قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے


 ۔معنی اور مفہوم اور مصنف  کے نقطہ نظر تک پہنچنے کے لئے سات منزلیں

1۔ انفرادی الفاظ کے سطحی معنی؛یہ نور کا پہلا رنگ سرخ  جذب کر لینے کی مانند ہو گا۔یہ اس رنگ کی نفسیات کے          مطابق پرجوش کرے گا۔آگے بڑھنے کا جذبہ بیدار کرے گا۔اور رنگ کی مانند جو گولڈن پیلے کے بعد سب سے زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے الگ الگ الفاظ نظروں میں واضح ہوتے ہیں۔

2۔الفاظ کا تجزیہ ،ماخذ میں  سمویا تصور کیا ہے؛ لفظ کی قسم کیا ہے۔اسم ہے تو کون سا اسم وغیرہ۔اور بناوٹ (صرف)۔فعل اور اس کے ابواب کا تعین کرنا۔یہ معنی اور مفہوم کی دوسری تہہ ہے۔اس کو جذب کر لیا تو نور کا نارنجی حصہ جذب کرنے کے مترادف     ہے۔یہ خوشی،ولولہ پیدا کرتے ہوئے تخلیقی صلاحیت میں کشش اور کامیابی کے لئے حوصلہ افزائی کا محرک بنے گا۔

3۔مرکبات کو پہچان کر انہیں ایک جز بنانا۔اور اسکے معنی سمجھنا۔یہ معنی اور مفہوم کے ادراک کی تیسری تہہ بن جائے گی۔یہ منزل ایسے ہے جیسے آپ نے نور کا پیلا رنگ(صَفْرَآءُ ) جذب کر لیا۔یہ  رنگوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور عربی کے مرکبات نظروں سے پہچاننے کے لئے  متن میں سب سے نمایاں ہوتے ہیں۔یہ کائنات کا رنگ ہے۔یہ اسلام کی نمایندگی کرتا ہے۔ ۔یہ تخلیقی صلاحیت، اعلیٰ توانائی اور امید کا رنگ ہے۔اس کو دیکھنے سے انسان میں خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے(حوالہ البقرۃ۔69)۔اس کو دیکھنے پر انسان کا دماغ ایک کیمیائی مادے  "سیراٹونن"(seratonin)۔کو زیادہ ریلیز کرتا ہے اور اس کو دماغ کا پرمسرت،خوشی کی کیفیت والا کیمیکل تسلیم کیا جاتا ہے۔اسلام سے کس قدر گہرائی اور نفاست سے یہ رنگ مماثلت رکھتا وہ اس کے منفی پہلو سے سمجھنا آسان ہے۔یہ دھوکہ دہی اور بزدلی کا بھی رنگ ہے اور اسلامی معاشرے میں ان "خصوصیات" والوں کو منافق کہا جاتا ہے۔منافق کی اصطلاح  کا اطلاق صرف ایمان والوں کے درمیان رہنے والوں پر ہوتا ہے۔

4۔الفاظ کے کردار کا تعین کرنا (نحو)۔یہ الفاظ کے انفرادی معنی کے مجموعہ سے زیادہ معنی کی تہہ بنا دے گا۔یہ منزل ایسے ہے جیسے نور کا سبز رنگ جذب کر لیا۔علمی نفسیات(Cognitive Psychology)کے ماہرین کی جدید ریسرچ کے مطابق یہ رنگ  تحریر کوپڑھنے اور سمجھنے  کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔یہ طاقتور جذبات کو جنم دے سکتا ہے۔یہ فطرت کا رنگ ہے جو ہمیں ترقی کے بارے سوچنے پر مجبور کرتا   ہے۔یہ کثرت کا احساس پیدا کرتا اورتازگی،امن، آرام اور سلامتی سے وابستہ ہے۔یہاں تک ہمیں تحریر کی سمجھ آ گئی تو یہ ہماری سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ کر کے مزید گہرائی میں اترنے کا جذبہ اور امنگ دے گی۔

5۔کردار کا تعین ہو جانے پر یہ معلوم کرنا کہ کیا تمام کاایک دوسرے سے تعلق اور ملاپ ہے۔اگر نہیں ہے تو سمجھ لینا کہ کچھ محذوف ہے۔اور اس کو متعین اور متبین کرنا۔یہ کر لیا تو سمجھیں ہم نے سبز اور نیلے کے امتزاج والے رنگ سبز نیلگوں(Cyan)کو جذب کر لیا ہے۔یہ پرسکون نفسیات کا رنگ ہے۔یہ راحت کی علامت ہے خاص کر جو روشن فیروزی ہے۔یہ نفسیات میں خیال کی شخصی آزادی،خود انحصاری کو قابل فخر مان  کر دوسروں پر انحصار کرنے کو پسندیدہ نہیں بتاتا۔اور فکری تکمیل کی لگن پیدا کرتا ہے۔اور کتاب کے حوالے سے یہ لگن اس کے مصنف کی آواز کو سننے اور نکتہ نظر کے قریب پہنچنے کا شوق ابھارتا ہے۔

6۔جملے کو ساخت اور معنوی اعتبار سے متبین کرنا کیونکہ دونوں معنی اور مفہوم میں ایک اور سطح کا اضافہ کرتے ہیں۔یہ تجزیہ کر کے مفہوم کوکافی گہرائی اور گیرائی سے انسان سمجھ لیتا ہے۔یہ نور کے نیلے رنگ کو جذب کر لینے کے مترادف ہے۔یہ نیلے آسمان اورسمندر دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ ذہن کو محفوظ،امن، سکون، اطمینان،سنجیدہ اور منظم رہنے کا احساس دیتا ہے۔یہ اعتماد دیتا ہے۔ وسعت خیال، وفاداری،  استحکام،اخلاص، دانشمندی،ذہانت اور تفکر  اس سے وابستہ ہے۔یہ رنگ مغموم اورتنہائی کو زیادہ پسندکرنے کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔دوسروں کے لئے مغموم ہونا محبت کی اوج ہے۔اور تفکر کے لئے تنہائی اور جمگھٹے  سے اجتناب کرنا اولین ضرورت ہے(حوالہ سورۃ سباٰ۔46)۔اور تفکر کرنے والوں کو  بھوک کم لگتی ہے۔اس  رنگ کے پھل شاید دو تین ہی ہیں۔یہ سب سے کم  اشتہا انگیز ہے۔

7۔بلاغت کے عناصر کا تعین کرنا۔یہ معنی اور مفہوم کی ساتویں اور آخری تہہ  layer ہے جو پہلی چھ کے ساتھ اجتماع کر کے مصنف کے نکتہ نظر /مافی الضمیر/منشا کے قریب قریب لے جاتی ہے۔اس منزل کو بخوبی  پار کر لینا ایسے ہے جیسے ساتویں  رنگ بنفشی(Violet)کو جذب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔یہ خود اعتمادی دے کربلند نظرآرزو دے گا۔یہ بنیادی طور پر شرافت، بے لوثی،اسرار کوجاننے سے وابستہ ہے۔ رنگوں کی نفسیات کے حوالے سے  یہ ذہن اور جذبات میں ہم آہنگی اور توازن کو فروغ دیتا اور یوں ذہنی توازن،استحکام اور قلبی سکون کا باعث بنتا ہے۔یہ فکر اور سرگرمی اور مرئی اور غیر مرئی دنیا کے مابین ایک رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔