قرآن مجید تفسیر حقیقت اور بیان حقیقت ہے                                ۔                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ ۔۲ ۔۔۔۔البقرۃ    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مؤلف:مظہرانوار نورانی


۔آیت۔1

الٓـمٓ .١

  • عربی زبان کے حروف ھجاء [تہجی،ابجد] الف،لام اور میم ۔لام اور میم کو یکجا کر کے اُن دونوں پر مدّا [طوالت]کا نشان
    [اِن سے یہ اظہارہوتا ہے کہ اِس کتاب کی عربی زبان کی تحریر حروف اور نشانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ عربی حروف کو یکجا کر کے ضبط تحریرکیا جاتا ہے(cursive)]

Recitation

سورۃ آلِ عمران، العنکبوت،الروم، لقما ن اور سورۃ السجدہ کی پہلی آیت بھی اِن تین حروف اور نشان پر مشتمل ہے۔

عمومی رواج ان حروف کو"حروف مقطعات" کہتے ہیں  جس کا مفہوم یہ ہے کہ قطع کئے ہوئے  حروف ہیں۔مگر ابجد کے حروف تو پہلے ہی سے ایک دوسرے سے منقطع ہوتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے یکجا کرنا کتابت ہے۔قرءان مجید میں  ترجمہ اور مفہوم کے لئےتواتر،تسلسل،ترکیب یکجائی ویسے ہی ہے جیسے انسانی جینوم(human genome)میں میسنجر آر، این۔ اے(messenger RNA)میں ہے۔اس میں تمام خطے(regions)کسی خاص امینو ایسڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ایسے مقام کو"ناقابل ترجمہ خطہ"(Un-translated region) کہتے ہیں۔عربی زبان کے حروف [Letters and consonants] حرکات زیر،زبر،پیش یعنی حروف علت۔vowelکے ساتھ مل کر بامعنی صوت اور الفاظ تشکیل دیتے ہیں جو ایک متعین تصور اور معنی و مفہوم کا اظہار کرتے ہیں۔محض حروف قابل ترجمہ نہیں ہوتے۔میسنجر آراین اۓے کی طرح پہلی قابل ترجمہ و مفہوم سورۃ کے بعد ایک خطہ ناقابل ترجمہ ہے اور خطاب کو شروع کرنے کا بارعب انداز محسوس ہوتا ہے۔

اس طرح کے ناقابل ترجمہ  انتیس خطے ہیں جو عربی ابجد کے حروف کی تعداد کے برابر ہیں۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا کلام تیس خطوں(regions)پر مشتمل ہے۔انتیس میں سے چودہ حروف ابجد کو ان مقامات پر استعمال کیا ہے اور ایک حرف  اپنی دونوں شکلوں "ه"اور "ـهـ"(حوالہ سورۃ مریم۔1 اور طہ۔1)میں استعمال ہوا ہے۔انیس سورتوں میں یہ حروف مکمل آیت ہیں اور دس میں آیت کا ابتدائی حصہ ہیں۔

قرآنِ مجید عربی مبین میں نازل فرمایا گیا اور سب جانتے ہیں کہ اِس کے اول مخاطب وہ لوگ تھے جو فصاحت و بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اِس اندازِ تخاطب میں اگر کوئی غیر معمولی بات ہوتی تو اہل عرب اور خاص کرایسے معترضین اِس بارے سوال ضرور اٹھاتے جو اعتراض برائے اعتراض سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ ایسا کوئی سوا ل یا اعتراض نہیں اٹھایا گیا جبکہ اٹھائے گئے ایسے اعتراض کا بھی جواب دیا گیا جو معترضین کے احمقانہ طرزِ عمل  کا غماز تھا،جیسے فصاحت و بلاغت اور رعنائیوں کے کمال کو چھونے والے عربی زبان کے کلام کے متعلق کسی عقل کے اندھے کا یہ کہنا کہ انہیں (ﷺ)ایک شخص سکھاتا ہے جب کہ وہ ایک عجمی تھا(حوالہ سورۃ النحل۔103)
کسی بھی زبان میں تحریر کی ہوئی کتاب کو پڑھنے پر عبور حاصل کرنے کیلئے بنیاد، اُس زبان کے حروف تہجی (alphabet)میں پنہاں صوت/ آواز کی شناخت اور ادائیگی کو جاننا اور اُن کے متشکل ہونے کے اندازکو دیکھناہے۔اور اگلا مرحلہ اِن حروف کی صوت کومجتمع کرکے ایک نئی صوت کو وجود دینے،اور جوڑکر ایک نئی شکل میں متشکل کر نا الفاظ کو جنم دیتا ہے جو ایک متعین تصور (perception)کے حامل ہوتے ہیں۔اور اِن الفاظ سے کلمات،جملے بنتے ہیں جن سے علم، نظریات، خیالات، جذبات، احساسات، سوچ، معلومات، خبر، حدیث اور تصورات ایک ذہن سے دوسرے ذہن کو منتقل کئے جاتے ہیں۔اِن کلمات،جملوں سے کتاب مرتب ہوتی ہے۔

غیر مسلموں کیلئے قرء انِ مجید کی یہ اول آیت مبارکہ نشاندہی کرتی ہے کہ اِس کی تحریر کا انداز ”متصلۃ۔مخطوطۃ“ یعنی Cursive ہےجس کے الفاظ میں حروف کی اکثریت ایک دوسرے سے متصل/جڑے/سلے انداز میں ہے۔اِس لئے اُن کی بظاہر شکل کا انحصار لفظ میں اُن کے موجودگی کے مقام پر ہے،ابتداء،درمیان اور آخر۔تاہم چھ حروف،الف/ہمزہ،د،ذ،ر،ز، اور واو تنہا یا لفظ کے آخر میں ہوتے ہیں جس کے سبب اپنے سے بعد والے حرف پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اگلے لفظ کی ابتدا میں ہو یا تنہا ہو۔
قرء انِ مجید کا ہر ایک انداز منفرد ہے۔اول آیت مبارکہ کا محض ایک بے صوت حرف، اور دو صوتی اور ایک دوسرے سے متصل،بمعہ آواز کو طوالت دینے کے نشان نے اظہار کر دیا کہ عربی زبان کی تحریر کا انداز حروف کے باہم گتھے ہونے،اور باہم متصل ہونے کے باوجود صوتی وقفے پر مشتمل ہے، اور یہ کہ الفاظ کے مابین فاصلے کا ہے۔اِس انداز تحریر کے برعکس اِس کے زمانہ نزول میں اکثر زبانوں کی تحریرکا انداز زبان کے حروف کو الگ الگ بغیر باہمی فاصلے کے لکھنے کا رواج تھا۔اِس تسلسل سے لکھنے کے انداز کو "Scriptio continua" سے موسوم کیا جاتا ہے۔

قرء انِ مجید میں تسلسل،ربط اور ترتیب باکمال اورحقائق کے مطابق ہے۔اول آیت مبارکہ کے تین حروف میں سے کسی ایک پر بھی حرکت یعنی Vowel نہیں ہے جس نے ظاہر کر دیا کہ اِس میں عربی کے لفظ ”
ءَايَةُٚ“ کے معنی اور مفہوم کے اظہار کے علاوہ صوتی /لفظی پیغام [Verbal message] نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِس بات کی دعوت اور چیلنج نہیں دیا گیا کہ قرءانِ مجید کی آیت جیسی آیت کہیں سے لے آؤ بلکہ سورۃ اور حدیث کے الفاط استعمال ہوئے جن میں لفظی پیغام ہوتا ہے۔
اول آیت مبارکہ نے زبان اور تحریر کے متعلق اول نکتے کی جانب رہنمائی کی ہے کہ حروف تہجی اور حرکات/ Vowel ایک دوسرے سے متمیزمعاملہ ہے۔الفاظ کی صوت کوہمارے جسم میں موجود ایک خودکار نظام پیدا کرتا ہے جو ہمارے منہ میں بالکل اُس طرح مجتمع ہو جاتی ہے جیسے پرندے اپنے منہ میں نوزائیدہ بچوں کیلئے خوراک اکٹھی کر کے لاتے ہیں اور پھر بتدریج توڑ توڑ کر بچے کے منہ میں منتقل کر دیتے ہیں ہم بھی بالکل اِس انداز میں منہ میں مجتمع صوت کا زبان کے ذریعے حرکات / (Vowel) دے کر بتدریج یکے بعد دیگرے ایک ایک Syllable یعنی لفظ کے اجزاء/مقطع لفظی کو اپنے منہ سے باہر ”پھینک“ دیتے ہیں اس قدر آواز کے ساتھ کہ سننے والے کے کانوں تک پہنچ پائے۔کمال یہ ہے کہ عربی زبان کے جس مادہ ”ل۔ ف۔ ظ“ سے مصدر ”لفظ“ بنا ہے اس میں یہی تصور ہے جو اس حقیقت کا غماز ہے کہ عربی زبان کے الفاظ باطن میں پنہاں مادی حقیقت کو بھی سموئے ہوتے ہیں۔یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ زبان اور ہونٹوں سے ادا کردہ/باہر”پھینک“ دیا لفظ واپس نہیں ہوسکتا،اِس لئے کچھ کہنے سے پہلے محتاط انداز میں سوچ لینا چاہئے۔قرء انِ مجید نے بھی اِس حقیقت کو اِس مادہ کے صرف ایک مرتبہ استعمال( آیت ۸۱ سورۃ قؔ )سے عیاں فرمایا ہے۔

ذہن سے سینے کی معرفت ایک تصور کو دوسروں تک منتقل کرنے کی خواہش پر خودکار نظام حرکت میں آتا ہے جسے ماہرین نے قریب زمانے میں (Vocal Cord) ”آواز پیدا کرنے والی رسی“کے نام سے متعارف کرایا ہے۔قرء انِ مجید نے اِس نظام کی خوبصورت تصویر کشی کیلئے عربی زبان میں اول مرتبہ ایک تشبیہ،مرکب اضافی ”حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ“ متعارف کیا تھا، ”تصور، خیال،قول کو دوسرے مقام تک پہنچانے والی رسی“۔
حرکات/ (Vowels) کے مابین سماعت / (auditory faculty) کیلئے تمیز کا انحصار، آواز پیدا کرنے کی جگہ کی وسعت پر ہے جو گلے کے ایک مقام سے ہونٹوں تک ہے جسے زبان کم یا زیادہ کرتی ہے۔
قرآنِ مجید نے لفظی پیغام سے عاری محض حروف پر مبنی اول آیت مبارکہ میں،لفظ آیت کے معنی اور مفہوم کے مطابق،جن حقیقتوں کی جانب اشارہ دیاہے اُن کی نفاستوں اور باریکیوں کو کھول کر بیان کرنے پر مجھے عبور نہیں۔یہ اُن ماہرین اور ڈاکٹروں کے زیبا ہے جنہیں آواز (sound, voice)، ارتعاش (vibration) اور بولنے (speech) کے متعلق تحقیقی علم حاصل ہے۔ایک بات طے ہے کہ تصور اور لفظ لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کیلئے وہ مانند”زوج“ہیں، جیسے کائنات کی ہر شئے زوج میں تخلیق کی گئی ہے۔اور یہ بات حتمی ہے کہ تصور کومنتقل کرنے کیلئے لفظ میں ڈھالنا پڑتا ہے(تصور کو تصویری اور اشاراتی شکل میں بھی دوسرے کومنتقل کیا جا سکتا ہے)۔ تصور،خیال اُس وقت لفظ کا روپ اختیار کرتا ہے جب وہ ”گھاٹ پر پہنچانے والی،آواز کی رسی“ (vocal cord) میں ارتعاش پیدا کر چکا ہوتا ہے۔یہ ارتعاش انسان کے دانستہ ارادے کی بدولت پیدا نہیں ہوتا اور اِس ارتعاش کی کیفیت اور نوعیت کو وہ بدل نہیں سکتا لیکن اِس ارتعاش سے پیدا ہونے والی صوت کو اپنے ارادہ اور کاوش سے زبان اورہونٹوں کے ذریعے لفظ کا روپ دیتا ہے۔اِس سے واضح ہوا کہ ہر تصور میں وہ قوت (energy) پنہاں ہے جس سے ارتعاش،صوت پیدا ہوتی ہے۔اِس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصور،خیال میں مخصوس صوت پنہاں ہوتی ہے۔ اِس لئے ارتعاش کو جانچنے کے ذریعے اُس تصور تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس نے اِس صوت کو وجود دیا تھا (یہ کام بھی شاید NASA والے ہی کریں گے)۔
لیکن انسان کو اِس پر عبور ہے کہ زبان اور ہونٹوں کو موڑ،پھیر(twist) کرمنہ میں پہنچنے والے اِس خیال کی ”
حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ“ کی قدرتی طور پرپیداکردہ صوت کو زبان سے اِس طرح حرکت دے کر منہ سے باہر نکالے کہ سننے والے کو اُس خیال کے خلاف تاثر ملے۔

يَٟٓأَيُّـهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟

  • !اے وہ لوگوں جنہوں نے ایمان لانے کا اقرارو اعلان کیا ہے توجہ سے سنو

لَا تَقُولُوا۟ رَٟعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنْظُرْنَا وَٱسْـمَعُوا۟ۗ

  • اللہ تعالیٰ کے رسول(ﷺ) کو مخاطب کرکے تم لوگوں کو رَٟعِنَا (ہمارا خیال کیجئے)نہیں کہنا چاہئے۔بلکہ انہیں یوں مخاطب کرو: ”أُنْظُرْنَا- آپ ہماری طرف توجہ فرمائیں“۔اورتم لوگ غور اور انہماک سے ان سے قرء ان کو سنو۔

راعنا عربی زبان کے ذخیرہ الفاظ کا ایک جائز لفظ ہے جس کے استعمال پر قدغن لگائی گئی ہے۔آقائے نامدار ﷺ کا ادب و احترام اولین ترجیح ہے۔اِس لفظ کے استعمال سے اجتناب کی ہدایت کی وجہ یہ تھی:

وَرَٟعِنَا لَيَّـاۢ بِأَ لْسِنَتِـهِـمْ

  •  اور وہ[عرب میں نقل مکانی کرنے والے یہودیوں میں سے بعض ]رَٟعِنَا کے تلفظ کواپنی زبانوں کے ساتھ موڑ/دوہرہ کر کے/بگاڑ کر ادا کرتے ہیں۔(حوالہ النساء۔46)

۔ لَيَّـا۔ اس کا مادہ ”ل ۔و۔ ی“ ہے اور ابن فارس نے کہا کہ اِس کے بنیادی معنی کسی چیز کو موڑ دینے کے ہیں۔رسی کو بٹا اور دوہرا کر دیا۔قرآنِ مجید میں اِس مادہ سے بننے والے الفاظ پانچ مرتبہ آئے ہیں اوراِس کے سلیس معنی بھی بتا دئیے:

وَإِذَا قِيلَ لَـهُـمْ تَعَالَوْا۟

  • اور جب ان (منافقین)کے لئے کہا گیا’’آؤاس جانب جو اللہ تعالیٰ نے مجتمع انداز میں نازل فرمایا اوراللہ تعالیٰ کے رسول (کریم) کی جانب ۔

يَسْتَغْفِرْ لَـكُـمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُـمْ

  • اللہ تعالیٰ کے رسول کریم تم لوگوں کے لئے (گزشتہ منافقت)کے طلبگار ہوں گے‘‘تو انہوں نے اپنے سروں کومٹکا دیا۔

وَرَأَيْتَـهُـمْ يَصُدُّونَ

  • اور آپ نے اپنے ذکر پر انہیں پلٹ کر جاتے دیکھا

وَهُـم مُّسْتَكْبِـرُونَ .63:05٥

  • اس حال میں کہ چال میں خود ساختہ تکبر کا اظہار کرنے والے تھے۔(المنافقون۔5)

آقائے نامدار ﷺ سے کلام ا للہ سنتے وقت یہودیوں میں سے بعض لوگ اپنی زبانوں کو مروڑ کراِس لفظ کو ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے کسرہ ]زیر[ کی حرکت کی صوت کو طوالت ملنے سے بعض سننے والوں کو اصل لفظ کے تصور کی بجائے کم مائیگی کا حامل تصور پہنچ سکتاتھا۔
عربی زبان میں سوائے اِس کے الفاظ کو جنم دینے والے مادوں کے، جو ایک خاص ترتیب سے مرتب تین ]چند چار[صوتی حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، تنہا حروف کے کوئی معنی اور مفہوم نہیں ہوتے۔اِن میں کوئی لفظی پیغام نہیں ہوتا اگرچہ ہر حرف اپنے آپ میں آیت کے معنی اور مفہوم کا حامل ہے کیونکہ ایک خاص شکل/ہیئت رکھتا اور جگہ کو گھیرتا ہے۔عر
بی زبان کی اِس قدر بنیادی حقیقت کو جاننے کے باوجوداگر پُراسراریت کے شوق اور جنون میں کے سیدھے سادے حروف تہجی میں بھی ہم نے کوئی معنی اور مفہوم تلاش کرنا ہی ہیں تو کیوں نہ الف سے مراد ا للہ تعالیٰ کی مکرم ترین ذات لی جائے۔اور عربی زبان کے حرف ”ل“ کے معنی استحقاق،کسی کیلئے کسی کا مخصوص ہونا لئے جائیں اور حرف ”م“ کو آقائے نامدار،رسول کریم ﷺ کے اسم مبارک ”محمد“ﷺ کا مخفف مان لیا جائے تو اِس کا مفہوم یہ بنتا ہے ”ا للہ تعالیٰ کیلئے مختص ہیں محمد ﷺ“۔
قرء انِ مجید کے مطالعہ میں آگے بڑحیں گے تواللہ تعالیٰ کے فرمان کی تعمیل میں اُن ﷺ کی ذات کا یہ راز بھی دکھائی دے جائے گا:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِـى وَنُسُكِـى

  • آپ (ﷺ) کودنیا کو بتادیں ’’یہ حقیقت ہے کہ میری صلوٰۃ،اور میرے اعمال،

وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِـى

  • اورمیری حیات اور میری طبعی موت،

لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٟلَمِيـنَ .6:162١٦٢

  • ازل سے اللہ تعالیٰ کیلئے مخصوص ومختص کی گئی ہے جو تمام موجودات کے رب ہیں۔“(الانعام۔162)

۔’میرا جینااور میرا مرنا“انسان کے وجودپذیر ہونے سے منتہا تک کاہر ایک ایک لمحہ ہے۔یہ آپ ﷺ کے وجود مبارک کی مکمل تاریخ، بائیوگرافی ہے جسے ایک جملے میں انتہائی جامعیت سے سمویا گیا ہے۔
آپ ﷺ کا جب لوگوں کیلئے ظہور ہوا تو آپ کو اسم مبارک ”محمّد“ ﷺ دیا گیا جس کے معنی ایک ایسی ہستی ہیں جومسلسل و پیہم حمد و ستائش، دنیا بھر کی تعریف اور ستائش کے شایان ہیں اور جن کی تعریف کے تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیا جاتا۔اور ظہور سے قبل آپ کو عیسیٰ علیہ السلام نے ”احمد“کے نام سے دنیا میں متعارف کر دیا تھا۔”احمد“کے معنی ہیں ”حمد بیان کرنے والا“ یعنی ”ا للہ تعالیٰ کیلئے ہیں محمد ﷺ“ ۔رب العالمین کا جو ”احمد“تعریف و توصیف بیان کرنے والا ہے،وہ تمام عالمین کیلئے رحمت العالمین،تعریف و ستائش کئے جانے کے لائق ہمارے آقا ہیں،آقائے نامدار،رسول کریم،رحمت للعالمین پر درود و سلام ہے ہر لمحہ بغیر انقطاع کے۔