026-سُوۡرَةُ الشعراء

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


طسٓمٓ ١

  • Three mutually conjoined/sewn consonants of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎); First consonant Ta ﻁ‎, it has no additional sign/mark suggesting its pronunciation with its normal sound; the middle conjoined consonant Seen ـسـ‎ and last Meem ـم‎ both have above them ancillary glyph/ prolongation sign/mark which extends/stretches the sound value of the letter to which it is added. Prolongation sign/mark is found whenever the following word begins with still letter. Letter  ـسـ is followed by/ends in still "noon" and so is ـم ending with still "Mee'm-ميم" in pronunciation. [26:01]

عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ اور "میم" بمع آواز کی طوالت کانشان۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢

  • These are the Aa'ya'at: unitary passages of the Book which is characteristically Explicit: conveyor of information in succinct, individuated, distinct and crystallized manner — [26:02]

    اے رسولِ کریم! یہ معلوم کتاب(ام الکتاب) کےمندرجات( آیات )ہیں،جس کا وصف یہ ہے کہ اس کےمتن میں ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔

لَعَلَّكَ بَٟخِعٚ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِيـنَ ٣

  • You the Messenger will perhaps be exerting too much of yourself considering that otherwise they might not heartily become believers of it (Qur’ān).  [26:03]

ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے آپ(ﷺ) شایداپنی تمام توانائیاں خرچ کر یں گے،اس خیال سے کہ وہ  بیان حقیقت(قرءان مجید)پر ایمان نہیں لائیں گے۔

إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْـهِـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٙ
فَظَلَّتْ أَعْنَٟقُهُـمْ لَـهَا خَٟضِعِيـنَ ٤

  • [You should not grieve for their non belief, relax since] Should Our Majesty so decide, We could send upon them from the Sky such an unprecedented demonstrative sign —
    Whereupon their necks would have bent for that in humility. [26:04]

اگر ہم چاہیں  تو آسمان سے ان پر ایک ایسی شہادت ـ(آیت/معجزہ)اتار دیں۔
جس کو دیکھتے ہی ان کی گردنیں سایہ فگن ہو جائیں اس کے احترام کے لئے عاجز خاکساروں کی طرح۔

Root: ظ ل ل;  ع ن ق

وَمَا يَأْتِيـهِـم مِّن ذِكْرٛ مِّنَ ٱلرَّحْـمَـٰنِ مُحْدَثٍٛ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْـرِضِيـنَ ٥

  • And whatever warning-information comes to their notice anew quoted from the Reminder-Admonishment (Qur’ān) communicated by Ar'Reh'maan the Exalted; their response has been but to avoid that after having seen/read it.  [26:05]

ان کے پاس جب  کوئی بھی نوشت کائنات (قرءان مجید) میں درج تنبیہ ،جو الرَّحمٰن ذوالجلال والاکرام کی جانب سے آسان فہم تدوین میں خبر رساں ہے، کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ اسے سوائے اس انداز کے نہیں سنتے کہ اس دوران بھی  اس سے اعراض برتتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيـهِـمْ أَنۢبَـٰٓـؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَـهْزِءُونَ ٦

  • Thereby. indeed they have publicly contradicted ["Zikr" Grand Qur’ān when this has reached to them]. Therefore, soon the news about which they people have playfully been jesting will come to them. [26:06]

جواب میں  انہوں نے برسر عام رسول اللہ اور کلام اللہ کو جھٹلایا ہے ؛ چونکہ جو بیان    کیا گیا ہے وہ حقیقت ہے اس لئےان تک جلد وہ خبریں پہنچ جائیں گی جن کے متعلق وہ استہزا،تمسخرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

Root: ھ  ز ء

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَـى ٱلۡأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيـهَا مِن كُلِّ زَوْجٛ كَرِيـمٍ٧

  • Have they not seen—considered and reflected about the Earth —As to how many Our Majesty have sprouted therein every sort of par excellence pairing. [26:07]

ان کی غفلت اس انتہا کی ہے کہ کیا انہوں نے زمین کی جانب بھی نہیں دیکھا۔اندازہ لگائیں کہ   ہم جناب نے اس کے اندر کتنےہر ایک    عمدہ حیات بخش نباتات  کی جنس  کے جوڑے  کو اگانے کی صلاحیت رکھ دی    ہے۔

Root: ك ر م; ن ب ت

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ  وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ٨

  • Indeed there is a pointer in this phenomenon [unlimited creativity of their Sustainer Lord] —But majority of them (polytheist chieftains) believe not in the Messenger and Monotheism. [26:08]

یقینا اس  مشاہدہ  فطرت  میں    ازخود غوروفکر کرنے والوں کے لئے حقیقت (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی کرنے والی نشانی موجود ہے۔مگران (عمائدین)کی اکثریت   رسول اللہ اور توحید کو ماننے والے نہیں  ہیں ۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٩

  • However, the fact remains, your Sustainer Lord is certainly He Who is Absolutely Dominant—All-Mighty, the Fountain of Infinite Mercy. [26:09]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَـىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٠

  • Narrate the episode when the Sustainer Lord of you the Messenger had called Mūsā [alai'his'slaam] commanding that, "You go to the nation of unjust tyrannical people— [26:10]

آپ(ﷺ)اس واقعہ کو بھی  بیان /قلمبند کر دیں ؛ جب آپ کے رب نے موسیٰ(علیہ السلام)کو پکار کرظلم و ستم پر کاربند قوم کی جانب جانے کا کہا تھا۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَۚ  أَلَا يَتَّقُونَ ١١

  • The nation of Fir'aoun/Pharaoh. Will not they fear and become cautious upon watching the displays?  [26:11]

فرعون کی قوم  کی جانب ۔کیا وہ  آیتیں (معجزات)دیکھ کر بھی حفاظت اور پناہ کے خواستگار نہیں ہوں گے!(جیسے آپ خوداسے کوبرا بنتے دیکھ کر خوف سے بھاگ گئے تھے)

قَالَ رَبِّ إِنِّـىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ١٢

  •  He (Mūsā alai'his'slaam) replied, "My Sustainer Lord! It is true that I am apprehensive they will contradict me — [26:12]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے عرض کیا"میرے رب؛مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ مجھے برسر عام جھٹلا دیں گے۔

وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِـى فَأَرْسِلْ إِلَـىٰ هَٟرُونَ ١٣

  • Moreover, my chest feels constricted-narrow, and my tongue is passive in movements - activity—does not fluently articulate/express —Therefore, You the Exalted do send for Ha'roon [whom you have appointed Messenger with me as my sharer — [26:13]

اور میرا سینہ گھٹن اور تنگی محسوس کرتا ہے،اور میری زبان روانی سے حرکت کرنے سے قاصر ہے۔آپ نے چونکہ ھارون کو میرے ساتھ رسول بنا دیا ہے اس لئے انہیں میرے پاس آنے کا پیغام دیں۔

Root: ط  ل ق;  ض ى ق; ل س ن The first reported case of Expressive aphasia - Sa'mri: "لا مساس no touching"

وَلَـهُـمْ عَلَـىَّ ذَنۢبٚ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ١٤

  • And an accusation that lies against me is a strength point-argument available for them, thereby I apprehend they might execute me." [26:14]

اور  مجھ پرایک قتل کا الزام  ان کے لئے قانونی کاروائی  کا جواز بن سکتا ہےجس کے سبب مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں"۔

Root: ذ ن ب

قَالَ كَلَّاۖ فَٱذْهَبَا بِـَٔايَٟتِنَآۖ  إِنَّا مَعَكُـم مُّسْتَمِعُونَ ١٥

  • He the Exalted said, "No, not at all —"Now therefore [Haroon having joined and all your apprehensions removed] fearlessly you both go along with Our unprecedented signs - displays —Indeed Our Majesty will be present there with you all, listening — [26:15]

انہوں نے جواب دیا"قطعاً ایسا نہیں ہو گا۔اس لئے بے خوف و خدشہ آپ  دونوں فرعون کی جانب روانہ ہوں، عینی مشاہدہ  کے لئے میری شہادتوں (آیات/معجزات ) کی مصاحبت میں  جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کریں گی  کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔۔یقیناً ہم آپ سب کے ساتھ ہوں گے،ہر لمحہ ہم بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔

فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦

  • Therefore, you both go straight to Fir'aoun/Pharaoh, whereupon both tell him, "Indeed we are Messenger of the Sustainer Lord of the Worlds—all that exists — [26:16]

اس طرح بے خوف و خدشہ دونوں  فرعون  کے پاس جاؤ،وہاں شاہی دربار میں پہنچ کر فرعون سے مخاطب ہو کرکہنا: "یہ حقیقت ہے کہ ہم تمام موجودات کے رب کے رسول ہیں جو آپ کے رب کا حکم نامہ لے کر آئے ہیں۔

أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ١٧

  • The message is that you send with us Bani Iesraa'eel." [26:17]

پیغام یہ ہے کہ  آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر دیں"۔

قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٙا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِيـنَ ١٨

  • He (Fir'aoun/Pharaoh) replied:  "Did we not nourish and raise you among us while you were a child? And you lived among us many years of your age — [26:18]

اس(فرعون)نے کہا’’کیا ہم نے تجھے بچپن سے اپنے درمیان رکھ کر پرورش اور پروان نہیں چڑھایا۔اور تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے درمیان  آباد رہا۔

Root: ر ب و ; س ن ه; ع م ر; ل ب ث

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِـى فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟفِرِينَ ١٩

  • And you did, an act of yours which you did once —(subtle threat of reopening the accidental murder case) And now you are one of the ungrateful". [26:19]

اور تم نے  پہلی مرتبہ اپنی وہ حرکت کی۔یاد کر وہ پہلی مرتبہ کی ہوئی حرکت جو تونے کی تھی۔(زیر لب اس  اتفاقی قتل کیس کو کھولنے کی دھمکی)۔اور تواس وقت جو کر رہا ہے وہ تجھے ان میں شامل کر رہا ہے جوشکر گزار نہیں ہوتے‘‘۔

قَالَ فَعَلْتُـهَآ إِذٙا وَأَنَا۟ مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ٢٠

  • He (Mūsā [alai'his'slaam]) said, "I had done that suddenly while I was lost in thought. [absorbed in deep thinking-28:15]; [26:20]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا’’میں نے وہ حرکت اس وقت  کی تھی جب  اچانک مجھے زور سے پکارا گیا تھا جبکہ میں اس لمحے گہرے تفکر میں کھویا ہوا تھا۔(القصص۔۱۵  پڑھیں)

فَفَرَرْتُ مِنكُـمْ لَمَّا خِفْتُكُـمْ فَوَهَبَ لِـى رَبِّـى حُكْـمٙا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ٢١

  • Since I got the information of your counseling of getting me executed on the pretext of that incident instead of allowing law to take its own course, therefore, I escaped from you the moment I felt apprehensive of you people — [see-28:20] My decision was sequel to my Sustainer Lord had since granted me wisdom in my youth —And He the Exalted has appointed me as one of the deputed Messengers towards you. [26:21]

چونکہ مجھے علم ہو گیا تھا کہ آپ لوگ اس حادثے کو جواز بنا کرمجھے پھانسی دینے کا منصوبہ بنا رہے ہو اس لئے میں آپ سے فرار ہو گیا جوں ہی مجھے آپ لوگوں سے خوف محسوس ہوا۔میرا یہ فیصلہ اس صلاحیت کا استعمال تھا جو میرے رب نے جوانی ہی میں مجھے   حکمت و دانائی سے نوازا تھا(حوالہ القصص۔۱۴)۔اور ان جناب نے مجھے مختلف اقوام کی جانب بھیجے گئے میں شامل کر کے آپ لوگوں کی جانب بحثیت رسول پیغام دینے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔

Root: ف ر ر; و ھ ب

وَتِلْكَ نِعْمَةٚ تَمُنُّـهَا عَلَـىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٢٢

  • And as for the favour you are quoting obligation upon me, it is that you have enslaved Bani Iesraa'eel!" [26:22]

اور جہاں تک اس بھلائی کا تعلق ہے جس کا آپ مجھ پر احسان جتلا رہے ہیں اس حوالے سے کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا ہوا تھا‘‘۔

Root: م ن ن

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢٣

  • Fir'aoun (Pharaoh) said, "Explain whom you refer by the Sustainer Lord of the Worlds?"  [26:23]

فرعون نے کہا"یہ تو واضح کریں کہ رب العالمین کس کا حوالہ ہے"۔

قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُـمَآۖ إِن كُنتُـم مُّوقِنِيـنَ ٢٤

  • He (Mūsā alai'his'slaam defining the word "Worlds"]) said, "He the Exalted is the Sustainer Lord of the Skies and the Earth and all that which exists in between them —If you people (all in Levee) were who inferentially make sure attaining certainty." [26:24] (same in 44:07)

    انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے فرمایا"وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے کے رب ہیں۔متذکرہ انکشاف کو تسلیم کر لو اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے فرمودات پریقین کرنے والے ہو"۔

    Root: ي ق ن

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ٢٥

  • He (Fir'aoun/Pharaoh feeling disturbed by pin drop silence while hearing him) addressing those who were around him said, "Are you people not attentively listening?" [26:25]

ہمہ تن گوش ماحول میں  دراندازی کرتے ہوئے اس(فرعون)نے ان قریبی رفقاء کو جو اس کے قریب بیٹھے تھے کہا"کیا تم لوگ انہماک سے نہیں سن رہے!"

قَالَ رَبُّكُـمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُـمُ ٱلْأَوَّلِيـنَ٢٦

  • He (Mūsā [alai'his'slaam]) said, "Sustainer Lord of the Worlds is the Sustainer Lord of you people and the Sustainer Lord of your earlier forefathers." [26:26]

انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے فرمایا"وہ رب العالمین آپ لوگوں کے رب ہیں اور آپ کے آباؤاجداد کے رب ہیں"۔

قَالَ إِنَّ رَسُولَـكُـمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُـمْ لَمَجْنُونٚ ٢٧

  • He (Fir'aoun/Pharaoh) said, "Indeed the Messenger of you people; he who has been sent to you people, is certainly obsessively deluded." [26:27]

اس  نے(فرعون ، دخل دیتے ہوئے )کہا"در حقیقت تمہارا رسول ،وہ جسے تم لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہے  میرے خیال میں یقیناًخبطی،فاسد خیالات میں گم کردہ ہو گیا ہے"۔

قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْـرِقِ وَٱلْمَغْـرِبِ وَمَا بَيْنَـهُـمَآۖ إِن كُنتُـمْ تَعْقِلُونَ ٢٨

  • He (Mūsā [alai'his'slaam]) said, "Sustainer Lord of the Worlds is the Sustainer Lord of the East and the West and whatever exists in between them —You would conclude the same reality If you people (looking at the elite of Egypt present in  Levee) apply intellect to differentiate and comprehend." [26:28]

انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے فرمایا"وہ جناب مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے مابین موجود ہے سب کے رب ہیں۔اگر آپ لوگ عقل و فکر سے کام لیں تو خود بھی اس حقیقت کو جان لیں گے"۔

Root: ش ر ق ; غ ر ب; ع ق ل

قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَٟهًا غَيْـرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِيـنَ ٢٩

  • He (Fir'aoun) said, "I am determined that if you have adopted an iela'aha: Sustainer Lord who is other than me, I will henceforth most certainly render you as jailed/imprisoned." [26:29]

اس(فرعون)نے معبود مطلق کے بیان پر بے چین ہوتے ہوئے کہا"اگر آپ نے مجھ سے علاوہ کسی کو معبود مطلق اختیار کیا تو میں یقینی طور پر تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا"۔

Root: س ج ن

قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٛ مُّبِيـنٛ ٣٠

  • He (Mūsā [alai'his'slaam]) said, "You would do this even if I have come to you with a thing making distinctly evident what I have said about Sustainer Lord of Worlds? [26:30]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے جواب دیا"کیا آپ ایسا کریں گے اگرچہ میں ایک ایسی شئے کے ساتھ تیرے پاس آیا ہوں جو متبین کر دے گا کہ معبود مطلق کون ہے؟"

قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٣١

  • He (Fir'aoun) said, "Then you come with it if you were the truthful." [26:31]

اس(فرعون)نے کہا"اگر ایسا ہے تو جاؤاس کو لے کر  آؤ ا گر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔

فَأَ لْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٚ مُّبِيـنٚ  ٣٢

  • Acceding to his demand, he (Mūsā [alai'his'slaam]) threw before their eyes his stick; the moment it fell on ground it was evidently a real serpent with hood: Cobra. [26:32]

جواب میں انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے  ہاتھ میں تھامی عصا کو ان کی آنکھوں کے سامنے زمین پر ڈال دیا؛ توزمین پر گرتے ہی وہ سریحاً زندہ کوبرا بن گئی تھی۔

Root: ع ص و

وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٟظِـرِينَ ٣٣

  • And the moment he (Mūsā [alai'his'slaam]) drew out his hand, after putting in his armpit through neckband, she/palm was pure shining white without spot for the onlookers. [26:33]

اوروہ (موسیٰ علیہ السلام) اپنے ہاتھ کو  گریبان سے بغل میں لے گئے۔بغل سے چھو کر جوں ہی اسے نکالا تو ہتھیلی وہاں موجود دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکدار تھی۔

Root: ن ز ع

قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَـٰذَا لَسَٟحِرٌ عَلِيـمٚ ٣٤

  • He (Fir'aoun) said to Chiefs who were immediately around him —"Indeed, he is certainly a knowledgeable magician, player of illusory tricks. [26:34]

اس(فرعون)نے اپنے اردگرد قریبی سرداروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا:"یقیناً یہ صاحب توفریب نظر کے ماہر شعبدہ باز ہیں۔

Root: م ل ء; س ح ر

يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُـم مِّنْ أَرْضِكُـم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُـرُونَ ٣٥

  • He has the intention of ousting you people from your Land with his illusory tricks —Therefore, to controvert his design, what you suggest/advise?" [26:35]

یہ توچاہتا ہے کہ تم لوگوں کو تمہاری سلطنت کی حکمرانی سے اپنے جادوکے شعبدے سےنکال دے۔اس کے پیش نظر آپ لوگ کیا مشورہ دیتے ہیں"۔

Root: س ح ر

قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِـى ٱلْمَدَآئِنِ حَٟشِـرِينَ ٣٦

  • [not agreeing but instead of openly contradicting] They (Chieftains) said, "You defer granting time to him and his brother—And nominate/appoint gatherers in the towns — [26:36]

انہوں(دوسرے سرداروں نے اس کے خیال سے بالواسطہ اتفاق نہ کرتے ہوئے)نے جواب دیا"آپ انہیں(موسیٰ علیہ السلام)اور ان کے بھائی کو وقت دیں۔اور آپ بستیوں میں  شعبدہ بازوں کو اکٹھا کرنے والوں کو مقرر کر کےبھیجیں۔

Root: ر ج و

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍٛ عَلِيـمٛ ٣٧

  • They will come back to you along with every knowledgeable magician/illusionist/displayer of illusory tricks." [26:37]

وہ تمام کے تمام شعبدہ بازی کے علم میں ماہرین کو لے کر آ جائیں گے"۔

Root: س ح ر

فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٟتِ يَوْمٛ مَّعْلُومٛ ٣٨

  • In compliance to directive, the magicians - illusionists - demonstrators of illusory tricks were gathered at the appointed place on the known day—the day of the festival. [26:38]

اس کے بعدفرعون کے حکم کی تعمیل میں شعبدہ بازوں کو مقررہ مقام پر معلوم تہوار کے دن مظاہرہ دکھانے کے لئے اکٹھا کر لیا گیا۔

Root: س ح ر; و ق ت

وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُـم مُّجْتَمِعُونَ ٣٩

  • And it was announced for general public whether "Are you people assembling with passion and taste — [26:39]

اور  عوام الناس کے لئے اعلان کیا گیا؛"کیا تم لوگ شوق و ذوق سے اکٹھے ہو گے۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِــعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُـمُ ٱلْغَٟلِبِيـنَ ٤٠

  • So that we affectionately enjoy - admire the magicians if they were the victorious." [26:40]

تاکہ ہم لوگ شعبدہ بازوں کو سراہیں اگر وہ مقابلے میں غالب ہو جائیں"۔

Root: س ح ر;  غ ل ب

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٟلِبِيـنَ٤١

  • In compliance to the directive issued when the Magicians came they said to Fir'aoun: "Would there indeed for us be a sure reward if we were the victorious." [26:41]

چونکہ انہیں بتایا گیا کہ بادشاہ سلامت ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں اس لئے جوں ہی شعبدہ باز دربار میں پہنچے تو انہوں نے فرعون کو مخاطب کر کے کہا:"ہمارے لئے یقیناً انعام و اکرام ہو گا اگر ہم مقابلے میں غالب ہو جائیں گے"۔

Root: س ح ر;  غ ل ب

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُـمْ إِذٙا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِيـنَ ٤٢

  • He (Fir'aoun) replied, "Off course! and in that case as soon it would have happened you will certainly become part of close- confidants." [26:42]

اس(فرعون)نے جواب دیا"ہاں انعام ملے گا،بلکہ جب ایسا ہو جائے گا تو تم لوگ ان میں شمار ہو گے جو ہمارے قریبی ہیں"۔

قَالَ لَـهُـم مُّوسَـىٰٓ أَ لْقُوا۟ مَآ أَنتُـم مُّلْقُونَ ٤٣

  • Mūsā [alai'his'slaam] said to them (Magicians): "Display to public that which you perform as conjurers."

موسیٰ(علیہ السلام)نے ان سے کہا"آپ لوگ کرتب دکھائیں، سامنے زمین پر پھینکیں جو تم پھینک کر شعبدہ دکھاتے ہو"۔

فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَـهُـمْ وَعِصِيَّـهُـمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَـحْنُ ٱلْغَٟلِبُونَ ٤٤

  • Thereby, they started throwing their various ropes and sticks [in organized manner/equation-timing] —While they pronounced, "By the might and dominance of Fir'aoun! Indeed we are certainly the victorious," [26:44]

ان کے جواب کو سن کر انہوں(شعبدہ باز)نے ااپنے رسیاں اور چھڑیاں زمین پر پھینکنا شروع کر دیں۔اور انہوں نے نعرہ لگایا"فرعون کے جاہ و جلال کی قسم،یقیناً ہم بلاشبہ غلبہ پانے والے ہیں"۔

Root: ع ص و; غ ل ب

فَأَ لْقَىٰ مُوسَـىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ٤٥

  • Thereupon, [in response to Allah's command 7:117;20:69] Mūsā [alai'his'slaam] threw his stick, whereby she suddenly [was a cobra] started swallowing what deception—illusion they had created. [26:45]

پیغام سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے  اپنی عصا کو زمین پر پھینکا،تو وہ اچانک کوبرا سانپ بن کر اس کو نگلنا شروع ہو گئی جووہ شئے کو گھما پھرا کرفریب نظر کا شعبدہ دکھایا کرتے تھے۔

Root: ع ص و;  ل ق ف; ء ف ك

فَأُ لْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٟجِدِينَ ٤٦

  • Thereby, the illusionists were seen lain prostrating —

حقیقت جان لینے پر شعبدہ باز زمین پر جھک کر سجدہ ریز ہو گئے۔

Root: س ج د;  س ح ر

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٤٧

  • [after prostration] They pronounced: "We have heartily believed in the Sustainer Lord of the Universes - all that exists— [26:47]

انہوں نے پہلے کہا"ہم عالمین کے رب پر ایمان لے آئے ہیں۔

رَبِّ مُوسَـىٰ وَهَٟرُونَ ٤٨

  • The Sustainer Lord of Mūsā and Ha'roon [alai'him'slaam]." [26:48]

موسیٰ اور ھارون(علیہماالسلام)کے رب پر"۔

قَالَ ءَامَنتُـمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَـكُـمْۖ
إِنَّهُۥ لَـكَبِيـرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُـمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَۚ
 لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُـمْ وَ أَرْجُلَـكُـم مِّنْ خِلَٟفٍۢ وَ لَأُصَلِّبَنَّكُـمْ أَجْـمَعِيـنَ
٤٩

  • He (Fir'aoun) said reprimanding, "How come you believed for him before I had granted permission for you people—
    Indeed he (Mūsā [alai'his'slaam]) is certainly your elder who has taught you the magic; the consequence of it you will soon come to know —
    Since you have done this without my permission, thereby, I will soon surely detach-chain off your hands and feet from opposite sides; And I will surely crucify you all collectively." [26:49]

اس (فرعون)نے ان شعبدہ بازوں کو مخاطب کر کے کہا"کیا تم اس(موسیٰ علیہ السلام)پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں نے تمہارے لئے اجازت کا فرمان دیا؟
حقیقت یہ ہے کہ وہ(موسیٰ علیہ السلام)تم لوگوں کا بڑا بزرگ ہے جس نے تمہیں  جادو کی تعلیم دی ہے۔تمہارا منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے اس لئے اس کا انجام تم جلد جان جاؤ گے۔
چونکہ تم لوگوں نے میرے فرمان کے بغیر ایسا کیا ہے،اس لئے میں جلد ہی تمہارے ہاتھوں اور تمہارے پاؤں کو مخالف سمت میں منقطع کر دونگا۔
اور میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں  تمہیں  درختوں کے تنوں پرٹانگ کر سزائے موت دونگا؛ اجتماعی انداز میں"۔

Root: س ح ر; ق ط ع

قَالُوا۟ لَا ضَيْـرَۖ إِنَّـآ إِلَـىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ٥٠

  • They (the illusionists) replied, "Not at all a matter of harmful concern, we don't care —Indeed We are reversers towards our Sustainer Lord — [26:50]

انہوں(شعبدہ بازوں نے ترکی بہ ترکی)نے جواب دیا"قطعا! کسی بھی قسم کے نقصان اور تکلیف کی ہمیں پرواہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی جانب پلٹ چکے ہیں۔

إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٟيَٟنَآ أَن كُنَّـآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٥١

  • Indeed we desire that for us our Sustainer Lord may forgive our omissions that we have become the first believers." [of His signs] [26:51]

حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں تو صرف یہ طمع ہے کہ ہمارے رب ہمارے لئے ہماری خطاؤں کو درگزر کرتے ہوئے معاف فرما دیں کہ ہم ایمان لانے والوں میں اولین ہیں"۔

Root: ط م ع; خ ط ء


وَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِىٓ إِنَّكُـم مّتَّبَعُونَ ٥٢

  • Know it, Our Majesty verbally communicated to Mūsā [alai'him'slaam in Egypt] —That, "You travel by night with my servants —Indeed you people will be chased." [26:52]

تاریخ سے آگاہ  رہو؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے   (مصر میں)موسیٰ(علیہ السلام)کو یہ پیغام وحی کیا تھا:کہ’’ آپ میرے بندوں کو ساتھ لے کر رات کے کسی پہر روانہ ہو جائیں۔اس حقیقت سے مطلع رہیں کہ آپ لوگ  پکڑے جانے کی کاوش میں نقوش قدم پر پیچھا کئے جانے والے ہوں گے۔

Root: س ر ى  Exodus - Eyewitness account

فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٟشِـرِينَ ٥٣

  • Sequel to having informed of their from the City, Fir'aoun [Pharaoh] overwhelmed by fear did not immediately follow them but sent gatherers into the Forts-Army Encampments [with the message] — [26:53]

چونکہ ان کے شہر سے نکل جانے کی خبر اسے  مل گئی تھی اس لئے  فرعون  نے خوف سے مغلوب ہونے کی وجہ سے فوری تعاقب کرنے کی بجائے فوجی چھاونیوں میں (یہ پیغام دے کر ) مجتمع کرنے والوں کو بھیجاۛ:

إِنَّ هَٟٓـؤُلَآءِ لَشِـرْذِمَةٚ قَلِيلُونَ ٥٤

  • "Indeed these are a band separated from main group, small in number — [26:54]

"یقینا یہ توایک تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل جماعت ہے۔

وَإِنَّـهُـمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ ٥٥

  • And indeed they for us are certainly arousers of rage — [26:55]

اور درحقیقت یہ لوگ ہمیں غصہ دلا/انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں۔

Root: غ ى ظ

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٟذِرُونَ ٥٦

  • And we are certainly a multitude, well equipped." [26:56]

اور ہم یقیناہتھیار بند/مسلح جمعیت ہیں"۔

فَأَخْرَجْنَٟهُـم مِّن جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ٥٧

  • Thereby, Our Majesty caused them get out of gardens and springs—[26:57]

اس کے نتیجے  میں ہم جناب نے  انہیں باغات اور چشموں سے مزین وسیع رہائش گاہوں سے نکال باہر کیا۔

وَكُنُوزٛ وَمَقَامٛ كَرِيـمٛ ٥٨

  • And treasures and excellent place. [26:58]

اور خزانوں اوراحترام و قار کے مقام سے نکال باہر کیا۔

Root: ك ر م; ك ن ز

كَذَٟلِكَ وَأَوْرَثْنَٟهَا بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ٥٩

  • And this is how they all went out following them [and got drowned] and Our Majesty made Bani Iesraa'eel the inheritors of that. [26:59]

اس طرح(فرعون اور اسکی فوج کر ڈبو کر)ان کوبے وارث کر دیا اور ہم جناب  نےبنی اسرائیل (جو وہیں رہ گئے تھے) کو ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا۔

Root: و ر ث

فَأَتْبَعُوهُـم مُّشْـرِقِيـنَ ٦٠

  • Thereupon, [on gathering in response to Pharaoh's call], they (Pharaoh and gathered troops) purposely chased them, they were heading towards East. [26:60]

چونکہ فوجی دستوں کا انتظار تھا اس لئے جب اکٹھے ہو گئے تو انہوں(فرعون اور لشکر)نے ان(بنی اسرائیل)کا مشرق کی جانب پیچھا کیا۔

Root: ش ر ق

فَلَمَّا تَرَٟٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٟـبُ مُوسَـىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ٦١

  • Thereby, as soon when the two groups saw each other—The companions of Mūsā [alai'him'slaam] said, "Indeed We will certainly be overtaken." [26:61]

اس طرح ان کے پہنچ جانے پر دونوں اجتماعات نے جوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ لیا:موسیٰ(علیہ السلام)کے ساتھیوں نے سمندر کنارے ان سے کہا"یہ حقیقت لگ رہا ہے کہ ہم پکڑے جائیں گے"۔

Root: د ر ك

قَالَ كَلَّاۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّـى سَيَـهْدِينِ٦٢

  • He (Mūsā [alai'him'slaam]) said, "No, We will never be over taken [he was told this in Egypt-20:77] —Indeed my Sustainer Lord is with me; He the Exalted will soon show me the way." [how to make dry passage evident which He asked me in Egypt-20:77] [26:62]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام )نے جواب دیا"بالکل نہیں!حقیقت یہ ہے کہ میرے رب میرے ساتھ ہیں۔وہ جناب جلد مجھے راستہ بتائیں گے کہ وہ کہاں ہے"(جس کے متعلق مصر میں بتایا تھا،طہ۔77)۔

فَأَوْحَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـىٰٓ أَنِ ٱضْـرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَۖ
فَٱنفَلَقَ
فَكَانَ كُلُّ فِرْقٛ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيـمِ ٦٣

  • Thereby, Our Majesty verbally conveyed to Mūsā [alai'his'slaam]: that "Strike the Gulf of Suez with the help of your staff (to emerge for them the dried up passage/Fringing reef-as earlier told 20:77]".
    Sequel to his striking, it the dried passage became itself emerged becoming visible
    —Thereat, each segment - assemblage of its parts was like the Big Bone-Skeleton [Fringing reefs] stationed firmly at its position. [26:63]

اس پر ہم جناب نے موسیٰ(علیہ السلام)کی جانب یہ صوتی پیغام بھیجا کہ اپنی لاٹھی  کی مددسے بحر سویز کو ضرب لگا کر اس راستے کو ابھار کر منظر میں لائیں (جیسے اس کے متعلق بتایا تھا۔طہ۔77)۔
ان کے ضرب لگانے پر وہ خشک راستہ از خود ابھر کر سطح پر نمایاں ہو گیا۔چونکہ وہ آپس میں جڑے ہوئے تھے اس لئے ان میں ہر ایک ٹکڑا  اپنی جگہ پر مضبوطی سے جمابڑی ہڈی کے ڈھانچے کی مانند دکھائی دیتا تھا ۔

Root: ع ص و; ض ر ب; ف ل ق Exodus

وَأَزْلَفْنَا ثَـمَّ ٱلۡءَاخَرِينَ ٦٤

  • And Our Majesty meanwhile brought the other chasing party nearer. [26:64]

ان کے اس راستے پر گامزن ہو جانے پر ہم جناب  بعد میں آنے والی جماعت کو ساحل کر قریب لے آئے۔

Root: ز ل ف

وَأَنجَيْنَا مُوسَـىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْـمَعِيـنَ ٦٥
ثُـمَّ أَغْـرَقْنَا ٱلۡءَاخَرِينَ 
٦٦
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ٦٧

  • And Our Majesty delivered Mūsā [alai'his'slaam]; keeping him and those with him safe above the surface upon the skeleton-like dried formation of the emerged fringing reefs, all collectively.[26:65]

  • Thereafter—when Pharaoh and his troops pursued them across the same emergent reef (cf. 20:78)—Our Majesty caused the latter group to drown. [26:66]
    Indeed there is surely a sign in that very occurrence—the instance of their drowning —while most of them did not believe in the Messenger’s warnings about the inevitable consequence of their heedlessness. [26:67]

اور ہم جناب نے موسیٰ(علیہ السلام) اور اُن سب کو جو اُن کے ساتھ تھے، سطح آب پر محفوظ رکھتے ہوئے دشمن سے نجات بخشی— سب کو ایک ساتھ، اجتماعی انداز میں۔
بعد ازاں ہم جناب نے
تعاقب کرنے والے گروہ کو غرق کر دیا۔۔
یقینا ً  اس غرقابی میں   ایک اشارہ بھی ہے اور ایک عبرت بھی — ایک ایسا تنبیہی منظر جو سننے والوں کو تاریخ سے سبق لینے پر آمادہ کر سکتا ہے۔مگرپچھلی اقوام کی  اکثریت رسول اللہ کی  تنبیہات پر ایمان نہ لائی   کہ غفلت کا انجام   اندوہناک  ہو سکتا  ہے۔

Root: غ ر ق

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ٦٨

  • Realize the fact, Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:68]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


وَٱتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَأَ إِبْرَٟهِيـمَ ٦٩
إِذْ قَالَ لَأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا تَعْبُدُونَ 
٧٠
قَالُوا۟ نَعْبُدُ أَصْنَامٙا فَنَظَلُّ لَـهَا عَٟكِفِيـنَ 
٧١

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] relate to the believers and the polytheists, for the sake of their understanding and perception, the important and consequential account of Iebra'heim [alai'his'slaam] exactly as is in manuscript, so that it becomes as if witnessed directly— [26:69]

  • When he raised a question to awaken and shake the consciousness of his uncle-father and his people,  "“What is it, in reality, that you devotedly owe and demonstrate allegiance and servitude?” [26:70] (Replica 37:85)

  • They replied, "We devote to a number of corporeally formed statues — And thus, in a state of humility and dedicated attachment, we continuously present ourselves in their service, maintaining a sustained and exclusive devotional presence before her". [26:71]

اور آپ(ﷺ)اہل ایمان اور مشرکین  کے ادراک کے لئےانہیں ابراہیم(علیہ السلام)کا اہم اور نتیجہ خیز واقعہ  مِن و عن سنائیں کہ چشم دید ہو جائے:
جب انہوں نے اپنے چچاابو اور اس کی قوم کے 
شعور کو جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کے لئےسوال اٹھایا تھا"وہ  حقیقت میں کیا ہے جس کی آپ لوگ بندگی کرتے ہیں؟"۔
 انہوں نے کہا"ہم  مختلف  مجسم کی ہوئی مورتیوں کی  بندگی کرتے ہیں ۔چنانچہ   اس کے  لئے  انکسار سےاپنی خصوصی  قلبی وابستگی  اور عبودیت کے اظہار کے لئے  مسلسل  اس کی  خدمت میں حاضری دیتے رہتے ہیں "۔

Root: ظ ل ل;  ع ك ف

قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُـمْ إِذْ تَدْعُونَ ٧٢
أَوْ يَنفَعُونَكُـمْ أَوْ يَضُـرُّونَ 
٧٣
قَالُوا۟ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٟلِكَ يَفْعَلُونَ 
٧٤

  • He [Iebra'heim alai'his'slaam] said, "Then affirm honestly: do they truly hear you whenever you call upon them for some purpose or assistance? — [26:72]

  • Or do they provide you any benefit when you are in need, or do they inflict any harm upon you?" [26:73]

  • They said, "No, they do not. But we we merely found our forefathers continually doing exactly what we ourselves are doing". [26:74]

انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"آپ  دیانت داری سے اس  بات کی تصدیق کر دیں: کیا وہ (معبود) واقعی آپ کی پکار سنتے ہیں    جب جب آپ کسی مقصد یا استعانت کے لئے انہیں پکارتے ہیں؟۔
یا کیا وہ آپ  کو کوئی فائدہ پہنچاتے رہتے ہیں جب جب آپ  ضرورت مند ہوتے ہیں، یا کیا آپ کو کسی نقصان سے دوچار  کرتے  رہتے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا؛"نہیں ایسی کوئی بات نہیں؛ لیکن ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤاجداد کو دیکھا تھا وہ اسی طرح کیا کرتے تھے"۔

قَالَ أَفَرَءَيْتُـم مَّا كُنتُـمْ تَعْبُدُونَ ٧٥
أَنتُـمْ وَ ءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ٧٦
فَإِنَّـهُـمْ عَدُوّٚ لِـىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ 
٧٧

  • He [Iebra'heim alai'his'slaam] said, "That being your own admission and observation,, have you then truly seen with discernment the reality of that to which you devotedly owe and demonstrate allegiance and servitude— [26:75]

  • You and your the most ancient forefathers? [26:76]

  • Since you actually take them as deities alongside Allah Almighty, thereby establishing a shared partnership [with Him], so for me, their collective and permanent nature is that of an enemy — except the Absolute Deity, the Lord of all worlds."—(Cf. 37: 86-87) [26:77]

انہوں (ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"یہ آپ کا اپنا اقرار اور مشاہدہ ہے، پھر کیا آپ نے حقیقت بینی سے اس کی حقیقت دیکھ لی ہے جس کے ساتھ آپ  عقیدت سے وابستہ ہو اور جس کے سامنے آپ اپنی بندگی اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہیں —
آپ لوگ اورآپ کے قدیم ترین  آباواجداد؟"
چونکہ درحقیقت        آپ  اللہ تعالیٰ کے  ساتھ   انہیں بھی   معبودوں کا مقام دے کر یکجا شراکت  داری بنا تےہیں اس لئے میرے لئے ان کی اجتماعی   اور دائمی حیثیت دشمن کی ہے سوائے  معبود مطلق رب العالمین کے۔

Root: ق د م

ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَـهْدِينِ ٧٨

  • The Sustainer Lord of the Worlds is Who created me, thereby, He guides me — [26:78]

رب العالمین وہ ہیں جنہوں نے مجھے تخلیق کیا۔چونکہ تخلیق کار کے ذمہ ہدایت دینا ہوتا ہے اس لئے وہ جناب مجھے  جانب منزل ہدایت دیتے رہتے ہیں۔

وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِيـنِ ٧٩

  • And He is the One Who feeds me and gives me the drink — [26:79]

اور رب العالمین وہ جناب ہیں جو مجھے کھانے اور مجھے پلانے کا انتظام فرماتے ہیں۔

Root:  س ق ى; ط ع م

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيـنِ ٨٠

  • And when I fell sick - suffered a disease, thereat, He the Exalted recuperates me — [26:80]

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ جناب ہی ہیں جو مجھے شفایاب کرتے ہیں۔

Root: م ر ض

وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُـمَّ يُحْيِىنِ ٨١

  • And He is the One Who will cause me to die natural death, thereafter [lapse of time till resurrection moment] He will cause me to revive to life — [26:81]

اور وہ جناب ہیں جو مجھے طبعی موت سے ہمکنار کریں گے،بعد ازاں(حیات نو دئیے جانے کے دن)وہ مجھے حیات نو دیں گے۔

وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِـى خَطِيٓــَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ٨٢

  • And He is the One from Whom I desire and expect that He will forgive for me my omissions on the Day of Requital". [26:82]

”اور وہ جناب ہیں جن سے میں آرزو کرتا ہوں کہ جزا و سزا کے دن(یوم الد ین)میرے لئے میری خطائیں بخش دیں گے۔“

Root: ط م ع; خ ط ء

رَبِّ هَبْ لِـى حُكْـمٙا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٟلِحِيـنَ ٨٣

  • "My Sustainer Lord! Do grant me wisdom—decisive ability to distinguish and do join—repute me with the Righteous. [26:83]

انہوں نے دعا فرمائی "میرے رب!آپ جناب  ہر موقع محل میں مجھے قوت فیصلہ، امتیازی ذہانت سے بہرہ مند فرمائیں۔اور مجھے اصلاح کرنے والوں کی شہرت نصیب فرمائیں۔

Root: ل ح ق; و ھ ب

وَٱجْعَل لِّـى لِسَانَ صِدْقٛ فِـى ٱلۡءَاخِـرِينَ ٨٤

  • And You, the Exalted, establish for me a lasting truthful mention—one that remains as a mark of integrity among later generations." [26:84]

(ابراہیم علیہ السلام نے مزید دعا فرمائی)اور آپ جناب  میرے لیے ایک ایسا دائم و پائیدار سچا ئی کا ذکر اور شہرت  قائم فرما دیں جو بعد کی آنے والی نسلوں میں میری  صداقت کی علامت کے طور پر باقی رہے۔

Root: ل س ن

وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيـمِ ٨٥

  • And do declare-assign me leadership among share holders in the Paradise of Delight. [26:85]

اور آپ جناب  لوگوں کوپرمسرت جنت کے وارث بنانے والوں میں مجھے شامل قرار دیں۔

وَٱغْفِرْ لِأَبِـىٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ٨٦

  • And do forgive for my uncle, indeed he has been amongst the neglectfull astray [26:86]

اور آپ جناب میرے چچا ابو کو معاف فرما دیں۔یہ حقیقت ہے کہ وہ اب تک منحرف گم کردہ راہ لوگوں میں شامل ہے۔

وَلَا تُخْزِنِـى يَوْمَ يُبْعَثُونَ ٨٧

  • And You the Exalted are earnestly requested not to cause disgrace for me on the Day they are revived to life-resurrected. [26:87]

”اور میرے رب! مجھے اُس دن  ازراہ کرم رسوا نہ کریں جب لوگ اٹھائیں جائیں گے‘‘۔

Root: خ ز ى

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٚ وَلَا بَنُونَ ٨٨

  • Neither wealth nor sons will yield benefit to them on that Day of Resurrection— [26:88]

یہ وہ دن ہے جس میں  کافروں کانہ مال و دولت اور نہ طاقت کا مظہر بیٹے کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔

إِلَّا مَنْ أَتَـى ٱللَّهَ بِقَلْبٛ سَلِيـمٛ ٨٩

  • Except the one who came to Allah the Exalted with a submissive heart." [26:89]

یہ فائدہ مند نہیں ہوں گے سوائے اس شخص کے  لئے جو اللہ تعالیٰ کے حضور اسلام کی محبت سے لبریز قلب لئے ہوئے حاضر ہوا۔

وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيـنَ ٩٠

  • And the Paradise shall be caused/brought nearer for those who sincerely endeavour to attain salvation [26:90]

 اور جنت کو اپنے آپ کو تندہی سے محتاط اورغلط روش سے محفوط رکھنے والوں  کے نظارہ کے لئے قریب کر دی گئی۔  

Root: ز ل ف

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِـيـمُ لِلْغَاوِينَ ٩١

  • And the Hell-Prison shall be manifestly exposed for the divagating ones — [26:91]

 اور جھلستی زندان کو ان لوگوں کے نظارہ کے لئے قریب کر دیا گیا جوشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے  لوگ ہیں ۔

Root: غ و ى; ج ح م

وَقِيلَ لَـهُـمْ أَيْنَ مَا كُنتُـمْ تَعْبُدُونَ ٩٢

  • And a question is posed for them, "Where are those deities which you people used to worship/pronounce allegiance for— [26:92]

 اور ان سے پوچھا گیا"کہاں ہیں وہ جن کی تم لوگ بندگی/پوجا کیا کرتے تھے۔

مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُـمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ ٩٣

  • Besides Allah the Exalted? Do those deities help you people or can they help their selves—consciously react in self defense?" [26:93]

اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرتے ہوئے ان کے علاوہ۔

 بتاؤ،کیا وہ تم لوگوں کی مدد کر رہے ہیں یا خود اپنی مدد کرنے کے لئے کچھ کر سکتے ہیں"۔

فَكُبْكِبُوا۟ فِيـهَا هُـمْ وَٱلْغَاوُۥنَ ٩٤

  • Thereupon, they (the idol worshippers) will be dumped therein (Hell-Prison), they and the divagating ones— [26:94]

نتیجتاًانہیں  اس میں پھینک دیا گیا،انہیں(مشرکین)اور حدوں سے تجاوز وشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے  لوگ ہیں۔

Root: غ و ى; ك ب ك ب

وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْـمَعُونَ ٩٥

  • And the accomplices of Iebless - Satan, they all collectively. [26:95]

 اور ابلیس کے ساتھیوں کو؛سب کو یکجا کر کے۔

قَالُوا۟ وَهُـمْ فِيـهَا يَخْتَصِمُونَ ٩٦

  • They said, while they were therein (Hell-prison) mutually disputing—exchanging heated arguments — [26:96]

انہوں نے جہنم میں آپس میں بڑھ چڑھ کر مباحثہ کرتے ہوئے کہا:

Root: خ ص م

تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٍٛ ٩٧

  • "By Allah the Exalted, Indeed we were plunged in manifest straying— [26:97]

"اللہ تعالیٰ کی قسم!حقیقت صرف یہ ہے کہ ہم حکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں صریح غفلت میں سرگرداں تھے۔

إِذْ نُسَوِّيكُـم بِرَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٩٨

  • When obeying you as trailblazers we were equating your word with the command of Sustainer Lord of Worlds— [26:98]

جب اکابرین مان کر ہم تم لوگوں کی باتوں کو تمام موجودات کے رب کے فرمان جیسا قرار دیتے تھے۔

وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلْمُجْرِمُونَ ٩٩

  • And none strayed us except the criminals — [26:99]

اور ہمیں سوائے مجرمانہ ذہنیت اور کردار رکھنے والوں کے کسی اور نے گم کردہ راہ نہیں کیا تھا۔

فَمَا لَنَا مِن شَٟفِعِيـنَ ١٠٠

  • Thereby, there is none of the intercessors for us — [26:100]

چونکہ ہم نے فقط مجرم قرار پائے لوگوں کی پیروی کی تھی اس لئے ہمارے دفاع کے لئے سفارش کرنے والوں میں سے کوئی بھی ہماری مدد پرآمادہ نہیں ہے۔

Root: ش ف ع

وَلَا صَدِيقٍٛ حَـمِيـمٛ ١٠١

  • And neither is there for us any sincere - aggrieved friend — [26:101]

اور  نہ ہمارا کوئی ہم راز دوست کچھ بھی مدد کر سکتا ہے۔

فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةٙ فَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٠٢

  • Therefore [since we have realized and accepted guilt] had for us any chance to return, thereby, we will become the believers." [26:102]

چونکہ اب ہم نے دیکھ لیا اور ذہن کے دریچے کھل گئے ہیں اس لئے اے کاش ہمارے لئے ایک اور موقع ہوتا تو ہم واپس جا کر صدق قلب سے  ایمان لانے والوں کے طرز عمل پر عمل پیرا ہو جائیں"۔(الشعراء۔۱۰۲)

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ٠٣

  • Indeed there is a point for pondering in this disclosure —But most of  them have not been the believers. [26:103]

یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٠٤

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:104]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍٛ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٠٥

  • The nation of Noah [alai'his'slaam] had publicly contradicted those who were sent as Messengers — [26:105]

تاریخ جان لو؛ نوح(علیہ السلام)کی قوم نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔

إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ١٠٦

  • When their brother, Noah [alai'his'slaam] said to them "Would you people not protect yourselves? [26:106]

جب ان کے بھائی نوح(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٠٧

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger — [26:107]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ  وَأَطِيعُونِ ١٠٨

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted, And listen and accept my word. [26:108]

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَ مَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ١٠٩

  • And I do not ask you people; for that— discharging the entrusted trust, any worldly remuneration —My reward is due on none except upon the Sustainer Lord of Worlds [Whose Trust/Assignment is being discharged]. [26:109]

اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف   تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ  وَأَطِيعُونِ ١١٠

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —And listen and accept my word." [26:110]

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو‘‘۔

قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَ ٱتَّبَعَكَ ٱلْأَرْذَلُونَ ١١ ١

  • They (the ruling elite) replied, "Should we believe for you —While only they have followed you who are vilest - riffraff among us." [26:111]

انہوں(عمائدین مشرکین)نے جواب دیا"کیا تمہاری خاطر ہم تیرے کہے کو مان لیں۔جب کہ حال یہ ہے تمہاری اتباع صرف معاشرے کے پست ترین طبقے کے لوگوں نے کی ہے"۔

Root: ر ذ ل

قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١١٢

  • He (Noah alai'his'slaam) said, "My responsibility was to caution them, but I have no knowledge about what they people were doing in the past; [26:112]

انہوں(نوح علیہ السلام)نے جواب دیا"میرا کام انہیں خبردار کرنا تھا مگر میرے علم میں وہ نہیں جو وہ ماضی میں عمل کرتے رہے ہیں۔

إِنْ حِسَابُـهُـمْ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّـىۖ لَوْ تَشْعُـرُونَ ١١٣

  • Because their accountability is but upon my Sustainer Lord—You may not have said that had you been in habit of reflecting [the point] [26:113]

کیونکہ ان کا احتساب کرنا فقط میرے رب کا استحقاق ہے۔آپ لوگ یہ بات نہ کہتے اگر شعور کرتے۔

وَمَآ أَنَا۟ بِطَارِدِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١١٤

  • And nor I am the one to ever drive away the believers— [26:114](Read with 11:29)

اور میں ان لوگوں کو اپنے سے کسی بھی لمحے دور  نہیں کروں گا جو دل کی شاد سے اللہ تعالیٰ کے ہدایت نامہ پر ایمان لے آئے ہیں۔

Root: ط ر د

إِنْ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ١١٥

  • Since I am but an Awakener - Revivalist - Admonisher - Warner making for people things manifest and crystal clear." [26:115]

اوریہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردار تم لوگوں کے لئےکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  فقط متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔

قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنْتَهِ يَٟنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمَرْجُومِيـنَ ١١٦

  • They (the ruling elite) threatened him, "Mind it that if you desisted not, O Noah, certainly you will, we swear, be amongst those who are stoned." [26:116]

انہوں(عمائدین)نے  دہمکی دیتے ہوئےکہا"اگر تو، اے نوح ،از خود اس تبلیغ سے باز نہ آیا تو خبردار ہو جاؤ تجھے سنگسار کر دیا جائے گا"۔

Root: ر ج م

قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ ١١٧

  • He (Noah [alai'his'slaam]) prayed, "O my Sustainer Lord, indeed my nation has publicly contradicted me. [26:117]

انہوں(نوح علیہ السلام)نے دعا فرمائی"میرے رب؛یہ حقیقت ہے کہ میری قوم نے مجھے برملا جھٹلا دیا ہے۔

فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَـهُـمْ فَتْحٙا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِى مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١١٨

  • Therefore, do conclude the matter between me and between them quite openly—decisively —And please rescue me and those who are with me as the believers. [26:118]

چونکہ وہ ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اس لئے آپ جناب میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں،حتمی اور مطلق انداز میں۔اور مجھے ان کی صحبت سے نجات دیں اور صدق قلب سے ایمان لانے والوں میں ہر ایک کو جو میرے شانہ بشانہ ہے"۔

Root:  ف ت ح

فَأَنجَيْـنَٟهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِـى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ١١٩

  • Thereupon Our Majesty rescued him, and those who were believers with him, in the loaded Watercraft [26:119]

  • چونکہ اتمام حجت اور عنایت کردہ مہلت کا وقت قریب اختتام تھا اس لئے ہم جناب نے انہیں(نوح علیہ السلام)اور جو کوئی ان کے ہمراہ تھا سامان سے لدی کشتی میں سوار کر کے بحافظت وہاں سے نکال دیا۔

Root: ف ل ك

ثُـمَّ أَغْـرَقْنَا بَعْدُ ٱلْبَاقِيـنَ ١٢٠

  • Afterwards the sailing of the Watercraft, Our Majesty drowned the remaining ones. [26:120]

بعد ازاں ہم جناب نے باقی ماندہ وقت سے پیچھے رہ جانے والوں کوڈبو دیا۔

Root: غ ر ق; ب ق ى

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ١٢١

  • Indeed there is a point for pondering in this disclosure —But most of  them have not been the believers. [26:121]

یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٢٢

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:122]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


كَذَّبَتْ عَادٌ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٢٣

  • The people of Aad publicly contradicted those who were sent as Messengers — [26:123]

تاریخ جان لو؛  قوم  عاد نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔

إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ هُودٌأَ لَا تَتَّقُونَ ١٢٤

  • When their brother, Hued [alai'his'slaam], said to them "Would you people not protect yourselves? [26:124]

جب ان کے بھائی  ھود(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٢٥

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger. [26:125]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ  وَأَطِيعُونِ ١٢٦

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —And listen and accept my word. [26:126]

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَ مَآ أَسْـَٔلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ  ١٢٧

  • And I do not ask you people; for that— discharging the entrusted trust, any worldly remuneration —My reward is due on none except upon the Sustainer Lord of Worlds [Whose Trust/Assignment is being discharged] [26:127]

اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف   تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍٛ ءَايَةٙ تَعْبَثُونَ ١٢٨

  • Do you people construct at every elevated point a monument; you people act superfluously. [26:128]

کیا تم لوگ ہر بات کے موقع محل کے لئے ہر اونچے مقام پر ایک یادگار تعمیر کر دیتے ہو؟کیا ہی بیکار اور لامقصد کام تم لوگ کرتے ہو۔

Root: ع ب ث

وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّـكُـمْ تَخْلُدُونَ ١٢٩

  • And you people adopt for yourselves strongholds hoping that you might live for long. [26:129]

اور تم لوگ کاریگری سے تعمیر کردہ محلات کو زیر مقصد مضبوط گڑھ کے طور اختیار کرتے ہو،اس امکان کے پیش نظر کہ تم دوام حاصل کر سکو۔

Root: ص ن ع

وَإِذَا بَطَشْتُـم بَطَشْتُـمْ جَبَّارِينَ ١٣٠

  • And when you seize people, you seize tyrannically. [26:130]

اور جب تم نے کسی کو گرفت میں لیا تو گرفت میں لینے کا انداز جابرانہ اور وحشیانہ تھا۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ  وَأَطِيعُونِ ١٣١

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —And listen and accept my word. [26:131]

چونکہ ماضی کا طرز عمل  قابل قدر نہیں تھااس لئے اب تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَٱتَّقُوا۟  ٱلَّذِىٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ ١٣٢

  • And you people sincerely endeavour to attain the protection from Him the Exalted Who has stretched/aided you in whatever you people know. [26:132]

اور ان جناب سے اپنے طرز عمل میں محتاط رہتے ہوئے پناہ کے خواستگار بنو جنہوں نے تمہیں ان علوم میں وسیع دسترس دی ہے جو تم جانتے ہو۔

أَمَدَّكُم بِأَنْعَٟمٛ وَبَنِيـنَ ١٣٣

  • He the Exalted has made you people affluent with mammals and sons — [26:133]

ان جناب نے تم لوگوں کو پالتو چوپایوں اور بیٹوں کے افرادی پھیلاؤ سے نوازا ہے۔

وَجَنَّٟتٛ وَعُيُونٍ١٣٤

  • And with gardens and springs. [26:134]

اور باغات اور پانی کے چشموں کی وافر دستیابی سے نوازا ہے۔

إِنِّـىٓ أَخَافُ عَلَيْكُـمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٣٥

  • I am apprehensive of the punishment of the great day that might befall upon you people."  [26:135]

یہ حقیقت ہے کہ میں سراسیمہ اور فکرمند ہوں تم لوگوں پر ایک بڑے دن میں عذاب مسلط ہونے کے متعلق"۔

قَالُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ ٱلْوَٟعِظِيـنَ ١٣٦

  • They (the ruling elite) replied, "It is one and the same thing for us whether you have advised us or had not acted as an admonishers — [26:136]

ان عمائدین نے جواب دیا"چاہے آپ نے ہمیں  درس ِنصیحت دے دیا یا چاہے آپ پندگو نہ بنیں ہم پریکساں معنی کا حامل ہے۔

Root: و ع ظ

إِنْ هَٟذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٣٧

  • As for those monuments are concerned, we have not constructed; it are not but the creations of the earlier generation. [26:137]

جہاں تک ان یادگاروں کا تعلق ہے  تو یہ اولین نسل کے لوگوں کی تخلیق کردہ ہیں۔

وَمَا نَـحْنُ بِمُعَذَّبِيـنَ ١٣٨

  • And we are certainly not to be victims of punishment for works of earlier people. [26:138]

اور ہم لوگ قطعی طور پر عذاب دئیے جانے والوں میں شمار نہیں ہوں"۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَـكْنَٟهُـمْۗ إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةًۭۖ وَ مَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ١٣٩

  • Thereby they contradicted him [Hued alai'his'slaam] and consequently Our Majesty annihilated them. But most of them have not been the believers. [26:139]

چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔اس لئے اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے پر ہم جناب نے انہیں نیست و نابود کر دیا۔یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٤٠

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:140]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٤١

  • The people of Samued publicly contradicted those who were sent as Messengers — [26:141]

تاریخ جان لو؛  قوم ثنود نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔

إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ صَٟلِحٌ أَ لَا تَتَّقُونَ ١٤٢

  • When their brother, Saleh [alai'his'slaam], said to them "Would you people not protect yourselves? [26:142]

جب ان کے بھائی  صالح(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٤٣

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger — [26:143]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

وَأَطِيعُونِ ١٤٤

  • And listen and accept my word. [26:144]

اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَمَآ أَسْـٔ​َلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖٛۖ

  • And I do not ask you people; for that— discharging the entrusted trust, any worldly remuneration—

اوراس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔

إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٤٥

  • My reward is due on none except upon the Sustainer Lord of Worlds [Whose Trust/Assignment is being discharged] [26:145]

اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف   تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔

أَتُتْـرَكُونَ فِـى مَا هَٟهُنَآ ءَامِنِيـنَ ١٤٦

  • Will you people be left in what is here as secure people— [26:146]

کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں ان خوشگوار حالات جن میں تم مگن ہو امن و امان سے رہنے دیا جائے گا۔

فِـى جَنَّٟتٛ وَعُيُونٛ ١٤٧

  • In the gardens and springs — [26:147]

باغات اور پانی کے چشموں کی وافر دستیابی  میں ۔

وَزُرُوعٛ وَنَخْلٛ طَلْعُهَا هَضِيـمٚ ١٤٨

  • And cultivated crop-fields and trees of date-palms. Her Spathe is digestive. [26:148]

اور کاشت کی ہوئی فصلوں اور کھجور کے درختوں کی وافر مقدار میں۔ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے خوشے ہاضم کا کردار ادا کرتے ہیں۔

Root: ز ر ع; ھ ض م;  ط ل ع; ن خ ل

وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتٙا فَٟرِهِيـنَ ١٤٩

  • And you people carve out the mountains for houses skilfully - artistically. [26:149]

اور تم لوگ نہایت ہنر مندی سے پہاڑوں  میں سے جگہ کاٹ کر گھر بناتے ہو۔

Root: ن ح ت

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —

چونکہ ماضی کا طرز عمل  قابل قدر نہیں تھااس لئے اب تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

وَأَطِيعُونِ ١٥٠

  • And listen and accept my word. — [26:150]

اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْـرِفِيـنَ ١٥١

  • And you people should not accept the word of the transgressors— [26:151]

اور تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ اسراف اور انجام سے بے پرواہ طرز عمل پر کاربند لوگوں کے حکم کو تسلیم کرو۔

Root: س ر ف

ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ١٥٢

  • They are the ones who create distortions and imbalances in the society - Earth and they do not reform". [26:152]

یہ وہ لوگ ہیں جو معاشرے میں ذہنی و فکری انتشارسے بگاڑ پھیلاتے ہیں اورمعاشرے کو اصلاح کی جانب راغب کرنے پر تیار نہیں"۔

قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ١٥٣

  • They replied, "You are only of those who are rendered obsessed - effected by illusions. [26:153]

انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا’’آپ تو محض سحر زدہ ہیں۔

Root: س ح ر

مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا

  • You are none but a human like us —

تم  ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔

فَأْتِ بِـَٔايَةٍٛ

  • Thereat, if you are truly the Messenger then come to us you bring an unprecedented display - miraculous sign—

    اگر  تم واقعی رسول ہو تو جاؤ   ایسی شہادت(آیت/معجزہ)کے ساتھ آؤ جوتصور،تجربہ،سائنسی توجیہ  سےماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے   سند اور برھان کی حیثیت رکھتی ہو ۔

إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ١٥٤

  • If you were the truthful in your statement of being the Messenger". [26:154]

اگر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔

قَالَ هَـٰذِهِۦ نَاقَةٚ

  • He (Saleh [alai'his'slaam]) said, "This is the she-camel [for you people she is a sign/emblem from Allah] —

انہوں (صالح علیہ السلام) نے کہادیکھو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی ہوئی اونٹنی۔یہ تمہارے لئے مافوق الفطرت مشاہدے کا کردار ادا کرے گی۔

لَّـهَا شِرْبٚ وَلَـكُـمْ شِرْبُ يَوْمٛ مَّعْلُومٛ ١٥٥

  • For her is the term of drink and for you people is the term of drink on designated day — [26:155]

پانی پینے کے لئے معلوم دن کو اس کی باری مقرر کی گئی ہے اور تم لوگوں کے پینے کے لئے پانی حاصل کرنے کی باری کا متعین دن ہے۔

وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٛ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٥٦

  • And you people should not touch her with harming intention for which reason you people may be seized by a torment of great day. [26:156]

اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اسے برائی /تکلیف پہنچانےکی نیت سے مت چھونا۔اگر تم نے ایسا کیا تو سب سے بڑے دن  عذاب تم لوگوں کو پکڑ لے گا"۔

فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَـٟدِمِيـنَ ١٥٧

  • Then—for reason extreme defiance, they hamstrung her, thereafter/for reason of having met severe torment they became regretful. [26:157]

جواب سےاٖحساس تلملاہٹ پر  چونکہ خوف و ہراس پیدا کر کے اپنے دبدبہ کو برقرار رکجنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے  تلوار سے   اس اونٹنی کےپاؤں کاٹ کر معذور بنا دیا۔حماقت کا احساس ہونے پر عذاب کی تنبیہ سے پشیمان ہو گئے۔

فَأَخَذَهُـمُ ٱلْعَذَابُۗ

  • [but having seen the infliction regret is of no avail in accordance with laid down principle] Thereby the affliction seized them.

چونکہ اس قسم کی حرکت کا انجام انہیں بتا دیا گیا تھا اس لئے حسب وعدہ منفرد عذاب نے انہیں گرفت میں لے لیا۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ

  • Indeed there is a point for pondering in this disclosure —

یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔۔

وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٥٨

  •  But most of them have not been the believers. [26:158]

یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٥٩

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:159]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍٛ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٦٠

  • The nation of Luet [alai'his'slaam] publicly contradicted those who were sent as Messengers —  [26:160]

تاریخ جان لو؛ لوط(علیہ السلام)کی قوم نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔

إِذْ قَالَ لَـهُـمْ أَخُوهُـمْ لُوطٌ أَ لَا تَتَّقُونَ ١٦١

  • When their brother, Luet [alai'his'slaam], said to them "Would you people not protect yourselves? [26:161]

جب ان کے بھائی  لوط(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٦٢

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger — [26:162]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

وَأَطِيعُونِ ١٦٣

  • And listen and accept my word. [26:163]

اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَمَآ أَسْـٔ​َلُـكُـمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۖٛۖ

  • And I do not ask you people; for that—discharging the entrusted trust, any worldly remuneration—

اور اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔

إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦٤

  • My reward is due on none except upon the Sustainer Lord of Worlds [Whose Trust/Assignment is being discharged] [26:164]

اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف   تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔

أَتَأْتُونَ ٱلذُّكْرَانَ مِنَ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦٥

  • "Do you people come to males [heterosexuality] in the whole of people/human history— [26:165]

کیا یہ سچ نہیں کہ تم لوگ مخصوص نر جنس والوں کے پاس  آتے ہو جو دنیا میں ہم جنس پرستی کرتے ہیں۔

وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَـكُـمْ رَبُّكُـم مِّنْ أَزْوَٟجِكُـمۚ

  • And you people leave what your Sustainer Lord has created for you respectively as your mates —

اور تم لوگ اسے ترک کرتے رہتے ہو جو تمہارے رب نے تمہاری بیویوں میں تمہارے جنسی اختلاط کے لئے تخلیق کیا ہے ( جملے میں حال محذوف ہے جو واضح ہےفرج)۔

Root: و ذ ر

بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٌ عَادُونَ ١٦٦

  • The fact is that you are a transgressing people." [26:166]

جو بھی جواز بناتے ہو وہ غلط ہے،در حقیقت تم  سرشار ہوکرحد سے باہر ہو جانے والے لوگ ہو۔

قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَٟلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِيـنَ ١٦٧

  • They (the ruling elite) threatened him, "Indeed if you did not desist, O Luet, certainly you will definitely be amongst those who are ousted [from the city]" [26:167]

انہوں(عمائدین)نے کہا’’یہ تاکید ہے اگر تو اپنے آپ باز نہیں کیا اے لوط تو یقیناً تو شہربدر کئے لوگوں میں ہو جائے گا‘‘۔

قَالَ إِنِّـى لِعَمَلِـكُـم مِّنَ ٱلْقَالِيـنَ ١٦٨

  • He (Luet alai'his'slaam) said, "Indeed I am one of those who abhor the act of you people." [26:168]

انہوں(لوط علیہ السلام)نے جواب دیا’’یہ حقیقت ہے کہ میں ان میں سے ہوں جو  شہر میں متنفر اور بیزار ہیں تم لوگوں کے  اس کھلے عام  معمول کےعمل کی وجہ سے‘‘۔

Root: ق ل و

رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِـى مِمَّا يَعْمَلُونَ ١٦٩

  • Luet [alai'his'slaam] prayed, "My Sustainer Lord! Do rescue me and my family/household from that which they people are doing." [26:169]

انہوں(لوط علیہ السلام)نے فریاد کی’’میرے رب، مجھے اور میرے اہل خانہ کو نجات دلائیں فوری اس سے جو ان لوگوں نے شہر میں معمول بنایا ہوا ہے‘‘۔

فَنَجَّيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْـمَعِيـنَ ١٧٠

  • In response Our Majesty saved - escaped him [Lut alai'his'slaam] and his household; all collectively— [26:170]

ان کی فریاد پر ہم جناب نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نجات دلا دی،اجتماعی طور پر۔

إِلَّا عَجُوزٙا فِـى ٱلْغَٟبِـرِينَ ١٧١

  • Except an old woman [his wife], she was amongst those who stayed behind.  [26:171]

سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت بھی  ایمان لانے سے گریزاں حال میں تھی۔

Root: ع ج ز;  غ ب ر

ثُـمَّ دَمَّرْنَا ٱلۡءَاخَرِينَ ١٧٢

  • Afterwards [migration before time and rescuing them in discharge of Our promise-10:103] Our Majesty destroyed the others. [26:172]

بعد ازاں ہم جناب نے شہر کے دوسرے باسیوں کو کچل دیا۔

Root: د م ر

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهِـم مَّطَرٙاۖ

  • And Our Majesty had showered upon them in the manner of spraying—splinters —

اور ہم  جناب نے ان پر برسایا عذاب، چھڑکاؤ کے انداز اور اثرانگیزی سے۔

Root: م ط ر

فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ١٧٣

  • Thereat worst was the shower for those who were duly admonished. [26:173]

چونکہ وہ برسات گرم لاوہ اور نوکدار شیشہ نما پتھروں سے تھا اس لئے وہ کیا ہی برا برسات تھا ان کا جنہیں بار بار متنبہ کیا گیا تھا۔

Root: م ط ر

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ

  • Indeed there is a point for pondering in this disclosure —

یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔

وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٧٤

  • But most of  them have not been the believers. [26:174]

یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٧٥

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:175]

اور لوگ آپ (ﷺ) کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


كَذَّبَ أَصْحَـٟـبُ لْـَٔيْكَةِ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ ١٧٦

  • The residents of "Aikate" - afforested land - Nation Madyan - people of Shoaib [alai'his'slaam] publicly contradicted those who were sent as Messengers — [26:176]

یاد رہے ؛(شیعب علیہ السلام کی قوم مدین کا مسکن)ٱلۡأَيْكَةِ میں بسنے والے  لوگوں  نے ان کی جانب مبعوث فرمائے رسولوں کے بیان کو برملا جھٹلایا تھا۔

إِذْ قَالَ لَـهُـمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ ١٧٧

  • When Shoaib [alai'his'slaam] said to them "Would you people not protect yourselves? [26:177]

جب شعیب(علیہ السلام)نے ان کے لئے ہدایت دیتے ہوئے کہا"کیا تم لوگ حقیقت کو جان لینے کے باوجود اپنے آپ کوخوفناک نتائج و عواقب سےمحفوظ کرنے کے لئے پناہ کے خواستگار نہیں بنو گے؟

إِنِّـى لَـكُـمْ رَسُولٌ أَمِيـنٚ ١٧٨

  • Indeed I am for you people the trusted Messenger — [26:178]

یقینامیں مجھے سونپی گئی ذمہ داریوں کو کماحقہ سرانجام دینے والا رسول ہوں جسے خاص طور پر تم لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب آنے کی دعوت اور متنبہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ

  • Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted —

اس لئے تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

وَأَطِيعُونِ ١٧٩

  • And listen and accept my word. [26:179]

اور میرے کہے کو تم لوگ تسلیم کرو۔

وَمَآ أَسْـٔ​َلُـكُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ أَجْرٍۖٛۖ

  • And I do not ask you people; for that—discharging the entrusted trust, any worldly remuneration—

اور اس پر غور کرو میں اس (کتاب اللہ)کے اشاعت، تبلیغ اور تعلیم دینے کے لئے تم سے مال دینے کا سوال نہیں کرتا۔

إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَـىٰ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٨٠

  • My reward is due on none except upon the Sustainer Lord of Worlds [Whose Trust/Assignment is being discharged] [26:180]

اس لئے کہ میرا ان خدمات کا اجر صرف اور صرف   تمام جہانوں کے پروردگار اور فرمانروا پر واجب الادا ہے۔

أَوْفُوا۟ ٱلْـكَـيْلَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُخْسِـرِينَ ١٨١

  • You people are directed to give away - discharge the liability of measure and weighing in full and do not be those who cause loss to others — [26:181]

اور تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ پیمائش کو مکمل کر کے دو جب تم پیمانے کے معیار پر کاروبار کر رہے ہو؛اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو دوسروں کو خسارہ دیتے ہیں۔

Root: ك ى ل

وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيـمِ ١٨٢

  • And you people weigh equitably—on exacting balance/equilibrium scale — [26:182]

اور بالکل متوازن ترازو سے وزن کر کے دو۔

Root: ق س ط س; و ز ن

وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُـمْ

  • And you should not deprive people of their goods by lessening [in quantity, measure and weight] —

اور تمہیں چاہئے کہ لوگوں کو خسارا نہ دو ان کی اشیاء کی پیمائش،وزن،مقدار میں کمی کر کے۔

Root: ب خ س

وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ١٨٣

  • And neither you should, like mischief-doers, create intellectual distortions-conjectural myths-disquiet in the society. [26:183]

 اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔

وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِى خَلَقَكُـمْ وَٱلْجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِيـنَ ١٨٤

  • And you people sincerely endeavour to attain the protection from Him the Exalted Who created you people and the earlier multitudes [26:184]

اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان جناب سے پناہ کے خواستگار رہو جنہوں نے تمہیں تخلیق کیا ہے اور ان کو جو کشیر تعداد میں پہلے گزر چکے ہیں"۔

قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ١٨٥

  • They replied, "You are only of those who are rendered obsessed - effected by illusions — [26:185]

انہوں (عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا’’آپ تو محض سحر زدہ ہیں۔

Root: س ح ر

وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَـرٚ مِّثْلُنَا

  • You are none but a human like us—

اورتم  ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ کسی خصوصیت کے حامل نہیں ہو۔

وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ١٨٦

  • And indeed we assess you that you are certainly one of the liars - falsifiers — [26:186]

اور حقیقت ہے کہ ہم آپ کے متعلق یہ گمان  کر رہے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے بن گئے ہیں۔

فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفٙا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ

  • Therefore you cause to befall upon us pieces from the Sky—(read with 11:89)

چونکہ آپ عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں اس لئے آپ  آسمان سےہم پر پتھروں کے ٹکڑے برسا دیں۔

Root:  س ق ط; ك س ف

إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ١٨٧

  • Do it if you were the truthful in your statement." [26:187]

ایسا کر کے دکھائیں اگر آپ سچ بولنے والے ہیں"۔

قَالَ رَبِّـىٓ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٨٨

  • He (Shoaib alai'his'slaam) said, "My Sustainer Lord fully knows what you people are doing". [26:188]

انہوں(شعیب علیہ السلام)نے کہا"میرے رب بخوبی جانتے ہیں جن اعمال پر تم لوگ کاربند ہو"۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُـمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِۚ

  • Thereby, they publicly contradicted him, resultantly the affliction of a shady day seized them —

چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔چنانچہ اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے پرابر آلود دن کے عذاب نے انہیں گرفت میں لے لیا۔

Root: ظ ل ل

إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيـمٛ ١٨٩

  • Indeed that was a prevailing torment of great day. [26:189]

حقیقت یہ ہے کہ وہی بڑے دن کا عذاب تھا جس کی انہیں وعید (ھودؐ۔84)دی گئی تھی۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙۖ

  • Indeed there is a point for pondering in this disclosure —

یقینا ً ایک سبق   اور انتباہ جو جگ بیتی سے درس لینے پر سننے والوں کو مائل کر سکتا ہے ایک قوم کی تاریخ کے اس بیان میں موجود اور مقصد ہے۔

وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُـم مُّؤْمِنِيـنَ ١٩٠

  • But most of them have not been the believers. [26:190]

یاد رہے؛ان بیتے لوگوں کی اکثریت رسول اللہ کو ماننے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٩١

  • However, fact remains, the Sustainer Lord of you the Messenger is certainly He Who is Absolutely Dominant, the Fountain of Infinite Mercy. [26:191]

اور لوگ آپ (ﷺ)کے رب کے متعلق حقیقت جان لیں ،وہ جناب دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں، منبع رحمت ہیں۔


وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٩٢
نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلْأَمِيـنُ١٩٣
عَلَـىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ 
١٩٤
بِلِسَانٍٛ عَـرَبِـىّٛ مُّبِيـنٛ ١٩٥
وَ إِنَّهُۥ لَفِى زُبُرِ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٩٦

  • And truly it (Qur’ān) is certainly the piecemeal dispatch of the Sustainer Lord of the Worlds — [26:192]

  • -- The trusted executor of vital-command: Gib'raa'eil [alai'his'slaam] did descend once along with it (Qur’ān) -- [26:193]

  • The purpose of reciting and conveying the Qur’ān in this serial manner is to imprint it upon your heart so that there remains no possibility of forgetting (see 2:97 and 87:6). The purpose is that you the Messenger gradually become and are recognized as the last universal member of the galaxy of Revivalists, Warner, Awakeners —

  • The universal Revivalist/Awakener - admonishing people in Arabic, language of Arabian Peninsula, which is characteristically rich, clear, perspicuous, eloquent, conveyor of information in succinct, individuated, and crystallized manner. (alternatively; It (Qur’ān) is transcribed in the language Arabic......)  [26:195]

  • And indeed this fact was certainly mentioned in the written papers of earlier periods. [26:196]

جان لیں؛یہ حقیقت ہے کہ وہ (قرءان مجید)یقیناً تمام موجودات کے رب کی جانب سے  موقع محل کی مناسبت سے بتدریج/سلسلہ وار انداز میں لوگوں کو پہنچانے کے لئے بھیجا  جا رہا ہے:
۔۔(یہ الگ حقیقت ہے)الروح الامین(جبرائیل علیہ السلام )ایک بار آسمان سے اتر کر نیچے آئے تھے اس (قرء ان مجید)کے مسودہ کے ساتھ۔۔
اس  سلسلہ وار انداز میں   قرءان کو آپ کو سنانے اور پہنچانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)کے قلب پر نقش  ہو جائے کہ بھولنے کا امکان  ہی نہ رہے(البقرۃ۔97؛اورالاعلیٰ۔6)۔اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)باطل طرز عمل پر گامزن لوگوں کو لازمی تکلیف دہ عواقب سے متنبہ  کرنے والوں کے جھرمٹ  میں  آخری اورعالمی  بیدار کرنے والے بن جائیں۔
تمام عالم کو  جزیرہ عرب کے لوگوں کی   فصیح و بلیغ زبان میں بیدار کرنے والے/ اس(قرءان مجید)کو جزیرہ عرب کے لوگوں کی فصیح و بلیغ زبان میں مدون کر کے بھیجا گیا ہے۔
اور یہ حقیقت بھی جان لو کہ یہ(عرب کی زبان میں نزول کتاب)پچھلے زمانے کے مضبوط کاغذوں میں ابھرے نقوش میں ضبط تحریر تھا۔

Root: ر و ح;  ع ر ب; ل س ن; ز ب ر

أَوَ لَمْ يَكُن لَّـهُـمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُۥ عُلَمَاءُ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ ١٩٧

  • Has this fact; that the learned men-Scholars-Clergy of Posterity of Iesraa'eel know-recognize it (Qur’ān), not been a tangible evidence—pointer for them (idol worshippers) of its origin? [26:197]

کیا یہ بات ازخود سے ایسی شہادت نہیں ہے جو ان(عینی شہادت/معجزہ کا مطالبہ کرنے والے)کو  اس کے من جانب اللہ ہونے کا ادراک دے سکے کہ بنی اسرائیل کے صاحبان علم ا س(قرءان مجید)کو جانتے ہیں۔

وَلَوْ نَزَّلْنَٟهُ عَلَـىٰ بَعْضِ ٱلۡأَعْجَمِيـنَ ١٩٨

  • And had Our Majesty serially sent it (Qur’ān) upon some one of the Non-Arabs: [26:198]

چونکہ ان علماء کو پہلے سے علم ہے اس لئے اگر ہم جناب نے اس(قرءان مجید)کو عجمیوں میں سے کسی شخص پر بتدریج نازل کیا ہوتا؛

Root: ع ج م

فَقَرَأَهُۥ عَلَيْـهِـم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ مُؤْمِنِيـنَ ١٩٩

  • Whereupon he would have read it to them (Scholars-Clergy of Posterity of Iesraa'eel Jews and Christians) none of them would have accepted and believed in it [Qur’ān from non-Arab Messenger - rightly so since it would have then against the fact earlier revealed in the Books sent to them-] [26:199]

جس پر اس عرب میں بسنے والے عجمی نے اسے(قرءان)کو انہیں (علمائے بنی اسرائیل) پڑھ کر سنایا ہوتا تو یقیناً ان میں سے کسی نے اس (قرءان)پر ایمان نہ لایا ہوتا۔

كَذَٟلِكَ سَلَـكْنَٟهُ فِـى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ٢٠٠

  • By narrating facts time and again Our Majesty has given it (Qur’ān) a way to penetrate into the hearts of the criminals who wish non serious jesting —  [26:200]

اس طرح حقائق کو بیان کرکر کے ہم جناب نے اس (قرءان)کوان مجرمین کے قلوب میں ڈال دیا ہے جو اسے مزاح بنانے کے خواہش مند ہیں۔

Root: س ل ك

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلۡأَلِيـمَ ٢٠١

  • Despite that they will not accept/believe in it (Grand Qur’ān), they will believe at time they would have seen the painful chastisement— [26:201]

ان کے قلوب میں داخل ہو جانے کے باوجود  اس (قرءان مجید)پروہ  ایمان نہیں لائیں گے، وہ تب ایمان لائیں گے جب المناک عذاب دیکھ لیں گے۔

فَيَأْتِيَـهُـم بَغْتَةٙ

  • But that belief will be of no avail since it would come to them all of a sudden —

مگر اس وقت ایمان لانا سودمند نہ ہو گا کیونکہ وہ (المناک عذاب )ان پر اچانک پہنچ جائے گا

وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٢٠٢

  • While they have no idea/perception/clue of it. [26:202]

جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔

فَيَقُولُوا۟ هَلْ نَـحْنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣

  • Thereby having seen the befallen chastisement and pronouncing belief they would say, "Would we be reprieved?" [26:203]

دردناک عذاب دیکھ لینے اور ایمان کا اعلان کر لینے پر وہ کہیں گے"کیا ہم مہلت پانے والے بن سکیں گے (کہ صالح اعمال کریں)"۔

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٢٠٤

  • Do they yet seek [you the Messenger] hastening of Our punishment? [26:204]

اے رسول کریم(ﷺ)کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے جلدی ظہور پذیر ہونے کے خواش مند ہیں؟

Root: ع ج ل

أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَٟهُـمْ سِنِيـنَ ٢٠٥

  • Have you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] then thought that if Our Majesty made them enjoy for some years— [26:205]

کیا آپ(ﷺ)نے ان کی عجلت کی خواہش کے حوالے سے یہ غور /تصورکیا ہے،کہ اگر ہم نے کچھ سالوں کے لئے اسباب دنیا ان کو دئیے ہیں؛

Root: س ن ه

ثُـمَّ جَآءَهُـم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ٢٠٦

  • Afterwards came to them that which they were being promised —  [26:206]

بعد ازاں ان سالوں کے گزر جانے پر وہ ان کو پہنچ گیا جس کے متعلق ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے

مَآ أَغْنَىٰ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ ٢٠٧

  • That which they had attained and were enjoying could not avail to avert anything from them. [26:207]

تومہلت کا وقت ختم ہو جانے پر ان سے سزا کی گرفت کو دور کرنے میں   وہ کچھ کام نہ آیا جو اسباب دنیا ان کو دیا جا رہا تھا۔

وَمَآ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٍٛ إِلَّا لَـهَا مُنذِرُونَ ٢٠٨

  • Beware, Our Majesty did not annihilate any habitat unless for that were sent Warner/ Awakeners — [26:208]

یہ حقیقت مدنظر رہے کہ ہم جناب نے کسی بھی بستی/قوم۔تہذیب کو نیست و نابود نہیں کیا سوائے ان حالات میں کہ  نتائج و عواقب سے پیشگی خبردار اور متنبہ کرنے والے بھیجے گئے تھے۔

ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٟلِمِيـنَ ٢٠٩

  • For reminding - awakening before convicting them guilty; and Our Majesty have never been unjust. [26:209]

تنبیہ کی غایت یہ تھی کہ یاد رکھیں اور نصیحت لے لیں قبل اس کے کہ مجرم قرار پا کر سزا کے مستوجب ہو جائیں۔اور ہم جناب کبھی بھی زیادتی اور بے جا سزا دینے والے نہیں ہیں۔

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ ٱلشَّيَٟطِيـنُ ٢١٠

  • Realize it, the Devils did not self descend with it (Qur’ān)  [but other Angels accompanied and flanked Gib'raa'eil alai'his'slaam when it was brought] [26:210]

یاد رہے، شیاطین اپنے آپ اس(قرءان)کے ساتھ اوپر سے نیچے نہیں اترے تھے(جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ملائکہ اترے تھے)۔

وَمَا يَنۢبَغِى لَـهُـمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ٢١١

  • And neither is it possible/permitted for them; and nor can they self acquire the capability to author - rehearse it. [26:211]

اور نہ ایسا کرنا ان کے لئے  جائز قرار دیا گیا تھا اورنہ ان کے لئے یہ استطاعت حاصل کرنا ممکن تھا۔

إِنَّـهُـمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ٢١٢

  • The fact is that they the Devils have certainly been banished from even listening it. [26:212]

حقیقت تو یہ ہے کہ وہ(شیاطین)اس کو سننے کی صلاحیت سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں۔

Root: ع ز ل

فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَ

  • Therefore warn everyone that—neither should you ever call/assign along with Allah the Exalted any other as iela'aha: godhead—

چونکہ وہ سن نہیں سکتے اس لئے آپ ہر سننے والے کو متنبہ کر دیں"تجھے چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی معبود سمجھ کر نہ پکارے۔

فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِيـنَ ٢١٣

  • Whereupon/in consequence you may become one of the punished ones — [26:213]

اگر ایسا کیا تو انجام کار تیراشمار بھی ان میں ہو گا جو مستوجب عذاب قرار پا چکے ہیں"۔

وَأَنذِرْ عَشِيـرَتَكَ ٱلۡأَقْرَبِيـنَ ٢١٤

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] admonish/awake your near kinsmen — [26:214]

اور آپ(ﷺ) اپنے قبیلہ ،جوآپ کے زیادہ قریبی حقدار ہیں،کو متنبہ فرمائیں۔

Root: ع ش ر

وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٢١٥

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] stretch your hand of compassion especially for him who physically followed you in letter and spirit from amongst the claimants of belief. [26:215]

اور آپ(ﷺ)اپنا دست شفقت خصوصی طور پر اس کے لئے دراز کریں جس نے ایمان لانے والوں میں شامل ہو کر آپ کی خلوس سے پیروی کی ہے۔

فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّـى بَرِىٓ ءٚ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٢١٦

  • Thereupon, in response to admonition if they refused to accept your word then you pronounce, "I am absolved from that which you people are doing". [26:216]

آپ کے متنبہ کر دینے کے باجود اگر انہوں(قبیلے والے)نے آپ کے بیان کو ماننے سے انکار کر دیا ہے تو پھر آپ یہ اعلان کر دیں"حقیقت یہ ہے کہ میں اس سے بری الذمہ ہوں جو عمل تم لوگ کرتے ہو:۔

وَتَوكَّلْ عَلَـى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِـيـمِ ٢١٧

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] keep placing your reliance and dependence upon the All Pervasive/Dominant and the Fountain of Mercy — [26:217]

اور آپ اپنی ذمہ داری انجام دے لینے پر اچھے نتائج کے لئے ان پر بھروسہ کریں جو دائمی،ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غالب ہیں،اور منبع رحمت ہیں۔

ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِيـنَ تَقُومُ ٢١٨

  • The One Who keeps watching you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] when you stand up— [26:218]

وہ جناب جو مسلسل آپ کو دیکھتے رہتے ہیں جب آپ مصروف ہوتے ہیں

وَتَقَلُّبَكَ فِـى ٱلسَّٟجِدِينَ ٢١٩

  • And your movements/activities amongst those who prostrate. [26:219]

اور جب   جب آپ ازخود سجدہ گزاروں کی جانپ پلٹتے ہیں۔

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٢٢٠

  • The fact remains that He the Exalted is eternally the All-Listening, the All-Knowing. [26:220]

ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔


هَلْ أُنَبِّئُكُـمْ عَلَـىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٟطِيـنُ ٢٢١

  • Shall I inform you upon whom the Shaiteen/Devils descend? [26:221]

کیا میں تمہیں ہر وقت خبردار کرتا رہوں کہ کس پر شیطان صفت جن و انس ازخود اترتے رہتے ہیں؟

تَنَزَّلُ عَلَـىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيـمٛ ٢٢٢

  • They descend upon each one of perfidiously lying sinner. [26:222]

وہ ازخود ہر اس شخص کے پاس ڈیرہ جماتے ہیں جو ہٹ دھرمی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی جھوٹ بولتا ہے اور ہمیشہ اچھائی سے کوتاہی کرتا ہے۔

Root: ء ف ك

يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُـمْ كَٟذِبُونَ ٢٢٣

  • They spread - throw before people the hearsay and most of them are liars. [26:223]

وہ دلفریب باتیں سماعتوں میں ڈالتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹ بولنے والے ہیں۔

وَٱلشُّعَـرَآءُ يَتَّبِعُهُـمُ ٱلْغَاوُۥنَ ٢٢٤

  • Know about the Poets, only the transgressors-deviants follow them in letter and spirit. [26:224]

(اور خبردار کروں)عمومی طور پر جانے پہچانے شاعروں کی شوق سے پیروی وہ کرتے ہیں  جوحدوں سے تجاوز وشیطانی ،راست سے بھٹکے برباد ہوئے  لوگ ہیں۔

Root: غ و ى

أَ لَمْ تَرَ أَنَّـهُـمْ فِـى كُلِّ وَادٛ يَـهِيمُونَ ٢٢٥

  • Have you not noticed that they roam-wander about in imagination in every valley-vacuity. [26:225]

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ(شاعر)پیاسے اونٹوں کی طرح تخیل کی ہر وادی میں آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں۔

Root: ھ ى م; و د ى

وَأَنَّـهُـمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ٢٢٦

  • Moreover, they the poets narrate to people that which they themselves do not act upon. [26:226]

اور یہ کہ وہ  ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں جن پر خود انہوں نے ایک بار بھی عمل نہیں کیا۔

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيـرٙا

  • The exception is for those who have since accepted/believed and they performed deeds/acts righteously/moderately [as directed in the Book of Allah prevalent in time and space] and they remembered and mentioned Allah the Exalted frequently —

یہ بات سوائے ان کے جو ایمان لے آئے اور صالح اعمال پر کاربند ہو گئے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے سب شعراء پر لاگو ہوتی ہے۔

وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ۗ

  • And they helped themselves after that they were subjected to injustice. [with Salaat and coolly perseverance].

اور انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت صلوٰۃ اورعزم سے اپنے پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود خود کو محکم کیا۔

وَسَيَعْلَمْ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٛ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧

  • And soon shall know those who did injustices what upset they will be turned to. [26:227]

اور جنہوں نے ظلم و ستم کیا وہ جلد جان لیں گے کہ کون حیثیت میں اوندھا ہو کراوندھا ہی رہے گا۔

027- سُوۡرَةُ النمل

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


طسٓۚ تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْقُرْءَانِ  وَكِتَابٛ مُّبِيـنٍٛ ١

  • Two conjoined consonants of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎); First consonant Ta ﻁ‎, it has no additional mark suggesting its pronunciation with its normal sound; the last conjoined consonant Seen ـسـ‎ has above it ancillary prolongation mark which stretches the sound value of the letter to which it is added.
    These are the Unitary Verbal Passages of the Qur’ān — and are passages of a book — that which actively renders every reality luminously distinct and explicit. (Cf. 15:01) [27:01]

عربی زبان کے حروف ’’ط‘‘اور باہمدگر حرف ’’س‘‘ بمع آواز کی طوالت کانشان۔یہ  زیر بیان القرء ان کی  جزئیات   (آیات)ہیں۔اور یہ    اس کتاب  کی  مندرجہ  جزئیات  ہیں جس کا  بنیادی وصف حقائق مستور اور   ہر حقیقت کو روشن،ممتاز اور بالکل واضح اور آشکار کر دینے والے کا ہے۔(الحجر۔١)

قرءان مجید کا سرچشمہ:ام الکتاب

هُدٙى وَبُشْـرَىٰ لِلْمُؤْمِنِيـنَ ٢

  • This (Qur’ān) is guidance: regulatory information for aright conduct in every moment of life, and conveyer of glad tidings for those who have heartily accepted-believed in it—  [27:02]

اوریہ (آیات قرء ان)ایمان والوں کے لئے ہدایت، رہنمائی اوراچھے انجام کی خوشخبری،ضمانت دیتی ہیں۔

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ
وَهُـم بِٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمْ يُوقِنُونَ ٣

  • Such of them who stand for the performance of As-sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance; and regularly pay Az-zaka'at: financial liability for economic uplift of society —
    Know it; they are the people who convincingly believe in the Hereafter [27:03]

وہ مدعیان ایمان جواستقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں اوراور معاشرے کے نطم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالی تعاون ؍ زکوۃ کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں۔
اور وہ ایسے ایمان والے ہیں وہ آخرت پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں۔
 

Root: ز ك و

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلۡءَاخِـرَةِ زَيَّنَّا لَـهُـمْ أَعْمَٟلَـهُـمْ

  • Know the fact about those who believe not in the Hereafter—Our Majesty have let their volitional acts alluring for them—

جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو آخرت کے موجود ہونے کو ماننے سے انکار پر بضد رہتے ہیں ہم جناب نے ان کے اعمال کو ان کے لئے سامان تزئین رہنے دیا ہے۔

فَهُـمْ يَعْمَهُونَ ٤

  • Whereby they are wandering distractingly — [27:04]

اس سوچ اور رویئے کے اشتراک کی بنا وہ بیوقوفانہ، احمقانہ، بہکی سرگرمیوں  میں سرگرداں رہتے ہیں۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَـهُـمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ

  • They are the people—certain terrible affliction is prepared and is in wait for them—

یہ ہیں وہ لوگ۔جسمانی اور نفسیاتی تکلیف دہ سزا ان کے لئے تیار اور منتظر ہے۔

وَهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ هُـمُ ٱلۡأَخْسَـرُونَ ٥

  • And they will realize that they are the greatest - perishing losers in the Hereafter. [27:05]

اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بدترین نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيـمٍٛ عَلِيـمٍ٦

  • Let it be on record, You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are the one to whom is presented—for self observing the Qur’ān (its orthography)—by the Grace of the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms; He the Exalted is the Setter of knowledge-sciences of visible and invisible domains [27:06] 

یہ حقیقت ریکارڈ پر رہے،یقیناً آپ(ﷺ) ہیں جنہیں  مسودہ قرءان مجید ان جناب کی جانب سے  دستی پیش کیا جا رہا ہے جو تمام نظام کے فرمانروا ہیں اور منبع علم ہیں۔

Root: ل د ن


إِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِأَهْلِهِۦٓ

  • Relate the episode when—travelling after having left city of Madyan—Mūsā [alai'his'slaam] said to his accompanying family:

ان کی سوانح عمری کے متعلق مزید مطلع ہوں جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہم سفر اہل خانہ سے کہا:

إِنِّـىٓ ءَانَسْتُ نَارٙا سَـَٔاتِيكُـم مِّنْـهَا بِخَبَـرٍٛ

  • "Indeed I have seen and perceived fire—[by the side of At-Tur, I am going there]—soon I will get back to you bringing some guiding information from there—

"یہ حقیقت ہے کہ میں نے دور آگ کے موجود ہونے کو محسوص کیا ہے۔ اس لئے میں جلد وہاں سے کوئی اطلاع لے کر تم لوگوں کے پاس لوٹ آؤں گا۔

أَوْ ءَاتِيكُـم بِشِهَابٛ قَبَسٛ لَّعَلَّـكُـمْ تَصْطَلُونَ ٧

  • And/Or I will bring to you people some fire-balls so that you may warm yourselves. [27:07]

یا میں وہاں سے سلگتے کوئلے لے کر تمہارے پاس آ جاؤں گا تاکہ تم گرمائش کے لئے سینک سکو"۔

Root: ش ھ  ب;  ص ل ى;  ق ب س

فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِـى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَـهَا

 
  • Thereby, departing from his family as soon he reached her it was loudly told that, "Perpetual -Continuity of Existence beyond change against every thing else is He Who is present in the space within the Fire burning before your eyes and He Who is concurrently everywhere around her — the Omnipresent —

اہل خانہ سے روانہ ہو کر جوں ہی وہ (موسیٰ علیہ السلام)اس کے پاس پہنچ گئے انہیں پکارکر بتایا گیا کہ انہیں ہر شئے کے مقابل دوام اور ثبات ہے جو تمہارے سامنے اس جلتی آگ کے اندر خلا میں موجود ہیں اور جو بیک وقت اس آگ کے اردگرد ماحول میں بھی موجود ہیں۔

وَسُبْحَٟنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٨

  • And Infinite Glory is for Allah the Exalted—His pleasure is the focus of all effort; He is the Sustainer Lord of the Worlds - All that exists." [27:08]

اللہ تعالیٰ حاجات سے بلند تر ہیں،تمام کبریائی ان کے لئے،اور تمام کوششوں کا وہ محور ہیں۔وہ موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں ؍ہر ایک وجود پذیرکے رب ہیں۔

يَٟمُوسَـىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٩

  • "O Mūsā! Listen the fact He the Omnipresent is Me, I am Allah, the All Dominant and Pervasive, the Setter of knowledge - science of visible and invisible domains". [27:09]

اس پکار میں انہوں نے یہ سنا"اے موسیٰ!توجہ سے اس حقیقت کو سن؛ میں اللہ تعالیٰ ہوں؛میں دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرمطلق غالب ہوں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کا فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والا ہوں"۔

وَأَ لْقِ عَصَاكَۚ

  • And (he was asked after he narrated his knowledge and perception about his stick) "you throw in front your stick."

اور انہوں نے مزید سنا"آپ اپنی عصا کو اپنے سامنے زمین پر پھینک دیں"۔

Root: ع ص و

فَلَمَّا رَءَاهَا تَـهْتَزُّ كَأَنَّـهَا جَآنّٚ

  • Thereby, as soon he threw her in front, he saw it crawling at her own accord like as if she were a cobra—

تعمیل حکم پر جوں ہی انہوں نے چھڑی پھینک دی تو دیکھا کہ وہ تو ازخود اس انداز میں حرکت کر رہی ہے جیسے وہ حقیقت میں کوبرا سانپ ہے۔

Root: ھ ز ز

وَلَّـىٰ مُدْبِرٙا وَلَمْ يُعَقِّبْۚ

  • He about-faced with his back towards snake and he did not see behind. [He seems to be aware that Cobra can spray poison from distance targeting eyes]

تو وہ فوراً پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے اور انہوں نے پیچھے منہ موڑ کر نہیں دیکھا(ظاہر ہوتا ہے وہ جانتے تھے کوبرا آنکھوں پر زہر دور سے پھینک سکتا ہے)۔

يَٟمُوسَـىٰ لَا تَخَفْ إِنِّـى لَا يَخَافُ لَدَىَّ ٱلْمُرْسَلُونَ ١٠

  • [Allah called him] "O Mūsā! do not fear, indeed I am here; the nominated Messengers do not feel fear in My presence [being protected ones-28:31] — [27:10]

انہیں پکارا گیا"اے موسیٰ؛(واپس اس مقام پرروبرو ہوں) تجھے ڈرنا نہیں چاہئے۔یہ حقیقت ہے کہ میں یہاں ہوں۔میرے حضور ہوتے ہوئے رسول مقرر کر کے بھیجے جانے والے خوف محسوس نہیں کرتے۔

إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُـمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا  بَعْدَ سُوٓءٛ فَإِنِّـى غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ١١

  • Except the one who acted without prior permission and thereafter substituted with balanced approach after the omission then indeed I am Oft-forgiving and Merciful. [27:11]

سوائے اس کے جس نے فرائض رسالت سے ازخود ہٹا لیا،بعد ازاں احساس کر لینے اور تکلیف سہہ لینے پر انہوں نے بہتر حسن کارکردگی میں تبدیل کر دیا توہم نے درگزر کر دیا کیونکہ ہمارے بارے یہ حقیقت ہے کہ اکثر و بیشتر کوتاہیوں سے پردہ پوشی کرتے ہوئے معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِـى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٛۖ

  • And enter your hand into your neckband—towards Axilla/armpit, she/palm will come out as pure shining white without any spot —

اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کراپنی بغل میں ضم کریں۔باہر نکالنے پر اس کی ہتھیلی  سفید چمکتی حالت میں ہو گی،ہر قسم کے داغ دھبے سے منزا۔

فِـى تِسْعِ ءَايَٟتٍٛ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِۦٓۚ

  • These two are included in Nine unprecedented displays—miraculous signs towards Fir'aoun/ Pharaoh and his nation.

یہ دونوں  نو عدد عینی مشاہدہ  کے لئے ان شہادتوں (آیات/معجزات )میں شمار ہیں  جن کی مصاحبت میں  آپ فرعون اور اس کی قوم کی جانب روانہ ہو رہے ہیں  جوتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کریں گی  کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَوْمٙا فَٟسِقِيـنَ ١٢

  • Indeed they have been a people deviants and limits violator. [27:12]

ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جن کی سرشت وعدہ خلافی اورطے شدہ معاملات سے تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنا ہے"۔

Root: ف س ق

فَلَمَّا جَآءَتْـهُـمْ ءَايَٟتُنَا مُبْصِرَةٙ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٚ مُّبِيـنٚ ١٣
وَجَحَدُوا۟ بِـهَا وَٱسْتَيْقَنَتْـهَآ أَنفُسُهُـمْ ظُلْمٙا وَعُلُوّٙاۚ
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤

  • Thereupon, when Our unprecedented Signs came to them —that were luminous, eye openers— they responded with a dismissive verdict: "It is evident visual illusion". [27:13]

  • Yet, they repudiated those Signs — though their inner selves had attained firm conviction of their Divine origin — out of wrongdoing and self-exaltation. Therefore, to ease your sense of sorrow, observe how disastrous was the ultimate fate of those who were the architects of corruption, distortion, and moral perversion in society. [27:14]

مگر جوں ہی تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورا ہماری شہادتیں(آیات/معجزات)ان کو پہنچ گئیں،روز روشن کی طرح بصیرت افروز انداز میں، آنکھیں  کھول دینے والی:توانکار کرنے والے عمائدین نے کہا"یہ تو سوائے صریحاً طلسماتی شعبدہ بازی اور فریب نظر کے حقیقت میں کچھ نہیں"۔
اور انہوں نے ان کے بارے حقیقت کے منافی اور خود پرستانہ عظمت کے زعم میں حیل و حجت کے روئیے کو اپنائے رکھاباوجود اس کے کہ ان کے نفوس نےان  (معجزات)کے من جانب اللہ ہونے کا  حتمی یقین کر لیا تھا۔
اس لئے(اپنے احساس غم کو کم کرنے کےلئے)آپ (ﷺ)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ماضی میں  علمی اور فکری بگاڑ پیدا کرنے والوں کا آخر کار کیا انجام ہوا تھا۔(النمل۔١٤)

Root: س ح ر

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٟنَ عِلْمٙاۖ

  • Know the past history, Our Majesty had indeed imparted knowledge to Da'wued and Sulie'maan [alai'him'slaam] —

قدیم تاریخ سے آگاہ ہو جاؤ؛یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے داوود اور سلیمان (علیہما السلام)کو علم عنایت فرمایا تھا۔

وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَـىٰ كَثِيـرٛ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٥

  • Acknowledging it they both said, "The Infinite Glory and Praise eternally is entirely and exclusively for Allah the Exalted, the One Who has given us distinction in knowledgeability upon most of His believing allegiant". [27:15]

اور  ان دونوں  نے اس  عنایت علمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد ہمیشہ کیلئے مختص  ہے۔وہ جناب ہیں جنہوں نے اپنے صدق قلب سے ایمان لانے والے بندوں کی اکثریت پر ہمیں اس معاملے میں ترجیح اور افضلیت  سے نوازا ہے۔

وَوَرِثَ سُلَيْمَٟنُ دَاوُۥدَۖ

  • And Sulie'maan [alai'his'slaam seems to be his only son] inherited the wealth and legacy of Da'wued [alai'his'slaam] —

اور سلیمان(علیہ السلام)داوود(علیہ السلام)کی وفات پر ان کے وارث بنے۔

Root: و ر ث

وَقَالَ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْـرِ

  • And he (Sulie'maan alai'his'slaam) said, "O people, we have been taught the language - communicating sounds of the birds —

جان لو؛انہوں (سلیمان علیہ السلام)نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا"اے لوگو سنو؛ہمیں پرندوں کے صوتی انداز مواصلت کو سمجھنے کے علم سے بہرا مند فرمایا گیا ہے۔

Root: ن ط ق

وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَـىْءٛۖ

  • And we have been given partly all sorts of material thing —

اور ہمیں  ہر طرح کےاسباب دنیا میں سے عنایت فرمایا گیا ہے۔

إِنَّ هَـٰذَا لَـهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِيـنُ ١٦

  • Undoubtedly this (knowledge and worldly wherewithal) is certainly that which is the manifest grant of distinction and blessing." [27:16]

یقیناً یہ (عنایت علمیت اور اسباب دنیا)بلاشبہ  نمایاں  فضل کا اظہار ہے۔

وَحُشِـرَ لِسْلَيْمَٟنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْـرِ

  • Know it, for Sulie'maan [alai'his'slaam] his troops comprising of the Jinn species and the human beings and the birds were assembled —

اس دور کی تاریخ جان لو؛سلیمان(علیہ السلام)کے ایک مشن کے لئے ان کے لشکروں کو اکٹھا کیا گیا جو جنات اور انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے۔

فَهُـمْ يُوزَعُونَ ١٧

  • Whereupon they were organized in flanks —  [27:17]

مجتمع ہو جانے پر انہیں صف بستہ کر دیا گیا۔

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْا عَلَـىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ

  • They marched until when they arrived upon upon the valley - colony of certain Ant species —

لشکر رواں دواں ہو کر جب ایک مخصوص جنس کی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچا۔

Root: و د ى

قَالَتْ نَمْلَةٚ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُوا۟ مَسَٟكِنَكُـمْ

  • She-Ant imperatively said, "O you the Ants listen! you (masculine plural -male and female ants) enter your respective dwellings - nests —

ملکہ چیونٹی نے حکم دیا"اے چیونٹوں،اپنے مساکن /بلوں میں داخل ہو جاؤ۔

لَا يَحْطِمَنَّكُـمْ سُلَيْمَٟنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ١٨

  • Sulie'maan [alai'his'slaam] and his troops will not thenceforth crumble you; (otherwise you will get crumbled under their feet) while they will not even be aware of it". [27:18]

سلیمان (علیہ السلام)اور ان کے لشکر کہیں تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ  انہیں اس  کا احساس و شعور بھی  نہ ہو "۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٙا مِّن قَوْلِـهَا

  • Thereon, having heard, he (Sulie'maan alai'his'slaam) smiled feeling amused by her commanding statement  —

چونکہ وہ ان کے انداز بیان کو سمجھتے تھے اس(ملکہ چیوٹی)کے قول کی فصاحت و بلاغت سے لطف اندوز ہوتے ہوئےمسکرائے۔

Root: ض ح ك

وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِـىٓ أَنْعَمْتَ عَلَـىَّ وَعَلَـىٰ وَٟلِدَىَّ

  • And he said, "O my Sustainer Lord! Enable me [restraint to feel proud] that I may acknowledge with gratitude Your Favour which You have showered upon me and upon my parents —(it is also exactly in 46:15)

اور انہوں نے کہا"اے میرے رب!مجھے خواہشات نفس پر قابو پانے کی استطاعت نصیب فرما کہ میں آپ جناب کی عنایات کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین کو نوازا ہے۔

Root: و ز ع

وَأَنْ أَعْمَلَ صَٟلِحٙا تَرْضَىٰهُ

  • And that I may conduct with that perfection which You the Exalted appreciatively approve —

اور یہ کہ میں صالح اعمال پر عمل پیرا رہوں  اس نیت سے کہ وہ  آپ کی رضا مندی /پذیرائی پانے کا موجب ہو۔

وَأَدْخِلْنِى بِرَحْـمَتِكَ فِـى عِبَادِكَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٩

  • And do enter me with Your Mercy amongst Your sincere perfectionists". [27:19]

اور از راہ کرم آپ جناب  مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کریں جنہیں آپ صالح قرار دیتے ہیں"۔

وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيْـرَ فَقَالَ مَالِـىَ لَآ أَرَى ٱلْـهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ ٱلْغَآئِبِيـنَ ٢٠

  • Know it, he found certain bird missing whereupon he said, "Why is it so to me that I do not see the Hoopoe, or has he been the absentee? [27:20]

اور انہوں نے معائنہ کرتے ہوئے  پرندے کو غائب پایا؛اس پر انہوں نے کہا"کیا وجہ ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ پا رہا۔یا وجہ یہ ہے کہ وہ موقع پر سے غائب ہو گیا ہے۔

Root: ف ق د

لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٙا شَدِيدًا أَوْ لَأَا۟ذبَحَنَّهُۥٓ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ٢١

  • Of course, if so I will definitely punish him with severe punishment or I will slaughter him unless he submits explanation with valid reason/evidence," [27:21]

میں اسے سزا دوں گا،شدید نوعیت کی سزا ؛یا میں اسے ذبح کر دوں گا؛وگرنہ میرے پاس اپنے غیر حاضر ہونے کا معقول اور واضح ثبوت   وہ پیش کرے"۔

Root: ذ ب ح;  س ل ط

فَمَكَثَ غَيْـرَ بَعِيدٛ

  • Thereafter, he waited/stayed but for a little while that he arrived —

یہ کہنے کے بعد انہوں  کچھ زیادہ دیر انتظار نہیں کیا کہ وہ آ گیا۔

Root: م ك ث

فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإِۭ  بِنَبَإٛ يَقِيـنٍ ٢٢

  • Being questioned he said, "I have comprehensively known a thing which your Majesty have not yet come to know about that and I have brought to you from Saba a confirmed news. [27:22]

حاضر ہو کر اس(ہدہد)نے کہا"میں نے اس بات کو معلوم کیا ہے جس کے بارے معلومات آپ کے احاطہ علم میں نہیں۔اور آپ کے پاس سباء سے ایک حتمی خبر لایا ہوں۔

Root: ح و ط

إِنِّـى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةٙ تَمْلِـكُهُـمْ

  • Indeed I have found that a woman rules them —

میں نے وہاں پایا کہ ایک عورت ان پر حکمرانی کرتی ہے۔

Root: م ر ء; م ل ك

وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَـىْءٛ

  • And she has been given all sorts of wherewithal —

اور اس عورت کو ہر طرح کا سامان زیست عنایت کیا گیا ہے۔

وَلَـهَا عَـرْشٌ عَظِيـمٚ ٢٣

  • And a grand throne is the seat for her. [27:23]

اور ایک عالی شان تخت اس کے بحثیت حکمران بیٹھنے کے لئے ہے۔

Root: ع ر ش

وَجَدتُّـهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ

  • I found her (the Queen) and her nation that they prostrate for the Sun, instead of Allah the Exalted.

میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ سورج کے لئے سجدہ ریز ہوتے ہوئے پایا ہے۔

Root: س ج د; ش م س

وَزَيَّنَ لَـهُـمُ ٱلشَّيْطَٟنُ أَعْمَٟلَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ

  • And Shaitan has made their deeds/acts alluring for them thereby he stopped them from the Path —

اور شیطان نے ان کے اس طرز عمل کو جس پر وہ کاربند ہیں ان کے لئے  باتکرارخوشنما اور دل کش بنا دیا ہے۔اور یوں انہیں  راہ راست سے موڑ /منحرف کردیا ہے۔

 

فَهُـمْ لَا يَـهْتَدُونَ ٢٤

  • Thereby, they guide not their selves aright. [27:24]

اس کا شاخسانہ یہ ہے کہ وہ  متمنی ہدایت نہیں ہوتےـ۔

أَلَّا يَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ

  • [Shaitan has allured them] That they might not prostrate for Allah the Exalted, the One Who brings to light/prominence that which is hidden in the Skies and the Earth."

شیطان نے ان کے اعمال کو خوشنما اس لئے بنایا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے سربسجود نہ ہوں جو جناب  اس کو جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہے باہر نکالتے رہتے ہیں"۔

Root: س ج د

وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٢٥

  • And He the Exalted fully knows that which you people hide and that which you people reveal/say openly. [27:25]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو تم سینوں میں پوشیدہ رکھتے ہو اور اس کو جو تم لوگ کھل کر کہتے ہو۔

Root: ع ل ن

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ

  • Allah the Exalted is all alone the living Iela'aha: Sovereign Sustainer Lord; None at all in miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped is alive or organizes, administers or sustains others except He the Solitary Sustainer Lord, the Absolute.

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔

Thesis statement of Qur’ān

رَبُّ ٱلْعَـرْشِ ٱلْعَظِيـمِ۩ ٢٦

  • He is the Sustainer Lord of the Exalted Seat of the Sovereign. [beyond the Skies of universe]. [27:26-Please prostrate, it makes us nearer to our Sustainer Lord]

 وہ جناب یکتا اور عظیم الشان تخت اقتدار کے رب ہیں۔

Root: ع ر ش

قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٢٧

  •  He said, "We will soon verify whether you told the truth or you were one of the liars. [27:27]

سلیمان علیہ السلام نے کہا"ہم جلد اس کا جائزہ لیں گے کہ کیا تم نے سچ بیان کیا ہے یا  دروغ گوئی کرنے والوں میں سے تو ثابت ہوتا ہے۔

ٱذْهَب بِّكِتَٟبِى هَـٰذَا فَأَ لْقِهْ إِلَيْـهِـمْ

  • [where after he drafted a letter] He commanded, "You go with mine letter, this one; upon reaching there throw it towards them that they see it —

  • تو میرے خط کو لے کر رونہ ہو جا،یہ پکڑ؛جب وہاں پہنچ جائے تو اسے زمین پر اس طرح ڈال دے کہ وہ دیکھ لیں۔

ثُـمَّ تَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ٢٨

  • Thereafter, get away from them, then [seeing they found the letter] watch as to how they react to it." [27:28]

  • بعد ازاں یہ دیکھ کر کہ انہوں نے خط اٹھا لیا خود کو ان سے پھیر لینا۔پھر کسی جگہ سے دیکھنا کہ وہ اس پر کیا رد عمل دکھاتے ہیں"۔


قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟

  • She said, "O you the Chiefs!Please listen:

ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں۔

Root: م ل ء

إِنِّـىٓ أُلْقِىَ إِلَـىَّ كِتَٟبٚ كَرِيـمٌ ٢٩

  • Indeed an excellent letter has been placed before me — [27:29]

آپ کے علم میں اس حقیقت کو لانا ہے کہ ایک انتہائی نفیس مکتوب کو میرے روبرو پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

Root: ك ر م

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٟنَ وَإِنَّهُۥ

  • Indeed it is sent by Suleiman—and it preludes—[Quote]

یہ (مکتوب)سلیمان (علیہ السلام)نے مجھے پہنچانے کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کا ابتدائیہ یہ ہے:

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِـيـمِ ٣٠

  • "Ar'Reh'maan: the Personal Name of Allah the Exalted is the recourse Ar'Reh'maan is eternally the Fountain of Infinite Mercy." —[27:30]

’’اللہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے،وہ جناب منبع رحمت ہیں۔

أَ لَّا تَعْلُوا۟ عَلَـىَّ وَأْتُونِـى مُسْلِمِيـنَ ٣١

  • That you people should not exalt yourselves upon me, and join-come to me—in the condition of voluntary submitters-peacemakers." [27:31]

اور یہ لکھا ہے  کہ آپ لوگ اپنے آپ کومجھ پر سربلند نہ سمجھیں اور میرے پاس آپ   زیرنگیں حالت میں  سلامتی سےآئیں‘‘۔

قَالَتْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِـى فِـىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢

  • She said, "O you the Chiefs! You advise me in taking my decision; I have not been deciding and finalizing any matter until you people have considered it with me". [27:32]

ان محترمہ(ملکہ سبا)نے کہا’’معزز سردارو؛توجہ کریں!۔مجھے درپیش معاملے میں میری پنہاں کو جاننے میں معاونت کریں۔آپ جانتے ہیں کہ میں کسی بھی معاملہ کو حتمی نہیں کرتی جب تک آپ نے میرے ساتھ اس کا جائزہ نہیں لیا"۔

Root: ف ت ى; م ل ء; ق ط ع

قَالُوا۟ نَـحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٛ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٛ شَدِيدٛ

  • They [hawks of her cabinet] said, "We are the possessors of force and we are possessors of mighty warring ability —

انہوں نے کہا"ہم طاقت کے مالک ہیں اور ہم زبردست جنگی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وَٱلۡأ​َمْـرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣

  • However, the decision is with you, therefore, you take your own decision that which you will command." [27:33]

مگر معاملے کا فیصلہ کرنا آپ کی صوابدید ہے۔اس لئے آپ دیکھیں کہ آپ نے ہمیں کیا حکم دینا ہے"۔

قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا۟ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوٓا۟ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةٙۖ

  • She [retaining composed cool queenly posture] said, "Indeed the kings when they entered a town they caused her upset, and they rendered the ruling elite of its inhabitants as the subjugated ones —

ملکہ نے کہا"حقیقت یہ ہے کہ جب بادشاہ فاتح بن کر کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو الٹ پلٹ کر دیتے ہیں۔اور اس بستی کے معززین  کو مغلوب،کمزور،گھٹیا قرار دے دیتے ہیں۔

Root: ذ ل ل; م ل ك

وَكَذَٟلِكَ يَفْعَلُونَ ٣٤

  • And this is how they will act— [27:34]

اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اسی طرح کا فعل کرتے ہیں۔

وَإِنِّـى مُرْسِلَةٌ إِلَيْـهِـم بِـهَدِيَّةٛ فَنَاظِرَةُۢ بِـمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ ٣٥

  • And certainly I am about to send a message towards them with a gift whereupon I will wait and see what the emissaries return with." [27:35]

میں  ان کی جانب تحائف کے ساتھ خیر سگالی کا پیغام بھیجنے لگی ہوں۔اس کے بعد دیکھوں گی اس کے مطابق جوقاصد پیغام واپس لاتے ہیں"۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٟنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٛ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْـرٚ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُـم

  • Thereby, when the message came to Sulie'maan [alai'his'slaam] he said, "Do you people induce me with wealth, then it will not work since what Allah the Exalted has given me is far better than what He the Exalted has granted to you people—

ملکہ نے قاصد ارسال کر دئییے۔جوں ہی وہ سلیمان(علیہ السلام)کے دربار میں پہنچے تو انہوں نے ان سے کہا"کیا تم لوگ مال و دولت سے مجھے مرعوب کرنا چاہتے ہو۔تو پھر یہ جان لو کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عنایت کیا ہے وہ اس سے کہیں بہترین ہے جو انہوں نے تم لوگوں کو عنایت کیا ہے۔

بَلْ أَنتُـم بِـهَدِيَّتِكُـمْ تَفْرَحُونَ ٣٦

  • Nay, the fact is that you people are rejoicing with your gift. [27:36]

محض مرعوب کرنا نہیں ہے بلکہ تم لوگ اپنے تحفہ سے اپنی خوشحالی پر نازاں ہونے کا اظہار کر رہے ہو۔

Root: ف ر ح

ٱرْجِعْ إِلَيْـهِـمْ فَلَنَأْتِيَنَّـهُـم بِجُنُودٛ لَّا قِبَلَ لَـهُـم بِـهَا

  • You return to them, tell them that we will come to them with forces which they will not be able to confront them —

ان سرداروں کی جانب لوٹ جاؤ۔چونکہ انہوں نے مرعوب کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے ہم عنقریب ان کے پاس ایسے لشکروں کے ساتھ آئیں گے جن کا  اپنی موجودہ طاقت سےسامنا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔

وَلَنُخْرِجَنَّــهُـم مِّنْـهَآ أَذِلَّةٙ وَهُـمْ صَٟغِـرُونَ ٣٧

  • And certainly we will drive them out of it, defeated—and they will become belittled". [27:37]

اور یقیناً ہم انہیں ان کے گھمنڈ سے نکال باہر کریں گے ان پر غلبہ حاصل کر کے جس پر وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں گے"۔

Root: ذ ل ل; ص غ ر


قَالَ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُـمْ يَأْتِينِى بِعَـرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِـى مُسْلِمِيـنَ ٣٨

  • He (Sulie'maan alai'his'slaam) said, "O you the Chieftains! Who of you could bring to me her throne before they arrive to me in state of yielding-peacemakers?" [27:38]

انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے استفسار کیا"اے سرداروں!آپ میں کون ہے جو میرے پاس ان محترمہ کے شاہی تخت کو لے آئے اس سے قبل کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع و فرمانبردار بن کر پہنچ جائیں؟‘‘

Root: ع ر ش; م ل ء

قَالَ عِفْرِيتٚ مِّن ٱلْجِنِّ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَۖ

  • Said Ifreet, a person of the Jinn species, "I will bring it to you before your rising from your seating place—

عفریت نامی سردار جن کا تعلق جنات سے تھے نے کہا’’میں آپ کے پاس اس(تخت)کو لے آوں گا اسے قبل کے آپ اپنی نشست سے محفل برخواست کر کے اٹھیں۔

وَإِنِّـى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِيـنٚ ٣٩

  • And indeed I am certainly powerful upon doing it and am trustworthy in discharging responsibility." [27:39]

اور میں یہ کام انجام دینے کی قوت رکھتا ہوں اورذمہ داری کو نباھنے والا ہوں‘‘۔

قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٚ مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَۚ
فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّـى لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُۖ
وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦۖ وَمَن كَفَـرَ فَإِنَّ رَبِّـى غَنِىّٚ كَرِيـمٚ ٤٠

  • One of the cabinet members — he who held an extract of knowledge gained from the Book (Mother-Principal)— "I will bring it to you before your wink turns to its original position towards you."
    Thereby
    —having been asked to go ahead, as soon he saw that throne placed by his side he said, "This is manifestation of the blessing of my Sustainer Lord so that He may expose me whether I am grateful or I am ungrateful —
    And know it—whoever expressed gratitude, indeed he expresses gratitude only for his own self—benefit —And whoever concealed ungratefully then [he harms his own self] it makes no difference since my Sustainer Lord is the Absolute Independent, the Exalted". [27:40]

ایک سردار نے کہا جسے مخصوص کتاب(ام الکتاب)میں سے ان جناب  کی جانب سے معلومات/علم دیا گیا تھا’’میں آپ کے پاس اس(تخت)کو پہنچا دوں گا قبل اس کے کہ آپ  کی جھپک  آپ کی جانب اصل مقام پر پلٹے‘‘۔
اجازت دینے کے بعد جوں ہی انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے اسے(تخت) اپنے نزدیک ہی رکھا ہوا دیکھا تو انہوں نے کہا’’یہ
ایسے ماہرین علم کا میری کیبنٹ میں موجود ہونامیرے رب کی جانب سے مجھ پر عنایات میں سے ایک ہے۔تاکہ وہ جناب مجھے آزنائیں اور ظاہر  کریں کہ کیا میں شکرگزار رہتا ہوں یاکفران فضل کرتا ہوں۔
اور یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جو  کوئی شکر ادا کرتا ہے تو صرف اپنے آپ کے مفاد میں شکرگزاری کرتا ہے۔اور جس کسی نے عنایات پر ناشکری کا رویہ اپنایا تو یہ حقیقت مدنظر رہے کہ بلاشبہ میرے رب  ہر احتیاج سے منزہ بلند تر ہیں،وہ منبع کرم ہیں۔(النمل۔۴۰)

Root: ط ر ف;  ق ر ر; ك ر م;  ك ف ر

قَالَ نَكِّرُوا۟ لَـهَا عَـرْشَهَا نَنظُرْ أَتَـهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَـهْتَدُونَ٤١

  • He ordered, "Render her throne to look unfamiliar for her, We would see and judge whether she recognizes - guides herself  or she remains one of those who guide not their-selves aright". [27:41]

انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے حکم دیا’’ان محترمہ کے تخت کوآپ لوگ اس کے پہلی نظر کے لئے کچھ غیر معروف بنا دو،۔ہم دیکھنا چاہیں گے کہ آیا وہ دلچسپی لے کرسیدھی راہ کو سمجھتی ہے یا پھراس کا رویہ اور انداز ان لوگوں جیسا ہی ہے جو متمنی ہدایت نہیں ہوتےـ‘‘۔

Root: ع ر ش;  ن ك ر

فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَـرْشُكِۖ

  • Since preparations had already been made for her reception, therefore, as soon she arrived at reception point it was said, "Your throne, Madam Queen, please see this one?"

چونکہ ملکہ کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اس لئے جوں ہی استقبالیہ مقام پر پہنچیں تو ان کے لئے کہا گیا’’آپ کا تخت،ملکہ محترمہ،اس کو دیکھیں‘‘۔

Root: ع ر ش

قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ

  • She replied, "It is like as if it is that one.

انہوں(ملکہ)نے ایک نظر دیکھ کر کہا’’اس کی مماثلت تو ایسے ہے جیسے یہ وہ ہی ہے(یعنی میرا تخت)۔

وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِـهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيـنَ ٤٢

  • And we were conveyed the information before undertaking journey, and we had decided to yield and be peace makers." [27:42]

اور ہمیں سفر شروع کرنے سے قبل معلومات مل چکی تھیں اور ہم مطیع و فرمانبردار بن کر امن و صلح سے رہنے کا فیصلہ کر چکے تھے‘‘۔

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ

  • --Know it, that, which she used to worship other than Allah the Exalted, had averted her recognizing worldly realities.

۔۔ہم جناب بتاتے ہیں کہ(اچھی بھلی عقلمند خاتون تھیں)اس عادت نے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اورکی عبادت کرتی تھی اسے اردگرد کی دنیا سے دور کیا ہوا تھا۔۔

إِنَّـهَا كَانَتْ مِن قَوْمٛ كَٟفِرِينَ ٤٣

  • Indeed she was being held as Queen of a disbelieving nation -- [27:43]

۔۔یہ حقیقت ہے کہ اس کا شمار اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والی قوم میں کیا جاتا تھا۔۔

قِيلَ لَـهَا ٱدْخُلِـى ٱلصَّرْحَۖ

  • (reverting from parenthetic to reception ceremony) She was requested, "Please enter the Courtyard of Palace."

(جملہ معترضہ سے پلٹتے ہیں استقبالیہ تقریب کے متعلق)۔ان(ملکہ)کے لئے کہا گیا’’آپ محل کے صحن میں تشریف لے چلیں‘‘۔

Root: ص ر ح

فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةٙ وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْـهَاۚ

  • Thereat, when she saw that (courtyard) she misjudged it as if it were a swell of water above surface; and she raised her trousers exposing her both legs from ankle to knee.

اس پر سواری سے اتر کر جوں ہی اس سے اسے(صحن)کو دیکھا تو اس نے گمان کیا جیسے سطح سے ابھرے پانی سے بھرا ہو۔اور اس خیال کی حالت میں اس نے اپنے نچلے پہناوے کو اٹھا کرٹخنوں سے گھتنوں تک اپنی پنڈلیوں کو ننگا کر دیا۔

Root: س و ق; ل ج ج; ك ش ف

قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٚ مُّمَـرَّدٚ مِّن قَوارِيرَۗ

  • Seeing her confusion and embarrassment by leg exposure he explained; "Actually this courtyard has been made smooth surfaced with glassing".

ان کی اس بے خیالی میں کی ہوئی حرکت اور خجالت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں(سلیمان علیہ السلام)نے واضح کیا’’درحقیقت یہ ایسا صحن ہے جسے بالکل ہموار اور استوارشیشوں کے استعمال سے کیا گیا ہے‘‘۔

Root: ص ر ح;  ق ر ر;  م ر د

قَالَتْ رَبِّ إِنِّـى ظَلَمْتُ نَفْسِى

  • (the difference between conjecture and reality opened the window of reason) She immediately said; "O my Sustainer Lord, it is fact that by following conjecture and imagination instead of reality I did wrong myself —

(گمان اور حقیقت کے فرق نے عقل کے دریچے کھول دئیے)اس(ملکہ)نے فوراً کہا’’اے میرے رب! یہ حقیقت ہے کہ میں نے حقیقت کی بجائے تخیل اور گمان کو اپنا پر اپنے آپ پر زیادتی کی ہے۔

وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَٟنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٤٤

  • And I have now submitted myself to the Code of conduct Islam, in the presence of Sulie'maan [alai'his'slaam], exclusively for Allah the Exalted, the Sustainer Lord of the Worlds - All that exists". [27:44]

اور میں سلیمان(علیہ السلام)کی معیت میں   مطلق اللہ تعالیٰ کے حضور پرخلوص انداز میں سرنگوں ہو گئی ہوں،وہ جناب تمام موجودات کے مطلق رب ہیں‘‘۔


وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَـىٰ ثَمُودَ  أَخَاهُـمْ صَٟلِحًا

  • And Our Majesty had indeed deputed towards Sa'mued their brother Saleh [alai'his'slaam] as the Messenger—  

اورہم جناب نے صالح (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم  ثمودکی جانب اپنا رسول بنایا تھا۔

أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ

  • To persuade them: "You people be exclusively subservient-allegiant to Allah the Exalted.

انہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو"۔

فَإِذَا هُـمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ٤٥

  • Thereat, when he had told them, they became two groups [one believers the other rejecters]— they kept mutually disputing—exchanging arguments. [27:45]

رسول اللہ کے تبلیغ کرنے پر جب وہ دو  متحارب فریق بن گئے توبڑھ چڑھ کر اپنے اپنے نکتہ نظر کے دفاع میں الجھنے لگے۔

Root: خ ص م

قَالَ يَٟقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِۖ

  • He (Saleh [alai'his'slaam]) said, "O my nation! Why you people are seeking hastening the punishment before seeking the good?

انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"اے میری قوم!تعجب ہے  تم لوگ کیوں  عذاب لانے میں عجلت کی خواہش کر رہے   ہو  خوشگواری  سے قبل ۔

Root: ع ج ل

لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ

  • Why not you seek forgiveness from Allah the Exalted—

کیوں اللہ تعالیٰ سے تم لوگ معافی پانے کے خواہش مند نہیں بن رہے۔

لَعَلَّـكُـمْ تُرْحَـمُونَ ٤٦

  • So that you people are dealt/subjected with mercy." [27:46]

ایساکرو تاکہ تم لوگوں پر رحم کیا جائے(دوزخ سے بچا لیا جائے)۔

قَالُوا۟ ٱطَّيَّـرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ

  • They - the ruling elite replied, "The cause of our adversities are you and whoever is with you".

ان انکار کرنے والے عمائدین نے کہا"ہم اپنے آپ کو منحوس سمجھتے ہیں آپ کے ساتھ اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے جو آپ کی معیت میں ہیں"۔

قَالَ طَٟٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِۖ

  • He (Saleh [alai'his'slaam]) said, "The cause of your adversities is from Allah—

انہوں(صالح علیہ السلام)نے کہا"تم لوگوں کی نحوست کا سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیان کر دیا گیا ہے۔

بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٚ تُفْتَنُونَ ٤٧

  • Nay, the fact is that you are the people who are subjected to a liquefying trial". [27:47]

مسئلہ نحوست نہیں،درحقیقت تم ایک ایسی قوم ہو جو اس دھات کے مثل ہے جسے کھٹالی میں کھوٹ کو الگ کرنے کے لئے ڈال  دیا گیا ہے"۔

وَكَانَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٛ

  • And there in the city used to live a group of nine men—

یہ بھی جان لو،،نو افراد پر مشتمل ایک گروہ شہر میں مشہورو معروف تھا۔

Root: ر ھ ط

يُفْسِدُونَ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ٤٨

  • They were in habit of creating distortions and imbalances in the society and they did not reform. [27:48]

وہ معاشرے میں ذہنی و فکری انتشارسے بگاڑ پھیلاتے  رہتے تھے اورمعاشرے کو اصلاح کی جانب راغب کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔

قَالُوا۟ تَقَاسَـمُوا۟ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ

  • They said, "You people mutually swear by Allah that we will surely attack him by night and his household —

انہوں نے اپنی محفل میں کہا"اللہ تعالیٰ کی سب قسم اٹھا کر عہد کرو کہ ہم رات میں اس پر اور اس کے اہل خانہ پر حملہ کریں گے۔

Root:  ق س م

ثُـمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٟدِقُونَ ٤٩

  • Afterwards the attack we will certainly emphasize for his heir that we had not witnessed the destruction of his household and indeed we are certainly truthful in our statement." [27:49]

بعد ازاں ہم اس کے  خاندان میں سےوارث کے لئے یہ بیان دیں گے"ہم نے اس کے اہل خانہ کو ہلاک کرنے والے کو نہیں دیکھا۔اور یہ کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں"۔

وَمَكَـرُوا۟ مَكْـرٙا وَمَكَـرْنَا مَكْـرٙا

  • And they devised the conspiracy and Our Majesty planned a plan—

اس طرح انہوں نے اس سازش کوتیار کیا اور ہم جناب نے منصوبہ پہلے سے تیار کیا ہوا تھا۔

Root: م ك ر

وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٥٠

  • [We fully knew their conspiracy] And they had no idea/perception/clue of that plan. [27:50]

مگر انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں تھا۔

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ مَكْرِهِـمْ

  • Thereat, give a thought, how was the eventual fate of their ill-design —

چونکہ ہم جناب کی تدبیر ہمیشہ اعلیٰ و ارفع ہے اس لئے غور کرو کہ ان کی تیار کردہ سازش کا آخر انجام کتنا اندوہناک تھا۔

Root: م ك ر

أَنَّا دَمَّرْنَٟهُـمْ وَقَوْمَهُـمْ أَجْـمَعِيـنَ ٥١

  • That Our Majesty destroyed them by forceful entrance, and their nation, altogether. [27:51]

کہ ہم جناب نے انہیں (نو افراد)اور ان کی قوم کو کچل دیا،اجتماعی انداز میں۔

Root: د م ر

فَتِلْكَ بُيُوتُـهُـمْ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓا۟ۗ

  • Thereby, their houses are veiling the devastation/dilapidation/ruins upon their roofs for being persistently unjust—

چونکہ قوم تو نیست و نابود کر دی گئی تھی اس لئے اب ان کے  یہ گھر ہیں،اوندھے ملبہ حالت میں،ایساان کے ساتھ ان کے حقیقت کے منافی باطل روئیے کو اپنائے رکھنے کی وجہ سے ہوا۔

Root: خ و ى

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّقَوْمٛ يَعْلَمُونَ ٥٢

  • Indeed in this ruins, archaeological evidence is certainly a demonstrative evidence/lesson for people who seek information-knowledge. [27:52]

یقینا اتاریخ کے بیان اور ان کھنڈرات  کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادت  ہے   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔

وَأَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٥٣

  • And Our Majesty had rescued those who believed and kept endeavouring to protect their selves. [27:53]

۔اور ہم جناب نے ان کو بحفاطت وہاں سے نکال دیا تھا جو ایمان لائے تھے اور وہ محتاط طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار تھے۔


وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ

  • And Our Majesty had deputed Luet [alai'his'slaam] as the Messenger when he said to his nation:

اورہم جناب نے   لوط(علیہ السلام) کو اپنا رسول بنایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ  کرنے کے لئے کہا۔

أَتَأْتُونَ ٱلْفَٟحِشَةَ وَأَنتُـمْ تُبْصِرُونَ ٥٤

  • "Do you people come to illicit sexual activity and you people openly watch doing it in group." [27:54]

کیا یہ سچ نہیں کہ تم لوگ فحاشی/جنسی بے راہروی میں اِس اجتماعی انداز میں ملوث ہوتے ہو کہ تم لوگ کھلے عام اِس کا نظارا کر رہے ہوتے ہو؟

Root: ف ح ش

أَئِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلـرِّجَالَ شَهْوَةٙ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ

  • Why is it that you people come to men lustfully—heterosexuality apart from wives?

کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لو گ بیویوں کے علاوہ  مر دوں کے پاس آتے ہو جنسی خواہش بجھانے کیلئے؟

Root: ش ھ و

بَلْ أَنتُـمْ قَوْمٚ تَجْهَلُونَ ٥٥

  • The fact is that you people act on passions/lusts" [27:55]

نہیں؛[کوئی طبعی وجہ نہیں]درحقیقت تم لوگ جذبات پرستی میں مشغول اور مغلوب رہنے والی قوم ہو“۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوٓا۟ ءَالَ لُوطٛ مِّن قَرْيَتِكُـمْۖ

  • And his nation had no response except that they said to people: "Drive the followers of Luet out of your locality —

جان لو ان کی اصلیت؛چونکہ  استدلال اور جواز بتانے سے قاصر تھے اس لئےان کی قوم کے عمائدین کے پاس سوائے لوگوں سے یہ کہنے کے کوئی جواب نہ تھا’’لوط (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو اپنی بستی سے نکال دو۔

إِنَّـهـمْ أُنَاسٚ يَتَطَهَّرُونَ ٥٦

  • They are a folk who keep their selves aloof-purified." [27:56]

وہ درحقیقت ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں سے الگ تھلگ پاکیزہ سمجھتے ہیں‘‘۔

فَأَنجَيْنَٟهُ وَأَهْلَهُۥٓ

  • Thereby upon lapse of respite period and in keeping with the promise, Our Majesty rescued him [Lut alai'his'slaam] and companions of his House—

چونکہ ان کے لئے مقرر کردہ مدت کا اختتام قریب تھا اس لئے حسب وعدہ ہم جناب نے انہیں(لوط علیہ السلام)اور ان کے اہل خانہ کو بحفاطت اس علاقے سے نجات دی۔

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَٟهَا مِنَ ٱلْغَٟبِـرِينَ ٥٧

  • Except his wife, Our Majesty had restricted her with those who stayed behind. [27:57]

سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت بھی  ایمان لانے سے گریزاں حال میں تھی۔

Root: غ ب ر; م ر ء

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْـهِـم مَّطَرٙاۖ

  • And Our Majesty showered upon them in the manner of spraying—splinters.

اور ہم  جناب نے ان پر برسایا عذاب، چھڑکاؤ کے انداز اور اثرانگیزی سے۔

Root: م ط ر

فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ٥٨

  • Thereat worst was the shower for those who were duly admonished. [27:58]

چونکہ وہ برسات گرم لاوہ اور نوکدار شیشہ نما پتھروں سے تھا اس لئے وہ کیا ہی برا برسات تھا ان کا جنہیں بار بار متنبہ کیا گیا تھا۔

Root: م ط ر


قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَٟمٌ عَلَـىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓۗ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "The Infinite Glory and Praise eternally is entirely and exclusively for Allah the Exalted And paying homage, respects and salutations upon those is prescribed whom He the Exalted has personally declared as elevated and exalted in creations."

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیا ہے۔اور ادب و احترام سے ان جناب کے ان  مخلَص بندوں پر سلام کہنا لوگوں پر واجب ہے جنہیں انہوں  نے  ذاتی طور پر تخلیقات میں برگزیدہ  ، اشرف  اور ممتاز قرار دیا ہے"۔

Root: ص ف و

ءَآللَّهُ خَيْـرٌ أَمَّا يُشْـرِكُونَ ٥٩

  • Do they realize not, Allah is the Superb and Exalted than what they associate with Him? [27:59]

کیا وہ اس نکتے پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ہر حوالے سے اعلیٰ اور بہترین ہیں یا وہ جنہیں وہ  ان کاشریک گردانتے رہتے ہیں۔

أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ

  • Or [to say it in other words] who created the Skies and the Earth—

یا اس زاوئیے سے بتاؤ؛کون ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا ہے۔

وَأَنزَلَ لَـكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ

  • And He dropped water from the Sky for you people—

اور ان جناب نے تمہارے مفاد کے لئے آسمان سے یکبارگی پانی برسایا۔

فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَـهْجَةٛ

  • Whereupon with that water Our Majesty caused the buds - Eye's iris like structure, embryonic shoots, which are the possessor of prime [condition of great freshness and health] to develop-grow —

چونکہ پانی حیات کا لازمی عنصر ہے اس لئے ہم جناب اس کے الصاق سے تروتازگی رکھنے والی آنکھوں  جیسی شاخوں(buds)کو نمو دیتے ہیں۔

Root: ن ب ت

مَّا كَانَ لَـكُـمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآۗ

  • It was not possible for you people that you could grow her woody shoots.

تم لوگوں کے  بس میں نہیں کہ ان  کے تناور درخت اگا سکتے۔

Root: ش ج ر

أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِۚ

  • [Just see a bud and reflect] Is there any iela'aha: godhead along with Allah the Exalted?

    بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو اس طرح تخلیق کرتا ہو؟

         Thesis statement of Qur'an

بَلْ هُـمْ قَوْمٚ يَعْدِلُونَ ٦٠

  • No, there is no iela'aha: godhead along with Allah, but yet they are the people who ascribe equals with their Sustainer Lord. [27:60]

نہیں، اللہ تعالیٰ مطلق معبود ہیں مگر  یہ لوگ ہیں کہ   اپنے رب سے الصاق کرتے ہوئے دوسروں کو ہمسر قرار دیتے رہتے ہیں۔

Root: ع د ل

أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًۭا وَ جَعَلَ خِلَٟلَهَآ أَنْـهَٟرًۭا
وَ جَعَلَ لَـهَا رَوَٟسِـىَ
وَ جَعَلَ بَيْـنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًاۗ
 أَءِلَٟهٌۭ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلْ أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ٦١

  • Or who is He Who rendered the Earth as cool and comfortable living place —(read with 40:64) And rendered her midst patches as place for rivers-water reservoirs —
    And rendered the pegged mountains as anchors for stabilizing her (Earth) (Cf. 13:03; 15:19; 16:15; 21:31; 27:61; 31:10; 41:10; 50:07; 77:27; 78:07; 79:32)—
    And has rendered an invisible bar - obstruction (phenomenon) between the two oceans as a barrier that keeps them separate [not lets them mingle]
    Reflect on these facts and answer: Is there any iela'aha: god head along with Allah the Exalted? No, there is no iela'aha: godhead along with Allah, the fact is most of them do not acquire knowledge. [27:61]

مزید غور کر کے بتاؤ کہ کون معبود  ہیں جنہوں نے خوشگوار قیام کے لئے زمین کو سرد منجمد جائے قرار کا روپ دے دیا تھا۔اور ان جناب نے اس کے  زیریں راستوں  کو پانی کے   لئےگزرگائیں  اورذخائر بنا دیا۔
اور ان جناب نے اس کے  توازن کے لئے  پہاڑوں کو بطورلنگرداخل کیا ۔
اور ان جناب نے نہ دکھائی دینے قدرتی عنصر کو دو سمندروں  کے مابین باہم دگر ہونے سے  روکنے کے لئے رکاوٹ  قائم کرنے والے کےبطور بنایا ہے۔
بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو اس طرح  اشیاء کو ایک نیا روپ  دے سکے؟لوگوں کا منفی طرز عمل   کسی دلیل پر نہیں کہ  بدیہی حقیقتوں کا بھی جائزہ نہیں لیتے ؛ درحقیقت اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق حقائق کو جاننے کے آرزو مند ہی نہیں۔

History of the Earth Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance Thesis statement of Qur'an Root: ق ر ر; خ ل ل; خ ل ل; ر س و

أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ  وَيَجْعَلُـكُـمْ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرْضِۗ أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِۚ
قَلِيلٙا مَّا تَذَكَّرُونَ ٦٢

  • Or [to say it in another perspective] Who is He who responds to the existentially constrained one when he calls upon Him, and He removes the trouble? —And Who is He Who renders you people the rulers of the Land?  —Is there any deity — godhead alongside Allah the Exalted?
    Fact remains: whatever you have been wishfully retaining in memory without analysis is qualitatively insignificant. [27:62]

    یا کیا حقیقت شناس ہونے کے لئے یہ غور کیا کہ کون ہیں جو بے چین اور مضطرب شخص کو جواب دیتے ہیں جب وہ انہیں پکارتا ہے اور وہ جناب باعث اضطراب تکلیف کو اس سے دور کرتے ہیں۔اوروہ جناب ہی ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو زمین کے حکمرانوں /فرمانرواکے طور مقرر کر دیا ہے۔بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو اس طرح   تمہارے لئے کچھ کر سکے؟
    زمینی حقیقت یہ ہے  کہ تم لوگ جو کچھ بھی بے تجزیہ و تحلیل  اپنی یاد داشت میں محض حسرت آمیز ، خواہشی انداز میں محفوظ کئے ہوئے ہو ، وہ معیاری  اور نوعی اعتبار سے (qualitatively) غیر اہم اور ادنیٰ درجے کا ہے۔

Root: ك ش ف Thesis statement of Qur'an

أَمَّن يَـهْدِيكُـمْ فِـى ظُلُمَٟتِ ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِ

  • Or, who guides/rescues you people in the layers of darkness - clueless locations-unmarked spaces-bewilderment of the Desert/Land and the Ocean/Sea —

یا یہ بتاؤ وہ کون جناب ہیں  جو تمہیں  راستے کی رہنمائی دیتے ہیں جب تم لوگ زمین اور سمندر کے اندھیروں /بیابان ۔بے نام و نشان مقامات پرراہ کھو بیٹھتے ہو۔

وَمَن يُرْسِلُ ٱلـرِّيَٟحَ بُشْـرَاۢ بَيْـنَ يَدَىْ رَحْـمَتِهِۦٓۗ

  • And Who is the One Who sends the particular winds, as advance glad news before His Mercy—

اورغور کرو؛ وہ کون  جناب ہیں جو ہواؤں کو ایک پرمسرت اطلاع کے طور بھیجتے ہیں جو ان جناب کی رحمت کے ظہور کی آمد آمد کا پتہ دیتی ہیں۔

Root: ر و ح

أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِۚ

  • Is there any iela'aha: godhead along with Allah the Exalted?

بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو ایسا کرتا ہو؟

تَعَٟلَـى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْـرِكُونَ ٦٣

  • Allah is Exalted above all what they conjecturally associate with Him. [27:63]

خبردار؛ اللہ تعالیٰ  تمام  عظمت وکبریائی  اور جد و جہد کا محور ہیں۔اور وہ  جناب مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام سے  جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔

Root: ع ل و   Thesis statement of Qur'an

أَمَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعيدُهُۥ

  • Or who initiates the creation, afterwards He causes its iteration—after pause of time will cause his relapse—reverted to original state —

 یا یہ بتاؤ کہ کون جناب  ہیں سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی جانب پلٹا دیں گے۔

Root: ع و د

وَمَن يَرْزُقُكُـم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وٱلۡأَرْضِۗ

  • And who is He Who provides you sustenance from the Sky and the Earth?

اور بتاو کون جناب ہیں جو تمہیں آسمان اور زمین میں سے سامان زیست مہیا کرتے ہیں۔

أَءِلَـٰهٚ مَّعَ ٱللَّهِۚ

  • Is there any iela'aha: godhead along with Allah the Exalted?

بتاؤ؛کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو تمہیں زیست حیات دیتاہو؟

قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٟنَكُـمْ

  • You ask them; "Produce your evidence-primary source to substantiate your verbal assertion —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں  ”تم لوگ اپنا ٹھوس،معتبر ثبوت/سند پیش کرو۔

Root: ھ ى ت

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٦٤

  • Do produce it if you people were truthful." [27:64]

ایسا کرو اگر تم   لوگ اپنے بیان میں سچے ہو"۔


قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوٟتِ وٱلۡأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce declaratively, "Whoever exists in the Skies and the Earth knows not the secreted realities except Allah the Exalted. (Read with 49:18)

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کے علاوہ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی باشعور موجود ہے وہ پنہاں حقیقتوں کو نہیں جانتے۔

وَمَا يَشْعُـرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥

  • And they have no sense/perception as to when they will be revived/resurrected." [27:65]

اور نہ ہی ان  کو شعور ہے کہ کب انہیں از سر نووجود پذیر کیا جائے گا"۔

بَلِ ٱدَّٟرَكَ عِلْمُهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِۚ

  • Nay, [how would they perceive resurrection] the fact is their knowledge has abstained entering into the Hereafter—

ان کا آخرت بارے سوال محض حجت ہے،حقیقت یہ ہے کہ ان کا علم آخرت   بارے جاننے سے دانستہ اعراض کرتا ہے۔

Root: د ر ك

بَلْ هُـمْ فِـى شَكّٛ مِّنْـهَاۖ

  • Nay, they never pursued to comprehend it, on the contrary they are in skepticism about her (Hereafter)

نہیں؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  وہ اس کے وجود پذیر ہونے کے متعلق شک و شبہ کی کیفیت میں ہیں۔

Root: ش ك ك

بَلْ هُـم مِّنْـهَا عَمُونَ ٦٦

  • Nay the skepticism is their apparent posture, in fact they are deliberately blind hearted about it. [for remaining absorbed in worldly interests and lusts] [27:66]

یہ شک و شبہ کا اظہار بھی دکھاوا ہے؛حقیقت یہ ہے کہ وہ دانستہ اس کی جانب سے اندھے بنے رہنا چاہتے ہیں۔

Root: ع م ى

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا تُرَٟبٙا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ ٦٧

  • Know it, they the elite who refused to believe in the Messenger and Qur’ān posed a question to their people, "Do you think that when we would have become dust after death and so would be our forefathers - would then we will be brought out?" [27:67]

اور رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والے عمائدین مشرکین نے لوگوں سے استفسار کیا’’کیا جب ہم خاک بن چکے ہوں  اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے‘‘۔

لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَـحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ

  • Indeed we were given this promise, we, and to our forefathers of remote past —

یہ اپنی جگہ حقیقت کہ اس  وعیدکا ہم پراظہار کیا گیا ہے؛ہم پر اورہمارے  آباؤ اجداد پر اس کا قبل کے ادوار میں اظہار کیا گیا تھا۔

إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَٟطِيـرُ ٱلۡأَوَّلِيـنَ ٦٨

  • This (promise-Qur'an) is nothing except the tales of ancients." [27:68]

یہ(قرءان) توسوائے پرانے افسانے کہانیوں کے مجموعہ کے اورکچھ بھی نہیں"۔

قُلْ سِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You people traverse in the world/land —

آپ(ﷺ)لوگوں کو کہیں"زمین میں گھومو پھرو۔

Root: س ى ر

فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِيـنَ ٦٩

  • Thereby see [the remains/archaeological evidences] as to how was the end of the criminals" [who publicly contradicted the Messengers and Aa'ya'at of Allah]. [27:69]

پھر جگ بیتی سے سبق لینے کے لئے  یہ دیکھو(کھنڈرات اور آثار قدیمہ  میں )کہ  جرم کرنے والوں کا آخر کار کیا انجام ہوا"۔

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْـهِـمْ

  • And you the Messenger should not grieve for them about their awful end for non believing —

اور نہ ان پر(عذاب کے احتمال سے)آپ (ﷺ)غمزدہ ہوں۔

Root: ح ز ن

وَلَا تَكُن فِـى ضَيْقٛ مِّمَّا يَمْكُرُونَ٧٠

  • And nor should you place yourself in distress and disquiet for the deceptions/tricks/conspiracies they devise [27:70]

اور نہ آپ(ﷺ)ان فریب کاریوں کی وجہ سے جو وہ عمائدین کرتے رہتے ہیں  سینے میں گھٹن  محسوس کر کےاپنے آپ کو آزردہ اور پر ملال نہ کریں۔

Root: ض ى ق;  م ك ر

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ

  • And they say: "Tell us the data, time, period when this promise of Last Day will be fulfilled?

اور وہ پوچھتے ہیں’’بتاؤ یہ وعدہ کس تاریخ/دن کو پورا ہو گا۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٧١

  • Tell us if you people were truthful in asserting resurrection?" [27:71]

بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَـكُـم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "May be perhaps some of it which you people ask for hastening has already come nearer to you." [27:72]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"ممکن ہے کہ اس میں سے بعض تم لوگوں کے نزدیک پہنچ چکا ہو جس کے جلد وقوع پذیر ہونے کی تم خواہش کا اظہار کرتے ہو"۔

Root: ر د ف;  ع ج ل;  ع س ى

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍٛ عَلَـى ٱلنَّاسِ

  • It is a fact that your Sustainer Lord is the possessor of bounty which is showered upon people —

مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ (ﷺ) کے رب  بلاشبہ  لوگوں  پرصاحب فضل وکرم ہیں۔

وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُونَ ٧٣

  • But most of them appreciate-recognize-express not gratitude. [27:73]

اگرچہ یہ الگ حقیقت ہے کہ  اکثر لوگ  ان کی مہربانیوں پر اظہار تشکر نہیں کرتے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٤

  • And indeed the Sustainer Lord of you the Messenger certainly fully knows what their hearts (of ingrate) hide [hold/conceal] and what they say publicly/openly. [27:74]

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ)کے رب اس کو بھی بخوبی جانتے ہیں جو ان(ناقدر لوگوں)کے سینے پوشیدہ رکھتے ہیں اور وہ جس کا سرعام اظہار کرتے ہیں۔

Root: ع ل ن

وَمَا مِنْ غَآئِبَةٛ فِـى ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ إِلَّا فِـى كِتَٟبٛ مُّبِيـنٍٛ ٧٥

  • Moreover, there is not at all an element that is existing in non-apparent state in the Sky and the Earth —but all are inventoried within a Book that is explicitly explicative, conveying information in individuated, crystalline clarity. [27:75]

اور آسمان اور زمین میں کوئی ایسی سربستہ،نگاہوں سے اوجھل اور پنہاں حقیقت موجود نہیں۔ماسوائے اس کے جو ایک ایسی کتاب(ام الکتاب)میں درج ہے جس کی خصوصیت یہ ہے  کہ اس میں ہر شئے کی الگ زمرہ بندی ہے۔(النمل۔۷۵)


إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَـىٰ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُـمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٧٦

  • Indeed this Grand Qur’ān verbally relates upon Bani Iesraa'eel step by step—event by event—footage of real life events of past/their history about most of which they purposely keep differing. [27:76]

یہ حقیقت ہے کہ یہ قرءان مجید بنی اسرائیل پر ان واقعات کو من وعن، ان کے پیش آنے کے انداز میں بیان کرتا ہے  جس کے اکثر حصے میں وہ ایک دوسرے سے پرزور اختلاف کرتے ہیں۔

Root: ق ص ص

وَإِنَّهُۥ لَـهُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّلْمُؤمِنِيـنَ ٧٧

  • And indeed it (Qur’ān) is certainly a Guide [in time and space] and Mercy/blessing for the true believers. [27:77]

اور یہ حقیقت ہے کہ یہ (قرءان مجید)ہدایت نامہ  ہےاور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان پر قائم تھے اور جو اس پر ایمان لائے۔

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَـهُـم بِحُكْـمِهِۦۚ

  • Indeed your Sustainer Lord will conclude between them by His command —

یہ حقیقت ہے کہ آپ(ﷺ) کے رب  روز قیامت  ان کے مابین فیصلہ فرمائیں گے  ان کےاُس حکم کے حوالے سے جس میں وہ باہمی طور پر اختلاف کرتے رہے۔

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيـمُ ٧٨

  • And He the Exalted is the All Dominant and Pervasive, The Knower of apparent and invisible/secreted/ infolded. [27:78]

اور  وہ جناب  دائمی، ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب فرمانروا ہیں،وہ منبع علم ہیں۔

فَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱللَّهِۖ

  • Therefore, keep placing confidence-trust in Allah the Exalted about success-desirable outcome.

آپ (ﷺ)انکار کرنے والوں کی ریشہ دوانیوں سے پریشان ہوئے بغیر  بہتر انجام کے لئے اللہ تعالیٰ پراپنا بھروسہ اور اعتماد رکھیں۔

إِنَّكَ عَلَـى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِيـنِ ٧٩

  • Indeed you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have always the standpoint upon the manifestly established Fact and Reality. [27:79]

آپ (ﷺ)کے بارے اس حقیقت کو منکشف کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سے  بدیہی حقانیت کی راہ پر گامزن رہے ہیں۔

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَـىٰ

  • It is true that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] cannot make the dead listen you.

یہ حقیقت ہے کہ آپ (ﷺ)مردہ شخص کی سماعت تک پیغام نہیں پہنچا سکیں گے۔

وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٨٠

  • And neither can you make the deaf listen/comprehend the call/word the moment they reflexively about-faced on their backs. [27:80]

اوراے رسول کریم!آپ بلاوجہ غمگین ہوتے ہیں؛اس لئے اس پر غور کریں کہ  آپ  (ﷺ کانوں سے  بہرے  کو  بھی اپنی بات  نہیں سنوا سکتے  جو آپ سے پیٹھ پھیر کر   چل دیں۔

Root: ص م م

وَمَآ أَنتَ بِـهَٟدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلٟلَتِـهِـمْۖ

  • And nor you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] can act as the Guide for the blind hearted man to take them out of their wilful negligence, indifference, subdued by passion, conjecture and worldly lusts.(similar 30:53)

اور یہ بھی  حقیقت ہے کہ آپ ـ (ﷺ)قلب کے اندھوں کے لئے   ان کی  دانستہ اختیار کردہ گمراہی اور بے راہروی سے نکالنے کے لئےرہبرنہیں ہو سکتے۔(تقریباً ایک جیسے الروم۔53)

Root: ع م ى

إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـٔ​َايَـٟتِنَا فَهُـم مُّسْلِمُونَ ٨١

  • You the Messenger can explain only to those who believe in the manifestations of Our Majesty prevalent every where in the Universe by which they feel awe and surrender submissively before Him the Exalted. [27:81]

آپ(ﷺ)تو فقط ان کو سمجھا سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جانب موجود  ہمارےمظاہر فطرت کو مانتے ہیں جن سے مرعوب ہو کر وہ خالق کائنات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے بن جاتے ہیں۔

وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ

  • And when the Word—Promise would have happened—executed upon them- the blind hearted men - the non listeners —

جان لو؛جب اللہ تعالیٰ کو مان کر سر تسلیم خم نہ کرنے والوں پر یوم آخر والا قول  وقوع پذیر ہو جائے گا۔

Root: و ق ع

أَخْرَجْنَا لَـهُـمْ دَآبَّةٙ مِّنَ ٱلۡأَرْضِ تُكَلِّمُهُـمْ

  • Our Majesty would have brought out from the Earth an animal for them; her peculiarity would be her verbal conversation with them —

تو ہم جناب ایسے لوگوں کے لئے زمین سے ایک جانور کو نکالیں جو ان سے گفتگو کرے گا۔

Root: د ب ب

أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢

  • It was for the reason that such people were not seeking definitiveness by the Unitary Verbal Passages of Our Majesty. [27:82]

جانور کا ان سے گفتگو کرنا ان کے حسب حال ہے کہ یہ لوگ ہم جناب  کی کائنات میں ہر جانب موجود نشانیوں اور کتاب کے مندرجات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ 

وَيَوْمَ نَحْشُـرُ مِن كُلِّ أُمَّةٛ فَوْجٙا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـٔ​ايَـٟتِنَا

  • Know it, the Day [after second blow in Trumpet] Our Majesty will gather from every generation/ identity those factions who were publicly contradicting Our Aa'ya'at: Verbal passages of the Book and unprecedented signs—

متنبہ رہو؛یوم محشر ہم جناب ہر ایک نسل میں سے ان کو ایک گروہ میں یکجا کر دیں گے جو اس نسل میں ہم جناب کی  رسالات کو بر سر عام جھٹلاتے تھے۔

Root: ف و ج

فَهُـمْ يُوزَعُونَ ٨٣

  • Thereat, they will be segmented in categories, [for respectively earmarked part of Hell-Prison comprising seven partitions-15:44]—[27:83]

مجتمع ہو جانے پر انہیں صف بستہ کر دیا گیا۔

Root: و ز ع

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُـم بِـٔ​َايَـٟتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِـهَا عِلْمًا

  • Until when they reached [at respective gates of Hell-Prison] He the Exalted said, "Did you publicly contradict My Aa'ya'at: passages of the Book because you did not comprehend them, knowledge wise —

انہیں جہنم کی جانب لے جایا گیا۔جب وہ وہاں پہنچ گئے تو ان جناب نے کہا"کیا میرے رسالات کو تم نے اس حالت میں برسر عام جھٹلایا کہ تم ان کو سمجھ نہیں سکے،علمی طور پر احاطہ نہیں کر سکے۔

Root: ح و ط

أَمَّاذَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٨٤

  • Or in fact for reason of remaining adamant upon that which you people were long been doing?" [27:84]

یا اس وجہ سے کہ تم اس پر ڈٹے رہنا چاہتے تھے جو عمل تم لوگ کرتے رہتے تھے؟"

وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيـهِـم بِمَا ظَلَمُوا۟

  • And the Word/Promise got happened/executed upon them, because they people did wrong —

اور ان پر وعدہ کیا فرمان حقیقت بن کر وقوع ہو گیا اس سبب سے کہ حقیقت کے منافی باطل کو انہوں نے اپنایا تھا۔

Root: و ق ع

فَهُـمْ لَا يَنطِقُونَ ٨٥

  • Thereby they will not be able to speak. [27:85]

چونکہ دنیا میں جو کرتے رہے تھے جانتے بوجھتے ہوئے کیا تھا اس لئے وہ سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے۔

Root: ن ط ق

أَ لَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّـهَارَ مُبْصِرًاۚ

  • Have they not noticed that Our Majesty have rendered the Night as a time-duration for their rest/stillness in it, and the Day as provider of brightness and vision.

کیا انہوں نے اس بدیہی حقیقت پر بھی غور نہیں  کیا کہ  ہم جناب نے رات کو ان  کے لئے دھندلا اور نسبتاً بارد بنایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ  اس کے دوران  وہ راحت و آرام حاصل کرسکیں اور ہم جناب نے دن کو  روشن اور منور بنایا ہے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٨٦

  • Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the foretasted existents for the people who believe in Allah the Exalted. [27:86]

یقینا ان  عناصر فطرت کے عینی مشاہدہ میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی ہیں  خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ يَوْمَ يُنفَخُ فِـى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ مَن فِـى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَ كُلٌّ أَتَوْهُ دَٟخِرِينَ٨٧

  • Know it, the Day when sound would have been blown in the Trumpet—Thereby, whoever was living in the Skies and whoever was living in the Earth panicked—Except the one about whom Allah the Exalted willed [not to be effected by terrible happenings of the Day] And everyone [after second blow in Trumpet] came to His presence as submissive and humbling. [27:87]

متنبہ رہو؛جس دن جب خاص طور پر بنائے گئے نقارے میں پھونک دیا جائے گا۔چونکہ وہ دھماکہ خیز آواز ہولناک اور دہلا دینے والی ہو گی اس لئے جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں موجود ہو گا حواس باختہ ہو جائے گا۔سوائے اس کے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اسے مطمئن رکھنے کا فیصلہ کیا۔اور ان جناب کے حضوران میں ہر ایک  حیات نو پانے پر انکساری اور عاجزی کے پیکر بن  کر آئے گا۔

Root: ن ف خ

وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُـهَا جَامِدَةٙ وَهِىَ تَمُرُّ مَـرَّ ٱلسَّحَابِۚ
صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَـىْءٛۚ
إِنَّهُۥ خَبِيـرُۢ بِمَا تَفْعَلُونَ ٨٨

  • Moreover, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] see the mountains of your area presuming them as statically fixed, while the fact is they keep drifting, a gliding like the West to Eastward drift of the Middle Cloud (ٱلسَّحَابِ).
    This is the Artistry of Allah the Exalted Who has caused every thing to be in perfection [in its self and with relation to every thing else].
    Indeed, He the Exalted is fully aware of what you people do for the first time/innovatively. [27:88]

اور آپ نے اپنے علاقے کے پہاڑوں کا تو مشاہدہ  کیا ہے۔آپ کو بظاہر دیکھنے سے خیال آتا ہے کہ وہ ساکت و جامد ہیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آسمان اور زمین کے مابین والے بادل کی مانند  مشرق سے مغرب کی جانب سرکتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ  کے   مہارت  فن  اور کمال ہنر کایہ ہر لمحہ اظہار ہے۔وہ جناب ہیں جنہوں نے ہر ایک شئے کو اپنے آپ میں اور دوسروں سے مطابقت کے لئے کامل بنایا ہے۔
خبردار رہو؛یہ بدیہی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  ہر اس فعل سے  بخوبی باخبر  ہیں جو تم کرتے ہو۔

 Root: س ح ب ; م ر ر ; ش ى ء;  ص ن ع        Mountains - Anchors

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْـرٚ مِّنْـهَا

  • Whoever came with moderate conduct, better than it is the award for him —

جو کوئی اللہ تعالیٰ       کےحضور معتدل اور حسن سلوک کا مرتکب حالت  میں پیش       ہو گا تو چونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی قدردان نہیں اس لئے اس   کو اس سے بہت بہتر  انعام کا استحقاق اسے دیا جائے گا۔

وَهُـم مِّن فَزَعٛ يَوْمَئِذٍٛ ءَامِنُونَ ٨٩

  • And such people are safe and tranquil from the great terror of the Day  [surfacing on first blow in the Trumpet on Last Day] [27:89]

اور ایسے لوگ  اس وقت  بھی امان میں ہوں گے جس دن سب سے بڑی دہشت   کا سامنا لوگوں کو اول صور پھونکے جانے پر ہو گا ۔

Root: ف ز ع

وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُـبَّتْ وُجُوهُهُـمْ فِـى ٱلنَّارِ

  • And whoever came with evil conduct, thereby faces of such people are depressed and dejected in the Hell-Prison.

اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور کسی مخصوص برائی سے لتھڑی حالت میں پیش ہو گا تو چونکہ خود اپنے آپ کو اس انجام کا ذمہ دار مان چکا ہے اس لئے ان کے چہرے جہنم میں  مایوسی، افسردگی سے مرجھائے ہوں گے۔ 

هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٩٠

  • [they will be reminded] "Are you people being recompensed but what wilfully you kept doing?" [27:90]

ان سے پوچھا جائے گا"بتاؤ کیا تمہیں سوائے اس کے کچھ اور سزا سے تو ہمکنار نہیں کیا جا رہا سوائے اس کے مطابق جو اعمال تم لوگ کرتے رہے تھے‘‘۔


إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "I was only advised that I remain subject-subservient-allegiant to the Sustainer Lord of this City, He the Exalted has declared her sanctified —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یہ حقیقت ہے کہ مجھے قرءان مجید دئیے جانے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں اس شہر(مکہ)کے رب کی بندگی پر قائم و دائم رہوں؛ان جناب نے اس شہر کو قابل تحریم قرار دیا ہوا ہے۔

وَلَهُۥ كُلُّ شَـىْءٛۖ

  • And every thing is the subject exclusively for Him the Exalted.

اور ہر وجود پذیر ان جناب  کے لئےمطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے برسرپیکار ہیں۔

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٩١

  • And I was advised [at the time of presentation/revelation of Qur’ān] that I be the first one [-39:12] of its acceptors/submitters —  [27:91]

اور مجھے  قرءان پیش کئے جانے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس (قرءان مجید) کو پہلے سے موجود دین اسلام پر کاربند لوگوں  میں  اول تسلیم کرنے والا بنوں۔

وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَۖ 
 
فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَـهْتَدِى لِنَفْسِهِۦۖ
وَمَن ضَلَّ
فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ٩٢

  • And that I was commanded to recite the Qur’ān faithfully delivering its text verbatim with exact vocal sequence."
    Since he has meticulously delivered it, thereby, whoever in response (the Qur’ān having reached him-6:19) endeavoured getting aright guided, thereat, he is leading on the way only for his own self —
    Similarly, whoever remained neglectful and indifferent (towards Qur’ān having reached him), thereby the consequential fact is that his strays-neglect has effect upon his self [refer for elided apodosis clause: 10:108;  can also be construed as "then he the messenger is not responsible) —Therefore, not being responsible for him, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce: "My role and responsibility is limited to act as the last and universal Admonisher-Forewarner  in the chain of those sent afore times." [27:92]

اور مجھے یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں قرءان مجید کو تحریری  ترتیب کے عین مطابق    تلفظ کرتے ہوئے لوگوں کو سناؤں "۔
چونکہ انہوں نے اسے مِن و عن پہنچا دیا ہے اس لئے جس کسی نے قرءان مجید پہنچ جانے پر
از خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیاتو درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے  اپنی ذات کے فائدے کے لئے خود کو ہدایت یافتہ بنایا۔
اور جوکوئی(قرءانِ مجید سے)غافل اورمنحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ اور وبال  خود اُس پر ہے(رسول کریم اس کے ذمہ دار نہیں۔محذوف کے لئے دیکھیں۔یونسؐ۔۱۰۸)۔اس لئے آپ (ﷺ)وضاحت کر دیں"یہ حقیقت ہے کہ  کفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والوں میں   میری ذمہ داری اور کردارتمام انسانیت کے لئے ہے (جس تک یہ قرءان پہنچا۔الانعام۔19)"۔(النمل۔٩٢)
 

وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُـرِيكُـمْ ءَايَٟتِهِۦ فَتَعْـرِفُونَـهَاۚ
وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍٛ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٩٣

  • Moreover, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] proclaim: "All evaluative glorification and praise — in its truest and exclusive sense — is rightfully due to Allah the Exalted. He the Exalted will soon, and intermittently, manifest to you His Signs (realities in the universe and within your own selves). Consequently, you will recognize them — identifying them as the exact physical mirrors of His verbal Discourse." (Cf. 41:53)—
    And warn that your Sustainer Lord is indeed never unmindful—neglecting acts that you people perform." (Cf. 11:193 (replica); 2:74; 2:85; 2:140; 2:149;3:99) [27:93]

مزید برآں آپ(ﷺ)اعلان فرما دیں :"تمام تعریفی اور قدرسنجی کی جملہ صورتیں — اپنی حقیقی اور خالص معنویت میں — صرف اور صرف اللہِ عظیم و برتر کے لائق و سزاوار ہیں۔وہ جناب  عنقریب تم لوگوں کوآفاق اور خود تمہارے اندر پنہاں ان جناب کی جانب رہنمائی کرنے والی  نشانیاں/مظاہر دکھاتے رہیں گے۔چونکہ  قبل ازیں تم نے قرءان میں  ان کی جھلک  دیکھی ہو گی اس لئے ان سے متعارف ہو جاؤ گے(موازنہ:سورۃ فصلت 53)۔
اور  متنبہ  فرما دیں کہ  آپ (ﷺ)کے رب  اُس سے کبھی غافل نہیں ہوتے جو اعمال تم  لوگ کرتے ہو"۔

Root: غ ف ل

 

028-سُوۡرَةُ القصص

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation

       سورۃ کا تعارف


طسٓمٓ ١

  • Three mutually conjoined/sewn consonants of Arabic alphabet ( أبجدية عربية‎); First consonant Ta ﻁ‎, it has no additional sign/mark suggesting its pronunciation with its normal sound; the middle conjoined consonant Seen ـسـ‎ and last Meem ـم‎ both have above them ancillary glyph/prolongation sign/mark which extends/stretches the sound value of the letter to which it is added. Prolongation sign/mark is found whenever the following word begins with still letter. Letter  ـسـ is followed by/ends in still "noon" and so is ـم ending with still "Mee'm-ميم " in pronunciation. [28:01]

عربی زبان کے حروف ابجد، باہمدگر "ط"، "س بمع مدا"اور "م بمع مدا"۔

تِلْكَ ءَايَٟتُ ٱلْـكِـتَٟبِ ٱلْمُبِيـنِ ٢

  • These are the Aa'ya'at: unitary verbal passages of the Book which is characteristically Explicit: conveyor of information in succinct, individuated, distinct and crystallized manner —[28:02]

اے رسولِ کریم!یہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل کتاب(قرءان مجید)کے مندرجات  (آیات)ہیں؛اس کتاب کا وصف  یہ ہے کہ اس کا بیان ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت کو منکشف کر دینے والاہے۔  

نَتْلُوا۟ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَـىٰ وَفِرْعَوْنَ بِٱلْحَقِّ لِقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٣

  • Our Majesty recite unto you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] some of the narrative of the history of Mūsā [alai'his'slaam] and Fir'aoun (Pharaoh), loaded with factual circumstances obtaining. The objective is to particularly acquaint the people who have believed in you. [28:03]

ہم جناب آپ(ﷺ)کو موسیٰ(علیہ السلام)اور فرعون کے دور سے متعلق خبرمن و عن سنا رہے ہیں جو مبنی بر حقیقت احوال ہے۔اس کا مقصد ان لوگوں کو حقیقت پر مبنی تاریخ سے مطلع کرنا ہے جو آپ(ﷺ)پر ایمان لائے ہیں۔

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِـى ٱلْأَرْضِ وَ جَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًۭا
يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةًۭ مِّنْـهُـمْ يُذَبِّـحُ أَبْنَآءَهُـمْ وَ يَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُـمْۚ
إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ٤

  • Indeed Fir'aoun (Pharaoh) had exalted himself arrogantly in the Land (Egypt) —
    And he divided its people into few factions and castes. —By calculated design he kept subduing a particular group among them —he persistently commanded the slaughter of their sons,, and deliberately spared their women.
    Indeed he had long been one of those who spread corruption and imbalance. [28:04]

یہ حقیقت ہے کہ فرعون نے اپنے آپ کوسلطنت میں مطلق عالی مرتبت مطلق العنان فرمانروا قرار دے دیا تھا۔
اور اس نے اس میں  بسنے والے لوگوں کو طبقات کے انداز میں منقسم کر دیا تھا۔ان میں سے ایک طبقے کو کمزور و ناتواں کرنے کا خواہش مند رہتا تھا۔
وہ ان کے  بیٹوں کو ذبح کروانے کی  جستجو میں رہتا، اور  ان کی عورتوں کو خاص مقصد کے زیر خواہش زندہ رہنے دیتا تھا۔
اس کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ اس کا شمار بدستور ان میں رہا جو حقیقت کے منافی ذہنی و فکری انتشار اور بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں۔

 

      Fir'aoun - Pharaoh: a King with acute Narcissistic personality disorder  Root: ش ى ع; ط و ف; ذ ب ح

وَ نُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَـى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُـمْ أَئِمَّةًۭ وَ نَجْعَلَهُـمُ ٱلْوَٟرِثِيـنَ٥

  • And Our Majesty decided to oblige those people who had been oppressed in the Land [Egypt]—And that Our Majesty may render them their own masters and leaders; and that We may render them inheritors (remaining populace of Egypt.44:28)— [28:05]

اور ہم جناب کا ارادہ ان لوگوں پر احسان کرنے کا تھا جنہیں ملک میں دانستہ  زیر اثر محکوم رکھنے کی خواہش میں کمزور و ناتواں بنا دیا گیا تھا۔اور یہ کہ ہم جناب ان( مغلوب قوم) کوبطورایک آزاد وخود مختار قوم بنا دیں اور ہم جناب  انہیں وارثوں کا درجہ دے دیں(پیچھے رہ جانے والوں کوالدخان۔۲۸)۔

Root: م ن ن; و ر ث

وَ نُمَكِّنَ لَـهُـمْ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ نُرِىَ فِرْعَوْنَ وَ هَٟمَٟنَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَحْذَرُونَ٦

  • And so that Our Majesty may provide for them a Land to reside —And that Our Majesty may cause, for Fir'aoun (Pharaoh) and Ha'maan and troops of both to watch some of that about which they were apprehensively cautious. [28:06]

اور یہ کہ ہم جناب ان(بنی اسرائیل) کے لئے زمین میں ایک علاقے کو ان کے لئے جائے رہائش مقرر کر دیں۔اوریہ کہ ہم جناب فرعون اور ھامان اور ان  لوگوں کو جودونوں کے لشکروں میں شمار تھے وہ دکھا دیں جس کے امکان سے بچنے کے لئے  حفاظتی تدابیر وہ کرتے رہتے تھے۔(القصص۔٦)

Root: م ك ن


وَ أَوْحَيْنَآ إِلَـىٰٓ أُمِّ مُوسَـىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِۖ
فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِـى ٱلْيَـمِّ وَ لَا تَخَافِـى وَ لَا تَحْزَنِـىٓۖ
 إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَ جَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِيـنَ٧

  • And Our Majesty verbally communicated to the Mother of Mūsā [alai'his'slaam] that, "You keep breast feeding him —
    Then when you would have apprehended danger upon him, thereon you place him in the river; (Nile-by placing him in the chest) —And you should not feel fear and nor feel grief —
    Our Majesty will certainly revert him back any moment in the same condition/place [breast feed] to you —And [be at ease, since in future] We will appoint him as one of the Messengers." [28:07]

اور ہم جناب نے زبانی پیغام(وحی)موسیٰ (علیہ السلام)کی ماں کو بھیجا کہ اسے دودھ پلاتی رہیں۔
پھر جب آپ اُس کی نسبت خطرہ محسوس کریں تو اُسے (صندوق میں ڈال کر۔طہٰ۔39)دریا میں ڈال دیں
۔اور(دریا میں ڈالتے ہوئے) ڈرنا مت اور (دریا میں ڈال دینے کے بعد)غمگین بھی نہ ہونا۔
یقیناً ہم جناب اس کو اسی اصل حالت (دودھ پلانے)میں کسی لمحے تیری جانب لوٹا لائیں گے۔اور ہم اسے بھرپور جوان ہونے پر بھیجے گئے رسولوں کی مانند رسول مقرر کر دیں گے"۔

Root: ر ض ع

فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَـهُـمْ عَدُوّٙا وَحَزَنٙاۗ
إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَٟمَٟنَ وَجُنُودَهُـمَا كَانُوا۟ خَاطِـِٔيـنَ ٨

  • She did it and the river placed him on the bank[20:39]. Thereupon, the men of Fir'aoun (Pharaoh) picked him up carefully. They did not realize that he might become for them an antagonist and cause of grief.
    -- Indeed Fir'aoun (Pharaoh) and Ha'maan
    and troops of both were long been wrong doers --. [28:08]

انہوں(والدہ)نے ایسے ہی کیا تو  انہیں (موسیٰ علیہ السلام)دریا کنارے سے فرعون کے اہلکاروں نے احتیاط سے  اٹھا کر محل میں پہنچا دیا۔اس کا انجام انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ ان لوگوں کے لئے باعث دشمنی اور حزن ہو گا۔
۔۔یہ حقیقت ہے کہ فرعون اور ھامان اور ان دونوں کے ترتیب دئیے ہوئے لشکر فعل و عمل میں غلط کار تھے۔۔

Root: ل ق ط؛ ح ز ن; خ ط ء

وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْـنٛ لِّـى وَلَكَۖ
   لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَـدٙا وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٩

  • And the wife of Fir'aoun (Pharaoh) said to him, "This child is cool comfort of eye; he will be soothing for me and for you —
    You should not kill him, perhaps he may benefit us or we may affectionately adopt him as son." While they decided it, they had no idea/perception/clue of negative implications (in adopting him as legal son) [28:09]

اس موقع پر فرعون کی بیوی نے فرعون کو کہا"یہ بچہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔یہ میرے اور آپ کے لئے سکون بخش ہو گا۔
آپ کو اسے قتل نہیں کرنا چاہئے۔ممکن ہے کہ یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہو یا ہم  خوش دلی سے اسے اپنے بیٹے کے طور اپنا لیں"۔
 یہ  فیصلہ کرتے ہوئے  انہیں  اپنے لئے کسی منفی بات کا احساس و شعور بھی نہیں تھا۔

Root: ق ر ر; م ر ء; ع س ى؛ ق ت ل

وَ أَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَـىٰ فَٟرِغًاۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَـىٰ قَلْبِـهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ١٠

  • [reverting back to his mother] And, having placed her son in the River, the Mind of the mother of Mūsā [alai'his'slaam] set free. It is certain that she would have almost disclosed it had Our Majesty not related the chain of events upon her heart—It was for the purpose that she remained a staunch believer [that the promise of Allah gets executed-28:13]. [28:10]

دریا میں ڈال دینے کے بعد موسیٰ(علیہ السلام)کی والدہ کا شعوری ذہن ماؤف حالت میں ہو گیا۔اس حالت میں  وہ اس بات کے زیادہ قریب تھیں کہ معاملے کو ظاہر کر دیتیں اگر ہم جناب نے اس کے قلب کو ڈھارس نہ دی ہوئی ہوتی۔ایک ماں کو بچے کو دریا کےسپرد کرنے کا کہنے پر ایسا کرنا ضروری تھا کہ وہ ایمان پر برقرار رہنے والوں میں رہے۔

Root: ف ء د;  ف ر غ;  ر ب ط;  ك و د

وَ قَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍۢ وَ هُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ١١

  • And she asked his sister, "Chase him". In compliance she chased him keeping him in focus from a side casually—And they had no idea/perception/clue/notice about her chase. [28:11]

اور انہوں نے اس (موسیٰ علیہ السلام)کی بہن سے کہا"اس کا ساتھ ساتھ پیچھا کر"۔ماں کے کہنے پر اس نے اسے(بھائی)کو ایک جانب سے نگاہوں میں رکھا۔اس طرح کہ دوسرے لوگوں کو اس بات کا احساس  و شعور   بھی نہیں  ہوا۔

Root: ق ص ص

وَ حَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّـكُـمْ عَلَـىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍۢ يَكْفُلُونَهُۥ لَـكُـمْ وَ هُـمْ لَهُۥ نَٟصِحُونَ١٢

  • And in the meanwhile We had prohibited for him before that [arrival of his sister] to suck milk of the Wet-Nurses [gathered by Fir'aoun and his wife to breast feed the baby] —Thereby, she (sister) said, "May I lead you towards a household who will nurse and rear him for you people —And they will be well wishers for him." [28:12]

اور ہم جناب نے اس کی بہن کے محل پہنچنے سے قبل  بلائی گئی عورتوں کا دودھ پینا اس پر ممنوع کر دیا تھا(اس کی ماں کے ساتھ کئے وعدہ کو نبھانے کےلئے)۔ان کی دودھ پلانے میں ناکامی کے سبب اس(بہن)نے کہا"کیا میں آپ لوگوں کو ایک گھر کے اہل خانہ کا بتاؤں جو اس کی آپ لوگوں کی خاطر دیکھ بھال کرتا رہے گا۔اور وہ لوگ اس کے لئے خیر خواہ ہوں گے"۔

Root: ر ض ع; د ل ل;  ك ف ل; ن ص ح

فَرَدَدْنَٟهُ إِلَـىٰٓ أُمِّهِۦ كَـىْ تَقَرَّ عَيْنُـهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ
وَ لَٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ٣

  • Thus Our Majesty returned him to his mother for cooling her eyes and not to let her grieve —And so that she may know that the promise of Allah the Exalted is like a proven/executed fact.
    But the fact is that most of them do not know/intend to understand.
    [28:13]

اس طرح ہم جناب نے انہیں  بعینہ اس حالت میں واپس ان کی والدہ کی جانب پلٹا دیا جیسے دودھ پلا کر سپرد دریا  نیل کیا تھا۔مقصد یہ تھا کہ اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے اور وہ غمزدہ نہ ہو۔اور اس لئے کہ وہ حتمی انداز میں جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حقیقت بن کر رہتا ہے۔
مگر ان  (انکار پر بضد عمائدین)کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔

Root: ق ر ر؛ ح ز ن


وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَ ٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٟهُ حُكْمًۭا وَ عِلْمًۭاۚ
وَ كَذَٟلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِيـنَ٤

  • Know it, when he crossed over to his strengthen maturity and had firmly established himself , Our Majesty gave him wisdom-discriminative intelligence-the capability to judge and decide, and knowledge —
    And that in this way Our Majesty reward those who keep conducting  moderately, gracefully and generously— [28:14]

ان کی تاریخ کو مزید جان لیں؛جوں ہی انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے اپنی بھرپور جوانی میں قدم رکھا  اورانہوں نے  اپنے آپ کومعاشرے میں استوار  کر لیا ہم جناب نے انہیں قوت فیصلہ، امتیازی ذہانت اورعلم سے نوازا۔
مطلع ہو جاؤ؛یہ ہے وہ انداز ،ہم اس طرح ان لوگوں کو نوازتے ہیں  جو اعتدال اور حسن سلوک کے رویئے کو اپنائے رکھتے ہیں۔

وَ دَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَـىٰ حِيـنِ غَفْلَةٍۢ مِّنْ أَهْلِهَا
فَوَجَدَ فِيـهَا رَجُلَيْـنِ يَقْتَتِلَانِ هَٟذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَ هَٟذَا مِنْ عَدُوِّهِۦۖ
فَٱسْتَغَٟثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَـى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَـىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِۖ
قَالَ هَٟذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٟنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّۭ مُّضِلٌّۭ مُّبِيـنٌۭ١٥

  • [It conjuncts with -He departed from the company of learned man-18:78] And he entered the City/Egypt, in a state of mind that upon that moment he was unmindful of its people.
    Thereat, he found therein two men fighting fiercely with each other. -- This one belonged to his group; and the other belonged to his foe
    —
    Thereat, the one, who was of his nation, cried seeking help of him upon the other who belonged to his foe —In response/ instinctively Mūsā [alai'his'slaam] fisted; thereat, he caused the end upon him.
    Upon this sudden and accidental death, he remarked, "This incident is the outcome of the discord initiated by Satan between these two men.".
    —The reality about him is that he is a persistent enemy who places humans in a state of evident distraction, making them indifferent to consequences." [28:15] [He had objected about a murder by the Wise man which was by design and will-18:74,80]

اوروہ(موسیٰ علیہ السلام علم والے بندے سے جدا ہو کر۔الکہف۔۱۸)رات کے وقت شہر میں اس  وقت  داخل ہوئے جب  حالت استغراق میں غافل تھے ۔ایسے غافل کے اس میں رہنے والوں میں سے بعض کی اپنے آس پاس موجودگی کو بھی محسوس نہیں کیا۔
اچانک انہوں نے اس (شہر)میں دو مردوں کو پایا۔وہ دونوں  باہم پوری قوت سے  گھتم گھتاجھگڑ رہے تھے۔یہ ایک ان کے اپنے گروہ سے تھا اور یہ دوسرا ان سے عدوات والے گروہ سے تھا۔
ان کو قریب دیکھ کر اس نے جو ان کے اپنے گروہ سے تھا ان سے مدد کی خواہش کی اس کے خلاف جو ان سے عدوات والے گروہ سے تھا۔اس پر موسیٰ(علیہ السلام)نے اس کو مکہ مار دیا۔اس کے نتیجے میں انہوں نے اس پر موت کو وارد کر دیا۔
اس اچانک اور اتفاقی موت پر انہوں نے کہا"یہ  وقوعہ نتیجہ ہے اس عمل کا جس کا آغاز شیطان نےان دو مردوں کے مابین چپقلش پیدا کر کے کیا۔اس کے بارے حقیقت یہ ہے کہ مستقل  ایسا دشمن ہے جو  انسان کوصریحاً  گم کردہ خیال حالت میں  کرکے انجام سے لاپرواہ کر دیتا ہے۔

Root: غ ف ل; ش ى ع;غ و ث; و ك ز

قَالَ رَبِّ إِنِّـى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِـى فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِـيـمُ ١٦

  • He prayed, "O my Sustainer Lord, I have done wrong to myself, therefore, do grant condonation for me"; since it was unintended reflexive first time act He the Exalted granted condonation for him.
    Indeed He the Exalted is the One Who is repeatedly Forgiving/Overlooking and the Fountain of Infinite Mercy.
    . [28:16]

انہوں نے دعا کی"اے میرے رب؛میں نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے، لہٰذ امجھ پر  درگزر فرمائیں۔کیونکہ یہ غیر ارادی اور پہلی بار کا ردعمل تھا، اس لیے  ان جناب  نے ا ن کی خاطر درگزر فرمایا۔
ان کے متعلق یہ حقیقت ہے،وہ جناب اکثر و بیشتر درگزر اور پردہ پوشی کرکے معاف فرمانے والے ہیں۔وہ منبع رحمت ہیں۔

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَـىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيـرٙا لِّلْمُجْرِمِيـنَ ١٧

  • He (Mūsā alai'his'slaam) "O my Lord, since You have favoured me, that lapse happened while I was lost in thought while walking. I vow never to support wrongdoers in the future." [28:17]

انہوں  (موسیٰ علیہ السلام)نے وعدہ کیا"اے میرے رب؛آپ جناب نے  مجھ پر نوازش فرمائی ہے،راہ چلتے تصور میں کھوئے وہ حرکت سرزد ہو گئی تھی آئندہ میں کبھی بھی مجرمین کے لئے سہارا نہیں بنوں گا"۔

فَأَصْبَحَ فِـى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًۭا يَتَـرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥۚ
قَالَ لَهُۥ مُوسَـىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّۭ مُّبِيـنٌۭ٨

  • Because of night's incident he was fearfully vigilant in the city next morning, therefore, when the one, who had sought his help day before, cried to him for help—
    Mūsā [alai'his'slaam] replied to him, "Indeed you are certainly a manifest transgressors/deviator." [28:18]

رات کے واقعے کی وجہ سے، وہ اگلی صبح شہر میں خوفزدہ اور محتاط تھے۔ اس دوران جب وہ شخص، جس نے پچھلے دن ان سے مدد مانگی تھی، دوبارہ مدد کے لیے پکارا ۔
تو موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا:"بے شک تم واضح طور پر حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔"

Root: ر ق ب;  ص ر خ; غ و ى

فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّۭ لَّـهُمَا
قَالَ يَٟمُوسَـىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِۖ
إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًۭا فِـى ٱلْأَرْضِ وَ مَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِيـنَ١٩

  • Thereby, when he intended that he may get hold of the one who was antagonist for both of them [Mūsā alai'his'slaam and the other person with whom this quarrelsome fellow was quarrelling]—
    He said, "O Mūsā, do you intend that you kill me as you killed a person yesterday—
    You intend nothing except that you be a tyrant in the Land and you do not wish that you may be amongst the reformers." [28:19]

چونکہ وہ دوسرے شخص سے الجھنے سے باز نہیں آیا تو جوں ہی انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے ارادہ کیا کہ اس شخص کوقابو کر لیں جو ان دونوں کے لئے دشمن بن چکا تھا۔
تو اس نے کہا"اے موسیٰ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے اس شخص کی طرح جسے تونے کل قتل کر دیا تھا؟
تو صرف اس سرزمین پر جابر بننا چاہتا ہے اور تو اصلاح کرنے والوں میں ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا"۔

وَ جَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٟمُوسَـىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّـى لَكَ مِنَ ٱلنَّٟصِحِيـنَ٢٠

  • And there came a man from upper farthest end of the city, he came running —He said, "O Mūsā, indeed the Chieftains are holding consultations for deciding about you so that they may execute you —Therefore, get out of the city, indeed I am for you amongst the sincere advisors.". [28:20] [Read the first episode with man of knowledge, advance information about the intended act of king-18:79]

اس وقت شہر کے دور اونچائی والے مقام کی جانب سے ایک شخص وہاں پہنچ گیا۔وہ دوڑتے ہوئے آیا تھا۔اس نے کہا"اے موسیٰ!مصدقہ خبر ہے کہ سردار آپ کے بارے میں یہ مشورے کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل/پھانسی کروا دیا جائے۔اس لئے آپ یہاں سے نکل جائیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کے خیرخواہوں میں ہوں"۔

Root: س ع ى; ر ج ل; م ل ء؛ ق ت ل; ن ص ح

فَخَرَجَ مِنْـهَا خَآئِفًۭا يَتَـرَقَّبُۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٟلِمِيـنَ٢١

  • Realizing that the accidental death could be misrepresented as intentional murder leading to a death sentence, he left the land with the fear of being pursued. [Egypt, it is his second going out from Egypt, first was to meet a Wise man-18:60 and after alienation from him had entered Ehypt-28:15] He prayed, "O my Sustainer Lord! do rescue me from the unjust tyrant nation," [28:21]

چونکہ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اتفاقی موت کو قتل عمد بنا کر انہیں عدالت سے پھانسی دلوانے کا منصوبہ ہو سکتا ہے اس لئے وہ اس سرزمین سے نکل گئے اس خوف کے ساتھ کہ ان کا تعاقب کیا جائے گا۔یہ دعا کرتے ہوئے؛"اے میرے رب!مجھے نجات دیں اس ظلم و بربریت پر مائل قوم سے"۔

Root: ر ق ب

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّـىٓ أَن يَـهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ٢٢

  • And when getting out of the city as soon he decided to face/meet/go to city Madyan—He said, "It is hoped that my Sustainer Lord may guide me the sound way". [28:22]

اور جوں ہی وہ شہر سے باہر نکلے تو انہوں نے شہر مدین کی جانب اپنا رخ کیا۔یہ کہتے ہوئے کہ میرے رب سے جلد امید ہے کہ مجھے منزل پر پہنچنے کے لئے استوار راستہ کی رہنمائی دیں گے۔

Root: ع س ى


وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَ وَجَدَ مِن دُونِـهِمُ ٱمْرَأَتَيْـنِ تَذُودَانِۖ
قَالَ مَا خَطْبُكُمَاۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُۖ وَ أَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيـرٌۭ٢٣

  • And when he (Mūsā [alai'his'slaam]) reached at the watering place of city Madyan—He found thereat a group of men watering mammals and he found besides them two ladies holding back their mammals.
    He asked the ladies, "What is the matter of you both!" They said, "We cannot water until the shepherds take away their mammals. And [they indicated to the stranger cause of their presence in men] our father is quiet an old man." [28:23]

اور جب وہ قصبہ مدین کے پیاؤ پر پہنچے۔تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کے ایک گروہ کو موجود پایا جو اپنے چوپایوں کو پانی پلا رہے تھے اور ان سے کچھ الگ دو عورتوں کو موجود پایا جو اپنے چوپایوں کو پیچھے روک رہی تھیں۔
انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا"آپ دونوں کا کیا معاملہ ہےَ"۔دونوں نے جواب دیا"ہم جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک چرواہے اپنے ریوڑ نہیں لے جاتے۔اور ہمارے ابو عمر رسیدہ ہیں(جس کی وجہ سے ہم یہاں ہیں)"۔

Root:  خ ط ب; س ق ى; ص د ر; ش ى خ

فَسَقَىٰ لَـهُمَا ثُـمَّ تَوَلَّـىٰٓ إِلَـى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّـى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَـىَّ مِنْ خَيْـرٍۢ فَقِيـرٌۭ٢٤

  • Thereat, he watered for them, thereafter he returned to the shady place—Whereat he said, "O my Sustainer Lord, indeed I am in begging need for whatever good You have sent to me" [28:24]

ان کی بات سن کر انہوں نے آگے بڑھ کر ان کی جگہ ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔بعد ازاں عورتوں کے چلے جانے پر وہ پلٹ کر درخت کی چھاؤں میں چلے گئے۔بیٹھ جانے پر کہا"میرے رب!اس وقت میرا حال حاجت مند کا ہے ہر اس شئے کا جو آپ میری جانب بھیج دیں گے جو اس وقت میرے لئے بہتر ہے"۔

Root:  س ق ى;  ظ ل ل

فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰـهُمَا تَمْشِى عَلَـى ٱسْتِحْيَآءٍۢ قَالَتْ إِنَّ أَبِـى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَاۚ
 فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَ قَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٟلِمِيـنَ٢٥

  • Thereat, one of those two ladies came to him, she was walking with shyness—She said, "Indeed my father is inviting you so that he may recompense you the reward for that you watered for us."
    Thereby when he reached to him and narrated in sequence to him the episode/incident, he said, "You do not fear
    —You have escaped from the unjust tyrant nation." [28:25]

دعا کر لینے پر ان دو عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کی جھجک سے چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئی۔اس نے کہا"درحقیقت میرے ابو آپ کو بلا رہے ہیں اس مقصد سے کہ آپ کو اس کو اجر دے دیں جو آپ نے ہمارے لئے پانی پلایا ہے"۔
دعوت کو مان کر جب ان(عورتوں کے ابو)کے پاس پہنچ کر اپنا قصہ ان کو بیان کر دیا جس پر انہوں نے فوراً کہا"اب آپ فکر نہ کریں۔آپ حقیقت کے منافی باطل راہ پر چلنے والی قوم سے نجات پا چکے ہیں"(انہوں نے بن کہے اپنا صاحب ایمان ہونا بھی بتا دیا)۔

Root: م ش ى;  س ق ى

قَالَتْ إِحْدَىٰـهُمَا يَٟٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُۖ إِنَّ خَيْـرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِيـنُ٢٦

  • One of those two women said, "O my father! You personally decide to hire him —Indeed the best one whom you personally decide for hiring is he who is strong and trustworthy." [28:26]

ان دونوں میں سے ایک نے ابو کو مشورہ دیا"ابوجی!آپ اس سے اسے ملازم رکھنے کی اپنی خواہش کا اظہار کریں۔یقیناً وہ جسے آپ ملازم رکھنے کے لئے پسند کریں گے بہتر ہے جس کے بارے آپ کو معلوم ہے کہ قوی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری نباھنے والابھی ہے"۔

قَالَ إِنِّـىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَٟتَيْـنِ عَلَـىٰٓ أَن تَأْجُرَنِـى ثَمَٟنِىَ حِجَجٍۖ
فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْـرًۭا فَمِنْ عِندِكَۖ وَ مَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَۚ سَتَجِدُنِـىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ٢٧

  • [A father of two unmarried daughters has many other considerations to care for in the locality] He said; "I intend bonding you in marriage with one of my daughters, these two, upon your awarding me eight lunar years.
    Thereat, if you completed ten years then that will be from your side
    —And I do not intend that I might perforce it upon you —You will soon find me, Allah willing, amongst righteously pious people." [28:27]

انہوں(والد)نے موسیٰ(علیہ السلام)سے کہا"آپ کو بتانا تھا کہ میرا ارادہ ہے اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک سے آپ کا نکاح کر دوں کہ آپ مجھے آٹھ قمری سالوں کی رفاقت دیں۔
اور اگر آپ نے دس سال پورے کر دئیے تو وہ آپ کی جانب سے بطور عطیہ ہوں گے۔اور میرا قطعی ارادہ نہیں ہے کہ میں اپنی بات آپ پر ٹھونس دوں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے
ہمیشہ صالح لوگوں میں پائیں گے"۔

Root: ن ك ح; ع ش ر; ش ق ق

قَالَ ذَٟلِكَ بَيْنِى وَ بَيْنَكَۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْـنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٟنَ عَلَـىَّۖ وَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ٢٨

  • He (Mūsā [alai'his'slaam]) said, "This is done between me and between you—Either of the two periods I would have exhausted, thereat, there shall be no blame of injustice upon me—And Allah the Exalted is indeed the witness upon what we are saying [and undertaking]." [28:28]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے جواب دیا"آپ نے جو کہا وہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گیا۔ان دونوں مدتوں میں سے جس کسی کو میں نے گزار دیا تو اس صورت میں میرے اوپرکوئی تعزیر نہیں ہو گی۔اور اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہیں جو بات ہم طے کر رہے ہیں"۔

فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَـى ٱلْأَجَلَ وَ سَارَ بِأَهْلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًۭا
قَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّـىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّـىٓ ءَاتِيكُـم مِّنْـهَا بِخَبَـرٍ أَوْ جَذْوَةٍۢ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّـكُـمْ تَصْطَلُونَ٢٩

  • Thereafter, when Mūsā [alai'his'slaam] exhausted the determined period and travelled out with his household—He perceived presence of fire by the side of At-Tur: Mountain Range of Sinai —
    He said to his accompanying family, "You people [wife + at least two children with one certainly male] stay here—"Indeed I have seen and perceived fire—[by the side of At-Tur, I am going there]—I am going there perhaps soon I will get back to you bringing some guiding information from there—Or I will bring you people burning wood from the Fire (it indicates that it was a cold night of winter) so that you may warm yourselves". [28:29]

باہمی طور پر طے کردہ مدت کو جب موسیٰ (علیہ السلام)نے گزار دیا تو اس کے فوراً بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ روانہ ہو گئے تھے:توانہوں نے سلسلہ کوہ طور کے دائیں جانب آگ کےموجود ہونے کو محسوس کیا۔
تو انہوں نے اپنے ہم سفر اہل خانہ سے کہا"تم لوگ یہیں ٹھہرو۔یہ حقیقت ہے کہ میں نے دور آگ کے موجود ہونے کو محسوص کیا ہے۔ اس لئے میں جلد وہاں سے کوئی اطلاع لے کر تم لوگوں کے پاس لوٹ آؤں گا۔یا آگ میں سے جلتی لکڑیاں اٹھا لاؤں تا کہ تم لوگ اپنے آپ کو تپش سے سینک سکو"۔

Root: س ى ر; ط و ر; م ك ث;ص ل ى

فَلَمَّآ أَتَىٰـهَا نُودِىَ مِن شَٟطِئِ ٱلْوَادِ ٱلْأَيْمَنِ فِـى ٱلْبُقْعَةِ ٱلْمُبَٟرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٟمُوسَـىٰٓ إِنِّـىٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ٣٠

  • Thereupon the moment he arrived at perceived fire point [reclusively] he was loudly called—From the right side of the Valley, located in the blessed portion, call seemingly emanating from the Tree—That "O Mūsā! Indeed Me, I am Allah; the Sustainer Lord of the Worlds - All that exists." [28:30]

ان سے الگ ہو کر جوں ہی وہ(موسیٰ علیہ السلام)اس جگہ پہنچے تو ان بلند آواز میں پکارا گیا۔انہیں وہاں موجود ایک درخت سے آواز ابھرتی محسوس ہوئی اس وادی کے دائیں جانب ایک ایسے مقام سے جو اپنے اردگرد سے زیادہ نمایاں تھا۔اس پکار میں انہوں نے یہ سنا"اے موسیٰ!توجہ سے مجھے سن؛ میں اللہ تعالیٰ ہوں،،موجود و معلوم تمام تخلیق کردہ دنیاؤں،ہر ایک وجود پذیر کا رب۔

Root: ش ج ر; ش ط ء

وَ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَۖ فَلَمَّا رَءَاهَا تَـهْتَزُّ كَأَنَّـهَا جَآنٌّۭ وَلَّـىٰ مُدْبِرًۭا وَ لَمْ يُعَقِّبْۚ يَٟمُوسَـىٰٓ أَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلْءَامِنِيـنَ٣١

  • And that "you drop in front your stick." Thereby, as soon he threw her in front, he saw it crawling at her own accord like as if she were a cobra—He about-faced with his back towards snake and he did not see behind. [He seems to be aware that Cobra can spray poison from distance targeting eyes] [Allah called him] "O Mūsā! You turn back to the same place facing it directly; and you should not fear —Indeed you are amongst the protected/secured ones [being nominated Messenger-27:10]" [28:31]

اور انہوں نے مزید سنا"آپ اپنی عصا کو اپنے سامنے زمین پر پھینک دیں"۔تعمیل حکم پر جوں ہی انہوں نے چھڑی پھینک دی تو دیکھا کہ وہ تو ازخود اس انداز میں حرکت کر رہی ہے جیسے وہ حقیقت میں کوبرا سانپ ہے۔تو وہ فوراً پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے اور انہوں نے پیچھے منہ موڑ کر نہیں دیکھا(ظاہر ہوتا ہے وہ جانتے تھے کوبرا آنکھوں پر زہر دور سے پھینک سکتا ہے)۔انہیں پکارا گیا"اے موسیٰ؛واپس اس مقام پرروبرو ہوں، اور تجھے ڈرنا نہیں چاہئے۔یقینا آپ اس سے محفوظ،امان یافتہ ہیں"۔

Root: ع ص و; ھ ز ز

ٱسْلُكْ يَدَكَ فِـى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍۢ
وَ ٱضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهْبِۖ
فَذَٟنِكَ بُرْهَٟنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ وَ مَلَإِي۟هِۦٓۚ
إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَوْمًۭا فَٟسِقِيـنَ٣٢

  • Enter your hand into your neckband—towards Axilla/armpit, palm of hand would come out; shining white—without any spot —
    --(Just as a tip) And contract your shoulder towards your self-chest (perhaps bellicosity posture) to ward of the state of frightening amazement--.
    Thereat on reaching there; these two [out of nine] are irrefutable evidences from your Sustainer Lord for demonstration to
    Fir'aoun/Pharaoh and his Chieftains.
    Indeed they have been a people deviants and limits violator. [28:32]

وہ اپنی چھڑی کے روبرو واپس پہنچ گئے۔انہیں کہا گیا"اپنے ہاتھ کو گریبان کے اندر بغل میں  لے جائیں۔باہر نکالنے پر اس کی ہتھیلی  سفید چمکتی حالت میں ہو گی،ہر قسم کے داغ دھبے سے منزا۔
۔۔بر سبیل تذکرہ ایک فوری حل جان لو؛اپنے کندھے کو اپنی جانب سکیڑ لو جب کبھی حیرت انگیز بات سے سراسیمگی محسوس ہو۔۔
یہ جو دومظاہرے آپ نے دیکھے ہیں دو ناقابل تردید ثبوت ہیں جو آپ کے رب کی جانب سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس پہنچ کر دکھانے ہیں۔
ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جن کی سرشت وعدہ خلافی اورطے شدہ معاملات سے تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنا ہے"۔

Root: س ل ك; م ل ء; ف س ق

قَالَ رَبِّ إِنِّـى قَتَلْتُ مِنْـهُـمْ نَفْسٙا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ٣٣

  • He said, "O my Sustainer Lord! Indeed I had killed a person of them for which reason I apprehend they may execute me. [28:33]

انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا"میرے رب!میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا جو ان کی قوم سے تعلق رکھتا تھا،اس کے سبب مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں۔

وَ أَخِـى هَٟرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًۭا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًۭا يُصَدِّقُنِىٓۖ إِنِّـىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ٣٤

  •  And my brother Haroon; he is more fluent than me with regard to verbal arguing/speaking ability. Since I will have to debate and argue with them needing clarity in speech, therefore, You do send him with me as supporter, he will second my word affirming—[also read with 20:29-32] Factually speaking, I am apprehensive that they might publicly contradict me." [whereupon I will have to enter into verbal argumentation]  [28:34]

اور میرا بھائی ھارون؛ وہ مجھ سے زیادہ فصیح البیان ہے،زبان سے کلام کرنے کے حوالے سے۔چونکہ ان سے مباحثہ کرنا ہو گا جس کے لئے زبان کا فصیح ہونا فائدہ مند ہے،اس لئے آپ جناب اسے(بھائی ھارون)میرے ساتھ بھیجیں ،معاون کا کردار ادا کرنے کے لئے،وہ میری باتوں کی تصدیق کرتا رہے گا۔میں یقیناً اس بات کے احتمال سے بھی تشویش میں ہوں کہ وہ مجھے  برسر عام جھٹلا دیں گے"۔

The first reported case of Expressive aphasia       Root: ل س ن

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَ نَجْعَلُ لَـكُمَا سُلْطَٟنًۭا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَاۚ
بِـَٔايَٟتِنَآ أَنتُمَا وَ مَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلْغَٟلِبُونَ٣٥

  • He the Exalted said, "We will reinforce your strength with [appointing as Messenger] your brother and We will establish for both of you an authority/manifest evidence; thereby, they will dare not touch both of you—
    Both you and whoever willingly followed you shall be the triumphant with display of Our unprecedented demonstrative signs". [28:35]

انہوں(اللہ تعالیٰ)نے کہا"ہم جلد ہی آپ کی قوت بازو کو  آپ کے بھائی کی استعانت سے  تقویت دیں گے۔اور ہم تم دونوں کے لئے مافوق الفطرت مظاہر قدرت کے مشاہدات کو سند بنا دیں گے۔ان مظاہر کو دیکھ لینے پر وہ آپ کی طرف بڑھنے کا حوصلہ نہیں کر پائیں گے۔
آپ دونوں اور جس کسی نے آپ دونوں کی اتباع کی وہ غالب رہیں گے ہماری
لوگوں کے لئے فوق الفطرت اور فوق التصور نشانیوں (معجزات)کی استعانت سے"۔

Root: س ل ط;  و ص ل;  ع ض د; غ ل ب

فَلَمَّا جَآءَهُـم مُّوسَـىٰ بِـَٔايَٟتِنَا بَيِّنَٟتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَٟذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَـرًۭى وَ مَا سَـمِعْنَا بِـهَٟذَا فِـىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِيـنَ٣٦

  • Thereupon [Haroon having joined and all his apprehensions removed] when Mūsā [alai'his'slaam] came to them with Our unprecedented displays, distinct and manifest, they said, "It is not but illusion devised and managed —And we have not heard about it [precedence of such happening] amongst our earlier forefathers." [28:36]

اس طرح جب موسیٰ(علیہ السلام)ان کے پاس ہماری  حقیقت کو متبین کر دینے والی آیات (فوق التصور و تجربہ  بینظیرمظاہر قدرت کی نمائش کی اجازت) کے ساتھ پہنچ  گئے تو جوں ہی انہوں نے اپنے مطالبے کے جواب میں ان کا مظاہرہ دیکھا تو انہوں (فرعون کے قریبی درباریوں)نے کہا"یہ سوائے طلسماتی شعبدہ بازی اور فریب نظر کے سوا حقیقت میں کچھ نہیں جسے بڑی محنت اور مقصد سے ترتیب دیا ہے۔اور ہم نے اس کے متعلق اپنے اولین آباؤ اجداد کی تاریخ میں نہیں سنا"۔

Root: س ح ر

وَ قَالَ مُوسَـىٰ رَبِّـىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلْـهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٟقِبَةُ ٱلدَّارِۖ
إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٟلِمُونَ٣٧

  • And Mūsā [alai'his'slaam] said, "My Sustainer Lord better knows about the one who came with guidance from His Grace —And about the one for whom is the best end place.
    Indeed the matter is that the distorters/creators of conjectural falsehood never attain prosperous success at the end". [28:37]

اور موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا"میرے رب بخوبی  جانتے ہیں اسے جو ان کی جانب سے خاص ہدایت لے کر آیا ہے۔اور اسے جس کے لئے آخرت کے گھر  کو اس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حقیقت کی منافی بگاڑ کا رویہ اپنانے والے آخر کار کبھی کامیاب، سرخرو اور سرفراز نہیں ہوتے"۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يَٟٓأَيُّـهَا ٱلْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَـكُـم مِّنْ إِلَٟهٍ غَيْـرِى
فَأَوْقِدْ لِـى يَٟهَٟمَٟنُ عَلَـى ٱلطِّيـنِ فَٱجْعَل لِّـى صَـرْحًۭا لَّعَلِّـىٓ أَطَّلِعُ إِلَـىٰٓ إِلَٟهِ مُوسَـىٰ وَ إِنِّـى لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلْـكَٟذِبِيـنَ٣٨

  • And [Panicked by the influence upon many Chieftains by repetitive mention about the true Sustainer Lord-26:23-28, after threatening Musa alai'his'slaam 23:29] Fir'aoun (Pharaoh) said, "O you the Chieftains! I have not known for you people any iela'aha: godhead who is other than me —
    Therefore, you kindle for me fire, O Haa'maan, upon clay/bricks where after render for me a lofty tower/obelisk so that I may [have the means to go into Skies to] diligently obtain information about the iela'aha: the God of Mūsā —Though, of course, I certainly consider him one of the liars." [28:38]  [Read with 40:36-37]

ان کے بیان کی اثر انگیزی کو بھانپتے ہوئے فرعون نے مخل ہوتے ہوئے کہا"اے میرے سرداروں!میں اپنے سے کسی مختلف معبود کو نہیں جانتا جو تم لوگوں کے لئے معبود قرار پائے۔
اس لئے اس نکتے کو سلجھانے کے لئے اے ھامان میرے لئے گیلی ریت ملی اینٹوں پر بھٹے میں آگ سلگا،اینٹیں تیار ہو جانے پر ان سے میرے لئے ایک اونچا مینار بنا دے تاکہ اوپر جا کر میں از خود موسیٰ کے معبود کے متعلق معلومات حاصل کروں۔اگرچہ میں یقین کی حد تک اس کے متعلق گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے"۔

 Root: م ل ء ; ص ر ح;  ط ل ع       Fir'aoun - Pharaoh: a King with acute Narcissistic personality disorder

وَ ٱسْتَكْبَـرَ هُوَ وَ جُنُودُهُۥ فِـى ٱلْأَرْضِ بِغَيْـرِ ٱلْحَقِّ وَ ظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ٣٩

  • And he (Fir'aoun/Pharaoh) remained puffed with pride of grandeur seeking aggrandisement in the country, both he and his troops, on grounds contrary to rightful rhyme and reason —And they thought that they will not be returned to Our Majesty for accountability. [28:39]

اس طرح وہ اپنے آپ کو معتبر سمجھنے کے زعم میں  ملک میں عظمت دئیے جانے کا خواہش مند رہا، وہ اور اس کے حواری،حقیقت کے منافی توجیحات کے بل بوطے پر۔اور اس گمان میں مگن رہے کہ انہیں احتساب کے لئے ہماری جانب نہیں لوٹایا جائے گا۔

Root: غ ى ر and ح ق ق

فَأَخَذْنَٟهُ وَ جُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَٟهُـمْ فِـى ٱلْيَـمِّۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٟقِبَةُ ٱلظَّٟلِمِيـنَ٤٠

  • Consequentially, Our Majesty seized him and his troops whereupon We threw them [from over the bridge] down into the Gulf of Suez. Thereby (to reduce sense of your grief), keep in mind as to what was the upshot of the people of past who were unjust evil doers. [28:40]

مہلت کا وقت ختم ہو جانے اور اس کے لئے حجت کا اتمام کر دینے پر ہم جناب نے اسے اور اس کے لشکروں کوگرفت میں لے لیا۔عارضی طور پر سطح سمندر پر ابھارے پل نما ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرنے سے ہم جناب نے انہیں اوپر سے نیچے سمندر /بحر سویزکے اندر پھینک دیا۔اس لئے(اپنے احساس غم کو کم کرنے کےلئے)آپ (ﷺ)اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ  ماضی میں حقیقت کے منافی بگاڑ کا رویہ اپنانےوالوں کا آخر کار کیا انجام ہوا۔

Root: ن ب ذ  Exodus from Egypt

وَ جَعَلْنَٟهُـمْ أَئِمَّةًۭ يَدْعُونَ إِلَـى ٱلنَّارِۖ وَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ لَا يُنصَرُونَ٤١

  • And Our Majesty have declared them as leaders who invite people towards Hell-Fire —And on the Day of Rising they will not be helped. [28:41]

اور ہم جناب نے انہیں(فرعون اور اس کے سرداروں)کو ایسے پیشوا قرار دیا تھا جو لوگوں کو جہنم کی جانب دعوت دیتے ہیں۔اور انہیں روز قیامت کوئی مدد نہیں ملے گی۔

وَ أَتْبَعْنَٟهُـمْ فِـى هَٟذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭۖ وَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ هُـم مِّنَ ٱلْمَقْبُوحِيـنَ٤٢

  • And Our Majesty have caused to follow them curse and condemnation in this worldly life —And on the Day of Rising they are amongst the despised. [28:42]

اور ہم جناب نے اس دنیا میں دھتکار اور پھٹکار کو ان کے نام کے ساتھ لگائے رکھاہے۔اور یوم قیامت یہ لوگ قبیح گردانے جانے والوں کی معیت میں ہوں گے۔


وَ لَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَـى ٱلْـكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَهْلَـكْنَا ٱلْقُرُونَ ٱلْأُولَـىٰ
بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًۭى وَ رَحْـمَةًۭ
 لَّعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ
٤٣

  • Know the past: Our Majesty had given to Mūsā [alai'his'slaam] the Book (Cf. 2:87; 11:110; 23:49; 25:35; 28:43; 32:23; 41:45-7)—after We had annihilated the earlier Civilizations —
    It was to serve as a Verbal Documentary — i.e., a Book of insight, recited and written — for people —(Cf. Bani Iesraa'eel-32:23); and a Guide and Mercy-Blessing (Cf. 45:20)—
    The objective was that even in the periods after the natural death of the Messenger they might preserve it in remembrance, take heed and recall to narrate it to others. (Cf. 2:221; 14:25; 28:43; 28:46; 28:51; 39:27; 44:58=7) [28:43]

 ماضی کی یہ حقیقت بھی جان لو؛ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر نوازا تھا۔یہ کتاب کا عنایت کرنا بعد کے دور کی بات ہے جب ہم جناب  بام عروج پر پہنچی ابتدائیتہذیبوں  (بشمول فرعون)کو نیست و نابود فرما چکے تھے۔
اس (عنایت کردہ مخصوص کتاب)کالوگوں (بنی اسرائیل۔السجدہ۔23)کے لئے کردارآسان فہم تدوین میں  بصیرت افروزپیغام   کاتھاجو قلب وصدور کو بینائی  دیتا رہے۔اورہدایت اور رحمت کا نزول  تھا۔
اس   کامقصد اور امکان  یہ تھا کہ رسول اللہ کی طبعی موت کے بعد بھی وہ ازخود یاداشت میں محفوظ کر کے  اس سےنصیحت لیتے رہیں ۔

Root: ق ر ن

وَ مَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلْغَـرْبِـىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَـىٰ مُوسَـى ٱلْأَمْرَ وَ مَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّٟهِدِينَ٤٤

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] were not on the western side [of At-Tur] when We imparted the Decree to Mūsā [alai'his'slaam] "the Commandment-the Book" (Cf. ) —Nor you were one of those who were present witnessing the occasion. [28:44]

یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آپ(ﷺ)کوہ طور کی مغربی جانب کے مقام پر اس وقت بنفس نفیس موجود نہیں تھے جب ہم جناب نے موسیٰ (علیہ السلام)کے ساتھ معاملے کو نمٹا دیا تھا۔اور نہ آپ اس منظر کا نظارا کرنے والوں میں شامل تھے۔(القصص۔٤٤)

Root: غ ر ب

وَ لَٟكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًۭا فَتَطَاوَلَ عَلَيْـهِـمُ ٱلْعُمُرُۚ
وَ مَا كُنتَ ثَاوِيًۭا فِـىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِنَا وَ لَٟكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيـنَ٤٥

  • But those nations were not annihilated all of a sudden, on the contrary Our Majesty [before annihilation] had raised generations after generations, and time stretched long over them.
    And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] were not a dweller among the residents of City Madyan reciting word by word Our Aa'ya'at to them —However, Our Majesty kept sending the Messengers for this purpose [to nations/civilizations]. [28:45]

مگر ان نیست و نابود کردہ قوموں کے متعلق یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اُن کی نسل در نسل اُبھرتی ہوئی تمدنی زندگی کو دراز وقت کے لیے باقی رکھا تھا، یہاں تک کہ ان پر عمر کا طول طاری ہو گیا۔
اور آپ(ﷺ)تو مدین  شہرکے باسیوں میں نہ رہنے والے تھے کہ ہماری آیات ان پر ایک ایک کر کے پڑھتے، بلکہ ہم ہی تھے جو اس مقصد کے لیے ان کی طرف رسول بھیجتے رہے۔(القصص۔٤٥)

Root: ط و ل; ع م ر; ن ش ء; ق ر ن

وَ مَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
وَ لَٟكِن رَّحْـمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًۭا مَّآ أَتَىٰـهُـم مِّن نَّذِيرٍۢ مِّن قَبْلِكَ
لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ٤٦

  • And nor you, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] were physically present on the side of At-Tur: Mountain range of Sinai when Our Majesty called [Mūsā alai'his'slaam after having left Madyan] —But presenting Grand Qur’ān and describing these events as visual image in the text is display of Mercy and grace from your Sustainer Lord —Its objective is that you may awaken/admonish the Nation [Bani Iesma'eile-] to whom He the Exalted had not at all sent admonisher in times-many generations before you [Muhamad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] [Read with 36:06; 62:02; also 6:92,42:07]
    So that they may conveniently save it in memory/remember and recall to narrate. [28:46]

(ہم  ماضی کے واقعات اس انداز میں بتا رہے ہیں کہ آنکھوں دیکھا منظر بن جائے)اگرچہ آپ بنفس نفیس  کوہ طور کے پہلو میں موجود نہیں تھے جب ہم نے انہیں(موسیٰ علیہ السلام)آواز دے کر متوجہ کیا تھا۔
مگر منفرد کتاب 
(قرءان مجید)کو بنفس نفیس آپ (ﷺ)کو پیش کئے جانے   کی غایت آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے اظہار رحمت تھا۔(ازل سے بطور رحمت آپ کے لئے مختص کیا گیا تھا)۔اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)اس قوم(بنی اسماعیلؐ۔امییین)کو تنبیہ اور غفلت سے بیدار کریں جنہیں ان جناب نے آپ (ﷺ)سے قبل کوئی خبردار کرنے والا عنایت نہیں کیا تھا۔
اس   کامقصد اور امکان  یہ ہے ک
ہ وہ ازخود اسے یاداشت میں محفوظ کر کے نصیحت لیتے رہیں ۔

Root: ط و ر

وَ لَوْلَآ أَن تُصِيبَـهُـم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيـهِـمْ فَيَقُولُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِـعَ ءَايَٟتِكَ وَ نَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ٤٧

  • Understand the reality of their stubborn and negative behaviour: had a life-threatening calamity seized them as a consequence of their deeds their hands hand committed—Then they would have argued/raised a point [of sustainable objection], "Our Sustainer Lord! why did not You send towards us a Messenger —Thereby accepting his word sincerely we would have practically followed in letter and spirit Your Aa'ya'at and we would have been amongst the true believers?" [28:47]

ان کے اس  ہٹ دھرمی پر مبنی منفی طرز عمل کی حقیقت جان لو؛اگر ایک جان لیوا مصیبت نے انہیں دبوچ لیا ہوتا ان اقدامات کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے سر انجام دئیے تھے۔تو یقیناً انہوں نے کہنا تھا"اے ہمارے رب! آپ نے کیوں ہماری جانب رسول نہیں بھیجا۔تو ہم ان کی بات پر لبیک کہتے ہوئے آپ جناب کے کتاب میں درج فرمودات کی من و عن عملی پیروی کرتے اور ہم صدق قلب سے ایمان لانے والوں میں شمار ہو جاتے"۔

فَلَمَّا جَآءَهُـمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ لَوْلَآ أُوتِـىَ مِثْلَ مَآ أُوتِـىَ مُوسَـىٰٓۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أُوتِـىَ مُوسَـىٰ مِن قَبْلُۖ قَالُوا۟ سِحْرَانِ تَظَٟهَرَا وَ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِكُلٍّۢ كَٟفِرُونَ٤٨

  • Thereby, when the Infallible Doctrine-Discourse (Qur’ān) reached to them through the Messenger in easy to comprehend composition from Our Majesty —They (ruling elite) said to people: "Why has he (the Messenger) not been given unprecedented displays (miracles) like that which were given to Mūsā [alai'his'slaam] ?" Have they not denied those unprecedented displays (miracles) which were given foretimes to Mūsā [alai'his'slaam]? They (ruling elite of Polytheists) said to people: "These are two magical illusions that supported each other to create illusory affect"; and further said: "Indeed we have rejected to believe either" [28:48]

ان کی جانب سے یہ جواز اور حجت کے امکان کو ختم کرنے لئے جوں ہی بیان حقیقت(قرءان مجید)ہم جناب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں انہیں پہنچ گیا۔۔تو انہوں (عمائدین  مشرکین و یہود)نے اعتراض اٹھاتے ہوئے لوگوں سے پوچھا"کیا وجہ ہے کہ انہیں(محمّد ﷺ)اس کے مثل نہیں دیا گیا جو موسیٰ(علیہ السلام)کو عینی مشاہدہ کے لئے ایسی شہادتیں دی گئی تھیں جو تصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک ہوں۔(ان کے تضاد کو دیکھو)کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان  عینی مشاہدہ کے لئے زمانہ قبل میں موسیٰ(علیہ السلام)کو عنایت کردہ شادتوں کا انہوں نے انکار کر دیا تھا جو تصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک تھیں۔انہوں(عمائدین مشرکین)نے مزید کہا"یہ دونوں تو طلسماتی شعبدے ہیں جو ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں:۔اور لوگوں سے کہا"ہم ہر ایک کا مکمل انکار کرتے ہیں"۔

Root: س ح ر

قُلْ فَأْتُوا۟ بِكِتَٟبٍۢ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْـهُمَآ أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ٤٩

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask them: "Thereby, to substantiate your assertion, you people come to me with a book received from Allah the Exalted —That which is a better guide than those two (Torat and Qur’ān) —I will make myself literally follow that —Do it if you people were truthful in your assertions to people" [28:49]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:"آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ کتاب کو لے کر میرے پاس آئیں۔وہ جو ان دو کے مقابل بہتر انداز میں رہنمائی کرنے والے متن پر مشتمل ہے۔میں اس کتاب کا  خلوص سےپیروکار بن جاؤں گا۔ایسا کرو اگر آپ لوگ اپنے دعووں میں سچے ہو"۔

فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكَ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَآءَهُـمْۚ
وَ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيْـرِ هُدًۭى مِّنَ ٱللَّهِۚ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٟلِمِيـنَ ٥٠

  • Thereby, should they purposely decide not to respond to you: thereat, conclusively know it that they uninterruptedly follow only their desires, conjectures and fascinations.
    And who is more astray than he who followed his selfish lusts and myths on the ground other than the Guidance-Book received from Allah the Exalted?
    Indeed, Allah the Exalted does not guide, against their will-considered decision, those who are mischievous-distorters-Substituter of facts with conjectures-myths-concocted stories. [28:50]

اس مطالبہ کا جواب دینے کے لئے اگر وہ خواہش کا اظہار نہیں کرتے تو آپ پر حتمی انداز میں ظاہر ہو جائے گا کہ وہ دانستہ اپنی خواہشات اور تخیل کے گمانوں پر عمل پیرا ہیں ۔
اور اس شخص سے زیادہ گم کردہ راہ کون ہو سکتا ہے جس نے محض اپنی خواہش و ہوس پر دانستہ کاربند کیا جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عنایت کردہ ہدایت کے منافی ہے۔
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں ہدایت نہیں دیتے۔

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُـمُ ٱلْقَوْلَ لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ ٥١

  • Notice; Our Majesty have certainly compiled the Verbal Discourse (Qur’ān) interwoven - a unified whole to facilitate for them (Mankind) reading and comprehending in coherence and continuity—Objective (of interweaving the Discourse) is that they might self perceive and retain it in memory, take lesson and relate. [28:51]

اس حقیقت کو جان لو؛ہم جناب نے بیان حقیقت(قرءان مجید)کو    ربط و تسلسل سے ان کےسہولت ِ مطالعہ کے لئے باہم مربوط ،ہم آنگیختہ مدون کیا ہے۔اس مربوط تدوین کا مقصداور امکان یہ ہے کہ لوگوں کو اسے از خود پڑھنے، سمجھنے ، فہم و ادراک  میں محفوظ کرنے میں سہولت رہے۔نصیحت اور رہنمائی لے سکیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کر سکیں۔

Root: و ص ل        

تحلیل نحوی و صرفی؛تشریح

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ مِن قَبْلِهِۦ هُـم بِهِۦ يُؤْمِنُونَ ٥٢

  • They, whom Our Majesty had given specific Book (In'jeel) before it (Qur’ān), believe in it. [28:52]

وہ لوگ جنہیں اس(قرءان مجید)سے قبل کے زمان میں اپنے کلام پر مشتمل منفرد کتاب (انجیل)کو عنایت فرمایا تھا وہ ہیں جو اس (قرءان مجید)پر دل کی شاد سے ایمان لاتے ہیں۔

وَإِذَا يُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِۦ مُسْلِمِيـنَ ٥٣

  • Take note, when it (Qur’ān) was recited to them word by word, they said: "We have believed in it, certainly it is Infallible Doctrine-Discourse revealed by our Sustainer Lord in easy to understand segmentation, coherence —The fact is that we have been Muslims: the followers of prescribed Code and Procedure-Islam in times before it (revelation of Grand Qur’ān)." [28:53]

اور جب اس (قرءان مجید)کو انہیں لفظ بلفظ سنایا گیا تو انہوں نے کہا"ہم اس(قرءان مجید)پر صدق قلب سے ایمان لے آئے ہیں۔یقیناً یہ ہمارے رب کی جانب سے آسان فہم   فصل اورمربوط تدوین میں بیان حقیقت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اس (قرءان مجید)کے ہم تک پہنچنے سے قبل بھی دین اسلام پر کاربند تھے"۔

أُو۟لَٟٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُـم مَّرَّتَيْـنِ بِمَا صَبَـرُوا۟
وَ يَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ
وَ مِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنفِقُونَ٥٤

  • They are the people who will be paid their reward twice for the reason that they remained steadfast exercising coolly perseverance.
    And they repel/avert evil/misconduct with good and mannered conduct
    —
    Further, they heartily spend some of the worldly resources for other's welfare out of that which Our Majesty have given them as sustenance [only for seeking approval and attention of Allah the Exalted] — [28:54]

یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے دین اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے میثاق کی تحمل و برداشت اور استقامت سے پابندی کرنے کے سبب ان کا ایوارڈ دو بار ہے۔
اور یہ لوگ زمان و مکان میں متعین اور معلوم قبیح طرز عمل کو متوازن احسن طرز عمل پر کاربند رہتے ہوئے رد اور عیاں کرتے رہتے ہیں۔
اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/مال و دولت میں سے  دوسروں کی فلاح و بہوبود پرخرچ کرتے رہتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]

Root: م ر ر; د رء

وَ إِذَا سَـمِعُوا۟ ٱللَّغْوَ أَعْـرَضُوا۟ عَنْهُ وَ قَالُوا۟ لَنَآ أَعْمَٟلُنَا وَ لَـكُـمْ أَعْمَٟلُـكُـمْ سَلَٟمٌ عَلَيْكُـمْ لَا نَبْتَـغِى ٱلْجَٟهِلِيـنَ٥٥

  • And when they heard conjecture-myth-frivolous statement narrated to them by people, they avoided debating it. And they said to them:  "Our deeds will cause effect for us; and the deeds of you people will yield result for you. We wish that presently a state of safety, security and tranquillity is caused to veil upon you —We do not seek, and wish not to make ourselves shallow emotionalists-traditionalists-conjecturers." [28:55]

اور جب انہوں نے لوگوں سے کسی بے سروپا،مفہوم سے عاری،ناقابل تصدیق باربار دہرائی جانے والی بات کو سنا۔انہوں نے اس لغو بات سے اعراض برتا۔اور انہوں نے لغویات پھیلانے والوں کو جواب دیا"ہمارے اعمال کی جزا و سزا ہمارے لئے متعین ہے۔اور تمہارے اعمال کی جزو و سزا تمہارے لئے متعین ہے۔ہماری خواہش ہے کہ سلامتی اور عافیت کا کوئی سبب آپ پر بن جائے۔ہم منفرد قسم کے جذبات پرست اور جذباتی موشگافیوں میں مبتلا لوگوں کی جستجو میں نہیں ہیں"۔

إِنَّكَ لَا تَـهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَـهْدِى مَن يَشَآءُۚ
وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ ٥٦

  • In light of the fact that humans possess free will, you (ﷺ) cannot guide someone to the path of righteousness merely because you love them. Rather, Allah grants guidance to those who desire it and seek it sincerely. (This clarification is intended to alleviate your sorrow. Read with 42:52)—
    And He the Exalted absolutely knows them who persistently and consciously guide their Selves aright. [28:56]

اس حقیقت کے پیش نظر کہ انسان صاحب حریت ہے آپ (ﷺ)اس شخص کومحض اس بنا پر راہ ہدایت پر نہیں ڈال سکتے کہ اس سے آپ کو محبت ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ بھی اس شخص کو ہدایت سے بہرہ مند فرماتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہے۔(اس وضاحت پر اپنا غم کم کریں)
اور وہ  جناب  ان کو بخوبی جانتے ہیں جو خلوص سے راہ ہدایت پر  اپنے آپ کوگامزن رکھتے                             ہیں۔


وَ قَالُوٓا۟ إِن نَّتَّبِعِ ٱلْـهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآۚ
أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّـهُـمْ حَرَمًا ءَامِنًۭا يُجْبَىٰٓ إِلَيْهِ ثَمَرَٟتُ كُلِّ شَـىْءٍۢ رِّزْقًۭا مِّن لَّدُنَّا
وَ لَٟكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ٥٧

  • And they the elite of Mecca in private meeting said, "If we deliberately embrace and publicly follow the Guidance [Qur’ān]  together with you  [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]  we shall become exposed to being suddenly picked off, deprived of influence, and reduced from our position of power within our own homeland."
    [why such apprehensions] Did Our Majesty not establish for them Sanctified House ensuring peace and tranquillity; Fruits and benefits of all sorts are brought to it from Our Grace.
    But the fact is most of them do not intend to understand. [28:57]

اور  مکہ مکرمہ کےعمائدین ثروت و حیثیت نے ملاقات میں کہا"اگر ہم آپ(ﷺ)کے ساتھ مل کر "ٱلْـهُدَىٰ"(قرءان مجید)کو شعوری طور پر اختیار کر لیں اور علانیہ اس کی پیروی شروع کر دیں،تو  اس کا انجام یہ ہے کہ ہم اپنے ہی وطن میں اچانک اپنی قوت و اقتدار، سماجی اثر و رسوخ اور ممتاز حیثیت سے محروم کر دیے جائیں گے، اور ہماری سیاسی و معاشرتی برتری کا خاتمہ ہو جائے گا"۔
کیا انہیں یاد نہیں کہ ہم جناب نے ان کے لئے ایک محفوظ،امن و آمان کےحامل حرم(کعبہ معظمہ)کولوگوں کے اجتماع کے لئے مقرر کیا تھا۔ہر ایک ایک شئے کے ثمرات اس کی جانب پہنچتے رہتے ہیں؛ہم جناب کی جانب سے بطور رزق؟

مگر ان کی اکثریت  معلومات اور علم حاصل کرنے پر مائل ہی نہیں۔(القصص۔
٥٧)

Root: ل د ن; م ك ن

وَ كَمْ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِيشَتَـهَاۖ
فَتِلْكَ مَسَٟكِنُـهُـمْ لَمْ تُسْكَن مِّنۢ بَعْدِهِـمْ إِلَّا قَلِيلًۭاۖ
وَ كُنَّا نَحْنُ ٱلْوَٟرِثِيـنَ٥٨

  • And Our Majesty have annihilated many a civilizations. Her characteristic feature was that she had flourished-exulted her economy to the extent of becoming insolently boastful.
    Thereby, there are their abodes which were not inhabited after them except shortly
    —
    And Our Majesty have been the owner of demesnes. [28:58]

اور کیا ان  (عمائدین)کو ان بستیوں کی تعداد کا کچھ اندازہ ہے جنہیں ہم جناب نے نیست و نابود کر دیا تھا جنہیں اپنی معشیت کی طاقت و عروج پر ناز اور گھمنڈ تھا۔
چونکہ ان کی ہلاکت اچانک اور تباہ کن تھی اس لئے یہ ان کے مساکن ہے جن میں ان کے بعد سکونت اختیار نہیں کی گئی سوائے مختصر وقت کے لئے۔
اور ہم جناب ہیں جوذاتی ملکیتوں کے وارث ہیں۔

Root: و ر ث

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِـىٓ أُمِّـهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِنَاۚ
وَ مَا كُنَّا مُهْلِـكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَ أَهْلُـهَا ظَٟلِمُونَ٥٩

  • (Their annihilation was not sudden and arbitrary) Know it, O you the Universal Messenger, your Sustainer Lord was never such to suddenly annihilate communities until He had raised a Messenger in her main city. He kept reciting upon them Our reality-signifying revealed passages in faithful sequence.
    And Our Majesty were not the annihilator of any habitat except and only when her inhabitants persistently remained the distorters and evil mongers. [28:59]

(ان بستیوں کی ہلاکت ناگہانی یا بلاجواز نہ تھی)آپ مطلع رہیں کہ آپ(ﷺ)کے رب نے کبھی یہ مناسب نہیں سمجھا کہ تہذیبوں کواچانک نیست و نابود کرنے والے بن جائیں  جب تک اس کے مرکزی شہر میں  ایک رسول کو مبعوث فرما دیں ۔وہ  حقیقت  کی جانب رہنمائی کرنے والی ہماری  مراسلات کو مِن و عن  انہیں  سناتے رہتے تھے۔
اور نہ ہم جناب کسی مخصوص بستی کو نیست و نابود کرنے والے تھے  سوائے اس وقت جب اتمام حجت اور مہلت کے اختتام تک اس کے رہنے والے بدستور حقیقت کے منافی باطل روش پر تھے۔(القصص۔
٥٩)
 

وَ مَآ أُوتِيتُـم مِّن شَـىْءٍۢ فَمَتَٟعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَ زِينَتُـهَاۚ
وَ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْـرٌۭ وَ أَبْقَىٰٓۚ
أَفَلَا تَعْقِلُونَ٦٠

  • You people try to realize that whatever worldly wherewithal is granted to you is sustenance of the worldly life and her superficial adornment and attraction —
    But that which is promised and is in stock by the grace of Allah the Exalted in hereafter, it is far better and ever lasting (Cf. 42:36)—
    Will you not, then, use your intellect to calculate the true value of your investments? (Cf. 2:44; 2:76; 3:65; 6:32; 7:169; 10:16; 11:51; 12:109; 21:10; 21:67; 23:80; 28:60; 37:138=13) [28:60]

اے لوگو اس بات کا ادراک کرو کہ مادی اشیاء میں سے جو کچھ تم لوگوں کو عنایت کیا گیا وہ حیات دنیا کے لئے زیست اور اس (حیات)کی زیبائش و کشش ہے۔
مگر جو اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے تم لوگوں کے لئے وہ بہترین بھی ہے اوربرقرار رہنے والا ہے۔
کیا اس قدر واضح بات کا ادراک نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تم عقل/موازنہ کرنے کی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لاتے؟

Root: ب ق ى; ع ق ل

أَفَمَن وَعَدْنَٟهُ وَعْدًا حَسَنًۭا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَٟهُ مَتَٟعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُـمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ٦١

  • Do you in comparative analysis then think a person whom Our Majesty has given a promise of best import, thereby, he will see it fulfilled [Allah's promise is always fulfilled]—Like the one whom Our Majesty have given the worldly temporary wherewithal; afterwards on the Day of Rising he is amongst the arraigned? [28:61] [Read with 30:16;34:38]

سوچو اس معیار سے کہ کیا وہ شخص جس سے ہم جناب نے بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اس وعدہ کو وفا ہوتے دیکھے گا۔کیا اس شخص کی مانند ہے جسے ہم جناب نے نوازا ہے حیات دنیا کا سامان زیست وافر مقدار میں، بعد ازاں یوم قیامت مجرموں میں شامل ہو؟

Root: ح ض ر


وَيَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُـمْ تَزْعُمُونَ ٦٢

  • Know about the Day He the Exalted will call them; thereat, He will question, "Where are My those partners whom you thought and publicly pronounced as partners?" [28:62](read with 18:22)

اورجب اس دن  وہ جناب  ان  مشرکین سے ارشاد فرمائیں  گے"میرے  ان  شرکاء  کو پکار کر اپنی جانب متوجہ کرو جن کے متعلق تم اس زَعم باطل  کا اظہار کرتے تھے کہ تمہارے  لئے شفاعت کریں گے؟"۔

Root: ز ع م

قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْـهِـمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَٟٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَٟهُـمْ كَمَا غَوَيْنَاۖ تَبَـرَّأْنَآ إِلَيْكَۖ مَا كَانُـوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ٦٣

  • They the elite, upon whom the Promised Word had become incumbent, said: "O our Sustainer Lord! these are the people whom we divagated, yes we divagated them as we divagated ourselves. We have absolved ourselves before You the Exalted of their digression—They were not exclusively allegiant to us [they had their own interest and motive]." [28:63]

ان لوگوں /عمائدین نے جن پرانہیں دیا گیا قول حقیقت بن کر آشکارہ ہو گیا تھا کہا:"اے ہمارے رب!یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہاں، ہم نے انہیں اسی طرح گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے۔ہم آپ کے حضور ان کی گمراہی سے بری الذمہ ہیں۔یہ ہمارے ساتھ خاص وفادار نہیں تھے [بلکہ ان کے اپنے مفادات اور مقاصد تھے]۔

Root: غ و ى

وَ قِيلَ ٱدْعُوا۟ شُـرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُـمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَـهُـمْ وَ رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَۚ لَوْ أَنَّـهُـمْ كَانُوا۟ يَـهْتَدُونَ٦٤

  • And it was said, "You people call your partners those which you people proclaimed —In compliance thereof they called them but they did not respond for them (same in 18:52)—And it was when they had seen the eminent punishment —They aspired this could have been averted, had they been guiding themselves aright. [28:64]

اور ان مشرکین کے لئے کہا گیا"اپنے شرکاء کو پکارو "۔چونکہ حکم دیا گیا تھا اس لئے تعمیل حکم میں ان کو پکارا۔تو انہوں نے ان کے لئے کوئی جواب نہیں دیا۔اور انہوں نے عذاب کو دیکھ لیا:تو کہا کہ اے کاش انہوں نے اپنے آپ کو راہ راست پر ڈالا ہوتا۔

وَ يَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبْتُـمُ ٱلْمُرْسَلِيـنَ٦٥

  • Know about the Day He the Exalted will call them; whereupon on gathering He will question: "What was the argument you people responded to the Messengers?" [28:65]

جان لو اس دن کے بارے میں جب وہ جناب (اللہ تعالیٰ) انہیں پکاریں گے، اور مجمع میں ان سے سوال کریں گے:"تم نے اپنی جانب بھیجے گئےرسولوں کے پیغام کا کیا جواب دیا تھا؟"

فَعَمِيَتْ عَلَيْـهِـمُ ٱلْأَنۢبَآءُ يَوْمَئِذٍۢ فَهُـمْ لَا يَتَسَآءَلُونَ٦٦

  • Thereat, the information/news became blank for them that day when resurrection would have happened—Thereby, they will not inquire from one another. [to answer the question]. [28:66]

تو اس دن، جب قیامت برپا ہو چکی ہو گی، ان کے پاس کوئی خبر باقی نہیں رہے گی—چنانچہ وہ آپس میں کوئی سوال و جواب نہیں کریں گے اس سوال کا جواب دینے کے لیے۔

Root: ع م ى

فَأَمَّا مَن تَابَ وَ ءَامَنَ وَ عَمِلَ صَٟلِحًۭا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلْمُفْلِحِيـنَ٦٧

  • [knowing like the watching of happenings of the Day of Judgment] Therefore, as for he who recognized / repented his earlier conduct and heartily believed in the universal Messenger and conducted perfectly —Then, the possibility of his soon becoming one of those who endeavour for perpetual success/fruitfulness. [28:67]

[یومِ قیامت کے واقعات کو دیکھنے کے علم کی طرح جان لو] چنانچہ، جو کوئی اپنے پہلے اعمال کو پہچان لے/ان پر ندامت کرے اور دل سے آفاقی رسول پر ایمان لائے اور بہترین عمل کرے —تو عنقریب اس کے ان لوگوں میں شامل ہونے کا امکان ہے جو دائمی کامیابی/ثمر آوری کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

Root: ع س ى;  ف ل ح


وَ رَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَ يَخْتَارُۗ
مَا كَانَ لَـهُـمُ ٱلْخِيَـرَةُۚ
سُبْحَٟنَ ٱللَّهِ وَ تَعَٟلَـىٰ عَمَّا يُشْـرِكُونَ٦٨

  • Note the difference,  the Sustainer Lord of you the Messenger creates whatever He desires/willed and whatever He purposely prefers—
    The fact remains that the ability to prefer one thing over another has never existed for them—referring to the sculpted idols they ascribe as partners to Allah, a capability that is inherently an attribute of sentient beings—which could bring any benefit to their polytheistic worshippers.
    Allah the Exalted is Infinitely Glorious and the focus of all effort
    —And He is Exalted above all what they conjecturally group-associate with Him.[28:68]

لوگ ادراک کریں ؛ آپ (ﷺ)کے رب  تخلیق کرتے رہتے ہیں  جو اور جیسا وہ چاہتے ہیں  اور جو وہ زیر مقصدبہترین گردانتے ہیں۔
 کسی چیز کو دیگر پر ترجیح دینے کا اختیار کبھی ان کے پاس نہیں ہوا ،یعنی وہ تراشے ہوئے بت جنہیں وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، جو کہ صرف ایک باشعور ہستی کی خاصیت ہے،جو ان کی پرستش کرنے والوں کے مفاد میں ہو۔
خبردار؛ اللہ تعالیٰ تمام  عظمت وکبریائی  اور  تمام جد و جہد کا محور ہیں۔اور وہ  جناب مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام سے  جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔

Thesis statement of Qur'an   Root: ع ل و

وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُونَ٦٩

  • [you need not feel grieved over their attitude since] the Sustainer Lord of you the Messenger fully knows what their hearts hide [hold/conceal] and what they propagate. [28:69]

لوگ اس بات کا ادراک کریں اور آپ ان کی ریشہ دوانیوں سے پریشان نہ ہوں ؛آپ(ﷺ)کے رب ہر اس بات کو مطلق انداز میں بخوبی جانتے جو ان کے سینے چھپائے رکھتے ہیں اور وہ بھی جس کا  برملا اظہار کرتے ہیں۔

Root: ع ل ن

وَ هُوَ ٱللَّهُ
لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَۖ
لَهُ ٱلْحَمْدُ فِـى ٱلْأُولَـىٰ وَ ٱلْءَاخِرَةِۖ
وَ لَهُ ٱلْحُكْـمُ
وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٧٠

  • And He is Allah the Exalted;
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Alone Sustainer Lord.
    The Infinite Glory and Praise was eternally declared as prerogative exclusive for Him the Exalted in the earliest abstract realm and so will be in the End-Hereafter.
    And the decision/commanding the matters is the exclusive prerogative for Him the Exalted —
    And you people will be presented before Him the Exalted [on day of Resurrection] for accountability. [28:70]

سب کچھ جاننے والے آپ(ﷺ)کے رب اللہ تعالیٰ ہیں۔
ان کےمتعلق یہ  بدیہی حقیقت  ہے—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔
عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے ابتدائے آفرینش کے جہاں میں ان جناب کے  لئے مختص اور استحقاق قرار دے دیا گیا تھا اور ایسا ہی جہان آخرت میں ہے ۔
اور فرمان جاری کرنے اور حاکمیت اعلیٰ کا استحقاق ان جناب کے لئے مطلق ہے۔
متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر)ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔


قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمُ ٱلَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ مَنْ إِلَٟهٌ غَيْـرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُـم بِضِيَآءٍۖ
أَفَلَا تَسْمَعُونَ٧١

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] say, "Have you people thought/considered the possibility that If Allah the Exalted were to make over you the Night perpetual to the Day of Rising—Which iela'aha is there other than Allah the Exalted who could bring to you heat and visible light [electromagnetic radiation] —
    [having told this possibility] Would then you people not listen?" [28:71]

آپ(ﷺ) فرمائیں، "کیا تم لوگوں  نے غور کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت تک کے لیے رات کو ہمیشہ کے لیے مسلط کر دیں ؛ تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے حرارت اور نظر آنے والی روشنی (الیکٹرو میگنیٹک شعاعیں) لا سکے؟
[یہ امکان بیان کرنے کے بعد]تو کیا پھر تم لوگ غور سے سنو گے نہیں؟"

Root: ض و ء

قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمُ ٱلنَّـهَارَ سَرْمَدًا إِلَـىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٟمَةِ مَنْ إِلَٟهٌ غَيْـرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُـم بِلَيْلٍۢ تَسْكُنُونَ فِيهِۖ
أَفَلَا تُبْصِـرُونَ٧٢

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] say, "Have you people thought/considered that If Allah the Exalted were to render the Day as perpetual over you to the Day of Rising—Which iela'aha: godhead is there, other than Allah the Exalted, who could bring you the Night in which you could take rest —
    [Consider this and] Will you still not observe the reality?" [and remain plunged in darkness] [28:72]

آپ(ﷺ)فرمائیں، "کیا تم لوگوں  نے اس امکان پرغور کیاکہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت تک کے لیے دن کو ہمیشہ کے لیے مسلط کر دیں: تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات لا سکے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟
 [اس پر غور کرو اور] کیا پھر بھی تم حقیقت کو نہیں دیکھو گے؟"

وَ مِن رَّحْـمَتِهِۦ جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلَّيْلَ وَ ٱلنَّـهَارَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ
وَ لَعَلَّـكُـمْ تَشْكُرُونَ٧٣

  • Realize that it is one of the manifestation of the Mercy of Him the Exalted that He rendered the operative system of the Universe as the time-span for you people as the Night and the Day  —Keeping in view your body limitations you people may have rest/stillness during it/Night and so that you people may engage in the pursuit of sustenance/livelihood from His Bounty during bright day—
    And so that you people may express gratitude. [28:73]

سمجھو کہ یہ ان جناب کی رحمت کی واضح علامتوں میں سے  ہے   کہ انہوں نے نظام کائنات  کو تمہارے لیے رات اور دن کے اوقات میں ترتیب دیا —پیش نظر یہ تھا کہ تم  لوگ رات میں سکون اور آرام حاصل کرو اور دن میں ان کے فضل سے روزی کی جستجو کرو—
اور تاکہ تم شکرگزاری کا اظہار کر سکو۔

وَيَوْمَ يُنَادِيـهِـمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُـمْ تَزْعُمُونَ ٧٤

  • Know about the Day He the Exalted will call them; thereat, He will question, "Where are My those partners whom you thought and publicly pronounced as partners?" [28:74]

اورجب اس دن  وہ جناب  ان مجرمین سے ارشاد فرمائیں  گے"میرے  ان  شرکاء  کو پکار کر اپنی جانب متوجہ کرو جن کے متعلق تم اس زَعم باطل  کا اظہار کرتے تھے کہ تمہارے  لئے شفاعت کریں گے؟"

Root: ز ع م

وَ نَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا فَقُلْنَا هَاتُوا۟ بُرْهَٟنَكُـمْ فَعَلِمُوٓا۟ أَنَّ ٱلْحَقَّ لِلَّهِ وَ ضَلَّ عَنْـهُـم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَـرُونَ٧٥

  • And Our Majesty selected a witness from every community whereupon in his presence We asked them, "You people (polytheists) put forward your evidence for what you used to say and practiced." Thereby, they realized that the truthfully due allegiance - subservience was the right exclusively for Allah the Exalted —And what they (polytheists) used to artfully fabricate vanished from them. [28:75]

اور ہم نے ہر امت /نسل میں سے ایک گواہ کا انتخاب  کیا، پھر اس کی موجودگی میں ہم نے ان سے پوچھا: "تم لوگ (مشرکین) اپنی  ٹھوس دلیل پیش کرو جو تم کہا کرتے تھے اور عمل کرتے تھے۔"چنانچہ، انہیں ادراک ہوا کہ حق بات اور واجب اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی تھی،اور  ان کے دل و دماغ سے  وہ غائب ہو گیا جو  زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر وہ اختراع کرتے رہتے تھے۔۔

Root: ھ ى ت; ن ز ع; ف ر ى


إِنَّ قَٟرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَـىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْـهِـمْۖ
وَ ءَاتَيْنَٟهُ مِنَ ٱلْـكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِـى ٱلْقُوَّةِ
إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْۖ  إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِيـنَ ٧٦

  • It is a fact Qa'roon was of lineage of the nation of Mūsā [alai'his'slaam]. He purposely demonstrated insolence for them.
    And Our Majesty had given him treasures to such great extent that the holding of their keys was certainly burdensome for men of strength.
    In that state when people of his nation said to him, "You should not rejoice boisterously. Surely, Allah the Exalted does not appreciate and approve those who are exulted boisterous boaster. [28:76]

یہ حقیقت ہے کہ قارون نسب کے حوالے سے  موسیٰ( علیہ السلام )کی قوم  کا فرد تھا۔ اس نے جان بوجھ کر ان کے ساتھ  عامیانہ  رویہ رکھا۔
 اور ہم جناب نے اسے اتنے بڑے خزانے دیے تھے کہ ان کے چابیاں اٹھانا بھی طاقتور لوگوں کے لیے مشکل تھا۔
اس حالت میں جب اس کی قوم کے لوگوں نے اسے کہا، "تمہیں اس طرح خوشی سے تمتمانا نہیں  چاہیے۔  یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو  خوشی کا اظہار بھی مغرور انداز میں کرتے ہیں"۔

Root: ع ص ب;  ف ت ح; ك ن ز; ف ر ح

وَ ٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْءَاخِرَةَۖ
وَ لَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَاۖ
وَ أَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَۖ
وَ لَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِـى ٱلْأَرْضِۖ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ٧٧

  • And diligently seek the abode of the Hereafter with that which Allah the Exalted has granted you —
    Though you should not forget your share of enjoyment in the life of this lowly world.
    And you do good to others like that Allah the Exalted has done good to you
    —
    And you should not seek and pursue imbalances and distortions in the Land —
    Since it is certain that Allah the Exalted does not approve-appreciate those who are distorter-creators of  imbalances-spread wicked unsound ideas". [28:77]

اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کودیا ہے، اس  کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پانے کے جذبہ سے مستحق لوگوں  کی فلاح  کے لئے خرچ کر کے آخرت کے گھر کی جستجو کریں ،
مگر دنیا کے اس فانی زندگی  کی خوشگواریوں میں اپنا حصہ بھی نہ بھولیں۔
 اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کریں  جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے  ساتھ ا حسن سلوک کیا ہے۔
 اورآپ کو چاہیے کہ سرزمین میں فساد پھیلانے کا خیال نہ کریں ،
کیونکہ یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو  تحسین اور قربت کے لئےپسند نہیں فرماتے جو ملک میں حقیقت کے منافی باطل نظریات کا پرچار کرتے اور عدم توازن پیدا کرتے ہیں۔

Root: ن س ى

قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَـىٰ عِلْمٍ عِندِىٓۚ
أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِۦ مِنَ ٱلْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةًۭ وَ أَكْثَرُ جَـمْعًۭاۚ
وَ لَا يُسْـَٔلُ عَن ذُنُوبِـهِـمُ ٱلْمُجْرِمُونَ٧٨

  • He (Qa'roon) repudiated saying, "I have been given all that only because of the knowledge I have".
    Did he not know that Allah the Exalted has annihilated rich people of civilizations before him
    —Who were more strong in power than him and were abundant in accumulated wealth?
    And the Criminals are not asked about their slanders and sins. [28:78]

اُس (قارون) نے انکار کرتے ہوئے کہا، "مجھے یہ سب کچھ صرف اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔"کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کی قوموں کے دولت مندوں کو ہلاک کر دیا تھا— جو طاقت میں اس سے زیادہ مضبوط اورجمع کردہ  مال و دولت میں کہیں زیادہ تھے؟
 اور مجرموں سے ان کے گناہوں اور بہتانوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا۔

Root: ذ ن ب; ق ر ن

فَخَرَجَ عَلَـىٰ قَوْمِهِۦ فِـى زِينَتِهِۦۖ
قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا يَٟلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ أُوتِـىَ قَٟرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيـمٍۢ٧٩

  • Thereat, he made his appearance before his nation flauntingly [ostentatious display] —
    Those who were desirous of worldly life said: "Oh! would that be for us like that which is given to Qa'roon. Truly, he is certainly a holder of a great fortune." [28:79]

اپنے استدلال کو ثابت کرنے کے زعم میں پھر  زیبائشوں اور مغلوب کر دینے والے طمطراق  میں ملبوس  اپنی قوم  کے سامنے نکل کر آیا —
جو لوگ دنیاوی زندگی کے خواہشمند تھے، انہوں نے کہا:"کاش! ہمیں بھی ویسا ہی کچھ ملتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے۔ بے شک وہ تو بہت بڑی قسمت اور دولت کا مالک ہے۔"

وَ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَـكُـمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْـرٌۭ لِّمَنْ ءَامَنَ وَ عَمِلَ صَٟلِحًۭا
وَ لَا يُلَقَّىٰـهَآ إِلَّا ٱلصَّٟبِـرُونَ٨٠

  • And those whom concrete knowledge had been given that reveals the purpose of creation, warned them saying: "Woe to you —The recognition of achievement for award by Allah the Exalted is far better a blessing for the one who believed and acted perfectly.
    However, she (blessing) is not confronted except to those who are steadfast coolly perseverant".
    [28:80]

اور ان لوگوں نے،جنہیں حقیقی  علم سے بہرہ مند کیا گیا تھا جو مقصد شئے کو جاننا ہے، ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا: "افسوس تم پر! یقیناً اللہ تعالیٰ کا لوٹا کر دیا جانے والا اجر و ثواب  اس شخص کے لئے بہترین ہے جو صدق قلب سے ایمان لایا اور متوازن  مائل اصلاح عمل پر کاربند رہا۔
لیکن یہ  نصیب صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ناگفتہ بہ حالات کے باوجود اپنے نظریہ پر
ضبط و تحمل سے برداشت کرتے پائے اسقلال پر رہنے والے ہیں"۔

Root: و ى ل

فَخَسَفْنَا بِهِۦ وَ بِدَارِهِ ٱلْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٍۢ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَ مَا كَانَ مِنَ ٱلْمُنتَصِرِينَ٨١

  • Thereafter, Our Majesty cave-in the Earth along with him (Qa'roon) and along with his house. Thereupon, there were none at all a rescue team who could rescue him other than Allah the Exalted. And neither was he in position of those who could rescue on self-help basis. [28:81]

بسبب (اس کی علمیت کا پول کھولنے کے لئے)ہم جناب نے زمین کے اس حصے کو دھنسا دیا بمعہ اس(قارون)کے اور اس کے گھر کے۔اور پھر اس کی مدد کی چیخوں کے جواب میں کوئی ایسا گروہ موجودنہیں تھا جو اللہ تعالیٰ کے سوائے اس کی مدد کر سکتا اس کو اس تباہی سے بچانے کے لئے۔اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کرنے والوں کی طرح کچھ بھی کر سکتا۔

وَ أَصْبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوْا۟ مَكَانَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَ يَقْدِرُ
ۖ لَوْلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَاۖ
وَيْكَأَنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْـكَٟفِرُونَ٨٢

  • And those who had aspired for his place yesterday, were talking in the morning, saying—[what yesterday we aspired] "Strange! why we not remembered that of course Allah the Exalted expands the sustenance for a person about whom so decides. And restricts to measure for him about whom so decides.
    Had it not been that Allah the Exalted did favour upon us certainly He would have caved-in the Earth with us
    —
    Strange! why we did not see that the non-believers do not attain perpetual success". [28:82]

اور وہ لوگ جو کل تک قارون کی طرح دولت اور مقام کے خواہشمند تھے، صبح کے وقت کہنے لگے:"عجیب بے خیالی تھی  کہ ہمیں یاد نہ رہا کہ اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے بندوں میں سے  اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔
 اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل نہ کیا ہوتا تو یقیناً وہ زمین کو ہمارے ساتھ بھی دھنسا دیتے۔
حیرت ہے! کیوں ہم نے نہ دیکھا کہ کافر کبھی دائمی کامیابی حاصل نہیں کرتے"۔

Root: م ن ى; ب س ط; م ن ن;  ف ل ح

تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّۭا فِـى ٱلْأَرْضِ وَ لَا فَسَادًۭاۚ
وَ ٱلْعَٟقِبَةُ لِلْمُتَّقِيـنَ٨٣

  • That [perpetual success is] success is the House of the Hereafter, Our Majesty have declared it as reward for those who neither aspire and seek exaltedness in the Earth and nor imbalances/ disorder/spread wicked unsound ideas.
    Remain cognizant, the ultimate accomplishment is exclusively for those
    who sincerely endeavour to attain salvation. [28:83]

یہ [دائمی کامیابی] آخرت کا وہ گھر ہے جسے ہم نے ان لوگوں کے لیے مقرر کیا ہے جو نہ تو زمین میں برتری اور بڑائی کے خواہش مند ہوتے ہیں اور نہ فساد، بے ترتیبی، یا گمراہ کن نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔
اور جہاں تک آخرت کا اچھا انجام ہے،اس پر استحقاق صرف ان کا ہے جومحتاط اور تندہی سے غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار ہیں۔

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْـرٌۭ مِّنْـهَاۖ
وَ مَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ٨٤

  • Whoever came with moderate conduct, better than it is the award for him; [minimum reward is like ten similar acts]
    And whoever came with evil conduct —Thereby, for reason of dispensation of justice, requital - for those who performed bad/sinful deeds is nothing except similar/equivalent to that which they kept doing. [28:84]

جو کوئی اللہ تعالیٰ       کےحضور معتدل اور حسن سلوک کا مرتکب حالت  میں پیش       ہو گا تو چونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی قدردان نہیں اس لئے اس   کو اس سے بہت بہتر  انعام کا استحقاق اسے دیا جائے گا۔
اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور کسی مخصوص برائی سے لتھڑی حالت میں پیش ہو گا :تو چونکہ انصاف کے تقاضوں کو بدرجہ اتم ملحوظ رکھا جائے گا اس لئے سوائے اس جرم کے مساوی سزا نہیں دی جائے گی جو وہ حیات دنیا میں اعمال کرتے رہے تھے۔


إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَـىٰ مَعَادٍۢۚ
قُل رَّبِّـىٓ أَعْلَمُ مَن جَآءَ بِٱلْـهُدَىٰ وَ مَنْ هُوَ فِـى ضَلَٟلٍۢ مُّبِيـنٍۢٛ ٨٥

  • It is a fact; He the Exalted Who had earmarked-assigned-allocated the (time bound) responsibility of delivery of Qur’ān upon you —He the Exalted will surely (any moment) return/revive you the Messenger Mohammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] honourably to the Original Abode [مَقَاماً مَّحْمُوداً  17:79]
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "My Sustainer Lord best knows the one who has come along with Al-Huda-the Guide (Grand Qur’ān) —And knows fully the one who is wanderer in manifest forgetfulness". [28:85]

(آپ ﷺ اس حقیقت کوجان لیں)وہ جناب جنہوں نے قرءان مجید کومتعین وقت پر انسانیت کو پہچانے کا فرض آپ کے ذمہ لگایا تھا۔وہ جناب کسی بھی لمحے آپ کو اصل جائے قیام  (مَقَاماً مَّحْمُوداً ۱۷:۷۹)کی جانب لوٹا دیں گے۔
آپ(ﷺ)لوگوں کو بتا دیں’’میرے رب اس کے متعلق ہر لمحہ بخوبی جانتے ہیں جو ’’الھدیٰ‘‘[قرءان مجید۔نور۔الاعراف۔۱۵۷)کے ساتھ آیا تھا۔اور اسے بھی بخوبی جانتے ہیں جوانحراف،کج روی،،دانستہ غافل،اپنے آپ میں مگن ہے‘‘۔

Root: ع و د; ر د د

آقائے نامدار ﷺ کی مقام محمودا سے دنیا میں مبارک آمد  اور مشن کی تکمیل پر واپسی۔

وَ مَا كُنتَ تَرْجُوٓا۟ أَن يُلْقَىٰٓ إِلَيْكَ ٱلْـكِتَٟبُ إِلَّا رَحْـمَةًۭ مِّن رَّبِّكَۖ
فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيـرًۭا لِّلْـكَـٰفِرِينَ٨٦

  • Let it be on record that you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] were not in habit of hoping or pursuing in earlier life that the Book might be presented to you. However, presenting you the Book (Qur’ān) is but a gesture of grace and blessing earmarked for you by your Sustainer Lord,
    Therefore, you should henceforth not be the supporter-helper-advocate for those who refuse to accept the Book.
    [28:86]

اورآپ (ﷺ) تو اس جستجو /امیدمیں نہ تھے کہ آپ کے روبرو منفرد کتاب  (قرءان مجید)کو پیش کر کے عنایت کیا جائے گا۔مگر منفرد کتاب  (قرءان مجید)کو بنفس نفیس آپ (ﷺ)کو پیش کئے جانے   کی غایت آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے اظہار رحمت تھا۔(ازل سے بطور رحمت آپ کے لئے مختص کیا گیا تھا)
اب جبکہ ہر بات کو نکھار کر واضح کر دیا گیا اس لئے آپ(ﷺ)کوآئندہ ان لوگوں کے لئے معاون ومددگار نہیں بننا چاہئیے جنہوں نے آپ اور قرءان مجید پر ایمان لانے سے انکار کر دیا ہے۔

Root: ر ج و

وَ لَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَۖ
وَ ٱدْعُ إِلَـىٰ رَبِّكَۖ وَ لَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْـرِكِيـنَ٨٧

  • And let not the deniers divert you from the Aa'ya'at of Allah the Exalted after these have been communicated to you.
    And you invite people towards your Sustainer Lord
    —And advise, "henceforth you should not be with those who ascribe sculpted idols with fake feminine names as partners of Allah the Exalted." [28:87]

اورمحتاط رہیں  ان لوگوں کی خوشہ چینیوں سے تا کہ آپ اپنی توجہ کو  اللہ تعالیٰ کی آیات سے دور نہ ہونے دیں بعد اس کے کہ یہ آپ تک پہنچا دی گئی ہیں۔
 اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائیں۔ اور نصیحت کریں: "اب سے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، خاص طور پر وہ جو تراشے ہوئے بتوں کے لیے جعلی نسوانی نام استعمال کرتے ہیں۔/
اورآپ (ﷺ)آئندہ کسی ایسے شخص سے  دنیاوی تعلق اور نسبت نہ رکھیں جو فلسفہ اشتراک پر کاربند   لوگوں میں سے ہے۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَ
ۘ لَآ إِلَٟهَ إِلَّا هُوَۚ
كُلُّ شَـىْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُۥۚ
 لَهُ ٱلْحُكْـمُ
وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٨٨

  • Moreover, warn everyone that—"neither you should ever call/assign along with Allah the Exalted any other as iela'aha: godhead.
    Realize it about miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He the Exalted (Allah).
    Each and every created thing-matter and life is a self destroyer. His Person is the only exception Who is not self destroyer.
    The Decision/commanding the matters and affairs is the exclusive domain for Him the Exalted.
    Be mindful, you people will be presented [on Resurrection] before Him the Exalted for accountability." [28:88]

لیکن اسے  متنبہ کرتے ہوئےمنع کردیں"تجھے چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی معبود سمجھ کر نہ پکار۔
ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔
ہر ایک ایک شئے(مادہ اور ذی حیات)اپنے آپ کو کسی بھی لمحے فنا اور نیست و نابود کرنے والا ہے۔فنا اور نیست ہونے سے منزہ اُن ازخود سے صاحب حیات  جناب کی ہستی  کو دوام ہے۔
 فرمان جاری کرنے اور حاکمیت اعلیٰ کا استحقاق ان جناب کے لئے مطلق ہے۔
متنبہ رہو؛ تم لوگ (یوم قیامت اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ان کی جانب احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے"۔

Root: ش ى ء

 

029-سُوۡرَةُ العنكبوت

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Sura Recitation


الٓـمٓ ١

  • Alif: The First Letter of Arabic alphabet: it has no speech sound and is not conjoined with the succeeding consonants of a word or with the following word; it is said it means First-Reference-Manifest itself. Laa'm, means Service-For-Provide; and Mee'm: Place-Thing-Being.

  • Two consonants of Arabic alphabet conjoined/stitched together and both have above them ancillary glyph  -prolongation sign called "Madda" which means and extends - stretches the sound value of the consonant to which it is added. The prolongation mark [Madda] reflects that the following joined letter is still causing pause as consonant لـ‎ ends with still ﻡ‎ resulting in natural pause in its pronunciation "Laa'm". Likewise, the consonant ﻡ has the prolongation sign suggesting to pronounce it with stretched sound to make the last still letter ﻡ vivid in sound ending in natural pause "Mee'm-ميم ". Prolongation sign will also appear when the following consonant with vowel is delicate "Hamza, ء" which can distinctly and audibly pronounced only when the preceding letter is pronounced elongated. Arabic language equally cares for the convenience of the speaker and the listener. Please remember that the prolongation sign is not the equivalent to nor it represents a hamza followed by Alif. [29:1]

عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
[اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْـرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا

  • Have the people adjudged/made up their mind that they will be left merely because they say claiming, "We have accepted/believed in the Universal Messenger and Qur’ān."

کیا لوگوں نے یہ حساب لگا لیا ہے کہ انہیں  آزمائش  سےمتروک کر دیا جائے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں’’ہم  رسول کریم (ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لے آئے ہیں‘‘۔

وَهُـمْ لَا يُفْتَنُونَ ٢

  • And they will not be subjected to test? [in the manner precious metals are tested to determine their purity] [29:01] [Also see 2:214;3:142]

اور انہیں کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے مرحلے سے نہیں گزارا جائے  گاجیسے کھٹالی میں دھات کو کیا جاتا ہے۔

وَلَقَدْ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۖ

  • And certainly Our Majesty had subjected in the past to "liquefaction test" the people before them, (since laid down principles are not subject to alteration in time and space)

متنبہ رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ان لوگوں کو بھی کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے مرحلے سے گزارا تھا جو ان سے قبل کے ادوار میں ایمان لائے تھے۔

فَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْـكَـٟذِبِيـنَ ٣

  • Since Allah the Exalted is aware of even secrets of the chests, therefore, its purpose is to expose those who proved their oral word with their acts as true, and He the Exalted will certainly expose/prove those who are false/feign in their utterance/claim of having believed [before taking criminal cognizance against them] [29:03]

چونکہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے بھید بھی جانتے ہیں اس لئے اس امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی نگاہ میں اسے ظاہر کر دیں جس نے اپنے روئیے،روش اور عمل سے اپنے قول ِایمان کو سچ کر دکھایا ہے اور انہیں بھی جو جھوٹے منافقین ہیں۔

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسْبِقُونَاۚ

  • Or those people who perform deeds of evil import have adjudged/made up their mind that they will escape/run forward from Our Majesty.

یا کیا برائیوں پر عمل پیرا لوگوں  نے حساب لگایا ہے کہ ہم جناب کے دائرہ احتساب سے باہر نکل جائیں گے (کہ کہتے ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا)۔

Root: س ب ق

سَآءَ مَا يَحْكُـمُونَ ٤

  • Evil is that which they presumably understand and adjudge. [29:04]

کیا ہی برا ہے جو فیصلے لوگوں کو وہ دیتے ہیں۔

مَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ ٱللَّهِ

  • Should whoever expects to be held accountable before his Sustainer Lord —

جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور  اسے احتساب کے لئےپیش ہونا ہے۔

Root: ر ج و

فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَءَاتٛۚ

  • Thereby, he should become convinced that the Last Moment of Determined Duration by Allah will certainly come any moment (to hasten doing good deeds).

تو اسے چاہئے کہ اس پر یقین پختہ کر لے کہ اللہ تعالیٰ کا حیات دنیا کے لئے مقرر کردہ دورانیہ کا اختتامی لمحہ کس بھی وقت لازماً پہنچنے والا ہے (تاکہ اچھے اعمال میں جلدی کرے)۔

Root: ء ج ل

وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٥

  • Remain aware, He the Exalted is eternally the Listener, the All-Knowing. [29:05]

 ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ہیں۔

وَمَن جَٟهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٟهِدُ لِنَفْسِهِۦٓۚ

  • And whoever strived/exerted utmost in the cause of Allah [bodily and with wealth] then undoubtedly he strived only for his self —

اور  اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس کسی نے اپنے مال و جان سے جدوجہد کی تو چونکہ اس کے ثمر کو جانتا ہے اس لئے درحقیقت اپنی شخصیت کے لئے ہی جدوجہد کرتا ہے۔ 

إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٦

  • Since/truly Allah the Exalted is certainly Absolute Independent, the Exalted from the Worlds/all that exists. [29:06]

اللہ تعالیٰ کے بارے تو حقیقت یہ ہے کہ یقیناً تمام موجودات کی جانب سے کسی بھی حاجت سے منزا و ماوراء ہیں۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • And those who accepted/believed and did act righteously/moderately as directed —

 اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر) دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

لَنُكَفِّرَنَّ عَنْـهُـمْ سَيِّـَٔاتِـهِـمْ

  • It is certain that Our Majesty will delete/overlook/distance away from them their lapses/shortcomings —

ان  کے لئے خوش آئندخبر ہے کہ ہم  جناب  ان کی لغزشوں/گناہوں کو ان کے اعمال نامے سے  محو کر دیں  گے۔

وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ أَحْسَنَ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٧

  • And of course Our Majesty will pay them reward most appropriate for what they had been doing. [29:07]

اور یقیناًً ہم جناب یوم قیامت ہر اس عمل کے عوض کہیں زیادہ بہتر ثمر انہیں عنایت فرمائیں  گےجو وہ کرتے رہے تھے۔


وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٟنَ بِوَٟلِدَيْهِ حُسْنٙاۖ

  • Beware; Our Majesty have enjoined/decreed upon the human beings to conduct with their parents with affectionate kindness —

متنبہ رہو؛ ہم جناب نے انسان کو پابند کیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔

Root: و ص ى

وَإِن جَٟهَدَاكَ لِتُشْـرِكَ بِـى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٚ فَلَا تُطِعْهُـمَآۚ

  • However if they both exerted upon you that you associate partners with Me for which you do not have any knowledge thereby you must not listen the word of both of them.

مگر اے انسان اگر وہ دونوں تم پر اس بات پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی اس کو شریک کرے جس کی تیرے لئے علم سے کوئی سند نہیں تو ان دونوں کی بات کو تسلیم مت کر۔

إِلَـىَّ مَرْجِعُكُـمْ

  • [Afterwards on the Day of Requital] You people will be turned towards Me [for accountability] —

بعد ازاں قیامت برپا ہونے کے تم  سب نے احتساب کے لئے  میری  جانب لوٹنا ہے۔

فَأُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٨

  • Since judicial process will be followed, thereat, I will let you know the charges of the deliberate and wilful acts you people had been doing [29:08]

چونکہ انصاف اور عدالتی تقاضوں کو پورا کیا جائے اس لئے ہم جناب فرد جرم تم لوگوں کو بتائیں گے جو مستوجب سزا اعمال تم کرتے رہے تھے۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • And those who accepted/believed and did act righteously/moderately as directed —

 اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر)دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

لَنُدْخِلَنَّـهُـمْ فِـى ٱلصَّٟلِحِيـنَ ٩

  • Certainly Our Majesty will definitely join them with the sincere perfectionist Righteous. [29:09]

یقیناً ہم انہیں صالح اعمال پر کاربند لوگوں کی صحبت میں داخل کریں گے۔

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يِقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ

  • And amongst (in those days, Jew) people, there are those who say, claiming "We have accepted the belief in Allah,"

  • خبردار رہو کہ مخصوص لوگوں [زمانہ نزول کے حوالے سے عرب میں بسنے اور ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے اہل یہود/آج کے دور :میں منافقین۔فاسقین جو اپنے میثاق سے منحرف ہو کرجھوٹے مدعیان نبوت اور رسالت کے پیروکار ہیں]میں وہ بھی ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں—"ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئےہیں"۔

فَإِذَآ أُوذِىَ فِـى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ

  • Since their declaration of belief is mere deception, thereby when they suffer disquiet while struggling in the cause of Allah the Exalted he declares the disquiet caused by people as like the infliction of Allah —

چونکہ ان کا دعویٰ ایمان محض دھوکہ دہی ہے اس لئے جب(انہیں رسول کریم)اللہ تعالیٰ کے راستے کے دفاع میں کوئی اذیت اٹھانا پڑتی ہے تو وہ لوگوں کے پیدا کردہ ہیجان و اضطراب کو ایسے قرار دیتا ہے جیسے وہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہو۔

وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٚ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُـمْۚ

  • And if the victory/help is reached from your Sustainer Lord they will certainly emphatically proclaim, "It is certain that we were with you people."

مگر اگر آپ(ﷺ) کو آپ کے رب کی جانب سے فتح و نصرت مل جائے تو وہ یقیناً کہیں گے’’ہم آپ لوگوں کے شانہ بشانہ ساتھ تھے‘‘۔

أَوَ لَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِـى صُدُورِ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٠

  • [look at them how naively they lodge false claim] Is Allah the Exalted not fully knowledgeable about that which is in the hearts of people of worlds. [29:10]

کیا ڈھٹائی ہے؛کیا اللہ تعالیٰ اس کے متعلق مطلق علم نہیں رکھتے جو لوگ اپنے سینوں میں جا گزیں کئے ہوئے ہیں۔

وَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ ١١

  • And Allah the Exalted will certainly absolutely expose those who have truly believed [proved their oral word with their acts as true] and He the Exalted will certainly expose/prove absolutely those who are Muna'fi'qeen [false/feign in their utterance/claim of belief before taking criminal cognizance against them] [29:11]

اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے متعلق مطلق باخبر رہیں گے جو صدق قلب سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے اور ان سے مطلق باخبر رہیں گے اور  لوگوں کے لئےنمایاں کرتے رہیں گے جو جھوٹے مدعیان ایمان(منافقین)ہیں۔

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْـمِلْ خَطَٟيَٟكُـمْ

  • And those who have disavowed said for [to] those who have accepted/believed, "You physically follow our path and let us carry/uplift your omissions and shortcomings"

تو ان لوگوں نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کر دیا تھا ایمان لانے والوں سے کہا:"ہمارے راستے کی تم  پیروی کرو،اگر ایسا کرو گے تو ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اپنے سر لیں گے"۔

وَمَا هُـم بِحَٟمِلِيـنَ مِنْ خَطَٟيَٟهُـم مِّن شَـىْءٛۖ

  • But the fact is when time comes they will not at all take the burden of omissions and shortcomings of them whom they misled.

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت آنے پر ان کی خطاؤں کا قطعاً بوجھ اور ذمہ داری اپنے ذمہ لینے والے نہیں ہوں گے۔

Root: خ ط ء

إِنَّـهُـمْ لَـكَـٟذِبُونَ ١٢

  • Undoubtedly they are certainly the liars. [29:12]

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ(منافقین)یقیناً جھوٹے ہیں۔

وَلَيَحْـمِلُنَّ أَثْقَالَـهُـمْ وَأَثْقَالٙا مَّعَ أَثْقَالِـهِـمْۖ

  • But it is certain that they will definitely uplift their burdens, and other burdens along with their own burdens —

متنبہ رہو؛یہ گمراہ کرنے والے نہ صرف اپنا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ اضافی بوجھ بمع ان کے گناہ کا بوجھ۔

وَلَيُسْـٔ​َلُنَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ عَمَّا كَانُوا۟ يَفْـتَـرُونَ ١٣

  • And on the Day of Rising they will certainly and exactly be questioned about that which they people kept conjecturally fabricating at their own accord. [29:13]

متنبہ رہو۔ان سے یوم قیامت جواب دہی کی جائے گی اس بارے  جو زیر مقصد کانٹ چھانٹ کر  اختراع کرتے رہتے تھے۔

Root: ف ر ى


وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَـىٰ قَوْمِهِۦ فَلَبِثَ فِيـهِـمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَـمْسِيـنَ عَامًۭا
فَأَخَذَهُـمُ ٱلطُّوفَانُ وَ هُـمْ ظَٟلِمُونَ١٤
فَأَنجَيْنَٟهُ وَ أَصْحَٟبَ ٱلسَّفِينَةِ وَ جَعَلْنَٟهَآ ءَايَةًۭ لِّلْعَٟلَمِيـنَ١٥

  • Know the remote history: indeed Our Majesty had sent Noah [alai'his'slaam] towards his nation —thereby he lived performing his mission among them completing history of civilization spanning a thousand lunar years save fifty solar years.
    Thereby, for reason of contradicting him till expiry of respite period, and agreeing to his prayer (Cf. 71:26-27), the flash flood seized them while they were persistently evil doers. [29:14]

  • Since arrangements were already made, thereupon Our Majesty saved him and those who were companions in the boat. And Our Majesty made her (the boat) a tangible sign for remembrance and lesson for the people world over. [29:15]

  • قدیم تاریخ سے واقف ہو جاؤ؛ہم جناب نے نوح(علیہ السلام)کو ان کی  قوم کی جانب اپنا رسول  مبعوث  فرمایا تھا۔وہ اپنے رسالت کے مشن کو ان کے مابین انجام  دیتے ہوئے  ان  کی ہزارقمری سال کم پچاس شمسی سال تہذیبی تاریخ کی تکمیل تک رہے۔
    چونکہ   وہ  بدستور حقیقت کے منافی باطل طرز عمل پر مصر اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے مہلت کا وقت ختم ہونے  اور ان کی دعا(ملاحظہ ہو سورۃ نوح ؐ 26-27)کی قبولیت پرمقامی سیلاب رواں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔
     چونکہ   انتظامات پہلے سے مکمل تھے  ہم جناب نے انہیں(نوح علیہ السلام)اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ  کشتی میں سوار ہوئے تھے وہاں سے باحفاظت نکال دیا۔  اور ہم جناب نے اسے(پانی میں سفر کے لئے ایجاد کردہ کشتی کو)دنیا بھر کے  لوگوں کے  یاد/سبق  کے لئے  ایک مرئی  نشان  بنا دیا۔

    Root: خ م س; ع و م; ل ب ث; ء ل ف;ط و ف;س ف ن

وَ إِبْرَٟهِيـمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَ ٱتَّقُوهُۖ ذَٟلِـكُـمْ خَيْـرٌۭ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـمْ تَعْلَمُونَ١٦

  • And indeed Our Majesty had sent Iebra'heim [alai'his'slaam] as Messenger when he pronounced for his nation to reflect and obey, saying: "Devotedly owe and demonstrate allegiance and servitude for Allah alone. And sincerely endeavour to attain salvation from Him the Exalted —This is the best course for you —If you understand and realize the principle of requital, do adhere to it. (Cf. 9:41; 61:11; 62:09) [29:16]

    • اور تاریخ کے بعد کے دور میں ہم جناب نے ابراہیم (علیہ السلام)کو  رسول  مبعوث فرمایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ  کرنے کے لئے کہا۔"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو۔اور تندہی سے محتاط رہتے ہوئے ان جناب سے پناہ کے خواستگار رہو۔بیان کردہ رویہ اور طرز عمل تم لوگوں کے لئے بھلائی اور بہتری کا پیش خیمہ ہے۔اگر تم نجات اور سزا کے مقرر کردہ اصول جانتے ہوتو اس پر کاربند رہو۔

إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٟنًۭا وَ تَخْلُقُونَ إِفْكًاۚ
 إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمْلِـكُونَ لَـكُـمْ رِزْقًۭا فَٱبْتَغُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزْقَ وَ ٱعْبُدُوهُ وَ ٱشْكُرُوا۟ لَهُۥٓۖ
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٧

  • You are, besides Allah, devoting allegiance, servitude, and existential dependence only to hardened and consolidated objects of false reliance, while fabricating an inverted falsehood around them.
    The reality is that those to whom you devote allegiance and servitude, besides Allah, possess absolutely no authority provide any sustenance for you. Therefore, since all sustaining provision truly rests with Allah alone, earnestly and sincerely seek provision from Allah, devote allegiance and servitude to Him alone, and consciously express gratitude toward Him.
    Remain mindful, t
    o Him alone you shall ultimately be returned for presentation and accountability." [29:17]

یہ حقیقت ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے علاوہ  صرف ایسے سخت،جامد اور مستحکم بنا لئے گئے جھوٹے مراکز انحصار کے لئے اپنی  بندگی اور وجودی وابستگی وقف کئے ہوئے ہو،اور تم انہی کے گرد  سچائی کے الٹ گھڑی ہوئی  باطل حقیقت تعمیر کرتے ہو۔۔حقیقت یہ ہے کہ جن کے لیے تم اللہ کے سوا اپنی  بندگی اور وفاداری  ظاہر کرتے ہو، وہ تمہارے لیے کسی بھی رزق کو فراہم کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ لہٰذا چونکہ حقیقی طور پر تمام قائم رکھنے والا رزق صرف اللہ ہی کے پاس ہے، اس لیے اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ رزق اللہ ہی سے طلب کرو، اپنی  بندگی، اور وجودی وابستگی صرف ان کے لیے خاص کرو، اور شعوری طور پر ان کے لیے شکر و سپاس کا اظہار کرو۔
ہمیشہ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھو کہ آخرکار تمہیں صرف ان کے حضور پیشی اور جواب دہی کے لیے لوٹایا جائے گا۔

Root: و ث ن; ء ف ك؛ م ل ك

وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٚ مِّن قَبْلـِكُـمْۖ
وَمَا عَلَـى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلََٟغُ ٱلْمُبِيـنُ ١٨

  • And if you publicly contradict the reality, then it is nothing new, indeed elite of nations who flourished in the world before you contradicted in the past too — And no burden whatsoever is placed upon the Messenger except the clear and manifest conveyance of the Divine Message—so that it may reach conscious uptake." [ [29:18]

    اور اگر تم لوگ  اس حقیقت کو برملا جھٹلاتے ہوتو   یہ کوئی نئی بات نہیں،یقیناًتم لوگوں سے قبل عروج پانے والی قوموں کے  اشرافیہ  نے بھی علانیہ  جھٹلایا تھا۔
     واضح کر دوں ،اللہ تعالیٰ کے رسول  پرکوئی ذمہ داری کا بوجھ   ہرگز نہیں  سوائے اس کے کہ وہ   اللہ تعالیٰ کے پیغام کو   بے لاگ اور بھرپور وضاحت  سے    لوگوں کے    شعوری ادراک  تک  پہنچا دے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ كَيْفَ يُبْدِئُ ٱللَّهُ ٱلْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيدُهُۥٓۚ إِنَّ ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرٚ ١٩

  • Is it because they have not seen - given it a thought how Allah the Exalted initiates the creation; afterwards He causes its iteration—after pause of time will cause his relapse—reverted to original state —Indeed this has always been an easy matter for Allah. [29:19]

یہ کیا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے غور ہی نہیں کیا  کہ کیسے اللہ تعالیٰ  سوچے سمجھے مقصد کے تحت تخلیق کی ابتدا فرماتے ہیں۔بعد ازاں مقررہ وقت پر وہ جناب اس تخلیق کردہ کوازسر نواپنی اصل حالت میں پلٹا دیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے لئے یہ  تخلیق کو اصل حالت میں پلٹانا ایک آسان معاملہ ہے۔

Root: ع و د;ى س ر

قُلْ سِيـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "You people traverse in the world/land —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں " جگ بیتی سے عبرت لینے کے لئے تم لوگ زمین میں گھومو پھرو۔

Root: س ى ر

فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ بَدَأَ ٱلْخَلْقَۚ

  • Thereby you people observe/watch how Allah the Exalted did originate creation —

اس دوران دیکھو کہ ان  جناب  نے  موجودات  میں کسی بھی مخصوص شئےکی تخلیق کی ابتدا  کیسےفرمائی،

ثُـمَّ ٱللَّهُ يُنشِىئُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلۡءَاخِـرَةَۚ

  • Afterwards [on Day of Resurrection] Allah the Exalted will raise the last raising —

بعد ازاں اللہ تعالیٰ نشو پذیر کرتے ہیں، آخری نمو۔

Root: ن ش ء

إِنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٢٠

  • Indeed Allah the Exalted is eternally the Causality Determiner upon every and all things - to set them right-fix them in measure. [29:20] (cf. 2:20; 2:109; 2:148; 3:165; 16:77; 24:45; 29:20; 35:1=8)

یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ ٢١

  • He the Exalted decides to punish whom He wills and He the Exalted decides to have mercy upon whom He wills [depending upon how people conduct]

یہ ان  جناب کی صوابدید ہے کہ  جس کسی کے متعلق فیصلہ  کریں   مستوجب سزا قرار دے کر عذاب میں مبتلا کر یں گے  اور رحم فرمائیں گے جس کسی کے متعلق  درگزر اور معافی کا فیصلہ فرمائیں گے۔اور تم لوگوں کو ان کے حضور پیش کیا جائے گا۔

وَ مَآ أَنتُـم بِمُعْجِزِينَ فِـى ٱلْأَرْضِ وَ لَا فِـى ٱلسَّمَآءِۖ 

  • And you people certainly cannot frustrate/avert/retard His decisions neither in the Earth nor in the Sky.

اور تم لوگ یہ سکت نہیں رکھتے کہ  ان جناب کے فیصلوں کو روک سکوموخر کر سکو زمین میں اور نہ ایسا آسمان کی وسعتوں میں کر سکتے ہو۔

Root: ع ج ز

وَمَا لَـكُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِـىّٛ وَلَا نَصِيـرٛ ٢٢

  • And you people realize that not at all a patron-guardian-protector nor at all a helper is there, other than Allah the Exalted, who could be of avail for you. [29:22]

 اوراے لوگو!یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے سوا قطعاً کوئی سہارا /محافظ اور قطعاًکوئی مددگار نہیں جو تم لوگوں کے لئے دادرسی کر سکے۔

وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَـٟٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْـمَتِى

  • And those people who have persistently declined to accept the Aa'ya'at of Allah [contained in Grand Qur’ān] and presentation before Him for the accountability they are the ones who have lost hope/despaired of My mercy.

جان لو؛ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کتاب میں بیان کردہ فرمودات اور ان کے حضور پیش کئے جانے کا انکار کیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں  جو اپنے من میں میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں۔

Root: ء ى ى; ى ء س

وَأُو۟لَـٟٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ٢٣

  • And they are the people — a severe punishment is in wait for them. [29:23]

یہ وہ لوگ ہیں،ایک دردناک عذاب اُن کیلئے تیار ؍ منتظر ہے۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَٟهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِۚ
إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَٟتٛ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٢٤

  • Since his arguments were effecting thoughts of youth, they had no counter response and solution:  Except that they said to ruling elite, "Award him capital punishment or turn him in to ashes." —They did cast him in fire. Thereat frustrating their heinous plan, Allah the Exalted rescued him safely from the fire.(Cf. 21:69)
    Indeed signs indicating the existence of the Creator and Setter of sciences are obvious in the foretasted for the people who believe in Allah the Exalted. [29:24]

چونکہ ان(ابراہیم علیہ السلام)کے ٹھوس دلائل اور حقیقت آشکارہ کرنے والے بیانات نوجوانوں کو قائل اور مائل کر رہے تھے جس کا ان کی قوم کے سرداروں اورپجاریوں کے پاس جواب اور حل کوئی نہیں تھا:
سوائے  آپس میں یہ کہنے  کےکہ"اسے سزائے موت  دو یا اسے  بھسم کر کے  راکھ  بنا ڈالو"۔اس لمحے ان کے گھناؤنے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے  اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ کی لپٹوں سے محفوظ رکھا۔

یقینا ان   بیان کردہ حقائق میں  ایسی شہادتیں ہیں   جوفلسفہ توحید  اورمعبود مطلق کی جانب رہنمائی کرنے والی ہیں 
خاص کر ان لوگوں کے لئے جو رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لاتے ہیں۔

Root: ق ت ل

وَ قَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذْتُـم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٟنًۭا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُـمْ فِـى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَاۖ
ثُـمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُـم بِبَعْضٍۢ وَ يَلْعَنُ بَعْضُكُـم بَعْضًۭا
وَ مَأْوَىٰكُـمُ ٱلنَّارُ وَ مَا لَـكُـم مِّن نَّٟصِرِينَ٢٥

  • (Know the foundation of polytheism) He (Iebra'heim alai'his'slaam) before departure addressed the priests and their masters, "You have purposely adopted sculpted statues—idols as godheads, besides Allah the Exalted — only as a means of affection, association and interests in the life of this world.
    Afterwards, on the Day of Rising, some of you will disown and refute others —and some of you will curse and condemn others —
    And the heated Hell-Prison shall be the abode for you people —and there will be none at all who could come forward to help you". [29:25]

اصنام پرستی کی مشرکانہ روش کی اصل حقیقت جان لو؛جب انہوں (ابراہیم علیہ السلام )نے اپنی قوم سے ہجرت کا ارادہ کیا تو پنڈتوں اور ان کی سرپرستی  کرنے والوں  کو مخاطب کر کے کہا"یہ حقیقت ہے کہ تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ تراشے  مجسموں  کو بطور معبودان فقط ایک مقصد سے    اختیار کیا ہے۔  دراصل انہیں تم نے محض دنیا کی زندگی میں آپس کی محبت اور باہمی مفادات کے ربط کی خاطر معبودانِ باطل کے طور پر اختیار کیا ہے۔
 حیات دنیا
 میں باہمی استفادہ کے بعد ازاں،قیامت کے دن تم میں سے ایک ،دوسرے کا انکار کرے گا، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا۔
اورتم سب کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔اوروہاں تمہارے لیے ہرگزکوئی مددگار نہیں ہوگا جو ذرا بھی تمہاری داد رسی کر سکے"۔

Root: و ث ن; و د د; ل ع ن

فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌۭۘ
وَ قَالَ إِنِّـى مُهَاجِرٌ إِلَـىٰ رَبِّـىٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ٢٦

  • Since he was told to migrate, thereby, Luet [alai'his'slaam] accepted to leave with him (Iebra'heim alai'his'slaam)—
    And he (Iebra'heim alai'his'slaam) pronounced, "It is certain that I am about to migrate towards my Sustainer Lord (to accomplish His command). Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible." [29:26]

  • چونکہ وہ بھی اس معاشرے میں بگاڑ سے نالاں تھے اس لئے  ان (ابراہیم علیہ السلام)کے کہنے پرلوط(علیہ السلام)نے بھی ان کے ساتھ رخصت ہونے کو مان لیا۔
    اور انہوں (ابراہیم علیہ السلام)نے  اپنے چچا اور لوگوں سےکہا"یہ حقیقت ہے کہ میں کسی بھی لمحے اپنے رب کے مشن کی تکمیل کے لئے ہجرت کرنے لگا ہوں۔
    ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں"۔

Root: ھ ج ر

وَ وَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٟقَ وَ يَعْقُوبَ
وَ جَعَلْنَا فِـى ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَ ٱلْـكِتَـٰبَ وَ ءَاتَيْنَٟهُ أَجْرَهُۥ فِـى ٱلدُّنْيَاۖ
وَ إِنَّهُۥ فِـى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ٢٧

  • And Our Majesty gifted to him (Iebra'heim [alai'his'slaam]) Ies'hauqe and Ya'qoob [as unsolicited gift-21:72].
    And Our Majesty kept in his progeny the position of Distinction of Elevation and Selectivity and the Book as his icon—And Our Majesty granted him his reward in this World —
    Of course, he is certainly one of the most distinguished in the ranks of the Righteous-the Perfectionists in the Hereafter. [29:27]

  • اور ہم جناب نے اسحاق اور یعقوب (بیٹا اور پوتا علیہم السلام)کو ان (ابراہیم علیہ السلام)کے لئے ہماری جانب سے بطور تحفہ عنایت کئے۔
    اور ہم جناب نے  نبوت  اور مخصوص کتاب  کوان (ابراہیم علیہ السلام) کی ذریت میں عنایت کر کے ان   کا طرَّہ امتیاز بنایا تھا۔اور ہم جناب نے ان کو ہماری خدمت کا بجا آوری کا انعام دنیا کی زندگی میں عنایت فرمایا تھا۔
    اور یقینا آخرت میں صالحین میں وہ عالی مرتبت ہیں۔

Root: و ھ ب; ذ ر ر


وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ

  • And Our Majesty had deputed Luet [alai'his'slaam] as the Messenger when he said to his nation:

اورہم جناب نے   لوط(علیہ السلام)کو اپنا رسول بنایا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کے غور اور متنبہ  کرنے کے لئے کہا۔

إِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَٟحِشَةَ مَا سَبَقَكُـم بِـهَا مِنْ أَحَدٛ مِّنَ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٢٨

  • It is a fact that you people come to such illicit sexual activity that has not a single precedence of practice in the history of the nations before you? [29:28]

یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ اُس فحاشی /جنسی بے راہروی میں ملوث ہوتے ہو جس کی جانب تمام دنیا میں تم سے کسی ایک نے بھی سبقت نہیں لی /پہل نہیں کی؟

Root: س ب ق;  ف ح ش

أَئِنَّكُـمْ لَتَأْتُونَ ٱلـرِّجَالَ

  • What is it that you people indeed come to men [lustfully-heterosexuality] —

  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم مردوں کے پاس آتے ہو(جنسی لطف و لذت کے لئے)۔

وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ

  • And you people block the road —

  • اور تم لوگ راستے بند/بلاک کرتے ہو۔

    Root: ق ط ع

وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُـمُ ٱلْمُنكَرَۖ

  • And you people come to the "unfamiliar" activity in your arranged gatherings" —

اورتم لوگ  دعوت دے کر بلائی ہوئی مجلس  میں ایک ناپسندیدہ عمل میں مشغول ہو جاتے ہو"۔

Root: ن ك ر

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ

    • The perversion was so overwhelming that even they did not feel shy; thereby his nation had no explanation/response —

    جان لو ان کی اصلیت؛چونکہ  استدلال اور جواز بتانے سے قاصر تھے اس لئےان کی قوم کے عمائدین کے پاس جواب کوئی نہ تھا:

إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ

  • Except that they said, "Bring upon us the punishment of Allah —

  • سوائے یہ کہنے کہ’’لے آ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب۔

إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٟدِقِيـنَ ٢٩

  • If you were the truthful in your statement." [29:29]

اگر تو اپنے رسول اللہ ہونے کے دعویٰ میں سچا ہے‘‘۔

قَالَ رَبِّ ٱنصُرْنِـى عَلَـى ٱلْقَوْمِ ٱلْمُفْسِدِينَ ٣٠

  • He [Luet alai'his'slaam] prayed, "O my Sustainer Lord! Do help me against the people who are the creators of imbalances/disequilibrium and pollution. [29:30]

انہوں(لوط علیہ السلام)نے دعا فرمائی؛"اے میرے رب،میری  مدد فرمائیں اس فساد برپا کرنے والی قوم پر"۔

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٟهِيـمَ بِٱلْبُشْـرَىٰ

  • And when Our Messenger had suddenly reached to Iebra'heim  [alai'his'slaam] with good news [of son] —

اور جب اچانک ہمارے رسول ابراہیم(علیہ السلام)کے پاس ایک خوشخبری کے ساتھ پہنچ گئے تو استفسار پر:

قَالُوٓا۟ إِنَّا مُهْلِـكُـوٓا۟ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِۖ

  • They said, "It is certain that we are going to annihilate the residents of this town —

 انہوں نے کہا"دراصل ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے مشن پر ہیں۔

إِنَّ أَهْلَـهَا كَانُوا۟ ظَٟلِمِيـنَ ٣١

  • Undoubtedly its inhabitants have persistently been unjust evil mongers." [29:31]

یہ حقیقت ہے کہ اس میں بسنے والے عرصہ سے حقیقت کے منافی باطل طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں"۔

قَالَ إِنَّ فِىـهَا لُوطٙاۚ

  • He (Iebra'heim [alai'his'slaam]) said, "But certainly Luet [alai'his'slaam] is present therein."

انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا"یقیناً لوط(علیہ السلام)بھی اس بستی میں موجود ہیں"۔

قَالُوا۟ نَـحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيـهَاۖ

  • They replied, "We are certainly aware of whoever is present therein —

انہوں نے جواب دیا"ہمیں بالکل ہر کسی کے بارے مکمل علم ہے جو اس بستی میں موجود ہے۔

لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥٓ

  • We will certainly first rescue him (Luet [alai'his'slaam]) and his household—

یقیناً ہم انہیں اور ان کے اہل خانہ کو وہاں سے بحفاظت منتقل کر دیں گے۔

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٟبِـرِينَ ٣٢

  • Except his wife, she was from amongst those who stay behind. [29:32]

سوائے ان کی بیوی کے۔ہم جناب نے اسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت بھی  ایمان لانے سے گریزاں حال میں  ہے"۔

Root: م ر ء

وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطٙا سِـىٓءَ بِـهِـمْ وَضَاقَ بِـهِـمْ ذَرْعٙا

  • And when Our Messengers suddenly came to Luet [alai'his'slaam] he felt distressed by their coming and felt straitened by their presence with uneasiness —

مزید جان لو؛ابراہیم(علیہ السلام)سے اجازت لے کر جوں ہی ہم جناب کے پیغامی لوط(علیہ السلام)کے پاس پہنچے توان کی موجودگی  نے انہیں بے چین کر دیا۔اور ان کے ساتھ سے گھٹن  کو محسوس کیا، اپنے ہاتھو ں کو سامنے کی جانب  کرتے ہوئے۔

Root: ذ ر ع;  ض ى ق

وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْۖ

  • And they said, "Please you should not be apprehensive and nor you should grieve.

اور انہوں نے کہا"آپ نہ خوف محسوس کریں اور نہ ان کے انجام کا غم کریں۔

Root: خ و ف؛ ح ز ن

إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ

  • It is certain that we will rescue you and your household —

بلاشبہ آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کوبحفاظت ہم بچائیں گے۔

إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٟبِـرينَ ٣٣

  • Except your wife, she is from amongst those who stay behind." [29:33]

سوائے آپ کی بیوی کے۔اللہ تعالیٰ نےاسے سزا پانے والوں میں شمار کر دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت بھی  ایمان لانے سے گریزاں حال میں ہے۔

Root: غ ب ر; م ر ء

إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَـىٰٓ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ  رِجْزٙا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ

    • It is certain that We are about to bring down upon the inhabitants of this Town — Disquieting punishment from the Sky —

    حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بستی کے مکینوں پر فضا سے ہیجانی کیفیت اور مضطرب کر دینے والا  باعث گھن عذاب برسانے کو ہیں۔

بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ ٣٤

  • This consequence is for the reason that they kept transgressing the prescribed bounds." [29:34]

یہ اضطراب اور باعث گھن عذاب  بطور سزااِس بنا پر ہے کہ یہ لوگ مسلسل حدود و قیود سے تجاوز اور مائل بر فساد رہتے تھے"۔

Root: ف س ق

وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْـهَآ ءَايَةَۢ   بَيِّنَةٙ لِّقَوْمٛ يَعْقِلُونَ ٣٥

  • And in that town Our Majesty have certainly left an evident visible sign for those people who discern/distinguish. [from signs/marks]. [29:35]

 اور ہم جناب نے ایک واضح نشانی اس بستی میں سے چھوڑ دی ہے جو عقل سے کام لینے والوں کے لئے باعث عبرت ہے اور اشارہ ہے کہ پکڑ سخت ہوتی ہے۔


وَإِلَـىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُـمْ شُعَيْبٙا

  • And Our Majesty had indeed deputed their brother Sho'aib [alai'his'slaam] as the Messenger towards the nation by the name Mad'yan.

اورہم جناب نے شعیب (علیہ السلام)کو،جو ان کے قومی بھائی تھے ،قوم  مدین کی جانب نبی مبعوث فرمایا تھا۔

فَقَالَ يَٟقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ

  • Thereat, he imperatively said: "O my nation! you people be exclusively subservient-allegiant to Allah the Exalted.

بھرپور جوان ہونے اور فرائض رسالت سونپے جانے پرانہوں نے کہا"اے میری قوم،تم لوگ اللہ تعالیٰ کی  بااظہار بندگی کرو۔

وَٱرْجُوا۟ ٱلْيَوْمَ ٱلۡءَاخِـرَ

  • And you people expect the Last Day —

اور تم لوگ آخر دن کے وقوع پذیر ہونے کی توقع رکھو—

Root: ر ج و

وَلَا تَعْثَوْا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٣٦

  • And you should not, like mischief-doers, create intellectual distortions-conjectural myths-disquiet in the society". [29:36]

 اور تمہیں چاہئے کہ زمین /معاشرےمیں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے انداز میں ذہنی و فکری انتشارنہ پھیلاؤ“۔

فَكَذَّبُوهُ

  • Since they were slave to their vested interests in response they publicly contradicted him.

چونکہ ان کی باتوں کو وہ اپنے معاشی اور سیاسی غلبہ و اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے انہیں برملا جھٹلا دیا۔

فَأَخَذَتْـهُـمُ ٱلرَّجْفَةُ

  • Consequently the earthquake seized them —

جوں ہی مہلت کا وقت ختم ہوا تو ایک بھونچال نے انہیں گرفت میں لے لیا۔

Root: ر ج ف

فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِـمْ جَٟثِمِيـنَ ٣٧

  • Thereby, they had turned and became debris in their area. [29:37]

چونکہ اس بھونچال کی نوعیت   شدید تھی اس لئے ان کا انجام اپنے علاقہ میں ملبے کا ڈھیر بن جانا تھا۔

وَعَادٙا وَثَمُودَا۟ وَقَد تَّبَيَّـنَ لَـكُـم مِّن مَّسَٟكِنِـهِـمْۖ

  • And were seized the civilizations of Aad and Samued; and certainly it has become distinctly self evident for you people from their dwellings; [about their sudden destruction]

اور عاد اور ثمود قوموں کو گرفت میں لے کر نیست و نابود کر دیا گیا تھا۔ اور یقیناً یہ تم لوگوں کے لیے ان کی رہائش گاہوں سے واضح طور پر عیاں ہوچکا ہے [ان کی اچانک تباہی کے بارے میں]

وَزَيَّنَ لَـهُـمُ ٱلشَّيْطَٟنُ أَعْمَٟلَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ

  • And Shaitan had made their deeds/acts alluring for them, thereby he stopped them away from the Path —

اور شیطان نے ان کے اس طرز عمل کو جس پر وہ کاربند تھے ان کے لئے  باتکرارخوشنما اور دل کش بنا دیا تھا۔اور یوں انہیں  راہ راست سے موڑ /منحرف کردیا ۔

وَكَانُوا۟ مُسْتَبْصِرِينَ ٣٨

  • Though they were intelligent visionary people. [29:38]

حالانکہ وہ عقلمند اور دوراندیش لوگ تھے۔

وَقَٟرُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَٟمَٟنَۖ

  • And so were seized Qa'roon and Fir'aoun/Pharaoh and Haa'maan —

اور ہم جناب نے قارون اور فرعون اور ھامان کوگرفت میں لے لیا تھا۔

وَلَقَدْ جَآءَهُـم مُّوسَـىٰ بِٱلْبَيِّنَـٟتِ

  • And certainly Mūsā [alai'his'slaam] had come to them with demonstrative evident signs —

اورموسیٰ (علیہ السلام)یقیناً ان کے پاس  عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتیں(آیات ) لے کر آئے تھے   جوان کے تصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔

فَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ

  • Whereupon they persistently demonstrated arrogance having made themselves obsessed with pride of grandeur and superiority in the country —

مگر مظاہر کی نمائش دیکھ لینے اور قلب میں مان لینے کے باوجود وہ سلطنت میں اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خواہش میں مگن رہے۔

وَمَا كَانُوا۟ سَٟبِقِيـنَ ٣٩

  • But they could not take the lead. [in visualizing future events despite being visionary] [29:39]

اور نہ وہ سبقت لینے والے تھے۔

Root: س ب ق

فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنۢبِهِۦۖ

  • Consequently Our Majesty seized each one of them for reason of his slander and crime —

چنانچہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے جرم اور بغاوت کے سبب سزا دی۔

Root: ذ ن ب

فَمِنْـهُـم مَّن أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبٙا

  • Thereat from amongst them is the one upon whom Our Majesty sent a violent storm —

 ان میں سے کچھ پر ہم نے شدید طوفان بھیجا۔

وَمِنْـهُـم مَّنْ أَخَذَتْهُ ٱلصَّيْحَةُ

  • And from amongst them is the one whom seized an awful sound/earthquake —

 اورکچھ کو زبردست چنگھاڑ/ زلزلے نے پکڑ لیا۔

Root: ص ى ح

وَمِنْـهُـم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ

  • And from amongst them is the one with whom Our Majesty cave-in the Earth (sinkhole)—

اور ان میں سے کچھ کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا،

وَمِنْـهُـم مَّنْ أَغْـرَقْنَاۚ

  • And from amongst them is the one whom Our Majesty drowned.

 اور کچھ کو ہم نے غرق کر دیا۔

Root: غ ر ق

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُـمْ

  • And it was not for Allah the Exalted that He might do injustice to them —

ان پیشگی اقدامات سے ظاہر تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پرزیادتی کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُـمْ يَظْلِمُونَ ٤٠

  • But in fact they kept doing injustice and harm to their own selves. [29:40]

لیکن  وہ حقیقت کو باطل سے بدل کر خود اپنے نفوس پر زیادتی کرتے اور اپنی شخصیت کوبگاڑتے رہے۔


مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ

    • The equivalence of those people who have consciously and purposely adopted Satanic group perceiving for themselves as protectors, benefactors, godfathers other than Allah the Exalted is:

ان لوگوں کے طرز عمل کی مثال جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ حزب الشیطان کو دانستہ بطور سرپرست اور پشت پناہ اختیار کیا ہے۔

كَمَثَلِ ٱلْعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتْ بَيْتٙاۖ

  • Like the specific She-Spider when she has purposely adopted some object/pebble as house (storing place of egg-sack)

اس مخصوص مادہ مکڑی کے مثل ہے جس نے دانستہ کسی شئے کو بطور  پناہ گاہ ،گھر اختیار کیا۔

کیابیت العنکبوت کے معنی ”تارِ عنکبوت، جالے،Web“ہیں؟ قطعی نہیں!

وَإِنَّ أَوْهَنَ ٱلْبُيُوتِ لَبَيْتُ ٱلْعَنكَبُوتِۖ

  • Know the fact, the flimsiest of the houses is certainly the adopted-house of specific She-Spider.

اور یقیناً گھروں،پناہ گاہوں میں سب سے کمزور اور زبوں اس مخصوص مادہ مکڑی کا اختیار کردہ گھر ہے۔

لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٤١

  • Had they but known-realized flimsiness of their choice, they may have not done so [29:41]

اگر وہ معلومات حاصل کر لیتے تو ممکن تھا کہ ایسا وہ نہ کرتے۔

إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مِن شَـىْءٛۚ

  • Certainly Allah the Exalted fully knows and exposes whatever thing they call upon other than Him/Allah.

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں اور لوگوں کے لئے ہر اس شئے کی حقیقت آشکارہ کرتے ہیں جس کو وہ(حزب الشیطان)ان جناب کے علاوہ پکارتے ہیں۔

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٤٢

  • Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible [29:42]

مطلع رہو؛ان کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَٟلُنَضْرِبُـهَا لِلنَّاسِۖ

    • And these are specific analogies which Our Majesty strike for rendering some point explicitly evident for the benefit and reflection of the people —

مطلع رہو؛ یہ مخصوص قسم کی مثالیں  ہیں جو وہ جناب بیان فرماتے ہیں لوگوں کے  لئے کسی نکتہ  کو نمایاں کرنے اور ان کےاستفادہ اور غوروفکر کرنے کے لئے۔

Root: ض ر ب

وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلَّا ٱلْعَٟلِمُونَ ٤٣

  • But no one can reflect-discerns them except those who have the relevant information-data-knowledge. [29:43]

مگر یہ حقیقت ہے کہ ان(مثالوں)پر تعقل کر کے فرق کو سمجھتے صرف وہ لوگ ہیں جو معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔

Root: ع ق ل


خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّۚ

  • Allah the Exalted has created the Skies and the Earth; conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time.

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَءَايَةٙ لِّلْمُؤْمِنِيـنَ ٤٤

  • Indeed a guiding sign for the true believers manifesting providence is inherent in this scientifically established universe. [29:44]

یقینا  عینی مشاہدہ میں   ہر وقت موجود ایسی شہادت     اس  منظم تخلیق کائنات میں ظاہر ہے  جو خاص کر ایمان لانے والوں کے لئے فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی اشارہ کرنے والی ہے۔

ٱتْلُ مَا أُوْحِـىَ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] recite to them, word by word, relevant to the occasion out of the contents of the Book (Qur’ān) of your Sustainer Lord which have since been communicated to you (read with 18:27)

آپ(ﷺ) لفظ بلفظ لوگوں کو اپنی زبان سے وہ  سنا /تلاوت کردیں جومنفرد  کتاب  (قرءان مجید)کے مندرجات  میں سے آپ کو زبانی(لفظاً،تلفظ ۔وحی)سنایا جا چکا ہے۔

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] keep organizing the assembly for the performance of Ass-sa'laat: Time Bound Protocol of Servitude and allegiance —

اور آپ استقلال و استقامت اور منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کا انتطام کریں (کہ یہ اسلامی سلطنت کا پہلا فریضہ ہے )۔

إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنْـهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِۗ

  • It is certain that Ass-sa'laat: time bound protocol of servitude and allegiance prohibits the illicit sexual activity and unfamiliar conduct—

یہ حقیقت ہے کہ التزام سے  پابندی صلوٰۃ فحش اور نازیبا ٖحرکات اور غیر معروف،ناپسندیدہ اور ناشائستہ طرز عمل سے منع رکھتی ہے۔

Root: ف ح ش;  ن ك ر

وَلَذِكْرُ ٱللَّهِ أَكْبَـرُۗ

  • While the thought and remembrance of Allah the Exalted is the greatest preventor of misconduct.

مگر تاکید یہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہر وقت موجود ہونے کو یاد رکھنا اور دہراتے رہنا  نامناسب روئیے سے باز رہنے کا سب سے بڑا مانع ہے۔

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ٤٥

  • Know it; Allah the Exalted is fully aware of that which you people artfully devise-fabricate. [29:45]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ بخوبی علم رکھتے ہیں اس کا جو نت نئے طرز عمل تم لوگ اختراع کرتے ہو۔

Root: ص ن ع

وَ لَا تُجَٟدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْـكِتَـٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْـهُـمْۖ
وَ قُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَ أُنزِلَ إِلَيْكُـمْ وَ إِلَٟهُنَا وَ إِلَٟهُكُـمْ وَٟحِدٌۭ وَ نَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ٤٦

  • And you people should not indulge in argument/discourse with the people of Book except with such argument which is most balanced and appropriate; except entering into discourse with those from them who have done evil/distortion of fact/unjust —
    And you people say, informing them, "We have believed in that which has since been sent to us and in that which was sent to you people —And our Iela'aha: the Sustainer Lord and your Iela'aha is The Singular One —And we are for Him the Muslims/those who physically follow His prescribed Code and Procedure." [29:46]

اور تم لوگوں کو اہلِ کتاب سے  باہمی بحث و مباحثہ نہیں کرنا چاہئے مگر ایسے طریقے سے جو متوازن اور مناسب ہو، سوائے ان لوگوں سے اجتناب کرنے کے جو ان میں سے ظلم و زیادتی کر چکے ہیں۔(ان سے اجتناب کرنا بہتر ہے تاکہ کسی تنازع یا نامناسب رویے سے بچا جا سکے۔)
 اور تم ان سے کہو، "ہم اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تمہاری طرف نازل کیا گیا۔اور ہمارے اور تمہارے معبود  فقط معبود مطلق ہیں ۔اور ہم اُن (اللہ تعالیٰ)کیلئے ان کے بنائے آئین پر کاربند رہنے والے مسلمان ہیں"۔

 

وَكَذَٟلِكَ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَۚ

  • And for that (to engage people of the Book) Our Majesty have sent to you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] the Book (Qur’ān).

اوراس مقصد کے لئے ہم جناب نے منفرد کتاب (قرء ان مجید) کو آپ(ﷺ)کی جانب مجتمع انداز میں نازل فرمایا ہے،(مبنی بر بیان حقیقت اور موقع محل کی مناسبت سے)

فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٟـهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦۖ

  • In response those whom Our Majesty had given the Book they accept/believe in it (Qur’ān) —

اس لیئے وہ لوگ جنہیں منفرد کتاب سے نوازا گیا تھا وہ اس (قرءان مجید) پر ایمان لاتے ہیں۔

وَمِنْ هَٟٓـؤُلَآءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِۦۚ

  • And from amongst these [Gentiles: whom Book was not given earlier] are also those who believes in it (Qur’ān).

اور ان امیین(جنہیں پہلے کتاب سے نوازا نہیں گیا تھا)میں سے بھی ہیں جو اس (قرءان مجید)پر ایمان لاتا ہے۔

وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٟتِنَآ إِلَّا ٱلْـكَـٟفِرونَ ٤٧

  • While no one deliberately and knowingly publicly refutes acknowledging Our Verbal Communications except the non-believers/those who have deliberately/knowingly refused to accept. [29:47]

یہ حقیقت ہے کہ دانستہ انکار پر بضد رہنے والوں کے کوئی بھی صاحب عقل و فکر ہم جناب کی بھیجی عبارات کی حقانیت کے متعلق لیت و لعل نہیں کرتا۔

Root: ج ح د

وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٟبٛ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَۖ إِذٙا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ ٤٨

  • And they propagate it as your authored composition —— though they know well that you, O the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], had never been one who habitually recited passages from any written book, nor ever you inscribed such book with your right hand before its (Qur’ān) oration and writing. (Cf. 10:16; 25:04-5, also 11:35; 21:05; 32:03;46:08) For had you, in the past, been one accustomed to orating and writing books — then indeed, those who purposefully fabricate falsehood would have readily found in that a self-provided ground to sow irritating confusion, disturbing minds and inducing dissonance, persuading people that this Qur’ān too was your own authored work. [29:48]

تعجب ہے اُن عمائدین پر جو اسے آپ (ﷺ)کی تصنیف قرار دیتے ہیں —
حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ اس (قرءانِ مجید)سے پہلے
کسی کتاب کے اقتباسات لوگوں کو پڑھ کر سنانے کے عادی نہ تھے،
اور نہ ہی آپ (ﷺ)نے کبھی اپنے دائیں ہاتھ سے اس  کتاب کو رقم کیا تھا۔
اگر آپ ﷺ واقعی ایسا کرنے کے عادی ہوتے،
تو مصنف ہونے کی حیثیت اور شہرت کی بنا پر
جب آپ (ﷺ )یہ کتاب پڑھ کر سناتے اور لکھ کر دیتے،
تو دانستہ باطل گھڑنے والوں کے لیے کچھ نہ کچھ تردد،
اور اپنے گمان و نقطۂ نظر کے لیے
ایک ظاہری جواز ضرور ہوتا —
کہ یہ (قرءان)بھی آپ ﷺ کی اپنی تصنیف ہے۔

بَلْ هُوَ ءَايَٟتُۢ بَيِّنَٟتٚ فِـى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَۚ
وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٟتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٟلِمُونَ ٤٩

  • Nay, their propaganda that you have authored it is frivolous; on the contrary it (Qur’ān) is the Infallible Discourse sent by your Sustainer Lord (read for elided predicate 32:3; 85:21). Explicitly explicative verbal passages are regarded as Divine serial revelation in the chests (understanding) of those who are bestowed with knowledge of how to read and understand a book (Cf. 6:114; 17:107; 22:54; 34:06).
    And no one wrangles — publicly refutes acknowledging Our Verbal Communications except the evil ones—distorters of fact by irrational conjectures. (Cf. 29:47; 31:32) [29:49]

  • نہیں؛ اس کتاب کو آپ (ﷺ)کی تصنیف قرار دینا ان عمائدین کی محض بے بنیاد ہرزہ سرائی ہے۔
    درحقیقت، یہ وہ کلامِ حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے (ضمیرِ منفصل کی محذوف خبر کے لیے ملاحظہ ہو: السجدہ 3، البروج 21)۔
     
    حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ آیات ہیں جو اپنے معنی و مفہوم میں نہایت واضح ہیں،اور انہیں وہ لوگ اپنے سینوں (شعور) میں کلامِ الٰہی تسلیم کرتے ہیں جنہیں کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کا علم عطا کیا گیا ہے۔
    (Cf. 6:114; 17:107; 22:54; 34:06)
    یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب کی بھیجی عبارات کی حقانیت کے متعلق
       سوائے   حقیقت کو  باطل سے مسخ کرنے والےکج رو لوگوں کے،  کوئی بھی صاحب عقل و فکر لیت و لعل نہیں کرتا۔
    (Cf. 29:47; 31:32)

    Root: ج ح د

وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٟتٚ مِّن رَّبِّهِۦۖ
قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٟتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۟ نَذِيرٚ مُّبِيـنٌ ٥٠

  • And they/ruling elite said to people, "Why unprecedented displays, as were given to earlier Messengers, not been sent to him from his Sustainer Lord?"
    You
    the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce for public information, "the unprecedented displays - signs are displayed only by the permission of Allah the Exalted —And I am but to act as Manifest Warner -Revivalist -Admonisher" [29:50]

اوررسول کریم اور قرءان مجید کاانکار کرنے والے عمائدین کا استدلال جان لو،انہوں نے لوگوں سے استفسار کرتے ہوئے کہا"کیا وجہ ہے کیوں انہیں  عینی مشاہدہ کرانے کے لئے  ایسی شہادتیں(آیات/معجزے) ان کے رب نے ان پرنہیں بھیجیں جو تصور،تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے  سند ہوتیں جیسی پہلے رسولوں نے دکھائی تھیں؟"
آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"مافوق الفطرت مشاہدات کی نمائش تو صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور ان کے اذن سے ہوتی ہیں"۔اوریہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردارکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔

أَوَلَمْ يَكْفِهِـمْ أَنَّـآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ يُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْۚ

  • [they talk about other signs] You confirm it, has it not sufficed for them as irrefutable primary evidence of you being universal Messenger that Our Majesty have since sent upon you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] compositely the Book (Qur’ān) which is recited to them, word by word?

آپ (ﷺ) تصدیق کریں کہ  آپ کو رسالت مآب  ماننے کے لئےکیا یہ حقیقت ان کے لئے سند اور برھان کے لئے باعث اکتفا نہیں کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)پر منفرد کتاب کو مجتمع مدون انداز میں نازل فرمایا ہے۔وہ لفظ بلفظ،من و عن  ان کوبتایا جا رہا ہے۔

Root: ك ف ى

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَرَحْـمَةٙ

  • Know the fact, indeed prelude to blessed life is explicitly elaborated in it —

جان لو؛حقیقت یہ ہے کہ رحمت/فلاح و بہبود اور خوشخبری کا پیش خیمہ اس میں درج ہے۔

وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ ٥١

  • And for frequenting to obtain advice and guidance the memoir from eternity to eternity are incorporated therein especially for those who truly believe in the Messenger Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam in time and space]. [29:51]

اوربار بار نصیحت و رہنمائی لینے کے لئے ازل سے ابد کی تاریخ نوشت ہے خاص طور پران لوگوں کے لئے  جو رسول کریم محمّد(ﷺ)پر ایمان لاتے ہیں۔

قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُـمْ شَهِيدٙاۖ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Allah the Exalted suffices as eye witness between me and between you people —

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اللہ تعالیٰ کا میرے اور تمہارے مابین چشم دید گواہ ہونااکتفا کرتا ہے(کسی اور کی شہادت کی ضرورت نہیں)۔

Root: ك ف ى

يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۗ

  • He the Exalted fully knows all that which exists apparently or invisible to public eye in the Skies and the Earth."

وہ جناب ہرہر موجودات کو مکمل طور پرجانتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں عیاں یا پنہاں حالت میں موجود ہے"۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْبَٟطِلِ وَكَفَـرُوا۟ بِٱللَّهِ

  • Know about those who believed in falsity - conjecture - scum and disavowed Allah the Exalted —

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حقیقت کے منافی جھوٹ پر مبنی نظرئیے کو شوق سے تسلیم کیا جس کی اصلیت پانی پر ابھرنے والے جھاگ اور دھاتوں کو پگھلانے پرفاسد الگ ہونے جیسی ہے،اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کر دیا۔

أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ ٥٢

  • They are truly the people who cause loss to their selves in time-line. [29:52]

یہ ہیں وہ لوگ جو درحقیقت  خود اپنا خسارہ ؍/نقصان کرنے والے ہیں۔

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِۚ

  • And they the adamant elite seek you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] for hastening the chastisement —

اور آپ(ﷺ)کو رسول اللہ ماننے سے انکار کرنے والے عمائدین آپ سے عذاب کے نزول کے لئے عجلت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

Root: ع ج ل

وَلَوْلَآ أَجَلٚ مُّسَمّٙى لَّجَآءَهُـمُ ٱلْعَذَابُ

  • And had there been not a term of determined period with appointed moment for every matter to take effect, the punishment would have indeed reached them —

 مگر انہیں یہ اندازہ نہیں کہ اگر  ہر معاملہ کے وقوع پذیر ہونے کے لئے  لمحہ متعین نہ کر دیا گیا ہوتا تو  تو یقیناً  مخصوص عذاب نے ان تک پہنچ جانا تھا۔

Root: ء ج ل

وَلَيَأْتِيَنَّـهُـم بَغْتَةٙ وَهُـمْ لَا يَشْعُـرُونَ ٥٣

  • And certainly it shall reach them all of a sudden [even in less than a wink of an eye] while they have nothing for its perception/apprehending [29:53]

اور یہ حتمی بات ہے کہ وہ انہیں  پہنچے گا بالکل اچانک  جب انہیں اس بات کا احساس و شعور بھی نہیں ہو گا۔

يَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ

  • They seek you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] for hastening the Doom/the infliction —

اور آپ(ﷺ)کو رسول اللہ ماننے سے انکار کرنے والے  عمائدین آپ سے عذاب کے نزول کے لئے عجلت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

Root: ع ج ل

وَإِنَّ جَهَنَّـمَ لَمُحِيطَةُۢ  بِٱلْـكَـٟفِرِينَ ٥٤

  • Be aware, the Hell-Prison certainly surrounds-imprison-serves as crucible for the disbelievers. [29:54]

مگر انجام بھول جاتے ہیں کہ یقیناً جہنم آپ اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کو احاطے میں لینے والی ہے وقت مقررہ پر۔

Root: ح و ط

يَوْمَ يَغْشَٟهُـمُ ٱلْعَذَابُ مِن فَوْقِهِـمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِـهِـمْ

    • The Day when the infliction from their above and from beneath their feet will veil upon them  —

جس دن تیار کردہ حدت کا عذاب ان کے اوپر کی جانب سے اور ان کے تلووں کے نیچے سے ان پر چھا جائے گا۔

Root: غ ش ى

وَيِقُولُ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٥٥

  • And it will be said, "you people taste the result of that which you people kept doing." [29:55]

اور ان سے کہا جائے گا"تم لوگ اس کے تاثیری ذائقے سے لطف انداوز ہوجو کچھ تم لوگ کرتے رہتے تھے"۔

Root: ذ و ق

يَٟعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟

  • O My those subjects-allegiants who declared to have accepted, Listen —

سنو اے میرے ایسے بندوں جو صدق دل سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں:

إِنَّ أَرۡضِى وَٟسِعَةٚ

  • It is factually true that My Earth is vast and spacious —

یقیناً میری زمین بڑی وسعت کی حامل ہے(اگر ہجرت کرنا ضروری ہو)۔

فَإِيَّٟىَ فَٱعْبُدُونِ ٥٦

  • Since I am exclusively [its creator and Lord] therefore you people remain subject/subservient/loyal/ allegiant to Me exclusively and absolutely. [29:56]

چونکہ تم صدق دل سے ایمان لانے کے دعویدار ہو اس لئے صرف میری بااظہار بندگی کرو،پھر زندگی بھر صرف میری با اظہار بندگی کرتے رہو۔


كُلُّ نَفْسٛ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِۖ

  • Every person present on the last Day will be the taster of the death.

ہر ایک شخص یوم آخر کی موت کا ذائقہ کسی لمحے چکھے گا۔

Root: ذ و ق

ثُـمَّ إِلَيْنَا تُـرْجَعُونَ ٥٧

  • Afterwards [resurrection on second blow in Trumpet] you people will be brought towards Us for accountability. [29:57]

بعد ازاں وقت گزرنے پر( اپنی نسل کی باری پرمقررہ ساعت پر) ہم جناب کی جانب تم لوگ  احتساب کیلئے پیش کئے جاؤ گے۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَـٟتِ

  • And those who accepted/believed and did act righteously/moderately as directed —

 اور جو لوگ (نازل کردہ قرء ان پر) دل کی شاد سے ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ۔

لَنُبَوِّئَنَّـهُـم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُـرَفَٙا

  • It is certain that Our Majesty will definitely accommodate them in the Paradise, lofty dwelling —

یہ یقینی بات ہے کہ ہم جناب ان لوگوں کو جنت میں سے ایک مقام پر آباد کریں گے؛ بلند درجہ کا مقام۔

Root: غ ر ف

تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۚ

  • Canals of water are flowing side by; they shall reside therein perpetually —

اس کی خاص بات یہ ہے کہ نہریں اس کے پائیں بہتی ہیں۔یہ لوگ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے۔

نِعْمَ أَجْـرُ ٱلْعَٟمِلِيـنَ ٥٨

  • The reward of performers is what a pleasant and aggrandizer. [29:58]

کیا اعلی سرفراز کرنے والا ایوارڈ ہے ان عمل کرنے والوں کا!

ٱلَّذِينَ صَبَـرُوا۟ وَعَلَـىٰ رَبِّـهِـمْ يَتَوَكَّلُونَ ٥٩

  • Great reward is for those who exercised patience, remained firm and coolly perseverant and they rest their trust and hope upon their Sustainer Lord. [29:59]

    آخرت میں عظیم ایوارڈ پانے والے  یہ وہ لوگ  ہیں جنہوں نے صعوبتوں کو تحمل سے برداشت کیااور یہ لوگ ہر معاملے میں عقل و دانش کو بروئے کار لانے کے بعد خوشگوار نتائج کے ظہور پذیر ہونے کے لئے اپنے رب پر مکمل بھروسا اور اعتماد رکھتے ہیں۔


وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٛ لَّا تَحْـمِلُ رِزْقَهَا

  • Observe; there are many animals who do not carry their provision —

مشاہدہ کرو؛ کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق ساتھ لے کر نہیں چلتے —

Root: د ب ب

ٱللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْۚ

  • Allah the Exalted provides them the sustenance and as well to you people —

اللہ تعالیٰ انہیں بھی رزق فراہم کرتے ہیں اور تمہیں بھی۔

وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيـمُ ٦٠

  • Remain aware, He the Exalted is eternally the Listener, the Reservoir of Knowledge-Setter of Sciences.  [29:60]

 ان جناب کےمتعلق یہ حقیقت ہے، ہر لمحہ ہر آواز کو سننے والے ہیں، منبع علم ؛ اور ہر علم کا تعین کرنے والےہیں۔

وَلَئِن سَأَلْتَـهُـم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ

  • And If you ask them as to who has created the Skies and the Earth —

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے تخلیق کیا —

وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَـرَ

  • And who has subjected [subjugated to a set discipline] the Sun and the Moon to submissiveness —

اور کون ہیں جنہوں نے  سورج اور چاند کواصول و ضوابط پر منظم؛مقررہ نظام کے تابع  کیا ہے۔

Root: س خ ر; ق م ر; ش م س

لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ

  • They will certainly answer "Allah did it".

تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔"

فَأَنَّـىٰ يُؤْفَكُونَ ٦١

  • [Despite convincingly knowing and admitting this] Strange! Then how they get deluded? [29:61]

[اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے باوجود]تعجب ہے پھر یہ کیسے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟

Root: ء ف ك

ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلـرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥٓۚ

  • Allah the Exalted expands the livelihood for him about whom He the Exalted so decides; and restricts to measure for him about whom so decides, amongst His living subjects.

  • اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے بندوں میں سے اس شخص کے رزق کو کشادہ اور ثروت عطا فرما دیتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کے رزق کو محدود کر دیا جائے اس کا رزق پیمانے میں کر دیتے ہیں۔

    Root: ب س ط

إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ٦٢

  • The fact remains; Allah the Exalted is eternally the knower of absolute: visible and infolded knowledge of physical realm: all that exists. [29:62]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کی تمام میں سے ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔

وَلَئِن سَأَ لْتَـهُـم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ

  • And if you ask them as to who sent water from the Sky —

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسما  ن سے پانی کس نے برسایا —

فَأَحْيَا بِهِ ٱلۡأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ مَوْتِـهَا

  • Whereupon with it He rejuvenated/revived the Earth after its death —

چونکہ   پانی اوررزق   حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے  اس کے ذریعے انہوں نے بعد از موت/بنجر ہو جانے پر زمین کو حیات  دے دی۔

لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ

  • They will certainly answer "Allah did it".

تو وہ ضرور کہیں گے، "اللہ نے یہ سب کچھ کیا۔"

قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِۚ

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "The Infinite Glory and Praise eternally is entirely and exclusively specified for Allah the Exalted." 

     آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں؛"اللہ تعالیٰ کیلئے عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے مختص فرما دیا گیاہے"۔

بَلْ أَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْقِلُونَ ٦٣

  • Nay, the fact is that most of them do not apply intellect to discern/distinguish. [29:63]

کہہ تو دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ  ان میں سے اکثر عقل استعمال ہی نہیں کرتے کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکیں۔

وَمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَـهْوٚ وَلَعِبٚۚ  وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلۡءَاخِـرَةَ لَـهِىَ ٱلْحَيَوَانُۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ٦٤

  • Realize it; The Life of this Lowly World is nothing  but a fleeting show — a transient theatre of diversion and play. And know with certainty that the Abode of the Hereafter — it alone is al-Ḥayawān, the Living Life in its fullness. Had they but tried to comprehend this disclosed reality — they would surely have found that the Qur’ān itself gives life to those who truly listen. (cf. 8:24) [29:64]

جان لو؛یہ دنیوی زندگی  کی   حیات                             تو محض سٹیج پر  ہونے والے مختصر وقت کے کھیل اور اصل سےتوجہ ہٹانے والے تماشے کے سوا پائیدار نہیں۔ اور یقین کے ساتھ جان لو کہ آخرت کا گھر ہی دراصل الْحَيَوَانُ ہے — حقیقی اور کامل زندگی۔ کاش وہ اس منکشف حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے، تو ضرور جان لیتے کہ خود قرءان   مجیدہی اُن کو زندگی بخشتا ہے جو دل سے سنتے ہیں(جواب لو کے لئے ملاحظہ ہو: 8:24)۔

Root: ل ھ و; ل ع ب

فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ

  • Sequel to having experienced life threatening situation while they were on board the ship —

اس حقیقت کا ثبوت کہ ان کا منفی رویہ محض ہٹ دھرمی ہے یہ ہے کہ جب کشتیوں پر سوار  انہوں نے یقینی گمان کرلیا کہ  موجوں کے ذریعے انہیں گھیر لیا گیا ہے۔

Root: ر ك ب; ف ل ك

دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِيـنَ لَهُ ٱلدِّينَ

  • They called upon Allah the Exalted for rescue promising that on being saved they will adhere to the Constitution and Code of Life as sincere devotees-allegiant for Him the Exalted —

انہوں نے اللہ تعالیٰ  کو مدد کے لئے پکارا یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ بچائے جانے پر   اُن کے  متعین کردہ آئین  اور ضابطہ حیات/ دین (اسلام)کے ساتھ مخلصانہ یکسوئی سے وابستہ رہتے ہوئے کاربند رہیں گے ۔

فَلَمَّا نَجَّىٰـهُـمْ إِلَـى ٱلْبَـرِّ إِذَا هُـمْ يُشْـرِكُونَ ٦٥

  • In response to their prayers when He the Exalted rescued them towards the land/shore at that point in time they start indulging in ascribing partners/associates — [29:65]

ان کی پرسوز پکار پر جوں ہی ان جناب نے انہیں حفاظت سے خشک ساحل پر پہنچا دیا تو وہ پھر سے فلسفہ اشتراک کے پیروکار بن گئے۔

لِيَكْـفُـرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٟـهُـمْ وَ لِيَتَمَتَّعُوا۟ۖ 

  • So that they refuse that which We have given them and so that they enjoy it —

اس کے ناشکر گزار ہوتے ہوئے جو مقام و مرتبہ اور اسباب دنیا ہم جناب نے انہیں عنایت فرمایا ہے۔چونکہ یہ عنایات  فقط اظہار ربوبیت ہے اس لئے وہ لوگ اسباب زیست سے لطف اندوز ہوتے رہیں (ایک قلیل مدت کے لئے)۔

فَسَوْفَ يَعلَمُونَ ٦٦

  • Thereby, its consequence soon they will know. [29:66]

چونکہ نتائج کا دارومدار فکر و عمل پر ہے اس لئے  وہ  لوگ عنقریب جان لیں گے  کہ  وہ کون ہے  جس کے لئے آخرت کے گھر  کو اس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا ءَامِنٙا

  • [why such apprehensions of sociopolitical degradation-28:57] Do they not see/give it a thought that Our Majesty established the Sanctified House ensuring peace and tranquillity —

(یہ عمائدین  قرءان  کے تابع ہونے کو معاشرتی اورسیاسی زوال کیوں سمجھتے ہیں۔القصص۔57)کیا وہ یہ نہیں دیکھتے  کہ ہم جناب نے ان کے لئے اپنے گھر (کعبہ معظمہ)کو ایک محفوظ،امن و آمان  کاحامل حرم  قرار دیا تھا۔

وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنْ حَوْلِـهِـمْۚ

  • While the people from the surrounding of them are made to come overwhelmingly.

اس حال میں کہ ان کے اردگرد جوانب سے لوگ جوق در جوق کھچے چلے آتے ہیں۔

أَفَبِٱلْبَٟطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَكْـفُـرُونَ ٦٧

  • Is it for reason that they believe in the false conjectural scum and they keep refusing to admit the Blessing of Allah [Grand Qur’ān] [29:67]

    کیا اس بات  کا ادراک رکھنے کے باوجود وہ پانی اور دھات پگھلانے پر ابھرنے والے جھاگ اور میل کچیل کے مانند نظریہ کو تو مانتے ہیں اور  اللہ تعالیٰ کی جانب سے عنایت کردہ کرم نوازی کو پس پشت   کر کےکفران نعمت کا ارتکاب کرتے ہیں۔

Root: ك ف ر

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُۥۚ
أَ لَيْسَ فِـى جَهَنَّـمَ مَثْوٙى لِّلْـكَـٟفِرِينَ ٦٨

  • Reflect: who could be more guilty of unjust displacement—and thereby standing in radical opposition to reality—than the one who deliberately and artfully fabricates a falsehood to deceptively present it as the statement of Allah the Exalted? —or actively lied by commission—in direct contradiction to the Infallible Discourse of Established Facts—the very moment it reached him?
    An abode in the Hell-Prison - is it not a befitting and sufficient reward for the persistent disbelievers of the Messenger and Qur’ān until the moment of their death?" (Cf. 39:32) [29:68]

غور کرو؛ اس شخص سے بڑھ کر حقیقت کے خلاف رویّہ اختیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے جو دانستہ اور عیاری کے ساتھ ایسا جھوٹ گھڑے جس کا مقصد عوام کو اس مغالطے میں مبتلا کرنا ہو کہ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؟یا اس سے بڑھ کر حقیقت کے منافی رویہ اپنانے والا تخریب پسند کون ہو سکتا ہے جس نے  بیان حقیقت کو جھٹلاتے ہوئے دانستہ  جھوٹ بولا  جب وہ(قرءان مجید۔بیان حقیقت)اس تک پہنچ گیا؟
جہنم کی قید خانہ میں ایک ٹھکانا—کیا یہ ان
مرتے دم تک  مستقل  رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لیے ایک مناسب اور کافی سزا نہیں ہے؟

Root: ف ر ى

وَٱلَّذِينَ جَٟهَدُوا۟ فِينَا لَنَـهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَاۚ

  • And those people who have exerted for seeking appreciation and approval of Our Majesty, We will certainly henceforth guide them about courses prescribed by Our Majesty —

اور جو لوگ ہم جناب کی رضا اور پسند کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، ہم یقیناً انہیں اپنے راستے کی ہدایت دیں گے —

وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِيـنَ ٦٩

  • Know it; it is certain that Allah the Exalted is with those people who conduct moderately, gracefully and generously. [29:69]

جان لو کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اُن لوگوں کے ساتھ ہیں  جو اعتدال، حسن سلوک اور سخاوت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔