قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے


 

قرءان عظیم زمان و مکان کے لئےسرچشمہ ہدایت  اور اختتامِ سلسلہ ہدایت ہے

قرءان مجید کا یہ تیسرا بنیادی اور اہم ترین موضوع ہے۔یہ اس قدر اہم ہے کہ قرءان مجید کے مرکزی خیال/محور(Thesis Statement)کے جزو کے طور پیش اور بیان کیا گیا ہے۔اس کو تسلیم نہ کرنا، اس سے صرف نظر کرنا،اس کی اہمیت کو ماند کرنے کےلئے دوسرے سرچشموں کو اختراع کرنا  اٗن لوگوں کے مرکزی خیال "لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ مُحَمَّدٚ رَّسُولُ ٱللَّهِ"کو زبان سے تسلیم اور اقرار کو مشکوک بنا دے گا۔

 اللہ تعالیٰ نے   کتاب کی صورت  مرتب کردہ اپنے کلام  کے متعلق پہلی خبر یہ عنایت فرمائی: قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔اور اس کے متعلق دوسری خبر یہ بیان فرمائی:

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ.

  • (یہ کتابِ لا ریب منزل کی جانب خصوصاً متقین[محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں] کیلئےہر وقت ہدایت/رہنمائی  لینے کا ذریعہ ہے۔(حوالہ البقرۃ۔۲

کتاب کے مادہ ”ک ۔ت۔ ب“کے تصور،معنی اور مفہوم کی روشنی میں واضح ہے کہ یہ اپنے اندر علم کومقید/محفوظ کئے ہوتی ہے اور سچائی کا متلاشی کتاب کو صرف اس لئے اٹھاتا ہے کہ اُس کے تصورمیں کتاب علم /معلومات اور ہدایت پانے کا ذریعہ ہے۔لیکن دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو علم برائے علم کے قائل نہیں بلکہ ایسے نشان،ھادی کے متمنی ہیں جو زمان و مکان میں انہیں اپنے نقش پادکھاتے ہوئے سیدھے راستے پر منزل پر پہنچنے کی تمنا و آرزو کو پورا کر دے۔منزل پر جلدپہنچنے کیلئے سیدھے راستے کی تلاش اور اس کی منزل تک کی مسافت کو طے کرنے کیلئے ھادی،رہنما کی طلب،نقش پا کی موجودگی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ایسے لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا:

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٟطَ ٱلْمُسْتَقِيـمَ.1:06٦

  • [اِس لئے عام انسان کیلئے مختص کردہ اوج ثریاپر جانے کیلئے]
    (آپ صراط مستقیم :منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والے راستے پرہمیں رہنمائی/ہدایت دیتے رہیں۔(۶

مطالعہ کتاب کا ایک محرک تلاشِ منزل اور منزل پہ پہنچنے کی راہنمائی حاصل کرنے کی خواہش بھی ہے۔ان طلبگاروں کو بلیغ انداز میں  بتایا:هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ۔جملے میں یہ دوسری خبر ہے اور مرفوع حالت میں ہے۔لِّ  حرف الإختصاص ہے جو کسی شئے سے خصوصی وابستگی،تعلق، نسبت یا ربط،تقرب کا اظہار کرتا ہے۔صراط مستقیم پر گام زن لوگوں نے  منزل کی جانب رواں دواں رہنے کے لئےہدایت کی استدعا کی تھی۔قرءان مجید کو متقین کے لئے سرچشمہ ہدایت قرار دیا گیا ہے  ۔ قرآنِ عظیم متقین کیلئے زمان و مکان میں ہر لمحہ ,ہر موڑ،ہر موقع محل کے لئے ہدایت پانے،رہمنائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

سچائی اور ہدایت کا متلاشی کتابوں کی کثرت کی وجہ سے اِس امکان کی بناء پر شکوک و شبہات اور تذبذب کا شکار بھی ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ مطالعہ کے اختتام پر اُسے کوئی ہدایت میسر بھی آئے۔کتاب کے معنی اور مفہوم کے حوالے سے قاری کے اعتماد کو تقویت دیتے ہوئے قرآنِ مجید کے متعلق یہ اطلاع دے کر کہ یہ ریب سے منزہ بیان حقیقت ہے اُسے یقین دلا دیا کہ اِس میں اُسے سچائی اور علم کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے گا۔اس خبر میں  اپنے آپ سے یہ بات موجود ہے کہ متلاشی حقیقت کے لئے یہ کتاب سرچشمہ ہدایت ہے کیونکہ   یقینی ہدایت صرف ریب سے منزہ کتاب سے حاصل ہو سکتی ہے۔بعد ازاں اس کو یوں بیان فرمایا ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ

  • رمضان وہ مہینہ ہے جس کے دوران قرءان مجید کو مجتمع انداز میں نازل فرما دیا گیا تھا۔

هُدٙى لِّلنَّاسِ

  • یہ  تمام زمان و مکان میں  انسانیت کے لئے ہدایت پانے کے ذریعہ کا کردار انجام دیتا رہے گا۔(حوالہ البقرۃ۔185)


یہاں "هُدٙى"خبر نہیں بلکہ منصوب حالت میں  "حال"(circumstantial adverb)ہے اور " لِّلنَّاسِ" میں حرف جر "لِ" العلة ہے،جو سبب، وجہ، مقصد، تحلیل حجت کو ظاہر کرتا ہے۔اور منسلک اسم جنس میں انسانیت کا ہر فرد شامل ہے(جس کوقرءان مجید پہنچ گیا۔الانعام۔19هُدٙى۔کا مادہ ”ھ د ى“ہے اور اس کے بنیادی معنی نمایاں اور روشن ہونا،آگے آگے ہونا اور دوسروں کے آگے آگے چلنا ہیں۔ چنانچہ دن کو روشن ہونے کی وجہ سے ۔هُدٙى۔کہا جاتا ہے۔ اورهادِيةٌاس ابھری ہوئی چٹان کو کہتے ہیں جو پانی میں دور سے نظر آ جائے(تاج و محیط)۔مبہم مفروضہ اوربات جسے سمجھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کیلئے ظن، گمان اور قیاس سے اندازہ لگانا پڑے کا ۔هُدٙى۔ درجہ نہیں پاسکتی۔اور اسی طرح کسی بھی بات،پہچان اور شناخت کو جسے گمان اور ظن سے پہچان اور شناخت کرنے کیلئے چند دوسرے لوگوں کی صوابدید پر چھوڑ دیاجائے ۔هُدٙى۔ نہیں کہا جا سکتا۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی راستہ بتانے کیلئے آگے بڑھ جاناہیں۔ ھَدَیٰ کے معنی  راستہ کو پہنچوا دینا،واضح کرنا،راہنمائی کرنا ہیں  ۔هُدٙى۔کے معنی      راہنمائی کی بجائے رہنما بھی ہوتے ہیں۔ ”ہدایت“ اس بات کو کہتے ہیں جو واضح، روشن، نمایاں،کھلی ہوئی،غیر مبہم، ابھری ہوئی ہوکہ راہنمائی کرے،راستہ دکھائے ۔

آئمہ لغت کا ادب اس بات میں مانع نہیں کہ اُن کے بتائے ہوئے معانی اور مفہوم کی ایک بار قرآنِ مجید سے تصدیق خود بھی کر لی جائے۔

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَـكُـمُ ٱلنُّجُومَ

  • ۔اور وہ جناب ہی ہیں جنہوں نے مخصوص/منفرد ستاروں کو تم لوگوں کے لئےمقام کی نشاندہی کرنے والے بنایا ہے۔

لِتَـهْتَدُوا۟ بِـهَا فِـى ظُلُمَٟتِ ٱلْبَـرِّ وَٱلْبَحْرِۗ

  • مقصد یہ تھا کہ تم لوگ از خود ان کے ذریعے منزل کی سمت ہدایت پا سکو اُن حالات میں جب تم لوگ زمین اور سمندر کے اندھیروں /بیابان ۔بے نام و نشان مقامات پرراہ کھو بیٹھتے ہو۔

قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَـٟتِ لِقَوْمٛ يَعْلَمُونَ .6:97٩٧

  • ہم جناب نے آیات کوجدا جدا موضوعات کے فریم میں تالیف کر دیا ہے ان لوگوں کے لئے جنہیں جستجوئے علم ہے۔(الانعام۔97)


وَعَلٟمَٟتٛۚ

  • اور ان جناب نے زمین میں کئی علامات رکھی ہیں۔

وَبِٱلنَّجْمِ هُـمْ يَـهْتَدُونَ .16:16١٦

  • اور وہ لوگ ایک منفرد/مخصوص ستارے (قطبی ستارہ)کے ذریعے ازخود سمت کے تعین کے لئے ہدایت پاتے ہیں۔

ستارے روشن ہوتے ہیں اور انسان کوزمانہ قدیم سے اُن سے سمتوں، راستوں کا تعین کرنے کے متعلق علم ہے۔ راستوں اور سمتوں کا تعین کرنے کیلئے ستاروں کیلئے واحد اور جمع یعنی نجم اور نجوم دونوں صیغے استعمال فرمائے ہیں۔سمت کا تعین ایک ستارے سے ہوتا ہے لیکن اس ستارے کی نشاندہی (pointation)کیلئے ستارے (Pointers)مدد کرتے ہیں۔عام خیال یہ ہے کہ نارتھ سٹار (North Star or Polestar) یعنی قطب ستارا ایک ہے لیکن ایسا ہے نہیں۔آج کل یہ Polarisہے لیکن سن عیسوی 7500میں ایک دوسرا ستارا اُس کی جگہ قطب ہو گا اور سن عیسوی 15000ایک دوسرا ستارا اُس کی جگہ لے گا اور اِس کے 9000 سال بعد آج کا قطب ستارا Polarisپھر قطب ستارا بن جائے گا۔سبحان ا للہ!قرآنِ مجید لازوال تفسیر حقیقت ہے۔

اگر انسان صحرا اور سمندر میں راستہ کھو دیں تو ”ہدایت“،راستے کا فیصلہ قطب ستارا کرتا ہے اور ہدایت یعنی راستہ پانے کی نعمت صرف اسے مل سکتی ہے جو اسے ھادی،رہنما مان لے۔اور جو اسے نہیں مانے گا اور اپنے ہی تخیل کی سمت پر اصرار کرے گا تو صحرا اور سمندر کی وسعتوں میں بھٹکتے رہنے سے کیا کوئی اسے بچا سکتا ہے؟ عجب ہے  یہ بات ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ شاید تخیل  اور پر اسراریت کا نشہ ہماری رگوں میں بہت گہرائی میں اتار دیا گیا ہے جس نے ذہن و قلب پر جمود طاری کر دیا۔

الحمد للہ۔”ہدایت“کے آئمہ لغت کے بتائے ہوئے معنی اور مفہوم کی تصدیق کیلئے قرآنِ مجید سے رہنمائی لینے کی کوشش کی تو ایک نیا نکتہ اور وضاحت مل گئی۔”ہدایت"۔ظُلُمَٟتٚ۔ یعنی اندھیروں سے نکلنے کا نام ہے اور”ہدایت“کیلئے ایک روشن ،   چمکتے ہوئے،ثبات کے حامل واسطے کی ضرورت ہے۔زمان میں ”رہنماستارا“ بدلتا رہا لیکن ”رہنما ستارے“کا مقام نہیں بدلا،وہ ثبات کا حامل ہے۔

لِـكُلِّ أَجَلٛ كِتَابٚ 

  • ایک کتاب کوہر ایک دور میں لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہر ایک رسول کے ساتھ نازل کیا گیا تھا۔(حوالہ الرعد۔۳۰)


يَـمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُۖ

  • اللہ تعالیٰ جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے محو فرما دیتے ہیں؛اورجس(کتاب/متن)کے متعلق چاہتے ہیں اسے دوام دے دیتے ہیں۔

وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْـكِـتَٟبِ .13:39٣٩

  • اور ام الکتاب(تمام تخلیق کے متعلق منبع علم)ان  جناب کے پاس محفوظ اور پوشیدہ حالت میں موجود ہے۔(الرعد۔۳۹)


۔عمل صرف اور صرف زمان کی گزرگاہ میں ہوتا ہے۔اور زمان بنیادی طور پرابتداء اوردوام اور ثبات سے دن اور رات کے اوقات اور بارہ مہینوں پر مشتمل ہے۔اس لئے ھادی،رہنما کی ذمہ داری اور پرکھ یہ ہے کہ انسان کو اُن تمام لمحات میں عمل کے متعلق رہنمائی میسر کرے۔:هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ۔صراط مستقیم پر گام زن لوگوں نے  منزل کی جانب رواں دواں رہنے کے لئےہدایت کی استدعا کی تھی انہیں بتا دیا گیا کہ اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر قسم کی صورتحال اور ماحول میں صراط مستقیم پر استقامت سے رواں دواں رہنے کے لئے اس میں ہدایت موجود  ملے گی اس سے استفادہ کرو۔ یہ قرآنِ مجیدمتقین کی ہر قدم پر رہنمائی کرتا ہے۔یہ ا للہ کی ہدایت ہے۔ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ۔بندگی کا مفہوم اوراس کا اظہار۔أَحْسَنُ عَمَلٙا۔  ہے اور عمل چونکہ حیات اور زمان کی گزرگاہ میں ہوتا ہے اس لئے بندگی کرنا زندگی کے ہر ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ انسان کو ہر لمحہ دیکھنا ہو گا کہ بندگی کر رہا ہے یا اس سے اجتناب برت رہا ہے۔ اس طرح انسان کی زندگی کا جو پلأَحْسَنُ عَمَلٙا میں صرف ہوا وہ اس کے ”بندہ“ہونے کا مظہر ہے اور جو پل.أَحْسَنُ عَمَلٙا کے متضاد کسی عمل میں بیت گیا وہ اس کی تخلیق کے مقصد کی نفی کرنے میں بسر ہو گیا۔”میری ہدایت،کتاب میں بھیجی ہوئی میری آیات“زندگی کے ہر ایک پل کا احاطہ کرتی ہیں مساجد میں رکوع وسجود کے اوقات سے لے کر خواب گاہ کی تنہائی میں اجازت دئیے ہوئے اوقات کے دوران بیویوں کے ساتھ بیتائے جانے والے لطف و سرور کے نازک لمحات تک۔ان تمام لمحات میں جس انسان نے اپنے آپ کو ”ہدایت، کتاب میں بھیجی ہوئی میری آیات“کے تابع رکھا تو اپنے وجود اور شخصیت کے مقصد کو پا گیا۔

اور اس کے بعد متقین کے اوصاف بتانے کے بعد ارشاد فرمایا:

أُو۟لَـٟٓئِكَ عَلَـىٰ هُدٙى مِّن رَّبِّـهِـمْۖ

  • یہ ہیں وہ لوگ جو  محو سفر ہیں اس ہدایت  پر گامزن رہتے ہوئے جسے ان کی رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں پہنچا دیا گیا ہے۔

وَأُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ.2:05٥

  • اور یہی ہیں وہ لوگ جودرحقیقت دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔

۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو صاحب حریت قرار دے کر زمین پر بھیجتے وقت دائمی کامیابی اور سرخرو ہونے کا طے کردہ اصول سادہ ترین الفاظ میں بتاتے ہوئے اُس سے انحراف  کرنے کا انجام بھی لگی لپٹی  رکھے بغیرواضح الفاظ میں بتا دیا تھا:

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْـهَا جَـمِيعٙا

  • ہم جناب نے اُن سے کہا’’تم سب اس میں سے نیچے (زمین پر) اتر جاؤ، اکٹھے۔

فَإِمَّا يَأْتِـيَنَّكُـم مِّنِّى هُدٙى

  • پھر زمین میں آباد ہونے پر میری جانب سے مستقبل میں جب بھی ہدایت تم لوگوں کو پہنچ جائے

فَمَن تَبِــعَ هُدَاىَ

  • تواُس وقت جنہوں نے میری ہدایت/؍کتاب کی آیات کی پیروی کی

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ

  • تو نتیجے میں (یوم قیامت)خوف ایسے لوگوں پر نہیں چھائے گا۔

وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ.2:38٣٨

  • [اور نہ یہ لوگ غم و ملال سے دوچار ہوں گے۔[البقرۃ۔۳۸


۔اور دوسرے مقام پر مخاطب کی ضمیر تثنیہ کے ساتھ اور اتباع کے مختلف نتیجہ کے بیان پر اس موضوع پر یہ بتایا:

قَالَ ٱهْبِطَا مِنْـهَا جَـمِيعَاۢۖ

  • ان جناب نے کہا’’تم  دونوں (خاوند بیوی)اس میں سے نیچے (زمین پر) اتر جاؤ، اکٹھے۔

بَعْضُكُـمْ لِبَعْضٛ عَدُوّٚۖ

  • وہاں پر )تم لوگوں میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔)

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُـم مِّنِّى هُدٙى

  • پھر زمین میں آباد ہونے پر میری جانب سے مستقبل میں جب بھی ہدایت تم لوگوں کو پہنچ جائے

فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَاىَ

  • تواُس وقت جنہوں نے میری ہدایت؍کتاب کی آیات کی  اس انداز میں پیروی کی کہ ان کے مندرجات اور اپنی عقل کے مابین کسی اور بات کو حائل نہیں ہونے دیا۔

فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ .20:123١٢٣

  • اس انداز میں پیروی سے وہ نہ تو ادھراٗدھر بھٹکے گا اور نہ کسی مشقت کا سامنا کرے گا۔(صورۃ طہ۔123)


کسی بھی زبان کی تحریر میں مضمر مواد  کا مصنف کے نکتہ نظر کے قریب قریب ادراک تبھی ممکن ہے  اگر ہم ان کے   الفاظ کے  چناؤ کی توجیح اور ان میں موجود لازمی عناصر کی تحلیل کے ساتھ ان کی نحوی ترتیب کا تجزیہ کریں۔اور اہم بات یہ ہے کہ ہم تحریر میں بلاغت کے انداز اور طرز کا تعین بھی کریں کیونکہ ان کے ذریعے مصنف    منفرد الفاظ اور نحوی ترتیب کے معنی و مفہوم سے کہیں زیادہ اسے ابلاغ کا حامل بناتے ہیں۔خطیبانہ انداز میں ایک قسم  ایک بات کےدو متضاد پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان (Juxtaposition)کرکے قدر مشترک کے باوجود اثرات اور نتیجے کے فرق کو عیاں کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے"میری ہدایت"کی اتباع کرنے والوں کاخوشگوار انجام بتانے کے بعدمتضاد طرز عمل اختیار کرنے والوں کااندوہناک انجام بتاتے ہوئے "میری ہدایت"کے معنی و مفہوم کو نہ صرف واضح  کر دیا بلکہ لفظ "ہدایت" کے مفاہیم کومحدود کر دیا:

وَٱلَّذِينَ كَفَـروا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـٔ​َايَٟتِنَآ

  • ذہن نشین کر لو کہ وہ لوگ جنہوں نے انکارکر دیا اور ہماری پہنچائی گئی آیتوں کو لوگوں کے سامنے برملا جھٹلادیا

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِۖ

  • تو یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ.2:39٣٩

  • [یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے۔[البقرۃ۔۳۹


وَمَنْ أَعْـرَضَ عَن ذِكْرِى

  • اور جس کسی نے میری  جانب سے بھیجے گئے "ذکر"/نصیحت /دستور عمل سے دانستہ اِعراض برتا:

فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٙ ضَنكٙا

  • تو اس کی پاداش میں ناگفتہ بہ معاشیات اس کے لئے جہنم میں میسر ہو گی۔

وَنَحْشُـرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيٟمَةِ أَعْمَىٰ .20:124١٢٤

  • اور ہم جناب اسے یوم قیامت میں اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ وہ اپنے آپ کو اندھا محسوس کر رہا ہو گا۔(سورۃ طہ۔124)


 اس طرح اللہ تعالیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں  انسان کو زمین پر بھجتے وقت واضح کر دیا تھا کہ انجام کے نکتہ نظر سےہدایت  صرف اور صرف اس کو سمجھا اور مانا جائے گا جو زمان و مکان میں وقتاً فوقتاً ان کوآیات میں بیان کردہ الفاظ کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔ان کا اطلاق معشر الجن و الانس پر یکساں ہے۔روز قیامت  ان میں سے جہنم میں داخل کئے جانے والے مجرمین سے سوال  بھی اللہ تعالیٰ کی رسولوں علیہم السلام کی   وساطت سے بھیجی جانے والی آیات کے متعلق ہو گا:

يَٟمَعْشَـرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنْسِ

  • (اس دن ان سے پوچھا جائے گا)اے جن و انس کے سماجی گروہ!۔

أَ لَمْ يَأْتِكُـمْ رُسُلٚ مِّنكُـمْ

  • ۔کیا تم لوگوں کے پاس  رسول نہیں آتے رہے تھے،وہ جو تم میں نبوت سے سرفراز صاحبان توحید انسان تھے۔

يَقُصُّونَ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتِى

  • وہ تم لوگوں کو لفظ بہ لفظ میری آیات بیان کرتے رہے۔

وَيُنذِرُونَكُـمْ لِقَآءَ يَوْمِكُـمْ هَـٟذَاۚ

  • اور تم لوگوں کو اپنے دن کا سامنا کرنے کے متعلق پیشگی خبردار کرتے  رہے،یہ آج کا دن"۔

قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَـىٰٓ أَنفُسِنَاۖ

  • انہوں نے جواب دیا"ہم اپنے آپ پر گواہ بن چکے کہ ایسا ہی ہوا تھا"۔

وَغَـرَّتْـهُـمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا

  • مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی زندگی نے انہیں دھوکے میں مبتلا رکھا،

وَشَهِدُوا۟ عَلَـىٰٓ أَنفُسِهِـمْ أَنَّـهُـمْ كَانُوا۟۟ كَٟفِرِينَ .١٣٠

  • اور انہوں نے اپنے متعلق شہادت دی کہ وہ دنیاوی زندگی میں کافر / حقیقت کے انکاری  رہےتھے۔(الانعام۔130)


يَٟبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِىَنَّكُـمْ رُسُلٚ مِّنكُـمْ

  • اس دن ان سے کہا جائے گا کہ کیا یہ بتایا نہیں گیا تھا"اے بنی  ءادم!تم لوگوں کے پاس رسول آتے رہیں گے،جو تم لوگوں میں سے مومن،توحید پر قائم شخص کی شہرت رکھتے ہوں گے۔

يَقُصُّونَ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتِىۙ

  • وہ تم لوگوں کو لفظ بہ لفظ میری آیات بیان کرتے رہیں گے۔

فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ

  • انہیں مان کر جس کسی نے اپنے آپ کو بیان کردہ حدود و قیود کا پابند کر کے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور اصلاح کا طرز عمل اختیار کر لیا

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ

  • تو نتیجے میں (یوم قیامت)خوف ایسے لوگوں پر نہیں چھائے گا۔

وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ .7:35٣٥

  • اور نہ یہ لوگ غم و ملال سے دوچار ہوں گے۔

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـٔ​َايَـٟتِنَا وَٱسْتَكْـبَـرُوا۟ عَنْـهَآ

  • اور وہ لوگ جنہوں نے  ہماری پہنچائی گئی آیتوں کو لوگوں کے سامنے برملا جھٹلادیا  اور انہوں نے ان سے اپنی بڑائی کے زعم اور خواہش میں اجتناب کیا:

أُو۟لَـٟٓئِكَ أَصْحَـٟـبُ ٱلنَّارِۖ

  • تو یہی ہیں وہ لوگ جو زندان جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔

هُـمْ فِيـهَا خَٟلِدُونَ .7:36٣٦

  • یہ لوگ ہمیشہ اس (تپتی جہنم) کے اندر رہیں گے"۔(الاعراف۔36)


وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَـفَرُوٓا۟ إِلَـىٰ جَهَنَّـمَ زُمَرٙاۖ

  • ۔اور ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا تھا اور کفر کی حالت میں مر گئے تھے جہنم کی جانب ٹولیوں کی صورت دھکیلتے ہوئے لے جایا گیا۔

 

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَٟبُـهَا

  • یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ گئے تو اس کے دروازوں کو کھول دیا گیا۔

وَقَالَ لَـهُـمْ خَزَنَتُـهَآ

  • اور اس(جہنم)پر تعینات دروغوں نے ان سے کہا:

أَ لَمْ يَأْتِكُـمْ رُسُلٚ مِّنكُـمْ

  • ۔"کیا تم لوگوں کے پاس  رسول نہیں آتے رہے تھے،وہ جو تم میں نبوت سے سرفراز صاحبان توحید انسان تھے۔

يَتْلُونَ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتِ رَبِّكُـمْ

  • ۔وہ تم لوگوں کو تمہارے رب کی آیات لفظ بہ لفظ سناتے تھے

وَيُنذِرُونَكُـمْ لِقَـآءَ يَوْمِكُـمْ هَـٰذَاۚ

  • اور تم لوگوں کو اپنے دن کا سامنا کرنے کے متعلق پیشگی خبردار کرتے  رہے،یہ آج کا دن"۔

قَالُوا۟ بَلَـىٰ

  • انہوں نے جواب دیا"نہیں؛ وہ آئے تھے اور دونوں  باتیں حقیقت ہے"۔

وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ .39:71٧١

  • ۔مگراب تسلیم کرنے کا فائدہ نہیں کیونکہ اس دن کا فرمان ِعذاب حقیقت بن کر کافروں کےسامنے آ چکا ہو گا۔(الزمر۔71)


جہنم میں جانے والوں نے خود اپنی زبان سے اقرار کرتے ہوئے شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پہنچائی تھی۔دل کے اندھوں کے علاوہ ہر کسی کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ  آیات کا سنائے جانے کا یہ مفہوم نہیں کہ زمان اور مکان میں ان کے دور میں موجود اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت رسول علیہ السلام نے بنفس نفیس ان میں       سے ہر ایک ایک کو آیات سنائی تھی۔آیات کا اندراج کتاب میں تھا:

لِـكُلِّ أَجَلٛ كِتَابٚ 

  • ایک کتاب کوہر ایک دور میں لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہر ایک رسول کے ساتھ نازل کیا گیا تھا۔(حوالہ الرعد۔۳۰)


وَمَآ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٛ إِلَّا وَلَـهَا كِتَٟبٚ مَّعْلُومٚ .15:04٤

  •   مطلع رہو؛ہم جناب نے بستیوں میں کسی ایک بستی کے لوگوں کو  بھی صفحہ ہستی سے نہیں مٹایاماسوائے ان حالات میں کہ ایک  معلوم کتاب  کوان کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہوا تھا۔(الحجر۔۴)

دنیا میں نہ جانے کس کس کی باتیں ہم سنتے ہیں جس کیلئے مجالس اور اجتماعوں میں بھی جاتے ہیں اور نہ جانے کتنوں کی بات کو معتبر مانتے ہیں لیکن ہم نے روز قیامت کا منظر دیکھ لیا کہ سوال صرف اور صرف۔ءَايَٟتِى۔  یعنی”میری آیتیں“ اور ۔ءَايَٟتِ رَبِّكُـمْ۔”تمہارے رب کی آیتیں“ سننے کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ”میری ہدایت“سے باہر کوئی بھی بات،کسی کی بھی پیروی اور نقل،اورکوئی بھی عمل چاہے کسی کی نگاہوں میں کتنا ہی ’اعلیٰ‘، ’پوتر‘، ’نیک‘ہو وہ محض اس کا گمان اور ظن ہے جس کی حقیقت اور وقعت کچھ بھی نہیں کیونکہ نتیجے،فیصلے والے دن ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھیجتے وقت اپنی ہدایت بھیجنے کے وعدے کو یوں پورا فرمایا:

كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٙ وَٟحِدَةٙ

  • زمان میں ایک وقت ایسا بھی رہا ہے جب انسان ایک ہم خیال وحدت تھے۔

فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّــۧنَ مُبَشِّـرِينَ وَمُنذِرِينَ

  • بسبب انسانوں کے مابین نظریاتی اختلاف پیدا ہو جانے پر اللہ تعالیٰ نے  ازخود سے چنے اوربرگزیدہ قرار دئیے مخلص بندوں(نبیوں)کو حریت پرلگائی گئی قیود سے آزاد کرنے کے لئے مقرر فرمایا۔ان کے ذمہ مبنی بر حقیقت طرز عمل اپنانے والوں  کو خوش کن نتائج کی بشارت/ضمانت  دینا اور باطل طرز عمل پر گامزن لوگوں کو لازمی تکلیف دہ عواقب سے متنبہ  کرنا تھا۔

وَأَنزَلَ مَعَهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ

  • اور ان جناب نے ان تمام(نبیوں)کے ہمراہ ان کے کلام پر مشتمل مخصوص کتاب کو موقع محل کی مناسبت سے مجتمع انداز میں نازل فرمایا تھا۔(حوالہ البقرۃ۔۲۱۳)  

۔مَعَهُـمُ۔(ان تمام کے ساتھ)سے واضح ہے کہ کوئی ایک نبی بھی ایسے نہیں جن کے ساتھ  ان کے لئے متعین کردہ منفرد کتاب کو نازل نہ کیا گیا ہو۔تمام کے تمام نبیوں کے ساتھ کتاب کو نازل  کیا گیا۔نبی اور رسول میں شخصیت کا فرق نہیں ہوتا، نبی ہونا شخصیت  کا تمام مخلوقات پر امتیاز اور ممتاز  ہونے کا درجہ دینا ،اللہ تعالیٰ کا ذاتی طور پر انہیں اشرف المخلوقات  کی حیثیت میں پسند اور سیلیکٹ کرنا ہےاور پھربھرپور جوان ہونے پران کو رسول مقرر کرنا ایک ہی شخصیت کے دو حوالے ہیں۔ ا للہ تعالیٰ نے بتایا:

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِٱلْبَيِّنَـٟتِ

  • ماضی کی یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اپنے رسولوں کوحقیقت کی جانب رہنمائی کرنے  والی بے مثال مظاہر کی صورت نشانیوں کے ساتھ اقوام کی جانب بھیجا تھا۔

وَأَنزَلْنَا مَعَهُـمُ ٱلْـكِـتَٟبَ

  • اور ہم جناب نے ان تمام کے ہمراہ مجتمع انداز میں ان کے لئے مخصوص کتاب کو نازل فرمایا تھا۔(حوالہ سورۃ الحدید۔25)

اگر ہم اس انداز میں کتاب کو پڑھنے کے عادی نہیں ہیں جیسے کوئی شخص پانی کی سطح پر بہے جا رہا ہو تومنفرد کتاب نازل کرنے  کے متعلق بتانے کے ساتھ رسولوں  کو بے مثال مادی مظاہر(جنہیں معجزات کہا جاتا ہے) کے ساتھ بھیجنے کا  پڑھ کر احساس ہو جائے گا کہ نبی اور رسول ایک ہی شخصیت ہیں۔رسالت کے فرائض سونپے جانے پر"معجزات" دکھائے گئے تھے۔یہ نکتہ ذہن نشین کر لیں،موضوع سے ہی متعلق ہے،رسول کریم محمّد ﷺ اور قرءان مجید سے قبل تمام رسولوں کو منفرد کتاب کے ساتھ ساتھ  کوئی نہ کوئی ایسا مادی مظاہرہ(عربی میں آیت،اردو میں معجزہ) بھی لوگوں کو دکھانے کے لئے دیا گیا تھا جو اُن کے ادراک کے لئے اُس وقت مافوق الفطرت تھا۔

۔اس غیر مبہم اور سادہ الفاظ میں تمام کے تمام نبیوں اور رسولوں  کے ساتھ ایک منفرد کتاب کے بھیجے جانے کی خبر سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر کوئی بھی قرءان مجید کو ماننے کا دعویٰ کرنے والا شخص  بغیر ایک منفرد کتاب کے نبی یا رسول ہونے کا اعلان کرے تو اس کے بارے تو  سمجھ آتی ہے کہ  وہ شیطانی فریب(delusion)۔اور ہذیان، واہمہ(hallucination)میں ایسا مبتلا ہوا کہ شیطان بھی اس کی اتباع میں ہو گیا مگر ان کے عقل و فہم پر صد افسوس  ہے جو ایسے لوگوں کو نبی اور رسول  مان لیتے ہیں بغیر پوچھے کہ اگر نبی ہو تو اپنے ساتھ نازل کردہ منفرد کتاب کو تو منظر عام پر لاؤ۔کاش کہ مرزا غلام احمد اور راشد خلیفہ کے ہم عصروں میں  قرءان مجید کو سمجھنے والوں میں کوئی ماہر نفسیات ایسا ہوتا جو دونوں کو بیان کردہ حقائق کا سامنا کراتا ،جو ان  جیسے   شخصیت میں بگاڑ(personality disorder)کے نفسیاتی مریضوں کے علاج اور تھراپی کا طریقہ ہے۔(مگر لگتا ہے وہ بھی خودستائی کے چکر میں  بعض کہتے تھے "ہمیں بھی وہیں سے ملتا ہے جہاں سے نبیوں کو ملتا تھا")

(delusion-an idiosyncratic belief or impression maintained despite being contradicted by reality or rational argument, typically as a symptom of mental disorder.)

عربی زبان میں جب لفظ ’’کتاب‘‘ کے شروع میں لام معرفہ ’’ٱلْـ‘‘لگاتے ہیں تو وہ ایک مخصوص کتاب کا حوالہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نبیوں ، جنہیں  بھر پور جوان ہو جانے پررسالت کے فرائض سونپے گئے  ان میں سے ہر ایک کے لئے مخصوص کردہ کتاب  کو بھی نازل فرمایا۔ہر ایک نازل کردہ کتاب  ایک جامع ترین  کتاب(ام الکتاب) کا جزو  تھا:

أَ لَمْ تَرَ إِلَـى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبٙا مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • کیا آپ نے ان لوگوں کے رویئے پر غور کیا ہے جنہیں ام الکتاب میں سے ان کے لئے مخصوص اور متعین کردہ جزو پہنچا دیا گیا تھا۔(یہ جملہ دو اور مقام پر بھی ہے النساء۔۴۴ اور ۵۱)

يُدْعَوْنَ إِلَـىٰ كِتَٟبِ ٱللَّهِ لِيَحْكُـمَ بَيْنَـهُـمْ

  • انہیں ان کے مابین   اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے کتاب اللہ (قرءان مجید)کی جانب آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔

ثُـمَّ يَتَوَلَّـىٰ فَرِيقٚ مِّنْـهُـمْ وَهُـم مُّعْـرِضُونَ .3:23٢٣

  • بعد ازاں کتاب اللہ کے مندرجات کو سمجھ لینے پر ان میں سے  صاحبان علم کی شناخت رکھنے والا طبقہ بے پرواہی سے پلٹ جاتا ہے،اس  ذہنی کیفیت میں کہ وہ دانستہ اعراض برتنے والے ہیں۔(ءال عمران۔۲۳)

دلچسپ اعداد و شمار ہیں،قرءان مجید سے قبل  تین نازل کردہ کتابوں کے نام اس میں درج ہیں اور تین ہی مرتبہ’’نَصِيبٙا مِّنَ ٱلْـكِـتَٟبِ‘‘ہے۔میثاق النبیین کی بنیادی شق بھی  یہی تھی:

وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٟـقَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ

  • (اور جب ا للہ تعالیٰ نے نبیوں سے میثاق لیا(جس کے نکات یہ ہیں

لَمَآ ءَاتَيْتُكُـم مِّن كِتَٟبٛ وَحِكْمَةٛ

  •  میں جب تم لوگوں کو کتاب (ام الکتاب)میں سے کچھ حصہ انفرادی طور پر ہر ایک کو عنایت فرما چکا ہوں گا لوگوں کو پہنچانے کے لئے اور حکمت کے بعض نکات عنایت فرما دوں گا۔"

ثُـمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٚ مُّصَدِّقٚ لِّمَا مَعَكُـمْ

  •  بعد ازاں جب تمہارے پاس رسول آجائے گا جس کی خصوصیت اور پہچان یہ ہوگی کہ وہ اس کی جو تمہیں کتاب و حکمت میں سے عنایت کیا گیا ہو گا تصدیق کرنے والا ہو گا۔

لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ

  • تو تم اس(رسول) پر ضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے‘‘۔

قَالَ ءَأَقْرَرْتُـمْ وَأَخَذْتُـمْ عَلَـىٰ ذَٟلـِكُـمْ إِصْرِىۖ

  • “کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا دیا ہوا ذمہ،بوجھ اٹھاتے ہو؟

قَالُوٓا۟ أَقْرَرْنَاۚ

  • “انہوں ( نبیوں) نے کہا ”ہم بخوشی اس کا اقرار کرتے ہیں۔

قَالَ فَٱشْهَدُوا۟ وَأَنَا۟ مَعَكُـم مِّنَ ٱلشَّٟهِدِينَ .3:81٨١

  • (انہوں (ا للہ تعالیٰ)نے کہا’تم لوگ گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ایک ہوں۔“(آلِ عمران۔ ۸۱

۔میثاق نبین کو غور سے پڑھیں تو دکھائی دے جاتا ہے کہ ایک ایسے نظام کو وجود دیا جانے لگا تھا جو زمان و مکان پر مشتمل ہو گا۔زمان کا دورانیہ ہوتا ہے چاہے وہ اربوں سالوں پر محیط ہو یا پلک جھپکنے کا دورانیہ۔اور زمان میں اول بیتے ہوئے دورانیے کو قانونی اور اخلاقی حیثیت صرف اُس وقت حاصل ہوتی ہے اگر اُس کی تصدیق کی جائے۔کتاب و حکمت کی بات صرف اُسے تسلیم کیا جا سکتا ہے جس کی زمان کے کسی بھی ”حال،present“میں تصدیق کی گئی ہو اور تصدیق کی جا سکے۔جس کسی بات کی تصدیق نہیں اُسے حقیقت تسلیم نہیں کیا سکتا  اور اُس کی وقعت محض مفروضے، گمان و ظن سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہے ہم اسے”سچ“ کہنے کی بجائے ”صحیح“(بمعنی صحت مند،عیب سے پاک، قابل بھروسہ)کہہ دیں۔جب ہم کسی بھی شئے اور بات  کے متعلق وقت کے کسی ایک مقام پر اُسے ”صحیح“کہتے اور قرار دیتے ہیں تو ہماری بات وقت کے اُسی مقام تک ”صحیح“ کے طور پر محدود ہوتی ہے کیونکہ یہ مستقبل کے تمام زمان کو احاطے میں نہیں لے سکتی۔ ”صحیح“اور ”سچ، صدق“ایک دوسرے سے منفرد ہیں اور ”سچ“ اور ”حقیقت“بھی ایک دوسرے سے منفرد معنی اور مفہوم کے حامل ہیں۔حقیقت وہ ہے جو زمان و مکان میں مقید نہیں۔

عربی زبان سے شناسا آپ سب کو معلوم ہے کہ ضمیر جمع مذکر مخاطب  ’مَعَكُـمْ‘‘اجتماعی اورانفرادی طور پرہر ایک مخاطب کے لئے ہوتی ہے۔یہ بات پیش نظر نہیں رکھیں گے تو مفہوم اور مدعا کو سمجھنے میں غلطی  کا امکان  رہے گا۔تمام کے تمام انبیاء  علیہم السلام کو انفرادی  طور ایک کتاب (جسے دوسرے مقام پر ام الکتاب کہا گیا ہے)میں  سےکچھ حصہ نکال ایک منفرد کتاب (ظاہر ہے کہ اس کا ٹائٹل/نام بھی منفرد ہونا تھا)بنا کر دینا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا، میثاق کے ایک فریق کی حیثیت سے۔ایسا ہو جانے پر ہر ایک ایک نبی علیہ السلام نےایک خاص وقت اور وقوعے کے موقع پرسونپی گئی ذمہ داری کو نبھانا تھا۔

 انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ میثاق/حلف ان کی ذمہ داری تھی،ان کا ایک بوجھ تھا جس کو انہوں نے بارضا و رغبت قبول کیا تھا، اٹھانے پر رضامند ہوئے تھے(عہد ہمیشہ رضامندی سے ہوتا ہے اور بوجھ،ذمہ داری کا پہلو لئے ہوتا ہے)۔نبیوں کو زمان و مکان میں کتاب و حکمت میں سے دیا جانا تھا۔زمان  میں پیچھے چلتے ہیں۔انسان ہم خیال وحدت کی بجائے اختلافات کا  شکار ہو گئے۔اللہ  تعالیٰ نے اولین نبی علیہ السلام کو مبعوث فرما دیا اور بھرپور جوان ہونے پر انہیں رسالت کے فرائض تفویض فرمائے  اور ام الکتاب اور حکمت  میں سے انہیں عنایت فرما کرلوگوں کے لئے بشیر اور نذیرمقرر فرما دیا۔اس کے علاوہ ان پر میثاق کی ذمہ داری یہ تھی:

ثُـمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٚ مُّصَدِّقٚ لِّمَا مَعَكُـمْ

  •  بعد ازاں جب تمہارے پاس رسول آجائے گا جس کی خصوصیت اور پہچان یہ ہوگی کہ وہ اس کی جو تمہیں کتاب و حکمت میں سے عنایت کیا گیا ہو گا تصدیق کرنے والا ہو گا۔

اگر ہماری عادت تدبر سے(یعنی قبل ازیں بیان کردہ متن ذہن میں رکھ کر)مطالعہ کرنے کی ہے تواس ذیلی جملے میں بلاغت کے حوالے سے جو ان کہی بات موجود ہے وہ ادراک میں آجائے گی۔اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام نے اپنے میثاق کا اپنے پر ایمان لانے والوں  سے   میثاق لے کر پابند کرنا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کا رسول آئے جو مصدق ہو یعنی اس کی تصدیق کرے جو نازل کردہ تمہارے پاس ہے تو:

لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ

  • تو تم اس(رسول) پر ضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے‘‘۔

۔اللہ تعالیٰ کے ہر نبی نے بحثیت رسول اپنے پر ایمان لانے والوں کو اس میثاق کا پابند کیا تھا:

وَلَمَّا جَآءَهُـمْ رَسُولٚ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ

  •  اور جوں ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے ر سول ان کے پاس پہنچ گئے جن کے متعلق انہیں تحریری طور پر پہلے سے مطلع اور ایمان لانے کا پابند کیا ہوا تھا،۔

مُصَدِّقٚ لِّمَا مَعَهُـمْ

  • اور جن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تصدیق و توثیق فرمانے والے ہیں جو ان کے پاس نازل کردہ کلام اللہ ہے۔(حوالہ البقرۃ۔۱۰۱)

اور اس سے قبل  اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام نے رسالت کے فرائض تفویض کئے جانے پر کہا تھا:

وَمُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ

  • اور میں اس کی تصدیق کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں  جوتورات  میں درج کردہ میں سے میرے سامنے موجود ہے۔(حوالہ سورۃ البقرۃ۔۱۰۱)

۔ابتدا سے زمانے میں ہر نئے مبعوث فرمائے گئے اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر نازل کردہ کتاب نے اپنے سے قبل کے رسول اور نازل کردہ کتاب کے لئے مصدق/تصدیق و توثیق کا کردار ادا کیا:

وَقَفَّيْنَا عَلَـىٰ ءَاثَـٟرِهِـم بِعَيسَى ٱبْنِ مَـرْيَـمَ

  • اور ہم جناب نے ان(نبیوں)کے چھوڑے نقوش و اثرات پرمشن کے تسلسل کو بذریعہ عیسیٰ(علیہ السلام)،ابن مریم(صدیقہ)،جاری رکھا۔

 

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَوْرَىٰةِۖ

  • وہ (عیسیٰ علیہ السلام)اس کی تصدیق و توثیق کرنے والے تھے جو ان سے قبل نازل کردہ تھا،تورات کے مندرجات میں سے۔

وَءَاتَيْنَـٟهُ ٱلْإِنجِيلَ

  • اور ہم جناب نے انہیں اپنے کلام پر مشتمل کتاب بعنوان انجیل کو عنایت کیا تھا۔

فِيهِ هُدٙى وَنُورٚ

  • زندگی کو راست روی سے بسر کرنے کا ہدایت نامہ اورقلوب کو بینائی/حیات کو تسلسل دینے والا نور/سفید روشنی اس کے مندرجات میں موجود تھا۔

وَمُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ

  • اور وہ(انجیل)اس کی تصدیق و توثیق کرنے والا تھا جو اس سے قبل نازل کردہ تھا،تورات کے مندرجات میں سے۔

وَهُدٙى وَمَوْعِظَةٙ لِّلْمُتَّقِيـنَ .5:46٤٦

  • اوریہ منزل کی جناب ہادی/رہنما اور ایک سبق آموز نصیحت کا کردار ادا کرتا تھا ان لوگوں کے لئے  جو تندہی سے محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوط رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہے۔


ثُـمَّ قَفَّيْنَا عَلَـىٰٓ ءَاثَـٟرِهِـم بِرُسُلِنَا

  • اوربعد ازاں زمان میں ہم جناب نے ان(قبل ازیں بھیجے گئے رسولوں)کے چھوڑے نقوش و اثرات پرمشن کے تسلسل کو بذریعہ  اپنے رسولوں  کےجاری رکھا۔

وَقَفَّيْنَابِعِيسَى ٱبْنِ مَـرْيَـمَ

  • اور ہم جناب نے ان(رسولوں)کے چھوڑے نقوش و اثرات پرمشن کے تسلسل کو بذریعہ عیسیٰ(علیہ السلام)،ابن مریم(صدیقہ)،جاری رکھا۔

وَءَاتَيْـنَـٟهُ ٱلْإِنجِيلَ

  • اور ہم جناب نے انہیں اپنے کلام پر مشتمل کتاب بعنوان انجیل کو عنایت کیا تھا۔(حوالہ الحدید۔۲۷)


 اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھیجتے وقت آدم علیہ السلام سے  وقتاً فوقتاًہدایت  بھیجنے کے وعدے کونبیوں کے ذریعے نبھایا۔اورہر نبی علیہ السلام نے اپنے پر ایمان لانے والوں کو اپنے میثاق کا پابند کیا کہ وہ زمان میں آئندہ مبعوث فرمائے جانے والے رسولوں پر ایمان لائیں گے  جن کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ اس نازل کردہ کی تصدیق کریں گے جو ان کے پاس پہلے نازل کردہ میں سے موجود ہے۔اور جیسا ہم نے اوپر درج آیت مبارکہ میں دیکھا  نئے آنے والےرسول پر نازل کردہ کتاب نے بھی اپنے سے پہلے نازل کردہ  کتاب کے مندرجات کی تصدیق کی ۔ اس طرح واضح ہے کہ انسان زمان میں اس میثاق کا پابند رہا ہے کہ وہ اپنے مستقبل میں مبعوث ہونے والے رسول پرایمان لائیں گے اور اُن کی ان کے مشن کی تکمیل میں مدد کریں گے۔

ثُـمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٚ مُّصَدِّقٚ لِّمَا مَعَكُـمْ

  •  بعد ازاں جب تمہارے پاس رسول آجائے گا جس کی خصوصیت اور پہچان یہ ہوگی کہ وہ اس کی جو تمہیں کتاب و حکمت میں سے عنایت کیا گیا ہو گا تصدیق کرنے والا ہو گا۔

لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ

  • تو تم اس(رسول) پر ضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے‘‘۔

میثاق کے معنی یہ ہیں کہ اگر اس کے پابند لوگوں میں سے بعض یا اکثریت منحرف  ہو جائے تو بھی یہ سب کے لئے نافذ العمل رہے گا ہر ایک ایک فرد پر۔یہ نبیوں سے لئے گئے حلف کے نکات ہیں۔حلف اٹھانے والا اور اس سے حلف لینے والا ہمیشہ اس حلف نامے پر گواہ ہوتے ہیں۔ انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ میثاق/حلف ان کی ذمہ داری تھی،ان کا ایک بوجھ تھا جس کو انہوں نے بارضا و رغبت قبول کیا تھا،اٹھانے پر رضامند ہوئے تھے۔ میثاق نبھانے اور ذمہ داری کے بوجھ سے سبکدوش ہونے کیلئے   اپنے اپنے زمان اور مکان میں اپنے ماننے والوں کو منتقل کرنا تھا۔انہوں نے اپنے ماننے والوں سے ا للہ کا میثاق لینا تھا کہ آنے والے اُس رسول پر ایمان لائیں گے جو اُس کی تصدیق کرے جو کتاب میں سے انہیں دیا گیا تھا۔

وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٟـقَ بَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ

  •  مبنی بر حقیقت ماضی کی خبر سے مطلع ہو جاؤ؛اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا تھا۔

وَبَعَثْنَا مِنـهُـمُ ٱثْنَىْ عَشَـرَ نَقِيبٙاۖ

  •  اور ہم جناب نے ان میں سے بارہ سرکردہ/سربراھان قبیلہ کوبطورذمہ داران تعمیل قرار دیا۔

وَقَالَ ٱللَّهُ إِ نِّـى مَعَكُـمْۖ  لَئِنْ أَ قَمْتُـمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُـمُ ٱلزَّكَوٰةَ

  •  اور اللہ تعالیٰ نے میثاق کے نکات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا’’یقیناً میں تمام تر مہربانیوں کے لئے تمہارے ساتھ ہوں اگر تم لوگ استقلال واستقامت،منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو گے اورمعاشرے کے نظم و نسق اور معاشی اٹھان کے لئے مالیات دیتے رہو گے۔

وَءَامَنتُـم بِرُسُلِـى وَعَزَّرْتُـمُوهُـمْ

  •  اور تم لوگ میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہو گے اوران کا ادب و احترام کرتے ہوئے ساتھ دو گے۔(حوالہ المائدہ۔۱۲)

عیسیٰ علیہ السلام نے رسالت کے فرائض تفویض کئے جانے پر کہا تھا:

وَمُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ

  • اور میں اس کی تصدیق کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں  جوتورات  میں درج کردہ میں سے میرے سامنے موجود ہے۔(حوالہ سورۃ البقرۃ۔۱۰۱)

تصدیق زمانے میں قبل ازیں ہو چکے کی کرتے ہیں۔تصدیق بیتے زمانے کی باتوں کی ہوتی ہے۔ مستقبل کی تصدیق نہیں کی جاتی بلکہ اس میں پنہاں کی خبر دی جاتی ہے۔عام فہم بات ہے کہ زمانے میں پہلے تشریف لانے والے رسول اورانہیں دی گئی کتاب و حکمت اپنے بعد آنے والے رسول اور ان کی کتاب کی تصدیق نہیں کر سکتی۔ عیسیٰ علیہ السلام نے   تصدیق کرتے ہوئے فرمایا تھا:

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَ

  • مبنی بر حقیقت ماضی کی خبر سے مطلع ہو جاؤ؛جب عیسیٰ(علیہ السلام)،ابن مریم،نے کہا۔

يٰبَنِىٓ إِسْرَٟٓءِيلَ إِ نِّـى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُـم

  • اے بنی اسرائیل! میں تم لوگوں کی جانب اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔

مُّصَدِّقَٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ

  • اور میں اس کی تصدیق کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں جوتورات  میں درج کردہ میں سے میرے سامنے موجود ہے۔

وَمُبَشِّرَۢا  بِرَسُولٛ يَأْتِـى مِنۢ بَعْدِى ٱسْـمُهُۥٓ أَحْـمَدُۖ

  • اورمیں دنیا کویہ خوشخبری دینے والا ہوں،میری طبعی موت کے بعد فقط ایک رسول تشریف لائیں گے۔ان کا نام احمد(ﷺ)ہے‘‘

۔عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے قبل بنی اسرائیل کے میثاق کی اہم شق آنے والے رسولوں پر ایمان لانا اور عزت و توقیر کے ساتھ مددوحمایت کرنا تھی۔عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو واضح کر دیا کہ اُن کے بعد اب زمان و مکان میں فقط ایک رسول نے آنا ہے اور یوں ان کے رسولوں پر ایمان لانے کے میثاق کو اپنے بعد فقط ایک رسول پر ایمان لانے تک محدود(modify, amend) کر دیا۔یہ در حقیقت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے آقائے نامدار ﷺ پر ختم نبوت اور ختم رسالت کا اعلان تھا۔عیسیٰ علیہ السلام مبشر اور مؤذن    خَاتَـمَ ٱلنَّبِيِّــۧنَ ہیں ۔

عربی زبان کا مرکب اضافی۔مِيثَـٟـقَ ٱلنَّبِىِّــۦنَ۔اپنے آپ میں  اس بات کا مظہر ہے کہ یہ ایسے عظمت و رفعت، تخلیقات میں معتبر ترین قرارپائے  جنس انسان میں مردوں کا جھرمٹ ہیں جن کی ایک مخصوص تعداد ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد اور سب کے نام ظاہر کرنے کوسامعین اور قارئین کے لئے ضروری نہیں سمجھا۔ہمیں بھی ہوا میں تیر چلا کر تخیل سے اندازے نہیں لگانے چاہئے کیونکہ سوائے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ کسی سے شیئر کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمان میں نبیوں کی دنیا میں آمد کے سلسلہ کی ابتدا اور منتہا کو۔مِيثَـٟـقَ ٱلنَّبِىِّــۦنَ۔میں آسان اور واضح ترین الفاظ میں بتا دیا ہے۔تمام کے تمام نبیوں میں سے ایک نبی نے ان تمام کا ’’خَاتَـمَ ‘‘ہونا تھا اور رسالت کے فرائض تفویض ہونے پر انہوں نے اپنے  سے قبل کے تمام رسولوں اور ان پر ام الکتاب میں سے نازل کردہ کی تصدیق  و توثیق کے لئے مصدق بننا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ مِيثَـٟـقَهُـمْ وَمِنكَ

  • میثاق کے متعلق لوگ حقیقت جان لیں؛جب ہم جناب نے نبیوں سے ان کا میثاق لیا تھا،اور آپ(ﷺ)سے میثاق لیا تھا۔

وَمِن نُّوحٛ وَإِبْرَٟهِيـمَ وَمُوسَـىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَـرْيَـمَۖ

  • اور نوح اور ابرہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام)سے میثاق لیا تھا۔(حوالہ سورۃ الاحزاب۔۷)

اس آیت مبارکہ میں سورۃ ءال عمران کی آیت۔۸۱ میں بیان کردہ۔مِيثَـٟـقَ ٱلنَّبِىِّــۦنَ۔کا دوبارہ تذکرہ فرما کر اول نبی سے آخری نبی مبعوث کر دئیے جانے کے متعلق بتا کرنبیوں کی آمد کے سلسلے کے اختتام پذیر ہونے کو واضح فرما دیا۔انبیاء علیہم السلام میں سے چار کے نام لے کر اور دوسرے تمام کے لئے ’’مِنَ ٱلنَّبِيِّــۦنَ ‘‘سے میثاق لینے کا بتایا۔اور آقائے نامدار، رسول کریم محمد ﷺ سے  میثاق لینے کو الگ سے جار ومجرور/Prepositional Phrase’’مِنكَ‘‘سے بیان فرمایا جس میں متصل ضمیر واحد مذکر حاضر/موجود کے لئے ہے۔

اس کے بعد نوح علیہ السلام سے لئے گئے میثاق کا ذکر فرمایا۔جن انبیاء علیہم السلام کے اسمائے مبارک قرءان مجید میں بتائے گئے ہیں ان میں زمان میں اول ترین نوح علیہ السلام ہیں اگرچہ ان سے قبل بھی  ان کی قوم کی جانب رسول بھیجے گئے تھے مگر ان کے نام نہیں بتائے

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٛ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .26:105١٠٥

  • تاریخ جان لو؛ نوح(علیہ السلام)کی قوم نے ان کی جانب بھیجے گئے رسولوں کوبرسر عام جھٹلایا تھا۔(الشعراء۔۱۰۵)

نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے مابین زمانے میں جاری رہنے والے سلسلہ نبوت کا ذکر نہیں؛اور ان کے بعدبنی اسرائیل کی جانب مبعوث فرمائے نبیوں موسیٰ علیہ السلام ؛اور عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو ان کی جانب آخری رسول تھے مگر نہ توبنی اسرائیل میں سے تھے اور نہ ہی بنی آدم  میں سے بلکہ مثل آدم تھے۔اس حوالے سے اپنے آپ میں یکتا کہ تخلیق کے حوالے سے ابن مریم صدیقہ تھے۔اس طرح اظہر من الشمس ہے کہ  انبیاء علیہم السلام جن سے میثاق لیا گیا تھاوہ تمام کے تمام تقریباً چودہ سو سال قبل  تک مبعوث ہو گئے تھے اور یہ سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا۔

آقائے نامدار،رسولِ کریم ﷺ بھی میثاق نبیین کے پابند ہیں۔ان کے ذمہ ہے کہ اپنے سے قبل کے رسولوں اور کتابوں کے سچ اور حقیقت ہونے پر مہر تصدیق ثبت فرمائیں۔ دنیا جانتی بھی ہے اور قرآنِ مجید گواہ ہے کہ آقائے نامدار رسولِ کریم،خاتم النبیین ﷺ نے اپنے حلف کی پاسداری فرماتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام سے لے کراول ترین تک تمام نبیوں اور ان کو عطا کردہ کتاب و حکمت کی تصدیق فرمائی۔

وَلَمَّا جَآءَهُـمْ رَسُولٚ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ

  •  اور جوں ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے ر سول ان کے پاس پہنچ گئے جن کے متعلق انہیں تحریری طور پر پہلے سے مطلع اور ایمان لانے کا پابند کیا ہوا تھا،۔

مُصَدِّقٚ لِّمَا مَعَهُـمْ

  • اور جن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تصدیق و توثیق فرمانے والے ہیں  اس کی جو ان کے پاس نازل کردہ کلام اللہ ہے۔


نَبَذَ فَرِيقٚ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْـكِـتَٟبَ كِتَٟبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِـمْ 

  • توان لوگوں کے ایک فریق نے جنہیں قبل ازیں کتاب سے نوازا گیا تھا اللہ تعالیٰ کے تحریری کلام(کتاب) کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا

كَأَنَّـهُـمْ لَا يَعْلَمُونَ .2:101١٠١

  • اس انداز میں جیسے گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔(البقرۃ۔۱۰۱)


بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ

  • نہیں، انہیں شاعر کہنا لغو خیال آرائی ہے؛ حقیقت یہ ہے وہ بیان حقیقت(قرءان مجید)کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔

وَصَدَّقَ ٱلْمُـرْسَلِيـنَ .37:37٣٧

  • اور  انہوں(رسول کریم محمدﷺ)نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے تمام رسولوں کی تصدیق کر دی ہے۔(الصافات۔۳۷)


اللہ تعالیٰ نے انسان  کو زمین پر بھیجتے وقت جس سلسلہ ہدایت کو وقتاً فوقتاً بھیجنے کا کہا تھا اس کی تکمیل اور اختتام  آقائے نامدار، رسول کریم محمد ﷺ پرقرءان مجید کے نزول کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔اس میں اس تمام  کی تمام مختلف زمان میں بھیجی گئی ہدایت، کتب، وحی کی تصدیق کر کے رسول اور ہدایت بھیجنے کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔

وَءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلْتُ

  • اور ایمان لاؤ اُس(قرء ان) پر جو میں نے مجتمع انداز میں نازل کر دیا ہے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا مَعَكُـمْ

  • یہ (قرء ان) اُس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے جو اس کتاب میں درج ہے جوتمہارے پاس ہے۔

وَلَا تَكُونُوٓا۟ أَوَّلَ كَافِـرِۭ بِهِۦۖ

  • اور تم لوگوں کو چاہئے کہ اِس (قرء ان) کا انکار کرنے والوں (اہل کتاب)میں اول نہ بنیں۔

وَلَا تَشْتَـرُوا۟ بِـٔ​َايَـٟتِى ثَمَنٙا قَلِيلٙا

  • اورتم لوگوں کو چاہئے کہ اپنے معمولی فائدے کیلئے میری آیات کے ذریعے کاروبارنہ کرو ۔

وَإِيَّٟىَ فَٱتَّقُونِ.2:41٤١

  • (اور صرف مجھ سے حفاظت ،نجات و بخشش کے طلبگار رہو،اور پھر مجھ سے اس کے حصول کے لئے تندہی سے محنت کرتے رہو۔ ( البقرۃ۔۴۱


وَلَمَّا جَآءَهُـمْ كِتَٟبٚ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ

  •  اور جوں ہی وہ تحریری کلام/ کتاب (قرء ان)جسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عربی زبان میں مرتب فرمایا گیاہے ان تک پہنچ گیا

مُصَدِّقٚ لِّمَا مَعَهُـمْ

  • اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے جواُن کے پاس موجود رہا ہے۔

وَكَانُوا۟ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَـى ٱلَّذِينَ كَفَـرُوا۟

  • اور اس سے قبل کے زمان میں وہ کافروں پر فیصلہ کن برتری اورغلبہ مانگتے رہتے تھے (جس کیلئے آخری نبی امی اور کتاب کے منتظر تھے)۔

فَلَمَّا جَآءَهُـم مَّا عَـرَفُوا۟ كَفَـرُوا۟ بِهِۦۚ

  • مگر جوں ہی وہ ان کے پاس پہنچ گیا جس کو انہوں نے شناخت کر لیا مگرپھر بھی اُس (قرء ان)کو ماننے سے انکار کر دیا۔

فَلَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ.2:89٨٩

  •  اِس دانستہ ہٹ دھرمی کے سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے لوگوں کومسترد اور پھٹکار زدہ قرار دیا جاتا ہے جو قرء ان کا انکار کرنے والے ہیں۔(البقرۃ۔۸۹)


وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ  أَنزَلَ ٱللَّهُ

  • اور جب اُن سے کہا گیاتھا ”تم لوگ اِس پر ایمان لاؤ جو ا للہ تعالیٰ نے مجتمع انداز میں نازل فرما دیاہے“۔

قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا

  • تو انہوں نے جواب میں کہا ”ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو مجتمع انداز میں ہم پرنازل کیا گیا تھا“ ۔

وَيَكْفُرونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ

  • یعنی وہ (بن کہے) انکار کرتے ہیں اُس کا جو اُس کے علاوہ بعدازاں نازل کیا گیا(قرآنِ مجید)۔

وَهُوَ ٱلْحَقُّ

  • اور وہ (قرآنِ مجید)بیانِ حقیقت ہے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا مَعَهُـمْۗ

  • وہ اُس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے جو اُن کے پاس موجود رہا ہے۔

قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبْلُ

  • اُن کے قول کے جواب میں اُن سے پوچھو”پھر تم کیوں بیتے دور کے ا للہ تعالیٰ کے انبیاء کی تذلیل و اہانت کرتے ہو؟

إِن كُنتُـم مُّؤْمِنِيـنَ.2:91٩١

  • وضاحت دواگر تم اُس پر ایمان رکھنے والے ہوجو تم پرپہلے نازل کیا گیا تھا؟(البقرۃ۔۹۱)


يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْـكِـتَٟبَ

  • اے وہ لوگوں جنہیں زمانہ قبل میں مخصوص کتاب کو عنایت کیا گیا تھا،توجہ سے سنو!۔

ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا

  • دل کی شاد سے ایمان لاؤاس پر جو ہم نے بتدریج نازل کر دیا ہے(قرء ان مجید)۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا مَعَكُـم

  • یہ اُس کے لئےتصدیق و توثیق کرتا ہے جوتمہارے پاس موجود ہے۔

مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهٙا فَنَرُدَّهَا عَلَـىٰٓ أَدْبَارِهَآ

  • تعمیل کرو اس امکان سے قبل کہ ہم جناب چہروں کے نقوش مٹا دیں،نتیجے میں ہم جناب انہیں پلٹا دیں ان کی پچھلی جانب اصل مقام پر۔

أَوْ نَلْعَنَـهُـمْ كَمَا لَعَنَّـآ أَصْحَـٟـبَ ٱلسَّبْتِۚ

  • یا ہم جناب انہیں دھتکار دیں جیسے ہم جناب نے اصحاب سبت کو دھتکار دیا تھا۔

وَكَانَ أَمْـرُ ٱللَّهِ مَفْعُولٙا .4:47٤٧

  • متنبہ رو!اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور امورایسے ہوتے ہیں جیسے سر انجام پا چکے۔(النساء۔۴۷)


مندرجہ بالا چار آیات مبارکہ میں دو بار براہ راست اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے  خطاب کر کے (مُصَدِّقٙا لِّمَا مَعَكُـمْ)اور دو بار ان کے حوالے سے (مُصَدِّقٚ لِّمَا مَعَهُـمْ/مُصَدِّقٙا لِّمَا مَعَهُـمْ)سے بتایا کہ قرءان مجید ان پر قبل زمانے  میں نازل کردہ کی تصدیق کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے  تصدیق و توثیق کو قرءان مجید کے لئے بطور ’’حال/Circumstantial adverb‘‘ اور بطور ’’صفت‘ استعمال فرما کریہ واضح فرما دیا کہ یہ فائنل اور ہمیشہ کے لئے  ہے۔

مگر دنیا میں صرف اہل کتاب(یہود و نصاریٰ)نہیں ہیں جن کی جانب اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور کتابوں کا نازل کیا گیا۔ان کے علاوہ انسان کی تاریخ میں جو کچھ مختلف اقوام کی جانب نازل کیا گیا تھا قرءان مجید نے ان کی فائنل تصدیق کر دی ہے ۔ ارشاد فرمایا:

قُلْ مَن كَانَ عَدُوّٙا لِّجِبْـرِيلَ

  • آپ(ﷺ)اعلان فرمائیں’’جو کوئی عداوت پر مبنی شبہات کا اظہار کرتا ہے جبرائیل (علیہ السلام)کے لئے‘‘(وہ درحقیقت ایمان لانے سے انکاری ہے)۔

فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَـىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ

  • کیونکہ یقیناً وہ ہی ہیں جنہوں نے اسے (قرء ان)بتدریج آپ کے قلب پر اتارا ہے،اللہ تعالیٰ کی موقع محل کی مناسبت سے پیشگی اجازت کے ساتھ۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ

  • یہ بتدریج نازل کردہ(قرء ان)تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں (کتاب خاص ۔ام الکتاب میں سے)نازل کیا گیا تھا۔

وَهُدٙى وَبُشْـرَىٰ لِلْمُؤْمِنِيـنَ.2:97٩٧

  • اوریہ بتدریج نازل کردہ(قرء ان)ایمان والوں کے لئے رہنما اوراچھے انجام کی خوشخبری،ضمانت دیتا ہے۔(البقرۃ۔۹۷)


نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ

  • انہوں نے بتدریج مخصوص کتاب (قرء ان) کو آپ(ﷺ)پر نازل فرمایا ہے،مبنی بر بیان حقیقت اور موقع محل کی مناسبت سے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ

  • یہ بتدریج نازل کردہ(قرء ان)تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں (کتاب خاص ۔ام الکتاب میں سے،حوالہ ۵:۴۸)نازل کیا گیا تھا۔

وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ .3:03٣

  • اور انہوں نے مجتمع انداز میں یکبارگی تورات اور انجیل کو نازل فرمایا تھا،۔۔(ءال عمران۔۳)


ان دو آیات مبارکہ میں بتدریج نازل کردہ قرءان مجید کے ’’حال‘‘ یعنی کردار کو زمان و مکان میں نازل کردہ تمام پربطور مصدق محیط قرار دیا۔کس کی تصدیق کرنے  کا یہ کردار ادا کر رہا ہے؛ اسے بتایا’’ لِّمَا ‘‘۔جار و مجرور ’’اس کے لئے جو اسم موصول بیان کر رہا   ہے‘‘۔ اسم موصول کا صلۃ الموصول محذوف ہے جو ’’بَيْـنَ يَدَيْهِ‘‘دو متصل مرکب اضافی سے ظاہر ہے۔یہ میثاق نبیین کے تحت تمام کے تمام انبیاء علیہم السلام کو ام الکتاب میں سے  انفرادی طور پر انہیں عنایت کردہ پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔یہ خود بھی ام الکتاب کااہم ترین اور فائز حصہ ہے اس پر جو اس سے قبل اُس میں سے وحی کیا گیا تھا:ارشاد فرمایا: 

وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • اور ہم جناب نے مخصوص کتاب/ام الکتاب میں سے جس کوعربی زبان کا کلام بنا کر آپ کی جانب وحی کیا ہے(قرءان مجید)

هُوَ ٱلْحَقُّ

  • وہ بیان حقیقت ہے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِۗ

  • یہ (قرء ان)تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں (کتاب خاص ۔ام الکتاب میں سے،حوالہ ۵:۴۸)نازل کیا گیا تھا۔

إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيـرُۢبَصِيـرٚ .35:31٣١

  • متنبہ رہو؛یقیناً اللہ تعالیٰ ہر لمحے اپنے بندوں  کے متعلق باخبر ہیں،ہر لمحہ بندے ان کے زیرمشاہدہ ہیں۔(فاطر۔۳۱)


وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ بِٱلْحَقِّ

  • اور ہم جناب  نے آپ(ﷺ) کی جانب  مخصوص کتاب (قرءان مجید)کو مجتمع انداز میں مبنی بر بیان حقیقت اور موقع محل کی مناسبت سے  نازل فرمایا ہے۔

مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • یہ نازل کردہ مخصوص کتاب /قرء ان تصدیق کرنے/حقیقت قرار دینے والا ہے اس کو جو اِس سے قبل زمان و مکان میں کتاب خاص (ام الکتاب)میں سےنازل کیا گیا تھا۔(حوالہ المائدہ۔۴۸)


۔آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺﷺ کی جانب وحی فرمائے گئے قرءان مجید کے متعلق  سورۃ فاطر کی آیت۔۳۱ میں بتایا کہ یہ ’’مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ‘‘یعنی مخصوص کتاب کے مندرجات  میں سے ہے۔یہ جار و مجرورجملے میں ’’حال‘‘سے متعلق  ہے۔بلاغت کے اصول کے تحت اس کتاب کے متعلق متکلم اور مخاطب دونوں کو معلوم ہے کہ کس  مخصوص کتاب کا حوالہ ہے۔اور اس موضوع پر دوسرے مقامات  پر بیان سے دوسروں کے لئے واضح ہو جاتا ہے کہ ام الکتاب کا حوالہ ہے  جس میں سے حسب  وعدہ تمام انبیاء علیہم السلام کو وحی کیا گیا۔اگر ہم تصریف آیات کے انداز بیان کو یاد رکھیں تو کسی بھی مقام پر محذوف بات کو دوسرے مقام سے ازخود متعین کر سکتے ہیں۔قرءان مجید کے متعلق ہم نے پڑحا’’مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْه‘‘۔اور مکمل بات کو   المائدہ کی آیت ۔۴۸ میں ان الفاظ میں بیان فرمایا’’مُصَدِّقٙا لِّمَا بَيْـنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ‘‘۔قرءان مجید  خود’’مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ ‘‘ہےاور جس تمام کی تصدیق کرتا ہے وہ بھی ’’مِنَ ٱلْـكِـتَٟبِ ‘‘ ہے ۔ مگر دونوں میں فرق بتایا:

وَمُهَيْمِنٙا عَلَيْهِۖ

  • اوراس(قرءان)کی حیثیت اس پر(جو قبل ازیں کتابوں میں نازل ہوا)اہم اور فائز ہے۔(حوالہ المائدہ۔۴۸)

اسم فاعل’’مُهَيْمِنٙا ‘‘اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ہے اور قرءان مجید میں صرف دو بار استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں ابدیت کا عنصر ہے۔اور قرءان مجید کا ’’حال‘‘بیان کرتا  یہ اسم فاعل  کس پر ہے؟بتایا ’’عَلَيْهِ‘‘۔اس جار و مجرور میں حرف جر کے معنی کسی شئے پر،اس کے اوپر ہونا ہے۔اس کی متصل واحد مذکر غائب کی ضمیرماضی میں نازل/ وحی کردہ کو راجع ہے۔اس کا مادہ ’’ھ۔ی۔م۔ن‘‘اور اس لفظ کے معنی جناب ابن فارس نے ’’االشاهد‘‘گواہ، شہادت دینے والا،تصدیق کرنے والالکھے ہیں ۔اور صاحب محیط نے ’’حافِظاً‘‘۔ عربی۔انگلش ڈکشنری المورید میں اس کے معنیascendancy, supremacy, preponderance لکھے ملتے ہیں جن کا اردو میں مطلب  زیادہ اہم، بلند،بالا دست ہیں ۔ یہ معنی اور مفہوم ایک دوسرے مقام سے واضح ہیں:

وَإِنَّهُۥ فِـىٓ أُمِّ ٱلْـكِـتَٟبِ لَدَيْنَا لَعَلِـىٌّ حَكِيـمٌ .43:04٤

  • اور اِس(عربی میں تالیف و تدوین دیا متن بعنوان قرءان)کے متعلق حقیقت جان لو،بلاشبہ یہ ہمیشہ سے ام الکتاب کے مندرجات میں اعلی ترین مقام رکھتا ہے؛وہ(ام الکتاب)ہمارے پاس محفوظ ہے۔یہ(قرءان)حکمت و دانائی اور پنہاں حقیقتوں کو سموئے ہوئے ہے۔(الزخرف۔۴)

۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کا کردار بشیر اور نذیر بتایا ہے۔اور آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:

يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّبِىُّ

  • اے ہمارے اپنےلئے مختص کردہ اور کائنات کے لئےبرگزیدہ قرار پائے بندے(محمد ﷺ)

إِنَّـآ أَرْسَلْنَٟكَ شَٟهِدٙا وَمُبَشِّـرٙا وَنَذِيرٙا .33:45٤٥

  • حقیقت یہ ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)کوزمین پر بھیجا ہے بحثیت گواہ/تصدیق کنندہ؛ اورخوش کن نتائج کی خبر اور ضمانت دینے والے،اور زمان و مکان میں کفر و نافرمانیوں کے خوفناک انجام سے پیشگی  خبردار اور انتباہ کرنے  کا فریضہ انجام دینے کے لئے۔(سورۃ الاحزاب۔۴۵ ۔اور الفتح۔۸)

وَدَاعِيٙا إِلَـى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِٚۦ

  • And as the Inviter-Herald who invites people towards Allah the Exalted with His prior permission [for all times to come]

  • اوران کی اجازت سے اللہ تعالیٰ کی جانب آنے کی دعوت دینے والے کی حیثیت سے۔

وَسِرَاجٙا مُّنِيـرٙا .33:46٤٦

  • And as a Figure of Unique Prominence characteristically Reflector of Visible Light: illuminator and Sustainer of the Life.  [33:46]

  • اور آپ(ﷺ)کو بھیجا ہے ایک ایسے  یکتادرخشاں حسن و جمال کے پیکر کے طور جو نور کو منعکس کر دینے والا ہے ۔(سورۃ الاحزاب۔۴۶)

۔اختتام ہدایت کے لوازمات:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر جانے کے لئے الوداع کرتے وقت یہ وعدہ فرمایا تھا:

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْـهَا جَـمِيعٙا

  • ہم جناب نے اُن سے کہا’’تم سب اس میں سے نیچے (زمین پر) اتر جاؤ، اکٹھے۔

فَإِمَّا يَأْتِـيَنَّكُـم مِّنِّى هُدٙى

  • پھر زمین میں آباد ہونے پر میری جانب سے مستقبل میں جب بھی ہدایت تم لوگوں کو پہنچ جائے

فَمَن تَبِــعَ هُدَاىَ

  • تواُس وقت جنہوں نے میری ہدایت/؍کتاب کی آیات کی پیروی کی

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ

  • تو نتیجے میں (یوم قیامت)خوف ایسے لوگوں پر نہیں چھائے گا۔

وَلَا هُـمْ يَحْـزَنُونَ.2:38٣٨

  • [اور نہ یہ لوگ غم و ملال سے دوچار ہوں گے۔[البقرۃ۔۳۸

اللہ تعالیٰ نے میثاق نبیین کے تحت انبیاء علیہم السلام کو ام الکتاب میں سے زمان و مکان کی ضرورتوں کے مطابق  کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا جس کے نتیجے میں کوئی دور سرچشمہ ہدایت سے محروم نہیں تھا۔ہمیں بتایا:

لِـكُلِّ أَجَلٛ كِتَابٚ 

  • ایک کتاب کوہر ایک دور میں لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہر ایک رسول کے ساتھ نازل کیا گیا تھا۔(حوالہ الرعد۔۳۹)

يَـمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُۖ

  • اللہ تعالیٰ جس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں اسے محو فرما دیتے ہیں؛اورجس(کتاب/متن)کے متعلق چاہتے ہیں اسے دوام دے دیتے ہیں۔(حوالہ الرعد۔۴۰)


وَمَآ أَهْلَـكْنَا مِن قَرْيَةٛ إِلَّا وَلَـهَا كِتَٟبٚ مَّعْلُومٚ .15:04٤

  •   مطلع رہو؛ہم جناب نے بستیوں میں کسی ایک بستی کے لوگوں کو  بھی صفحہ ہستی سے نہیں مٹایاماسوائے ان حالات میں کہ ایک  معلوم کتاب  کوان کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہوا تھا۔(الحجر۔۴)

جملہ فعلیہ’’يُثْبِتُ‘‘فعل مضارع مرفوع، واحد مذکر غائب کا ماخذ ’’ث۔ب۔ت‘‘ہے جس میں جناب ابن فارس کے مطابق سمویا تصور’’دَوامُ الشيء‘کا ہے۔اور چونکہ فعل باب افعال(Form-IV)سے ہے تو یہ دوام اس کتاب کی صفت /کیفیت بنا دیا گیا ہے ۔ اس مقام پر چونکہ اُس کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا تواس کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے لئے دوسرے مقامات پر دیکھنا ہو گا کہ ابد تک کے لئے آخری ہدایت کس کتاب میں درج ہے۔ارشاد فرمایا:

وَهَـٟذَا كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ مُبَارَكٚ

  • اس کتاب(قرءان مجید)کے متعلق حقیقت جان لو؛ہم جناب نے اسے مجتمع انداز میں نازل فرمایا/لوگوں تک پہنچایا ہے۔اس کی یکتا خصوصیت  یہ ہے کہ اس کو دوام دیا گیا ہے۔

مُّصَدِّقُ ٱلَّذِى بَيْـنَ يَدَيْهِ

  •   اس کی خصوصیت یہ ہے کہ  یہ اس سے قبل زمان و مکان میں   تمام نازل کردہ  ہدایت /کلام اللہ پر مشتمل   وحی  کی تصدیق و توثیق کرتا ہے۔

وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَـهَا

  •  اور اس کو دوام دینے کا مقصد یہ ہے کہ آپ(ﷺ)ام القریٰ(مکہ مکرمہ)کے لوگوں اور اس کو جو اس کے تمام اطراف میں رہائش پذیر ہے،انہیں کفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردارفرما تے رہیں۔

وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِِ يُؤْمِنُونَ بِهِۦۖ

  • اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو آخرت کو مانتے ہیں وہ اس (قرءان مجید)پر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔

وَهُـمْ عَلَـىٰ صَلَاتِـهِـمْ يُحَافِظُونَ .6:92٩٢

  • اور یہ لوگ اپنی صلوٰۃ(مقررہ اوقات پر بااظہار بندگی)کی ادائیگی کے لئے چوکنا اور مستعد رہتے ہیں۔(سورۃ الانعام۔۹۲) 

اللہ تعالیٰ نے زمان و مکان میں ام الکتاب میں سے   نازل کردہ کتابوں میں ہمارے ہاتھوں میں موجوداس کتاب قرءان عظیم کوصفت’’ مُبَارَكٚ‘‘سے متصف قرار دیا ہے۔انگریزی کے اولین مترجمین نے اس کا ترجمہ"blessed"کیا اور اردو مترجمین نے اس کا مقابل لفظ’’بابرکت، برکت والی‘‘استعمال کیا۔اس کا مادہ’’ب۔ر۔ک‘‘ہے۔اس میں سمویا بنیادی اور لازمی تصور اور عنصر عربی زبان کی معتبر ترین لغات ابن فارس(مقاييس اللغة — ابن فارس (٣٩٥ هـ))کے مطابق ’’ثَبَاتُ الشَّيْءِ‘‘ ہے اور لسان العرب(ابن منظور (٧١١ هـ))کے مطابق ’’النَّماء وَالزِّيَادَةُ.‘‘ہے۔اس طرح اس میں دوام،پھلنے،پھولنے،لوگوں کے لئے نمایاں اور بدستور مشہور ہوتے رہنے کےمعنی لازمی عنصر ہیں۔اس کے معنی اس ثبات/دوام سے ہے جس میں نموبھی شامل ہو؛ یعنی ایک ایسی چیزجو اپنے مقام پر مستحکم بھی ہواور اس کے ساتھ ساتھ بڑھ بھی رہی ہو۔لہٰذا اس میں استحکام اور کثرت،ثبات اور نشوونمادونوں شامل ہوتے ہیں۔نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ عربی زبان کے جن  مادوں/ماخذ میں حرف ’’ب‘‘ اور ’’ر‘‘اکٹھے آئیں ان میں’’ظاہر ہونے‘‘کا مفہوم مضمر ہوتا ہے۔لہٰذا’’ مُبَارَكٚ‘‘میں ثبات،دوام،استحکام،کثرت،نشوونما،اور ظہور و نمود کے تمام پہلو سمٹے ہیں۔

۔اللہ تعالیٰ نے سوائے قرءان عظیم کے،  بشمول ام الکتاب میں سے زمانہ قبل میں نازل کردہ کتابوں ،کسی کتاب کو’’ مُبَارَكٚ‘‘قرار نہیں دیا۔دوسرے مقامات پر  تکرار سے  اور بلاغت کے اصول استعمال کرتے ہوئے یہ نکتہ ذہن نشین کرایا گیا ہے:

وَهَـٟذَا كِتَٟبٌ أَنزَلْنَـٟهُ مُبَارَكٚ

  • اس کتاب(قرءان مجید)کے متعلق حقیقت جان لو؛ہم جناب نے اسے مجتمع انداز میں نازل فرمایا/لوگوں تک پہنچایا ہے۔اس کی یکتا خصوصیت  یہ ہے کہ اس کو دوام دیا گیا ہے۔

فَٱتَّبِعُوهُ

  • اس لئے زمان و مکان میں تمام افعال و اعمال کے لئےاس کی صدق دل سے اس انداز میں اتباع کرو کہ اس کے مندرجات اور تمہارے درمیان تیسرا حائل نہ ہو۔

وَٱتَّقُوا۟

  • اور انتہائی تندہی سے  حدود و قیود کی پابندی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے پناہ کے خواستگار رہو۔

لَعَلَّـكُـمْ تُرْحَـمُونَ .6:155١٥٥

  • یہ اس لئے ضروری ہے تا کہ تم لوگ رحم کے مستحق بن جاؤ۔(الانعام۔۱۵۵)


كِتَٟبٌ أَنزَلْنَٟهُ إِلَيْكَ مُبَٟرَكٚ

 
  • اس کتاب(قرءان عظیم)کے متعلق  حقیقت یہ ہے؛ ہم جناب نے مجتمع انداز میں  آپ (ﷺ) کی جانب اس کو نازل فرمایاہے؛اس کی یکتا خصوصیت  یہ ہے کہ اس کو دوام دیا گیا ہے۔

لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٟتِهِۦ

  • اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ (متقین،حدود و قیود میں اپنے آپ کو محفوظ کرنے والے)اس کی آیات /مندرجات میں ترتیب و تسلسل سے ازخودغوروفکر/تدبر کرنے کی عادت کو  اپنائیں ۔

وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلْبَٟبِ .38:29٢٩

  • اور یہ کہ صاحبان  دانش و بینائی قلب جو روایات،تعصبات،جذبات،خواہشات،مفادات سے بلند ہو کر کتاب کو سنتے اور پڑھتے ہیں ازخود اس سے نصیحت لے سکیں اور دوسروں سے تذکرہ کریں۔(سورۃ صٓ۔29)


اللہ تعالیٰ نے قرءان عظیم کو ایک نام/خطاب                ’’ذِكْرٚ‘‘دیا ہے۔

وَهَـٰذَا ذِكْرٚ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَٟهُۚ

  • اور یہ(قرءان مجید)مکمل سرگزشت ِتخلیق،منبع رشد و ہدایت ہے۔اس کی یکتا خصوصیت  یہ ہے کہ اس کو دوام دیا گیا ہے۔ہم جناب نے اس کومجتمع انداز میں نازل/لوگوں تک پہنچایا ہے۔

أَفَأَنتُـمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ .21:50٥٠

  • کیا تم لوگ باوجود اپنے آپ کو اس میں مذکور پا کراس کے لئے ناواقف  اورمنکر بن رہے ہو؟( الانبیاء۔50)

علم و حقیقت اور ہدایت کولوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ کتاب ہے۔کتاب کے مقصد کے حصول کی کا میابی کا دارومدار اس کی زمان و مکاں میں پہنچ (portability) اور حفاظت و دوام (permanence)پر منحصر ہے۔ اور کتاب۔مُّبَارَكٌ۔ یعنی ثبات اور دوام کی حامل قرار پانے کی اس وقت مستحق ہے جب گردش پذیر زمان و مکاں کے تمام مکینوں تک اصل حالت میں پہنچ سکے۔ اور کتاب اصل حالت  (intellectual property)میں زمان و مکان کے مکینوں تک صرف اس صورت میں پہنچ سکتی ہے کہ  اس کے قرطاس پر تحریر کیا ہوا کلام  زمان کی گزر گاہ میں محفوظ رہے کیونکہ کاغذ اور گتے کو دوام حاصل نہیں۔اورکتاب میں تحریر کئے اپنے کلام کی حفاظت صرف وہ کر سکتا ہے جو زمان اور ہرمکان میں ہر لمحہ موجود ہو۔

 سوال یہ ہے کہ کیا ایسی شخصیت اپنے کلام یا تحریر کو زمان و مکاں   کیلئے لا ریب قرار دے سکتی ہے جو خودزندہ نہ رہ سکے؟ کیا ہزار سال قبل کی کوئی ہستی یہ ذمہ بھی لے سکتی تھی کہ اُس کی کتاب اس کی زندگی کے ہزار سال بعدبھی بلا تحریف ا نسان تک پہنچ جائے گی؟ زمان کے کسی سائنسدان،مفکر،عالم، محقق، صوفی، ولی،  محدث، امام، مجدد، مفسر کی تحریر میں اس بات کی ضمانت نہیں ملتی۔ان میں سے کسی نے اپنی بات کو حرف آخر کہنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ رسولوں کے علاوہ  کوئی بندہ کسی بھی بات کیلئے انسانوں کیلئے حجت اور حرف آخر   کا درجہ نہیں رکھتا۔

ایک مصنف اپنے زمان اور مکاں کے لوگوں کے سامنے اپنی بات اور کلام کو حرف آخر قرارنہیں دیتاتو کیااُس کے بعد کے زمان کے لوگ اپنے دور اور آئندہ کے زمان کیلئے ماضی کے اِس مصنف کی بات کو حرف آخر قرار دینے کا اختیار اور سند کہیں سے حاصل کر سکتے تھے؟ غوروفکر کیلئے یہ ایک کھلا سوال ہے کیونکہ زمان کی ہر نسل/امت اپنی عقل و فکر کیلئے جوابدہ ہے۔ ماضی کی جن باتوں کو ہم نے ورثے کے طور پر اپنایا تواس کیلئے ہمارے ماضی میں گزرے لوگ ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے قرءان مجید کو دوام اور لمحہ آخر تک ابدیت دینے  ہوئے اس کے متن کی محفوظیت کی ذمہ داری خود اپنے ذمہ قرار دی ہے:

إِنَّا نَـحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب ہیں؛ہم نے بتدریج سرگزشت تخلیق اور سلسلہ رشدوہدایت(قرءان مجید)کو نازل کیا ہے۔

وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ .15:09٩

  • اور یہ حقیقت ہے,ہم جناب زمان و مکان میں ہر لمحہ بلا شبہ اس کے متن کے لئے خودحفاظت کا ذمہ لئے ہوئے ہیں۔(الحجر۔۹)

ہم نے اپنی زمین پر آمد سے لے کر گزرے زمان و مکان کا احاطہ کرتے ہوئے آج کے دور میں پہنچ گئے۔ہمیں معلوم ہو گیا کہ قرءان مجید اب یوم قیامت تک کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اب اگر ہم اپنی تخلیق کے مقصد کو جان لیں تو اس ہدایت نامہ کی اہمیت کا بہتر ادراک ہو جائے گا۔

انسان کا عام فہم ادراک ہے کہ تخلیق مقصد کے زیر اثر ہوتی ہے اور تخلیق سے پہلے ارادہ بنتا ہے۔ ا للہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَق ٱلسَّمَٟوَٟتِ وَٱلۡأَرْضَ فِـى سِتَّةِ أَيَّامٛ

  • اوروہی جناب  ہیں جنہوں نے  سات آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے،اس کائنات کے باہر کے وقت کے شمار سے چھ دنوں میں۔

وَكَانَ عَـرْشُهُۥ عَلَـى ٱلْمَآءِ

  • ۔۔اور ان جناب کا عرش/یکتا تخت اقتدارپانی کے ذخیرہ سے اوپر کے مقام پر ہے۔۔

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلٙاۗ

  •   اس تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔(حوالہ سورۃ ھود علیہ السلام۔7)


إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَـى ٱلۡأَرْضِ زِينَةٙ لَّـهَا

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اسے جو زمین کے اوپر موجود ہے اس کے لئے باعث کشش و آرائش بنایا ہے۔

لِنَبْلُوَهُـمْ أَيُّـهُـم أَحْسَنُ عَمَلٙا .18:07٧

  • اس  کا مقصد یہ ہے کہ ہم  جناب ان لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ ان  میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔(الکہف۔7)


ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَـيَوٰةَ

  • اس ذات کو صرف دوام و ثبات ہے جنہوں نے مادے اور حیات کو تخلیق فرمایا ہے۔

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُـمْ أَحْسَنُ عَمَلٙاۚ

  • اس تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ جناب تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے یہ ظاہر کر دیں کہ تم لوگوں میں سے کون بہترحسن و اعتدال کا حامل ہے ،بہترحسن عمل کے حوالے سے۔

وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ .67:02٢

  • اور وہ جناب دائمی،ہر لمحہ،ہر مقام پر مطلق غالب ہیں،وہ اکثر و بیشتر درگزر کرنے،پردہ پوشی اور معاف فرمانے والے ہیں۔(الملک۔2)


حیات کو موت ہے۔اور ا للہ تعالیٰ حیات کو شئے (مادے) سے وجود دیتا ہے۔مادے (matter)کو پہلے تخلیق کیا گیااس لئے کہ اپنے آپ میں مقصود نہیں بلکہ ایک ذریعہ،سبب ہے۔وہ اپنے لئے نہیں کسی کیلئے ہے اور وہ ہے انسان جسے ۔مِنْ غَيْـرِ شَـىْءٛ۔سے تخلیق نہیں کیا گیا۔موت وحیات اورکائنات کی تخلیق کا مقصد یہ دیکھنا اور ظاہر کرناہے کہ ہم میں سے۔أَحْسَنُ عَمَلٙا ۔زیادہ عمدہ  عمل کون کرتا ہے۔

۔لِيَبْلُوَكُمْ۔کا مادہ ”ب ۔ل۔ و“ ہے اور جناب راغب نے کہا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں،اول کسی کا حال معلوم کرنا یعنی اس کے متعلق جو باتیں معلوم نہ ہوں انہیں معلوم کرنا اور دوم کسی چیز کی اصلی حالت کو ظاہر کرنا۔پنہاں حقیقت،اصلیت کو طشت از بام کر دینا۔  لیکن ا للہ رب العزت سے کوئی شئے مخفی نہیں۔ ان کا علم ماضی،حال اور مستقبل کے ظاہر اور پنہاں پر محیط ہے اس لئے ا للہ تعالیٰ کے حوالے سے جب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی صرف اصلی حالت کو ظاہر کرنا مراد ہوں گے۔جب مقصود کسی کی حالت کو ظاہر کرنا ہو تو وہ اس کی آزمائش اور امتحان کہلاتا ہے۔ تخلیق کائنات کا مقصدجن و انس کا امتحان ہے۔یہ مقصد اس بات کا متقاضی ہے کہ آزمائے جانے والوں کی حیثیت خود مختار ہو۔یہ امتحان راہ عمل اختیار کرنے کی آزادی کا طلبگار ہے۔ جبر اس مقصد کی نفی کے مترادف ہے۔ جو کوئی اختیار و ارادہ کا مالک نہیں قابلِ مؤاخذہ قرار پا ہی نہیں سکتا۔
تخلیق مقصد کے زیر اثر ہوتی ہے۔اور تخلیق کردہ شئے سے وہ مقصد حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس شئے میں اس بات کی تکمیل کیلئے ضروری”ہدایت“موجود ہو۔یہ عام فہم بات ہے کہ جب بھی کسی شئے کو ہم تخلیق کرتے ہیں،اسے وجود دیتے ہیں تو اس کے تمام اجزاء،پرزوں کیلئے ہدایت نامہ مرتب کرتے ہیں جس کے تحت انہوں نے وہ کام سر انجام دینا ہوتا ہے جس مقصد کیلئے انہیں تخلیق کیا:

قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَـىءٛ خَلْقَهُۥ ثُـمَّ هَدَىٰ .20:50٥٠

  • انہوں(موسیٰ علیہ السلام)نے کہا"ہمارے رب وہ ہیں جنہوں نے ہر ایک شئے کو جسے انہوں نے تخلیق کیا ہے ہر حوالے سے انفرادیت عنایت فرمائی ہے،بعد ازاں اس کو مقصد تخلیق کے مطابق  انہوں نے ہدایت دی ہے۔(سورۃ طہ۔50)

یہ بھی عام فہم بات ہے کہ جس کسی شئے کو ہم تخلیق کرتے ہیں اسے آزادی (independence)کی ”نعمت“نہیں دیتے تخلیق کردہ شئے”آزاد“ہو ہی نہیں سکتی۔تخلیق کردہ شئے تو تقدیر یعنی پیمانوں اور مرتب کردہ ہدایت میں مقید ہوتی ہے۔اگر کسی شئے کا خالق یہ دعویٰ کرے کہ اس نے اپنی تخلیق کردہ شئے کو ”آزادی“ دی ہے کہ اس  کا جو جی چاہے کرے تو یہ خالق کی تعریف اور وصف نہیں بلکہ در حقیقت اس کی اپنی ذات کی نفی ہے۔یہ تو اس شئے کے تخلیق کردہ ہونے کی بھی نفی ہے کیونکہ تخلیق ارادے اور مقصد کے تابع ہے۔

البتہ یہ ممکن ہے کہ اگر اپنی تخلیق کردہ شئے کی صلاحیت کی ہم آزمائش کرنا چاہتے ہیں تو اسے حریت (freedom)عطا کر سکتے ہیں کہ وہ دئیے گئے آپشنز(options)میں سے کسی ایک کو پسند کر کے اس پر کاربند ہو جائے۔لیکن تخلیق کردہ شئے کو اتنی ’آزادی‘ بھی حاصل نہیں ہوتی کہ آپشنز(options)کو اپنے لئے خود متعین کر لے چہ جائکہ اپنے پسند کئے ہوئے طریقے/ آپشن(option) کے نتیجے/انجام کو اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق کر سکے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کیا۔مقصود اس کی آزمائش ہے۔آزمائش کیلئے تخلیق کردہ شئے کو حریت (freedom) دینا ضروری اوردائرہ اختیار،آپشنز(options)کے متعلق ادراک کی صلاحیت(ہدایت اوَْلیْہ۔شعور،احساس) اور ہدایت دینا لازم ہے۔

إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٟنَ مِن نُّطْفَةٛ أَمْشَاجٛ

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے انسان کونطفے کے جزوی حصے سے تخلیق کیا ہے۔اس(نطفے)کی خصوصیت یہ ہے کہ کئی جڑواں جوڑوں کا اجتماع /مخلوط ہے۔

نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَٟهُ سَـمِيعَاۢ بَصِيـرٙا .76:02٢

  • ہم جناب اسے(انسان)آزمانا چاہتے تھے،اس لئے ہم جناب نے اسے سماعت اور بصارت سے بہرہ مند فرما دیا۔

إِنَّا هَدَيْنَٟهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٙا وَإِمَّا كَفُورٙا .76:03٣

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے اس کے لئے موزوں راہ کی ہدایت اسے دے دی ہے ؛اب  چاہے تو شکر گزار بن کر وہ راہ اختیار کرے اور چاہے تو ہٹ دھرم ناشکرا بنا رہے۔(سورۃ الدھر۔3)

أَحْسَنُ عَمَلًا ۔أَحْسَنُ عَمَلٙاۚ۔میں ۔أَحْسَنُ۔اسم تفضیل کا ماخذح۔ س۔ ن“ہے اور اس کے معنی اعضاء کا صحیح صحیح تناسب اور توازن میں ہونا۔اور عرف عام میں نگاہوں کو بھلی معلوم ہونے والی چیزوں کو حسین کہا جاتا ہے۔لہٰذا حُسن کے معنی تناسب و توازن کا قائم رہنا ہیں۔اورعَمَلًا کاماخذ “ع۔ م۔ ل“ ہے جس کے معنی کام کاج  ہیں،جس میں حرکت ،قوت/انرجی استعمال ہو۔عمل اس کام کو کہتے ہیں جو فکروتدبر اور علم وارادہ کے ساتھ سرزد ہو۔ ”عمل“درحقیقت علم کی مقلوب شکل ہے۔قرآنِ مجید کا انداز بیان اور الفاظ کے چناؤ میں خوبصورتی، لطافت،نفاست،باریکی اور گہرائی اس قدر ہے کہ مجھ جیسے کم فہم سطح اوراہل علم وفکر کی طرح بیان کی قدرت اور صلاحیت سے عاری ہونے کی بناء پربعض باتوں کو قاری تک پہنچانے پر مجھے عبور نہیں اس لئے ان نکات کی گہرائی میں جانے کیلئے آپ خود غوروفکر اور تدبر فرمائیں۔مقصودِ تخلیق یہ ہے کہ جن و انس میں سے کس کا عَمَلًا عمدہ، متناسب ہے۔ ”عمل“ہمیشہ دانستہ ہوتا ہے کیونکہ یہ سرزد نہیں ہوسکتا جب تک اس کے متعلق ”علم“ یاداشتوں (Memory)میں محفوظ نہ ہو۔یاداشت میں سے اس ”علم“کو نکال (retrieve, decode)کر حرکت  میں ڈھالنے کو ”عمل“ کہتے ہیں ۔  جن و انس کے امتحان کیلئے لفظ ”فعل“ استعمال نہیں فرمایا کیونکہ قرآنِ مجید کے مطابق  جنات سے جو بھی امر سرزد ہوتا ہے وہ ”فعل“ نہیں کہلاتا بلکہ ”عمل“ کہلاتا ہے اور انسان سے ”فعل“بغیر ارادے کے بھی سرزد ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا احسن عمل کیلئے لاینفک شرط علم ہے جس کے حصول کا ذریعہ سماعتیں،بصارتیں اور دل و دماغ ہیں۔ اور عمل زندگی کا مظہر ہے۔
آسمانوں اور زمین پر مشتمل ہماری کائنات کی تخلیق کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن وانس میں سے کون أَحْسَنُ عَمَلًاعمدہ عمل پر کاربند ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ متعین کیسے ہوگا کہ أَحْسَنُ عَمَلًاکے احاطے میں کیا شامل ہے اور کونسی باتیں اس سے باہر اور متضاد تصورہوں گی؟ آقائے نامدار،رسول کریم  سے ارشاد فرمایا کہ اس نکتے کو ہمیشہ کے لئے یوں واضح فرما دیں:

قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْـهُـدَىٰۗ

  • آپ(ﷺ)ہر ایک کو واضح فرما دیں ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت نامہ صرف وہ ہے جسے ”الھدیٰ“حتمی اور مطلق ہدایت نامہ قرار دیا گیا ہے(قرء ان عظیم)۔(حوالہ البقرۃ۔120 اور الانعام۔71)

زمان میں ہر دور میں موجود اختراع پردازوں کی دلفریب اور مسحور کن باتوں کے بہکاوے میں کوئی یہ نہ گمان کر بیٹھے  کہ کچھ اور بھی ہدایت کا ذریعہ ہے، آقائے نامدار ﷺ سے الفاظ کی ترتیب بدل کریہ فرمانے کے لئے کہا:

قُلْ إِنَّ ٱلْـهُـدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ

  • ۔۔آپ(ﷺ)ارشاد فرما دیں’’حقیقت یہ ہے  کہ  جسے ”الھدیٰ“حتمی اور مطلق ہدایت نامہ قرار دیا گیا ہے(قرء ان عظیم) وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت  ہے‘‘ ۔(حوالہ ءال عمران۔73)۔

آقائے نامدار، رسول کریم محمّد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ہر اس شخص کے لئے نذیر ہیں جسے قرءان مجید زمان و مکان میں پہنچ گیا(حوالہ الانعام۔19) اور  اللہ تعالیٰ نے قرءان مجید کو ذی حیات(Personification)کے انداز میں بیان فرماتے ہوئے  انبیاء کرام اور رسول کریم ﷺ کی مانند  ہمیشہ کے لئے عالمی "بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙا" قرار دے کراختتام نبوت و رسالت  اور  ہدایت  کا واشگاف اعلان فرما دیا۔

كِتَٟبٚ فُصِّلَتْ ءَايَٟتُهُۥ

  • ۔یہ کتاب ہے،اس کا اہم وصف یہ ہے کہ اس کی آیات/مندرجات کو جدا جدا    سورتوں/ابواب اورموضوعات کے فریم میں تالیف کیا گیا ہے۔

     : Classification -categorization - demarcation and individuation 

قُرْءَ انٙا عَـرَبِيّٙا لِّقَوْمٛ يَعْلَمُونَ .41:03٣

  • ۔اس کے مدون متن کا وصف یہ ہے کہ جزیرہ عرب کی فصیح و بلیغ زبان میں ہے؛ان لوگوں کے لئے جو معلومات حاصل کرنے کے متمنی رہتے ہیں۔

بَشِيـرٙا وَنَذِيـرٙا

  • ۔ اس کی حیثیت زمان و مکان میں خوش کن نتائج کی خبر،ضامن اورکفر و نافرمانیوں کے نتائج و انجام سے پیشگی خبردار کرنے والے کی ہے۔

فَأَعْـرَضَ أَكْثَرُهُـمْ فَهُـمْ لَا يَسْمَعُونَ .41:04٤

  • ۔چونکہ اسے اپنے مفادات سے متصادم سمجھتے ہیں اس لئے ان(اکابرین،عمایدین)کی اکثریت نے اس کو پیش کئے جانے پر اعراض برتا ہے،نتیجہ یہ ہے کہ اب اسے توجہ سے سنتے بھی نہیں۔(سورۃ فصلت۔4)

اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کے مبارک ہونٹوں اور زبان سے  بلاغت کی ایک صنف  تجسم (personification)کو استعمال کر کےقرءان مجید کو ابدی "ذی حیات شخصیت" بنا دیا ہے۔علم کی دنیا میں کتاب کواعلیٰ قرار دینے کا ایک معیار یہ ہے کہ اپنے متعارف ہونے کے زمانے کے نقوش ہمیں دکھائے۔قرء انِ مجید کی ایک صفت عظیم ہے۔اِس کی عظمت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اپنے متعارف ہونے کے طویل عرصے کی تاریخ کو اِس قدر تصویری انداز میں بیان فرماتا ہے کہ اُس دور کا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہمیں جیتا جاگتا دکھائی دینے لگتا ہے، اِس قدر روشن اور واضح کہ ہم اپنے آپ کو اُس دور اور شہر کا زندہ باسی تصور کر سکیں۔ یہ واحد کتاب ہے جس کے مطالعہ سے  "وقت کا سفر"/Time Travel سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک حقیقت محسوس ہونے لگتا ہے کہ ماضی ماضی نہ رہے اور مستقبل مستقبل نہ رہے اور انسان کسی حد تک اس قابل ہو جائے کہ کائنات کی چاروں جہتوں(space-time; four dimensions)میں اپنے آپ کو موجود پائے۔
آئیں مکہ مکرمہ چلیں ساتویں صدی عیسوی میں:

وَإِذَا لَمْ تَأْتِـهِـم بِـٔ​َايَةٛ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَـهَاۚ

  • And when You the Messenger [ Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] did not come to them with a new Ayah: Unitary Verbal Passage of Qur’ān, they said: "Why have you not yourself compiled it?"

  • ۔یہ حقیقت ہے کہ اگرکبھی آپ(ﷺ) نے قرآنِ مجید کی آیت کوابھی اُنہیں نہیں بتایا ہے تو انہوں (انکار کرنے والے عمائدین )نے کہا:”آپ نے خود ہی اُس کو کیوں تالیف نہیں کرلیا؟

 ٱجْتَبَيْتَـهَا۔ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر اور ”ھَا“ ضمیر واحد مؤنث غائب اور معنی ”تونے اس کو چھانٹ لیا،پسند کر لیا،انتخاب کر لیا“ اس کامادہ ”ج۔ ب۔ و(ی)“ ہے جس کے اصل معنی جمع کرنے یا جمع ہو جانے کے ہیں (تاج،محیط، راغب  اِدھراٗدھر کی باتوں میں سے انتخاب کر کے، اور انہیں یکجا کرکے آیت یعنی بات/حدیث بنانے کیلئے جس صلاحیت نے معاونت کرنی اور بنیادی ذریعہ اور وسیلہ بننا ہے وہ یاداشت میں محفوظ علم، روایتیں،واقعات، باتیں، حدیثیں ہیں۔

آپ ﷺ کا اُن لوگوں کو جواب کیا ہے؟

قُلْ إِنَّمَآ أَ تَّبِــعُ مَا يِوحَـىٰٓ إِلَـىَّ مِن رَّبِّـىۚ

  •  ۔آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میرے رب کی جانب  سے کتاب میں سے  کلام مجھے بھیجا جا رہا ہے ؛کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔

هَـٟذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُـمْ

  • یہ (قرآن مجید) تم لوگوں کے رب کی طرف سے آسان فہم تدوین میں  بصیرت افروزپیغام ہے (جو قلب/صدور کو بینائی  دے)

وَهُدٙى وَرَحْـمَةٚ لِّقَوْمٛ يُؤْمِنُونَ .7:203٢٠٣

  • اور  صدق دل سے ایمان لانے والوں کے لئے  سرچشمہ ہدایت اوران کے رب کی جانب سے اظہار رحمت ہے۔“(الاعراف۔203)

زمان کے ہر دور میں ا نسان نازل کردہ کتاب سے فرار کا طالب رہا ہے۔زمان میں لوگ تو نت نئی روایتیں اور حدیثیں بناتے ہی رہتے ہیں اور اُن کی کتاب سے بچنے کی خواہش اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ رسولِ کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کرنے سے بھی نہیں شرماتے:

وَإِذَا تُتْلَـىٰ عَلَيْـهِـمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٟتٛۙ

  • مطلع رہو(زمانہ نزول کی تاریخ سے)جب ہم جناب  کے کلام پر مشتمل آیات  لفظ بلفظ سنائی اور مطالعہ کے لئے  ان لوگوں کودی جاتی تھیں،جو اس انداز میں مدون ہیں کہ ازخود ہر موضوع کو مترشح کر دیتی ہیں۔

قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٛ غَيْـرِ هَـٟذَآ أَوْ بَدِّلْهُۚ

  • ۔تو ان لوگوں(عمائدین مشرکین)نے جو ہمارے حضور احتساب کے لئے پیش کئے جانے کومتوقع نہیں سمجھتے رسول کریم سے کہا"آپ  ایک ایسےمتن/عبارت کو ہمارے پاس لائیں جواِس(قرءان مجید)سے علاوہ اور مختلف ہو یاآپ اس (قرءان مجید)کودوسرے متن/عبارت میں تبدیل کر دیں"۔

کیا ہمارے آقا،آقائے نامدار ﷺ نے اُن لوگوں کو قرء ان کے علاوہ باتیں /عربی میں  حدیث بتانے کی خواہش کو شرف قبولیت بخشاتھا؟ یقینا نہیں ۔آقائے نامدار ﷺ کا قول مبارک سنتے ہیں:

قُلْ مَا يَكُونُ لِـىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآىءِ نَفْسِىٓۖ

  • آپ(ﷺ)جواب دیں"اس(قرءان مجید)کو اپنے علم و ادراک سے دوسرے متن/عبارت میں تبدیل کرنا میرے لئے ممکن اور دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

۔ا نسان اپنی یاداشتوں میں نقش معلومات، تجربات،حدیثوں اورروایتوں کی پیروی اور اتباع میں عمل کرتا ہے جن تمام کے صحیح اور حقیقت ہونے کا دعویٰ کوئی نہیں کر سکتا۔رب العالمین کی قسم ہے کہ قرآنِ مجید کے نزول سے قبل بھی میرے آقا ﷺ کے قلب مبارک اور ذہن میں نقش مبارک زندگی کا ہر لمحہ صحیح،حقیقت،صادق اور امین ہے کہ ان کی عمر کی قسم ا للہ رب ا لعزت دیتا ہے ”لَعَمْـرُكَ۔آپ (ﷺ)کی عمرکی قسم‘ (حوالہ الحجر۔۲۷)۔لیکن وہ اپنی یاداشت میں محفوظ :ہر بات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں

إِنْ أَ تَّبِــعُ إِلَّا مَا يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّۖ

  • حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میری طرف  کتاب میں سے  کلام بھیجا جا رہا ہے ،کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔

إِ نِّـىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّـى عَذَابَ يَوْمٛ عَظِيـمٛ .10:15١٥

  • حقیقت تو یہ ہے کہ میں ایک عظیم دن میں دئیے جانے والے عذاب کا خوف  رکھتا ہوں اگر میں نے اپنے رب کے سونپے ہوئے کام کے خلاف کیا۔"(سورۃ یونس علیہ السلام۔15)

۔رسولِ کریم ﷺ سے لوگوں نے بظاہرباتیں تین کہی تھیں لیکن آپ ﷺ سے جواب ایک بات کا دلایا گیا ہے۔لوگوں نے کہا تھاکہ آپ ﷺ کسی بات کا خود ہی انتخاب کر لیں، اِس قرء انِ مجید کے علاوہ کسی غیر قرآن کو لے آئیں یا اِس کو بدل دیں۔تینوں باتوں کا مقصد اور نتیجہ ایک ہی ہے۔لوگوں کو قرء انِ مجید میں بیان کردہ کے علاوہ باتوں /حدیثوں میں دلچسپی تھی۔رسولِ کریم ﷺ کا دوٹوک جواب یہ ہے”مجھے روا نہیں کہ میں تِلْقَآىءِ نَفْسِىٓ سے اس قرآنِ مجید کو بدل دوں“۔اِدھر اُدھر کی باتوں میں سے انتخاب کرنے، اوردنیا کی کسی بھی کتاب کی باتوں کو بدلنے کیلئے ا نسان کو تِلْقَآىءِ نَفْسِىٓ ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے، چاہے یہ تبدل اُس کتاب کی اپنی زبان میں کیا جائے یا اُس کتاب کی باتوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ و مفہوم بیان کرتے ہوئے۔
ہر ا نسان کی ۔
تِلْقَآىءِ نَفْسِىٓ۔اُس کے ذہن پر نقش وہ یادیں،روایتیں،حدیثیں، باتیں،معلومات ہیں جو زندگی کے اُس مقام تک اُس کی سماعتوں اور بصارتوں میں آئی تھیں اورجو اُس کیلئے علم، ذھانت، دانائی، فہم، تجربہ، بصیرت کا باعث بنی تھیں۔کسی بھی شخص کی۔تِلْقَآىءِ نَفْسِىٓ۔ ادراک وبصیرت کیسے بنتی ہے؟  اس مرکب میں میں تِلْقَآىءِ  کا مادہ"ل۔ ق۔ ی" اور ”ی“ ضمیر مجرور متصل ہے واحد متکلم کیلئے آتی ہے۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا لِقَاءَ ہے۔ ملاقات، کسی بات کا بصر یا بصیرت سے (Perception) ادراک کر لینا(جناب راغب)۔ نَفْسِیٓ کا مادہ ”ن۔ ف۔س“ ہے اورانسانی شخصیت کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے۔نیز وہ توانائی جس سے تمیز کی صلاحیت، شعور اور احساس کی قوت،پیدا ہوتی ہے۔علم اور قلب کے معنوں میں بھی آتا ہے (تاج و ابن فارس)۔

آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے مطالبے کے باوجود انہیں کوئی ایک بات بھی ایسی بتانے اور سننانے سے معذوری کا اظہار فرمایا جو نازل کردہ قرآنِ مجید کے غیر یعنی اُس سے علاوہ ہو۔اُن لوگوں کے نزدیک یہ ایک معمولی سی بات تھی لیکن رسول کریم ﷺ نے انہیں خوش (oblige)نہیں کیا اگرچہ ایسا کرنے سے وہ لوگ بھی آپ ﷺ کو اپنا دوست سمجھنے لگتے۔اُن لوگوں کو ایک کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ سے غیر قرء ان باتیں منسوب کر کے لوگوں میں نہیں پھیلایا۔
آقائے نامدار ﷺ کے دوٹوک فرمان کے بعد اُن سے ذاتی طور پر منتخب کی گئی باتوں پر مبنی آیتیں تالیف کرانے اورقرء انِ مجید کو اُن کے اپنے ادراک و بصیرت کی باتوں سے بدلوانے کے شائقین کے موہوم ارادوں اور خواہشات پر اوس پڑ گئی۔ اُن کی امیدیں بجھ گئیں۔ آپ ﷺ کے قرآنِ مجید کے علاوہ انہیں کوئی بات سنانے،بتانے اور تحریر میں دینے سے انکار پر ثابت قدم رہنے سے آپ ﷺ کے طریقہ کار، دین سے وہ لوگ مایوس ہو گئے۔کتاب،قرآنِ مجید کی بات کو سننے کیلئے وہ لوگ تیار نہیں تھے اور اُس کی کسی بات کو رد کرنے کیلئے اُن کے پاس دلیل نہیں تھی۔اِس لئے قرآنِ مجید سے اجتناب کرنے کا اِس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اُسے سنانے والے ہی سے اِس خواہش کا اظہار کر دیا جائے کہ اپنی صوابدید سے قرآنِ مجید کے علاوہ اپنے علم و بصیرت سے وہ کچھ باتیں /حدیثیں بنائیں اور انہیں سنائیں۔ رسول کریم ﷺ نے انہیں  عقل و فہم کو استعمال کرنے کے لئے مزید سمجھایا:

قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُـمْ

  • ۔آپ(ﷺ)انہیں کہیں"اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا چاہا ہوتا تو میں نے اس(قرءان مجید)کو لفظ بلفظ آپ لوگوں کو سنایا اور مطالعہ کے لئے نہ دیا ہوتا۔

وَلَآ أَدْرَىٰكُـم بِهِۦۖ

  • اور نہ ان جناب نے اس کے متعلق آپ لوگوں کو ادراک دیا ہوتا۔

فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُـمْ عُمُرٙا مِّن قَبْلِهِۦٓۚ

  • ۔اس بات کا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ میں نے ایک عمر تم لوگوں کے مابین بیتائی ہے اس (قرءان مجید)کو بتانے کی ابتدا کرنے سے قبل (اس وقت تو نہ کسی کتاب کو سنایا اور نہ تحریر کر کے دیا)۔

أَفَلَا تَعْقِلُونَ .10:16١٦

  •  کیا  اس مطالبے اور روئیے کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگ  تعقل نہیں کرتے کہ میرے دو ادوار کے مابین فرق کو سمجھ سکو؟“(سورۃ یونس علیہ السلام۔16)

۔آقائے نامدار، رسول کریم ﷺ جو ہمارے معلِّم ہیں ان کے قول کو ذرا توجہ سے سنیں جس کی اہمیت کے پیش نظر اور اس کی جانب لوگوں کو متوجہ اور خبردار رکھنے کے لئے چار بار دہرایا:

إِنْ أَ تَّبِــعُ إِلَّا مَا يُوحَـىٰٓ إِلَـىَّۖ

  • حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میری طرف  کتاب میں سے  کلام بھیجا جا رہا ہے ،کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔(حوالہ الانعام۔50 ؛  یونس علیہ السلام۔15۔اور الاحقاف۔9)


قُلْ إِنَّمَآ أَ تَّبِــعُ مَا يِوحَـىٰٓ إِلَـىَّ مِن رَّبِّـىۚ

  •  ۔آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"حقیقت یہ ہے کہ میں تو خلوص اور تن دہی  سےفقط اس  کی پیروی میں عمل پیرا ہوتا ہوں  جو میرے رب کی جانب  سے کتاب میں سے  کلام مجھے بھیجا جا رہا ہے ؛کسی اور کی اتباع نہیں کرتا۔(حوالہ الاعراف۔203)


 

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی۔ٱلْءَايَٟتُ۔ٍ پر مشتمل ہے جس کی اتباع آقائے نامدار رسولِ کریم ﷺ کرتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں قرآنِ مجید آقائے نامدار رسولِ کریم ﷺ کی ذات اقدس میں مجسم ہوتا ہے اور تحریر اور حیات باہم ایک محسوس ہوتے ہیں۔ اورعلم  آیات کا ہوتا ہے۔ہر آیت ظاہر اور مشہود ہے جو قابلِ تصدیق ہوتا ہے۔
ہر انسان کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔انسان کا باطن اس کے روبرو اپنے زمان و مکان میں موجود دوسرے لوگوں کیلئے بھی پنہاں ہوتا ہے۔ا نسان کے باطن کادوسروں کو ادراک صرف اور صرف اس سے حاصل ہو سکتا ہے جس کی وہ ا نسان اتباع کرتا ہے۔ اور اگر کوئی صرف ایک بات کی اتباع کرے تو اُس انسان کاظاہر اور باطن ایک ہو جاتا ہے۔انسان کاجسد اس کا تعارف ہے لیکن اس کی حقیقت، شخصیت،ہستی (personality,person) کی پہچان صرف اس کا باطن ہے۔ انسان  کا جسد شئے سے ہے جس نے مرنا،میت ہوکر لوگوں کیلئے ظاہر نہیں رہنا کیونکہ اسے قبر میں دفنا دیا جانا ہے۔لیکن جس ا نسان کاباطن ظاہر ہو چکا ہو اور وہ لوگوں کے پاس تحریری شکل میں موجود ہو تو ایسی شخصیت زمان و مکان کی نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہو سکتی کیونکہ حقیقت صرف وہ ہے جو باطن ہے اور جب کسی کا باطن میری نظروں میں ہے تو اس کے جسد کی ضرورت مجھے نہیں رہتی۔ آقائے نامدار ﷺ کا باطن،پنہاں انسان کیلئے ظاہر اور عیاں ہے۔ اور جس ہستی کا باطن، پنہاں ظاہر ہو اس کے متعلق جاننے اور علم میں تشنگی کا عنصر قطعی طور پر موجود نہیں ہوتا۔وہ ظاہر سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔وہ چاروں جہتوں
(space-time; four dimensions)میں ہے۔

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ

  • مگر تم لوگ  (مدعیان ایمان)کیسے قرءان مجید  کو پس پشت ڈال سکتے ہو،اس سے غفلت برت سکتے ہو۔نگاہوں سے اوجھل کر سکتے ہو؟

وَأَنتُـمْ تُتْلَـىٰ عَلَيْكُـمْ ءَايَٟتُ ٱللَّهِ

  • جبکہ تم لوگ اس حال میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات لفظ بلفظ تم لوگوں کو سنائی جا تی  ہیں۔

وَفِيكُـمْ رَسُولُهُۥۗ

  • اور  اس حال  میں ہو کہ ان جناب کے رسول(محمد ﷺ)تم لوگوں کے مابین بحثیت نذیر/متنبہ کرنے والے اور معلم موجود ہیں(محذوف خبر کے لئے حوالہ 6:19)۔

وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ

  • اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مرجع خلائق کاتعلق استوار کر لیتا ہے

فَقَدْ هُدِىَ إِلَـىٰ صِـرَٟطٛ مُّسْتَقِيـمٛ .3:101١٠١

  • تویقیناوہ منزل کی جانب رواں دواں رکھنے والے راستے کی جانب ہدایت دے دیا گیا۔(ءال عمران۔101)


وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُـمْ رَسُولَ ٱللَّهِۚ

  • اور  تم لوگ  اس حقیقت سے باعلم رہو کہ اللہ تعالیٰ کے رسول(محمد ﷺ)تم لوگوں کے مابین بحثیت نذیر/متنبہ کرنے والے اور معلم موجود ہیں۔(محذوف خبر کے لئے حوالہ 6:19)۔[حوالہ الحجرات۔7]

۔یہ انتہائی تاکیدی  جملہ ہے۔فعل امرجمع مذکر حاضر   علم سے بہرہ مند ہونے کا حکم ہے۔اور بعد والا جملہ  مصدر کے معنی میں مفعول کے طور ہے۔علم محض زبان سے معلومات کو کہنے کا نام نہیں بلکہ  اس کے مفعول کو پہچاننے اور جاننے اور یقین کی کیفیت میں ہونا ہے۔آقائے نامدار محمّد ﷺ موجود تو ہیں مگر  ایک  مسئلہ، ایک حقیقت تو یہ بھی  ہے:

وَمَا يَسْتَوِى ٱلۡأَحْيَآءُ وَلَا ٱلۡأَمْوَٟتُۚ

  • اور سب ذی حیات آپس میں مساوی نہیں ہوتے اور نہ ہی مردے آپس میں مساوی ہوتے ہیں۔

إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُۖ

  • یہ حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ جس کسی،زندہ یا مردہ،کو سنانا چاہتے ہیں اسے سنا دیتے ہیں۔

وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٛ مَّن فِـى ٱلْقُبُورِ .35:22٢٢

  • ۔مگر آپ(ﷺ)اس شخص کو یقیناً  کسی وقت بھی نہیں سنا سکیں گے جو ان جیسا بن چکا ہے جو قبروں میں مدفون ہیں۔(سورۃ فاطر۔22)

إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ .35:23٢٣

  • You the Messenger [Sal'lallaa'hoalaih'wa'salam] are but the revivalist-awakener-Admonisher. [35:23]

  • ۔یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ (ﷺ)تو صرف کفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ نتائج و عواقب سے پیشگی خبردار کرنے والے ہیں(سننا تو اس شخص کا اپنا فیصلہ ہے)


وَمَا عَلَّمْنَٟهُ ٱلشِّعْـرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓۚ

  • ۔مطلع رہو؛ ہم جناب نے انہیں(رسول کریم محمّد ﷺ)شاعری کی تعلیم نہیں دی اور نہ یہ انہیں زیبا ہے کہ ازخود شاعری کرنا سیکھ لیں۔

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٚ وَقُرْءَانٚ مُّبِيـنٚ .36:69٦٩

  • ۔ہم نے جس کی تعلیم انہیں دی ہے وہ تومکمل سرگزشت تخلیق اور بعنوان قرءان ایک ایسا متن ہےجس کا وصف یہ ہے کہ ہر ایک موضوع/topic-concept الگ تھلگ انداز میں مضمون/پیرائے کی صورت قلمبند کیا گیا ہےجو کہ ہر بات کو متمیز،حقائق مستور اور حقیقت  منکشف کر دینے والاہے۔

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٙا

  • ۔اس کی غایت یہ ہے کہ وہ(ﷺ)ہر اس شخص کو  کفر و نافرمانیوں کے ناگفتہ بہ انجام اور عواقب سےمتنبہ کر سکیں جو زندہ ہونے کا رویہ رکھے ہوئے ہے۔

وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَـى ٱلْـكَـٟفِرِينَ .36:70٧٠

  • ور تاکہ جہنم رسید کرنے کے وعدہ کی رسول کریم اور قرءان مجید کا انکار کرنے والوں پر تکمیل ہو جائے۔(یسؔ۔70)

۔  قرآنِ مجید ہمارے درمیان ہے تو آقائے نامدار ﷺ ہمارے درمیان ہیں۔اور یہ احساس تو تبھی ہو سکتا ہے اگر ہم”زندہ“ ہیں کیونکہ مردوں کوتو وہ سنا ہی نہیں سکتے۔اور اگر ہم زندہ ہیں تو ہمارے زندہ ہونے کا ثبوت روایات اور تاریخ کی کھوج نہیں بلکہ آقائے نامدار ﷺ کے بیانِ حقیقت کو سننے اور اس کی اتباع ہے کیونکہ آپ ﷺ کی حیات کا ہر لمحہ اس بیانِ حقیقت کی اتباع کی کامل تاریخ ہے۔اتباع میں حرکت ہے۔اتباع عمل کی ہے۔عمل یاداشت میں محفوظ علم کا مرہون منت ہے اس لئے انسان کے باطن کا عیاں ہونا اس کی یاداشتوں میں محفوظ علم کا مرہون منت ہے۔اور آقائے نامدار ﷺ کے قلب و ذہن میں محفوظ علم صرف قرآنِ مجید ہے ۔میں کائنات کے ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جن کے پاس آقائے نامدار ﷺ موجود ہیں کہ آپ ﷺ کا قلب و ذہن ایک کھلی ہوئی کتاب میں میرے پاس موجود ہے۔قریہ قریہ مجھے گھومنے کی ضرورت نہیں۔جب چاہوں آپ ﷺ کے قلب و ذہن میں جھانک کر آپ ﷺ سے ہدایت حاصل کر لوں۔ آقائے نامدار،رسولِ کریم ﷺ پر درود وسلام ہے ہر لمحہ صبح و شام۔(یہ اہم نکتہ ہے۔اس کے متعلق ان شاء اللہ مزید مطالعہ کریں گے،مضمون بعنوان "آپ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے، کیا ہم زندہ ہیں"۔

مگر مجھے معلوم ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد کوروایت در روایت کے تانے بانے میں الجھا دیا گیا ہے اور دوسری طرف دھوکہ دہی سے  نبی اور رسول کا بہروپ اختیار کرنے والوں  نے ایک اقلیت کی اپنے آقا، رہبر،معلِّم کو جاننے اور پہچاننے کی صلاحیت  کو ماؤف کر دیا ہے،اس لئے  ان کے لئے یہ اعلانات بھی درج کر دیتا ہوں،رب العالمین اور رسول کریم ﷺ کے سامنے اپنی معذرت کے لئے  کہ حتی المقدور میں نے اپنے لوگوں کو واپس لانے کی کوشش کی تھی:

قُلْ يَـٰٓأَيُّـهَا ٱلنَّاسُ

  • آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں!اے لوگو!دھیان سے سنو

قَدْ جَآءَكُمُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُـمْۖ

  • بیانِ حقیقت (قرء انِ مجید)یقیناآپ لوگوں تک پہنچ گیا ہے،یہ آپ لوگوں کے رب کی جانب سے آسان فہم انداز میں مرتب فرمایا گیا ہے۔

فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَـهْتَدِى لِنَفْسِهِۦۖ

  • اِس لئے لوگوں میں سے جس کسی نے(قرآنِ مجید پہنچنے پر) از خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔

وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَاۖ

  •  اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے۔

وَمَآ أَنَا۟ عَلَيْكُـم بِوَكِيلٛ .10:108١٠٨

  • ( اورمیں آپ لوگوں کے انحراف  وکیل/ ذمہ دار نہیں ہوں۔“(سورۃ یونس۔108


وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَۖ

  • ۔اور مجھے یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں قرءان مجید کواس انداز میں سناؤں کہ ہرلفظ جزو جزو  صوت میں نمایاں ہو"۔

فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَـهْتَدِى لِنَفْسِهِۦۖ

  • اس لئے جس کسی نے قرءان مجید پہنچ جانے پراز خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔

وَمَن ضَلَّ

  • ۔اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے(رسول کریم اس کے ذمہ دار نہیں)۔

فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ .27:92٩٢

  • ۔اس لئے آپ (ﷺ)وضاحت کر دیں"یہ حقیقت ہے کہ  میری ذمہ داری اور کردارکفر و نافرمانیوں کے  ناگفتہ بہ نتایج و عواقب سے  متنبہ کرنے والوں میں تمام انسانیت کے لئے ہے"۔(سورۃ النمل۔92)


قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَـىٰ نَفْسِىۖ

  • آپ(ﷺ)انحراف اور ہدایت کا اصول بیان فرما دیں"اگر میں نے اس(بیان حقیقت)سے انحراف کیا ہے تو میں اپنی ذات پر انحراف کا بوجھ ڈال رہا ہوں۔

وَإِنِ ٱهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِـىٓ إِلَـىَّ رَبِّـىٓۚ

  • اور اگر میں نے خلوص سے اپنے آپ کو ہدایت پر گام زن کیا ہے تو یہ اس سے توصل کے ذریعے کیا جو میرے رب میری جانب کلام وحی فرما رہے ہیں۔

إِنَّهُۥ سَـمِيعٚ قَرِيبٚ .34:50٥٠

  • ان کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ ہر لمحہ سنتے ہیں،وہ جناب قریب موجود ہیں"(سورۃ سباء۔50)


إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْـكِـتَٟبَ لِلنَّـاسِ بِٱلْحَقِّۖ

  • ۔یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب نے آپ(ﷺ)پر منفرد کتاب (قرءان مجید)کو مجتمع انداز میں نازل کیا ہے،اس کا مدعا تمام لوگوں کے لئے سرچشمہ ہدایت دینا ہے،یہ ہر طرح کے مواقع و حالات میں مبنی بر حقیقت رہنمائی دے گا۔

فَـمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦۖ

  • اس لئے جس کسی نے قرءان مجید پہنچ جانے پراز خودخلوص سے صحیح سمت کی رہنمائی کوحاصل کیا درحقیقت اس نے محنت و خلوص سے خود اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہدایت یافتہ بنایا۔

وَمَن ضَـلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَاۖ

  •  اور جوکوئی(قرآنِ مجید سے) غافل/منحرف ہوا تواُس کی گمراہی کا ذمہ خود اُس پر ہے۔

وَمَآ أَنتَ عَلَيْـهِـم بِوَكِـيلٛ .39:41٤١

  • ۔اور آپ (ﷺ)ان کے انحراف اور گمراہی پر رہنے اور ہو جانے کے قطعی ذمہ دار نہیں ہیں۔(اس لئے آپ سے دوزخ میں جانے والوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔البقرۃ۔119)[سورۃ الزمر۔41]

۔انسان صاحب حریت ہے مگر عقل و فہم سے مزین ہے۔جس کا من چاہے وہ قریہ قریہ گھوم کر اپنے تئیں "ہدایت" ڈھونڈنے والوں کو سرپرست، اولیاء گمان کر کے  ان کی اتباع سے پلٹ آئے ،اور جو منافقین کے بہکاوے میں دائرۃ السوء کے بھنور میں پھنس کر آقائے نامدار، رسول کریم محمّد ﷺ اور قرءان مجید سے دور ہو گئے  ہیں وہ خود کوشش کر کے اس جماعت سے نکل آئیں اس سے قبل کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔آپ ﷺ کا ایک اور قول مبارک سنتے ہیں:

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ ءَاذَنتُكُـمْ عَلَـىٰ سَوَآءٛۖ

  • بات کو سن کر اگر وہ لوگ اقرار کئے بغیر منہ موڑ کر چل دیں توآپ (ﷺ) انہیں سنا دیں ”میں نے تم لوگوں کوبرابری /یکسانیت کے اصول پراطلاع کر دی ہے۔

وَإِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٚ مَّا تُوعَدُونَ .21:109١٠٩

  • ۔اور جہاں تک تمہارے اُس لمحے/دن کے متعلق سوال کا تعلق ہے تو مجھے اِس بات کا اِدراک نہیں کہ جس دن کا تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے آیا وہ مستقبل قریب میں ہے یا مستقبل بعید میں"۔ (الانبیاء۔109)