050-سُوۡرَةُ قٓ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


قٓۚ وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْمَجِيدِ ١

  • Qa'f with prolongation sign/mark above it. [the twenty-second consonant of 29 letters of Arabic Alphabet; its place of utterance is between the root of the tongue and the uvula in the furthest part of the mouth; and it is strongest of the letters and of the most certain of them in sound]. And swearing is by the Qur’ān, peculiarity of which is that it is intrinsically glorious and exalted. [50:01]

عربی زبان کے حرف ابجد ’’ق"۔طوالت کے نشان کے ساتھ۔یہ انتیس حروف پر مشتمل ابجد کا بائیسواں حرف ہے۔عربی ابجد نظام کے مطابق، حرف"ق"کی عددی قوت 100ہے۔ایک شدید اور واضح آواز والا حرف ہے، جو زبان کے پچھلے حصے سے ادا ہوتا ہے۔قوت، استحکام، اور مرکزیت کی علامت قرار دیا  جاتاہے۔ یہ حرف کائنات کے مرکز یا قلب (دل)کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔اوربات کو  بغور اورتاکید سے  سننے کے لئے قرءان  کی قسم سے بیان کرتے ہیں جو بنفسہٖ عظیم المرتبت کتا  ب ہے۔(محذوف جواب قسم:بتانا یہ مقصود ہے کہ آپ(ﷺ)کی بعثت اور اس کی بعثت  کائنات کی افضل ترین رات میں ہوئی تھی)۔

بَلْ عَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُـم مُّنذِرٚ مِّنْـهُـمْ فَقَالَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ هَـٰذَا شَـىْءٌ عَجِيبٌ ٢

  • Nay, the fact is that they have considered it strange that a Warner/Revivalist has come to them who is staunch monotheist among them whereat those/elite segment of society who had refused to accept said to people —"This Resurrection is a strange and unaccustomed thing. [50:02]—

ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ رسول کریم(ﷺ)کا تصنیف و تالیف کردہ  پرانے افسانے کہانیوں کا مجموعہ ہے۔بلکہ انہیں تعجب  اس پر ہے کہ ان میں موجود  معروف و مشہور فلسفہ توحید پر دائم حنیفاً مسلم ان کے پاس خبردار اور تنبیہ کرنے والے بن کر آئے ہیں۔آخرت میں احتساب کا ہونا ناگزیر بتائے جانے پر انکار کرنے والے عمائدین نے کہا"یہ از سر نو حیات اور احتساب تو عجیب و غریب ناقابل فہم بات ہے۔

أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابٙاۖ ذَٟلِكَ رَجْعُۢ  بَعِيدٚ ٣

  • (They keep expressing their confused state of mind, saying) Is it that when we would have died and become dust, we will be resurrected as he proclaims? This return is a far fetched, far off  possibility." [that which you people are being promised] [50:03]

کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک بن چکے ہوں گے تو حیات میں پلٹا دئیے جائیں گے۔یہ واپسی تو بعید از قیاس ہے"۔

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرْضُ مِنْـهُـمْۖ وَعِندَنَا كِتَٟبٌ حَفِيظُۢ ٤

  • Certainly Our Majesty already know that which the Earth keeps deteriorating and diminishing of them (when they are dead bodies) —And a book (Mother-Principal Book) characteristically safely holding the record is exclusively managed by Our Majesty. [50:04]

ہم جناب کو تو اس کا پہلے سے علم ہے جس کو زمین ان کے مردہ اجسام سے بگاڑتی اور کم کرتی رہتی ہے۔اور ایک کتاب  (ام الکتاب)جس میں ہر ایک معاملے کا ریکارڈمحفوظ ہے وہ صرف ہمارے تصرف میں ہے۔(سورۃ قٓ۔۴)

بَلْ كَذَّبُوا۟ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُـمْ فَهُـمْ فِـىٓ أَمْرٛ مَّرِيجٍٛ ٥

  • It is not just denial of Hereafter, but in fact they have publicly contradicted the Infallible Discourse (Grand Qur’ān), as soon it reached them in writing. Since they have no cogent argument to rebut it, they are bogged down in a matter which is persistently agitating and disturbing (state of cognitive dissonance). [50:05]

محض یوم قیامت کا انکار نہیں،بلکہ حقیقت میں انہوں نے بیان حقیقت (قرءان مجید)کو عوام الناس میں جھٹلایا ہے جب انہیں وہ تحریراً مل چکا ہے۔چونکہ یہ ان کے تخیل پر مبنی نظریات اور اقدار کی برملا نفی کرتا ہے   جس کوجھٹلانے کے لئے کوئی مناسب دلیل نہیں اس لئے وہ (عمائدین)لپکنے والے شعلے  جیسے مضطرب معاملے میں مسلسل  اعصابی انتشار میں مبتلا ہیں۔(قٓ۔۵)

أَفَلَمْ يَنظُرُوٓا۟ إِلَـى ٱلسَّمَآءِ فَوْقَهُـمْ كَيْفَ بَنَيْنَٟهَا وَزَيَّنَّٟهَاوَمَا لَـهَا مِن فُرُوجٛ ٦

  • Is it [this perplexity about resurrection] for reason that they have not seen towards the Sky above them—That how have Our Majesty structured her and adorned her (the Sky) —And that she has not at all rifts? [50:06]

کیا ان  کا بعد از موت  حیات  کو ناممکن سمجھنااس غفلت سے ہے کہ انہوں نے اپنے اوپربسیط آسمان کی جانب نہیں دیکھا کہ ہم جناب نے اسے کس حال میں بنایا ہے اور ہم نے اسےکیسے مزین کیا ہوا ہے۔اور یہ کہ  شگافوں میں قطعاً ایک بھی نہیں جو اس کی یکسانیت میں دراڑ ڈال سکے۔

وَٱلۡأَرْضَ مَدَدْنَٟهَا وَأَلْقَيْنَا فِيـهَا رَوَٟسِـىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيـهَا مِن كُلِّ زَوْجٍۭ بَـهِييجٛ ٧

  • And the Earth, Our Majesty did spread/stretch her —
    And Our Majesty dropped therein mountains as anchors (Cf. 13:03; 15:19; 16:15; 21:31; 27:61; 31:10; 41:10; 50:07; 77:27; 78:07; 79:32)—
    And Our Majesty sprouted in her, each and every thing mutually equated and balanced; and We produced/sprouted therein every kind of beautiful species of plants. (Cf. 15:19; 26:07; 27:60; 31:10; 50:07; 50:09; 80:27) [50:07]

اور کیا زمین کو نہیں دیکھا؛ہم جناب نے زمین کو تخلیق کر کے  لوگوں کے لئے پھیلایا اور ہموار کر دیا تھا۔
اور ہم جناب نے اس کے اندر پہاڑوں کے سلسلہ کو بطورلنگرگاڑ دیا۔
اورہم  جناب نے اس کے اندرہر ایک خوشنما اور تروتازہ    نباتات  کی جنس  کو اگانے کی صلاحیت رکھ دی   ۔

      History of the Earth  Mountains - Anchors were inserted in the Earth; an "imported" substance.  Root: ر س و;ن ب ت

تَبْصِرَةٙ وَذِكْرَىٰ لِـكُلِّ عَبْدٛ مُّنِيبٛ ٨

  • All these facts are manifestly visually bright - void of illusion, and a constant source of alarm/ remembrance for each and every person who makes himself return towards his Sustainer Lord. [50:08]

یہ مظاہر فطرت ہر ایسے انسان کے لئے جو گاہے بگاہے کائنات پر غور کرتا ہے ہر وقت بصیرت افروز اوریاد دہانی ہیں کہ ان کے خالق کی جانب پلٹے۔

Root: ن و ب

وَنَزَّلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٙ مُّبَٟـرَكٙا فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ جَنَّٟتٛ وَحَبَّ ٱلْحَصِيدِ ٩

  • Moreover, Our Majesty have intermittently flowed water from the Sky, peculiarity of which is that it is quantitatively perpetuated —Thereby, Our Majesty sprouted  with this water gardens and the cultivated grain crops which are reaped — [50:09]

اور  یہ کہ ہم جناب نے پانی کو آسمان سے وقتاً فوقتاً آسمان سے زمین پر برسایا۔پانی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی مقدار کو دوام ہے۔چونکہ   پانی اوررزق   حیات کا لازمی جزو ہے اس لئے  اس کے ذریعے باغات اور  کٹائی کی جانے والی اناج کی فصلوں کو پیدا فرمایا۔

Root: ب ر ك;  ن ب ت; ح ص د

وَٱلنَّخْلَ بَاسِقَٟتٛ لَّـهَا طَلْعٚ نَّضِيدٚ ١٠

  • And palm-trees, they rise in tall state. Spathe having characteristic of parallel and piled one over another; couch-frame is another peculiar state for her — [50:10]

اور کھجور کے درخت، وہ طویل قامت بنتے ہیں؛تہہ بر تہہ اور ایک دوسرے کے متوازی خوشے ان درختوں کی انفرادیت ہے۔

Root: ط ل ع; ن خ ل; ن ض د

رِّزْقٙا لِّلْعِبَادِۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِۦ بَلْدَةٙ مَّيْتٙاۚ كَذَٟلِكَ ٱلْخُرُوجُ ١١

  • This is the sustenance for the people. And Our Majesty rejuvenated/revived with it (water) the dead piece of land/locality —Like this is the Resurrection/Exit [from beneath the Earth on Day of Resurrection]. [50:11] (Read with 43:11)

یہ بندوں کے لئے سامان زیست ہے۔اور ہم جناب نے  اس (برسائے پانی)کے الصاق سے اس قطع اراضی  کوذی حیات کر دیا جو قوت حیات کھو چکی تھی۔اس انداز کی مانند  قوت حیات سے محروم کئے مردوں کا زمین میں سے نمود ہو گا۔

كَذَّبَتْ قَبْلَـهُـمْ قَوْمُ نُوحٛ وَأَصْحَـٟـبُ ٱلرَّسِّ وَثَمُودُ ١٢

  • The people of the nation of Noah [alai'his'slaam], the residents/people of "Ar-Rass" and the civilization Samued  publicly contradicted before them — [50:12] 

ان عمائدین عرب سے قبل قوم نوح(علیہ السلام)اور الرس کے نشینوں تہذیب ثمود کے عمائدین نے رسولوں کو برسرعام جھٹلایا تھا۔

وَعَادٚ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَٟنُ لُوطٛ ١٣

  • And Aad and Pharaoh and brothers/nation of Luet [alai'his'slaam] — [50:13]

اور تہذیب عاد، اور فرعون اور لوط(علیہ السلام)کے بھائیوں نے بھی۔

وَأَصْحَـٟـبُ ٱلْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُّبَّـعٛۚ كُلّٚ كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ١٤

  • And the residents of "Al-Aikate" [afforested land-Nation Madyan-people of Shoaib alai'his'slaam] and the Nation of "Tubba". All of them publicly contradicted the Messengers whereupon execution of My warning became incumbent upon them. [50:14]

اور(شیعب علیہ السلام کی قوم مدین کا مسکن)ٱلْأَيْكَةِمیں بسنے  والوں اور قوم تبع کے عمائدین نے۔ان تمام کے تمام نے ان کی جانب مبعوث فرمائے رسولوں کو عوام الناس میں جھٹلایا تھا۔چونکہ اتمام حجت کر دیا گیا تھا اور مہلت کا وقت ختم ہو گیا تو میری تنبیہ عذاب حقیقت بن گیا۔

أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِۚ  بَلْ هُـمْ فِـى لَبْسٛ مِّنْ خَلْقٛ جَدِيدٛ ١٥

  • Were Our Majesty then weary with the originating creation? No, there was even not the slightest weariness as earlier told you [46:33] the fact is that they feign being in confusion about the modern/latest creation - resurrection. [50:15]

کیا ان کا تخلیق نو کو بعید از قیاس سمجھنا اس بناء پر ہے کہ ہم جناب اول تخلیق کے بعد تھک گئے ہیں؟(قطعاً تھکاوٹ محسوس نہیں کی۔46:33اور 50:38)نہیں، عمائدین مشرکین یہ نہیں کہتے، بلکہ وہ تخلیق نو کے بارے ملتبس ہونے کا  درحقیقت ڈھونگ کرتے ہیں۔

Root: ع ى ى;ل ب س; ج د د


وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِۦ نَفْسُهُۥۖ
وَنَـحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ 
١٦
إِذْ يَتَلَقَّى ٱلْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ ٱلْيَـمِيـنِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ قَعِيدٚ 
١٧
مَّا يَلْفِظُ مِن
قَوْلٍٛ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٚ ١٨

  • Indeed, by solemn certainty, Our Majesty have created the Man. And certainly Our Majesty fully know that thought for which his conscience (inner-self)  sub-vocally influences him. (Cf. 2:274; 3:29, 3:119; 3:154; 5:07; 5:99; 11:05; 24:29; 31:23; 33:54; 35:38; 39:07; 42:24; 57:06; 64:04; 67:13-14)
    And
    Our Majesty are even nearer to that thought than the Communicating-Transmitting Cord (vocal cord)—at that point in time —[50:16]
    When the two peculiar Efficient Receptors continuously keep efficiently receiving-confronting-acquiring this thought —while located/seated symmetrically— coming from the right side and from the left side. (Cf. 4:81; 10:21; 43:80) [50:17]
    He does not cast forth even the slightest portion of articulated speech, except that beside him is a watchful guardian, fully prepared to record. [50:18]

  • اس حقیقت کا تو اعتراف کرو؛ہم جناب نے انسان کو تخلیق کیا ہے۔اورہم جناب  بخوبی جانتے ہیں  اس کو جس کے لئے  اس کا نفس/شخصیت  خفیف تخیل سے تمنا و آرزو میں مبتلا کر کے ڈگمگاتی رہتی ہے۔
    اور ہم جناب اس تخیل کے زیادہ قریب ہوتے ہیں بہ نسبت خیال کو پہنچانے والی رسی کے۔
    جب دو ازخود سے وصول/ملاقات کرنے والے اس (خیال)کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔اس حال میں براجمان کے دائیں جانب سے اور بائیں جانب سے آنے والے کے۔
    وہ شخص اپنے قول میں سے کوئی جزو   منہ سےباہر نہیں پھینکتا ماسوائے ایسے حالات میں
    کہ ایک چوکس مستعد محافظ اس کے جوار میں موجود ہے(ضبط تحریر کرنے کے لئے)۔(سورۃقۤ۔
    ١٨)

Root: و ر د ;ش م ل; ق ع د; ر ق ب;  ع ت د  Speech Mechanism-Vocal Cord


وَجَاءَتْ سَكْـرَةُ الْمَوْتِ بِٱلْحَقِّۖ ذَٟلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ١٩

  • Since every human has a destined term, the stupor of death has now arrived at its appointed time. This is the reality you continued to forget. [50:19]

چونکہ ہر انسان کی اجل ہےپس موت کی غنودگی اپنے مقررہ وقت پر وارد ہو چکی  ہے۔(اس سے کہا جائے گا)یہ ہے وہ حقیقت جس کو تو فراموش کرتا رہا ہے۔(قۤ۔١٩)

Root: س ك ر

وَنُفِخَ فِـى ٱلصُّورِۚ ذَٟلِكَ يَوْمُ ٱلْوَعِيدِ ٢٠

  • And the (second time) sound is blown in the Trumpet —That is the Day which was promised and warned about. [50:20]

(سب مر گئے اور سکوت چھا گیا)اوراس دن جب خاص طور پر بنائے گئے نقارے میں  دوسری مرتبہ پھونک دیا جائے گا۔یہ ہے وہ دن جس کے بارے متنبہ کیا جاتا رہا تھا۔

Root: ن ف خ

وَجَآءَتْ كُلُّ نَفْسٛ مَّعَهَا سَآئِقٚ وَشَهِيدٚ ٢١

  • Behold the scene: Every person who had been declared accursed will appear before Allah the Exalted. With him will be a captor and a witness (angels). [50:21]

منظر دیکھو؛اللہ تعالیٰ کے حضورہر وہ شخص پیش ہو گاجو مغضوب قرار پا چکا تھا ۔اس کے ساتھ ایک گرفتار کرنے والا اور ایک گواہ(فرشتے)ہوں گے۔

Root: س و ق

لَّقَدْ كُنتَ فِـى غَفْلَةٛ مِّنْ هَـٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ ٱلْيَوْمَ حَدِيدٚ ٢٢

  • It will be said to him: "The truth is that you remained so engrossed in the pursuit of the world that you remained continuously heedless of this Day. Since today We have removed your covering from your eyes, your vision is now sharp and piercing." [50:22]

اس سے کہا جائے گا"یہ حقیقت ہے کہ تو دنیا کی جستجو میں اس قدر مگن رہا کہ  اس دن  کے بارے مسلسل  غافل رہا۔چونک آج ہم نے تیری پوشش کو تیری آنکھوں سے ہٹا دیا ہے اس لئے آج تیری دیکھنے کی صلاحیت ٹھوس ہے"۔(سورۃ قۤ۔٢٢)

Root: غ ط و/ى;  غ ف ل; ك ش ف

وَقَالَ قَرِينُهُۥ هَـٰذَا مَا لَدَىَّ عَتِيدٌ ٢٣

  • And his accompanying Angel guard said, "This is that charge sheet which is ready with me". [50:23]

اور اس کے قریب رہنے والے فرشتے نے کہا"یہ ہے وہ جو میرے پاس تیرا جرم نامہ تیار ہے"۔

Root: ع ت د; ق ر ن

أَلْقِيَا فِـى جَهَنَّـمَ كُلَّ كَفَّارٍٛ عَنِيدٛ ٢٤

  • [It will be ordered] You both [accompanying Angel Guard and Witness] push in the Hell Prison each and every stubborn non believer— [50:24]

حکم دیا جائے گا"تم دونوں ہر ایک ہٹ دھرمی اور سرکشی سے عنایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ناشکر گزار کو جہنم میں دھکیل دو۔

مَّنَّاعٛ لِّلْخَيْـرِ مُعْتَدٛ مُّرِيبٍ ٢٥

  • He is adamant preventer for anything of good - rational import/better course, consciously inclined to transgression lingering in duality of thought— [50:25]

مزید برآں وہ ہر خیر سے سختی سے منع کرنے والے ،دانستہ حدود و قیود سے برگشتہ دوغلے پن کے تذبذب میں رہنے والے تھے۔

Root: م ن ع; ر ى ب

ٱلَّذِى جَعَلَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِـى ٱلْعَذَابِ ٱلشَّدِيدِ ٢٦

  • And as for the one who associated another deity with Allah the Exalted, the command will be given to both (the angels): "Cast him into the severest punishment." [50:26]

اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود ٹھہرایا، تو ان دونوں (فرشتوں)کو حکم دیا جائے گا:"اسے شدید ترین عذاب میں جھونک دو"۔

قَالَ قرِينُهُۥ رَبَّنَا مَآ أَطْغَيْتُهُۥ وَلَـٰكِن كَانَ فِـى ضَلَٟلِۭ بَعِيدٛ ٢٧

  • His close companion and trusted confidant in the world immediately attempted to exonerate himself, saying: "Our Lord! I did not lead him into rebellion; rather, the truth is that he himself deliberately deviated, turning away from reality and straying far into the depths of misguidance." [50:27]

اس کے دنیا میں قریبی  شیطان صفت ساتھی اور معتمد نے فوراً صفائی پیش کرتے ہوئے کہا"ہمارے رب!میں نے اسے قطعاً سرکش نہیں بنایا  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود دانستہ  حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے راہ ضلالت میں کہیں دور نکل گیا تھا۔

Root: ط غ ى; ق ر ن

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا۟ لَدَىَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُـم بِٱلْوَعِيدِ ٢٨

  • He the Exalted declared: ‘Do not engage in mutual dispute before Me now, for it serves no purpose when I had already forewarned you. [50:28]

ارشاد فرمایا"میرے حضور   اب  آپس میں جھگڑا  مت کرو کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں جب  کہ میں تمہیں  پہلے ہی اس کی وعید دے چکا تھا۔

Root: خ ص م; ق د م

مَا يُبَدَّلُ ٱلْقَوْلُ لَدَىَّ وَمَآ أَنَا۟ بِظَلَّٟمٛ لِّلْعَبِيدِ ٢٩

  • The decree issued by Me is never altered, and I am never unjust to My subjects." [50:29]

   میرے حضور دیا ہوا فرمان کبھی بدلہ نہیں جاتا۔اور میں اپنے بندوں  پر ہرگز ظلم و  زیادتی کرنے والا نہیں ہوں "۔

يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّـمَ هَلِ ٱمْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٛ ٣٠

  • On that Day, Our Majesty shall say to Hell, "Are you filled now, as was Our promise (Al-A'raf 7:18)?"
    And she will respond in astonishment, "Is there still more to come?"
    [50:30]

ہم جناب اس دن جہنم سے فرمائیں گے"کیا تو بھر چکی جیسا کہ  ہمارے وعدہ میں تھا(الاعراف۔18)"اور وہ حیرت کے ساتھ کہے گی"کیا ابھی  اور بھی  باقی ہیں؟"۔

Root: م ل ء


وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيـنَ غَيْـرَ بَعِيدٍٛ ٣١

  • And the Paradise is brought nearer, opposite of something being distant away, within view of those who sincerely endeavoured to attain salvation. [50:31]

اور جنت  اپنے آپ کو تندہی سے محتاط اورغلط روش سے محفوط رکھنے والوں کے نظارہ کے لئے قریب کر دی گئی،آسمانوں کے پار ہونے کے باوجود وہ دور نہیں رہی۔

Root: ز ل ف

هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِـكُلِّ أَوَّابٍٛ حَفِيظٛ ٣٢

  • This is a glimpse of the fulfillment of what the Messenger of Allah had been promising you—for every person who sincerely and uprightly inclines towards Allah at all times, living a life of mindfulness and caution. [50:32]

یہ اس کی تکمیل کی جھلک ہے جو رسول اللہ  تم لوگوں سے ہر اس شخص کے لئے وعدہ کرتے رہے  جو مخلصانہ اور راست انداز میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹنے کا رجحان رکھتے ہوئے محتاط انداز میں زندگی بسر کریں گے۔

Root: ء و ب

مَّنْ خَشِىَ ٱلرَّحْـمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٛ مُّنِيبٍٛ ٣٣

  • It is he who felt awe of Omnipresence of Ar'Reh'maan the Exalted, without being in his sight —And he came with a dedicated heart. [50:33]

جس نے الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا احساس رکھا،اپنی بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود،اور وہ وقف کئے ہوئے قلب کے ساتھ آیا—(سورۃ قؔ۔ ۳۳)

Root: ن و ب

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٟمٛۖ ذَٟلِكَ يَوْمُ ٱلُخُلُودِ ٣٤

  • When their turn arrives, it will be said to them: "Enter her (Paradise) in peace, with a sense of complete security and reassurance. This is the Day of Eternal Life"—(the very thing about which Iblis had first deceived mankind). [50:34]

باری آنے پر ان لوگوں سے کہا جائے گا"آپ اس (جنت)میں داخل ہو جائیں سلامتی سے امان دئیے ہوئے احساس کے ساتھ۔ یہ حیات جاوداں کا دن ہے"(جس بارے ابلیس نے پہلا دھوکہ دیا تھا)

لَـهُـم مَّا يَشَآءُونَ فِيـهَا وَلَـدَيْنَا مَزِيدٚ ٣٥

  • Whatever they would desire therein, it will be served for them. And there is much more with Our Majesty. [50:35]

وہ جس جس  شئےکی خواہش کریں گے وہ ان کے رب کی جانب سے ان کے لئے دستیاب کر دیا جائے گا۔اور ہم جناب کے پاس اور بہت کچھ انہیں دینے کے لئے موجود ہے۔


وَكَمْ أَهْلَـكْنَا قَبْلَـهُـم مِّن قَرْنٍٛ هُـمْ أَشَدُّ مِنْـهُـم بَطْشٙا

  • And quite many civilizations before them in human history Our Majesty have annihilated seizing them completely; they were powerful than them —

کچھ اندازہ ہے کہ کتنی ہی تہذیبیں ان سے قبل انسانی تاریخ میں تھیں جنہیں ہم جناب نے نیست و نابود کر دیا تھا۔وہ اِن لوگوں کی نسبت زیادہ  سخت جو تھے،لوگوں کے استحصال اور قابو رکھنے کے حوالے سے۔

Root: ق ر ن

فَنَقَّبُوا۟ فِـى ٱلْبِلَٟدِ هَلْ مِن مَّحِيصٍٛ ٣٦

  • Thereat [when seized] they explored in the lands as to whether there was any place for escape. [50:36]

چونکہ گرفت میں لینے والی آفت سخت اور شدید تھی تو اس وقت وہ چوہوں کی مانند علاقے میں کسی سوراخ کے متلاشی تھے کہ کیا ہے کوئی ایسی چھپنے کی جگہ جہاں پناہ لی جا سکے۔

Root: ن ق ب; ح ى ص

إِنَّ فِـى ذَٟلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَ لْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٚ ٣٧

  • Indeed in this information is a lesson - cause for getting alarmed for the one, a heart is there that functions for his as visionary or who let the faculty of listening confront it — And thus he becomes as if he were a witness to the happened incidents. [50:37]

یقیناً تنبیہ اورنصیحت کا پہلو تاریخ کے ان اوراق میں ایسے شخص کے لئے موجود ہے جس کو سمجھانے کے لئے قلب موجود ہے یا جس نے سماعت کو اس پر مرکوز کیا۔اس انداز میں جیسے وہ موقع پر موجود مشاہدہ کر رہا تھا۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٛ ٣٨

  • Be cognizant of the fact; Our Majesty has innovatively created the Skies and the Earth, and all whatever exists in between the two of them, in a time duration of six days [time reckoned in outside this/your universe] —And nothing touched Our Majesty from weariness [which could necessitate rest as some people keep conjecturing]. [50:38]

اس حقیقت کو یقینی انداز میں جان لو؛ ہم جناب نے تخلیق فرمایا  ہےسات آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔اور ہمیں قطعی تکان نے چھوا تک نہیں(جو آرام کا متقاضی بنتا جیسے بعض لوگ ہوا میں باتیں کرتے رہتے ہیں)۔

  Root: خ ل ق; س ت ت;ل غ ب               Man and the Universe

فَٱصْبِـرْ عَلَـىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّـحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ ٱلْغُـرُوبِ ٣٩

  • Since their slanders are disturbing but are worthless, therefore, remain coolly perseverant upon what they say - slander —And express glory with praises of your Sustainer Lord before the Sunrise and before the Sunset — [50:39]

چونکہ ان  کی ہرزہ سرائی  مہمل اور درخور اعتنا نہیں  مگر آپ کے لئے باعث کوفت ہے،اس لئے آپ(ﷺ) سے کہہ رہے ہیں کہ آپ استقلال و استقامت سے اپنے نکتہ نظر سے پیوست رہتے ہوئے سکون و تحمل سے ان کی ریشہ دوانیوں پر مبنی باتوں کو برداشت کریں جو وہ (عمائدین) لوگوں سے کہتے رہتے ہیں۔اوراپنے رب  کو مطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تگ و دو فرماتے رہیں   اس حال میں کہ آپ(ﷺ)ان جناب کی  طلوع شمس اور غروب شمس سے قبل  حمدیہ تسبیح کریں ۔  

Root: س ب ح; ط ل ع; غ ر ب؛ ش م س

وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَٟرَ ٱلسُّجُودِ ٤٠

  • And in the part of the night thereat/for reason you state glory with praises of Him, and after the prostrations. [50:40]

چونکہ سردیوں کی راتیں طویل ہوتی ہیں اس لئے ان میں کسی پہران جناب کی تسبیح کریں،اور ان لمحات میں جب سجود(صلوٰۃ)سے فارغ ہو چکے۔

وَٱسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ ٱلْمُنَادِ مِن مَّكَانٛ قَرِيبٛ ٤١

  • And instead of paying attention to their words, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] should focus on the announcement that will soon be revealed to them—the day when the caller will call them from a nearby place—[50:41]

اور بجائے ان کی باتوں پر دھیان دینے کے  آپ(ﷺ)اس  خبر  پرغور  کریں جو ان پر جلد آشکار ہو جائے گی جس دن  پکارنے والا انہیں  ایک قریبی  مکان سے پکارے گا۔

يَوْمَ يَسْمَعُونَ ٱلصَّيْحَةَ بِٱلْحَقِّۚ ذَٟلِكَ يَوْمُ ٱلْخُرُوجِ ٤٢

  • The Day when they shall hear the Blast with the Truth — and the certainty of what they denied will overwhelm them — that is the appointed Day of emergence. (Cf. 30:12; 45:27) — [50:42]

جس دن ہے  وہ ہولناک دھماکے کو  سن  رہے ہوں گے ، اس کے  عین حقیقت ہونے کے شعور  اور یقین کے ساتھ  ۔یہ ہے وہ دن  جو زمین سے نکلنے کے لئے متعین ہے

Root: ص ى ح

إِنَّا نَـحْنُ نُحْيِـىۦ وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا ٱلْمَصِيـرُ ٤٣

  • Of course Our Majesty are the alone Who grant life and Our Majesty alone cause the living to die death —And to Our Presence, all must return.. [50:43]

ہم جناب  ہی ہیں جو زندگی  بخشتے ہیں اور ہم ہی  ذی حیات کو موت دیتےہیں۔اور ہم جناب کے حضور   سب کوپلٹنا ہے۔

Root: ص ى ر

يَوْمَ تَشَقَّقُ ٱلۡأَرْضُ عَنْـهُـمْ سِرَاعٙاۚ ذَٟلِكَ حَشْـرٌ عَلَيْنَا يَسِيـرٚ ٤٤

  • The Day when the Earth will split apart above them, suddenly and swiftly—That gathering (of the dead) is an effortless matter for Our Majesty. [50:44]

یہ وہ دن ہے جب ان کے اوپر سے زمین یکایک شگافتہ ہو جائے گی۔ان سب کو اکٹھا کرنا ہمارے لیے ایک بالکل آسان امر ہے۔

Root: ش ق ق؛  س ر ع؛ى س ر

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْـهِـم بِجَبَّارٛۖ فَذَكِّرْ بِٱلْقُرْءَانِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ٤٥

  • Our Majesty know best what they people keep saying (slanders about you)—While you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are certainly not upon them a forcing/ compelling one —Since their slanders are not worth attention, therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] narrate/remind with the Qur’ān, the one who cares/fears My warning/ admonishing (a sign of a truly living person). [50:45]

ہم جناب بخوبی جانتے ہیں ان لوگوں کی ہرزہ رسائی کے متعلق جو وہ آپ(ﷺ)کے بارے  لوگوں میں کرتے رہتے ہیں۔باوجود اس حقیقت کے کہ آپ(ﷺ) کبھی بھی ان پر جبرنہیں کرتے۔چونکہ ان کی ہرزہ سرائی  مہمل اوردرخور اعتنا نہیں اس لئے قرءان مجید کے مندرجات کے ذریعے آپ اس شخص کو انتباہ اور نصیحت کریں جو میری وعید سے خوف محسوس کرتا ہے (کیونکہ حقیقت میں وہی زندہ ہے)۔

 

051-ٱلذَّارِيَات

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


وَٱلذَّٟرِيَٟتِ ذَرْوٙا ١

  • And swearing is by those who (winds 18:45) raise particles flying and dispersing at other places, literally in the manner of picking up and disbursing them, [seed-condensation nuclei] — [51:01]

جس حقیقت کی جانب متوجہ کرنا مقصود ہے اس کے لئے ان (بوجھ اٹھانے والی  ہواؤں۔الکہف۔45)کاقسمیہ ذکر کرنا موزوں ہے  جوذرات کو اٹھا کر محو پروازکر کے انہیں دور لے جا کر بکھیر دیتی ہیں؛بالکل اوپر اٹھانے اور پھر بکھیر دینے کے انداز میں۔

Root: ذ ر و

فَٱلْحَٟمِلَٟتِ وِقْرٙا ٢

  • Thereby, they are the up-lifter, individually a weight [condensation nuclei-aerosol] — [51:02]

اس طرح وہ باربرداربن جاتی ہیں،ذرات کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔

Root: و ق ر

فَٱلْجَٟرِيَٟتِ يُسْـرٙا ٣

  • Thereat they are the Sailing ones, in comfortable smooth manner — [51:03]

اس کے بعد وہ ازخود بہنے والیاں بن جاتی ہیں،آسان خراماں انداز میں۔

Root: ى س ر

فَٱلْمُقَسِّمَٟتِ أَمْرًا٤

  • Eventually they are the Distributors of the Commanded affair [rain]. [51:04]

چونکہ کسی منزل کی جانب رواں ہوتی ہے اس لئے وہاں پہنچ کر دئیے ہوئے حکم کے مطابق تقسیم کر دینے والیاں  بن جاتی ہیں۔

Root:  ق س م

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٚ ٥

  • The point to emphasize is that what you people are being alarmed about is but truthful accomplisher — [51:05]

مقصد یہ تنبیہ کرنا ہے کہ  تم لوگوں سے جو  وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً سچائی بیان کرنے والا ہے۔

وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٟقِـعٚ ٦

  • And that it is certain fact, the Day of Requital is certainly the happening one. [51:06]

اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ جزا و سزا کا دن وقوع پذیر ہونے والا ہے۔

Root: و ق ع

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْحُبُكِ ٧

  • Moreover by the Sky; her peculiar feature is that she is the possessor of the curved interlaced tracks - paths: [51:07]

اور آسمان کی قسم!اس کی مخصوص خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ، باہم الجھی ہوئی اور خمیدہ راہوں -راستوں کی حامل ہے۔

إِنَّكُـمْ لَفِـى قَوْلٛ مُّخْتَلِفٛ ٨

  • Indeed, you people are certainly engrossed in a deliberately discordant and self-contrived assertions.

بیشک، تم لوگ یقینی طور پر جان بوجھ کر گھڑے گئے اور باہمی تضاد پر مبنی دعوؤں میں مگن ہو۔

يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ٩

  • That person will continue to be turned away from this inevitable day, who is already in a state of aversion to the self-evident reality of the existence of the Creator. [51:09]

وہ شخص اس ناگزیر دن سے ردگرداں کیا جاتا رہے گا جو پہلے ہی بدیہی حقیقتِ وجود خالق سے  برگشتہ حالت میں ہے۔

Root: ء ف ك

قُتِلَ ٱلْخَـرَّٟصُونَ ١٠

  • Disgraced and banished are those who, disregarding truth and wisdom, deliberately fabricate lies based on mere imagination and persistently propagate them.— [51:10]

رسوا اور راندہ درگاہ ہوئے وہ لوگ جو حقیقت و دانش سے ماورا، تخیل کی بنیاد پر جھوٹی باتیں دانستہ گھڑتے اور گھڑ گھڑ کر پیش کرتے ہیں۔

Root: ق ت ل

ٱلَّذِينَ هُـمْ فِـى غَمْرَةٛ سَاهُونَ ١١

  • These fabricators of falsehood are the ones who, in their reckless pursuit of maintaining dominance and self-interest, remain deluded in self-deception. [51:11]

یہ جھوٹ پھیلانے والے وہ ہیں جو اپنے مفادات اور غلبے کو برقرار رکھنے کی بےخودی میں خود فریبی کا شکار ہیں۔ 

Root: غ م ر

يَـسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٢

  • They ask people, "When is to come the Day of the Accountability/Requital?" [51:12]

وہ فریب زدہ/فریب کارپوچھتے رہتے ہیں ”احتساب اورجزا و سز فیصلے کادن مستقبل کی کس تاریخ کو ٹھہرایا گیا ہے؟“

يَوْمَ هُـمْ عَلَـى ٱلنَّارِ يُفْتَنُونَ ١٣

  • This is the day when they will be thrown into the fire, causing them intense anxiety and agitation. [51:13]

یہ وہ دن ہےجب انہیں شدید اضطراب اور ہیجان میں مبتلا کرنے کے لیے آگ پر جھونکا جائے گا۔

ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُـمْ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُـم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ ١٤

  • They will be told, "Taste the torment of your chaos and confusion. This is what you used to demand with mockery to hasten it (reference: Al-Hajj, 47)." (to deceptively convince others it as conjecture and delusion). [51:14]

ان سے کہا جائے گا"اپنے ہیجان  و انتشارکا مزہ چکھو۔یہی ہے وہ ہ جس کے  عجلت میں وقوع پذیر ہونے کا  از راہ مزاح تم  مطالبہ کرتے تھے (حوالہ الحج۔47)"۔

Root: ذ و ق;  ع ج ل


إِنَّ ٱلْمُتَّقِيـنَ فِـى جَنَّٟتٛ وَعُيُونٍٛ ١٥

  • It is a reality that those who live in reverent fear of Allah, seeking His protection and striving to avoid His displeasure, will be granted a majestic and joyous life in spacious abodes, embellished with lush gardens and gushing springs. — [51:15 is Replica/Mirror of 15:45]

    یہ حقیقت ہے کہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار  باغات اور چشموں سے مزین  وسیع رہائش گاہ  میں خوش و خرم شاہانہ زندگی بسر کریں گے۔(من و عن الحجر۔45)

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰـهُـمْ رَبُّـهُـمْۚ

  • Beneficiaries of that which is given to them by the Sustainer Lord of them.

وہ نعمتوں سے بہرمند ہوتے رہیں  گےجو ان کے رب انہیں عنایت کریں گے۔

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٟلِكَ مُحْسِنِيـنَ ١٦ 

  • Indeed, their praiseworthy habit before receiving this reward was that they upheld excellence in character, moderation, and gracious conduct in worldly life. [51:16]

یقیناً  ان کی قابل ستائش عادت  اس صلہ کو پانے سے پہلے یہ تھی کہ حیات دنیا میں  حسن کردار،اعتدال اور حسن سلوک والے تھے۔

كَانُوا۟ قَلِيلٙا مِّن ٱلَّيْلِ مَا يَـهْجَعُونَ ١٧

  • They were in habit of sleeping a little time of the night (see 30:16) — [51:17]

ان کی رات میں سونے کی عادت  مختصر دورانیہ   کے لئےتھی۔((ساتھ دیکھیں الروم۔١٦)

Root: ھ ج ع

وَبِٱلْأَسْحَارِهُـمْ يَسْتَغْفِرُونَ ١٨

  • And in the moments between at end part of night and true dawn they consciously seek forgiveness. [51:18]

اور اللہ تعالیٰ  سے یہ لوگ  راتوں میں سحر کے وقت   پردہ پوشی اورمغفرت کے طلبگار ہوتے تھے۔

Root: س ح ر

وَفِـىٓ أَمْوَٟلِـهِـمْ حَقّٚ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ ١٩

  • And in their wealth is a right for those who ask and for the deprived ones. [51:19]

اور  یہ وہ لوگ  ہیں جو ایک معلوم مقدار کو اپنے اموال میں دوسروں کی فلاح و بہبود پر خرچ  کیا جانا ان کا حق مانتے ہیں  جو دست سوال  دراز کرتے ہیں  اور وہ جو اسباب زیست میں محرومی کا شکار ہیں ۔


وَفِـى ٱلۡأَرْضِ ءَايَٟتٌۭ لِّلْمُوقِنِيـنَ ٢٠

  • And in the Earth are tangible signs, for those who are convinced — [51:20]

اس حقیقت سے کیسے صرف نظر کیا جا سکتا ہے کہ کرہ ارض میں فلسفہ توحید (معبود مطلق)کی جانب رہنمائی /اشارہ کرنے والی نشانیاں موجود ہیں جو حقائق کو تسلیم کرنے والوں کے لئے  تیقن کا سبب ہیں ۔

Root: ي ق ن

وَفِـىٓ أَنفُسِكُـمْۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ٢١

  • And such signs are also visible in their own selves —

 اور ایسی نشانیاں خود ان کے  اپنے اندر بھی نمایاں ہیں۔

وَفِـى ٱلسَّمَآءِ رِزْقُكُـمْ وَمَا تُوعَدُونَ ٢٢

  • Know that your means of worldly sustenance are in the Sky, and the doors for entrance into that (Paradise-Gardens) which is being promised to you are also in the Sky.[51:22]

جان لو تمہارا سامان زیست اور اس  کے ابواب بھی  آسمان  میں موجود ہیں  جس (جنت اور باغات )کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ إِنَّهُۥ لَحَقّٚ مِّثْلَ مَآ أَنَّكُـمْ تَنطِقُونَ ٢٣

  • Therefore, by the Sustainer Lord of the Sky and the Earth, it is affirmed: Indeed, the fore-stated promise is an absolute certainty—just as certain as the fact that you speak with clarity. [51:23]

پس، آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم! یقیناً، یہ پہلے بیان کردہ وعدہ قطعی حقیقت ہے—جس طرح یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ تم لوگ صاف اور واضح طور پر گفتگو کرتے ہو۔

Root: ن ط ق


هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَٟهِيـمَ ٱلْمُكْـرَمِيـنَ ٢٤

  • Has the episode-incident of the honourable guests of Iebra'heim [alai'his'slaam] come to you the Messenger  [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —[51:24]

 آپ(ﷺ)تصدیق فرمائیں کیا آپ کو ابراہیم(علیہ السلام)کے پاس آنے والے صاحبان تکریم مہمانوں کے متعلق اطلاع مل چکی ہے۔

Root: ض ى ف;  ك ر م

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٟمٙاۖ قَالَ سَلَٟمٚ قَوْمٚ مُّنكَـرُونَ ٢٥

  • When they entered upon him, thereat meeting him they said, "We wish you peace and tranquillity". He returned salutation saying, "I wish peace and tranquillity remains upon you."; they were unrecognized people. [51:25]

جب  وہ ان کے گھر داخل  ہوئے توملاقات پر انہوں نے کہا’’آپ کی خدمت میں ہم سلام پیش کرتے ہیں‘‘۔انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے کہا’’آپ پر سلامتی رہے‘‘۔ان کے لئے وہ لوگ غیر شناسا اجنبی تھے۔

Root: ن ك ر

فَرَاغَ إِلَـىٰٓ أَهْلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجْلٛ سَـمِيـنٛ ٢٦

  • [Finding them unfamiliar faces/not of his place] Thereby, he went to his household and in sometime came back with a roasted calf [to serve the guests appearing to have come from a distant place] — [51:26]

چونکہ مہمان  جانے پہچانے نہیں تھے اور سفر کر کے آئے لگتے تھے اس لئے  وہ اپنے اہل خانہ کی جانب چلے گئے،اور کچھ وقت گزرنے پران کے تناول کے لئے بھنے بچھڑے کے ساتھ واپس آئے۔

Root: س م ن;  ع ج ل

فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيْـهِـمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ٢٧

  • Thereat he served it to them. [seeing that they have not put out their hand] He said, "Why you people are not eating?" [51:27]

دستر خوان پر سجانے کے بعد انہوں نے اس تناول کو انہیں پیش کیا۔(اس کی جانب ہاتھ نہ بڑھتے دیکھ کر )انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے پوچھا"کیا آپ تناول نوش نہیں کریں گے؟"

فَأَوْجَسَ مِنْـهُـمْ خِيفَةٙۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْۖ وَبَشَّـرُوهُ بِغُلَٟمٍٛ عَلِيـمٛ ٢٨

  • Thereat, (finding them not taking food) he felt the perception of slight apprehension from them (without exhibiting on face) —[noticing it] They said, "Please be not apprehensive —And they gave him the good news of birth of a highly knowledgeable son. [51:28]

    اس میزبانی سے عدم توجہ پر انہوں نے انہیں غیر معروف اجنبی جان کر    تاثر دئیے بغیران کی جانب سےہلکی سے  ناگواری اوربے چینی کو محسوس کیا۔انہوں(مہمانوں)نے کہا’’آپ پریشان نہ ہوں۔ اور انہوں نے ایک صاحب علم بیٹا پیدا ہونے کی انہیں خوشخبری دی۔

Root: و ج س;غ ل م

فَأَقْبَلَتِ ٱمْرَأَتُهُۥ فِـى صَرَّةٛ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيـمٚ ٢٩

  • Sequel to listening this, his wife [who was standing behind the door for servicing any thing of need for the guests-11:71] came in face to face in a contracted/wrapped state, immediately realizing having reflexively entered, feeling shy she covered her face with hand—And said, "An old barren woman! [will bear the son]" [51:29]

چونکہ دروازے کی اوٹ میں  مہمان داری کے لئے موجود تھیں اس لئے یہ بات سن کر لپٹی لپٹائی کمرے میں  حیرت و حیرانگی  اور خوشی کے جذبات سے مغلوب داخل ہو کر ان کے روبرو ہو گئیں۔فوراً احساس کرتے ہوئے انہوں نے چہرے کو ڈھانپ لیا۔اور انہوں نے استعجاب کرتے ہوئے کہا"ایک عمر رسیدہ بانجھ بڑھیا!"

Root: ص ر ر; م ر ء; ع ج ز;  ع ق م

قَالُوا۟ كَذَٟلِكِ قَالَ رَبُّكِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْحَكِيـمُ ٱلْعَلِيـمُ ٣٠

  • They replied to her, "This will happen in this condition; because, Madam, this has been said by the Sustainer Lord of you —Indeed He the Exalted is Infinitely Just Supreme Administrator of the created realms; the Fountain and Setter of knowledge - science of visible and invisible domains.". [51:30]

انہوں(فرشتوں)نے جواب دیا"محترمہ!ایسا اس حال ہی میں ہو گا۔آپ محترمہ کے رب نے یہ کہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ وہ  جناب  بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا،وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُـمْ أَيُّـهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ٣١

  • He said, "Now onwards what is your mission, O you the sent ones as Messengers!" [51:31]

انہوں(ابراہیم علیہ السلام)نے پوچھا"یہ باتیں تو ہو گئیں،اب بتائیں آپ کا مشن کیا ہے،اے ارسال کردہ پیامبروں؟"

Root:  خ ط ب

قَالُوٓا۟ إِنَّـآ أُرْسِلْنَآ إِلَـىٰ قَوْمٛ مُّجْرِمِيـنَ ٣٢

  • They replied, "Indeed we have been sent towards nation of criminals — [51:32]

انہوں نے کہا"حقیقت یہ ہے کہ ہم مجرم قرار پائے لوگوں کی جانب بھیجے گئے ہیں۔

لِنُرْسِلَ عَلَيْـهِـمْ حِجَارَةٙ مِّن طِيـنٛ ٣٣

  • They replied, "Indeed we have been sent towards nation of criminals — [51:33]

انہوں نے کہا"حقیقت یہ ہے کہ ہم مجرم قرار پائے لوگوں کی جانب بھیجے گئے ہیں۔

مُّسَوَّمَةٙ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْـرِفِيـنَ ٣٤

  • Those stones were earmarked by your Sustainer Lord for the transgressors". [51:34]

ان کنکریوں کو آپکے رب کے فرمان کے مطابق نشان زدہ کیا گیا ہے خصوصی طور پر  قیود کی تمام حدیں پھلانگ جانے والوں کے لئے"۔

Root:  س و م;  س ر ف

فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيـهَا مِنَ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٣٥

  • In keeping with promise Our Majesty took out every one of those who was in the group  of Believers. [51:35]

چونکہ  رسول اورایمان لانے  والوں کومحفوظ پناہ دیناہمارا وعدہ ہے اس لئے ہم نے ہر ایک کو جو اس بستی میں  مؤمن تھا آفت سے کچھ وقت پہلے نکال لیا تھا۔

فَمَا وَجَدْنَا فِيـهَا غَيْـرَ بَيْتٛ مِّنَ ٱلْمُسْلِمِيـنَ ٣٦

  • And We did not find in that township any house of people adhering to Islam except one [51:36]

اور ہم نے اس بستی میں سوائے ایک گھر کے، کسی ایسے لوگوں کا گھر نہیں پایا تھا جو اسلام پر کاربند ہوں

وَتَرَكْنَا فِيـهَآ ءَايَةٙ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيـمَ٣٧

  • And in that Our Majesty have left an evident visible sign/lesson in her (Lake of Luet)) for those people who fear the humiliating torment. [51:37]

 اور ہم جناب نے ایک واضح نشانی(بحیرہ مردار) اس بستی میں  چھوڑ دی ہے  ایسے لوگوں کے لئے جو دردناک عذاب کے امکان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔


وَفِـى مُوسَـىٰٓ إِذْ أَرْسَلْنَٟهُ إِلَـىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٛ ٣٨

  • And there is a lesson in the episode of Mūsā [alai'his'slaam] when We sent him to Fir'aoun/Pharaoh with evidently distinct authority/argument/logic — [51:38]

اور موسیٰ(علیہ السلام)سے متعلق تاریخ کے بیان میں یقین کی پختگی پانے والوں کے لئے رہنمائی ہے جب ہم جناب نے انہیں فرعون کی جانب  بحثیت رسول بھیجا تھا واضح سندو اختیار کے ساتھ۔

Root: س ل ط

فَـتَوَلَّـىٰ بِرُكْنِهِۦ وَقَالَ سَٟحِرٌ أَوْ مَجْنُونٚ ٣٩

  • Since the majority of the chiefs disagreed with his close confidants, he left the gathering in annoyance, taking his powerful supporter (Haman) with him, saying, "He (Moses, peace is upon him) is either a sorcerer or someone lost in delusions."  [51:39]

چونکہ سرداروں کی اکثریت نے اس کے  قریبی معتمدین سے اختلاف کیا تھا اس پر ناگواری سے  اپنی طاقتور شخصیت(ھامان)کو ساتھ لے کر محفل سے اٹھ کر چلا گیا، یہ کہتے ہوئے"وہ (موسیٰ علیہ السلام)یا توشعبدہ باز /جادوگرہے یا خیالات میں گم کردہ"۔

Root: ر ك ن; س ح ر

فَأَخَذْنَٟهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَٟهُـمْ فِـى ٱلْيَـمِّ وَهُوَ مُلِيـمٚ ٤٠

  • Since they pursued, We seized him and his military units. Then We cast them into the Sea of Suez, while he was remorseful, blaming himself for his rebellion and mistakes. [he took the initiative to enter on the bridge] [51:40]

چونکہ انہوں نے تعاقب کیا اس لئے ہم جناب نے اسے اور اس کے فوجی دستوں کو گرفت میں لے لیا۔اورعارضی طور پر سطح سمندر پر ابھارے پل نما ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرنے پرہم جناب نے انہیں اوپر سے نیچے سمندر /بحر سویزکے اندر پھینک دیا۔اس حال میں وہ اپنی سرکشی اور غلطیوں پر نادم ہو کر اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔

Root: ن ب ذ; ى م م؛ل و م

وَفِـى عَادٍٛ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمُ ٱلـرِّيحَ ٱلْعَقِيـمَ ٤١

  • And in the fate of A'ad civilization  there is a lesson for those who believe, when We sent upon them the devastating wind (which blew continuously for seven nights and eight days). [51:41]

اور  قوم عاد کے انجام  میں بھی  یقین  رکھنے والوں کے لئے عبرت ہے جب ہم جناب نے ان پراجاڑنے والی آندھی  بھیجی(جوسات راتیں اور آٹھ دن  تک مسلسل چلتی رہی )۔  

Root: ر و ح;  ع ق م

مَا تَذَرُ مِن شَـىْءٛ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَٱلرَّمِيـمِ ٤٢

  • Circumstantially she was sparing not at all a thing upon which she came except that she rendered it as like disintegrated ruins. [51:42]

وہ(آندھی)کسی بھی شئے کو نہیں چھوڑتی تھی جس پر وہ پہنچی سوائے اس کو ایسے بنا دینے کے جیسے وہ ریزہ ریزہ فرسودہ حال ہو۔

Root: ر م م; و ذ ر

وَفِـى ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَـهُـمْ تَمَتَّعُوا۟ حَتَّىٰ حِيـنٛ ٤٣

  • And there is a lesson in the episode of civilization Samued when it was said for them, "you people enjoy for some time." [51:43]

اور  قوم ثمود کے انجام  میں بھی  یقین  رکھنے والوں کے لئے عبرت ہے  جب ان کے لئے کہا گیا"چونکہ یہ عنایات  فقط اظہار ربوبیت ہے اس لئے تم لوگ اسباب زیست سے لطف اندوز ہوتے رہوایک  مدت کے لئے۔۔

فَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّـهِـمْ فَأَخَذَتْـهُـمُ ٱلصَّٟعِقَةُ وَهُـمْ يَنظُرُونَ ٤٤

  • Thereat they rebelled against the command of the Sustainer Lord of them whereupon the thunderstorm seized them while they were watching it. [51:44]

مگر اس تنبیہ کے باوجود انہوں (قوم ثمود)نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں مہلت کے اختتام پر انہیں گھن گرج اورچمک نے آن لیا،اوروہ مسلسل دیکھ رہے تھے۔

فَمَا ٱسْتَطَٟعُوا۟ مِن قِيَامٛ وَمَا كَانُوا۟ مُنتَصِرِينَ ٤٥

  • Thereat, they were neither able to think about some refuge, none at all, and nor were they in a position to rescue on self help basis. [51:45]

بسبب شدت گرج چمک نہ تو  انہیں  (قوم ثمود)استطاعت ہوئی کسی محفوظ پناہگاہ کی جستجو کرنے کی  اور نہ خود اس قابل تھے کہ اپنی مدد آپ کرنے والے بن سکتے ۔

وَقَوْمَ نُوحٛ مِّن قَبْلُۖ إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَوْمٙا فَٟسِقِيـنَ ٤٦

  • And the people of Noah [alai'his'slaam] were annihilated in foretimes—Indeed they were a people who remained aberrant: deviants and limits violator. [51:46]

اور قبل کے دور میں نوح(علیہ السلام)کی قوم کونیست و نابود کر دیا  تھا۔ان کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم تھے جن کی سرشت وعدہ خلافی اورطے شدہ معاملات سے نفرت انگیز طور ہر الگ ہو جانا تھا۔

Root: ف س ق


وَٱلسَّمَآءَ بَنَيْنَـٟـهَا بِأَيي۟دٛ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ٤٧

  • They do not even pay attention (50:6). You people, reflect upon the sky! We have built it with Our will, and indeed, We are continuously expanding it. [51:47]

وہ تو دھیان سے دیکھتے بھی نہیں(قۤ۔6)تم لوگ آسمان پر غور کرو۔ہم جناب نے اسے اپنی قوت ارادی سے بنایا ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ ہم اسے مسلسل پھیلا رہے ہیں۔

Root: و س ع

وَٱلۡأَرْضَ فَرَشْنَٟهَا فَنِعْمَ ٱلْمَٟهِدُونَ ٤٨

  • And reflect upon the earth! We have made it like a spread-out carpet. So reflect upon how We are the best of levellers. [51:48]

اور زمین پر غور کرو۔ہم نے اسے مانند فرش بنا دیا تھا۔تو غور تو کرو کہ ہم کمال کے ہموار کرنے والے ہیں۔

Root: م ھ د       History of the Earth

وَمِن كُلِّ شَـىْءٛ خَلَقْنَا زَوْجَيْـنِ لَعَلَّـكُـمْ تَذَكَّرُونَ ٤٩

  • And observe the fact; Our Majesty has created coupling - complementary pairing - binary composition with regard to every entity-element that exists. The objective of couplings - binary composition of all the created units-elements is that you people might at your own conveniently comprehend, save in memory, recall and relate. [51:49]

اس حقیقت پر غور کرو؛ہم جناب نے ہر ایک ایک  منفردشئے کوہمسر جوڑے بنا کر تخلیق کیا ہے۔فطرت کے طریقہ کار کے متعلق معلومات دینے سے مقصد اور امکان ہے کہ تم لوگ از خود یاداشتوں میں محفوظ رکھ کر نصیحت لے سکو۔

Root: ز و ج; ش ى ء

فَفِرُّوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِۖ إِ نِّـى لَـكُـم مِّنْهُ نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ٥٠

  • You the Messenger advise people by saying: "If you have reflected upon awe-inspiring visible realities then hasten towards Allah the Exalted —Indeed I am Warner and Admonisher appointed by Him the Exalted. It is my responsibility and role to warn you of the dire consequences of disbelief and disobedience. I am warning all of you in the clearest, most explicit, and straightforward manner. [51:50]

آپ(ﷺ)لوگوں کو ہدایت کریں’’اگر تم لوگوں نے خشیت انگیزحقائق کا بغورمشاہدہ   کر لیا ہے تو جلدی سے اللہ تعالیٰ کی طرف چلو۔یہ حقیقت ہے کہ   ان جناب کی جانب سے مجھےذمہ داری اور کردار سونپا گیا ہے کفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے  کا ، مجھےآپ سب لوگوں کوانتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا ہے۔

Root: ف ر ر

وَلَا تَجْعَلُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٟهًا ءَاخَرَۖ

  • And you people should not ascribe along with Allah the Exalted any other iela'aha: godhead —

اور تم لوگوں کو چاہئے کہ  اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود  مت بناؤ۔

إِنِّـى لَـكُـم مِّنْهُ نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ٥١

  • And indeed I am from Him for you people the Distinctly Manifest Warner/Revivalist/ Admonisher." [51:51]

یہ حقیقت ہے کہ   ان جناب کی جانب سے مجھےذمہ داری اور کردار سونپا گیا ہے کفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے  کا ، مجھےآپ سب لوگوں کوانتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا ہے"۔

كَذَٟلِكَ مَآ أَتَـى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـم مِّن رَّسُولٍٛ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِـرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ٥٢

  • You the Messenger do not be disheartened by the mockery and scorn of the arrogant elite. The reaction of those to whom messengers were sent before was also the same—they said, "He is either a sorcerer or someone lost in delusion.

آپ (ﷺ)سرکش عمائدین کی ہرزہ سرائی سے کبیدہ خاطر نہ ہوں ؛ ان لوگوں کا ردعمل بھی یہی تھا  جن کی جانب  زمانہ قبل میں رسول آئے تھے  کہ انہوں نے کہا"وہ جادوگرہے یا خیالات میں گم کردہ ہو گیا ہے"۔

Root: س ح ر

أَتَوَاصَوْا۟ بِهِۦۚ بَلْ هُـمْ قَوْمٚ طَاغُونَ ٥٣

  • Are they obligatorily tied with this legacy? Nay the fact is that they are transgressing people. [51:53]

کیا وہ  اس طرز عمل کے پابند بنائے گئے ہیں۔نہیں ایسا نہیں؛درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو حدود و قیود کو پامال کرنے  اپنی اوقات سے زیادہ ابلنے والا گروہ ہیں۔

Root: ط غ ى; و ص ى

فَتَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٛ ٥٤

  • Since you have unequivocally cautioned, therefore, you the Messenger turn away from them, the adamant elite. Thereby, there will be no blame upon you for their landing into Hell (see 2:119)— [51:54]

چونکہ آپ (ﷺ)نے واضح اور دو ٹوک انداز میں انہیں متنبہ کر دیا ہے، اس لیے  آپ ان سرکش عمائدین سے منہ موڑ لیں۔ چونکہ   وہ آخرت پر دنیاوی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے آپ پر ان کے جہنم میں جانے کا کوئی الزام نہیں ہو گا (سوال بھی نہیں ہو گادیکھیں  البقرۃ۔119)

Root: ل و م

وَذَكِّرْ فَإِنَّ ٱلذِّكْرَىٰ تَنفَعُ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ٥٥

  • And you remind [with Qur’ān] since it is a fact that the Qur’ān/Admonition causes benefit to the truly Believers. [51:55]

مگرآپ لوگوں کو نصیحت اور تاریخ سے سبق لینے کا درس دیتے رہیں۔موقع محل  کے مطابق تادیب صدق قلب سے ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی رہتی ہے۔


وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ٥٦

  • Know it; I not at all created the species of Jinn and humankind merely so that they might come into existence (Cf. 23:15); rather, I created them with the ultimate purpose that they may consciously recognize their station of servitude, willingly devote themselves to My obedience, and—guided by eschatological awareness—align every moment of their lives with the order and way of life I have instituted. (Cf. 2:21-22; 6:162; 7:179) [51:56]

اور میں نے جن و انس کو ہرگز اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ محض وجود میں آ جائیں،بلکہ اس غایت کے ساتھ کہ  شعوری طور پر اپنے مقامِ عبودیت کو پہچانیں، بطیب خاطرمیری بندگی کریں ،یعنی عاقبت اندیشی کے ساتھ  اپنی حیات کے ہر لمحے کو  میرے مرتب کردہ آئین اور ضابطہ حیات کے تابع کریں۔(الذاریات۔۵۶)

مَآ أُرِيدُ مِنْـهُـم مِّن رِّزْقٛ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ٥٧

  • Understand the aforesaid concept; not at all I have intention of taking some subsistence from the adamant elite among them (as they apprehend 28:57). And nor I want that they should feed Me. [51:57]

بندگی کا مفہوم سمجھو؛میں ان  میں ہٹ دھرم عمائدین (جو خدشہ وہ ظاہر کرتے ہیں القصص۔٥٧)سے سامان زیست میں سے کچھ لینے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتا اور نہ  ہی یہ کہ وہ مجھے کھلائیں۔

Root: ط ع م

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِيـنُ ٥٨

  • The undeniable reality is that Allah the Exalted is the One who is the Owner and Bestower of all provisions. He is the Possessor of all power, and He is eternally firm, strong, and invincible in His essence. [51:58]

بدیہی حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ جناب ہیں جو تمام طرح کے رزق کے مالک اور عنایت کرنے والے ہیں۔وہ تمام قوت کے مالک ہیں۔اوروہ جناب   اپنے آپ میں ہمیشہ سے مستحکم، مضبوط اور ناقابل تسخیر ہیں۔ 

Root: م ت ن

فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذَنُوبٙا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَـٟـبِـهِـمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ٥٩

  • Since there is respite period and the Day of Requital is predetermined, indeed there shall be chastisement for those who transgressed similar to chastisement of their like-minded fellows and trailblazers —Since that chastisement will be very severe, therefore, they should not deceptively feign before people asking Me for hastening it. [51:59]

چونکہ مہلت کا وقت بھی ہے اور یوم سزاوجزا مقررہ ہے،اس لئے  اُس  وقت یقیناً ان لوگوں کے لئے سزا ہے جنہوں نے حقیقت کے منافی طرز فکر و عمل کو اپنایا تھا،اس کے مماثل سزا جو ان کے رفقاء اور اتالیقوں کو ملے گی۔چونکہ وہ سزا سخت ہے اس لئے ایسے عمائدین  کو چاہئے کہ اپنے لوگوں کو فریب دینے کے لئے بناوٹی طور پر  بھی مجھ سے عجلت کا  مطالبہ نہ کریں۔

Root: ع ج ل

فَوَيْلٚ لِّلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِن يَوْمِهِـمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ٦٠

  • Thereby, woe/regret is the upshot, for those who persistently refused to believe the Messenger and Qur’ān, upon witnessing/ confronting their day, one which is being promised to them [51:60]

رسول کریم اورقرءان مجید کا انکار کرنے والوں کا انجام کارخود  اپنی مذمت و ملال       مشہودحقائق کی وجہ سے  معمول ہو  گاان کے دن جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

Root: و ى ل

052-ٱلطُّوْر‎‎

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


وَٱلطُّورِ ١

  • And swearing by At-Tur: the long stretching Mountain Range of Sinai— [52:01]

غور سے سنو؛قسم ہے طویل سلسلہ کوہ طور کی

Root: ط و ر

وَكِتَٟبٛ مَّسْطُورٛ ٢

  • And by a book (Mother - Principal), its characteristic is that it is written on line-aligned—[52:02]

اوراس کتاب کی جس میں تحریرکوسطور میں  ترتیب اورمرقوم  کیا گیاہے۔

فِـى رَقّٛ مَّنْشُورٛ ٣

  • It is inscribed within a qualitatively fine spread scroll-disc—[52:03]

یہ کتاب ایک  ایسے نفیس قرص میں محفوط ہے جسے پھیلایا گیا ہے۔

وَٱلْبَيْتِ ٱلْمَعْمُورِ ٤

  • And by the House, its prominent feature is that it is frequented - enlivened - vivified (Ka'aba)—[52:04]

اور قسم ہے اس مخصوص گھر(کعبہ معظمہ)کی جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے رونق افروز،چہل پہل کا مقام بنا دیا گیا ہے۔

Root: ع م ر

وَٱلسَّقْفِ ٱلْمَرْفُوعِ ٥

  • And by the Canopy raised high—[52:05]

اوراس مخصوص چھت کی جس کو بلندی پر اٹھایا گیا ہے۔

Root: ر ف ع;  س ق ف

وَٱلْبَحْرِ ٱلْمَسْجُورِ ٦

  • And by the Sea whose characteristic is that fuel is placed in it—[52:06]

اور اس سمندر کی جس میں ایندھن رکھا گیا ہے۔

Root: س ج ر

إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٟقِـعٚ ٧

  • The oaths are to emphasize the certainty of fact that the infliction of your Sustainer Lord is inevitable happening at any moment— [52:07]

مقصود یہ  بتانا ہے کہ ان حقائق کی مانند آپ(ﷺ)کے رب کی جانب سے کسی بھی لمحے  عذاب کاوقوع پذیر ہونا ایک حقیقت ہے۔

مَّا لَهُۥ مِن دَافِـعٛ ٨

  • There is none at all who could avert/prevent that from happening. [52:08]

تمام کے تمام حفاظت و مزاحمت کرنے والوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اس (عذاب)کے لئے ہٹانے اور زائل کرنے والا بن سکے۔

يَوْمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوْرٙا ٩

  • The Day it happens, the Sky will be undulating fidgeting, frantically— [52:09]

جس دن یہ واقعہ پیش آئے گا، آسمان بےقراری سے لہرا رہا ہوگا، بےچینی سے موجزن ہوگا۔

Root: م و ر

وَتَسِيـرُ ٱلْجِبَالُ سَيْـرٙا ١٠

  • And the mountains will be continuously in motion, gradually dispersing across the land. [52:10]

اور پہاڑ   مسلسل  حرکت پذیر ہوں گے،آہستہ آہستہ  زمین پر بکھرنے کے انداز میں۔

Root: س ى ر

فَوَيْلٚ يَوْمَئِذٛ لِّلْمُكَذِّبِيـنَ ١١

  • Consequently the Day they would have been resurrected, woe and regret will for those who publicly contradict it — [52:11]

بعد ازاں افسوس ، کڑھن،شومئی قسمت کا واویلہ دانستہ تکذیب کے مرتکب افراد کا معمول ہو گا جس دن وہ حیات ِنو دئیے جانے پر اکٹھے ہو چکے ہوں گے۔

Root: و ى ل

ٱلَّذِينَ هُـمْ فِـى خَوْضٛ يَلْعَبُونَ ١٢

  • They are those who are deeply engrossed in futile disputation, heedlessly playing around. [52:12]

یہ وہ لوگ ہیں جو بے مقصد بحث و تکرار میں غرق ہیں اور بے پروائی سے کھیل تماشا کر رہے ہیں۔

Root: خ و ض; ل ع ب

يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَـىٰ نَارِ جَهَنَّـمَ دَعًّا ١٣

  • The Day they will be forcefully shoved forward towards the blazing Fire of Hell, driven with repeated violent thrusts— [52:13]

جس دن انہیں زبردستی آگے دھکیلا جائے گا دہکتی ہوئی جہنم کی آگ کی طرف، بار بار شدید دھکوں کے ساتھ۔

هَـٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِـى كُنتُـم بِـهَا تُكَذِّبُونَ ١٤

  • It will be said: "This is the Fire—the very one you used to publicly contradict and vehemently deny. [52:14]

کہا جائے گا: "یہی وہ آگ ہے—جسے تم علانیہ جھٹلاتے اور شدت سے انکار کرتے تھے۔

أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُـمْ لَا تُبْصِرُونَ ١٥

  • Is this then some kind of magic, or is it that you still fail to perceive the Fire? [52:15]

کیا یہ پھر کوئی جادو ہے، یا یہ کہ تم اب بھی آگ کو دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر ہو؟

ٱصْلَوْهَا فَٱصْبِـرُوٓا۟ أَوْ لَا تَصْبِـرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْكُـمْۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ١٦

  • Go ahead, burn in it! Feel its scorching heat—fuel the very Fire you denied! Whether you endure it or not, it is all the same for you [since it is persisting punishment]. You are only being repaid for what you used to do habitually." [52:16]

آگے بڑھو، اس میں جلتے رہو! اس کی دہکتی ہوئی تپش کو محسوس کرو—اسی آگ کو بھڑکاؤ جس کا تم انکار کرتے تھے! چاہے تم صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے کوئی فرق نہیں پڑے گا [کیونکہ یہ مسلسل عذاب ہے]۔ تمہیں صرف ان ہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم عادتاً کرتے رہے"۔

Root: ص ل ى


إِنَّ ٱلْمُتَّقِيـنَ فِـى جَنَّٟتٛ وَنَعِيـمٛ ١٧

  • Indeed those who sincerely endeavor to attain salvation: are in the gardens and in delighted comfort— [52:17]

 یہ حقیقت ہے کہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگاروں کے لئے انعام   منتظرہے:وہ  باغات اور سہولیات سے مزین رہائش گاہ  میں خوش و خرم شاہانہ زندگی بسر کریں گے۔

فَٟكِـهِيـنَ بِمَآ ءَاتَىٰـهُـمْ رَبُّـهُـمْ وَوَقَىٰـهُـمْ رَبُّـهُـمْ عَذَابَ ٱلْجَحِـيـمِ ١٨

  • They will be rejoicing with delight over what their Sustainer has bestowed upon them  —while earlier their Sustainer Lord graciously shielded them from the torment of the Blazing Abyss. [52:18]

وہ اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر خوشی و مسرت کے عالم میں سرشار ہوں گے—جبکہ اس سے قبل، ان کے رب و پروردگار نے انہیں دہکتی ہوئی جہنم کے عذاب سے نہایت شفقت کے ساتھ محفوظ رکھا تھا۔

Root: ف ك ه; ج ح م

كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓئَۢا  بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ١٩

  • [they are told] "You people eat and drink with satisfaction for that which you people used to do". [52:19] (replica 77:43)

ان سے کہا جائے گا"آپ لوگ کھائیں اور پئیں  خوشگواری سے بغیر منفی احتمال کے۔یہ اس کا صلہ ہے جو آپ  حیات دنیا کے  گزرےآیام میں اپنے مستقبل  کے لئے اعمال کرتے تھے"۔

Root: ھ ن ء

مُتَّكِــِٔيـنَ عَلَـىٰ سُرُرٛ مَّصْفُوفَةٛۖ

  • They are enjoying reclining upon adorned cushioned spread couches/sofas—

وہ آرام دہ قطار در قطار رکھے   پر تکلف نشستوں پر بے تکلفی سے  خوش گپیوں کی محفل سجائے بیٹھے ہوں گے۔

Root: س ر ر; و ك ء

وَزَوَّجْنَٟهُـم بِحُورٍٛ عِيـنٛ ٢٠

  • And Our Majesty have coupled them in marriage with beautiful white texture and natured women; they are illustrious visionary. [52:20]

اور ہم جناب نے رشتہ ازدواج میں انہیں  صاف و شفاف رنگت اور طبیعت والی خواتین سے منسلک کر دیا۔وہ صاحبات چشم و بصیرت ہیں۔(الطور۔٢٠)

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّبَعَتْـهُـمْ ذُرِّيَّتُـهُـم بِإِيمَٟنٍ أَلْحَقْنَا بِـهِـمْ ذُرِّيَّتَـهُـمْ
وَمَآ أَ لَتْنَٟهُـم مِّنْ عَمَلِهِـم مِّن شَـىْءٛۚ
كُلُّ ٱمْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِيـنٌۭ٢١

  • And those who had truly believed—and their offspring followed them in faith—We shall reunite them with their descendants.
    And We will not diminish anything from their deeds in the least.
    Every individual shall
    remain established in the state he deserved — as requital and rightful consequence of what he earned. (Cf. 2:286; 3:161; 6:160; 16:111; 45:22; 46:19; 74:38) [52:21] 

ور وہ لوگ جنہوں نے سچے دل سے ایمان لایا—اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی—تو ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔
اور ہم ان کے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔
ہر ایک صاحب حریت  اپنی کمائی کے عوض اسی حالت میں  مستقل قرار پائے گا جس کا وہ استحقاق رکھتا /سزاوارہے۔

Root: ذ ر ر;  ل ح ق;  و ل ت;  ر ھ ن; م ر ء

وَأَمْدَدْنَٟهُـم بِفَٟكِـهَةٛ وَلَحْمٛ مِّمَّا يَشْتَـهُونَ ٢٢

  • And We shall lavishly provide them with exquisite fruits and succulent meat—whatever their hearts desire. [52:22]

اور ہم انہیں وافر مقدار میں لذیذ پھل اور مرغوب گوشت عطا کریں گے—جو کچھ بھی ان کے دل چاہیں گے۔

Root: ش ھ و; ل ح م; ف ك ه

يَتَنَٟزَعُونَ فِيـهَا كَأْسٙا لَّا لَغْوٚ فِيـهَا وَلَا تَأْثِيـمٚ ٢٣

  • As they sit together therein, they will joyfully exchange goblets of a drink—one free of side effects of indulging in irrational idle talk and devoid of any dilapidating and hangover effect. [52:23]

جنت میں وہ محفل جمائے بیٹھے خوشی سے جام گردش میں لائیں گے—ایسا مشروب جس میں بے مقصد بےہودہ گفتگو میں ملوث کرنے کا کوئی ضمنی اثر نہ ہوگا، اور نہ ہی اس کا کوئی نقصان دہ نشہ آور مضمحل کر دینے والا اثر باقی رہے گا۔

Root: ك ء س; ن ز ع

وَيَطُوفُ عَلَيْـهِـمْ غِلْمَانٚ لَّـهُـمْ كَأَنَّـهُـمْ لُؤْلُـؤٚ مَّكْنُونٚ ٢٤

  • And eagerly devoted young attendants of theirs shall circulate around them—so pristine as if they were well-preserved pearls, untouched and glistening. [52:24]

اور ان کے لیے سراپا اخلاص سے معمور کم سن خدمت گار ان کے گرد گردش کریں گے—ایسے نکھرے ہوئے جیسے کہ وہ خوب حفاظت کیے گئے چمک دار موتی ہوں۔

Root: ط و ف;  غ ل م; ل ء ل ء

وَأَقْبَلَ بَعْضُهُـمْ عَلَـىٰ بَعْضٛ يَتَسَآءَلُونَ ٢٥

  • And some of them will turn face to face with others, engaging in warm, thoughtful conversation. —[52:25]

اور جب وہ آرام دہ محفل میں شراب نوشی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، تبھی ان میں سے کچھ دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر  گرم جوشی اور سوچ بچار سے بھرپور انداز میں ایک دوسرے سے محو گفتگو ہوں گے۔

قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِـىٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِيـنَ ٢٦

  • They will say, “Indeed, we used to live among our people, deeply anxious (about our fate). — [52:26]

وہ کہیں گے، "بے شک!ہم اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے گھر والوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنے انجام کے بارے میں گہری فکر اور تشویش میں مبتلا رہتے تھے۔

Root: ش ف ق

فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ ٢٧

  • Then Allah the Exalted graciously bestowed His favour upon us and shielded us from the torment of the scorching, searing heat. [52:27]

پھر اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنا خاص فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی تپش کے عذاب سے محفوظ رکھ لیا۔

Root: م ن ن

إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْبَـرُّ ٱلرَّحِـيـمُ ٢٨

  • Indeed, before in worldly life, we used to invoke Him alone. Surely, He is the Most Kind and Generous Benefactor—the Ever Fountain of Infinite Mercy.” [52:28]

بے شک! دنیاوی زندگی میں اس سے پہلے ہم ہمیشہ اُن جناب ی کو پکارتے تھے۔ یقیناً وہ جناب  سب سے زیادہ مہربان اور فیاض بخشنے والے ہیں —وہ منبع رحمت ہیں"۔

فَذَكِّرْ فَمَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِكَاهِنٛ وَلَا مَجْنُونٍٛ ٢٩

  • Thereby, you—the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]—keep narrating. The straightforward, vivid, and unambiguous portrayal of the Hereafter in the preceding verses itself affirms that, by the grace of your Sustainer Lord, you are neither a soothsayer nor a prognosticator, nor are you obsessed by delusions. [52:29]

چنانچہ، آپ اے رسول کریم [ﷺ]برابر بیان فرماتے رہیں۔ ماقبل آیات میں آخرت کا سادہ، واضح اور غیر مبہم بیان خود اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ اپنے ربِّ کریم کے فضل سے نہ تو کوئی  جوتشی  پیش گوئی کرنے والے ہیں، اور نہ ہی آپ کسی وہم و خیال یا خبط میں مبتلا ہیں۔

Root: ك ھ ن

أَمْ يَقُولُونَ شَاعِـرٚ نَّتَـرَبَّصُ بِهِۦ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ ٣٠

  • Or do the chieftains in privies say; "He is just a poet - so let us keep ourselves in patient wait - for that peeving state of heart when people deserting him entangles him?" [52:30]

یا سردارانِ قوم اپنی خلوتوں میں  آپس میں تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں  "یہ تو محض ایک شاعر ہے -ہم اس کے ساتھ صابرانہ وابستگی میں ٹھہرے رہیں - اُس کبیدہ و مضطرب حالتِ دل کے منتظر کہ جب لوگوں کا اس سے برگشتہ ہو کر چھوڑ جانا اسے الجھا کر گھیر لے؟"

Root: م ن ن; ر ى ب

قُلْ تَرَبَّصُوا۟ فَإِ نِّـى مَعَكُـم مِّنَ ٱلْمُتَـرَبِّصِيـنَ ٣١

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] say, "Keep yourselves in a state of expectant watch! Since the disposal of affairs rests with Allah the Exalted, therefore, indeed, I am with you anticipating." [52:31]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:"آپ  اپنے آپ کو متوقع چاہت کے لئے منتظر رکھیں۔ چونکہ تمام معاملات کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، لہٰذا، یقیناً میں بھی  آپ کے ساتھ   اپنے آپ کوانتظار میں رکھنے والوں میں ہوں۔"

Root: ر ب ص

أَمْ تَأْمُـرُهُـمْ أَحْلَٟمُهُـم بِـهَـٰذَآۚ أَمْ هُـمْ قَوْمٚ طَاغُونَ ٣٢

  • What do you think! O Messenger;  Is it their muddled dreams that keep urging them adopt this attitude! Or are they simply a people given to habitual transgression? [52:32]

اے رسول! آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا یہ ان کے الجھے ہوئے خواب ہیں جو انہیں اس رویے کو اپنانے پر اکساتے رہتے ہیں!یا وہ محض ایسے لوگ ہیں جو جو حدود و قیود کو پامال کرنے والے، اپنی اوقات سے زیادہ ابلنے والا گروہ ہیں؟

Root: ح ل م; ط غ ى


أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ ٣٣
فَلْيَأْتُوا۟ بِحَدِيثٛ مِّثْلِهِۦٓ إِن كَانُوا۟ صَٟدِقِيـنَ 
٣٤

  • Or do they keep telling people, saying: "He has on his own accord written and compiled it (Qur’ān) attributing it to Allah". No, the truth is they do not intend to accept it (Qur’ān) as the Word and the Intellectual Property of Allah the Exalted. [52:33]

  • Since there is no dearth of authors, it is therefore imperative that they should come forth with a written discourse resembling it (Qur’ān), if they were ever truthful in their claim of its human authorial. [52:34]

یا کیا وہ لوگوں سے یہ کہتے رہتے ہیں کہ اُس(رسول کریم)نے ذاتی طور پر اسے(قرءان)خود تصنیف کرکے اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا ہے؟ ہرگز نہیں!حقیقت یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان لانے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔
چونکہ لکھنے والوں کی
 دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے اس گمان کی تائید میں  ایک تحریری بیان لے کر آئیں جو اس (قرءان) کے مشابہ ہو، اگر وہ واقعی اپنے دعوے میں سچے ہیں۔

أَمْ خُلِقُوا۟ مِنْ غَيْـرِ شَـىْءٛ أَمْ هُـمُ ٱلْخَٟلِقُونَ ٣٥

  • Or were they created from something other than any recognized matter (substance)? Or are they themselves the ultimate creators of the substance of their own existence? [52:35]

یا کیا یہ لوگ(قرءان کو رسول کریم کی تصنیف قرار دینے  والے) کسی ایسی شے سے پیدا کیے گئے جو کسی معروف مادے (مواد) کے علاوہ ہے؟ یا کیا وہ خود اپنی ہی موجودگی کے مادے کے حتمی خالق ہیں؟

أَمْ خَلَقُوا۟ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ ٣٦

  • Or is it that they themselves have created the skies and the Earth? No, rather, the fact is that they wish not reaching certainty through reasoning, observation, and reflection. [52:36]

یا کیا  آسمانوں اور زمین کو انہوں نے تخلیق کیا ہے؟ نہیں پوچھنے پر کہتے ہیں اللہ خالق ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ عقل، مشاہدے اور غور و فکر کے ذریعے یقین تک پہنچنا ہی نہیں چاہتے۔

Root: ي ق ن

أَمْ عِندَهُـمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمْ هُـمُ ٱلْمُصَۣيْطِرُونَ ٣٧

  • Or do they possess the treasures and reserves of your Lord?  Or are they the Managers who arrange and regulate the treasures as they desire? (read with 43:32)? [52:37]

یا کیا آپ (ﷺ)کے رب کے خزانے اور ذخائر ان کے اختیار میں ہیں؟ یا وہی اس کے خزانوں کے منتظم ہیں جو انہیں اپنی خواہش کے مطابق تقسیم اور ترتیب دیتے ہیں؟ (43:32 کے ساتھ ملاحظہ کریں)

أَمْ لَـهُـمْ سُلَّمٚ يَسْتَمِعُونَ فِيهِۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُـم بِسُلْطَٟنٛ مُّبِيـنٍ٣٨

  • Or do they have some source that serves as a ladder for them—one of those who eavesdrop on the assembly of exalted chieftains (of angels) in the sky. If so, let their appointed listener return with clear and undeniable proof! (Read with 37:8 and 38:69). [52:38]

کیا ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہے جو ان کے لیے سیڑھی کا کام دے—جو انہیں ان میں شامل کر دے جو آسمان میں مقرب سربراہوں (فرشتوں)کی مجلس کی باتیں چپکے سے سننے کی کوشش کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو ان کا مقرر کردہ سننے والا واضح اور ناقابل تردید دلیل لے کر واپس آئے! (37:8 اور 38:69 کے ساتھ ملاحظہ کریں)۔

Root: س ل ط

أَمْ لَهُ ٱلْبَنَٟتُ وَلَـكُـمُ ٱلْبَنُونَ ٣٩

  • You the Messenger ask them: "When you yourselves consider daughters a source of disgrace and humiliation, is it then appropriate to attribute daughters to Him (Allah), while you regard the sons as a source of strength and pride for yourselves?" (see 16:57;37:49;43:17)   [52:39]

آپ (ﷺ)ان سے دریافت کریں :"جب تم خود بیٹیوں کو اپنے لئے باعث توہین و ذلت سمجھتے  ہو   تو کیا یہ مناسب ہے کہ  بیٹیوں کا ان جناب  کے لیے منسوب کرو جبکہ تم لوگ  اپنےبیٹوں کو اپنے لئے زور بازو سمجھتے ہو؟"

أَمْ تَسْـَٔلُـهُـمْ أَجْرٙا فَهُـم مِّن مَّغْـرَمٛ مُّثْقَلُونَ ٤٠

  • Or do they so allege because you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] demand remuneration for communicating them this guidance (Qur’ān) for which reason they are overburdened in debt? [52:40]

یا کیا اس کو آپ کی تصنیف اس وجہ سے قرار دیتے ہیں کہ آپ (ﷺ)ان سے معاوضہ/اجرت مانگتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھاری بھرکم  مالی بوجھ کے  زیربار ہو جاتے ہیں۔(النجم۔٤٠)

Root: غ ر م

أَمْ عِندَهُـمُ ٱلْغَيْبُ فَهُـمْ يَكْتُبُونَ ٤١

  • Or have they the knowledge of the Unseen whereupon they keep writing it down? [52:41]

یا کیا مستقبل میں پنہاں کا ان کے پاس علم ہے جسے وہ موقع بموقع لکھتے رہتے ہیں۔

أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدٙاۖ فَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ هُـمُ ٱلْمَكِيدُونَ ٤٢

  • Are these leaders plotting a scheme? Let them try, but remember that those who have refused to believe in the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] will themselves become the victims of their own plots backfiring. [52:42]

کیا یہ عمائدین کوئی سازشی چال چلنے کا ارادہ بنا رہے ہیں؟ تو کر لیں کوشش، لیکن یاد رکھیں کہ جنہوں نے رسول کریم (ﷺ) کو ماننے سے انکار کر دیا، وہی چال اُلٹی پڑنے کا خود شکار بن جائیں گے۔

Root: ك ى د

أَمْ لَـهُـمْ إِلَـٰهٌ غَيْـرُ ٱللَّهِۚ سُبْحَٟنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْـرِكُونَ ٤٣

  • Or do they have a godhead other than Allah the Exalted who could create sons for them? Allah the Exalted is Infinitely Glorious and the focus of all effort, exalted above all that they conjecturally associate with Him. [52:43]

کیا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود ہے جو ان کے لیے بیٹے پیدا کر سکے؟۔۔خبردار؛ اللہ تعالیٰ تمام عظمت و کبریائی اور جد و جہد کا محور اور مطلق اعلیٰ ہیں، ان تمام سے جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔۔

وَإِن يَرَوْا۟ كِسْفٙا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطٙا يَقُولُوا۟ سَحَابٚ مَّرْكُومٚ ٤٤

  • And if they were to see fragments tumbling down from the sky—as they ask for stones to be dropped from the sky—they would say, "A vertically layered cloud is coming to us."

اور اگر یہ لوگ آسمان سے ٹکڑے گرتے ہوئے دیکھیں—جیسا کہ یہ آسمان سے پتھر گرانے کا مطالبہ کرتے ہیں—تو یہ کہیں گے، "یہ تو ایک تہہ در تہہ بادل ہے جو ہماری طرف آرہا ہے۔"

Root:  س ق ط; ك س ف

فَذَرْهُـمْ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُـمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ ٤٥

  • Therefore, having warned them in straight forward manner and in view of their extremely irrational response, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] leave them leave them until they encounter 'their Day'—the Day when they will be struck with terror and made to hear a thunderous clap. [52:45]

لہٰذا، انہیں صاف اور واضح طور پر خبردار کرنے کے بعد اور ان کے انتہائی غیر معقول رد عمل کو دیکھتے ہوئے، اے رسول (ﷺ)، آپ ایسے عمائدین کو اب ان کے حال پر  چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ اپنے 'دن' کا سامنا کریں—وہ دن جب وہ خوف سے کانپ اٹھیں گے اور  مسلسل گھن گرج سنائی جائے گی۔

Root: و ذ ر

يَوْمَ لَا يُغْنِى عَنْـهُـمْ كَيْدُهُـمْ شَيْئٙا وَلَا هُـمْ يُنصَرُونَ ٤٦

  • That Day is the one when their deceptive tactics will not beneficially avert anything from them. Mind it, they will never receive help [from those who could otherwise help]. [52:46]

وہ دن وہ ہو گا جب ان کی چال بازی انہیں کسی بھی چیز سے فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو، وہ کبھی بھی مدد نہیں پائیں گے [ان لوگوں سے جو عام حالات میں مدد کر سکتے ہیں]۔

Root: ك ى د

وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابٙا دُونَ ذَٟلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ ٤٧

  • Realize it, indeed a punishment apart from aforementioned is in wait for those who did mischief, distortions and deceptions —but the fact is that most of them do not intend to know and understand the events of Hereafter. [52:47]

اس بات کو سمجھو، یقیناً ایک سزا جو پہلے بیان کی گئی چیزوں کے علاوہ ہے، ان لوگوں کے لیے منتظر ہے جنہوں نے فساد، تحریف اور دھوکہ دہی کی—لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر آخرت کے واقعات کو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔


وَٱصْبِـرْ لِحُكْـمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُـنِنَاۖ
وَسَبِّـحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيـنَ تَقُومُ 
٤٨

  • And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] remain coolly perseverant and wait for the time your Sustainer Lord decrees —You need not apprehend any thing negative since you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have always been focus of Our attention — always in Our eyes —
    And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] continue exerting for the fulfilment of assigned job praising your Sublime Sustainer Lord when you wake up/rise — [52:48]

اور آپ(ﷺ)دھیرج رکھیں ان  نامعقول باتوں کو سن کر جو انکار کرنے والے عمائدین کرتے رہتے ہیں  جب تک اللہ تعالیٰ فیصلے کا فرمان جاری  فرما دیں۔آپ(ﷺ)کوکسی منفی بات کا احتمال نہیں ہونا چاہئے کیونکہ آپ (ﷺ) ہمیشہ سےہماری توجہ کااس قدر محور ہیں کہ ہر لمحہ ہماری آنکھوں میں ہیں۔
اور
آپ  (ﷺ)جب  اٹھتے ہیں  تواپنے فرائض منصبی کی تکمیل کے لئے اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہوئے برسرپیکار رہیں۔(الطور۔٤٨)

Root: س ب ح

وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَٟرَ ٱلنُّجُومِ ٤٩

  • And in the part of the night thereat/for reason you express glory with praises of Him the Exalted and after the turning/diminishing of the Stars. [52:49]

اور جب آپ(ﷺ)رات کے ڈھلتے پہر اٹھتے ہیں تو اس وقت ان کی تسبیح کرتے ہوئے  اپنے فرائض منصبی پورے کریں اس حال میں کہ ستارے پلٹ کر اوجھل ہو رہے ہیں۔

Root: س ب ح;  ن ج م

053-ٱلنَّجْم‎‎

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ١

  • Listen attentively; Swearing by certain Star when it had rendered itself emptied and collapsed. (description of Black hole) [53:01]

تمہارے ہمہ تن گوش ہونے کیلئے ہم اُس مخصوص ستارے کی قسم اٹھا کر حقیقت  پر مبنی واقعہ بیان کرنے لگے ہیں جو اپنا سب کچھ بکھیر کرخالی دامن ہو چکا تھا۔

Root:  ن ج م  The corporeal Journey far beyond the ascensions of Earthly Universe

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُـمْ  وَمَا غَوَىٰ ٢

  • This is to confirm that guiding lord [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] of you people did not vanish from sight.
    Moreover, neither he warped. [53:02] (warped: to make something deviate from its usual or correct course, or deviate from a usual or correct course.)

وہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کے رہنما آقا نہ تو منظر سے غائب ہوئے  تھے ۔
اور نہ  وہ راہ سفر سے اِدھر اُدھر ہوئے تھے۔

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْـهَوَىٰٓ ٣

  • -- Mind it that neither he is narrating this episode [otherwise boggling/ baffling for human mind] emanating in vacuum-empty thoughts and wishful conjecture - fantasies—[53:03]

۔۔مطلع رہو؛ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ (ﷺ)جو واقعہ سفریان فرما رہے ہیں (جو انسانی ذہن کے  سمجھنے کےلئے پیچیدہ  ہے)وہ تخیلاتی خلائی پروازپر مبنی نہیں ہے۔۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْـىٚ يُوحَـىٰ ٤

  • That which he is narrating is not but a verbal communication which is being communicated to him --. [53:04]

درحقیقت یہ  صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو انہیں بیان کیا جا رہا ہے۔

عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰ ٥

  • (reverting from parenthetic) The Mightiest in Power made him knowledgeable/taught him (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]) about piloting that vehicle for journey—[53:05]

شدیدقوتوں کے مالک نے انہیں اس سواری کو اڑاناسکھایا تھا۔

ذُو مِرَّةٛ فَٱسْتَوَىٰ ٦

  • The possessor of Eternity—thereby having learnt, he [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] confidently arose upwards—[53:06]

وہ جناب ابدیت کے حامل ہیں۔اِس سمجھائے جانے کی بناء پر انہوں (ﷺ) نے اپنے آپ کو مہارت سے بلندیوں کی جانب محو پرواز کیا۔

Root: م ر ر

وَهُوَ بِٱلْأُفُقِ ٱلْأَعْلَـىٰ٧

  • Whereby he arrived at the relatively Elevated Horizon [where he stayed for sometime]. [53:07]

اور وہ اعلیٰ و برتر افق پر پہنچ گئے۔

ثُـمَّ دَنَا فَتَدَلَّـىٰ ٨

  • Afterwards a stay for sometime there, he approached near whereby he made himself hang—[53:08]

بعد ازاں،کچھ وقت قیام کے بعداپنے آپ کومزید بلند  کرکے منزل کے قریب کیا ؛منزل پر پہنچ کر،سواری سے اتر کرانہوں (ﷺ) نے اپنے آپ کو(عرش  کو تھام کر)لٹکا لیا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْـنِ أَوْ أَدْنَـىٰ ٩

  • With the result that thereby he (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) was at a distance of two bow-lengths or even less than that (below his Sustainer Lord Throne)—[53:09]

اس طرح وہ اپنے رب  کے روبرو ہونےسے دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلے پر زیر عرش موجود تھے۔

Root: ق و س; د ن و

فَأَوْحَـىٰٓ إِلَـىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَـىٰ ١٠

  • Thereat, He the Exalted communicated personally to His Sincere Allegiant that which He communicated. [53:10]

اس طرح  اتنے کم فاصلے پر ہوتے ہوئے انہوں  نے اپنے بندے کو وہ بتایا جوکلام انہوں نے اُس وقت انہیں سنایاتھا۔

مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ ١١

  • The Logical Brain/Frontal Lobe did not contradict what he [ Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] had seen with eyes. [53:11]

ان کےذہن نے اُس حقیقت کونہیں جھٹلایا جسے انہوں (ﷺ)نے آنکھوں سے دیکھاتھا۔(النجم۔۱۱)

Root: ف ء د

أَفَتُمَٟرُونَهُۥ عَلَـىٰ مَا يَرَىٰ ١٢

  • Is it for reason that you people see not what he keep seeing, you people controvert with him (the Messenger) about him whom [Gib'raa'eil] he sees? [53:12]

کیا تم لوگ اس وجہ سے کہ تم وہ نہیں دیکھتے جو وہ(ﷺ)دیکھتے رہتے ہیں تم   بات کو متنازع بنانے کے لئے ان سے تردد کرتے  ہو۔

وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ١٣

  • Be informed then about the fact, he (the Messenger) had indeed even seen him (Archangel Gib'raa'eil) on last sole occasion descending downwards— [53:13]

یہ بات ہے تو یہ حقیقت بھی جان لو کہ انہوں(ﷺ)نے تو انہیں زندگی میں   پچھلی مرتبہ صرف ایک بار نیچے اترتے بھی دیکھا تھا۔

عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَـهَىٰ ١٤

  • He was descending from that Point of the Demarcated Ultimate Boundary/Horizon— [53:14]

وہ (جبرائیل علیہ السلام)اس وقت سد ر ۃ المنتھیٰ سے نیچے اتر رہے تھے۔

Root: س د ر

عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ ١٥

  • The Paradise: the Garden of Abode is situated by her side— [53:15]

اس(سد ر ۃ المنتھیٰ)کے پاس ہی وہ جنت ہے،متقین کی آخرت میں رہائش گاہ ہے۔

إِذْ يَغْشَىٰ ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ١٦

  • He saw him when the Pinnacle-the Demarcating Horizon was getting veiling by that which veiled it. [53:16]

وہ جب اتر رہے تھے اس وقت السدرۃ/دو دنیاؤں کے مابین کےافق پر وہ چھا رہا تھا جو اس پر سایہ فگن ہو رہا تھا۔

Root: س د ر;  غ ش ى

مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧

  • The Faculty of Vision did not decline, turn aside, or deviate from perceiving truth. And nor it bulged. [53:17]

اس سفر میں اُن (ﷺ)کی بصارت غیر متوازن ہوئی نہ  حدود سےابھار/ابلنے کا شکار ہوئی۔

Root: ز ى غ;  ط غ ى

لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ ءَايَٟتِ رَبِّهِ ٱلْـكُـبْـرَىٰٓ ١٨

  • This is a certain fact that he (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) did observe the Greatest Sign of the Physical Realm of his Sustainer Lord. [53:18]

یہ حقیقت ہے کہ  انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی (عرش)کویقینا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہواہے۔(النجم۔18)

   The corporeal Journey far beyond the ascensions of Earthly Universe Arabic: الإسراء والمعراج‎, al-'Isrā' wal-Mi'rāj

أَفَرَءَيْتُـمُ ٱللَّٟتَ وَٱلْعُزَّىٰ ١٩

  • [He has seen the greatest signs of his Sustainer Lord] Have you people then factually seen Al-Lat and Al-Uzza— [53:19]

(ان ﷺ کی بات کو چھوڑو کہ انہوں نے کیا دیکھا)"تم لوگ بتاؤ، کیا تم نے واقعی اللات اور العزیٰ دیکھی ہیں۔

وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلْأُخْرَىٰٓ٢٠

  • And the last third one Manat? [53:20]

اور وہ جو تیسری آخری والی منوٰۃ ہے کیاوہ بھی دیکھی ہے؟

أَلَـكُـمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰ٢١

  • Are for you people there is male/son and for Him is the Female/daughter? [53:21]

کیا مذکر تمہارے لئے مخصوص اور باعث وقار ہیں اور مونث کو ان جناب کے ساتھ منسوب کرتے ہو؟

تِلْكَ إِذٙا قِسْمَةٚ ضِيـزَىٰٓ ٢٢

  • This division is then quite arbitrary! [53:22]

یہ بانٹ جب تم کر چکتے ہو ، یہ تقسیم تو سراسر من مانی صوابدید کا شاخسانہ ہے!

Root:  ق س م

إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْـمَآءٚ سَـمَّيْتُـمُوهَآ أَنتُـمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِـهَا مِن سُلْطَٟنٛۚ
إِن يَتَّبِــعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَـهْوَى
ٱلْأَنفُسُۖ 
وَلَقَدْ جَآءَهُـم مِّن رَّبِّـهِـمُ ٱلْـهُدَىٰٓ ٢٣

  • [you have not seen Al-Lat, Al-Uzza and Manat, since they don't exist] Indeed these are merely feminine names which you people and your forefathers have coined/innovated for which Allah the Exalted has sent no affirmation/authority for it.
    Indeed they consciously and purposely follow nothing but the fabricated conjecture and hypothetic non verifiable assertions and that which their selves desire
    —
    While the fact is that the Guide Manual [Qur’ān] has since come to them in easy to comprehend composition from their Sustainer Lord. [53:23]

یہ متذکرہ  تو محض ناموں کے علاوہ موجود نہیں۔تم نے وہ نام رکھے ہیں،تم نے اور رتمہارے آباؤاجداد نے؛ اللہ تعالیٰ نےان کی مصاحبت کے نظرئیے کی تائید میں تم لوگوں کو قطعاًکوئی سند اور مختار نام نہیں بھیجا"۔
متنبہ رہو؛یہ لوگ سوائے گمان  سے اختراع کردہ تصور کے کسی مبنی بر حقیقت بات کی زیر مقصد پیروی نہیں کرتے،اور یہ مفادات کے زیر اثر ہر اس بات کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے نفوس کو لبھائے۔
وہ ایسا باوجود اس حقیقت کے کرتے ہیں جب مفصل ہدایت نامہ ان کے رب کی جانب سے  ناقابل تردید شواہد کی آسان فہم تدوین میں ان تک پہنچ چکا ہے۔

Root: س ل ط

أَمْ لِلْإِنْسَٟنِ مَا تَمَنَّىٰ ٢٤

  • (It is okay to the extent of appeasing) But that which he sought for self is itself available for the Man? [53:24]

(نفوس کو لبھانے کی حد تک توبات کچھ بنتی ہے)مگر کیا وہ جس کی اپنے نفس کی خوشی کے لئے تمنا کرتا ہے ازخود سے انسان کے لئے مہیا ہے؟

Root: م ن ى

فَلِلَّهِ ٱلۡءَاخِـرَةُ وٱلْأُولَـىٰ٢٥

  • Man has unlimited desires and aspirations,  but appeasing those in the Hereafter and the First world it is the exclusive domain for Allah the Exalted. [53:25]

انسان خواہشیں اور تمنائیں تو بہت کرتا ہے،مگر آخرت اور اول دنیا میں انہیں آسودہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے۔

وَكَم مِّن مَّلَكٛ فِى ٱلسَّمَٟوَٟتِ لَا تُغْنِى شَفَٟعَتُـهُـمْ شَيْئٙا
إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ 
٢٦

  • And there are many of the Angels in the Skies the recommendation of whom does not avail anything—
    Except after Allah the Exalted may have granted permission for the one whom He willed and whom He may approve. [53:26]

اور آسمانوں میں کتنے ہی ملائکہ ہیں جن کی شفاعت/کرم نوازی کی سفارشی درخواست  کسی اِفادہ کا باعث نہیں بنتی۔
سوائے بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق انہیں اذن دے دیا جس کے متعلق  یہ فیصلہ  اور رضا کا اظہار فرماتے ہیں۔

Root: ش ف ع


إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلۡءَاخِـرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَٟٓئِكَـةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰ٢٧

  • It is a fact that those who believe not in the Hereafter—They indeed name the Angels by assigning them feminine names— [53:27]

جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو آخرت کے موجود ہونے کو ماننے سے انکار پر بضد رہتے ہیں۔وہ ملائکہ کو نام دیتے رہتے ہیں،مؤنث نام۔

وَمَا لَـهُـم بِـهِۦ مِنْ عِلْمٍۖٛۖ إِن يَتَّبِــعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ
وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْئٙا 
٢٨

  • While there is no piece of knowledge with them in support thereof. In fact they purposely follow nothing except conjecture and hypothetic non-verifiable assertions.
    Fact remains that conjecture and non-verifiable imaginative matter not at all avail in the presence of the infallible fact and reality.
    [53:28]

حالانکہ  معلومات کاکوئی ذریعہ ان کے پاس  قطعاً  نہیں ہے جسے وہ تائید میں پیش کر سکیں۔متنبہ رہو؛یہ لوگ سوائے گمان  سے اختراع کردہ تصور کے کسی مبنی بر حقیقت بات کی زیر مقصد پیروی نہیں کرتے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  فرسودہ گمان پائے ثبوت کو پہنچی سچائی کے مقابل کسی بھی معاملے میں منفعت بخش نہیں ہوتا۔

فَأَعْـرِضْ عَن مَّن تَوَلَّـىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَـيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ٢٩

  • Since they are adamant to hold myths, therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] refrain from the one who has about-faced from Our Memoir - Admonition (Grand Qur’ān)—And he seeks nothing except the Worldly Life. [53:29]

چونکہ وہ قدامت پسندی پر بضد ہیں اس لئے آپ(ﷺ)ہر اس سے اعراض برتیں جس نے ازخود ہمارے سرگزشت کائنات(قرءان مجید)سے موڑ لیا ہے۔اور وہ سوائےلوازمات  حیات دنیا کے کچھ اور کا خواہش مند نہیں ہے(کیونکہ آخرت کو مانتا نہیں)

ذَٟلِكَ مَبْلَغُهُـم مِّنَ ٱلْعِلْمِۚ
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ
وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ 
٣٠

  • That is their extreme limit of acquiring knowledge.
    Indeed your Sustainer Lord is He Who knows the one who has lost away from His Path
    —
    And He the Exalted absolutely knows them who are consciously guiding their selves aright. [53:30]

یہ تصور(حیات دنیا ہی سب کچھ ہے)ان کی پہنچ کی منتہا ہے،حصول علم کے لئے۔
یقینا آپ (ﷺ) کے رب ہی ہیں جو ہر اس کو بخوبی جانتے ہیں جو ان کی راہ سے منحرف ہو گیا ہے۔
اور وہ اس شخص کوبھی بخوبی جانتے ہیں جو خلوص سے راہ ہدایت پر گامزن رہتا ہے۔


وَلِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ
لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَٟٓــُٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟
وَيِجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَى 
٣١

  • Know it; whatever exists in the Skies and whatever exists in the Earth celebrates the praises for Allah the Exalted—
    So that He the Exalted may requite those, who did evil, for reason what they performed—
    And He the Exalted may reward those who acted moderately and appropriately with magnanimity— [53:31]

اورسب کچھ جوآسمانوں میں موجود ہے اور سب کچھ جو زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کے لئے  شرف و کبریائی  بیان اور ظاہر کرتے ہوئےمصروف عمل ہے۔
تاکہ بحثیت فرمانروا وہ جناب ان لوگوں کو سزا دیں جنہوں نے برائیاں پیدا کیں  بعوض ان اعمال کے جو انہوں نے کئے۔
اور ان لوگوں کو بہترین ایوارڈ  سے نوازیں  جنہوں نے اعتدال اور حسن سلوک و عمل کے روئیے کو اپنائے رکھا۔

ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَـبَٟٓئِرَ ٱلْإِثْـمِ وَٱلْفَوَٟحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ
إِنَّ رَبَّكَ وَٟسِعُ ٱلْمَغْفِـرَةِۚ
هُوَ أَعْلَمُ بِكُـمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرْضِ
وَإِذْ أَنتُـمْ أَجِنَّةٚ فِـى بُطُونِ أُمَّهَٟتِكُـمْۖ
فَلَا تُزَكُّـوٓا۟ أَنفُسَكُـمْۖ
هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ 
٣٢

  • They are the people who consciously avoid committing major and grave sins: that cause serious and deep rooted disturbance and dilapidation in society; and diligently avoid illicit sexual activities barring the (اللَّمَمَ) minor occasional sexual lapse.
    -- Indeed the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is vastly generous in overlooking and forgiving --
    He the Exalted absolutely knows you people ever since He produced you people from the Earth.
    And He the Exalted is fully aware when you people were
    foetuses self gratifying within the bellies of your mothers. 
    Therefore, you people should not claim sanctification and exaltation for your personalities.
    He the Exalted is fully aware about him who has sincerely endeavoured to attain salvation.
    [53:32]

یہ (حسن عمل)والے وہ لوگ ہیں جوکوشش و اخلاص سے بڑےگناہوں سے اجتناب کرتے رہتے ہیں،اور اسی طرح فحش،جنسی بےراہروی سے اجتناب کرتے ہیں،سوائے (اللَّمَمَ)ایک معمولی نوعیت کی فحش حرکت سے۔
(اس سے قبل کے آپ کے ذہن میں تعجب ابھرے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ڈانٹ کیوں نہیں رہے چاہے وہ عمل لوگوں سےپوشیدہ ہے)یقینا آپ(ﷺ)کے رب معاف کرنے اورپردہ پوشی کرنے میں بہت وسعت دینے والے ہیں۔(اے لوگو!اس سے الٹ مطلب مت نکالنا)وہ جناب تم لوگوں کو اس وقت سے بہت اچھی طرح جانتے ہیں جب انہوں نے تمہیں زمین میں سے اٹھان دی تھی۔
اور وہ جناب بہت اچھی طرح سے تمہیں اس وقت سے جانتے ہیں جب تم اپنی ماؤں کے بطن میں پوشیدہ تھے۔
اس لئے تم  اپنی شخصیت کوازخود تقدیس اور بڑے القاب مت دو۔
وہ جناب بہترین طور پر اسے جانتے ہیں جو اخلاص سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی کوشش میں قیود و حدود کا خیال رکھتا ہے۔

     Minor illicit sexual activity - self  gratification


أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى تَوَلَّـىٰ ٣٣

  • Have you then seen/noticed the one who has turned away— [from Qur’ān] [53:33]

کیاآپ (ﷺ)نے اس شخص کے طرز عمل پر غور کیا ہے جس نے سرگزشت کائنات(قرءان مجید)سے اپنے آپ کو موڑ لیا ہے۔

وَأَعْطَىٰ قَلِيلٙا وَأَكْدَىٰٓ ٣٤

  • And he gifted a little, and made himself withhold. [53:34]

اور اس نے اپنے ہاتھ سے کسی کو کچھ دیا ہے تو معمولی مقدار میں،اور دنیاوی معاملات میں اپنے آپ کو سخت گیر بنا لیا ہے۔

Root: ع ط و

أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ ٣٥

  • [what made him act like this] Has he the knowledge of the unseen whereby he sees? [the future] [53:35]

کیا نگاہوں  سے اوجھل  اورپنہاں کے متعلق معلومات / علم اس کے پاس  موجودہے ۔چونکہ معلومات اور علم شئے کو نگاہ تصور میں اجاگر کر سکتا ہے اس لئے  کیاوہ مستقبل کو دیکھتا ہے؟(یوں پیش بندی کرتا ہے مال کو روک کر)

أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِـى صُحُفِ مُوسَـىٰ ٣٦

  • Or has he not come to know what was written in the Papers/Papyri of days of Mūsā [alai'his'slaam] — [53:36]

کیا اسے ان باتوں نے خبردار/متنبہ نہیں کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کے کاغذوں میں درج تھا؛

Root: ص ح ف

وَإِبْرَٟهِيـمَ ٱلَّذِى وَفَّـىٰٓ ٣٧

  • And that of the days of Iebra'heim [alai'his'slaam], the one who fulfilled his assignment: [his promise/word] — [53:37]

اور جو ابراہیم(علیہ السلام)کے زمانے کے کاغذوں میں درج تھا،وہ جنہوں نے اپنے مشن/وعدہ کو ایفا کیا۔

أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٚ وِزْرَ أُخْرَىٰ ٣٨

  • That none of the bearer of burden shall lift the burden of another one. [53:38]

وہ جو درج تھا وہ یہ کہ کوئی بوجھ بردارکسی دوسرے کا بوجھ اپنے پر لادنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنْسَٟنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩

  • And that nothing but his undertaken effort is ensured recompense for the Man on the Day of Requital — [53:39]

اور یہ کہ انسان کے لئے کوئی اجر نہیں ہے ماسوائے اس کے لئے جو اس نے کوشش کی (کامیاب ہونا شرط نہیں)۔

وَأَنَّ سَعْيَهُۥ سَوْفَ يُرَىٰ ٤٠

  • And that certainly his effort is appreciatively recognized and recorded, soon it will shown to him — [53:40]

اور یہ کہ اس کی کوشش ضبط تحریر ہے جسے عنقریب اسے دکھا دیا جائے گا۔

Root: س ع ى

ثُـمَّ يُجْـزَىٰهُ ٱلْجَزَآءَ ٱلْأَوْفَـىٰ٤١

  • Afterwards, he will be requited the fully accomplished - commensurate recompense. [53:41]

بعد ازاںاس کو جزا یافتہ کر دیا جائے گا،مکمل جزا کی ادائیگی۔

وَأَنَّ إِلَـىٰ رَبِّكَ ٱلْمُنتَـهَىٰ ٤٢

  • And that towards the Sustainer Lord of you is the Ultimate End. [53:42]

اور یہ کہ ہر معاملے کی منتہا کے فیصلے کے لئے آپ(ﷺ)کے رب کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔

وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَـىٰ ٤٣

  • And that He the Exalted caused him (Man - fetus) to laugh and to weep. [53:43]

اور یہ کہ وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے انسان کو (رحم مادر میں) ہنسایا تھا اور رلایا تھا۔

Root: ض ح ك

وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ٤٤

  • And that indeed He the Exalted is the One Who caused him to die and revived him to life. [53:44]

اور یہ کہ وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے موت سے ہمکنار کیا اورازسرنوذی حیات کیا۔

وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْـنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰ٤٥

  • And (has he not been informed about this fact mentioned in old papers) that indeed He the Exalted has created the pairs, the male and the female— [53:45]

اور(کیا اسے قدیم کاغذوں میں لکھےاس سے بھی باخبر نہیں کیا گیا)یہ  کہ وہ جناب ہیں جنہوں نے جوڑا تخلیق کیا،مذکر اور مؤنث  ۔

مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُـمْنَىٰ ٤٦

  • Both created from a segment of a sperm when she (sperm) is poured/lodged. [53:46]

دونوں نطفے کے ایک جزو سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے؟

وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰ٤٧

  • And that the last creation is indeed due upon Him the Exalted. [53:47]

اور یہ کہ آخری اٹھان/ظہور پذیر کرنا ان جناب پر ایفائے وعدہ کی ذمہ داری ہے۔

وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ٤٨

  • And that indeed He is the One Who made someone rich/self sufficient and put someone in hand to mouth state. [53:48]

اور یہ کہ وہ جناب ہی ہیں جو انسان کو حاجات سے بے نیاز کرتے ہیں اور بعض کوتنگ دست حالت میں کر دیتے ہیں۔

Root: ق ن و

وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْـرَىٰ ٤٩

  • And that indeed He is the One Who is the Sustainer Lord of Sirius. [53:49]

اور یہ کہ وہ جناب ہی ہیں جوالشعریٰ(مشہور و معروف روشن ترین ستارے)کے رب ہیں۔

وَأَنَّهُۥٓ أَهْلَكَ عَادًا ٱلْأُولَـىٰ٥٠

  • And that indeed He is the One Who annihilated the earlier civilization of Aad — [53:50]

اور یہ کہ وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے اولین قوم عاد کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کیا تھا۔

وَثَمُودَا۟ فَمَآ أَبْقَىٰ ٥١

  • And Samued, thereby/resultantly He the Exalted did not give them survival/continuity [of posterity]. [53:51]

اور قوم ثمود کو؛ایسے نابود کیا کہ ان کی بقا کا امکان بھی نہ رہا۔

وَقَوْمَ نُوحٛ مِّن قَبْلُۖ إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ هُـمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ ٥٢

  • And the people of Noah [alai'his'slaam] in foretimes —--Indeed they were the people who remained becoming more unjust and more rebellious -- — [53:52]

اور ان سے قبل کے زمان میں نوح(علیہ السلام)کی قوم کو نیست و نابود کیا تھا۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ وہ لوگ حقیقت کے منافی باطل رویوں اور حدود و قیود کو پامال کرنے میں  بہت آگے بڑھ گئے تھے۔۔

Root: ط غ ى

وَٱلْمُؤْتَفِكَـةَ أَهْوَىٰ ٥٣

  • Moreover, the City whose residents acted Perverting the established norm conversely: He the Exalted caused it drop-fell steep — [53:53]

اورایک طے شدہ حقیقت اور جہت کو پلٹ دینے والی بستی،ان جناب نے اُسے پستی میں کرنے کا سبب بنا دیا۔

فَغَشَّٟهَا مَا غَشَّىٰ ٥٤

  • Whereby that veiled-submerged her; that [water-Dead Sea] who covered it. [53:54]

جس کے نتیجے میں اُس  بستی پر وہ چھا گیا (بحر مردار)جس نے اسے چھپا لیا تھا۔

Root: غ ش ى

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ٥٥

  • Therefore, in how many of the method of annihilation of the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], you will make yourself worrywart - solicitous. [for people] [53:55]

آپ(ﷺ)ہلاکتوں کے مختلف انداز جان چکے۔اس لئے اپنے رب کے کس کس انداز سزا کے متعلق لوگوں کے لئے اپنے آپ کو فکرمند اور متردد کریں گے؟

هَـٰذَا نَذِيرٚ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلْأُولَـىٰٓ٥٦

  • This (Qur’ān and the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is an Admonisher/Revivalist/Warner, its peculiarity, role and function is to act as the last and universal member of the Admonishers/Revivalists of earlier times. [53:56]

لوگو جان لو؛ یہ  رسول کریم (ﷺ)کفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے متنبہ کرنے والے ہیں،ان کی حیثیت  وکردار تمام پہلے تنبیہ کرنے والوں میں آخری اور دائم ہے تمام بنی نوع انسان کے لئے۔

آقائے نامدار، محمَد ﷺ کا منفرد اعزاز اور عالمی و دائمی حیثیت  بطور نذیر


أَزِفَتِ ٱلْءَازِفَةُ ٥٧

  • The ever approaching Promised day-terminus moment of deadline has become imminent. [53:57]

ہر لمحہ قریب ہونے والی متعین ساعت قریب  سے قریب ترپہنچ گئی ہے۔

Root: ء۔ز۔ف

تحلیل نحوی و صرفی:تشریح معنوی و مفہوم،بلاغت۔چند تراجم کا تقابل جائزہ

لَيْسَ لَـهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ ٥٨

  • There is none at all a sign which, other than Allah the Exalted, could lead to a clue disclosing for her anchorage. [53:58]

قطعی طور پرکوئی ظاہر کرنے والی نشانی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کے آن پہنچنے کا شعور و ادراک دے سکے۔

Root: ك ش ف

أَفَمِنْ هَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ٥٩

  • Since you keep expressing vague and generalized opinions about Grand Qur’ān, specifically tell what segment of this Discourse seem strange and unaccustomed to you people? [53:59]

چونکہ قرءان مجید کے متعلق طرح طرح کی خیال آرائیاں  کرتے ہو تو بتاؤ تو سہی کہ اس بیان(قرءان) کے کون سے مندرجات  تم لوگ عجیب سمجھتے ہوئے حیران  ہوتے ہو؟

Root: ع ج ب

وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ ٦٠

  • Strange, despite having heard the breaking news you people are continuing laughing and you weep not [despite having known this] — [53:60]

تعجب ہے یہ بریکنگ نیوز سن کر بھی  تم لوگ بدستور ہنس اور قہقہے لگا رہے ہو اورمتعین لمحے کے قریب ہونے کا سن کر بھی تم روتے نہیں ہو۔

Root: ض ح ك; ب ك ى

وَأَنتُـمْ سَٟمِدُونَ ٦١

  • And you people are still big-headed, egotistical indulging in all sorts of playful vulgarities. [53:61]

اور تم لوگ بدستور  انا پرستی اور خر مستی میں مگن ہو۔

Root: س۔م۔د

فَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟۩ ٦٢

  • Since the determined moment has become near, you people prostrate for Allah the Exalted and become allegiants. [before it is too late-Please prostrate; prostration will make you nearer to Him-96:19]. [53:62]

اے اہل ایمان انہیں  اٹھکیلیوں میں مگن رہنے دو،چونکہ تم ایمان  لا کر جان چکے ہو کہ متعین ساعت قریب ہو چکی ہے  اس لئے تم لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو جاؤ اور ان کی بندگی میں ہو جاؤ۔(آیت سجدہ ہے،سجدہ کریں،یہ ان کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے)۔

054-ٱلْقَمَر

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


ٱقْتَـرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ ١

  • The Appointed Moment has become nearing accomplished —And the Moon has become in cratered state. [54:01]

مخصوص ساعت نے اختتام قریب کرلیا ہے۔اور چاندشگافتہ ہوچکا ہے۔

Root: س و ع؛ ش ق ق; ق م ر

وَإِن يَرَوْا۟ ءَايَةٙ يُعْـرِضُوا۟ وَيَقُولُوا۟ سِحْرٚ مُّسْتَمِرّٚ ٢

  • And if they (elite-chieftains) would see an Ayah: verbal passage of Qur’ān mirroring information, about the Last Day and Appointed Moment they people would knowingly refrain —And they would say, "It is a self persisting illusory falsity." [54:02]

اور اگر وہ   ایسی تحریر کردہ  آیت کے مندرجات کو دیکھتے ہیں جو یوم آخر اور مخصوص ساعت سے متعلق ہے تو اُس سے صرف نظر کرتے ہیں ۔اور  لوگوں سےکہتے ہیں ”یہ تکرار سے دہرایا جانے والا   قدیم فریب نظر (جھوٹ) ہے"۔

Root: س ح ر;  م ر ر
 

وَكَذَّبُوا۟ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُـمْۚ وَكُلُّ أَمْرٛ مُّسْتَقِـرّٚ ٣

  • And they have publicly contradicted it (Qur’ān) and have purposely followed their conjectures and unsubstantiated, non verifiable myths, and desires. Take note, every affair-matter is unshakable and dormant for an earmarked moment-location (when it will become active, read with 6:67). [54:03]

اور انہوں نے قرءان مجید کو برملا جھٹلا دیا جبکہ ان کا احوال یہ ہے کہ انہوں نےناقابل تصدیق محض منہ کی باتوں اور اپنی خواہشات  اور مصلحتوں کی دانستہ،زیر مقصدپیروی کی ہے۔اور اس نکتے سے دانستہ چشم پوشی کرتے ہیں کہ ہر  امر،معاملہ،عمل  انجام کو پہنچنے کا ایک وقت ہے جب وہ ظہور پذیر ہو گ(الانعام۔67بھی دیکھیں)۔

Root: ھ و ى؛ق ر ر

وَلَقَدْ جَآءَهُـم مِّنَ ٱلْأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ٤

  • While that has already come to them, relating a segment of the instances of the past history —  which has restraining punchy lesson contained therein to become heedful  — [54:04]

اور ان کا یہ رویہ باوجود اس کے ہے کہ ان کے پاس وہ(نوشتہ تاریخ ؛قرءان)پہنچ چکا ہے جس میں بیان کردہ ماضی کی خبریں  چنگاڑ کے انداز میں  متنبہ کر رہی ہیں۔

Root: ز ج ر

حِكْمَةٌۢ بَٟلِغَةٌۭۖ     فَمَا تُغْنِ ٱلنُّذُرُ ٥

  • Those instances are the provider of eloquent and easy to comprehend wisdom, sapience, sagacity —Yet for reason of adamant attitude the warnings will not be of avail. [54:05]

وہ تاریخ کے واقعات فصاحت و بلاغت سے آسان فہم انداز میں دانائی کے طرز عمل کے لئے ابلاغ  عامہ ہیں۔چونکہ یہ صاحبان ثروت و اقتدار خواہش جاہ کی دلدل میں دھنسے ہیں اس لئے تنبیہات ان پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔

فَتَوَلَّ عَنْـهُـمْۘ يَوْمَ يَدْعُ ٱلدَّاعِ إِلَـىٰ شَـىْءٛ نُّكُرٍٛ ٦

  • Since you have already afforded them much time, therefore, you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] turn away-become indifferent from them  —For the Day when the Summoner-Second blow in the trumpet will call them towards an unpleasant thing —  [54:06]

چونکہ آپ نے انہیں خبردار کرنے کے لئے بہت وقت دے دیا ہے مگر پھر بھی عقل و فہم سے کام لینے پر مائل نہیں اس لئے اب آپ اپنے آپ کو ان سے دور کر لیں۔جس دن دوسرا صور پھونکے جانے پر پکارنے والا پکارے گا ناگفتہ بہ انجام کی جانب:

Root: ن ك ر

خُشَّعًا أَبْصَٟرُهُـمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ  كَأَنَّـهُـمْ جَرَادٚ مُّنتَشِـرٚ ٧

  • Their visions will be in dazed/downcast state while they will be coming out of the graves like as if they were an expanding swarm of locusts —  [54:07]

ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کی بصارتیں عاجزی اور اپنی کم مائیگی کے احساس سے لبریز ہوں گی۔وہ قبروں سے یوں نکل رہے ہوں گے جیسے پتنگوں کے جھنڈ ہوں۔

Root: ن ش ر

مُّهْطِعِيـنَ إِلَى ٱلدَّاعِۖ يَقُولُ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِـرٚ ٨

  • They will be hastening in race to confront, in fear and submission and docility towards the Inviter (the exalted Messenger Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) — The Non-Believers saying, "This is a difficult day." [54:08]

پتنگوں کی مانند ان کا حال ہو گا کہ نگاہیں جمائے عاجزی اور خوف سے داعی اللہ(رسول کریم ﷺ)کے روبرو ہونے کے لئےلپکے آ رہے ہیں۔حیات دنیا میں مرتے دم تک رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والے کہہ رہے ہوں گے"یہ مشکل اور بھاری دن ہے"۔

Root: ھ ط ع؛ع س ر


كَذَّبَتْ قَبْلَـهُـمْ قَوْمُ نُوحٛ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٚ وَٱزْدُجِرَ ٩

  • Let them know the history: Before them (the adamant elite of Arabia), the nation of Noah [alai'his'slaam] had publicly contradicted the Messengers —In response to his final warning they contradicted publicly Our Sincere Allegiant (Noah alai'his'slaam) and they said, "Obsessed by delusions", and he was harshly rebuked and taunted. [54:09]

انہیں تاریخ سے آگاہ کرو: ان (عرب کے متکبر اشرافیہ)سے پہلے نوح (علیہ السلام)کی قوم نے بھی رسولوں کی کھلم کھلا تکذیب کی تھی۔ ان کے آخری انتباہ کے جواب میں انہوں نے ہمارے مخلص بندے (نوح علیہ السلام) کی کھلم کھلا تکذیب کی اور کہا، "وہ تو خیالات کے جال میں پھنسا ہوا ہ"اور انہیں سخت  تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا گیا۔

Root: ز ج ر

فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّـى مَغْلُوبٚ فَٱنتَصِرْ ١٠

  • Dismayed by continued irrational behaviour of majority, he prayed to his Sustainer Lord, "Indeed I have become overwhelmed. Therefore, You the Exalted do help [conclude the matter]." [54:10]

اکثریت کے مسلسل   ہٹ دھرم  روئیے اور روش  سے دل برداشتہ ہونے پر انہوں (نوح علیہ السلام)نے اپنے رب سے دعا  کرتے ہوئے کہا کہ"میں   ان لوگوں کے روئیے سےدل گرفتہ  اور ناامید ہو چکا ہوں۔ اس لئےآپ  جناب  مدد فرمائیں"[اس معاملے کو انجام تک پہنچائیں]۔

Root: غ ل ب

فَفَتَحْنَآ أَبْوَٟبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَاءٛ مُّنْـهَمِـرٛ ١١

  • Acceding to his prayer Our Majesty opened the doors of the Sky, letting loose a violently gushing and unrelenting rainstorm. — [54:11]

نوح علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے، ہم جناب نے آسمان کے دروازے کھول دیے، اور ایک  طغیانی  بارش کو  مسلسل برسنے دیا۔

Root: ھ م ر;   ف ت ح

وَفَجَّرْنَا ٱلۡأَرْضَ عُيُونٙا فَالْتَقَى ٱلمَآءُ عَلَـىٰٓ أَمْرٛ قَدْ قُدِرَ ١٢

  • And Our Majesty caused the Earth to gush forth the springs;  then the waters converged according to a decree that had already been determined— [54:12]

اور ہم جناب نے زمین کو شگافتہ  کر دیا اس انداز میں کہ چشمے ابل پڑے۔؛پھر طغیانی بارش اور  چشموں  کا پانی  ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق باہم  دگر ہو گیا۔

Root: ف ج ر

وَحَـمَلْنَٟهُ عَلَـىٰ ذَاتِ أَلْوَٟحٛ وَدُسُرٛ ١٣

  • And Our Majesty made him embark the Ship made of planks and nails —[54:13]

اور ہم  جناب نے انہیں  (نوح علیہ السلام ) تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی کشتی پر سوار کر دیا۔"

تَجْـرِى بِأَعْيُـنِنَا جَزَآءٙ لِّمَن كَانَ كُفِرَ ١٤

  • She was sailing while remaining under the watchful sight of Our Eyes—an act of award for the one who had been persistently denied recognition. [54:14]

وہ ہماری نگاہوں کی نگرانی میں چل رہی تھی—یہ ان(نوح علیہ السلام)کے لیے اعزاز تھا جنہیں  مسلسل نظرانداز اور جھٹلایا جاتا رہا (کہ کشتی اور پانی میں سفر کے موجد قرار پائے)۔

وَلَقَد تَّرَكْنَٟهَآ ءَايَةٙ فَهَلْ مِن مُّدَّكِـرٛ ١٥

  • And indeed, Our Majesty has left her (the sailing Ark) as a lasting demonstrative sign and his legacy—for taking lesson. Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others? [54:15]

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اس (بحر میں سفر کے لیے ایجاد کردہ کشتی) کو باقی رہنے دیا ہے، حقیقت کو چشم کشا کرنے والی ایک نشانی اور ان (نوح علیہ السلام) کی یادگار کے طور پر۔ چونکہ تاریخ کو بصیرت افروز انداز میں بیان کر دیا گیا ہے اور کشتی آج بھی موجود ہے، تو کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو معلومات کے حصول اور سمجھنے کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس کی تصدیق کرے اور دوسروں کو یاد دہانی کرائے؟

فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِـى وَنُذُرِ ١٦

  • This narration may urge some neglectful to reflect how devastating was My punishment —and how My votive treats (or warnings) were availed by adamant ones? [54:16]

یہ بیان بعض غفلت میں پڑے لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے کہ میری سزا کتنی تباہ کن تھی—اور میری نذرانوں  (یا تنبیہات) کو ضدی لوگوں نے کس طرح استعمال کیاتھا؟

وَلَقَدْ يَسَّـرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِـرٛ ١٧

  • Know with certainty: Our Majesty has simplified and rendered the Qur’ān easy, open, and facilitative—for reading, comprehension, memorization, reflection, and application. Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others? [54:17]

یقین کے ساتھ جان لو: ہم جناب نے قرءان مجید کو پڑھنے، سمجھنے، یاد کرنے، غور و فکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے معاون و مددگار اور سہل انداز میں مدون کر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس کے مطالعے کو آسان بنا دیا ہے، تو کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو علم کے حصول اور فہم کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس حقیقت کی تصدیق کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے؟(القمر۔١٧)

Root: ى س ر


كَذَّبَتْ عَادٚ  فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِـى وَنُذُرِ ١٨

  • The chieftains of civilization ‘Ād publicly contradicted the Messenger and the Message. They are being mentioned so that it may urge some neglectful to reflect—how devastating was My punishment! And how My votive treats (which they mockingly wished for) were availed by the adamant ones! [54:18]

تمدن یافتہ قوم عاد کے سرداروں نے رسول اور پیغام کو کھلم کھلا جھٹلا دیا۔ان کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ کچھ غفلت میں پڑے لوگ عبرت حاصل کریں—کیسا ہولناک تھا میرا عذاب!اور میرا ان کی خاطرداری کرنے کا انداز —وہی جن کی وہ تمسخر کے ساتھ خواہش کرتے تھے—کیسے ہٹ دھرموں نے ان کا سامنا کیا!

إِنَّـآ أَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ رِيحٙا صَرْصَرٙا فِـى يَوْمِ نَحْسٛ مُّسْتَمِرّٛ ١٩

  • Know the fact: Our Majesty unleashed upon them (the people of ‘Ād) a furiously howling wind—on a day of unrelenting calamity, stretching itself persistently. — [54:19]

یہ حقیقت جان لو:ہم جناب نے  ایک   مسلسل آفت و عذاب  کےسخت گرم دن میں   ان پرایک نہایت غضبناک اور گرجدار  خود کو بے روک ٹوک پھیلاتی ہوئی آندھی   کومسلط کر دی  (سات راتیں اور آٹھ دن )۔

Root: ر و ح; ص ر ص ر;  م ر ر

تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّـهُـمْ أَعْجَازُ نَخْلٛ مُّنقَعِـرٛ ٢٠

  • She was relentlessly plucking and displacing people— as if they were palm tree trunks uprooted from their very roots. [54:20]

وہ لوگوں کو مسلسل جکڑ کر یوں پٹخ رہی تھی  جیسے وہ کھجور کے جڑوں سے اکھاڑے ہوئے تنے ہوں۔(القمر۔٢٠)

Root: ع ج ز; ن ز ع; ق ع ر; ن خ ل

فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِـى وَنُذُرِ ٢١

  • They are being mentioned so that it may urge some neglectful to reflect—how devastating was My punishment! And how My votive treats (which they mockingly wished for) were availed by the adamant ones! [54:21]

ان کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ کچھ غفلت میں پڑے لوگ عبرت حاصل کریں—کیسا ہولناک تھا میرا عذاب!اور میرا ان کی خاطرداری کرنے کا انداز —وہی جن کی وہ تمسخر کے ساتھ خواہش کرتے تھے—کیسے ہٹ دھرموں نے ان کا سامنا کیا!

وَلَقَدْ يَسَّـرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِـرٛ ٢٢

  • Know with certainty: Our Majesty has simplified and rendered the Qur’ān easy, open, and facilitative—for reading, comprehension, memorization, reflection, and application. Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others?  [54:22]

یقین کے ساتھ جان لو: ہم جناب نے قرءان مجید کو پڑھنے، سمجھنے، یاد کرنے، غور و فکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے معاون و مددگار اور سہل انداز میں مدون کر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس کے مطالعے کو آسان بنا دیا ہے، تو کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو علم کے حصول اور فہم کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس حقیقت کی تصدیق کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے؟

Root: ى س ر


كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ ٢٣

  • Know another chapter of history: Chieftains of people of Sa'mued publicly contradicted the warnings of punishment and requital— [54:23]

تاریخ کے ایک اور باب کو جان لو؛اللہ تعالیٰ کےرسول کے دئیے ہوئے انتباہ کوقوم ثمود کے عمائدین نے  برملاجھٹلا دیا۔

فَقَالُوٓا۟ أَبَشَـرٙا مِّنَّا وَٟحِدٙا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّـآ إِذٙا لَّفِى ضَلَٟلٛ وسُعُـرٍٛ ٢٤

  • In response to the Messenger's call to accept his guidance, the chieftains conferred among themselves and said: ‘Shall we then submit to a mere mortal from among us—one man alone—and all of us obediently follow him? If we were to do so, then, without a doubt, we would instantly find ourselves plunged into utter misguidance and a state of inflamed agitation, a frenzy of turmoil within our society— [54:24]

جب رسول نے انہیں اپنی ہدایت قبول کرنے کی دعوت دی تو سرداروں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا:کیا ہم واقعی اپنے ہی درمیان سے ایک عام انسان—محض ایک فردِ واحدکی اطاعت قبول کر لیں اور اورسب کے سب اس کے تابع ہو جائیں؟ اگر ہم ایسا کریں تو بلا شبہ ہم فوراً   اپنے آباؤ اجداد کے فلسفہ سے   انحراف کرتے ہوئےگمراہی کے گڑھے میں جا گریں گے اور ہمارے معاشرے میں شدید بے چینی اور ہیجان کی لہر دوڑ جائے گی۔

Root: س ع ر

أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْـهِ مِنۢ بَيْـنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٚ ٢٥

  • Did the Divine Reminder truly get cast upon him alone out of all of us? Nay! He has no superiority over us—rather, he is a compulsive liar and an egotistical narcissist!" [54:25]

کیا واقعی ہم سب کو چھوڑ کر مسودہ ہدایت ورشد  اسےپیش کیا گیا ہے؟ہرگز نہیں! اس کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں—بلکہ وہ ایک ازلی جھوٹا اور خود پسند متکبر  فطرت رکھتا ہے"۔

سَيَعْلَمُونَ غَدٙا مَّنِ ٱلْـكَذَّابُ ٱلْأَشِرُ٢٦

  • [the Messenger was informed] "Soon they will come to know—tomorrow—who the habitual liar and arrogant egotist truly is![54:26]

[رسول کو مطلع کیا گیا:]"جلد ہی وہ جان لیں گے—کل—کہ اصل میں کون عادی جھوٹا اور متکبر خود پسند ہے!

Root: غ د و

إِنَّا مُرْسِلُوا۟ ٱلنَّاقَةِ فِتْنَةٙ لَّـهُـمْ فَٱرْتَقِبْـهُـمْ وَٱصْطَبِـرْ ٢٧

  • Indeed, Our Majesty are about to send forth a certain She-Camel—intended as an irritant trial upon them. Therefore, keep a watchful eye on them with conscious vigilance, and steadfastly retain your cool perseverance. [54:27]

جان لیں  ہم جناب  ایک خاص اونٹنی بھیجنے والے ہیں(ان کے نشانی دکھانے کے مطالبہ  پر الشعراء۔154)—یہ ان پر ایک  ہیجان میں مبتلا کرنے والی سخت آزمائش کے طور پر مسلط ہوگی۔ لہٰذا، ان پر گہری نظر رکھتے ہوئے چوکنا رہیں، اور صبر و استقامت  سے اپنے نکتہ نظر پر دائم رہیں۔

Root: ن و ق؛ ر ق ب

وَنَبِّئْهُـمْ أَنَّ ٱلْمَآءَ قِسۡمَةُۢ بَيْـنَـهُـمْۖ كُلُّ شِرْبٛ مُّحْتَضَرٚ ٢٨

  • And inform them that the water is apportioned between them—each entire drink source is assigned and must be attended by turn." [54:28] (Read with 26:155 and 91:13)

اور انہیں مطلع کر دیں کہ پانی ان کے درمیان تقسیم کر دیا گیا ہے—ذخیرہ آب  سے  باہمی  معلوم دن پر  پانی  کی باری ہو گی(ساتھ دیکھیں الشعراء۔155اور الشمس۔13)۔

Root:  ق س م؛ح ض ر

فَنَادَوْا۟ صَاحِبَـهُـمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ ٢٩

  • Since they perceived lesser availability due to her higher water consumption, they urgently called upon their Leader to address the issue. Listening to them, he agreed to act upon their demand. Thereupon, he hamstrung her. [54:29]

چونکہ انہیں اس کی زیادہ پانی کی کھپت کے باعث کم دستیابی کا احساس ہوا، تو انہوں نے فوری طور پر اپنے رہنما کو مسئلہ حل کرنے کے لیے پکارا۔ جب اس نے ان کی بات سنی، تو وہ ان کے مطالبے پر عمل کرنے پر راضی ہو گیا۔ چنانچہ، اس نے اونٹنی کو  پَیروں سے کاٹ ڈالا۔

Root: ع ط و;  ع ق ر

فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِـى وَنُذُرِ ٣٠

  • They are being mentioned so that it may urge some neglectful to reflect—how devastating was My punishment! And how My votive treats (which they mockingly wished for) were availed by the adamant ones! [54:30]

ان کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ کچھ غفلت میں پڑے لوگ عبرت حاصل کریں—کیسا ہولناک تھا میرا عذاب!اور میرا ان کی خاطرداری کرنے کا انداز —وہی جن کی وہ تمسخر کے ساتھ خواہش کرتے تھے—کیسے ہٹ دھرموں نے ان کا سامنا کیا!

إِنَّـآ أَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ صَيْحَةٙ وَٟحِدَةٙ فَكَانُوا۟ كَهَشِيـمِ ٱلْمُحْتَظِرِ ٣١

  • Know their fate: Indeed Our Majesty sent upon them a single piercing blast—whereupon they became like dry twig fragments gathered by one  who pens cattle and fences crop fields. [54:31]

ان کا انجام جان لو؛ہم  جناب نے ان پر ایک ہی  چنگھاڑ بھیجی —چونکہ اس نے  انہیں  اچانک  گرفت میں لے لیا تو نتیجہ یہ تھا کہ  وہ اس طرح ہو گئے جیسے سوکھی لکڑی کے ٹکڑے، جنہیں وہ اکٹھا کرتا ہے جو مویشیوں کو باندھتا اور کھیتوں کی باڑ لگاتا ہے۔

Root: ص ى ح؛ ھ ش م

وَلَقَد يَسَّـرْنَا ٱلْقُـرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَـهَلْ مِن مُّدَّكِـرٛ ٣٢

  • Know with certainty: Our Majesty has simplified and rendered the Qur’ān easy, open, and facilitative—for reading, comprehension, memorization, reflection, and application. Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others?  [54:32]

یقین کے ساتھ جان لو: ہم جناب نے قرءان مجید کو پڑھنے، سمجھنے، یاد کرنے، غور و فکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے معاون و مددگار اور سہل انداز میں مدون کر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس کے مطالعے کو آسان بنا دیا ہے، تو کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو علم کے حصول اور فہم کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس حقیقت کی تصدیق کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے؟

Root: ى س ر


كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطِۭ  بِٱلنُّذُرِ ٣٣

  • Know another chapter of history: Chieftains of nation of Luet [alai'his'slaam] publicly contradicted the warnings of punishment and requital— [54:33]

تاریخ کے ایک اور باب کو جان لو؛اللہ تعالیٰ کےرسول کے دئیے ہوئے انتباہ کولوط(علیہ السلام)کی قوم  کے عمائدین نے  برملاجھٹلا دیا۔

إِنَّـآ أَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ حَاصِبًاإِلَّآ ءَالَ لُوطٛۖ نَّجَّيْنَٟهُـم بِسَحَرٛ ٣٤

  • Know their fate: Indeed Our Majesty sent upon them that which pelts— rock fragments of volcanic ash. But it did not fall upon the followers of Luet [alai'his'slaam]. Our Majesty had already rescued them at the time of illusory dawn - a span of time cut away  from the night. [54:34] 

ان کا انجام جان لو:  ہم جناب نے ان پر غبار اور کنکریاں  برسانے والے کو بھیجا (آتش فشاں  کا لاوا)۔ لیکن یہ لوط (علیہ السلام)کے پیروکاروں پر نہیں گرا۔ ہم نے انہیں پہلے ہی نیم شب /سحرکے وقت بچا لیا تھا—[رات کے آخراور صبح کے مابین وقت میں الگ مقام پر بھیج کر]۔

Root: س ح ر

نِّعْمَةٙ مِّنْ عِندِنَاۚ كَذَٟلِكَ نَجْزِى مَن شَكَـرَ ٣٥

  • Their timely rescue was a prize from Our Grace—This is how Our Majesty reward those who expressed gratitude. [54:35]

ان کی بروقت نجات ہمارے فضل سے ایک انعام تھی—ہم اسی طرح انہیں جزا دیتے ہیں جو شکر گزار ہوتے ہیں۔

وَلَقَدْ أَنذَرَهُـم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا۟ بِٱلنُّذُرِ ٣٦

  • Know the rule of punishment: It is a fact that he (Luet alai'his'slaam) had earlier duly warned them about Our taking criminal cognizance by violent seizure but they kept wrangling about the warnings. [54:36]

سزا کے اصول کو جان لو:یہ ایک حقیقت ہے کہ انہیں پہلے ہی لوط (علیہ السلام)نے ہمارے تشدد آمیز گرفت کرنے کے بارے میں دوٹوک انداز میں خبردار کر دیا تھا، لیکن وہ ان تنبیہات کے بارے میں جھگڑتے ،جھک جھک کرتےرہے۔

Root: م ر ى

وَلَقَدْ رَٟوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِۦ فَطَمَسْنَآ أَعْيُـنَـهُـمْ فَذُوقُوا۟ عَذَابِـى وَنُذُرِ ٣٧

  • They did not pay heed despite pursuant to their persistently trying to dissuade him (the Messenger) concerning his guests Our Majesty had  earlier blotted out their eyes —They were told: "Since no warning works on you, therefore, now taste My punishment and My votive treats!" [54:37]

انہوں نے کوئی توجہ نہ دی، حالانکہ اپنے مہمانوں کے بارے میں انہیں (لوط علیہ السلام) کو مسلسل باز رکھنے کی کوششوں کے نتیجے میں ہم نے پہلے ہی ان کی آنکھیں مٹا دی تھیں—ان سے کہا گیا:"چونکہ تم پر کوئی تنبیہ کارگر نہیں ہوتی، اس لیے اب میرے عذاب اور میرے انتباہی تحفوں کا مزہ چکھو!"۔

Root: ض ى ف؛ ذ و ق

وَلَقَدْ صَبَّحَهُـم بُكْرَةً عَذَابٚ مُّسْتَقِرّٚ ٣٨

  • The fact remains: indeed a lasting punishment struck them early in the morning [as was told to Luet alai'his'slaam] [54:38]

اورحقیقت یہ ہے کہ ایک دائمی عذاب نے انہیں صبح سویرے ہی آ لیا [جیسا کہ لوط علیہ السلام کو بتایا گیا تھا]۔

Root: ق ر ر

فَذُوقُوا۟ عَذَابِـى وَنُذُرِ ٣٩

  • They were told: "Since no warning worked on you, therefore, now taste My punishment and My votive treats!" [54:39]

ان سے کہا گیا:"چونکہ تم پر کوئی تنبیہ کارگر نہیں ہوتی، اس لیے اب میرے عذاب اور میرے انتباہی تحفوں کا مزہ چکھو!"۔

وَلَقَدْ يَسَّـرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَـهَلْ مِن مُدَّكِـرٛ ٤٠

  • Know with certainty: Our Majesty has simplified and rendered the Qur’ān easy, open, and facilitative—for reading, comprehension, memorization, reflection, and application. Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others?  [54:40]

یقین کے ساتھ جان لو: ہم جناب نے قرءان مجید کو پڑھنے، سمجھنے، یاد کرنے، غور و فکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے معاون و مددگار اور سہل انداز میں مدون کر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس کے مطالعے کو آسان بنا دیا ہے، تو کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو علم کے حصول اور فہم کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس حقیقت کی تصدیق کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے؟

Root: ى س ر


وَلَقَدْ جَآءَ ءَالَ فِرْعَوْنَ ٱلنُّذُرُ ٤١

  • Know it, indeed specific Warnings had come to the followers of Pharaoh — . [54:41]

تاریخی حقیقت سے باخبر رہو؛مخصوص تنبیہات،سرزنشوں کا فرعون کے پیروکاروں نے مشاہدہ دیکھا تھا۔

كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٟتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَٟهُـمْ أَخْذَ عِزِيزٛ مُّقْتَدِرٍ ٤٢

  • They (the people of Pharaoh) rejected Our tangible signs (miracles), all of them without exception. Since this was done merely out of stubbornness, worldly arrogance, and self-interest, We seized them once the time for conclusive evidence and respite had ended. This was a seizure by the Everlasting, the All-Pervading, the Absolutely Dominant Sovereign, to punish the criminals. [54:42]

انہوں (ءال فرعون)نے ہم جناب کی  عینی شہادتوں (آیات/معجزات)کو جھٹلا دیا۔تمام کی تمام کو۔چونکہ ایسا محض ہٹ دھرمی اور دنیاوی رعونت و مفاد میں کیا تھا  اس لئے اتمام حجت اورمہلت کا وقت ختم ہونے پر ہم جناب نے انہیں گرفت میں لے لیا۔یہ دائمی،ہر لمحہ، ہر مقام پر مطلق غالب مقتدر کی جانب سے مجرمین کوسزا کے لئے گرفت میں  لینا تھا۔

أَكُفَّارُكُمْ خَيْـرٌ مِّنْ أُو۟لَٟٓئِكُـمْ أَمْ لَـكُـم بَرَآءَةٚ فِـى ٱلزُّبُرِ ٤٣

  • [You the Messenger Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam pronounce] Are the adamant deniers of you people more preferred and distinguished than ones mentioned hereinbefore —Or an immunity is decreed in your favour in the Written Documents? [54:43]

(اس تاریخی حقیقت کو مد نطر رکھتے ہوئے بتاؤ)کیا تم لوگوں میں ہٹ دھرمی سے انکار پر بضد رہنے والے ان پہلے والے کفاروں سے زیادہ معتبر  اور پسندیدہ ہیں؟یا کیا ہر جرم سے  براءت دئیے جانے کا وعدہ تم لوگوں کے لئے ماضی کی تحریروں میں درج کر دیا گیا تھا۔

Root: ز ب ر

أَمْ يَقُولُونَ نَـحْنُ جَـمِيعٚ مُّنتَصِرٚ ٤٤

  • Or do they say, "We are a consolidated alliance, characteristically acting on mutual self help basis." [54:44]

یا کیا وہ لوگ(منکرین قرء ان)کہتے ہیں’’ہم ایک باہمدگر جمیعت ہیں،ہمارا خاصہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہیں‘‘۔

سَيُـهْزَمُ ٱلْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ ٤٥

  • Soon this alliance will be broken/busted and they will flee turning their backs. [54:45]

یہ انکار کرنے والوں کا اتحاد جلد بکھر جائے گا اور شکست خوردہ ہو کر پلٹ جائیں گے۔

بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوْعِدُهُـمْ وَٱلسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ ٤٦

  • Nay, [their assertions are false] the Designated Moment is their promised and appointed time —And the Appointed Moment will suddenly stun agape and will be the most bitter/distressing period of time. [54:46]

ان کے یوم آخر کے انکار میں کوئی وزن نہیں،در حقیقت  وہ لمحہ ان سے کئے گئے وعدہ  کے وفا ہونے کا وقت ہے۔ اور وہ لمحہ بھونچکادینے والی آفت اور بے چین کردینے والی تلخی کا باعث ہو گا۔

Root: س و ع;  م ر ر

إِنَّ ٱلْمُجْرِمِيـنَ فِى ضَلَٟلٛ وَسُعُـرٛ ٤٧

  • Indeed the criminals are in neglectful wandering and insane infatuation [for love of vested interests and worldly enjoyment]. [54:47]

حقیقت یہ ہے کہ آئین حیات کی خلاف ورزی کے مرتکب لوگ انحراف کر کے اپنی پسندیدہ راہوں میں گم اور اشتعال انگیزیوں میں مگن ہیں۔

Root: س ع ر

يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِـى ٱلنَّارِ عَلَـىٰ وُجُوهِهِـمْ ذُوقُوا۟ مَسَّ سَقَـرَ ٤٨

  • The day their bodies will be dragged in to the Hell, saying—"You people taste the feel of heat." [54:48]

(رہیں مگن،مگر جان لو)ایک دن انہیں ان کے چہروں پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے جب تپتی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا:تو ان سے کہا جائے گا"آپ لوگ درجہ حرارت سے لطف اندوز ہوں"۔

Root: س ح ب; ذ و ق; س ق ر


إِنَّا كُلَّ شَـىْءٛ خَلَقْنَٟهُ بِقَدَرٛ ٤٩

  • The irrefutable fact is: Our Majesty have created each of all things that exist. We have created that to exist in precise, quantified measure. [54:49]

یہ بدیہی حقیقت ہے کہ ہم جناب نے ہر ایک موجود شئے کو تخلیق کیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ ہم جناب نے اس  کو ایک مقررہ  مقدار  اور پیمانوں  میں محدود کرتے ہوئے تخلیق کیا ہے۔

Root: ش ى ء; ق د ر

وَمَآ أَمْـرُنَآ إِلَّا وَٟحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِٱلْبَصَرِ ٥٠

  • Beware: Our Command for the dismantling of the created realm will be nothing but a single blast.  It will happen as suddenly as the twinkling of an eye. [54:50] (Read with 16:77)

ہوشیار رہو: ہمارا حکم تخلیق کردہ کائنات کے خاتمے کے لیے صرف ایک ہی دھماکہ ہو گا۔ یہ اتنی جلدی ہو گا جتنی آنکھ کے جھپکنے میں دیر لگتی ہے۔(ساتھ مطالعہ کریں النحل۔٧٧)

Root: ل م ح

وَلَقَدْ أَهْلَـكْنَآ أَشْيَاعَكُـمْ فَـهَلْ مِن مُّدَّكِـرٛ ٥١

  • Take note of the historical facts: Our Majesty did cause the annihilation of peoples of your species —Thereby, is there even a single person among those who are sincerely heedful and keen on acquiring and comprehending knowledge, who would confirm this fact and convey it to others? [54:51]

تاریخی حقائق پر غور کرو:ہم جناب نے تمہاری نوع کے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو کیاتم میں کوئی ایسا ہے جو معلومات کے حصول اور سمجھنے کا شوق و ذوق رکھتا ہو، جو اس کی تصدیق کرے اور دوسروں کو  خوفناک انجام سے خبردارکرئے؟

Root: ش ى ع

وَكُلُّ شَـىْءٛ فَعَلُوهُ فِـى ٱلزُّبُرِ ٥٢

  • Beware, whatever activity they did for the first time is duly recorded in specific documents. [54:52]

متنبہ رہو؛ہر ایک ایک حرکت  کوجو ان صاحب معلومات  لوگوں نے اول اول مرتبہ انجام دیا تھا دستاویزات میں درج ہے۔

Root: ز ب ر؛ص غ ر

وَكُلُّ صَغِيـرٛ وَكَبِيـرٛ مُّسْتَطَرٌ ٥٣

  • Mind it, every single thing they did, whether small or large in manifestation and ramification, is precisely inscribed and aligned. [54:53]

اور ہر ایک ایک معمولی نوعیت اور سنگین قسم کے قول و فعل و عمل کو انتہائی احتیاط سے  سطور میں مرقوم کیا گیا ہے۔

Root: ز ب ر؛ص غ ر

إِنَّ ٱلْمُتَّقِيـنَ فِـى جَنَّٟتٛ وَنَـهَرٛ ٥٤

  • Indeed those people who sincerely endeavour for salvation will be enjoying life in the gardens while lakes/streams flowing side by — [54:54]

     یہ حقیقت ہے کہ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگاروں کے لئے انعام   منتظرہے:وہ  باغات اور جھیلوں سے مزین  وسیع رہائش گاہ  میں خوش و خرم شاہانہ زندگی بسر کریں گے۔

فِـى مَقْعَدِ صِدْقٍٛ عِندَ مَلِيكٛ مُّقْتَدِرِۭ ٥٥

  • Each one will be enjoying truly living life in the abode of dignity granted as a life-achievement-award by the grace of the Absolute Sovereign King. [54:55]

ان میں سے ہر ایک   مطلق بادشاہ کی جانب سے زندگی بھر کی کامیابی کے ایوارڈ کے طورسچائی سے سرخرو  پانے والے  مقام پرحقیقی زندگی سے لطف اندوز ہوتا رہے گا ۔

Root: ق ع د; م ل ك

055- ٱلرَّحْـمَـٰنُ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


ٱلرَّحْـمَـٰنُ ١

عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ ٢

  • Be informed; Ar'Reh'maan, He the Exalted has taught the Qur’ān to the elevated Messenger (Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) [55:01-2]

آگاہ ہو جاؤ)الرّحمن عز و جل نے رسول کریم محمد (ﷺ)کوقرآنِ مجیدکی تعلیم دی ہے۔ (الرحمٰن۔۱۔۲)

خَلَقَ ٱلْإِنسَٟنَ ٣

  • He (Ar'Reh'maan) the Exalted has created the Man — [55:03]

(انہوں (الرّحمن عز و جل)نے ا نسان کو تخلیق فرمایا ہے۔(الرحمٰن۔۳

عَلَّمَهُ ٱلبَيَانَ ٤

  • He (Ar'Reh'maan) has taught him (the man) the art of verbally elucidating explicitly. [55:04]

(انہوں (الرّحمن عز و جل)نے اُسے(انسان) اظہار/بیان کرنے کا علم دیا۔ (الرحمٰن۔۴

ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانٛ ٥

  • The Sun and the Moon are rendered by equation/calculation/measure — [55:05]

(5۔۔ سورج اور چاند ایک حساب کئے ہوئے پیمانے اور تناسب میں انسان کے لئے مسخر ہیں۔ (الرحمٰن۔

وَٱلنَّجْمُ وَٱلشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ٦

  • And the Parasitic plant and the Tree, they both regularly acknowledge and submit humbly in surrender. [55:06]

(اوربیلدار پودے اور درخت دونوں اظہار تعظیم کرتے ہیں۔(انسان کے مفاد میں پست،فرمانبردار ہیں)۔۔ (الرحمٰن۔۶

وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلْمِيـزَانَ ٧

  • And He (Ar'Reh'maan) the Exalted has created the Sky, He raised it high and He made evident/ apparent/established/appropriated the Balance/Equilibrium—[55:07]

اورانہوں (الرّحمن عز و جل)نے آسمان کوتخلیق کیا۔ انہوں نے اسے بلند کیا۔
(اور المیزان / نظام کائنات میں  توازن کوانہوں نے نمایاں کر دیا۔(الرحمٰن۔۷

أَلَّا تَطْغَوْا۟ فِـى ٱلْمِيـزَانِ ٨

  • That you people might not transgress/overstep in maintaining the equilibrium/state of tranquillity. [55:08]

(تاکہ تم لوگ متوازن نظام میں سے باہر نہ نکل سکو۔(الرحمٰن۔۸

وَأَقِيمُوا۟ ٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِـرُوا۟ ٱلْمِيـزَانَ ٩

  • And you people are directed to set the weight to equalize equitably —And you should not make deficient the weighing scale. [55:09]

 اورتم لوگوں کو حکم دیا جاتا کہ طے شدہ وزن کومنصفانہ انداز میں استوار کرو۔ اور تم لوگوں کو چاہئے کہ ترازو کے توازن میں کمی نہ کرو۔ (الرحمٰن۔۹)

وَٱلۡأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ١٠

  • And He (Ar'Reh'maan) the Exalted created the Earth; He laid it for the creatures. [55:10]

اورانہوں (الرّحمن عز و جل)نے زمین کوتخلیق کیا۔ مخلوق کے سرگرم عمل رہنے کیلئے انہوں نے اسے نیچے بچھا کررکھ دیا۔(الرحمٰن۔١٠)

فِيـهَا فَٟكِـهَةٚ وَٱلنَّخْلُ ذَاتُ ٱلْأَكْمَامِ١١

  • Fruits and Date-Palm trees the possessor of coverings/wrappings/sheaths are present therein—[55:11]

پھل اور کھجوروں کے غلافوں والے درخت اس (زمین)میں ہیں۔(الرحمٰن۔۱۱)

وَٱلْحَبُّ ذُو ٱلْعَصْفِ وَٱلرَّيْحَانُ ١٢

  • And the Seed-Grain Plant is therein, its characteristic is that it is possessor of leaves-plumule-cotyledons Moreover, : (the Phytoliths "plant stones") stockpile of air is present within the Earth. [55:12]

  اور مخصوص بیج  جو صاحب  اناج(غلے کا پودا)ہیں اس(زمین)میں  موجود ہیں(سرعت سے پوٹھتے ہیں)اور”الریحان“/بے پناہ ذخیرہ ہوابھی اس (زمین)کے اندرموجود ہے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٣

  • Therefore, which of the [innumerable, some mentioned hereinbefore] blessings of the Sustainer Lord of you both will you contradict? [55:13]

(یہ جاننے کے بعد تم دونوں (جن و انس)اپنے رب کے کس کس احسان،نعمت کو برملا جھٹلاؤ گے؟ (الرحمٰن۔١٣

خَلَقَ ٱلْإِنسَٟنَ مِن صَلْصَٟلٛ كَٱلْفَخَّارِ ١٤

  • He the Exalted (Ar'Reh'maan) has created the Man. He was corporeally created from sand-mixed crinkled-clay, alike the baked admirable - excelled - outstanding pottery. [55:14]

اُنہوں (الرّحمن ذوالجلال والاکرام) نے انسان کو خالص گیلی ریت ملی ایسی کھنکتی مٹی میں سے تخلیق کیا جیسے وہ مانندہوصاحب افتخار،جوہر،کندن، آگ میں پکائی ہوئی قابل فخرمجموعہ ہو۔(الرحمٰن۔۱۴)

        Man's Origin: History of his coming into being.

انسان اول دن سے انسان ہے، بشر کی تخلیق کے لئے خام مال کا بیان

وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٛ مِّن نَّارٛ ١٥

  • And He the Exalted created the Species Jinn shaped from a part of jouncing-fidgety-disconcerting mingling flame emerging from fire. [55:15]

(۱اورانہوں نے الجانؔ(ابلیس،جنات)کو آگ میں سے لپکنے والے شعلے کے حصے میں سے تخلیق کیا۔(الرحمٰن۔۵

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٦

  • Therefore, which of the innovative styles of creation of the Sustainer Lord of you will you both contradict? [55:16]

(۱۶یہ جاننے کے بعد تم دونوں اپنے رب کی تخلیق کے کس انداز اورقدرت کو برملا جھٹلاؤ گے؟ (الرحمٰن۔

رَبُّ ٱلْمَشْـرِقَيْـنِ وَرَبُّ ٱلْمَغْـرِبَيْـنِ ١٧

  • Ar'Reh'maan the Exalted is the Sustainer Lord of the two locations in East and the Sustainer Lord of the two location in West. [55:17]

(وہ(الرّحمن ذوالجلال والاکرام) دو مشرقوں کے رب ہیں اور دو مغربوں کے رب ہیں۔(الرحمٰن۔١٧

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٨

  • Therefore, which of the places of presence of the Sustainer Lord of both of you will you both contradict? [55:18]

(یہ جاننے کے بعد تم دونوں اپنے رب کے متعلق اُن کے کس جگہ رب ہونے کو برملا جھٹلاؤ گے؟(الرحمٰن۔١٨

مَـرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ١٩

  • He the Exalted has set free the two Seas, in the state that both keep interfacing—confronting each other — [55:19]

اُنہوں (الرّحمن ذوالجلال والاکرام)نے دو مخصوص سمندروں کوایک دوسرے کے آمنے سامنے(روبروملاقات) کرتے ہوئے کھلے چھوڑ دیاہے۔

بَيْـنَـهُـمَا بَرْزَخٚ لَّا يَبْغِيَانِ ٢٠

  • An obstruction/barrier is invisibly placed between them. They both transgress/encroach not each other/mingle [55:20]

ایک آڑ،روک کو اُن جناب نے اُن دونوں کے مابین غیر مرئی انداز میں موجود رکھا ہے،وہ دونوں اس رکاوٹ کو عبور کر کے کبھی باہمدگرنہیں ہوتے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢١

  • Therefore, which of the invisible obstructions, set by the Sustainer Lord of both of you, will you both contradict? [55:21]

(یہ جاننے کے بعد تم دونوں اپنے رب کے کس کس انتظام/غیر مرئی رکاوٹوں کو برملا جھٹلاؤ گے؟ (الرحمٰن۔٢١

يَخْرُجُ مِنْـهُـمَا ٱلُّلؤْلُؤُ وَٱلمَرْجَانُ ٢٢

  • The Pearls and the Corel come forth from within both oceans. [55:22]

 چمکدارموتی اورمرجان اِن دوآمنے سامنے بہنے والے سمندروں میں سے نکلتے ہیں۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٣

  • Therefore, which of the free grants of the Sustainer Lord of you will you both contradict? [55:23]

(یہ جاننے کے بعد تم دونوں اپنے رب کے کس کس انتظام،احسان،نعمت کو برملا جھٹلاؤ گے؟(الرحمٰن۔٢٣

وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِـى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٟمِ٢٤

  • And the invented ships (made by Noah alaihissalam according to instructions of Him the Exalted) sail surfaced above in the ocean appearing like tall and long mountains, keeping them sailing is the prerogative exclusively for Him the Exalted (read with 42:32-33)  [55:24]

 اور(ان جناب کی ہدایت کے مطابق نوح ؑ کے ذریعے) ایجاد کردہ رواں دواں رہنے والی کشتیاں،جو سمندر میں طویل پہاڑوں کی ماننددکھائی دیتی ہیں،ان کو رواں رکھناان ہی کے ذمہ ہے (بحوالہ الشوریٰ۳۳)۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٥

  • Therefore, which of the favours of the Sustainer Lord of both of you will you both contradict? [55:25]

(اس لئے تم دونوں اپنے رب کی کس کس مہربانی،نعمت اور نشانی (یہ ایک قوم نوح کی غرقابی کی یادگار)کو برملا جھٹلاؤ گے؟(الرحمٰن۔٢٥

كُلُّ مَنْ عَلَيْـهَا فَانٛ ٢٦

  • Each and every one of those who exists upon her (Earth) is the deteriorating, perishing one. [55:26]

( ہرایک ایک جو اُن پر موجود تھا اورہے خودکو فنا /تغیرپذیرکرنے والا ہے۔(سورۃالرحمٰن۔٢٦

وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٟلِ وَٱلْإِكْرَامِ ٢٧

  • And the existence of Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is to remain perpetual, the holder of Majesty and Absolute Honour. [55:27]

( اور آپ(ﷺ)کے رب واحد ہستی ہیں جنہوں نے ہمیشہ بقا و دوام اور عدم تغیروتبدل سے موجود رہنا ہے۔وہ بدرجہ اتم صاحب جاہ و جلال اور صاحب عظمت و کبریائی ہیں۔(سورۃالرحمٰن۔٢٧

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٨

  • Therefore, which of the grandeur of the Sustainer Lord of both of you will you both contradict? [55:28]

( اِس لئے تم دونوں اپنے رب کے کس کس مقام و مرتبہ وعظمت کو برملا جھٹلاؤ گے؟ (سورۃالرحمٰن۔٢٨

يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ

  • He the Exalted is addressed/requested by whoever is in need/difficulty in the Skies and the Earth.

ہرکوئی ان جناب کی خدمت میں سوال/حاجت پیش کرتا ہے جوآسمانوں اورزمین میں صاحب احتیاج،پریشان حال ہے۔

كُلَّ يَوْمٍٛ هُوَ فِـى شَأْنٛ ٢٩

  • He the Exalted all the time is attending/disposing off the great matter. [25:29]

(وہ جناب ہر روز کسی گرانقدرمعاملے میں فیصلہ صادر فرما کر اسے نبٹا دیتے ہیں۔(سورۃالرحمٰن۔٢٩

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٠

  • Therefore, which of the asking requests and disposal of affairs by the Sustainer Lord of  you,  you both contradict? [55:30]

(اس لئے تم دونوں اپنے رب سے کس کس شئے کو مانگنے اورمعاملے کی انجام دہی کو برملا جھٹلاؤ گے؟ (سورۃالرحمٰن۔٣٠

سَنَفْرُغُ لَـكُـمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ ٣١

  • Very soon Our Majesty will be free for you people [because of death of you all on the Last Day] to hold you accountable O you the two groups— [subject to accountability-Jinn and Human being] [55:31]

(ہم جناب عنقریب تم لوگوں کیلئے فارغ،فرصت میں ہو جائیں گے،غور سے سنو اے قابل مؤاخذہ دو گروہوں (جنات اور انسان)! (سورۃالرحمٰن٣١

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٢

  • Therefore, which of the fulfilling of the promises of the Sustainer Lord of both of you will you both be able to contradict? [55:32]

(پھر اپنے رب کے کس کس احسان اور کس کس وعدے کے پورا ہونے کو برملا جھٹلا سکو گے؟ (سورۃالرحمٰن٣٢

يٟمَعْشَـرَ ٱلْجِنِّ وَٱلإِنسِ

  • O You the gregarious Species Jinn and Human being!

اے جن و انس کے سماجی گروہ!۔

إِنِ ٱسْتَطَعْتُـمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ۚ
لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَٟنٛ ٣٣

  • Should you people acquire the capability to get across the successive layers of the Skies and the Earth —Thereby, you get across.
    But you cannot get across the successive layers of the Skies and the Earth. Exception to this negation of exit is that you accompany "Sultan-holder of Authority". [55:33]

اگر تم لوگ آسمانوں اور زمین کے اطراف و جوانب سے نکل جانے کی کبھی استطاعت حاصل کرسکے؛ توجاؤ تم لوگ نکل جاؤ (آزاد کر لو اپنے آپ کو قیود سے)۔
 مگر جان لو؛تم نکل نہیں سکتے نہ نکل سکو گے ماسوائے ”سلطان“ کے ساتھ،ان کی استعانت سے۔

Root: ق ط ر

سلطان ۔آسمان کے ابواب سے پار لے جانے والےمنفردپائلٹ ۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٤

  • Therefore, which of the kindness of the Sustainer Lord of both of you, you both contradict? [55:34]

 اِس لئے تم دونوںاپنے رب کی کس کس قیود /انتظام /بندوبست کو تم دونوں برملا جھٹلاؤ گے؟ (سورۃ الرحمٰن۔۳۴)۔

يُرْسَلُ عَلَيْكُـمَا شُوَاظٚ مِّن نَّارٛ وَنُحَاسٚ فَلَا تَنتَصِرَانِ ٣٥

  • Heat emanating from ignited fire and evaporated smoke of the molten brass will be sent upon you both species—Thereat, you both will not be able to protect yourselves. [55:35]

دہکائی ہوئی آگ سے پیدا ہونے والی حرارت کی لہروں اور پگھلائے ہوئےپیتل کے دھوئیں کو تم دونوں کی جانب بھیجا جائے گا۔اس وقت تم دونوں اپنے آپ کو اس سے محفوظ نہیں رکھ سکو گے۔

Root:  ش و ظ; ن ح س

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ٣٦

  • Therefore, which of the arrangement/mode/preparedness for punishing the criminals by your Sustainer Lord, you both will contradict? [55:36]

اس لئے اپنے رب کے(مجرموں کو) سزا دینے کے کس کس انداز/انتظام /بندوبست کو تم دونوں برملا جھٹلاؤ گے۔(سورۃ الرحمٰن۔۳۶)۔

فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ  فَكَانَتْ وَرْدَةٙ كَٱلدِّهَانِ ٣٧

  • Thereby, [Bing Bang by blowing of Trumpet] when the Sky would have become porous—Whereupon she will become rose-coloured looking like the smoke/slag of molten metal. [55:37]

اور جب(عنقریب نقارے میں پھونکنے سے پیدا ہونے والی آواز کے سبب) آسمان شگافتہ ہو جائے گی۔تو وہ سرخ /گلابی رنگ کی پگھلی ہوئی دھات کا دھواں /تلچھٹ لگے گی۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٨

  • Therefore, which of the motility/power and control of your Sustainer Lord over physiognomies, you both will contradict? [55:38]

اس لئے تم اپنے رب کی کس کس قدرت اور طاقت کوتم دونوں برملا جھٹلا سکو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۳۸)

فَيَوْمَئِذٛ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنـسٚ وَلَا جَآنّٚ ٣٩

  • Therefore, that Day neither human beings nor Jinn species [criminals held/marked liable to cognizance] will be asked individually about his slander and sin. [55:39]

بسبب آواز جس دن حیات کو بحال کیا جا چکا ہو گا تو اس دن نہ انسان سے اور نہ جنات سے  کسی مجرم سے اس کے جرم کے متعلق(ملائکہ کی جانب سے)پوچھا جائے گا۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٠

  • Therefore, which of the awareness and prior knowledge of your Sustainer Lord, you both will contradict? [55:40]

اس لئے تم اپنے رب کا کس کس بات سے باخبر ہونے کو تم دونوں برملا جھٹلا سکو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۰)۔

يُعْـرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَٟهُـمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَاصِى وَٱلْأَقْدَامِ٤١

  • The criminals will be recognized [by the Angel "Police" who recognize by marks-non verbal expressions-3:25] by the identification mark of them—Thereat, they will be seized-arrested-chained by the forelocks and the feet. [55:41]

 مجرمین اپنے چہرے کی علامتوں /تاثرات سے پہچان لئے جائیں گے۔شناخت کئے جانے پر انہیں پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر گرفتار کرلیا جائے گا۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٢

  • Therefore, which of the markings made by your Sustainer Lord for the recognition of criminals, you both will contradict? [55:42]

اس لئے تم اپنے رب کے مجرمین کی پہچان کیلئے مقرر کی گئی کس کس انداز/علامت کو تم دونوں جھٹلا سکو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۲)

هَـٰذِهِۦ جَهَنَّـمُ ٱلَّتِـى يُكَذِّبُ بِـهَا ٱلْمُجْرِمُونَ ٤٣

  • This is the Hell-Prison which the Criminals keep contradicting; [55:43]

(دیکھو)یہ ہے وہ جہنم جس کے متعلق تنبیہ کو مجرم برملا جھٹلاتے رہتے ہیں۔

يَطُوفُونَ بَيْـنَـهَا وَبَيْـنَ حَـمِيـمٍ ءَانٛ ٤٤

  • They will roam therein and between scalding water. [55:44]

اِس کے درمیان اور انتہائی گرم پانی کے درمیان وہ زندگی بسر کریں گے۔

٤٥  فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

  • Therefore, which of the various ways of warning by your Sustainer Lord about the eventuality, you both will contradict? [55:45]

اس لئے تم اپنے رب کے مجرمین کے انجام سے خبردارکرنے کے کس کس انداز سے برملاانکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۵)۔

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ ٤٦

  • And know the honour and reward for him who feared the grandeur of his Sustainer Lord, two gardens are earmarked for him. [55:46]

اوراس شخص کی عزت افزائی کے متعلق جان لو جو اپنے رب کے مقام و مرتبہ سے خائف رہا،اس کے لئے دو باغ مختص ہیں۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٧

  • Therefore, which of the rewarding favours of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:47]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس قدردانی سے تم دونوں انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۷)

ذَوَاتَآ أَفْنَانٛ ٤٨

  • Both gardens have many branches. [55:48]

اور وہ دونوں باغات شاخوں سے بھرے ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٩

  • Therefore, which of the rewarding favours of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:49]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس فراوانی انتظام سے تم دونوں انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۴۹)

فِيـهِـمَا عَيْنَانِ تَجْـرِيَانِ ٥٠

  • In both of them will be flowing two springs. [55:50]

 چشمے اُن دونوں باغات میں بہتے ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٥١

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:51]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس فراوانی انتظام سے تم دونوں انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۵۱)

فِيـهِـمَا مِن كُلِّ فَٟكِـهَةٛ زَوْجَانِ ٥٢

  • In both of them from each and every fruit there shall be a pair. [55:52]

ہر ایک ایک قسم کے پھلوں کی تمام اقسام ان دونوں باغات میں موجود ہیں۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٥٣

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:53]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس فراوانی انتظام سے تم دونوں انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۵۳)

مُتَّكِــِٔيـنَ عَلَـىٰ فُرُشِۭ بَطَـآئِنُـهَا مِنْ إِسْتَبْـرَقٛۚ وَجَنَى ٱلْجَنَّتَيْـنِ دَانٛ ٥٤

  • They will be resting on floors/carpets the interior layers of which shall be of brocade —And plucking of fruits of the two gardens will be in nearby reach. [55:54]

وہ مخمل کے استر والے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔اور اِن دوباغوں کے پھل قربت ہی میں نیچے کی جانب جھکے توڑنے کی دسترس میں ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٥٥

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:55]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس فراوانی انتظام سے تم دونوں انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۵۵)

فِيـهِنَّ قَاصِرَاتُ ٱلطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْـهُنَّ إِنـسٚ قَبْلَـهُـمْ وَلَا جَآنّٚ ٥٦

  • Therein will be well-matched respective species [of Jinn and Human] wives who restrict their gaze —Whom respectively neither a human being had touched before them nor Jinn. [55:56]

اپنی  نگاہوں کو محدود/سمٹائے اورآنکھوں کی چمک کو ماند رکھنے والی  خواتین     ان چاروں باغات میں ان کی  ہم سربیویاں ہیں ۔جنہیں اُن کے ہم جنس جنات یا ا نسان نے اِس سے قبل  جنسی  طور پر چھوا بھی نہیں (کیونکہ انہیں حیات نو دیتے ہوئے کنواریاں بنا دیا تھا)۔(سورۃ الرحمٰن۔٥٦)

Root: ط م ث

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٥٧

  • Therefore, which of the delicacies of rewarding of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:57]

 اِس لئے اپنے رب کاتمہارے شرم و حیا کیلئے کئے گئے کس کس انتظام کا انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۵۷)

كَأَنَّـهُنَّ ٱلْيَاقُوتُ وَٱلْمَرْجَانُ ٥٨

  • They the would be wives are [in their attitudinal reflections/gaze dull] like the Rubies and the Corel. [55:58]

ایسی باحیا نگاہوں والی بیویاں، جیسے مانند یاقوت اور مرجان۔

Root: ى ق ت

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٥٩

  • Therefore which of the delicacies of rewarding of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:59]

 اس لئے تم دونوں اپنے رب کے کس کس احسان کا انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۵۹)

هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَٟنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَٟنُ ٦٠

  • Can the reward of conduct of propriety and proportion be but proportionate/beautiful? [55:60]

کیا اعتدال،حسن عمل کا بدلہ حسین ہونے کے سوا بھی کچھ اور ہو سکتا ہے؟

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦١

  • Therefore, which of the delicacies of rewarding of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:61]

 اس لئے تم دونوں اپنے رب کے حسن عمل کی قدردانی کےکس کس انداز کا انکار کرو گے؟“(سورۃ الرحمٰن۔۱۶)

وَمِن دُونِـهِـمَا جَنَّتَانِ ٦٢

  • And besides these two gardens for them are two more gardens. [55:62]

اور ان دو باغات کے علاوہ بھی اِن لوگوں کیلئے دو باغ مزیدہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦٣

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:63]

 اس لئے تم دونوں اپنے رب کے کس کس انعام کا انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۶۳)

مُدْهَآمَّتَانِ ٦٤

  • Both gardens made lush green. [55:64]

دونوںسر سبز و شاداب۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦٥

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:65]

 اس لئے تم دونوں اپنے رب کے کس کس انعام کا انکار کرو گے؟

فِيـهِـمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ٦٦

  • In both of them are two fountains with sprinklers. [55:66]

اِن دونوں باغات میں دو فواروں والے چشمے ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦٧

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:67]

 اِس لئے اپنے رب کی کس کس فراوانی انتظام سے انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۶۷)۔

فِيـهِـمَا فَٟكِـهَةٚ وَنَخْلٚ وَرُمَّانٚ ٦٨

  • Orchards of fruits and date palm and pomegranate are in abundance in both these gardens. [55:68]

اِن میں پھلوں،کھجوروں اور انار کے درخت ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦٩

  • Therefore, which of the rewarding abundances of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:69]

 اس لئے تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۶۹)

فِيـهِنَّ خَيْـرَٟتٌ حِسَانٚ ٧٠

  • Beautiful and best nature wives, [respectively of Jinn species and Human beings], shall be their companion in these four gardens. [55:70]

ظاہری اور باطنی   فطرت  سلیمہ  میں بہترین    جو ظاہر اور باطن میں حسن و اعتدال   کے وصف سے متصف خواتین ہیں   ان باغات (چار)میں  ان جنتی انسانوں اور جنات کی بیگمات ہوں گی۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧١

  • Therefore, which of the pleasing favours of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:71]

 اس لئے تم اپنے رب کے تمہارے لئے کئے گئے کس کس انتظام کا انکار کرو گے(سورۃ الرحمٰن۔۷۱)

حُورٚ مَّقْصُورَٟتٚ فِـى ٱلْخِيَامِ ٧٢

  • Beautiful white texture wives with big eyes, protectively stationed in the pavilions. [55:72]

یہ ازدواج  میدے کی مانند صاف و شفاف رنگت اور طبیعت والی خواتین  ہیں۔وہ خیموں میں محفوظ ٹھہرائی ہوئی ہوں گی۔

جنت کی ازواج خواتین  کو باوقار توضیحی  نام  میدہ کی مانند  شفاف سفید طبع حور(جمع مؤنث)سے بیان فرمایا  ہے

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٣

  • Therefore, which of the pleasing favours of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:73]

 اس لئے تم اپنے رب کے تمہارے لئے کئے گئے کس کس انتظام کا انکار کرو گے۔(سورۃ الرحمٰن۔۷۳)

لَمْ يَطْمِثْـهُنَّ إِنـسٚ قَبْلَـهُـمْ وَلَا جَآنّٚ ٧٤

  • Whom respectively neither a human being has touched before them nor Jinn. [55:74]

جنہیں اُن کے ہم جنس جنات یا ا نسان نے اِس سے قبل  جنسی  طور پر چھوا بھی نہیں (کیونکہ انہیں حیات نو دیتے ہوئے کنواریاں بنا دیا تھا)۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٥

  • Therefore, which of the delicacies of rewarding of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:75]

 اِس لئے اپنے رب کاتمہارے شرم و حیا کیلئے کئے گئے کس کس انتظام کا انکار کرو گے؟(سورۃ الرحمٰن۔۷۵)۔

مُتَّكِــِٔيـنَ عَلَـىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٛ وَعَبْقَرِىٍّ حِسَانٛ ٧٦

  • They will be resting on green cushions and upon beautiful carpets. [55:76]

وہ سبز چاندنیوں اور خوبصورت بچھونوں پر (بیویوں کے ساتھ)تکیے لگائے ہوں گے۔

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٧

  • Therefore which of the delicacies of rewarding of your Sustainer Lord, will you both contradict? [55:77]

 اس لئے تم اپنے رب کے کس کس لطف اندوز ہونے کے لئے کئے گئے انتظام کانکار کرو گے“(سورۃ الرحمٰن۔۷۷)

تَبَٟرَكَ ٱسْمُ رَبِّكَ ذِى ٱلْجَلَٟلِ وَٱلْإِكْرَامِ ٧٨

  • The Name (Ar'Reh'maan) of the Sustainer Lord of you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] is the Eternal, He is the holder of Majesty and Absolute Honour. [55:78]

 آپ (ﷺ)کے رب کے مخصوص نام الرحمٰن کودوام و ثبات ہے۔وہ بدرجہ اتم صاحب جاہ و جلال اور صاحب عظمت و کبریائی، اور مکرم ترین ہیں۔(سورۃ الرحمٰن۔۸۷)

056-ٱلْوَاقِعَة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


إِذَا وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ ١

  • When the Inevitable Event has come to pass. [on second Blow in Trumpet] — [56:01] (read with 69:15)

چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے جس دن اس کی تکمیل کا فرمان جاری ہوگا تو وقوع پذیر ہونے والی وقوع پذیر ہو جائے گی۔

لَيْسَ لِوَقْعَتِـهَا كَاذِبَةٌ ٢

  • At that moment, there will be no liar person left to question about her appointed time (which he kept asking). [56:02] (read with 95:7)

اُس لمحے کوئی بھی جھوٹا شخص باقی نہ رہے گا جو اس کے مقررہ وقت پر سوال اٹھائے(جو زندگی میں اس بارے پوچھتا رہتا تھا)۔

Root: و ق ع

خَافِضَةٚ رَّافِعَةٌ ٣

  • It will cast those deluded by arrogance into humiliation, while elevating others to honour and dignity.  [56:03]

یہ بڑائی کے زعم میں مبتلا لوگوں کو پستی میں دھکیلنے والی ہے، اور کچھ کو سربلند کر دینے والی ہے۔

Root: ر ف ع

إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرْضُ رَجّٙا ٤

  • When the Earth would have been shaken with a violent trembling—[56:04]

جب زمین شدید جھٹکوں سے لرزا دی جائے گی—

Root: ر ج ج

وَبُسَّتِ ٱلْجِبَالُ بَسّٙا ٥

  • And the mountains would have been crumbled, in the manner of utterly pulverizing—[56:05]

اور پہاڑ توڑ  دئیے جائیں گے، ریزہ ریزہ کردینے کے انداز میں—
 

فَكَانَتْ هَبَآءٙ مُّنۢبَثّٙا ٦

  • Whereupon they would have become dispersed particles. [plain levelling the Earth] — [56:06]

جس کے نتیجے میں وہ بکھرے ہوئے غبار میں تبدیل ہو جائیں گے۔ [زمین کو ہموار کر دینے کے لیے]

Root: ھ ب و

وَكُنتُـمْ أَزْوَٟجٙا ثَلَٟثَةٙ ٧

  • And you people shall be divided into three distinct categories—[56:07]

اور از سر نو حیات دئیے جانے پر تم لوگ تین منفرد گروہوں میں منقسم کر دئیے جاؤ گے۔

فَأَصْحَـٟـبُ ٱلْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَـٟـبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ٨

  • Thereat, the reception granted to the Companions of the Right shall reveal what an honorable and exalted status for the Companions of the Right![56:08] (Read with 36:58)

تب، داہنی جانب والوں کو عطا کردہ استقبال نمایاں کر دے گا کہ داہنی جانب والوں کا کیا ہی معزز اور بلند مرتبہ مقام ہے!

وَأَصْحَـٟـبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ مَآ أَصْحَـٟـبُ ٱلْمَشْـٔ​مَةِ ٩

  • And the arrest and handcuffing and chaining the companions of the Left shall reveal what a disgracing and utter shame for the companions of the "Left Handed"! [56:09]

اور بائیں جانب والوں کی گرفتاری، ہتھکڑی اور زنجیروں میں جکڑ دینا نمایاں کر دے گا کہ بائیں جانب والوں کے لیے کیا ہی ذلت آمیز اور شرمناک انجام ہے!


وَٱلسَّٟبِقُونَ ٱلسَّٟبِقُونَ ١٠
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْمُقَرَّبُونَ ١١
فِـى جَنَّٟتِ ٱلنَّعِيـمِ ١٢
ثُلَّـةٚ مِّنَ ٱلْأَوَّلِيـنَ١٣
وَقَلِيلٚ مِّنَ ٱلۡءَاخِـرِينَ ١٤

  • And those who strove to outpace others — surpassing all in affirming the Messenger and excelling in deeds of enduring worth — they are the ones who truly attained the lead and reached the foremost station.— (Cf. 2:148; 57:21) [56:10]

  • They are the people honoured with the rank of those drawn nearest to Allah the Exalted. [56:11]

  • Their stay is arranged within  gardens of ever-flourishing bliss: the Paradise of Delight side by which flow streams—[56:12]

  • They are a great multitude honoured among the earlier generations —[56:13]

  • While only a few among the later ones attained this honour —[56:14]

اور وہ لوگ جورسول کریم(محمدﷺ)پر ایمان  لانے اورتصدیق و تائید میں  دوسروں پر سبقت لے گئے   اور پائیدار قدر و قیمت رکھنے والے اعمال میں نمایاں برتری حاصل کرتے رہے — یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقیقتاً منزل   پر پہنچنے میں  سبقت  لے کر بلند ترین مقام حاصل کر لیا۔ (ملاحظہ ہو: البقرۃ 2:148؛ الحدید 57:21)
یہی وہ لوگ ہیں  جنہیں اللہ تعالیٰ کے مقربین کے بلند ترین درجے   میں شامل ہونے کا شرف عطا کیا گیا ہے۔۔
ان کے قیام کی ترتیب دائمی شادابی، آسودگی اور دل نوازی سے بھرپور باغات میں کی گئی ہے؛ ایسی جنتِ نعیم میں جن کے کناروں کے ساتھ رواں نہریں بہتی ہیں۔

یہ لوگ ابتدائی نسلوں میں بڑی تعداد میں ممتاز و مشرف پائے گئے تھے۔
جبکہ بعد میں آنے والوں میں صرف تھوڑے لوگ ہی اس عظیم شرف کو حاصل کر سکے۔۔

Root: س ب ق

عَلَـىٰ سُرُرٛ مَّوْضُونَةٛ ١٥مُّتَّكِــِٔيـنَ عَلَيْـهَا مُتَقَٟبِلِيـنَ ١٦

  • They are hosting friendly gatherings, seated on finely crafted couches with interwoven ornamentation—[56:15] Relaxed, facing one another in cheerful companionship—[56:16]

۔وہ دوستانہ محفلیں سجائے ہوئے ہیں، نفیس جڑاؤ نقش و نگار والے مسہریوں پر جلوہ افروز— وہ آسودہ خاطر، ایک دوسرے کے روبرو خوشگوار رفاقت میں محو گفتگو ہیں—

Root: س ر ر; و ض ن; و ك ء

يَطُوفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْدَٟنٚ مُّخَلَّدُونَ ١٧
بِأَكْوَابٛ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٛ مِّن مَّعِيـنٛ ١٨

  • Youths of perpetual freshness are in attendance moving around them—[56:17]
    Carrying crystal mugs, goblets and flagons, and serving [hard] drinks brought from source reservoir. [56:18]
    —[Same pronouncement in  76:19;read with 52:24]

ہمیشہ کی تازگی والے نوجوان مسلسل ان کی خدمت میں سرگرم ہیں، ان کے گرد محو گردش—
شفاف پیالے، صراحی اور جام لیے ہوئے، اور انہیں  ذخیرہ کئے ظروف میں  سے لائی گئی شراب پیش کر رہے ہیں—

Root: ط و ف

لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْـهَا وَلَا يُنزِفُونَ ١٩

  • These exquisite drinks are of such fine quality that they cause neither hangover nor loss of senses.

یہ نفیس مشروبات اتنے اعلیٰ معیار کے ہیں کہ نہ تو سر درد کا باعث بنتے ہیں اور نہ ہی حواس  و اوسان کھو جانے دیتے ہیں۔

Root: ص د ع; ن ز ف

وَفَٟكِـهَةٛ مِّمَّا يَتَخَيَّـرُونَ ٢٠
وَلَحْمِ طَيْـرٛ مِّمَّا يَشْتَـهُونَ ٢١

  • And youthful attendants are carrying all sorts of dry and fresh fruits, allowing each to select according to their personal preference — [56:20]
    And some other youthful boys are individually serving roasted meat of birds, as per their desires.
    — [56:21]

اور نوخیز لڑکے ہر قسم کے خشک اور تازہ پھل اٹھائے ہوئے گردش کر رہے ہیں، تاکہ ہر فرد اپنی پسند کے مطابق انتخاب کر سکے۔
اوردوسرے نوخیز لڑکے ایسے پرندوں کا بھنا ہوا گوشت پیش کر رہے ہیں، جن کی خواہش وہ کریں گے
۔

Root: ف ك ه؛ ش ھ و; ل ح م

وَحُورٌ عِيـنٚ ٢٢كَأَمْثَٟلِ ٱللُّؤۡلُوِٕ  ٱلْمَكْنُونِ ٢٣

  • And their noble spouses, pure and of wide-eyed beauty, are joyfully accompanying them—[56:22] Their semblance is like pearls, well-protected within their shells. —[56:23]

اور ان کے ساتھ نہایت شفاف، لطیف، اور دلکش باحیا  آنکھوں والی پاکیزہ بیویاں خوشگوار رفاقت میں شریک ہوں گی—ان کی مثال ایسے موتیوں جیسی ہے جو اپنے خول میں محفوظ اور نکھرے ہوئے ہوں۔

Root: ك ن ن ; ل ء ل ء

جَزَاۤءَۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢٤

  • This is reward for that which they people kept doing. [56:24]

یہ  کامیابی آپ (ﷺ)کے رب کی جانب سے  صلہ /انعام ہے،جو انہیں  ان  اعمال کی قدردانی میں دیا گیا جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔

لَا يَسْمَعُونَ فِيـهَا لَغْوٙا وَلَا تَأْثِيمًا ٢٥إِلَّا قِيلٙا سَلَٟمٙا سَلَٟمٙا ٢٦

  • They will neither listen therein any meaningless and baseless utterances nor irritating ones — [56:25] Except sayings of peace and tranquillity. [56:26]

وہاں وہ نہ تو کوئی بےمعنی، فضول اور بے بنیاد باتیں سنیں گے اور نہ ہی کوئی اذیت دہ اور کوفت میں ڈالنے والی گفتگو—سوائے سلامتی،راحت و سکون اور اطمینان بخش  خوشگوارباتوں کے۔


وَأَصْحَـٟـبُ ٱلْيَـمِيـنِ مَآ أَصْحَـٟـبُ ٱلْيَـمِيـنِ ٢٧

  • And the welcome granted to the Companions of the Right shall reveal what an honourable and exalted status for the Companions of the Right! (Read with 36:58) [56:27]

اور جو استقبال اصحاب الیمین کو عطا کیا جائے گا، وہ ان کے معزز اور بلند مرتبے کو ظاہر کرے گا! (یٰسۤ۔58 کے ساتھ پڑھیے)

فِـى سِدْرٛ مَّخْضُودٛ ٢٨وَطَلْحٛ مَّنضُودٛ ٢٩وَظِلّٛ مَّمْدُودٛ ٣٠وَمَآءٛ مَّسْكُوبٛ ٣١ وَفَٟكِـهَةٛ كَثِيـرَةٛ ٣٢لَّا مَقْطُوعَةٛ وَلَا مَمْنُوعَةٛ ٣٣ وَفُرُشٛ مَّرْفُوعَةٍ ٣٤

  • They are the ones who are in the gardens of thorn less trees—[56:28] And layered banana trees—[56:29] And a shade, vast and outspread—[56:30] And fountains of ever-poring water— [56:31] And fruits abundant— [56:32] never-ending, never forbidden.—[56:33] And (they are with wives in) bedding, raised high in elegance. [56:34]

یہ وہ لوگ ہیں جو ایسے باغات میں ہوں گے جہاں کانٹوں سے پاک درخت ہوں گے— اور تہہ در تہہ کیلے کے درخت—اوروسیع چھاؤں کے ماحول میں—اور پانی کے  فوارے—اور بے شمار میوے—اوران اور بیویوں کے لئے  اعلیٰ و ارفع ، نفاست سے آراستہ بستر۔

Root: س د ر؛ ن ض د؛ظ ل ل؛ ف ك ه؛م ن ع;  ق ط ع؛ر ف ع; ف ر ش

إِنَّـآ أَنشَأْنَٟهُنَّ إِنشَآءٙ ٣٥فَجَعَلْنَٟهُنَّ أَبْكَارًا ٣٦ عُـرُبًا أَتْرَابٙا ٣٧ لِّأَصْحَـٟـبِ ٱلْيَـمِيـنِ ٣٨ثُلَّـةٚ مِّنَ ٱلْأَوَّلِيـنَ٣٩وَثُلَّـةٚ مِّنَ ٱلۡءَاخِـرِينَ ٤٠

  • Know this fascinating reality about their wives who entered with them in Paradise; Our Majesty has originated them anew— a fresh and unique creation.—[56:35] Since they were to enter a new, pristine matrimonial union, Our Majesty has rendered them as virgins—fulfilling the promise given before. [56:36] They are coequal, delightful, devoted, eloquent, affectionate of same age—[56:37] This is the reward for the members of group declared "Right Handed"—[56:38] They (right-handed) are in quite large number from amongst earlier generations—[56:39] And they are in quite large number from amongst later generations [56:40]

ہم جناب ان کی  بیویوں کے بارے ایک  دلچسپ حقیقت کو افشا کرتے ہیں جو ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوئی ہیں؛ ہم نے انہیں (یعنی ان کی بیویوں کو)ایک نئی زندگی بخشی ہے، مکمل تازگی اور بالیدگی کے ساتھ۔ چونکہ انہیں اپنے شوہروں کے ساتھ نئے سرے سے ازدواجی بندھن میں جڑنا تھا، اس لیے ہم نے انہیں کنوار پن کی حالت میں دوبارہ پیدا کیا۔ وہ خوش گفتار، دلکش، اور پاکیزہ طبیعت رکھنے والی، اپنی  اپنی ہم عمر رفیق ہوں گی۔یہ ازواجی  ہم آہنگی دائیں ہاتھ والوں  کے لئے انعام ہے ۔یہ  دائیں ہاتھ والے خاصی بڑی تعداد میں ان میں ہیں جواللہ تعالیٰ کے رسول  پر ایمان لانے والے اولین شمار ہوتے ہیں۔اوریہ  دائیں ہاتھ والے خاصی بڑی تعداد میں ان میں بھی ہیں جوبعد ازیں ایمان لانے والے ہیں۔

Root: ع ر ب;ن ش ء


وَأَصْحَـٟـبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَـٟـبُ ٱلشِّمَالِ ٤١

  • And the arrest and handcuffing and chaining the companions of the Left shall reveal what a disgracing and utter shame for the companions of the "Left Handed"!—[56:41]

اور بائیں جانب والوں کی گرفتاری، ہتھکڑی اور زنجیروں میں جکڑ دینا نمایاں کر دے گا کہ بائیں جانب والوں کے لیے کیا ہی ذلت آمیز اور شرمناک انجام ہے!

Root: ش م ل

فِـى سَـمُومٛ وَحَـمِيـمٛ ٤٢وَظِلّٛ مِّن يَحْمُومٛ ٤٣لَّا بَارِدٛ وَلَا كَرِيـمٍ٤٤

  • They are the ones in scorching heat and scalding water—[56:42] AAnd in the Black Chamber of affliction— a shade of thick, acrid smoke—[56:43] Which is neither cool nor comforting. [56:44]

وہ رہائش پذیر ہیں  جھلسا دینے والی  تپش میں اور ابلتے پانی سے پیاس بجھانے والے مقام میں۔اور ایسے سایہ تلے جوگرم دھوئیں سے بنے گا۔ایسا سایہ جو نہ تو بارد ہو گا اور نہ خوشگوار۔

Root: ظ ل ل؛ك ر م

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٟلِكَ مُتْـرَفِيـنَ ٤٥

  • Indeed, in contrast to this state of destitution, they were previously counted among the affluent and leading elites in worldly life. [56:45]

یہ حقیقت ہے کہ  اس کسمپرسی  کی حالت کے برعکس   قبل ازیں حیات دنیا میں وہ  صاحب ثروت سرکردہ اکابرین کی حیثیت میں تھے۔

وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَـى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيـمِ ٤٦

  • And they were habitually obstinate in their persistence upon a grave, heinous deviation —[56:46]

اور وہ ضد، ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ عظیم ترین حقیقت سے منحرف رہے۔

Root: ص ر ر

وَكَانُوا۟ يِقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابٙا وَعِظَٟمٙا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ٤٧أَوَ ءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ٤٨

  • And they the elite who refused to acknowledge the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] used to ask people: "What! When we have died and become mere dust and bones, will we indeed be raised?[56:47] Or even our earliest forefathers [will also be raised]?" [56:48]

اور یہ رسول کریم کا انکار کرنے والے عمائدین مشرکین اپنے زیر اثر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے پوچھتے رہتے تھے:’’کیا جب  مر چکے ہوں گے اورہم خاک بن چکے ہوں  گے اور بوسیدہ ہڈیوں کے ڈھانچے ۔۔کیا اس کو حقیقت مانا جا سکتا ہے کہ ہم ایک از سر نو تخلیق کے روپ میں کھود نکال لئے جائیں گے۔اورکیا ہمارے اولین آباؤ اجداد کوبھی؟‘‘

قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِيـنَ وَٱلۡءَاخِـرِينَ ٤٩لَمَجْمُوعُونَ إِلَـىٰ مِيقَٟتِ يَوْمٛ مَّعْلُومٛ ٥٠

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce,: Indeed, the first ones and the last ones—They  all will certainly be gathered together for the appointed time of a well-known Day. [56:50]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"یقیناً ماضی کے لوگ اور بعد میں حیات پذیر لوگ۔بلاشبہ اکٹھے کر دئیے جائیں گے اس معلوم دن کے معین کردہ لمحے  کا سامنا کرنے کے لئے"۔

Root: و ق ت

ثُـمَّ إِنَّكُـمْ أَيُّـهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَ ٥١

  • Afterwards, indeed you, listen O you the neglectful Wanderers, the publicly contradicting ones — [56:51]

بعد ازاں، بلاشبہ تم، سنو! اے بے خبر بھٹکنے والو، اے علانیہ طور پر جھٹلانے والو—

لَءَاكِلُونَ مِن شَجَرٛ مِّن زَقُّومٛ ٥٢

  • "You will certainly be the eaters of the meal made from part of the trees of species Zaquem. [56:52]

یقیناً تم زقوم کے درخت کے حصوں سے بنی خوراک کھانے والے ہوگے۔

Root: ش ج ر

فَمَالِــٔ​ونَ مِنْـهَا ٱلْبُطُونَ ٥٣

  • Since nothing else will be available, thereby, you will be filling the bellies with that. [56:53]

چونکہ کھانے کو کچھ اور دستیاب نہیں ہو گا اس لئے تم اس ہی سے  اپنے پیٹ  بھر لو گے۔

Root: م ل ء

فَشَٟرِبُونَ عَلَيْـهِ مِنَ ٱلْحَـمِيـمِ ٥٤

  • Thereupon, you will drink from the scalding water — [56:54]

پھر پانی کی طلب پر تم کھولتے ہوئے پانی سے سیراب کیے جاؤ گے—

فَشَٟرِبُونَ شُرْبَ ٱلْـهِيـمِ ٥٥

  • Since it will be difficult to swallow even sip by sip, you will drink like the drink of a diseased thirsty camel." [56:55]

چونکہ اسے گھونٹ گھونٹ پینا بھی دشوار ہوگا، تم ایسے پیو گے جیسے کوئی بیمار، شدید پیاسا اونٹ پانی پیتا ہے"۔

Root: ھ ى م

هَـٰذَا نُزُلُـهُـمْ يَوْمَ ٱلدِّينِ ٥٦

  • Be mindful; this is their hospitality on the Day of Requital. [56:56]

یاد رکھو! یہی ان کی مہمانی ہوگی روزِ جزا۔


نَـحْنُ خَلَقْنَٟكُـم فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ٥٧ْ 

  • Our Majesty have created you people —Thereby, why you people not accept and publicly affirm this fact? [56:57]

یہ ہم ہیں،ہم جناب نے تم لوگوں کو تخلیق کیا ہے۔توپھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر عیاں حقیقت کی تم لوگ برملا تصدیق نہیں کرتے!

The procreation of Man

أَفَرَءَيْتُـم مَّا تُـمْنُونَ ٥٨ءَأَنتُـمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَٟلِقُونَ٥٩

  • Ironically then, if you do not certify My act of creating you, have you seen that semen—what you habitually cause to ejaculate in open? [56:58] Affirm it then! Is it you who keep creating it, or is it Our Majesty Who is the Creator?" [56:59]

کیا ہی تعجب خیز بات ہے!اگر تم میری تخلیق کے عمل کی تصدیق نہیں کرتے، تو کیا تم لوگوں نے اسے دیکھا ہے جسے تم دلدادگی(خود لذتی) سے نکالتے رہتے ہو؟(الواقعۃ۔٥٨)کیا تم لوگ ہو جو اسے(مذکر/منی)باقاعدگی سے تخلیق کرتے رہتے ہو؟یا ہم جناب اس کے ہمیشہ خالق ہیں؟(غور کر کے جواب دو)(الواقعۃ۔۵۹)

Root: م ن ى   Minor illicit sexual activity: Self gratification

نَـحْنُ قَدَّرْنَا بَيْـنَكُـمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَـحْنُ بِمَسْبُوقِيـنَ ٦٠

  • It is Our Majesty Who have decreed death as an inevitable event among you all—And Our Majesty are certainly never outwitted (or outpaced) in the execution of the determined decree of death. [56:60] (read with 56:83-87)

یہ ہم جناب ہیں، جنہوں نے تم سب کے درمیان موت کو ایک اٹل حقیقت کے طور پر مقدر کر دیا ہے—اور ہم جناب یقینی طور پر اس مقرر کردہ فیصلۂ موت کے نفاذ میں ہرگز مغلوب یا مات نہیں کیے جا سکتے۔

Root: س ب ق

عَلَـىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَـٰلَـكُـمْ وَنُنشِئَكُـمْ فِيـمَا لَا تَعْلَمُونَ ٦١

  • Beware of the possibility that We might replace you with others better than you, since Our Majesty possesses the absolute power to do so; while We may grant you prominence in a form, realm, or state of existence beyond your knowledge! [56:61] (Read with 70:41-42)

خبردار!اس امکان سے کہ ہم تمہیں تم سے بہتر لوگوں سے بدل سکتے ہیں، چونکہ ہم جناب کو یہ کرنے پر کامل قدرت حاصل ہے؛ جبکہ ہم تمہیں ایسی شکل، جہت، یا حالت میں "نمایاں مقام"عطا کریں جس کا تمہیں کوئی علم نہیں!

Root: ن ش ء

وَلَقَدْ عَلِمْتُـمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَـىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢

  • And indeed you have since [having grown mature] known about the first creation  —Thereby what hampers you not to self recall your origin and take heed. [56:62]

اور یقیناً تم لوگ اپنی اول نمود کو تو جان ہی چکے ہو۔توپھر کیا وجہ ہے کہ تم لوگ معلومات کے حاصل ہو جانے کے بعد بھی ازخود نہ یاد رکھتے ہو اور نہ نصیحت لیتے ہو۔

Root: ن ش ء


أَفَرَءَيْتُـم مَّا تَحْرُثُونَ ٦٣

  • Ironically then, if you do not certify My act of creating you, have you seen that which you people sow in the land? [56:63]

کیا ہی تعجب خیز بات ہے، اگر تم میری  مخلوق ہونے  تصدیق نہیں کرتے، تو کیا تم نے دیکھا ہے جسے تم زمین میں بوتے ہو؟

ءَأَنتُـمْ تَزْرَعُونَهُۥٓ أَمْ نَـحْنُ ٱلزَّٟرِعُونَ ٦٤

  • Are you the one who cause it sprout and grow over land? Or We are the One Who sprout and grow it?  [56:64]

کیا تم لوگ ہو جو اسے زمین سے اگاتے اور نشوونما دیتے ہو، یا ہم جناب وہ ہیں جو اسے اگاتے اور پروان چڑھاتے ہیں؟

Root: ز ر ع

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَٟهُ حُطَٟمٙا فَظَلْتُـمْ تَفَكَّـهُونَ ٦٥

  • Beware of the possibility; had Our Majesty so willed, certainly We could have rendered it as crumbled debris. Thereat you would have remained perplexedly wondering— [56:65]

اس امکان پر غور کرو؛اگر ہم جناب چاہتے تو یقیناً ہم اسے چورا چورا کر کے بکھیر دیتے، پھر تم حیرت و اضطراب میں مبتلا ہو کر رہ جاتے—

Root: ظ ل ل; ف ك ه

إِنَّا لَمُغْـرَمُونَ ٦٦بَلْ نَـحْنُ مَحْرُومُونَ ٦٧

  • You would exclaim: "Indeed We have become laden with debt [price of seeds] — [56:66] Nay, rather we are deprived." [56:67]

تب تم کہنے لگتے: "بے شک ہم تو نقصان میں پڑ گئے، قرض تلے دب گئے!نہیں! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم بالکل محروم ہو گئے ہیں"۔

Root: غ ر م

أَفَرَءَيْتُـمُ ٱلْمَآءَ ٱلَّذِى تَشْـرَبُونَ ٦٨

  • Ironically then, if you do not certify My act of creating you, have you seen-studied the Water which you people keep drinking? [56:68]

کیا ہی تعجب خیز بات ہے، اگر تم میری  مخلوق ہونے  تصدیق نہیں کرتے، تو کیا تم نے اُس پانی کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا جو تم لوگ پیتے ہو؟

ءَأَنتُـمْ أَنزَلْتُـمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْن أَمْ نَـحْنُ ٱلْمُنزِلُونَ ٦٩ِ 

  • Did you people cause its dropping from the White Shiny Clouds  (Cirrus clouds)—Or We cause it drop? [56:69]

کیا تم ہی اس کو چمکدار سفید بادلوں (Cirrus clouds) سے  یکمشت اتارتے ہو، یا ہم ہیں  اس کو جب چاہیں اتارنے والے؟

     First Atlas of clouds Root: م ز ن

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَٟهُ أُجَاجٙا فَلَوْلَا تَشْكُـرُونَ ٧٠ 

  • Beware of the possibility, subject to that Our Majesty so decide-desire We could certainly have rendered it as unpalatable - burning to the mouth, whether saline or bitter, or hot. Therefore, why you people not express gratitude for not having rendering it unpalatable? [56:70] [Let us say الحمد لله] 

خبردار رہو!اگر  ہم جناب  کا فیصلہ و ارادہ ہوتا، تو ہم یقیناً اسے ناگوار، جلانے والا—چاہے نمکین ہو، کڑوا ہو، یا گرم—بنا سکتے تھے۔  توپھر تم لوگ کیوں شکر ادا نہیں کرتے کہ ہم نے اسے ناگوار نہیں بنایا؟

أَفَرَءَيْتُـمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِـى تُورُونَ ٧١

  • Ironically then, if you do not certify My act of creating you, have you ever reflected upon the fire, she which you keep exposing-unveiling to become visible? (kindle)? [56:71]

کیا ہی تعجب خیز بات ہے، اگر تم میری  مخلوق ہونے  تصدیق نہیں کرتے، تو کیا   تم نے کبھی اُس آگ پر غور کیا، وہ جو تم  نکال ظاہر کرتے ہو(بھڑکاتے ہو) تاکہ وہ دکھائی دے؟

ءَأَنتُـمْ أَنشَأْتُـمْ شَجَرَتَـهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشِـُٔونَ٧٢

  • Are you the one who had grown her (fire) tree, or are Our Majesty are the One Who brings it into being??

کیا تم ہی ہو جس نے اس (آگ )کی درخت کو اگایا، یا یہ ہم ہیں جو اسے وجود میں لاتے ہیں؟

Root: ش ج ر;  ن ش ء

نَـحْنُ جَعَلْنَٟهَا تَذْكِرَةٙ وَمَتَٟعٙا لِّلْمُقْوِينَ ٧٣

  • Our Majesty have rendered her (fire) a matter of discussion, reminder and a provision for the wayfarers in [cool nights of] deserts. [56:73]

ہم نے اسے ایک موضوعِ بحث، یاد دہانی، اور ریگستانوں میں (ٹھنڈی راتوں کے دوران)مسافروں کے لیے ایک ذریعہءِ استفادہ بنایا۔

فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيـمِ ٧٤

  • Therefore, ignoring slanderous propaganda you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] continue exerting for the fulfilment of assigned job by the Name of your Sublime Sustainer Lord. [56:74]

چونکہ ان کی ہرزہ سرائی کاتعلق اور سبب ہماری آیات سے ہے،آپ کی ذات سے نہیں،اسلئے ان سے اعراض برتتے ہوئے آپ (ﷺ)اپنے فرائض منصبی کی تکمیل کے لئے اپنے مطلق عظمت و کبریائی  والے رب کے اسم ذات کی  تسبیح  کرتے ہوئے برسرپیکار رہیں۔

فَلَآ أُ قْسِمُ بِمَوَٟقِـعِ ٱلنُّجُومِ ٧٥

  • Since objective is to highlight and emphasise the veracity of the statement I am about to make, I would like to state it by swearing analogically with the important locations of certain Stars— [56:75]

ایک نکتے کی اہمیت کے پیش نظر میں  اس کے مماثل مخصوص ستاروں کی  موقع موجودگی کی قسم سے بیان کرنا پسند کروں گا۔

Root:  ق س م;  ن ج م; و ق ع

وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٚ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيـمٌ ٧٦

  • -- And indeed that is certainly a great swearing, if you people try to know the importance of locations of certain Stars -- [56:76]

۔۔اور یقیناً یہ قسم بہت عظیم ہے اگر تم لوگ سمجھنے کی کوشش کرو تو۔۔

Root:  ق س م

إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٚ كَرِيـمٚ ٧٧

  • Indeed it (55:2 ٱلْقُرْءَانُ) is intrinsically most exalted - guarantor of life compiled text/discourse—[56:77]

ان ستاروں کی مانند یقیناً یہ(ٱلْقُرْءَانُ) فی الحقیقت بنفسہ مکرم  مدون متن ہے۔

فِـى كِتَٟبٛ مَّكْنُونٛ ٧٨

  • Its (Qur’ān) attribute is that it is scripted within a book which is concealed and well protected in a casing (Principal - Mother Book 43:4). [56:78]

اس کی یہ حیثیت اس  ایک کتاب(ام الکتاب)کے مندرجات میں ہے جسے محفوظ انداز میں  خول بند  رکھا گیا ہے/اس کتاب کے اوراق میں درج ہے جسے غلاف میں بند کر کے احترام سے رکھا جاتا ہے۔

Root: ك ن ن 

لَّا يَـمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَ ٧٩

  • Believers do not touch it (Qur’ān written on papers) except when they have rendered their selves in physical purity/having taken bath (after intercourse-ejaculation) [56:79]

اس (کتاب،بعنوان ٱلْقُرْءَانُ)کوایمان والے ہاتھوں میں نہیں لیتے سوائے ان کے جنہوں نے اپنے آپ کو مطہرحالت میں کر لیا ہوتا ہے۔

تَنزِيلٚ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ٨٠

  • This Qur’ān is a serially progressive dispatch and delivery to the Messenger in an easy and structured composition, originating from the Sustainer Lord of all known realms. [56:80]

یہ (قرءان مجید)رسول کریم کو وقفے وقفے سے، سلسلہ وار انداز میں، موقع محل کے مطابق، آسان فہم ترتیب و تدوین میں تمام جہانوں کے پروردگار کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔

أَفَبِـهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَنتُـم مُّدْهِنُونَ ٨١

  • So reflect, O you the Chieftains! Is your desire to seek softening and compromise regarding this Discourse rational and justified? (Read with 10:15; 43:5 and 68:9)

پس غور کرو، اے سردارو! کیا تمہاری یہ خواہش کہ اس بیان میں نرمی اور مصالحت کی جائے، عقل و منطق کے مطابق اور جائز ہے؟(ساتھ پڑھیں؛سورۃ یونسؐ۔15؛الزخرف۔5اورالقلم۔9)

وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُـمْ أَنَّكُـمْ تُكَذِّبُونَ ٨٢

  • And that your persistent public contradiction of Qur’ān is a calculated manoeuvre, considering it a tool to maintain your economic and social dominance. [56:82] (Read with 28:57 and 41:26)

اور یہ کہ قرءان مجید کو تمہارا بار بار اعلانیہ جھٹلانا ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے، جسے تم اپنے معاشی اور سماجی غلبے کے تسلسل کے لیے ایک ذریعہ سمجھتے ہو۔ (ساتھ دیکھیں القصص۔57 اور فصلت۔26)

فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَ ٨٣

  • Thereat, why is it that your claimed godheads do not help him—restore him—when she (inner-self/Nafs) has reached the throat-pharynx (of the dying person)?" [56:83

تو پھر کیا وجہ ہے کہ تمہارے دعوے کردہ معبود اسے بچانے کے لیے مدد کو نہیں آتے—اسے واپس زندگی کی طرف کیوں نہیں لے آتے—جب اس کی نفس اس کے حلقوم (مرنے والے کے گلے) تک پہنچ  جاتی  ہے؟

وَأَنتُـمْ حِيـنَئِذٛ تَنظُرُونَ ٨٤

  • While you people at that moment of so happening are watching—helpless, akin to realizing that nothing can escape him. [56:84]

اور اس وقت تم سب بے بسی سے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہو—اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ اب کوئی چیز اسے بچا نہیں سکتی۔

وَنَـحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْـهِ مِنكُـمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ٨٥

  • And Our Majesty are more nearer to him than you people—But you people do not perceive by vision. [56:85]

حالانکہ ہم اس کے تم سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں—لیکن تم لوگ اسے بصری ادراک سے محسوس نہیں کرتے۔

فَلَوْلَآ إِن كُنتُـمْ غَيْـرَ مَدِينِيـنَ ٨٦تَرْجِعُونَـهَآإِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٨٧

  • Ironically then, if you do not acknowledge My authority in creating you and insist that life and death are mere phenomena of time—implying you are exempt from accountability—why do you not restore the departing soul back to its earlier state? Do so, if you are truthful in your claim! [56:86-87]

پھر یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ اگر تم میری  تخلیق ہونے کا اقرار نہیں کرتے  اور اصرار کرتے ہو کہ زندگی اور موت محض وقت کے طبیعی مظاہر ہیں—جس کا مطلب یہ ہے کہ تم خود کو جوابدہی سے مستثنیٰ سمجھتے ہو—تو پھر کیوں نہیں تم اس مرتی ہوئی جان کو اس کے پہلے کے حال میں واپس لے آتے؟ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ایسا کر کے دکھاؤ!"

فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُقَرَّبِيـنَ ٨٨فَرَوْحٚ وَرَيْحَانٚ وَجَنَّتُ نَعِيـمٛ ٨٩

  • Thereat, as for the one who strove to outpace, surpassing all others in believing the Messenger and taking lead in performing deeds of good import gaining the honour of the Nearest Ones of Allah the Exalted—[56:88] Their award is ever fresh liveliness and fragrances and permanent stay in Paradise of Delight. [56:89]

    چنانچہ، وہ شخص جس نے رسول اللہ  پر ایمان لانے میں سب سے آگے بڑھنے اور نیک اعمال میں سب کو پیچھے چھوڑنے کی سعی کی، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے مقربین میں شامل ہونے کا شرف حاصل کیا—اس کا صلہ دائمی تازگی، راحت و سکون، خوشبوؤں کی لطافت، اور نعمتوں بھری جنت میں ہمیشہ کا قیام ہے۔

Root: ر و ح

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنْ أَصْحَـٟـبِ ٱلْيَـمِيـنِ ٩٠فَسَلَٟمٚ لَّكَ مِنْ أَصْحَـٟـبِ ٱلْيَـمِيـنِ ٩١

  • And others, if they were acknowledged as being the companions of Right Handed, they will be piloted to and honourably settled in the Paradise—[56:90] Thereby, salutation of reverence for you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] shall be echoing from the companions of Right Handed (to see you off for Abode of Honoured distinction). [56:91]

اور دیگر لوگ، اگر وہ دائیں ہاتھ والوں کے ساتھیوں کے طور پر پہچانے گئے، تو انہیں آسمانوں کے پارمنزل کی طرف لے جایا جائے گا اور عزت و وقار کے ساتھ جنت میں بسایا جائے گا—چونکہ  وہ آپ (ﷺ)سے  محبت و ادب کے جذبات سے سرشار ہوں گے اس لئے   آپ کے لئے سلام سلام کی صدائیں بلند ہوں گی جن کی گونج میں مقام محمودا کی جانب  رخصت کریں گے۔

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُكَذِّبِيـنَ ٱلضَّآلِّيـنَ ٩٢فَنُزُلٚ مِّنْ حَـمِيـمٛ ٩٣ وَتَصْلِيَةُ جَحِيـمٍ ٩٤

  • And as for the one who was declared member of strayed people who publicly contradicted the Messenger of Allah the Exalted—[56:92] Then his reception will be with scalding hot water—[56:93] And then he will be thrown into the heated Hell-prison. [56:94]

    اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جسے گمراہ لوگوں میں شمار کر دیا گیا، جنہوں نے علانیہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی—تو اس کی مہمانی کھولتے ہوئے گرم پانی سے ہوگی—اور پھر اسے دہکتی ہوئی دوزخ کی قید میں جھونک دیا جائے گا۔

Root: ص ل ى; ج ح م


إِنَّ هَـٰذَا لَـهُوَ حَقُّ ٱلْيَقِيـنِ ٩٥

  • Certainly this (Qur’ān) is undoubtedly the Infallible Doctrine-Discourse—as certain as the realization of death. [56:95]

اس(قرءان مجید)کے متعلق ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ یہ موت کی مانند  یقینی بیان ہے۔

Root: ي ق ن

فَسَبِّـحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيـمِ ٩٦

  • Therefore, ignoring slanderous propaganda you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] continue exerting for the fulfilment of assigned job by the Name of Sublime Sustainer Lord of you. [56:96]

چونکہ ان کی ہرزہ سرائی کاتعلق اور سبب ہماری آیات سے ہے،آپ کی ذات سے نہیں،اسلئے ان سے اعراض برتتے ہوئے آپ (ﷺ)اپنے فرائض منصبی کی تکمیل کے لئے اپنے مطلق عظمت و کبریائی  والے رب کے اسم ذات کی  تسبیح  کرتے ہوئے برسرپیکار رہیں۔

057-ٱلْحَدِيْد‎‎

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ١

  • Realize it; Whatever exists in the skies and the Earth has always been and continues striving exclusively for and actively engaged in the glorification of Allah, the Exalted. Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [57:01]

ادراک کر لو؛  یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے  تسبیح  کرتے ہوئےبرسرپیکار ہیں۔
مطلع رہو! حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب ہر دم، ہر جگہ، ہر حال میں مطلق غالب ہیں، اور وہی بدرجہ اتم انصاف فرمانے والے، تمام موجودات کے حکمران اور ہر پوشیدہ و آشکار حقیقت سے باخبر ہیں۔

لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ يُحْـىِۦ وَيُمِيتُۖ وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٢

  • Realize that the Dominion and Sovereignty of the Skies and the Earth is exclusively His domain. He alone gives life and causes death. Remain cognizant, He the Exalted is eternally the Supreme Determiner of Causality over the entire physical realm. [57:02]

وہی جناب ہیں— آسمانوں اور زمین پر حاکمیتِ مطلق اور نظامِ کائنات صرف انہی کے دائرہ اختیار میں ہے۔
وہی حیات بخشتے اور ذی حیات کو موت سے ہمکنار کرتے ہیں۔
خبردار رہو! وہی ہر شئے اور تمام معاملات کو معین حدود و پیمانوں میں باندھنے پر ازل سے قادر ہیں۔

Root: م ل ك

هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلۡءَاخِرُ وَٱلظَّٟهِرُ وَٱلْبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٌ ٣

  • He the Exalted is the Eternal - the One Who has always been the First (without a beginning) and is the Last (without an end). And He is the Omnipresent, the One Who manifests His presence and existence; and simultaneously is the One Who maintains invisibility. Be cognizant; He the Exalted is intrinsically and eternally the Knower of all the physical realm [57:03]

وہ جناب موجودگی کے حوالے سے اول ہیں اور آخر بھی وہ جناب ہی ہیں۔
وہ جناب بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں؛اپنے موجود ہونے کا اظہار کرنے والے ہیں؛ اوراپنے آپ کو بصارتوں سے پوشیدہ رکھنے والے ہیں۔
اور وہ جناب ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛثُـمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَـى ٱلْعَـرْشِۚ
يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْـهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْـرُجُ فِيـهَاۖ
وَهُوَ مَعَكُـمْ أَيْنَ مَا كُنتُـمْۚ
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ٤

  • He the Exalted is The One Who innovatively created the Skies and the Earth in a time duration of six days—time reckoned in a domain beyond this universe—Thereafter, He ascended to absolute authority and established Himself as the Supreme Sovereign, governing from the Supreme Throne of Power.
    He the Exalted fully knows all that penetrates, inserts itself, and embeds within the Earth, and all that emerges, ascends, and sprouts from her —And He the Exalted fully knows all that which descends from the Sky—whether gradually or suddenly— and all that ascends and elevates into her.
    Beware! He the Exalted is always present with you, wherever you may be.
    And remain mindful—Allah the Exalted is ever watchful of all that you people do.
    [57:04]

وہی جناب ہیں جنہوں نے آسمانوں اور زمین کو منفرد طرز پر تخلیق فرمایا، چھ دنوں میں—ایسا وقت جو اس کائنات کے دائرے سے ماورا ہے۔ بعد ازاں، وہ جناب مزید بلندی پر مطلق اقتدار پر فائز ہوئے اور اعلیٰ ترین اقتداری عرش پر متمکن ہو کر تمام حکمرانی اور نظم و نسق کو اپنے اختیار میں لے لیا۔
وہ جناب مکمل طور پر باخبر ہیں ہر اس شئے سے جو زمین میں داخل ہوتی، سرایت کرتی اور اس میں پیوست ہو جاتی ہے، اور ہر اس شئے سے جو اس میں سے نکلتی، اوپر اٹھتی اور نمو پاتی ہے۔اور وہ جناب مکمل طور پر باخبر ہیں ہر اس چیز سے جو آسمان سے اترتی ہے—چاہے تدریجاً ہو یا فوراً—اور ہر اس چیز سے جو آسمان کی جانب بلند ہوتی اور چڑھتی ہے۔
متنبہ رہو؛وہ جناب موجود ہوتے ہیں تم میں سے ہر ایک کی معیت میں قطع نظر اس کے کہ تم لوگ کہاں موجود ہو۔
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔

Root: ع ر ج;و ل ج ;خ ل ق; س ت ت;ع ر ش Origin of the Universe

لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ وَإِلَـى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ٥

  • Realize that the Dominion and Sovereignty of the Skies and the Earth is exclusively His domain. —And be aware! All affairs, decisions, and matters inevitably return to Allah the Exalted for final resolution. [57:05]

جان لو  — آسمانوں اور زمین پر حاکمیتِ مطلق اور نظامِ کائنات صرف انہی کے دائرہ اختیار میں ہے۔
 اور متنبہ رہو! تمام معاملات، فیصلے اور امور ناگزیر طور پر حتمی فیصلے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی جانب لوٹائے جاتے ہیں۔

Root: م ل ك

يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِـى ٱلنَّـهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّـهَارَ فِى ٱلَّيْلِۚ وَهُوَ عَلِيـمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٦

  • He the Exalted moves the Night gradually and smoothly into the Day and likewise moves the Day smoothly into the Night. Remain mindful! He the Exalted is absolutely aware of what is possessed and held within the chests. [57:06]

 وہ جناب کسی مخصوص مقام کی رات کو دن کی حدود میں داخل کرتے رہتے ہیں، اور اسی طرح کسی مقام کے دن کو رات میں داخل فرماتے ہیں۔
 یہ حقیقت ہے کہ وہ جناب ہر اس چیز سے مکمل باخبر ہیں جو سینوں میں گہرائی سے پیوست اور چسپاں رکھی گئی ۔
(الحدید۔
٦ )


ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُوا۟ مِمَّا جَعَلَـكُـم مُّسْتَخْلَفِيـنَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُـمْ وَأَنفَقُوا۟ لَـهُـمْ أَجْرٚ كَبِيـرٚ ٧

  • [O you the People!] Incline yourselves to believe in and wholeheartedly trust Allah the Exalted and His Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]. And spend for the welfare of others from the worldly means that He the Exalted has appointed you as transient successors—entrusted with it only momentarily, yet destined to be replaced—(just as night transitions into day and day into night). Thus, those among you who have sincerely believed and willingly spent, for them is an assured, immense reward awaiting. [57:07]

اے لوگو! اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (کریم محمّد ﷺ)پر دل کی شاد سے  ایمان لانے اور کامل بھروسا رکھنے کی جانب خود کو مائل کرو۔۔
 اور اُن وسائل میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث خرچ کرو  جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عارضی خواہش اور مرضی رکھنے والے   جانشین بنا کر سونپے ہیں—محض لمحاتی امانت، جو بالآخر کسی اور کے سپرد ہونی ہے (جیسے رات دن میں اور دن رات میں بدلتا رہتا ہے)
اس لئے جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے  جو تم میں راست طرز فکر والے ایمان لائے اور انہوں نے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث خرچ کیا۔۔ایک بہت بڑا انعام ان کے لئے وقف اور منتظر ہے۔(الحدید۔
٧
)

وَمَا لَـكُـمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِۙ وَٱلـرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا۟ بِرَبِّكُـمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـٟـقَكُـمْ إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَ ٨

  • And O you the People of Book! What excuse do you have for not remaining firm upon belief in Allah the Exalted?—While the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] persistently invites you to uphold faith in your Sustainer Lord—And certainly He the Exalted had taken your solemn pledge to believe in the forthcoming Messenger—Remain loyal to the covenant If you have been truly the believers. [57:08]

اور اے اہلِ کتاب! وہ کون سی سوچ یا جواز ہے جو تم لوگوں کے تذبذب کا باعث بنا ہوا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کی حالت میں نہیں ہو؟ حالانکہ رسول کریم (محمد ﷺ)تمہیں برابر تمہارے رب پر ایمان رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
اور جبکہ وہ جناب (تمہارے رب)عرصہ قبل تم سے میثاق لے چکے ہیں، پس اپنے میثاق کے پابند رہتے ہوئے رسول کریم پر ایمان لاؤ، اگر تم واقعی مومن ہو۔

Root: و ث ق

هُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ عَلَـىٰ عَبْدِهِۦٓ ءَايَٟتِۭ بَيِّنَٟتٛ لِّيُخْرِجَكُـم مِّنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُـمْ لَرَءُوفٚ رَّحِـيـمٚ ٩

  • He the Exalted is the One Who is progressively revealing the self-explanatory and illuminating verbal passages  to His Sincere Allegiant [the Messenger Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]—So that he may move you people out of the depths of darkness into the manifest light. [Read with 2:257; 5:16; 14:01; 33:43;65:11] And indeed Allah the Exalted is most surely full of kindness, the Most Merciful to you people. [57:09]

  • وہ جناب ہیں جو اپنے بندے (رسول کریم ﷺ) پر ایسی آیات وقفے وقفے سے بھیج رہے ہیں، جو اپنے معنی و مفہوم میں خود واضح اور نمایاں ہیں۔

  •  ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ  (رسول کریمﷺ)تمہیں مخصوص اندھیروں سے نکالتے ہوئے  مخصوص نور(حیات بخش قرءان)کی جانب لے جائیں ۔
    مطلع رہو؛ یقینا اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر نرمی،لطافت،شفقت اور کرم فرمانے والےہیں؛وہ منبع رحمت ہیں۔(الحدید۔٩
    )

Root: ر ء ف


وَمَا لَـكُـمْ أَلَّا تُنفِقُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيـرَٟثُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۚ
لَا يَسْتَوِى مِنكُـم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ ٱلْفَتْحِ وَقَٟتَلَۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةٙ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَقَٟتَلُوا۟ۚ 
وَكُلّٙا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ١٠

  • Reflect: What argument or rationale could justify your failure to spend in supporting and defending the cause of Allah the Exalted, while knowing that the inheritance of the skies and the Earth is exclusively Allah’s domain to manage and assign?
    Know it; no one of you the believers of universal Messenger (Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam) will ever in timeline accomplish attaining equivalence with the believer who had spent before the event of the Conquest of Mecca and had confronted war.
    They are the ones who are all time the great. Their greatness is with regard to their elevated rank and ascension in contrast to all the believers who did the same act of spending and confronting war in time and space in time-line after the Conquest.
    However, Allah the Exalted has promised the most appropriate-proportionate reward for all others.
    Remain mindful, Allah the Exalted is perpetually informed/aware of all those acts which you people keep doing. [57:10]

غور کریں: کون سی دلیل یا عقلی جواز تمہاری اس کوتاہی کا جواز پیش کر سکتا ہے  اگر تم اللہ تعالیٰ کے مقصد کی حمایت اور دفاع میں خرچ کرنے میں ناکام رہے، جبکہ تم جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کی میراث صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، جسے وہ اپنی مرضی سے چلاتے اور تقسیم کرتے ہیں؟
اس حقیقت سے مطلع رہو؛رسول کریم (ﷺ)پر ایمان لانے والے تم لوگوں میں زمان و مکان میں  کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جو اس میں  کامیاب ہو سکے کہ اس ایمان والے کے مساوی ہو جائے جس نے فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کیا اور  جنگ میں  شریک ہوا۔وہ  (فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے صحابہ کرام)سب ہمیشہ کے لئے عظیم ہیں،
ان کی عظمت ان کے بلند درجات اور مقامِ رفعت کے اعتبار سے ہے، جو ان تمام مؤمنین کے مقابلے میں بلند ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جنگ میں حصہ لیا۔
تاہم یہ بھی یا درہے اللہ تعالیٰ نے 
سب کے لیے موزوں اور مناسب اجر کا وعدہ کیا ہے۔۔
خبردار رہو، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے ہمیشہ مکمل طور پر باخبر ہے، جو تم مسلسل کرتے رہتے ہو۔

Root: و ر ث؛ف ت ح; ق ت ل؛د ر ج

مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْـرِضُ ٱللَّهَ قَرْضٙا حَسَنٙافَيُضَٟعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجْرٚ كَرِيـمٚ ١١

  • Would there be someone who sincerely lends to Allah the Exalted—a goodwill contribution from his wealth—spending solely for seeking His approval and appreciation? Thereby, He the Exalted may reciprocally and extensively amplify it for him. Be aware, an exceptional and noble reward is assured for him. [57:11]

کیا کوئی ہے جو خلوص دل سے اللہ تعالیٰ کو ایک نیک نیتی کا عطیہ قرض دے—اپنے مال میں سے، صرف اُس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے  دوسروں پرخرچ کرے؟ جس پر وہ جناب  اس کے لیے اسے باہمی تعامل سے کثرت کے ساتھ بڑھا دے۔ جان لو، ایک غیر معمولی اور عظیم الشان اجر اس کے لیے یقینی ہے۔(الحدید۔١١)

Root: ق ر ض؛  ك ر م


يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ وَٱلْمُؤْمِنَٟتِ يَسْعَىٰ نُورُهُـم بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَبِأَيْمَٟنِـهِـم
بُشْـرَىٰكُـمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّٟتٚ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۚ
ذَٟلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ١٢

  • The Day is certain to come when you, the Messenger, will be delighted to see the truly Believing Men and Believing Women, in the state that their Light is radiating before them and on their right. They will be greeted, "Congratulations and glad tidings for you people today— gardens with canals of water flowing beside, wherein you will reside perpetually. This approval and appreciation of Allah is indeed the greatest, the grandest achievement and success." [57:12]

وہ دن یقیناً آنے والا ہے جب آپ(ﷺ)خوشی محسوس کریں گے یہ دیکھ کر کہ  آپ پرصدق قلب  سے ایمان لانے والے   مردوں اور عورتوں کے جسم سے پھوٹتا ہوا نوران کے آگے اور دائیں  جانب کو  روشن  کرتا چل رہا ہے۔
ان سے کہا جائے گا’’آپ لوگوں کے لئے خوش خبری ہے آج کے دن ایسے باغات ملنے کی جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔آپ ان میں ہمیشہ آباد رہیں گے"۔
یہ ہے جو صحیح معنوں میں زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔(الحدید۔
١٢)

Root: س ع ى؛ف و ز

يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَٟفِقُونَ وَٱلْمُنَٟفِقَٟتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورٙا
 
فَضُرِبَ بَيْـنَـهُـم بِسُورٛ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْـمَةُ وَظَٟهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ ١٣

  • The Day is certain to come when the Men of False and Deceptive Claim of Belief and the Women of False and Deceptive Claim of Belief will plead to those who had truly believed—"Please wait for us! Let us draw some light from your radiance". But they will be told, "Return back to your past whereat seek for yourselves visible light". Thereat, a partitioning is struck between them by raising a walled enclave. It has the entrance gate. The mercy is everywhere inside the boundary. And its exterior, all around facing boundary wall, there is the punishment. [57:13]

وہ دن یقیناً آنے والا ہے جب جھوٹے اور دھوکہ دہی پر مبنی ایمان کے دعوے دار مرد اور ایسی ہی دعوے دار عورتیں ان لوگوں سے فریاد کریں گے جنہوں نے حقیقی ایمان قبول کیا تھا—’’آپ لوگ ہمارا انتظار کریں۔آپ کے نور سے ہم کچھ روشنی کا دائرہ دیکھ کر آپ تک پہنچ سکیں‘‘ ۔
لیکن انہیں جواب دیا جائے گا، "اپنے ماضی کی طرف واپس لوٹ جاؤ ، اور وہاں جا کر ٹٹول کر کوئی روشنی تلاش کرو، اگر پا سکو!
چونکہ ان مومنین کی آسمان کے پار روانگی کا وقت ہو جائے گا اس لئے ان کے مابین ایک دوسرے کو نظروں سے اوجھل کر دینے والی رکاوٹ کو نمایاں کر دیا گیا،فقط ایک دیوار؛ایک دروازہ باہر جانے کے لئے اس میں موجود ہے۔اس(دروازے)کا پوشیدہ حصہ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اس میں ہر سو دکھائی دے گی۔۔اور اس(دروازے)کا سامنے کا دکھائی دینے والا حصہ۔۔عذاب اس کے روبرو ہر سو موجود ہو گا۔(الحدید۔
١٣)

Root: ق ب س؛ل م س; و ر ء؛س و ر; ض ر ب

يُنَادُونَـهُـمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُـمْۖ
قَالُوا۟ بَلَـىٰ وَلَـٰكِنَّكُـمْ فَتَنتُـمْ أَنفُسَكُـمْ وَتَرَبَّصْتُـمْ وَٱرْتَبْتُـمْ
وَغـرَّتْكُـمُ ٱلْأَمَانِـىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْـرُ ٱللَّهِ وَغَـرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَـرُورُ ١٤

  • They will cry out to them, "Were we not with you?" The believers will respond, "Yes, indeed! "Yes, indeed! But you knowingly entangled yourselves in trials and willfully delayed repentance and rectification. You deliberately wavered in hesitation, swaying between belief and doubt. And your false desires and deceptive hopes deluded you—until the Command of Allah the Exalted finally arrived—while the Deceiver beguiled you by prevarications about commands of Allah the Exalted." " [57:14]

وہ(منافقین) انہیں (مومنین کو)اونچی آواز میں پکارکر کہیں  گے’’کیا ہم لوگ تمہارے ساتھ نہیں بستے تھے‘‘۔
انہوں نے جواب دیا’’
"ہاں، یقیناً!لیکن حقیقت اپنی جگہ ہے کہ تم  نے خود اپنے نفوس کو ہیجان و اضطراب میں الجھائے رکھا،اور قصداً توبہ و اصلاح کو مؤخر کرتے رہے۔ تم نے دانستہ تذبذب میں جھولے کھائے، ایمان اور شک کے درمیان متردد رہے۔
اور
کتاب اللہ سے ماوراء   من گھڑت ،لغو،تمناؤں اور خواہشات کی تسکین کرنے والے    بیانات ا ور امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈالےرکھا۔تم لوگ اس روش پر اس وقت تک کاربند رہے   یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کاحکم پہنچ گیا۔اور منفرد دھوکے باز (شیطان ، تمہارے نفس/پیشانی)نے تمہیں لذت دنیا کے حصول میں مبتلا کر کے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا بھلا دیا۔

Root: ر ب ص; ر ى ب؛م ن ى؛غ ر ر

فَٱلْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُـمْ فِدْيَةٚ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ۚ
مَأْوَىٰكُـمُ ٱلنَّارُۖ هِـىَ مَوْلَىٰكُـمْۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيـرُ ١٥

  • It will be declared: O you Muna'fi'qeen—Impostor believers! Since you were duly warned and the acceptance of repentance was exclusively limited to your worldly life, therefore, today no ransom or redeeming offer from you shall be accepted—nor from those who had willfully rejected faith in the Messenger."
    The Abode of you people is the heated Hell-Prison. She is the "Protector" of you people. And it is an evil abode-destination to land in. [57:15]

یہ اعلان کر دیا جائے گا:اے منافقو—دھوکہ باز ایمان کے جھوٹے دعویدارو!چونکہ تمہیں مکمل طور پر خبردار کیا گیا تھا اور توبہ کی قبولیت کا موقع صرف دنیاوی زندگی تک محدود تھا، لہٰذا، آج تم سے نہ کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی تمہاری کوئی معذرت یا نجات کی پیشکش—اور نہ ہی ان لوگوں سے جو رسول پر ایمان لانے سے دانستہ انکاری رہے۔
تم لوگوں کا ٹھکانہ دہکتی ہوئی جہنم کی قید گاہ ہے۔ وہی تمہاری "محافظ"ہے۔ اور کیا بدترین منزل ہے  وہ،رہایش پذیر ہونے کے لئے۔

Root: ف د ى؛ص ى ر


أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟  أَن تَخْشَعَ قُلُوبُـهُـمْ لِذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلْحَقِّ
وَلَا يَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْـكِـتَٟبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْـهِـمُ ٱلْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُـهُـمْۖ 
وَكَثِيـرٚ مِّنْـهُـمْ فَـٟسِقُونَ ١٦

  • Has the time not yet come for those who have proclaimed to have believed—that their hearts should be humbled in awe for celebrating the Supremacy of Allah, and for that which has since reached them as an ever-binding Infallible Discourse (Qur’ān), serving as a Reminder for all times?
    And that they should not become like those who were given the Divine Book earlier in timeline—then, since the Divine Book had imposed restrictions on leading an arbitrary life, time felt prolonged upon them. Consequently, their hearts became hardened—rigidly stuck in place, immovably clinging to the conjectural myths, stories, notions, and deceptive hopes that had been popularized.
    The fact remains; majority of typical psyche amongst them were "fasi'qoona": the promise breakers and transgressors
    who dissolutely move out of the bounds and restraints. [57:16]

کیا اب تک ان لوگوں کے لیے وقت نہیں آیا جنہوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے—کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی عظمت و برتری کے اعتراف میں خشوع و خضوع اختیار کریں، اور اس کے لیے بھی جو انہیں تب سے پہنچ چکا ہے، ایک ہمیشہ کے لیے لازم و قائم رہنے والا ناقابلِ تردید کلام (قرءان)، جو ہر زمانے کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ ہے؟
اور
یہ کہ وہ ان لوگوں کی مانند  نہ ہو جائیں جنہیں زمانہ قبل میں مخصوص کتاب سے نوازا گیا تھا۔
 چونکہ  عنایت کردہ کتاب  میں  من مانی زندگی بسر کرنے پر پابندیاں تھیں اس لئے ان پر زمانہ طویل محسوس ہونے لگا۔اس احساس کے نتیجے میں ان کے دل ہٹ دھرم ہو گئے،جامد ہو کر ایک ہی جگہ چپک گئے، اور بے حرکت رہتے ہوئے ان من گھڑت افسانوں، کہانیوں، خیالات اور دھوکہ دینے والی امیدوں سے چمٹے رہے جو عوام میں مقبول کر دی گئی تھیں۔
اور ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اپنے قول و اقرار کی خلاف ورزی، حدود و قیود کی پامالی، اور بغاوت آمیز علیحدگی کو اپنی سرشت بنائے رکھتے ہیں۔(الحدید۔١٦)

Root: ط و ل;  ق س و;ف س ق

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يُحْـىِ ٱلۡأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَاۚ
قَدْ بَيَّنَّا لَـكُـمُ ٱلْءَايَـٟتِ لَعَلَّـكُـمْ تَعْقِلُونَ ١٧

  • Know this with certainty: Allah the Exalted is the One Who rejuvenates—reviving the Earth after her death and barrenness. Indeed, Our Majesty has explicitly rendered both the phenomenal signs in nature and the verbal passages of the Qur’ān as self-evident indicators. The objective is that perhaps you may engage in objective analysis and critical thinking.  [57:17]

یقین کے ساتھ جان لو: اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو زمین کو اس کی موت اور بنجر پن کے بعد دوبارہ زندگی بخشتا اور اسے تازگی عطا فرماتا ہے(تاکہ حیات نو دئیے جانے کا ادراک کر لو)۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہاری فہم و فراست کے لیے قدرت کے مظاہر اور قرءان مجید کے کلامی دلائل—دونوں کو نہایت واضح اور خود مبرہن نشانیاں بنا دیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شاید تم غیر جانبدار تجزیہ کرو اور سنجیدگی سے موت و حیات کے بارے میں غور و فکر کرو
۔(الحدید۔
١٧)

Root: ع ق ل

إِنَّ ٱلْمُصَّدِّقِيـنَ وَٱلْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضٙا حَسَنٙا يُضَٟعَفُ لَـهُـمْ وَلَـهُـمْ أَجْرٚ كَرِيـمٚ ١٨

  • Know the appreciation awarded to those men and women who usually display generosity and heartily gifted Allah the Exalted a goodwill shearing from their wealth: financially helped people only for seeking approval and appreciation of Allah—He the Exalted will render it increasing and inflating relatively manifold for them. Know it; a par excellence reward is ready-in wait for them. [57:18]

    جان لو کہ ان مردوں اور عورتوں کے لیے  قدر و منزلت  اور عزت افزائی کیا ہے جو عمومی طور پر فیاضی  اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور  اللہ تعالیٰ کو انہوں نےخلوصِ دل  اور حسنِ نیت کے ساتھ   اپنے مال میں سے قرض دیا،خیر سگالی کے انداز میں دیا گیا قرض  یعنی  محض اللہ کی رضا اور پذیرائی کے طلبگار ہوتے  ہوئے حاجت  مندوں  کی بے لوث مالی مدد کی۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اِسے (ان کے احسان)کا بدلہ بناتے ہوئے، خود کو مقروض ٹھہراتے ہیں اور اُن کے لیے اِسے کئی گنا بڑھا کر ثمرآور اور نفع بخش کر دیں گے۔
    مطلع
    رہو!ان کے لیے عظیم الشان اور باوقار اجر تیار رکھا گیا ہے۔(الحدید۔
    ١٨
    )

Root: ق ر ض; ك ر م

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّـهِـمْ لَـهُـمْ أَجْـرُهُـمْ وَنُورُهُـمْۖ
وَٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِنَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلْجَحِـيـمِ ١٩

  • And those who believed in Allah the Exalted and all of His Messengers —They are the ones who are recognized and acknowledged as having proved the truthfulness of their belief through unwavering action—And their status shall be that of witnesses in the presence of their Sustainer Lord—Their reward and their radiant light is assured for them.
    And know the fate of those who refused to believe in Allah the Exalted and the Hereafter; and those who publicly contradicted the miraculous displays shown by the Messengers and the verbal passages of the Divine Book—they are the ones who will become the resident subjects, permanently bound in the Hell-Prison.
    [57:19]

    اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور ان کے تمام رسولوں پر ایمان لائے—یہی وہ لوگ ہیں جنہیں تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے  ایمان ویقین کی سچائی کو غیر متزلزل عمل کے ذریعے ثابت کر دیا—اور ان کا مقام اپنے پروردگار کے حضور گواہ کے طور پر ہوگا—ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا تابناک نور یقینی ہے۔
    اور جان لو ان لوگوں کا انجام جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے سے انکاری رہے؛ اور وہ جنہوں نے سرعام رسولوں کے پیش کردہ معجزاتی دلائل اور الہامی کتاب کے کلامی شواہد کو جھٹلایا—یہی وہ لوگ ہیں جو جہنم کی قید میں مستقل طور پر رہنے والے قیدی بنیں گے۔(الحدید۔
    ١٩)

Root: ج ح م

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا ٱلْحَيَٟوةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٚ وَلَـهْوٚ وَزِينَةٚ
وَتَفَاخُرُۢ  بَيْـنَكُـمْ وَتَكَاثُـرٚ فِـى ٱلْأَمْوَٟلِ وَ ٱلْأَوْلَٟدِۖ 
كَمَثَلِ غَيْثٍٛ أَعْجَبَ ٱلْـكُـفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُـمَّ يَـهِيجُ فَـتَـرَىٰهُ مُصْفَرّٙا ثُـمَّ يَكُونُ حُطَٟمٙاۖ
وَفِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ عَذَابٚ شَدِيدٚ وَمَغْفِـرَةٚ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٟنٚۚ
وَمَا ٱلْحَيَٟوةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٟعُ ٱلْغُـرُورِ ٢٠

  • You people must know and/understand that the life of this lowly world is like short lived theatrical play and amusement and attraction—
    And mutual boasting among you, and a race for increase in the wealth and progeny/strength—
    Its reality is
    like the example of rain; its sprouting of crops made the farmers pleasingly wonder. After a lapse of time, the crop experiences a phase of excitement and shrivel; thereupon you see it turning golden yellowish. Afterwards, it would become thrashed-fragmented.
    And in the Hereafter, there awaits a severe punishment for some, while for others, there is forgiveness and protection, and appreciations and approval of Allah the Exalted.
    Take note: the life of this lowly world is worth nothing except as the wherewithal of deceptive and illusory hopes-enjoyment aimed at achieving an objective. [57:20]

اس حقیقت کو تم لوگ جان لو کہ دنیاوی زندگی محض ایک پُر لطف تماشا ہے، ایک ایسا مشغلہ جو مقصدِ حیات سے غافل کر سکتا ہے، اور ایک دلکش زینت ہے؛ اور تمہارے درمیان نہ ختم ہونے والا افتخار پانے کا ولولہ ہے، اور ہر وقت مال و اولاد میں کثرت پانے کی خواہش ہے۔
 اس کی عارضی حقیقت منفعت بخش بارش کے مانند ہے، جس سے اگنے والی نباتات کسانوں کو خوشی اور فخر کا احساس دیتی ہیں۔ مگر وقت گزرنے پر وہ (فصل)جوش و خروش کے مرحلے سے گزرتی ہے، پھر تم اسے سنہرا پیلا ہوتے دیکھتے ہو۔ بعد ازاں، وہ اناج اور بھوسے میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
اس تقسیم کی طرح شدید نوعیت کا عذاب آخرت میں ان لوگوں کے لئے تیار اور منتظر ہے جنہوں نے ہماری آیات کا نہ صرف انکار کیا بلکہ تکذیب کے بھی مرتکب ہوئے۔اوراللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے لئے  جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولوں پر ایمان لائے مغفرت اور پذیرائی  قدردانی کا واشگاف اعلان ہے۔
اور دنیا کی زندگی میں تو ایسی متاع،سامان زیست ہے جو تمنا،آرزو،فریب میں مبتلا کر دینے والا ہے۔(الحدید۔
٢٠
)

Root: ل ھ و; ل ع ب؛ك ف ر;  ع ج ب;  غ ى ث; ن ب ت؛ھ ى ج; ص ف ر؛غ ر ر

سَابِقُوٓا۟ إِلَـىٰ مَغْفِرَةٛ مِّن رَّبِّكُـمْ  وَجَنَّةٛ عَـرْضُهَا كَعَـرْضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرْضِ
أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ
ذَٟلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيـهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيـمِ ٢١

  • You people emulously aim at taking the lead at seeking protection and forgiveness, which is transmitted to you as promise from your Sustainer Lord —And take lead towards attaining Paradise from your Sustainer Lord — Her extensiveness-wideness is like the sum of the wideness of the Sky [stretched into seven layers] and the Earth [seven layers] —
    She (the Paradise) has been prepared exclusively for those in time and space who believed in Allah the Exalted and All His Messengers, first to the last universal Messenger through Covenant.
    This is the act of grace and blessing of Allah the Exalted. He grants it to him who desires it/for whom He so decides. Take note, Allah the Exalted  is the holder and granter of  the Bounty which is magnificent. [57:21]

اور تم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بھرپور جستجو کرو، اس درگزر،پردہ پوشی اور معافی کو حاصل کرنے کے لیے جس کا وعدہ اور ضمانت تمہارے رب کی جانب سے رسول کریم (ﷺ)نے تمہیں دی ہے۔اور جنت کی جانب بڑھنے میں سبقت لینے کی کوشش کرو ۔ جس کی وسعت آسمان کی تمام پرتوں اور زمین کی تہوں کی مجموعی وسعت کے برابر ہے—
وہ (جنت) خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو دل کی شاد سے اللہ تعالیٰ اور ان کے زمان و مکان میں بھیجے گئے تمام رسولوں پر ایمان لائے، سب سے پہلے رسول سے لے کر میثاق کے ذریعے آخری عالمگیر رسول تک، —
یہ جنت کا عنایت کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جناب  اس فضل کو اس شخص کو عنایت کرتے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کا استحقاق ہے/جو اس کو پانے کی خواہش اور لگن  میں رہتا ہے۔
اور یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ عظیم ترین فضل کرنے والے ہیں۔(الحدید۔ ٢١
)

Root: س ب ق;ع د د;ف ض ل


مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٛ فِـى ٱلۡأَرْض وَلَا فِـىٓ أَنفُسِكُـمْ ِ إِلَّا فِـى كِتَٟبٛ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْـرَأَهَآۚ إِنَّ ذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرٚ ٢٢
لِّـكَـيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَـىٰ مَا فَاتَكُـمْ  وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُـمْۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٛ فَخُورٍ ٢٣

  • Not a single decree has struck—out from the entire category of what is designed to cause misfortune—either within the macro-environment of the earth and nor within your own biological or psychological selves, but that it was already recorded and locked as a causality rule in a master database long before We would release that specific vector to take physical effect—
    Indeed, maintaining that absolute archive and executing its controlled realization remains an exercise of effortless, sovereign mastery exclusively under Allah’s command. (Cf. 22:70; 29:19; 35:11) [57:22]

  • [This master system of pre-programmed causality rules has been disclosed] Its objective is that you may not despair over what slipped away from your possession, and that you should not boisterously rejoice fantasizing the possession of what He the Exalted has granted you.
    Take note, Allah the Exalted does not at all appreciate and approve such person who is a self deluded fantasize, proudly boastful. [57:23]

مطلع رہو؛ کوئی بھی فیصلہ  جس کا نتیجہ —نقصان پہنچانے اور ہدف کو درست نشانہ بنانے والی مصیبت  سمجھی جاتی ہے —زمین کے  ماحول میں یا تمہارے اپنے حیاتیاتی اور نفسیاتی وجود کے اندر ہرگز اثر انداز نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ وہ پہلے ہی سے علّت و معلول کے ایک ضابطے (Causality rule) کے طور پر ایک جامع  کتاب(ڈیٹا بیس، ام الکتاب ) میں محفوظ اور مقفل ہے، اس سے بہت پہلے کہ ہم اس مخصوص مصیبت (Vector) کو کائنات میں نافذ اور آزاد کریں—
بلاشبہ، اس پورے علمی ریکارڈ کو برقرار رکھنا اور پھر اپنے اِذنِ خاص سے اس کے مادی اسباب کو حرکت میں لانا، اللہ  تعالیٰ کے کنٹرول اور اس کی مقتدر مصلحت کے لیے حد درجہ آسان اور معمولی بات ہے۔(الحدید۔
٢٢)

[علّت و معلول کے اس نظامِ مکتوب کو ظاہر کرنا کس وجہ سے ہے]اس کے مقصد یہ ہےکہ  اس پر افسوس و غم میں اپنے آپ کو  تم لوگ نڈھال نہ کرلو جوموقع اور حصول ظائع ہو گیا۔اور یہ کہ  تمہیں  اس پراترانا اور گھمنڈ  نہیں کرناچاہئے جو ان جناب نے تمہیں  عنایت  فرمایا ہے۔
متنبہ رہو۔ اللہ تعالیٰ ان تمام   لوگوں کو  نہ توقابل تحسین  گردانتے ہیں اور نہ ہی قدر افزائی کے لائق  جوخیالی خوش فہمیوں، خود فریبی  اورگھمنڈ میں مبتلا رہتے ہیں۔(الحدید۔
٢٣)

Root: ى س ر؛ف و ت;ف ر ح;خ ى ل

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُـرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَـمِيدُ ٢٤

  • Allah the Exalted does not appreciate and approve those who are themselves stingy and miser and to justify their act instruct other people to miserly withhold the worldly wherewithal from spending in the cause of Allah —And whoever purposely about-faced, thereat, it should be known that indeed Allah is the One Who is eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [57:24]

    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتے اور ان کی تائید نہیں کرتے جو خود بخیل اور کنجوس ہیں، اور اپنے طرزِ عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ دنیاوی وسائل کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے باز رہیں—اور جو کوئی جان بوجھ کر منہ موڑ لے، تو جان لے کہ بے شک اللہ ہی وہ ہستی ہے جو ازل سے مطلق بے نیاز ہے، اور ہمیشہ سے تمام عظمت اور تعریف کا مرکز و محور ہے۔(الحدید۔٢٤)


لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِٱلْبَيِّنَـٟتِ
وَأَنزَلْنَا مَعَهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْمِيـزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِۖ
وَأَنزَلْنَا ٱلْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٚ شَدِيدٚ وَمَنَٟفِعُ لِلنَّاسِ
وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلْغَيْبِۚ
إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٚ ٢٥

  • It is an established fact that in the past Our Majesty certainly sent Our Messengers to their respective peoples, each accompanied by distinct and unprecedented displays seemingly supernatural (miracles) as proof of Divine accreditation.
    And We compositely sent down a specific Book together with the Criterion (the Mīzān), along with every one of them, serving as the authoritative standard for judgment, evaluation, and for distinguishing truth from conjecture and falsehood. The purpose of the revealed Criterion was that
    humanity may order its affairs, administer judgment, and conduct social life in complete conformity with the universally applicable Principle of Equity embodied in the revealed Criterion.
    And Our Majesty have descended the Iron in one go. Sturdy force, energy and profitableness is inherent within it for the benefit of people.
    And the purpose of sending the Book and the Standard Criterion is that Allah the Exalted might bring to limelight whoever helps Him and His Messengers, perceiving their presence despite not being in sight, by persuading common people to act in alignment with the divine Book.
    Indeed Allah the Exalted is the Mightiest, the All-Pervasively dominant. (Cf. 58:21) [57:25]

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ماضی میں  ہم جناب نے اپنے رسولوں کوان کی متعلقہ اقوام کی طرف بھیجا، اس حال میں کہ ہر ایک کے ساتھ ایسے نمایاں، منفرد اور بظاہر مافوق الفطرت مظاہر (معجزات)موجود تھے جواس وقت کے لوگوں کےتصور سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں۔
اور ہم جناب نے ماضی کے ان تمام  رسولوں
کے ہمراہ مجتمع انداز میں ان کے لئے مخصوص کتاب کو نازل فرمایا تھا جس کا کردار عدل وانصاف اور جھوٹ و سچ کو جانچنے کے معیار
(پیمانہ/المیزان )کے طور پر تھا۔اس نازل کردہ معیار کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے اجتماعی معاملات کو منظم کرے، عدل پر مبنی فیصلے صادر کرے، اور اپنی معاشرتی زندگی کو اس آفاقی اصولِ انصاف کے مکمل التزام کے ساتھ استوار کرے جو اسی الٰہی معیار میں مجسم کیا گیا ہے۔
اور ہم جناب نے اوپر سے زمین پر لوہے کا یکبارگی اتارا تھا۔قوت و طاقت ایسی جس کا جزو لاینفک شدت ہے اس(لوہے)میں پنہاں ہے،اور اس میں انسانوں کے لئے کئی طرح کے منفعت بخش استعمال ہیں۔
اور کتاب بھیجنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو  نمایاں  کر دیں جو ان کی اور ان کے رسولوں کی ترسیل پیغام میں مدد کرتا ہے باوجود ان کےنگاہوں میں موجود نہ ہونے کے،
تاکہ لوگ اس کتاب الٰہی کے مطابق عمل کریں۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ منبع قوت ہیں،
دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔(الحدید۔٢٥)

Root: ر س ل; و ز ن;ق س ط

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحٙا وَإِبْرَٟهِيـمَ وَجَعَلْنَا فِـى ذُرِّيَّتِـهِـمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْـكِـتَٟبَۖ
فَمِنْـهُـم مُّهْتَدٛۖ وَكَثِيـرٚ مِّنْـهُـمْ فَـٟسِقُونَ ٢٦

  • Know the history:  it is a fact that Our Majesty had sent Noah [alai'his'slaam] and Iebra'heim [alai'his'slaam] to their respective nations—And Our Majesty kept in the progeny of both of them the position of Distinction, Elevation, and Selectivity along with the Book as their iconic legacy——
    Since every individual enjoys autonomy, thereby, there are those of their progeny who made themselves aright guided—While most from their origin are "fasiqoona"—the promise breakers and transgressors who go out of the prescribed bounds. [57:26]

تاریخ کو جان لو؛ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم جناب نے نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو ان کی اپنی قوموں کی طرف رسول مبعوث فرمایا تھا، اور ہم جناب نے نبوت اور مخصوص کتاب کو ان دونوں کی ذریت میں عنایت کر کے ان کا طرَّہ امتیاز بنایا تھا۔
مگر چونکہ ہر شخص کو اختیار حاصل ہے، اس لیے ان میں سے بعض افراد ہمیشہ سے اپنے راستے پر ثابت قدم رہ کر ہدایت کی جانب بڑھتے رہے ہیں، جبکہ ان کی اکثریت وہ لوگ ہیں جو اپنے قول و اقرار میں بے وفائی کرتے ہیں، حدود و قیود کو پامال کرتے ہیں اور اپنی سرکشی و انحراف کو اپنی فطرت بنا لیتے ہیں۔(الحدید۔
٢٦)

Root: ذ ر ر;ف س ق

ثُـمَّ قَفَّيْنَا عَلَـىٰٓ ءَاثَـٟرِهِـم بِرُسُلِنَا
وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ٱبْنِ مَـرْيَـمَ وَءَاتَيْـنَـٟهُ ٱلْإِنجِيلَ
وَجَعَلْنَا فِـى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأْفَةٙ وَرَحْـمَةٙ
وَرَهْبَانِيَّةً ٱبتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَٟهَا عَلَيْـهِـمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٟنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِـهَاۖ
فَــٔ​اتَيْـنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنْـهُـمْ أَجْرَهُـمْۖ وَكَثِيـرٚ مِّنْـهُـمْ فَـٟسِقُونَ ٢٧

  • Afterwards, Our Majesty continued their mission—faithfully traced through Our successive Messengers upon the marks left behind by those who came earlier. (The successive Messenger used to verify only that which had been revealed to the previous one, discarding whatever was later added by people.) —Our Majesty upheld the mission by commissioning as successor Easa [alai'his'slaam], son of Maryam —and We endowed him with the Book called the In'jeel.
    And Our Majesty placed in the hearts of those who sincerely followed him—compassion and mercy.
    Know it well—as for monasticism, they themselves innovated it from their own inclination. Our Majesty did not prescribe it upon them—rather, they sought by it the approval of Allah the Exalted. Yet they did not safeguard it with the due care it deserved.
    Resultantly, Our Majesty gave the reward to those among them who had accepted and believed—while most from their origin are fāsiqūn—the promise-breakers and transgressors who overstep the prescribed bounds. [57:27]

اوربعد ازاں  ہم جناب نے ان قبل ازیں بھیجے گئے رسولوں کے چھوڑے نقوش و اثرات پر اپنے رسولوں کے ذریعےمشن ہدایت کے تسلسل کوجاری رکھا۔
اور ہم جناب نے ان(رسولوں)کے چھوڑے نقوش و اثرات پرمشن کے تسلسل کو بذریعہ عیسیٰ(علیہ السلام)،ابن مریم(صدیقہ)،جاری رکھا۔اور ہم جناب نے انہیں اپنے کلام پر مشتمل کتاب بعنوان انجیل کو عنایت کیا تھا۔
اور ہم جناب نے ان لوگوں کے قلوب  میں ،جنہوں نے ان کی  خلوص نیت سے اتباع کی،احساس خشیت کو  انسانوں کے لئےشفقت اوررحمت کو ان کی فطرت و روش  کا حصہ بنا دیا۔
خبردار ہو جاؤ! رہبانیت—یہ تو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی بطور ایک اختراعی طرزِ عبادت۔ ہم جناب نے ان پر اس کو فرض نہیں کیا تھا—ان کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول تھا—مگر وہ اسے اس طور پر ادا نہ کر سکے جیسا کہ اس کی درست نگہداشت کا حق تھا۔
چنانچہ ہم جناب نے اُن لوگوں کو ان کا اجر عطا فرمایا جو ان میں سے ایمان لے آئے—مگر ان کی اکثریت فاسقین پر مشتمل ہےجو اپنے قول و اقرار/میثاق میں بے وفائی کرتے ہیں، حدود و قیود کو پامال کرتے ہیں اور اپنی سرکشی و انحراف کو اپنی فطرت بنا لیتے ہیں۔(الحدید۔
٢٧)

Root: ق ف و;  ء ث ر;ر ء ف;ف س ق

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ يُؤْتِكُـمْ كِفْلَيْـنِ مِن رَّحْـمَتِهِۦ وَيَجْعَل لَّـكُـمْ نُورٙا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْلَـكُـمْۚ وَٱللَّهُ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ٢٨

  • O you who claim belief in Easa [alai'his'slaam]; pay heed! You people sincerely strive to attain the protection from Allah the Exalted —And believe, adhering to your Covenant, in His Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —He the Exalted will grant you double share from His Mercy and Grace —(Refer 28:52-55)
    Moreover, He will assign for you a light with which you shall walk in the Hereafter; and He will protect and grant you  forgiveness—Know it, Allah the Exalted is repeatedly the Forgiving-Overlooking, the fountain of Mercy. [57:28]

اے لوگو! جو عیسیٰ [علیہ السلام] پر ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو، توجہ دو! تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت سے مرعوب ہو کر ان کی حفاظت کے دائرے میں داخل ہونے کی سچی کوشش کرو — اور اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے ان کے رسول [محمد ﷺ]پر ایمان لے آؤ —تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت اور فضل سے دوہرا حصہ عطا فرمائے گا —(ملاحظہ ہو:القصص۔٥٢۔٥٥)
اور وہ تمہارے لیے ایک روشنی مقرر فرمائیں گے جس کے ذریعے تم آخرت میں چل سکو گے؛ اور تمہیں حفاظت دیں گے اور تمہارے قصور معاف فرما دیں گے — خوب جان لو، اللہ تعالیٰ نہایت درجہ معاف فرمانے والا، بار بار درگزر فرمانے والا، منبع رحمت ہیں۔(الحدید۔٢٨)

Root: ك ف ل;م ش ى

لِّئَلاَّ يَعْلَمَ أَهْلُ ٱلْـكِـتَٟبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَـىٰ شَـىْءٛ مِّن فَضْلِ ٱللَّهِۙ
وَأَنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيـهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيـمِ ٢٩

  • So do believe in the Universal Messenger—so that the People of the Book—(particularly those Jews who reject him out of jealousy and heart-burning, as described in 2:90)—may finally realize that they hold no authority whatsoever over any share in the bounty and grace of Allah the Exalted. Indeed, all Bounty and Grace is in the Hand of Allah; He bestows it upon whomsoever He wills. And Allah, the Exalted, is the possessor of Infinite Bounty. [57:29]

اے نصاریٰ  تم  عالمگیر رسول [محمد ﷺ] پر ضرور ایمان لے آؤ—تاکہ اہلِ کتاب—(خصوصاً وہ یہود جنہوں نے محض حسد اور دل کی جلن کی وجہ سے رسول کو ماننے سے انکار کیا، جیسا کہ سورہ بقرہ 2:90 میں بیان ہوا)—بالآخر یہ حقیقت جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت میں سے کسی بھی حصے پر کوئی اختیار یا حقِ ملکیت نہیں رکھتے۔ بے شک فضل و رحمت تو صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے؛ وہ جسے چاہے عطا فرماتے  ہیں(ابلیس کی مانند حسد اور جلن کا کوئی جواز نہیں)۔ اور اللہ تعالیٰ صاحبِ فضلِ عظیم ہے۔(الحدید۔٢٩)

 

058-ٱلْمُجَادَلَة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


قَدْ سَـمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّتِـى تُجَٟدِلُكَ فِـى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِـىٓ إِلَـى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمآۚ إِنَّ ٱللَّهَ  سَـمِيعٌۢ ۢبَصِيـرٌ ١

  • Indeed Allah has certainly heard the speech of the woman who was earnestly presenting her case before you, the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], concerning her husband, and was sincerely pouring out her complaint directly to Allah. And Allah the Exalted was listening the mutual dialogue between both of you—Indeed Allah the Exalted is eternally the Hearer, and is ever observer [everything/act is in His focus]. [58:01]

    یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی بات کو سنا جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ [رسولِ مکرّم ﷺ]کے حضور نہایت  پزور انداز میں  اپنا مقدمہ پیش کر رہی تھی، اور دل کی گہرائیوں سے اپنا شکوہ  اللہ تعالیٰ سے  کے حضوربیان کر رہی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمے کو بھی بغور سن رہےتھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سننے والے، اور ہر چیز کو مسلسل دیکھنے والے ہیں—یعنی ہر شے اور ہر عمل اُن کی نگاہ میں ہے، اُن کے دائرۂ علم و توجہ سے باہر کچھ نہیں۔(المجادلہ۔١)

    Root: ش ك و

ٱلَّذِينَ يُظَٟهِرُونَ مِنكُـم مِّن نِّسَآئِـهِـم مَّا هُنَّ أُمَّهَٟتِـهِـمْۖ إِنْ أُمَّهَٟتُـهُـمْ إِلَّا ٱلَّـٟٓـِٔـى وَلَـدْنَـهُـمْۚ
وَإِنَّـهُـمْ لَيَقُولُونَ مُنكَـرٙا مِّنَ ٱلْقَوْلِ وَزُورٙاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٚ ٢

  • Those among you who are emotionally unstable and, instead of responsibly ending the relationship, verbally disassociate from their wives by declaring them as sacred and untouchable like their mothers, should know: those women are not their mothers. Their mothers are only those who physically gave birth to them.
    And indeed what they say is gravely indecent, obnoxious in the oral statement and an evident falsity. And indeed Allah the Exalted is certainly ever pardoning, remitting and forgiving. [58:02]

    یقیناً!تم میں  سےچھچلے پن اور  جذباتی عدم استحکام کے شکار جو لوگ  اپنی بیویوں کے ساتھ  ازدواجی تعلق ختم کرنے کے بجائے غصے اور اضطراب میں آ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ "تم  اب  سےمیری ماں کی مانند ہو"—تو جان لو: وہ عورتیں ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔
    اور حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ نہایت ناپسندیدہ، فحش اور جھوٹی بات ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ   درگزر فرمانےوالے عافیت اندیش ہیں اور اکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں۔(المجادلہ۔
    ٢)

Root: ز و ر;  ن ك ر;ع ف و

وَٱلَّذِينَ يُظَٟهِرُونَ مِن نِّسَآئِـهِـمْ ثُـمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا۟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٛ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّاۚ
ذَٟلـِكُـمْ تُوعَظُونَ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ٣

  • Take note, those who declare "ẓihār": saying they will refrain marital relation with their wives sanctifying them as mothers; afterwards, if they intend retracting from what they had said: an expiation is hereby imposed: they must free a bonded servant before resuming marital relations.
    This prohibition and resultant fine is the admonition for you people. And Allah the Exalted is All-Aware of what you do. [58:03]

    سن لو! جو لوگ اپنی بیویوں سے 'ظہار' کرتے ہیں ،یعنی جذبات میں بہہ کر انہیں ماں کی طرح حرام قرار دے کر ازدواجی تعلق ترک کرنے کا اعلان کرتے ہیں،وقت گزرنے پر اگر ہوش میں آ کر اپنے کہے سے رجوع کرنا چاہیں تو ان  کے لئے راہ توبہ یہ مقرر فرما دی ہے: ازدواجی زندگی بحال کرنے سے پہلے انہیں ایک غلام/بندہ آزاد کرنا ہوگا۔
    یہ حکم درحقیقت تمہارے لیے ربانی شفقت کا پیغام ہے(تاکہ تم  اعصاب اور جذبات پر قابو پانا سیکھو)۔یاد رہے، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہیں۔

Root: ع و د;ر ق ب;و ع ظ

فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْـنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّاۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّيـنَ مِسْكِيـنٙاۚ
ذَٟلِكَ لِتُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِۗ وَلِلْـكَـٟفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيـمٌ ٤

  • Thereat, the one who suffers impracticability to release a slave thereby for him is to observe fasting for two consecutive months before they resume intimacy. However, if one could not, for reason, find himself physically capable, thereby in such case the substitute is providing meal to sixty poor people —
    This decree is for the purpose that you incline to accept/believe in the word of Allah the Exalted and His Messenger [and never alienate from wives by orally declaring them as mothers] —And remember, these are the limits - restraints - demarcations prescribed by Allah the Exalted. Be mindful, a grievous punishment is prepared and in wait for those who are the deliberate, persistent deniers. [58:04]

    پھر جو شخص (کسی غلام کو) آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ ازدواجی تعلق بحال کرنے سے پہلے مسلسل دو مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی یہ بھی نہ کر سکے، تو ایسی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاناکفارہ ہوگا۔
    یہ حکم اس لیے ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان پر ایمان لاؤ (اور بیویوں کو ماں بنا کر بیگانہ نہ بناؤ)۔ اور جان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ اور یاد رکھو کہ انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔(المجادلہ۔
    ٤)

Root: ش ھ ر;  ص و م;ط ع م; س ت ت


إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ  كُبِتُوا۟ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْۚ
وَقَدْ أَنزَلْنَآ ءَايَٟتِۭ بَيِّنَٟتٛۚ
وَلِلْـكَـٟفِرِينَ عَذَابٚ مُّهِيـنٚ ٥

  • Indeed, those who deliberately position themselves in hostile opposition to Allah the Exalted and His Messenger—establishing antagonistic boundaries against the Divine Message—have already been suppressed into humiliation, just as those before them were suppressed.
    And Our Majesty have have surely sent down manifest, clarifying verbal communications—self-evident in proof and illuminating in meaning.
    Be aware: for those defined disbelievers—those who positioned themselves in hostile opposition to the Universal Messenger—there awaits a humiliating punishment. (Cf. 2:90) [58:05]

حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جو دانستہ طور پر اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول (ﷺ) کے مقابل خود کو صف آراء کرتے ہیں — پیغامِ حق کے راستے میں دانستہ حد بندیاں اور رکاوٹیں قائم کرتے ہیں — وہ یقینی طور پر ذلت و رسوائی میں مبتلا کئےجا چکے ہیں، جیسے کہ ان سے پہلے لوگ ذلت آمیز ناکامی سے دوچار کیے گئے تھے۔
اور بے شک ہم نے واضح، روشن اور معنی خیز آیات نازل فرما دی ہیں — جو حقیقت کو نمایاں اور باطل کو بے نقاب کرتی ہیں۔
اور خبردار! انہی مخصوص منکرین کے لیے ایک ذلت آمیز عذاب تیار اور منتظر ہے۔
(المجادلہ۔٥)

Root: ك ب ت; ھ و ن

يَوْمَ يَبْعَثُـهُـمُ ٱللَّهُ جَـمِيعٙا فَيُنَبِّئُهُـم بِمَا عَمِلُوٓا۟ۚ أَحْصَٟهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُۚ وَٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ شَهِيدٌ ٦

  • The Day when Allah the Exalted will revive them to life, all together—then—fulfilling the judicial requirement—He the Exalted will inform them about the  cognizable offences they did. Allah the Exalted has elaborately enumerated-enfolded it in writing in the book while they have forgotten it. Remain mindful, Allah the Exalted is Ever Witness/Observer over each and everything/matter/affair. [58:06]

اللہ تعالیٰ جس دن انہیں حیات نو دیں گے،اجتماعی انداز میں:چونکہ سزا سے قبل انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے وہ جناب انہیں ان اعمال کی فرد جرم بتائیں گے جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے شمار کر رکھا ہے جبکہ وہ اسے بھلائے بیٹھے ہیں۔
خبردار رہو؛ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک ایک شئے/معاملے پر ہمیشہ مشاہدہ فرما رہے ہیں۔(المجادلہ۔
٦)

Root: ن س ى


ألَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۖ
مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَٟثَةٍٛ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُـمْ وَلَا خَـمْسَةٍٛ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُـمْ وَلَا أَدْنَـىٰ مِن ذَٟلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُـمْ أَيْنَ مَا كَانُوا۟ۖ
ثُـمَّ يُنَبِّئُهُـم بِمَا عَمِلُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٌ ٧

  • Why do you the Messenger feel upset on their conspiracies; did you not see that indeed Allah the Exalted knows whoever/whatever is in the Skies and whoever/ whatever is in the Earth—There is none a secluded meeting of three persons for conspiring except that He the Exalted is the forth one with them. And neither a secret counselling of five persons except that He the Exalted being the sixth with them—And nor secret meetings of smaller number than those nor larger except that He the Exalted has always been along with them wherever they may have been.
    Afterwards on the Day of Rising He the Exalted will inform them about that which they did. The fact remains; Allah the Exalted is eternally the knower of absolute: visible and infolded knowledge of physical realm: all that exists. [58:07]

آپ (ﷺ)ان کے روئیے پر کیوں رنجیدہ ہوتے ہیں؛ کیا آپ مشاہدہ نہیں کر چکے کہ  اللہ تعالیٰ مکمل طور پر ہر اس شئے اور معاملے کو جانتے ہیں جو آسمانوں میں وقوع پذیر ہے اور وہ جو زمین میں وقوع پذیر ہے۔ کبھی بھی کہیں بھی رازداری کی خفیہ محفل میں تین نہیں ہوتے مگر ایسے کہ وہ جناب ان کے چوتھے شریک محفل ہوتے ہیں۔اور نہ کسی محفل میں پانچ ہوتے ہیں مگر ایسے کہ وجناب ان کے چھٹے شریک محفل ہوتے ہیں۔اور نہ ان سے کم تعداد پر مبنی محفل ہوتی اور نہ اس سے زیادہ کثیر تعداد پر مشتمل مگر ایسے کہ وہ جناب ان کی معیت میں ہوتے ہیں جہاں کہیں بھی وہ براجمان ہوں۔بعد ازاں یوم قیامت حیات نو دئیے جانے پرچونکہ سزا سے قبل انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے وہ جناب انہیں ان اعمال کی فرد جرم بتائیں گے جو وہ حیات دنیا میں کرتے رہے۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کی تمام میں سے ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔(المجادلہ۔٧)

Root: ر ب ع;خ م س;د ن و

أَلَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ نُـهُوا۟ عَنِ ٱلنَّجْوَىٰ ثُـمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُـهُوا۟ عَنْهُ
وَيَتَنَٟجَوْنَ بِٱلْإِثْـمِ وَٱلْعُدْوَٟنِ وَمَعْصِيَتِ ٱلرَّسُولِ
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِـىٓ أَنفُسِهِـمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ
حَسْبُـهُـمْ جَهَنَّـمُ يَصْلَوْنَـهَاۖ فَبِئْسَ ٱلْمَصِيـرُ ٨

  • Have you not reflected upon the conduct of those who were forbidden from clandestine discourses used for deception—yet they persistently return to what they were forbidden?—
    And they engage in secret consultations, devising strategies to retard the spread and influence of the Qur’ān, to sow discord among the believers, and to incite defiance against the command of the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]—
    And when they come to you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] they "greeted" you with words by which Allah the Exalted has never greeted you —And they say in their hearts, "Why is it that Allah does not punish us for that what we derogatively say to him?"
    Sufficient for them is the Hell — a prison, and they shall keep scorching her [with themselves as her fuel] — so how miserable and wretched is such a final landing! [58:08]

کیا آپ(ﷺ)نے ان کے طرز عمل پر غور کیا ہے جنہیں خفیہ ملاقاتوں میں منصوبے بنانے سے منع کیا گیا تھا۔بعد ازاں اس روئیے پر پلٹ جاتے ہیں جس سے منع کیا گیا تھا انہیں۔
اور وہ خفیہ گفت و شنید میں مشغول رہتے ہیں، ایسے منصوبے بناتے ہیں جن کا مقصد قرءان  مجیدکے پھیلاؤ اور اس کے اثرات کو روکنا ہوتا ہے؛ مؤمنوں کے درمیان افتراق پیدا کرنا؛ اوررسول(کریم)کی مخالفت ،سرکشی اورانتشار   کو فروغ دیا جائے۔
اور جب آپ(ﷺ)کے پاس یہ عمائدین آتے ہیں تو آپ کو آغاز ملاقات میں ان الفاظ سے مخاطب ہوتے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ آپ(ﷺ)سے مخاطب نہیں ہوئے۔اور دل ہی دل میں اپنے آپ سے کہتے ہیں " کیا وجہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں  سزا نہیں دیتےاس کے سبب جو ہم   تہذیب اور تمیزکے منافی بات   ان سےکہتے ہیں  "۔
ان کے مناسب جہنم  ہے
—ایک قید خانہ۔وہ اسے جھلساتے رہیں گے [کیونکہ وہی اُس کا ایندھن ہیں]—۔چونکہ انہیں ایک پل  کا  بھی سکون میسر نہیں ہو گا اس لئے  کیا بری منزل ہے یہ،رہائش پذیر ہونے کے لئے۔ا(المجادلہ۔٨)

Root: ع و د; ص ل ى;ص ى ر

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَنَٟجَيْتُـمْ فَلَا تَتَنَٟجَوْا۟ بِٱلْإِثْـمِ وَٱلْعُدْوَٟنِ وَمَعْصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَٟجَوْا۟ بِٱلْبِـرِّ وَٱلتَّقْوَىٰۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَـرُونَ ٩

  • O those who have proclaimed belief in the Messenger and Qur’ān, listen; Whenever you constitute a forum for mutual consultation, its objective must be noble — to counsel, and to share knowledge that scratches off misconceptions and reveals the truth.  So do not turn your consultations into sessions of devising strategies to retard the spread and influence of the Qur’ān, to sow discord among the believers, and to incite defiance against the command of the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam].
    Instead, let them be on the foundation of virtue, righteous conduct, and all that contributes to your eventual security in the Hereafter — which is attainable only through honouring and faithfully following the Elevated Messenger by remaining exclusively attached to the Qur’ān.
    And sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted towards Whom you will be presented for accountability. [58:09]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
جب بھی تم آپس میں کسی مشاورتی مجلس کا انعقاد کرو، تو اس کا مقصد اعلیٰ اور نیک ہونا چاہیے — ایک دوسرے کو مخلصانہ نصیحت دینا اور وہ علم شیئر کرنا جو غلط فہمیوں کی پرتیں اُتار دے اور حق کو بے نقاب کرے۔
پس، اپنی نجی مشاورتوں کو ایسی نشستوں میں تبدیل مت کرو جن کا مدعا یہ ہو کہ قرءان  مجیدکے پھیلاؤ اور اثر کو روکنے کی تدبیریں کی جائیں، مومنین کے درمیان نفاق بویا جائے، اور رسولِ محترم [ﷺ]کی اطاعت  و اتباع سے
سرکشی  پر ابھارا جائے۔
بلکہ ایسی مجلسوں کی بنیاد تقویٰ، نیکی اور پرہیزگاری پر ہونی چاہیے — اور ان تمام اعمال پر، جو تمہیں بالآخر آخرت کی حفاظت عطا کریں؛ اور یہ حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب تم رسولِ معظم کی عظمت و ادب  کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے، مکمل طور پر قرءان  مجیدسے وابستہ رہو۔
اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔وہ جناب ہیں جن کی جانب تم لوگوں کو احتساب کے لئے اکٹھا کیا جائے گا۔(المجادلہ۔٩)

إِنَّمَا ٱلنَّجْوَىٰ مِنَ ٱلشَّيْطَٟنِ لِيَحْزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِـمْ شَيْئٙا إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۚ وَعَلَـى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١٠

  • In contrast, the private consultative meetings inspired by Satan (Shaiṭān) are aimed solely at devising plans and narratives that might cause emotional disturbance, grief, and psychological distress to those who have sincerely believed.
    However, he (Shai'taan) can never harm them even the least except by the prior tacit approval of Allah the Exalted (which is the rule for every pitfall).
    And the believers should keep their trust and hopeful reliance upon Allah the Exalted as their ultimate safeguard. [58:10]

اس کے برعکس، شیطان  کی اکساہٹ سے  ہونے والی نجویٰ کی مجلسوں کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے منصوبے اور بیانیے ترتیب دیں جو اُن لوگوں کے لیے ذہنی اضطراب، رنج و غم، اور قلبی اذیت کا باعث بنیں جو دل سے ایمان لا چکے ہیں۔
تاہم وہ (شیطان)انہیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی پیشگی خاموش اجازت موجود ہو —جو ہر آزمائش اور لغزش کے لیے طے کردہ ضابطہ ہے۔
اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے حامی و ناصر ہیں مومنوں کو ازخود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے۔(المجادلہ۔
١٠)

Root: ح ز ن;و ك ل

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
إِذَا قِيلَ لَـكُـمْ تَفَسَّحُوا۟ فِـى ٱلْمَجَٟلِسِ فَٱفْسَحُوا۟ يَفْسَحِ ٱللَّهُ لَـكُـمْۖ
وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُوا۟ فَانشُزُوا۟
يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُـمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ دَرَجَٟتٛۚ
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ١١

  • O those people who have proclaimed belief in the Messenger and Qur’ān, listen;
    When it is formally announced for you in assemblies or gatherings: “Make adjustments to create space for others,”then do make room —
    Allah the Exalted will likewise make space and ease for you.
    And when it is pronounced, "you people rise up", thereat you people should stand up.
    Allah the Exalted will elevate those of you who have sincerely believed in the Messenger and Qur’ān—And those who are bestowed with knowledge, He the Exalted has assigned them higher degrees of elevation and honour.
    Remain mindful; Allah the Exalted is always fully aware and ever watchful of all that you do. [58:11]

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
جب کسی مجمع یا مجلس میں تم سے اعلاناً کہا جائے کہ "اپنی نشستوں میں یوں ترتیب اختیار کرو کہ دوسروں کے لیے جگہ بن جائے"،تو تم فوراً گنجائش پیدا کر دو —اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وسعت اور سہولت پیدا فرما دیں گے۔
اور جب یہ اعلان کیا جائے "اٹھ کرکھڑے ہو جائیں  "تو چونکہ یہ
عظمت و شرف رکھنے والی  ،قابل ادب  احترام شخصیت کی مجلس میں  آمد کے سبب  ہوتاہے اس لئے تم فوراً ادب و انقیاد کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
اللہ تعالیٰ ان
 لوگوں  کے جو تم میں سے صدق قلب سے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لائے  ہیں بلند رتبوں سے نوازتے ہیں۔مگر جن لوگوں کو   یقینی  اور محقق علم عنایت کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے مراتب کو بلند قرار دیا ہے۔
متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو
۔(المجادلہ۔
١١)

Root: ف س ح;ن ش ز; ر ف ع;د ر ج

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
 إِذَا نَٟجَيْتُـمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْـنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُـمْ صَدَقَةٙۚ
ذَٟلِكَ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ وَأَطْهَرُۚ
 فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٌ ١٢

  • O those people who have proclaimed belief in the Messenger and Qur’ān, listen;
    W
    henever you Whenever you seek a private audience with the Messenger, individually or in a group, a protocol is being laid down since instances are there where some called upon him unnecessarily (Refer 47:16;49:4-5;). Thereby, you are advised to precede your calling upon him by affectionately donating to some poor—
    "This course of action is better for you and a reflection of purer and more sincere intention behind seeking the audience.
    Thereat, if you find not something to offer in donation, then no burden rests upon you — simply let it go with a clear conscience.—Remain aware; Allah the Exalted is indeed Oft-forgiving-overlooking, the Merciful. [58:12]

!اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
جب کبھی تم انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر رسول کریم(ﷺ)سے تنہائی میں مشورہ یا ملاقات کے خواہاں ہو، تو یاد رکھو کہ ایک باادب ضابطہ مقرر کیا جا رہا ہے  کیونکہ ایسے واقعات ہو چکے ہیں جہاں کچھ لوگ بلا ضرورت یا بے وقت ان کے دروازے پر آوازیں دینے لگے تھے (ملاحظہ ہو: سورہ محمد 47:16 اور سورہ حجرات 49:4-5)—لہٰذا تمہیں مشورے یا ملاقات سے پہلے محبت و خلوص کے جذبے سے کسی محتاج کو صدقہ/بے لوث تحفہ  دینے کا مشورہ دیا گیا ہے—
یہ طرزِ عمل تمہارے لیے بہتر ،
موجب خیر ہے، اور اس نجویٰ یا ملاقات کے پیچھے تمہاری نیت کی پاکیزگی اور خلوصِ دل کا عکاس ہے۔
پھر اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ بھی میسر نہ پاؤ، تو کوئی بوجھ تم پر نہیں—اسے بے فکری اور صاف دل کے ساتھ چھوڑ دو۔یہ ادراک رکھتے ہوئے کہ
 یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔(المجادلہ۔١٢)

Root: ق د م

ءَأَشْفَقْتُـمْ أَن تُقَدِّمُوا۟ بَيْـنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُـمْ صَدَقَٟتٛۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا۟ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيْكُـمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَ ءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيـرُۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٣

  • Did this directive of offering charity before your unrestricted private meetings with the Messenger—regardless of timing—made you conscious of some subtle impropriety? If so, then your refraining from it indicates a realization of the Messenger’s precious time.  Meanwhile, Allah the Exalted has graciously relented, granting you ease. Since this also reflects your awareness of accountability, therefore, establish As-Salaat— the time-bound protocol of servitude and allegiance— and discharge Az-Zakaat, your financial obligation for societal uplift. —And affectionately and wholeheartedly accept the Word of Allah the Exalted and His Messenger. Remain mindful; Allah the Exalted is always fully aware of that what you people do. [58:13]

کیا تم لوگوں کو  رسول کریم  کے ساتھ  وقت بے وقت  نجی ملاقاتوں  سے قبل صدقہ دینے کی ہدایت نے کسی لطیف بے اعتدالی کا احساس دلایا ہے؟اگر ایسا ہے تو آپ کا اس  سےباز رہنا رسول اللہ کے قیمتی  وقت کی قدر و قیمت  کا شعور ظاہر کرتا ہے۔دریں اثنا اللہ تعالیٰ نے  توجہ کرتے ہوئے تم لوگوں پرنرمی فرما دی ہے ۔چونکہ تمہارا یہ گمان بھی تقویٰ کا مظہر ہے اس لئے  استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے  صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے رہو۔اور معاشرے کے نطم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالی تعاون ؍ زکوۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔اور تم لوگ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(کریم محمّد ﷺ)کے فرمان(قرءان مجید)کو صدق دل سے تسلیم کرو۔متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔(المجادلہ۔١٣)

Root: ش ف ق; ق د م;ز ك و


أَلَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـم مَّا هُـم مِّنكُـمْ وَلَا مِنْـهُـمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَـى ٱلْـكَذِبِ وَهُـمْ يَعْلَمُونَ ١٤

  • Have you not reflected upon the intent of those (i.e., the Munāfiqūn — impostor believers as described in 4:38) who have outwardly aligned themselves with the people (i.e., the Jews) upon whom the criminal cognizance decreed by Allah the Exalted has already become incumbent? (prohibition 60:13)
    These individuals, in thought, ideology, and conduct, are neither from among you (the believers) nor from among them (the Jews).
    And yet, they offer false declarations of loyalty to both sides — despite being fully aware of the falsity of their own claims. [58:14]

کیا آپ(ﷺ)نےان لوگوں ـ(جھوٹ پر مبنی کھوکھلا دعویٰ کرنے والے منافقین )کے طرز عمل کا مشاہدہ کیا ہے جنہوں  نے اپنے آپ کواس قوم سے بظاہر وابستہ کر لیا ہے  جس کے لوگوں کی اکثریت پراللہ تعالیٰ نے گرفت کا فرمان جاری کر دیا ہے۔
 یہ لوگ فکری ،نظریاتی اور روش و عمل میں نہ تم(اہل ایمان)لوگوں میں سے ہیں اور نہ یہ ان(یہودیوں)میں سے ہیں۔
اور یہ لوگ(منافقین)دونوں فریقوں کو اپنی وفاداری کو جھوٹا بیان دیتے ہیں جبکہ خود اپنے جھوٹ کو جانتے ہیں۔

Root: ح ل ف

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَـهُـمْ عَذَابٙا شَدِيدًاۖ
إِنَّـهُـمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٥

  • Allah the Exalted has prepared a severe torment which is in wait for them.
    Indeed it is a despicable course of action they have been persistently doing! [58:15]

اللہ تعالیٰ نے ان(منافقین)کے لئے کربناک تکلیف میں مبتلا کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
 ان  کی یہی حقیقت ہے کیا ہی برا ہے جو عمل وہ کرتے رہتے ہیں۔

Root: ع د د

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَٟنَـهُـمْ جُنَّةٙ فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ
 
فَلَـهُـمْ عَذَابٚ مُّهِيـنٚ ١٦

  • These (Muna'fi'qeen) have cleverly adopted their declarations [of believing in Allah and the last Day and occasionally saying that Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam is the Messenger of Allah, in believer's society] as protective shield and deception —Thereat with this deceptive umbrella they obstruct and repulse people off the High road of Allah the Exalted. Thereby, a disgraceful torment has been prepared and is awaiting them. [58:16]

اِن منافقین نے اپنی قسموں کواسلامی معاشرےمیں بطور ڈھال/مستور رہنے کیلئے اختیار کر رکھا ہے۔چونکہ ان کی اختراع کردہ باتیں دلفریب ہیں اس لئے لوگوں کو ان جناب کے مقرر کردہ راست سے دور کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔
متنبہ رہو؛چونکہ  ان کا طرز عمل دانستہ  مفادات کے پیش نظرگمراہی مول لینا تھا اس لئے ایک ذلت آمیز عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔(المجادلہ۔
١٦)

Root: ھ و ن

لَّن تُغْنِىَ عَنْـهُـمْ أَمْوَٟلُـهُـمْ وَلَآ أَوْلَٟدُهُـم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْئٙاۚ
 
أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِۖ هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ ١٧

  • It is certain that their (Muna'afiqeen) Wealth and the Progeny will not avail them in the slightest to shield them from the punishment decreed against them by Allah the Exalted. They are the people who will be the resident inmates of the scorching Hell-Prison. They will abide therein permanently. [58:17]

ان کے مال و دولت اور نہ ان لوگوں کی اولادانہیں  اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ سزا میں کسی قسم کی رعایت وآزادی دلا سکے گی۔
یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔
یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔(المجادلہ۔١٧)

Root: غ ن ى;  ص ح ب

يَوْمَ يَبْعَثُـهُـمُ ٱللَّهُ جَـمِيعٙا فَيَحْلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحْلِفُونَ لَـكُـمْۖ
وَيَحْسَبُونَ أَنَّـهُـمْ عَلَـىٰ شَـىْءٛۚ أَلَآ إِنَّـهُـمْ هُـمُ ٱلْـكَـٟذِبُونَ ١٨

  • The Day Allah the Exalted will revive and resurrect them all together — Then, as if under arrest, they will swear pleading innocence in consideration before Him the Exalted, just as they do before you, trying to convince you of their faith — and they imagine that they are upon something substantial. Beware! It is certainly a fact: they are indeed the habitual liars. [58:18]

اللہ تعالیٰ جس دن انہیں حیات نو دیں گے،اجتماعی انداز میں۔چونکہ  حراست میں لئے جا چکے ہوں گے اورجھوٹ بولنا ان کی سرشت ہے اس لئے ان جناب کے لئے بھی  حلفاً اپنی صفائی بیان کریں گے جس طرح تم لوگوں کو یقین دلانے کے لئے حلفاً باتیں کرتے ہیں۔
اور اپنے خیال میں یہ سمجھتے رہے کہ وہ کسی اصول، نظریے یا ایک سوچ کی بنیاد(اصلاح)پر قائم ہیں ۔متنبہ رہو؛ ان کے متعلق اظہر من الشمس حقیقت یہ ہے کہ عادی جھوٹ بولنے والے ہیں۔(المجادلہ۔١٨) 

Root: ح ل ف  

ٱسْتَحْوَذَ عَلَيْـهِـمُ ٱلشَّيْطَٟنُ فَأَنسَٟهُـمْ ذِكْرَ ٱللَّهِۚ
 
أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَٟنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَٟنِ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ١٩

  • Satan (Shai’tann) has successfully achieved his long-held desire of mastering full psychological control over them. Thereby, to achieve his objective of ruining them, he has made them forgetful of the remembrance and the Memoir of Allah the Exalted (Qur’ān).
    They are the Party of Shai'taan. Undoubtedly, it is a certain fact that the Party of Shai'taan are the people who cause and earn loss to themselves in time-line.[58:19]

شیطان اپنی دیرینہ خواہش میں کامیاب ہو گیا—ان (کاذب منافقوں) پر اس نے مکمل نفسیاتی غلبہ حاصل کر لیا، گویا انہیں نکیل ڈال دی (الاسراء: 62)۔۔نہیں برباد کرنے کے عزم کے تحت، اس نے انہیں اللہ تعالیٰ کی یاد اور ان کے نازل کردہ تخلیق کی سرگزشت اور انتباہ (قرآن مجید)سے غفلت و بےخبری میں مبتلا کر دیا۔یہ وہی لوگ ہیں جو شیطان کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔یاد رکھو! بےشک شیطان کی جماعت کے یہی لوگ ہیں جو انجام کے اعتبار سے سراسر خسارے میں ہیں۔(المجادلہ۔١٩)

Root: ن س ى; ح ز ب


إِنَّ الَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِـى ٱلْأَذَلِّيـنَ ٢٠

  • Know the certain fate of those who consciously set themselves in opposition to Allah the Exalted and His Messenger—placing barriers in the path of the Message and His Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]: they are the people who shall be assembled with the most downgraded and humiliated ones. [58:20]

ان لوگوں کا انجام  جان لو جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ)کے پیغام کی دانستہ مخالفت کرتے اور اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں: یہی وہ لوگ ہیں جن کا شمار پست ذہنیت والوں میں ہوتا ہے، اور آخرت میں وہی لوگ ذلت اٹھانے والوں میں شامل کیے جائیں گے۔(المجادلہ۔٢٠)

Root: ذ ل ل

كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغْلِبَـنَّ أَنَا۟ وَرُسُلِـىٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٚ ٢١

  • Allah the Exalted has written it down as an irrevocable decree: "Most certainly, I—yes, I Myself—and My Messengers shall indeed prevail with dominance." Most certainly, Allah the Exalted is the Almighty, the Ever-Prevailing in all spheres. [58:21]

اللہ تعالیٰ نے  یہ بات قطعی اور اٹل فرمان کے طور پر تحریر فرما دی تھی"یقیناً میں غالب آؤں گا،ہاں میں خود، اور میرے رسول ہی ضرور ہر موقعہ پر غالب رہیں گے"۔یہ  اٹل حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ منبع قوت ہیں،دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔

Root: غ ل ب

لَّا تَجِدُ قَوْمٙا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ
وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُـمْ أَوْ أَبْنَآءَهُـمْ أَوْ إِخْوَٟنَـهُـمْ أَوْ عَشِيـرَتَـهُـمْۚ
 أُو۟لَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِـى قُلُوبِـهِـمُ ٱلْإِيمَٟنَ وَأَيَّدَهُـم بِرُوحٛ مِّنْهُۖ
وَيُدْخِلُـهُـمْ جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا 
ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۚ
رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٢٢

  • You will never find a people who truly believe in Allah the Exalted and the Last Day showing loyalty and affection towards those who consciously set themselves in opposition to Allah the Exalted and His Messenger—placing barriers in the path of the Message and His Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam]. —even if they be their own fathers and uncles, or their sons, or their brothers, or their kindred.
    They are the ones in whose hearts He the Exalted has inscribed the belief —And He the Exalted has strengthened them with the Essence of Will, Word of Command—the Life Breathing and Sustaining Guarantor: the Vital Principle— the Qur’ān, in easy to understand compilation by Him the Exalted (Cross reference: 42:52)—
    And He the Exalted will enter them in —the Gardens with canals of water flowing side by wherein they shall reside perpetually —
    Allah the Exalted has appreciated and approved them; and they are admiringly happy with Allah the Exalted.
    These people are the party of Allah the Exalted. Beware, indeed the members of the party of Allah are truly the reapers of fruit of success. [58:22]

آپ (ﷺ)اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر صدق قلب سے ایمان  لانے والی قوم  کے افراد کو  ایسا نہیں پائیں گے  کہ ان لوگوں سے  وفاداری،قلبی وابستگی  کا تعلق  رکھیں جن کے متعلق واضح ہے  کہ  اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(ﷺ)کے خلاف شعوری طور پر صف آرا ہو کرپیغام میں رکاوٹیں ڈالنے  کےمجرم ہیں؛چاہے وہ ان کے  ابا اور چچا ہوں یا ان کے بیٹے ہوں،یا ان کے بھائی ہوں یا چاہے ان کے قبیلہ  ہی کے کیوں نہ   ہوں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب میں ان جناب نے حقیقی ایمان کو جاگزیں کر دیا ہے۔اور ان جناب نے اپنی جانب سے 
سہل فہم ترتیب  و تدوین میں بھیجے ہوئے جاں افروز کلام(قرءان مجید)کے ذریعے انہیں مضبوط ،قوت اور استقامت ،اور محفوظ بنایا۔
اوروہ جناب  انہیں داخل فرمائیں گے: ایسے باغوں میں  جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔یہ لوگ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب سے طرز عمل کوخوشگوار اندازمیں شرف قبولیت اور پسندیدگی کی سند سے نوازا ہے،اور وہ ان جناب کی جانب سے اِس پذیرائی پرشادمان ہیں۔
یہ ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کاگروہ کہلانے کے مستحق ہیں۔مطلع رہو اس حقیقت سے کہ اللہ تعالیٰ کے گروہ میں شامل لوگ ہی ہیں جو  دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے والے ہیں۔(المجادلہ۔
٢٢)

Root: و د د;ع ش ر;ر و ح;ف ل ح;ح ز ب

 

059-ٱلْحَشْـر

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ١

  • Realize it; Whatever exists in the skies and whatever exists in the Earth has always been and continues striving exclusively for and actively engaged in the glorification of Allah, the Exalted. Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [59:01]

ادراک کر لو؛  یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں  اور اور جو کچھ زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے  تسبیح  کرتے ہوئےبرسرپیکار ہیں۔
مطلع رہو!حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب ہر دم، ہر جگہ، ہر حال میں مطلق غالب ہیں، اور وہی بدرجہ اتم انصاف فرمانے والے، تمام موجودات کے حکمران اور ہر پوشیدہ و آشکار حقیقت سے باخبر ہیں۔

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْـكِـتَٟبِ مِن دِيَٟرِهِـمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْـرِۚ مَا ظَنَنتُـمْ أَن يَخْرُجُوا۟ۖ
وَظَنُّوٓا۟ أَنَّـهُـم مَّانِعَتُـهُـمْ حُصُونُـهُـم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَ تَىٰـهُـمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ۖ وَقَذَفَ فِـى قُلُوبِـهِـمُ ٱلرُّعْبَۚ
يُخْرِبُونَ بُيُوتَـهُـم بِأَيْدِيـهِـمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِيـنَ فَٱعْتَبِـرُوا۟ يَٟٓـأُو۟لِـى
ٱلْأَبْصَٟرِ٢

    • After laying down the Penal Code (5:34) and the Proclamation of Warning (33:60), He is the One Who decreed the exit from their homes of that faction of the People of the Book who had persistently denied adhering the promulgation (and had backed the Allied Forced-33:26] for firstly gathering them (in deportation camp for exile)—You people had not at all thought that they would get out —
      And they had thought that their fortresses are their protectors from Allah the Exalted —Thereat Allah the Exalted came to them from the direction they had not expected and visualize —And He the Exalted cast in their hearts the fright —
      Response was flight and fleeing that they were dismantling, emptying, and abandoning their houses with their own hands and by taking help of the Believers.
      Therefore, incline yourselves [having heard and known this historical fact] to rationalism for arriving at truthful conclusions, O you the men bestowed with faculty of vision-recap-visualization! [59:02]

    فوجداری قانون کے نفاذ(المائدہ۔٣٤)اوردو ٹوک تنبیہ کہ ریاست میں ہیجان اور انتشار پیدا کرنے والوں کو شہر بدر کر دیا جائے گا(الاحزاب۔٦٢) وہ جناب ہیں  جنہوں نے اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کو ان کے گھروں سے خارج کر دیا  جنہوں نے واضح انداز میں نفاذِ قانون کا انکار کیا(اور  عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئےاتحادی افواج کی پشت پناہی کی تھی  ۔الاحزاب ٢٦۔٢٧)تاکہ اُنہیں جلاوطنی کے لیے ابتدائی طور پر ایک جگہ جمع کیا جائے۔تم لوگ تو ہرگز یہ گمان بھی نہ کرتے تھے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے —
    اور وہ خود یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ اُن کے قلعے انہیں اللہ تعالیٰ سے بچا لیں گے —تب اللہ تعالیٰ اُن کے پاس وہاں سے آئے جہاں سے اُنہوں نے کبھی اندازہ بھی نہ کیا تھا —اور اُن جناب نے اُن کے دلوں میں ہیبت ڈال دی —
    نتیجہ یہ نکلا کہ بخریت نکل بھاگنے کے جذبات سے مغلوب  وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے اور اہلِ ایمان کی مدد سے اُجاڑنے،اسباب کو سمیٹ کر خالی کرنے اور ترک کرنے لگے —
    پس، اے وہ لوگو جو بصیرت و دور اندیشی سے نوازے گئے ہو!(یہ سن کر اور جان کر) غور و فکر سے کام لو تاکہ سچائی تک رسائی پا سکو۔(الحشر۔
    ٢)

Root: م ن ع; ح ص ن; ر ع ب;  ق ذ ف;خ ر ب;ع ب ر

وَلَوْلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمُ ٱلْجَلَآءَ لَعَذَّبَـهُـمْ فِـى ٱلدُّنْيَاۖ وَلَـهُـمْ فِـى ٱلۡءَاخِـرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ ٣

  • And had the Exile, decreed by Allah the Exalted, not become incumbent upon them, certainly He would have inflicted on them corporeal punishment—after due individual trial based on criminal act—in this very World. Remain mindful: the scorching torment of Hell-prison stands ordained for them in the Hereafter. [59:03]

    اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعزیری قانون کی وہ شق ان پر لاگو نہ ہوئی ہوتی، جس کے تحت پورے گروہ کی جلاوطنی لازم ہوتی ہے، تو ضرور وہ  جناب دنیا ہی میں ان کو انفرادی جرم کی نوعیت کے مطابق جسمانی عذاب دیتے۔ اور خبردار رہو:آخرت میں ان کے لیے دہکتی ہوئی جہنم کی قید و عذاب مقدر ہے۔(الحشر۔٣)

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٤

  • This mete-out in the Hereafter is because they purposely alienated themselves from Allah the Exalted and His Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam – and instead joined the party of Shai'taan].
    Take note: whoever consciously and willfully severs ties and alienates from Allah the Exalted and His Messenger — thereupon, Allah the Exalted is severe in taking the matter to its logical consequence and awarding punishment. [59:04]

یہ (آخرت کی سزا) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اُن کے رسولِ کریم ﷺ سے شعوری طور پر خود کو علیحدہ کر کے ایک الگ شناخت اختیار کر لی تھی۔ متنبہ رہو! جو کوئی اللہ تعالیٰ (اور اُن کے رسول ﷺ) سے دانستہ اور ارادی طور پر خلیج پیدا کر کے اپنی ایک منفرد پہچان قائم کرتا ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ ایسے معاملے کو انجام تک پہنچا کر سخت سزا دینے والے ہیں۔(الحشر۔٤)

Root: ش ق ق

مَا قَطَعْتُـم مِّن لِّينَةٍٛ أَوْ تَرَكْتُـمُوهَا قَآئِمَةً عَلَـىٰٓ أُصُولِـهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَٟسِقِيـنَ ٥

  • The irregularly spreading and developing trees that you had cut down out of the tender date-palms or had left others standing on their roots to maintain harmony in the garden, it was with the leave of Allah the Exalted —And it was symbolic that He the Exalted would cause humiliation to the Aberrant: those who cut away from command and go out of the bounds disregarding their promises. [59:05]

    تم لوگوں نے کھجور کے نئے پودوں میں سے بے ہنگم پھیلنے والوں کو کاٹ دیا تھا اور ان کے علاوہ دوسرے پودوں کو ان کی جڑوں پر برقرار رہنے دیا تھا تو ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے اذن سے تھا۔ایسا کرنا نہ صرف نباتاتی اصولوں کی وجہ سے تھا اور اس لئے کہ وہ جناب  عہد و پیمان کو توڑنے اور حدود و قیود کو پامال کرنے والوں کو رسوائی سے دوچار کریں۔(الحشر۔٥)

Root: ل ى ن; ق ط ع; ف س ق;  خ ز ى

وَمَآ أَفَـآءَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ رَسُولِهِۦ مِنْـهُـمْ فَمَآ أَوْجَفْتُـمْ عَلَيْـهِ مِنْ خَيْلٛ وَلَا رِكَابٛ
وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَـىٰ مَن يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ٦

    • Realize it; what, Evacuee property, which belonged to them who left the City/were exiled, Allah the Exalted has restored its rights upon His Messenger [personified Islamic State]—This is because it was not at all caused by you people having carried an expedition neither on horses nor on camels—
      On the contrary,
      it has been the tradition, Allah the Exalted causes His Messengers to empower over whom He wills.
      Remain cognizant: Allah the Exalted has eternally the power over each and all matters to keep them subjugated by measure and equations. [59:06]

    "اور جو کچھ اللہ نے ان (شہر چھوڑ دینے والےیہودی قبائل)کی متروک املاک کو اپنے رسول کے لیے واپس دلوایا، تو تم لوگوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ؛
    بلکہ یہ تاریخ ہے کہ  اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتے غالب کر دیتے رہے ہیں۔
    ایسا ہی ہوا کیونکہ یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

Root: خ ى ل

مَّآ أَفَـآءَ ٱللَّهُ عَلَـىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُـرْبَـىٰ وَٱلْيَتَٟمَىٰ وَٱلْمَسَٟكِيـنِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ  بَيْـنَ ٱلْأَغْنِيَآءِمِنكُـمْۚ
وَمَآ ءَاتَىٰكُـمُ ٱلـرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَـهَىٰـكُـمْ عَنْهُ فَٱنتَـهُوا۟ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٧

  • Understand the principle laid down herein: The properties left behind by those inhabitants of towns who were either expelled or had voluntarily abandoned their homes — and which Allah the Exalted assigned to His Messenger for just and rightful disposition — are not inherited assets. Therefore, their utilization is designated for Allah and the Messenger (symbolic estate of the Divine Order); and for the care of believing relatives of the exiled clans, orphans, the destitute, and stranded travellers. The underlying purpose of this allocation is that wealth may not keep revolving solely among those who are already affluent among you.
    So whatever directive the Messenger gives you, receive it wholeheartedly — for it is under Divine authority. And whatever he forbids you, refrain from it with inner conviction and conscious discipline. Thus, strive sincerely to remain within the protective sphere of Allah the Exalted. Indeed, Allah is severe in exacting accountability and bringing matters to their destined conclusion. [59:07]

اس اصول کو اچھی طرح سمجھ لیں جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے:
وہ املاک جو بستیوں کے رہنے والے چھوڑ گئے، چاہے وہ زبردستی نکالے گئے ہوں یا خود اپنی مرضی سے نقل مکانی کر گئے ہوں، اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سپرد کیا تاکہ وہ ان کا منصفانہ اور باقاعدہ طریقے سے تصرف کریں — یہ اموال موروثی نہیں تھے، بلکہ ایک خاص حکمت کے تحت رسول کے اختیار میں دیے گئے۔لہٰذا ان کا استعمال اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کے لیے مخصوص قرار دیا گیا (یعنی یہ اموال  ریاستی اثاثہ ہیں جس میں شخصی ملکیت نہیں )۔ ان کا مصرف اُن مومن اقرباء کی مدد ہے جو نکالے گئے قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، یتیموں، حاجت مندوں اور ان مسافروں کے لیے ہے جو راہ میں بے سہارا ہو گئے ہوں۔اس تقسیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مال و دولت صرف تمہارے مالدار طبقے ہی کے درمیان نہ گھومتی رہے۔

متنبہ رہو؛ جو بھی ہدایت، فیصلہ یا اصول رسول کریم ﷺ تمہیں عطا کریں، اسے پوری دلجمعی اور رضامندی سے اختیار کرو — کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل کئےحکم کے تحت ہی ہے۔ اور جس چیز سے وہ تمہیں روک دیں، تو تم پورے خلوص، شعور اور باطنی ضبط کے ساتھ اس سے رک جاؤ۔لہٰذا تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی پناہ، حفاظت اور نگرانی کے دائرے میں رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مواخذے میں سخت ہیں، اور ہر معاملے کو اُس کے طے شدہ انجام تک پہنچا دینے والے ہیں۔

لِلْفُقَـرَآءِ ٱلْمُهَٟجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَٟرِهِـمْ وَأَمْوَٟلِـهِـمْ يَبْتَغُونَ فَضْلٙا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٟنٙا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ  أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلصَّٟدِقُونَ ٨

  • [Resuming from the parenthetical clause to the prescribed categories of distribution:] It is allocated for the poor among the Emigrants — those who were expelled from their homes and deprived of their properties, striving solely to seek the bounty and approval of Allah. They continually support Allah and His Messenger in upholding and defending the prescribed Path. These indeed are the people who have proven themselves to be genuinely truthful. [59:08]

[جملہ معترضہ سے واپس اصل تقسیم کی طرف:]
یہ ان مہاجرین مفلسین کے لیے مختص ہے — جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کے اموال سے محروم کر دیا گیا۔ وہ صرف اللہ کا فضل اور اُس کی رضا حاصل کرنے کی جستجو میں سرگرم رہے۔ اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ ہ اور اُن کے رسول کی مدد کرتے رہے تاکہ مقرر کردہ راہ (دین) کو سربلند اور محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں سچے ثابت ہوئے۔

وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُوا ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَٟنَ مِن قَبْلِـهِـمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْـهِـمْ وَلَا يَجِدُونَ فِـى صُدُورِهِـمْ حَاجَةٙ مِّمَّآ أُوتُوا۟وَيُؤْثِرُونَ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْ وَلَوْ كَانَ بِـهِـمْ خَصَاصَةٚۚ
وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٩

  • Realize the magnanimity and wide-heartedness of those who had already settled in the City and had embraced the Belief before the arrival of the Emigrants: they love those who migrated to them —and they do not harbor in their hearts any covetous desire for what was given [to the Emigrants] —Instead, they prefer others over themselves — even when poverty and deprivation press upon them. [Our salutation and respects to such great local residents of Madina of that time]
    Indeed, whoever is protected from the stinginess and selfishness of their own self — it is they who are truly the ones who shall attain enduring success.[59:09]

    ان لوگوں کی وسعت قلبی تو دیکھو جو اس شہر(مدینہ)میں آباد تھے اور ان مہاجروں کی آمد سے قبل ایمان لا چکے تھے۔ وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آتے ہیں۔ اور جو کچھ (رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں)ان مہاجرین کو دیا گیا، اُس پر وہ اپنے دل میں کوئی تنگی یا خلش محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ وہ تو دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود شدید احتیاج میں ہوں۔
    اور جو شخص اپنے نفس کی بخل و خود غرضی سے محفوظ رکھا گیا — تو ایسے ہی لوگ درحقیقت فلاح پانے والے ہیں۔(الحشر۔٩)

وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعْدِهِـمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَ لِإِخْوَٟنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَٟنِ
وَلَا تَجْعَلْ فِـى قُلُوبِنَا غِلّٙا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٚ رَّحِـيـمٌ ١٠

  • Know further the earliest history; They who having submitted to faith afterwards later than them, the earlier Emigrants, migrated; pray —"Our Sustainer Lord! you forgive and grant protection for us and for our brothers who took lead upon us in the Belief —
    And let not our remorse, felt in our hearts of delay in realization  and believing in the Messenger become cause of any resentment/ill-will  for those who have taken lead in believing. Our Sustainer Lord! You are most surely full of kindness, the Most Merciful". [59:10] [Read with 7:43;15:47]

مزید جان لو کہ ابتدائی تاریخ کیا ہے:وہ ،جو ان(اولین مہاجرین)کے بعد ایمان لا کرہجرت کر کے پہنچے تھے،دعا کر رہے تھے"اے ہمارے رب!آپ ہمارے لئے، اور ہمارے ا بھائیوں کے لئے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت لی،تمام باتوں کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرما دیں۔
اور آپ جناب ہمارے دلوں میں جوپیچھے رہ جانے کا احساس ندامت و حسرت اور ان پررشک ہے اسے ان کے لئے حسد و بغض نہ بننے دینا جو ایمان لانے میں سبقت لے گئے ۔اےہمارے رب!توجہ فرمائیں۔
یقینا ً  آپ جناب  لوگوں کے ساتھ بدرجہ اتم نرمی، لطافت،کرم کا برتاؤ کرتے ہیں؛آپ جناب  منبع رحمت ہیں"۔

Root: س ب ق;غ ل ل:


أَلَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ يَقُولُونَ لِإِخْوَٟنِـهِـمُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْـكِـتَٟبِ لَئِنْ أُخْرِجْتُـمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُـمْ وَلَا نُطِيعُ فيكُـمْ أَحَدًا أَبَدٙا وَإِن قُوتِلْتُـمْ لَنَنصُرَنَّكُـمْ
وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّـهُـمْ لَـكَـٟذِبُونَ ١١

  • Have you not seen/given a thought about those who have purposely developed narcissistic personality disorder of duality of claiming association on both sides—They say to their brothers from amongst the People of Book who have defied the pact of citizenship—"Indeed if you people are expelled we will certainly leave along with you and nor ever we will accept the word of anyone against you—And if you people are subjected to armed hostility, we will certainly help you." And Allah the Exalted bears witness that indeed they (Muna'fi'qeen) are the habitual liars. [59:11]

کیا آپ(ﷺ)نے ان لوگوں کے طرز عمل کا مشاہدہ کیا ہے جنہوں نے دوغلے پن/منافقت کو اپنی نفسیات بنا لیا ہے۔وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جن کا تعلق اہل کتاب میں ان یہودیوں سے ہے جنہوں نےریاست کے معاشرتی معاہدہ پر کاربند رہنے سے انکار کر دیا:’’ہم حلفاً  ۔آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ کو مستقبل میں شہر بدر کر دیا جاتا ہے تو  یقیناً آپ لوگوں کے ساتھ ہم بھی باہر نکل جائیں گے۔اور ہم آپ کے خلاف کسی ایک کی بات کو تسلیم نہیں کریں گے، کبھی بھی نہیں کریں گے۔اور اگر انہوں (اہل ایمان)نے آپ لوگوں  پر طاقت کا استعمال کیا/جنگ چھیڑ دی ا تو حلفیہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت آپ کی مدد کریں گے‘‘۔اور اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتے ہیں،ان (منافقین )کی حقیقت اور اصلیت یہ ہے کہ ہر وقت جھوٹ بولنے والے ہیں۔

Root: ء ب د

لَئِنْ أُخْرِجُوا۟ لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُـمْ وَلَئِن قُوتِلُوا۟ لَا يَنصُرُونَـهُـمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُـمْ لَيُوَلُّنَّ ٱلْأَدْبَٟرَثُـمَّ لَا يُنصَرُونَ ١٢

  • Know in advance with certainly; if they are expelled they (impostor believers) will not leave along with them —And if they are subjected to armed conflict  they will not help them, and if they come to their help they will certainly turn on their backs. Afterwards they will not be helped/assisted. [also in the Hereafter]. [59:12]

مطلق حقیقت یہ ہے کہ اگر انہیں شہر بدر کیا گیا تو یہ ان کے ساتھ شہر سے باہر نہیں نکلیں گے۔اور اگر ان کے ساتھ جنگ کا آغار ہو گیا تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔اور اگر دکھاوے کے لئے مدد کرنے  آگے بڑھیں گے تو اس کے تھوڑی دیر بعد پیٹھ پھیر کر پلٹ جائیں گے۔بعد ازاں انہیں مدد نہیں ملے گی۔

لَأَنتُـمْ أَشَدُّ رَهْبَةٙ فِـى صُدُورِهِـم مِّنَ ٱللَّهِۚ ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ قَوْمٚ لَّا يَفْقَهُونَ ١٣

  • Indeed you people are felt stronger in their hearts, in the sense of awe-inspiring, than Allah the Exalted.This is because they are indeed the people who do not understand. [since they do not reflect] [59:13]

یہ حقیقت ہے کہ تم لوگ ان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے زیادہ دبدبہ رکھتے ہو اور انہیں تمہارے مقابل کم مائیگی کا احساس رہتا ہے۔یہ رویہ ان کی بے وقوفی کا مظہر ہے اس بنا پر کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو  حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

Root: ف ق ه

لَا يُقَـٟتِلُونَكُـمْ جَـمِيعًا إِلَّا فِـى قُرٙى مُّحَصَّنَةٍٛ أَوْ مِن وَرَآءِ جُدُرِۭۚ بَأْسُهُـم بَيْـنَـهُـمْ شَدِيدٚۚ تَحْسَبُـهُـمْ جَـمِيعٙا وَقُلُوبُـهُـمْ شَتَّىٰۚ ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ قَوْمٚ لَّا يَعْقِلُونَ ١٤

  • They will not engage and wage war collectively with you people except being in fortified towns or from behind raised high walls—Their violence amongst themselves is quite intense—You think them coherent whole while their hearts are divided—This is because they are indeed the people who do not reflect to differentiate [between scum and fact]—  [59:14]

وہ سب اتحادی بن کر تم سے جنگ کا آغاز نہیں کریں گے سوائے ان حالات میں جب قلعہ بند شہر میں ہوں یا اونچی دیواروں کے پیچھے رہتے ہوئے۔ان کا اپنا  ذہنی  و فکری بحران ان کے مابین شدید نوعیت کا ہے۔آپ(ﷺ)بظاہر انہیں متحد سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے قلوب ایک دوسرے سے نالاں ہیں۔یہ رویہ ان کی بے وقوفی کا مظہر ہے اس بنا پر کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل و فکر کو استعمال نہیں کرتے۔

Root: ح ص ن; و ر ء;ش ت ت

كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ قَرِيبٙاۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِـمْ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ١٥

  • Their semblance is like of those people in the near past of them—Who tasted the evil result of their affair —Be mindful, a severe punishment is prepared-in wait for them. [59:15]

ان کے عقل و فکر سے کام نہ لینے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو ان کے قریب کے زمانے میں گزر گئے۔انہوں نے اپنے طرز عمل کا وبال خود بھگتا۔اور جان لوایک دردناک عذاب اُن کیلئے تیار ؍ منتظر ہے۔

Root: ذ و ق; و ب ل

كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَٟنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَٟنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَـرَ قَالَ إِ نِّـى بَرِىٓ ءٚ مِّنكَ إِنِّـىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ ١٦

  • Their (Muna'fi'qeen) semblance in promising help is like of the Shai'taan when he said for the Man, "You refuse to accept/ believe" Thereby, when he had refused, he/Shai'taan said, "I am absolved/disassociated from you—Indeed I fear Allah the Exalted, the Sustainer Lord of the Worlds/All that Exists". [59:16]

ان منافقین کی انہیں مدد دینے کی مثال شیطان کی مثال ہے جب اس نے مخصوص انسان سے کہا’’تم انکار کر دو‘‘۔چونکہ اس کا مقصد تو محض فریب دینا تھااس لئے جب اس نے انکار کر دیا تو اس نے کہا’’حقیقت یہ ہے کہ میں تیرے سے بری الذمہ ہوں۔یہ حقیقت ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں،وہ تمام موجودات کے پروردگار اور فرمانروا ہیں‘‘۔

فَكَانَ عَٟقِبَتَـهُـمَآ أَنَّـهُـمَا فِـى ٱلنَّارِ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۚ وَذَٟلِكَ جَزَٟٓؤُا۟ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١٧

  • Eventually the end result of both of them was that both are in the Hell-Prison—Wherein they shall reside perpetually. Take note; this eventuality is the requital of the evil-doers who commit excesses and extremism.  [59:17]

چونکہ یہ طے شدہ امر ہے اس لئے ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں جھلسا دینے والی جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔متنبہ رہو؛ یہ(جہنم میں ڈالنا) حقیقت کے متضاد بگاڑ کی روش اور طرز عمل اپنانے والوں کے لئے مقرر کردہ سزا ہے۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٚ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٛۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيـرُۢ  بِمَا تَعْمَلُونَ ١٨

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen; You people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted by remaining mindful and self cautious to avoid unrestrained conduct in reverence and fear —

  • And every person should look and evaluate as what has he advanced for his tomorrow—And you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted. Indeed Allah the Exalted is informed/aware of all what acts you are doing. [59:18]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔اور ہر نفس/شخصیت اس کو دیکھے جسے اس نے اپنے کل کے لئے کمایا ہے۔اورتم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو۔

Root: غ د و; ق د م

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَٟهُـمْ أَنفُسَهُـمْۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْفَٟسِقُونَ ١٩

  • And you should not become like those who forgot Allah whereby (by discarding and condemning them-13:25) He made them forget their own selves [never evaluating their conduct remaining unconscious of eventuality] —They are the people who are aberrant: averse, transgressors/who go out of the prescribed bounds. [59:19]

اور تم لوگوں کو منع کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی مانند ہو جاؤ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احساس کو اپنی یاداشت سے محو کر دیا تو چونکہ ایسے لوگ درخور اعتنا نہیں اس لئے ان جناب نے انہیں خود اپنے نفوس کوبھلائے رہنے دیا۔تو ان کے متعلق جان لو؛ایسے لوگ درحقیقت  عہد/آئین شکن اور حدودوقیود کو پامال کرنے والے ہیں۔

Root: ن س ى;ف س ق

لَا يَسْتَوِىٓ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِ وَأَصْحَـٟـبُ ٱلْجَنَّةِۚ أَصْحَـٟـبُ ٱلْجَنَّةِ هُـمُ ٱلْفَآئِزُونَ ٢٠

  • Not are equated the resident inmates of the scorching Hell-Prison and the resident inmates of the Paradise —The resident inmates of the Paradise are truly the people who have gained life-time achievement award/ success/salvation.. [59:20]

جہنم کے قیدی بننے والے لوگ کبھی ان کے مساوی نہیں بن سکتے جو جنت کے مکین بننے والے اصحاب  ہیں۔جنت کے مکین بننے والے اصحاب  ہیں  وہ لوگ جو زندگی بھر کی کامیابی کا ایوارڈ پانے والے ہیں۔

Root: ص ح ب;ف و ز; ص ح ب


لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَـىٰ جَبَلٛ لَّرَأَيْتَهُۥ خَٟشِعٙا مُّتَصَدِّعٙا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِۚ
وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَٟلُ نَضْرِبُـهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّـهُـمْ يَتَفَكَّرُونَ ٢١

  • Had Our Majesty caused this Grand Qur’ān to descend upon a mountain —You would have certainly seen him (the mountain [personification]) in a state of trembling and perforating by the feel of awe of Allah the Exalted.
    Take notice - Aforementioned are the analogies Our Majesty strikes for the benefit of people
    —

  • Its objective is that they might at their own objectively reflect-contemplate-deeply and honestly ponder. [59:21]

ہم جناب کو آپ(ﷺ)کے قلب کی وسعت و قوت  اور جستجو علم کا ادراک تھایہ حقیقت ہے کہ اگر اُس کی بجائے ہم جناب نے اس قرءان مجید کو یکبارگی سلسلہ کوہ پر اتار دیا ہوتا۔تو  اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال سے سہم کر آپ   (ﷺ)اسے  یقیناًلرزتے  کانپتے اورازخود  اندر سے کھوکھلا پاش پاش ہوتے ہوئے دیکھ لیتے۔
مطلع رہو؛
یہ مخصوص قسم کی مثالیں  ہیں جو وہ جناب بیان فرماتے ہیں لوگوں کے  لئے کسی نکتہ  کو نمایاں کرنے اور ان کےاستفادہ اور غوروفکر کرنے کے لئے۔اس طرح امکان ہے کہ وہ ازخود تفکر کر کے ہربات کی غرض و غایت کو سمجھ سکیں۔(الحشر۔٢١)

Root: ص د ع;ض ر ب;ف ك ر

هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۖ
عَٟلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِۖ
هُوَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ ٱلرَّحِـيـمُ ٢٢

  • The Infallible Fact regarding the Essence of Allah: He is the One and Only—none in the vast miscellany of deities, those uncritically admired, adorned, or worshipped, possesses Life or the power to organize, administer, or sustain existence, except He, the Alone Sustainer-Lord.
    He the Exalted is the Knower of what is invisible-non perceivable and visible-perceivable
    (the manifest world) for the creatures—
    He the All Knower, Allah, the Lord of Mountain ranges is Ar'Reh'maan the, the Exalted Who is the Fountain of Infinite Mercy. [59:22]

  • حقیقتِ غیر متبدلیہ ہےاللہ تعالیٰ وہ   ہیں جن کا ایک کا وصف یہ ہے:ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔
    وہ تمام  جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔
    وہ  مطلق معبود (اللہ)الرّحمٰن (ذوالجلال والاکرام)ہیں جو منبع رحمت ہیں۔(الحشر۔٢٢)

هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْمَلِكُ ٱلْقُدُّوسُ ٱلسَّلَٟمُ ٱلْمُؤْمِنُ ٱلْمُهَيْمِنُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْجَبَّارُ ٱلْمُتَكَـبِّـرُۚ سُبْحَٟنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْـرِكُونَ ٢٣

  • He, Ar'Reh'maan is Allah the Exalted, the One about Whom the fact is: in the miscellany of iela'aha: deities that are uncritically admired, adorned and worshipped; none of them is alive; none of them organizes, administers or sustains others except He (Allah) the Alone Sustainer Lord—He is the Sovereign, the Absolute infinitely Exalted, the Glorious, the Cherisher and maintainer of Tranquillity and Peace, the Supreme, the All-Pervasively Dominant, the Irresistible, the intrinsically Supreme. Allah the Exalted is Infinitely Glorious and the focus of all effort, Exalted above all what they conjecturally associate with Him-- [59:23]

وہ(الرّحمٰن ذوالجلال والاکرام)ہی اللہ تعالیٰ  ہیں جن ایک کا وصف یہ ہے:ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ) کے۔وہ جناب تمام موجودات کے مطلق فرمانروا ہیں،مطلق  صاحب عظمت و شان ؛تمام نظام کو سلامت و  سکون  میں برقرار کرنے والے ہیں؛امن و امان کو قائم کرنے والے  ہیں؛تمام موجودات پرمطلق ابدی   بلند،بالادست؛ہر لمحہ ہر مقام پرمطلق غالب؛مطلق صاحب  جاہ و جلال اوربرتر انصاف پسند ہستی؛اور حقیقی معنوں میں صاحب کبریائی   ہیں۔۔۔خبردار؛ اللہ تعالیٰ  تمام  عظمت وکبریائی  اور جد و جہد کا محور اور  مطلق اعلیٰ  ہیں  ان تمام سے  جنہیں وہ فلسفہ شراکت کے عناصر بناتے ہیں۔۔(جملہ معترضہ)(الحشر۔٢٣)

Root: ق د س; م ل ك

هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَٟلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ
 لَهُ
 ٱلْأَسْـمَآءُٱلْحُسْنَىٰۚ
يُسَبِّـحُ لَهُۥ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِۖ
وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٢٤

  • He — Ar'Reh'maan is Allah, the Exalted Sovereign Lord. He is the The Primal Creator. He individuates and grants unique identity, and immunity. He is Who gives the shape and figure —
    The names attributing the sublime connotation of exacting balance, proportioned, equilibrium, virtue, admirable, grandeur, just, majesty, absoluteness, beauty are appropriate and exclusive for Him the Exalted.
    Whoever and whatever exists in the Skies and the Earth expresses and subjects effort with repetitive praises for Him the Exalted.
    Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. (Cf.
    14:04; 16:60; 29:42;30:27;31:09;35:02; 45:37;57:01;59:01;59:24; 61:01;62:03=12; also 29:26) [59:24]

وہ جناب الرَّحمٰن   —اللہ تعالیٰ ، مطلق فرمانروا ہیں۔وہ عدم سے  تخلیق کرنے والے ہیں۔وہ  تخلیق  کو منفرد بناتے اور انفرادی تشخص دیتے ہیں ،اور بری الذمہ  کرنے کا اختیار رکھنے والے ہیں؛ وہ جناب ہر شئے کو انوکھی صورت اور چہرہ عنایت کرنے والے ہیں۔
بدرجہ اتم خصوصیات،توازن و حسن،کبریائی کو بیان کرتے اسماء صرف اور صرف ان (الرحمٰن ذالجلال والاکرام)کے لئے مختص اور شایان شان ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں موجود ہے اور جو کچھ زمین میں موجود ہے  ان جناب کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے برسرپیکار ہیں۔
مطلع رہو؛ان
کے بارے حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پر مطلق غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔(الحشر۔
٢٤)

 

060-ٱلْمُمْتَحِنَة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ عَدُوِّى وَ عَدُوَّكُمْ أَوْلِيَآءَ تُلْقُونَ إِلَيْـهِـم بِٱلْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوا۟ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلْحَقِّ يُخْرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَ إِيَّاكُمْۙ
 أَن تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ رَبِّكُـمْ إِن كُنتُـمْ خَرَجْتُـمْ جِهَٟدًۭا فِـى سَبِيلِـى وَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِـىۚ
تُسِـرُّونَ إِلَيْـهِـم بِٱلْمَوَدَّةِ وَ أَنَا۠ أَعْلَمُ بِمَآ أَخْفَيْتُـمْ وَ مَآ أَعْلَنتُـمْۚ
وَ مَن يَفْعَلْهُ مِنكُـمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    Note the Prohibitory injunction about sociality: You people should not purposely adopt My enemies and your enemies as your guardians/protectors/godfathers/managers/allies—by placing before them gestures of love and compassion. Do not forget they had denied what was conveyed to you as segment of the Infallible Discourse. They were conspiring  for driving out the Messenger and you people from the sacred City—
    Abide by it to reflect you believe in Allah the Exalted, your Sustainer Lord, if you had moved out for striving in My Path/Cause and for seeking My Approval and Appreciation—You are holding secretively the feel of love and compassion towards them [do not consider them as your relatives/akin and should know that] —while I fully know that which you concealed and that which you openly stated.
    Realize it; whoever of you would henceforth initiate secretively associating with them—Thereby it will be reflection he has certainly neglected the aright path. [60:01][Read  3:28,118;4:144;5:51,57 ;9:23]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
سماجی تعلقات کے بارے میں ممانعتی ہدایت کو سمجھ لو:تم لوگ ہرگز میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا رفیق، سرپرست، یا خیرخواہ مت بناؤ—ایسے میں کہ ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرو۔
یاد رکھو، وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس  کا انکار کیا جو تمہارے پاس   کلام اللہ پر مشتمل بیان حقیقت  میں سے  پہنچ چکا تھاا۔ وہ تو رسول کریم کو اور تمہیں بھی مقدس شہر سے نکال باہر کرنے کی سازش میں لگے ہوئے تھے—
اس پر عمل کرو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تم  صدق قلب سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو،تمہارے رب۔اس بات پر قائم رہواگر  تم واقعی میری راہ میں جدوجہد اور میری رضا جوئی کے لیے  شہر سےنکلےتھے ۔
لیکن تم ان سے چھپ کر محبت و ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہو—حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔
یاد رکھو! تم میں سے جو کوئی بھی آئندہ ان سے خفیہ تعلق قائم کرنے کا آغاز کرے گا، تو حقیقت میں وہ راہِ راست سے  ردگردانی  کا مرتکب ہو گا۔( الممتحنہ:
١)

Root: و د د;س ر ر;ع ل ن;  خ ف ى

إِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا۟ لَـكُـمْ أَعْدَآءًۭ وَ يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُـمْ أَيْدِيَـهُـمْ وَ أَلْسِنَتَـهُـم بِٱلسُّوٓءِ وَ وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ٢

  • Know it; If they succeed gaining dominance over you, they will evidently act as enemies for you people—And they will extend over you their hands and their tongues/propaganda with evil designs—And they earlier desired that somehow you people reject faith. [60:02]

    جان لو! اگر انہوں نے تم پر غلبہ پا لیا  تو تمہارے کھلے دشمن بن جائیں گے۔ وہ تم پر اپنے ہاتھوں اور اور اپنی زبانوں کو برائی اور ایذا پہنچانے کے مقصد سے دراز کریں گے ۔ اور وہ تو  پہلے بھی یہی  چاہتے تھے کہ کسی طرح تم ایمان سے  پھر جاؤ۔

    Root: ب س ط; ل س ن؛و د د

لَن تَنفَعَكُـمْ أَرْحَامُكُـمْ و لَآ   أَوْلَٟدُكُمْۚ يَوْمَ ٱلْقِيَٟمَةِ يَفْصِلُ بَيْـنَكُـمْۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٚ ٣

  • Know well! Should you ever apostatize [as they desired], then neither your blood relations nor your children will avail you on the Day of Resurrection - when He the Exalted will draw bifurcation between you people and them. Beware, Allah the Exalted is ever watching the acts which you people perform. [60:03]

خوب جان لو!اگر تم کبھی (ان کی خواہش کے مطابق) کفر کی طرف لوٹ گئے تو نہ تمہارے  ارحام  کےرشتہ دار اور نہ ہی تمہاری اولاد قیامت کے دن تمہارے  لئے باعث نفع ہوں گے -یوم قیامت کو وہ  جناب تمہارے اور ان کے مابین  کامل علیحدگی فرما دیں گے ۔ متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔ (الممتحنہ:٣)

قَدْ كَانَتْ لَـكُـمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٚ فِـىٓ إِبْرَٟهِيـمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ
إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِـمْ إِنَّا بُرَءَٟٓؤُا۟ مِّنْكُـمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ
كَفَـرْنَا بِكُـمْ وَبَدَا بَيْـنَنَا وَبَيْـنَكُـمُ ٱلْعَدَٟوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدٙا

حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ
إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٟهِيـمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَـىْءٛۖ
رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيـرُ ٤

  • Certainly a role model of excellently balanced and appropriate conduct, inherent in Iebra'heim [علیہ السلام] and those who were with him, is prescribed as model for you people—
    When they said to their people, "Indeed we are absolved and disassociated from you and from those to which you people show allegiance and worship besides Allah the Exalted —
    We have rejected you people and there has emerged between us and between you the enmity/wrangling and grudge/resentment for ever —
    Until and unless you believe in Allah the Exalted as "He is the Only One" —
    Exception to emulate is the statement of Iebra'heim [alahissalam] to his honorific father - Paternal Uncle, "Surely I will sincerely seek forgiveness for you, since I do not hold any authority of any sort for you from Allah the Exalted".
    [after pronouncing to people] They prayed, "Our Sustainer Lord! Upon You we trust consciously placing all our affairs for disposal; and towards You we return and towards You is the final return. [60:04]

    معاشرتی راہ و رسم کے لئے  بہترین اور متوازن طرز عمل  جو تم لوگوں  کے لئے نمونہ مقرر کیا جا رہا ہے یقیناً وہ ہے جس کا مظاہرہ ابراہیم (علیہ السلام)اور ان کے ساتھ ہو جانے والے لوگوں نے کیا تھا۔
     جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:"یہ حقیقت واضح ہے کہ ہم   بالکل بری الذمہ ہیں تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جنہیں تم اللہ  تعالیٰ کے علاوہ  پوجتے ہو۔
     ہم تمہارے ساتھ ہر تعلق سے انکاری ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے لاتعلقی اور رنجش  کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔
    یہ کیفیت اُس وقت تک قائم رہے گی جب تک کہ تم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی مطلق  واحدنیت پر ایمان نہیں لے آتے"۔
    البتہ  ابراہیم (علیہ السلام)کے اس قول کی پیروی نہیں کرنا جو انہوں نے اپنےچچا سے جدا ہوتے وقت کہا تھا"میں یقیناً آپ کے لئے معافی  کی دعا کروں گا، لیکن اللہ  تعالیٰ کی جانب سے  آپ کے لئے  کسی بھی بارے میں قطعی کوئی اختیار نہیں رکھتا"
    قوم سے لاتعلقی کا اعلان کرنے
    کے بعد انہوں نے دعا کی:"اے ہمارے پروردگار!آپ جناب ہیں  جن پر  ہم  کامل  بھروسہ رکھتے ہیں،اور آپ جناب کی جانب ہم نے رجوع کیا ہے، اور آپ جناب ہیں  جن کی جانب  سب نے آخرکار لوٹنا ہے"۔

Root: م ل ك;ص ى ر; ن و ب

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٙ لِّلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٥

  • Our Sustainer Lord! Kindly render us not as the object/crucible for subjecting those to trial and exposure who have refused to accept/believe in the Messenger and Divine Origin of Qur’ān—And You protect and forgive for us, Our Sustainer Lord —
    The fact remains that You the Exalted are certainly the Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible." [60:05]

(انہوں نے مزید کہا)"ہمارے رب!ہمیں   ان لوگوں کی آزمائش/کھوٹے کھرے کو ظاہر کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں  جنہوں نے رسول کریم(ﷺ)اور قرءان مجید کومن جانب اللہ ماننے سے انکار کیا ہے۔اور ہمارے لئے گناہوں کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرمائیں۔یقینا آپ کے بارے حقیقت یہ ہے کہ آپ دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اورآپ بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں"۔

لَقَدْ كَانَ لَـكُـمْ فِيـهِـمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٚ   لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلۡءَاخِـرَۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَـمِيدُ ٦

  • Certainly, the role model of excellently balanced and appropriate conduct in taking a resolve and firm stance by them is declared an exemplary paradigm for you people to emulate [regarding relations] —This model is for every one who has been cautiously keeping hope in Allah the Exalted and the Last Day. Beware; whoever deliberately renounces this paradigm, let him become the deserter; he causes loss to himself since indeed Allah is the One Who is eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [60:06] (Read with 9:23-24)

    "یقیناًبہترین اور متوازن طرز عمل  کو مضبوط ارادہ اور دوٹوک انداز میں ان مؤمنوں  نے  اپنایا وہ  تمہارے لیے ایک مثالی نمونہ قرار دیا گیا ہے [تعلقات کے معاملے میں]۔ یہ نمونہ ہر اس مدعی ایمان کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ  سےاور یوم آخر کو اچھے انجام کی خواہش اور امید رکھتا ہے۔ خبردار! جو کوئی جان بوجھ کر اس نمونے سے منہ موڑے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والا ہے،کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ  اللہ تعالیٰ مطلق آزاد،ہر احتیاج سے منزہ اور بلند وبالا ہیں،اور مطلق شرف و کبریائی کا بیان حمد  ہمیشہ ان کے لئے ہے۔ [60:06] (سورۃ التوبہ 23-24 کے ساتھ ملاحظہ کریں)

عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُـمْ وَ بَيْـنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُـم مِّنْـهُـم مَّوَدَّةًۭۚ وَ ٱللَّهُ قَدِيرٌۭۚ وَ ٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيـمٌۭ٧

  • It may well be that that Allah the Exalted bring  about affection between you and those who embrace faith out of them you denounced ties of relationship —And Allah the Exalted has full command and control to squeeze things in a fold. And Allah the Exalted is the Forgiving/Overlooking, the Merciful. [60:07]

     

    یقیناً ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان  باہمی ہمدردی و انس  پیدا فرما دیں —جو اُن میں سے ہیں جن سے تم نے رشتہ و تعلق منقطع کر دیا تھا، مگر اب وہ ایمان لا چکے ہیں۔یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یقین رکھو کہ درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

Root: ع س ى; و د د

لَّا يَنْـهَىٰكُـمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَٟتِلُوكُمْ فِـى ٱلدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَٟرِكُمْ أَن تَبَـرُّوهُـمْ وَ تُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْـهِـمْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِيـنَ٨

  • Allah the Exalted is not forbidding you people about those who did not wage war against you in the matter of Code and Procedure of Conduct [Islam]—And nor they caused you expelled from your localities —That you may deal kindly with them and conduct justly and equitably towards them —Indeed Allah approves and appreciates [for nearness] those who conduct justly and equitably. [60:08]

    اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ   اخلاص،حسن سلوک  اور عدل و انصاف  کے تعلقات برقرار رکھنے سے منع نہیں کر رہے  جنہوں نے  دستور حیات کے معاملے میں   جنگ مسلط نہیں کی اور نہ انہوں  نے تمہیں  گھروں سے نکالا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ  مساوات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے والوں کو قابل قدر وتحسین گردانتے ہیں۔

إِنَّمَا يَنْـهَىٰكُـمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٟتَلُوكُمْ فِـى ٱلدِّينِ وَ أَخْرَجُوكُم مِّن دِيَٟرِكُمْ وَ ظَٟهَرُوا۟ عَلَـىٰٓ إِخْرَاجِكُـمْ أَن تَوَلَّوْهُـمْۚ وَ مَن يَتَوَلَّـهُـمْ فَأُو۟لَٟٓئِكَ هُـمُ ٱلظَّٟلِمُونَ٩

  • Allah the Exalted forbids you people maintaining affectionate ties with only those who caused you social isolation, estrangement and marginalization because of your distinct belief and Code of Conduct [Islam] —And they had caused your exodus from your localities; and they assisted others for your expulsion in an effort that you might revert realigning to them. Beware, whosoever consciously and purposely reverts aligning with them—Thereat, such people are truly the evil-doers, distorters, creators of imbalances-disorders. [60:09]

    اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اُن لوگوں سے محبت و اپنائیت کے تعلقات قائم رکھنے سے روکتے ہیں جنہوں نے تمہیں تمہارے منفرد عقیدے اور طرزِ حیات (اسلام)کی بنا پر معاشرتی طور پر تنہا کر دیا، تمہیں  بے دخل کیا تمہارے گھروں سے، اور دوسروں کی مدد کی تاکہ وہ بھی تمہیں نکال باہر کریں — اس نیت سے کہ شاید تم پھر ان کی طرف جھک جاؤ اور اپنا وفاداری کا رُخ بدل دو۔خبردار! جو شخص جان بوجھ کر اُن کی طرف دوبارہ جھکتا ہے اور اُن کے ساتھ وابستگی اختیار کرتا ہے — تو ایسے لوگ ہی دراصل ظالم، بگاڑ پیدا کرنے والے اور توازن کو برباد کرنے والے ہیں۔


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
إِذَا جَآءَكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٟتُ مُهَٟجِرَٟتٍۢ فَٱمْتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٟنِـهِنَّۖ
فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَٟتٍۢ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَـى ٱلْـكُفَّارِۖ  
 لَا هُنَّ حِلٌّۭ لَّـهُـمْ وَ لَا هُـمْ يَحِلُّونَ لَـهُنَّۖ وَ ءَاتُوهُـم مَّآ أَنفَقُوا۟ۚ
وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُـمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ
وَ لَا تُمْسِكُوا۟ بِعِصَمِ ٱلْـكَوَافِرِ وَ سْـَٔلُوا۟ مَآ أَنفَقْتُـمْ وَ لْيَسْـَٔلُوا۟ مَآ أَنفَقُوا۟ۚ
ذَٟلِـكُـمْ حُكْـمُ ٱللَّهِۖ يَحْكُـمُ بَيْنَكُـمْۚ وَ ٱللَّهُ عَلِيـمٌ حَكِيـمٌۭ
١٠

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    In case the Believing Women have reached to you people [Muslim society/state] as emigrants desiring asylum—Thereat, subject them to careful examination-investigation regards their belief. --Allah the Exalted is best aware than you people regarding their belief--.
    Thereby, if you have found them truly the Believing Women, resultantly you people should not deport-revert them back to the Non-Believers—
    They are no more in the state of permissible-lawful to continue to be wives for them. Neither are they-their respective non-believing husbands anymore permissible-lawful husbands for them. But you people-Muslim society pay them-respective non-believing husbands of those emigrant married women that amount which they had spent. Take note: there is absolutely no restriction or something blameworthy upon you people that you may enter into matrimonial bondage with them, provided you have paid them their wedding gifts-agreed upon obligations. And you people should not cause self holding the Bond of Marriage with the Non-Believing Wives. And you demand that which you had spent, and they the non-believing husbands should demand that which they had spent. This is the Directive of Allah the Exalted. He the Exalted administers justice between you people. Remain cognizant; Allah the Exalted is the Fountain and Setter of knowledge-science of visible and invisible domains, realities, considerations; and Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm
    [60:10]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!جب ایمان لے آنی والی خواتین تم لوگوں کے پاس پہنچ جائیں،مہاجر حالت میں پناہ کی طلبگار ۔تو احتیاط کی خاطر تم لوگ ان کا امتحان لو۔۔۔اللہ تعالیٰ بخوبی ان کے ایمان کے خلوص کو جانتے ہیں۔۔اس سوال جواب کے نتیجے میں اگر تم نے انہیں مؤمنہ پایا ہے تو انہیں رسول کریم(ﷺ)کے ہٹ دھرم منکرین  خاوندوں کی جانب واپس  بھیجنے سے تمہیں منع کیا جاتا ہے ۔وہ(مہاجر بن کر آنے والی شادی شدہ عورتیں)ان کافر خاوندوں کے لئے حلال نہیں ہے اور نہ وہ (کافر خاوند)ان کے لئے حلال ہیں۔مگر تم لوگ(اسلامی ریاست)ان(کافر خاوندوں)کو وہ رقم دیں جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا تھا (شادی کے لئے)۔اور تم لوگوں پر قطعاً کوئی قابل گرفت اور ناگوار پہلو اس میں ہے کہ  بعد میں تم ان(کفار کے بندھن شادی شدہ)سے ان کی رضا سے نکاح کر لو جب تم نے انہیں باہمی طے شدہ تحفے خوشدلی سے ادا کر دئیے ہیں۔اور تمہیں ایمان لانے سے انکار کرنے والی بیویوں کو بندھن نکاح میں برقرار رکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔اور تم لوگ ان کے کافر وارثوں سے اس رقم کا مطالبہ کر لو جو تم نے ان پر خرچ کیا تھا اور وہ اس کا مطالبہ کر لیں جو انہوں نے شادی کے موقعہ پر خرچ کیا تھا۔یہ مذکورہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا نافذ العمل حکم ہے۔وہ جناب تم لوگوں کے مابین حکم صادر فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ منبع علم ہیں،تمام نظام کے   بدرجہ اتم انصاف کے تقاضوں  کو پورا کرنے والےفرمانروا ہیں۔

وَ إِن فَاتَكُـمْ شَـىْءٌۭ مِّنْ أَزْوَٟجِكُـمْ إِلَـى ٱلْـكُفَّارِ فَعَاقَبْتُـمْ فَـَٔاتُوا۟ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَٟجُهُـم مِّثْلَ مَآ أَنفَقُوا۟ۚ وَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُـم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ١١

  • And if some valuables were lost from you because of your [disbelieving] wives went towards the Non Believers, and subject to you/society having become able to compensate them —Thereat grant to those whose wives had gone like that what they had spent —And sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted; the One in Whom you are faithful believers. [60:11]

    اور اگر تمہاری (کافر) بیویاں کافروں کی طرف چلی گئیں اور اس وجہ سے تم سے کچھ قیمتی چیزیں ضائع ہو گئی ہوں، اور اگر تمہارے /معاشرے کے پاس ان کی تلافی کرنے کی استطاعت ہوگئی ہو —تو ان لوگوں کو جو کچھ انہوں نے (مہر وغیرہ کے طور پر)خرچ کیا تھا وہ لوٹا دو — اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل کرنے کی پوری کوشش کرو؛ وہی ذات ہے جس پر تم مخلص ایمان رکھتے ہو۔

يَٟٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُؤْمِنَٟتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَـىٰٓ أَن لَّا يُشْـرِكْنَ بِٱللَّهِ شَيْـًۭٔا وَ لَا يَسْـرِقْنَ وَ لَا يَزْنِيـنَ وَ لَا يَقْتُلْنَ أَوْلَٟدَهُنَّ
وَ لَا يَأْتِيـنَ بِبُـهْتَٟنٍۢ يَفْتَـرِينَهُۥ بَيْـنَ أَيْدِيـهِنَّ وَ أَرْجُلِهِنَّ وَ لَا يَعْصِينَكَ فِـى مَعْـرُوفٍۙ    
فَبَايِعْهُنَّ وَ ٱسْتَغْفِرْ لَـهُنَّ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيـمٌۭ
١٢

  • O you the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention —When believing women have arrived/ migrated to you making solemn pledge before you to the effect that they will not associate with Allah anything—And nor they will steal, and nor they will indulge in consented sexual intercourse and nor they will kill their offspring—
    And nor they will allege false allegations forging it with reference to between/middle of their hands (breast) and middle of their feet/legs (gentiles)—And nor will refuse your word in the known and accepted norms of society —
    Thereupon/as a result you accept their fealty in exchange of promise of award of Paradise, and for these women seek forgiveness from Allah the Exalted. It is a fact that Allah the Exalted is repeatedly Forgiving-Overlooking-the fountain of Mercy. [60:12]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔
جب جب آپ(ﷺ)اور قرءان مجید پر ایمان لانے والی خواتین آپ کے پاس  پہنچ کر باہمی معاہدہ کرتے ہوئے اس عہد کا  اپنے آپ کوپابند کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قطعاً شریک نہیں ٹھہرائے گی؛اور نہ کبھی چوری کریں گی،اور نہ کبھی زنا کریں گی،اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی؛ اور نہ وہ کسی کے خلاف  جنسی ہراسگی کابہتان لگائیں گے،اس کو دانستہ اپنے ہاتھوں کے مابین والی اورپاؤں کے درمیان والی جگہ کے حوالے سے اختراع کر کے۔اور آپ(ﷺ)کی  نافرمانی نہیں کریں گی کسی بھی معروف بات  کے اندر۔
 اس کے جواب میں آپ(ﷺ)انہیں جنت کی ضمانت دے کر معاہدہ حتمی فرما دیں۔اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے ماضی کی  ممکنہ بے اعتدالیوں کے لئے مغفرت کی خواہش کریں۔
یقینا اللہ تعالیٰ  درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔(ٱلْمُمْتَحِنَة۔١٢)

Root: ز ن ى; س ر ق; ق ت ل;ف ر ى


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
لَا تَتَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوا۟ مِنَ ٱلْءَاخِرَةِ كَمَا يَئِسَ ٱلْـكُفَّارُ مِنْ أَصْحَٟبِ ٱلْقُبُورِ
١٣

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen; You people should not purposely turn approaching the people upon whom the criminal cognizance of Allah the Exalted has become incumbent.Indeed they are in a state of having cut hope of the Hereafter—Like that as the desperate rejecters have cut off expectation of revival of the residents of the graves. [60:13]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!۔
تم  کو اس قوم کی جانب   ازخودپلٹنے سے منع کیا جاتا ہے  جس کے لوگوں کی اکثریت پراللہ تعالیٰ نے گرفت کا فرمان جاری کر دیا ہے۔وہ(یہودیوں کی اکثریت)یقینا آخرت میں کامیابی سے مایوس اور ناامید ہو چکے ہیں۔اس ناامیدی کا انداز ا
بالکل ایسے ہی ہےجیسے سخت دل منکر، جو دوبارہ جی اُٹھنے پر یقین نہیں رکھتے، قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کے زندہ ہونے کی امید سے ناامید ہو گئے ہیں۔(الممتحنہ۔۱۳)۔

Root: ق ب ر;  ى ء س

 

061-ٱلصَّفّ

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرْضِۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ١

  • Realize it; Whatever exists in the skies and whatever exists in the Earth has always been and continues striving exclusively for and actively engaged in the glorification of Allah, the Exalted. Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [61:01]

ادراک کر لو؛  یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں  اور اور جو کچھ زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے  تسبیح  کرتے ہوئےبرسرپیکار ہیں۔
مطلع رہو!حقیقت یہ ہے کہ وہ جناب ہر دم، ہر جگہ، ہر حال میں مطلق غالب ہیں، اور وہی بدرجہ اتم انصاف فرمانے والے، تمام موجودات کے حکمران اور ہر پوشیدہ و آشکار حقیقت سے باخبر ہیں۔

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ٢

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen; Why you pronounce those statements for people you yourself do not act upon even once? [61:02]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!تم لوگ وہ بات کیوں لوگوں سے کہتے ہو جس پر خود ایک بار بھی عمل پیرا نہیں ہوتے۔

كَبُـرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ ٣

  • In the Judgment of Allah the Exalted, it is inappropriate and abominable act that you pronounce those statements upon which you people do not act. [since it demonstratively proves and confirms you to be a liar]. [61:03]

اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ انتہائی انداز ہے ناپسندیدگی، بیہودہ پن اور برے چلن کے حوالے سے کہ تم وہ بات کہو جس پر خود ایک بار بھی عمل پیرا نہیں ہوتے۔

Root: م ق ت

إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَـٟتِلُونَ فِى سَبِيلِهِۦ صَفّٙا كَأَنَّـهُـم بُنْيَٟنٚ مَّرْصُوصٚ ٤

  • Indeed Allah the Exalted approves and appreciates [for nearness] those who confront war in the Cause/Path of Allah the Exalted, consolidated/in consecutive line [with no mutual differences] —As if they were compacted like a plumbic structure/wall. [61:04]

یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قابل قدر اور پزیرائی کے لائق گردانتے ہیں جو ان کے متعین کردہ  راستے/آئین وطرز حیات کے دفاع کے لئے جنگ میں شرکت کرتے ہیں،صف بستہ ،کندھے سے کندھا ملائےانداز میں۔ان کا انداز شرکت جنگ  ایسا ہے جیسے وہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں۔

Root: ق ت ل


وَإِذْ قَالَ مُوسَـىٰ لِقَوْمِهِۦ يٟقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِى وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّـى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُـمْۖ
فَلَمَّا زَاغُوٓا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَـهُـمْۚ وَٱللَّهُ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٟسِقِيـنَ ٥

  • Recollect the history; When Mūsā [alai'his'slaam] said to his nation: "O my nation! for what/why you people cause for me irritation/annoyance while you certainly know that I am the Messenger of Allah towards you people".
    Since they wanted to listen only that which was appeasing to their desires and conjectures, thereby, as soon they tilted to their inclinations, Allah the Exalted let their hearts remain atilt —
    Because the laid down principle is (Mind it); that Allah the Exalted does not guide those people who are aberrant-the promise breakers and transgressors of the prescribed bounds. [61:05]

تاریخ سے آگاہ رہو؛اس دور کی جب موسیٰ (علیہ)السلام نے اپنی قوم کے لئے فرمان جاری کیا:"اے میری قوم؛تم لوگ  کس بات کی خواہش میں  مجھے کوفت وملال میں مبتلا کرتے ہو جبکہ تمہیں بخوبی معلوم ہے کہ میں تم لوگوں کی جناب اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں"۔
چونکہ وہ اپنی من پسندباتوں کے فقط متمنی تھی اس لئے جوں ہی وہ کج روی میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو کج روی میں مگن رہنے دیا۔
کیونکہ اصول یہ ہے(متنبہ رہو)کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے جواپنے قول و اقرار کی تنقیض ،حدود و قیود  کو پامال  اور تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنے کو اپنی سرشت بنائے ہوئے  ہیں ۔

Root: ز ى غ;ف س ق

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَ يٰبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ إِ نِّـى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُـم مُّصَدِّقَٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ
وَمُبَشِّرَۢا  بِرَسُولٛ يَأْتِـى مِنۢ بَعْدِى ٱسْـمُهُۥٓ أَحْـمَدُۖ
فَلَمَّا جَاءَهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ قَالُوا۟ هَٟذَا سِحْرٌۭ مُّبِيـنٌۭ٦

  • Know the history, when Easa [alai'his'slaam] Son of Maryam, had said: "O you the posterity of Iesraa'eel! Indeed I am the Messenger of Allah the Exalted towards you people —I am affirmer-certifier-sanctifier of that which was sent before me in Tor'aat.
    Moreover, my assignment is as Pronouncer of glad news of one Messenger. His peculiarity is that he will corporeally come in times after my death.
    His name is: : Aehmad the admirer and Praiser of Allah the Exalted."
    Thereby, as soon he (
    Easa [alai'his'slaam]) demonstrated to them the unprecedented Displays —They (the group who refuted him) said: "This is evident visual illusion." [61:06]

مبنی بر حقیقت ماضی کی خبر سے مطلع ہو جاؤ؛جب عیسیٰ(علیہ السلام)،ابن مریم،نے کہا۔’’اے بنی اسرائیل! میں تم لوگوں کی جانب اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔اور میں اس کی تصدیق کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں جوتورات  میں درج کردہ میں سے میرے سامنے موجود ہے۔
اورمیں دنیا کویہ خوشخبری دینے والا ہوں،میری طبعی موت کے بعد فقط ایک رسول تشریف لائیں گے۔ان کا نام احمد(ﷺ)ہے‘‘
پھر جب ثبوت اور سند والی بات  کے حوالے سے  جوں ہی انہوں(عیسیٰ علیہ السلام)نے عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کو انہیں دکھایا جوان کےتصور، تجربہ، سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان ہیں:توانکار کرنے والے عمائدین نے کہا"یہ تو سوائے صریحاً طلسماتی شعبدہ بازی اور فریب نظر کے حقیقت میں کچھ نہیں"

Root: س ح ر


وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَـرَىٰ عَلَـى ٱللَّهِ ٱلْـكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَـىٰٓ إِلَـى ٱلْإِسْلَٟمِۚ وَٱللَّهُ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٧

  • And who is a greater evil-doer/distorter/creator of imbalances/disorder/over stepping than the one who conjectures falsehood attributing it to be from Allah the Exalted [which is neither written in the Book of Allah nor there is tangible evidence from knowledge] —While/despite that he is being invited towards Islam that guarantees him peace, security and salvation. Be mindful, Allah the Exalted does not guide [against their will/considered decision] people who are mischievous - distorters and substitute facts with conjectures - myths - concocted stories. [61:07]

غور کرو؛  اس سے بڑھ کرحقیقت کے متضاد رویہ اپنانے والا کون ہو سکتا ہے جس نے دانستہ مقصد کے زیر اثر اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہوئے جھوٹ اختراع کیا۔باوجود اس کے کہ اسے دین اسلام کی جانب آنے کی دعوت دی جا رہی ہے جس میں اس کے لئے امن و سلامتی کی ضمانت ہے۔مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں ہدایت نہیں دیتے۔

يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٟهِهِـمْ وَٱللَّهُ مُتِـمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ ٨

  • They desire and make efforts that they might blur the Light of Allah: Aa'ya'at of Grand Qur’ān with their whimsical conjectural talks. And Allah the Exalted is going to complete the Visible Light [Grand Qur’ān] of Him the Exalted. Notwithstanding how aversive it is felt by those who have refused to accept it, from amongst people of Book and idol worshippers, [they wish that no further Aa'ya'at be revealed-2:105] [61:08]

وہ اس خواہش میں برسرپیکار رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے راہ ہدایت کو منور کرنے والے پیغام(قرءان مجید)کو کسی طرح اپنے مونہوں  کی افواہ سازی سے دھندلا دیں۔لیکن اللہ تعالیٰ  اپنے راہ ہدایت کو منور کرنے والے بصیرت افروز پیغام(قرءان مجید)کو اتمام تک پہنچائیں۔ان حالت میں بھی چاہے  کتنا ہی رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کے لئے   وہ باعث ناپسندیدگی اور ناگواری ہو۔

Root: ط ف ء; ف و ه; ك ر ه

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْـهُـدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَـى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْـرِكُونَ ٩

  • He the Exalted is the One Who has sent His Messenger (Muhammad ﷺ) with the Guide (Grand Qur’ān) and the System of Infallible Truth, based upon Monotheism, so that he may make it — in its complete ideological foundation and operational form — manifestly distinct over every existing code of life adopted by peoples of various identities, even if this should be deeply resented by those who associate others with Allah and reject His Messenger.

وہ جناب ہیں جنہوں نے اپنے رسول (محمد ﷺ) کو رہنمائی کرنے والے بیانِ حقیقت (قرءانِ مجید) اور اس ضابطۂ حیات کے ساتھ بھیجا ہے جو ناقابلِ خطا نظریہ (توحید)پر مبنی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ (رسول کریم) اس (دینِ اسلام) کو اس کی فکری بنیادوں اور عملی نظام سمیت تمام دیگر اقوام و تہذیبوں کے وضع کردہ ضابطہ اور نظامِ حیات(مروجہ دین)پر نمایاں اور ممتاز کر دیں، اگرچہ ان کا ایسا کرنا ان لوگوں کے لیے سخت ناپسندیدہ ہو جو بشر کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننے سے انکاری ہیں اور اپنے ہاتھوں تراشے بتوں کو مشترک معبودان قرار دیتے ہیں۔ (الصف۔ ٩)

Root: ك ر ه


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُ لُّـكـمْ عَلَـىٰ تِجَٟرَةٛ تُنجِيكُـم مِّنْ عَذَابٍٛ أَلِيـمٛ ١٠

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen; May I lead you people towards that commerce which will save and rescue you from the painful affliction — [61:10]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی تجارت کی نشاندہی کر دوں جو تم لوگوں کو دردناک عذاب کے احتمال سے نجات دلائے گی۔

Root: د ل ل

تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٟهِدُونَ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٟلِـكُـمْ وَأَنفُسِكُـمْۚ ذَٟلـِكُـمْ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـمْ تَعْلَمُونَ ١١

  • It is that you people believe/place trust and conviction in Allah the Exalted and His Messenger —And you people exert utmost with your wealth and physical participation in the cause of Allah the Exalted. This is the best course prescribed for you people if you were really understanding it. [61:11]

وہ یہ ہے؛تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اور ان کے رسول(کریم محمْدﷺ)پر ایمان ہے۔اور  تم لوگ اپنے اموال اور جسمانی شرکت سے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے کے دفاع کے لئے جدوجہد کرتے ہو۔یہ سوچ اور طرز عمل تمہارے لئے بہترین نتایج کا پیش خیمہ ہے اگر تم نجات اور سزا کے مقرر کردہ اصول جانتے ہو (تو اس پر کاربند رہو)۔

يَغْفِرْ لَـكُـمْ ذُنُوبَكُـمْ وَيُدْخِلْـكُـمْ
وَيُدْخِلْـكُـم
جَنَّٟتٛ تَجْـرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلۡأَنْـهَٟرُ
وَمَسَٟكِنَ طَيِّبَةٙ فِـى جَنَّٟتِ عَدْنٛۚ
ذَٟلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ ١٢

  • He the Exalted will grant forgiveness and protection for you for your ill deeds, —
    And He the Exalted will enter you people in the Gardens with streams flowing beneath/side by —
    And the most comfortable and delighting residences in the residential areas of Paradises.
    This [approval and appreciation of Allah] is the greatest/grand achievement/success. [61:12]

وہ جناب تمہارا یہ طرز عمل اختیار کرنے پر تم لوگوں کی خاطر تمہارے ان  جرائم /مجرمانہ الزام تراشیوں سے جو تم کر چکے ہو پردہ پوشی فرماتے ہوئے معاف فرما دیں گے۔
 اور وہ جناب تم لوگوں کو ان باغات میں داخل فرما دیں   گے  جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔
اور آرام دہ اور دل پسندرہائش گاہیں ان کے لئے خوشگوار باغات میں تیار کی گئی ہیں۔
یہ زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

Root: ف و ز

وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَـهَاۖ
نَصْرٚ مِّن ٱللَّهِ وَفَتْحٚ قَرِيبٚۗ
وَبَشِّـرِ ٱلْمُؤْمِنِيـنَ ١٣

  • Lastly your efforts are aimed at entry in Paradise. You aspire her (Paradise).
    This promise (61:12) is as certain as was the promise of assured help while entering battlefield as grace from Allah the Exalted; and that victory is near.
    And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] guarantee-ensure the the truly believing people about glad tidings of  the Paradise. [61:13]

اور آخری بات یہ ہے تم لوگ اس (جنت)کو پانے کی بہت چاہت رکھتے ہو۔
جنگ میں شرکت کرتے ہوئے یقین رکھو کہ مدد اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملے گی اور فتح قریب ہے۔
اورآپ(ﷺ)صدق قلب سےایمان لانے والوں کو کامیابی و کامرانی کی بشارت / ضمانت دیں۔

Root:  ف ت ح


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
كُونُوٓا۟ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَ لِلْحَوَارِيِّـۦنَ
مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَـى ٱللَّهِۖ
قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَـحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ
فَــَٔامَنَت طَّـآئِفَةٚ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ وَكَفَـرَت طَّـآئِفَةٚ
فَأَيَّدْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَـىٰ عَدُوِّهِـمْ فَأَصْبَحُوا۟ ظَٟهِرِينَ ١٤

  • O those people who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You people become the Party/Helpers of Allah like that when Easa
    (alahissalam) son of Maryam said to Al-Hawariyun: "Who of the supporters of mine will accompany [be migrant] towards Allah the Exalted?".
    Hawariyun as a group replied: "We all are the supporters of Allah the Exalted.
    Thereby, a group of Bani
    Iesraa'eel believed while their other Group disavowed.
    Since it was promised to grant upper hand to his followers while sharing rescue plan (read for elided sentence 3:55); thereby, Our Majesty helped those who had believed over their antagonist group whereupon they emerged as dominants. [61:14]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
اللہ تعالیٰ  کےتم لوگ ایسے انصار/رفقا بن جاؤ اس طرح جیسے عیسیٰ(علیہ السلام،ابن مریم صدیقہ نے حواریْون سے کہا تھا:انہوں نے(حفظ ما تقدم کے طور)پوچھا’’میرے انصار/رفقا میں سے کون اللہ تعالیٰ کی جانب(ہجرت)میں میرے ساتھ ہو گا‘‘۔
ایمان لانے والے گروہ حواریون نے یک زبان جواب دیا’’ہم اللہ تعالیٰ کے رفقا ہیں۔
اس طرح بنی اسرائیل میں سے تورات پر کاربند گروہ ایمان لے آیا تھا جبکہ  بنی اسرائیل کے دوسرے  گروہ نے انہیں رسول ماننے سے انکار کر دیا جو مفادات کے بھنور میں پہلے سے دھنسا تھا۔
چونکہ ہجرت کے وقت ہم نے عیسیٰ(علیہ السلام)سے وعدہ کیا تھا کہ ان پر ایمان لانے والوں کو فوقیت دیں گے(محذوف کے لئے دیکھیں ءال عمران۔55) اس لئے ہم جناب نے ان کو قوت و طاقت میں ان کے دشمن سے زیادہ بنا دیا۔اس کے نتیجے میں وہ غالب بن کر ابھرے۔

Root: ك و ن;ط و ف  Rescue Plan of Allah the Exalted to thwart execution conspiracy against Easa alhaissalam

 
 

062-ٱلْجُمُعَة

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يُسَبِّـحُ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِ ٱلْمَلِكِ ٱلْقُدُّوسِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيـمِ ١

  • Realize it; Whatever exists in the skies and whatever exists in the Earth ceaselessly and devoutly strive exclusively for and actively engaged in the glorification of Allah the Exalted.—He is the One Who is the Supreme Sovereign, the Absolute infinitely Exalted and Glorious,, the Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [62:01]

    ادراک کر لو؛ یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں   اور جو کچھ زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے  تسبیح  کرتے ہوئے ہمہ تن مصروف ہیں۔وہ جناب تمام موجودات کے مطلق فرمانروا ہیں،وہ مطلق  صاحب عظمت و شان ہیں ؛وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِـى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٙا مِّنْـهُـمْ
يَتْلُوا۟ عَلَيْـهِـمْ ءَايَٟتِهِۦ وَيُزَكِّيـهِـمْ وَيُعَلِّمُهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ وَٱلْحِكْمَةَ
وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٢

  • He the Exalted is the One Who appointed; within the People identified as: ٱلْأُمِّيِّـۧنَ the Gentile: the people who were earlier not given the Book by Allah the Exalted, a revivalist/re-awakener as a Messenger who has been a Staunch Monotheist Believing person in them —
    He recites word by word upon them the Aa'ya'at: verbal passages of Him the Exalted. And he intellectually uplifts-sanctifies them [by removing shackles of conjectural myths/distortions]. And he educates them to read and write the recited text imparting the knowledge of the Book and he teaches them how to attain the wisdom: capability to perceive the information about invisible realities.
    And they were certainly in a manifest state of negligence in foretimes as unstructured society in the absence of Divine Book.
    [62:02]

وہ جناب ہیں جنہوں  نے غیر بنی اسرائیل  قوم ،بنی اسماعیل جنہیں پہلے کتاب اللہ نہیں دی گئی تھی ،میں ایک ایسے شخص کو رسول مبعوث فرمایا جوان میں  سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف مومن ہیں۔
وہ انہیں ان جناب کی آیات لفط بلفظ سناتے ہیں۔
اوروہ انہیں فکری اور اخلاقی طور پرسنوارتے ،بالیدگی اورارتقاء دیتے رہتے ہیں،(مبنی بر حقیقت معلومات کے ذریعے)۔اوروہ (رسول امین)انہیں ہمارے کلام پر مشتمل کتاب کو پڑھنا لکھنا سکھاتے ہیں اور حکمت،اس میں درج علم کو بروئے کار لانے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ قبل ازیں کےزمان میں حکمت و دانائی کو کھوئی ہوئی حالت میں  دینی بنیاد پر غیر متشکل (unstructured)معاشرہ تھے۔۔(کتاب اللہ ان کی دسترس میں نہ ہونے کے باعث۔حوالہ سورۃ یٰس۔۶) (الجمعۃ۔٢)

وَءَاخَرِينَ مِنْـهُـمْ لَمَّا يَلْحَقُوا۟ بِـهِـمْۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ٣

  • And likewise, He will educate and refine the remaining believers from their community — those who have not yet, in the recent past, migrated but are destined to join them. Be aware, He the Exalted is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [62:03]

    اور اسی طرح وہ ان کے گروہ میں سے باقی رہ جانے والے مومنوں کو تعلیم و تربیت دیں گے جو ابھی حال ہی میں ہجرت نہیں کر پائے لیکن مقدر ہے کہ وہ ان سے آ ملیں —وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اور بدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

     

ذَٟلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيـهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيـمِ ٤

  • This, granting of knowledge and wisdom, is in fact the grace and blessing of Allah the Exalted; He grants it to him who deserves and desires it. And Allah the Exalted is the holder of Infinite Bounty. [62:04]

    یہ علم و حکمت کا عنایت کرناا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے،وہ جناب سوچے سمجھے فیصلے کے تحت  اسے عنایت کرتے ہیں جو مستحق و متمنی ہے۔اور یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ عظیم ترین فضل کرنے والے ہیں۔


مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُـمِّلُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ ثُـمَّ لَمْ يَحْـمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلْحِـمَارِ يَحْـمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ
بِئْسَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٟتِ ٱللَّهِۚ
وَٱللَّهُ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٥

  • The likeness of those who were entrusted with the burden of the Tor'aat — yet, after time passed, they did not bear her (in truth) — is like the likeness of the donkey who is carrying a load of books.
    How vile is the example of the nation who contradicted the Aa'ya'at: verbal passages of the Book of Allah the Exalted.
    And know well: Allah the Exalted, does not guide — against their own deliberate choice — those who persist in wrongdoing, distortion, and replacing truth with conjecture, myths, and invented tales. [62:05]

یہ اُن لوگوں کی مثال ہے جنہیں تورات کا بوجھ اُٹھانے کی ذمہ داری سونپی گئی، مگر وقت گزرنے کے بعد انہوں نے اسے (حقیقت میں)اُٹھایا ہی نہیں۔ اُن کی مثال تو ایسے گدھے کی مانند ہے جو کتابوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے۔
کتنی بُری ہے اُس قوم کی مثال جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات  کو جھٹلا دیا۔
اور
مطلع رہو؛اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جوحقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں ہدایت نہیں دیتے۔

قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓا۟ إِن زَعَمْتُـمْ أَنَّكُـمْ أَوْلِيَآءُ  لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٦

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] ask the elite and clergy of Bani Iesra'iel: "O you who claim to be Jews, if you assert that you shall be the companions for Allah, apart from all other people —Then, you publicly wish for the death if you are truthful in what you proclaim before common people." [62:06]

    آپ (ﷺ)بنی اسرائیل کے عمائدین سےارشاد فرمائیں:"اے وہ لوگوں  جنہوں نے خود کو یہودی قرار دیا ہے؛اگر تمہیں یہ دعویٰ ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ  کی  رفاقت کے لئے تمام انسانوں سے زیادہ موزوں ہو،تو قربت کے یقین کے نتیجے میں موت کی تمنا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو"۔

وَلَا يَتَمَنَّونَهُۥٓ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْديـهِـمْۚ وَٱللَّهُ عَلِيـمُۢ  بِٱلظَّـٟلِمِيـنَ ٧

  • And the fact is that they will never ever incline themselves to proclaim a wish for that/death for reason/being aware of that which their hands have sent forward. Be mindful, Allah the Exalted has always been fully aware of the wrong-doers-distorters. [62:07]

    جان لو؛ وہ کبھی ازخود  موت کی تمنا کرنے کا اظہار نہیں کر سکیں گےاُس کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے(حقیقت تو یہ کہ آخرت سے مایوس ہیں اور ہزار سال کی زندگی کے متمنی)۔متنبہ رہو،اللہ تعالیٰ حقیقت کے منافی باتوں سے بگاڑ پیدا کرنے والوں کو بخوبی جانتے ہیں۔

قُلْ إِنَّ ٱلْمَوْتَ ٱلَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُۥ مُلَٟقِيكُـمْۖ
ثُـمَّ تُرَدُّونَ إِلَـىٰ عَٟلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ
فَيُنَبِّئُكُـم بِمَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٨

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Indeed the natural death, one you people fearfully wish to flee from it — it is futile since He the Exalted has decreed individual death as an inevitable reality among you (Al-Wāqi'ah: 60) —it will certainly meet each one of you.
    Afterwards, you will be taken towards the Knower of the Invisible and the Visible domains, continuously and simultaneously —
    Since all the protocols of Justice will be observed,
    thereat, He the Exalted will charge sheet you for deliberate and wilful acts you kept performing [62:08]

    آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "یہ حقیقت ہے کہ موت جس سے تم دور بھاگنا چاہتے ہو؛چونکہ ان جناب نے انفرادی موت کو تم لوگوں کے مابین ایک لامحالہ حقیقت کے طور متعین  اور پابندکر دیا ہے(الواقعۃ۔٦٠)اس لئے یقیناً  وہ تم سب لوگوں سے فرداً فرداً ملاقات کرے گا۔
    بعد ازاں  باری آنے پر تمہیں  ان جناب کی جانب لے جایا جائے گا  جو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل  اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔
    چونکہ انصاف کے تقاضوں  کو پورا کیا جائے گا اس لئے  وہ جناب تم لوگوں کو وہ فرد جرم بتائیں گے جو تم دنیاوی زندگی میں  کرتے رہے تھے‘‘۔


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَـىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَۚ
ذَٟلـِكُـمْ خَيْـرٚ لَّـكُـمْ إِن كُنتُـمْ تَعْلَمُونَ ٩

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    When the call has been made for the performance of Ass-sa'laat during the Day of Friday—Thereat, you people hasten towards the Remembrance of Allah [join congregation for Ass-sa'laat] and leave the promissory business transactions —
    This is the best course for you people if you people understand it". [62:09]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
جب جمعہ کے دن میں دوپہر کےوقت صلوٰۃ کی دائیگی کے لئے باآواز بلند پکارا جا چکا ہو۔تو چونکہ صلوٰۃ کا حکم پابندی وقت کے ساتھ ہے اس لئے تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں شامل ہونے کے لئے جلدی کرو۔اورمستقبل میں ادائیگی کی بنیاد پر کیا جانے والا کاروبار بند کر دو۔
یہ طرز عمل تمہارے لئے نتائج و فوائد کے حوالے سے بہترین ہے ۔ایسا کرو اگر تم لوگ معلومات رکھتے ہو۔

Root: س ع ى; و ذ ر

فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِـرُوا۟ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَٱبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ
وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيـرٙا لَّعَلَّـكُـمْ تُفْلِحُونَ ١٠

  • Thereby, as soon the Ass-sa'laat: Time bound congregational Protocol of servitude and allegiance is concluded  —Thereat, you people disperse in the Land and diligently undertake effort for seeking the worldly sustenance-bounty of Allah the Exalted —
    And remember and recall Allah the Exalted frequently so that you people may attain/reap the fruit of perpetual success. [62:10]

    چونکہ اجتماع کا مقصد فقط ایک تھا اس لئے جب   اس دن کی مخصوص صلوٰۃ کی ادائیگی مکمل ہو گئی تو تم لوگ شہر میں منتشر ہو جاؤ اوراللہ تعالیٰ کے فضل کی محنت سے جستجو کرو۔
    اور اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرو۔تاکہ تم لوگ دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں رہو۔


وَإِذَا رَأَوْا۟ تِجَٟرَةً أَوْ لَـهْوًا ٱنفَضُّوٓا۟ إِلَيْـهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمٙاۚ
قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْـرٚ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٟرَةِۚ
وَٱللَّهُ خَيْـرُ ٱلرَّٟزِقِيـنَ ١١

  • [Reverting to conversation with Jews 62:6-8, who offered no reply, instead] And when they saw some business activity — a merchant caravan — or an amusing sport, they rushed towards that and left you standing.
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce to them, "That which is communication from Allah the Exalted (Qur’ān) is far better to attend than the amusing sport and than the hand to hand business activity —
    While Allah the Exalted is the best sustenance provider". [62:11]

    [یہودعمائدین سے  ہونے والی گفتگو کی طرف پلٹتے ہوئے، جنہوں نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ]جب انہوں نے کسی تجارتی سرگرمی —ایک قافلۂ تجارت — یا کسی دل لگی و تفریح کو دیکھا، تو وہ اس کی طرف لپک گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا۔
    آپ(ﷺ)ان سے فرما دیجیے:’’جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کی صورت میں آیا ہے(قرءان مجید)، وہ اس دل لگی اور ہاتھ کے ہاتھ کی جانے والی تجارتی سرگرمی سے کہیں بہتر ہے —
    جبکہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والےہیں۔‘‘

063-ٱلْمُنَافِقُوْن

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَٟفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۚ
وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ
وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ لَـكَـٟذِبُونَ ١

  • When the Muna'fi'qoon: Impostor believers called upon you the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] they said: "We find and testify that you are certainly the Messenger of Allah the Exalted."
    And Allah the Exalted knows that beyond an iota of doubt you are certainly His Messenger.
    And Allah the Exalted bears witness that Muna'fi'qeen are certainly habitual liars. [63:01]

جب  آپ(ﷺ) کے پاس منافقوں کا ایک ٹولہ  آیا تو انہوں نے کہا:۔’’ہم گواہی دیتے ہیں،یقیناً آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘‘۔
اور اللہ تعالیٰ مطلق جانتے ہیں،حقیقت یہ ہے آپ (ﷺ)ان کے رسول ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتے ہیں،منافقین کی حقیقت اور اصلیت یہ ہے کہ ہر وقت جھوٹ بولنے والے ہیں۔

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَٟنَـهُـمْ جُنَّةٙ فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ
ۚ
إِنَّـهُـمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢

  • These Muna'fi'qeen have consciously and purposely adopted their declarations [of believing in Allah and the last Day and saying that Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam is the Messenger of Allah, in believer's society] as protective deception shield —Since deceptive umbrella is for a mission they hindered innocently simple people from the High road of Allah the Exalted.
    Indeed evil—extremely harmful is for them what they have been doing [because earned disgraceful torment-58:16] [63:02]

اِن منافقین نے اپنی قسموں کواسلامی معاشرےمیں بطور ڈھال/مستور رہنے کیلئے  خاص مقصد و مشن سےاختیار کر رکھا ہے۔چونکہ ایک مشن کے تحت ان کی اختراع کردہ باتیں دلفریب  اور آسانیاں پید کرنے والی لگتی ہیں اس لئے  سادہ منش لوگوں کو ان جناب کے مقرر کردہ راستے سے دور کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔
ان  کی یہی حقیقت ہے کیا ہی برا ہے  انجام کے لئےجو عمل وہ کرتے رہے ہیں۔

ذَٟلِكَ بِأَنَّـهُـمْ ءَامَنُوا۟ ثُـمَّ كَفَـرُوا۟ فَطُبِــعَ عَلَـىٰ قُلُوبِـهِـمْ فَهُـمْ لَا يَفْقَهُونَ ٣

  • This — their extremely harmful fate, is because they accepted the Covenant of belief, but afterwards, they persistently renounced it —Resultantly their hearts were veiled/coated/rusted [that truth now cannot enter therein] —Consequently such that they can no longer comprehend the truth. [63:03]

ان کا سب کی نسبت برا انجام اس وجہ سے ہے کہ وہ رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے کے دعویدار بنے، بعد ازاں اپنے میثاق سے ذہنی و قلبی انکار کے مرتکب ہو گئے۔چونکہ وہ ایک عرصہ کفر میں غرق رہے اس لئے ان کے قلوب پر ان کے اعمال کے زنگ نے ڈھانپ لگا دی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انجام کے حوالے سے بات  کوسمجھ  نہیں سکتے۔

Root: ط ب ع;ف ق ه

وَإِذَا رَأَيْتَـهُـمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُـمْۖ
وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِـهِـمْۖ كَأَنَّـهُـمْ خُشُبٚ مُّسَنَّدَةٚۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْـهِـمْۚ
هُـمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُـمْۚ
قَٟتَلَـهُـمُ ٱللَّهُۖ أَنَّـىٰ يُؤْفَكُونَ ٤

  • Moreover, when on their visiting you saw them, their apparent worldly position/wealth and status seemed to you exotic/astounding —(read with 9:55 and 85)
    And if they speak, you should carefully listen for their statement—to find that it is loose and weak — They are like cankered, empty from within wood pieces made to stand with support of some structure —They apprehend — thinking that every sound blast will effect them.
    They are the enemy, therefore, you remain cautious of them.
    Allah the Exalted has exposed and condemned them. How are they deluded by conjectural falsification [63:04]

چونکہ ان کی اصلیت تو اس قابل نہیں کہ انہیں نوازا جائے  مگر چونکہ حیات دنیا ان کا محور ہے اس لئے  جب آپ (ﷺ) انہیں دیکھتے ہیں  تو  ان کے ظواہرآپ کو  متعجب کرتے ہیں (ساتھ پڑھیں التوبہ۔٥٥اور٨٥)!
اور اگر وہ کوئی بات کریں تو ذرا دھیان سے ان کے بیان کو غور کرنے کے لئے سنیں۔تو آپ(ﷺ)کو لگے گاجیسے وہ لوگ ان کھوکھلی لکڑیوں کی مانند ہوں جنہیں کسی کے سہارے کھڑا کیا گیا ہو۔وہ کوئی دھماکے دار آواز سنتے ہیں،ہر گونج وہ محسوس کرتے ہیں جیسے ان پر افتاد ڈالنے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔
وہ منفرد قسم کے دشمن ہیں۔چونکہ آستین کے سانپ کی مانند اردگرد موجود ہیں اس لئے آپ(ﷺ)ان سے محتاط اور ہشیار رہیں
اللہ تعالیٰ نے  جواباً ان کے          کردار کی  پستی کو ظاہر کر کے معاشرے میں ناپسندیدہ بنادیا ہے۔قیاسی غلطیوں سے کیسے وہ دھوکے میں رہ رہے ہیں۔

Root: ع ج ب;ص ى ح

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَـكُـمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُـمْ
وَرَأَيْتَـهُـمْ يَصُدُّونَ وَهُـم مُّسْتَكْبِـرُونَ ٥

  • Know it; when it is said to them —Impostor believers— "Come — ascend to that height whose point of beginning is what Allah the Exalted has compositely sent down. And come to the Messenger: Muhammad [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam], in whose very being the ultimate summit of exaltation is manifest— [refer 4:61 for elided element]—If you do so, the Messenger of Allah the Exalted [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] would like to seek forgiveness for you people"; they twisted their heads aside in disdain —
    And you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] saw them turn away from you the Messenger, recoiling at your mention with discomfort displaying a self-imposed air of arrogance..  [63:05]

اور جب ان (منافقین)کے لئے کہا گیا"آؤ    بلندی کی اس منزل تک پہنچو جس کا نقطۂ آغاز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجتمع  انداز میں  نازل فرمادیا ہے؛اور آؤ رسول (کریمﷺ)کی خدمت میں جن کی ذات میں رفعت کی انتہا جلوہ گر ہے(محذوف عنصر کے لئے دیکھیں النساء۔۶۱)۔اللہ تعالیٰ کے رسول کریم تم لوگوں کے لئے  مغفرت کے طلبگار ہوں گے"تو انہوں نے اپنے سروں کومٹکا دیا۔
اور آپ نے اپنے ذکر پر انہیں  دیکھا
،وہ آپ کے ذکر پر آپ سے کتراتے ہیں،جلن اورناخوشگواری کے انداز میں۔اس حال میں کہ چال میں خود ساختہ تکبر کا اظہار کرنے والے تھے۔(المنافقون۔٥)

سَوَآءٌ عَلَيْـهِـمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَـهُـمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَـهُـمْ لَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَـهُـمْۚ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَـهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِيـنَ ٦

  • It is all the same for them — in terms of outcome — whether you the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] sought forgiveness for them or did not seek forgiveness for them, for Allah the Exalted will never grant them forgiveness (for reasons mentioned in 9:80).
    Indeed Allah the Exalted does not guide those people who are aberrant—the Covenant breakers and transgressors of the prescribed bounds. [63:06]

ان کے جرم کی سنگینی سمجھنے کے لیے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ آپ(ﷺ)ان کے لئے معافی کے خوہشمند ہوئے ہوں یا آپ ان کے لئے معافی کے خواہش مند نہ ہوں،اللہ تعالیٰ ان کے لئے معافی کا فرمان  نہیں دیں گےکیونکہ  یہ فیصلہ بوجوہ  اٹل ہے(وجہ التوبہ۔٨٠)؛
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے جو
اپنے میثاق کی تنقیض ،حدود و قیود  کو پامال  اور تنفر انگیز علیحدگی اختیار کرنے کو اپنی سرشت بنائے ہوئے  ہیں ۔

Root: ف س ق

هُـمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا۟ عَلَـىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا۟ۗ وَ لِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَ ٱلْأَرْضِ وَ لَٟكِنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ لَا يَفْقَهُونَ٧

  • They — Muna'fi'qeen: impostor believers— are the very ones who prohibit: "Do not spend or contribute to those who remain united in the Covenant with the Messenger of Allah until perhaps they disperse".
    And they say this despite knowing that the treasures of the Skies and the Earth belong exclusively to Allah the Exalted —But the Muna'fi'qeen: impostor believers fail to grasp even the most evident realities. [63:07]

یہ وہ لوگ ہیں —منافقین: جھوٹے دعوے کرنے والے ایمان والے —جو منع کرتے  ہوئے کہتےہیں "اللہ کے رسولؐ کے ساتھ  میثاق  پر یکجا  رہنے والوں پر کچھ خرچ یا مدد نہ کرو،  یہاں تک کہ شاید وہ منتشر ہو جائیں"۔
ور یہ بات وہ اس کے باوجود کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ
آسمانوں اور زمین میں پیوست خزائن کی ملکیت اور تقسیم کا فیصلہ اللہ  تعالیٰ کی صوابدید ہے۔مگر منافقین ہیں کہ وہ اس  سب سے واضح حقیقت  کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Root: ف ض ض;ف ق ه؛ن ف ق

يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَآ إِلَـى ٱلْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ ٱلْأَعَزُّ مِنْـهَا ٱلْأَذَلَّۚ وَ لِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِۦ وَ لِلْمُؤْمِنِيـنَ وَ لَٟكِنَّ ٱلْمُنَٟفِقِيـنَ لَا يَعْلَمُونَ٨

  • They — who had marched out of Madina boastfully and for show towards battlefield Badr (as described in 8:47)— were saying, "Once we have returned to Madina—the most dominant will surely expel from her the one who has become the weakest in the City's power balance", while having seen that the Dominance has been established exclusively for Allah the Exalted and for His Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and for the True Believers. But the Muna'fi'qeen are still not interested to know as to who prevails ultimately. [63:08]

وہ  جو مدینہ سے  بڑے طمطراق اور لوگوں کو دکھانے کے لئے اپنے گھروں سے میدان بدر کو نکلے تھے(فاعل کے لئے دیکھیں االانفال۔٤٧)آپس میں کہہ رہے تھے"ایک دفعہ ہم واپس مدینہ پہنچ جائیں،یہ یقینی دکھائی دیتا ہے  کہ سب سے زیادہ طاقت اور غلبہ رکھنے  والا اس کو شہر سے نکال باہر کرے گا جو  طاقت کے توازن میں کمزور ترین اور مغلوب بن چکا ہے"۔یہ انہوں نے اس حال میں کہا جب دیکھ لیا  کہ  شہر پر مکمل غلبہ تو اللہ تعالیٰ  کے لئے،اور ان کے رسول کریم (ﷺ) کے لئے اور حقیقی مؤمنوں  کے لئے مختص ہو چکا ہے ۔مگر منافقین ہیں کہ  اب بھی  اس حقیقت کو  جاننے کے لئے آمادہ نہیں کہ غلبہ آخر کسے حاصل ہوتا ہے۔

Root: ذ ل ل


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
لَا تُلْهِكُـمْ أَمْوَٟلُـكُـمْ وَ لَآ أَوْلَٟدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِۚ
وَ مَن يَفْعَلْ ذَٟلِكَ فَأُو۟لَٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْخَٟسِـرُونَ
٩

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    Let not the considerations of your wealth and nor your progeny distract you to an extent that you are distanced away remembering Allah the Exalted—
    Beware,
    whoever did this act of forgetting the priorities—the inevitable consequence is that such people are categorized who cause their own loss [63:09]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
محتاط رہو؛تمہارے اموال اور نہ تمہاری اولاد تمہیں
اس قدر مشغول اور منہمک کر دے کہ  اللہ تعالیٰ  کے ذکر(یاد اور قرءان مجید)سے  دور  کر کے یاداشت سے محوکر دے ۔
متنبہ رہو؛ جس کسی نے یہ فعل کیا:
توانجام کے حوالے سےیہ ہیں وہ لوگ جو درحقیقت  خود اپنا خسارہ /نقصان کرنے والے ہیں۔

Root: ل ھ و

وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَـٟكُـم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِـىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَـىٰٓ أَجَلٛ قَرِيبٛ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٟلِحِيـنَ ١٠

  • And spend heartily some part of the sustenance which Our Majesty have bestowed upon you people, in times before the death might reach someone of you—Whereat he might say: "My Sustainer Lord! why not You the Exalted granted me a respite-delayed for a little more time—That would have enabled me to become generous donor, and I would have been one of the righteous-perfectionists." [63:10]

اور ہم جناب نے جو مال و دولت تم لوگوں کو عنایت فرمایا ہے اس میں سے دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرو اس سے قبل کہ تم میں سے کسی کو موت دوسروں سے جدا کرنے کے لئے پہنچ جائے۔چونکہ اب تک کثرت کی خواہش میں مبتلا تھا اس لئے موت دیکھ کر کہے گا’’میرے رب! کیوں نہیں آپ نے مجھے کچھ اور مدت کے لئے مہلت نہیں عنایت کی جس پر  میں ازخود دوسروں کو بے لوث تحائف دیتا اور میں اصلاح پر کاربند لوگوں میں شامل ہو جاتا‘‘۔

وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُـهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيـرُۢ  بِمَا تَعْمَلُونَ ١١

  • Be mindful; Allah the Exalted will never delay any person when his appointed moment has reached. Remain mindful, Allah the Exalted is always fully aware of that what you people do. [63:11]

متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کے لئے موت کو مؤخر نہیں کریں گے جب اس کی مدت مہلت کے اختتام کا لمحہ آن پہنچا۔متنبہ رہو،اللہ تعالیٰ مطلق باخبر ہیں ہر اس عمل سے جو تم لوگ کرتے ہو۔

 

064-ٱلتَّغَابُن

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يُسَبِّـحُ لِلَّهِ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَمَا فِـى ٱلۡأَرْضِۖ
لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُۖ
وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٌ ١

  • Realize it; Whatever exists in the skies and whatever exists in the Earth ceaselessly and devoutly strive exclusively for and actively engaged in the glorification of Allah the Exalted. (Same sentence in 62:1)
    The Dominion and Sovereignty is the domain exclusive for Him the Exalted۔ And the Infinite Glory and Praise was eternally declared as prerogative exclusive for Him the Exalted in the earliest abstract realm and so will be in the End-Hereafter.
    Remain cognizant, He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm. [64:01]

ادراک کر لو؛ یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ آسمانوں   اور جو کچھ زمین میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کومطلق عظمت و کبریائی  اور جدوجہد کا محور اور منزل مقصود قرار دیتے ہوئے  اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے  تسبیح  کرتے ہوئے ہمہ تن مصروف ہیں۔
تمام  تخلیق کردہ سلطنت کا اقتدار اعلیٰ اور اس کا نظم و نسق صرف ان  جناب کے دائرہ کار میں ہے۔عظمت وبرتری وشرف و کبریائی کو بیان کرتی حمد کو ہمیشہ کیلئے ابتدائے آفرینش کے جہاں میں ان جناب کے  لئے مختص اور استحقاق قرار دے دیا گیا تھا ۔
خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُـمْ
فَمِنكُـمْ كَافِرٚ وَمِنكُـم مُّؤْمِنٚۚ
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيـرٌ ٢

  • He the Exalted is the One Who has created you people — and since you are endowed with freewill and cognitive autonomy, thereupon, exercising it, there is one among you who immerses himself in short-sighted material gains and thereby rejects the notion of future accountability. And there is one among you who, as a rational and foresighted being, embraces the reality of accountability for his actions in the Hereafter. Know it well — Allah the Exalted is ever-watchful of all that you people do. [64:02]

وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو تخلیق فرمایا ہے۔
چونکہ تم لوگوں کو صاحب حریت ،اپنے فیصلوں میں خود مختار (خلیفہ )قرار دیا ہے اس لئے تم میں جو لوگ  مفادات دنیا میں غرق خود اپنے وجود اورمظاہر فطرت پر غور نہیں کرتے وہ خالق  اور آخرت کے موجود ہونے کے انکاری ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کوصدق دل سے مانتے ہیں جو تم میں سے عقل و فکر کو استعمال کرتے ہیں۔
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ  زمان و مکان میں ہر لمحہ ان اعمال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے ہیں جو تم انجام دیتے رہتے ہو۔

Root: ك ف ر

خَلَقَ ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ بِٱلْحَقِّ
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْۖ
وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيـرُ ٣

  • He the Exalted has created the Skies and the Earth; conditioning them scientifically: infallible governing rules for a determined purpose and time —
    And He the Exalted has given you unique facial identity, thereby, He the Exalted gave symmetrical beauty to your facial features —
    Be cognizant of the doctrine that the finality of issues is the exclusive prerogative of Him the Exalted. [64:03]

انہوں نے آسمانوں اور زمین کو متعین مقصد،متعین  سائنسی اصولوں اور متعین مدت کے تحت تخلیق کیا ہے۔
اور ان جناب نے  تم لوگوں کو(ماؤں کے رحم میں موجودگی کے دنوں میں) انوکھی صورت کا حامل بنایا ،اس لئے انہوں نے چہرے کے خدوخال کو متناسب حسن دے دیا۔
مطلع رہو؛یہ نظریہ کہ تمام امور کو منطقی انجام کے فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب پلٹایا جاتا ہے حقیقت ہے۔

Root: ص ى ر

يَعْلَمُ مَا فِـى ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضِ
وَيَعْلَمُ مَا تُسِـرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَۚ
وَٱللَّهُ
عَلِيـمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٤

  • He the Exalted fully knows all that which exists in the Skies and the Earth —
    And He the Exalted fully knows what you people conceal and withhold in your chests and about that which you reveal, say openly, project.
    Remain cognizant that Allah the Exalted has the complete knowledge of that what is held in the chests. [64:04]

وہ جناب ہرہر موجودات کو مکمل طور پرجانتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں عیاں یا پنہاں حالت میں موجود ہے۔
متنبہ رہو؛اللہ تعالیٰ اسے بخوبی جانتے ہیں جو تم سینوں میں پوشیدہ رکھتے ہو اور اس کو جو تم لوگ کھل کر کہتے ہو۔
یقناً اللہ تعالیٰ اسے مکمل طور پر جانتے ہیں جو سینوں میں موجود ہے۔


أَلَمْ يَأْتِكُـمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ مِن قَبْلُ
فَذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِـمْ
وَلَـهُـمْ عَذَابٌ أَلِيـمٚ ٥

  • Has there not come to you people the news of those who persistently refused to believe the Messenger and the Divine message in ages past?
    Since they were given respite, thereby, on its termination, they tasted the grievous consequence of their conduct —
    Beware;
    a severe physical punishment has been prepared and is in wait for them in the Hereafter. [64:05]

کیا تم لوگوں تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی  جنہوں نے گزرے زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ کے رسول اور فرمان کو ماننے سے  انکار کر دیا تھا۔
چونکہ مہلت کا ایک وقت تھا،اتمام حجت اور مہلت کا وقت ختم ہونے پرانہوں نے اپنے طرز عمل کا وبال خود بھگتا۔

اور جان لوایک دردناک عذاب اُن کیلئے تیار ؍ اورمنتظر ہے
آخرت میں۔

Root: ذ و ق; و ب ل

ذَٟلِكَ بِأَنَّهُۥ كَانَت تَّأْتِيـهِـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٟتِ فَقَالُوٓا۟ أَبَشَـرٚ يَـهْدُونَنَا
فَكَفَـرُوا۟ وَتَوَلَّوا۟ۚ
وَّٱسْتَغْنَى ٱللَّهُۚ
وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَـمِيدٚ ٦

  • This happened to them for they remained adamant when their Messengers were coming to them along with distinct unprecedented demonstrative signs (miracles in common parlance) which were self reflective of Divine Origin; whereupon in response they said —"Would human beings like us guide us?"
    Consequently taking this stance they refused to accept and about facing went away.
    Be mindful,  Allah the Exalted has always kept Himself absolutely Independent not to care about them.
    And Allah is eternally the Absolutely Independent, eternally the focus of Glory and Praise. [64:06]

ان کا یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ ان کے پاس ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے رسول ان کے پاس عینی مشاہدہ  کے لئے ایسی شہادتوں(آیات/معجزات ) کے ساتھ تشریف لاتے رہے     جوان کےتصور،تجربہ،سائنسی توجیح سے ماورائے اِدراک  ہوتے ہوئے اس حقیقت کی جانب  واضح رہنمائی کرنے والی تھیں کہ من جانب اللہ  سند اور برھان  ہیں۔تو ان کا مشاہدہ کر لینے پر انکار کرنے والے عمائدین نے کہا:"کیا ہماری طرح کا ہی ایک بشر ہماری رہنمائی کرے گا"۔
اس کو جواز بناتے ہوئے  اس طرح انہوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا،اور ازخود منہ موڑ کر محفل سے چلے گئے۔
خبردار رہو؛اللہ تعالیٰ ان کے ایمان لانے کی حاجت سے مبرا اور منزہ ہیں۔
اور اس حقیقت سے آگاہ رہو کہ یقینا اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے منزہ و بالاتر ہیں؛ازل سے ان کے شرف و کبریائی کی ستائش ہے۔

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ۚ
قُلْ بَلَـىٰ وَرَبِّـى
لَتُبْعَثُنَّ ثُـمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُـمْۚ
وَذَٟلِكَ عَلَـى ٱللَّهِ يَسِيـرٚ ٧

  • It has been publicly opined by those who have refused to believe in the Messenger and Qur’ān that they will never be revived to life (resurrected).
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "No, that thought is false, I swear by my Sustainer Lord —It is inevitable fact that you people will definitely be revived to life.  Afterwards certainly you people will definitely be informed and charge sheeted for that which you people had done in worldly life.
    And this revival to life has always been an easy and effortless matter for Allah the Exalted". [64:07]

ان  مشرک عمائدین نے جنہوں نے رسول کریم اور قرءان مجید کو ماننے سے انکار کیا ہے لوگوں کے سامنے اپنا خیال ظاہر کیا ہے کہ انہیں بعد از موت دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
آپ (ﷺ)ارشاد فرمائیں"نہیں ان عمائدین  کا خیال باطل ہے۔اور میں اپنے رب کی قسم سے بتاتا ہوں۔تم لوگوں کو ازسر نو حیات دے کر الازماًاٹھایا جائے گا۔بعد ازاں باری آنے پر تمہیں بتایا جائے گا ان اعمال کی تفصیل سے جو تم کرتے رہے تھے حیات دنیا میں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ایک آسان  معمول کامعاملہ ہے"۔

Root: ز ع م;ى س ر

فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنّورِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلْنَاۚ
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيـرٚ ٨

  • Since history of the past and about accountability in the Hereafter has been told, therefore, you people hasten lest time runs out, heartily believe in Allah the Exalted and His Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —and believe in the source of enlightenment and Life-Sustaining Light: Grand Qur’ān, the One Our Majesty have compositely sent.
    Beware; Allah the Exalted is fully aware of all what acts you are doing. [64:08]

چونکہ تمہیں ماضی کی تاریخ اور آخرت کا احوال بتا دیا گیا ہے،اس لئےقبل اس کے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول(محمّد ﷺ)پر تم لوگ ایمان لے آؤ؛اور اس  بصیرت افروز اورحیات کے ضامن نور(قرءان مجید)پر ایمان لے آؤ جسے ہم جناب نے زمین پر اتار دیا ہے۔
متنبہ رہو؛ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ان اعمال سے بخوبی باخبر ہیں جو تم کرتے ہو
۔

يَوْمَ يَجْمَعُكُـمْ لِيَوْمِ ٱلْجَمْعِۖ ذَٟلِكَ يَوْمُ ٱلتَّغَابُنِۗ
وَ مَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَ يَعْمَلْ صَٟلِحًۭا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ
وَ يُدْخِلْهُ جَنَّٟتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَآ أَبَدًۭاۚ
ذَٟلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيـمُ
٩

  • Respond swiftly for the Day of Gathering, the Day He the Exalted will collect you people on resurrection. Do it for avoiding embarrassment and remorse in the Day of gathering —That is the Day of the Unmasking of Mutual Deceit.
    And whoever consciously inclines to believe in Allah the Exalted and conducts righteously —He the Exalted will delete and hide from him his misdoings of the past.
    And He the Exalted will enter him into gardens with streams of water flowing side by. They shall reside therein perpetually —
    This approval and appreciation of Allah the Exalted is the grand life achievement award. [64:09]

یقیناً جلدی کرو اس دن کے لئے جب وہ جناب تم سب لوگوں کو  مجتمع فرما دیں گے۔ ایسا اس لیے کرو تاکہ  اجتماع والے دن   رسوائی اور ندامت سے بچ سکو —یہ وہ دن ہے جب باہمی فریب اور دھوکے کے پردے ہٹ جائیں گے۔
اطمینان رکھو؛جو شخص شعوری طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے — تو وہ جناب  اس کے پچھلے قابل تعزیربدعملیوں کو اس سے محو/پوشیدہ  کر دیں گے۔
اور وہ جناب  اسے ایسی جنتوں میں داخل کریں گے  جن کے پائیں  نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے —
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظوری اور قدر افزائی دراصل زندگی بھر کی کامیابی کا عظیم ایوارڈ ہے۔

Root: ء ب د;ف و ز

وَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٟتِنَآ أُو۟لَٟٓئِكَ أَصْحَٟبُ ٱلنَّارِ خَٟلِدِينَ فِيـهَاۖ
وَ بِئْسَ ٱلْمَصِيـرُ
١٠

  • Know about those who refused believing Our Aa'ya'at: Verbal passages of revealed book (Qur’ān) and those who publicly contradicted the Messenger who had come to them with Our Verbal Passages. They are the people who will be the resident inmates of the scorching Hell-Prison —They will be the permanent residents therein —
    Beware; it is an evil abode/destination to land in. [64:10]

اور جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے جنہوں نے رسول کریم پر ایمان لانے سے انکارکر دیا اور ہماری پہنچائی گئی آیتوں (قرءان کے مندرجات )کو لوگوں کے سامنے برملا جھٹلادیا ہے:تو یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔
اور کیا بری منزل ہے یہ،رہائش پذیر ہونے کے لئے۔

Root: ص ح ب;ص ى ر


مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٛ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِۗ
وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ يَـهْدِ قَلْبَهُۥۚ
وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَـىْءٛ عَلِيـمٚ ١١

  • Fact remains; never does any untoward incidence, regarded as an affliction by humans, occur— in the happened in the Earth or upon an individual —except by the prior authorization of Allah the Exalted (Also see 57:22).
    Know the fundamental precondition for Divine Guidance; Whoever would consciously believe in the existence of Allah the Exalted, thereby, He the Exalted would guide his heart in aright direction—
    Fact remains; Allah the Exalted is, at all times, All-Knowing of every single thing. [64:11]

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا ناخوشگوار واقعہ، جسے انسان مصیبت سمجھتے ہیں، نہ زمین میں پیش آتا ہے اور نہ کسی فرد پر واقع ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی پیشگی اجازت سے (دیکھیے 57:22)۔
    یاد رکھیں، اللہ کی طرف سے ہدایت پانے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود پر شعوری ایمان لائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سیدھی راہ پر لگا دیتے ہیں۔
    اور اس حقیقت سے مطلع رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شئے کا مکمل دائمی علم رکھنے والے ہیں۔۔

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَۚ
فَإِن تَولَّيْتُـمْ فَإِنَّمَا عَلَـىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلََٟغُ ٱلْمُبِيـنُ ١٢

  • And you people are directed to willingly and affectionately accept the Word of Allah the Exalted; and willingly and affectionately accept the Word of the Messenger  [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] [verbatim recited and written in the Grand Qur’ān:6:50;10:15] —However, in case you people turned away from the Word of Allah the Exalted and the Messenger you will confront the responsibility, and consequence.. It is because the explicit transcription and deliverance of the Word: Qur’ān is the only responsibility entrusted upon the Messenger of Our Majesty. [64:12]

اورتمہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے کلام کو مکمل طور پر اور دل کی گہرائی سے سنو اور قبول کرو، اور اسی طرح مکمل طور پر اور دل کی گہرائی سے رسول [ﷺ]سے کلام کو سنو اور قبول کرو، (جو کہ قرءان ہے،الانعام۔50؛یونسؐ۔15)
مگر اگر تم اس سے منحرف ہو کر کسی جانب چلے گئے توالزام تم پر ہوگا۔کیونکہ انتہائی متمیز اور واضح انداز میں پیغام کو زبانی اور تحریری طور پر لوگوں تک پہنچا دینے کی ہمارے رسول(محمّد ﷺ)پر فقط ذمہ داری ہے۔(التغابن۔
١٢)

Root: و ل ى

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۚ
وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١٣

  • Realize and recognize it about Allah the Exalted—None at all in miscellany of iela'aha: godheads - deities that are uncritically admired, adorned and worshiped is alive or organizes, administers or sustains others except He the Exalted (titled Allah).
    And the believers should keep their trust and hopeful reliance upon Allah the Exalted. [64:13]

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت جان لو—ان تمام کے تمام میں جنہیں معبود تصور کیا جاتا ہے کوئی ذی حیات نہیں،سوائے ان (اللہ تعالیٰ)کے۔
اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے حامی و ناصر ہیں مومنوں کو ازخود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے۔

Thesis statement of Qur’ān  Root: و ك ل


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟
إِنَّ مِنْ أَزْوَٟجِكُـمْ وَأَوْلَٟدِكُمْ عَدُوّٙا لَّـكُـمْ فَٱحْذَرُوهُـمْۚ
وَإِن تَعْفُوا۟ وَتَصْفَحُوا۟ وَتَغْفِرُوا۟
فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٚ رَّحِـيـمٌ ١٤

  • O those who self proclaim to have accepted-become believers, listen;
    Indeed feelings of incompatibility to coalescence with you can observably develop in psyche of some of your wives and progeny. Noticing such feelings, remain mindful and cautious of them.
    Having identified them, should you people overlook, and forbear, and forgive —it could help retain family coalescence.
    Therefore, act in that spirit — for Allah the Exalted is indeed Oft-forgiving-overlooking faults, Ever Merciful. [64:14]

    اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
    یہ نفسیاتی حقیقت ہے کہ تمہاری بعض بیویوں اور اولاد کے ذہن میں تمہارے ساتھ میل جول اور ہم آہنگی میں کمی یا عدم مطابقت کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔ایسے جذبات محسوس ہونے پر ان سے محتاط اور ہوشیار رہو۔
    اور اگر تم ان کو پہچان لینے کے بعد بھی درگزر کرو، چشم پوشی کرو اور معاف کر دو — تو یہ خاندانی یکجہتی برقرار رکھنے میں مددگار ہوگا۔
    پس اسی جذبے کے تحت عمل کرو —
    کیونکہ یقینا اللہ تعالیٰ درگزر اور پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔

Root: ع ف و;  ص ف ح

إِنَّمَآ أَمْوَٟلُـكُـمْ وَأَوْلَٟدُكُمْ فِتْنَةٚۚ
وَٱللَّهُ عِنْدَهُ ۥٓ أَجْرٌ عَظِيـمٚ ١٥

  • Indeed your worldly wealth — movable and immovable assets and your progeny is like a source— crucible of  check and test for purity and sincerity —
    And Allah the Exalted ensures upon qualifying the test and found sincere to Covenant  — the greatest reward shall be awarded from His Grace. [64:15]

    اوراس بات کا ادراک کر لو کہ تم لوگوں کے اموال اور تم لوگوں کی اولاد درحقیقت شخصیت کے اصل اور کھوٹ کو پگھلا کرنمایاں کر دینے والی  سنار کی کھٹالی ہے۔
    اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم تر ایوارڈ ان کے لئے منتظر ہے  جو اپنے  میثاق(اتباع قرءان)کے پابند رہے۔

فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُـمْ
وَٱسْـمَعُوا۟ وَأَطِيعُوا۟
وَأَنْفِقُوا۟ خَيْـرٙا لِّأَنْفُسِكُـمْۗ
وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ
فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ١٦

  • Since these attractions are absorbing, therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted, to whatever extent you individually could have enabled yourselves.
    And listen comprehensibly; and affectionately and wholeheartedly accept the word of Allah the Exalted and His Messenger [conveyed through Qur’ān].
    And heartily spend for the welfare of others giving things of better import; considering it beneficial for your own selves.
    And he who remained safe of covetousness-selfishness of his inner Self —
    Such people are truly the endeavourer for perpetual success/fruitfulness [64:16]

چونکہ یہ حقائق زندگی زیبائش اور جاذب توجہ بھی ہیں اس لئے جس قدر             تم سے ہو سکے تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔
اور تم لوگ رسول کریم(ﷺ)کے (قرءان مجید)بعینہ سنائے جانے پر توجہ و انہماک سے سنو اور صدق دل سے اللہ تعالیٰ کےکلام کو بہ زبان رسول کریم تسلیم کرو۔
اور اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طلب میں                          دوسروں          کی فلاح و بہبود پر خرچ کرو۔فائدہ مند اشیاء دوخود اپنے بھلے کے لئے۔
اور جو کوئی اپنے نفس کے خودغرضی،خود پرستانہ لالچ سے محفوظ و مامون رہے گا:
چونکہ اپنے آپ میں  یہ حوصلے اور ظرف  کے امور میں سے ہے اس لئے در حقیقت  یہی ہیں وہ لوگ جو دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔

Root: ش ح ح;ف ل ح
 

إِن تُقْرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضٙا حَسَنٙا يُضَٟعِفْهُ لَـكُـمْ وَيَغْفِرْ لَـكُـمْۚ
وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيـمٌ ١٧

  • Know the most paying lending proposition; If you people gift to Allah the Exalted a goodwill shearing from wealth: financially help people only for seeking approval and appreciation of Him the Exalted —He the Exalted would increase and inflate it in your ledger —and He the Exalted would forgive granting protection for you people.
    Be aware; Allah the Exalted is the Recognizer, the Acknowledger and the Most Appreciative; the Most Forbearing; imperturbably over looking/forgiving. [64:17]

    سب سے زیادہ  نفع بخش قرضے کے متعلق جان لو؛اگر اللہ تعالیٰ کو آپ لوگ  قرضہ دیں گے،خیر سگالی کے انداز میں دیا گیا قرض؛ تو وہ جناب اس(قرض)کو قابل ادائیگی کھاتے میں  بڑھاتے رہیں گے،کثرت سے بڑھتا ہوا واجب ادائیگی قرض۔اور علاوہ ازیں  تمہاری لغزشوں سے در گزر  کرتے ہوئے معاف فرمائیں گے۔
    وہ جناب قدردان اور پذیرائی دینے والے ہیں۔بدرجہ اتم بردبار،جذبات سے منزہ ہیں۔

Root: ق ر ض; ح ل م

عَالِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٟدَةِ
ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيـمُ ١٨

  • He is the Knower of what is invisible/non perceivable and visible/perceivable for the creatures —
    He is Pervasively dominant and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm, visible and invisible. [64:18]

    وہ جناب اس  تمام  کوجو دوسروں کی بصارتوں اور بصیرت سے پنہاں اور اوجھل ہے اور  جو کچھ ظاہر اور قابل ادراک ہے ان  کو ہر لمحہ مکمل طور پر جاننے والے ہیں۔
    وہ جناب  دائمی،ہر لمحہ،ہرمقام پرحتماً غالب ہیں۔ اوربدرجہ اتم انصاف پسند تمام موجود کائنات کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو جاننے والے ہیں۔

 

065-ٱلطَّلَاق

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
إِذَا طَلَّقْتُـمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِـهِنَّ وَ أَحْصُوا۟ ٱلْعِدَّةَۖ
وَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ رَبَّكُـمْۖ
 لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِـهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ إِلَّآ أَن يَأْتِيـنَ بِفَٟحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۚ 
وَ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ
وَ مَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥۚ
 لَا تَدْرِى لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٟلِكَ أَمْرًۭا
 ١

  • O you the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention —Convey the protocols of dissolving marriage:
    "When you — the husbands — decide to revoke the marital tie with your wives with whom marital relations have been consummated,—then effect the divorce in accordance with their prescribed waiting-period, and accurately count that waiting-period yourselves. Meanwhile remain mindful of Allah the Exalted, your Sustainer Lord.
    Do not expel them from their marital homes, nor should they leave—except in the case that they commit a manifest act of indecency.
    These are the bounds set by Allah the Exalted; and whoever transgresses the bounds set by Allah the Exalted wrongs his own soul."
    You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] have no idea that perhaps Allah the Exalted causes some new affair — a new turn of events, after this decision of matrimonial alienation for appointed term. [65:01]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔نکاح ختم کرنے کے اصول و ضوابط بیان کیجیے:
"
جب تم لوگ  اپنی  ان بیویوں سے جن سے ازدواجی تعلق استوار رکھ چکے ہو تعلق نکاح  کو معطل کرنے کا برملا اظہار کرتے ہو :چونکہ یہ نکاح کے انقطاع کا پہلا مرحلہ ہے اس لئے انہیں تعلق نکاح سے ان کی تعین کردہ مدت عدت کے لئے الگ کرو۔اور تم خاوند اس متعین عدت کا خود شمار کرتے رہو۔
اور
تم لوگ تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔وہ تم لوگوں کے رب ہیں۔
تم خاوندوں کو منع کیا جاتا ہے کہ انہیں (مطلقہ  بیویاں) اس دوران ان کے 
ازدواجی گھروں سے باہر نکال دو۔اور نہ وہ خود اپنے گھر سے نکل کر چلی جائیں۔سوائے ایسی صورت میں کہ اگر وہ صریح ناروا اور فحش روئیے کا مظاہرہ کریں۔(اس صورت انہیں ان کے میکے بھیج سکتے ہو)۔
دھیان رہے؛مندرجہ بالا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ  فعل و عمل کی آزادی اور قیود ہیں
۔
متنبہ رہو؛جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود  و قیود سے از خودتجاوز کرے گا تو یقینا! اس نے خود اپنی ذات کا استحصال کیا ہے"۔
یہ انقطاع نکاح سے قبل متعین مدت کے تعطل کی حکمت یہ ہے کہ متعلقہ جوڑے کے متعلق آپ (ﷺ) کو اندازہ نہیں کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس تعطل کے بعد کسی نئی بات کو ظہور دے دیں۔

Root: ط  ل ق;ع د د;ف ح ش;د ر ى

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْـرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْـرُوفٍۢ وَ أَشْهِدُوا۟ ذَوَىْ عَدْلٍۢ مِّنكُـمْ وَ أَقِيمُوا۟ ٱلشَّهَٟدَةَ لِلَّهِۚ
ذَٟلِـكُـمْ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَ ٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِۚ
وَ مَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مَخْرَجًۭا
 ٢

  • Consequently when they — the divorced wives —have crossed over—accomplished their respective appointed duration: Then you (respective husbands) cause uniting them in your fold in accordance with known norms of society— Or you apart them respectfully, in accordance with known norms of society. And you make it [remarriage/reunion or separation] witnessed by two persons of just minded repute among you. And you people establish the testimony for Allah the Exalted.
    Aforementioned course, conduct and attitude is advised - prescribed for the one who has been believing in Allah the Exalted and the Last Day.
    Know it, whoever would endeavour for attaining protection of Allah the Exalted—He the Exalted will render a recourse for him as a way out. [65:02]

چونکہ مدت عدت معاملات کو حتمی نہج پر لے جانے کے لئے ہے اس لئے جب اپنے لئے مقرر کردہ مدت انتظار  کو انہوں نے گزار دیاہے۔ معاملے کو اس دوران حتمی  کر لیا ہے اس لئے اس وقت معاشرے کے مرجہ قاعدے کے مطابق   تم لوگ (طلاق دینے والے خاوند)انہیں دوبارہ بندھن نکاح میں لے  کر اپنے ساتھ  حالت امساک میں کرلو(اگر خاوند نے معاملات کی اصلاح کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔البقرۃ۔۲۲۸)۔یا انہیں (مطلقہ بیویاں)انتہائی   مناسب انداز میں مروجہ قاعدے اقدار کے مطابق  جدا کر دو۔اور دونوں صورتوں میں اپنے لوگوں میں سے  انصاف پسند کی شہرت رکھنے والے دو مردوں کو گواہ بناؤ(چاہے دوبارہ نکاح یا تکمیل علیحدگی)۔اور اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر نظام شہادت قائم کرو۔
اس بے لوث شہادت پر قائم رہنے کی وہ جناب ہر اس شخص کو تلقین فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر دل کی شاد سے ایمان رکھتا ہے۔
اور جو کوئی  تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کا خواستگار رہتا ہے۔وہ جناب اس کے لئے کسی نہ کسی بات کو الجھن سے نکلنے کا مخرج بنا دیں گے۔

Root: ء ج ل;م س ك;ف ر ق;ع د ل;و ع ظ

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُۚ
وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُۥٓۚ
إِنَّ ٱللَّهَ بَٟلِغُ أَمْرِهِۦۚ
قَدْ جَعَلَ ٱللَّهُ لِـكُلِّ شَـىْءٛ قَدْرٙا ٣

  • And He the Exalted would like to provide worldly sustenance to him from a source about which he has no idea-thought.
    And should someone transform to exclusively place reliance upon Allah the Exalted, thereat, He the Exalted alone is sufficient for calculations-equations for him.
    Indeed, Allah the Exalted is the accomplisher —takes His affair to logical conclusion.
    Allah the Exalted had determined-appointed for each and all things attribute of measure-relativity-causality. [65:03]

اور وہ جناب اس ذریعے سے اسے رزق/متاع زیست عنایت فرمائیں گے جہاں سے سوچ بچار کر کے بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔
اور جو کوئی عقل و فہم سے اپنے معاملات کو انجام دے کر بہتر اور سود مند نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرے گا تو چونکہ ہر بات کا ظہور پذیر ہونا ان کے اذن کا پابند ہے اس لئے وہ جناب اس کے لئے  بھروسے کے شایان ہیں۔
اس حقیقت سے مطلع رہو، اللہ تعالیٰ اپنے طے کردہ معاملے کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانے والے ہیں۔
(اس ظاہری حقیقت سے اندازہ لگا لو)اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہر ایک ایک شئے کے لئے ایک پیمانہ،مقدار،تناسب مقرر کیا ہے۔

Root: و ك ل؛ش ى ء; ق د ر

وَ ٱلَّٟٓـِٔى يَئِسْنَ مِنَ ٱلْمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُـمْ إِنِ ٱرْتَبْتُـمْ فَعِدَّتُـهُنَّ ثَلَٟثَةُ أَشْهُرٍۢ وَ ٱلَّٟٓـِٔى لَمْ يَحِضْنَۚ
وَ أُو۟لَٟتُ ٱلْأَحْـمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَـمْلَهُنَّۚ
وَ مَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مِنْ أَمْرِهِۦ يُسْـرًۭا
 ٤

  • Take note about those Wives of you people who have lost expectation of menstruation: if you feel doubtful or unsure about their state, then their intervening period of  restraint is three months instead of three menstrual cycles [prescribed in 2:228]— that is, between the pronouncement of suspension of the Matrimonial Bond and its final culmination. And likewise, the waiting period is three months for those wives who have not menstruated immediately before the pronouncement of suspension [this also covers cases of women with surgical removal of uterus/ovary].
    Take further note: the duration for those alienated wives who are found pregnant, shall extend until they deliver their Pregnancy.
    And remember — whoever would endeavour for attaining protection of Allah the Exalted—He the Exalted will render an element of  relief as ease in his affair. [65:04]

اور تمہاری بیویوں میں سے  جو آئندہ  حیض  آنےسے ناامید ہو چکی ہیں (مینو پاز۔اختتام حیض)مگر تمہیں تذبذب ہو تو  اس  صورت میں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے بجائے اُن تین حیض کے جن کا ذکر سورۃ البقرہ (2:228) میں ہےیعنی طلاق کے اعلان اور نکاح کے اختتام/خاتمے کے درمیان کا وقفہ۔۔اور ان بیویوں کی بھی عدت تین مہینے ہے جنہیں متوقع حیض آنے سے قبل طلاق دی گئی ہے(ایسی بھی ان میں شامل ہو جائیں گی جن کے رحم/بیضہ دانی کو نکال دیا گیا ہے)۔
اور ایسی بیویوں کی طلاق کی عدت کی مدت وضع حمل تک  جاری رہے  گی جنہوں نے  حمل اٹھا لیا ہوا تھا۔
اور جو کوئی  تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کا خواستگار رہتا ہےتو وہ جناب اس کے معاملہ میں کسی بات کو اس کے لئے سہل بنا دیں گے۔

Root: ش ھ ر;  ى ء س; ر ى ب; ع د د؛ء ج ل؛ى س ر

ذَٟلِكَ أَمْرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُۥٓ إِلَيْكُـمْۚ وَ مَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَ يُعْظِمْ لَهُۥٓ أَجْرًا٥

  • This is the Command of Allah which He has permanently decreed for you people. Whoever would endeavour for attaining protection of Allah the Exalted—He will delete—hide—absolve him of his past misdoings. And He the Exalted will magnify the reward for awarding him. [65:05]

متنبہ رہو؛ یہ طلاق کے بارے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جسے ان جناب نے تم لوگوں کی جانب مجتمع انداز میں  ہمیشہ نافذ رہنےکے لئےبھیجا ہے۔اور جو کوئی  تندہی سے محتاط رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کا خواستگار رہتا ہے،وہ جناب  یقیناً اس کی پچھلی لغزشوں کی پردہ پوشی کر کے اس سے بری الذمہ کر دیں گے۔اور وہ جناب اس کے احکام کی مخلصانہ پیروی پر اس کے لئے اجر بڑھا دیں گے۔

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُـم مِّن وُجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا۟ عَلَيْـهِنَّۚ
وَ إِن كُنَّ أُو۟لَٟتِ حَـمْلٍۢ فَأَنفِقُوا۟ عَلَيْـهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَـمْلَهُنَّۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَـكُـمْ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۖ
وَ أْتَمِرُوا۟ بَيْنَكُـم بِمَعْـرُوفٍۖ وَ إِن تَعَاسَرْتُـمْ فَسَتُـرْضِعُ لَهُۥٓ أُخْرَىٰ
٦

  • Accommodate them— the divorced wives during the intervening time-period of restraint between pronouncement of Divorce and Untying the Fold of Nikah— in the same manner and place where you reside, according to your financial means — And you should not indulge in financially and mentally harming them  so as to straiten and constrain them.
    And if they are in the state of pregnancy,  then provide for them financially until they deliver their child —whereat if they suckle the child for you, then in response pay their settled obligations —
    And resolve the matters mutually amongst yourselves in accordance with the known traditions. And if you have mutually felt uneasiness thereat in that case cause another woman suckle the child for him [father]. [65:06]

    انہیں — یعنی مطلقہ بیویوں کو عدت کی مدت کے دوران، جب طلاق دی جا چکی ہو مگر نکاح کا بندھن ابھی کھلا نہ ہو — اسی معیار اور مقام پر رہائش دیں  جس میں آپ خود رہتے ہیں، اپنی مالی وسعت کے مطابق۔ اور آپ کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ انہیں مالی یا ذہنی طور پر نقصان پہنچا کر ان کے لئے زندگی تنگ کریں۔
    اور اگر وہ حالتِ حمل میں ہوں تو ان پر اخراجات برداشت کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔ پھر اگر وہ آپ کے لئے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کا معاوضہ طے شدہ حق کے طور پر ادا کریں۔
    اور اپنے معاملات کو آپس میں معروف طریقے کے مطابق صلاح و مشورے سے طے کرو۔ اور اگر آپس میں کوئی تنگی یا اختلاف پیدا ہو تو ایسی صورت میں بچّے کو کوئی دوسری عورت اس کے والد کے لئے دودھ پلائے۔

Root: ض ى ق;و ض ع;  ر ض ع

لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍۢ مِّن سَعَتِهِۦۖ وَ مَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُۥ فَلْيُنفِقْ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُۚ
 لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰـهَاۚ
سَيَجْعَلُ ٱللَّهُ بَعْدَ عُسْـرٍۢ يُسْـرًۭا
 ٧

  • Therefore, let the affluent one spend in accordance with his affluence—And the one whose provision has been restricted, he should spend according to that which Allah has given him.
    Allah does not impose—responsibility—burden—demand—duty upon a person except according to her given capacity—scope—capability—strength—practicability—access—approach—tolerance.
    Allah the Exalted will keep creating situation of easiness after hardship. [65:07]

    پس چاہیے کہ جو خوشحال اور وسعت رکھنے والا ہے وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا ہے۔
     اللہ  تعالیٰ کسی جان پر کوئی ذمہ داری، بوجھ، تقاضا یا فریضہ نہیں ڈالتےمگر اسی حد تک جس کی استطاعت، گنجائش، طاقت، عملی امکان اور برداشت اسے بخشی گئی ہے۔
     اور اللہ  تعالیٰ ضرور ہر تنگی اور دشواری کے بعد آسانی اور کشادگی پیدا کرتے  رہتے ہیں۔

Root: و س ع;ك ل ف;ى س ر;  ع س ر


وَكَأِيِّن مِّن قَرْيَةٍٛ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّـهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبْنَٟهَا حِسَابٙا شَدِيدٙا وَعَذَّبْنَٟهَا عَذَابٙا نُّكْـرٙا ٨

  • And how many a community defied arrogantly the command of their Sustainer Lord and His Messengers sent to them —Then, upon the expiry of its respite,  Our Majesty subjected it to a stern reckoning, seizing it in exacting accountability —And We punished them with a dreadful, unfamiliar affliction. [65:08]

    اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور ان کے  ان کی جانب مبعوث فرمائے رسولوں کے خلاف  متکبرانہ سرکشی کی۔ پس جب ان کی مہلت کا وقت پورا ہو گیا تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور انہیں ایسے عذاب میں مبتلا کیا جو نہایت سخت، غیر مانوس اور ہیبت ناک تھا۔

Root: ن ك ر

فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَٟقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْـرًا ٩

  • Sequel to paying deaf ear to the warning she tasted the evil result of their affair; and the end result of their affair was total loss. [65:09]

    چونکہ انتباہ سے صرف نظر کرتے ہوئے مہلت دئیے وقت تک اپنی روش پر قائم رہے چنانچہ انہوں نے اپنے طرزِ عمل کا خمیازہ خود بھگتا، اور ان کے رویّے کا انجام مکمل خسارہ اور تباہی نکلا۔

Root: و ب ل

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَـهُـمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭاۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٟٓأُو۟لِـى ٱلْأَلْبَٟبِ
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ۚ قَدْ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكُـمْ ذِكْرًۭا
 ١٠

  • Allah the Exalted has prepared for them a severe torment which they will face in the Hereafter—
    Therefore, you people sincerely endeavour to attain the protection from Allah the Exalted, O you the men of wisdom—You who proclaim to have since believed/accepted —Allah the Exalted has indeed since sent to you people Admonition (Grand Qur’ān) —  [65:10]

    اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے  آخرت میں کربناک تکلیف میں مبتلا کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    ا
    س لئےتندہی سے حدودو قیود کے پابند رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے طلبگار رہو اے دانا و بینا لوگو!جذبات سے منزہ حقیقت اور مقصد ِشئے کو دیکھنے/سمجھنے والو۔اے رسول کریم اور قرءان مجید پر ایمان لانے کے دعویدار و!
    اللہ تعالیٰ  نے آپ  لوگوں کی جانب مجتمع انداز میں  ازل سے ابد تک کا سرگزشت نامہ  پہنچا دیا ہے۔

Root: ع د د;ل ب ب

رَّسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٟتٍۢ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَ عَمِلُوا۟ ٱلصَّٟلِحَٟتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٟتِ إِلَـى ٱلنُّورِۚ
وَ مَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَ يَعْمَلْ صَٟلِحًۭا يُدْخِلْهُ جَنَّٟتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُ خَٟلِدِينَ فِيـهَآ أَبَدًۭاۖ قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا
١١

  • He the Exalted has sent the universal Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] who recites for you the Aa'ya'at: verbal passages of Allah the Exalted, word by word, that characteristically explicate in exegetical manner —So that he may move those people who have believed and conducted righteously—out of the layers of darkness into the visible light, life ensuring enlightenment Grand Qur’ān.
    And whoever believes in Allah the Exalted and conducts righteously—He the Exalted will enter him into gardens with streams of water flowing beneath/side by—Wherein they shall reside perpetually. Indeed Allah the Exalted has arranged a decently proportioned sustenance for him. [65:11]

انہوں نے عالمگیر دائمی رسول کو مبعوث فرم دیا  ہے جو تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل عبارات کو من و عن سناتے ہیں جن کا وصف ہے کہ ہر بات کو نکھار کر واضح کر دینے والی ہیں۔اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ (رسول کریم)کثیرالجہتی ظلمتوں سے نکال کر اس واحد و ہمہ گیر نور  یعنی حیات بخش اور بصیرت افروز قرءا نِ مجید کی روشنی کی طرف لے آئیں  ان لوگوں  کوجو ان پر ایمان لائے اور صالح اعمال پر کاربند رہے ۔
بشارت ہے؛جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور وہ صالح اعمال پر کاربند رہا: وہ جناب اسے ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بہترین انتظام کر رکھا ہے،رزق کے حوالے سے۔

Root: ء ب د

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٍۢ وَ مِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ
يَتَنَزَّلُ ٱلْأَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
وَ أَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَـىْءٍ عِلْمًۢا
 ١٢

  • Allah the Exalted is the One Who created the seven skies as successive layers/firmaments, and He the Exalted likewise rendered in the earth layers comparable to them.
    The Commanded Affair keeps self-descending—repeatedly and progressively—between them, maintaining order, measure, and balance. All this is so that it may become evident for you people to know with conviction that Allah the Exalted is eternally the Determiner of Causality, fully capable over every single thing—to set it aright and in precise proportion.
    And that indeed, Allah has already encompassed, encircled, and encompassed-without-leaving-aspect-unattended each and every thing in His absolute Knowledge, both manifest and enfolded. [65:12]

    اللہ تعالیٰ وہ ہیں جنہوں  نے سات آسمانوں کو تہہ بہ تہہ طبقات بنایا، اور اسی طرح زمین میں بھی  انہوں نےان کے مشابہ تہیں پیدا کیں۔اللہ تعالیٰ  کا حکم و تدبیر کا معاملہ ان کے درمیان بار بار اور مسلسل اترتا رہتا ہے تاکہ نظام، توازن اور درست پیمانوں کے ساتھ قائم رہے۔۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ تم لوگوں پر یہ بات یقینی طور پر واضح ہو جائے کہ یقیناًاللہ تعالیٰ ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔
    اور یہ کہ  بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر چیز کو — خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ — اپنے کامل علم کے دائرۂ احاطہ میں لے رکھا ہے، کوئی پہلو ایسا نہیں جو ان کے علم سے باہر ہو۔

 

066-ٱلتَّحْرِيْـم

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ
لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ
تَبْتَغِى مَرْضَاتَ أَزْوَٟجِكَۚ
وَٱللَّهُ غَفُورٚ رَّحِـيـمٚ ١

  • O you the Chosen, Dignified and Exalted Sincere Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pay attention — What for you are giving status of sanctity by keeping precluding that which Allah the Exalted has permitted exclusively for you [about matrimonial affairs in 33:51]—It looks you are studiously pursuing for the pleasured appreciation-consensus of all of your wives for equality and harmony? [it is okay]
    People should take note; Allah the Exalted is Oft Overlooking, ever Merciful.
    [66:01]

اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے بندے (محمد ﷺ)توجہ فرمائیں۔آپ(ﷺ)کس خواہش و ارادہ سے اس بات کو بھی تحریم کا درجہ دے رہے ہیں جسے خصوصی طور پر فقط آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے تحلیل کر دیا تھا(محذوف العائد کے لئے دیکھیں الاحزاب۔51)۔آپ اپنی تمام ازواج(مطہرات)کی خوشنودی اور ازواجی اتفاق اور ہم آہنگی کی مسلسل خواہش و جستجو میں ہیں۔(آپ کی خواہش و کوشش ہے ،ہمیں کیا اعتراض!)
اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یقین رکھو کہ درگزراور پردہ پوشی کرنے اوراکثر و بیشتر معاف فرمانے والے ہیں، منبع رحمت ہیں۔(سورۃ التحریم۔ٚ١)

قَدْ فَرَضَ ٱللَّهُ لَـكُـمْ تَحِلَّةَ أَيْمَٟنِكُـمْۚ
وَٱللَّهُ مَوْلَىٰكُـمْۖ
وَهُوَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْحَكِيـمُ ٢

  • O you who have professed belief: Allah the Exalted has already legislated as binding for you the course of action regarding the dissolution of your oaths—those sanctifications you impose upon yourselves.
    And Allah the Exalted is the Protector Lord of you people. And He the Exalted is intrinsically the Fountain of all knowledge of visible and invisible domains; and the Infinitely Just Supreme Administrator of the created realm. [66:02]

اے ایمان لانے کے دعویدارو!اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے حلفیہ  بیانات اورخود ساختہ تحریمات کی تحلیل کے لئے ضابطہ مقرر کر دیا ہوا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے کارساز ، حمائتی  اور محافظ ہیں۔ان کے متعلق حقیقت ہے، وہ جناب ہی ہیں جومنبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا ہیں۔

Root: ف ر ض

وَإِذْ أَسَرَّ ٱلنَّبِىُّ إِلَـىٰ بَعْضِ أَزْوَٟجِهِۦ حَدِيثٙا
فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِۦ وَأَظْهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيْهِ عَـرَّفَ بَعْضَهُۥ وَأَعْـرَضَ عَنۢ بَعْضٛۖ
فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتْ مَنْ أَنۢبَأَكَ هَـٰذَاۖ
قَالَ نَبَّأَنِـىَ ٱلْعَلِيـمُ ٱلْخَبِيـرُ ٣

  • For highlighting the point the leader's life is no private for his followers, an instance of his private life is hereby disclosed: when the Elevated and Chosen One [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] had confided to someone of his wives some statement—
    Thereat as soon she informed about it some other, and Allah the Exalted caused it to become apparent upon him, he familiarized with some of it and overlooked some of it —
    Thereat, as soon he informed her about it, she said, "Who is he that told you this?"
    He replied her, "The All-Knowing and the All-Aware has informed me— that: [66:03]

اس نکتے کو اجاگر کرنے کے لئے کہ  رہبر کی زندگی ان کے پیروکاروں  کے لئے نجی نہیں ہے  کیونکہ  عوام کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے، ا ن کی نجی زندگی کا ایک  واقعہ بتا رہے ہیں:جب اللہ تعالیٰ کے مخلوقات پر اشرف قرار دئیے بندے (محمد ﷺ)نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک سے ایک رازداری کی بات کو بیان کیا تھا۔
انہوں  (زوجہ )نے اس بات میں رازداری کے پہلو سے صرف نظر کرتے ہوئے   جوں ہی دوسری زوجہ مبارکہ پراِفشا کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس صورتحال کو ان(ﷺ)پر واضح کر دیا۔ انہوں نے  اس رازافشائی کے بعض حصے سے انہیں متعارف کر دیا اور بعض سے صرف نظر کیا۔
اس راز افشائی کو جان لینے پر جوں ہی انہوں نے زوجہ مبارکہ کو اس کے متعلق بتایا تو انہوں نے پوچھا"کون ہے وہ جس نے آپ کو یہ بتایا ہے؟"
انہوں نے کہا:"مجھے انہوں نے مطلع کیا ہے جو منبع علم ہیں۔وہ ظاہر اور پنہاں  سے مطلق باخبر ہیں
;وہ یہ کہ:

Root: س ر ر

إِن تَتُوبَآ إِلَـى ٱللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُـمَاۖ
وَإِن تَظَٟهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوْلَىٰهُ
وَجِبْـرِيلُ وَصَٟلِحُ الْمُؤْمِنِيـنَۖ وَالْمَلَٟٓئِكَـةُ بَعْدَ ذَٟلِكَ ظَهِيـرٌ ٤

  • "Since your hearts were already wholeheartedly inclined for seeking approval and appreciation—so if you have turned to Allah the Exalted on this breach of confidentiality, it has been overlooked—
    And it being so impossible it can only be hypothetically stated, supposedly you two would have thought prevailing upon him by backing each other in family decisions, then fact remains Allah the Exalted is the One Who is his Patron (supporter, helper, protector) —Moreover, his supporters are Gib'reil, and those who believe with a sincere heart and are committed to reform according to commands, restraints, and limits prescribed in Qur’ān.
    And
    over and above, the Angels are on his back as strength, force and admirers. [66:04]

(آپ ﷺانہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہیں)"چونکہ آپ دونوں کے قلوب پہلے سے اللہ تعالیٰ سے حصول خوشنودی پر مائل تھے اس  لئے اگر آپ دونوں نے اس رازداری  کے اعتماد  کی سہو پراللہ تعالیٰ کی جانب   رجوع  کیا ہے تو یقیناً اس سے صرف نظر کر دیا گیا ہے۔
ایک ناممکن بات کو  مفروضہ بنا کر حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ اگر آپ دونوں     ایک دوسری سے تعاون کر کے ان(ﷺ)پر نجی فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہتیں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے حامی و ناصر ہیں۔
اور مزید برآں جبریل(علیہ السلام)اور قرءان مجید کے فرمودات اور حدود و قیود کے مطابق اصلاح پر کاربند صدق قلب سے ایمان لانے والے ن کے حامی و ناصر ہیں۔
 اور تمام ملائکہ ہمیشہ ان(ﷺ)کی پشت پر قوت اور مدح خواہ ہیں۔   
 

Root: ص غ و/ى

عَسَىٰ رَبُّهُۥٓ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُۥٓ أَزْوَٟجًا خَيْـرٙا مِّنكُنَّ
مُسْلِمَٟتٛ مُّؤْمِنَٟتٛ قَٟنِتَٟتٛ تَٟٓئِبَٟتٍٛ عَٟبِدَٟتٛ سَـٟٓئِحَٟتٛ ثَيِّبَٟتٛ وَأَبْكَـارٙا ٥

  • (Information in 33:32 is about all of you with reference to rest of womenfolk) He is desiring and pursuing a course of equality and harmony amongst you all (66:1); but it was possible for his Sustainer Lord allowing him to segregate—disassociate you for some time replacing company with wives better within you all in Our Judgement.
    All of you are women committed to Islam even before, believers with a sincere heart, devoted; you respectfully stand welcoming the Messenger despite being wedlock, and turn to Allah with a sense of regret even for the slightest inconvenience caused, allegiant, these who go out of the house to preach faith to women; you were earlier widow and virgin." [66:05]

وہ آپ سب کی یکساں خوشنودی کے خواہش مند اور کوشاں ہیں (66:1)اگرچہ  ممکن نہیں  کہ وہ آپ کو کچھ عرصہ الگ کردیں مگر ان کے رب کے لئے   یہ توممکن ہے کہ فرمان جاری کر دیں  کہ تم ہی میں سے  ہمارے نزدیک بہتر ازواج  کو بدلے میں وقت  دےدیں۔
آپ سب قبل ازیں
 بھی   اسلام پر کاربند خواتین ہیں،صدق قلب سے ایمان لانے،وفا شعار ادب سے تعلق ازواج کے باوجود رسول اللہ کے لئے احتراماً کھڑے ہو کر استقبال،معمولی سہو پر بھی اللہ تعالیٰ سے احساس ندامت سے رجوع کرنے والیاں ہیں؛عبادت گزار ہیں،گھر سے باہر جا کر خواتین کو ایمان ودین کی تبلیغ کرنے والیاں ہیں۔آپقبل ازیں بیوائیں بھی تھیں اور کنواریاں بھی۔(یہ اپنے آپ میں آپ کے حقیقی مؤمنہ ہونے کا ثبوت ہیں۔
تمہارا اصل شرف تمہارے انہی اوصاف میں ہے، نہ کہ محض نسبتِ ازواج میں"۔الاحزاب۔32) 

Root: ط  ل ق;  ع س ى؛ س ى ح;  ق ن ت


يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
قُوٓا۟ أَنفُسَكُـمْ وَ أَهْلِيكُـمْ نَارًۭا
 وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَ ٱلْحِجَارَةُ
عَلَيْـهَا مَلَٟٓئِكَةٌ غِلَاظٌۭ شِدَادٌۭ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُـمْ وَ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
٦

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    Consciously guard yourselves and your household warding heated Hell-Prison off—
    This Heated Hell-Prison is who's "Fuel"- charred-affected by it are the People and the Stones.
    Stern and severe Angels perform duty as Warders [19 in number-74:30] upon her (Hell-Prison). They (Angels=Warders) disobey not the word of Allah the Exalted which He had ordered them. And they keep performing originally what they are commanded. [66:06]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
 تم لوگ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ(جہنم)سے محفوظ رکھنے کے لئے محتاط رہو۔
اس (آگ،گرم جہنم)کا ایندھن سلگتے،جھلستے ا نسان اور پتھر بنیں گے ۔
 
ایسے ملائکہ جو طبعاً تند خو سخت مزاج ہیں اس (جہنم)پر دروغہ کے فرائض انجام دینے کے لئے مقرر کئے جاتے  ہیں۔۔ان کی سرشت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی حکم کی تعمیل سے پہلو تہی نہیں کرتے جس کا ان جناب نے انہیں حکم دیا ہے۔اور وہ ہر اس فعل کو سرانجام دیتے ہیں جس کو کرنے کا جب بھی  انہیں حکم دیا جاتا ہے۔(التحریم۔۶)

Root: و ق ى;و ق د;غ ل ظ; ء ل ك

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ لَا تَعْتَذِرُوا۟ ٱلْيَوْمَۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُـمْ تَعْمَلُونَ ٧

  • It will be pronounced upon gathering: "O you who persistently refused to believe the Messenger and Divine Message! Do not even try to concoct excuses this Day. You are only being requited for what you were wont to do.".[66:07]

لوگوں کے جمع ہونے پر اعلان کیا جائے گا:"اے وہ لوگو جنہوں نے رسول اور الہامی پیغام پر مسلسل انکار ہی کیا! آج (قیامت کے دن)عذر تراشنے کی کوشش بھی مت کرو۔ تمہیں صرف اُنہی  قابل تعزیر اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم دنیا میں کرتے ہی رہتے تھے"۔

Root: ع ذ ر

يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟
تُوبُوٓا۟ إِلَـى ٱللَّهِ تَوْبَةًۭ نَّصُوحًا
عَسَىٰ رَبُّكُـمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُـمْ سَيِّـَٔاتِكُـمْ
وَ يُدْخِلَـكُـمْ جَنَّٟتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِـهَا ٱلْأَنْـهَٟرُ
يَوْمَ لَا يُخْزِى ٱللَّهُ ٱلنَّبِىَّ وَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥۖ
نُورُهُـمْ يَسْعَىٰ بَيْـنَ أَيْدِيـهِـمْ وَ بِأَيْمَٟنِـهِـمْ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَ ٱغْفِرْ لَنَآۖ
إِنَّكَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
٨

  • O those who have proclaimed to have believed in the Messenger and Qur’ān, listen;
    You people turn repenting towards Allah the Exalted, an absolutely sincere repentance void of any admixture.
    There is likelihood that your Sustainer Lord  may hide-expunge your misdoings absolving you—
    And He the Exalted may enter you people into the Gardens with streams flowing side by.
    That Day Allah the Exalted will not disappoint the Elevated and Chosen One [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] and those who believed in Grand Qur’ān along with him —
    The Elevated and Chosen One would see them that their illumination [Visible Light] is illuminating area before them and on their right —They will say, "Our Sustainer Lord! You accomplish for us our illumination and do grant forgiveness and protection for us —
    Indeed You are eternally all powerful over each and every thing to set them right/fix them in measure and proportion" [66:08]

اے وہ لوگوں جنہوں نے رسول کریم (محمّد ﷺ)اور قرءان مجید پرایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو!
اللہ تعالیٰ کی جانب فہم و فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے جذبات کے زیر اثر کئے طرز عمل پر احساس ندامت سے پلٹ آؤ۔مکمل اصلاح کی سوچ اور نیت سے پلٹنے کا انداز ہو۔
تم لوگوں کے رب کی جانب سے قوی امکان ہے کہ جلد وہ جناب تمہاری  لغزشوں،برائیوں اورکوتاہیوں کو تمہارے اعمال نامے سے مکمل  محوکردیں۔
اور وہ جناب تم لوگوں کو ان باغات میں داخل فرما دیں جن کے پائیں نہریں بہتی ہیں۔
اس دن اللہ تعالیٰ اپنے  اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےعالی شرف و عظمت قرار پائے اخلاص کے پیکر بندے(محمّد ﷺ)، اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ قرءان مجید پر ایمان لائے، مایوس نہیں فرمائیں گے۔
رسول کریم دیکھیں گے کہ ان لوگوں سے پھوٹنے والا نور(سفید روشنی)ان کے سامنے اور دائیں جانب چلتے ہوئے ماحول کو منور کر رہا ہے۔وہ سراپا التجا ہوں گے’’اے ہمارے رب!آپ جناب ہمارے نور بصیرت کو ہمارے لئے بدرجہ اتم فرما دیں،اور ہمارے لئے دائمی فرمان معافی جاری فرما دیں۔
یقیناً آپ جناب ہر ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں"۔

Root: ن ص ح;ع س ى;خ ز ى;س ع ى


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّۚ
جَٟهِدِ ٱلْـكُـفَّارَ وَٱلْمُنَٟفِقِيـنَ وَٱغْلُظْ عَلَيْـهِـمْۚ
وَمَأْوَىـٰهُـمْ جَهَنَّـمُۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيـرُ ٩

  • O you the Elevated and Chosen Allegiant [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] —
    Strive resolutely against all tactics of the stubbornly hostile disbelievers of you and the Divine Message and also against Impostor believers (Muna'fi'qeen) in the society. And maintain a firm and uncompromising stance toward these disbelievers and impostors.
    Know it, their abode is in the Hell-Prison; And the Hell-Prison is but the wretched destination. [66:09] (Replica 9:73)

اے ہمارے لئےمختص  اور کائنات کے لئےعالی  مرتبہ اور عظمت والے قرار پائے بندے(محمد ﷺ):
آپ (ﷺ)ہٹ دھرمی سے  آپ  کے رسول اللہ ہونے کا انکار کرنے والےاورمعاشرے میں موجود منافقین کے  ہر طرح کے مخالفانہ حربوں کو ناکارہ بنانے  کے لئے  جد وجہد کریں ۔اور ان کافروں اور منافقین پر اپنا مؤقف  اوررویہ سخت اور مضبوط رکھیں۔
متنبہ رہو؛ان کی آخری "پناہ گاہ" جھلسا دینے والی جہنم ہے۔
اور کیا  ہی بری منزل ہے یہ،رہائش  پذیر ہونے کے لئے۔

Root: غ ل ظ; ن ف ق;ص ى ر

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٙا لِّلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ ٱمْرَأَتَ نُوحٛ وَٱمْرَأَتَ لُوطٛۖ
كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَٟلِحَيْـنِ
فَخَانَتَاهُـمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْـهُـمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيْئٙا
وَقِيلَ ٱدْخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّٟخِلِيـنَ ١٠

  • Allah the Exalted sets forth as an example for those who are bent on denying the Messenger and Revelation: the Wife of Noah [علیہ السلام] and the Wife of Luet [علیہ السلام].
    They were (in a state of being) married to two servants truly distinguished in Our devoted subjects. Both were actively dedicated to reform.
    Yet they betrayed them in accepting their word for exclusive allegiance to Allah the Exalted. Thereby, both could not help avert-rescue them tangibly by seeking grace from Allah the Exalted.
    Therefore, it was said, "You ladies both enter into the Hell-Prison along with other entrants." [66:10]

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے رسول کریم  اور وحی کے منکر بننے کا ارادہ کر رکھا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام)کی بیوی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی مثال پیش فرماتے ہیں۔
پھر بھی ان دونوں (بیویوں)نے اپنے شوہروں (کے دین)کے ساتھ خیانت کی، یعنی اللہ تعالیٰ کی absolute عبادت اور اطاعت قبول کرنے میں ان (انبیاء) کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً، وہ دونوں (انبیاء) اللہ کے ہاں سے (اپنی دعاؤں کے ذریعے)ان (بیویوں) کے لیے کسی بھلائی کا کچھ بھی فائدہ نہ دلوا سکے۔
چنانچہ (ان بیویوں سے یوم قیامت)کہا گیا: "تم دونوں داخل ہو جاؤ دوزخ میں، (اُن)داخل ہونے والوں کے ساتھ۔"

Root: خ و ن

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٙا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱمْرَأَتَ فِرْعَوْنَ
إِذْ قَالَتْ رَبِّ ٱبْنِ لِـى عِندَكَ بَيْتٙا فِـى ٱلْجَنَّةِ
وَنَجِّنِى مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٟلِمِيـنَ ١١

  • And Allah the Exalted has struck the example of the Wife of Fir'aoun (Pharaoh) for those who have heartily believed, how to live adverse and oppressive  circumstances —
    When she prayed: "My Sustainer Lord! Do build for me by Your Grace a house in the Paradise —
    And rescue me from Fir'aoun (Pharaoh) and his deeds, and rescue me from the people who are tyrants-evil mongers-distorters". [66:11]

اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جو سچے دل سے ایمان لائے ہیں، فرعون کی بیوی کی مثال اس طرح پیش کی ہے کہ انتہائی ناموافق اور ظالمانہ حالات میں بھی کیسے ثابت قدم رہا جائے —
(یہ مثال اس وقت کی ہے) جب اس نے دعا مانگی: 'اے میرے پروردگار! اپنے فضل سے جنت میں میرے لیے ایک گھر بنا دے،
اور مجھے فرعون اور اس کے (برے) اعمال سے نجات دے، اور مجھے ان ظالم لوگوں (کی قوم)سے بچا لے۔'"

Root: م ر ء

وَمَـرْيَـمَ ٱبْنَتَ عِمْرَٟنَ ٱلَّتِـىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا
فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا
وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَٟتِ رَبِّـهَا وَكُتُبِهِۦ
وَكَانَتْ مِنَ ٱلْقَـٟنِتِيـنَ ١٢

  • And Allah the Exalted has highlighted for Believers the life of Maryam, the daughter of Imr'aan, who guarded her pudendum- chastity; thus remained virgin in life —
    Thereby, [being أَمْرًا مَّقْضِيًّا a determined matter] telling her about becoming virgin mother Our Majesty blew in him [Easa, already blown in her womb 21:91] "the word of Our command-life".
    And she exhibited candidness about the Words/promises of Her Sustainer Lord and His Commands.
    And she exhibited candid sincerity toward the Words (Promises) of her Lord, and toward His prescribed commands/decrees. [66:12]

اور اللہ تعالیٰ نے صاحبان ایمان کے لئےمریم(صدیقہ)بنت عمران کی مثال سے اعلیٰ قابل تقلید روش کو نمایاں کیا ہے۔یہ خاتون ہیں جنہوں نے مرتے دم تک اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کی۔
اس لئے ان کو کنواری ہوتے ہوئے ماں بننے کی پیشگی اطلاع دینے کے بعد ہم جناب نے ان(مریم)کے بطن میں اپنے طے شدہ امر کے ظہور پذیر ہونے کا حکم پھونک دیا تھا  جس کے بعد ہم جناب نے ان (بطن میں زیر پرورش  بیٹے)میں  اپنے طے شدہ امر کے ظہور پذیر ہونے کا حکم پھونک دیا تھا۔
اور اس (مریم)نے   اپنےرب کے    کلمات /وعدوں   اور ان کے  احکام و فرامین  کے بارے میں  کھری اور صاف گو سچائی  کا مظاہرہ کیا(ان کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے  کھلے لفظوں سوالات کئے)۔
اوروہ زندگی بھر ہمارے حضور باادب عاجز کھڑے ہونے والوں میں ایک  شاندار مثال تھیں۔

Root: ف ر ج; ح ص ن;ن ف خ;  ر و ح;ق ن ت

 

067- ٱلْمُلْك

Granular/Forensic Analysis: Letters; vowels; syllables; words

Recitation

  تعارف     


تَبَٟرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ
وَهُوَ عَلَـىٰ كُلِّ شَـىْءٛ قَدِيرٚ ١

  • He alone is the Eternal Self-Subsisting Reality whose inexhaustible productive fullness continuously sustains existence. The entire operational dominion remains permanently within the executive grasp of His Sovereignty.
    And He the Exalted is eternally the Causality Determiner upon entire physical realm. (Cf. 5:120; 6:59; 10:61; 11:04;30:50; 34:03; 42:09;57:02; 57:22; 64:01; 67:01) [5:120] [67:01]

وہ جناب  تنہا  ازلی و ابدی، قائم بالذات حقیقتِ مطلقہ ہیں جن  کا لازوال اور کبھی ختم نہ ہونے والا فیضانِ تخلیق   وجودِ کائنات کو مسلسل بقا فراہم کرتا ہے۔ پورے کائناتی نظام کا دائرہِ عمل (Operational dominion)مستقل طور پر ان کی حاکمیت کی مقتدر اور فعال گرفت (Executive grasp) میں رہتا ہے؛
خبردار رہو،وہ جناب ہر ایک ایک شئے اور معاملے کو پیمانوں میں مقید کرنے پر ہمیشہ سے قادر ہیں۔

Root: م ل ك; ب ر ك

ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَـيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلٙاۚ
وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ ٢

  • He is the One Who created the domain of inanimate existence and the phenomenon of life. The purpose and wisdom underlying this creative act is to place you, O humanity, under trial, thereby revealing which among you demonstrates the most appropriate, balanced, and excellent conduct in behaviour and action. And He alone is the All-Dominant, the Oft-Forgiving. (Cf. 11:7; 18:7) [67:02]

وہی ذاتِ اقدس ہے جنہوں  نے پہلے بے جان مادی وجود کے پورے دائرۂ تخلیق کو وجود بخشا، پھر اسی سے مظہرِ حیات کو ابھارا۔ اس پورے تخلیقی نظام کے پسِ پشت کارفرما مقصد اور حکمت یہ ہے کہ اے نوعِ انسانی!تمہیں آزمائش کے عمل سے گزار کر یہ نمایاں کر دیا جائے کہ تم میں سے کون اپنے کردار، طرزِ عمل، رویّے اور عملی زندگی میں اس معیارِ حسن کا زیادہ مکمل اظہار کرتا ہے جو مقصدِ تخلیق سے ہم آہنگ، متوازن اور موزوں ہے۔
اور وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غلبہ و اقتدار رکھنے والےہیں،وہ اکثر و بیشتر درگزر کرنے،پردہ پوشی کرنے اور معاف فرمانے والے ہیں۔(الملک۔۲)

ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَـمَٟوَٟتٛ طِبَاقٙاۖ
مَّا تَرَىٰ فِـى خَلْقِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ مِن تَفَٟوُتٛۖ
فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٛ ٣
ثُـمَّ ٱرجِعِ ٱلبَصَرَ كَرَّتَيْـنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ ٱلبَصَرُ خَاسِئٙا وَهُوَ حَسِيـرٚ ٤

  • He is the One Who created seven skies, vertically layered—each one above another—in perfect harmony and cohesion.
    You will never see  in the creation of Ar'Reh'maan the Exalted, any incongruity, imbalance, discordance or lack of proportion—
    Thereby, to verify, direct your vision attentively: do you observe any fissure, rift, or gap? [67:03]

  • Afterwards  turn your gaze once more, yet again, in repeated scrutiny—your sight will only return to you humbled, defeated, and worn out with fatigue. [67:04]

مطلق فرمانرواوہ جناب ہیں جنہوں نے سات آسمانوں کو تخلیق کیا،طبق در طبق،اوپر تلے باہمدگر انداز میں۔
الرّحمن (ذوالجلال والاکرام)کی تخلیق میں تم تفاوت،عدم تناسب کہیں نہیں دیکھو گے۔
چونکہ اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اس لئے تم نگاہ کو اس پر مرکوز کر کے دیکھو؛ بتاؤ کہیں شگاف،دراڑدکھائی دیتا ہے؟
بعد ازاں پھر چاروں طرف نگاہ مرکوز کر کے دیکھو،ایک کے بعد دوسری بار۔یہ ارتکاز نظر خود پلٹ آئےگا،چندھیائی حالت میں؛اور وہ(بصر)ناکام و نامراد لوٹا(تفاوت اورشگاف پانے میں)۔

Root: ط ب ق;ف و ت;ف ط ر;ك ر ر


وَلَقَدْ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِمَصَٟبِيحَ
وَجَعَلْنَٟـهَا رُجُومٙا لِّلشَّيَٟطِيـنِۖ
وَأَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابَ ٱلسَّعِيـرِ ٥

  • And Our Majesty have indeed adorned the lowest Sky of Earth with Comets—
    And We have rendered them (comets) a source of stone-hurling for the Shai'teen [Evil Ones -Satans amongst species Jinn who rise in upper atmosphere to listen something: See 15:17 and 37:7-8]
    And Our Majesty have prepared for them (Satans) the punishment of the scorching heat - Hell-Prison. [67:05]

اور  یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے  دنیا کے نچلے آسمان کو مصابیح/دم دار ستارہ نمادکھائی دینے (Comets)والے فلکی اجسام کی دلکش کشش سے مزین فرمایا ہے۔
ا
ور ہم جناب نے دم دارچمکتے بگولوں (دومکیتوں
comets
)کوجنات میں شیطان طینت افراد کے لئے جو اوپر کی فضا میں گن سن کے لئے آتے ہیں سنگ ریزی کا منظر بنا دیا ہے۔(الحجر۔17 اور الصافات۔7-8ساتھ پڑھیں)
اورہم جناب نے جسم و جان کو جھلسا دینے والے عذاب  کوان (شیاطین) کے جرائم کی  سزا دینے کےلئے تیار کردیا ہے۔


  
Root: س ع ر;  ع ت د ;ر ج م       Comets

وَلِلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ بِرَبِّـهِـمْ عَذَابُ جَهَنَّـمَۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيـرُ ٦

  • And the punishment of Hell-Prison is in wait for those who persistently refused to believe in their Sustainer Lord —And it is an evil abode/destination to land in. [67:06]

اور جہنم کا عذاب ان لوگوں کے لئے بھی تیار اور منتظر ہے جنہوں نے اپنے رب کو ماننے سے انکار کیا ہے۔اور کیا بری منزل ہے یہ،رہائش پذیر ہونے کے لئے۔

Root: ص ى ر

إِذَآ أُلْقُوا۟ فِيـهَا سَـمِعُوا۟ لَـهَا شَهِيقٙا وَهِىَ تَفُورُ ٧

  • When they would have been put in it, they will listen wailing synchronizing with her while she is constantly flaring— [67:07]

جب  اس (جہنم)میں  وہ ڈالے جائیں گے  تو  اس  کے ساتھ ہم آہنگ    دردناک آہیں  سنیں گے  جبکہ وہ (جہنم) خود مسلسل  دہک  اورابال میں ہے۔

Root: ش ھ ق;  ف و ر

تَكَادُ تَمَيَّـزُ مِنَ الغَيْظِۖ
كُلَّمَآ أُلْقِىَ فِيـهَا فَوْجٚ سَأَ لَـهُـمْ خَزَنَتُـهَآ أَلَمْ يَأْتِكُـمْ نَذِيرٚ ٨

  • It seems She (the Hell-Prison) is driven to the verge of self-rupture out of the intense fury she feels—
    Every time a
    chained group of people was cast within her, its Wardens asked them—"Did a Warner/Admonisher/Awakener not come to you people?" [67:08]

قریب ہے کہ طیش و تاؤ سے وہ (جہنم)ازخود پھٹ پڑے۔
ہر بار جب  زنجیر سے جکڑے گروہ کو اس کے اندر داخل کر دیاگیا تو اس پر مقرردروغوں نے ان سے پوچھا:"کیا ایک متنبہ اور خبردار کرنے والا تمہارے پاس نہیں آیا تھا؟"

Root: غ ى ظ;  ك و د; م ى ز;  ف و ج

قَالُوا۟ بَلَـىٰ قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٚ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَـىْءٛ إِنْ أَنتُـمْ إِلَّا فِـى ضَلَٟلٛ كَبِيـرٛ ٩

  • They replied to the Warders, "No, the fact is opposite—Indeed Warner did come to us—Since we were absorbed in worldly interests, thereby, we publicly contradicted him. And we said to the believers; "Allah has piecemeal sent nothing of the sort to him —the Messenger. The fact is that what you people are inviting is nothing but extreme deviation from the long accepted system of our society." [67:09]

انہوں نے جواب دیا"نہیں؛ وہ آئے تھے۔متنبہ اورخبردار کرنے والا یقیناً ہمارے پاس آیا تھا۔چونکہ ہم مفادات دنیا کے بھنور میں الجھے ہوئے تھے اس لئے ہم نے برسر عام  انہیں جھٹلا دیا۔اور ہم نے ایمان لانے والوں سے کہا:اللہ نے   وقفے وقفے   سے قطعاً کچھ نازل نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ جو دعوت دے رہے ہو وہ  تمہارے معاشرے کے عرصہ دراز سے تسلیم شدہ نظام سے انتہائی انحراف کے سوائے کچھ نہیں"۔

وَقَالُوا۟  لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِـىٓ أَصْحَٟبِ ٱلسَّعِيـرِ ١٠

  • Listen it; they further said in pitiful tone: "If only we had the habit of attentive listening, or applying intellect-reasoning —We would not have been in the company of inmates of scorching Hell-Prison." [67:10]

اور انہوں نے تاسف بھرے لہجے میں کہا"اے کاش ہم توجہ سے سننے والے ہوتے یا عقل کو بروئے کار لانے والے ہوتے تو: یقیناً اس جھلسا دینے والی زندان میں ہم قید نہ ہوتے"۔

Root: ع ق ل

فَٱعْتَـرَفُوا۟ بِذَنۢبِـهِـمْ فَسُحْقٙا لِّأَصْحَـٟـبِ ٱلسَّعِيـرِ ١١

  • Thus they self confessed the guilt of their criminal charge sheet —Thereby the upshot of the Inmates of the scorching Hell-Prison is the life of regret and woe in the state of remaining discarded and condemned. [67:11]

اس طرح انہوں نے ازخود اپنے پر لگائی گئی فرد جرم اور مستوجب قیدی ہونے کا اعتراف کر لیا۔انجام کار  جھلسا دینے والی زندان میں مکینوں کی زندگی کا روگ دھتکارے ہوئے انداز میں رہنا ہے۔

Root: س ع ر


إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـم بِٱلْغَيْبِ لَـهُـم مَّغْفِـرَةٚ وَأَجْرٚ كَبِيـرٚ ١٢

  • Know the upshot of those people who experience awe of Omnipresence of their Sustainer Lord despite being not in their sight—Forgiveness and magnificent reward has been pronounced and guaranteed through the Messenger for them. [67:12] [Read also 21:49;35:18;36:11]

ان لوگوں کے متعلق  خبر جان لوجو اپنے رب کےجاہ و جلال کے ہرسو مظاہر سے رعب،دبدبہ،احترام اور اپنے ساتھ موجودگی کا ازخوداحساس رکھتے ہوئے سہمے سہمے مرعوب              رہتے ہیں،بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود؛مغفرت اور اعلیٰ ترین ایوارڈ کی بشارت ان کے لئے رسول کریم نے دے دی ہے۔(الملک۔١٢)

وَأَسِرُّوا۟ قَوْلَـكُـمْ أَوِ ٱجْهَرُوا۟ بِهِۦٓۖ إِنَّهُۥ عَلِيـمُۢ  بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ١٣

  • Know it: Conceal and withhold your narrative in your chests or proclaim it openly—[it is one and the same] The fact remains He the Exalted is absolutely aware of what is possessed inside the chests. [67:13]

اور تم لوگ اپنے بیانیہ کو چھپائے رکھو یا اسےباآواز بلند مشتہر  کر دو،یہ حقیقت  اپنی جگہ ہے کہوہ جناب اس کا بھی مکمل علم رکھتے ہیں جوسینوں نے اپنے اندر چسپاں رکھا ہوا ہے۔

Root: س ر ر

    أَ    لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيـرُ ١٤

  • How come He would not know as to what is held in your chests Who has created you people? While He is the One Who is eternally and perfectly Aware of the innermost reality —niceties, delicacies, and subtlety of all things. (Cf. 6:103) [67:14]

کیا وہ جناب نہیں جانیں  گے جو تمہارے سینوں میں  ہے جنہوں نے تمہیں تخلیق کیا ہے؟وہ جناب  ہیں جو تمام چیزوں کی باطنی حقیقت، نزاکتوں، باریکیوں اور لطافتوں سے ابدی اور کامل طور پر باخبر ہے۔

Root: ل ط ف

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلۡأَرْضَ ذَلُولٙا فَٱمْشُوا۟ فِـى مَنَاكِبِـهَا وَكُلُوا۟ مِن رِّزْقِهِۦۖ
وَإِلَيْهِ ٱلنُّشُورُ ١٥

  • He the Exalted is the One Who has rendered for you people the Earth as manageable—cultivable—Since traversing in Earth is your necessity, therefore, to traverse through its tracts, and eat from the Sustenance produced by Him the Exalted.
    And the Resurrection-evidently spread reappearance is scheduled towards Him the Exalted. [67:15]

    وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کے مفاد میں زمین کو زیر تسلط اور نرم حالت (قابل کاشت)میں کر دیا تھا۔چونکہ سفر بھی تمہاری حاجت ہے اس لئے اس کے اجاگر کردہ  راستوں میں گھومو پھرو۔اور ان جناب کے مہیا کردہ رزق میں سے من پسند کھاؤ پیو۔

    جان لو؛حیات نو پانے پر احتساب کے لئے ان کے حضور پیش ہونا ہے۔

  Root: ذ ل ل;م ش ى; ن ك ب;ن ش ر   History of Earth

ءَأَمِنتُـم مَّن فِـى ٱلسَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُـمُ ٱلۡأَرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ ١٦

  • Have you felt secure from the One Who holds supreme cosmic authority in the Sky—that He the Exalted might cause the Earth to cave-in along with you people? When that command comes, you will find her heaving and convulsing beneath your feet. [67:16]

    یا  کیا ان جناب سے جوآسمان میں موجود قوتوں  کو منظم رکھتے ہیں  اپنے آپ  کو تم نے  اس امکان سے مامون سمجھ لیا ہے:کہ  وہ جناب زمین کو بمعہ تم لوگوں کے دھنسا دیں؛ چونکہ ایسا امکان موجود ہے اس لئے جب ان کا ارادہ ہو گا تو اس وقت   تمہارے قدموں تلےوہ(زمین)مرتعش اور متحرک ہو گی۔

Root: م و ر

أَمْ أَمِنتُـم مَّن فِـى ٱلسَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُـمْ حَاصِبٙاۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ ١٧

  • Or have you felt secured by the One Who holds supreme cosmic authority in the Sky — that He may send upon you people that which pelts rock fragments-volcanic ash. [as was sent upon nation of Luet alai'his'slaam]. If you continue defying, soon shall you people know how timely was My warning. [67:17]

    یا  کیا ان جناب سے جوآسمان میں موجود قوتوں  کو منظم رکھتے ہیں  اپنے آپ  کو تم نے  اس امکان سے مامون سمجھ لیا ہےکہ  تم پرکنکر برسانے والے طوفان کو بھیج دیں۔اگر اپنی باطل روش پر قائم رہے تو عنقریب جان لو گے کہ  کیسےمیری تنبیہ بر محل تھی۔

وَلَقَدْ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِـهِـمْ فَكَـيْفَ كَانَ نكِيـرِ ١٨

  • Why do these stubborn leaders not comprehend that people before them also publicly rejected and denounced the message of the Messengers as false? Since their fate, when the time of respite ended, has already been described, so reflect on what the outcome was for the denial of My message." [67:18]

    ان ہٹ دھرم عمائدین کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان  سے قبل زمانے میں لوگ بھی رسولوں کے پیغام کی برسرعام تکذیب  کے مرتکب ہوئے تھے۔چونکہ مہلت کا وقت ختم ہونے پر جو ان کا انجام ہوا تھا وہ بیان کر دیا گیا ہے اس لئے غور کرو کہ میرے پیغام کے انکار کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔

Root: ن ك ر


أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَـى ٱلطَّيْـرِ فَوْقَهُـمْ صَـٰٓفَّـٰتٛ وَيَقْبِضْنَۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحْـمَـٰنُۚ
إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَـىْءِۭ بَصِيـرٌ ١٩

  • Is it that they have not seen towards the birds above them in rows, wings outstretching and folding. No one holds them except Ar'Reh'maan the Exalted.
    Indeed He the Exalted is watchful for each and everything. [67:19]

    کیاان کا رویہ اس وجہ سے ہے کہ  انہوں نے آسمان کی فضاؤں میں پرندوں کو بموجب اصول و ضوابط کے تحت منظم کی ہوئی حالت میں نہیں دیکھا،قطاروں میں  اڑتے پر پھیلاتے اور سکیڑتے ہوئے۔الرحمٰن ذوالجلال و الاکرام کے سوائے ان کو کوئی تھام کر نہیں رکھتا۔
    حقیقت یہ ہے وہ جناب ہر لمحہ ہر ایک ایک شئے کونگاہ میں رکھنے والے ہیں۔

Root: ق ب ض; ف و ق

أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ جُندٚ لَّـكُـمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحْـمَـٰنِۚ
إِنِ ٱلْـكَـٟفِـرُونَ إِلَّا فِـى غُـرُورٍٛ ٢٠

  • Or, if you people have felt protected, who is this so called great man of two cities (43:31) that you suppose will be an army for you, he will help you apart from Ar'Reh'maan the Exalted?
    In fact, the Non-Believers of the Messenger are but in deception and self-delusion. [67:20]

بھلا اگر تم لوگ (اپنے آپ کو) محفوظ سمجھتے ہو، تو پھر یہ کون ہے — جسے تم دونوں شہروں (مکہ و طائف) کا عظیم آدمی کہتے ہو — کہ تمہارا خیال ہے کہ وہ تمہارے لیے ایک فوج ہوگا، جو تمہاری مدد کرے گاالرَّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام)کے سوا؟
 درحقیقت رسول کریم کے منکرین محض دھوکے اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔(الملک۔
٢٠)

Root: غ ر ر

أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى يَرْزُقُكُـمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُۥۚ بَل لَّجُّوا۟ فِـى عُتُوّٛ وَنُفُورٍٛ ٢١

  • Or who is this so called great man of two cities (43:31) that will provide you sustenance if He the Exalted (Ar'Reh'maan) held back His sustenance? Nay, there is none, but the fact is they persisted rising in brimming out of bounds in defiance and running away aversively. [67:21]

یابھلا وہ کون ہے (یہ دونوں شہروں کا نامور شخص۔الزخرف۔31)جو تمہیں رزق دے گا اگر   انہوں(الرَّحمٰن ذوالجلال و الاکرام)نے اپنا رزق روک لیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں؛دراصل  وہ(کافر عمائدین)الھدیٰ (قرءان مجید)سے سرکشی اور فرار میں مستقل ڈٹ گئے ہیں۔

Root: م س ك;ل ج ج; ن ف ر

أَفَمَن يَـمْشِى مُكِبًّاعَلَـىٰ وَجْهِهِۦٓ أَهْدَىٰٓ
أَمَّن يَـمْشِى سَوِيًّا عَلَـىٰ صِرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ ٢٢

  • So, is the one who walks with the mark of despair and hopelessness upon his face—regardless of his claims—better guided?
    Or the one who walks with poise, his weight balanced firmly on his feet, advancing upon a clear, straight path  that keeps heading safely and straight to the destination of peace and tranquility? [67:22]

بھلا وہ شخص   جس کی چلتے ہوئے حالت یہ  ہوکہ اس کے چہرے پر نا امیدی اور مایوسی کی جھلک ہے، ،اپنے دعویٰ سے قطع نظرکیا بہتر ہدایت یافتہ  ہے؟
یا وہ شخص جو ہموار انداز میں چلتا ہے،جسم کا بوجھ پاؤں پر متوازن رکھتا ہے،منزل کی جانب رواں دواںرکھنے والے راسے پر؟

Root: م ش ى; ص ر ط


قُلْ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَـكُـمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٟرَ وَ ٱلْأَفْـِٔدَةَۖ  قَلِيلٙا مَّا تَشْكُـرُونَ ٢٣

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "He the Exalted is the One Who flourished you —Moreover, He the Exalted have inserted and rendered some part (of neural tube) as instruments for the listening - acoustic faculty; and other the observing - optical faculty; and few others as for Processing-Integrating-Perceiving: Baking establishment: the Brains (hindbrain, midbrain, and forebrain); as locus of gaining knowledge and enlightenment for you people. That gratitude which you people express is meagre compared to the favours done. [67:23] [let us be not like majority and frequently say الحمد لله]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"وہ جناب ہیں جنہوں نے تم لوگوں کوناقابل ذکر شئے سے نمائش /نشوونما دی۔اور انہوں نے ایک جزو کو تمہارے لئے سماعت کی لیاقت بنا دیا،اورایک کوبصارتوں کا ذریعہ،اور ایک کو(قلیل تعداد میں)معلومات کو منظم/دم پخت  کرنے (علم میں ڈھالنے)والے دماغ۔جو شکر تم لوگ ادا کرتے ہو وہ عنایات کے مقابل قلیل ہے۔(الملک۔٢٣)

Root: Root: ن ش ء;ف ء د

قُلْ هُوَ ٱلَّذِى ذَرَأَكُمْ فِـى ٱلۡأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَـرُونَ ٢٤

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, He the Exalted is the One Who has multiplied - made you people numerous in the Earth—And you people will be gathered-resurrected for accountability by Him the Exalted." [67:24]

    آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"اور وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے تم لوگوں کو زمین میں آبادیاتی اضافہ دیا۔باعلم رہو کہ تم لوگوں کو ان جناب کے حضوراحتساب کے لئے جمع کیا جائے گا"۔

    Root: ذ ر ء

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ ٢٥

  • And they say: "Tell us the data, time, period when this promise of Last Day will be fulfilled? Tell us if you people were truthful in asserting resurrection?" [67:25]

    اور وہ پوچھتے ہیں’’بتاؤ یہ وعدہ کس تاریخ/دن کو پورا ہو گا۔بتاؤ اگر تم یوم آخر اور آخرت کے متعلق بیان میں سچے ہو؟‘‘

قُلْ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِنْدَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۟ نَذِيرٚ مُّبِيـنٚ ٢٦

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "It is a certain fact that the knowledge about the fixed time of that moment is ONLY with Allah the Exalted —And I am for you people only the Distinctly Manifest Warner/Revivalist/Admonisher." [67:26]

آپ(ﷺ)جواب دیں، ’’حقیقت  تو یہ  ہے کہ میرے پاس اس کا جواب نہیں  کیونکہ ا س کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔اوریہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردارکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والے کی ہے ،انتہائی واضح،متبین،دو ٹوک انداز میں متنبہ کرنا"۔

فَلَمَّا رَأَوْهُ  زُلْفَةٙ  سِيٓئَتْ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟ وَقِيلَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُـم بِهِۦ تَدَّعُونَ ٢٧

  • Their frivolous question is for vested interests and suppressing cognitive dissonance, but as soon they; who have refused to believe you the Messenger, will see it approaching, their faces will become distressed . And it would be said, "This is what you were so insistent upon, purposely and mockingly." [67:27]

چونکہ ابھی مفادات کے زیر اثر اور قلبی الجھن سے فرار کے لئے یہ سوال کرتے ہیں مگر جوں ہی  اسے(وعدہ)قریب آتے ہوئے دیکھیں گے، تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ کر رہ جائیں گے (ہیبت سے کالے پڑ جائیں گے )جنہوں نے آپ(رسول کریم) کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا :"یہی ہے وہ  جس کا تم جان بوجھ کر با اسرار مطالبہ کیا کرتے تھے"۔

Root: ز ل ف


قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِنْ أَهْلَـكَنِـىَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِىَ أَوْ رَحِـمَنَا
فَمَن يُجِيـرُ ٱلْـكَـٟفِرِينَ مِنْ عَذَابٍٛ أَلِيـمٛ ٢٨

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Have you ever considered: if Allah the Exalted were to destroy me and those who believe with me, or were to bestow His mercy upon us, we accept it since we believe none could hinder, then who could possibly protect those  from a painful punishment who are deniers of the Divine Message?" [67:28]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"بھلاکبھی آپ لوگوں نے اس امکان پر توجہ دی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے، اور ان کو جو میرے ساتھ قرءان مجید پر ایمان لائے ہیں ،ہلاک کر دیں یا ہم پر رحم فرمادیں؛ تو ہمارا یقین ہے کہ اسے کوئی روک نہیں سکتا،مگر کون ہے جو قرءان مجید کا انکار کرنے والوں کو دردناک عذاب سے بچائے گا؟"۔

قُلْ هُوَ ٱلرَّحْـمَـٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَاۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِـى ضَلَٟلٛ مُّبِيـنٛ ٢٩

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "He (Allah) is Ar'Reh'maan the Exalted, we have believed in Him, and upon Him we trust consciously placing all our affairs for disposal. Since you are avoiding intellectual reflection by frivolous question of exact date, you shall soon know who is the one who is in manifest heedless wandering." [67:29]

آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں:"وہ(اللہ تعالیٰ) الرّحمٰن (ذوالجلال و الاکرام) ہیں۔ان پر ہم صدق قلب سے ایمان لائے ہیں،اوران پربھروسہ کرتے ہوئے  اپنے معاملات کو سلجھانا ان پر  ہم چھوڑ دیتے ہیں۔چونکہ آپ لوگ منطقی گفتگو کی بجائے غیر سنجیدہ سوال میں الجھے ہوئے ہیں اس لئے عنقریب آپ جان لیں گے کون حقیقت سے منحرف صریح کج روی ، دانستہ غفلت میں مبتلا اپنے آپ میں مگن ہے"۔

قُلْ أَرَءَيْتُـمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرٙا فَمَن يَأْتِيكُـم بِمَآءٛ مَّعِيـنِۭ  ٣٠

  • You the Messenger [Muhammad Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] pronounce, "Have you given it a thought that if the water of you people becomes sunken beneath, thereat who you think will bring to you the water of springs." [67:30]

    آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں "کیا آپ لوگوں نے اس امکان پر توجہ دی ہے کہ اگر تم لوگوں کا  ذخیرہ پانی زیر سطح   گہرائی میں چلا جائے  تو کس پر بھروسہ ہے جو تمہارے لئے پانی کا چشمہ نکال لائے گا؟"

Root: غ و ر