قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


تعارف

   اللہ تعالیٰ کے کلام کی یہ دوسری اور قرءان مجید کی پہلی سورۃ ہے۔پہلی اور اس سورۃ میں بنیادی فرق متکلم کا ہے۔سورۃ الفاتحہ میں متکلم آقائے نامدار،رسول کریم محمد ﷺ کو خاتم النبیین اور آخری عالمی رسول ماننے والے اور قرءان مجید پر ایمان لانے والے ہیں اور ان کے مخاطب اللہ تعالیٰ، الرّحمٰن ذوالجلال و الاکرام ہیں۔اور اس سورۃ میں متکلم  اللہ تعالیٰ، الرّحمٰن ذوالجلال و الاکرام ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ابتدا میں یہ آیت اس کا جزو/متن کا حصہ نہیں۔

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْـمَـٰنِ ٱلرَّحِيـمِ .١

  • (آقائے نامدار رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا]ا للہ تعالیٰ کے اسم ذات الرَّحمٰن سے ابتدا ہے جومنبع رحمت ہیں۔(۱]

اعلیٰ کتاب  کو جانچنے کا معیار کیا ہے؟وہ یہ ہے کہ قاری مصنف کی آواز(Voice)کو  دوران مطالعہ  سن سکے اور ان کی منفرد شخصیت کو پہچان سکے۔یہ بلاغت (rhetoric) کاعروج ہے کہ  اعلیٰ ترین تحریر وہ ہے کہ   قاری اس  کے مصنف کو اپنے قرب و جوار میں موجود محسوس کر سکے۔ہر تحریر کے پیچھے  ہستی موجود ہے   مگر باکمال ہے وہ ہستی  اور ان کا تصنیف کردہ متن جس کی سطروں میں سے گزرتے ہوئے قاری انہیں ہر لمحہ موجود پائے۔ادبی علوم(literature)میں  قاری  کی مصنف کی آواز(Voice)کو سننے اور ان کو اپنے پاس موجود محسوس کرنے کا دارومدار  مصنف کی ابلاغ کی صلاحیت کے تناسب سے ہے۔

گفتگو/تقریر/کلام  بہ زبان میں مقرر کے لہجے یعنی الفاظ کی ادائیگی میں  آواز کا تناسب، اتار چڑھاؤ، بولنے کے انداز اور جسمانی  حرکات اور تاثرات کے الگ سے معنی اور مفہوم ہوتا ہے جو  استعمال کردہ الفاظ کے معنی کے مجموعہ سے بڑھ کر ہے اور اس میں  سامعین میں ایک خاص اثر اور ردعمل  پیدا کرنا ،مقصود ہوتا ہے۔تحریر میں  اس  طرح کے معنی و مفہوم اور صوتی تاثر کو پیدا کرنا مصنف کی  باکمال ادبی(literary; scholarly)صلاحیت کا مظہر ہے۔تقریر اور متن جس قدر طویل اور سامعین اور مخاطبین  مختلف ہوں گے  اتنے ہی اس میں  مختلف اثرات کے حصول کے لئے لہجے ہوں گے۔

ابلاغ میں  یہ تمام باتیں شامل ہیں؛زبان کی لغت میں سےالفاظ کا چناؤ،ان کی ترتیب،ان کی صدا(tone)، نکتہ نظر،نحوی ترتیب جو مرکبات اور جملے بناتے ہیں،اور  متن کو اس انداز میں منقسم (عربی میں فصل)کرنا کہ ہر موضوع شہر کے ایک مخصوص موضع کی مانندچار دیواری میں اس طرح مقید ہو کہ اس کا رابطہ شہر(کتاب)کے تمام موضعات  اور اس کے مرکزی مقام سے قائم رہے۔اور  تمام موضعات مرکزکے اردگرد دائرے میں اس انداز میں  باہم دگر ہوں جیسے  مکڑی  ایک مرکزی نقطے کے گرد  اپنے لعاب کے یکساں تاروں سے جالے کو بُنتا  اور انہیں انتہائی رواں اور مضبوط وحدت بناتاہے۔عربی زبان میں کتاب کے متن کو اس انداز میں مدوّن کرنے کو"وصل" کہتے ہیں۔

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُـمُ ٱلْقَوْلَ

  • اس حقیقت کو جان لو؛ہم جناب نے بیان حقیقت(قرءان مجید)کو ان کے لئے باہم مربوط مدون کیا ہے۔

Root: و ص ل

لَعَلَّـهُـمْ يَتَذَكَّرُونَ .28:51٥١

  • اس مربوط تدوین کا مقصدیہ ہے کہ وہ ازخود اس کو یاداشت میں محفوظ کر سکیں،نصیحت اور رہنمائی لے سکیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کر سکیں۔(القصص۔51)

اس سورۃ مبارکہ کو میں نے موضوعات کی نسبت سے ستاسی (87)حصوں(semantic frames) میں فصل کیا ہوا سمجھا ہے۔ہر حصہ ایک   موضوع یا ساتھ میں ا س  سے مناسبت اور قریبی تعلق والے موضوع پر مشتمل ہے۔ یہ انگلش زبان کے پیراگراف  اور  انسائکلوپیڈیا (موسوعۃ)کے انداز تحریر میں ہر موضوع کے متعلق بنیادی اور اہم معلومات اور نکات سے قاری کو آشنا کرتے ہیں۔بیک گراونڈ نالج بعد ازاں کسی موضوع کو تمام جہتوں سے سمجھنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے۔

یہ  متن  اور آیات میں تقسیم کے حوالے سے طویل ترین ہے اور اس میں دو سو چھیاسی(286)آیات ہیں۔  اور چھ ہزارنو سو چھیالیس الفاظ پر مشتمل ہے جن میں حرف  وصل اور فصل "وَ"کو بطور لفظ گنا گیا ہے۔

اس سورۃ کا عنوان سنجیدہ اور  تنقیدی نگاہ سے کتابوں کا مطالعہ کرنے والے  کو تیسری  تعجب خیز بات معلوم ہوتی ہے اور وہ اس مخصوص گائے کو جاننے کا خواہش مند ہو جاتا ہے اور اس کے متعلق آیات۔67-71 میں جان لینے کے بعد اس کو اس سورۃ کا عنوان بنانے کی حکمت سمجھ آ جاتی ہے۔

اس سورۃ کی پہلی آیت فقط حروف ابجد اور طوالت کے نشان پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی حدیث  یعنی کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے۔بقیہ 285 آیات کی درمیانی آیت ۔143سورۃ کے مرکزی مقصد کو بیان کرتی ہے اور وہی قرءان مجید کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔

وَكَذَٟلِكَ جَعَلْنَـٟكُـمْ أُمَّةٙ وَسَطٙا

  • جان لو؛ مرکزی مقام کعبہ کو أَلْقِبْلَۃَ۔تمام کے لئے مرکز توجہ مقرر کرنے کی مانند ہم جناب نے تم لوگوں کو اقوام عالم میں میانہ رو مرکزی امت کی حیثیت دے دی ہے۔

(غور کریں مرکزی شہر مکہ،مرکز توجہ کعبہ، مرکزی امت اور یہ آیت سورۃ کی مرکزی آیت ہے)

فعل۔جَعَلَ ۔(جذرْماخذ۔ج۔ع۔ل)کے معنی کسی موجود شئے کواس کی اصل حیثیت،ہیئت،حالت،مقام سے بدل کر ایک نئی ہیئت ،حیثیت وغیرہ دے دینا ہیں۔اس لئے اس فعل کی تکمیل،بات مکمل کرنے کے لئے دو مفعول چاہئے۔أُمَّةٙ وَسَطٙا۔یہ مفعول بہ ثانی ہے۔اس مرکب توصیفی کے موصوف کے معنی انسانوں کی ایک ایسی جماعت جو فقط ایک لیڈر، رہبر پر ایمان رکھتی ہے،اور ایک نظام حیات /آئین/ایک کتاب کی پابند ہے۔اور اس کی صفت۔وَسَطٙا۔کے معنی وسط/درمیان میں ہونا ہے جس کے دائیں اور بائیں دودو یا ان سے زیادہ جیسے تین تین ہوں  یعنی سات جماعتوں کے وسط والی امت۔

دوزخ(جہنم)کے دروازے بھی سات ہیں۔ہر ایک دروازہ  راست سے بھٹکے طرز حیات کے لوگوں  کے لئے  مخصوص ہے جنہوں نے شیطان کی اتباع کی۔امتیں بھی سات ہیں مگر  وسطی امت میں منافقین بھی ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ سے سب سے نچلے درجے میں ہے۔

لَـهَا سَبْعَةُ أَبْوَٟبٛ

  • سات دروازے بنائے گئے اس (جہنم)میں داخل کرنے کے لئے۔

لِـكُلِّ بَابٛ مِّنْـهُـمْ جُزْءٚ مَّقْسُومٌ .15:44٤٤

  • ان(بھٹکے ہوئے  ،شیطان کے پیروکار لوگ)میں سے منقسم کئے ہر ایک جزو  کے لئے ایک الگ دروازہ ہے۔(الحجر۔44)

Root:  ق س م

اور طوالت(linear) میں ربط اوروحدت(coherence) سورۃ الفاتحہ کی آیت۔6-7سے ہے۔انسان نے اپنے صراط مسقیم پر سفرکو جاری رکھنے کے لئے ہدایت دئیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ  ہر ایک متمنی ہدایت کو ترت مخاطب کر کےجواب میں ہدایت پانے کے ذریعے    یعنی ہاتھ میں موجودکتاب کے متعلق بتانا شروع فرماتے ہیں۔ اور قاری جب اسے پڑھتا   ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ   اس ربط، ترتیب اور نظم سے اسے بتا رہے ہیں جس ترتیب سے اس نے  صراط مستقیم کے حوالے سے تین مختلف طرز عمل کے لوگوں کے متعلق اُن سے مخاطب ہو کر کہا تھا۔اور اگر اس نے توجہ اور انہماک سے اکیڈیمک اصولوں کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہوئے مطالعہ کو جاری رکھا تو محسوس کرے گا کہ یہ  تو تمام کا تمام اس کے کہے ہوئےالفاظ کی ترتیب اور ربط  میں ہے۔اور شایدان کمال کے دانا و بینا   مومنین بزرگوں ،جو جِنات میں سے تھے، کی مانند کہہ اٹھے:

قُلْ أُوحِـىَ إِلَـىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٚ مِّنَ ٱلْجِنِّ

  • آپ(ﷺ)ارشاد فرمائیں"میری جانب اس اطلاع کو وحی فرمایا گیا ہے , وہ یہ کہ معشر الجن میں سے ایک  سنجیدہ  قلب سلیم والی جماعت نے انتہائی توجہ،انہماک اور خلوص سے قرءان مجید کو مجھ سے سنا تھا۔(محذوف کے لئے الاحقاف۔26 دیکھیں)

فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَـمِعْنَا قُرْءَ انٙا عَجَبٙا .72:01١

  • سماعت کے بعد انہوں نے اپنی قوم سے جا کر کہا تھا"یہ حقیقت ہے کہ ہم نے  ایک تعجب خیز ،انوکھےبیان/متن کو سنا ہے۔(الجن۔1)

Root: ع ج ب

کیا کمال کا تجزیہ اور تبصرہ انہوں نے کیا تھا۔کتاب کے حوالے سے جتنے نکات ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک ایک نکتے کے حوالے سے قرءان عظیم کوانوکھا، منفرد،بےمثال، لاثانی،بے نظیر،یکتا،ناقابل تقلید پائیں گے۔

ایک اور حوالے سے قرءان مجید کے متن کی تقسیم  آیات محکمات اور آیات متشابہات ہے۔آیات سورتوں کا حصہ ہیں۔یہ واحد سورۃ ہے جس کا ذکر"سُورَةٚ مُّحْكَـمَةٚ"ہوا ہے۔

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٚۖ

  • سب مطلع ہو جاؤ؛وہ (منافقین)جنہوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے،لوگوں سے تنقیدی انداز میں پوچھتے رہتے تھے"کوئی سورۃ بتدریج نازل کیوں نہیں ہوئی(جس میں جنگ کا ذکر ہو)"

فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٚ مُّحْكَـمَةٚ وَذُكِرَ فِيـهَا ٱلْقِتَالُۙ

  •  مگر جب موقع محل کی مناسبت سے ایک محکم سورۃ (البقرۃ)کو مجتمع انداز میں نازل کر دیا گیااور مسلط کردہ جنگ کے متعلق اس میں ذکر کر دیا گیا۔

Root: س و ر

رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ فِـى قُلُوبِـهِـم مَّـرَضٚ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ ٱلْمَغْشِىِّ عَلَيْـهِ مِنَ ٱلْمَوْتِۖ

  •  توآپ(ﷺ)نے دیکھا ان لوگوں (منافقین)کو،ایک اپنی پیدا کردہ نفسیاتی بیماری نے ان کے دلوں میں گھر کر رکھا ہے،وہ آپ کی جانب یوں دیکھ رہے تھے اس شخص کی نظر کے انداز میں جس پر موت کی غشی چھا رہی ہو۔(حوالہ سورۃ محمدﷺ۔20)

قرءان مجید میں جس سورۃ میں  اہل ایمان کے لئے جنگ کا سامنا کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے وہ یہی سورۃ البقرۃ ہے۔ارشاد فرمایا:

وَقَـٟتِلُوا۟ فِـى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَـٟتِلُونَكُـمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ۚ

  • اے ایمان کے مدعیان توجہ کرو؛ تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم پر جنگ مسلط کرتے ہیں،مگر تم لوگوں کو چاہئے کہ دانستہ دشمنی کو نہ بڑھاؤ۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ .2:190١٩٠

  • یقیناً اللہ تعالیٰ  دانستہ بے اعتدالیاں کرنے والوں کوقابل قدر نہیں گردانتے۔


كُتِبَ عَلَيْكُـمُ ٱلْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٚ لَّـكُـمْۖ

  • مسلط اور ناگزیرکر دی  گئی جنگ کو لڑنا تم لوگوں پر بطور حکم نافذ کر دیا گیا ہے اگرچہ  وہ(جنگ)تم لوگوں کے لئے ایک ناپسندیدہ حالت اور فعل ہے۔

وَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْئٙا وَهُوَ خَيْـرٚ لَّـكُـمْۖ

  • لیکن یاد رکھو کہ ممکن ہے کہ جس شئے کو تم ناپسندیدہ اور قابل اجتناب سمجھتے ہو وہ درحقیقت تم لوگوں کے لئے بہتری کا باعث ہو۔

وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْئٙا وَهُوَ شَـرّٚ لَّـكُـمْۗ

 
  • اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ جس شئے کے لئے تم پسندیدگی اور چاہت کے جذبات رکھتے ہو وہ درحقیقت تمہارے لئے باعث پریشانی اور انتشار ہو۔

وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُـمْ لَا تَعْلَمُونَ .2:216٢١٦

  • اس لئے (احکامات کی علت کے متعلق)جان لو کہ اللہ تعالیٰ مکمل طور پر ہر بات کو بخوبی جانتے ہیں جبکہ تم لوگ ہر بات کے متعلق معلومات نہیں رکھتے۔(البقرۃ۔۲۱۶)


آیات محکمات ایسی ہیں جن میں احکام اور ممانعتیں درج ہیں جو ہمیشہ کے لئے نافذ العمل ہیں۔احکام میں ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے جو عوام الناس کے فہم و ادراک میں ہے اور بنیادی معنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔اس  محکم سورۃ میں احکام اور ممانعتیں ہیں اور اس کے متعلق انزال سے فعل مجہول کے استعمال سے واضح ہے کہ اسے یکبارگی مجتمع حالت میں لوگوں پر ظاہر کیا گیا تھا۔

قرآنِ عظیم انسان کو صاحب حریت،ارادے اور فیصلے میں خودمختار تسلیم کرتا ہے اور صاحب عقل و فکرقرار دیتے ہوئے توقع کرتا ہے کہ کسی بھی کتاب کی مانند اِس قرآنِ عظیم کی باتوں کو بھی عقل و فہم کی کسوٹی پر پرکھ کر تسلیم کرے کیونکہ معلومات/ علم اُس صورت میں یقین میں بدلتا ہے جب انہیں پرکھ کریہ تعین کر لیا جائے کہ وہ بیانِ حقیقت ہے۔یقین انسان کو تذبذب اورحالت اضطراب میں سے نکال کر حالت اطمینان میں کر دیتا ہے، اور تذبذب اور اضطراب سے منزہ حالت میں ہر شئے سکون اور خیر(equilibirium)یعنی مکمل اعتدال کی حالت پر ہوتی ہے، اور عربی زبان کی رو سے کہیں توحالتِ ایمان، یعنی امن میں ہوتی ہے۔

یقین اور ایمان لازم و ملزوم ہیں۔یقین کی پختگی جس قدر ہو گی اسی تناسب سے عدم تذبذب/اضطراب، اطمینان، امن، ایمان کی کیفیت ہوگی۔اور یقین کی پختگی میں جس قدر اضافہ ہو گا اُسی تناسب سے اُس شئے اور بات سے ا نسان مخلص ہوتا چلا جائے گا۔ کسی بھی شئے اور بات پریقین، ا نسان کو اُس بات سے مخلص صرف اِس لئے بنا دیتا ہے کہ اُس نے اسے چھانٹ پھٹک کر(logically) دیکھنے کے بعدحقیقت کے طور پر جان لیا ہوتا ہے۔یقین اندھے اعتماد/اعتقاد (faith) کا نام نہیں ہے۔ اندھا اعتماد / اعتقاد (faith) کسی کو وہ شئے عطا نہیں کر سکتا جسے ہم خلوص کہتے ہیں،ا دردرحقیقت غفلت /احساس عدم اضطراب (numbness/sedative) کے سواکچھ بھی نہیں۔

کتاب میں سے حقیقت کا حصول جبھی ممکن ہے اگر مطالعہ اکیڈیمک اصولوں کو مد نظر رکھ کر کیا جائے  تاکہ  ہمارے ذہن /یاداشت میں پہلے سے موجود علم / تصورات(perceptions)، روایات، لوگوں کی کہی اور سنی سنائی باتیں،تعصبات،مفادات اورخواہشات کتاب کی بات اور ہماری عقل کے مابین حائل نہ ہوں۔