026-سُوۡرَةُ الشعراء
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
طسٓمٓ ١ |
عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ اور "میم" بمع آواز کی طوالت کانشان۔ |
|
تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢ |
|
|
لَعَلَّكَ بَٟخِعٚ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِيـنَ ٣ |
ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے آپ(ﷺ) شایداپنی تمام توانائیاں خرچ کر یں گے،اس خیال سے کہ وہ بیان حقیقت(قرءان مجید)پر ایمان نہیں لائیں گے۔ |
|
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْـهِـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٙ |
اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر ایک ایسی
شہادت ـ(آیت/معجزہ)اتار دیں۔ |
|
وَمَا يَأْتِيـهِـم مِّن ذِكْرٛ مِّنَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ مُحْدَثٍٛ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْـرِضِيـنَ ٥ |
ان کے پاس جب کوئی بھی نوشت کائنات (قرءان مجید) میں درج تنبیہ ،جو الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام کی جانب سے آسان فہم تدوین میں خبر رساں ہے، کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ اسے سوائے اس انداز کے نہیں سنتے کہ اس دوران بھی اس سے اعراض برتتے ہیں۔ |
|
فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيـهِـمْ أَنۢبَـٰٓـؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٦ |
جواب میں انہوں نے برسر عام رسول اللہ اور کلام اللہ کو جھٹلایا ہے ؛ چونکہ جو بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت ہے اس لئےان تک جلد وہ خبریں پہنچ جائیں گی جن کے متعلق وہ استہزا،تمسخرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ Root: ھ ز ء |
|
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَـى ٱلۡأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيـهَا مِن كُلِّ زَوْجٛ كَرِيـمٍ٧ |
ان کی غفلت اس انتہا کی ہے کہ کیا انہوں نے زمین کی جانب بھی نہیں دیکھا۔اندازہ لگائیں کہ ہم جناب نے اس کے اندر کتنےہر ایک عمدہ حیات بخش نباتات کی جنس کے جوڑے کو اگانے کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ٨ |
یقینا اس مشاہدہ فطرت میں ازخود غوروفکر کرنے والوں کے لئے حقیقت (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی کرنے والی نشانی موجود ہے۔مگران (عمائدین)کی اکثریت رسول اللہ اور توحید کو ماننے والے نہیں ہیں ۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٩ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَـىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٠ |
آپ(ﷺ)اس واقعہ کو بھی بیان /قلمبند کر دیں ؛ جب آپ کے رب نے موسیٰ(علیہ السلام)کو پکار کرظلم و ستم پر کاربند قوم کی جانب جانے کا کہا تھا۔ |
|
قَوْمَ فِرْعَوْنَ |
فرعون کی قوم کی جانب ۔کیا وہ آیتیں (معجزات)دیکھ کر بھی حفاظت اور پناہ کے خواستگار نہیں ہوں گے!(جیسے آپ خوداسے کوبرا بنتے دیکھ کر خوف سے بھاگ گئے تھے) |
|
قَالَ رَبِّ إِنِّـىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ١٢ |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے عرض کیا"میرے رب؛مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ مجھے برسر عام جھٹلا دیں گے۔ |
|
وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِـى فَأَرْسِلْ إِلَـىٰ هَٟرُونَ ١٣ |
اور میرا سینہ گھٹن اور تنگی محسوس کرتا ہے،اور میری زبان روانی سے حرکت کرنے سے قاصر ہے۔آپ نے چونکہ ھارون کو میرے ساتھ رسول بنا دیا ہے اس لئے انہیں میرے پاس آنے کا پیغام دیں۔ Root: ط ل ق; ض ى ق; ل س ن The first reported case of Expressive aphasia - Sa'mri: "لا مساس no touching" |
|
وَلَـهُـمْ عَلَـىَّ ذَنۢبٚ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ١٤ |
اور مجھ پرایک قتل کا الزام ان کے لئے قانونی کاروائی کا جواز بن سکتا ہےجس کے سبب مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں"۔ Root: ذ ن ب |
|
قَالَ كَلَّا |
انہوں نے جواب دیا"قطعاً ایسا نہیں ہو گا۔اس لئے بے خوف و خدشہ آپ دونوں فرعون کی جانب روانہ ہوں، عینی مشاہدہ کے لئے میری شہادتوں (آیات/معجزات ) کی مصاحبت میں جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کریں گی کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔۔یقیناً ہم آپ سب کے ساتھ ہوں گے،ہر لمحہ ہم بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔ |
|
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦ |
اس طرح بے خوف و خدشہ دونوں فرعون کے پاس جاؤ،وہاں شاہی دربار میں پہنچ کر فرعون سے مخاطب ہو کرکہنا: "یہ حقیقت ہے کہ ہم تمام موجودات کے رب کے رسول ہیں جو آپ کے رب کا حکم نامہ لے کر آئے ہیں۔ |
|
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ١٧ |
پیغام یہ ہے کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر دیں"۔ |
|
قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٙا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِيـنَ ١٨ |
اس(فرعون)نے کہا’’کیا ہم نے تجھے بچپن سے اپنے درمیان رکھ کر پرورش اور پروان نہیں چڑھایا۔اور تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے درمیان آباد رہا۔ |
|
وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِـى فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ١٩ |
اور تم نے پہلی مرتبہ اپنی وہ حرکت کی۔یاد کر وہ پہلی مرتبہ کی ہوئی حرکت جو تونے کی تھی۔(زیر لب اس اتفاقی قتل کیس کو کھولنے کی دھمکی)۔اور تواس وقت جو کر رہا ہے وہ تجھے ان میں شامل کر رہا ہے جوشکر گزار نہیں ہوتے‘‘۔ |
|
قَالَ فَعَلْتُـهَآ إِذٙا وَأَنَا۟ مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ٢٠ |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا’’میں نے وہ حرکت اس وقت کی تھی جب اچانک مجھے زور سے پکارا گیا تھا جبکہ میں اس لمحے گہرے تفکر میں کھویا ہوا تھا۔(القصص۔۱۵ پڑھیں) |
|
فَفَرَرْتُ مِنكُـمْ لَمَّا خِفْتُكُـمْ فَوَهَبَ لِـى رَبِّـى حُكْـمٙا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ٢١ |
چونکہ مجھے علم ہو گیا تھا کہ آپ لوگ اس حادثے کو جواز بنا کرمجھے پھانسی دینے کا منصوبہ بنا رہے ہو اس لئے میں آپ سے فرار ہو گیا جوں ہی مجھے آپ لوگوں سے خوف محسوس ہوا۔میرا یہ فیصلہ اس صلاحیت کا استعمال تھا جو میرے رب نے جوانی ہی میں مجھے حکمت و دانائی سے نوازا تھا(حوالہ القصص۔۱۴)۔اور ان جناب نے مجھے مختلف اقوام کی جانب بھیجے گئے میں شامل کر کے آپ لوگوں کی جانب بحثیت رسول پیغام دینے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ |
|
وَتِلْكَ نِعْمَةٚ تَمُنُّـهَا عَلَـىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٢٢ |
اور جہاں تک اس بھلائی کا تعلق ہے جس کا آپ مجھ پر احسان جتلا رہے ہیں اس حوالے سے کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا ہوا تھا‘‘۔ Root: م ن ن |
|
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢٣ |
فرعون نے کہا"یہ تو واضح کریں کہ رب العالمین کس کا حوالہ ہے"۔ |
|
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُـمَآ |
|
|
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ٢٥ |
ہمہ تن گوش ماحول میں دراندازی کرتے ہوئے اس(فرعون)نے ان قریبی رفقاء کو جو اس کے قریب بیٹھے تھے کہا"کیا تم لوگ انہماک سے نہیں سن رہے!" |
|
قَالَ رَبُّكُـمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُـمُ ٱلْأَوَّلِيـنَ٢٦ |
انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے فرمایا"وہ رب العالمین آپ لوگوں کے رب ہیں اور آپ کے آباؤاجداد کے رب ہیں"۔ |
|
قَالَ إِنَّ رَسُولَـكُـمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُـمْ لَمَجْنُونٚ ٢٧ |
اس نے(فرعون ، دخل دیتے ہوئے )کہا"در حقیقت تمہارا رسول ،وہ جسے تم لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہے میرے خیال میں یقیناًخبطی،فاسد خیالات میں گم کردہ ہو گیا ہے"۔ |
|
قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْـرِقِ وَٱلْمَغْـرِبِ وَمَا بَيْنَـهُـمَآ |
انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے فرمایا"وہ جناب مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے سب کے رب ہیں۔اگر آپ لوگ عقل و فکر سے کام لیں تو خود بھی اس حقیقت کو جان لیں گے"۔ |
|
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَٟهًا غَيْـرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِيـنَ ٢٩ |
اس(فرعون)نے معبود مطلق کے بیان پر بے چین ہوتے ہوئے کہا"اگر آپ نے مجھ سے علاوہ کسی کو معبود مطلق اختیار کیا تو میں یقینی طور پر تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا"۔ Root: س ج ن |
|
قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٛ مُّبِيـنٛ ٣٠ |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے جواب دیا"کیا آپ ایسا کریں گے اگرچہ میں ایک ایسی شئے کے ساتھ تیرے پاس آیا ہوں جو متبین کر دے گا کہ معبود مطلق کون ہے؟" |
|
قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٣١ |
اس(فرعون)نے کہا"اگر ایسا ہے تو جاؤاس کو لے کر آؤ ا گر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔ |
|
فَأَ لْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٚ مُّبِيـنٚ ٣٢ |
جواب میں انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے ہاتھ میں تھامی عصا کو ان کی آنکھوں کے سامنے زمین پر ڈال دیا؛ توزمین پر گرتے ہی وہ سریحاً زندہ کوبرا بن گئی تھی۔ Root: ع ص و |
|
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٟظِـرِينَ ٣٣ |
اوروہ (موسیٰ علیہ السلام) اپنے ہاتھ کو گریبان سے بغل میں لے گئے۔بغل سے چھو کر جوں ہی اسے نکالا تو ہتھیلی وہاں موجود دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکدار تھی۔ Root: ن ز ع |
|
قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَـٰذَا لَسَٟحِرٌ عَلِيـمٚ ٣٤ |
اس(فرعون)نے اپنے اردگرد قریبی سرداروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا:"یقیناً یہ صاحب توفریب نظر کے ماہر شعبدہ باز ہیں۔ |
|
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُـم مِّنْ أَرْضِكُـم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُـرُونَ ٣٥ |
یہ توچاہتا ہے کہ تم لوگوں کو تمہاری سلطنت کی حکمرانی سے اپنے جادوکے شعبدے سےنکال دے۔اس کے پیش نظر آپ لوگ کیا مشورہ دیتے ہیں"۔ Root: س ح ر |
|
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِـى ٱلْمَدَآئِنِ حَٟشِـرِينَ ٣٦ |
انہوں(دوسرے سرداروں نے اس کے خیال سے بالواسطہ اتفاق نہ کرتے ہوئے)نے جواب دیا"آپ انہیں(موسیٰ علیہ السلام)اور ان کے بھائی کو وقت دیں۔اور آپ بستیوں میں شعبدہ بازوں کو اکٹھا کرنے والوں کو مقرر کر کےبھیجیں۔ Root: ر ج و |
|
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍٛ عَلِيـمٛ ٣٧ |
وہ تمام کے تمام شعبدہ بازی کے علم میں ماہرین کو لے کر آ جائیں گے"۔ Root: س ح ر |
|
فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٟتِ يَوْمٛ مَّعْلُومٛ ٣٨ |
اس کے بعدفرعون کے حکم کی تعمیل میں شعبدہ بازوں کو مقررہ مقام پر معلوم تہوار کے دن مظاہرہ دکھانے کے لئے اکٹھا کر لیا گیا۔ |
|
وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُـم مُّجْتَمِعُونَ ٣٩ |
اور عوام الناس کے لئے اعلان کیا گیا؛"کیا تم لوگ شوق و ذوق سے اکٹھے ہو گے۔ |
|
لَعَلَّنَا نَتَّبِــعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُـمُ ٱلْغَٟلِبِيـنَ ٤٠ |
تاکہ ہم لوگ شعبدہ بازوں کو سراہیں اگر وہ مقابلے میں غالب ہو جائیں"۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٟلِبِيـنَ٤١ |
چونکہ انہیں بتایا گیا کہ بادشاہ سلامت ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں اس لئے جوں ہی شعبدہ باز دربار میں پہنچے تو انہوں نے فرعون کو مخاطب کر کے کہا:"ہمارے لئے یقیناً انعام و اکرام ہو گا اگر ہم مقابلے میں غالب ہو جائیں گے"۔ |
|
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُـمْ إِذٙا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِيـنَ ٤٢ |
اس(فرعون)نے جواب دیا"ہاں انعام ملے گا،بلکہ جب ایسا ہو جائے گا تو تم لوگ ان میں شمار ہو گے جو ہمارے قریبی ہیں"۔ |
|
قَالَ لَـهُـم مُّوسَـىٰٓ أَ لْقُوا۟ مَآ أَنتُـم مُّلْقُونَ ٤٣ |
موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا"آپ لوگ کرتب دکھائیں، سامنے زمین پر پھینکیں جو تم پھینک کر شعبدہ دکھاتے ہو"۔ |
|
فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَـهُـمْ وَعِصِيَّـهُـمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَـحْنُ ٱلْغَٟلِبُونَ ٤٤ |
ان کے جواب کو سن کر انہوں(شعبدہ باز)نے ااپنے رسیاں اور چھڑیاں زمین پر پھینکنا شروع کر دیں۔اور انہوں نے نعرہ لگایا"فرعون کے جاہ و جلال کی قسم،یقیناً ہم بلاشبہ غلبہ پانے والے ہیں"۔ |
|
فَأَ لْقَىٰ مُوسَـىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ٤٥ |
پیغام سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی عصا کو زمین پر پھینکا،تو وہ اچانک کوبرا سانپ بن کر اس کو نگلنا شروع ہو گئی جووہ شئے کو گھما پھرا کرفریب نظر کا شعبدہ دکھایا کرتے تھے۔ |
|
فَأُ لْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٟجِدِينَ ٤٦ |
حقیقت جان لینے پر شعبدہ باز زمین پر جھک کر سجدہ ریز ہو گئے۔ |
|
قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٤٧ |
انہوں نے پہلے کہا"ہم عالمین کے رب پر ایمان لے آئے ہیں۔ |
|
رَبِّ مُوسَـىٰ وَهَٟرُونَ ٤٨ |
موسیٰ اور ھارون(علیہماالسلام)کے رب پر"۔ |
|
قَالَ ءَامَنتُـمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَـكُـمْۖ
|
اس (فرعون)نے ان شعبدہ بازوں کو مخاطب کر کے کہا"کیا
تم اس(موسیٰ علیہ السلام)پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں نے
تمہارے لئے اجازت کا فرمان دیا؟ |
|
قَالُوا۟ لَا ضَيْـرَ |
انہوں(شعبدہ بازوں نے ترکی بہ ترکی)نے جواب دیا"قطعا! کسی بھی قسم کے نقصان اور تکلیف کی ہمیں پرواہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی جانب پلٹ چکے ہیں۔ |
|
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٟيَٟنَآ أَن كُنَّـآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٥١ |
حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں تو صرف یہ طمع ہے کہ ہمارے رب ہمارے لئے ہماری خطاؤں کو درگزر کرتے ہوئے معاف فرما دیں کہ ہم ایمان لانے والوں میں اولین ہیں"۔ |
|
وَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِىٓ إِنَّكُـم مّتَّبَعُونَ ٥٢ |
تاریخ سے آگاہ رہو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے (مصر میں)موسیٰ(علیہ السلام)کو یہ پیغام وحی کیا تھا:کہ’’ آپ میرے بندوں کو ساتھ لے کر رات کے کسی پہر روانہ ہو جائیں۔اس حقیقت سے مطلع رہیں کہ آپ لوگ پکڑے جانے کی کاوش میں نقوش قدم پر پیچھا کئے جانے والے ہوں گے۔ |
|
فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٟشِـرِينَ ٥٣ |
چونکہ ان کے شہر سے نکل جانے کی خبر اسے مل گئی تھی اس لئے فرعون نے خوف سے مغلوب ہونے کی وجہ سے فوری تعاقب کرنے کی بجائے فوجی چھاونیوں میں (یہ پیغام دے کر ) مجتمع کرنے والوں کو بھیجاۛ: |
|
إِنَّ هَٟٓـؤُلَآءِ لَشِـرْذِمَةٚ قَلِيلُونَ ٥٤ |
"یقینا یہ توایک تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل جماعت ہے۔ |
|
وَإِنَّـهُـمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ ٥٥ |
اور درحقیقت یہ لوگ ہمیں غصہ دلا/انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں۔ Root: غ ى ظ |
|
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٟذِرُونَ ٥٦ |
اور ہم یقیناہتھیار بند/مسلح جمعیت ہیں"۔ |
|
فَأَخْرَجْنَٟهُـم مِّن جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ٥٧ |
اس کے نتیجے میں ہم جناب نے انہیں باغات اور چشموں سے مزین وسیع رہائش گاہوں سے نکال باہر کیا۔ |
|
وَكُنُوزٛ وَمَقَامٛ كَرِيـمٛ ٥٨ |
اور خزانوں اوراحترام و قار کے مقام سے نکال باہر کیا۔ |
|
كَذَٟلِكَ وَأَوْرَثْنَٟهَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٥٩ |
اس طرح(فرعون اور اسکی فوج کر ڈبو کر)ان کوبے وارث کر دیا اور ہم جناب نےبنی اسرائیل (جو وہیں رہ گئے تھے) کو ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا۔ Root: و ر ث |
|
فَأَتْبَعُوهُـم مُّشْـرِقِيـنَ ٦٠ |
چونکہ فوجی دستوں کا انتظار تھا اس لئے جب اکٹھے ہو گئے تو انہوں(فرعون اور لشکر)نے ان(بنی اسرائیل)کا مشرق کی جانب پیچھا کیا۔ Root: ش ر ق |
|
فَلَمَّا تَرَٟٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٟـبُ مُوسَـىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ٦١ |
اس طرح ان کے پہنچ جانے پر دونوں اجتماعات نے جوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ لیا:موسیٰ(علیہ السلام)کے ساتھیوں نے سمندر کنارے ان سے کہا"یہ حقیقت لگ رہا ہے کہ ہم پکڑے جائیں گے"۔ Root: د ر ك |
|
قَالَ كَلَّا |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام )نے جواب دیا"بالکل نہیں!حقیقت یہ ہے کہ میرے رب میرے ساتھ ہیں۔وہ جناب جلد مجھے راستہ بتائیں گے کہ وہ کہاں ہے"(جس کے متعلق مصر میں بتایا تھا،طہ۔77)۔ |
|
فَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰٓ أَنِ ٱضْـرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ |
اس پر ہم جناب نے موسیٰ(علیہ السلام)کی
جانب یہ صوتی پیغام بھیجا کہ اپنی لاٹھی کی مددسے بحر سویز کو ضرب
لگا کر اس راستے کو ابھار کر منظر میں لائیں (جیسے اس کے متعلق
بتایا تھا۔طہ۔77)۔ |
|
وَأَزْلَفْنَا ثَـمَّ ٱلۡءَاخَرِينَ ٦٤ |
ان کے اس راستے پر گامزن ہو جانے پر ہم جناب بعد میں آنے والی جماعت کو ساحل کر قریب لے آئے۔ Root: ز ل ف |
|
وَأَنجَيْنَا مُوسَـىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْـمَعِيـنَ ٦٥ |
اور ہم جناب نے موسیٰ(علیہ
السلام)
اور اُن سب کو جو اُن کے ساتھ تھے،
سطح آب پر محفوظ رکھتے ہوئے دشمن سے نجات
بخشی—
سب کو ایک ساتھ، اجتماعی انداز میں۔ Root: غ ر ق |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٦٨ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَٱتْلُ
عَلَيْـهِـمْ نَبَأَ إِبْرَٟهِيـمَ ٦٩ |
اور آپ(ﷺ)اہل ایمان اور
مشرکین کے ادراک کے لئےانہیں ابراہیم(علیہ السلام)کا اہم اور نتیجہ
خیز واقعہ مِن و عن سنائیں کہ چشم دید ہو جائے: |
|
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُـمْ إِذْ تَدْعُونَ ٧٢ |
انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے
کہا"آپ دیانت داری سے اس بات کی تصدیق کر دیں: کیا وہ
(معبود) واقعی آپ کی پکار سنتے ہیں جب جب آپ کسی مقصد یا
استعانت کے لئے انہیں پکارتے ہیں؟۔ |
|
قَالَ أَفَرَءَيْتُـم مَّا كُنتُـمْ تَعْبُدُونَ ٧٥ |
انہوں (ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"یہ
آپ کا اپنا اقرار اور مشاہدہ ہے، پھر کیا
آپ نے حقیقت بینی سے اس کی حقیقت دیکھ لی ہے جس کے
ساتھ آپ عقیدت سے وابستہ ہو اور جس کے سامنے
آپ اپنی بندگی اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے
ہیں — Root: ق د م |
|
ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَـهْدِينِ ٧٨ |
رب العالمین وہ ہیں جنہوں نے مجھے تخلیق کیا۔چونکہ تخلیق کار کے ذمہ ہدایت دینا ہوتا ہے اس لئے وہ جناب مجھے جانب منزل ہدایت دیتے رہتے ہیں۔ |
|
وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِيـنِ ٧٩ |
اور رب العالمین وہ جناب ہیں جو مجھے کھانے اور مجھے پلانے کا انتظام فرماتے ہیں۔ |
|
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيـنِ ٨٠ |
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ جناب ہی ہیں جو مجھے شفایاب کرتے ہیں۔ Root: م ر ض |
|
وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُـمَّ يُحْيِىنِ ٨١ |
اور وہ جناب ہیں جو مجھے طبعی موت سے ہمکنار کریں گے،بعد ازاں(حیات نو دئیے جانے کے دن)وہ مجھے حیات نو دیں گے۔ |
|
وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِـى خَطِيٓــَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ٨٢ |
”اور وہ جناب ہیں جن سے میں آرزو کرتا ہوں کہ جزا و سزا کے دن(یوم الد ین)میرے لئے میری خطائیں بخش دیں گے۔“ |
|
رَبِّ هَبْ لِـى حُكْـمٙا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٟلِحِيـنَ ٨٣ |
انہوں نے دعا فرمائی "میرے رب!آپ جناب ہر موقع محل میں مجھے قوت فیصلہ، امتیازی ذہانت سے بہرہ مند فرمائیں۔اور مجھے اصلاح کرنے والوں کی شہرت نصیب فرمائیں۔ |
|
وَٱجْعَل لِّـى لِسَانَ صِدْقٛ فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ٨٤ |
(ابراہیم علیہ السلام نے مزید دعا فرمائی)اور آپ جناب میرے لیے ایک ایسا دائم و پائیدار سچا ئی کا ذکر اور شہرت قائم فرما دیں جو بعد کی آنے والی نسلوں میں میری صداقت کی علامت کے طور پر باقی رہے۔ Root: ل س ن |
|
وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيـمِ ٨٥ |
اور آپ جناب لوگوں کوپرمسرت جنت کے وارث بنانے والوں میں مجھے شامل قرار دیں۔ |
|
وَٱغْفِرْ لِأَبِـىٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ٨٦ |
اور آپ جناب میرے چچا ابو کو معاف فرما دیں۔یہ حقیقت ہے کہ وہ اب تک منحرف گم کردہ راہ لوگوں میں شامل ہے۔ |
|
وَلَا تُخْزِنِـى يَوْمَ يُبْعَثُونَ ٨٧ |
”اور میرے رب! مجھے اُس دن ازراہ کرم رسوا نہ کریں جب لوگ اٹھائیں جائیں گے‘‘۔ Root: خ ز ى |
|
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٚ وَلَا بَنُونَ ٨٨ |
یہ وہ دن ہے جس میں کافروں کانہ مال و دولت اور نہ طاقت کا مظہر بیٹے کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔ |
|
إِلَّا مَنْ أَتَـى ٱللَّهَ بِقَلْبٛ سَلِيـمٛ ٨٩ |
یہ فائدہ مند نہیں ہوں گے سوائے اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے حضور اسلام کی محبت سے لبریز قلب لئے ہوئے حاضر ہوا۔ |
|
وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيـنَ ٩٠ |
اور جنت کو اپنے آپ کو تندہی سے محتاط اورغلط روش سے محفوط رکھنے والوں کے نظارہ کے لئے قریب کر دی گئی۔ Root: ز ل ف |
|
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِـيـمُ لِلْغَاوِينَ ٩١ |
اور جھلستی زندان کو ان لوگوں کے نظارہ کے لئے قریب کر دیا گیا جوشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے لوگ ہیں ۔ |
|
وَقِيلَ لَـهُـمْ أَيْنَ مَا كُنتُـمْ تَعْبُدُونَ ٩٢ |
اور ان سے پوچھا گیا"کہاں ہیں وہ جن کی تم لوگ بندگی/پوجا کیا کرتے تھے۔ |
|
مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُـمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ ٩٣ |
اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرتے ہوئے ان کے علاوہ۔ بتاؤ،کیا وہ تم لوگوں کی مدد کر رہے ہیں یا خود اپنی مدد کرنے کے لئے کچھ کر سکتے ہیں"۔ |
|
فَكُبْكِبُوا۟ فِيـهَا هُـمْ وَٱلْغَاوُۥنَ ٩٤ |
نتیجتاًانہیں اس میں پھینک دیا گیا،انہیں(مشرکین)اور حدوں سے تجاوز وشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے لوگ ہیں۔ |
|
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْـمَعُونَ ٩٥ |
اور ابلیس کے ساتھیوں کو؛سب کو یکجا کر کے۔ |
|
قَالُوا۟ وَهُـمْ فِيـهَا يَخْتَصِمُونَ ٩٦ |
انہوں نے جہنم میں آپس میں بڑھ چڑھ کر مباحثہ کرتے ہوئے کہا: Root: خ ص م |
|
تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٩٧ |
"اللہ تعالیٰ کی قسم!حقیقت صرف یہ ہے کہ ہم حکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں صریح غفلت میں سرگرداں تھے۔ |
|
إِذْ نُسَوِّيكُـم بِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٩٨ |
جب اکابرین مان کر ہم تم لوگوں کی باتوں کو تمام موجودات کے رب کے فرمان جیسا قرار دیتے تھے۔ |
|
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلْمُجْرِمُونَ ٩٩ |
اور ہمیں سوائے مجرمانہ ذہنیت اور کردار رکھنے والوں کے کسی اور نے گم کردہ راہ نہیں کیا تھا۔ |
|
فَمَا لَنَا مِن شَٟفِعِيـنَ ١٠٠ |
چونکہ ہم نے فقط مجرم قرار پائے لوگوں کی پیروی کی تھی اس لئے ہمارے دفاع کے لئے سفارش کرنے والوں میں سے کوئی بھی ہماری مدد پرآمادہ نہیں ہے۔ Root: ش ف ع |
|
وَلَا صَدِيقٍٛ حَـمِيـمٛ ١٠١ |
اور نہ ہمارا کوئی ہم راز دوست کچھ بھی مدد کر سکتا ہے۔ |
|
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةٙ فَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٠٢ |
چونکہ اب ہم نے دیکھ لیا اور ذہن کے دریچے کھل گئے ہیں اس لئے اے کاش ہمارے لئے ایک اور موقع ہوتا تو ہم واپس جا کر صدق قلب سے ایمان لانے والوں کے طرز عمل پر عمل پیرا ہو جائیں"۔(الشعراء۔۱۰۲) |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ٠٣ |
یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٠٤ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍٛ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٠٥ |
تاریخ جان لو؛ نوح(علیہ السلام)کی قوم نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔ |
|
إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ١٠٦ |
جب ان کے بھائی نوح(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟ |
|
إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٠٧ |
یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١٠٨ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَ مَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ١٠٩ |
اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١١٠ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو‘‘۔ |
|
قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَ ٱتَّبَعَكَ ٱلْأَرْذَلُونَ ١١ ١ |
انہوں(عمائدین مشرکین)نے جواب دیا"کیا تمہاری خاطر ہم تیرے کہے کو مان لیں۔جب کہ حال یہ ہے تمہاری اتباع صرف معاشرے کے پست ترین طبقے کے لوگوں نے کی ہے"۔ Root: ر ذ ل |
|
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١١٢ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے جواب دیا"میرا کام انہیں خبردار کرنا تھا مگر میرے علم میں وہ نہیں جو وہ ماضی میں عمل کرتے رہے ہیں۔ |
|
إِنْ حِسَابُـهُـمْ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّـى |
کیونکہ ان کا احتساب کرنا فقط میرے رب کا استحقاق ہے۔آپ لوگ یہ بات نہ کہتے اگر شعور کرتے۔ |
|
وَمَآ أَنَا۟ بِطَارِدِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١١٤ |
اور میں ان لوگوں کو اپنے سے کسی بھی لمحے دور نہیں کروں گا جو دل کی شاد سے اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ Root: ط ر د |
|
إِنْ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ١١٥ |
اوریہ حقیقت ہے کہ میری ذمہ داری اور کردار تم لوگوں کے لئےکفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے فقط متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔ |
|
قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنْتَهِ يَٟنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمَرْجُومِيـنَ ١١٦ |
انہوں(عمائدین)نے دہمکی دیتے ہوئےکہا"اگر تو، اے نوح ،از خود اس تبلیغ سے باز نہ آیا تو خبردار ہو جاؤ تجھے سنگسار کر دیا جائے گا"۔ Root: ر ج م |
|
قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ ١١٧ |
انہوں(نوح علیہ السلام)نے دعا فرمائی"میرے رب؛یہ حقیقت ہے کہ میری قوم نے مجھے برملا جھٹلا دیا ہے۔ |
|
فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَـهُـمْ فَتْحٙا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِى مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١١٨ |
چونکہ وہ ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اس لئے آپ جناب میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں،حتمی اور مطلق انداز میں۔اور مجھے ان کی صحبت سے نجات دیں اور صدق قلب سے ایمان لانے والوں میں ہر ایک کو جو میرے شانہ بشانہ ہے"۔ Root: ف ت ح |
|
فَأَنجَيْـنَٟهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِـى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ١١٩ |
Root: ف ل ك |
|
ثُـمَّ أَغْـرَقْنَا بَعْدُ ٱلْبَاقِيـنَ ١٢٠ |
بعد ازاں ہم جناب نے باقی ماندہ وقت سے پیچھے رہ جانے والوں کوڈبو دیا۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ١٢١ |
یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٢٢ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
كَذَّبَتْ عَادٌ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٢٣ |
تاریخ جان لو؛ قوم عاد نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔ |
|
إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ هُودٌأَ لَا تَتَّقُونَ ١٢٤ |
جب ان کے بھائی ھود(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟ |
|
إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٢٥ |
یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١٢٦ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَ مَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٢٧ |
اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔ |
|
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍٛ ءَايَةٙ تَعْبَثُونَ ١٢٨ |
کیا تم لوگ ہر بات کے موقع محل کے لئے ہر اونچے مقام پر ایک یادگار تعمیر کر دیتے ہو؟کیا ہی بیکار اور لامقصد کام تم لوگ کرتے ہو۔ Root: ع ب ث |
|
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّـكُـمْ تَخْلُدُونَ ١٢٩ |
اور تم لوگ کاریگری سے تعمیر کردہ محلات کو زیر مقصد مضبوط گڑھ کے طور اختیار کرتے ہو،اس امکان کے پیش نظر کہ تم دوام حاصل کر سکو۔ Root: ص ن ع |
|
وَإِذَا بَطَشْتُـم بَطَشْتُـمْ جَبَّارِينَ ١٣٠ |
اور جب تم نے کسی کو گرفت میں لیا تو گرفت میں لینے کا انداز جابرانہ اور وحشیانہ تھا۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١٣١ |
چونکہ ماضی کا طرز عمل قابل قدر نہیں تھااس لئے اب تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِىٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ ١٣٢ |
اور ان جناب سے اپنے طرز عمل میں محتاط رہتے ہوئے پناہ کے خواستگار بنو جنہوں نے تمہیں ان علوم میں وسیع دسترس دی ہے جو تم جانتے ہو۔ |
|
أَمَدَّكُم بِأَنْعَٟمٛ وَبَنِيـنَ ١٣٣ |
ان جناب نے تم لوگوں کو پالتو چوپایوں اور بیٹوں کے افرادی پھیلاؤ سے نوازا ہے۔ |
|
وَجَنَّٟتٛ وَعُيُونٍ١٣٤ |
اور باغات اور پانی کے چشموں کی وافر دستیابی سے نوازا ہے۔ |
|
إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٣٥ |
یہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں تم لوگوں پر ایک بڑے دن میں عذاب مسلط ہونے کے متعلق"۔ |
|
قَالُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ ٱلْوَٟعِظِيـنَ ١٣٦ |
ان عمائدین نے جواب دیا"چاہے آپ نے ہمیں درس ِنصیحت دے دیا یا چاہے آپ پندگو نہ بنیں ہم پریکساں معنی کا حامل ہے۔ Root: و ع ظ |
|
إِنْ هَٟذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٣٧ |
جہاں تک ان یادگاروں کا تعلق ہے تو یہ اولین نسل کے لوگوں کی تخلیق کردہ ہیں۔ |
|
وَمَا نَـحْنُ بِمُعَذَّبِيـنَ ١٣٨ |
اور ہم لوگ قطعی طور پر عذاب دئیے جانے والوں میں شمار نہیں ہوں"۔ |
|
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَـكْنَٟهُـمْۗ إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ١٣٩ |
چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔اس لئے اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے پر ہم جناب نے انہیں نیست و نابود کر دیا۔یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٤٠ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٤١ |
تاریخ جان لو؛ قوم ثنود نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔ |
|
إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ صَٟلِحٌ أَ لَا تَتَّقُونَ ١٤٢ |
جب ان کے بھائی صالح(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟ |
|
إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٤٣ |
یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَأَطِيعُونِ ١٤٤ |
اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَمَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ
أَجْرٍۖٛ |
اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔ |
|
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٤٥ |
اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔ |
|
أَتُتْـرَكُونَ فِـى مَا هَٟهُنَآ ءَامِنِيـنَ ١٤٦ |
کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں ان خوشگوار حالات جن میں تم مگن ہو امن و امان سے رہنے دیا جائے گا۔ |
|
فِـى جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ١٤٧ |
باغات اور پانی کے چشموں کی وافر دستیابی میں ۔ |
|
وَزُرُوعٛ وَنَخْلٛ طَلْعُهَا هَضِيـمٚ ١٤٨ |
اور کاشت کی ہوئی فصلوں اور کھجور کے درختوں کی وافر مقدار میں۔ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے خوشے ہاضم کا کردار ادا کرتے ہیں۔ |
|
وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتٙا فَٟرِهِيـنَ ١٤٩ |
اور تم لوگ نہایت ہنر مندی سے پہاڑوں میں سے جگہ کاٹ کر گھر بناتے ہو۔ Root: ن ح ت |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
چونکہ ماضی کا طرز عمل قابل قدر نہیں تھااس لئے اب تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَأَطِيعُونِ ١٥٠ |
اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْـرِفِيـنَ ١٥١ |
اور تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ اسراف اور انجام سے بے پرواہ طرز عمل پر کاربند لوگوں کے حکم کو تسلیم کرو۔ Root: س ر ف |
|
ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ١٥٢ |
یہ وہ لوگ ہیں جو معاشرے میں ذہنی و فکری انتشارسے بگاڑ پھیلاتے ہیں اورمعاشرے کو اصلاح کی جانب راغب کرنے پر تیار نہیں"۔ |
|
قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ١٥٣ |
انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا’’آپ تو محض سحر زدہ ہیں۔ Root: س ح ر |
|
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا |
تم ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔ |
|
فَأْتِ بِـَٔايَةٍٛ |
اگر تم واقعی رسول ہو تو جاؤ ایسی شہادت(آیت/معجزہ)کے ساتھ آؤ جوتصور،تجربہ،سائنسی توجیہ سےماورائے اِدراک ہوتے ہوئے سند اور برھان کی حیثیت رکھتی ہو ۔ |
|
إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ١٥٤ |
اگر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔ |
|
قَالَ هَـٰذِهِۦ نَاقَةٚ |
انہوں (صالح علیہ السلام) نے کہادیکھو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی ہوئی اونٹنی۔یہ تمہارے لئے مافوق الفطرت مشاہدے کا کردار ادا کرے گی۔ |
|
لَّـهَا شِرْبٚ وَلَـكُـمْ شِرْبُ يَوْمٛ مَّعْلُومٛ ١٥٥ |
پانی پینے کے لئے معلوم دن کو اس کی باری مقرر کی گئی ہے اور تم لوگوں کے پینے کے لئے پانی حاصل کرنے کی باری کا متعین دن ہے۔ |
|
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٛ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٥٦ |
اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اسے برائی /تکلیف پہنچانےکی نیت سے مت چھونا۔اگر تم نے ایسا کیا تو سب سے بڑے دن عذاب تم لوگوں کو پکڑ لے گا"۔ |
|
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَـٟدِمِيـنَ ١٥٧ |
جواب سےاٖحساس تلملاہٹ پر چونکہ خوف و ہراس پیدا کر کے اپنے دبدبہ کو برقرار رکجنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے تلوار سے اس اونٹنی کےپاؤں کاٹ کر معذور بنا دیا۔حماقت کا احساس ہونے پر عذاب کی تنبیہ سے پشیمان ہو گئے۔ |
|
فَأَخَذَهُـمُ ٱلْعَذَابُ |
چونکہ اس قسم کی حرکت کا انجام انہیں بتا دیا گیا تھا اس لئے حسب وعدہ منفرد عذاب نے انہیں گرفت میں لے لیا۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ |
یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔۔ |
|
وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٥٨ |
یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٥٩ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍٛ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٦٠ |
تاریخ جان لو؛ لوط(علیہ السلام)کی قوم نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔ |
|
إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ لُوطٌ أَ لَا تَتَّقُونَ ١٦١ |
جب ان کے بھائی لوط(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟ |
|
إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٦٢ |
یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَأَطِيعُونِ ١٦٣ |
اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَمَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ
أَجْرٍۖٛ |
اور اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔ |
|
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦٤ |
اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔ |
|
أَتَأْتُونَ ٱلذُّكْرَانَ مِنَ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦٥ |
کیا یہ سچ نہیں کہ تم لوگ مخصوص نر جنس والوں کے پاس آتے ہو جو دنیا میں ہم جنس پرستی کرتے ہیں۔ |
|
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَـكُـمْ رَبُّكُـم مِّنْ أَزْوَٟجِكُـم |
اور تم لوگ اسے ترک کرتے رہتے ہو جو تمہارے رب نے تمہاری بیویوں میں تمہارے جنسی اختلاط کے لئے تخلیق کیا ہے ( جملے میں حال محذوف ہے جو واضح ہےفرج)۔ Root: و ذ ر |
|
بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٌ عَادُونَ ١٦٦ |
جو بھی جواز بناتے ہو وہ غلط ہے،در حقیقت تم سرشار ہوکرحد سے باہر ہو جانے والے لوگ ہو۔ |
|
قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَٟلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِيـنَ ١٦٧ |
انہوں(عمائدین)نے کہا’’یہ تاکید ہے اگر تو اپنے آپ باز نہیں کیا اے لوط تو یقیناً تو شہربدر کئے لوگوں میں ہو جائے گا‘‘۔ |
|
قَالَ إِنِّـى لِعَمَلِـكُـم مِّنَ ٱلْقَالِيـنَ ١٦٨ |
انہوں(لوط علیہ السلام)نے جواب دیا’’یہ حقیقت ہے کہ میں ان میں سے ہوں جو شہر میں متنفر اور بیزار ہیں تم لوگوں کے اس کھلے عام معمول کےعمل کی وجہ سے‘‘۔ Root: ق ل و |
|
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِـى مِمَّا يَعْمَلُونَ ١٦٩ |
انہوں(لوط علیہ السلام)نے فریاد کی’’میرے رب، مجھے اور میرے اہل خانہ کو نجات دلائیں فوری اس سے جو ان لوگوں نے شہر میں معمول بنایا ہوا ہے‘‘۔ |
|
فَنَجَّيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْـمَعِيـنَ ١٧٠ |
ان کی فریاد پر ہم جناب نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نجات دلا دی،اجتماعی طور پر۔ |
|
إِلَّا عَجُوزٙا فِـى ٱلْغَٟبِـرِينَ ١٧١ |
سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت بھی ایمان لانے سے گریزاں حال میں تھی۔ |
|
ثُـمَّ دَمَّرْنَا ٱلۡءَاخَرِينَ ١٧٢ |
بعد ازاں ہم جناب نے شہر کے دوسرے باسیوں کو کچل دیا۔ Root: د م ر |
|
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهِـم مَّطَرٙا |
اور ہم جناب نے ان پر برسایا عذاب، چھڑکاؤ کے انداز اور اثرانگیزی سے۔ Root: م ط ر |
|
فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ١٧٣ |
چونکہ وہ برسات گرم لاوہ اور نوکدار شیشہ نما پتھروں سے تھا اس لئے وہ کیا ہی برا برسات تھا ان کا جنہیں بار بار متنبہ کیا گیا تھا۔ Root: م ط ر |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ |
یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔ |
|
وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٧٤ |
یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٧٥ |
اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
كَذَّبَ أَصْحَـٟـبُ لْـَٔيْكَةِ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٧٦ |
یاد رہے ؛(شیعب علیہ السلام کی قوم مدین کا مسکن)ٱلۡأَيْكَةِ میں بسنے والے لوگوں نے ان کی جانب مبعوث فرمائے رسولوں کے بیان کو برملا جھٹلایا تھا۔ |
|
إِذْ قَالَ لَـهُـمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ ١٧٧ |
جب شعیب(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟ |
|
إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٧٨ |
یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ |
|
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ |
اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔ |
|
وَأَطِيعُونِ ١٧٩ |
اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔ |
|
وَمَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ
أَجْرٍۖٛ |
اور اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔ |
|
إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٨٠ |
اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔ |
|
أَوْفُوا۟ ٱلْـكَـيْلَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُخْسِـرِينَ ١٨١ |
اور تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ پیمائش کو مکمل کر کے دو جب تم پیمانے کے معیار پر کاروبار کر رہے ہو؛اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو دوسروں کو خسارہ دیتے ہیں۔ Root: ك ى ل |
|
وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيـمِ ١٨٢ |
اور بالکل متوازن ترازو سے وزن کر کے دو۔ |
|
وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُـمْ |
اور تمہیں چاہئے کہ لوگوں کو خسارا نہ دو ان کی اشیاء کی پیمائش،وزن،مقدار میں کمی کر کے۔ Root: ب خ س |
|
وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ١٨٣ |
اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔ |
|
وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِى خَلَقَكُـمْ وَٱلْجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِيـنَ ١٨٤ |
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان جناب سے پناہ کے خواستگار رہو جنہوں نے تمہیں تخلیق کیا ہے اور ان کو جو کشیر تعداد میں پہلے گزر چکے ہیں"۔ |
|
قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ١٨٥ |
انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا’’آپ تو محض سحر زدہ ہیں۔ Root: س ح ر |
|
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا |
اورتم ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔ |
|
وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ١٨٦ |
اور حقیقت ہے کہ ہم آپ کے متعلق یہ گمان کر رہے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے بن گئے ہیں۔ |
|
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفٙا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ |
چونکہ آپ عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں اس لئے آپ آسمان سےہم پر پتھروں کے ٹکڑے برسا دیں۔ |
|
إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ١٨٧ |
ایسا کر کے دکھائیں اگر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔ |
|
قَالَ رَبِّـىٓ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٨٨ |
انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا"میرے رب بخوبی جانتے ہیں جن اعمال پر تم لوگ کاربند ہو"۔ |
|
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُـمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِ |
چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔چنانچہ اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے پرابر آلود دن کے عذاب نے انہیں گرفت میں لے لیا۔ Root: ظ ل ل |
|
إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٨٩ |
حقیقت یہ ہے کہ وہی بڑے دن کا عذاب تھا جس کی انہیں وعید (ھودؐ۔84)دی گئی تھی۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ |
یقینا ً ایک سبق اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔ |
|
وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٩٠ |
یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٩١ |
اور لوگ آپ (ﷺ)کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٩٢ |
جان
لیں؛یہ حقیقت ہے کہ وہ (قرءان مجید)یقیناً تمام موجودات کے رب کی جانب
سے موقع محل کی مناسبت سے بتدریج/سلسلہ وار انداز میں لوگوں کو
پہنچانے کے لئے بھیجا جا رہا ہے: |
|
أَوَ لَمْ يَكُن لَّـهُـمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُۥ عُلَمَاءُ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ١٩٧ |
کیا یہ بات ازخود سے ایسی شہادت نہیں ہے جو ان(عینی شہادت/معجزہ کا مطالبہ کرنے والے)کو اس کے من جانب اللہ ہونے کا ادراک دے سکے کہ بنی اسرائیل کے صاحبان علم ا س(قرءان مجید)کو جانتے ہیں۔ |
|
وَلَوْ نَزَّلْنَٟهُ عَلَـىٰ بَعْضِ ٱلۡأَعْجَمِيـنَ ١٩٨ |
چونکہ ان علماء کو پہلے سے علم ہے اس لئے اگر ہم جناب نے اس(قرءان مجید)کو عجمیوں میں سے کسی شخص پر بتدریج نازل کیا ہوتا؛ Root: ع ج م |
|
فَقَرَأَهُۥ عَلَيْـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ مُؤْمِنِيـنَ ١٩٩ |
جس پر اس عرب میں بسنے والے عجمی نے اسے(قرءان)کو انہیں (علمائے بنی اسرائیل) پڑھ کر سنایا ہوتا تو یقیناً ان میں سے کسی نے اس (قرءان)پر ایمان نہ لایا ہوتا۔ |
|
كَذَٟلِكَ سَلَـكْنَٟهُ فِـى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ٢٠٠ |
اس طرح حقائق کو بیان کرکر کے ہم جناب نے اس (قرءان)کوان مجرمین کے قلوب میں ڈال دیا ہے جو اسے مزاح بنانے کے خواہش مند ہیں۔ Root: س ل ك |
|
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٢٠١ |
ان کے قلوب میں داخل ہو جانے کے باوجود اس (قرءان مجید)پروہ ایمان نہیں لائیں گے، وہ تب ایمان لائیں گے جب المناک عذاب دیکھ لیں گے۔ |
|
فَيَأْتِيَـهُـم بَغْتَةٙ |
مگر اس وقت ایمان لانا سودمند نہ ہو گا کیونکہ وہ (المناک عذاب )ان پر اچانک پہنچ جائے گا |
|
وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٢٠٢ |
جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔ |
|
فَيَقُولُوا۟ هَلْ نَـحْنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣ |
دردناک عذاب دیکھ لینے اور ایمان کا اعلان کر لینے پر وہ کہیں گے"کیا ہم مہلت پانے والے بن سکیں گے (کہ صالح اعمال کریں)"۔ |
|
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٢٠٤ |
اے رسول کریم(ﷺ)کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے جلدی ظہور پذیر ہونے کے خواش مند ہیں؟ Root: ع ج ل |
|
أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَٟهُـمْ سِنِيـنَ ٢٠٥ |
کیا آپ(ﷺ)نے ان کی عجلت کی خواہش کے حوالے سے یہ غور /تصورکیا ہے،کہ اگر ہم نے کچھ سالوں کے لئے اسباب دنیا ان کو دئیے ہیں؛ Root: س ن ه |
|
ثُـمَّ جَآءَهُـم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ٢٠٦ |
بعد ازاں ان سالوں کے گزر جانے پر وہ ان کو پہنچ گیا جس کے متعلق ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے |
|
مَآ أَغْنَىٰ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ ٢٠٧ |
تومہلت کا وقت ختم ہو جانے پر ان سے سزا کی گرفت کو دور کرنے میں وہ کچھ کام نہ آیا جو اسباب دنیا ان کو دیا جا رہا تھا۔ |
|
وَمَآ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٍٛ إِلَّا لَـهَا مُنذِرُونَ ٢٠٨ |
یہ حقیقت مدنظر رہے کہ ہم جناب نے کسی بھی بستی/قوم۔تہذیب کو نیست و نابود نہیں کیا سوائے ان حالات میں کہ نتائج و عواقب سے پیشگی خبردار اور متنبہ کرنے والے بھیجے گئے تھے۔ |
|
ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٟلِمِيـنَ ٢٠٩ |
تنبیہ کی غایت یہ تھی کہ یاد رکھیں اور نصیحت لے لیں قبل اس کے کہ مجرم قرار پا کر سزا کے مستوجب ہو جائیں۔اور ہم جناب کبھی بھی زیادتی اور بے جا سزا دینے والے نہیں ہیں۔ |
|
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ ٱلشَّيَٟطِيـنُ ٢١٠ |
یاد رہے، شیاطین اپنے آپ اس(قرءان)کے ساتھ اوپر سے نیچے نہیں اترے تھے(جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ملائکہ اترے تھے)۔ |
|
وَمَا يَنۢبَغِى لَـهُـمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ٢١١ |
اور نہ ایسا کرنا ان کے لئے جائز قرار دیا گیا تھا اورنہ ان کے لئے یہ استطاعت حاصل کرنا ممکن تھا۔ |
|
إِنَّـهُـمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ٢١٢ |
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ(شیاطین)اس کو سننے کی صلاحیت سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں۔ Root: ع ز ل |
|
فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَ |
چونکہ وہ سن نہیں سکتے اس لئے آپ ہر سننے والے کو متنبہ کر دیں"تجھے چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی معبود سمجھ کر نہ پکارے۔ |
|
فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِيـنَ ٢١٣ |
اگر ایسا کیا تو انجام کار تیراشمار بھی ان میں ہو گا جو مستوجب عذاب قرار پا چکے ہیں"۔ |
|
وَأَنذِرْ عَشِيـرَتَكَ ٱلۡأَقْرَبِيـنَ ٢١٤ |
اور آپ(ﷺ) اپنے قبیلہ ،جوآپ کے زیادہ قریبی حقدار ہیں،کو متنبہ فرمائیں۔ Root: ع ش ر |
|
وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٢١٥ |
اور آپ(ﷺ)اپنا دست شفقت خصوصی طور پر اس کے لئے دراز کریں جس نے ایمان لانے والوں میں شامل ہو کر آپ کی خلوس سے پیروی کی ہے۔ |
|
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّـى بَرِىٓ ءٚ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٢١٦ |
آپ کے متنبہ کر دینے کے باجود اگر انہوں(قبیلے والے)نے آپ کے بیان کو ماننے سے انکار کر دیا ہے تو پھر آپ یہ اعلان کر دیں"حقیقت یہ ہے کہ میں اس سے بری الذمہ ہوں جو عمل تم لوگ کرتے ہو:۔ |
|
وَتَوكَّلْ عَلَـى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِـيـمِ ٢١٧ |
اور آپ اپنی ذمہ داری انجام دے لینے پر اچھے نتائج کے لئے ان پر بھروسہ کریں جو دائمی،ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غالب ہیں،اور منبع رحمت ہیں۔ |
|
ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِيـنَ تَقُومُ ٢١٨ |
وہ جناب جو مسلسل آپ کو دیکھتے رہتے ہیں جب آپ مصروف ہوتے ہیں |
|
وَتَقَلُّبَكَ فِـى ٱلسَّٟجِدِينَ ٢١٩ |
اور جب جب آپ ازخود سجدہ گزاروں کی جانپ پلٹتے ہیں۔ |
|
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٢٢٠ |
ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
هَلْ أُنَبِّئُكُـمْ عَلَـىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٟطِيـنُ ٢٢١ |
کیا میں تمہیں ہر وقت خبردار کرتا رہوں کہ کس پر شیطان صفت جن و انس ازخود اترتے رہتے ہیں؟ |
|
تَنَزَّلُ عَلَـىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيـمٛ ٢٢٢ |
وہ ازخود ہر اس شخص کے پاس ڈیرہ جماتے ہیں جو ہٹ دھرمی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی جھوٹ بولتا ہے اور ہمیشہ اچھائی سے کوتاہی کرتا ہے۔ Root: ء ف ك |
|
يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُـمْ كَٟذِبُونَ ٢٢٣ |
وہ دلفریب باتیں سماعتوں میں ڈالتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹ بولنے والے ہیں۔ |
|
وَٱلشُّعَـرَآءُ يَتَّبِعُهُـمُ ٱلْغَاوُۥنَ ٢٢٤ |
(اور خبردار کروں)عمومی طور پر جانے پہچانے شاعروں کی شوق سے پیروی وہ کرتے ہیں جوحدوں سے تجاوز وشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے لوگ ہیں۔ Root: غ و ى |
|
أَ لَمْ تَرَ أَنَّـهُـمْ فِـى كُلِّ وَادٛ يَـهِيمُونَ ٢٢٥ |
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ(شاعر)پیاسے اونٹوں کی طرح تخیل کی ہر وادی میں آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں۔ |
|
وَأَنَّـهُـمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ٢٢٦ |
اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں جن پر خود انہوں نے ایک بار بھی عمل نہیں کیا۔ |
|
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيـرٙا |
یہ بات سوائے ان کے جو ایمان لے آئے اور صالح اعمال پر کاربند ہو گئے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے سب شعراء پر لاگو ہوتی ہے۔ |
|
وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ |
اور انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت صلوٰۃ اورعزم سے اپنے پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود خود کو محکم کیا۔ |
|
وَسَيَعْلَمْ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٛ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧ |
اور جنہوں نے ظلم و ستم کیا وہ جلد جان لیں گے کہ کون حیثیت میں اوندھا ہو کراوندھا ہی رہے گا۔ |
![]()
027- سُوۡرَةُ النمل
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
طسٓ |
عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ بمع آواز کی طوالت کانشان۔یہ زیر بیان القرء ان کی جزئیات (آیات)ہیں۔اور یہ اس کتاب کی مندرجہ جزئیات ہیں جس کا بنیادی وصف حقائق مستور اور ہر حقیقت کو روشن،ممتاز اور بالکل واضح اور آشکار کر دینے والے کا ہے۔(الحجر۔١) |
|
هُدٙى وَبُشْـرَىٰ لِلْمُؤْمِنِيـنَ ٢ |
اوریہ (آیات قرء ان)ایمان والوں کے لئے ہدایت، رہنمائی اوراچھے انجام کی خوشخبری،ضمانت دیتی ہیں۔ |
|
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ |
وہ
مدعیان ایمان جواستقلال
و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں
اوراور معاشرے کے نطم و نسق اور معاشی
اٹھان کے لئے مالی تعاون ؍ زکوۃ کی ادائیگی کرتے
رہتے ہیں۔ Root: ز ك و |
|
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلۡءَاخِـرَةِ زَيَّنَّا لَـهُـمْ أَعْمَٟلَـهُـمْ |
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو آخرت کے موجود ہونے کو ماننے سے انکار پر بضد رہتے ہیں ہم جناب نے ان کے اعمال کو ان کے لئے سامان تزئین رہنے دیا ہے۔ |
|
فَهُـمْ يَعْمَهُونَ ٤ |
اس سوچ اور رویئے کے اشتراک کی بنا وہ بیوقوفانہ، احمقانہ، بہکی سرگرمیوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ |
|
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ |
یہ ہیں وہ لوگ۔جسمانی اور نفسیاتی تکلیف دہ سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔ |
|
وَهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمُ ٱلۡأَخْسَـرُونَ ٥ |
اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بدترین نقصان اٹھانے والے ہیں۔ |
|
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيـمٍٛ عَلِيـمٍ٦ |
یہ حقیقت ریکارڈ پر رہے،یقیناً آپ(ﷺ) ہیں جنہیں مسودہ قرءان مجید ان جناب کی جانب سے دستی پیش کیا جا رہا ہے جو تمام نظام کے فرمانروا ہیں اور منبع علم ہیں۔ Root: ل د ن |
|
إِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِأَهْلِهِۦٓ |
ان کی سوانح عمری کے متعلق مزید مطلع ہوں جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہم سفر اہل خانہ سے کہا: |
|
إِنِّـىٓ ءَانَسْتُ نَارٙا سَـَٔاتِيكُـم مِّنْـهَا بِخَبَـرٍٛ |
"یہ حقیقت ہے کہ میں نے دور آگ کے موجود ہونے کو محسوص کیا ہے۔ اس لئے میں جلد وہاں سے کوئی اطلاع لے کر تم لوگوں کے پاس لوٹ آؤں گا۔ |
|
أَوْ ءَاتِيكُـم بِشِهَابٛ قَبَسٛ لَّعَلَّـكُـمْ تَصْطَلُونَ ٧ |
یا میں وہاں سے سلگتے کوئلے لے کر تمہارے پاس آ جاؤں گا تاکہ تم گرمائش کے لئے سینک سکو"۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِـى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَـهَا |
اہل خانہ سے روانہ ہو کر جوں ہی وہ (موسیٰ علیہ السلام)اس کے پاس پہنچ گئے انہیں پکارکر بتایا گیا کہ انہیں ہر شئے کے مقابل دوام اور ثبات ہے جو تمہارے سامنے اس جلتی آگ کے اندر خلا میں موجود ہیں اور جو بیک وقت اس آگ کے اردگرد ماحول میں بھی موجود ہیں۔ |
|
وَسُبْحَٟنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٨ |
اللہ تعالیٰ حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں۔ |
|
يَٟمُوسَـىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٩ |
اس پکار میں انہوں نے یہ سنا"اے موسیٰ!توجہ سے اس حقیقت کو سن؛ میں اللہ تعالیٰ ہوں؛میں دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہوں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کا فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والا ہوں"۔ |
|
وَأَ لْقِ عَصَاكَ |
اور انہوں نے مزید سنا"آپ اپنی عصا کو اپنے سامنے زمین پر پھینک دیں"۔ Root: ع ص و |
|
فَلَمَّا رَءَاهَا تَـهْتَزُّ كَأَنَّـهَا جَآنّٚ |
تعمیل حکم پر جوں ہی انہوں نے چھڑی پھینک دی تو دیکھا کہ وہ تو ازخود اس انداز میں حرکت کر رہی ہے جیسے وہ حقیقت میں کوبرا سانپ ہے۔ Root: ھ ز ز |
|
وَلَّـىٰ مُدْبِرٙا وَلَمْ يُعَقِّبْ |
تو وہ فوراً پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے اور انہوں نے پیچھے منہ موڑ کر نہیں دیکھا(ظاہر ہوتا ہے وہ جانتے تھے کوبرا آنکھوں پر زہر دور سے پھینک سکتا ہے)۔ |
|
يَٟمُوسَـىٰ لَا تَخَفْ إِنِّـى لَا يَخَافُ لَدَىَّ ٱلْمُرْسَلُونَ ١٠ |
انہیں پکارا گیا"اے موسیٰ؛(واپس اس مقام پرروبرو ہوں) تجھے ڈرنا نہیں چاہئے۔یہ حقیقت ہے کہ میں یہاں ہوں۔میرے حضور ہوتے ہوئے رسول مقرر کر کے بھیجے جانے والے خوف محسوس نہیں کرتے۔ |
|
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُـمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعْدَ سُوٓءٛ فَإِنِّـى غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ١١ |
سوائے اس کے جس نے فرائض رسالت سے ازخود ہٹا لیا،بعد ازاں احساس کر لینے اور تکلیف سہہ لینے پر انہوں نے بہتر حسن کارکردگی میں تبدیل کر دیا توہم نے درگزر کر دیا کیونکہ ہمارے بارے یہ حقیقت ہے کہ اکثر و بیشتر کوتاہیوں سے پردہ پوشی کرتے ہوئے معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔ |
|
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِـى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ
سُوٓءٛ |
اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کراپنی بغل میں ضم کریں۔باہر نکالنے پر اس کی ہتھیلی سفید چمکتی حالت میں ہو گی،ہر قسم کے داغ دھبے سے منزا۔ |
|
فِـى تِسْعِ
ءَايَٟتٍٛ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِۦٓ |
یہ دونوں نو عدد عینی مشاہدہ کے لئے ان شہادتوں (آیات/معجزات )میں شمار ہیں جن کی مصاحبت میں آپ فرعون اور اس کی قوم کی جانب روانہ ہو رہے ہیں جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کریں گی کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔ |
|
إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَوْمٙا فَٟسِقِيـنَ ١٢ |
ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جن کی سرشت وعدہ خلافی اورطے شدہ معاملات سے تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنا ہے"۔ Root: ف س ق |
|
فَلَمَّا جَآءَتْـهُـمْ ءَايَٟتُنَا مُبْصِرَةٙ
قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٚ مُّبِيـنٚ ١٣
|
مگر جوں ہی تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے
ماورا ہماری شہادتیں(آیات/معجزات)ان کو پہنچ گئیں،روز روشن کی طرح
بصیرت افروز انداز میں، آنکھیں کھول دینے والی:توانکار کرنے والے عمائدین نے
کہا"یہ تو سوائے صریحاً طلسماتی
شعبدہ بازی اور فریب نظر کے حقیقت میں کچھ نہیں"۔
Root:
س ح ر
|
|
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٟنَ عِلْمٙا |
قدیم تاریخ سے آگاہ ہو جاؤ؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے داوود اور سلیمان (علیہما السلام)کو علم عنایت فرمایا تھا۔ |
|
وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَـىٰ كَثِيـرٛ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٥ |
اور ان دونوں نے اس عنایت علمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد ہمیشہ کیلئے مختص ہے۔وہ جناب ہیں جنہوں نے اپنے صدق قلب سے ایمان لانے والے بندوں کی اکثریت پر ہمیں اس معاملے میں ترجیح اور افضلیت سے نوازا ہے۔ |
|
وَوَرِثَ سُلَيْمَٟنُ دَاوُۥدَ |
اور سلیمان(علیہ السلام)داوود(علیہ السلام)کی وفات پر ان کے وارث بنے۔ Root: و ر ث |
|
وَقَالَ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْـرِ |
جان لو؛انہوں (سلیمان علیہ السلام)نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا"اے لوگو سنو؛ہمیں پرندوں کے صوتی انداز مواصلت کو سمجھنے کے علم سے بہرا مند فرمایا گیا ہے۔ Root: ن ط ق |
|
وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَـىْءٛ |
اور ہمیں ہر طرح کےاسباب دنیا میں سے عنایت فرمایا گیا ہے۔ |
|
إِنَّ هَـٰذَا لَـهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِيـنُ ١٦ |
یقیناً یہ (عنایت علمیت اور اسباب دنیا)بلاشبہ نمایاں فضل کا اظہار ہے۔ |
|
وَحُشِـرَ لِسْلَيْمَٟنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْـرِ |
اس دور کی تاریخ جان لو؛سلیمان(علیہ السلام)کے ایک مشن کے لئے ان کے لشکروں کو اکٹھا کیا گیا جو جنات اور انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے۔ |
|
فَهُـمْ يُوزَعُونَ ١٧ |
مجتمع ہو جانے پر انہیں صف بستہ کر دیا گیا۔ |
|
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْا عَلَـىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ |
لشکر رواں دواں ہو کر جب ایک مخصوص جنس کی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچا۔ Root: و د ى |
|
قَالَتْ نَمْلَةٚ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُوا۟ مَسَٟكِنَكُـمْ |
ملکہ چیونٹی نے حکم دیا"اے چیونٹوں،اپنے مساکن /بلوں میں داخل ہو جاؤ۔ |
|
لَا يَحْطِمَنَّكُـمْ سُلَيْمَٟنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٨ |
سلیمان (علیہ السلام)اور ان کے لشکر کہیں تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ انہیں اس کا احساس و شعور بھی نہ ہو "۔ |
|
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٙا مِّن قَوْلِـهَا |
چونکہ وہ ان کے انداز بیان کو سمجھتے تھے اس(ملکہ چیوٹی)کے قول کی فصاحت و بلاغت سے لطف اندوز ہوتے ہوئےمسکرائے۔ Root: ض ح ك |
|
وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِـىٓ أَنْعَمْتَ عَلَـىَّ وَعَلَـىٰ وَٟلِدَىَّ |
اور انہوں نے کہا"اے میرے رب!مجھے خواہشات نفس پر قابو پانے کی استطاعت نصیب فرما کہ میں آپ جناب کی عنایات کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین کو نوازا ہے۔ Root: و ز ع |
|
وَأَنْ أَعْمَلَ صَٟلِحٙا تَرْضَىٰهُ |
اور یہ کہ میں صالح اعمال پر عمل پیرا رہوں اس نیت سے کہ وہ آپ کی رضا مندی /پذیرائی پانے کا موجب ہو۔ |
|
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْـمَتِكَ فِـى عِبَادِكَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٩ |
اور از راہ کرم آپ جناب مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کریں جنہیں آپ صالح قرار دیتے ہیں"۔ |
|
وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيْـرَ فَقَالَ مَالِـىَ لَآ أَرَى ٱلْـهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ ٱلْغَآئِبِيـنَ ٢٠ |
اور انہوں نے معائنہ کرتے ہوئے پرندے کو غائب پایا؛اس پر انہوں نے کہا"کیا وجہ ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ پا رہا۔یا وجہ یہ ہے کہ وہ موقع پر سے غائب ہو گیا ہے۔ Root: ف ق د |
|
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٙا شَدِيدًا أَوْ لَأَا۟ذبَحَنَّهُۥٓ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ٢١ |
میں اسے سزا دوں گا،شدید نوعیت کی سزا ؛یا میں اسے ذبح کر دوں گا؛وگرنہ میرے پاس اپنے غیر حاضر ہونے کا معقول اور واضح ثبوت وہ پیش کرے"۔ |
|
فَمَكَثَ غَيْـرَ بَعِيدٛ |
یہ کہنے کے بعد انہوں کچھ زیادہ دیر انتظار نہیں کیا کہ وہ آ گیا۔ Root: م ك ث |
|
فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٛ يَقِيـنٍ ٢٢ |
حاضر ہو کر اس(ہدہد)نے کہا"میں نے اس بات کو معلوم کیا ہے جس کے بارے معلومات آپ کے احاطہ علم میں نہیں۔اور آپ کے پاس سباء سے ایک حتمی خبر لایا ہوں۔ Root: ح و ط |
|
إِنِّـى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةٙ تَمْلِـكُهُـمْ |
میں نے وہاں پایا کہ ایک عورت ان پر حکمرانی کرتی ہے۔ |
|
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَـىْءٛ |
اور اس عورت کو ہر طرح کا سامان زیست عنایت کیا گیا ہے۔ |
|
وَلَـهَا عَـرْشٌ عَظِيـمٚ ٢٣ |
اور ایک عالی شان تخت اس کے بحثیت حکمران بیٹھنے کے لئے ہے۔ Root: ع ر ش |
|
وَجَدتُّـهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ |
میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ سورج کے لئے سجدہ ریز ہوتے ہوئے پایا ہے۔ |
|
وَزَيَّنَ لَـهُـمُ ٱلشَّيْطَٟنُ أَعْمَٟلَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ |
اور شیطان نے ان کے اس طرز عمل کو جس پر وہ کاربند ہیں ان کے لئے باتکرارخوشنما اور دل کش بنا دیا ہے۔اور یوں انہیں راہ راست سے موڑ /منحرف کردیا ہے۔
|
|
فَهُـمْ لَا يَـهْتَدُونَ ٢٤ |
اس کا شاخسانہ یہ ہے کہ وہ متمنی ہدایت نہیں ہوتےـ۔ |
|
أَلَّا يَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
شیطان نے ان کے اعمال کو خوشنما اس لئے بنایا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے سربسجود نہ ہوں جو جناب اس کو جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہے باہر نکالتے رہتے ہیں"۔ Root: س ج د |
|
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٢٥ |
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو تم سینوں میں پوشیدہ رکھتے ہو اور اس کو جو تم لوگ کھل کر کہتے ہو۔ Root: ع ل ن |
|
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ |
اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔ |
|
رَبُّ ٱلْعَـرْشِ ٱلْعَظِيـمِ۩ ٢٦ |
وہ جناب یکتا اور عظیم الشان تخت اقتدار کے رب ہیں۔ Root: ع ر ش |
|
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٢٧ |
سلیمان علیہ السلام نے کہا"ہم جلد اس کا جائزہ لیں گے کہ کیا تم نے سچ بیان کیا ہے یا دروغ گوئی کرنے والوں میں سے تو ثابت ہوتا ہے۔ |
|
ٱذْهَب بِّكِتَٟبِى هَـٰذَا فَأَ لْقِهْ إِلَيْـهِـمْ |
تو میرے خط کو لے کر رونہ ہو جا،یہ پکڑ؛جب وہاں پہنچ جائے تو اسے زمین پر اس طرح ڈال دے کہ وہ دیکھ لیں۔ |
|
ثُـمَّ تَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ٢٨ |
بعد ازاں یہ دیکھ کر کہ انہوں نے خط اٹھا لیا خود کو ان سے پھیر لینا۔پھر کسی جگہ سے دیکھنا کہ وہ اس پر کیا رد عمل دکھاتے ہیں"۔ |
|
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟ |
ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں۔ Root: م ل ء |
|
إِنِّـىٓ أُلْقِىَ إِلَـىَّ كِتَٟبٚ كَرِيـمٌ ٢٩ |
آپ کے علم میں اس حقیقت کو لانا ہے کہ ایک انتہائی نفیس مکتوب کو میرے روبرو پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ Root: ك ر م |
|
إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٟنَ وَإِنَّهُۥ |
یہ (مکتوب)سلیمان (علیہ السلام)نے مجھے پہنچانے کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کا ابتدائیہ یہ ہے: |
|
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ ٣٠ |
’’اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے،وہ جناب منبع رحمت ہیں۔ |
|
أَ لَّا تَعْلُوا۟ عَلَـىَّ وَأْتُونِـى مُسْلِمِيـنَ ٣١ |
اور یہ لکھا ہے کہ آپ لوگ اپنے آپ کومجھ پر سربلند نہ سمجھیں اور میرے پاس آپ زیرنگیں حالت میں سلامتی سےآئیں‘‘۔ |
|
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِـى فِـىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢ |
ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں!۔مجھے درپیش معاملے میں میری پنہاں کو جاننے میں معاونت کریں۔آپ جانتے ہیں کہ میں کسی بھی معاملہ کو حتمی نہیں کرتی جب تک آپ نے میرے ساتھ اس کا جائزہ نہیں لیا"۔ |
|
قَالُوا۟ نَـحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٛ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٛ شَدِيدٛ |
انہوں نے کہا"ہم طاقت کے مالک ہیں اور ہم زبردست جنگی صلاحیت رکھتے ہیں۔ |
|
وَٱلۡأَمْـرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣ |
مگر معاملے کا فیصلہ کرنا آپ کی صوابدید ہے۔اس لئے آپ دیکھیں کہ آپ نے ہمیں کیا حکم دینا ہے"۔ |
|
قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا۟
قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا
وَجَعَلُوٓا۟ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةٙ |
ملکہ نے کہا"حقیقت یہ ہے کہ جب بادشاہ فاتح بن کر کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو الٹ پلٹ کر دیتے ہیں۔اور اس بستی کے معززین کو مغلوب،کمزور،گھٹیا قرار دے دیتے ہیں۔ |
|
وَكَذَٟلِكَ يَفْعَلُونَ ٣٤ |
اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اسی طرح کا فعل کرتے ہیں۔ |
|
وَإِنِّـى مُرْسِلَةٌ إِلَيْـهِـم بِـهَدِيَّةٛ فَنَاظِرَةُۢ بِـمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ ٣٥ |
میں ان کی جانب تحائف کے ساتھ خیر سگالی کا پیغام بھیجنے لگی ہوں۔اس کے بعد دیکھوں گی اس کے مطابق جوقاصد پیغام واپس لاتے ہیں"۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٟنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٛ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْـرٚ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُـم |
ملکہ نے قاصد ارسال کر دئییے۔جوں ہی وہ سلیمان(علیہ السلام)کے دربار میں پہنچے تو انہوں نے ان سے کہا"کیا تم لوگ مال و دولت سے مجھے مرعوب کرنا چاہتے ہو۔تو پھر یہ جان لو کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عنایت کیا ہے وہ اس سے کہیں بہترین ہے جو انہوں نے تم لوگوں کو عنایت کیا ہے۔ |
|
بَلْ أَنتُـم بِـهَدِيَّتِكُـمْ تَفْرَحُونَ ٣٦ |
محض مرعوب کرنا نہیں ہے بلکہ تم لوگ اپنے تحفہ سے اپنی خوشحالی پر نازاں ہونے کا اظہار کر رہے ہو۔ Root: ف ر ح |
|
ٱرْجِعْ إِلَيْـهِـمْ فَلَنَأْتِيَنَّـهُـم بِجُنُودٛ لَّا قِبَلَ لَـهُـم بِـهَا |
ان سرداروں کی جانب لوٹ جاؤ۔چونکہ انہوں نے مرعوب کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے ہم عنقریب ان کے پاس ایسے لشکروں کے ساتھ آئیں گے جن کا اپنی موجودہ طاقت سےسامنا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ |
|
وَلَنُخْرِجَنَّــهُـم مِّنْـهَآ أَذِلَّةٙ وَهُـمْ صَٟغِـرُونَ ٣٧ |
اور یقیناً ہم انہیں ان کے گھمنڈ سے نکال باہر کریں گے ان پر غلبہ حاصل کر کے جس پر وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں گے"۔ |
|
قَالَ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُـمْ يَأْتِينِى بِعَـرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِـى مُسْلِمِيـنَ ٣٨ |
انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے استفسار کیا"اے سرداروں!آپ میں کون ہے جو میرے پاس ان محترمہ کے شاہی تخت کو لے آئے اس سے قبل کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع و فرمانبردار بن کر پہنچ جائیں؟‘‘ |
|
قَالَ عِفْرِيتٚ مِّن ٱلْجِنِّ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن
تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ |
عفریت نامی سردار جن کا تعلق جنات سے تھے نے کہا’’میں آپ کے پاس اس(تخت)کو لے آوں گا اسے قبل کے آپ اپنی نشست سے محفل برخواست کر کے اٹھیں۔ |
|
وَإِنِّـى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِيـنٚ ٣٩ |
اور میں یہ کام انجام دینے کی قوت رکھتا ہوں اورذمہ داری کو نباھنے والا ہوں‘‘۔ |
|
قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٚ مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ
قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ |
ایک سردار نے کہا جسے مخصوص کتاب(ام
الکتاب)میں سے ان جناب کی جانب سے معلومات/علم دیا گیا تھا’’میں آپ کے
پاس اس(تخت)کو پہنچا دوں گا قبل اس کے کہ آپ
کی جھپک آپ کی جانب اصل مقام پر پلٹے‘‘۔ |
|
قَالَ نَكِّرُوا۟ لَـهَا عَـرْشَهَا نَنظُرْ أَتَـهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَـهْتَدُونَ٤١ |
انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے حکم دیا’’ان محترمہ کے تخت کوآپ لوگ اس کے پہلی نظر کے لئے کچھ غیر معروف بنا دو،۔ہم دیکھنا چاہیں گے کہ آیا وہ دلچسپی لے کرسیدھی راہ کو سمجھتی ہے یا پھراس کا رویہ اور انداز ان لوگوں جیسا ہی ہے جو متمنی ہدایت نہیں ہوتےـ‘‘۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَـرْشُكِ |
چونکہ ملکہ کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اس لئے جوں ہی استقبالیہ مقام پر پہنچیں تو ان کے لئے کہا گیا’’آپ کا تخت،ملکہ محترمہ،اس کو دیکھیں‘‘۔ Root: ع ر ش |
|
قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ |
انہوں(ملکہ)نے ایک نظر دیکھ کر کہا’’اس کی مماثلت تو ایسے ہے جیسے یہ وہ ہی ہے(یعنی میرا تخت)۔ |
|
وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِـهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيـنَ ٤٢ |
اور ہمیں سفر شروع کرنے سے قبل معلومات مل چکی تھیں اور ہم مطیع و فرمانبردار بن کر امن و صلح سے رہنے کا فیصلہ کر چکے تھے‘‘۔ |
|
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِ |
۔۔ہم جناب بتاتے ہیں کہ(اچھی بھلی عقلمند خاتون تھیں)اس عادت نے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اورکی عبادت کرتی تھی اسے اردگرد کی دنیا سے دور کیا ہوا تھا۔۔ |
|
إِنَّـهَا كَانَتْ مِن قَوْمٛ كَٟفِرِينَ ٤٣ |
۔۔یہ حقیقت ہے کہ اس کا شمار اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والی قوم میں کیا جاتا تھا۔۔ |
|
قِيلَ لَـهَا ٱدْخُلِـى ٱلصَّرْحَ |
(جملہ معترضہ سے پلٹتے ہیں استقبالیہ تقریب کے متعلق)۔ان(ملکہ)کے لئے کہا گیا’’آپ محل کے صحن میں تشریف لے چلیں‘‘۔ Root: ص ر ح |
|
فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةٙ وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْـهَا |
اس پر سواری سے اتر کر جوں ہی اس سے اسے(صحن)کو دیکھا تو اس نے گمان کیا جیسے سطح سے ابھرے پانی سے بھرا ہو۔اور اس خیال کی حالت میں اس نے اپنے نچلے پہناوے کو اٹھا کرٹخنوں سے گھتنوں تک اپنی پنڈلیوں کو ننگا کر دیا۔ |
|
قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٚ مُّمَـرَّدٚ مِّن قَوارِيرَ |
ان کی اس بے خیالی میں کی ہوئی حرکت اور خجالت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے واضح کیا’’درحقیقت یہ ایسا صحن ہے جسے بالکل ہموار اور استوارشیشوں کے استعمال سے کیا گیا ہے‘‘۔ |
|
قَالَتْ رَبِّ إِنِّـى ظَلَمْتُ نَفْسِى |
(گمان اور حقیقت کے فرق نے عقل کے دریچے کھول دئیے)اس(ملکہ)نے فوراً کہا’’اے میرے رب! یہ حقیقت ہے کہ میں نے حقیقت کی بجائے تخیل اور گمان کو اپنا پر اپنے آپ پر زیادتی کی ہے۔ |
|
وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَٟنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٤٤ |
اور میں سلیمان(علیہ السلام)کی معیت میں مطلق اللہ تعالیٰ کے حضور پرخلوص انداز میں سرنگوں ہو گئی ہوں،وہ جناب تمام موجودات کے مطلق رب ہیں‘‘۔ |
|
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَـىٰ ثَمُودَ أَخَاهُـمْ صَٟلِحًا |
اورہم جناب نے صالح (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم ثمودکی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔ |
|
أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ |
انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو"۔ |
|
فَإِذَا هُـمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ٤٥ |
رسول اللہ کے تبلیغ کرنے پر جب وہ دو متحارب فریق بن گئے توبڑھ چڑھ کر اپنے اپنے نکتہ نظر کے دفاع میں الجھنے لگے۔ Root: خ ص م |
|
قَالَ يَٟقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ
ٱلْحَسَنَةِ |
انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!تعجب ہے تم لوگ کیوں عذاب لانے میں عجلت کی خواہش کر رہے ہو خوشگواری سے قبل ۔ Root: ع ج ل |
|
لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ |
کیوں اللہ تعالیٰ سے تم لوگ معافی پانے کے خواہش مند نہیں بن رہے۔ |
|
لَعَلَّـكُـمْ تُرْحَـمُونَ ٤٦ |
ایساکرو تاکہ تم لوگوں پر رحم کیا جائے(دوزخ سے بچا لیا جائے)۔ |
|
قَالُوا۟ ٱطَّيَّـرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ |
ان انکار کرنے والے عمائدین نے کہا"ہم اپنے آپ کو منحوس سمجھتے ہیں آپ کے ساتھ اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے جو آپ کی معیت میں ہیں"۔ |
|
قَالَ طَٟٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِ |
انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"تم لوگوں کی نحوست کا سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیان کر دیا گیا ہے۔ |
|
بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٚ تُفْتَنُونَ ٤٧ |
مسئلہ نحوست نہیں،درحقیقت تم ایک ایسی قوم ہو جو اس دھات کے مثل ہے جسے کھٹالی میں کھوٹ کو الگ کرنے کے لئے ڈال دیا گیا ہے"۔ |
|
وَكَانَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٛ |
یہ بھی جان لو،،نو افراد پر مشتمل ایک گروہ شہر میں مشہورو معروف تھا۔ Root: ر ھ ط |
|
يُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ٤٨ |
وہ معاشرے میں ذہنی و فکری انتشارسے بگاڑ پھیلاتے رہتے تھے اورمعاشرے کو اصلاح کی جانب راغب کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔ |
|
قَالُوا۟ تَقَاسَـمُوا۟ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ |
انہوں نے اپنی محفل میں کہا"اللہ تعالیٰ کی سب قسم اٹھا کر عہد کرو کہ ہم رات میں اس پر اور اس کے اہل خانہ پر حملہ کریں گے۔ Root: ق س م |
|
ثُـمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٟدِقُونَ ٤٩ |
بعد ازاں ہم اس کے خاندان میں سےوارث کے لئے یہ بیان دیں گے"ہم نے اس کے اہل خانہ کو ہلاک کرنے والے کو نہیں دیکھا۔اور یہ کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں"۔ |
|
وَمَكَـرُوا۟ مَكْـرٙا وَمَكَـرْنَا مَكْـرٙا |
اس طرح انہوں نے اس سازش کوتیار کیا اور ہم جناب نے منصوبہ پہلے سے تیار کیا ہوا تھا۔ Root: م ك ر |
|
وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٥٠ |
مگر انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں تھا۔ |
|
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ مَكْرِهِـمْ |
چونکہ ہم جناب کی تدبیر ہمیشہ اعلیٰ و ارفع ہے اس لئے غور کرو کہ ان کی تیار کردہ سازش کا آخر انجام کتنا اندوہناک تھا۔ Root: م ك ر |
|
أَنَّا دَمَّرْنَٟهُـمْ وَقَوْمَهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٥١ |
کہ ہم جناب نے انہیں (نو افراد)اور ان کی قوم کو کچل دیا،اجتماعی انداز میں۔ Root: د م ر |
|
فَتِلْكَ بُيُوتُـهُـمْ خَاوِيَةَ |
چونکہ قوم تو نیست و نابود کر دی گئی تھی اس لئے اب ان کے یہ گھر ہیں،اوندھے ملبہ حالت میں،ایساان کے ساتھ ان کے حقیقت کے منافی باطل روئیے کو اپنائے رکھنے کی وجہ سے ہوا۔ Root: خ و ى |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٥٢ |
یقینا اتاریخ کے بیان اور ان کھنڈرات کے عینی مشاہدہ میں ایسی شہادت ہے جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ |
|
وَأَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٥٣ |
۔اور ہم جناب نے ان کو بحفاطت وہاں سے نکال دیا تھا جو ایمان لائے تھے اور وہ محتاط طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار تھے۔ |
|
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ |
اورہم جناب نے لوط(علیہ السلام) کو اپنا رسول بنایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ کرنے کے لئے کہا۔ |
|
أَتَأْتُونَ ٱلْفَٟحِشَةَ وَأَنتُـمْ تُبْصِرُونَ ٥٤ |
کیا یہ سچ نہیں کہ تم لوگ فحاشی/جنسی بے راہروی میں اِس اجتماعی انداز میں ملوث ہوتے ہو کہ تم لوگ کھلے عام اِس کا نظارا کر رہے ہوتے ہو؟ Root: ف ح ش |
|
أَئِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلـرِّجَالَ شَهْوَةٙ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ |
کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لو گ بیویوں کے علاوہ مر دوں کے پاس آتے ہو جنسی خواہش بجھانے کیلئے؟ Root: ش ھ و |
|
بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٚ تَجْهَلُونَ ٥٥ |
نہیں؛[کوئی طبعی وجہ نہیں]درحقیقت تم لوگ جذبات پرستی میں مشغول اور مغلوب رہنے والی قوم ہو“۔ |
|
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ
إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوٓا۟
ءَالَ لُوطٛ مِّن قَرْيَتِكُـمْ |
جان لو ان کی اصلیت؛چونکہ استدلال اور جواز بتانے سے قاصر تھے اس لئےان کی قوم کے عمائدین کے پاس سوائے لوگوں سے یہ کہنے کے کوئی جواب نہ تھا’’لوط (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ |
|
إِنَّـهـمْ أُنَاسٚ يَتَطَهَّرُونَ ٥٦ |
وہ درحقیقت ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں سے الگ تھلگ پاکیزہ سمجھتے ہیں‘‘۔ |
|
فَأَنجَيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥٓ |
چونکہ ان کے لئے مقرر کردہ مدت کا اختتام قریب تھا اس لئے حسب وعدہ ہم جناب نے انہیں(لوط علیہ السلام)اور ان کے اہل خانہ کو بحفاطت اس علاقے سے نجات دی۔ |
|
إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَٟهَا مِنَ ٱلْغَٟبِـرِينَ ٥٧ |
سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت بھی ایمان لانے سے گریزاں حال میں تھی۔ |
|
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهِـم مَّطَرٙا |
اور ہم جناب نے ان پر برسایا عذاب، چھڑکاؤ کے انداز اور اثرانگیزی سے۔ Root: م ط ر |
|
فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ٥٨ |
چونکہ وہ برسات گرم لاوہ اور نوکدار شیشہ نما پتھروں سے تھا اس لئے وہ کیا ہی برا برسات تھا ان کا جنہیں بار بار متنبہ کیا گیا تھا۔ Root: م ط ر |
|
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَٟمٌ عَلَـىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ
ٱصْطَفَىٰٓ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیا ہے۔اور ادب و احترام سے ان جناب کے ان مخلَص بندوں پر سلام کہنا لوگوں پر واجب ہے جنہیں انہوں نے ذاتی طور پر تخلیقات میں برگزیدہ ، اشرف اور ممتاز قرار دیا ہے"۔ Root: ص ف و |
|
ءَآللَّهُ خَيْـرٌ أَمَّا يُشْـرِكُونَ ٥٩ |
کیا وہ اس نکتے پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ہر حوالے سے اعلیٰ اور بہترین ہیں یا وہ جنہیں وہ ان کاشریک گردانتے رہتے ہیں۔ |
|
أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ |
یا اس زاوئیے سے بتاؤ؛کون ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا ہے۔ |
|
وَأَنزَلَ لَـكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ |
اور ان جناب نے تمہارے مفاد کے لئے آسمان سے یکبارگی پانی برسایا۔ |
|
فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَـهْجَةٛ |
چونکہ پانی حیات کا لازمی عنصر ہے اس لئے ہم جناب اس کے الصاق سے تروتازگی رکھنے والی آنکھوں جیسی شاخوں(buds)کو نمو دیتے ہیں۔ Root: ن ب ت |
|
مَّا كَانَ لَـكُـمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآ |
تم لوگوں کے بس میں نہیں کہ ان کے تناور درخت اگا سکتے۔ Root: ش ج ر |
|
أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِ |
|
|
بَلْ هُـمْ قَوْمٚ يَعْدِلُونَ ٦٠ |
نہیں، اللہ تعالیٰ مطلق معبود ہیں مگر یہ لوگ ہیں کہ اپنے رب سے الصاق کرتے ہوئے دوسروں کو ہمسر قرار دیتے رہتے ہیں۔ Root: ع د ل |
|
أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًۭا وَ جَعَلَ
خِلَٟلَهَآ أَنْـهَٟرًۭا |
مزید غور کر کے بتاؤ کہ کون معبود
ہیں جنہوں نے
خوشگوار قیام کے لئے زمین کو سرد منجمد
جائے قرار کا روپ دے دیا تھا۔اور ان جناب نے اس کے زیریں راستوں
کو پانی کے لئےگزرگائیں اورذخائر بنا دیا۔ History of the Earth Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance Thesis statement of Qur'an Root: ق ر ر; خ ل ل; خ ل ل; ر س و |
|
أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُـكُـمْ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرْضِ |
|
|
أَمَّن يَـهْدِيكُـمْ فِـى ظُلُمَٟتِ ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِ |
یا یہ بتاؤ وہ کون جناب ہیں جو تمہیں راستے کی رہنمائی دیتے ہیں جب تم لوگ زمین اور سمندر کے اندھیروں /بیابان ۔بے نام و نشان مقامات پرراہ کھو بیٹھتے ہو۔ |
|
وَمَن يُرْسِلُ ٱلـرِّيَٟحَ
بُشْـرَا |
اورغور کرو؛ وہ کون جناب ہیں جو ہواؤں کو ایک پرمسرت اطلاع کے طور بھیجتے ہیں جو ان جناب کی رحمت کے ظہور کی آمد آمد کا پتہ دیتی ہیں۔ Root: ر و ح |
|
أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِ |
بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو ایسا کرتا ہو؟ |
|
تَعَٟلَـى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْـرِكُونَ ٦٣ |
خبردار؛ اللہ تعالیٰ تمام عظمت وکبریائی اور جد و جہد کا محور ہیں۔اور وہ جناب مطلق اعلیٰ ہیں ان تمام سے جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔ |
|
أَمَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعيدُهُۥ |
یا یہ بتاؤ کہ کون جناب ہیں سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔ Root: ع و د |
|
وَمَن يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وٱلۡأَرْضِ |
اور بتاو کون جناب ہیں جو تمہیں آسمان اور زمین میں سے سامان زیست مہیا کرتے ہیں۔ |
|
أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِ |
بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو تمہیں زیست حیات دیتاہو؟ |
|
قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٟنَكُـمْ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں ”تم لوگ اپنا ٹھوس،معتبر ثبوت/سند پیش کرو۔ Root: ھ ى ت |
|
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٦٤ |
ایسا کرو اگر تم لوگ اپنے بیان میں سچے ہو"۔ |
|
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوٟتِ وٱلۡأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا
ٱللَّهُ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کے علاوہ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی باشعور موجود ہے وہ پنہاں حقیقتوں کو نہیں جانتے۔ |
|
وَمَا يَشْعُـرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥ |
اور نہ ہی ان کو شعور ہے کہ کب انہیں از سر نووجود پذیر کیا جائے گا"۔ |
|
بَلِ ٱدَّٟرَكَ عِلْمُهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ |
ان کا آخرت بارے سوال محض حجت ہے،حقیقت یہ ہے کہ ان کا علم آخرت بارے جاننے سے دانستہ اعراض کرتا ہے۔ Root: د ر ك |
|
بَلْ هُـمْ فِـى شَكّٛ مِّنْـهَا |
نہیں؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کے وجود پذیر ہونے کے متعلق شک و شبہ کی کیفیت میں ہیں۔ Root: ش ك ك |
|
بَلْ هُـم مِّنْـهَا عَمُونَ ٦٦ |
یہ شک و شبہ کا اظہار بھی دکھاوا ہے؛حقیقت یہ ہے کہ وہ دانستہ اس کی جانب سے اندھے بنے رہنا چاہتے ہیں۔ Root: ع م ى |
|
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا تُرَٟبٙا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ ٦٧ |
اور رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والے عمائدین مشرکین نے لوگوں سے استفسار کیا’’کیا جب ہم خاک بن چکے ہوں اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے‘‘۔ |
|
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَـحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ |
یہ اپنی جگہ حقیقت کہ اس وعیدکا ہم پراظہار کیا گیا ہے؛ہم پر اورہمارے آباؤ اجداد پر اس کا قبل کے ادوار میں اظہار کیا گیا تھا۔ |
|
إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَٟطِيـرُ ٱلۡأَوَّلِيـنَ ٦٨ |
یہ(قرءان) توسوائے پرانے افسانے کہانیوں کے مجموعہ کے اورکچھ بھی نہیں"۔ |
|
قُلْ سِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
آپ(ﷺ)لوگوں کو کہیں"زمین میں گھومو پھرو۔ Root: س ى ر |
|
فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ٦٩ |
پھر جگ بیتی سے سبق لینے کے لئے یہ دیکھو(کھنڈرات اور آثار قدیمہ میں )کہ جرم کرنے والوں کا آخر کار کیا انجام ہوا"۔ |
|
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْـهِـمْ |
اور نہ ان پر(عذاب کے احتمال سے)آپ (ﷺ)غمزدہ ہوں۔ Root: ح ز ن |
|
وَلَا تَكُن فِـى ضَيْقٛ مِّمَّا يَمْكُرُونَ٧٠ |
اور نہ آپ(ﷺ)ان فریب کاریوں کی وجہ سے جو وہ عمائدین کرتے رہتے ہیں سینے میں گھٹن محسوس کر کےاپنے آپ کو آزردہ اور پر ملال نہ کریں۔ |
|
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ |
اور وہ پوچھتے ہیں’’بتاؤ یہ وعدہ کس تاریخ/دن کو پورا ہو گا۔ |
|
إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٧١ |
بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘ |
|
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَـكُـم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"ممکن ہے کہ اس میں سے بعض تم لوگوں کے نزدیک پہنچ چکا ہو جس کے جلد وقوع پذیر ہونے کی تم خواہش کا اظہار کرتے ہو"۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍٛ عَلَـى ٱلنَّاسِ |
مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ (ﷺ) کے رب بلاشبہ لوگوں پرصاحب فضل وکرم ہیں۔ |
|
وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُونَ ٧٣ |
اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔ |
|
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٤ |
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب اس کو بھی بخوبی جانتے ہیں جو ان(ناقدر لوگوں)کے سینے پوشیدہ رکھتے ہیں اور وہ جس کا سرعام اظہار کرتے ہیں۔ Root: ع ل ن |
|
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٛ فِـى ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ إِلَّا فِـى كِتَٟبٛ مُّبِيـنٍٛ ٧٥ |
اور آسمان اور زمین میں کوئی ایسی سربستہ،نگاہوں سے اوجھل اور پنہاں حقیقت موجود نہیں۔ماسوائے اس کے جو ایک ایسی کتاب(ام الکتاب)میں درج ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔(النمل۔۷۵) |
|
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَـىٰ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُـمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٧٦ |
یہ حقیقت ہے کہ یہ قرءان مجید بنی اسرائیل پر ان واقعات کو من وعن، ان کے پیش آنے کے انداز میں بیان کرتا ہے جس کے اکثر حصے میں وہ ایک دوسرے سے پرزور اختلاف کرتے ہیں۔ Root: ق ص ص |
|
وَإِنَّهُۥ لَـهُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّلْمُؤمِنِيـنَ ٧٧ |
اور یہ حقیقت ہے کہ یہ (قرءان مجید)ہدایت نامہ ہےاور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان پر قائم تھے اور جو اس پر ایمان لائے۔ |
|
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَـهُـم بِحُكْـمِهِۦ |
یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ) کے رب روز قیامت ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے ان کےاُس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔ |
|
وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيـمُ ٧٨ |
اور وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں،وہ منبع علم ہیں۔ |
|
فَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱللَّهِ |
آپ (ﷺ)انکار کرنے والوں کی ریشہ دوانیوں سے پریشان ہوئے بغیر بہتر انجام کے لئے اللہ تعالیٰ پراپنا بھروسہ اور اعتماد رکھیں۔ |
|
إِنَّكَ عَلَـى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِيـنِ ٧٩ |
آپ (ﷺ)کے بارے اس حقیقت کو منکشف کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سے بدیہی حقانیت کی راہ پر گامزن رہے ہیں۔ |
|
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَـىٰ |
یہ حقیقت ہے کہ آپ (ﷺ)مردہ شخص کی سماعت تک پیغام نہیں پہنچا سکیں گے۔ |
|
وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٨٠ |
اوراے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ آپ (ﷺ کانوں سے بہرے کو بھی اپنی بات نہیں سنوا سکتے جو آپ سے پیٹھ پھیر کر چل دیں۔ Root: ص م م |
|
وَمَآ أَنتَ
بِـهَٟدِى
ٱلْعُمْىِ عَن ضَلٟلَتِـهِـمْ |
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ ـ (ﷺ)قلب کے اندھوں کے لئے ان کی دانستہ اختیار کردہ گمراہی اور بے راہروی سے نکالنے کے لئےرہبرنہیں ہو سکتے۔(تقریباً ایک جیسے الروم۔53) Root: ع م ى |
|
إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٟتِنَا فَهُـم مُّسْلِمُونَ ٨١ |
آپ(ﷺ)تو فقط ان کو سمجھا سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جانب موجود ہمارےمظاہر فطرت کو مانتے ہیں جن سے مرعوب ہو کر وہ خالق کائنات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے بن جاتے ہیں۔ |
|
وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ |
جان لو؛جب اللہ تعالیٰ کو مان کر سر تسلیم خم نہ کرنے والوں پر یوم آخر والا قول وقوع پذیر ہو جائے گا۔ Root: و ق ع |
|
أَخْرَجْنَا لَـهُـمْ دَآبَّةٙ مِّنَ ٱلۡأَرْضِ تُكَلِّمُهُـمْ |
تو ہم جناب ایسے لوگوں کے لئے زمین سے ایک جانور کو نکالیں جو ان سے گفتگو کرے گا۔ Root: د ب ب |
|
أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢ |
جانور کا ان سے گفتگو کرنا ان کے حسب حال ہے کہ یہ لوگ ہم جناب کی کائنات میں ہر جانب موجود نشانیوں اور کتاب کے مندرجات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ |
|
وَيَوْمَ نَحْشُـرُ مِن كُلِّ أُمَّةٛ فَوْجٙا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـٔايَـٟتِنَا |
متنبہ رہو؛یوم محشر ہم جناب ہر ایک نسل میں سے ان کو ایک گروہ میں یکجا کر دیں گے جو اس نسل میں ہم جناب کی رسالات کو بر سر عام جھٹلاتے تھے۔ Root: ف و ج |
|
فَهُـمْ يُوزَعُونَ ٨٣ |
مجتمع ہو جانے پر انہیں صف بستہ کر دیا گیا۔ Root: و ز ع |
|
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُـم بِـَٔايَـٟتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِـهَا عِلْمًا |
انہیں جہنم کی جانب لے جایا گیا۔جب وہ وہاں پہنچ گئے تو ان جناب نے کہا"کیا میرے رسالات کو تم نے اس حالت میں برسر عام جھٹلایا کہ تم ان کو سمجھ نہیں سکے،علمی طور پر احاطہ نہیں کر سکے۔ Root: ح و ط |
|
أَمَّاذَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٨٤ |
یا اس وجہ سے کہ تم اس پر ڈٹے رہنا چاہتے تھے جو عمل تم لوگ کرتے رہتے تھے؟" |
|
وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيـهِـم بِمَا ظَلَمُوا۟ |
اور ان پر وعدہ کیا فرمان حقیقت بن کر وقوع ہو گیا اس سبب سے کہ حقیقت کے منافی باطل کو انہوں نے اپنایا تھا۔ Root: و ق ع |
|
فَهُـمْ لَا يَنطِقُونَ ٨٥ |
چونکہ دنیا میں جو کرتے رہے تھے جانتے بوجھتے ہوئے کیا تھا اس لئے وہ سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے۔ Root: ن ط ق |
|
أَ لَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّـهَارَ مُبْصِرًاۚ |
کیا انہوں نے اس بدیہی حقیقت پر بھی غور نہیں کیا کہ ہم جناب نے رات کو ان کے لئے دھندلا اور نسبتاً بارد بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کے دوران وہ راحت و آرام حاصل کرسکیں اور ہم جناب نے دن کو روشن اور منور بنایا ہے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٨٦ |
یقینا ان عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں ایسی شہادتیں ہیں جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ |
|
وَ يَوْمَ يُنفَخُ فِـى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ مَن فِـى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَ كُلٌّ أَتَوْهُ دَٟخِرِينَ٨٧ |
متنبہ رہو؛جس دن جب خاص طور پر بنائے گئے نقارے میں پھونک دیا جائے گا۔چونکہ وہ دھماکہ خیز آواز ہولناک اور دہلا دینے والی ہو گی اس لئے جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں موجود ہو گا حواس باختہ ہو جائے گا۔سوائے اس کے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اسے مطمئن رکھنے کا فیصلہ کیا۔اور ان جناب کے حضوران میں ہر ایک حیات نو پانے پر انکساری اور عاجزی کے پیکر بن کر آئے گا۔ Root: ن ف خ |
|
وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُـهَا جَامِدَةٙ وَهِىَ تَمُرُّ مَـرَّ
ٱلسَّحَابِ |
اور آپ نے
اپنے علاقے کے پہاڑوں کا تو مشاہدہ کیا ہے۔آپ کو بظاہر دیکھنے سے
خیال آتا ہے کہ وہ ساکت و جامد ہیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آسمان اور زمین
کے مابین والے بادل کی مانند مشرق سے مغرب کی جانب سرکتے رہتے ہیں۔ Root: س ح ب ; م ر ر ; ش ى ء; ص ن ع Mountains - Anchors |
|
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْـرٚ مِّنْـهَا |
جو کوئی اللہ تعالیٰ کےحضور معتدل اور حسن سلوک کا مرتکب حالت میں پیش ہو گا تو چونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی قدردان نہیں اس لئے اس کو اس سے بہت بہتر انعام کا استحقاق اسے دیا جائے گا۔ |
|
وَهُـم مِّن فَزَعٛ يَوْمَئِذٍٛ ءَامِنُونَ ٨٩ |
اور ایسے لوگ اس وقت بھی امان میں ہوں گے جس دن سب سے بڑی دہشت کا سامنا لوگوں کو اول صور پھونکے جانے پر ہو گا ۔ Root: ف ز ع |
|
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُـبَّتْ وُجُوهُهُـمْ فِـى ٱلنَّارِ |
اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور کسی مخصوص برائی سے لتھڑی حالت میں پیش ہو گا تو چونکہ خود اپنے آپ کو اس انجام کا ذمہ دار مان چکا ہے اس لئے ان کے چہرے جہنم میں مایوسی، افسردگی سے مرجھائے ہوں گے۔ |
|
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٩٠ |
ان سے پوچھا جائے گا"بتاؤ کیا تمہیں سوائے اس کے کچھ اور سزا سے تو ہمکنار نہیں کیا جا رہا سوائے اس کے مطابق جو اعمال تم لوگ کرتے رہے تھے‘‘۔ |
|
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ مجھے قرءان مجید دئیے جانے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں اس شہر(مکہ)کے رب کی بندگی پر قائم و دائم رہوں؛ان جناب نے اس شہر کو قابل تحریم قرار دیا ہوا ہے۔ |
|
وَلَهُۥ كُلُّ
شَـىْءٛ |
اور ہر وجود پذیر ان جناب کے لئےمطلق عظمت و کبریائی اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے برسرپیکار ہیں۔ |
|
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٩١ |
اور مجھے قرءان پیش کئے جانے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس (قرءان مجید) کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں میں اول تسلیم کرنے والا بنوں۔ |
|
وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَ |
اور مجھے یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں قرءان مجید
کو
تحریری ترتیب کے عین مطابق
تلفظ کرتے ہوئے
لوگوں کو سناؤں "۔ |
|
وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُـرِيكُـمْ ءَايَٟتِهِۦ
فَتَعْـرِفُونَـهَا |
And warn that your Sustainer Lord is indeed never unmindful—neglecting acts that you people perform." (Cf. 11:193 (replica); 2:74; 2:85; 2:140; 2:149;3:99) [27:93] مزید برآں آپ(ﷺ)اعلان فرما دیں :"تمام تعریفی اور قدرسنجی کی جملہ صورتیں — اپنی حقیقی اور خالص معنویت میں — صرف اور صرف اللہِ عظیم و برتر کے لائق و سزاوار ہیں۔وہ جناب عنقریب تم لوگوں کوآفاق اور خود تمہارے اندر پنہاں ان جناب کی جانب رہنمائی کرنے والی نشانیاں/مظاہر دکھاتے رہیں گے۔چونکہ قبل ازیں تم نے قرءان میں ان کی جھلک دیکھی ہو گی اس لئے ان سے متعارف ہو جاؤ گے(موازنہ:سورۃ فصلت 53)۔اور متنبہ فرما دیں کہ آپ (ﷺ)کے رب اُس سے کبھی غافل نہیں ہوتے جو اعمال تم لوگ کرتے ہو"۔ Root: غ ف ل |
![]()
028-سُوۡرَةُ القصص
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
طسٓمٓ ١ |
عربی زبان کے حروف ابجد، باہمدگر "ط"، "س بمع مدا"اور "م بمع مدا"۔ |
|
تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢ |
اے رسولِ کریم!یہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کے مندرجات (آیات)ہیں؛اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ اس کا بیان ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت کو منکشف کر دینے والاہے۔ |
|
نَتْلُوا۟ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَـىٰ وَفِرْعَوْنَ بِٱلْحَقِّ لِقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٣ |
ہم جناب آپ(ﷺ)کو موسیٰ(علیہ السلام)اور فرعون کے دور سے متعلق خبرمن و عن سنا رہے ہیں جو مبنی بر حقیقت احوال ہے۔اس کا مقصد ان لوگوں کو حقیقت پر مبنی تاریخ سے مطلع کرنا ہے جو آپ(ﷺ)پر ایمان لائے ہیں۔ |
|
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِـى ٱلْأَرْضِ وَ جَعَلَ
أَهْلَهَا شِيَعًۭا |
یہ
حقیقت ہے کہ فرعون نے اپنے آپ کوسلطنت میں مطلق عالی مرتبت مطلق العنان
فرمانروا قرار دے دیا تھا۔ Fir'aoun - Pharaoh: a King with acute Narcissistic personality disorder Root: ش ى ع; ط و ف; ذ ب ح |
|
وَ نُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَـى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُـمْ أَئِمَّةًۭ وَ نَجْعَلَهُـمُ ٱلْوَٟرِثِيـنَ٥ |
اور ہم جناب کا ارادہ ان لوگوں پر احسان کرنے کا تھا جنہیں ملک میں دانستہ زیر اثر محکوم رکھنے کی خواہش میں کمزور و ناتواں بنا دیا گیا تھا۔اور یہ کہ ہم جناب ان( مغلوب قوم) کوبطورایک آزاد وخود مختار قوم بنا دیں اور ہم جناب انہیں وارثوں کا درجہ دے دیں(پیچھے رہ جانے والوں کوالدخان۔۲۸)۔ |
|
وَ نُمَكِّنَ لَـهُـمْ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ نُرِىَ فِرْعَوْنَ وَ هَٟمَٟنَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَحْذَرُونَ٦ |
اور یہ
کہ ہم جناب ان(بنی اسرائیل) کے لئے زمین میں ایک علاقے کو ان کے لئے
جائے رہائش مقرر کر دیں۔اوریہ
کہ ہم جناب فرعون اور ھامان اور ان لوگوں کو جودونوں کے لشکروں
میں شمار تھے وہ دکھا دیں جس کے امکان سے بچنے کے لئے حفاظتی
تدابیر وہ کرتے رہتے تھے۔(القصص۔٦ Root: م ك ن |
|
وَ أَوْحَيْنَآ إِلَـىٰٓ أُمِّ مُوسَـىٰٓ أَنْ
أَرْضِعِيهِۖ |
اور ہم جناب نے زبانی
پیغام(وحی)موسیٰ (علیہ السلام)کی ماں کو بھیجا کہ اسے دودھ پلاتی رہیں۔ Root: ر ض ع |
|
فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَـهُـمْ عَدُوّٙا
وَحَزَنٙا |
انہوں(والدہ)نے ایسے ہی کیا تو انہیں
(موسیٰ علیہ السلام)دریا کنارے سے فرعون کے اہلکاروں نے احتیاط سے
اٹھا کر محل میں پہنچا دیا۔اس کا انجام انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ ان لوگوں
کے لئے باعث دشمنی اور حزن ہو گا۔ |
|
وَقَالَتِ
ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْـنٛ لِّـى وَلَكَ |
اس موقع پر فرعون کی بیوی نے فرعون کو
کہا"یہ بچہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔یہ میرے اور آپ کے لئے سکون بخش ہو گا۔ |
|
وَ أَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَـىٰ فَٟرِغًاۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَـىٰ قَلْبِـهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ١٠ |
دریا میں ڈال دینے کے بعد موسیٰ(علیہ السلام)کی والدہ کا شعوری ذہن ماؤف حالت میں ہو گیا۔اس حالت میں وہ اس بات کے زیادہ قریب تھیں کہ معاملے کو ظاہر کر دیتیں اگر ہم جناب نے اس کے قلب کو ڈھارس نہ دی ہوئی ہوتی۔ایک ماں کو بچے کو دریا کےسپرد کرنے کا کہنے پر ایسا کرنا ضروری تھا کہ وہ ایمان پر برقرار رہنے والوں میں رہے۔ |
|
وَ قَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍۢ وَ هُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ١١ |
اور انہوں نے اس (موسیٰ علیہ السلام)کی بہن سے کہا"اس کا ساتھ ساتھ پیچھا کر"۔ماں کے کہنے پر اس نے اسے(بھائی)کو ایک جانب سے نگاہوں میں رکھا۔اس طرح کہ دوسرے لوگوں کو اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہوا۔ Root: ق ص ص |
|
وَ حَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّـكُـمْ عَلَـىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍۢ يَكْفُلُونَهُۥ لَـكُـمْ وَ هُـمْ لَهُۥ نَٟصِحُونَ١٢ |
اور ہم جناب نے اس کی بہن کے محل پہنچنے سے قبل بلائی گئی عورتوں کا دودھ پینا اس پر ممنوع کر دیا تھا(اس کی ماں کے ساتھ کئے وعدہ کو نبھانے کےلئے)۔ان کی دودھ پلانے میں ناکامی کے سبب اس(بہن)نے کہا"کیا میں آپ لوگوں کو ایک گھر کے اہل خانہ کا بتاؤں جو اس کی آپ لوگوں کی خاطر دیکھ بھال کرتا رہے گا۔اور وہ لوگ اس کے لئے خیر خواہ ہوں گے"۔ |
|
فَرَدَدْنَٟهُ إِلَـىٰٓ أُمِّهِۦ كَـىْ تَقَرَّ
عَيْنُـهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ
|
اس طرح ہم
جناب نے انہیں بعینہ اس حالت میں واپس ان کی والدہ کی جانب پلٹا دیا
جیسے دودھ پلا کر سپرد دریا نیل کیا تھا۔مقصد یہ تھا کہ اپنی آنکھیں
ٹھنڈی کرے اور وہ غمزدہ نہ ہو۔اور اس لئے
کہ وہ حتمی انداز میں جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حقیقت بن کر رہتا ہے۔ |
|
وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَ ٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٟهُ
حُكْمًۭا وَ عِلْمًۭاۚ |
ان کی تاریخ کو مزید جان لیں؛جوں ہی انہوں(موسیٰ علیہ
السلام)نے اپنی بھرپور جوانی میں قدم رکھا اورانہوں نے اپنے آپ
کومعاشرے میں استوار کر لیا ہم جناب نے انہیں قوت فیصلہ، امتیازی
ذہانت اورعلم سے نوازا۔ |
|
وَ دَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَـىٰ حِيـنِ غَفْلَةٍۢ مِّنْ
أَهْلِهَا |
اوروہ(موسیٰ علیہ السلام علم والے بندے سے جدا ہو
کر۔الکہف۔۱۸)رات کے وقت شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب
حالت استغراق میں غافل تھے ۔ایسے غافل کے اس میں رہنے والوں میں سے بعض کی
اپنے آس پاس موجودگی کو بھی محسوس نہیں کیا۔ |
|
قَالَ رَبِّ إِنِّـى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِـى فَغَفَرَ لَهُۥٓ |
انہوں نے دعا کی"اے میرے رب؛میں
نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے، لہٰذ امجھ پر
درگزر فرمائیں۔کیونکہ یہ غیر ارادی اور پہلی
بار کا ردعمل تھا، اس لیے ان جناب نے ا
ن کی خاطر درگزر فرمایا۔ |
|
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَـىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيـرٙا لِّلْمُجْرِمِيـنَ ١٧ |
انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے وعدہ کیا"اے میرے رب؛آپ جناب نے مجھ پر نوازش فرمائی ہے،راہ چلتے تصور میں کھوئے وہ حرکت سرزد ہو گئی تھی آئندہ میں کبھی بھی مجرمین کے لئے سہارا نہیں بنوں گا"۔ |
|
فَأَصْبَحَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًۭا يَتَـرَقَّبُ
فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥۚ |
رات کے واقعے کی وجہ سے، وہ اگلی صبح
شہر میں خوفزدہ اور محتاط تھے۔ اس دوران جب وہ شخص، جس نے پچھلے دن ان سے
مدد مانگی تھی، دوبارہ مدد کے لیے پکارا ۔ |
|
فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ
عَدُوٌّۭ لَّـهُمَا |
چونکہ وہ دوسرے شخص
سے الجھنے سے باز نہیں آیا تو جوں ہی انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے ارادہ کیا
کہ اس شخص کوقابو کر لیں جو ان دونوں کے لئے دشمن بن چکا تھا۔ |
|
وَ جَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٟمُوسَـىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّـى لَكَ مِنَ ٱلنَّٟصِحِيـنَ٢٠ |
اس وقت شہر کے دور اونچائی والے مقام کی جانب سے ایک شخص وہاں پہنچ گیا۔وہ دوڑتے ہوئے آیا تھا۔اس نے کہا"اے موسیٰ!مصدقہ خبر ہے کہ سردار آپ کے بارے میں یہ مشورے کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل/پھانسی کروا دیا جائے۔اس لئے آپ یہاں سے نکل جائیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کے خیرخواہوں میں ہوں"۔ |
|
فَخَرَجَ مِنْـهَا خَآئِفًۭا يَتَـرَقَّبُۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٟلِمِيـنَ٢١ |
چونکہ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اتفاقی موت کو قتل عمد بنا کر انہیں عدالت سے پھانسی دلوانے کا منصوبہ ہو سکتا ہے اس لئے وہ اس سرزمین سے نکل گئے اس خوف کے ساتھ کہ ان کا تعاقب کیا جائے گا۔یہ دعا کرتے ہوئے؛"اے میرے رب!مجھے نجات دیں اس ظلم و بربریت پر مائل قوم سے"۔ Root: ر ق ب |
|
وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّـىٓ أَن يَـهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ٢٢ |
اور جوں ہی وہ شہر سے باہر نکلے تو انہوں نے شہر مدین کی جانب اپنا رخ کیا۔یہ کہتے ہوئے کہ میرے رب سے جلد امید ہے کہ مجھے منزل پر پہنچنے کے لئے استوار راستہ کی رہنمائی دیں گے۔ Root: ع س ى |
|
وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ
أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَ وَجَدَ مِن دُونِـهِمُ
ٱمْرَأَتَيْـنِ تَذُودَانِۖ |
اور جب وہ قصبہ مدین کے پیاؤ پر پہنچے۔تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کے ایک
گروہ کو موجود پایا جو اپنے چوپایوں کو پانی پلا رہے تھے اور ان سے کچھ الگ
دو عورتوں کو موجود پایا جو اپنے چوپایوں کو پیچھے روک رہی تھیں۔ |
|
فَسَقَىٰ لَـهُمَا ثُـمَّ تَوَلَّـىٰٓ إِلَـى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّـى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَـىَّ مِنْ خَيْـرٍۢ فَقِيـرٌۭ٢٤ |
ان کی بات سن کر انہوں نے آگے بڑھ کر ان کی جگہ ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔بعد ازاں عورتوں کے چلے جانے پر وہ پلٹ کر درخت کی چھاؤں میں چلے گئے۔بیٹھ جانے پر کہا"میرے رب!اس وقت میرا حال حاجت مند کا ہے ہر اس شئے کا جو آپ میری جانب بھیج دیں گے جو اس وقت میرے لئے بہتر ہے"۔ |
|
فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰـهُمَا تَمْشِى عَلَـى
ٱسْتِحْيَآءٍۢ قَالَتْ إِنَّ أَبِـى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ
مَا سَقَيْتَ لَنَاۚ |
دعا کر لینے پر ان دو عورتوں میں سے
ایک شرم و حیا کی جھجک سے چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئی۔اس نے کہا"درحقیقت میرے ابو آپ کو بلا
رہے ہیں اس مقصد سے کہ آپ کو اس کو اجر دے دیں جو آپ نے ہمارے لئے پانی
پلایا ہے"۔ |
|
قَالَتْ إِحْدَىٰـهُمَا يَٟٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُۖ إِنَّ خَيْـرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِيـنُ٢٦ |
ان دونوں میں سے ایک نے ابو کو مشورہ دیا"ابوجی!آپ اس سے اسے ملازم رکھنے کی اپنی خواہش کا اظہار کریں۔یقیناً وہ جسے آپ ملازم رکھنے کے لئے پسند کریں گے بہتر ہے جس کے بارے آپ کو معلوم ہے کہ قوی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری نباھنے والابھی ہے"۔ |
|
قَالَ إِنِّـىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَٟتَيْـنِ
عَلَـىٰٓ أَن تَأْجُرَنِـى ثَمَٟنِىَ حِجَجٍۖ |
انہوں(والد)نے موسیٰ(علیہ السلام)سے
کہا"آپ کو بتانا تھا کہ میرا ارادہ ہے اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک سے آپ
کا نکاح کر دوں کہ آپ مجھے آٹھ قمری سالوں کی رفاقت دیں۔ |
|
قَالَ ذَٟلِكَ بَيْنِى وَ بَيْنَكَۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْـنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٟنَ عَلَـىَّۖ وَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ٢٨ |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے جواب دیا"آپ نے جو کہا وہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گیا۔ان دونوں مدتوں میں سے جس کسی کو میں نے گزار دیا تو اس صورت میں میرے اوپرکوئی تعزیر نہیں ہو گی۔اور اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہیں جو بات ہم طے کر رہے ہیں"۔ |
|
فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَـى ٱلْأَجَلَ وَ سَارَ بِأَهْلِهِۦٓ
ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًۭا |
باہمی طور پر طے کردہ مدت کو جب موسیٰ
(علیہ السلام)نے گزار دیا تو اس کے فوراً بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ روانہ
ہو گئے تھے:توانہوں نے سلسلہ کوہ طور کے دائیں جانب
آگ کےموجود ہونے کو محسوس کیا۔ |
|
فَلَمَّآ أَتَىٰـهَا نُودِىَ مِن شَٟطِئِ ٱلْوَادِ ٱلْأَيْمَنِ فِـى ٱلْبُقْعَةِ ٱلْمُبَٟرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٟمُوسَـىٰٓ إِنِّـىٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ٣٠ |
ان سے الگ ہو کر جوں ہی وہ(موسیٰ علیہ السلام)اس جگہ پہنچے تو ان بلند آواز میں پکارا گیا۔انہیں وہاں موجود ایک درخت سے آواز ابھرتی محسوس ہوئی اس وادی کے دائیں جانب ایک ایسے مقام سے جو اپنے اردگرد سے زیادہ نمایاں تھا۔اس پکار میں انہوں نے یہ سنا"اے موسیٰ!توجہ سے مجھے سن؛ میں اللہ تعالیٰ ہوں،،موجود و معلوم تمام تخلیق کردہ دنیاؤں،ہر ایک وجود پذیر کا رب۔ |
|
وَ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَۖ فَلَمَّا رَءَاهَا تَـهْتَزُّ كَأَنَّـهَا جَآنٌّۭ وَلَّـىٰ مُدْبِرًۭا وَ لَمْ يُعَقِّبْۚ يَٟمُوسَـىٰٓ أَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلْءَامِنِيـنَ٣١ |
اور انہوں نے مزید سنا"آپ اپنی عصا کو اپنے سامنے زمین پر پھینک دیں"۔تعمیل حکم پر جوں ہی انہوں نے چھڑی پھینک دی تو دیکھا کہ وہ تو ازخود اس انداز میں حرکت کر رہی ہے جیسے وہ حقیقت میں کوبرا سانپ ہے۔تو وہ فوراً پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے اور انہوں نے پیچھے منہ موڑ کر نہیں دیکھا(ظاہر ہوتا ہے وہ جانتے تھے کوبرا آنکھوں پر زہر دور سے پھینک سکتا ہے)۔انہیں پکارا گیا"اے موسیٰ؛واپس اس مقام پرروبرو ہوں، اور تجھے ڈرنا نہیں چاہئے۔یقینا آپ اس سے محفوظ،امان یافتہ ہیں"۔ |
|
ٱسْلُكْ يَدَكَ فِـى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ
غَيْـرِ سُوٓءٍۢ |
وہ اپنی چھڑی کے روبرو واپس پہنچ گئے۔انہیں کہا گیا"اپنے ہاتھ کو
گریبان کے اندر بغل میں لے جائیں۔باہر نکالنے پر اس کی ہتھیلی
سفید چمکتی حالت میں ہو گی،ہر قسم کے داغ
دھبے سے منزا۔ |
|
قَالَ رَبِّ إِنِّـى قَتَلْتُ مِنْـهُـمْ نَفْسٙا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ٣٣ |
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا"میرے رب!میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا جو ان کی قوم سے تعلق رکھتا تھا،اس کے سبب مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں۔ |
|
وَ أَخِـى هَٟرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًۭا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًۭا يُصَدِّقُنِىٓۖ إِنِّـىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ٣٤ |
اور میرا بھائی ھارون؛ وہ مجھ سے زیادہ فصیح البیان ہے،زبان سے کلام کرنے کے حوالے سے۔چونکہ ان سے مباحثہ کرنا ہو گا جس کے لئے زبان کا فصیح ہونا فائدہ مند ہے،اس لئے آپ جناب اسے(بھائی ھارون)میرے ساتھ بھیجیں ،معاون کا کردار ادا کرنے کے لئے،وہ میری باتوں کی تصدیق کرتا رہے گا۔میں یقیناً اس بات کے احتمال سے بھی تشویش میں ہوں کہ وہ مجھے برسر عام جھٹلا دیں گے"۔ |
|
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَ نَجْعَلُ
لَـكُمَا سُلْطَٟنًۭا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَاۚ |
انہوں(اللہ تعالیٰ)نے کہا"ہم جلد
ہی آپ کی قوت بازو کو آپ کے بھائی کی استعانت سے تقویت دیں
گے۔اور ہم تم دونوں کے لئے مافوق الفطرت مظاہر قدرت کے مشاہدات کو سند
بنا دیں گے۔ان مظاہر کو دیکھ لینے پر وہ آپ کی طرف بڑھنے کا حوصلہ نہیں
کر پائیں گے۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَهُـم مُّوسَـىٰ بِـَٔايَٟتِنَا بَيِّنَٟتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَٟذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَـرًۭى وَ مَا سَـمِعْنَا بِـهَٟذَا فِـىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِيـنَ٣٦ |
اس طرح جب موسیٰ(علیہ السلام)ان کے پاس ہماری حقیقت کو متبین کر دینے والی آیات (فوق التصور و تجربہ بینظیرمظاہر قدرت کی نمائش کی اجازت) کے ساتھ پہنچ گئے تو جوں ہی انہوں نے اپنے مطالبے کے جواب میں ان کا مظاہرہ دیکھا تو انہوں (فرعون کے قریبی درباریوں)نے کہا"یہ سوائے طلسماتی شعبدہ بازی اور فریب نظر کے سوا حقیقت میں کچھ نہیں جسے بڑی محنت اور مقصد سے ترتیب دیا ہے۔اور ہم نے اس کے متعلق اپنے اولین آباؤ اجداد کی تاریخ میں نہیں سنا"۔ Root: س ح ر |
|
وَ قَالَ مُوسَـىٰ رَبِّـىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ
بِٱلْـهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٟقِبَةُ ٱلدَّارِۖ
|
اور موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا"میرے رب
بخوبی جانتے ہیں اسے جو ان کی جانب سے خاص ہدایت لے کر آیا ہے۔اور اسے جس کے لئے آخرت کے گھر
کو اس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ |
|
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يَٟٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ
لَـكُـم مِّنْ إِلَٟهٍ غَيْـرِى |
ان کے بیان کی اثر انگیزی کو بھانپتے
ہوئے فرعون نے مخل ہوتے ہوئے کہا"اے میرے سرداروں!میں اپنے سے کسی
مختلف معبود کو نہیں جانتا جو تم لوگوں کے لئے معبود قرار پائے۔ |
|
وَ ٱسْتَكْبَـرَ هُوَ وَ جُنُودُهُۥ فِـى ٱلْأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّ وَ ظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ٣٩ |
اس طرح وہ اپنے آپ کو معتبر سمجھنے کے زعم میں ملک میں عظمت دئیے جانے کا خواہش مند رہا، وہ اور اس کے حواری،حقیقت کے منافی توجیحات کے بل بوطے پر۔اور اس گمان میں مگن رہے کہ انہیں احتساب کے لئے ہماری جانب نہیں لوٹایا جائے گا۔ |
|
فَأَخَذْنَٟهُ وَ جُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَٟهُـمْ فِـى ٱلْيَـمِّۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلظَّٟلِمِيـنَ٤٠ |
مہلت کا وقت ختم ہو جانے اور اس کے لئے حجت کا اتمام کر دینے پر ہم جناب نے اسے اور اس کے لشکروں کوگرفت میں لے لیا۔عارضی طور پر سطح سمندر پر ابھارے پل نما ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرنے سے ہم جناب نے انہیں اوپر سے نیچے سمندر /بحر سویزکے اندر پھینک دیا۔اس لئے(اپنے احساس غم کو کم کرنے کےلئے)آپ (ﷺ)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنانےوالوں کا آخر کار کیا انجام ہوا۔ Root: ن ب ذ Exodus from Egypt |
|
وَ جَعَلْنَٟهُـمْ أَئِمَّةًۭ يَدْعُونَ إِلَـى ٱلنَّارِۖ وَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ لَا يُنصَرُونَ٤١ |
اور ہم جناب نے انہیں(فرعون اور اس کے سرداروں)کو ایسے پیشوا قرار دیا تھا جو لوگوں کو جہنم کی جانب دعوت دیتے ہیں۔اور انہیں روز قیامت کوئی مدد نہیں ملے گی۔ |
|
وَ أَتْبَعْنَٟهُـمْ فِـى هَٟذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭۖ وَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ هُـم مِّنَ ٱلْمَقْبُوحِيـنَ٤٢ |
اور ہم جناب نے اس دنیا میں دھتکار اور پھٹکار کو ان کے نام کے ساتھ لگائے رکھاہے۔اور یوم قیامت یہ لوگ قبیح گردانے جانے والوں کی معیت میں ہوں گے۔ |
|
وَ لَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِ
مَآ أَهْلَـكْنَا ٱلْقُرُونَ ٱلْأُولَـىٰ |
ماضی کی یہ حقیقت بھی جان لو؛ہم
جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔یہ کتاب کا عنایت کرنا بعد کے دور کی بات ہے جب ہم جناب بام عروج پر پہنچی
ابتدائیتہذیبوں
(بشمول فرعون)کو نیست و نابود فرما چکے تھے۔ Root: ق ر ن |
|
وَ مَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلْغَـرْبِـىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـى ٱلْأَمْرَ وَ مَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّٟهِدِينَ٤٤ |
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ(ﷺ)کوہ طور کی مغربی جانب کے مقام پر اس وقت بنفس نفیس موجود نہیں تھے جب ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کے ساتھ معاملے کو نمٹا دیا تھا۔اور نہ آپ اس منظر کا نظارا کرنے والوں میں شامل تھے۔(القصص۔٤٤) Root: غ ر ب |
|
وَ لَٟكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًۭا فَتَطَاوَلَ
عَلَيْـهِـمُ ٱلْعُمُرُۚ |
مگر ان نیست و نابود کردہ قوموں کے
متعلق یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اُن کی نسل در نسل اُبھرتی ہوئی تمدنی
زندگی کو دراز وقت کے لیے باقی رکھا تھا، یہاں تک کہ ان پر عمر کا طول طاری
ہو گیا۔ |
|
وَ مَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا |
(ہم
ماضی کے واقعات اس انداز میں بتا رہے ہیں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن
جائے)اگرچہ آپ بنفس نفیس کوہ طور کے پہلو میں موجود نہیں تھے جب
ہم نے انہیں(موسیٰ علیہ السلام)آواز دے کر متوجہ کیا تھا۔
Root: ط و ر |
|
وَ لَوْلَآ أَن تُصِيبَـهُـم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيـهِـمْ فَيَقُولُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِـعَ ءَايَٟتِكَ وَ نَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ٤٧ |
ان کے اس ہٹ دھرمی پر مبنی منفی طرز عمل کی حقیقت جان لو؛اگر ایک جان لیوا مصیبت نے انہیں دبوچ لیا ہوتا ان اقدامات کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے سر انجام دئیے تھے۔تو یقیناً انہوں نے کہنا تھا"اے ہمارے رب! آپ نے کیوں ہماری جانب رسول نہیں بھیجا۔تو ہم ان کی بات پر لبیک کہتے ہوئے آپ جناب کے کتاب میں درج فرمودات کی من و عن عملی پیروی کرتے اور ہم صدق قلب سے ایمان لانے والوں میں شمار ہو جاتے"۔ |
|
فَلَمَّا جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ لَوْلَآ أُوتِـىَ مِثْلَ مَآ أُوتِـىَ مُوسَـىٰٓۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أُوتِـىَ مُوسَـىٰ مِن قَبْلُۖ قَالُوا۟ سِحْرَانِ تَظَٟهَرَا وَ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِكُلٍّۢ كَٟفِرُونَ٤٨ |
ان کی جانب سے یہ جواز اور حجت کے امکان کو ختم کرنے لئے جوں ہی بیان حقیقت(قرءان مجید)ہم جناب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں انہیں پہنچ گیا۔۔تو انہوں (عمائدین مشرکین و یہود)نے اعتراض اٹھاتے ہوئے لوگوں سے پوچھا"کیا وجہ ہے کہ انہیں(محمّد ﷺ)اس کے مثل نہیں دیا گیا جو موسیٰ(علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں دی گئی تھیں جو تصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوں۔(ان کے تضاد کو دیکھو)کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان عینی مشاہدہ کے لئے زمانہ قبل میں موسیٰ(علیہ السلام)کو عنایت کردہ شادتوں کا انہوں نے انکار کر دیا تھا جو تصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک تھیں۔انہوں(عمائدین مشرکین)نے مزید کہا"یہ دونوں تو طلسماتی شعبدے ہیں جو ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں:۔اور لوگوں سے کہا"ہم ہر ایک کا مکمل انکار کرتے ہیں"۔ Root: س ح ر |
|
قُلْ فَأْتُوا۟ بِكِتَٟبٍۢ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْـهُمَآ أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ٤٩ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:"آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ کتاب کو لے کر میرے پاس آئیں۔وہ جو ان دو کے مقابل بہتر انداز میں رہنمائی کرنے والے متن پر مشتمل ہے۔میں اس کتاب کا خلوص سےپیروکار بن جاؤں گا۔ایسا کرو اگر آپ لوگ اپنے دعووں میں سچے ہو"۔ |
|
فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكَ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا
يَتَّبِعُونَ أَهْوَآءَهُـمْۚ |
اس مطالبہ کا جواب دینے کے لئے اگر وہ خواہش کا اظہار نہیں کرتے تو آپ پر
حتمی انداز میں ظاہر ہو جائے گا کہ وہ دانستہ اپنی خواہشات اور تخیل کے
گمانوں پر عمل پیرا ہیں ۔ |
|
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُـمُ ٱلْقَوْلَ لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٥١ |
اس حقیقت کو جان لو؛ہم جناب نے بیان حقیقت(قرءان مجید)کو ربط و تسلسل سے ان کےسہولت ِ مطالعہ کے لئے باہم مربوط ،ہم آنگیختہ مدون کیا ہے۔اس مربوط تدوین کا مقصداور امکان یہ ہے کہ لوگوں کو اسے از خود پڑھنے، سمجھنے ، فہم و ادراک میں محفوظ کرنے میں سہولت رہے۔نصیحت اور رہنمائی لے سکیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کر سکیں۔ Root: و ص ل |
|
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ مِن قَبْلِهِۦ هُـم بِهِۦ يُؤْمِنُونَ ٥٢ |
وہ لوگ جنہیں اس(قرءان مجید)سے قبل کے زمان میں اپنے کلام پر مشتمل منفرد کتاب (انجیل)کو عنایت فرمایا تھا وہ ہیں جو اس (قرءان مجید)پر دل کی شاد سے ایمان لاتے ہیں۔ |
|
وَإِذَا يُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِۦ مُسْلِمِيـنَ ٥٣ |
اور جب اس (قرءان مجید)کو انہیں لفظ بلفظ سنایا گیا تو انہوں نے کہا"ہم اس(قرءان مجید)پر صدق قلب سے ایمان لے آئے ہیں۔یقیناً یہ ہمارے رب کی جانب سے آسان فہم فصل اورمربوط تدوین میں بیان حقیقت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اس (قرءان مجید)کے ہم تک پہنچنے سے قبل بھی دین اسلام پر کاربند تھے"۔ |
|
أُو۟لَٟٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُـم مَّرَّتَيْـنِ
بِمَا صَبَـرُوا۟ |
یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے دین اسلام پر کاربند رہتے
ہوئے اپنے میثاق کی تحمل و برداشت اور استقامت سے پابندی کرنے کے سبب
ان کا ایوارڈ دو بار ہے۔ |
|
وَ إِذَا سَـمِعُوا۟ ٱللَّغْوَ أَعْـرَضُوا۟ عَنْهُ وَ قَالُوا۟ لَنَآ أَعْمَٟلُنَا وَ لَـكُـمْ أَعْمَٟلُـكُـمْ سَلَٟمٌ عَلَيْكُـمْ لَا نَبْتَـغِى ٱلْجَٟهِلِيـنَ٥٥ |
اور جب انہوں نے لوگوں سے کسی بے سروپا،مفہوم سے عاری،ناقابل تصدیق باربار دہرائی جانے والی بات کو سنا۔انہوں نے اس لغو بات سے اعراض برتا۔اور انہوں نے لغویات پھیلانے والوں کو جواب دیا"ہمارے اعمال کی جزا و سزا ہمارے لئے متعین ہے۔اور تمہارے اعمال کی جزو و سزا تمہارے لئے متعین ہے۔ہماری خواہش ہے کہ سلامتی اور عافیت کا کوئی سبب آپ پر بن جائے۔ہم منفرد قسم کے جذبات پرست اور جذباتی موشگافیوں میں مبتلا لوگوں کی جستجو میں نہیں ہیں"۔ |
|
إِنَّكَ لَا تَـهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَـهْدِى
مَن يَشَآءُ |
اس حقیقت کے پیش نظر کہ انسان صاحب حریت ہے آپ (ﷺ)اس شخص کومحض اس بنا پر
راہ ہدایت پر نہیں ڈال سکتے کہ اس سے آپ کو محبت ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ بھی
اس شخص کو ہدایت سے بہرہ مند فرماتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہے۔(اس وضاحت
پر اپنا غم کم کریں) |
|
وَ قَالُوٓا۟ إِن نَّتَّبِعِ ٱلْـهُدَىٰ مَعَكَ
نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآۚ |
اور مکہ مکرمہ کےعمائدین ثروت و حیثیت نے ملاقات میں
کہا"اگر ہم آپ(ﷺ)کے ساتھ مل کر "ٱلْـهُدَىٰ"(قرءان
مجید)کو
شعوری طور پر اختیار کر لیں اور علانیہ اس کی پیروی شروع کر دیں،تو
اس کا انجام یہ ہے کہ
ہم اپنے
ہی وطن میں اچانک اپنی قوت و اقتدار، سماجی اثر و رسوخ اور ممتاز حیثیت سے
محروم کر دیے جائیں گے، اور ہماری سیاسی و معاشرتی برتری کا خاتمہ ہو جائے
گا"۔ |
|
وَ كَمْ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ
مَعِيشَتَـهَاۖ |
اور
کیا ان (عمائدین)کو ان بستیوں کی تعداد کا کچھ اندازہ ہے جنہیں
ہم جناب نے نیست و نابود کر دیا تھا جنہیں اپنی معشیت کی طاقت و عروج
پر ناز اور گھمنڈ تھا۔ Root: و ر ث |
|
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ
يَبْعَثَ فِـىٓ أُمِّـهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ
ءَايَٟتِنَاۚ |
(ان بستیوں کی ہلاکت ناگہانی یا
بلاجواز نہ تھی)آپ مطلع رہیں
کہ آپ(ﷺ)کے رب نے کبھی یہ مناسب
نہیں سمجھا کہ تہذیبوں کواچانک
نیست و نابود کرنے والے بن جائیں جب تک اس کے مرکزی شہر میں
ایک رسول کو مبعوث فرما دیں ۔وہ حقیقت کی جانب رہنمائی کرنے
والی ہماری مراسلات کو مِن و عن انہیں سناتے رہتے تھے۔ |
|
وَ مَآ أُوتِيتُـم مِّن شَـىْءٍۢ فَمَتَٟعُ ٱلْحَيَوٰةِ
ٱلدُّنْيَا وَ زِينَتُـهَاۚ |
اے لوگو اس بات کا ادراک کرو کہ مادی اشیاء میں سے جو کچھ تم لوگوں کو
عنایت کیا گیا وہ حیات دنیا کے لئے زیست اور اس (حیات)کی زیبائش و کشش ہے۔ |
|
أَفَمَن وَعَدْنَٟهُ وَعْدًا حَسَنًۭا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَٟهُ مَتَٟعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُـمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ٦١ |
سوچو اس معیار سے کہ کیا وہ شخص جس سے ہم جناب نے بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اس وعدہ کو وفا ہوتے دیکھے گا۔کیا اس شخص کی مانند ہے جسے ہم جناب نے نوازا ہے حیات دنیا کا سامان زیست وافر مقدار میں، بعد ازاں یوم قیامت مجرموں میں شامل ہو؟ Root: ح ض ر |
|
وَيَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُـمْ تَزْعُمُونَ ٦٢ |
اورجب اس دن وہ جناب ان مشرکین سے ارشاد فرمائیں گے"میرے ان شرکاء کو پکار کر اپنی جانب متوجہ کرو جن کے متعلق تم اس زَعم باطل کا اظہار کرتے تھے کہ تمہارے لئے شفاعت کریں گے؟"۔ Root: ز ع م |
|
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْـهِـمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَٟٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَٟهُـمْ كَمَا غَوَيْنَاۖ تَبَـرَّأْنَآ إِلَيْكَۖ مَا كَانُـوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ٦٣ |
ان لوگوں /عمائدین نے جن پرانہیں دیا گیا قول حقیقت بن کر آشکارہ ہو گیا تھا کہا:"اے ہمارے رب!یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہاں، ہم نے انہیں اسی طرح گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے۔ہم آپ کے حضور ان کی گمراہی سے بری الذمہ ہیں۔یہ ہمارے ساتھ خاص وفادار نہیں تھے [بلکہ ان کے اپنے مفادات اور مقاصد تھے]۔ Root: غ و ى |
|
وَ قِيلَ ٱدْعُوا۟ شُـرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُـمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَـهُـمْ وَ رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَۚ لَوْ أَنَّـهُـمْ كَانُوا۟ يَـهْتَدُونَ٦٤ |
اور ان مشرکین کے لئے کہا گیا"اپنے شرکاء کو پکارو "۔چونکہ حکم دیا گیا تھا اس لئے تعمیل حکم میں ان کو پکارا۔تو انہوں نے ان کے لئے کوئی جواب نہیں دیا۔اور انہوں نے عذاب کو دیکھ لیا:تو کہا کہ اے کاش انہوں نے اپنے آپ کو راہ راست پر ڈالا ہوتا۔ |
|
وَ يَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبْتُـمُ ٱلْمُرْسَلِيـنَ٦٥ |
جان لو اس دن کے بارے میں جب وہ جناب (اللہ تعالیٰ) انہیں پکاریں گے، اور مجمع میں ان سے سوال کریں گے:"تم نے اپنی جانب بھیجے گئےرسولوں کے پیغام کا کیا جواب دیا تھا؟" |
|
فَعَمِيَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلْأَنۢبَآءُ يَوْمَئِذٍۢ فَهُـمْ لَا يَتَسَآءَلُونَ٦٦ |
تو اس دن، جب قیامت برپا ہو چکی ہو گی، ان کے پاس کوئی خبر باقی نہیں رہے گی—چنانچہ وہ آپس میں کوئی سوال و جواب نہیں کریں گے اس سوال کا جواب دینے کے لیے۔ Root: ع م ى |
|
فَأَمَّا مَن تَابَ وَ ءَامَنَ وَ عَمِلَ صَٟلِحًۭا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلْمُفْلِحِيـنَ٦٧ |
[یومِ قیامت کے واقعات کو دیکھنے کے علم کی طرح جان لو] چنانچہ، جو کوئی اپنے پہلے اعمال کو پہچان لے/ان پر ندامت کرے اور دل سے آفاقی رسول پر ایمان لائے اور بہترین عمل کرے —تو عنقریب اس کے ان لوگوں میں شامل ہونے کا امکان ہے جو دائمی کامیابی/ثمر آوری کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ |
|
وَ رَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَ يَخْتَارُۗ |
لوگ ادراک کریں ؛
آپ (ﷺ)کے رب
تخلیق کرتے رہتے
ہیں جو اور جیسا وہ چاہتے ہیں اور جو وہ زیر مقصدبہترین
گردانتے ہیں۔ |
|
وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُونَ٦٩ |
لوگ اس بات کا ادراک کریں اور آپ ان کی ریشہ دوانیوں سے پریشان نہ ہوں ؛آپ(ﷺ)کے رب ہر اس بات کو مطلق انداز میں بخوبی جانتے جو ان کے سینے چھپائے رکھتے ہیں اور وہ بھی جس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ Root: ع ل ن |
|
وَ هُوَ ٱللَّهُ |
سب کچھ
جاننے والے آپ(ﷺ)کے رب اللہ تعالیٰ ہیں۔ |
|
قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمُ
ٱلَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ مَنْ إِلَٟهٌ غَيْـرُ
ٱللَّهِ يَأْتِيكُـم بِضِيَآءٍۖ |
آپ(ﷺ)
فرمائیں، "کیا تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر
اللہ تعالیٰ تم پر قیامت تک کے لیے رات کو ہمیشہ کے لیے مسلط کر دیں
؛ تو
اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے حرارت اور نظر آنے والی روشنی (الیکٹرو
میگنیٹک شعاعیں) لا سکے؟ Root: ض و ء |
|
قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمُ
ٱلنَّـهَارَ سَرْمَدًا إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ مَنْ إِلَٟهٌ
غَيْـرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُـم بِلَيْلٍۢ تَسْكُنُونَ فِيهِۖ |
آپ(ﷺ)فرمائیں،
"کیا تم لوگوں نے اس امکان
پرغور کیاکہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت تک
کے لیے دن کو ہمیشہ کے لیے مسلط کر دیں: تو اللہ کے
سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات لا سکے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر
سکو؟ |
|
وَ مِن رَّحْـمَتِهِۦ جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيْلَ وَ
ٱلنَّـهَارَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ |
سمجھو کہ
یہ ان جناب کی رحمت کی واضح علامتوں
میں سے ہے کہ انہوں نے نظام
کائنات کو تمہارے لیے رات اور دن کے اوقات
میں ترتیب دیا —پیش نظر یہ تھا کہ تم لوگ
رات میں سکون اور آرام حاصل کرو اور دن میں ان
کے فضل سے روزی کی جستجو کرو— |
|
وَيَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُـمْ تَزْعُمُونَ ٧٤ |
اورجب اس دن وہ جناب ان مجرمین سے ارشاد فرمائیں گے"میرے ان شرکاء کو پکار کر اپنی جانب متوجہ کرو جن کے متعلق تم اس زَعم باطل کا اظہار کرتے تھے کہ تمہارے لئے شفاعت کریں گے؟" Root: ز ع م |
|
وَ نَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا فَقُلْنَا هَاتُوا۟ بُرْهَٟنَكُـمْ فَعَلِمُوٓا۟ أَنَّ ٱلْحَقَّ لِلَّهِ وَ ضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَـرُونَ٧٥ |
اور ہم نے ہر امت /نسل میں سے ایک گواہ کا انتخاب کیا، پھر اس کی موجودگی میں ہم نے ان سے پوچھا: "تم لوگ (مشرکین) اپنی ٹھوس دلیل پیش کرو جو تم کہا کرتے تھے اور عمل کرتے تھے۔"چنانچہ، انہیں ادراک ہوا کہ حق بات اور واجب اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی تھی،اور ان کے دل و دماغ سے وہ غائب ہو گیا جو زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔۔ |
|
إِنَّ قَٟرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَـىٰ فَبَغَىٰ
عَلَيْـهِـمْۖ |
یہ حقیقت
ہے کہ قارون نسب کے حوالے سے موسیٰ(
علیہ السلام )کی قوم کا فرد
تھا۔ اس نے جان بوجھ کر ان کے ساتھ عامیانہ
رویہ رکھا۔ |
|
وَ ٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ
ٱلْءَاخِرَةَۖ |
اور جو
کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کودیا ہے، اس
کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پانے کے جذبہ سے مستحق
لوگوں کی فلاح کے لئے خرچ کر کے آخرت
کے گھر کی جستجو کریں ، Root: ن س ى |
|
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَـىٰ عِلْمٍ عِندِىٓۚ
|
اُس (قارون)
نے انکار کرتے ہوئے کہا، "مجھے یہ سب کچھ صرف اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا
ہے۔"کیا وہ
نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کی قوموں کے دولت مندوں کو
ہلاک کر دیا تھا— جو طاقت
میں اس سے زیادہ مضبوط اورجمع کردہ مال و
دولت میں کہیں زیادہ تھے؟ |
|
فَخَرَجَ عَلَـىٰ قَوْمِهِۦ فِـى زِينَتِهِۦۖ |
اپنے استدلال کو ثابت کرنے کے زعم میں پھر زیبائشوں
اور مغلوب کر دینے والے طمطراق میں ملبوس اپنی قوم کے
سامنے نکل کر آیا — |
|
وَ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَـكُـمْ
ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْـرٌۭ لِّمَنْ ءَامَنَ وَ عَمِلَ صَٟلِحًۭا |
اور
ان لوگوں نے،جنہیں حقیقی علم
سے بہرہ مند کیا گیا تھا جو مقصد شئے کو جاننا ہے، ان
کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا: "افسوس تم پر! یقیناً
اللہ تعالیٰ کا لوٹا کر دیا جانے والا اجر و ثواب
اس شخص کے لئے بہترین ہے جو صدق قلب سے ایمان لایا
اور متوازن مائل اصلاح عمل پر کاربند رہا۔ Root: و ى ل |
|
فَخَسَفْنَا بِهِۦ وَ بِدَارِهِ ٱلْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٍۢ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَ مَا كَانَ مِنَ ٱلْمُنتَصِرِينَ٨١ |
بسبب (اس کی علمیت کا پول کھولنے کے لئے)ہم جناب نے زمین کے اس حصے کو دھنسا دیا بمعہ اس(قارون)کے اور اس کے گھر کے۔اور پھر اس کی مدد کی چیخوں کے جواب میں کوئی ایسا گروہ موجودنہیں تھا جو اللہ تعالیٰ کے سوائے اس کی مدد کر سکتا اس کو اس تباہی سے بچانے کے لئے۔اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کرنے والوں کی طرح کچھ بھی کر سکتا۔ |
|
وَ أَصْبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوْا۟ مَكَانَهُۥ
بِٱلْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن
يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَ يَقْدِرُ |
اور وہ
لوگ جو کل تک قارون کی طرح دولت اور مقام کے خواہشمند تھے، صبح کے وقت کہنے
لگے:"عجیب بے خیالی تھی کہ ہمیں یاد نہ رہا کہ اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے
بندوں میں سے اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں
جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس
کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔ |
|
تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ
لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّۭا فِـى ٱلْأَرْضِ وَ لَا فَسَادًۭاۚ |
یہ [دائمی
کامیابی] آخرت کا وہ گھر ہے جسے ہم نے ان لوگوں کے لیے مقرر کیا ہے جو نہ
تو زمین میں برتری اور بڑائی کے خواہش مند ہوتے ہیں اور نہ فساد، بے ترتیبی،
یا گمراہ کن نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ |
|
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْـرٌۭ مِّنْـهَاۖ
|
جو کوئی اللہ تعالیٰ کےحضور
معتدل اور حسن سلوک کا مرتکب حالت میں پیش
ہو گا تو چونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی قدردان نہیں اس لئے اس
کو اس سے بہت بہتر انعام کا استحقاق اسے دیا جائے گا۔ |
|
إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ
إِلَـىٰ مَعَادٍۢۚ |
(آپ ﷺ اس حقیقت کوجان لیں)وہ جناب جنہوں نے
قرءان مجید کومتعین وقت پر انسانیت کو پہچانے کا فرض آپ کے ذمہ لگایا تھا۔وہ جناب کسی بھی لمحے آپ کو اصل جائے قیام
(مَقَاماً مَّحْمُوداً
۱۷:۷۹)کی
جانب لوٹا دیں گے۔ آقائے نامدار ﷺ کی مقام محمودا سے دنیا میں مبارک آمد اور مشن کی تکمیل پر واپسی۔ |
|
وَ مَا كُنتَ تَرْجُوٓا۟ أَن يُلْقَىٰٓ إِلَيْكَ
ٱلْـكِتَٟبُ إِلَّا رَحْـمَةًۭ مِّن رَّبِّكَۖ |
اورآپ (ﷺ) تو اس جستجو /امیدمیں نہ تھے کہ آپ کے
روبرو منفرد کتاب (قرءان مجید)کو پیش کر کے عنایت کیا جائے گا۔مگر منفرد کتاب (قرءان مجید)کو
بنفس نفیس آپ (ﷺ)کو پیش کئے جانے
کی غایت آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے اظہار رحمت
تھا۔(ازل سے بطور رحمت آپ کے لئے مختص کیا گیا تھا) Root: ر ج و |
|
وَ لَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ بَعْدَ إِذْ
أُنزِلَتْ إِلَيْكَۖ |
اورمحتاط
رہیں ان لوگوں کی خوشہ چینیوں سے تا کہ آپ
اپنی توجہ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے دور نہ
ہونے دیں بعد اس کے کہ یہ آپ تک پہنچا دی گئی ہیں۔ |
|
وَ لَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَ |
لیکن
اسے متنبہ کرتے ہوئےمنع کردیں"تجھے چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ
ساتھ کسی اور کو بھی معبود سمجھ کر نہ پکار۔ Root: ش ى ء |
![]()
029-سُوۡرَةُ العنكبوت
Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words
Sura Recitation
|
الٓـمٓ ١ |
عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد]
الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان |
|
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْـرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا |
کیا لوگوں نے یہ حساب لگا لیا ہے کہ انہیں آزمائش سےمتروک کر دیا جائے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں’’ہم رسول کریم (ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لے آئے ہیں‘‘۔ |
|
وَهُـمْ لَا يُفْتَنُونَ ٢ |
اور انہیں کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے مرحلے سے نہیں گزارا جائے گاجیسے کھٹالی میں دھات کو کیا جاتا ہے۔ |
|
وَلَقَدْ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ |
متنبہ رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ان لوگوں کو بھی کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے مرحلے سے گزارا تھا جو ان سے قبل کے ادوار میں ایمان لائے تھے۔ |
|
فَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٣ |
چونکہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے بھید بھی جانتے ہیں اس لئے اس امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی نگاہ میں اسے ظاہر کر دیں جس نے اپنے روئیے،روش اور عمل سے اپنے قول ِایمان کو سچ کر دکھایا ہے اور انہیں بھی جو جھوٹے منافقین ہیں۔ |
|
أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسْبِقُونَا |
یا کیا برائیوں پر عمل پیرا لوگوں نے حساب لگایا ہے کہ ہم جناب کے دائرہ احتساب سے باہر نکل جائیں گے (کہ کہتے ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا)۔ Root: س ب ق |
|
سَآءَ مَا يَحْكُـمُونَ ٤ |
کیا ہی برا ہے جو فیصلے لوگوں کو وہ دیتے ہیں۔ |
|
مَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ ٱللَّهِ |
جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اسے احتساب کے لئےپیش ہونا ہے۔ Root: ر ج و |
|
فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَءَاتٛ |
تو اسے چاہئے کہ اس پر یقین پختہ کر لے کہ اللہ تعالیٰ کا حیات دنیا کے لئے مقرر کردہ دورانیہ کا اختتامی لمحہ کس بھی وقت لازماً پہنچنے والا ہے (تاکہ اچھے اعمال میں جلدی کرے)۔ Root: ء ج ل |
|
وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٥ |
ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔ |
|
وَمَن جَٟهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٟهِدُ لِنَفْسِهِۦٓ |
اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس کسی نے اپنے مال و جان سے جدوجہد کی تو چونکہ اس کے ثمر کو جانتا ہے اس لئے درحقیقت اپنی شخصیت کے لئے ہی جدوجہد کرتا ہے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٦ |
اللہ تعالیٰ کے بارے تو حقیقت یہ ہے کہ یقیناً تمام موجودات کی جانب سے کسی بھی حاجت سے منزا و ماوراء ہیں۔ |
|
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر) دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ |
|
لَنُكَفِّرَنَّ عَنْـهُـمْ سَيِّـَٔاتِـهِـمْ |
ان کے لئے خوش آئندخبر ہے کہ ہم جناب ان کی لغزشوں/گناہوں کو ان کے اعمال نامے سے محو کر دیں گے۔ |
|
وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ أَحْسَنَ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٧ |
اور یقیناًً ہم جناب یوم قیامت ہر اس عمل کے عوض کہیں زیادہ بہتر ثمر انہیں عنایت فرمائیں گےجو وہ کرتے رہے تھے۔ |
|
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٟنَ بِوَٟلِدَيْهِ حُسْنٙا |
متنبہ رہو؛ ہم جناب نے انسان کو پابند کیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ Root: و ص ى |
|
وَإِن جَٟهَدَاكَ لِتُشْـرِكَ بِـى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٚ فَلَا
تُطِعْهُـمَآ |
مگر اے انسان اگر وہ دونوں تم پر اس بات پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی اس کو شریک کرے جس کی تیرے لئے علم سے کوئی سند نہیں تو ان دونوں کی بات کو تسلیم مت کر۔ |
|
إِلَـىَّ مَرْجِعُكُـمْ |
بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم سب نے احتساب کے لئے میری جانب لوٹنا ہے۔ |
|
فَأُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٨ |
چونکہ انصاف اور عدالتی تقاضوں کو پورا کیا جائے اس لئے ہم جناب فرد جرم تم لوگوں کو بتائیں گے جو مستوجب سزا اعمال تم کرتے رہے تھے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ |
|
لَنُدْخِلَنَّـهُـمْ فِـى ٱلصَّٟلِحِيـنَ ٩ |
یقیناً ہم انہیں صالح اعمال پر کاربند لوگوں کی صحبت میں داخل کریں گے۔ |
|
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يِقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ |
|
|
فَإِذَآ أُوذِىَ فِـى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ |
چونکہ ان کا دعویٰ ایمان محض دھوکہ دہی ہے اس لئے جب(انہیں رسول کریم)اللہ تعالیٰ کے راستے کے دفاع میں کوئی اذیت اٹھانا پڑتی ہے تو وہ لوگوں کے پیدا کردہ ہیجان و اضطراب کو ایسے قرار دیتا ہے جیسے وہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہو۔ |
|
وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٚ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُـمْ |
مگر اگر آپ(ﷺ) کو آپ کے رب کی جانب سے فتح و نصرت مل جائے تو وہ یقیناً کہیں گے’’ہم آپ لوگوں کے شانہ بشانہ ساتھ تھے‘‘۔ |
|
أَوَ لَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِـى صُدُورِ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٠ |
کیا ڈھٹائی ہے؛کیا اللہ تعالیٰ اس کے متعلق مطلق علم نہیں رکھتے جو لوگ اپنے سینوں میں جا گزیں کئے ہوئے ہیں۔ |
|
وَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ ١١ |
اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے متعلق مطلق باخبر رہیں گے جو صدق قلب سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور ان سے مطلق باخبر رہیں گے اور لوگوں کے لئےنمایاں کرتے رہیں گے جو جھوٹے مدعیان ایمان(منافقین)ہیں۔ |
|
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْـمِلْ خَطَٟيَٟكُـمْ |
تو ان لوگوں نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کر دیا تھا ایمان لانے والوں سے کہا:"ہمارے راستے کی تم پیروی کرو،اگر ایسا کرو گے تو ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اپنے سر لیں گے"۔ |
|
وَمَا هُـم بِحَٟمِلِيـنَ مِنْ خَطَٟيَٟهُـم مِّن شَـىْءٛ |
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت آنے پر ان کی خطاؤں کا قطعاً بوجھ اور ذمہ داری اپنے ذمہ لینے والے نہیں ہوں گے۔ Root: خ ط ء |
|
إِنَّـهُـمْ لَـكَـٟذِبُونَ ١٢ |
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ(منافقین)یقیناً جھوٹے ہیں۔ |
|
وَلَيَحْـمِلُنَّ أَثْقَالَـهُـمْ وَأَثْقَالٙا مَّعَ أَثْقَالِـهِـمْ |
متنبہ رہو؛یہ گمراہ کرنے والے نہ صرف اپنا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ اضافی بوجھ بمع ان کے گناہ کا بوجھ۔ |
|
وَلَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ عَمَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ١٣ |
متنبہ رہو۔ان سے یوم قیامت جواب دہی کی جائے گی اس بارے جو زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر اختراع کرتے رہتے تھے۔ Root: ف ر ى |
|
وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَـىٰ قَوْمِهِۦ
فَلَبِثَ فِيـهِـمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَـمْسِيـنَ عَامًۭا |
قدیم تاریخ سے واقف ہو جاؤ؛ہم جناب نے نوح(علیہ السلام)کو ان کی
قوم کی جانب اپنا رسول
مبعوث فرمایا تھا۔وہ اپنے رسالت کے مشن کو ان کے مابین انجام
دیتے ہوئے ان کی ہزارقمری سال کم پچاس شمسی سال تہذیبی تاریخ
کی تکمیل تک رہے۔ |
|
وَ إِبْرَٟهِيـمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَ ٱتَّقُوهُۖ ذَٟلِـكُـمْ خَيْـرٌۭ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـمْ تَعْلَمُونَ١٦ |
اور تاریخ کے بعد کے دور میں ہم جناب نے ابراہیم (علیہ السلام)کو رسول مبعوث فرمایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ کرنے کے لئے کہا۔"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٟنًۭا وَ
تَخْلُقُونَ إِفْكًاۚ |
یہ حقیقت ہے
کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ صرف
ایسے سخت،جامد اور مستحکم بنا لئے گئے جھوٹے مراکز انحصار کے لئے اپنی
بندگی اور وجودی وابستگی وقف کئے ہوئے ہو،اور تم انہی کے گرد سچائی
کے الٹ گھڑی ہوئی باطل حقیقت تعمیر کرتے ہو۔۔حقیقت
یہ ہے کہ جن کے لیے تم اللہ کے سوا اپنی بندگی اور
وفاداری ظاہر کرتے ہو، وہ تمہارے لیے کسی بھی رزق کو
فراہم کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ لہٰذا چونکہ
حقیقی طور پر تمام قائم رکھنے والا رزق صرف اللہ ہی کے پاس ہے، اس لیے
اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ رزق اللہ ہی سے طلب کرو، اپنی بندگی، اور
وجودی وابستگی صرف ان کے لیے خاص کرو، اور شعوری
طور پر ان کے لیے شکر و سپاس کا اظہار کرو۔ |
|
وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٚ مِّن قَبْلـِكُـمْ |
|
|
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ كَيْفَ يُبْدِئُ ٱللَّهُ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥٓ |
یہ کیا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے غور ہی نہیں کیا کہ کیسے اللہ تعالیٰ سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی اصل حالت میں پلٹا دیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ تخلیق کو اصل حالت میں پلٹانا ایک آسان معاملہ ہے۔ |
|
قُلْ سِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں " جگ بیتی سے عبرت لینے کے لئے تم لوگ زمین میں گھومو پھرو۔ Root: س ى ر |
|
فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ بَدَأَ ٱلْخَلْقَ |
اس دوران دیکھو کہ ان جناب نے موجودات میں کسی بھی مخصوص شئےکی تخلیق کی ابتدا کیسےفرمائی، |
|
ثُـمَّ ٱللَّهُ يُنشِىئُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلۡءَاخِـرَةَ |
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نشو پذیر کرتے ہیں، آخری نمو۔ Root: ن ش ء |
|
إِنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٢٠ |
یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔ |
|
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ |
یہ ان جناب کی صوابدید ہے کہ جس کسی کے متعلق فیصلہ کریں مستوجب سزا قرار دے کر عذاب میں مبتلا کر یں گے اور رحم فرمائیں گے جس کسی کے متعلق درگزر اور معافی کا فیصلہ فرمائیں گے۔اور تم لوگوں کو ان کے حضور پیش کیا جائے گا۔ |
|
وَ مَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ لَا فِـى ٱلسَّمَآءِۖ |
اور تم لوگ یہ سکت نہیں رکھتے کہ ان جناب کے فیصلوں کو روک سکوموخر کر سکو زمین میں اور نہ ایسا آسمان کی وسعتوں میں کر سکتے ہو۔ Root: ع ج ز |
|
وَمَا لَـكُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِـىّٛ وَلَا نَصِيـرٛ ٢٢ |
اوراے لوگو!یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے سوا قطعاً کوئی سہارا /محافظ اور قطعاًکوئی مددگار نہیں جو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَـٟٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْـمَتِى |
جان لو؛ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کتاب میں بیان کردہ فرمودات اور ان کے حضور پیش کئے جانے کا انکار کیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے من میں میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں۔ |
|
وَأُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ٢٣ |
یہ وہ لوگ ہیں،ایک دردناک عذاب اُن کیلئے تیار ؍ منتظر ہے۔ |
|
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ
إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
فَأَنجَٟهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِ |
چونکہ
ان(ابراہیم علیہ السلام)کے ٹھوس دلائل اور حقیقت آشکارہ کرنے والے بیانات
نوجوانوں کو قائل اور مائل کر رہے تھے جس کا ان کی قوم کے سرداروں
اورپجاریوں کے پاس جواب اور حل کوئی نہیں تھا: Root: ق ت ل |
|
وَ قَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ
أَوْثَٟنًۭا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُـمْ فِـى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ |
اصنام پرستی کی مشرکانہ روش کی اصل حقیقت جان لو؛ جب انہوں (ابراہیم علیہ السلام )نے اپنی قوم سے ہجرت کا ارادہ کیا تو پنڈتوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہا"یہ حقیقت ہے کہ تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ تراشے مجسموں کو بطور معبودان فقط ایک مقصد سے اختیار کیا ہے۔ دراصل انہیں تم نے محض دنیا کی زندگی میں آپس کی محبت اور باہمی مفادات کے ربط کی خاطر معبودانِ باطل کے طور پر اختیار کیا ہے۔حیات دنیا میں باہمی استفادہ کے بعد ازاں،قیامت کے دن تم میں سے ایک ،دوسرے کا انکار کرے گا، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا۔ اورتم سب کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔اوروہاں تمہارے لیے ہرگزکوئی مددگار نہیں ہوگا جو ذرا بھی تمہاری داد رسی کر سکے"۔ |
|
فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌۭۘ |
چونکہ وہ بھی اس معاشرے میں بگاڑ سے نالاں
تھے اس لئے ان (ابراہیم علیہ السلام)کے کہنے پرلوط(علیہ السلام)نے
بھی ان کے ساتھ رخصت ہونے کو مان لیا۔ Root: ھ ج ر |
|
وَ وَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٟقَ وَ يَعْقُوبَ |
اور ہم جناب نے اسحاق اور یعقوب
(بیٹا اور پوتا علیہم السلام)کو ان (ابراہیم علیہ السلام)کے لئے ہماری جانب
سے بطور تحفہ عنایت کئے۔ |
|
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ |
اورہم جناب نے لوط(علیہ السلام)کو اپنا رسول بنایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ کرنے کے لئے کہا۔ |
|
إِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَٟحِشَةَ مَا سَبَقَكُـم بِـهَا مِنْ أَحَدٛ مِّنَ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢٨ |
یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ اُس فحاشی /جنسی بے راہروی میں ملوث ہوتے ہو جس کی جانب تمام دنیا میں تم سے کسی ایک نے بھی سبقت نہیں لی /پہل نہیں کی؟ |
|
أَئِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلـرِّجَالَ |
کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم مردوں کے پاس آتے ہو(جنسی لطف و لذت کے لئے)۔ |
|
وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ |
اور تم لوگ راستے بند/بلاک کرتے ہو۔ Root: ق ط ع |
|
وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُـمُ ٱلْمُنكَرَ |
اورتم لوگ دعوت دے کر بلائی ہوئی مجلس میں ایک ناپسندیدہ عمل میں مشغول ہو جاتے ہو"۔ Root: ن ك ر |
|
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ |
جان لو ان کی اصلیت؛چونکہ استدلال اور جواز بتانے سے قاصر تھے اس لئےان کی قوم کے عمائدین کے پاس جواب کوئی نہ تھا: |
|
إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ |
سوائے یہ کہنے کہ’’لے آ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب۔ |
|
إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٢٩ |
اگر تو اپنے رسول اللہ ہونے کے دعویٰ میں سچا ہے‘‘۔ |
|
قَالَ رَبِّ ٱنصُرْنِـى عَلَـى ٱلْقَوْمِ ٱلْمُفْسِدِينَ ٣٠ |
انہوں(لوط علیہ السلام)نے دعا فرمائی؛"اے میرے رب،میری مدد فرمائیں اس فساد برپا کرنے والی قوم پر"۔ |
|
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٟهِيـمَ بِٱلْبُشْـرَىٰ |
اور جب اچانک ہمارے رسول ابراہیم(علیہ السلام)کے پاس ایک خوشخبری کے ساتھ پہنچ گئے تو استفسار پر: |
|
قَالُوٓا۟ إِنَّا مُهْلِـكُـوٓا۟ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ |
انہوں نے کہا"دراصل ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے مشن پر ہیں۔ |
|
إِنَّ أَهْلَـهَا كَانُوا۟ ظَٟلِمِيـنَ ٣١ |
یہ حقیقت ہے کہ اس میں بسنے والے عرصہ سے حقیقت کے منافی باطل طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں"۔ |
|
قَالَ إِنَّ فِىـهَا لُوطٙا |
انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"یقیناً لوط(علیہ السلام)بھی اس بستی میں موجود ہیں"۔ |
|
قَالُوا۟ نَـحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيـهَا |
انہوں نے جواب دیا"ہمیں بالکل ہر کسی کے بارے مکمل علم ہے جو اس بستی میں موجود ہے۔ |
|
لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥٓ |
یقیناً ہم انہیں اور ان کے اہل خانہ کو وہاں سے بحفاظت منتقل کر دیں گے۔ |
|
إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٟبِـرِينَ ٣٢ |
سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت بھی ایمان لانے سے گریزاں حال میں ہے"۔ Root: م ر ء |
|
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطٙا سِـىٓءَ بِـهِـمْ وَضَاقَ بِـهِـمْ ذَرْعٙا |
مزید جان لو؛ابراہیم(علیہ السلام)سے اجازت لے کر جوں ہی ہم جناب کے پیغامی لوط(علیہ السلام)کے پاس پہنچے توان کی موجودگی نے انہیں بے چین کر دیا۔اور ان کے ساتھ سے گھٹن کو محسوس کیا، اپنے ہاتھو ں کو سامنے کی جانب کرتے ہوئے۔ |
|
وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ |
اور انہوں نے کہا"آپ نہ خوف محسوس کریں اور نہ ان کے انجام کا غم کریں۔ |
|
إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ |
بلاشبہ آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کوبحفاظت ہم بچائیں گے۔ |
|
إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٟبِـرينَ ٣٣ |
سوائے آپ کی بیوی کے۔اللہ تعالیٰ نےاسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت بھی ایمان لانے سے گریزاں حال میں ہے۔ |
|
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَـىٰٓ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ رِجْزٙا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ |
حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بستی کے مکینوں پر فضا سے ہیجانی کیفیت اور مضطرب کر دینے والا باعث گھن عذاب برسانے کو ہیں۔ |
|
بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ ٣٤ |
یہ اضطراب اور باعث گھن عذاب بطور سزااِس بنا پر ہے کہ یہ لوگ مسلسل حدود و قیود سے تجاوز اور مائل بر فساد رہتے تھے"۔ Root: ف س ق |
|
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْـهَآ ءَايَةَ |
اور ہم جناب نے ایک واضح نشانی اس بستی میں سے چھوڑ دی ہے جو عقل سے کام لینے والوں کے لئے باعث عبرت ہے اور اشارہ ہے کہ پکڑ سخت ہوتی ہے۔ |
|
وَإِلَـىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُـمْ شُعَيْبٙا |
اورہم جناب نے شعیب (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم مدین کی جانب نبی مبعوث فرمایا تھا۔ |
|
فَقَالَ يَٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ |
بھرپور جوان ہونے اور فرائض رسالت سونپے جانے پرانہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بااظہار بندگی کرو۔ |
|
وَٱرْجُوا۟ ٱلْيَوْمَ ٱلۡءَاخِـرَ |
اور تم لوگ آخر دن کے وقوع پذیر ہونے کی توقع رکھو— Root: ر ج و |
|
وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٣٦ |
اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔ |
|
فَكَذَّبُوهُ |
چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔ |
|
فَأَخَذَتْـهُـمُ ٱلرَّجْفَةُ |
جوں ہی مہلت کا وقت ختم ہوا تو ایک بھونچال نے انہیں گرفت میں لے لیا۔ Root: ر ج ف |
|
فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٣٧ |
چونکہ اس بھونچال کی نوعیت شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔ |
|
وَعَادٙا وَثَمُودَا۟ وَقَد تَّبَيَّـنَ لَـكُـم مِّن مَّسَٟكِنِـهِـمْ |
اور عاد اور ثمود قوموں کو گرفت میں لے کر نیست و نابود کر دیا گیا تھا۔ اور یقیناً یہ تم لوگوں کے لیے ان کی رہائش گاہوں سے واضح طور پر عیاں ہوچکا ہے [ان کی اچانک تباہی کے بارے میں] |
|
وَزَيَّنَ لَـهُـمُ ٱلشَّيْطَٟنُ أَعْمَٟلَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ |
اور شیطان نے ان کے اس طرز عمل کو جس پر وہ کاربند تھے ان کے لئے باتکرارخوشنما اور دل کش بنا دیا تھا۔اور یوں انہیں راہ راست سے موڑ /منحرف کردیا ۔ |
|
وَكَانُوا۟ مُسْتَبْصِرِينَ ٣٨ |
حالانکہ وہ عقلمند اور دوراندیش لوگ تھے۔ |
|
وَقَٟرُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَٟمَٟنَ |
اور ہم جناب نے قارون اور فرعون اور ھامان کوگرفت میں لے لیا تھا۔ |
|
وَلَقَدْ جَآءَهُـم مُّوسَـىٰ بِٱلْبَيِّنَـٟتِ |
اورموسیٰ (علیہ السلام)یقیناً ان کے پاس عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں(آیات ) لے کر آئے تھے جوان کے تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ سند اور برھان ہیں۔ |
|
فَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ |
مگر مظاہر کی نمائش دیکھ لینے اور قلب میں مان لینے کے باوجود وہ سلطنت میں اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خواہش میں مگن رہے۔ |
|
وَمَا كَانُوا۟ سَٟبِقِيـنَ ٣٩ |
اور نہ وہ سبقت لینے والے تھے۔ Root: س ب ق |
|
فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنۢبِهِۦ |
چنانچہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے جرم اور بغاوت کے سبب سزا دی۔ Root: ذ ن ب |
|
فَمِنْـهُـم مَّن أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبٙا |
ان میں سے کچھ پر ہم نے شدید طوفان بھیجا۔ |
|
وَمِنْـهُـم مَّنْ أَخَذَتْهُ ٱلصَّيْحَةُ |
اورکچھ کو زبردست چنگھاڑ/ زلزلے نے پکڑ لیا۔ Root: ص ى ح |
|
وَمِنْـهُـم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ |
اور ان میں سے کچھ کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، |
|
وَمِنْـهُـم مَّنْ أَغْـرَقْنَا |
اور کچھ کو ہم نے غرق کر دیا۔ Root: غ ر ق |
|
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُـمْ |
ان پیشگی اقدامات سے ظاہر تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پرزیادتی کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ |
|
وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ يَظْلِمُونَ ٤٠ |
لیکن وہ حقیقت کو باطل سے بدل کر خود اپنے نفوس پر زیادتی کرتے اور اپنی شخصیت کوبگاڑتے رہے۔ |
|
مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ |
ان لوگوں کے طرز عمل کی مثال جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ حزب الشیطان کو دانستہ بطور سرپرست اور پشت پناہ اختیار کیا ہے۔ |
|
كَمَثَلِ ٱلْعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتْ بَيْتٙا |
اس مخصوص مادہ مکڑی کے مثل ہے جس نے دانستہ کسی شئے کو بطور پناہ گاہ ،گھر اختیار کیا۔ کیابیت العنکبوت کے معنی ”تارِ عنکبوت، جالے،Web“ہیں؟ قطعی نہیں! |
|
وَإِنَّ أَوْهَنَ ٱلْبُيُوتِ لَبَيْتُ ٱلْعَنكَبُوتِ |
اور یقیناً گھروں،پناہ گاہوں میں سب سے کمزور اور زبوں اس مخصوص مادہ مکڑی کا اختیار کردہ گھر ہے۔ |
|
لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٤١ |
اگر وہ معلومات حاصل کر لیتے تو ممکن تھا کہ ایسا وہ نہ کرتے۔ |
|
إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مِن شَـىْءٛ |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں اور لوگوں کے لئے ہر اس شئے کی حقیقت آشکارہ کرتے ہیں جس کو وہ(حزب الشیطان)ان جناب کے علاوہ پکارتے ہیں۔ |
|
وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٤٢ |
مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔ |
|
وَتِلْكَ
ٱلْأَمْثَٟلُنَضْرِبُـهَا لِلنَّاسِ |
مطلع رہو؛ یہ مخصوص قسم کی مثالیں ہیں جو وہ جناب بیان فرماتے ہیں لوگوں کے لئے کسی نکتہ کو نمایاں کرنے اور ان کےاستفادہ اور غوروفکر کرنے کے لئے۔
Root: ض ر ب |
|
وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلَّا ٱلْعَٟلِمُونَ ٤٣ |
مگر یہ حقیقت ہے کہ ان(مثالوں)پر تعقل کر کے فرق کو سمجھتے صرف وہ لوگ ہیں جو معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ Root: ع ق ل |
|
خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّ |
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔ |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ ٤٤ |
یقینا عینی مشاہدہ میں ہر وقت موجود ایسی شہادت اس منظم تخلیق کائنات میں ظاہر ہے جو خاص کر ایمان لانے والوں کے لئے فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی اشارہ کرنے والی ہے۔ |
|
ٱتْلُ مَا أُوْحِـىَ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ |
آپ(ﷺ) لفظ بلفظ لوگوں کو اپنی زبان سے وہ سنا /تلاوت کردیں جومنفرد کتاب (قرءان مجید)کے مندرجات میں سے آپ کو زبانی(لفظاً،تلفظ ۔وحی)سنایا جا چکا ہے۔ |
|
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ |
اور آپ استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کا انتطام کریں (کہ یہ اسلامی سلطنت کا پہلا فریضہ ہے )۔ |
|
إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنْـهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ |
یہ حقیقت ہے کہ التزام سے پابندی صلوٰۃ فحش اور نازیبا ٖحرکات اور غیر معروف،ناپسندیدہ اور ناشائستہ طرز عمل سے منع رکھتی ہے۔ |
|
وَلَذِكْرُ ٱللَّهِ أَكْبَـرُ |
مگر تاکید یہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہر وقت موجود ہونے کو یاد رکھنا اور دہراتے رہنا نامناسب روئیے سے باز رہنے کا سب سے بڑا مانع ہے۔ |
|
وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ٤٥ |
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ بخوبی علم رکھتے ہیں اس کا جو نت نئے طرز عمل تم لوگ اختراع کرتے ہو۔ Root: ص ن ع |
|
وَ لَا تُجَٟدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْـكِتَـٰبِ إِلَّا
بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْـهُـمْۖ |
اور تم لوگوں کو
اہلِ کتاب سے باہمی بحث و مباحثہ نہیں
کرنا چاہئے مگر ایسے طریقے سے جو متوازن اور مناسب ہو، سوائے ان
لوگوں سے اجتناب کرنے کے جو ان میں سے ظلم و زیادتی
کر چکے ہیں۔(ان سے اجتناب کرنا بہتر ہے تاکہ کسی
تنازع یا نامناسب رویے سے بچا جا سکے۔)
|
|
وَكَذَٟلِكَ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ |
اوراس مقصد کے لئے ہم جناب نے منفرد کتاب (قرء ان مجید) کو آپ(ﷺ)کی جانب مجتمع انداز میں نازل فرمایا ہے،(مبنی بر بیان حقیقت اور موقع محل کی مناسبت سے) |
|
فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ |
اس لیئے وہ لوگ جنہیں منفرد کتاب سے نوازا گیا تھا وہ اس (قرءان مجید) پر ایمان لاتے ہیں۔ |
|
وَمِنْ هَٟٓـؤُلَآءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِۦ |
اور ان امیین(جنہیں پہلے کتاب سے نوازا نہیں گیا تھا)میں سے بھی ہیں جو اس (قرءان مجید)پر ایمان لاتا ہے۔ |
|
وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٟتِنَآ إِلَّا ٱلْـكَـٟفِرونَ ٤٧ |
یہ حقیقت ہے کہ دانستہ انکار پر بضد رہنے والوں کے کوئی بھی صاحب عقل و فکر ہم جناب کی بھیجی عبارات کی حقانیت کے متعلق لیت و لعل نہیں کرتا۔ Root: ج ح د |
|
وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٟبٛ وَلَا تَخُطُّهُۥ
بِيَمِينِكَ |
تعجب ہے اُن عمائدین پر جو اسے آپ
(ﷺ)کی
تصنیف قرار دیتے ہیں — |
|
بَلْ هُوَ ءَايَٟتُ |
نہیں؛ اس کتاب کو آپ
(ﷺ)کی تصنیف قرار دینا ان عمائدین کی محض بے بنیاد ہرزہ سرائی ہے۔ Root: ج ح د |
|
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٟتٚ مِّن رَّبِّهِۦ |
اوررسول
کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،انہوں نے لوگوں سے
استفسار کرتے ہوئے کہا"کیا
وجہ ہے کیوں انہیں عینی مشاہدہ کرانے کے لئے ایسی شہادتیں(آیات/معجزے) ان
کے رب نے ان پرنہیں بھیجیں جو تصور،تجربہ،
سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوتے ہوئے سند ہوتیں جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟" |
|
أَوَلَمْ يَكْفِهِـمْ أَنَّـآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ
يُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ |
آپ (ﷺ) تصدیق کریں کہ آپ کو رسالت مآب ماننے کے لئےکیا یہ حقیقت ان کے لئے سند اور برھان کے لئے باعث اکتفا نہیں کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)پر منفرد کتاب کو مجتمع مدون انداز میں نازل فرمایا ہے۔وہ لفظ بلفظ،من و عن ان کوبتایا جا رہا ہے۔ Root: ك ف ى |
|
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَرَحْـمَةٙ |
جان لو؛حقیقت یہ ہے کہ رحمت/فلاح و بہبود اور خوشخبری کا پیش خیمہ اس میں درج ہے۔ |
|
وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٥١ |
اوربار بار نصیحت و رہنمائی لینے کے لئے ازل سے ابد کی تاریخ نوشت ہے خاص طور پران لوگوں کے لئے جو رسول کریم محمّد(ﷺ)پر ایمان لاتے ہیں۔ |
|
قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُـمْ شَهِيدٙا |
آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ کا میرے اور تمہارے مابین چشم دید گواہ ہونااکتفا کرتا ہے(کسی اور کی شہادت کی ضرورت نہیں)۔ Root: ك ف ى |
|
يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ |
وہ جناب ہرہر موجودات کو مکمل طور پرجانتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں عیاں یا پنہاں حالت میں موجود ہے"۔ |
|
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْبَٟطِلِ وَكَفَـرُوا۟ بِٱللَّهِ |
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حقیقت کے منافی جھوٹ پر مبنی نظرئیے کو شوق سے تسلیم کیا جس کی اصلیت پانی پر ابھرنے والے جھاگ اور دھاتوں کو پگھلانے پرفاسد الگ ہونے جیسی ہے،اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کر دیا۔ |
|
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ ٥٢ |
یہ ہیں وہ لوگ جو درحقیقت خود اپنا خسارہ ؍/نقصان کرنے والے ہیں۔ |
|
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ |
اور آپ(ﷺ)کو رسول اللہ ماننے سے انکار کرنے والے عمائدین آپ سے عذاب کے نزول کے لئے عجلت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ Root: ع ج ل |
|
وَلَوْلَآ أَجَلٚ مُّسَمّٙى لَّجَآءَهُـمُ ٱلْعَذَابُ |
مگر انہیں یہ اندازہ نہیں کہ اگر ہر معاملہ کے وقوع پذیر ہونے کے لئے لمحہ متعین نہ کر دیا گیا ہوتا تو تو یقیناً مخصوص عذاب نے ان تک پہنچ جانا تھا۔ Root: ء ج ل |
|
وَلَيَأْتِيَنَّـهُـم بَغْتَةٙ وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٥٣ |
اور یہ حتمی بات ہے کہ وہ انہیں پہنچے گا بالکل اچانک جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔ |
|
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ |
اور آپ(ﷺ)کو رسول اللہ ماننے سے انکار کرنے والے عمائدین آپ سے عذاب کے نزول کے لئے عجلت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ Root: ع ج ل |
|
وَإِنَّ جَهَنَّـمَ
لَمُحِيطَةُ |
مگر انجام بھول جاتے ہیں کہ یقیناً جہنم آپ اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کو احاطے میں لینے والی ہے وقت مقررہ پر۔ Root: ح و ط |
|
يَوْمَ يَغْشَٟهُـمُ ٱلْعَذَابُ مِن فَوْقِهِـمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِـهِـمْ |
جس دن تیار کردہ حدت کا عذاب ان کے اوپر کی جانب سے اور ان کے تلووں کے نیچے سے ان پر چھا جائے گا۔
Root: غ ش ى |
|
وَيِقُولُ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٥٥ |
اور ان سے کہا جائے گا"تم لوگ اس کے تاثیری ذائقے سے لطف انداوز ہوجو کچھ تم لوگ کرتے رہتے تھے"۔ Root: ذ و ق |
|
يَٟعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ |
سنو اے میرے ایسے بندوں جو صدق دل سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں: |
|
إِنَّ أَرۡضِى وَٟسِعَةٚ |
یقیناً میری زمین بڑی وسعت کی حامل ہے(اگر ہجرت کرنا ضروری ہو)۔ |
|
فَإِيَّٟىَ فَٱعْبُدُونِ ٥٦ |
چونکہ تم صدق دل سے ایمان لانے کے دعویدار ہو اس لئے صرف میری بااظہار بندگی کرو،پھر زندگی بھر صرف میری با اظہار بندگی کرتے رہو۔ |
|
كُلُّ نَفْسٛ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ |
ہر ایک شخص یوم آخر کی موت کا ذائقہ کسی لمحے چکھے گا۔ Root: ذ و ق |
|
ثُـمَّ إِلَيْنَا تُـرْجَعُونَ ٥٧ |
بعد ازاں وقت گزرنے پر( اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ہم جناب کی جانب تم لوگ احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔ |
|
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ |
اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر) دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔ |
|
لَنُبَوِّئَنَّـهُـم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُـرَفَٙا |
یہ یقینی بات ہے کہ ہم جناب ان لوگوں کو جنت میں سے ایک مقام پر آباد کریں گے؛ بلند درجہ کا مقام۔ Root: غ ر ف |
|
تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا
ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَا |
اس کی خاص بات یہ ہے کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہیں۔یہ لوگ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔ |
|
نِعْمَ أَجْـرُ ٱلْعَٟمِلِيـنَ ٥٨ |
کیا اعلی سرفراز کرنے والا ایوارڈ ہے ان عمل کرنے والوں کا! |
|
ٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ وَعَلَـىٰ رَبِّـهِـمْ يَتَوَكَّلُونَ ٥٩ |
|
|
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٛ لَّا تَحْـمِلُ رِزْقَهَا |
مشاہدہ کرو؛ کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق ساتھ لے کر نہیں چلتے — Root: د ب ب |
|
ٱللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ |
اللہ تعالیٰ انہیں بھی رزق فراہم کرتے ہیں اور تمہیں بھی۔ |
|
وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٦٠ |
ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ؛ اور ہر علم کا تعین کرنے والےہیں۔ |
|
وَلَئِن سَأَلْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ |
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے تخلیق کیا — |
|
وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ |
اور کون ہیں جنہوں نے سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم؛مقررہ نظام کے تابع کیا ہے۔ |
|
لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ |
تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔" |
|
فَأَنَّـىٰ يُؤْفَكُونَ ٦١ |
[اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے باوجود]تعجب ہے پھر یہ کیسے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟ Root: ء ف ك |
|
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ
لَهُۥٓ |
اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے بندوں میں سے اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔ Root: ب س ط |
|
إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ٦٢ |
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کی تمام میں سے ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔ |
|
وَلَئِن سَأَ لْتَـهُـم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ |
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسما ن سے پانی کس نے برسایا — |
|
فَأَحْيَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ مَوْتِـهَا |
چونکہ پانی اوررزق حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے اس کے ذریعے انہوں نے بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات دے دی۔ |
|
لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ |
تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔" |
|
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ |
|
|
بَلْ أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْقِلُونَ ٦٣ |
کہہ تو دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر عقل استعمال ہی نہیں کرتے کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکیں۔ |
|
وَمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَـهْوٚ وَلَعِبٚ |
جان لو؛ یہ دنیوی زندگی کی حیات تو محض سٹیج پر ہونے والے مختصر وقت کے کھیل اور اصل سےتوجہ ہٹانے والے تماشے کے سوا پائیدار نہیں۔ اور یقین کے ساتھ جان لو کہ آخرت کا گھر ہی دراصل الْحَيَوَانُ ہے — حقیقی اور کامل زندگی۔ کاش وہ اس منکشف حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے، تو ضرور جان لیتے کہ خود قرءان مجیدہی اُن کو زندگی بخشتا ہے جو دل سے سنتے ہیں(جواب لو کے لئے ملاحظہ ہو: 8:24)۔ |
|
فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ |
اس حقیقت کا ثبوت کہ ان کا منفی رویہ محض ہٹ دھرمی ہے یہ ہے کہ جب کشتیوں پر سوار انہوں نے یقینی گمان کرلیا کہ موجوں کے ذریعے انہیں گھیر لیا گیا ہے۔ |
|
دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ |
انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ بچائے جانے پر اُن کے متعین کردہ آئین اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے کاربند رہیں گے ۔ |
|
فَلَمَّا نَجَّىٰـهُـمْ إِلَـى ٱلْبَـرِّ إِذَا هُـمْ يُشْـرِكُونَ ٦٥ |
ان کی پرسوز پکار پر جوں ہی ان جناب نے انہیں حفاظت سے خشک ساحل پر پہنچا دیا تو وہ پھر سے فلسفہ اشتراک کے پیروکار بن گئے۔ |
|
لِيَكْـفُـرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْ وَ لِيَتَمَتَّعُوا۟ۖ |
اس کے ناشکر گزار ہوتے ہوئے جو مقام و مرتبہ اور اسباب دنیا ہم جناب نے انہیں عنایت فرمایا ہے۔چونکہ یہ عنایات فقط اظہار ربوبیت ہے اس لئے وہ لوگ اسباب زیست سے لطف اندوز ہوتے رہیں (ایک قلیل مدت کے لئے)۔ |
|
فَسَوْفَ يَعلَمُونَ ٦٦ |
چونکہ نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہے اس لئے وہ لوگ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون ہے جس کے لئے آخرت کے گھر کو اس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ |
|
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا ءَامِنٙا |
(یہ عمائدین قرءان کے تابع ہونے کو معاشرتی اورسیاسی زوال کیوں سمجھتے ہیں۔القصص۔57)کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم جناب نے ان کے لئے اپنے گھر (کعبہ معظمہ)کو ایک محفوظ،امن و آمان کاحامل حرم قرار دیا تھا۔ |
|
وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنْ حَوْلِـهِـمْ |
اس حال میں کہ ان کے اردگرد جوانب سے لوگ جوق در جوق کھچے چلے آتے ہیں۔ |
|
أَفَبِٱلْبَٟطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَكْـفُـرُونَ ٦٧ |
Root: ك ف ر |
|
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًا
أَوْ كَذَّبَ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُۥ |
An abode in the Hell-Prison - is it not a befitting and sufficient reward for the persistent disbelievers of the Messenger and Qur’ān until the moment of their death?" (Cf. 39:32) [29:68]
غور کرو؛ اس شخص سے بڑھ کر حقیقت کے خلاف رویّہ
اختیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ
ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟یا اس سے
بڑھ کر حقیقت کے منافی رویہ اپنانے والا تخریب پسند کون ہو سکتا ہے جس نے بیان حقیقت کو
جھٹلاتے ہوئے دانستہ جھوٹ بولا جب وہ(قرءان مجید۔بیان حقیقت)اس تک پہنچ
گیا؟ Root: ف ر ى |
|
وَٱلَّذِينَ جَٟهَدُوا۟ فِينَا لَنَـهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَا |
اور جو لوگ ہم جناب کی رضا اور پسند کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، ہم یقیناً انہیں اپنے راستے کی ہدایت دیں گے — |
|
وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٦٩ |
جان لو کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اُن لوگوں کے ساتھ ہیں جو اعتدال، حسن سلوک اور سخاوت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ |
![]()