ثُـمَّ إِلَـىٰ رَبِّكُـمْ تُـرْجَعُونَ ١٥

  • Afterwards, [on your turn] you people will be returned towards your Sustainer Lord [for accountability and requital]. [45:15]

بعد ازاں یوم حساب جمع کئے جانے پر تمہیں تمہارے رب کی جانب لے جایا جائے گا۔

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحُكْـمَ وَٱلنُّبُوَّةَ

  • Why do they feel such intense jealousy and resentment, when the fact remains that Our Majesty had already bestowed upon the Children of Israel the Book, wisdom—the faculty of discernment and judgment—and honored them by granting exalted stature (prophethood) to men of their lineage —

ان کے عمائدین کے احساس جلن اور کدورت کا جواز کوئی نہیں کیونکہ ہم جناب نے بنی اسرائیل کو مخصوص کتاب اور حکم نامہ/ہر معیوب بات سے اجتناب کرنے کی دانائی اور قوت فیصلہ؛  اور نبوت سے  قبل ازیں سرفراز فرمایا تھا۔(وہ کیوں انہیں یاد نہیں)

وَرَزَقْنَٟهُـم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٟتِ

  • And Our Majesty had provided them with life-sustaining provisions from wholesome and nourishing sources.

اورہم جناب نے انہیں مرغوب اور صحت افزا سامان زیست مہیا کیا ہے۔

وَفَضَّلْنَٟهُـمْ عَلَـى ٱلْعَٟلَميـنَ ١٦

  • And despite all this favour, they still burn with envy, whereas Our Majesty had indeed once granted them distinction and preference over others [Pharaoh's nation]. — [45:16]

اور یہ جلن و کدورت کا جذبہ باوجود اس کے ہے کہ ہم جناب نے  انہیں ماضی میں  دوسرے لوگوں  پر فوقیت دے کر نوازا تھا۔

وَءَاتَيْنَـٟـهُـم بَيِّنَٟتٛ مِّنَ ٱلْأَمْرِۖ 

  • And Our Majesty had given them visual signs - unprecedented displays (miracles), which were beyond their experience and understanding, explicitly indicative of evidence originating from Allah the Exalted.

اورہم جناب نے انہیں  اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت  عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتیں(آیات )عنایت کی تھیں  جو ان کے تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔

فَمَا ٱخْتَلَفُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُـمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَـهُـمْۚ

  • Thereby disregarding the injunction, a group desperately differed only when id not differ except after having reached them that which brought them the knowledge because of grouping/classes/vested interests amongst them.

مگر  باوجود اس کے کہ انہیں دین کو قائم رکھنے اور تفرقہ نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا تھاانہوں  نے   اپنے آپ کو الگ الگ گروہوں میں اس کے بعد بانٹ لیا    جومبنی بر حقیقت علم(اللہ کی کتاب، انجیل)نے ان پر واضح کر دیا تھا،اس کا سبب  ان کے مابین ایک گروہ کی   دوسرے سےضد،  کدورت، چپقلش اور عداوت تھی ۔

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بِيْنَـهُـمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ فِيـمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٧

  • [ignore them] Indeed your Sustainer Lord will adjudge between them, on the Day of Rising —Regarding the issue about which they kept differing/opposing.  [45:17]

(رہنے دو انہیں ان تخیلاتی خوش فہمی میں)یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ) کے رب  روز قیامت  ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے اس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔

ثُـمَّ جَعَلْنَٟكَ عَلَـىٰ شَرِيعَةٛ مِّنَ ٱلْأَمْرِفَٱتَّبِعْهَا

  • After the time that passed since the division among them, which began after the pronouncement of Easa (alahissalam), We have appointed you, [O Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], as the Messenger, entrusted with the responsibility of guiding humanity. You are to lead them upon the path of the eternal and unchanging law—the divine ordinance that has always been established (42:13). Therefore, follow it in letter and spirit.

 عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد شروع ہوئے اختلاف کے عرصہ بعد ہم نے آپ  (ﷺ)کورسول  مبعوث فرمایا ہے تاکہ آپ  عالمگیر ہدایت دیں۔ آپ کو ان کی رہنمائی دائمی  شریعت  پر چلنے میں کرنی ہے وہ حکم جو ہمیشہ سے قائم ہے (42:13)۔ لہٰذا آپ اس پر عمل کریں۔

Root: ش ر ع

وَلَا تَتَّبِــعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ١٨

  • And you should not consider worthwhile following conjectures and wishes of those who have no true knowledge of the Divine revelation [the Book]. [45:18]

اور آپ  ان لوگوں کی خواہشات اور گمانوں کو قابل اتباع  نہ مانیں  جوکتاب اللہ سے  حقیقی علم حاصل  کرنے پر مائل ہی نہیں۔

Root: ھ و ى

إِنَّـهُـمْ لَن يُغْنُوا۟ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـٔٙاۚ

  • The reason for forbidding the pursuit of the desires of these Jewish and Christian leaders is that they will not seek to lessen in the least any of the difficulties you may face in fulfilling the responsibilities imposed upon you by Allah. (This serves as a rationale for the preceding sentence.)

ان یہود و نصاریٰ کے عمائدین کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ  آپ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داریوں  کو نباہنے میں پیش آنے والی دشواریوں میں سے کچھ بھی وہ کم کرنا نہیں چاہیں گے۔(یہ پچھلے جملے کی تعلیل ہے)

وَإِنَّ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ بَعْضُهُـمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٛۖ

  • And indeed some of the distorters and mischief mongers are comrades and allies of some others —

اور یہ بات بدیہی  ہے کہ حقیقت کے منافی باطل نظریات اور روش کا پرچار کرنے والے ایک دوسرے کے  ہمنوا اور ساتھ دینے والے ہیں۔

وَٱللَّهُ وَلِـىُّ ٱلْمُتَّقِيـنَ ١٩

  • And indeed Allah the Exalted is the Guide, Helper, Protector, Sustainer, Benefactor and Companion of those who sincerely endeavour to attain salvation. [45:19]

اوراس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں کے ساتھ ہیں۔

هَـٰذَا بَصَٟٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّقَوْمٛ يُوقِنُونَ ٢٠

  • This (Qur’ān) is an evocative luminous enlightenments: Verbal descriptive passages imaging the past and the future scripted in easy to understand composition for the benefit of all moving humanity —
    And this is guidance: regulatory information for aright conduct/Guide [in time and space] and mercy-blessing for the people who have conviction regarding the Hereafter (and seek rationally convincing knowledge-conceptualize). (Cf. 6:104; 7:203) [45:20]

یہ (قرءین مجید)لوگوں کے  لئے آسان فہم تدوین میں  بصیرت افروزپیغام ہے جو قلب وصدور کو بینائی  دے۔اور یہ  ہدایت اور رحمت کا نزول ہے ان لوگوں کے لئے جو  آخرت کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔

Root: ي ق ن

 أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجْتَـرَحُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجْعَلَـهُـمْ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ سَوَآءٙ

  • Does the belief that life and death are merely a continuous cycle, with time alone as the cause of destruction (see 6:29; 45:24), lead those who deliberately indulge in evildoing to assume that their life and death are equal to those who have believed and remained steadfast in righteous deeds?"

کیا  حیات و موت  کے متعلق  یہ نظریہ  کہ وہ محض ایک تسلسل ہے اور ہلاکت کا سبب صرف زمانہ  ہے(الانعام۔29؛الجاثیہ۔24)، ان لوگوں  نے یہ   گمان کر لیا ہے کہ ہم  جناب  ان لوگوں کو   جنہوں  نے  دانستہ برائیاں   اختیار کیں  ان  جیسا قرار دیں گے جو ایمان لائے  اور اعمال صالح پر کاربند رہے،ایک دوسرے کے مساوی انداز میں؟

مَّحْيَاهُـمْ وَمَمَاتُـهُـمْۚ

  • No, it is false assumption. Their life and their death has never been equal.

نہیں؛ ان  دونوں کی حیات اور موت کبھی یکساں نہیں۔

سَآءَ مَا يَحْكُـمُونَ ٢١

  • Evil is that which they presumably understand and adjudge to people. [45:21]

کیا ہی برا ، احمقانہ اور لغو تجزیہ ہے جو یہ حتمی  فیصلے کے انداز میں  لوگوں کو  دیتے رہتے ہیں ۔

وَخَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّ

  • And Allah the Exalted has created the Skies and the Earth; conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time. The purpose and consideration of this creative activity was that He the Exalted might expose, by subjecting to a test, as to who amongst you people is more appropriate-balanced-beautiful-moderate with regard to conduct, behaviour and actions.

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔اس تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔

وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسِۭ بِمَا كَسَبَتْ

  • And so that every individual is requited on resurrection according to what he had earned in worldly life —

اور تا کہ ہر شخص اس کے مطابق جزا و سزا دی جائے جو اس نے حیات دنیا میں کمایا تھا۔

وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ٢٢

  • While dispensing justice they will not be subjected to even an iota of disproportion. [45:22]

اور ان سے(جزا و سزا میں)بالکل کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔


أَفَرَءَيْتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَـٰهَهُۥ هَوَىٰهُ

  • Have you considered/seen that one who has deliberately and consciously adopted as the iela'aha/lord of worship for him his own desire/vested interest/lusts/hypothetical conjectures —

کیا آپ(ﷺ)نے اس شخص پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش و مفادات کے حصول ہی کو اپنا معبودبنا لیا ہے۔

Root: ھ و ى

وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَـىٰ عِلْمٛ

  • And Allah the Exalted has let him remain neglectfully absorbed, having deliberately adopted it despite knowledge of aright course—

اور اللہ تعالیٰ نے اس کو منحرف اور گم کردہ راہ  میں رہنے دیا ہے،اس حال میں کہ علم کے باوجود دانستہ اس روش کو اس نے اختیار کیا ہے۔

وَخَتَـمَ عَلَـىٰ سَـمْعِهِۦ وَقَلْبِهِۦ 

  • And He the Exalted has let [because of his deliberate/conscious denial to accept the truth/fact] the cover keep veiling upon his audition [passage of entry closed since he has veiled his intellect and perception with other things/preconceived conjectural notions/vested interests]; and upon his heart —

اوران جناب نے اس کی سماعت اور اس کے قلب پر دانستہ چڑھائے غلاف کر سر بمہر کر دیا ہے۔

Root: خ ت م

وَجَعَلَ عَلَـىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٟوَةٙ

  • And He the Exalted has rendered his own whims and desires as obscuring veil/blinder upon his faculty of vision —

اور ان جناب نے اس کے اپنی خواہش و مفاد کےمحور کو اس کی بصارت پر چشم بند بنا دیا ہے۔(اپنی ذات کے علاوہ اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا)۔

Root: غ ش و

فَمَن يَـهْدِيهِ مِنۢ بَعْدِ ٱللَّهِۚ

  • Once Allah the Exalted has discarded him, thereby who/none is there who could lead him after He the Exalted has left him straying [in furtive worshipping of self interests-person],

اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے گم کردہ راہ رہنے کے لئے دھتکار دیا ہے تو کون ہے جو اُن کے بعد اسے راہ ہدایت پر ڈال سکتا ہے!

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣

  • [why you deviate] Is it for reason that you people consciously decide not to reflect? [45:23]

کیا تم لوگوں کا یہ رویہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ تم ازخود یاد رکھنا  اور تاریخ سے سبق لینا نہیں چاہتے۔

وَقَالُوا۟ مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُـهْلِـكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهْرُۚ

  • And they (people of aforementioned psyche making inner-self as their god) had said,  "Indeed there is no life except our life of this world, we die and we live [only once here], and no one annihilates us except the process of time/era/circumvolution".

اور اپنی ذات اور خوہشات کومعبود سمجھنے والوں نے لوگوں کو کہا’’حیات فقط  ہماری حیاتِ دنیا ہے۔ہم مرتے ہیں اور ہم حیات پاتے ہیں۔اور ہمیں کوئی نابود نہیں کرتا سوائے رواں دواں رہنے والا وقت و زمان۔

Root: د ھ ر

وَمَا لَـهُـم بِذَٟلِكَ مِنْ عِلْمٍۖٛۖ

  • They keep regurgitating such empty statement despite there is nothing substantive argument and logic based on knowledge for them in support of their fore stated preconception —

وہ ایسا کہتے تو ہیں مگر اس کی تائید میں علم کی بنیاد پر ان کے پاس دینے کے لئے قطعی کوئی منطق اور ٹھوس دلیل نہیں ہے۔

إِنْ هُـمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ٢٤

  • As such, they know nothing except conjecturing/supposing/assuming it as being the case. [45:24]

اور یہ کہ  وہ  سوائے گمان کرتے رہنے ،سوچے سمجھے بغیر فیصلہ کن انداز میں  باتیں کرنے کے علاوہ اورکچھ نہیں کرتے۔

وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُنَا بَيِّنَٟتٛ

  • Know it, when Our Aaya'at: Verbal Passages of Qur’ān, characteristically mirroring information, facts and knowledge in exegetical manner, are narrated to them, word by word —

مطلع رہو(زمانہ نزول کی تاریخ سے)جب ہم جناب  کے کلام پر مشتمل آیات  لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے  ان لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔

مَّا كَانَ حُجَّتَـهُـمْ إِلَّا أَن قَالُوا۟ ٱئْتُوا۟ بِـٔ​ابَآئِنَآ

  • Their concluding wrangle used to be nothing except that they said, "you people come to us with our foregone forefathers—

ان کی حیل و حجت سوائے اس کے کوئی تردید نہ تھی کہ انہوں نے کہا"ہمارے آباؤ اجداد کو ہمارے پاس لاؤ۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٢٥

  • If you people were truthful in what you say about resurrection." [45:25]

اگر تم لوگ حیات نو دئیے جانے کے متعلق اپنے بیان میں سچے ہو"۔

قُلِ ٱللَّهُ يُحْيِيكُـمْ ثُـمَّ يُمِيتُكُـمْ ثُـمَّ يَجْمَعُكُـمْ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ
وَ لَٟكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
٢٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Allah the Exalted vivifies you people, afterwards the lapse of time of your period of life, He the Exalted will cause you to die. Afterwards, upon blowing of second trumpet, indeed He the Exalted will gather you people on the Day of Rising. There is absolutely no confusion/uncertainty/duplicity of thought within it."
    However, the fact remains that most of the people do not accept it/know this fact. [45:26]

آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"(ازخود سے کچھ نہیں ہوتا)اللہ تعالیٰ ہیں جو تم لوگوں کو(مادہ حالت سے  زیر مقصد)حیات دیتے ہیں۔بعد ازاں[قَضَیٰٓ أَجَلًا  زندگی کی مدت پوری ہونے پر]وہ جناب تم لوگوں    کو طبعی موت دیں گے۔بعد ازاں وہ  جناب تم لوگوں کو احتساب کے لئے روز قیامت اجتماع میں کر دیں گے۔قیامت کے دن کا ادراک کرنے میں قطعاً کوئی الجھن اور تذبذب کا پہلو نہیں ہے"۔
مگراکثر لوگ  سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

Root: ر ى ب

وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • Know it: The domain and governance of the Skies and the Earth is exclusively for Allah the Exalted.

اورآسمانوں اور زمین پراقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق صرف  اللہ تعالیٰ کے دائرہ کار میں ہے۔

Root: م ل ك

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاَعةُ يَوْمَئِذٛ يَخْسَـرُ ٱلْمُبْطِلُونَ ٢٧

  • And the Day the Appointed Moment is manifested—that is the Day when the conjecture and scum mongers will be at loss. [45:27]

جان لو کہ جس دن مقرر وقت ظاہر ہو گا، مجرم لوگ مایوسی میں ڈوب جائیں گے؛حیات نو دئیے جانے پر حقیقت کے منافی باطل نظریات کے پیروکار خسارا کریں گے۔

Root: س و ع

وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٛ جَاثِيَةًۭۚ كُلُّ أمَّةٛ تُدْعَىٰٓ إِلَـىٰ كِتَٟبِـهَا ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٢٨
هَـٰذَا كِتَٟبُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُـم بِٱلْحَقِّۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٢٩

  • And you will see each and every generation as a community sitting kneeled—Every generation will be called towards the Book of her with the pronouncement—"Today you people will be recompensed that which you deliberately and wilfully kept doing. [45:28]

  • (They will be told) This is the Book of Our Majesty, it narrates to you people in your tongue only the established fact of your biography—Indeed Our Majesty kept transcribing those acts which you people were performing." [45:29]

اور آپ(ﷺ)ہر ایک ایک مجرم امت کو گھٹنے ٹیکے ہوئے دیکھیں گے۔
ہر ایک ایک باہم پیوست گروہ کو ان کے متعلق  کتاب  کا مطالعہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا۔اور ان سے کہا جائے گا"بتاؤ کیا تمہیں سوائے اس کے کچھ اور سزا سے تو ہمکنار نہیں کیا جا رہا ان کے مطابق جو اعمال تم لوگ کرتے رہتے تھے‘‘۔
(اور ان سے کہا جائے گا لو اور پڑھو)"یہ ہے ہم جناب  کا تحریر نامہ بشکل کتاب۔تم لوگوں کو یہ سنائے گا تمہاری زبان میں مبنی بر حقیقت تمہاری سوانح۔حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب انتہائی باریک بینی سے اسے  تحریر میں نقل کرتے رہتے تھے جو کچھ تم لوگ  دانستہ سر انجام دیتے رہتے تھے"۔

Root: ن س خ

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • Thereupon, at that Moment as for those who heartily accepted/believed in the Divine Discourse and performed moderate righteous deeds—

اس طرح علیحدہ  کئے  وہ لوگ جودل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے  تھے۔

فَيُدْخِلُـهُـمْ رَبُّـهُـمْ فِـى رَحْـمَتِهِۦۚ

  • Thereby, in keeping with the promise, the Sustainer Lord of them shall enter them in the Umbrella of His Mercy.

تو وعدہ نباہتے ہوئے ان کے رب انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کریں گے۔

ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِيـنُ ٣٠

  • This [approval and appreciation of Allah] is the manifest achievement/success. [45:30]

جان لو؛یہ زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟

  • And as for those are concerned who rejected the Divine revelations to believe—

أَفَلَمْ تَكُنْ ءَايَٟتِى تُتْلَـىٰ عَلَيْكُـمْ فَٱسْتَكْـبَـرْتُـمْ

  • They will be confronted with the fact, "Were not My Aa'ya'at: verbal passages of Divine revelation used to be recited/communicated to you, word by word, thereupon, you people reflexively puffed up with arrogance and pride of grandeur and superiority —

ان سے کہا جائے گا"کیا یہ حقیقت نہیں کہ میری آیات تم کو سنائی جاتی تھیں،مگر تم (قلب میں من جانب اللہ ہونا مان لینے)کے باوجود غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنی عظمت کے خواہش مند اور زعم میں مبتلا رہے۔

وَكُنتُـمْ قَوْمٙا مُّجْرِمِيـنَ ٣١

  • And you people remained a group of criminals— [45:31]

اور تم۔پہلے ہی سے جرم کرنے والی قوم تھے۔

وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيـهَا قُلْتُـم مَّا نَدْرِى مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّٙا وَمَا نَـحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيـنَ ٣٢

  • And when it was proclaimed: "Indeed, the promise of Allah is an incontrovertible reality, and about the Appointed Moment — there is absolutely no uncertainty and confusion about its coming at designated moment"—you replied, "We have no understanding at all of what this Appointed Moment is. We regard it only as a conjectural idea, and we have no inclination toward attaining firm conviction about it." [45:32]

اور جب یہ کہا گیا " اللہ تعالیٰ کا حیات نو دئیے جانے اور احتساب کا وعدہ ناقابل تردیدبدیہی حقیقت ہے؛اور مقرر کردہ اختتامی ساعت کے وجود پذیر ہونے میں  التباس  اورمتذبذب ہونے کاقطعاًکوئی پہلو  موجودنہیں"۔تم لوگوں نے جواب دیا"ہمیں اس مقررہ گھڑی کی کوئی حقیقی معرفت حاصل نہیں کہ وہ کیا ہے؛ ہم اسے محض ایک گمان پر مبنی تصور سمجھتے ہیں، اور ہم ان لوگوں میں شامل نہیں جو اس کے بارے میں پختہ یقین تک پہنچنے کے خواہاں ہوں"۔

Root: د ر ى;  س و ع;  ي ق ن

وَبَدَا لَـهُـمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟

  • And the evil nature of that which deeds they performed exposed the eminent disaster for them [on perusing the written record book].

اور ان کے بداعمال کو ان  کو دئیے گئے  تحریری اعمال نامہ  نے ان پر افشاں کر دیاجو کچھ انہوں انجام دیا تھا۔

وَحَاقَ بِـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٣٣

  • And that hemmed then about which they consciously adopted a non serious jesting attitude keeping themselves playful with. [45:33]

اورآخروہ(عذاب)ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے  دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ح ى ق; ھ  ز ء

وَقِيلَ ٱلْيَوْمَ نَنسَٟكُـمْ كَمَا نَسِيتُـمْ لِقَآءَ يَوْمِكُـمْ هَـٰذَا

  • And it was pronounced, "Today Our Majesty will discard you people in the same manner as you people had forgotten the facing of your this Day [Read with 7:51;20:126; 32:14]

انہیں درخواست کا جواب دیا جائے گا"ہم جناب نے آج  تمہیں  درخور اعتنا نہیں گردانا  ویسے جیسے  تم نے  آج کے دن کو بھلا دیا تھا۔

وَمَأْوَىٰكُـمُ ٱلنَّارُ

  • And for you people the abode is the Hell-Prison

اورتم لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔

وَمَا لَـكُـم مِّن نَّـٟصِرِينَ ٣٤

  •  And see there is none at all who could come forward to help you today". [45:34]

اور  دیکھو قطعاًکوئی مددگار نہیں  ہو گاجو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔

ذَٟلِـكُـم بِأَنَّكُـمُ ٱتَّخَذْتُـمْ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ هُـزُوٙا 

  • This upshot is because you people purposely held the Aay'aat: verbal passages of the Book of Allah non seriously/in jest

یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو دانستہ  اورمنفعت یا عنادکے زیر مقصدغیر سنجیدہ انداز میں لیا تھا۔

Root: ھ  ز ء

وَغَـرَّتْكُـمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَاۚ

  •  And the worldly life deceptively engaged you".

اور حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی زندگی نے تمہیں  دام فریب میں جذب کر لیا تھا"۔

فَٱلْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْـهَا

  • Resultantly that Day they will not be taken out from her (the lowly world/Hell-Prison)—

اس کا انجام یہ ہے کہ آج کے دن سے وہ جہنم سے کبھی نہیں نکالے جائیں گے۔

وَلَا هُـمْ يُسْتَعَتَبُونَ ٣٥

  • And nor their requests, for making mends and transforming themselves, for pardon will be acceded. [45:35]

اور نہ ان کی اپنی اصلاح کرنے کی خواہش بتا کرمعافی تلافی سے مہربانی کی التجا کو پذیرائی ملے گی۔

فَلِلَّهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَرَبِّ ٱلۡأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٣٦

  • Therefore, the Infinite Glory and Praise stands specified, eternally and exclusively, for Allah the Sustainer Lord of the Skies; and the Sustainer Lord of the Earth, [to cut short the list] the Sustainer Lord of all the Known/Existing Worlds/all that exists. [45:36]

سب تسلیم کریں گےاللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد  ہمیشہ  سے مختص ہے، وہ آسمانوں کے رب ہیں،اور زمین کے رب ہیں،اورتمام موجودات کے رب ہیں۔

وَلَهُ ٱلْـكِـبْـرِيَآءُ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ

  • And the Supremacy and Sublimity in the Skies and the Earth is for Him the Exalted.

مطلق کبریائی  ان جناب کے لئے ہے آسمانوں اور زمین میں۔

وَهُوَ ٱلْعِزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٣٧

  • Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [45:37]

مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

046-سُوۡرَةُ الْأَحْقَاف

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


حـمٓ ١

  • Consonant (ح) Ha, 7th of alphabet, (it has meaning of Life, Benefit, Live); (م) Meem, 25th of alphabet, (Place, Thing, Being) of Arabic alphabet with ancillary glyph-prolongation sign-mark called "Madda" which means and extends-stretches the sound value of the letter to which it is added. [46:01]

عربی زبان کے حروف ھجاء/ابجد ’’ح‘‘اور ’’میم‘‘بمعہ  مدّا [طوالت]کا نشان۔

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ ٢

  • The piecemeal dispatch and delivery of the Book (Grand Qur’ān)—is for the reason to let your brain remain persistently in stable state of calmness and tranquillity (for predicate elision cf. 25:32) The piecemeal dispatch and delivery of the Book (Qur’ān) is under the command of Allah the Exalted Who is Pervasively dominant and is Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms, visible and invisible. [46:02]

اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کا بتدریج اتارنا آپ(ﷺ)کے ذہن کو مسلسل حالت اطمینان میں رکھنے اور لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پہنچانے کے لئے ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آسان فہم انداز میں تصنیف ہے جودائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

مَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٛ مُّسَمّٙىۚ
وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْـرِضُونَ 
٣

  • Our Majesty has not created the Skies and the Earth and all that which exists between the two except in the manner of conditioning them by infallible governing rules for a determined purpose —and for a duration terminating at a named appointed.
    Be informed: those who have refused to believe in the Messenger and Qur’ān — they are the people who deliberately turn away from the very discourse by which they were admonished. [46:03]

ہم جناب نے  آسمانوں اور زمین  کواور  ان  دوکے مابین  موجودکو ہرگزبے ہنگم  یا کھیل کے طور پرتخلیق نہیں کیا  ،بلکہ  ایک حکیمانہ اور طے شدہ مقصد  کے لئے، ایسےناقابلِ تغیر    اور آفاقی قوانین  کے تابع  تحت تخلیق   کیا ہے جو عین حقیقت پر قائم ہیں۔اور ایک   متعین مدت  کے لئے   تخلیق کیا ہےجس کے اختتام کا لمحہ نامزد اور حتمی ہے۔
مطلع رہو؛جن لوگوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کیا ہے
وہی لوگ ہیں جو شعوری طور پر ہر اس نصیحت اور انتباہ سے اعراض برتتے ہیں جس کے ذریعے انہیں متنبہ کیا گیا ہے۔

قُلْ أَرَءَيْتُـم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ
أَرُونِـى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلۡأَرْضِ
أَمْ لَـهُـمْ شِرْكٚ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِۖ
ٱئْتُونِـى بِكِـتَٟبٛ مِّن قَبْلِ هَـٰذَآ أَوْ أَ ثَـٟرَةٛ مِّنْ عِلْمٍٛ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] confront them, saying: "Have you ever considered the reality of those you habitually invoke besides Allah the Exalted?
    You people show—point out to me what they have created in the Earth?
    Or some share-partnership-association is earmarked for them in the Skies? [No, read with 34:22]
    You people come to me with the book sent before this (Qur’ān)—Or you people bring to me tangible evidence-traces of knowledge—Do it, if you were truthful in what you keep saying". [46:04]

آپ(ﷺ)ان  عمائدین  سےسوال کریں’’کیا آپ   نےان  کی حقیقت  پر کچھ غور کیا ہے جنہیں  اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارنے کی آپ کی عادت ہے ۔
بھلا مجھے وہ دکھاؤ جو انہوں نے زمین میں تخلیق کیا ہے۔
یاآسمانوں کی تخلیق اور نظام میں شراکت کا کوئی عنصر ان کے لئے دکھا سکتے ہو۔
آپ لوگ میرے پاس اُس کتاب کو لے کر آئیں جو اس قرء ان مجید سے قبل نازل کردہ ہے۔یا ایسی ٹھوس شہادت،کندہ نشان پیش کریں جو علم کا معیارہے،ایسا کرنے کی کوشش تو کرواگر آپ سچ بیان کرنے والے ہیں“۔ (الاحقاف۔۴)

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ وَهُـمْ عَن دُعَآئِـهِـمْ غَٟفِلُونَ ٥

  • And who/none is more negligently heedless than the one who calls on some one, other than Allah the Exalted, who will never be reflexive for him to respond till the Day of Rising —And they (hypothetical gods) are those who are unaware of their calls. [46:05]

سوچو؛اس سے بڑھ کر منحرف اور گم کردہ عقل کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کو پکارتا ہے جو یوم قیامت کی منتہا تک اس کو جواب دینے کی سکت نہیں رکھتا۔اور یہ لوگ پکارتے ہوئے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ وہ ان کی پکاروں سے بالکل غافل ہیں۔

Root: غ ف ل

وَإِذَا حُشِـرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَـهُـمْ أَعْدَآءٙ وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِـهِـمْ كَٟفِرِينَ ٦

  • And when the people would have been gathered they will be as if they were for them enemies —And they will be the deniers regarding their worshipping rituals. [46:06]

اور جب لوگوں کو مجموع کر دیا جائے گا تو ایسے لگے گا جیسے وہ(پکارے جانے والے)ان کے دشمن رہے ہوں۔اور وہ ان کی عبادت ہی کو رد کر دینے والے تھے۔

وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتُنَا بَيِّنَٟتٛ
قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُـمْ هَـٰذَا سِحْرٚ مُّبِيـنٌ ٧

  • Know it, when Our Aaya'at: Verbal Passages of Qur’ān, characteristically mirroring information, facts and knowledge in exegetical manner, are narrated to them, word by word —
    Those (elite ruling class) who denied to accept said to people about the Infallible Discourse (Qur’ān) as soon it came in written form to them—"This, pointing to Qur’ān, is an evident illusion/falsity." [their statement is deceptive since illusion relates only to eyes/vision and the moment one touches the thing creating illusion, the illusion vanishes] [46:07]

مطلع رہو(زمانہ نزول کی تاریخ سے)جب ہم جناب  کے کلام پر مشتمل آیات  لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے  ان لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔
تو ان عمائدین( مشرکین)نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان  مجید کو ماننے سے انکار کردیا تھا  جوں ہی تحریری طور پر انہیں وہ  پہنچ گیا لوگوں سے بیان حقیقت کے متعلق کہا: ’’یہ(اپنے ہاتھ میں تھامے قرءان مجید کو دکھاتے ہوئے)تو سوائے صریحاً طلسماتی شعبدہ بازی کی کہانیوں کے کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔

Root: س ح ر

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَـرَىٰهُۖ
قُلْ إِنِ ٱفْتَـرَيْتُهُۥ فَلَا تَمْلِـكُونَ لِـى مِنَ ٱللَّهِ شَيْـٔٙاۖ
هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِۖ
كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَاۢ  بَيْنِى وَبَيْنَكُـمْۖ
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ٨

  • Contradicting it, do they keep saying to people: "He (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) has drafted, compiled it (Qur’ān) with his own effort, perception, knowledge, understanding?
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "If I have compiled/drafted it (Qur’ān) [attributing it to Allah] at my own initiative, thereat [then on me is my crime] you people hold nothing for me to protect from Allah the Exalted.
    He the Exalted fully knows the best about that which you people keep spreading
    conjectures-palavers about it [see 41:26].
    He the Exalted suffices as witness in this matter between me and between you people
    —
    And He the Exalted is repeatedly Forgiving/Overlooking and the Fountain of Mercy". [46:08]

کیا وہ (رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین) لوگوں سے کہتے ہیں" اس (محمّد ﷺٗ)نے اپنے مقاصد کے لئے محنت اور لگن سے اس(قرءان)کو  ازخوداختراع کیا ہے"۔
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اگر میں نے اس کو اپنے مقصد سے خود تصنیف کیا ہے تو چونکہ  اسے کلام اللہ کہہ رہا ہوں اس لئے   اللہ تعالیٰ کی جانب سے  میرے بچاؤ کے لئے تمہارے پاس کوئی اختیار نہیں۔
وہ جناب بخوبی جانتے ہیں جن باتوں کو اس کے متعلق تم پھیلاتے رہتے ہو(سورۃ فصلت۔۲۶:ٱلْغَوْا۟ فِيهِ)
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"ان جناب کا میرے اور تمہارے مابین چشم دید گواہ ہونااکتفا کرتا ہے(کسی اور کی شہادت کی ضرورت نہیں)۔
اور وہ جناب   درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔

Root: ف ى ض;ك ف ى

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعٙا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِـى وَلَا بِكُـمْۖ
إِنْ أَ تَّبِــعُ إِلَّا مَا يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّ
وَمَآ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "I am not a novelty nor presenter of a novel theme as being one of the Messengers —Neither I am pursuing-prognosticating about what would happen with me, nor regarding that which would happen to you people —
    I am but diligently pursuing in letter and spirit what is verbally communicated to me (Qur’ān).
    And I am but an Awakener, Revivalist, Admonisher, Warner making for people things manifest, distinct, and crystal clear." [46:09]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں  کے فرائض میں کچھ نیا پن متعارف کرانے والا نہیں ہوں۔اور نہ میں اس جستجو میں رہتا ہوں کہ وہ کیا ہے جو کسی لمحے مجھے پیش آ جائے گا اور نہ تمہارے حوالے سے(یہ کہانت ہے)
حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میری طرف  کتاب میں سے  کلام بھیجا جا رہا ہے ،کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔
اوریہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردارکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔

Root: د ر ى
 

قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَـرْتُـم بِهِۦ
وَشَهِدَ شَاهِدٚ مِّنۢ  بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ عَلَـىٰ مِثْلِهِۦ فَــَٔامَنَ وَٱسْتَكْـبَـرْتُـمْۖ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] conclude argument with those who allege it as your authorship, saying: "Have you considered—if this Qur’an is truly from Allah the Exalted, what excuse will you have for having rejected it — despite that a witness recognized as learned man of Bani Iesraa'eel has already borne testimony to something similar and believed (proposition of sent by Allah-see 6:114), yet you have turned away in arrogance?
    Be mindful of the fact; Allah the Exalted does not guide [against their own will/considered decision] those who persist in wrongdoing—distort and substitute facts with conjectures and myths." [46:10]

آپ(ﷺ)اتمام حجت کے لئے آخری بات ان کے غور کرنے کے لئے کہہ دیں جو قرءان مجید کو آپ کی تصنیف قرار دیتے ہیں:’’کیا آپ لوگوں نے اس نکتے پر غور کیا ہے کہ اگر واقعی وہ(قرءان مجید)اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا گیا ہدایت نامہ ہے مگر  آپ نے اس کا  برملاانکار کر دیا ہے تو آپ لوگوں کے پاس  دلیل اور عذر کیا ہو گا؛جبکہ   صاحب علم و معرفت تسلیم کئے جانے والےبنی اسرائیل  کے شخص نے بھی  اس کے مثل بیان شہادت  دیا ہے(متعلق مُنَزَّلٚ حوالہ  الانعام۔۱۱۴)جس پر وہ قرءان مجید پر ایمان لے آیا ہے،مگرآپ تواپنی بڑائی چاہنے کے زعم میں مبتلا ہیں؟
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں ہدایت نہیں دیتے‘‘۔

Please read with 11:35 and 41:52

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْ كَانَ خَيْـرٙا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِۚ
وَإِذْ لَمْ يَـهْتَدُوا۟ بِهِۦ فَسَيَقُولُونَ
هَـٰذَآ إِفْكٚ قَدِيـمٚ 
١١

  • And those (members of ruling elite) who denied to accept Divine Discourse said to people—About those who have accepted/believed in it, "Had it (Qur’ān) been a blessing, they would not have taken the lead upon/preceded us in believing that".
    Remain aware; So long they intend not to get aright guided with it (Qur’ān), thereby, since they have no refuting argument they will keep propagating to people—"This, pointing towards Qur’ān), is an old falsity defying hitherto accepted beliefs." [46:11]

اور ان  لوگوں(عمائدین مشرکین)نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان  مجید کو ماننے سے انکار کردیا تھا کہا۔ان کے بارے میں جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے’’اگر وہ(قرءان مجید)واقعی خیر ہوتا تو وہ(مومنین)اس کی جانب جانے میں ہم پر سبقت نہیں لے سکتے تھے‘‘۔(تاثر:ہم پہلے ایمان لے آتے)
متنبہ رہو۔ جب  تک  وہ  اس کے ذریعے ہدایت یافتہ ہونا نہیں چاہتے تو چونکہ اس کے خلاف کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اس لئے تکرار سے کہتے رہیں گے:
"یہ قرء ان مجید  محض  قدیم جھوٹ پر مبنی  خیال ہے جو رائج عقائد کی تنقیض کرتا ہے‘‘۔

Root: س ب ق; ق د م

وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٟبُ مُوسَـىٰٓ إِمَامٙا وَرَحْـمَةًۭۚ 
وَهَـٰذَا كِتَٟبٚ مُّصَدِّقٚ
لِّسَانًا عَـرَبِيّٙا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَبُشْـرَىٰ لِلْمُحْسِنِيـنَ ١٢

  • The Book of Mūsā [alai'his'slaa-transcribed from Tablets to papers] was available for people of Bani Iesraa'eel before it (Qur’ān) serving as guide and mercy.
    And this book, Qur’ān in your hands, has the characteristic of Testifier-Affirmer-Certifier-Sanctifier of all that which was sent earlier. It is written in language Arabic: a perspicuous, eloquent, distinctive, unequivocal and precisely expressive language; the language of the sons of soil of Arabian peninsula—So that it (Qur’ān) acts admonisher for those who have done mischievously wrong/distorted the facts —And it communicates congratulatory glad tiding for those who are moderate, graceful and generous. [46:12]

جان لو؛(اس شخص نے تائیدی بیان کیوں دیا)موسیٰ(علیہ السلام)سے موسوم کتاب(تورات میں کندہ بعینہ کاغذوں پر منتقل کردہ)کا کرداراس قرءان سے قبل ان کے لئے رہبراور اظہار رحمت تھا۔
اور یہ ،قرءان مجید،ایسے تحریری کلام پر مشتمل ہے جو تصدیق و توثیق کرتا ہے اس سے قبل کتابوں کے نزول کو۔یہ
(قرءان مجید)جزیرہ عرب کے لوگوں کی فصیح و بلیغ زبان میں مدون کر کے بھیجا گیا ہے۔اس(کتاب)کا مقصد ان لوگوں کو متنبہ کرنا ہے جو حقیقت کے منافی باتوں پر کاربند ہو گئے ہیں۔اور یہ خصوصی طور پر ان لوگوں کو خوش کن نتائج کی پیشگی خبر اور مبارکباد دیتا ہے جواعتدال اور حسن سلوک کا رویہ اور سرشت اپناتے ہیں۔(الاحقاف۔
١٢)


إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُـمَّ ٱسْتَقَٟمُوا۟

  • It is true about those who said, "Our Sustainer Lord is Allah the Exalted"; and thereafter they persistently kept themselves firm in this belief —they will attain salvation and reward

ان لوگوں کے انجام کو جان لو جنہوں نے کہا تھا"اللہ تعالیٰ ہمارے مطلق رب ہیں" اور بعد ازاں حیات میں مستقل مزاجی اور خلوص سے اس پر قائم رہے وہ کامیاب و کامران ہوں گے۔

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ 

  • Thereby, fear will not overshadow-haunt such class of people —

اس لئے  نتیجے میں (یوم قیامت)خوف ایسے لوگوں پر نہیں چھائے گا۔

وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ ١٣

  • And neither will they have a cause to feel sad and grieved". [46:13]

اور نہ یہ لوگ  غمگین ہوں گے۔

Root: ح ز ن

أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلْجَنَّةِ خَٟلِدِينَ فِيـهَا

  • They are the people who will be the residents-inmates of the Paradise. They will abide therein permanently.

یہ لوگ ہیں جو اصحابِ جنت ہیں ۔یہ لوگ ان میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔

Root: ص ح ب

جَزَاۤءَۢ  بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٤

  • This is reward for that which they people kept doing. [46:14]

یہ  کامیابی آپ (ﷺ)کے رب کی جانب سے  صلہ /انعام ہے،جو انہیں  ان  اعمال کی قدردانی میں دیا گیا جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٟنَ بِوَٟلِدَيْهِ إِحْسَٟنًاۖ

  • Mind it; Our Majesty have enjoined-given the verdict-decreed upon the human beings to conduct with their parents with affectionate kindness.

متنبہ رہو؛ ہم جناب نے انسان کو پابند کیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔

Root: و ص ى

حَـمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهٙا وَوَضَعَتْهُ كُرْهٙاۖ

  • His mother carried him in her womb bearing hardship; and she delivered him bearing hardship.

اس کی ماں نے اسے حمل میں اٹھائے رکھا اس حال میں کہ بخوشی تکلیف کو جھیلا۔اور اس نے اسے تکلیف جھیل کرپیدا کیا۔

Root: و ض ع;  ك ر ه

وَحَـمْلُهُۥ وَفِصَٟلُهُۥ ثَلٟثُونَ شَهْرًاۚ

  • His period of bearing in pregnancy and his breast-feed weaning is collectively for thirty months  [breast feeding is for complete two years-24 moon months-2:233; hence child can be delivered in six months period of pregnancy] —

اور اس کا ماں کے رحم میں حمل اور اس کا دودھ پینا چھڑانے کا دورانیہ تیس مہینے ہے۔

Root: ش ھ ر

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِيـنَ سَنَةٙ

  • Until when he has crossed over to strengthened maturity; [and if not died rather] and later he has arrived the age of forty years —

اس طرح پروان پاتے ہوئے جب وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گیا اور عمر کے چالیسویں سال میں پہنچ گیا:

Root: ر ب ع;  س ن ه

قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشكُـرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِـىٓ أَنْعَمْتَ عَلَـىَّ وَعَلَـىٰ وَٟلِدَىَّ

  • He prayed, "O my Sustainer Lord! Do enable me that I might acknowledge with gratitude the Favour of You the Exalted which You have showered upon me and have showered upon my parents —(it is also exactly in 27:19)

اس نے کہا"اے میرے رب!مجھے خواہشات نفس پر قابو پانے کی استطاعت نصیب فرما کہ میں آپ جناب کی عنایات کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین کو نوازا ہے۔

Root: و ز ع

وَأَنْ أَعْمَلَ صَٟلِحٙا تَرْضَىٰهُ

  • Moreover, enable me that I might conduct with that perfection which You the Exalted appreciatively approve —

اور یہ کہ میں صالح اعمال پر عمل پیرا ہو جاؤں اس نیت سے کہ وہ  آپ کی رضا مندی /پذیرائی پانے کا موجب ہو۔

وَأَصْلِحْ لِـى فِـى ذُرِّيَّتِـىٓۖ

  • And You do lead them to righteous conduct for me who will be in my progeny.

اور آپ جناب میرے لئے میری ذریت کو اصلاح کی راہ پر گامزن فرمائیں۔

Root: ذ ر ر

إِنِّـى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّـى مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ١٥

  • I have sincerely turned towards You the Exalted; and indeed now I have consciously become a member of Muslims: people who follow the Prescribed Code and Physical Procedure-Islam" [46:15]

یہ حقیقت ہے کہ آپ جناب کی جانب میں نے صدق قلب سے احساس ندامت کے ساتھ رجوع کیا ہے اور میں نے یقیناً شعوری طور پر اپنے آپ کواسلام پر کاربند لوگوں میں شامل کر لیا ہے"۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْـهُـمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟

  • They are the people Our Majesty will accept/acknowledge whatever good they had done—

یہ ہیں  وہ لوگ  جن کے اعمال  کا جائزہ لیتے ہوئے ہم جناب  ان کے کئے ہوئے معمولی سے معمولی  اچھے اور متوازن عمل کو شرفِ قبولیت اور پذیرائی بخشیں  گے—

وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِـهِـمْ

  • While Our Majesty will be magnanimously overlooking their lapses/shortcomings—

جبکہ  ہم جناب ا ن کی  تمام کوتاہیوں اور لغزشوں سے  درگزر اور صرف نظر فرماتے رہیں  گے—

فِـىٓ أَصْحَٟبِ ٱلْجَنَّةِۖ

  • They will enjoy life in the company of the residents of the Paradise —

یہ لوگ جنت کے باسیوں کی رفاقت میں خوشگوار زندگی بسر کریں گے—

وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ١٦

  • They will enjoy life in the company of the residents of the Paradise —

یہ لوگ جنت کے باسیوں کی رفاقت میں خوشگوار زندگی بسر کریں گے—

وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٟلِدَيْهِ أُفّٛ لَّـكُمَآ

  • And there is the one who said to his parents, "Alas for both of you! —

اور ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے اپنے والدین سے کہا، "تم دونوں پر افسوس!—

أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِـى

  • Are you warning me about my exit from grave while many generations have already passed away in times before me?"

کیا تم مجھے میری قبر سے نکلنے کی تنبیہ کر رہے ہو، جبکہ مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں؟"

Root: خ ل و; ق ر ن

وَهُـمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقّٚ

  • Meanwhile, they both pray to Allah seeking help to bless their son with guidance, reprimand their son saying, "Woe and regret is for you, do believe in the Hereafter—Indeed the warning of Allah the Exalted is infallible reality".

دریں اثنا، وہ دونوں اللہ سے  اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے مدد طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں، اور اسے ملامت کرتے ہوئے کہتے ہیں، "ہلاکت اور افسوس ہے تم پر، آخرت پر ایمان لے آؤ—بے شک، اللہ کی تنبیہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔"

Root: غ و ث; و ى ل

فَيَقُولُ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَٟطِيـرُ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٧

  • But he retorts, "This is nothing fables of the ancients".  [46:17]

لیکن وہ انہیں جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے، "یہ سب محض پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں۔"

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْـهِـمُ ٱلْقَوْلُ

  • They are the people upon whom the Promised Word is established and become incumbent—

یہ ہیں وہ لوگ جن  وہ فیصلہ ثابت  مستوجب ہو گیا (کہ انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا)

فِـىٓ أُمَمٛ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِـهِـم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِۖ

  • Upon the people of generations, who have passed before them from amongst human beings and Jinn species—

جیسے ان پرجو ان سے پہلے گزر جانے والی انسانی اور جنات کی نسلوں کے لوگوں پر صادر ہوا تھا—

Root: خ ل و

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ خَٟسِـرِينَ ١٨

  • Indeed they were the people who were the losers. [46:18]

یقیناً یہ وہ لوگ تھے جو نقصان اٹھانے والے تھے۔

وَلِـكُـلّٛ دَرَجَٟتٚ مِّمَّا عَمِلُوا۟ۖ 

  • Realize the significance of deeds: Ranks of elevation are uniquely assigned to each individual in accordance with the deeds they had performed—

اعمال کی اہمیت سمجھیں؛بلندی کے درجات  ہر فرد کے لیے ان کے انجام دیے گئے اعمال کے مطابق منفرد طور پر مقرر کیے جاتے ہیں—

Root: د ر ج

وَلِيُوَفِّيَـهُـمْ أَعْمَٟلَـهُـمْ

  • And these uniquely assigned ranks serve the purpose of justly rewarding and paying them back for their acts of good import—

اور یہ منفرد طور پر مقرر کردہ درجات ان کے نیک اعمال کا پورا اور عادلانہ بدلہ دینے اور انہیں ان کا حق پہنچانے کے لیے ہیں—

Root: و ف ى

وَهُـمْ لَا يُظْلَمُونَ ١٩

  • Know it, they will not be subjected to any injustice in rewarding them [not even iota of it] [46:19]

جان لو، انہیں ان کے اجر و ثواب میں کسی بھی طرح کی ناانصافی کا سامنا نہیں ہوگا [ذرہ برابر بھی نہیں]۔

وَيَوْمَ يُعْـرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ عَلَـى ٱلنَّارِ

  • And the Day when they would be presented to the Hell-Prison who refused to accept the Messenger—

مطلع رہو؛ رسول کریم کا انکار کرنے والے لوگوں کو جس دن  جہنم کے سپد کئے جائیں گےتو ان سے کہا جائے گا:

أَذْهَبْتُـمْ طَيِّبَـٰتِكُـمْ فِـى حَيَاتِكُـمُ ٱلدُّنْيَا وَٱسْتَمْتَعْتُـم بِـهَا

  • It will be pronounced, "you people exhausted the reward of your good things in your life in the lowly world and you enjoyed and availed their benefits—

"تم لوگوں نے اپنی اچھی کمائی کا اجر اپنی دنیاوی زندگی میں ہی کھپا دیا اور اس کے فوائد سے لطف اندوز ہو چکے—

فَٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْـهُونِ بِمَا كُنتُـمْ تَسْتَكْبِـرُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّ

  • Thereby, today you people will be requited with humiliating chastisement for that which you kept showing arrogance desiring self aggrandisement without reason and rhyme in the Earth/worldly life—[Similar information in 6:93]

چنانچہ آج تمہیں ذلت آمیز عذاب دیا جائے گا، اس  اس جرم کی پاداش میںکہ تم زمین میں  حقیقت کے منافی  زعم میں  تکبر اور خود ستائی کے طلبگار رہتے ہوئے ان جناب کی آیات/وعید سے اغماض کرتے رہے—[اسی طرح کی اطلاع 6:93 میں بھی ہے]

Root: غ ى ر and ح ق ق; ھ و ن

وَبِمَا كُنتُـمْ تَفْسُقُونَ ٢٠

  • Besides, it is for the reason that you people kept transgressing and digressing. [46:20]

اور اس وجہ سے ہے کہ تم لوگ حدود و قیود سے تجاوز اور مائل بر فساد رہتے تھے۔

Root: ف س ق


وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍٛ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] mention [in/from the Book] the brother of Aad—When he forewarned his nation by the side of and relating with phenomenon of the Sand-Dunes [present in their geographical location] —

تاریخ  کے بیان کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئےآپ [ﷺ]عاد قوم کے بھائی کا ذکر کریں جب انہوں نے اپنی قوم کے عمائدین کو ریت کے ٹیلوں والے مقام  پر ان  کی مثال دیتے ہوئے  خبردار کیا تھا:

وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْـنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ

  • While indeed the Warners had already passed in his immediate past and in his remote past.

جبکہ ان کےحالیہ اور بعید ماضی میں کئی خبردار کرنے والے رسول گزر چکے تھے۔

Root: خ ل و

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ

  • [reverting from parenthetic he warned them] That "you people should be subject/subservient/ allegiant to none whatsoever except Allah the Exalted.

کہ بنیادی فرمان یہ ہے کہ "تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کی بندگی اور عبادت نہیں کرو۔

إِنَّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٍٛ عَظِيـمٛ ٢١

  • I am afraid/apprehensive of the punishment for you people of the Great Day." [46:21]

یہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں تم لوگوں پر ایک بڑے دن میں عذاب مسلط ہونے کے متعلق"۔

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ ءَالِـهَتِنَا

  • They the ruling elite replied, "Have you come to us with the motive to divert us away from our various iela'aha: godheads —

انہوں (عمائدین)نے تلخی سے جواب دیا"کیا توہمارے پاس محض اس لئے آیا ہے کہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ و بدگمان کر دے؟

فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٢٢

  • Since we are not going to accept it, therefore, cause us hit by that which you are promising and warning us with, if you were truthful in your proclamations." [46:22]

چونکہ ہم آپ کی  وہ بات نہیں مان رہے اس لئے آپ اسے لے آئیں جس کی وعید ہمیں دے رہے ہیں، ایسا کر کے دکھائیں اگر آپ سچ بتا رہے تھے"۔

قَالَ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ

  • He said, "The knowledge of that is only with Allah the Exalted —

انہوں(ھود علیہ السلام)نے کہا"حقیقت یہ ہے کہ اس کا علم فقط اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

وَأُبَلِّغُكُـم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦ

  • And I am conveying and transferring to you people that which I have been sent with —

جبکہ میں تم لوگوں تک وہ وعید پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے۔

وَلَـٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُـمْ قَوْمٙا تَجْهَلُونَ ٢٣

  • But I find you people are acting as blind traditionalists and emotionalists." [46:23]

مگر میں آپ لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگ اندھی تقلید اورجذبات پرستی پر بضد ہیں"۔

فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضٙا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِـهِـمْ

  • Consequently when as soon they saw-observed - that which they had asked to be brought in - it being horizontally expanding mass in appearance, moving straight confronting face to face their valleys —

مہلت کا وقت ختم ہونے پر جوں ہی انہوں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ وہ افق پر مسلسل پھیلتا ہوا غبار لگا جو مسلسل ان کی وادی کی جانب بڑھ رہا تھا۔

Root: و د ى

قَالُوا۟ هَـٰذَا عَارِضٚ مُّمْطِرُنَاۚ

  • They pronounced, "This is an expanded cloud, he will be pourer of rain for us".

تو انہوں نے کہا"یہ پھیلتا ہوا غبار ہے۔یہ ہم پر بارش برسانے والا بنے گا"۔

Root: م ط ر

بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُـم بِهِۦٓ

  • They were contradicted, no! it is not like that, in fact it is that which you people sought to be hastened.

ان سے کہا گیا"نہیں،ایسا نہیں ہے؛یہ وہ ہے جس کو جلدی سے وقوع پذیر ہونے کی تم نے خواہش کی تھی"۔

Root: ع ج ل

رِيحٚ فِيـهَا عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٢٤

  • It was a wind. A severe infliction was embedded within it. [46:24]

یہ ہوا تھی۔ایک دردناک عذاب اس کے اندر موجود تھا۔

Root: ر و ح

تُدَمِّرُ كُلَّ شَـىْءِۭ  بِأَمْرِ رَبِّـهَا

  • She (wind) was continually entering and destroying each and all things by the Command of her Sustainer Lord.

وہ تسلسل سے ان کے علاقے میں داخل ہو رہی تھی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں ہر شئے کو تہس نہس کر رہی تھی۔

Root: د م ر     The Storm of the known history-Super Derecho.

فَأْصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٟكِنُـهُـمْۚ

  • And then the result was that they became such that nothing was left to be seen except their houses/buildings.

آخر ان کا انجام یہ تھا کہ وہاں سوائے ان کے گھروں کے ڈھانچوں کے علاوہ دیکھنے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔

كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ٢٥

  • This is how Our Majesty punish the guilty people. [46:25]

خبردار رہو؛ہم جناب اس انداز میں  اس قوم کو سزا دیتے ہیں  جسے بالاخرمجرم قرار  دے دیا گیا۔

وَلَقَدْ مَكَّنَٟهُـمْ فِيـمَآ إِن مَّكَّنَّٟكُـمْ فِيهِ

  • And indeed they were the people whom Our Majesty had established with power in such position which Our Majesty have not established you the Arabian chieftains —

جان لو یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہم جناب نے انہیں جس شاندار انداز میں تمکن دیا تھا اس طرح کا تمکن ہم نے تمہیں  نہیں دیا،اے سرداران عرب ۔

Root: م ك ن

وَجَعَلْنَا لَـهُـمْ سَـمْعٙا وَأَبْصَٟرٙا وَأَفْــِٔـدَةٙ

  • And Our Majesty rendered acoustic, observation and interpreting faculty as a source for them in attaining worldly powers —

اور ہم جناب نے انسان کو عنایت کردہ سماعت،بصارت اورمعلومات کو علم بنانے کی صلاحیتوں کو ان کے لئے دنیاوی قوتوں کے حصول کا ذریعہ بنا دیا تھا۔

Root: ف ء د

فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْـهُـمْ سَـمْعُهُـمْ وَلَا أَبْصَٟرُهُـمْ وَلَآ أَفْــِٔـدَتُـهُـم مِّن شَـىْءٛ

  • But neither their faculty of listening, nor of vision and nor wisdom/knowledge did avail profit in averting anything from them—

مگر ان کی سماعت،اور بصارت اور نہ ان کے ذہنوں نے انہیں معمولی سا بھی مصیبت سے چھٹکارا نہیں دلایا:

إِذْ كَانُوا۟ يَجْحَدُونَ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ

  • When they deliberately kept denying and wrangling with the Aa'ya'at: Verbal passages of Allah the Exalted —

جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسالات کو ان کی حقانیت کا ادراک ہونے کے باوجود جھٹلاتے رہنا اپنا وطیرہ بنا لیا۔

Root: ء ى ى; ج ح د

وَحَاقَ بِـهـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٢٦

  • And that hemmed then about which they consciously adopted a non serious jesting attitude keeping themselves playful with. [46:26]

اورآخروہ(عذاب) ان سے ملصق ہو گیا /ان پر آن پڑا جس کے بارے  دانستہ اور زیرمقصد تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔

Root: ح ى ق; ھ  ز ء

وَلَقَدْ أَهْلَـكْنَا مَا حَوْلَـكُـم مِّنَ ٱلْقُرَىٰ

  • And indeed Our Majesty annihilated that which is around you people of the habitats/localities —

اے اہل عرب اس حقیقت سے متنبہ رہو کہ ہم جناب نے ان بستیوں میں سے جو تمہارے ارد گرد ہیں کچھ کو نیست و نابود کر دیا تھا۔


وَصَرَّفْنَا ٱلْءَايَـٟتِ 

  • And Our Majesty had explained the verbal passages in interchanging pattern - alternatives making the point distinct from all angles for their taking heed—

اور ہم جناب نے ان  کے لئے نازل کردہ کتاب کی آیات/مندرجات میں باطل طرز عمل کے انجام کے متعلق وعید کو مختلف زاویوں سے بیان کر دیا تھا۔

Root: ص ر ف

لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُونَ ٢٧

  • So that they might revert to prescribed code of conduct.[46:27]

اس مقصد سے کہ وہ باطل نظریات اور طرز عمل سے پلٹ آئیں۔

فَلَوْلَا نَصَـرَهُـمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانًا ءَالِهَةَۢۖ

  • Thereat, why not those helped them whom they had purposely adopted; other than Allah the Exalted, as various iela'aha: godheads, under the pretext that these are source of letting nearness to Allah the Exalted?

اگر ان کا گمان  سچائی پر مبنی تھا تو کیوں انہوں(عاد علیہ السلام کی قوم)نے  نہیں  پکارا جس وقت ان پر آفت آئی تھی  اوراس قت کیوں انہوں نے ان کی مدد نہیں کی جنہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ خداؤں کے طور پر دانستہ اختیار کیا تھا،اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے قرار دے کر۔

بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْـهُـمْۚ

  • Nay, the fact is that those (hypothetical gods) lost/vanished from them—[their mind, they did not even recall those]

حقیقت یہ ہے کہ مدد کرنا تو درکنار،وہ ان کے تصور سے کہیں دور غائب ہو گئے۔

وَذَٟلِكَ إِفْكُهُـمْ وَمَا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ٢٨

  • And that was their deceptive falsification and what they kept fabricating and conjecturing. [46:28]

اوراے قاری جان لے،یہ ان کا دھوکہ دہی پر مبنی جھوٹ تھا،اور وہ  باتیں  جو وہ افترا کرتے رہتے تھے۔


وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرٙا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ

  • Moreover, recall when Our Majesty diverted a group of individuals of pious nature belonging to Species Jinn to come to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]. They were listening the Qur’ān quite affectionately and attentively.

اور آپ(ﷺ)اس دن کو یاد  کریں جب ہم  جناب نے معشر الجن سے   سیانے اور قلب سلیم رکھنے والے افراد کو آپ کی جانب روانہ کر دیا تھا۔وہ قرءان مجید کو آپ سے انتہائی انہماک اور شوق سے سن رہے تھے۔

Root: ص ر ف; ن ف ر

فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ۖ

  • Thereby, as soon they had reached him they said, "Keep yourself in state of quiet both inwardly and outwardly."

اور اس طرح  جوں ہی ان کے حضور  وہ پہنچ گئے تو سرکردہ اشخاص نے کہا" اس سماعت کے دوران تم لوگ اپنے آپ کو  دم بخود/مکمل سکوت کی حالت میں رکھو ایسے کہ کسی دوسرے خیال کو بھی دل ودماغ میں نہیں لانا"۔

Root: ن ص ت; ح ض ر

فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَـىٰ قَوْمِهِـم مُّنذِرِينَ ٢٩

  • Thereat, when recitation was completed, they turned back to their nation/people to beware them. [46:29]

اس طرح جب قرءان مجید کا سنایا جانا مکمل ہو گیا تو وہ فوراً اپنی قوم کی جانب پلٹ گئے،خبردار کرنے کے لئے۔

قَالُوا۟ يَٟقَوْمَنَآ إِنَّا سَـمِعْنَا كِتَٟبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَـىٰ

  • They (a group of species Jinn) said, "O our people! indeed we have listened the book (Qur’ān) which has been compositely sent after Mūsā [alai'his'slaam]—

انہوں نے کہا"اے ہماری قوم کے لوگو!ہم نے اس کتاب کو توجہ سے سنا ہے جسے موسیٰ (علیہ السلام)کے بعد نازل کیا گیا ہے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ

  • It is the Testifier-Affirmer-Certifier-Sanctifier of whatever (previous revelations - Books) was in front of it (Qur’ān) —

یہ (قرء ان)تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں (کتاب خاص ۔ام الکتاب میں سے،حوالہ ۵:۴۸)نازل کیا گیا تھا۔

يَـهْدِىٓ إِلَـى ٱلْحَقِّ وَإِلَـىٰ طَرِيقٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٣٠

  • It (Book-Qur’ān) leads to the Absolute Fact and towards the Path that keeps leading safely and stably to the destination of peace and tranquillity — [46:30]

یہ کتاب ایسے رہنما کے طور ہے جو حقیقت کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور اس راستے کی جانب جو منزل تک  رواں دواں رکھتا ہے۔

Root: ط ر ق

يَٟقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ 

  • O our people! consciously respond to the Herald of Allah the Exalted (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) —

اے ہماری قوم!اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ دعوت نامہ دینے والے (رسول کریم محمّد ﷺ)کومثبت جواب دو۔

وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ

  • And affectionately believe him.

اور ان  (رسول کریم محمّد ﷺ)پر دل کی شاد سے ایمان لے آؤ۔

يَغْفِرْ لَـكُـم مِّن ذُنُوبِكُـمْ 

  • He (Allah the Exalted) would forgive you for your sins and ill doings of the past —(they may have meant: On believing in him, he will seek forgiveness for your past cognizable crimes and slanders-please see 39:53;45:14 and 47:19 to resolve the hidden subject pronoun of jussive verb)

وہ جناب تم لوگوں کی خاطر تمہارے ماضی میں کئے جرائم اور الزام تراشیوں  کی پردہ پوشی کر کے معاف کر دیں گے۔(ان کے کہنے کا یہ مدعا بھی ممکن ہے:ایمان لانے پر  رسول کریم تمہارے لئے ماضی میں کئے  قابل تعزیر غلطیوں سے درگزر اور معافی کے طلب گار ہوں گے۔حوالہ الزمر۔53؛  الجاثیہ۔45:14؛اور47:19)

Root: ذ ن ب

 وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍٛ أَلِيـمٛ ٣١

  • And He the Exalted would protect you from severe infliction. [46:31]

اور وہ  جناب  تم لوگوں کو دردناک عذاب  سے  نجات دیں  گے۔

وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ 

  • Take note; if someone not responds to the Herald of Allah the Exalted (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) —

اور متنبہ رہو؛ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ دعوت نامہ دینے والے کومثبت جواب  نہیں دے گا۔

فَلَيْسَ بِمُعْجِزٛ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • Since it is amazing and infallible discourse, thereby, it should be remembered that there is none  in the Earth who could thwart its efficacy:

تو وہ یہ بات یاد رکھے کہ  چونکہ  ان کا بتایا ہوا بیان حقیقت ہے  ،زمین میں اسے ماند کرنے والا قطعی نہیں۔

وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُۚ

  • And the benevolent supporters - trailblazers would not be there whom he could think benefactors. In the situation prevelant on Resurrection he will not consider approaching any one other than him (the Herald Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam -see 70:37-38)

اورخیر خواہ  حمایتی میں ان (ﷺ)کے علاوہ یوم قیامت کوئی نہیں ہو گا جو اس کے لئے باعث امید ہو(محذوف حال کے لئے دیکھیں۔المعارج،37-38)۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍ٣٢

  • They (non responding to him) are the people who are lost manifestly engrossed in deviations." [46:32]

یہ وہ لوگ ہیں جوحکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں  منحرف صریح غفلت میں سرگرداں ہیں۔


أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ  ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ

  • Have they not reflected that Allah the Exalted is the Only —Who innovatively created the Skies and the Earth—

کیا ان کایہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس پر غور ہی نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو عدم سے تخلیق فرمایا ہے ۔

وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ

  • While He the Exalted did not feel any fatigue with their creation—

جب کہ انہوں نے ان کی تخلیق سے قطعاً تھکاوٹ محسوس نہیں کی۔

Root: ع ى ى

بِقَٟدِرٍ عَلَـىٰٓ أَن يُحْيِـىَ ٱلْمَوْتَـىٰۚ

  • He the Exalted is in full control and command upon that He may revive to life the dead—

وہ جناب اس پر مکمل عبور رکھتے ہیں کہ  مردہ کو از سر نو باحیات کر دیں۔

بَلَـىٰٓ

  • Indeed He is —

ہاں کیوں نہیں۔ وہ جناب یقیناً اس پر قادر ہیں۔

إِنَّهُۥ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ٣٣

  • Certainly, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon every and all things - to set them right-fix them in measure. [46:33]

ان  جناب کے متعلق اس حقیقت سے  باخبر رہو کہ ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

وَ يَوْمَ يُعْـرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَـى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَٟذَا بِٱلْحَقِّۖ
قَالُوا۟ بَلَـىٰ وَ رَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُـمْ تَكْفُرُونَ
٣٤

  • And the Day when those who denied the Hereafter and resurrection are presented to the Hell-Prison —"Is this not a proven fact?" -- He the Exalted asked, "Were this not cautioned through the Infallible Doctrine?"
    They replied: "Yes of course; by our Sustainer Lord."
    He the Exalted said: "Thereby, you people taste and suffer the punishment for the reason that you kept denying and disbelieving the Day of Rising." [46:34]

مطلع رہو؛ رسول کریم کا انکار کرنے والے لوگ جس دن  جہنم کے سپردکئے جائیں گےتو ان سے کہا جائے گا:ان جناب      نے ان سے          پوچھا"بتاؤ   کیا یہ     ازسرنوحیات                                                               ناقا                          بل               تردید حقیقت نہیں    ہے؟"
انہوں نے جواب دیا"ہاں  یہ عینی حقیقت ہے،اور اپنے رب کی قسم اٹھا        کرہم یہ کہتے ہیں"۔
ان جناب نے کہا"چونکہ  اب خود تم لوگوں نے         حقیقت    کااعتراف کر لیا ہے اس لئے   مقرر کردہ عذاب      کوبھگتو جس کا تم انکار کرتے رہتےتھے"۔

Root: ذ و ق

فَٱصْبِـرْ كَمَا صَبَـرَ أُوْلُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ

  • Therefore, you the Messenger remain coolly perseverant like the tradition of patience exercised by the Messengers of strong willpower —

چونکہ ان  کی ہرزہ سرائی  مہمل اور درخور اعتنا نہیں  مگر آپ کے لئے باعث کوفت ہے،اس لئے آپ(ﷺ) سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں کو برداشت کریں جیسے  رسولوں میں عالی ہمت، عزم کے پیکروں نے صبر کیا تھا۔

Root: ص ب ر; ع ز م

وَلَا تَسْتَعْجِل لَّـهُـمْۚ

  • And you should not react to hasten finality for them [as they ask you to hasten decision].

اور نہ آپ(ﷺ)ان کی عجلت انجام کی خواہشوں پر ردعمل دیں۔

Root: ع ج ل

كَأَنَّـهُـمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةٙ مِّن نَّـهَارِۭۚ

  • [they mockingly ask that when they would have converted to bones and dust, their perception will be] As if, the Day when they see [resurrection] what is being promised to them, [their observation would be that] they had not stayed in that condition except for an hour of a day.

مطلع رہو؛جس دن وہ دیکھیں گے جس کی وعید انہیں دی جا رہی ہے تو ایسے محسوس کریں گے  جیسے وہ دن کے کچھ وقت کے  علاوہ دنیا میں نہیں  رہے تھے۔

Root: س و ع; ل ب ث

بَلََٟغٚۚ

  • This (Qur’ān) is a communication delivered-transmitted in writing, a persuasive discourse in easy to comprehend composition for the mankind in space- time to take counsel and so that they get warned-cautioned-awakened by taking recourse to it (Qur’ān-read 6:19;14:52).

یہ(قرءان مجید)لوگوں کے مطالعہ کے لئے تحریر میں پہنچا دینے کے لئے ہے اور اس لئے کہ زمان و مکان میں اس کے ذریعے سے وہ متنبہ ہوتے رہیں۔(الانعام19۔ اورسورۃ ابراہیمؐ۔52دیکھیں)

فَهَلْ يُـهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَٟسِقُونَ ٣٥

  • Thereat, would anyone get destroyed and doomed except the people who are deliberate and persistent defiant and deviants? [46:35]

چونکہ سب کو برابری کی بنیاد پر خبردار کر دیا گیا اس لئے بتاؤ کہ بالآخر  کون برباد ہو گا سوائے اُن لوگوں کے جو فاسق ؛عہد،آئین شکن اور حدودوقیود کو پامال کرنے والے ہیں۔

Root: ف س ق

047.

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَٟلَـهُـمْ ١

  • Know the upshot of those elite and intelligentsia who in time-space refused to accept their Messenger and the Book of Hour; and they hindered and/or diverted people from the Path prescribed by Allah the Exalted: He the Exalted has declared all their apparently good deeds as vanished. [47:01]

ان صاحبان اثرورسوخ  کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے زمان ومکان میں  مبعوث فرمائے رسول اورنازل کردہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے سے روکا یامنحرف کیا تھا:ان جناب نے ان کے کئے ہوئے بظاہر اچھے اعمال کونتیجے کے حوالے سے ظائع قرار دے دیا۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • And know the upshot of those who in time-space heartily accepted-believed the Book of Hour and had accordingly conducted righteously and moderately [Nisara-Christians, and Gentiles: Monotheist believers belonging to people whom book was not given] —

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو زمان و مکان میں نازل کردہ پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے وقت کی کتاب کے مطابق مبنی بر اصلاح اعمال کئے تھے۔

وَءَامَنُوا۟ بِمَا نُزِّلَ عَلَـىٰ مُحَمَّدٛ

  • And they heartily believed in that (Qur’ān) which was serially sent upon Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے جو محمَّد (ﷺ)پر  وقفے وقفے سے نازل کیااور لوگوں کو پہنچایا گیا۔

وَهُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّـهِـمْۙ

  • -- And it (Qur’ān) is the Infallible Doctrine-Discourse. It was conveyed to them (people all around Mecca) set down on papers as Book in easy to read and comprehend composition by their Sustainer Lord --

۔۔(اس  سے قبل کہ تمہارے ذہن میں یہ سوال آئے کہ مکہ سے باہر کے لوگ اس  نازل کردہ پر کیسے ایمان لا سکتے تھے اس کے متعلق حقیقت جان لو)وہ بیان حقیقت ہے جسے دور دراز کے لوگوں کو کاغذوں پر تحریر کتاب کی صورت ان کے رب کی جانب سے آسان فہم انداز میں پہنچایا گیا ہے۔۔

كَفَّرَ عَنْـهُـمْ سَيِّـَٔاتِـهِـمْ

  • He the Exalted has exonerated them - has rendered their earlier deeds of bad - inappropriate - immoderate import as concealed - deleted away from them —

ان جناب نے ان متذکرہ لوگوں کے اپنے ماضی میں کئے مبنی بر برائی اعمال کوپوشیدگی اور حذف شدہ حیثیت عطا فرما دی ہے۔

وَأَصْلَحَ بَالَـهُـمْ ٢

  • And He the Exalted has perfected their condition. [47:02]

اور یوں ان جناب نے ان متذکرہ لوگوں کے معاملے کو سلجھا دیا ہے۔

ذَٟلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْبَٟطِلَ

  • This dichotomous end result (of Believers and non-believers) is for reason that those who disavowed, they had purposely followed the conjecture - palavers - scum —

یہ بیان کردہ دو متضاد نتائج اس وجہ سے ہیں کہ جنہوں نے زمان و مکان میں وقت کی کتاب کا انکار کیا انہوں نے دانستہ مقصد کے تحت غیر حقیقت عقائد و تصورات کی پیروی کی تھی

وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْحَقَّ مِن رَّبِّـهِـمْۚ

  • And that those who accepted-believed they diligently followed, in letter and spirit, the Infallible Doctrine-Discourse (Grand Qur’ān) which is sent compactly towards them in easy to read and comprehend composition by their Sustainer Lord.

اور چونکہ ان لوگوں نے جو وقت کی کتاب پر ایمان لائے انہوں نے خلوص سے بیان حقیقت کی پیروی کی جو انہیں آسان فہم انداز میں ان کے رب کی جانب سے پہنچایا گیا۔

كَذَٟلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَٟلَـهُـمْ ٣

  • Like this manner of juxtaposition, Allah the Exalted cites their (aforementioned people of the past) examples/credentials for the enlightenment of existing people. [47:03]

یہ ہے دومتضادباتوں کو بیک وقت بیان کرنے کا انداز جس سے اللہ تعالیٰ اُن (ماضی کے متذکرہ لوگوں)کی امثال بتا کر موجود لوگوں کے لئے حقیقت کو نمایاں فرماتے ہیں۔

فَإِذَا لَقِيتُـمُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟

  • Thereby, when in response, you have met face to face in battlefield with those who have refused to believe in the Messenger and Qur’ān —

:نتائج کا یہ فرق جان لینے کے بعد اگرتم لوگوں کا میدان جنگ میں ان لوگوں سے آمنا سامنا ہوتا ہے جنہوں نے رسول کریم اور قرء ان کا انکار کردیا ہے

فَضَـرْبَ ٱلـرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثْخَنتُـمُوهُـمْ

  • Thereat, obvious target for both warring parties are the necks-human bodies-mutual hitting till such point in time, during the currency of fight, that you have succeeded in overpowering respective opponents - have made them exhausted-subdued-drop weapons—

تو ظاہر ہے کہ فریقین کا مقصد ایک دوسرے کی گردنیں مارنا ہے؛یہ مطمح نظراس وقت تک کے لئے ہے جب تم لوگوں نے انہیں نڈھال اور شکست خوردہ کر دیا ہے(پھر گردن نہیں مارنا)۔

فَشُدُّوا۟ ٱلْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا  بَعْدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلْحَرْبُ أَوْزَارَهَاۚ

  • Thereat you you are hereby directed to firmly buckle up - arrest such subdued enemies as prisoners of war, since the question of releasing them as gesture of obliging favour, or on ransom arises afterwards when the war may surrender-lay down the weapons-enemy has accepted defeat

بلکہ تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ نڈھال اورشکست خوردہ دشمن کے سپاہی کوبطور جنگی قیدی گرفتار کرو؛اس وقت تک کے لئے کہ جنگ اپنے ہتھیارزمین پر رکھ دے،بعد  اس کے چاہو تو بطور احسان جنگی قیدی رہا کر دواور چاہو تو تاوان لے لو۔

ذَٟلِكَ وَلَوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنْتَصَرَ مِنْـهُـمْ

  • This order for compassionate attitude with enemy even in the battlefield is for reason; otherwise if Allah the Exalted had so willed, certainly He the Exalted could have helped some of them at His Own accord.

جنگ کے دوران بھی انسانی زندگی کی حرمت کا لحاظ رکھنے کے اس حکم کی وجہ ہے،وگرنہ تم سے کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ چاہتے تو ازخود سے ان میں سے بعض کی مدد کر دیتے۔

وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُـم بِبَعْضٛۗ

  • But the purpose is that He the Exalted might subject some of you to a test of behaviour with some other for exposure of true personality.

بلکہ مقصد یہ ہے کہ تم میں بعض کوبعض کے ساتھ  رویے میں آزما کران کی شخصیت کووہ جناب آشکارہ کریں

وَٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَٟلَـهُـمْ ٤

  • And those who were killed in the Cause of Allah the Exalted: Certainly are convinced that He the Exalted will never let their deeds go unrecognized -unappreciated. [47:04]

اوران لوگوں کے متعلق جان لو جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہو گئے ان کے اعمال کو وہ جناب کبھی رائیگاں نہیں ہونے دیں گے ۔

سَيَـهْدِيـهِـمْ وَيُصْلِحُ بَالَـهُـمْ ٥

  • He the Exalted will immediately lead them (towards the Paradise) and He will perfect their condition [by distancing away their omissions and laxities] — [47:05]

وہ جناب انہیں جنت کی راہ دکھائیں گے اور ان کے تمام معاملات وہ جناب سلجھا دیں گے۔

وَيُدْخِلُـهُـمُ ٱلْجَنَّةَ عَـرَّفَـهَا لَـهُـمْ ٦

  • And He the Exalted will cause them enter into the Paradise; He the Exalted had made it familiar and cognizable for them. [47:06]

اور وہ جناب انہیں جنت میں داخل فرمائیں گے، وہ جنت جسے ان کے لئے معروف بنا دیا گیا تھا(قرء ان مجید میں بیان سے)۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

إِن تَنصُرُوا۟ ٱللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُـمْ ٧

  • If you help defend the Course-Deen of Allah the Exalted, He would help you and will keep your feet firmly established against enemy. [47:07]

اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع میں دل سے مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کریں گے اور دشمن کے خلاف تمہارے قدموں کو مضبوطی سے جما دیں گے۔

Root: ق د م

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ فَتَعْسٙا لَّـهُـمْ

  • And as for those who have refused to believe in the Messenger, they shall face defeat, and they will find themselves in a position having lost power, lustre, and brightness —

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے رسول ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کیا، وہ یقیناً شکست سے دوچار ہوں گے اور وہ اپنے آپ کو ایسی حالت میں پائیں گے کہ ان کی قوت، چمک اور رعب و دبدبہ ختم ہو چکا ہوگا —

وَأَضَلَّ أَعْمَٟلَـهُـمْ ٨

  • And He the Exalted has rendered their deeds as perished  — [47:08]

اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو برباد اور لاحاصل کر دیا ہے۔

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ كَرِهُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ

  • This upshot is because they disliked what Allah the Exalted has comprehensively communicated —

یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس (قرءان) کو ناپسند کیا جو اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر نازل فرمایا —

Root: ك ر ه

فَأَحْبَطَ أَعْمَٟلَـهُـمْ ٩

  • Thereby, He the Exalted has declared their acts voided, weightless froth, destructive. [47:09]

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو بے وزن جھاگ، بے اثر اور خود ان کے لئےتباہ کن قرار دے دیا۔

أَفَلَمْ يَسِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • Is their aggrandisement for the reason that they have not traversed in the Earth —

کیا ان انکار کرنے والوں  کا قوت و ثروت کا گھمند اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سیر نہیں کی۔

Root: س ى ر

فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۚ

  • They should traverse and should observe the archaeological evidences how the ultimate consequence was for those before them? [and take heed/lesson] —

اس لئے انہیں گھومنا چاہئےجس سے وہ(کھنڈرات/آثار قدیمہ)دیکھ لیتے کہ ان سے قبل دنیا میں بسنے والوں کا انجام کیا  ہواتھا۔

دَمَّـرَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْۖ

  • Allah the Exalted let the annihilation suddenly descend upon them — an overwhelming, comprehensive devastation that consumed them utterly. —

اللہ تعالیٰ نے ان پر اچانک مکمل اور ہمہ گیر تباہی نازل فرمائی — ایسی بربادی کہ انہیں مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا —

Root: د م ر

وَلِلْـكَـٟفِرِينَ أَمْثَٟلُـهَا ١٠

  • The examples of such ruined archaeological sites can serve as an eye-opener for the people who have refused to accept the Divine Message. [47:10]

 ایسے اجڑی ہوئی آثار قدیمہ کی مثالیں ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے والی ثابت ہو سکتی ہیں جنہوں نے اللہ کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ذَٟلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَـى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • This consequence is an inevitable reality primarily because Allah the Exalted is the Protector Lord of those who have sincerely believed — —

یہ نتیجہ ایک ناگزیر حقیقت ہے، بنیادی طور پر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے محافظ و کارساز ہیں جو رسول کریم پر دل کی شاد سے  ایمان لائے —

وَأَنَّ ٱلْـكَـٟفِرِينَ لَا مَوْلَـىٰ لَـهُـمْ ١١

  • While the undeniable reality for the adamant disbelievers of the Messenger is that there is no one who could act as protector for them. [47:11]

 جبکہ رسول  اللہ کے ضدی منکروں کے لیے یہ اٹل حقیقت ہے کہ ان کے لیے کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کا محافظ بن سکے۔

إِنَّ ٱللَّهَ يُدْخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُۖ 

  • Know the inevitable ultimate consequence; Allah the Exalted will certainly enter those who have sincerely believed in the Messenger and performed righteous and moderate deeds as ordained in the Divine Book—In the Gardens with canals of water flowing side by.

ناگزیر آخری انجام کو جان لو؛ اللہ تعالیٰ یقینی طور پر ان لوگوں کو جو رسول کریم پر سچے دل سے ایمان لائے اورقرءان مجید میں   مقرر کردہ نیک اور متوازن اعمال کیے،ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں—

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ ٱلْأَنْعَٟمُ 

  • And those who have deliberately and persistently refused to accept, they are thoughtlessly absorbed in worldly enjoyment and they eat like the regurgitating manner of eating of herbivore mammals — —

اور جنہوں نے جان بوجھ کر اور مستقل طور پر انکار کیا، وہ دنیاوی لذت میں بے سوچے سمجھے غرق ہیں اور وہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چرنے والے جانور جگالی کرتے ہوئے کھاتے ہیں —

وَٱلنَّارُ مَثْوٙى لَّـهُـمْ ١٢

  • While the heated Hell-Prison is the abode, prepared and in wait for them. [47:12]

جبکہ دہکتی ہوئی جہنم کا قید خانہ ان کا ٹھکانہ ہے، جو ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍٛ هِىَ أَشَدُّ قُوَّةٙ مِّن قَرْيَتِكَ ٱلَّتِـىٓ أَخْرَجَتْكَ

  • And there were many cities/towns, that were much stronger and powerful than the city (Mecca) of you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] which has caused your exodus from her —

یہ حقیقت ہے کہ ایسی بہت بستیاں دنیا میں آباد رہی ہیں جو آپ(ﷺ)کی بستی کے مقابل کہیں زیادہ طاقتور تھیں جس نے آپ کو  اس میں   سےنکلنے پر مجبور کیا ہے۔

أَهْلَـكْنَٟهُـمْ فَلَا نَاصِرَ لَـهُـمْ ١٣

  • Our Majesty caused their annihilation whereat there was absolutely none as helper for them. [47:13]

ہم جناب نے ان بستیوں کے مکینوں کو نیست و نابود کر دیا تھا۔چونکہ ہلاکت کا سامنا ان سب کو تھا اس لئے قطعی کوئی ایک بھی نہ تھا جو ان کی مدد کر سکتا۔

أَفَمَن كَانَ عَلَـىٰ بَيِّنَةٛ مِّن رَّبِّهِۦ

  • Is then he who has been pursuing the lucid course revealed in the Book from his Sustainer Lord—

    کیا وہ شخص جو اپنے رب کی جانب سے عنایت کردہ صریحاً واضح اور متبین تصور پر کاربند رہا ہے ۔

كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ

  • Comparable with the one for whom his bad conduct has been made alluring—

اس شخص جیسا متصور ہو سکتا ہے جس کے برے طرز عمل کو  اس کے لئےباعث کشش و لگن بنا دیا گیا ہے۔  

وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَاءَهُـم ١٤

  • And such people consciously and purposely made themselves follow their own lusts and conjectures. [47:14]

ان کا احوال یہ ہے کہ انہوں نےناقابل تصدیق محض منہ کی باتوں اور اپنی خواہشات  اور مصلحتوں کی دانستہ،زیر مقصدپیروی کی ہے۔

Root: ھ و ى


مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِـى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَۖ

  • The similarity - portrayal of the Paradise, which is promised to those who sincerely endeavour to attain salvation—

اس جنت کی مماثلت کے ادراک کے لئے چند معلومات جان لو جس کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو تندہی سے محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہتے ہیں۔۔ 

فِيـهَآ أَنْـهَٟرٚ مِّن مَّآءٍٛ غَيْـرِ ءَاسِنٛ

  • Streams—continuous flow-supply of water void of contamination, stagnation and stinking is ensured therein —

ایسے پانی کی نہریں اس میں رواں رہتی ہے جو کبھی خراب،بوسیدہ،بدبودار،خراب ذائقہ نہیں ہوتا۔

وَأَنْـهَٟرٚ مِّن لَّبَـنٛ لَّمْ يَتَغَيَّـرْ طَعْمُهُۥ

  • And streams—continuous flow-supply of milk; the taste, quality, nutritional value of which will never deteriorate are available therein —

اور دودھ کی ایسی نہریں اس میں رواں رہتی ہیں، جس کے طعام کی خصوصیت میں تغیر رونما نہیں ہوتا۔

Root: ط ع م; ل ب ن

وَأَنْـهَٟرٚ مِّنْ خَـمْـرٛ لَّذَّةٛ لِّلشَّٟرِبِيـنَ

  • And streams—continuous flow-supply of wine/hard drinks which will be delighting for drinkers are available therein —

اور سرور دینے والی شراب کی ایسی نہریں اس میں موجود ہوں گی جو پینے والوں کے لئے باعث لذت ہوں گی۔

Root: خ م ر;  ل ذ ذ

وَأَنْـهَٟرٚ مِّنْ عَسَلٛ مُّصَفّٙىۖ

  • And streams—continuous flow-supply of honey made absolutely pure are available therein —

اور ایسے شہد کی نہریں اس میں موجود ہوں گی جسے بالکل صاف کشید کیا گیا ہو گا۔

Root: ص ف و

وَلَـهُـمْ فِيـهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَـرَٟتِ

  • And each of all fruits is available for them therein —

اور ایک طرح کے پھلوں کی سپلائی کا ان کے لئے اس میں انتظام ہے۔

وَمَغْفِـرَةٚ مِّن رَّبِّـهِـمْۖ

  • And absolute protection is ensured by the grace of their Sustainer Lord —

اور ان کو مغفرت کا ان کے رب کی جانب سے دیا جانا اپنے آپ میں ایک انعام ہے۔

كَمَنْ هُوَ خَالِدٚ فِـى ٱلنَّارِ

  • Having known the Paradise reflect, is he who consciously conducted seeking the approval and appreciation of Allah the Exalted alike him who will  permanently reside in heated Hell-Prison—

غور کرو؛بتائی گئی معلومات کے تجزئیے سے کیا وہ شخص جو خلوص اور تندہی سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے پذیرائی اور قدردانی کے طرز عمل پر گامزن رہا اس شخص  جیسا ہو سکتا ہے  جو جہنم میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔

وَسُقُوا۟ مَآءً حَـمِيـمٙا

  • In the state that they would be given to drink water, hot at boiling point —

اس حال میں کہ انہیں درجہ ابال پر گرم پانی پلایا جائے گا۔

Root:  س ق ى

فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُـمْ ١٥

  • Upon drinking it would prick their intestines. [47:15]

گھونٹ گھونٹ پینے کے باوجود وہ ان کی آنتوں کو سوزش دے گا۔

Root: م ع ى;  ق ط ع

وَمِنْـهُـم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ

  • Know it; Some of them who have devised a strategy (41:26) pretend attentively listening to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

اور ان عمائدین مشرکین میں لوگوں کو فریب دینے والے وہ بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ (قرءان)سننے کی خواہش سے آپ(ﷺ)کی جانب متوجہ ہیں۔

حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُوا۟ مِنْ عِندِكَ

  • Until immediately after they had departed from your place —

یہ سننے کی اداکاری کرتے رہے(اپنے بڑوں کے حکم کے مطابق۔حوالہ فصلت۔26) یہاں تک کہ جب آپ(ﷺ)کی محفل سے چلے گئے:

قَالُوا۟ لِلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ

  • They asked with wrinkled nose those bestowed with knowledge, "What was it he talked about?"

ان لوگوں سے استفہام کرتے ہوئے  جنہیں علم سے نوازا گیا تھا  ناک  چڑھاتے ہوئےکہا"وہ کیا تھا جس بارے انہوں (رسول کریم)نے بیان کیا؟"

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ

  • They are the people Allah the Exalted has let the veil persist upon their hearts —

یہ ہیں وہ لوگ اللہ تعالیٰ نے جن کے قلوب پر لگے زنگ کو ڈھانپ/پوشش بنا دیا ہے (ان کے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہے)

Root: ط ب ع

وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُـمْ ١٦

  • And they have consciously pursued their own lusts and conjectures. [47:16]

ان کا احوال یہ ہے کہ انہوں نےناقابل تصدیق محض منہ کی باتوں اور اپنی خواہشات  اور مصلحتوں کی دانستہ،زیر مقصدپیروی کی ہے۔

Root: ھ و ى

وَٱلَّذِينَ ٱهْتَدَوْا۟ زَادَهُـمْ هُدٙى وَءَاتَىٰـهُـمْ تَقْوَىٰـهُـمْ ١٧

  • And as for those who consciously and persistently guided their selves aright, He the Exalted embellished them with regard to guidance, and gifted them their longing of salvation. [47:17]

اورمذکورہ لوگوں کے   برعکس  جنہوں نے اپنے آپ کو شعوری طور پر  مسلسل راہِ راست پر قائم رکھا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں  مزید نکھار عطا فرمایاہدایت  پانےمیں ،اور ان کی نجات کی آرزو کو انعام کی صورت میں انہیں بخش دیا۔۔

فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَـهُـم بَغْتَةًۭۖ 

  • Since they are reluctant and hesitant to believe despite knowing infallibility of the Message thereby, you confirm are they waiting [to believe the Qur’ān] but that the Determined Moment may come to them all of a sudden?

چونکہ ایمان لانے میں وہ لیت و لعل اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس لئے آپ(ﷺ)اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ فقط اس بات کے منتظر ہیں کہ متعین اختتام کی گھڑی اچانک ان کو دبوچ لے۔

Root: س و ع

فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُهَاۚ

  • Then they must know indeed the stipulation of her (the determined last moment) has since come [indicator of the event to happen has since come as The perpetual Last Messenger and the Last Book-Grand Qur’ān stipulated in the Covenant between Allah the Exalted and Galaxy of chosen Allegiant in the absence of which Last Moment could never happen because of the information/promise given orally and in writing both in Injeel and Toraat earlier to Bani Iesraa'eel].

اگر ایسا ہے تو انہیں جان لینا چاہئے کہ اس  (گھڑی)کے برپا ہونے کا شرط نامہ تو پہلے ہی پہنچ چکا ہے۔

فَأَنَّـىٰ لَـهُـمْ إِذَا جَآءَتْـهُـمْ ذِكْـرَىٰـهُـمْ ١٨

  • Since she will happen all of a sudden with no prior warning, thereat of what avail will be for them their recalling when she (the Moment) would have arrived? [47:18]

چونکہ اس گھڑی نے اچانک برپا ہونا ہے اس لئے جب وہ پہنچ جائے گی تو پھر اس وقت ان کا نصیحت کو یاد کرنے کا کیونکر کوئی فائدہ ہو گا۔

فَٱعْلَمْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ

  • Since taking heed at that moment will not be avail, therefor,  you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] reiterate for everyone: "Realize the certain fact about Him the Exalted: None in the miscellany of iela'aha: godheads - deities that are uncritically admired, adorned and worshipped is a living entity except Allah the Exalted" —

چونکہ اس لمحے خبردار ہونا عبث ہو گا اس لئے آپ(ﷺ)ہر ایک کے لئے انتباہ جاری کر دیں"یہ بات بحثیت علم تو جان لے کہ ان جناب کے متعلق بدیہی حقیقت یہ ہے۔۔ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود ان تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے اللہ تعالیٰ کے"

وَٱسْتَغْفِرْ لِذَنۢبِكَ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] assign yourself overlooking the slander - ad hominem against you instead of feeling grieved—

اور آپ(ﷺ)اپنے پر لگائے الزامات اور متعصب ہرزہ رسائی سے درگزر اور صرف نظر کرنے کی عادت اپنائیں بجائے غمکین ہونے کے۔

Root: ذ ن ب

وَلِلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِۗ

  • And seek protection/forgiveness for truly believing men and believing women.

اور حقیقی مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے مغفرت کی خواہش کا اظہار کریں۔

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُـمْ وَمَثْوَىٰكُـمْ ١٩

  • O you the Mankind be aware; Allah the Exalted fully knows the places of your movements/ activities of self interest and the places of your retreat/rest. [47:19]

اے معشر الجن و انس متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں تمہارے حرکات و سکنات  کے مراکز اورقیام گاہ کو۔


وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٚۖ  فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٚ مُّحْكَـمَةٚ وَذُكِرَ فِيـهَا ٱلْقِتَالُۙ
رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ ٱلْمَغْشِىِّ عَلَيْـهِ مِنَ ٱلْمَوْتِۖ
فَأَوْلَـىٰ لَـهُـمْ ٢٠

  • And recall the repeated statement of those who proclaimed to have believed saying to others, "Why a chapter has not serially been sent (ordering to wage war)? Subsequent to imposition of threatened war when a chapter was compositely sent containing inviolable commands and injunctions and the state-internalization of the war was outlined [Sura 2]—
    You had noticed those, in the hearts of whom there is a disease [Muna'fi'qeen], that they were looking you the Messenger as terrified, the look of a person blanketed with overwhelming fear of death. (Cf. 4:77; 9:86; 33:19)
    Since the injunction to combat war was mandatory, therefore, better course of conduct for them was to submit and discharge the obligation— [47:20]

آپ(ﷺ)یاد کریں  ان لوگوں کے دہرائے جانے والے قول کو جنہوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا تھا"کیا وجہ ہے کہ  کسی سورۃ کو بتدریج نازل نہیں کیا گیا(جس میں جنگ  کرنےکا حکم ہو)"۔چونکہ  یہ خواہش نہیں بلکہ شرارتی دکھاوا تھا اس لئے جب  موقع محل کی مناسبت سے ایک سورۃ کو مجتمع انداز میں نازل کر دیا گیا جس میں واجب التعمیل اور ناقابلِ تنسیخ احکامات و ہدایات تھیں اور جس میں جنگ کو ریاستی ادارہ کے طور پر منظم کرنے کی تفصیل بیان کی گئی تھی ۔  
 توآپ(ﷺ)نے دیکھا ان  (منافقین)کو،ایک اپنی پیدا کردہ نفسیاتی بیماری نے جن کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے،کہ آپ کو یوں  خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہتے تھے  جیسے  کسی شخص پر موت کی نے ہوشی طاری ہو، موت کے خوف میں گھرا ہوا ہو"۔
چونکہ جنگ کا حکم بطور ذمہ داری لازم کر دیا گیا تھا اس لئے ان کے لئے بہتر طرز عمل تسلیم کرنا اور فرض نبھانا تھا۔

Root: س و ر; غ ش ى

طَاعَةٚ وَقَوْلٚ مَّعْـرُوفٚۚ

  • Voluntary acceptance of the word and expression of straightforward import (reflects conscious decision) is the appropriate course—

بتائے گئے حکم کو تسلیم کرنا اورمعروف و مناسب بات کرنا   لائق تحسین طرز عمل ہے۔

فَإِذَا عَزَمَ ٱلْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا۟ ٱللَّهَ لَـكَانَ خَيْـرٙا لَّـهُـمْ ٢١

  • Thereat when the matter had been decided and decreed, whereby had they proven their claim of belief as truthful to Allah the Exalted indeed that would have been far better for them. [47:21]

لہٰذا جب ان جناب نے اس معاملے(جنگ کرنا)کو حتمی طے کر دیا تھا تو اگر انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا قول سچ کر دکھایا ہوتا تو وہ ان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔

Root: ع ز م

فَـهَلْ عَسَيْتُـمْ إِن تَوَلَّيْتُـمْ

  • [they be questioned] Thereby, answer, is it not expected of you that if you people turned away unresponsive —

تم لوگ جواب دو کہ کیا یہ امکان نہیں کہ اگر تم لوگوں نے ازخودمنہ موڑ لیا(فاسق بن گئے)۔

Root: و ل ى;  ع س ى

أَن تُفْسِدُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَتُقَطِّعُوٓا۟ أَرْحَامَكُـمْ ٢٢

  • That you people might do mischief in the land and you might dishonour your relationships/ kinship of wombs? [47:22]

تو تم لوگ زمین/معاشرے میں بگاڑ اور بے اعتدالی پیدا کرو گے،اور اپنے ارحام کے مراسم کو منقطع کرو گے۔

أُو۟لَـٟٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَـهُـمُ ٱللَّهُ

  • They are the people whom Allah the Exalted has discarded as condemned and cursed.

یہ (منافقین،فاسق،جہاد/جنگ کے منکر)ہیں وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے مسترد اور پھٹکار زدہ قرار دے دیا ہے۔

فَأَصَمَّهُـمْ وَأَعْمَىٰٓ أَبْصَٟرَهُـمْ ٢٣

  • Thereby He the Exalted has let them remain deaf and has rendered their faculty of vision blinded [47:23]

اس کا نتیجہ یہ ہے ان جناب نے ان لوگوں کوبہرے پن کی حالت میں رہنے دیا ہے،اور ان کی بصارتوں کو اندھا کر دیا ہے۔

Root: ص م م; ع م ى

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ

  • [why do they behave as such] Is it for reason that they have purposely not made it their habit to cross-examine the Qur’ān critically pursuing coherently - contiguously its miscellany: Unitary Verbal Passages?

 (ان کا یہ طرز عمل کیوں ہے)کیا یہ اِس بناء پر ہے کہ انہوں نے قرآن کے مندرجات میں ترتیب و تسلسل سے ازخودغوروفکر/تدبر کرنے کی عادت کو نہیں اپنایا؟

أَمْ عَلَـىٰ قُلُوبٍٛ أَقْفَالُـهَآ ٢٤

  • Or is it the reason that the padlocks of hearts have become blockade upon their hearts?  [47:24]

یا کیا  سمجھ نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ان(قلوب)کے تالے ان کے قلوب پر بند ہو کراثر پذیری کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔

Root: ق ف ل


إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرْتَدُّوا۟ عَلَـىٰٓ أَدْبَٟرِهِـم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّـنَ لَـهُـمُ ٱلْـهُدَىۙ

  • It is certain that those who about-faced after what Al-huda (Qur’ān) rendered manifestly and evidently clear for them —

ان لوگوں کے متعلق یہ حقیقت ہے جودانستہ  مفادات کے پیش نظراپنے پرانے طرز عمل پر پلٹ گئے باوجود اس کے جوسرچشمہ اور مختتم ہدایت(قرءان مجید)نے ان کے لئے نکھار کر واضح کر دیا تھا:

ٱلشَّيْطَٟنُ سَوَّلَ لَـهُـمْ وَأَمْلَـىٰ لَـهُـمْ ٢٥

  • The Satan/Shait'aan has caused alluring delusion for them and has created false prolonged hope for them. [47:25]

شیطان نے ان کے طرز عمل کوان کے لئے دل ربا بنایا ہے اوران کے لئے  طویل مدتی فائدے کی امید کو جگایا ہے۔

Root: م ل و;  س و ل

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ قَالُوا۟ لِلَّذِينَ كَرِهُوا۟ مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ سَنُطِيعُكُـمْ فِـى بَعْضِ ٱلۡأَمْرِۖ

  • This happened because they said to those ruling elite who abhorred that which Allah the Exalted has communicated gradually to his chosen sincere Allegiant, "We will keep accepting the word of you people in some matters."

ایسا موقع  اسےاس لئے ملا کیونکہ اِنہوں نے ان لوگوں سے یہ کہا جنہیں اس سے ناگواری تھی جو اللہ تعالیٰ نےوقفے وقفے سےاپنے بندے(محمّد ﷺ)پر نازل فرمایا ہے’’ہم بعض معاملات میں آپ  لوگوں کے حکم کو بدستور تسلیم کرتے رہیں گے‘‘۔

Root: ك ر ه

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُـمْ ٢٦

  • They do so forgetting that Allah the Exalted is always and absolutely in know of their secluded secretive conversations. [47:26]

متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ  ان کے اسرار و رموز کو بخوبی جانتے ہیں۔

Root: س ر ر

فَكَـيْفَ إِذَا تَوَفَّتْـهُـمُ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةُ

  • But how would they hold such secret sessions and interact, when, after resurrection the Angels would have alienated them?

مگر اس وقت اسرار کی محفل کیسے لگائیں گے جب ملائکہ نے انہیں دوسروں سے الگ کر کے ایک جگہ کردیا۔

Root: و ف ى

يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُـمْ وَأَدْبَٟرَهُـمْ ٢٧

  • They will be alienating them smiting on their faces and backs [until made them enter Hell-Prison] — [47:27]

اس حال میں کہ  مسلسل ان کے چہروں  اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہوئے وہ  الگ کر رہے تھے۔

Root: ض ر ب

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمُ ٱتَّبَعُوا۟ مَآ أَسْخَطَ ٱللَّهَ

  • This happened to them because they consciously and purposely followed that which occasioned for Allah the Exalted to take criminal cognizance against them —

ایسا اس وجہ سے  ہوا کہ انہوں نے دانستہ  خواہشات اور مفادات کے زیر اثر اس طرز عمل کی پیروی کی جس نے  اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجرم اور سزا دئیے جانے کا مستحق بنا  دیا۔

Root: س خ ط

وَكَرِهُوا۟ رِضْوَٟنَهُۥ

  • And they had demonstrated aversion in seeking appreciation and approval of Him the Exalted —

اوران کی جانب سے پذیرائی اور قدردانی کے حصول کو ناگوار اور ناپسندیدہ جانا۔

Root: ر ض ى;  ك ر ه

فَأَحْبَطَ أَعْمَٟلَـهُـمْ ٢٨

  • Thereby, their acts voided, weightless froth, destructive [47:28]

چونکہ اس روش پر مرتے دم تک قائم رہے اس لئے ان کے بہتر اعمال بھی خس و خاشاک ہو گئے۔

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ ٱللَّهُ أَضْغَٟنَـهُـمْ ٢٩

  • Or have those having a disease - psychological disorder - envy, jealousy, and malice, bias, rancour self implanted- nurtured within their hearts- locus of understanding - consciousness [Muna'fi'qeen] have thought that Allah will never expose their cattiness and grudge? [47:29]

یا کیا ان لوگوں نے یہ اندازہ لگا لیاہے۔۔ایک اپنی پیدا کردہ نفسیاتی بیماری نے جن کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے، کہ اللہ تعالیٰ  ان کے سینوں میں موجزن بغض ،جلن اور کینہ  کو باہر نکال کر سب پر ظاہر نہیں  کریں گے۔

Root: ض غ ن; م ر ض

وَلَوْ نَشَآءُ لَأَرَيْنَٟكَـهُـمْ فَلَعَـرَ فْتَـهُـم بِسِيمَٟهُـمْۚ

  • And had it been Our will We could have shown them to you whereby you would have certainly recognized them by their visible marks - impressions —

اور اگر ہم چاہیں تو ہم نے آپ(ﷺ)کو انہیں دکھا دیا ہوتا جس پر آپ(ﷺ)ان کے چہروں پر موجود تاثرات سے ان سے متعارف ہو گئے ہوتے۔

Root:  س و م

وَلَتَعْـرِفَنَّـهُـمْ فِـى لَحْنِ ٱلْقَوْلِۚ

  • And it is certain that you will definitely recognize them by merely listening their sloppy speech/statement.

  • اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ(ﷺ)ان کے بیان میں ہوشیاری اور چالاکی سے  الفاظ کے چناؤ سے   اصل نکتے سے ادھر ادھر ہونے کے انداز سے ان سے  متعارف ہو جائیں گے۔

Root: ل ح ن

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَٟلَـكُـمْ ٣٠

  • And Allah the Exalted fully knows the acts of you people. [47:30]

متنبہ رہو اے لوگو!اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو بخوبی جانتے ہیں۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُـمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ ٱلْمُجَٟهِدِينَ مِنكُـمْ وَٱلصَّٟبـِـرِينَ

  • And it is certain that Our Majesty will undoubtedly subject you people to undergo trial and test until Our Majesty  exposes and makes it known those amongst you who are strugglers-strivers and the coolly perseverant —

متنبہ رہو؛ہم جناب تم لوگوں کو یقیناً آزمائش میں مبتلا کریں گے یہاں تک کہ تمہارے درمیان موجود مجاہدین/مال و جان سے جنگ میں شرکت پر ہر وقت تیار اور ضبط و تحمل سے برداشت کرتے پائے استقلال پر رہنے والوں کو سب پر ظاہر کر دیں۔

وَنَبْلُوَا۟ أَخْبَارَكُمْ ٣١

  • And Our Majesty may expose the natures - true selves of you people. [47:31]

اور یہ کہ ہم جناب تم لوگوں کی اصلیتوں کا پول کھول دیں ۔


إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ

  • Indeed those who have refused to accept [Qur’ān] and hindered people from the High road of Allah the Exalted—

ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجیدکو ماننے سے انکار کر دیا ہے  اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے سے روکا یامنحرف کیا ہے۔

وَشَآقُّوا۟ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّـنَ لَـهُـمُ ٱلْـهُدَىٰ

  • And have separated their identity from the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] after what Al-huda: Qur’ān has explicitly manifested for them:

متنبہ رہو؛اور انہوں نےرسول کریم(محمّد ﷺ)سے اپنے آپ کو الگ شناخت کا حامل بنایا ہے باوجود اس کے جو مطلق ہدایت نامہ(قرءان مجید)نے ان کے لئے واضح متبین کر دیا ہے۔

Root: ش ق ق

لَن يَضُـرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـٔٙا

  • Not the least harm will they ever cause for Allah the Exalted [in fact are harming their selves].

یہ حقیقت ہے کہ وہ قطعاً  اللہ تعالیٰ کے لئے  کبھی ضرررساں نہیں بن سکتے۔

وَسَيُحْبِطُ أَعْمَٟلَـهُـمْ ٣٢

  • And He the Exalted will henceforth render their acts voided, weightless froth, destructive. [47:32]

اور وہ جناب ان کے اعمال کو خس و خاشاک کی حیثیت دیتے رہیں گے۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٟلَـكُـمْ ٣٣

  • You are hereby directed to exclusively and wholeheartedly listen and accept the Word of Allah the Exalted and exclusively and wholeheartedly listen and accept the Word of the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] which is Qur’ān —And you people should not render your deeds as worthless scum by accepting and following conjectures, myths of trailblazers. [47:33]

    تمہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے کلام کو مکمل طور پر اور دل کی گہرائی سے سنو اور قبول کرو، اور اسی طرح مکمل طور پر اور دل کی گہرائی سے رسول [ﷺ]کے کلام کو سنو اور قبول کرو، جو کہ قرءان ہے (الانعام۔50؛یونسؐ۔15)— اور تم لوگ اپنے اعمال کو بے وقعت اور بیکار نہ بنا لینا کہ گزرے ہوئے رہنماؤں کے گمانوں، قیاس آرائیوں اور بے بنیاد قصوں کو قبول کر کے ان کی پیروی کرو۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ

  • Those who have refused to accept (Qur’ān) and they hindered-diverted people from the path of Allah the Exalted:

ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجیدکو ماننے سے انکار کر دیا ہے ا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے سے روکا یامنحرف کیا ہے۔

ثُـمَّ مَاتُوا۟ وَهُـمْ كُفَّارٚ

  • Thereafter, they died while they were adamant non-believers till the moment of death reached —

بعد ازاں عمر گزار کر طبعی موت مر گئے اس حال میں کہ آخر تک ڈھٹائی سے رسول کریم(ﷺ)کا انکار کرنے والے تھے۔

فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَـهُـمْ ٣٤

  • Thereby, Allah the Exalted will never grant forgiveness/protection for them. [47:34][Read in conjunction 2:16;2:217;3:91]

اس کا انجام یہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے کبھی بھی معافی کا فیصلہ نہیں کرنا۔

فَلَا تَـهِنُوا۟ وَتَدْعُوٓا۟ إِلَـى ٱلسَّلْمِ وَأَنتُـمُ ٱلْأَعْلَوْنَ 

  • Therefore, you people should not slacken and be easy-going, and should not offer peace [except when so requested by the enemy in accordance with injunction given to the Messenger Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam in 8:61] considering you are most dominating. 

جنگی تیاری کر لینے پر تم لوگوں  کو  چاہئے  کہ  آہستہ آہستہ سستی اور حوصلے میں کمزوری مت کرو   اور نہ  دشمن کو صلح  کی دعوت دو(پہل کرو)؛ اپنے آپ کو اس سوچ میں رکھتے ہوئے کہ تم سر بلند ہو ان پر۔

Root: و ھ ن

وَٱللَّهُ مَعَكُـمْ وَلَن يَتِـرَكُمْ أَعْمَٟلَـكُـمْ ٣٥

  • And that Allah the Exalted is with you people and He will never deprive you of your deeds /successes. [47:35]

اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہیں۔اور وہ جناب کبھی بھی تمہارے اعمال /کوششوںکو تنہا  بھی نہیں رہنے  دیں گے اور نہ رائیگاں جانے دیں گے۔

Root: و ت ر

إِنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٚ وَلَـهْوٚۚ

  • Indeed the life of this lowly world is nothing but like short lived theatrical play and amusement —

جان لو؛اس زیریں دنیا کی   حیات                             تو محض سٹیج پر  ہونے والے مختصر وقت کے کھیل اور اصل سےتوجہ ہٹانے والے تماشے کے سوا پائیدار نہیں۔

Root: ل ھ و; ل ع ب

وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ يُؤْتِكُـمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْـَٔلْـكُـمْ أَمْوَٟلَـكُـمْ ٣٦

  • And if you people sincerely believe and consciously remain heedful avoiding unrestrained conduct, He the Exalted will grant you the recompense of you people —And He will not ask for all of your wealth as per promissory business contract (struck in 9:111)[47:36] —

 اور اگر تم لوگ خلوصِ دل سے ایمان لاؤ اور شعوری طور پر تقویٰ اختیار کرو، بے راہ روی سے اجتناب کرتے ہوئے، تو وہ جناب (اللہ تعالیٰ)تم لوگوں کو تمہارے اعمال کا پورا بدلہ عطا فرمائیں گے۔ اور وہ تم سے تمہارا  مال  مکمل طور پرنہیں مانگیں گے اگرچہ جنت دینے کے وعدہ پر تمہارا تمام مال پہلے ہی خرید چکے ہیں (معاہدہ بیع سورۃ التوبہ 9:111 میں ذکر ہوا)۔

إِن يَسْـَٔلْـكُـمُوهَا فَيُحْفِكُـمْ تَبْخَلُوا۟ وَيُخْرِجْ أَضْغَٟنَكُـمْ ٣٧

  • If He the Exalted asks for that then pressing it upon you obligatorily, you [the deceptive claimants of belief Muna'fi'qeen] will miserly withhold, and He the Exalted would expose your cattiness and slyness.[47:37]

اور اگر وہ (اللہ تعالیٰ)تم سے وہ سب طلب کرے اور تم پر لازم کر دے تو تم (منافقین)کنجوسی کرو گے اور وہ  جناب تمہاری بدطینتی اور مکارانہ فطرت کو کھول کر سامنے لے آئیں گے۔

Root: ض غ ن

هَٟٓأَنتُـمْ هَٟٓـؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُـم مَّن يَبْخَلُۖ

  • Listen! You are the people called upon for spending in the cause of Allah the Exalted. Yet some amongst you miserly withholds — —

سن لو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو پھر  وہ جوتم میں  محض منہ سے ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والا ہے بخل کرتا ہے۔

وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِۦۚ

  • And should someone miserly withhold, in effect he miserly withholds from his own self.

 اور جو کوئی بخل کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی ہی ذات سے بخل کر رہا ہے۔

وَٱللَّهُ ٱلْغَنِىُّ وَأَنتُـمُ ٱلْفُقَـرَآءُۚ

  • Realize it; Allah the Exalted is eternally the Absolutely Independent and you people are the needy dependents.

جان لو کہ اللہ  تعالیٰ   مطلق آزاد،ہر احتیاج سے منزہ اور بلند وبالا ہیں،جبکہ تم لوگ قدرتی طور پر دائمی حاجت مند ہو،زمان و مکان   میں بالآخر تمہیں اللہ       تعالیٰ کے حضور گداگر بننا پڑتا ہے۔

Root: ف ق ر

وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْـرَكُمْ ثُـمَّ لَا يَكُونُوٓا۟ أَمْثَٟلَـكُـم ٣٨

  • And if you people purposely about-face defending the Path of Allah then know the possibility that He the Exalted would decide substituting the nation presently other than of you people. Thereafter they will not be the likes of you people. [47:38]

 اور اگر تم  نے  اللہ تعالیٰ کی راہ کی حفاظت  کے لئے جان و مال سے جہاد کرنے سے ازخود منہ موڑ لیا تو جان لو کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئیں گے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

048-ٱلْفَتْح

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحٙا مُّبِينٙا ١
لِّيَغْفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِـمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَيَـهْدِيَكَ صِرَٟطٙا مُّسْتَقِيمٙا ٢

  • The fact is that Our Majesty have opened the enclosed sanctuary especially to fulfil Our promise with you, O the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], it will remain a decisive and vivid victory — (Cf. 2:144) [48:01]
    The victory was not merely to capture the City but more importantly Allah the Exalted wanted to efface and denounce slander and ad Hominem that was  labelled hanging over you in earlier days before migration and the later one after migration — Further objective was that He accomplishes His authoritative and obligatory Grace upon you (completion of Qur’ān Cf: 2:150; 9:32; 61:08) — And He the Exalted would keep guiding you leading the people to the High Road: Course that keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquillity. [48:02]

اے رسولِ کریم (ﷺ)یہ حقیقت ہے کہ ہم  جناب نے  آپ سے کئے ہوئے وعدہ کو نباہتے ہوئے   بند مقدس    قبلہ کو کھول دیا ہے؛ ایسے انداز میں کہ یہ واضح حتمی فیصلہ کن فتح ہے۔اس کا بنیادی مقصد محض شہر فتح کرنا نہیں تھا؛بلکہ  اللہ تعالیٰ  اس تہمت،افتراء اور کردار کشی کو ہمیشہ کے لئے مٹا کر اس کی تردید کرنا چاہتے تھے  جوہجرت سے قبل کے دور اور بعد کے دور میں آپ(ﷺ)کی ذات گرامی  پر بطور الزام چپکائے گئے تھے ۔اور اس خاطر کہ وہ آپ(ﷺ)پر اپنی نعمت (نزول قرء ان مجید)کو مکمل کریں ۔اوریہ کہ آپ (ﷺ)کولوگوں کو صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کے لئے ہدایت دیتے رہیں۔(الفتح۔٢)

Root:  ف ت ح؛ ذ ن ب

وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا ٣

  • And that Allah the Exalted may help you, a help enforcing domination. [48:03]

اوریہ کہ اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ)کو مدد دیں، ایسی مدد جو غلبہ دے۔

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِـى قُلُوبِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ لِيَـزْدَادُوٓا۟ إِيمَٟنٙا مَّعَ إِيمَٟنِـهِـمْۗ

  • He the Exalted is the One who bestowed tranquillity in the hearts of the Believers so that He may cause enhancement in belief along with their own acquired belief —

وہ جناب ہیں جنہوں نے ایمان والوں کے قلوب میں سکینت کو نازل کر دیا تھا تاکہ وہ مزید پختہ ہوں،ایمان کے حوالے سے بمعہ اپنے ایمان کے۔

وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • All the forces in the Skies and the Earth are exclusively subservient for Allah the Exalted —

آسمانوں اور زمین میں موجود انتظامیہ کے لشکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے ہمیشہ چوکس ہیں۔

وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيـمٙا ٤

  • The fact remains, Allah the Exalted is absolutely Knowledgeable, the knower of invisible-hidden realities-considerations and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms  [48:04]

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ منبع علم ہیں،تمام نظام کے   بدرجہ اتم انصاف کے تقاضوں  کو پورا کرنے والےفرمانروا ہیں۔

لِّيُدْخِلَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِ

  • So that He the Exalted may enter the truly believing men and believing women—

تاکہ وہ جناب ایمان  پر پختہ رہنے والے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو داخل کر دیں۔

جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُخَٟلِدِينَ فِيـهَا

  • In the gardens with canals of water flowing side by wherein they shall reside perpetually —

ایسے باغوں میں   جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔یہ لوگ ان(باغات)میں ہمیشہ رہائش پذیررہیں گے۔

وَيُكَفِّرَ عَنْـهُـمْ سَيِّـَٔاتِـهِـمْۚ

  • And He will delete/remove/hide/bucket away from them their misdoings/lapses/shortcomings.

اور وہ جناب  یقیناً ان کی پچھلی لغزشوں کی پردہ پوشی کر کے ان سے بری الذمہ کر دیں گے۔

وَكَانَ ذَٟلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوْزًا عَظِيمٙا ٥

  • And that is, in the judgment of Allah the Exalted, a great success and achievement. [48:05]

اور یہ  انجام اللہ تعالیٰ کی جانب سے  کامیابی کا عظیم ترین ایوارڈ  ہے۔

Root: ف و ز

وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتِ وَٱلْمُشْـرِكِيـنَ وَٱلْمُشْـرِكَـٟتِ

  • And He may punish the Muna'fi'qeen and the Muna'fi'qaat and the idols worshipping men and idol worshipping women —

اور اس فتح کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ جناب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور رسول کریم کا انکار کرنے والے بت پرست مردوں اور عورتوں کو عذاب میں مبتلا کردیں۔

ٱلظَّآنِّيـنَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوْءِۚ

  • They are the people who presumptuously hold about Allah the assumption of ill-import.

اللہ تعالیٰ کے متعلق  حقیقت کے منافی یہ لوگ گمان رکھنے والے ہیں۔برائی پر مبنی گمان۔ 

عَلَيْـهِـمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِۖ

  • Whirlpool of the evil is overarching upon them.

برائی کا بھنور ان پر منڈلاتا رہتا ہے۔

وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْ وَلَعَنَـهُـمْ

  • And they have become liable to criminal cognizance/arrest by Allah the Exalted and He has condemned and discarded them —

اور اللہ تعالیٰ نے ان پر گرفت کا فرمان جاری کر دیا ہے اور ان جناب نے انہیں  ملعون /راندہ درگاہ ، دھتکارے ہوئےقرار دے دیا ہے۔

Root: ل ع ن

وَأَعَدَّ لَـهُـمْ جَهَنَّـمَۖ

  • And He the Exalted has prepared for them the Hell-Prison —

اور ان جناب نے جہنم کو ان کے لئے ابدی رہائش گاہ کے طور تیار کر رکھا ہے۔

Root: ع د د

وَسَآءَتْ مَصِيـرٙا ٦

  • And she is a wretched destination of journey. [48:06]

اور کیا ہی وہ بری منزل ہے رہائش پذیر ہونے کے لئے!

Root: ص ى ر

وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • All the forces in the Skies and the Earth are exclusively subservient for Allah the Exalted —

آسمانوں اور زمین میں موجود انتظامیہ کے لشکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے ہمیشہ چوکس ہیں۔

وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ٧

  • And Allah the Exalted has eternally the absolute command/Dominance, and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm. [48:07]

مطلع رہو؛ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔


إِنَّـآ أَرْسَلْنَٟكَ شَٟهِدٙا وَمُبَشِّـرٙا وَنَذِيرٙا ٨

  • Indeed, Our Majesty have sent you [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] to act as a testifier of eternity to eternity history; and Communicator-Guarantor of glad tidings and Warner/ Revivalist/Admonisher for all times to come— [48:08]

حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)کوزمین پر بھیجا ہے ازل سے ابد کی تاریخ کےگواہ/تصدیق کنندہ کی حیثیت میں ؛اورخوش کن نتائج کی خبر اور ضمانت دینے والے،اور زمان و مکان میں کفر و نافرمانیوں کے خوفناک انجام سے پیشگی  خبردار اور انتباہ کرنے کاکردار انجام دینے کے لئے۔

لِّتُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ

  • The objective is that you people might incline to believe in Allah the Exalted and the Messenger of Him [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

ان(ﷺ)کی یہ عالمگیر حیثیت اس لئے ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (کریمﷺ)پر صدق قلب سے ایمان لاؤ۔

وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ

  • And that you people acknowledging his greatness and dignity, revere and honour him the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam].

اور ان رسول کریم(ﷺ)کی عظمت کو تم تسلیم  کرتے ہوئے تعظیم کرو،اور ان کی توقیر کرو(ضمیر مفعول کے راجع کے لئے دیکھیں المائدہ۔۱۲ اورالاعراف۔٥٧)۔

Root: ع ز ر; و ق ر

وَتُسَبِّحُوهُ بُكْـرَةٙ وأَصِيلًا ٩

  • And that you people might describe repetitively the Praises of Him the Exalted at mornings and evenings. [48:09]

اوران جناب  (اللہ تعالیٰ)کوتمام جدوجہد کا محور اور منزل گردانتے ہوئے  صبح اور شام ستائش/تسبیح کرو ۔

Root: س ب ح

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيـهِـمْۚ

  • Indeed, the reality is that those who, having believed in you (ﷺ), pledge their loyalty to you with their lives and wealth — in the hope that you (ﷺ) are the guarantor of their admission to Paradise — are, in fact, entering into a mutual covenant with Allah (as is explicitly stated in Surah At-Tawbah 9:111). The Covenant (Hand) of Allah is above their covenants (hands).

یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ آپ (ﷺ)پر ایمان لا کر آپ  سے  اپنے جان و مال  سےوفادار رہنے کا عہد کرتے ہیں  اس امید سے  کہ آپ(ﷺ)انہیں جنت  ملنے کے ضامن ہیں  وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ سے یہ باہمی معاہدہ کرتے ہیں(جیسا التوبہ١١١۔  میں تحریراً درج ہے)۔اللہ تعالیٰ کا عہد(ہاتھ)ان کے عہدوں (ہاتھوں)کےاوپر ہے۔

Root: ف و ق

فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَـىٰ نَفْسِهِۦۖ

  • Since this covenant is irrevocable, whoever violates it will only bring loss upon himself.

چونکہ یہ معاہدہ ناقابل تنقیض ہے اس لئے  جو کوئی  اس  کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ فقط اپنی ذات پر نفی کا مرتکب ہو گا۔

Root: ن ك ث

وَمَنْ أَوْفَـىٰ بِمَا عَٟهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمٙا ١٠

  • And whoever fulfills that which is a binding obligation upon him towards Allah, then indeed, He will soon bestow upon him a magnificent reward. [48:10]    

اور جو کوئی  اس کو نباہے گا جو اللہ تعالیٰ کے لئے اس پر واجب الادا ہے تو وہ جناب عنقریب اسے عظیم الشان انعام عنایت فرمائیں گے۔

Root: ع ھ د; و ف ى


سَيَقُولُ لَكَ ٱلْمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلْأَعْـرَابِ شَغَلَتْنَآ أَمْوَٟلُنَا وَأَهْلُونَا فَٱسْتَغْفِرْ لَنَاۚ

  • Those who tarried from amongst the Arabized/Foreign settlers in Arabia would soon say to you, "Our properties/business concerns and our household consideration kept us busy, therefore, you kindly agree to seek forgiveness for us".

عنقریب آپ(ﷺ)کے لئے عرب کی شہریت اختیار کرنے والوں میں  جنگ میں شمولیت کی بجائے پیچھے گھروں میں بیٹھے رہنے والے (منافقین)کہیں گے"ہمارے اموال اور اہل خانہ نے ہمیں مشغول رکھا۔اس لئے آپ ہمارے لئے درگزر اور معافی کے لئے رضامند ہوں"۔

Root: ش غ ل; ع ر ب

يَقُولُونَ بِأَ لْسِنَتِـهِـم مَّا لَيْسَ فِـى قُلُوبِـهِـمْۚ

  • --They say that merely with their tongues which is not in their hearts--.

۔۔وہ اس (استغفار) کا محض اپنی زبانوں سے اظہار کریں گے  جو ان کے قلوب میں کبھی خواہش بنا ہی نہیں۔ ۔

Root: ل س ن

قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَـكُـم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـٔٙا إِنْ أَرَادَ بِكُـمْ ضَرّٙا أَوْ أَرَادَ بِكُـمْ نَفۡعَۢاۚ

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask, "Thereat who is he who possesses any capability to avert anything from Allah the Exalted if He decided to harm you people or He intended an advantage for you —

آپ(ﷺ)ان کے عذر پر یہ فرمائیں"کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم لوگوں کے دفاع یا مخالفت کے لئے کوئی اختیار رکھتا ہے اگر ان جناب نے تمہیں ضرر پہنچانے کا ارادہ فرمایا ؛ یا ان جناب نے تم لوگوں کو فائدہ دینے کا ارادہ فرمایا ہے۔

Root: م ل ك

بَلْ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرًۢا١١

  • Nay, the fact is that Allah the Exalted is certainly always aware of the acts you people perform. [48:11]

تم لوگوں کا جواز اپنی جگہ مگرمتنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔

بَلْ ظَنَنْتُـمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلـرَّسُولُ وَٱلْمُؤْمِنُونَ إِلَـىٰٓ أَهْلِيـهِـمْ أَبَدٙا

  • [let them know the actual reason of their tarrying] Nay, the fact is that you people had thought that the Messenger and the Believers may never ever be enabled to return to their families—

تم لوگوں کا عذر تراشنا اس کے برعکس ہے جو تم نے گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور صاحبان ایمان اب کبھی اپنے اہل خانہ کی جانب پلٹ کر نہیں آ سکیں گے۔

Root: ء ب د

وَزُيِّنَ ذَٟلِكَ فِـى قُلُوبِكُـمْ

  • And this thought was made alluring and fascinating in your hearts—

اور اس گمان کو تمہارے قلوب میں خوشنما امید بنا دیا گیا ہے۔

وَظَنَنتُـمْ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ

  • And you people presumed a thought of evil import—

جان لو تم لوگوں نے جو گمان کیا تھا وہ برائی پر مبنی سوچ کا شاخسانہ تھا۔

وَكُنتُـمْ قَوۡمَۢا  بُورٙا ١٢

  • And in that state of mind you thought not you would have become a non-benefiting people." [had the polytheist become victorious] [48:12]

اورگمان کرتے ہوئے سوچا بھی نہ کہ تم لوگ خود ایک پامال قوم بن جاتے(اگر مشرکین فاتح بن جاتے)"۔

وَمَن لَّمْ يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ

  • Beware; whoever has not inclined himself to believe in Allah the Exalted and His Messenger (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam)—

 متنبہ رہو؛جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کریم(ﷺ)پر  صدق قلب سےایمان نہیں لایا ہے:

فَإِنَّـآ أَعْتَدْنَا لِلْـكَـٟفِرِينَ سَعِيـرٙا ١٣

  • Thereby, in consequence indeed Our Majesty have prepared for the rejecters heated Hell-Prison. [48:13]

چونکہ فلاح پانے کی یہ بنیادی شرط ہے اس لئے متنبہ رہو کہ ہم جناب نے   اللہ تعالیٰ یارسول کریم(ﷺ)کا انکار کرنے والوں کے لئے پرتپش جیل خانہ تیار کر رکھا ہے۔

Root: س ع ر;  ع ت د

وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • Know it: The domain and governance of the Skies and the Earth is exclusively for Allah the Exalted —

حقیقت سے آشنا رہو؛آسمانوں اور زمین پراقتدار اعلیٰ اور ان کا نظم و نسق صرف  اللہ تعالیٰ کے دائرہ کار میں ہے۔

Root: م ل ك

يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ

  • He the Exalted will grant forgiveness to him about whom He the Exalted so determines and shall punish him about whomever He the Exalted so adjudges [conversely announced in 5:40]

 محاسبے کے نتیجے میں جس کے متعلق وہ جناب ایسا فیصلہ کریں گے   اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معاف فرما دیں گے،اور جس کے متعلق قابل گرفت ہونے کا فیصلہ کریں گے اسےبطور سزا عذاب سے دوچار کریں گے۔

وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٙا رَّحِـيمٙا ١٤

  • And Allah the Exalted is repeatedly Overlooking/Forgiving, the Merciful. [48:14]

مطلع رہو؛ یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور اکثر و بیشترمعاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

سَيَقُولُ ٱلْمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقْتُـمْ إِلَـىٰ مَغَانِـمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُـمْۖ

  • Those who tarried [Muna'fi'qeen] will soon say, when you people would be moving out towards mammals-valuables for holding them as possession, "you leave/forgive us, we will henceforth heartily follow you people."

عنقریب جب تم لوگ چوپایوں اور دیگر صاحب مالیت اشیاء کو قبضے میں لینے کے لئے ان کی جانب نکلو گے تو جنگ کے وقت پیچھے رہ جانے والے (منافقین)کہیں گے"آپ ہمیں چھوڑ دیں۔ہم آپ کی اتباع کریں گے"۔

Root: ط  ل ق; و ذ ر

يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا۟ كَلَٟمَ ٱللَّهِۚ

  • They intend as if they would cause to change the Word of Allah the Exalted [see 9:83]

 ان کا یہ کہنااس ارادے کے ساتھ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کلام  کو بدل دیں جو رسول کریم بیان کر چکے ہیں(حوالہ التوبہ۔٨٣)۔

قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٟلِـكُـمْ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبْلُۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You will never wish to incline yourselves to follow us, this is what Allah had said before this time about you people".

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"تم لوگ کبھی جنگ کے لئے  خلوص اور خوشی سےہمارے پیچھے پیچھے نہیں آؤ گے۔تم لوگ ایسے ہی ہو،اللہ تعالیٰ اس سے قبل دور میں یہ کہہ چکے ہیں"۔

فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَاۚ

  • Thereat, they will soon say, "Nay, that is not the case, in fact you people are envious of us."

اس حقیقت پر مبنی جواب کے تناظر میں عنقریب وہ تم لوگوں سے کہیں گے"نہیں،ایسا نہیں ہے، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو/ساتھ  نہ لے جا کر نعمت سے محروم کرنا چاہتے ہو"۔

بَلْ كَانُوا۟ لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٙا ١٥

  • No, their assumption is wrong, the fact is that they have been a people who do not comprehend, except occasionally. [48:15]

ان کا یہ کہنا بھی غلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ(منافقین)بات کو سیدھے سادے انداز میں سمجھنا ہی نہیں چاہتے، سوائے کبھی کبھار۔

Root: ف ق ه

قُل لِّلْمُخَلَّفِيـنَ مِنَ ٱلْأَعْـرَابِ 

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce for those who tarried from amongst the Foreign Settlers in Arabia —

آپ(ﷺ)عرب میں شہریت اور بودوباش اختیار کرنے والوں(یہودیوں )میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے لے اطلاع جاری کریں۔

Root: ع ر ب

سَتُدْعَوْنَ إِلَـىٰ قَوْمٛ أُو۟لِـى بَأْسٛ شَدِيدٛ تُقَـٟتِلُونَـهُـمْ أَوْ يُسْلِمُونَۖ

  • "Soon you people shall be called upon to engage yourselves in war with the people who are possessors of firm military power, or they would surrender to submit."

"عنقریب تم لوگوں کو ایک  ایسی قوم سے مقابلے کے لئے بلایا جائے گا جو شدید ضرب لگانے والی فوجی قوت کے حامل ہیں۔وہ تم لوگوں سے جنگ کریں گے؛یا وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے زیرنگیں ہو جائیں گے۔

فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُـمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنٙاۖ

  • Thereat, if you people affectionately and wholeheartedly accepted the word, Allah the Exalted will grant you a most appropriate reward —

اس لئے جنگ کی صورتحال پیش آنے پر تم لوگوں نے جنگ کرنے کے فرمان کو تسلیم کیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین اجر عنایت کریں گے۔

وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُـم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُـمْ عَذَابًا أَلِيمٙا ١٦

  • And if you people purposely caused yourselves to turn away from the commanded word as you had made yourselves turn away earlier He will punish you with a severe infliction." [48:16]

اور اگر تم ازخود پیٹھ موڑ کر چلے  گئےجیسے تم لوگ زمانہ قبل میں ازخود پیٹھ موڑ کر چلے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب سے دوچار کر دیں گے"۔

Root: و ل ى

لَّيْسَ عَلَـى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٚ وَلَا عَلَـى ٱلْأَعْـرَجِ حَرَجٚ وَلَا عَلَـى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٚۗ

  • There is no blame and harassment for the blind, and nor is for the lame person, and nor is for the patient [to participate in war] —

جنگ میں جسمانی شرکت نہ کرنے پرکوئی قابل گرفت و مذمت بات آنکھوں سے اندھے شخص پر نہیں ہے، اور نہ قابل گرفت و مذمت بات اس پر ہے جو ٹانگ کا لنگڑا ہے اور نہ ایسے شخص پر قابل گرفت و مذمت بات ہے جو جنگ کے وقت بیماری میں مبتلا ہے۔

Root: ع ر ج; ع م ى; م ر ض

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ

  • And whoever willingly/affectionately accepts the words of Allah and His Messenger [contained and recited by him from Grand Qur’ān] —

مطلع رہو؛جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ)کے فرمان کو دل کی شاد سے تسلیم کرتا ہے:

يُدْخِلْهُ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُۖ 

  • Allah the Exalted will enter him into gardens with streams flowing beneath/side by —

وہ جناب اسے ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔

وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمٙا ١٧

  • And whoever purposely about-faced, He the Exalted will punish him with a severe infliction. [48:17]

اور جو کوئی   اس فرمان  سے اپنے آپ کوموڑے گاتو اللہ تعالیٰ  اسے دردناک عذاب سے دوچار کر دیں گے۔


لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ

  • Indeed Allah the Exalted pleasantly acknowledged and appreciated the act of the Believers —

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے              صدق دل سے ایمان لانے والوں      کےطرز   عمل   کو خوشگوار انداز میں شرف قبولیت دیا ہے۔

إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِـى قُلُوبِـهِـمْ

  • When they were willingly and affectionately pledging themselves in allegiance to you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] under the Tree in the outskirts of Mecca. since He fully knew that which was in their hearts.

جب وہ  مکہ کے جوار میں موجوددرخت                                                                                                   تلے آپ(ﷺ)کو اپنے جان و مال سے آپ کے وفادار رہنے         کا عہد دے رہے تھے آپ سے بدلے میں جنت ملنے کی ضمانت کی امید رکھتے ہوئے۔اس بیعت سے ان جناب نے اس جذبے اور تقویٰ کو ظاہر کر دیا جو ان کے دلوں میں موجزن تھا۔

Root: ش ج ر

فَأنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْـهِـمْ وَأَ ثَـٟبَـهُـمْ فَتْحٙا قَرِيبٙا ١٨

  • Thereat, He the Exalted bestowed upon them the tranquillity and calmness and awarded them a quick victory — [48:18]

چونکہ صورتحال   ایک سخت معرکہ  لگ رہی تھی  اس لئے ان جناب  نے ان پر طمانیت اور تسکین نازل فرمائی۔اور ان جناب نے انہیں قریبی فتح کے انعام سے نواز دیا۔

Root:  ف ت ح

وَمَغَانِـمَ كَثِيـرَةٙ يَأْخُذُونَـهَاۗ

  • And awarded abundant mammals-valuables, they were holding them as possession.

اور کثیر تعداد میں معاشی فوائد سے نوازا،وہ انہیں قبضہ میں لے رہے تھے۔

وَكَان ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٙا ١٩

  • And Allah the Exalted has eternally the absolute command/Dominance, and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms. [48:19]

مطلع رہو؛ اللہ تعالیٰ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِـمَ كَثِيـرَةٙ تَأْخُذُونَـهَا فَعَجَّلَ لَـكُـمْ هَـٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيْدِىَ ٱلنَّاسِ عَنكُـمْ

  • Allah the Exalted had promised you people abundant mammals-valuables which you will be capturing as possession. Thereby, to fulfil it, He the Exalted has hastened this (victory) for you people—while He the Exalted kept away the hands of people from you —

اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے کثیر مالِ غنیمت (مویشی اور دیگر قیمتی اشیاء) کا وعدہ فرمایا تھا، جنہیں تم اپنی ملکیت میں لو گے۔ چنانچہ اس وعدے کی تکمیل کے لیے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس (فتح) کو جلدی مقدر فرما دیا— جبکہ انہوں نے  لوگوں کے ہاتھ تم سے دور رکھے(مکہ کے سرداروں نے  شکست یقینی سمجھ کر ہتھیار ڈال دئیے)—

Root: ع ج ل; ك ف ف

وَلِتَكُونَ ءَايَةٙ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ وَيَـهْدِيَكُـمْ صِرَٟطٙا مُّسْتَقِيمٙا ٢٠

  • And so that she/victory may be a sign for the Believers indicating the promise of Allah is always as if fulfilled—And that He the Exalted may guide you people on the High Road: Course that keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquillity. [48:20]

تاکہ یہ (فتح)مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے کہ اللہ کا وعدہ ہمیشہ ایسا ہی یقینی اور پورا ہونے والا ہے— اور تاکہ وہ تمہیں سیدھے راستے پر گامزن کرے، ایک ایسا راستہ جو امن و سکون کے مقام تک محفوظ اور سیدھا لے جانے والا ہے—

Root: ص ر ط

وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا۟ عَلَيْـهَا قَدْ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِـهَاۚ

  • And other benefits which you have not assessed and measured them; indeed Allah the Exalted has encompassed it.

اور وہ دیگر فوائد بھی جو تم نے ابھی اندازے اور پیمائش میں نہیں لائے؛ بیشک، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو محیط کر رکھا ہے۔

Root: ح و ط

وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٙا ٢١

  • And Allah the Exalted is eternally the Causality Determiner upon every and all things - to set them right-fix them in measure. [48:21]

وَلَوْ قَـٰتَلَـكُـمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوَلَّوُا۟ ٱلْأَدْبَٟرَ ثُـمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيّٙا وَلَا نَصِيـرٙا ٢٢

  • And had those who refused to believe in the Messenger chosen to wage war against you, they would have certainly turned their backs in flight. Thereafter, they would have found neither a patron nor any helper. [48:22]

اور اگر وہ لوگ جنہوں نے رسول (ﷺ)پر ایمان لانے سے انکار کیا تھا، تمہارے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرتے، تو وہ یقینی طور پر پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ اس کے بعد، نہ انہیں کوئی سرپرست میسر آتا اور نہ ہی کوئی مددگار۔

Root: ق ت ل

سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِـى قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُۖ

  • This (aforementioned incident) has been the precedent set by Allah the Exalted with those who  passed throughout the past timeline —

اللہ تعالیٰ نے اس کو دستور کا درجہ دے دیا تھا ان معاشروں میں جو ماضی کے ادوار میں بستے رہے تھے۔

Root: خ ل و

وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلٙا ٢٣

  • And you will never find any change/replacement regards the precedent set by Allah the Exalted. [48:23]

اور آپ(ﷺ)اللہ تعالیٰ کے دستور کے لئے کوئی مبدَّ ل نہیں پائیں گے جو متبادل دستور رائج کر سکے۔

Root: ب د ل

وَهُوَ ٱلَّذِى كَفَّ أَيْدِيَـهُـمْ عَنكُـمْ وَأَيْدِيَكُـمْ عَنْـهُـم بِبَطْنِ مَكَّـةَ مِنۢ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْـهِـمْۚ

  • And He the Exalted is the One Who withheld the hands of them (Non-believers) away from you and the hands of you people away from them in indulging hand to hand fight in the interior of Mecca —After He the Exalted had made you people overwhelm upon them.

اور وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے اندرون مکہ  ان لوگوں (مشرکین )کے ہاتھوں کوآپ لوگوں کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔اور آپ لوگوں کے  ہاتھوں کو ان کی جانب دراز ہونے سے:اس موقع کے بعد جب ان جناب نے آپ لوگوں  کو ان پر غلبہ اور فتح یاب کر دیا تھا۔

Root: ك ف ف; ظ ف ر

وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرًا ٢٤

  • Be mindful; Allah the Exalted is ever watching everything that you people are acting upon. [48:24]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔

هُـمُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَصَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْـهَدْىَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُۥۚ

  • They (who have surrendered without war) are the ones who had refused to believe in the Messenger and had prevented you entering the Sacred Mosque —And kept the sacrificial mammals restrained from reaching their destined point of sacrifice.

یہ (جو بلا جنگ ہتھیار ڈال چکے)وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول کریم  پر ایمان لانے سے انکار کیا تھا اور تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا تھا—اور قربانی کے چوپایوں کو ان کے مقررہ مقام قربانی تک پہنچنے سے روکے رکھا تھا۔

Root: ع ك ف

وَلَوْلَا رِجَالٚ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَآءٚ مُّؤْمِنَٟتٚ لَّمْ تَعْلَمُوهُـمْ أَن تَطَـُٔوهُـمْ فَتُصِيبَكُـم مِّنْـهُـم مَّعَرَّةُۢ  بِغَيْـرِ عِلْمٛۖ

  • And had  it not been consideration for believing men and believing women—whom you did not know —that you might have unknowingly harmed them and thereby incurred blame, you would have been permitted (to engage in force).—

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ کچھ مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، جنہیں تم نہیں جانتے تھے، نقصان اٹھا سکتے تھے اور اس کے نتیجے میں تم نادانستہ طور پر ملامت کے مستحق ہو جاتے، تو تمہیں (طاقت کے استعمال کی)اجازت دے دی جاتی۔

Root: و ط ء؛ع ر ر

لِّيُدْخِلَ ٱللَّهُ فِـى رَحْـمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ

  • This restraint was so that Allah the Exalted may may admit into His mercy whom He wills—

 پابندی اس لیے تھی تاکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔—

لَوْ تَزَيَّلُوا۟ لَعَذَّبْنَا ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِنْـهُـمْ عَذَابًا أَلِيمًا ٢٥

  • Had they (believing men and women) separated their selves apart (on their own), certainly We would certainly have punished there and then those of them who had refused to believe with a severe infliction — [48:25]

اگر وہ (مؤمن مرد اور عورتیں)خود کو الگ کر لیتے، تو ہم ضرور اسی وقت ان لوگوں کو جو ایمان لانے سے انکار کر چکے تھے، سخت عذاب میں مبتلا کر دیتے—

Root: ز ى ل

إِذْ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ فِـى قُلُوبِـهِـمُ ٱلْحَمِيَّةَ حَـمِيَّةَ ٱلْجَٟهِلِيَّـةِ

  • This happened when they, who had refused to believe, implanted within their hearts the impetuous zealotry as one characterised by hot headedness of the Age of Passion and tribal Pride —

یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے، جنہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا، اپنے دلوں میں ایک جوشیلے تعصب کو جگہ دی—ایک ایسا تعصب جو جذباتی ہیجان اور جاہلیت کی قبائلی حمیت کے رنگ میں ڈھلا ہوا تھا—

فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَـىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَـى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ

  • Thereat to avoid hostile confrontation, Allah the Exalted bestowed His tranquility and restraint upon His Messenger and upon the Believers —

تب، کسی جارحانہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی سکینت اور ضبط و سکون نازل فرمایا—

وَأَلْزَمَهُـمْ كَلِمَةَ ٱلتَّقْوَىٰ وَكَانُوٓا۟ أَحَقَّ بِـهَا وَأَهْلَـهَاۚ

  • And He the Exalted made them (Believers) adhere to the Word of conscious heedfulness and restrained conduct within prescribed limits [as advised in 5:02] and they and their household were more deserving and worthy of such conduct.

اور انہیں تقویٰ کے کلمہ اور انضباط و ضبطِ نفس پر قائم رکھا، جیسا کہ (5:02) میں نصیحت دی گئی ہے—اور وہ اس رویے کے زیادہ حقدار اور اہل تھے—

Root:  ل ز م

وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٙا ٢٦

  • And Allah the Exalted is Ever All-Knower/Aware of everything. [48:26]

اللہ تعالیٰ کے متعلق اس حقیقت کو جان لو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے کے متعلق مطلق  کامل علم رکھتے ہیں۔

لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءْيَا بِٱلْحَقِّۖ

  • Indeed Allah the Exalted has since proved to His Messenger the vision/dream as truthful with physical execution—

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ)کوخواب کے بیان کے متعلق اسے زمینی حقیقت بنا کر سچا ثابت کر دیا ہے۔

لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِيـنَ

  • That stated dream of the Messenger was this; "you people will in future certainly enter the Sacred Mosque, if Allah the Exalted willed, safe and secure—

وہ  رسول کریم کابیان  کردہ خواب یہ تھا ’’ تم لوگ(مومنین)مستقبل میں یقیناً مکہ مکرمہ میں واقع تحریم و عظمت یافتہ مسجد میں داخل ہو گے،اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا،محفوظ و مامون انداز میں۔

مُحَلِّقِيـنَ رُءُوسَكُـمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَۚ

  • You people would in that circumstances be shaving your heads and [bald or sick men] shortening their hair, without feeling any fear —

اس حال میں کہ تم لوگ اپنے سروں کے بال کٹواتے اور ترشوا  رہے ہو گے،بغیر کوئی خوف محسوس کرتے ہوئے‘‘۔

Root: ر ء س; ق ص ر

فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا۟

  • His confidence of entering safe and secure was because he had known that information about which you people were not aware —

ان کا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ وہ ان معلومات کو جان چکے تھے جن کے بارے تم لوگوں کو علم نہیں تھا۔

فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٟلِكَ فَتْحٙا قَرِيبًا ٢٧

  • Since He the exalted had given the sworn promise of giving control of Kaa'ba and he had made it public, therefore, in addition to that He the Exalted rendered it as a quickened victory. [48:27]

چونکہ وہ جناب ان سے تولیت دینے کا قسمیہ وعدہ کر چکے تھے اور انہوں نے اسے طشت از بام بھی کر دیا تھا اس لئے ان جناب نے اس یقین دہانی کے علاوہ فیصلہ کن فتح مکہ کو زیادہ قریب کر دیا۔

Root:  ف ت ح


هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْـهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَـى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٙا ٢٨

  • He the Exalted is the One Who has sent His Messenger (Muhammad ﷺ) with the Guide (Grand Qur’ān) and the System of Infallible Truth, based upon Monotheism, so that he may make it — in its complete ideological foundation and operational form — manifestly distinct over every existing code of life adopted by peoples of various identities— Take note, Allah the Exalted suffices as ever observant and witness upon the fact: [48:28]

وہ جناب ہیں جنہوں نے اپنے رسول (محمد ﷺ) کو رہنمائی کرنے والے بیانِ حقیقت (قرءانِ مجید) اور اس ضابطۂ حیات کے ساتھ بھیجا ہے جو ناقابلِ خطا نظریہ (توحید)پر مبنی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ (رسول کریم) اس (دینِ اسلام) کو اس کی فکری بنیادوں اور عملی نظام سمیت تمام دیگر اقوام و تہذیبوں کے وضع کردہ ضابطہ اور نظامِ حیات(مروجہ دین)پر نمایاں اور ممتاز کر دیں۔اور اللہ تعالیٰ اکتفا کرتے ہیں لوگوں کو زیر مشاہدہ رکھنے کے لئے اور اس حقیقت کے  گواہ ہونے کے لئے  کہ:

Root: ك ف ى

مُّحَمَّدٚ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ

  • Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is the Messenger-Spokesperson of Allah the Exalted —

محمّد(ﷺ)اللہ   تعالیٰ کے رسول  ہیں۔

وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَـى ٱلْـكُـفَّارِ رُحَـمَآءُ بَيْنَـهُـمْۖ

  • And those who are with him (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) are strongly determined versus the non-believers and among themselves are kind hearted merciful—

اور وہ لوگ جو ان کی معیت میں ہیں ہٹ دھرمی سے  رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے سےانکار پر بضد رہنے والوں  پر ہمیشہ قوت اور زورآور ہونے والے ظاہر کرتے ہیں جبکہ آپس میں انتہائی نرمی اور رحمدلی سے پیش آتے ہیں۔

تَرَىٰـهُـمْ رُكَّعٙا سُجَّدٙا يَبْتَغُونَ فَضْلٙا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٟنٙاۖ

  • You see them in state of kneeling and prostrating seeking the bounty, appreciation and approval of Allah the Exalted.

آپ(ﷺ) انہیں رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے حال میں دیکھتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل اور شرف قبولیت کی پرخلوص جستجو میں ہیں۔

Root: ر ك ع;  س ج د

سِيمَاهُـمْ فِـى وُجُوهِهِـم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ

  • The identification mark of them would be apparent within their faces [not forelock; for Angels who identify by marks] as the traces of prostrations.

ان کی پہچان کے تاثرات ملائکہ کے لئے ان کے چہروں میں نمایاں ہوں گےجو سجود سے اثر ہونے کا نتیجہ ہے(ماتھے /پیشانی کے نشان کا ذکر نہیں ہے)۔

Root: س ج د;  س و م;  ء ث ر

ذَٟلِكَ مَثَلُـهُـمْ فِـى ٱلتَّوْرَىٰةِۚ

  • This is the precedent of them mentioned in the Tor'aat —

اور سجود کے پابند لوگوں کی  اس مماثلت کا ذکر و حوالہ تورات میں کندہ تھا۔

وَمَثَلُـهُـمْ فِـى ٱلْإِنجِيلِ

  • And their precedence is mentioned in the Injeel —

اور ان کی مماثلت کا ذکر و حوالہ انجیل میں بھی مندرج تھا۔

كَزَرْعٍٛ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ

  • Like a monocotyledon grain-crop seed; it caused to get out its singular blade-shoot-sprout —

ان سجود کے پابند توحید پرستوں کی مثال  یک شاخ کے حامل زرعی بیج کی ہے۔اس نے اپنی ایک شاخ /کونپل کو زمین سے نکال باہر کیا۔

Root: ش ط ء

فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَـىٰ سُوقِهِۦ

  • Since on getting out it got the light the sustainer of life, it (the seed) strengthened that blade whereupon it made itself thick-solidified-stout. Thereat, it made itself rise upon its stalk.

چونکہ اسے باہر نکلنے پر نور/سفید روشنی جو حیات کے تسلسل کا ضامن ہے مل گیا تو اس نے اُس(شاخ)کوتوانا بنایا۔اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو وہ دبیز بنانے میں کامیاب ہوا۔چونکہ توانائی اوپر اٹھنے کی خواہش پیدا کرتی ہے اس لئے اپنے تنے پراوپر کی جانب اٹھ گیا۔

Root: س و ق;  غ ل ظ

يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ 

  • It causes delight for the Sowers-Farmers.

فصل کا اس طرح پروان چڑھنا کسانوں کو خوشی کا فخریہ احساس دیتا رہتا ہے۔

Root: ز ر ع; ع ج ب;

لِيَغِيظَ بِـهِـمُ ٱلْـكُـفَّارَۗ

  • The striking of the simile and promise of reward for believers might cause irritating disquiet for those who are adament non-believers.

صاحبان ایمان کی مثال اور ان کے لئے ایوارڈ کے وعدہ کا بیان ہٹ دھرمی سے رسول کریم کا انکار کرنے والوں کے لئے جلن و کڑھن کا باعث ہو گا۔

Root: غ ى ظ

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ مِنْـهُـم مَّغْفِـرَةٙ وَأَجْرًا عَظِيمًۢا٢٩

  • The promise of Allah the Exalted as self imposed obligation for those amongst them who accepted-believed and performed deeds righteously and moderately [as directed in the Book]: forgiveness and splendid reward. [48:29]

اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جودل کی شاد سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔مغفرت اور حیات جاوداں کے لئے عظیم تر ایوارڈ  ان کے لئے منتظر ہے۔

049-ٱلْحُجُرَات‎‎

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لَا تُقَدِّمُوا۟ بَيْـنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ

  • You are being prohibited to never indulge in overstepping the word of Allah the Exalted and His Messenger in deciding any affair

تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے اس سے کہ کبھی بھی اور کسی بھی معاملے  میں  اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (ﷺ)سےتقدیم کرکے فیصلے کرو۔

وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ

  • And sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted.

اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

إِنَّ ٱللَّهَ سَـمِيعٌ عَلِيـمٚ ١

  • It is a fact that Allah the Exalted is eternally the Listener, the All-Knowledgeable. [49:01]

یہ حقیقت ذہن نشین رہے،اللہ تعالیٰ  ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٟتَكُـمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ

  • You people are being prohibited in raising your voices over and above the voice of the Elevated, Distinct and Chosen Allegiant: (Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) —

تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ ہمارے خود سے پسند فرمائے مخلص اور تمام مخلوقات پر عالی شرف و عظمت قرار دئیے بندے (محمّد ﷺ)کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کرو۔

Root: ر ف ع;  ص و ت

وَلَا تَجْهَرُوا۟ لَهُۥ بِٱلْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُـمْ لِبَعْضٍ

  • And you people should not be plain/frank for him in addressing him by name like ordinary manner of frankness of some of you for some others —

اور تم لوگوں کے لئے ممانعت ہے کہ  ان (ﷺ)کو مخاطب کرنے  کے لئےاونچی آواز میں  پکارو جیسے کہ تم میں سے بعض دوسرے کو بلند آواز سے پکارتے ہیں۔

أَن تَحْبَطَ أَعْمَٟلُـكُـمْ

  • This advice is given as caution to ever remain mindful of the honour, dignity and his exaltation lest your deeds become voided, weightless froth, destructive —

ان (ﷺ)کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھنے میں انتہائی محتاط رہو ایسا نہ ہو تمہارے نیک اعمال اکارت ہو جائیں۔

وَأَنتُـمْ لَا تَشْعُـرُونَ ٢

  • While you people are not even aware of this upshot. [49:02]

ایسا اس حال میں ہو گا کہ اس  کا شعور، وہم و گمان بھی تم لوگوں کو نہیں ہو گا۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَٟتَـهُـمْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ

  • This is a certain fact that the believers who keep their voices humbled in the grace-by the side of the Messenger of Allah the Exalted:

ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لو جو اللہ تعالیٰ کے رسول کریم(محمّد ﷺ)کے حضور اپنی آوازوں کو پست  اور دھیمی رکھتے ہیں:

Root: ص و ت; غ ض ض

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمْتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَـهُـمْ لِلتَّقْوَىٰۚ

  • They are truly the people, the hearts of whom Allah the Exalted has Personally examined finding them utmost sincere in their heedfulness for salvation

یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے خود احتیاط سے جانچا ہے تقویٰ کے اعلی ترین معیار کے پیمانے کے لئے۔

Root: م ح ن          Are we eligible for the Paradise? Litmus Test

لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَأَجْرٌ عَظِيـمٌ ٣

  • Protection/forgiveness and a splendid reward is promised and assuredly in wait for them. [49:03]

مغفرت اور حیات جاوداں کے لئے عظیم تر ایوارڈ کا ان سے وعدہ ہے اور ان کے لئے منتظر ہے۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلْحُجُرَٟتِ

  • Indeed those who intensively call you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] from besides the private chambers—

ان لوگوں کے متعلق حقیقت جان لیں جو آپ (ﷺ)کو آپ کے حجرات کے باہر سے تلے اوپر پکارتے ہیں؛

أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْقِلُونَ ٤

  • Most of them do not apply intellect to discern/distinguish the protocols for the Messenger. [49:04]

 ان میں سے اکثر عقل استعمال ہی نہیں کرتے کہ ادب و احترام کے تقاضوں کو سمجھ پائیں۔

وَلَوْ أَنَّـهُـمْ صَبَـرُوا۟ حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْـهِـمْ لَـكَانَ خَيْـرٙا لَّـهُـمْۚ

  • And had they exercised patience until you had come out to them indeed that conduct would have been better for them —

اور اگر   آپ (ﷺ)کے ان کے پاس باہر آنے کا وہ تحمل و برداشت سے انتظار کرتے تو یقیناً ان کے لئے موجب خیر و برکت ہوتا۔

وَٱللَّهُ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٥

  • And it is a fact that Allah the Exalted is repeatedly Forgiving-Overlooking, the fountain of Mercy. [49:05]

اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یقین رکھو کہ درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

إِن جَآءَكُمْ فَاسِقُۢ  بِنَبَإٛ فَتَبَيَّنُوٓا۟  أَن تُصِيبُوا۟ قَوۡمَۢا  بِجَهَٟلَةٛ فَتُصْبِحُوا۟ عَلَـىٰ مَا فَعَلْتُـمْ نَـٟدِمِيـنَ ٦

  • If a person who has deviated from his covenant—whether he is from the Jews, the Christians, or a hypocrite among the believers—brings you some news, then it is incumbent upon you to investigate and ascertain the truth. This is because a fāsiq (one who violates the covenant) has a habitual tendency to lie. Beware, lest you act emotionally and commit injustice against a people, only to regret later what you did in a state of impulsiveness. [49:06]

اگر تمہارے پاس ایسا شخص، جو اپنے عہد سے انحراف کر چکا ہو (چاہے وہ یہود میں سے ہو، نصاریٰ میں سے یا اہل ایمان میں سے کوئی منافق)، کوئی خبر لے کر آئے، تو تم پر لازم ہے کہ اس کی تحقیق کرو اور حقیقت واضح کرو۔اس کا سبب یہ ہے کہ فاسق کا مزاج جھوٹ بولنا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ  تم جذبات میں آ کر کسی قوم کے ساتھ زیادتی کر بیٹھو۔اورپھر بعد میں جو اشتعال میں تم نے کیا تھا  اس پرتمہیں نادم ہونا پڑے۔

Root: ف س ق;  ن د م

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُـمْ رَسُولَ ٱللَّهِۚ

  • And you people realize that the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] of Allah the Exalted  is present among you as perpetually the revivalist, admonisher and the Teacher. [for elided predicate ref 6:19]

اور  تم لوگ  اس حقیقت سے باعلم رہو کہ اللہ تعالیٰ کے رسول(محمد ﷺ)تم لوگوں کے مابین بحثیت نذیر/متنبہ کرنے والے اور معلم موجود ہیں۔(محذوف خبر کے لئے حوالہ 6:19)۔

لَوْ يُطِيعُكُـمْ فِـى كَثِيـرٛ مِّنَ ٱلْأَمْرِلَعَنِتُّـمْ

  • If he were to accept your words in the specific matter certainly it would have caused you difficulty —

اگر وہ(ﷺ)تم لوگوں کی اس خاص معاملے میں بات کو جو کافی لوگوں کی خواہش تھی ،مان لیا ہوتا تو یقیناً تم لوگوں پر اس کا نتیجہ گراں ہوتا ۔

Root:  ع ن ت

وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُـمُ ٱلْإِيمَٟنَ وَزَيَّنَهُۥ فِـى قُلُوبِكُـمْ

  • But Allah the Exalted has endeared for you people the Belief and He has made it alluring in your hearts —

مگر اللہ تعالیٰ  نے تم لوگوں کے لئے ایمان کی محبت کو راسخ کیا اور اسے تمہارے قلوب میں دلنشین بنایا۔

وَكَرَّهَ إِلَيْكُـمُ ٱلْـكُـفْرَ وَٱلْفُسُوقَ وَٱلْعِصْيَانَۚ

  • And He the Exalted has made it abominable for you people the Disbelief, and the unrestrained conduct and the transgression/defiance to accept the word [of the Book/Grand Qur’ān] —

اور ان جناب نے تمہارے لئے رسول کریم کے انکار،اور جلد بازی اور وفاداری تبدیل کرنا اورنافرمانی کو باعث کراہت روش قرار دیا ہے۔

Root: ك ر ه;  ف س ق

أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلرَّٟشِدُونَ ٧

  • They are the people who are dextral/righteous/veracious. [49:07]

اس سوچ، روش اور روئیے پر کاربند لوگ ہی وہ ہیں جو پائے استقامت سے راہ ہدایت پر گامزن ہیں۔

Root: ر ش د

فَضْلٙا مِّنَ ٱللَّهِ وَنِعْمَةًۭۚ 

  • Such people are in sincere pursuit of acquiring the Bounty from Allah the Exalted and blessing. —

یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل اور نعمت سے بہرا مند ہونے کی جستجو میں رہتے ہیں۔

وَٱللَّهُ عَلِيـمٌ حَكِيـمٚ ٨

  • Remain cognizant; Allah the Exalted is the Fountain and Setter of knowledge-science of visible and invisible domains, realities. considerations; and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm. [49:08]

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ منبع علم ہیں،تمام نظام کے   بدرجہ اتم انصاف کے تقاضوں  کو پورا کرنے والےفرمانروا ہیں۔

وَإِن طَـآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٱقْتَتَلُوا۟ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَـهُمَاۖ

  • Take note, if two groups-factions of the Believers have mutually engaged in war, thereat, you people are hereby directed to intervene to cause peace and resolve matters amicably between them.

نوٹ کریں! اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں جنگ میں ملوث ہو جائیں، تو تم لوگوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان کے درمیان صلح کرانے اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مداخلت کرو۔

Root: ط و ف

فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰـهُمَا عَلَـى ٱلۡءاُخْرَىٰ فَقَـٟتِلُوا۟ ٱلَّتِـى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَـىٰٓ أَمْرِ ٱللَّهِۚ

  • Consequently, if one of the two groups oppressed against the other, thereat, you are directed to wage war against the group which is oppressor; and remain engaged in war until that group might return to the command of Allah for maintaining harmony of brotherhood.

 پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے، تو تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ظالم گروہ کے خلاف جنگ کرو، اور اس کے خلاف اس وقت تک برسرپیکار رہو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع نہ کر لے، تاکہ بھائی چارے کی ہم آہنگی برقرار رہے۔

Root: ف ى ء; ق ت ل

فَإِن فَـآءَتْ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَـهُمَا بِٱلْعَدْلِ وَأَقْسِطُوٓا۟ۖ

  • Thereby, if that group comes to terms, thereat, amicably resolve issues between both groups with justice and treat both upholding principle of equity.

 پس اگر وہ گروہ رجوع کر لے، تو دونوں گروہوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ مصالحت کراؤ اور دونوں کے ساتھ مساوات کے اصول پر برتاؤ کرو۔

Root: ع د ل; ف ى ء;  ق س ط

إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِيـنَ ٩

  • Indeed Allah the Exalted approves and appreciates [for nearness] those who conduct adhering to principle of equity. [49:09]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ مساوات کے اصولوں کے تحت فیصلے اور احکام جاری کرنے والوں کو قابل ستائش اور پسندیدہ قرار دیتے ہیں۔

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٚ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْـنَ أَخَوَيْكُـمْۚ

  • Indeed the truly believers are a brotherhood, therefore, you strike equation and harmony amongst your brothers;

اس حقیقت کو مدنظر رکھو کہ صدق قلب سے ایمان لانے والے آپس میں دینی بھائی ہیں۔اس لئےاگر ان میں ناچاقی ہو جائے تو اپنے بھائیوں کے مابین اصلاح کی صورتحال پیدا کرو۔

وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ

  • And sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted—

اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

لَعَلَّـكُـمْ تُرْحَـمُونَ ١٠

  • So that you hopefully become the people blessed with clemency. [49:10]

تاکہ  دائمی کامیاب اور سرخرو   قرار پانے کا تمہارے لئے امکان پیدا ہو جائے۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لَا يَسْخَرْ قَوْمٚ مِّن قَوْمٛ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُوا۟ خَيْـرٙا مِّنْـهُـمْ

  • No group of people should indulge in mocking/ridiculing another people, it is possible that they may be better than them —

کسی قوم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ دوسری  کو من حیث القوم  کمتر  سمجھے اور اہانت کرے۔ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو جس کا انہیں ادراک نہیں۔

Root: س خ ر;  ع س ى

وَلَا نِسَآءٚ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيْـرٙا مِّنْـهُنَّۖ

  • And nor group of women should indulge mocking/ridiculing other women, it is possible that they may be better than them —

اور عورتوں کے لئے مناسب نہیں کہ دوسری عورتوں کے گروہ کو کمتر سمجھیں اور اہانت کریں۔ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو ں جس کا انہیں ادراک نہیں۔

وَلَا تَلْمِزُوٓا۟ أَنفُسَكُـمْ وَلَا تَنَابَزُوا۟ بِٱلْأَلْقَٟبِۖ 

  • And you people should not slander against each other and nor make yourselves habitual in calling others with nicknames of negative import —

اور تم لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی  اور تحقیر آمیز انداز میں سرگوشیاں نہ کرو۔اور نہ ایک دوسرے کو منفی نوعیت کے القاب دو۔

Root: ن ب ز;  ل م ز

بِئْسَ ٱلِٱسْمُ  ٱلْفُسُوقُ بَعْدَ ٱلْإِيمَٟنِۚ

  • The act of calling by the name having characteristic of defiant import, after the Belief, is wretched.

کیا ہی برا ہے کسی کردار کشی پر مبنی کوئی خاص نام کسی کو دینا بعد اس کے ایمان لا چکا ہے۔

Root: ف س ق

وَمَن لَّمْ يَتُبْ

  • And whoever has not remorsefully left this habit and returned —

اور جو کوئی معاشرے میں اس عادت سے تائب نہیں ہوتا اور آئندہ اجتناب نہیں کرتا:

فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلظَّٟلِمُونَ ١١

  • Thereby, such people are truly the evil-doers-distorters-creators of imbalances-disorders-over stepping. [49:11]

تو یہ ہیں وہ لوگ جو حقیقت کو  مسخ کرنے والے،بگاڑ پیداکرنے والے اور ناانصافی کرنے والے ہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيـرٙا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْـمٚۖ

  • You people are directed to consciously avoid most of the conjectures, conclusions based on presumptions and assumptions. Remain mindful of the fact that some conjectures, conclusions or understandings based on presumptions and assumptions are certainly dilapidating in effect.

تم لوگ کتاب اللہ اور آثار علم سے ماوراءاندازہ،تخمینہ،گمان پر مبنی بکثرت باتوں سے اجتناب کی عادت کو اپناؤ۔یہ حقیقت ہے کہ  گمان پر مبنی بعض باتیں سفر منزل  کو مضمحل کر دیتی ہیں۔

وَلَا تَجَسَّسُوا۟ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُـم بَعْضًاۚ

  • And you should not engage yourselves to be intensively inquisitive about some others nor you should consciously and purposely ill-talk against some others [believing brothers] —

اور تم میں سے بعض کو بعض کے  ذاتی معاملات  میں ازخود جاسوسی نہیں کرنی چاہئے۔اور نہ کسی دوسرے کے بارے لوگوں میں عیب جوئی کرنی چاہئے۔

أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتٙا فَكَرِهْتُـمُوهُۚ

  • Would anyone of you like to say that he might eat the flesh of his dead brother whereat you people would have hated him?

کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے مردہ جسم کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو تم اس سے کراہت محسوس کرو گے۔

Root: ك ر ه; ل ح م

وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ

  • And sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted.

اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٚ رَّحِيـمٚ ١٢

  • It is a fact that Allah the Exalted is sympathetically oft Relenting, the Merciful. [49:12]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  اکثر و بیشتراظہار ندامت پر درگزر فرماکر توبہ قبول فرمانے والے ہیں،وہ منبع رحمت ہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ

  • O you the mankind! Listen carefully:

اے لوگو!دھیان سے سنو:

إِنَّا خَلَقْنَٟكُـم مِّن ذَكَرٛ وَأُنثَىٰ

  • Indeed Our Majesty have created you people commencing by a part originating in a male and a part originating in a female —

یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے تم لوگوں(تمام انسان جو آج موجود ہیں)کو تخلیق کیا ہے جس کا آغاز مذکر میں سے لئے ایک جزو(جرثومے)اور  مؤنث میں سے لئے  ایک جزو(جرثومے)سے کیا تھا۔

وَجَعَلْنَـٟكُـمْ شُعُوبٙا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ۚ

  • And Our Majesty have rendered you people as nationalities and tribes for the purpose of your mutual cognition —

اور ہم جناب نے تم لوگوں کو قومیتوں اور قبائل میں ڈھال دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو متعارف کر سکو۔

إِنَّ أَكْرَمَكُـمْ عَندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُـمْۚ

  • [that/aforesaid cognition is not sign of superiority and preference, recognition principle is] Indeed the relatively more honoured and notable amongst you people, in the judgment/in nearness of Allah the Exalted, is the one who is relatively more endeavourer of salvation.

اس حقیقت سے مطلع رہو،اللہ تعالیٰ  کی جانب سے تم میں  زیادہ لائق تکریم وہ ہے جوتم میں زیادہ تقویٰ کا حامل ہے۔

إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيـمٌ خَبِيـرٚ ١٣

  • Indeed Allah the Exalted is Eternally The Knowledgeable and Aware of what is secreted and manifest.  [49:13]

یقیناً اللہ تعالیٰ منبع علم ہیں،وہ جناب  مکمل باخبر ہیں۔


قَالَتِ  ٱلْأَعْـرَابُ ءَامَنَّاۖ

  • The Arab-ized -Foreign Settlers in Arabia said, "We have believed."

حجاز میں بودوباش اختیار کر کے عربیت طرز زندگی کے خوگرہو جانے والوں(یہودیوں)میں جانے پہچانے لوگوں نے کہا’’ہم رسول کریم اور قرءان           مجید پر ایمان لے آئے ہیں‘‘۔

Root: ع ر ب

قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ وَلَـٰكِن قُولُوٓا۟ أَسْلَمْنَا

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] correct/tell them, "You people have not consciously believed; therefore, don't say like that, instead you say, "We have practically adopted Islam" —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’تم لوگ ایمان نہیں لائے،البتہ تم لوگ یہ کہو’’ہم اسلام پر کاربند ہو گئے ہیں،مسلمان ہو گئے ہیں‘‘۔

وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَٟنُ فِـى قُلُوبِكُـمْۖ

  • Know it, if and as soon the Belief would have entered in your hearts —

اور حقیقت یہ ہے کہ اگر اور جب بھی ایمان  تم لوگوں کے قلوب میں داخل ہو جائے گا۔

وَإِن تُطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ

  • And if you people affectionately and wholeheartedly accept the word of Allah the Exalted and His Messenger—

اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور ان کے       رسو ل   کریم کے بیان کردہ قرءان مجید کو قلب و زبان سے      تسلیم   کر لو گے۔

لَا يَلِتْكُـم مِّنْ أَعْمَٟلِـكُـمْ شَيْـٔٙاۚ

  • He the Exalted will not deprive you of anything for the deeds/acts [of Islam] performed by you people —

توایسا کر لینے پر وہ جناب تمہارے اسلام کے تحت اور اچھے اعمال میں قطعاً صرف نظر نہیں کریں گے۔

إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٌ ١٤

  • It is a fact that Allah the Exalted is repeatedly Forgiving-Overlooking-the fountain of Mercy." [49:14]

یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں‘‘۔

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ

  • Indeed the true Believers are only those who accepted/believed in Allah the Exalted and His Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —

۔حقیقت یہ ہے کہ فی الحقیقت مومن صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول پر صدق قلب سے ایمان لائے ہیں۔

ثُـمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟

  • And afterwards in the time span they never admixed/entered into perplexity —

بعد ازاں انہوں نے اپنے اس فیصلے پر تذبذب اوراضطراب محسوس نہیں کیا۔

Root: ر ى ب

وَجَٟهَدُوا۟ بِأَمْوَٟلِـهِـمْ وَأَنفُسِهِـمْ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِۚ

  • And they strived with their wealth and by physical participation in the Cause/Path of Allah the Exalted —

اور انہوں نے اپنے اموال اور جسمانی شرکت سے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے کے دفاع کے لئے جدوجہد کی۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلصَّٟدِقُونَ ١٥

  • They are the people who are truly the Truthful. [49:15] [Read in conjunction 6:82]

یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے صدق قلب سے ایمان لانے کے اپنے قول کو سچ ثابت کرنے والے بن کے دکھایا ہے۔

قُلْ أَتُعَلِّمُونَ ٱللَّهَ بِدِينِكُـمْ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask, "Do you people intend to make known to Allah the Exalted about your Code and Procedure of Conduct —

آپ(ﷺ)ان سے پوچھیں’’کیا اللہ تعالیٰ کوتم لوگ اپنے اختیار کردہ ضابطہ حیات کے متعلق مطلع کرنا چاہتے ہو۔

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۚ

  • While indeed Allah the Exalted knows whoever/whatever is in the Skies and whoever/whatever is in the Earth.

جبکہ  یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ مکمل طور پر ہر اس شئے اور معاملے کو جانتے ہیں جو آسمانوں میں وقوع پذیر ہے اور وہ جو زمین میں وقوع پذیر ہے۔

وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ١٦

  • And Allah the Exalted is eternally the Knower of each and everything". [49:16]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں‘‘۔

يَـمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا۟ۖ

  • They consider it to have put an obliging favour upon you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] that they have submitted to the Prescribed Code and Conduct: Islam.

وہ سمجھ رہے کہ اسلام کے طرز عمل کو اپنا کر وہ جیسے آپ پر احسان کر رہے ہیں۔

قُل لَّا تَمُنُّوا۟ عَلَـىَّ إِسْلَٟمَكُـمۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Do not consider your submission / acceptance of Islam an obliging favour upon me —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں’’اپنا اسلام نگیں ہونے کو مجھ             پرتم لوگوںکو احسان نہیں سمجھنا چاہئے۔

Root: م ن ن

بَلِ ٱللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُـمْ أَنْ هَدَىٰكُـمْ لِلْإِيمَٟنِ

  • No, it is not an obliging gesture upon me, rather Allah the Exalted bestows obliging favour to you people that He lead you for the Belief [by sending the Messenger and Qur’ān] —

وہ احسان نہیں؛اس کے برعکس اللہ     تعالیٰ کا تم لوگوں پر احسان ہو گا کہ تم لوگوں کو فی الحقیقت ایمان لانے کی ہدایت نصیب فرما دیں۔

Root: م ن ن

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ١٧

  • If you people were truthful in your proclamation of belief. [49:17]

اگر تم لوگ دین اسلام اپنانے میں سچے تھے۔

إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • Certainly, Allah the Exalted is the All-Knower of what is invisible/non perceivable for the creatures in the Skies and the Earth —

یہ حقیقت ہے کہ اللہ         تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تمام حقیقتوں کو بخوبی جانتے ہیں جو دوسروں سے پنہاں ہیں۔

وَٱللَّهُ بَصِيـرُۢبِمَا تَعْمَلُونَ ١٨

  • And Allah the Exalted is witnessing what acts you people are doing." [49:18]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو تم لوگ انجام دیتے ہو‘‘۔