قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔آیات: 2۔5:ترجمہ

 

ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ

  • یہ ہے وہ کتاب جس کے مجموعہ کلام ؍بیان میں تخیل،مفروضوں،تصور،غیر تصدیق شدہ،نفسیاتی ہیجان پر مبنی ایسا کچھ موادبھی نہیں جودوران مطالعہ باعث الجھن، اضطراب و ہیجان بنے/یہ ہے وہ منفردکتاب جوریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے۔

Recitation  Roots: ک ت ب; ر ى ب 

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ.٢

  • (یہ کتابِ لا ریب منزل کی جانب ہادی؍ راہنما ہے متقین[محتاط اور غلط روش سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والوں] کیلئے(۲

Roots: ھ د ى; و ق ى

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ

  • زمان و مکا ن          میں یہ وہ لوگ ہیں جو بصارتوں سے اوجھل ہونے کے باوجود اپنے خالق اور رب الرَّحمٰن کو موجود مانتے ہیں۔

Recitation   Roots: ء م ن; غ ى ب

وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ

  • اور یہ لوگ استقلال و استقامت ؍منظم طریقے سے صلوٰۃ کی ادا ئیگی کرتے ہیں

 Roots: ق و م; ص ل و

وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنْفِقُونَ.٣

  • (اور ہمارے دئیے ہوئے رزق/اسباب دنیا/مال و دولت میں سے خرچ کرتے ہیں[ا للہ تعالیٰ کی خوشنودی اور توجہ پانے کیلئے]۔(البقرۃ۔۳

Roots: ر ز ق; ن ف ق -

وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ

  • (اور (متقین) وہ لوگ ہیں جوصدق قلب سے اُس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ (ﷺ)پر مجتمع انداز میں نازل فرما یا گیا ہے(قرء ان

Recitation  Roots: ء م ن; ن ز ل

وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ

  • اور اُس پر ایمان لاتے ہیں جو مجتمع حالت میں آپ (ﷺ)سے قبل نازل فرما یا گیا تھا

Roots: ن ز ل; ق ب ل

وَبِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ يُوقِنُونَ.2:04٤

  • -اوریہ لوگ آخرت پریقین رکھتے ہیں

  Roots: ء خ ر; ي ق ن

أُو۟لَـٟٓئِكَ عَلَـىٰ هُدٙى مِّن رَّبِّـهِـمْۖ

  • یہ ہیں وہ لوگ جو  محو سفر ہیں اس ہدایت  پر گامزن رہتے ہوئے جسے ان کی رب کی جانب سے آسان فہم تدوین میں پہنچا دیا گیا ہے۔

Recitation Roots: ھ د ى ر ب ب

وَأُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ.2:05٥

  • اور یہی ہیں وہ لوگ جودرحقیقت دائمی کامیاب اور سرخرو ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔

 Roots: ف ل ح


 تحلیل معنوی و مفہوم،بلاغت۔

۔ابتائی لفظ  ۔ذَٟلِكَ۔سے لے کر اس فریم کے آخری لفظ ۔ٱلْمُفْلِحُونَ۔تک اکتالیس الفاظ پر مشتمل یہ ایک طویل آزاد جملہ ہے جس میں کئی ذیلی جملے ہیں۔انگلش میں اس کے مترادف جملے کوcomplex sentenceکہتے ہیں۔اس جملے کی نوعیت بیانیہ۔اطلاعی/declarativeہے۔یہ صراط مستقیم پر مسلسل گامزن رہنے کے متمنی اور اس کے لئے طلبگار ہدایت کو قرءان مجید  متعارف کیا گیا ہے اور اس کے متعلق اسے خبر دی گئی کہ زمان و مکان میں سرچشمہ ہدایت ہے۔اس نے سب سے اول  جن  انعام یافتہ لوگوں  کا حوالہ دیا تھا ان میں عوام الناس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متقین کی اصطلاح سے ان کے کوائف بیان  کر دئیے۔

ان الفاظ کی تحلیل نحوی و صرفی کے بعد  کلیدی الفاظ اور جملوں  میں بیان کردہ موضوعات کا مطالعہ الگ الگ مضمون کی صورت کریں گے۔


:تحلیل نحوی و صرفی

1۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ ۔یہ مبتداء حالت رفع (فی محل رفع)،اسمائے اشارہ میں سے ہے۔بعید کیلئے آتا ہے۔اِس میں ”ذَا“اسم اشارہ ہے (قریب کیلئے استعمال ہوتا ہے) اور حرف ”کَ“ حرف /ضمیرخطاب ہے جو مخاطب کی مناسبت سے تذکیر،تانیث،تثنیہ اور جمع میں بدلتا رہتا ہے۔ یہ مذکر،واحد ہے۔یہ دو سو ترانوے بار استعمال ہوا ہے۔
مقرر اور مصنف،اسم اشارہ کے استعمال سے اپنے سامع/قاری کی توجہ۔بصر کو اُس شئے،تصور،حقیقت کی جانب مبذول کراتا ہے جس کے متعلق کسی اطلاع/خبر سے اُس کو مطلع کرنا چاہتا ہے
۔اسم اشارہ کے استعمال سے سامع اور قاری کو کسی شئے سے متعارف کرایا جاتا ہے اِس لئے جب کسی کی توجہ اور بصر اُس شئے پر ایک مرتبہ مرکوز ہو جاتی ہے تو اُس سے متعارف ہوجانے، اور اُس کے تصور اور ادراک میں پہنچ جانے کی بناء پراُس شئے کانزدیکی دوری کا فرق مٹ جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں کسی کی خصوصیات کے ذریعے اُنہیں متعارف کرانے کیلئے بھی یوں استعمال ہوا ہے ۔
ذَٟلِكَ عِيسَى ٱبْنُ مَـرْيَـمَۚ۔ ”یہ ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم“(حوالہ مریم۔34

یہ اسم اشار ہ، بدل ”منفرد کتاب“کو سامع اور قاری کو متعارف کرتا ہے۔ ”ٱلْـكِـتَٟبُ “۔”اَل“+” کِتَٰبُ“۔”اَل“ حرف تعریف (definite article)ہے۔نکرہ (common noun) کو معرفہ (definite noun)بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔یہ اسم معرفہ ہے،یعنی قاری کیلئے ایک معروف کتاب، اِس بناء کہ چاہے اُس نے خود اِسے ریک سے اٹھایا ہے یا اُسے کسی نے پیش کیاہے۔
 ”
ٱلْـكِـتَٟبُ “عربی زبان میں مذکر ہے۔ قرء انِ مجید پڑھتے ہوئے الفاظ کے مذکر،مؤنث ہونے کے متعلق خصوصی دھیان رکھیں وگرنہ امکان ہے کہ تراجم میں اِس کا دھیان کئے بغیربیان کیا گیا مفہوم اِس کے اپنے عربی الفاظ کے تصور اورمفہوم سے کوسوں دور ہو۔

۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ قرء انِ مجید میں صرف ایک بار ہے۔کتاب کو ایک بار متعارف کیا جاتا ہے۔دنیا میں کتابیں اَن گنت ہیں اوربعض کو متعارف کرانے کیلئے تقریب رونمائی بھی منعقد کی جاتی ہیں اور کتاب کی ابتدا میں قاری کواُس کاتعارف کرایا جاتا ہے۔ اَن گنت کتابوں میں سے قرء انِ مجید کا اندازِتعارف بھی منفرد ہے۔تحریر اور گفتگو کا آسان انداز یہ ہے کہ مبتداء/ موضوع  ایسا ہو جو سامع/قاری کے تصور/ادراک میں پہلے سے ہو جس کے متعلق اُسے ایسی اطلاع/خبر دی جائے جو قبل ازیں اسے معلوم نہ ہو۔

کتاب کا ابتداء میں تعارف اِن الفاظ سے نہیں فرمایا ۔هَـٟذَا ٱلْقُرْءَانُ۔”یہ قرء ان ہے“۔اِس جملے میں۔ٱلْقُرْءَانُ۔ کی بحثیت مشار الیہ نسبت/ ascription اسم اشارہ سے ہے۔ نسبت/خبر/اطلاع سامع اور قاری کو اگر مستفید کرے تو اسے خاموش اور متوجہ رکھتی ہے وگرنہ وہ سوال اٹھا دے گا یا اُس کا ذہن متذبذب ہو جائے گا جس کی وجہ سے توجہ بکھر جائے گی۔ چونکہ کتاب کا اپنا مخصوص نام/ اسم علم ہے جو ممکن ہے سامع نے قبل ازیں نہ سنا ہو،اُس سے وہ متعارف نہ ہو،اِس لئے اِس نام کو ابتداء میں موضوع بنانے سے اُس کی توجہ اِس نام کو جاننے اور سمجھنے پر مرکوز ہو کربکھرنے کا امکان تھا۔بعد ازاں یہ جملہ ہمیں تین مقام پر ملے گا [6:19(2)10:37(3)43:31]

  ۔ذَٟلِكَ ٱلْـكِـتَٟبُ یہ دو الفاظ،ایسے قاری کیلئے جس نے کتاب کو خود اٹھایا ہے اور اُس کیلئے بھی جسے کتاب کو پیش کیا جارہا ہے،نامکمل اطلاع ہیں،لیکن یہ اُس کیلئے توجہ،انہماک اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں،اُس بات کو جاننے کیلئے جس کی جانب اسم اشارہ اُس کی توجہ کو مبذول کرانا چاہتا ہے۔کتاب چونکہ شخص کے ہاتھ میں ہے یا اُس کی نظروں کے سامنے ہے جسے تھمایا جا رہا ہے، اِس لئے وہ جانتا ہے کہ اِن دو الفاظ کا مطلب یہ بتانا نہیں ہے کہ ”یہ کتابِ خاص ہے“،”تمہارے لئے یہ معروف کتاب ہے“ بلکہ دوری کا اسم اشارہ اُس حقیقت کی جانب ہے جو کتاب میں درج ہے،کتاب کے مندرجات کی پنہاں حقیقت جو ابھی اُس کے تصور و ادراک سے دور ہے کہ فی الحال اُس نے اِس کا مطالعہ نہیں کیا۔یہ دو الفاظ سامع اورقاری کیلئے کتاب کی انفرادیت، خصوصیت اور اِس کے منفرد ہونے کے سبب کوسننے اور جاننے کے شوق اور توجہ کو ابھارتے ہیں۔اِس طرح اِس ابتدائی جملے کے معنی ہیں ”یہ ہے وہ منفرد/مخصوص کتاب“

 لَا رَيْبَۛ فِيهِۛ۔یہ جملہ سامنے موجود کتاب،قرءان مجید کے متعلق اول خبر ہے،فی محل رفع۔ لَا ۔حرف ۔نافية للجنس۔اس کی  نظری پہچان یہ ہے کہ اس کے بعد بیان کردہ اسم ہمیشہ  نکرہ اور منصوب ہوتا ہے اور تنوین نہیں ہوتی۔اور وہ اسم لَا کہلاتا ہے۔ یہ اپنے اسم کے حوالے سےمطلق نفی کرتا ہے۔مطلق نفی کا مطلب ہے کہ  اس کا اسم جس جنس/نوع(species)  سے  تعلق رکھتا ہے اس میں موجود ہر ایک ایک جزو کی مکمل،یکسر نفی کرتا ہے۔اس طرح ایسا کوئی لفظ اس کا اسم نہیں ہو سکتا جو جنس/نوع کا حامل نہیں۔اس کا اسم۔رَيْبَ۔ مصدر ہے، ماخذ "ر۔ی۔ب"۔اس حرف کی خبر اگر ایک لفظ سے بیان ہو تو وہ حرف مرفوع ہوتا ہے۔عموماً اس کی خبر محذوف ہوتی ہے مگر اس کے متعلق استعمال کئے گئے مرکب سے ازخود واضح ہوتی ہے۔فِيهِ۔ جار و مجرور متعلق محذوف خبر لَا ۔متصل ضمیر واحد مذکر،مجرور راجع کتاب۔”اِس کتاب کے اندر،اِس کتاب کے مندرجات میں،اِس  میں درج مجموعہ کلام میں“۔ کتاب اٹھانے والے کو اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ”کتاب کے اندر“ کا مفہوم اُس میں درج /تحریرمجموعہ کلام ہی ہوتا ہے۔
اِس جملے کو ہم گرائمر کے ماہرین کے نقطہ نظر سے مبتدا  ء  
ذَٟلِكَ  کی خبر سمجھ لیں یا ۔ٱلْـكِـتَٟبُ۔کے حوالے سے ”حال“ سمجھیں، معنی اور مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔قرءان مجید میں یہ جملہ دس بار ہے۔

ہم اس  تعارفی جملےکا تفصیلی مطالعہ زیر عنوان "قرءان عظیم  ہر طرح کے ریب سے منزہ بیانِ حقیقت ہے"کریں گے، ان شاء اللہ۔

هُدٙى لِّلْمُتَّقِيـنَ۔یہ مبتدا کی خبر ثانی ہے۔خبر ثان لاسم الإشارة مرفوع بالضمة المقدرة۔لِّلْمُتَّقِيـنَ۔ جار و مجرور۔لِّ  حرف جر + اسم فاعل-معرفہ باللام-فى محل جر-جمع-مذکر-باب  اِفْتَعَلَ۔متعلقان بهدى۔ماخذ "و۔ق۔ی

اس خبر کے متعلق ہم تفصیلی مطالعہ کریں گے بعنوان "قرءان عظیم سرچشمہ ہدایت ہے"۔اور دوسرا موضوع  بعنوان"متقین جنت کے راہی"

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ۔یہ جملہ متقین کی صفت بیان کرتا ہے اور نحوی اصول کے مطابق اپنے موصوف کی اعرابی حالت کے پیش نظر "فی محل جر" مانا جاتا ہے۔اسم موصول، جمع، مذکر، غائب، مجرور۔جملہ فعلیہ: صلة الموصول لا محل لها من الإعراب۔ فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال۔ماخذ "ء۔م۔ن"۔یہ فعل باب ۔فَعَلَ.يَفْعِلُ۔سے ہے جس میں  متحرک اور غیر متحرک/مقیم،حالت ظاہر کرنے والے افعال (dynamic and stative verb)شامل ہوتے ہیں۔غیر متحرک افعال لازم ہوتے ہیں اور انہیں متعدی حرف جر"بـِ"کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔ بِٱلْغَيْبِ۔جار ومجرور متعلقان بالفعل يؤمنون۔"بـِ"باء ألإصاق۔اسم مجرور-معرفہ باللام-واحد-مذكر ماخذ "غ۔ی۔ب"۔اس جملے کا مطالعہ کریں گے بعنوان "ایمان بالغیب :اللہ تعالیٰ۔الرّحمٰن کو بصارتوں سے پنہاں ہونے کے باوجود موجود تسلیم کرنا

وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ۔حرف عطف،الجملة معطوفة. فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال ۔ ماخذ "ق۔و۔ممفعول به:  اسم معرفہ باللام منصوب-واحد-مؤنث ۔ماخذ "ص۔ل۔و

اس جملے کا مطالعہ کریں گے بعنوان  "منزل کے راہی متقین نماز پر قائم و دائم رہتے ہیں "۔

وَمِمَّا رَزَقْنَٟهُـمْ يُنْفِقُونَ۔حرف عطف،۔مِمَّا۔جار و مجرور،مِن حرف جر + الاسم الموصول-واحد-مذكر۔رَزَقْنَٟهُـمْ ۔الجملة صلة الموصول لا محل لها من الإعراب۔ فعل ماضٍ مبنى على السكون لاتصاله بضمير الرفع/نَا-ضمير متصل مبنى على السكون فى محل رفع فاعل-جمع متكلم ۔ ضمير متصل مبنى على الضم في محل نصب مفعول به اول-جمع مذكر غائب؛العائد محذوف وهو المفعول الثاني۔يُنْفِقُونَ۔فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال۔ماخذ "ن۔ف۔ق"۔اس جملے کا تفصیل سے مطالعہ میں مضمون بعنوان "بند مٹھی، اضطراب انسانیت کا واحد سبب"۔

وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ۔حرف عطف،اسم موصول  معطوف؛يُؤْمِنُونَ ۔قبل ازیں بیان ہو چکا مگر یہاں اس فرق کے ساتھ کہ  جس پر ایمان لاتے ہیں اسے بھی حرف جر"بـِ" کے ساتھ اسم موصول سے بیان کیا گیا ہے۔بِمَآ ۔اورأُنزِلَ ۔صلة الموصول۔ فعل ماضٍ مبني للمجهول-مبني على الفتح/نائب الفاعل:ضمير مستتر جوازاً تقديره:هُوَ--واحد مذكر غائب يعود على ما/باب افعال۔إِلَيْكَ۔جار ومجرور متعلقان بالفعل أنزل۔ضمير متصل في محل جر-واحد مذكر حاضر۔رسول کریم محمد ﷺ۔

وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِك۔اعراب ماقبل کی طرح۔ مِن قَبْلِك۔جار و مجرور اور مرکب اضافی ، متعلق فعل۔

وَبِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ هُـمْ يُوقِنُونَ.۔الجملة الاسمية معطوفة على جملة يؤمنون۔بِٱلۡۡۡءَا خِـرَةِ ۔جار و مجرورمتعلق يُوقِنُونَ۔"بـِ"باء ألإصاق۔ هُـمْ۔ ضمير رفع منفصل مبني على السكون في محل رفع مبتدأ،۔ يُوقِنُونَ۔فعل مضارع مرفوع بثبوت النون/و- ضمير متصل في محل رفع فاعل-جمع مذكر غائب/باب افعال۔ماخذ "ی۔ق۔ن

10۔أُو۟لَـٟٓئِكَ عَلَـىٰ هُدٙى مِّن رَّبِّـهِـمْۖ۔اسم إشارة مبني على الكسر في محل رفع مبتدأ والكاف للخطاب۔عَلَـىٰ هُدٙى۔جار ومجرور متعلقان بمحذوف خبر۔

مِّن رَّبِّـهِـمْۖ۔جار و مجرور اور مرکب اضافی،متعلقان بمحذوف صفة لهدى۔

11۔وَأُو۟لَـٟٓئِكَ هُـمُ ٱلْمُفْلِحُونَ.۔اسم إشارة مبني على الكسر في محل رفع مبتدأ والكاف للخطاب۔هُـمُ ۔مبتدأ ثان، ضمير منفصل۔ٱلْمُفْلِحُونَ.۔خبر هم۔ اسم فاعل: مرفوع -جمع سالم مذكر۔ماخذ "ف۔ل۔ح