قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے


قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے معشر الجن و انس سے اپنے خطاب کی ابتداء میں متمنی ہدایت سے بالخصوص اور ان میں ہر ایک متلاشی حقیقت کو قرءان عظیم کو ان الفاظ میں متعارف فرمایا:

الٓـمٓ .١

  • عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
    [اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تشریح

ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ

  • یہ ہے وہ کتاب جس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ منفردکتاب جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

Recitation  Roots: ک ت ب; ر ى ب 

یہ جملہ اسمیہ ہے۔۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ ۔یہ مبتداء حالت رفع (فی محل رفع)،اسمائے اشارہ میں سے ہے۔بعید کیلئے آتا ہے۔اِس میں ”ذَا“اسم اشارہ ہے (قریب کیلئے استعمال ہوتا ہے) اور حرف ”کَ“ حرف /ضمیرخطاب ہے جو مخاطب کی مناسبت سے تذکیر،تانیث،تثنیہ اور جمع میں بدلتا رہتا ہے۔ یہ مذکر،واحد ہے۔یہ دو سو ترانوے بار استعمال ہوا ہے۔
مقرر اور مصنف،اسم اشارہ کے استعمال سے اپنے سامع/قاری کی توجہ۔بصر کو اُس شئے،تصور،حقیقت کی جانب مبذول کراتا ہے جس کے متعلق کسی اطلاع/خبر سے اُس کو مطلع کرنا چاہتا ہے
۔اسم اشارہ کے استعمال سے سامع اور قاری کو کسی شئے سے متعارف کرایا جاتا ہے اِس لئے جب کسی کی توجہ اور بصر اُس شئے پر ایک مرتبہ مرکوز ہو جاتی ہے تو اُس سے متعارف ہوجانے، اور اُس کے تصور اور ادراک میں پہنچ جانے کی بناء پراُس شئے کانزدیکی دوری کا فرق مٹ جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں کسی کی خصوصیات کے ذریعے اُنہیں متعارف کرانے کیلئے بھی یوں استعمال ہوا ہے ۔
ذَٟلِكَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَۚ۔ ”یہ ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم“(حوالہ مریم۔34

یہ اسم اشار ہ، بدل ”منفرد کتاب“کو سامع اور قاری کو متعارف کرتا ہے۔ ”ٱلْـكِـتَٟبُ “۔”اَل“+” کِتَٰبُ“۔”اَل“ حرف تعریف (definite article)ہے۔نکرہ (common noun) کو معرفہ (definite noun)بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔یہ اسم معرفہ ہے،یعنی قاری کیلئے ایک معروف کتاب، اِس بناء کہ چاہے اُس نے خود اِسے ریک سے اٹھایا ہے یا اُسے کسی نے پیش کیاہے۔
 ”
ٱلْـكِـتَٟبُ “عربی زبان میں مذکر ہے۔ قرء انِ مجید پڑھتے ہوئے الفاظ کے مذکر،مؤنث ہونے کے متعلق خصوصی دھیان رکھیں وگرنہ امکان ہے کہ تراجم میں اِس کا دھیان کئے بغیر بیان کیا گیا مفہوم اِس کے اپنے عربی الفاظ کے تصور اورمفہوم سے کوسوں دور ہو۔

۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ قرء انِ مجید میں صرف ایک بار ہے۔کتاب کو ایک بار متعارف کیا جاتا ہے۔دنیا میں کتابیں اَن گنت ہیں اوربعض کو متعارف کرانے کیلئے تقریب رونمائی بھی منعقد کی جاتی ہیں اور کتاب کی ابتدا میں قاری کواُس کاتعارف کرایا جاتا ہے۔ اَن گنت کتابوں میں سے قرء انِ مجید کا اندازِتعارف بھی منفرد ہے۔تحریر اور گفتگو کا آسان انداز یہ ہے کہ مبتداء/ موضوع  ایسا ہو جو سامع/قاری کے تصور/ادراک میں پہلے سے ہو جس کے متعلق اُسے ایسی اطلاع/خبر دی جائے جو قبل ازیں اسے معلوم نہ ہو۔

کتاب کا ابتداء میں تعارف اِن الفاظ سے نہیں فرمایا ۔هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ۔”یہ قرء ان ہے“۔اِس جملے میں۔ٱلْقُرْءَانُ۔ کی بحثیت مشار الیہ نسبت/ ascription اسم اشارہ سے ہے۔ نسبت/خبر/اطلاع سامع اور قاری کو اگر مستفید کرے تو اسے خاموش اور متوجہ رکھتی ہے وگرنہ وہ سوال اٹھا دے گا یا اُس کا ذہن متذبذب ہو جائے گا جس کی وجہ سے توجہ بکھر جائے گی۔   چونکہ کتاب کا اپنا مخصوص نام/ اسم علم ہے جو ممکن ہے سامع نے قبل ازیں نہ سنا ہو،اُس سے وہ متعارف نہ ہو،اِس لئے اِس نام کو ابتداء میں موضوع بنانے سے اُس کی توجہ اِس نام کو جاننے اور سمجھنے پر مرکوز ہو کربکھرنے کا امکان تھا۔بعد ازاں یہ جملہ ہمیں تین مقام پر ملے گا [6:19(2)10:37(3)43:31]

  ۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ یہ دو الفاظ،ایسے قاری کیلئے جس نے کتاب کو خود اٹھایا ہے اور اُس کیلئے بھی جسے کتاب کو پیش کیا جارہا ہے،نامکمل اطلاع ہیں،لیکن یہ اُس کیلئے توجہ،انہماک اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں،اُس بات کو جاننے کیلئے جس کی جانب اسم اشارہ اُس کی توجہ کو مبذول کرانا چاہتا ہے۔کتاب چونکہ شخص کے ہاتھ میں ہے یا اُس کی نظروں کے سامنے ہے جسے تھمایا جا رہا ہے، اِس لئے وہ جانتا ہے کہ اِن دو الفاظ کا مطلب یہ بتانا نہیں ہے کہ ”یہ کتابِ خاص ہے“،”تمہارے لئے یہ معروف کتاب ہے“ بلکہ دوری کا اسم اشارہ اُس حقیقت کی جانب ہے جو کتاب میں درج ہے،کتاب کے مندرجات کی پنہاں حقیقت جو ابھی اُس کے تصور و ادراک سے دور ہے کہ فی الحال اُس نے اِس کا مطالعہ نہیں کیا۔یہ دو الفاظ سامع اورقاری کیلئے کتاب کی انفرادیت، خصوصیت اور اِس کے منفرد ہونے کے سبب کوسننے اور جاننے کے شوق اور توجہ کو ابھارتے ہیں۔اِس طرح اِس ابتدائی جملے کے معنی ہیں ”یہ ہے وہ منفرد/مخصوص کتاب“۔

اور اس کتاب کی انفرادیت کے متعلق یہ خبر دی: ۔لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ۔اِس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اِس کے مجموعہ کلام /بیان میں تخیل،مفروضوں،غیر تصدیق شدہ،بے سروپابلند بانگ دعووں،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا مواد نہیں جودوران مطالعہ باعثِ الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ  منفردکتاب ہے جوریب سے منزہ بیان ِ حقیقت ہے۔

یہ جملہ سامنے موجود کتاب،قرءان مجید کے متعلق اول خبر ہے،فی محل رفع۔ لَا ۔حرف ۔نافية للجنس۔اس کی  نظری پہچان یہ ہے کہ اس کے بعد بیان کردہ اسم ہمیشہ  نکرہ اور منصوب ہوتا ہے اور تنوین نہیں ہوتی۔اور وہ اسم لَا کہلاتا ہے۔ یہ اپنے اسم کے حوالے سےمطلق نفی کرتا ہے۔مطلق نفی کا مطلب ہے کہ  اس کا اسم جس جنس/نوع(species)  سے  تعلق رکھتا ہے اس میں موجود ہر ایک ایک جزو کی مکمل،یکسر نفی کرتا ہے۔اس طرح ایسا کوئی لفظ اس کا اسم نہیں ہو سکتا جو جنس/نوع کا حامل نہیں۔اس کا اسم۔رَيْبَ۔ مصدر ہے، ماخذ "ر۔ی۔ب"۔اس حرف کی خبر اگر ایک لفظ سے بیان ہو تو وہ  مرفوع ہوتا ہے۔عموماً اس کی خبر محذوف ہوتی ہے مگر اس کے متعلق استعمال کئے گئے مرکب سے ازخود واضح ہوتی ہے۔فِيهِ۔ جار و مجرور متعلق محذوف خبر لَا ۔متصل ضمیر واحد مذکر،مجرور راجع کتاب۔”اِس کتاب کے اندر،اِس کتاب کے مندرجات میں،اِس  میں درج مجموعہ کلام میں“۔ کتاب اٹھانے والے کو اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ”کتاب کے اندر“ کا مفہوم اُس میں درج /تحریرمجموعہ کلام ہی ہوتا ہے۔
اِس جملے کو ہم گرائمر کے ماہرین کے نقطہ نظر سے مبتدا  ء  
ذَٟلِكَ  کی خبر سمجھ لیں یا ۔ٱلْـكِـتَٟبُ۔کے حوالے سے ”حال“ سمجھیں، معنی اور مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔قرءان مجید میں یہ جملہ دس بار ہے، دو بار قرءان مجید کے متعلق اور آٹھ بار یوم قیامت کے متعلق۔

کتاب کے مندرجات کے متعلق فیصلہ انہیں پڑھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے کہ کتاب محض گمان و ظن،تخیل اور نفسیاتی الجھن و اضطراب کے زیر اثر تحریر کی گئی ہے یا جو کچھ اِس میں بیان ہوا ہے وہ مبنی بر علم اور حقیقت ہے۔سچائی کے متلاشی کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے ہاتھ ایسی کتاب لگے جس میں پڑھنے کو اُسے سچائی اور حقیقت ملے لیکن کتاب کو اٹھاتے وقت اُس کے ذہن میں الجھن اور تذبذب کی کیفیت لازماً ہوتی ہے کہ نہ جانے اِس ضخیم کتاب کے اوراق کا مطالعہ کرنے کے بعد اُن محرکات اور مقاصد کی تسکین ہو سکے گی جس کیلئے کتاب کو اٹھایاتھا۔ دنیا میں موجود اَن گنت کتابوں نے قاری کے اِس مخمصے، الجھن اور وقت کا کبھی احساس نہیں کیا لیکن اِس کے باوجود لوگ سچائی پانے کی امید میں اِن کتابوں کو پڑھتے ہیں جن کی اکثریت اپنے قاریوں کی اکثریت کو وقت کے ضیاع اورمقصد ِمطالعہ کی عدم تسکین کے سوائے کچھ نہیں دیتی۔
کتابوں میں منفرد کتاب قرآنِ عظیم ہے جسے اپنے قاری کے احترام،وقت اور اُس کے خدشات (concerns) کا احساس ہے۔ یہ اپنی ابتدا،قاری کویہ یقین اور اطمینان دلانے سے کرتا ہے کہ اب اُسے وہ کتاب میسر آ گئی ہے جس کی تحریرمیں کوئی ایسی بات شامل نہیں جس میں کسی قسم کے ریب کا عنصر ہو اور وہ اُسے صرف اور صرف سچائی اور مکمل علم پر مبنی بات بتائے گی۔اورمتمنی ادراکِ حقیقت کو بھی مطمئن کر دیا کیونکہ بحر مردار کے غاروں میں سے ملنے والی کتابوں سمیت دنیا میں پھیلی اَن گنت کتابوں میں صرف ایک کتاب لاریب ہونے کا جب دعویٰ کرے تو یہ دعویٰ دعویٰ نہیں رہتا بلکہ ایک دلیل، ایک ثبوت بن جاتا ہے کہ کتاب زمان و مکان کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور جس کا کلام ہے وہ زمان و مکان سے نہیں بلکہ زمان و مکاں اُن سے ہے۔

۔رَيْبَ ۔کے معنی اور مفہوم

قرء انِ مجید کے بیان میں موقع محل کے حوالے سے الفاظ کے چناؤ میں کمال نفاست،انفرادیت اورمناسبت ہے کہ قاری انتہائی باریکی سے،مگر باآسانی اُس تصورکا ادراک کر سکے جسے اُسے پہنچانا مقصود ہے۔اِس لئے انتہائی ضروری ہے کہ اِس کے جملوں کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرنے کیلئے اُن میں استعمال ہوئے لفظ کی جگہ کسی دوسرے عربی لفظ کومتبادل سمجھ کر نہ کیا جائے کیونکہ عربی زبان کا ہر ایک لفظ ہر دوسرے لفظ سے انفرادیت کا حامل ہے۔عربی زبان کا ہر ایک لفظ درحقیقت اپنے آپ میں یکتا ہے۔قدیم  ”مفسرین“ نے یہ لکھ دیا کہ   ۔رَيْبَ۔=شَکَّ، اور نتیجہ یہ ہے کہ زمان میں اکثریت نے اسے بنیاد بنا کرتراجم و ”تفاسیر“ میں ۔رَيْبَ۔کو”شک“ میں تبدیل،اور یکے بعد دیگرے مترجم اور ”مفسر“ نے محض دہرا دہرا کر زبان زدعام کر دیا۔شَكّٚ۔ بھی عربی زبان کا مصدر ہے۔اگر آیت مبارکہ میں قرء انِ مجید کے تعارف کے متعلق شک کے حوالے سے تصور دینا ہوتا تو پھر ۔رَيْبَ۔استعمال نہ کیا جاتا۔

قرء انِ مجید زمان کی منتہا تک تمام جن و انس کیلئے ہے۔اِس لئے اِس کے قاریوں کی اکثریت اِس کو اول مرتبہ کھول کر دیکھے گی۔اُن کی اکثریت،بالخصوص سنجیدہ، کتابوں کے مطالعہ کا شوق
،ادبی رجحان رکھنے والوں کے نقطہ نظرسے کتاب کی ابتداء میں یہ کہنا کہ ”اِس کتاب میں کوئی شک نہیں“ ایک سطحی،بے مقصد،بے کشش جملہ ہے جو توجہ کیلئے جاذب نہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ قرء انِ مجید کا یہ جملہ نہیں ہے۔ یہ محض نقل درنقل کیا گیا ترجمہ کچھ بھی واضح کرنے کی بجائے اُس قاری کے ذہن میں کئی سوالوں کو ابھارنے کا سبب بنے گا کہ کس کے اور کون سے شک کی نفی کی جا رہی ہے۔

شَكّٚ ایک ایسا مصدر نہیں ہے جس کیلئے لَا ۔حرف ۔نافية للجنس استعمال کیا جائے۔شک حقیقی ہوتا ہے یا محض غیر حقیقی/ارادۃً۔ اختیاری/ volitional۔شک کا تعلق لاعلمی کی کیفیت سے ہے۔اور انسانوں کی اکثریت ہر لمحہ کسی نہ کسی حوالے سے حالت شک میں ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ یہ (اردو میں شکوک جمع  کہ یہ اسم بھی ہے) اُن کیلئے باعث ”ریب“ ہو۔

۔رَيْبَ ۔فعل ”رَابَ-يَرِيبُ“ کا مصدرہے۔مصدر زمان کے حوالے/صیغے کے بغیر فعل و عمل،کام،حرکت،جستجو، حالت، میکنزم، نظم، نظام،اثرانداز ہونے کا اظہار کرتا ہے۔مصدر اور فعل جس عمل کا حوالہ دیتے ہیں وہ زمان و مکان میں اُس تغیر و تبدل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جو اُس فعل و عمل کے سرزد ہونے کا سبب اور مقصود تھا۔فعل و عمل جلد یا بدیرایک نتیجہ پیدا کرتا ہے(یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے)۔فعل و عمل موجودہ حالت میں تغیر و تبدل کر کے ایک نئی حالت کو وجود پذیر کرتا ہے۔
مصدر اور فعل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فعل زمان یعنی ماضی،حال،مستقبل کے حوالے سے ہے جبکہ مصدر میں زمان کا حوالہ اُس لمحے/لمحات سے ہے جن میں اسے استعمال کیا گیا ہے۔
اگر مصدر کو مخصوص زمان سے منسوب کرنا ہے تو اضافی الفاظ کا سہارا لینا ہو گا۔قرء انِ مجید کے جملوں میں الفاظ کے چناؤ /جیسے یہاں مصدرکی خصوصیات کو اگر تراجم میں اہمیت نہیں دیں گے توسوائے ایک سطحی معنی اور مفہوم کے اُس تصور کو مکمل سمیٹ کر بیان نہیں کیا جا سکے گا جواُس جملے میں موجود ہے۔اِس عدم توجہ میں یہ امکان بھی ہے کہ ٹارگٹ زبان میں بیان کردہ مواد قرء انِ مجید کے بیان سے قطعی کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو۔کتاب کے حوالے سے مصدر کا استعمال دوران مطالعہ کیلئے ہے۔

۔رَيْبَ ۔کا مادہ ”ر۔ ی۔ ب“ ہے۔اِس مادہ میں سمویا ہوا بنیادی تصورتذبذب، نفسیاتی الجھن، کشمکش اور اضطراب نفس کا اظہار کرتا ہے۔کسی شئے کے متعلق متزلزل اورگومگو (suspicious, double minded) کی ایسی کیفیت جو ذہن کو الجھن میں مبتلا کرے۔ عربی زبان کے لفظ ” شَكّٚ “ کا مرادف (synonym) نہیں۔شک ذہن کی وہ کیفیت ہے جو کسی شئے کے متعلق لاعلمی، غیر یقینی اور غیر مطمئن ہونے کی حالت سے پیدا ہوتی ہے یااِس گمان سے کہ فلاں مخلص اور قابل بھروسہ نہیں۔یہ صرف غیر یقینی اور عدم اعتماد کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ذہنی الجھن،تناؤ، پریشانی اور اضطرب،چڑچڑاہت کا باعث بھی ہو لیکن ۔رَيْبَ ۔کی کیفیت میں الجھن، تذبذب،بے چینی اور اضطراب موجود ہوتا ہے ۔   شک کی کیفیت میں انسان کسی ایسی بات پر یقین کرنے یا اُسے ماننے پر مائل ہونے کی بجائے سوا ل یا چیلنج کرتا ہے جسے دوسرے سچائی تسلیم کرتے ہیں (skeptical) ۔

کتاب کے حوالے سے تسلیم شدہ اصول ہے کہ اِس کے الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم وہی لئے جائیں گے جو اُس کتاب نے طے کئے ہیں اور اگر اُس نے اُن الفاظ کے معنی،مفہوم اور تعریف کو متعین نہیں کیا تو پھر اُس کتاب میں بیان کردہ بات کو سمجھنے اور طے کرنے کیلئے مروجہ لغت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اِس سے قطع نظر کہ کسی بھی لفظ اور اصطلاح کے کوئی کیا معنی اور مفہوم لیتا ہے اُن کی وہ تعریف غالب رہے گی جو اُس کتاب نے متعین کی ہے۔

قرآنِ مجید بھی ۔ٱلْـكِـتَٟبُ۔ ہے اوراپنے الفاظ اور اصطلاحات کے معنی،مفہوم اور تعریف خود طے اور بیان کرتا ہے۔قرآنِ مجید نہ صرف زمان و مکان کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے بلکہ اُس کے وجود پذیر ہونے سے قبل اور لپیٹ دئیے جانے کے بعد پیش آنے والے حقائق کو بھی واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ لسان کے کسی ماہر کی ترتیب دی ہوئی لغت کے ذریعے انہیں سمجھنے میں مشکل، پیچیدگی اور اختلاف ہوتا،اِس لئے قرآنِ مجید اپنے الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم، حدود، گہرائی اور وسعت کا تعین بھی خود کرتا ہے۔قرآنِ مجید اِس حوالے سے بھی منفرد کتاب ہے کہ یہ اپنے الفاظ اور تصورات/ concepts کیلئے بہترین لغت ہے۔ کے معنی اور مفہوم اور اِس کاعربی کے دوسرے لفظ سے الگ اور منفرد ہونا اِس نفاست سے واضح فرمایا گیا ہے کہ میرے جیسے عربی زبان کی محض الف ب جاننے والوں کو بھی مشکل پیش نہ آئے۔ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا يَسْتَـٔ​ْذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلۡءَاخِـرِ

  • حقیقت یہ ہے کہ آپ(ﷺ) سے صرف وہ لوگ (منافقین) حیلے بہانے سےجنگ میں شرکت سے رخصت مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پردرحقیقت ایمان نہیں رکھتے۔

وَٱرْتَابَتْ قُلُوبُـهُـمْ

  • یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب نے اپنے آپ کو دہرے پن کے اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔

فَهُـمْ فِـى رَيْبِـهِـمْ يَتَـرَدَّدُونَ .9:45٤٥

  • ۔اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے تخلیق کردہ دہرے پن کے مضطرب احساس کی حالت میں مترددالجھن میں سرگرداں رہتے ہیں۔(سورۃ التوبہ۔45)

اِس آیت مبارکہ میں مادہ ”ر۔ ی۔ ب“ سے بنے دو الفاظ،ایک فعل ۔ٱرْتَابَتْ۔، اور ایک مرکب اضافی میں۔رَيْبِـهِـمْ۔ مصدر ہیں۔انسان جب ریب کا شکار بن چکا ہو،دہرے پن کے مخمصے میں پھنس چکا ہو تو اُس کا رویہ اور روش،ذہنی اور قلبی حالت کیا ہوتی ہے؟ قرء انِ مجید نے ریب کے شکار لوگوں کے روئیے،روش، ذہن و قلب کو سے بیان فرما کر ریب کے معنی اور اثر انگیزی کو واضح فرما دیا۔یہ پانچویں باب سے فعل مضارع مرفوع،جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اِس کے مادہ ”ر۔ د۔ د“ کے بنیادی معنی اپنے اصل مقام،نظرئیے کی جانب لوٹنا ہے۔فعل کا مرفوع/ Indicative Mood اور پانچویں باب سے ہونا بنیادی معنی میں کسی کو گومگو،تذبذب کی کیفیت، الجھن میں سرگرداں کیفیت [to waver, vacillate, in an affair, or between two affairs]میں مبتلا کرنے کا اضافہ کرتے ہیں۔
ریب ایک احساس، جذبے [emotion and passion] مخمصے،شش و پنج،اضطراب میں مبتلا کرتا ہے جس کا تعلق اور واسطہ قرء انِ مجید نے دل /قلب کی دنیا سے بتایاہے جبکہ شک کا تعلق عقل اور ذہن سے ہے۔قلوب جب تک اپنے تخلیق کردہ اِس احساس اور جذبے سے خودکودانستہ الگ نہ کریں تو یہ کیفیت برقرار رہے گی،معدوم ہونے کا نام نہ لے گی۔

لَا يَزَالُ بُنْيَٟنُـهُـمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةٙ فِـى قُلُوبِـهِـمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُـهُـمْْۗ

  • ۔اُن /منافقین کی تعمیر کردہ وہ عمارت،جس کو انہوں نے ڈیزائن کیا ہے،اُن کے دلوں میں دہرے پن کے اضطراب و تذبذب کو برقرار رکھے گی۔یہ اضطراب اُس وقت تک برقرار رہے گا تاآنکہ اُن کے قلوب رضا و رغبت سے اپنے آپ کو الگ تھلگ نہیں کرتے۔

وَٱللَّهُ عَلِيـمٌ حَكِيـمٌ .9:110١١٠

  • اس حقیقت سے باخبر رہو کہ اللہ تعالیٰ منبع علم ہیں،اور تمام نظام کے فرمانروا اور تمام پنہاں کو بخوبی جانتے  ہیں۔(التوبہ۔110)

۔رَيْبَ ۔اور ۔ شَكّٚ۔مرادف ہیں اور نہ مترادف،اور یہ ایک دوسرے کا بدل بھی نہیں ہیں۔شک کی حالت/کیفیت اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو کسی بھی شئے اور معاملے کے متعلق ایک ایسی اطلاع / information ملتی ہے جس کے بارے میں اُس کا احساس حتمی اور یقین کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا۔اِس صورتحال میں اُس کا ذہن اُس اطلاع کو سچائی/حقیقت تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا لیکن اِس قابل بھی نہیں ہوتا کہ ذہن میں پہلے سے موجود معلومات کے بھروسے پر اُس کی نفی کر سکے اور دلیل اور ثبوت سے اُس کاانکار کر سکے۔ اِس طرح شک ذہن کی وہ کیفیت ہے جو اطلاعات/معلومات ملنے پر اُن پراعتماد اور یقین کرنے سے قبل ہوتی ہے۔متمنی حقیقت اپنے آپ کو اِس کیفیت سے نکالنے کیلئے اُس اطلاع کے متعلق سوال کرتا ہے،مزید معلومات اور وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔
مگر بعض اطلاع، معلومات اور ایساتقاضا جو وصول کنندہ کے ذہن پر عرصہ دراز سے نقش،اُس کے خون اور عادات میں رچے بسے نظریات، تصورات اورعقائد سے متضادہے،اُس کو ایسے شک میں مبتلا کر سکتا ہے جوبعض کیلئے باعث اضطراب، بے چینی، الجھن،تذبذب ہو۔اِس کی وضاحت قرء انِ مجید میں بیان کردہ ماضی کے صاحبان اقتدار و ثروت کے دعوت حق کے جواب میں کہے اقوال اورکیفیت میں ہے۔

قَالُوا۟ يٟصَٟلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوّٙا قَبْلَ هَـٟذَآۚ

  • انہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"اے صالح!اس(اللہ تعالیٰ کے احکام دینے)سے قبل  آپ ہمارے درمیان ایک روشن امید تھے۔

أَتَنْـهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا

  • کیا آپ ہمیں اس کی بااظہار بندگی کرنے سے ممانعت کر رہے ہیں جس کی ہمارے اباؤ اجداد بندگی کرتے رہے ہیں۔

وَإِنَّنَا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ .11:62٦٢

  • اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔(سورۃ ھود علیہ السلام۔62)

Root: ش ك ك


أَ لَمْ يَأْتِكُـمْ نَبَؤُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلـِكُـمْ قَوْمِ نُوحٛ وَعَادٛ وَثَمُودَۛ

  • کیا تم لوگوں تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم لوگوں سے قبل آباد و شادمان تھے،وہ نوح(علیہ السلام)کی قوم،اور قوم عاد اور قوم ثمود؛

وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِـمْۛ لَا يَعْلَمُهُـمْ إِلَّا ٱللَّهُۚ

  • اور وہ  قومیں جنہوں نے ان بیان کردہ اقوام کے بعد عروج پایا۔اِن کو اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی اور نہیں جانتا۔

جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَـهُـمْ فِـىٓ أَفْوَٟهِهِـمْ

  • ان کے پاس ان کی جانب مبعوث فرمائے گئے اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے ناقابل تردید بیان حقیقت اور بے مثال مظاہر دکھائے تھے۔جس پراس کی اثر پذیری کو زائل کرنے کے لئے اپنی قوت و صلاحیت کو واپس اپنی اصل افواہ/منہ سے گھڑی باتوں میں پلٹا دیا۔

وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَـرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُـم بِهِۦ

  • ۔اورانہوں(عمائدین/اکابرین قوم)نے کہا"ہم نے  قطعاً اس کورد کر دیا ہے جس کے ساتھ آپ لوگ بھیجے گئے ہونے کا کہہ رہے ہو۔

وَإِنَّا لَفِـى شَكّٛ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٛ .14:09٩

  • اوریہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں جو موجب اضطراب و پریشانی ہے اُس کے متعلق جس بارے آپ   لوگ ہمیں دعوت دے رہے ہیں /جس کی جانب ہمیں بلا رہے ہیں“۔(سورۃ ابرراہیم علیہ السلام۔9)


وَحِيلَ بَيْنَـهُـمْ وَبَيْـنَ مَا يَشْتَـهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِـم مِّن قَبْلُۚ

  • اور جیساقبل کےزمان میں ان کی پیش رو اقوام کے ساتھ فعل کیا گیا تھا وہی رکاوٹ ان کے اور اس  خواہش کے مابین جو وہ کر رہے تھے حائل ہو گئی۔(رجوع کی مہلت ختم) 

Root: ش ھ و;  ش ى ع

إِنَّـهُـمْ كَانُوا۟۟ فِـى شَكّٛ مُّرِيبِۭ .34:54٥٤

  • یہ حقیقت ہے کہ اس سے قبل عذاب سے خبردار کئے جانے کے متعلق  حقیقت تسلیم کرنے میں وہ ایسے شک میں مبتلا رہے جو موجب الجھن بنتا تھا۔


اِن آیات مبارکہ نے نکھارکر واضح کیا ہے کہ ۔رَيْبَ ۔اور ۔ شَكّٚ۔ ایک دوسرے کا بدل نہیں ہیں۔اِن مقامات پر ایسے شک کو بیان کیا گیا جس کی صفت اسم فاعل کے صیغے ۔مُّرِيبِۭ ۔ سے بیان ہوئی ہے۔اِس طرح واضح ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دل اور دماغ کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ قلب میں اضطراب،بے چینی،عدم ٹھراؤ نتیجہ ہو سکتا ہے کسی خاص شک کے سبب، مگر شک نتیجہ نہیں ہے بسبب  رَيْبَ۔
سینکڑوں تراجم و تفاسیر کے بیان سے قطع نظرآپ خودغور فرمائیں کہ سبب اور نتیجے/ Cause and Effect کو مرادف/ مترادف تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ قرء انِ مجید ہمیں صاحب عقل و فکر قرار دیتے ہوئے توقع کرتا اور ہدایت دیتا ہے کہ اسے بروئے کار لائیں۔

قرء انِ مجید نے اِس کے زمانہ نزول میں مقتدر طبقے کے منکرین لوگوں کا ایک قول لفظ بلفظ (verbatim)ہمیں بتایا جو اُن کے ۔رَيْبَ ۔کے متعلق تصور، معنی اور مفہوم کوہم تک پہنچاتا ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ شَاعِـرٚ نَّتَـرَبَّصُ بِهِۦ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ .52:30٣٠

  • یاکیا وہ لوگوں سے کہتے ہیں ”وہ ایک شاعر ہیں،اُن کیلے ہم نے اپنے آپ کو منتظرکرلیا ہے [اشارہ۔ہم برداشت کر رہے ہیں] اُس مخصوص اضطراب کے دور کیلئے جو انجام کار شاعر کو ہوتا ہے“(الطور۔30)

۔زمانے میں رائج نظام کے متضاد طرز زندگی اور نظام اپنانے کی دعوت حق کا انکار کرنے والوں کے اِن اقوال سے واضح ہے کہ اُن کا شک حقیقت پر مبنی شک نہیں تھا بلکہ یہ غیر حقیقی، دانستہ اختیار کردہ شک / volitional doubt تھا۔ایسا غیر حقیقی شک اُس وقت اضطراب، شش و پنج،مخمصے،تناؤ میں مبتلا کرے گا جب عقل و فکر/دماغ اور قلب کے مابین کشمکش کی صورت ہو گی۔ جذبات، خواہشات، دنیاوی مفادات کی فکر اور عقل و فہم ایک دوسرے کے متضاد سمتوں میں کشش و رغبت رکھنے کی بناء پرغیر حقیقی شک انسان کو مضطرب حالت میں رکھتا ہے۔اُن لوگوں کے جذبات،خواہشات،مفادات کی فکر نے اُن کی عقل و فراست پرغلبہ پا کر اسے مفلوج کر دیا۔

مطالعہ کتاب کا محرک اکثریت کیلئے تلاشِ علم،کچھ کیلئے تلاشِ منزل اور ادراکِ حقیقت ہے۔تلاشِ علم کا محرک انسانی فطرت، شک اور خوف ہے کیونکہ انسان ماں کے بطن میں سے خارج کئے جانے پر دنیا میں اپنی آمد کے وقت ۔
لَا تَعْلَمُونَ شَيْــٔٙا۔ ”کسی شئے کا علم نہیں جانتا“۔ شک انسان کو عدم اعتماد،عدم ایمان،عدم یقین کی کیفیت میں رکھتا ہے اور ریب موجب اضطراب ہے۔حقیقی شک کی ضد علم ہے۔اور ریب کی ضد علم و حقیقت پر قلب وذہن کا اتفاق اور ہم آہنگی ہے جو انسان کیلئے موجب اطمینان،سکون اور ایسا ایمان ہے جواندھا نہیں بلکہ مخلصانہ ہے۔

فلسفہ، خیال، گمان، مفروضہ، داستان، کہانی،روایت،سنی سنائی حکایت میں وہ عنصر ہمیشہ موجودہوتا ہے جو شکوک و شبہات کا حامل ہے۔کوئی بھی بات ریب کا باعث بننے سے بالاتر جبھی کہلا سکتی ہے اگر زمان و مکان اسے متاثر نہ کرتے ہوں کیونکہ حقیقت قیود سے آشنا نہیں ہوتی۔ کتاب کا تعارف اوردعویٰ یہ ہے کہ اِس میں تحریر کردہ مواد میں ایک بھی حدیث/بات، اطلاع، خبر ایسی نہیں جو دوران مطالعہ قاری کیلئے باعث الجھن و اضطراب بنے۔سنجیدہ قاری کیلئے کوئی بھی کتاب ریب سے منزہ تب تصور ہوتی ہے جب وہ مکمل بیانِ حقیقت ہو۔

وَهُوَ ٱلْحَقُّ

  • اور وہ (قرآنِ مجید)بیانِ حقیقت ہے۔(حوالہ البقرۃ۔91)

۔ٱلْحَقُّ۔اُس پائے ثبوت کو پہنچ چکی سچائی کو کہتے ہیں جسے زمان ومکان اب متاثر نہ کر سکیں۔ناقابل تردید حقیقت کو کہتے ہیں۔ یہ جملہ اِس جملے کے معنی اور مفہوم ہیں۔آپ نے عربی زبان کی عظمت و برتری کا کچھ تو اندازہ لگایا ہو گا کہ پانچ صفحوں میں وہ میں بیان نہیں کر سکا جو زیر مطالعہ آیت مبارکہ کے تین الفاظ اور اِن کی حقیقت بیان کرنے والے اِن سے تین مختلف الفاظ بتا رہے ہیں۔سنجیدہ قاری کیلئے وہ کتاب،تمام کتب کی ماں /اساس۔منبع [Sublime-Infinitely reliable] کہلانے کی مستحق ہے جس کا ہر ایک لفظ حقیقت بیان کرتا ہو جو ذہن و قلب کو مکمل اور ابدی تسکین دیتا ہے کیونکہ وہ تمام شکوک و شبہات،ابہام،تخیلات کی بیخ نکال دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرءان مجید کو متعارف کرنے کے لئے محض پانچ الفاظ کو ایک خاص  ترتیب دے کر منتخب فرمایا۔ الفاظ میں اس قدر اختصار کے باوجود فصاحت و بلاغت  سے تمام کتاب کا احاطہ فرما دیا جو سنجیدہ اور اکیڈیمک اصولوں کے تحت ہر ایک ایک لفظ کا بغور و فکرمطالعہ کرنے والے قاری کومتعجب کر دے۔سنجیدہ قاری کے لئے یہ تعارف ایک دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے کہ ایسا دعویٰ کوئی بڑے سے بڑا صاحب علم مصنف نہیں کر سکتا۔یہ دعویٰ تو وہی کر سکتا ہے جو منبع علم ہے۔ یہ بیان بن کہے بتا رہا ہے کہ یہ اِس کولوگوں کے سامنے پیش کرنے والے  صاحب علم و دانائی پبلشر محمَد ﷺ  کی تصنیف نہیں ہے۔

ایک منفی بات کی مطلق نفی کرنا بلاغت کے اصول میں  منتہائی تاکید(ultimate emphasis)کا مفہوم ہے۔اگر تعارف میں یہ کہا جاتا کہ "یہ کتاب بیان حقیقت ہے"تو اس میں بلاغت کو عنصر نہ ہوتااور قاری کے لئے متاثر کن اور تعجب خیز نہ ہوتا بلکہ محض ایک بیان کی حیثیت رکھتا نہ کہ دعویٰ کی۔تما صاحبان علم ان باتوں کی فہرست بنائیں جوکسی بھی سنجیدہ قاری کے لئے باعث اضطراب، الجھن،ناگوار احساس کا موجب ہو سکتی ہیں  توانہیں اس دعویٰ کے حقیقت ہونے کا ادراک ہو گا کہ کوئی ایک بھی اس کتاب کے متن میں نہیں ہے۔یہ اپنے آپ میں اس کے لئے دلیل ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی جانب سے رسول کریم محمَد ﷺ کو بتدریج عنایت کردہ ہے۔

ایک عام قاری جو فصاحت و بلاغت کی نفاستوں اور لطافتوں کو نہیں سمجھتا اس کے لئے بھی تعارفی جملے کو یوں واضح فرمایا:

الٓـمٓ .32:01١

  • عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
    [اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

تَنزِيلُ ٱلْـكِـتَٟبِ

  • منفرد کتاب کا بتدریج/سلسلہ وار انداز میں نزول/لوگوں کو پہنچایا جانا۔۔

 لَا رَيْبَ فِيهِ 

  • ۔اس تحریری کلام میں منفرد بات/حال یہ ہے کہ اس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

مِن رَّبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .32:02٢

  • (نزول/لوگوں کو پہنچایا جانا)آسان فہم تدوین میں موجود و معلوم تخلیق کردہ دنیاؤں/ہر ایک وجود پذیر کے رب کی جانب سے ہے۔

۔رب العالمین نےقرآنِ مجیدکا تعارف  کراتے ہوئے  دعویٰ کر کے بتایا کہ یہ ایک ایسا تحریری مجموعہ کلام ہے ہے جس میں بیان کردہ باتوں میں خیال، گمان، مفروضہ، داستان، کہانی، روایت،نفسیاتی اضطراب کا کوئی عنصر اور پہلو نہیں،اِس لئے ریب سے بالاتر ہے اور ریب سے بالاتر کتاب قابل اعتماد ہونے کی (infinitely reliable) منتہا پر ہوتی ہے۔قرآنِ مجید نے پر یقین اور لطیف انداز میں اپنے تعارف ہی میں دعوے سے کہہ دیا کہ اِس کے علاوہ کائنات میں بکھری کتابیں ریب کے عنصر سے  بالا تر اور منزہ نہیں ہیں۔انہیں بغیر تحقیق و تجسس (infinitely reliable) قابل اعتماد نہیں مانا جا سکتا۔ اورہمارا مشاہدہ بھی یہی ہے کہ کسی دوسری کتاب نے ایسے دعویٰ اور یقین کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں دیا۔ قرآنِ مجید کے اِس دعویٰ کے بعد کوئی بھی ہستی اور کتاب یہ دعویٰ دہرا نہیں سکتی کیونکہ کتابِ لا ریب صرف اور صرف ایک ہوتی ہے۔

(اردو زبان میں کتاب کو مؤنث لکھتے ہیں لیکن عربی میں قرآنِ مجید ہمیشہ مذکر صیغے میں ہے۔تصور میں یہ فرق ملحوظ رکھیں)
اِس تعارف سے کہ یہ کتابِ لا ریب ہے یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ آغاز ہی سے کتاب اپنے قاری کو پرکھنا شروع کر دیتی ہے۔ تلاشِ علم اور جستجو حقیقت کے دعوی میں سچا شخص بغض اور تعصبات کے بھنور میں الجھا نہیں ہوتا۔کتاب کی پہلی سطر پڑھنے کے بعد اِس کے مطالعہ سے انکار یا فرار کی دلیل نہیں لا سکتا۔ اُسے کتاب کو پڑھنا ہو گا اور مطالعہ کے بعد ہی فیصلے کا حق ہو گا کہ اِس کے مندرجات اور دعوت کو قبول کرے یا انکار کر دے۔ لیکن انسان کا شرف یہ ہے کہ دلیل کو دلیل سے رد کرے،اور اگر کوئی دلیل اُس کے احاطہ ادراک میں نہیں آ رہی تو مشاہدہ اور تجربہ کی کسوٹی پر پرکھ کر اسے مان لے اور صرف غلط ثابت ہونے کی صورت میں اُس کا انکار کرے۔ اور جو ا نسان ایسا نہیں کرتے معاشرہ انہیں ضدی، ہٹ دھرم، فریبی اور جانور وغیرہ قرار دینے سے نہیں ہچکچاہتا۔اور یوں کتابِ لا ریب قاری کو اپنی نظروں میں بے نقاب کر کے اُس کا اصلی چہرہ اسے دکھا دیتی ہے۔اگر جستجو علم اور تلاش حقیقت میں سرگرداں شخص کو یہ معلوم ہو کہ دنیا میں ایک کتاب کا یہ اعلان ہے لیکن پھر بھی اِس کتاب کو نہ پڑھے تو درحقیقت تلاش علم و حقیقت کے دعویٰ میں سچا نہیں اور گمان و ظن کا پیروکار ہے۔الکتاب کے اِس منفرداعلان کے بعد اپنے آپ کو متمنی حقیقت کہنے والے کیلئے اِس کے مطالعہ سے انکاراور فرار کی راہ اختیار کرنے کی دلیل اور جواز کوئی نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ دانا و بینا،بغض اور تعصب سے مطہر قلب کیلئے کائنات میں بکھری اَن گنت کتابوں میں سے ایک کتاب کا یہ منفرد دعویٰ ہی اُسے تسلیم کرنے کیلئے اپنے آپ میں ایک قوی دلیل ہے۔ لیکن ماہرین سائنس، مفکرین اور فلسفیوں کی اکثریت جستجوئے حقیقت کی مدعی ہونے کے باوجود قلب و ذہن کی گہرائیوں اور اندھیروں میں چند ایسے نکات کی دلدل میں دھنسی ہوتی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بغض اور تعصب اُن سے چھپائے نہیں چھپتا۔ کتاب کے لا ریب ہونے کے دعویٰ کے باوجود اِس کتاب کو پڑھنے ہی سے انکار کر دیتے ہیں اور تصور اور تخیل کو کائنات کی وسعتوں میں پھیلاتے ہیں کہ اِس کے کناروں،ابتدا اور منتہا کو پا سکیں، اوریقین کی منزل کو نہ پا کر آخر اُن وسعتوں میں خود بکھر کر رہ جاتے ہیں۔

کتاب کا جب تعارف یہ ہو کہ ہر قسم کے ریب سے منزہ ہے تو اُس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ زمان و مکان کے حوالے کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور زمان و مکان کے حوالے کی قید سے آزاد کتاب حقیقت بیان کرتی ہے۔سچائی اور حقیقت میں نفیس فرق یہ ہے کہ سچائی زمان و مکان کے حوالے سے ہوتی ہے اور حقیقت زمان و مکان کے حوالے سے بالاترہے کیونکہ یہ ثابت شدہ سچ ہے اِس لئے حقیقت اختلاف اور تضاد کے امکان سے آزاد ہوتی ہے۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَۚ

  •  (ان کا یہ طرز عمل کیوں ہے)کیا یہ اِس بناء پر ہے کہ انہوں نے قرآن کے مندرجات میں ترتیب و تسلسل سے ازخودغوروفکر/تدبر کرنے کی عادت کو نہیں اپنایا؟

وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْـرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٟفٙا كَثِيـرٙا .4:82٨٢

  • (اِس نکتے پر غور کرو کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی  بجائے کسی اور کی تصنیف ہوتا تو یقینا ان لوگوں نے اِس کے مندرجات کے مابین ایک تو کیا کئی باہمی اختلاف  کو موجود پایا ہوتا۔(سورۃ النساء۔۸۲

قرآنِ مجید میں انسان تدبر کرے تو اِس میں بیان کردہ واقعات ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ہم پڑھ نہیں رہے بلکہ وڈیو کلپ دیکھ رہے ہیں ”تدبر“ کیا ہے؟ اِس کا مادہ ”د۔ ب۔ ر“ اور معنی ہر شئے کا پچھلا حصہ، پیٹھ، پشت، بات کا انجام ہیں۔کسی معاملہ کے انجام، آخر پر نظر رکھتے ہوئے اُس میں غوروفکر کرنا۔قرآنِ مجید میں تدبر کا مفہوم یہ ہے کہ قاری اِس کے کسی بھی مقام پر اپنی رائے،گمان اور تخیل سے کچھ اخذ نہ کرے،اپنی جانب سے کوئی وضاحت (عربی زبان میں۔بیان)پیش نہ کرے۔ کتاب میں تدبر کا مفہوم اُس میں بیان کردہ تمام کے تمام متن، پہلی اور آخری بات کو گہری اورتنقیدی نگاہ سے دیکھنا ہے۔قرآنِ مجید تفسیر حقیقت ہے۔یہ اپنے میں دلچسپی لینے اور تدبر کرنے والے کیلئے اپنی ہر بات اور الفاظ اور اصطلاحات کو تصریف آیات کے ذریعے نکھار کرالگ الگ کر کے واضح فرماتا ہے۔
کتاب ِ لا ریب کی حقیقت اور مفہوم کواِ ن الفاظ میں واضح کر دیا کہ قرآنِ مجید زمان و مکان کے خالق ا للہ تعالیٰ کے بجائے اگر زمان و مکان کی کسی ہستی کی تصنیف ہوتا تو اِس میں آگے پیچھے بیان کردہ باتوں میں بکثرت اختلاف اور تضادبیانی پائی جاتی۔ اور یہ اصول اور حقیقت واضح کر دی کہ اختلاف اور تضاد بیانی سے ایسی کتابیں پاک نہیں اور نہ آئندہ وجود میں آنے والی کتابیں ہو سکتی ہیں جو زمان و مکان میں محدود کسی ہستی کی تحریر پر مبنی ہوں۔ اور یوں یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی کہ اُن کتابوں میں اختلاف اور تضاد کے امکانات زیادہ ہوں گے جن کے مصنف ا ُن میں موجود تحریر اور کلام کو کسی دوسری شخصیت سے منسوب کریں۔
اِس حقیقت سے یہ بھی واضح ہے کہ قرآنِ مجید کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرتے ہوئے اگر کوئی شخص کسی مقام پر اسکی آیات پر اپنے خیالات، سوچ، مشاہدات، تجزیے منطبق کرنے کی کوشش
 کرے گا تو دوسرے مقام پر اسے وہ کچھ کہنا پڑے گااور ایسی بے سروپا تاویلات کا سہارا لینا پڑے گا جو اُس کے بیان کردہ مطالب اورمفہوم میں اسکے ذہن کے اختلاف اور تضادکو اتنا عیاں کر دے گا کہ علم و فکر کی دنیا میں مقام و مرتبہ سے متاثر ہوئے بغیر قاری اُس کی بات اور خیال کو رد کردے گا۔

کتاب کے متعلق انسان کا ادراک یہ ہے کہ لوگوں تک بات (حدیث)کوپہنچانے کا ایک ذریعہ اور اُن سے تحریری رابطہ ہے۔ لپیٹ کر (Scroll) یا دو گتوں کے درمیا ن ایک خاص مقدار سے زیادہ تعداد میں اوراق پرتحریری مواد کو ہم کتاب کہتے ہیں۔ کتاب ترتیب دیا ہوا مجموعہ کلام ہے اور اِس کا بنیادی مقصد علم کو محفوظ کرنا اور لوگوں تک پہنچانا ہے۔علم و حقیقت اور ہدایت کولوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ کتاب ہے۔کتاب کے مقصد کے حصول کی کا میابی کا دارومدار اُس کی زمان و مکاں میں پہنچ (portability) اور حفاظت و دوام (permanence)پر منحصر ہے۔

 اور کتاب ثبات اور دوام کی حامل قرار پانے کی اُس وقت مستحق ہے جب گردش پذیر زمان و مکاں کے تمام مکینوں تک اصل حالت میں پہنچ سکے۔ اور کتاب اصل حالت میں زمان و مکان کے مکینوں تک صرف اُس صورت میں پہنچ سکتی ہے کہ اُس کے قرطاس پر تحریر کیا ہوا کلام زمان کی گزر گاہ میں محفوظ رہے کیونکہ کاغذ اور گتے کو دوام حاصل نہیں۔اورکتاب میں تحریر کئے اپنے کلام کی حفاظت صرف وہ کر سکتا ہے جو زمان اور ہرمکان میں ہر لمحہ موجود ہو۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی شخصیت اپنے کلام یا تحریر کو زمان و مکاں کیلئے ریب تو دور کی بات ہے،شک سے منزہ قرار دے سکتی ہے جو خودزندہ نہ رہ سکے؟ کیا ہزار سال قبل کی کوئی ہستی یہ ذمہ بھی لے سکتی تھی کہ اُس کی کتاب اُس کی زندگی کے ہزار سال بعدبھی بلا تحریف ا نسان تک پہنچ جائے گی؟ زمان کے کسی سائنسدان،مفکر،عالم، محقق،صوفی،ولی، محدث، امام، مجدد، مفسر کی تحریر میں اِس بات کی ضمانت نہیں ملتی۔اُن میں سے کسی نے اپنی بات کو حرف آخر کہنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ ا للہ تعالیٰ کا کوئی بندہ کسی بھی بات کیلئے انسانوں کیلئے حجت اور حرف آخر کا درجہ نہیں رکھتا اوراِس کی دوسری وجہ یہ فرمان ہے:

وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٛ عَلِيـمٚ 

  • ۔۔اور  یاد رہے،ایک   علم میں راسخ اور منبع علم ہر ایک صاحب علم کے اوپر موجود ہوتا ہے۔۔(حوالہ سورۃ یوسف علیہ السلام)

ایک مصنف اپنے زمان اور مکاں کے لوگوں کے سامنے اپنی بات اور کلام کو حرف آخر قرارنہیں دیتاتو کیااُس کے بعد کے زمان کے لوگ اپنے دور اور آئندہ کے زمان کیلئے ماضی کے اِس مصنف کی بات کو حرف آخر قرار دینے کا اختیار اور سند کہیں سے حاصل کر سکتے تھے؟ غوروفکر کیلئے یہ ایک کھلا سوال ہے کیونکہ زمان کی ہر نسل/امت اپنی عقل و فکر کیلئے جوابدہ ہے۔ماضی کی جن باتوں کو ہم نے ورثے کے طور پر اپنایا تواُس کیلئے ہمارے ماضی میں گزرے لوگ ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔
زمان و مکان میں جو کوئی زندہ نہ رہ سکے وہ اپنے کلام کو حرفِ آخر کہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی بعد کے زمان میں اُس کے کلام پر”صحیح“ ہونے کا گمان کر کے ایمان لا بیٹھے تو قصور اسکا اپناہے نہ کہ اُس کا جس سے کلام منسوب کیا گیا ہوکیونکہ ایمان تو ایسے کلام پہ لایا جاتا ہے جو لا ریب ہو اورزمان کی گزرگاہ میں اسکی محفوظیت کی ضمانت کسی نے ذمہ لی ہو اور جس کے بارے میں یہ بھروسہ بھی ہو کہ زندہ رہے گامرے گا نہیں۔

إِنَّا نَـحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ

  • یہ حقیقت ہے کہ ہم جناب ہیں؛ہم نے بتدریج سرگزشت تخلیق اور سلسلہ رشدوہدایت(قرءان مجید)کو نازل کیا ہے۔

وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٟفِظُونَ .15:09٩

  • اور یہ حقیقت ہے,ہم جناب زمان و مکان میں ہر لمحہ بلا شبہ اس کے متن کے لئے خودحفاظت کا ذمہ لئے ہوئے ہیں۔(الحجر۔9)


وَتَوَكَّلْ عَلَـى ٱلْحَـىِّ ٱلَّذِى لَا يَمُوتُ

  • اورآپ (ﷺ اپنے بعدذکر کی حفاظت کے متعلق) اُن ایک زندہ پر بھروسہ کریں جو کبھی مریں گے نہیں۔(حوالہ الفرقان۔58)

میں نے یہ کہا کہ تعارف اس قدر بلیغ ہے کہ  بن کہے بتا رہا ہے کہ یہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے والے  صاحب علم و دانائی پبلشر محمَد ﷺ  کی تصنیف نہیں ہے۔قرءان مجید کے ریب سے منزہ حالت میں ہونے کے موضوع پر بات کا تسلسل سورۃ کے فریم-6 میں آیات 23-25میں ملے گا اس طرح کہ یکجا کر کے پڑھیں تو ربط اور تسلسل پھر بھی ملے گا:

ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ

  • یہ ہے وہ کتاب جس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ منفردکتاب جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

وَإِن كُنتُـمْ فِـى رَيْبٛ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَـىٰ عَبْدِنَا

  • اور اگر تم کسی تذبذب؍ذہنی الجھاؤ میں مبتلا ہو اِس کتاب کی تصنیف کے متعلق جسے ہم نے اپنے بندے(رسولِ کریم ﷺ) پر وقتاً فوقتاً نازل فرمایا ہے

فَأْتُوا۟ بِسُورَةٛ مِّن مِّثْلِهِۦ

  • تواس الجھاؤ سے نکلنے یا اس تخیل کو ثابت کرنے کے لئے کہ وہ اس کتاب کے مصنف ہیں، جاؤ اِس (قرء ان )کے مثل ایک سورۃ ہی لے آؤ۔

وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ

  • اورسوائے اللہ تعالیٰ کے اس کام کے لئے اپنے تمام مددگاروں کو بھی مدعو کر لو۔

إِن كُنتُـمْ صَٟدِقِيـنَ.2:23٢٣

  •  (ایسا کر کے دکھاؤ اگر تم اپنے کہے ہوئے قول میں سچے ہو۔( البقرہ۔۲۳

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟

  • لیکن کوششوں کے باوجود اگر تم ایسا کر نہیں سکے ہو

وَلَن تَفْعَلُوا۟

  • (اور یقیناًتم کبھی نہیں کر سکو گے (کیونکہ کتابِ لا ریب رسول کی تصنیف نہیں، نازل کردہ ہے

فَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِـى

  • بسبب حقیقت آشکارہ ہو جانے پرتندہی سے اپنے آپ کومحفوظ کرو اُس آگ سے

وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِـجَارَةُۖ

  • اس (آگ،گرم جہنم)کا ایندھن سلگتے،جھلستے ا نسان اور پتھر بنیں گے ۔

أُعِدَّتْ لِلْـكَـٟفِرِينَ.2:24٢٤

  • اُسے(جہنم۔جیل) انکار کرنے والوں کی رہائش کیلئے تیار کیا گیا ہے۔(البقرۃ۔24)